ایک ویڈیو ہر جگہ چل رہی ہے کہ پنجاب یونیورسٹی کے شعبہ تاریخ کے سامنے مجمع جمع ہے، ایک شخص کو ایسی مار پڑ رہی ہے کہ کوئی تیس فٹ دور کھڑے ویڈیو بنانے والے کے کیمرے میں تھپڑوں کی آواز ایسے آ رہی ہے جیسے تین فٹ دور پڑ رہے ہوں۔ ایک نوجوان لڑکی چیخ رہی ہے ”کیا کیا ہے انہوں نے؟ انہوں نے کیا کیا ہے؟ مجھے بتاؤ؟ ہی از مائی ہزبینڈ! ہی از مائی ہزبینڈ! “
پہلی بات تو یہ ہے کہ جمعیت ایسی غنڈہ گردی کرتی ہی نہیں ہے۔ وہ ایک نہایت ہی پرامن تنظیم ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ اگر یونیورسٹی میں بے حیائی پھیلائی جا رہی ہو تو اسے جمعیت ہی روکتی ہے خواہ کچھ بھی کرنا پڑے۔
اب اگر اصل معاملات سے بے خبر ایک عام آدمی اس ویڈیو کو دیکھے گا تو لبرل پروپیگنڈے میں آ جائے گا کہ اسلامی جمعیت طلبہ والے غنڈہ گردی کر رہے ہیں۔ شکر ہے کہ ایک جماعتی بھائی نے وضاحت کر دی کہ ان تھپڑوں میں جمعیت کا کوئی ہاتھ نہیں ہے۔
Read more