ڈاکٹر عافیہ صدیقی دہشت گرد یا قوم کی بیٹی؟

1990 سے پہلے عافیہ صدیقی کراچی کی تمام دوسری لڑکیوں کی طرح ایک عام سی لڑکی تھی جو اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کی خواہش رکھتی تھی۔ نوے کی دہائی کے آغاز میں وہ امریکا منتقل ہوئی جہاں اپنی قابلیت کے بل بوتے پر وہ میساچوسیٹس انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی میں داخلہ لینے میں کامیاب ہوگئیں جو دنیا بھر کے طالب علموں کا خواب ہوتا ہے۔ ان کی زندگی میں نیا موڑ تب آیا جب 1995 میں انہوں نے پاکستانی نژاد امریکی ڈاکٹر امجد خان سے شادی کی۔ شادی کے بعد وہ سماجی زندگی میں متحرک ہوئیں اور دنیا بھر کے مظلوم مسلمانوں کے لیے چلنے والی احتجاجی اور فنڈ ریزنگ مہم کا حصہ بنتی رہیں۔

Read more

پاکستانی ڈاکٹر عافیہ صدیقی، اپنے حقِ آزادی کی منتظر

امریکہ کی قید میں پاکستانی ڈاکٹر عافیہ صدیقی، معاشرے کے اندھیروں کو دور کرنے والا ایسا چراغ ہے جس کو بجھانے میں عالمی مُنصِفوں نے کوئی کسر نہ چھوڑی۔ ”عافیہ صدیقی اپنی ذات میں ادارے کی حیثیت رکھتی ہے۔ وہ جہاں جائے گی تبدیلی لائے گی۔ “ پروفیسر نوم چومسکی کا یہ قول عافیہ صدیقی کی قابلیتوں اور کارناموں سے بھرپور مختصر زندگی کو واضح کرنے کے لیے کافی ہے۔

ڈاکٹر عافیہ صدیقی بیک وقت اعلیٰ تعلیم یافتہ اور بہترین تحریری و تقریری صلاحیتوں کی مالک تھی۔ قرآن اور دینی علوم سے دلچسپی اور ان پر عبور اس کی اضافی قابلیت تھی۔ گلستان شاہ لطیف اسکول سے لے کر ایم آئی ٹی (MIT) برینڈیز (Brandeis) جیسی امریکہ کی بہترین جامعات سے پی ایچ ڈی کی ڈگری کے حصول تک ان کا تعلیمی ریکارڈ نہایت شاندار رہا ہے۔ اعلیٰ تعلیم کے لیے ان کا مضمون ”ایجوکیشن“ تھا۔ دین کے علم کی پیاس بجھانے وہ خاص طور پر امریکہ سے پاکستان آئی۔ شوق کے ساتھ قرآن حفظ کیا۔ قابل شخصیات کی معاونت کے ساتھ ”اسلام، عیسائیت اور یہودیت“ کے موضوع ہر تحقیق کی۔ انہوں نے ”پاکستان میں اسلامی نظام کے نفاذ اور خواتین پر اس کے اثرات“ کے موضوع پر بھی تحقیق کی اور کیرول وِلسن ایوارڈ حاصل کیا۔

Read more

عافیہ اس قوم کی بیٹی نہیں ہے

عافیہ صدیقی کو قوم کی بیٹی اور پاکستان کی بیٹی کہنے والے اتنا جان لیں کہ وہ امریکن شہری ہے، وہیں کی پڑھی ہوئی ہے، وہیں اس نے شادی کی۔ دہشت گرد تنظیموں سے اس کے روابط اور ان کی سہولت کاری ثابت شدہ ہے۔ وہ افغانستان سے پکڑی گئی اور اس کی معصومیت کا ایک ثبوت ایک بے حد وزنی فوجی رائفل چھین کر ”دھائیں دھائیں“ گولیاں چلانا ہے۔

عافیہ طالبان کی بہت بڑی مددگار رہی ہے اور یہی وجہ ہے کہ مذاکرات میں طالبان کی طرف سے دوسری بڑی شرط عافیہ صدیقی کی رہائی ہے۔ انکار کرنے والے تحقیق کر لیں۔

جہاں تک تعلق ہے مذہبی جماعتوں کا توں وہ ”عافیہ قوم کی بیٹی“ اور اس پر مذہب کارڈ استعمال کر کے صرف اور صرف ووٹ بٹورنے اور سیاست چمکانے کی کوشش کرتی رہی ہیں جو وہ ہمیشہ سے کرتی آئی ہیں۔

Read more

مجرم کے حقوق اور ماورائے عدالت قتل

ہمارا مجموعی معاشرتی رویہ ہے کہ ہم قوانین کی پاسداری، حب الوطنی اور محترم اداروں کے بنائے گئے ضوابط کی بجا آوری میں پیش پیش ہوتے ہیں۔ ساتھ ہی ہم سزا دینے اور دلوانے کے بہت شوقین ہیں۔ گھر کی ملازمہ پہ چوری کا شک ہے سزا دینی ضروری ہے، اولاد نے آپ کے اصولوں کے مطابق بد تمیزی کی اب سب کے سامنے بے عزتی کی جائے تاکہ آئندہ وہ ایسی بدتمیزی نہ کرے، کوئی بچہ روٹی چراتا پکڑا

Read more

ڈاکٹر عافیہ کو رہائی کیوں نہیں ملتی!

کیا وجہ ہے کہ عافیہ صدیقی کی رہائی ابھی تک پسِ دیوار ہے۔ ان دیواروں سے آوازیں ٹکرا ٹکڑا کر لوٹ آتی ہیں۔ مَیں بتاتی ہوں میرے مذہب نے مرد اور عورت دونوں کو اپنے اپنے دائرہ عمل میں برابری عطا کی ہے۔ فوقیت صرف اس کو حاصل ہے جو متقی اور پرہیزگار ہے۔ لیکن افسوس صد افسوس کہ عافیہ موومنٹ جو واٹس ایپ پہ ایک گروپ کی صورت میں چل رہی ہے اس کے مرد ممبران شاید ہر عورت کو پریشان کرنا اپنا حق سمجھتے ہیں۔ ان کو لگتا ہے کہ شاید یہ عورتیں جو اس تحریک کا حصہ ہیں وہ مفت کا مال ہیں کسی طرح بھی ان کی تعریف کرکے انہیں ایذا کا نشانہ بنا لے کوئی فرق نہیں پڑتا بلکہ اُلٹا شاید وہ اپنی تعریف سُن کر خوش ہوں۔

کان کھول کر سب سُن لیں ایسا ہرگز نہیں عورت اگر کوئی کام کرتی ہے تو یہ اس کی صلاحیت یا کوئی مشن ہوتا ہے۔ ہماری تہذیب اس چیز کی اجازت نہیں دیتی کہ عورت کو کمزور یا نادان سمجھ کر اُسے بے وقوف بنایا جائے۔ ہمارے ہاں جنس، خوب صورتی، عورت اور ادب شایدمفت کا مال سمجھا جاتا ہے۔ مَیں نے بچپن ہی سے عورت کو زیادہ کام کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ مگر پھر ایک قابلِ رحم بات یہ ہے کہ اگر اس عورت کو کوئی کسی بھی وجہ سے پریشان کرے تو اسے یہ باور کرایا جاتا ہے کہ خاموش رہو۔

Read more

غیروں پے ستم اپنوں پے کرم

کراچی پاکستان کا سب سے بڑا شہر اور صنعتی، تجارتی، تعلیمی، مواصلاتی و اقتصادی مرکز ہے۔ کراچی انیس سو سینتالیس سے لے کر انیس سو ساٹھ تک پاکستان کا دارالحکومت بھی رہا۔ پورے پاکستان سے لوگ روزگار کی تلاش میں کراچی آتے ہیں اور اس وجہ سے یہاں مختلف مذہبی، نسلی اور لسانی گروہ آباد ہیں۔ روزگار کی تلاش میں لاکھوں کی تعداد میں جب لوگوں نے شہر قائد کا رخ کیا تو کراچی میں روزگار کے مواقع کم اور افراد بڑھنے لگے جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ شہر میں تجاوزات قائم ہونے لگے اور قائم تو کیا غیر قانونی تجاوزات کی بھرمار ہونے لگی۔ ایک جگہ کہا گیا کہ تجاوزات کا آغاز انیس سو ساٹھ سے ہوا اور یوں ہوتا ہوتا پورے شہر میں پھیل گیا۔ عمران خان جب پاکستان کے بائیسویں وزیراعظم منتخب ہوئے تو کئی اقدامات کیے ان میں سب سے بڑا قدم جو اٹھایا گیا وہ کراچی میں قائم تجاوزات کے خلاف آپریشن تھا۔

Read more

حکومت کی 100 دن کے کارکرگی پر ایک نظر

25 جولائی کے عام انتخابات کے بعد اقتدار میں آنے والی موجودہ حکومت اب تک کی کارکردگی کی بنا پرنشریاتی اداروں اور عوام دونوں میں زیر بحث ہے. اس کارکردگی پر کچھ شعبہ ہائے زندگی کی طرف سے مثبت اور کچھ کی طرف سے منفی خیالات کا اظہار کیا جا رہا ہے. تاہم اگر ان موجودہ حالات کا بغور مطالعہ کیا جائے تو یہ فیصلہ کرنے میں چندہ دشواری نہیں ہوتی کہ موجودہ حکومت کی پالیسیوں پر تنقید کا پلڑا

Read more

کراچی کے جائز تجاوزات

فرماتے ہیں کہ ایمپریس مارکیٹ، لائٹ ہاؤس اور کراچی کی دوسری مارکیٹوں کو اس لیے گرایا گیا کہ یہ ناجائز تھیں، غیر قانونی تھیں۔ یہاں پر روزی روٹی کمانے والوں کے پاس کوئی ایسا کاغذ نہیں تھا جو ان کو روزی روٹی کمانے کا قانونی حق دیتا ہو۔

قانون پرستوں کو کون سمجھائے کہ انگریز کی غلامی بھی قانونی تھی، انڈین کشمیر میں ہونے والا جبر بھی قانونی ہے۔ عافیہ صدیقی کو بھی ایک قانون کے تحت سزا ملی ہے امریکہ کی افغانستان پر یلغار اور اس کے بعد سے جاری خونریزی کو مکمل قانونی تحفظ حاصل ہے۔

دیکھنا یہ ہے کہ قانون بنایا کس نے ہے اور لاگو کس پر ہو رہا ہے۔ کس کے دروازے پر دربان کھڑا ہوتا ہے اور اس کی پشت پر کوڑا بن کر پڑتا ہے۔

Read more

امید کرتی ہوں کہ آپ سارے مسلمانوں کے خلیفہ بن جائیں: عافیہ صدیقی کا عمران خان کے نام پیغام

گذشتہ روز پاکستانی دفترِ خارجہ کی ایک پریس ریلیز میں بتایا گیا تھا کہ امریکی شہر ہیوسٹن میں پاکستانی قونصل جنرل وقتاً فوقتاً عافیہ صدیقی سے ملاقات کرتے ہیں۔ تازہ ترین ملاقات نو اکتوبر کو ہیش آئی جس میں عافیہ صدیقی نے وزیراعظم عمران خان کے نام پیغام میں کہا کہ وہ پاکستان آنا چاہتی ہیں۔

عافیہ صدیقی نے اپنے پیغام میں کہا ہے کہ انھوں نے ہمیشہ عمران خان کو اپنے ہیروز میں سے ایک گنا ہے اور وہ چاہتی ہیں کہ عمران خان تمام مسلمانوں کے خلیفہ بن جائیں۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے عافیہ صدیقی کی بہن فوزیہ صدیقی نے دعویٰ کیا کہ جون میں ایک پاکستانی قونصلر کی ملاقات کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ عافیہ صدیقی کو امریکی جیل حکام یہ کہہ رہے ہیں کہ اگر تم اپنا دین بدل لو تو تمھیں فوراً رہا کر دیں گے۔

Read more

آسیہ بی بی اور شاہ رخ جتوئی کے لیے بابا رحمت کے نام ایک اور خط

بنام جناب عالی مرتبہ چیف جسٹس محترم ثاقب نثار صاحب۔ سرکار بعد از سلام ایک بار دوبارہ عرض ہے، دراصل آپ سے جیسے ہی مخاطب ہوتی ہوں آپ کی پرسنلٹی کے حساب سے کوئی کہانی گھومنے لگتی ہے۔ آپ بھی ماشاءاللہ فنون لطیفہ کے شائق اور میں بھی آپ کو کہانی میں ٹوئسٹ پسند اور مجھے بھی بس فلموں میں سارے کیس تیزی سے چلتے ہیں اور آپ کے پاس محض ہائی پروفائل کیسسز۔ حال ہی میں آپ کے دو

Read more

آسیہ بی بی اور شاہ رخ جتوئی کے لیے بابا رحمت کے نام ایک اور خط

بنام جناب عالی مرتبہ چیف جسٹس محترم ثاقب نثار صاحب۔ سرکار بعد از سلام دوبارہ عرض ہے، دراصل آپ سے جیسے ہی مخاطب ہوتی ہوں آپ کی پرسنلٹی کے حساب سے کوئی کہانی گھومنے لگتی ہے۔ آپ بھی ماشاءاللہ فنون لطیفہ کے شائق اور میں بھی۔ آپ کو کہانی میں ٹوئسٹ پسند ہے اور مجھے بھی، بس فلموں میں سارے کیس تیزی سے چلتے ہیں اور آپ کے پاس محض ہائی پروفائل کیسسز۔ حال ہی میں آپ کے دو فیصلوں

Read more

عافیہ اور آسیہ

دو مختلف مذاہب دو متضاد نظریات و عقائد اور دو مختلف طبقات سے تعلق رکھنے والی ایک ہی جمہوری ملک کی دو آزاد شہری عافیہ صدیقی اور آسیہ مسیح جن میں سے ایک کا تعلق ملک کی اکثریت اور دوسری کا تعلق اقلیتی برادری سے ہے۔ ان دونوں کی پوزیشن کے آپسی موازنے کے حوالے سے ایک دوست شاھدہ مجید کی فیس بک ٹائم لائن پر ان کا سٹیٹس پڑھا تو اس معاملے پر ذرا تفصیل سے لکھنے کا خیال

Read more

پاک امریکہ تعلقات: پاکستانی حکومت کیا چاہتی ہے؟

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں شرکت کے موقع پر نیویارک میں مصروف وقت گزارنے کے بعد واشنگٹن کا دورہ کیا ہے اور وزیر خارجہ مائیک پومیو اور قومی سلامتی کے مشیرجان بولٹن سے ملاقات کی ہے۔ اس کے علاوہ انہوں نے ایک تھنک ٹینک کے سیمنار سے خطاب کرتے ہوئے بھی پاکستان کا مؤقف سامنے لانے کی کوشش کی ہے۔ شاہ محمود قریشی نے ان ملاقاتوں کو دونوں ملکوں کے تعلقات میں اہم

Read more

مظلوم سائنسدان

عمران خان کی حکومت آتے ہی ملک میں سوشل میڈیا پر ایک مہم چلائی گئی جس میں یہ مطالبہ تھا کہ محسن پاکستان ڈاکٹر عبد القدیر خان کو ان کی خدمات کے صلے میں صدر پاکستان بنایا جائے۔ یہ مطالبہ بے چارے عوام کا تھا جو فرط محبت میں یہ باتیں کررہے تھے۔ انھیں کیا معلوم کہ یہاں خدمات کے صلے میں عہدے نہیں دیے جاتے بلکہ دیے گئے عہدے بھی چھین لیے جاتے ہیں۔ انھیں عزت دینے کے بجائے

Read more

کوئی تو میاں صاحب سے پوچھے

ہمارے تین بار کے وزیرِ اعظم المعروف شہنشاہِ جمہوریت مع صاحبزادی یعنی مستقبل کی ملکہء جمہوریت لندن سے وطن پدھارکر سیدھے اڈیالہ کی سلاخوں کے پیچھے جا پہنچے ہیں۔ واپسی کے اس سفرمیں ن لیگ کے حامیوں کے انبوہِ کثیر کے ساتھ ساتھ صحافیوں اور اینکرز کا ایک جمِ غفیربھی ہمراہ تھا۔ اس سفر سے پہلے صرف لفافہ صحافی کی اصطلاح سُنائی دیتی تھی لیکن اس بار ”پری پیڈ جرنلسٹ“ اور ”ایزی لوڈ اینکرز“ کی اصطلاحیں بھی سنائی دے رہی

Read more

ڈاکٹر عافیہ صدیقی سے متعلق اہم ترین دستاویزات حاصل کر لی گئیں؛ متعدد انکشافات

امریکا میں قید  ڈاکٹرعافیہ صدیقی کو جیل حکام ڈرانے دھمکانے اور جسمانی طور پر ہراساں کرنے کی دھمکیاں دیتے ہیں جب کہ عافیہ صدیقی کو جیل میں نیم بے ہوشی کی دوا استعمال کرانے کا بھی انکشاف ہوا ہے۔ صحافتی ذرائع کو حاصل ہونے والی اہم دستاویز کے مطابق امریکا میں تعینات پاکستانی قونصل جنرل عائشہ فاروقی نے 23 مئی کو ڈاکٹر عافیہ صدیقی سے ملاقات کی ہے۔ قونصل جنرل نے ملاقات کے مندرجات کو خفیہ رپورٹ کی شکل دے کر

Read more

ڈاکٹر عافیہ صدیقی کس حال میں ہیں؟

دو ہزار آٹھ سے امریکی تحویل میں پاکستانی شہری ڈاکٹر عافیہ صدیقی ٹیکساس کی فورٹ ورتھ جیل میں کس حال میں ہیں؟ اس بارے میں ہیوسٹن میں پاکستانی قونصل جنرل عائشہ فاروقی نے بارہ صفحات پر مشمتل رپورٹ متعلقہ حکام کو جمع کرا دی ہے۔ عائشہ فاروقی نے ڈاکٹر عافیہ سے فیڈرل میڈیکل سنٹر کارزول فورٹ ورتھ جیل میں تئیس مئی کو دو گھنٹے طویل ملاقات کی۔ پاکستانی قونصل جنرل اس سے پہلے بھی عافیہ صدیقی سے تین بار ملاقات

Read more

’عافیہ صدیقی کی موت کی افواہیں مکمل طور پر غلط ہیں‘

پاکستان میں مذہبی جماعتیں عافیہ صدیقی کی رہائی کے لیے کئی بار احتجاجی مظاہرے کر چکی ہیں پاکستان کے امریکی شہر ہوسٹن میں قائم سفارت خانے کا کہنا ہے کہ قونصل جنرل عائشہ فاروقی نے ریاست ٹیکساس میں واقع جیل ایف ایم سی کارسویل میں پاکستانی شہری عافیہ صدیقی سے ملاقات کی جو کہ دو گھنٹے جاری رہی۔ سفارت خانے کی جانب سے جاری کردہ تحریری اعلامیے میں کہا گیا کہ حالیہ دنوں میں ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی موت کے

Read more

عرب دُنیا کا نقشہ ایک بار پھرتبدیل کیا جا رہا ہے؟

یہ بات بہت معنی خیز ہے کہ داعش (دولت اسلامیہ عراق اور شام) نے ابوبکر البغدادی کی قیادت میں عراق کے اتنے بڑے علاقے کو اپنے زیرِنگیں کر لیا ہے جتنا علاقہ بہت سے عرب ممالک کے زیرنگیں نہیں ہے-ابھی کل ہی کی بات ہے کہ داعش نے انصار بیت المقدس کو اپنا اتحادی قرار دیا ہے اور امریکہ میں قید پاکستانی ڈاکٹر عافیہ  صدیقی کی رہائی کا مطالبہ کیا ہے- ادھر چند امریکی دانشور آج کے مشرق وسطیٰ کو

Read more

اقتصادی راہداری اور شکور بھائی چشمے والے

2012 ءکا موسم گرما اپنے اختتام کی طرف بڑھ رہا تھا۔ میمو گیٹ سکینڈل کے شعلے قریب قریب بجھ چکے تھے۔ رینٹل پاور کے قصے عام ہو رہے تھے۔ قومی مفاد کی تجوریوں میں گزشتہ پانچ برس کے دوران جمع کیے گئے اثاثے چمک رہے تھے۔ کہیں این آر او رکھا تھا ، کہیں کیری لوگربل کا کھاتہ دھرا تھا۔ آزاد عدلیہ اپنی بہار دے رہی تھی۔ آزاد میڈیا کے اپنے جلوے تھے۔ کچھ یافت ڈرون حملوں سے ہوئی تھی۔

Read more

اسامہ بن لادن کا ڈرائیور، عافیہ صدیقی کا بیٹا اور اللہ نذر کے بال بچے

اسامہ بن لادن کا ایک سایہ تھا۔ اس کو سلیم ہمدان کہتے ہیں۔ اسامہ بن لادن نے کیا کھایا ہے، کیا کھائیں گے، کیا پہنا تھا، کیا پہنیں گے، کہاں سے آ رہے ہیں، کہاں جانا ہے، اگلا ٹھکانہ کہاں ہے، پچھلا ٹھکانہ کون سا تھا، کس نے ملنے آنا ہے، کون مل کے گیا ہے، کس کو ملنے نہیں دیا گیا؟ یہ سب ہمدان جانتا ہے۔ ہمدان کو پکڑ لیجیے، گویا اسامہ بن لادن کو گدی سے پکڑ لیا۔

ہمدان کا تعلق یمن سے ہے۔ نوے کے اوائل میں مٹکتے بھٹکتے افغانستان پہنچ گیا تھا۔ 1994 میں القاعدہ کے یمنی لڑاکوں سے رابطے میں آیا۔ تیزی سے ہر منزل عبور کرتا ہوا اسامہ بن لادن تک پہنچ گیا۔ ہمدان کی ذہانت، دیانت اور کام سے کام رکھنے کی عادت نے اسامہ بن لادن کی توجہ کو کھینچ لیا۔ 1996 کے اواخرمیں اسامہ بن لادن نے اسے اپنا ڈرائیور رکھ لیا۔ انسان کے فرشتے جو نہیں جانتے وہ کوچوان جانتا ہے۔ کوچوانی اور دربانی اعتماد کا عہد و پیمان ہیں۔ دربان بگڑجائے تو لنکا ڈھا سکتا ہے۔ مطمئن رہے تو مصیبت پر نہیں مارسکتی۔ ہمدان کوچوان بھی تھا اور دربان بھی۔

Read more