بلوچ سرزمین اور پنجابی لہو

دس جولائی 2025ء کی رات ایک اور روح فرسا خبر آئی۔ کوئٹہ سے پنجاب جانے والی دو گاڑیوں کو بلوچستان کے شمالی اضلاع لورا لائی اور ژوب کی سرحد پر مسلح افراد نے روک لیا۔ مسافروں کے شناختی کارڈ ملاحظہ کر کے پنجاب سے تعلق رکھنے والے نو مسافروں کو اغوا کر کے کسی نامعلوم مقام پر فائرنگ کر کے شہید کر دیا گیا۔ کالعدم تنظیم بلوچستان لبریشن فرنٹ نے دہشت گردی کے اس واقعے کی ذمہ داری قبول کر

Read more

پاکستان ایک قوم ہے

پاکستان میں ایک عمومی رویہ پایا جاتا ہے کہ ہم اپنے پیشہ ورانہ اور تخصیصی شعبوں سے ہٹ کر ان معاملات میں بھی رائے زنی کرتے ہیں جن سے ہمارا تعلق نہیں ہوتا۔ اصل میں اسے بھی ہمارے جمہوری تجربے کے اتار چڑھاﺅ کا ایک ناگزیر نتیجہ سمجھنا چاہیے۔ غیر جمہوری یا آمرانہ معاشروں میں فیصلہ سازی کا دائرہ محدود اور من مانا ہونے سے بنیادی نقصان یہ ہوتا ہے کہ قوم مختلف امور پر بہترین پیشہ ورانہ رائے سے

Read more

خواجہ (آصف) پیا موری رنگ دے چنریا

کسی ملک کی سیاسی توانائی معلوم کرنا ہو تو اس کی صحافتی لغت پر نظر رکھیں۔ ہمارے ملک میں جو بندوق بردار کبھی تزویراتی اثاثہ کہلاتے تھے وہ کچھ برس بعد خانہ جنگی کے مرتکب قرار پائے۔ پھر انہیں طالبان کا لقب دے کر ’اپنے بچے‘ کہا گیا۔ پھر ان کے خلاف دہشت گردی مخالف جنگ میں اتحادی ہونے کا اعلان کیا گیا۔ پھر بتایا گیا کہ کچھ طالبان اچھے اور کچھ برے ہوتے ہیں۔ پھر پرچہ لگا کہ ’بلیک

Read more

ایران کو شکست کیوں ہوئی؟

اٹھارہویں صدی کے آخری برس تھے۔ فرانس میں نیپولین اپنی حکومت قائم کر چکا تھا۔ امریکی آئین اپنی ابتدائی آزمائش کے مرحلے میں تھا۔ ہندوستان کے جنوب مغربی ساحلوں پر میسور کا حکمران فتحیاب علی ٹیپو سلطان اپنی بقا کی لڑائی لڑ رہا تھا۔ روشن خیالی کی تحریک اپنا تاریخی کردار ادا کرنے کے بعد انیسویں صدی کی افراتفری میں داخل ہو رہی تھی۔ دو ادوار کے اس درمیانی جھٹپٹے میں ہسپانوی مصور فرانسسکو گویا نے اپنی ایک پینٹنگ کو

Read more

ایران: ہمیشہ خواہیم وطن را از دل و جانان

’ایران، ہمارے وطن، تو ہمیں دل و جان سے پیارا ہے‘ ۔ یہ مصرع ایران کے اس قومی ترانے میں شامل تھا جو 1933 سے 1979 تک ایران میں رائج رہا۔ قومی ترانے کی روایت قومی ریاست کے ارتقا سے جڑی ہے۔ قومی ترانہ دراصل مقتدر بندوبست کی عکاسی کرتا ہے۔ 1873 میں دودمان قاجار کے فرماں روا ناصر الدین شاہ نے فرانسیسی موسیقار Alfred Jean Baptiste Lemaire سے ایران کے قومی ترانے کی دھن مرتب کرائی۔ سلام شاہی (Royal

Read more

کالم (بوجوہ) لکھنا ہے

آپ محمد اظہار الحق کو جانتے ہیں؟ اگر آپ جنریشن زی عرف ففتھ جنریشن ہائبرڈ وار فیئر کے تربیت یافتہ مجاہد ہیں تو آپ سے یہ توقع رکھنا محل نظر ہے۔ جس زفافی لشکر کی صف بردار بچیاں سہیل وڑائچ سے گفتگو کے آداب نہیں جانتیں، ان کے فرشتوں کو محمد اظہار الحق سے تعارف نہیں ہو سکتا۔ فرشتوں کو خبر نہ ہونا ایک محاورہ ہے۔ زمینی فرشتے اسے اپنے قبیلے پر انگشت نمائی مت خیال فرمائیں۔ محمد اظہار الحق

Read more

جنگ کا بیوپار اور بنیے کا پوسٹ کارڈ

منٹو اپنے ہی رنگ کا لکھنے والا تھا۔ امرتسر کے شرارتی لڑکے کی ابھی مسیں نہیں بھیگی تھیں کہ 1919 ءکا جلیانوالہ باغ ہو گیا۔ پنجاب میں مارشل لا لگ گیا۔ امرتسر کی سرکش گلیوں میں رینگنے پر مجبور کیے گئے محکوم ہندوستانیوں کی آنکھوں میں بے بسی کے انگارے سلگتے تھے لیکن سروں میں آزادی کی ہوائیں چلنے لگی تھیں۔ ریٹائرڈ مگر دل پھینک سب جج غلام حسین کے سات سالہ لڑکے نے اردو زبان کے پرچے میں بار

Read more

غصے کی خود کاشتہ فصل

اسد محمد خان بے شک اس عہد کم کمال میں اردو ادب کے ترکش کا خدنگ آخریں ہیں۔ کراچی میں مقیم اس مشت لعل و جواہر سے تعلق آشکار یا ربط دروں نہ رکھنے والے بدنصیب کو بلاتاخیر کور چشم اور کم سواد ننگ اسلاف کی فہرست میں شامل کر دینا چاہیے۔ اسد محمد خان نے کہانی کی بنت میں ایسا نسخہ ایجاد کیا ہے کہ وہی اس رنگ کے خاتم ہیں۔ برصغیر کے دور دراز منطقوں کے جغرافیے کے

Read more

سیاست محروم الارث کیسے ہوتی ہے؟

لسان العصر اکبر الٰہ آبادی کے اقبال کے نام 133 خطوط حال ہی میں ڈاکٹر زاہد منیر عامر نے شائع کیے ہیں۔ قبلہ ڈاکٹر صاحب پنجاب یونیورسٹی میں اردو کے صدر شعبہ رہے۔ انسٹی ٹیوٹ آف اردو لینگوئج اینڈ لٹریچر کے پہلے ڈائریکٹر ٹھہرے۔ پنجاب یونیورسٹی کے شعبہ ابلاغیات میں مسند ظفر علی خان پر فائز رہے۔ جامعہ الازہر میں اردو اور مطالعہ پاکستان پڑھایا۔ ان دنوں ایران کی تہران یونیورسٹی میں پاکستان چیئر پر رونق افروز ہیں۔ علامہ اقبال

Read more

جمہوریت کیسے مرتی ہے؟

ریاست کے طاقتور بیانیے سے چار ہاتھ آگے نکل کے فرمان امروز کو بار بار دہرانے والے خوفزدہ نفسیات کے مریض اور ذاتی عزائم کے اسیر ہوتے ہیں۔ ان کی لغت بدلتے موسموں کے تابع ہوتی ہے۔ ان کی یادداشت کا دورانیہ ذاتی مفادات کی نسبت سے بڑھتا گھٹتا رہتا ہے۔ انہیں پاسٹر ناک ، سخاروف ، کنڈیرا ، رابرٹ فسک اور ایڈورڈ سعید کے حوالے دینے کا شوق ہوتا ہے۔ اپنے وطن سے حقیقی محبت بلند آہنگ نعروں کی

Read more

کالم لکھنا ہے

منگل 20 مئی کا دوسرا پہر شروع ہو چکا تھا۔ کالم قریب قریب مکمل ہو چکا تھا۔ اچانک برادرم فتح نصر نے حسب عادت Dictation بیچ میں چھوڑ کر تازہ خبروں پر ایک نظر ڈالی اور چونک کر ایک بڑی خبر سنائی۔ درویش ایک لحظے کو سکتے میں آ گیا۔ چند لمحات کی خاموشی کے بعد دھندلے پڑتے حافظے کی تختی پر عربی زبان کے دو جملے ابھرے۔ بے ساختہ کہا ’فالحمد للہ علیٰ ذالک۔ جزاکم اللہ احسن الجزائ۔‘ انسانی

Read more

ہماری فصل گل اور پس جنگ دانش

برادرم سہیل وڑائچ نے حالیہ تحریر میں خود کو ’چراغ آخر شب‘ سے تشبیہ کیا دی، اک تیر میرے سینے میں مارا کہ ہائے ہائے۔ احتجاج کرنا چاہا مگر یہ سوچ کر خاموش رہا کہ ابھی تو عزیزم یاسر پیرزادہ سے چونچ لڑائی ہے۔ ہر وقت دوستوں سے جھگڑنا، اپنے ہی سینہ چاک سے دست و گریباں ہونا کہاں کی شرافت ہے۔ سہیل صاحب اس نیاز مند سے کوئی دو تین برس بڑے ہیں اور حالیہ چار عشروں کے جاں

Read more

عزیز دوست کے نام ایک اختلافی کالم

برادرم یاسر پیرزادہ سے رشتہ مودت پر دو دہائیاں گزر چکیں۔ اچھی دوستی کی بنیادی شرط ہم دونوں میں بدرجہ اتم پائی جاتی ہے یعنی مجموعہ اضداد۔ یاسر بھائی اعلیٰ سرکاری افسر ہیں، خوش شکل، خوش لباس، خوش اطوار، شگفتہ طبع، دوست نواز، مہمان نواز، صاحب مطالعہ، صاحب فکر، معاملہ فہم، صاحب طرز نثر نگار اور۔۔۔ کشمیری نژاد لاہوری ہونے کے باوصف اچھے پکوان کا ذوق ضرور ہے، اناج کے مگر دشمن نہیں ہیں۔ سررشتہ قضا و قدر نے مقدرات

Read more

شہر پھر بسے دیکھو

22 اپریل 2025 کی شام کشمیر کے ضلع اننت ناگ کے شمال میں قریب چالیس کلومیٹر کے فاصلے پر واقع سیاحتی مقام پہلگام پر پانچ مسلح افراد نے مذہبی نعرے لگاتے ہوئے حملہ کر دیا۔ سیاحوں سے ان کی مذہبی شناخت دریافت کر کے انہیں عورتوں سے الگ کر دیا گیا اور قریبی فاصلے سے فائرنگ کر کے 26 افراد قتل کر دیے گئے۔ مرنے والوں میں ایک مسیحی سیاح کے علاوہ ایک مقامی مسلمان نوجوان بھی شامل تھا جس

Read more

چڑیوں کی موت اور لفظوں میں لپٹی عزت

دن پھر آئے ہیں باغ میں گل کے۔ اس خطے میں یہ موسم باقاعدہ وقفوں سے اترتا ہے۔ سرحد کے دونوں طرف ’باخبر‘ صحافیوں، ’قادر الکلام‘ شاعروں، گمنام سیاستدانوں، ریٹائرڈ کھلاڑیوں اور ’کہنہ مشق‘ فنکاروں کو حب الوطنی کے بلند بانگ بیانات داغنے کا اچھا موقع ہاتھ آتا ہے۔ جنہیں اپنے ملک کی عسکری تاریخ کی الف بے معلوم نہیں، وہ عالمی تاریخ کے حوالے نکال کر دشمن کو للکارتے ہیں۔ 22 اپریل کو پہلگام میں 26 افراد کی ہلاکت

Read more

جنہوں نے جنگ نہیں دیکھی

پہلگام کے واقعے پر دس روز گزر گئے۔ حسب توقع پاکستان اور بھارت میں کسی بڑی محاذ آرائی کا خطرہ کم ہو رہا ہے۔ اسی تناسب سے اخبار اور ٹیلی ویژن سکرین پر ممکنہ جنگ کے پیش نظر شعلہ بیانی کی ذخیرہ اندوزی میں بھی مندی کے آثار ہیں۔ جنگ کے آڑھتی تصوراتی جنگ میں دھواں دھار گولہ باری، بستیوں کی بربادی اور شکست و فتح کی منظر کشی میں جذبات کی سرمایہ کاری کر چکے تھے۔ سرحد پار کے

Read more

بارہ من کی دھوبن اور رادھیکا کے توڑے

خبریں تو بہت ہیں۔ پہلگام کا غبار ابھی بیٹھا نہیں۔ مشرقی سرحد پر تناؤ موجود ہے۔ دونوں ممالک کی خبر منڈیوں میں سنسنی فروش صحافیوں کی چاندی ہے۔ فرق شاید یہ ہے کہ بھارت میں صحافتی شور کے شانہ بشانہ سفارتی سرگرمیاں بھی عروج پر ہیں۔ نریندر مودی نے درجن بھر عالمی رہنماؤں سے فون پر بات کی ہے۔ دہلی میں سو سے زائد سفارت خانوں کے وفود کو بھارتی دفتر خارجہ میں بریفنگ دی جا رہی ہے۔ اس ضمن

Read more

جنگ اور امن میں انتخاب کی گھڑی

منگل کے روز جموں کشمیر کے شمال مشرقی علاقے پہل گام میں نامعلوم افراد نے سیاحوں پر چھوٹے ہتھیاروں سے فائرنگ کر دی۔ دہشت گردی کے اس واقعے میں ابتدائی اطلاعات کے مطابق دو غیر ملکی شہریوں سمیت 28 افراد مارے گئے۔ حالیہ برسوں میں امن و امان کی صورتحال بہتر ہونے کے بعد متنازع علاقے میں یہ ایک بڑا واقعہ ہے۔ بھارتی حکومت نے بغیر کسی تصدیق یا دستاویزی ثبوت کے حملے کی ذمہ داری پاکستان پر عائد کر

Read more

جنگل میں رات اور خواب کی تھکن

بہار اس برس کچھ عجب رنگ سے آئی ہے۔ مارچ کٹ گیا اور اپریل گزرنے کو ہے۔ شاخوں پر جہاں تہاں پتے تو نکلے مگر ہوا میں بہار کی خوشبو نہیں لہرائی۔ آسمان پر اس دھانی چادر نے اپنا جادو نہیں دکھایا جو جاڑے کی کاٹ دار ٹھنڈک اور گرما کی جھلسا دینے والی تپش میں چند ہفتوں کے لئے خوشی بن کر گلیوں، بستیوں، کھیتوں اور میدانوں پر اترتی تھی۔ موسموں کے شناور بتا رہے ہیں کہ کرہ ارض

Read more

غریبان چمن پر مفتی منیب الرحمن کی شفقت

انسانی حقوق پر سینٹ کی سب کمیٹی نے سینٹر علی ظفر کی سربراہی میں ایک مسودہ قانون کی منظوری دی ہے جس میں اقلیتو ں کو آئین میں دیے گئے حقوق کی نگرانی نیز اقلیتوں کا تحفظ یقینی بنانے کے لیے کمیشن قائم کرنے کی تجویز ہے۔ گیارہ برس پہلے 19 جون 2014 کو سپریم کورٹ کے چیف جسٹس (تب) تصدق حسین جیلانی نے پاکستان میں اقلیتوں کے حقوق اور تحفظ کے ضمن میں ایک تاریخ ساز فیصلہ دیا تھا۔

Read more

بے خبر شہری اور خارجہ پالیسی کے پیران مغاں

7 اکتوبر 2023 کو حماس کے تقریباً چھ ہزار ارکان نے اسرائیل میں داخل ہو کر بارہ سو اسرائیلی شہری قتل کر دیے جبکہ عورتوں اور بچوں سمیت 250 اسرائیلی شہری اغوا کر لیے۔ بظاہر اس حملے کا مقصد یرغمالیوں کے بدلے اسرائیل میں قید فلسطینیوں کو رہا کرانا تھا لیکن اس حملے کے ردعمل میں اسرائیل نے غزہ کی محصور آبادی پر چڑھائی کر دی۔ اٹھارہ ماہ سے جاری اس جنگ میں 61 ہزار سے زائد فلسطینی جان سے

Read more

مرتی ہوئی روشنی میں اوجھل ہوتے چراغ

غالب نے ’زندگی میں مرگ کا کھٹکا‘ لگا ہونے کا اشارہ دیا تھا۔ خواہی کھٹکے کو اندیشہ جانو، خواہی اس کواڑ کی چٹخنی جسے کسی بھی لمحے فنا کے اندھیرے میں کھل جانا ہے۔ فنا کے بے کنار خلا میں سود و زیاں اور صحیح یا غلط کے سب سوال ختم ہو جاتے ہیں۔ وجود کا واقعہ نامعلوم رفتار سے فراموشی کی پاتال میں اتر جاتا ہے۔ محض یہ نکتہ باقی رہتا ہے کہ ہونے سے نا ہونے کے سفر

Read more

بحران کی پانچ خار دار شاخیں

روزمرہ زندگی میں پانی، ہوا اور آگ ہماری ضرورت اور خواہش کے تابع ہوتے ہیں۔ پیاس لگی تو حافظ شیراز کے لفظوں میں ’ما در پیالہ عکس رخ یار دیدہ ایم‘ ۔ سرما کی راتوں میں چند لکڑیاں روشن کر لیں اور الاؤ کے گرد کہانیاں کہتے کاٹ دار ہوا کو گزرے وقتوں کی یاد سے مات دے لی۔ اسی نسیم صبح کا قہر آلود روپ کھلے میدان میں گردباد کی آفت میں بدلتے دیکھئے۔ صراحی میں رکھے فرحت بخش

Read more

جمہوری شین قاف اور آمریت کا لام کاف

23 مارچ کو یوم جمہوریہ کی مرکزی تقریب سے حسب روایت سربراہ مملکت آصف علی زرداری نے خطاب کیا۔ کل بارہ منٹ کی تحریری تقریر پڑھنے میں ایک دو جگہ پر انہیں الفاظ کی ادائیگی میں کچھ دقت پیش آئی۔ اس بے معنی قضیے کو لے کر سوشل میڈیا پر بیٹھے انقلابی چوزوں نے ہڑبونگ مچا رکھی ہے۔ پاک پتن کی جامعہ ’رحونیت‘ میں ہوش و خرد کا زر خالص ادا کر کے بے سمت دیوانگی کا سودا کرنے والا

Read more

جنگل میں ہوئی ہے شام ہم کو

ہندوستان تقسیم ہوا تو اس کے چار بنیادی آئینی اصول تھے۔ گورنمنٹ آف انڈیا ایکٹ 1935ء کے مطابق مزعومہ نوآزاد برصغیر نے شہریوں کے جان و مال، شہری، بنیادی آزادیوں اور اقلیتوں کے تحفظ کی ضمانت دینا تھی۔ وائسرائے لارڈ لنلتھگو نے اعلان اگست 1940ء کے ذریعے دوسری ممکنہ عالمی جنگ سے پہلے ہندوستانی باشندوں کو دستور سازی کی ضمانت دے دی تھی۔ قبل ازیں اس برس مارچ میں مسلم لیگ نے قرارداد لاہور منظور کی تھی۔ یاد رہے کہ

Read more

قومی زوال کے تین غیر ریاستی کردار ( 4 )

کسی قوم میں تعلیمی صورتحال نہ صرف اس کی معیشت سے جڑی ہے بلکہ سیاسی اور تمدنی ارتقا بھی علمی معیار اور تعلیم کے پھیلاؤ سے متعین ہوتا ہے۔ نو آبادیاتی ہندوستان میں مقامی باشندوں کے لیے جدید تعلیم کی آواز 19 ویں صدی کے ابتدائی برسوں میں راجہ رام موہن رائے نے اٹھائی۔ عین اس وقت جب برطانوی حکومت فورٹ ولیم کالج قائم کر رہی تھی، رام موہن رائے نے قدیم علوم کے احیا کی بجائے جدید علوم بالخصوص

Read more

قومی زوال کے تین غیر ریاستی کردار (3)

تمہید میں ایک حرف تشکر واجب ہے۔ سول اینڈ ملٹر ی گزٹ پر پابندی کے حکومتی اقدام کی حمایت میں مغربی پاکستان کے 16اخبارات میں مشترکہ اداریے کا ذکر آیا تھا۔ برادر گرامی امجد سلیم علوی نے متعلقہ ریکارڈ سے نہ صرف ان سات اخبارات کی فہرست عنایت کی جنہوں نے یونین آف جرنلسٹس کے پلیٹ فارم پر حکومت پنجاب سے سول اینڈ ملٹری گزٹ کے خلاف کارروائی نہ کرنے کا مطالبہ کیا تھا بلکہ 16 مئی 1949 کو روز

Read more

قومی زوال کے تین غیر ریاستی کردار (2)

’زمیندار‘ اور ’انقلاب‘ میں افتراق نے اماکن مقدسہ پر پنجاب کے مسلمانوں میں ہیجان سے جنم لیا. اگست 1925 میں خبر آئی کہ عبدالوہاب کے پیروکاروں نے اسلام کی مقدس ترین ہستیوں کے مزارات کو سخت نقصان پہنچایا ہے. اس پر خلافت کمیٹی نے ایک وفد حجاز بھیجنے کا فیصلہ کیا. مولانا محمد عرفان, مولانا ظفر علی خان اور شعیب قریشی اکتوبر 1925 میں حجاز روانہ ہوئے. یہ وفد سلطان ابن سعود کو قائل کرنے میں ناکام رہا تاہم ابن

Read more

قومی زوال کے تین غیر ریاستی کردار

دستور ریاست کا ضابطہ بندوبست ہے۔ دستور میں تین آئینی ادارے ہیں۔ عوام کے منتخب نمائندوں پر مشتمل مقننہ جو قانون سازی بھی کرتی ہے اور کثرت رائے سے دوسرا آئینی ادارہ یعنی حکومت تشکیل دیتی ہے۔ تیسرا آئینی ادارہ عدلیہ ہے۔ حکومت اپنی ماتحت مستقل انتظامیہ کی مدد سے اپنے احکامات پر عمل درآمد کراتی ہے۔ گویا دستور کے مطابق ریاست تین آزاد لیکن باہم جوابدہ اداروں سے تشکیل پاتی ہے۔ ریاست ایک عمرانی معاہدہ ہے جو ملک کی

Read more

افغان باقی، کوہسار باقی

انسانی تاریخ میں ارتقا کا ہر مرحلہ ایک غالب خیال سے تشکیل پاتا ہے۔ 18 ویں صدی روشن خیالی سے عبارت تھی۔ 19 ویں صدی صنعتی انقلاب، نوآبادیاتی نظام اور سرمایہ داری کے خلاف ردعمل کا دور تھا۔ بیسویں صدی شروع ہوئی تو دنیا میں ایک بھی ایسا ملک نہیں تھا جسے آج کے بین الاقوامی معیارات کے مطابق جمہوری کہا جا سکے۔ آج دو سو آزاد ممالک میں قریب دس فیصد ممالک میں مکمل جمہوری بندوبست قائم ہو چکا

Read more

اپنے صحافی بھتیجے کی مدح میں

جہاں تک ہونہار بھتیجوں کا تعلق ہے، اردو ادب کے باثروت ہونے میں کوئی شک نہیں۔ البتہ مولانا ظفر علی خاں کے بیٹے مولانا اختر علی خان سے شروع ہونے والی ’صحافی صاحبزادہ‘ روایت میں کسی قدر پانی مرتا ہے۔ ’پانی مرنا‘ لکھ کر محض محاورہ نہیں کھپایا، یہ روایت ایسی ثقہ ہے کہ کہیں کہیں تو کائی زدہ پانی میں صحافت کی پھولی ہوئی لاش بھی دیکھی جا سکتی ہے۔ چونکہ ناہنجار بیٹوں میں سے اکثر کے رگ پٹھے

Read more

ڈاکٹر مہدی بہاراں پہ خاک ڈال گئے

23 فروری 2022 کی دوپہر عین اس گھڑی جب اسلام آباد ہائی کورٹ پاکستان میں اظہار کی آزادی پر تازہ ترین ریاستی حملے پیکا (PECA) کے سیکشن 20 پر عمل درآمد روک رہی تھی، لاہور کی ایک نواحی بستی میں صحافت کی آزادی کے ایک بہادر سپاہی ڈاکٹر مہدی حسن نیند کے عالم میں بغیر آہٹ کیے ابدی نیند کی وادی میں اتر گئے۔ ٹھیک ساٹھ برس پہلے 24 سالہ مہدی حسن ایوب آمریت کے خلاف ایک مضمون لکھنے کی

Read more

پھانسی، ڈنڈے اور تھپڑ کی ثقافت

2018 ءکا برس تھا۔ سیاسی بندوبست کی کیفیت محمد حسن عسکری کی اس بڑھیا جیسی تھی جس نے کہا تھا۔ ’ارے بھائی، پاکستان کیا ہے۔ بس مسلمانوں نے اپنے رہنے کے لیے کچا گھر بنا لیا ہے‘ ۔ یہ بڑھیا اگر جیتی رہتی تو دیکھ لیتی کہ اس کچے گھر کے بیچ دیوار اٹھا کردو مکان بنے۔ ہمارے حصے میں تو اتنی دیواریں اٹھیں کہ شمار کرنا تو شاید مشکل ہو، جسے تحقیق مطلوب ہو وہ جی ٹی روڈ پر

Read more

کھرپا بہادر اور فراموش آباد کے اچکے

جس زبان کے بولنے اور پڑھنے والوں نے تصدق حسین خالد کی نظم، چراغ حسن حسرت کی نثر اور رفیق حسین کے افسانے فراموش کر رکھے ہوں، وہاں تعجب نہیں ہونا چاہیے کہ عظیم بیگ چغتائی ایک گمنام نثر نگار ہے۔ محض اتفاق ہے کہ 1895 میں پیدا ہونے والے عظیم بیگ 1941 میں رخصت ہوئے تو ان کی بہن عصمت چغتائی نے ’دوزخی‘ کے عنوان سے مرحوم بھائی کا ایسا خاکہ لکھا جو عظیم بیگ کی طرفہ طبیعت اور

Read more

دیسی ٹوٹکے اور ناف کا سرطان

اپنا دل بہلانے کو بھلے کوئی بھی خود کو افلاطون قرار دے سکتا ہے لیکن ہم میں سے ہر ایک کو اپنے علم کی حدود اور لاعلمی کی وسعت معلوم ہے۔ رعونت ایک حنوط شدہ پرندہ ہے جو پرواز تو کیا، اڑان بھرنے کی سکت نہیں رکھتا۔ اعترافِ عجز میں بہتری کا امکان موجود رہتا ہے جو غرور کے دھندلکے میں مسدود ہو جاتا ہے۔ صحافت میں یہ اصول روزمرہ زندگی سے کہیں زیادہ موزوں طور پر منطبق ہوتا ہے۔

Read more

ہمارا سیاسی شعور اور تیری یاد

صدیوں سے اس دنیا کے سیاہ و سفید میں ہمارا حصہ’ہر چند کہیں کہ ہے، نہیں ہے‘۔ ادب ہو یا مصوری، موسیقی ہو یا تعمیرات، سیاسی تدبر ہو یا سائنسی فکر، علمی جستجو ہو یا مشین کا معجزہ، کار آسماں ہو یا بندوبست زمیں، ہمارا شعار فقط یہی ٹھہرا ہے کہ کبھی اپنی سہل کوشی کے زعم میں جدید سے انکار کرتے ہیں اور کبھی خودپسندی سے مغلوب ہو کر نئی دنیا کی تعمیر کا دعویٰ کرتے ہیں۔ اس کشمکش

Read more

لاہور کی چھاؤں کے لئے ایک دعا

(یہ تحریر یکم فروری 2016 کو انتظار حسین کی رحلت سے چند گھنٹے قبل لکھی گئی۔ افسوس کہ یہ دعا بھی در ایجاب سے چند ہاتھ دور غبارِ رہ کی صورت تحلیل ہو گئی) ہفتے کی سہ پہر لاہور میں ہلکی بوندا باندی ہو رہی تھی۔ شیر خان راستوں کے انتخاب میں صوبائی خودمختاری کے قائل ہیں۔ گورنمنٹ کالج جانا تھا۔ فیروزپور روڈ سے گزرتے تو قریب رہتا۔ گاڑیوں کے ہجوم میں رینگتے ہوئے چونک کر پوچھا کہ ہم کہاں

Read more

لگائیے پیکا!

آپ گھبرائیے نہیں۔ میری کیا مجال کہ پیکا جیسے آنے پائی سے لیس، نکتہ رس قانون کو یوں سربازار للکاروں۔ درویش بہادر صحافی بھی نہیں اور وفاقی وزیر احسن اقبال تک رسائی بھی نہیں کہ سرکار دربار کے کان میں ٹھنڈی اور گرم پھونکیں مار ا کروں ۔ یہ کم نصیب تو ادب اور تاریخ کا طالب علم تھا۔ دو وقت کی دال روٹی کے لیے صحافت میں چلا آیا۔ ٹیڑھی میڑھی گلیوں کا وہ سفر بھی اب تمام ہوا

Read more

تاریخ کا کنارہ اور خوابوں کی کاشت کاری

تمام آبی دھاروں کی طرح تاریخ کے بھی دو کنارے ہوتے ہیں۔ سیاسی شعور جانچنے کا پیمانہ یہ ہے کہ وقت کے کس نقطے پر ہم نے تاریخ کے دریا کے کس کنارے کا انتخاب کیا۔ یہ رائے لمحہ موجود کے سیاسی، معاشی اور تمدنی تضادات کی روشنی میں قائم کی جاتی ہے لیکن اس رائے کے درست یا غلط ہونے کی ذمہ داری خود تاریخ نے اٹھا رکھی ہے۔ پچھلے پچیس برس دیکھ لیجیے۔ ہر آمریت نئے سرے سے

Read more

سیاست اور عوام کے لیے دال روٹی کا خواب

گزشتہ صدی کے آخری برس تھے۔ سہ پہر کے وقت اتفاق ہسپتال کے بڑے دروازے پر کھڑا تھا۔ ہسپتال پہنچنے کا مطلب ہی یہ ہوتا ہے کہ خود اپنے پر یا کسی عزیز پر کوئی جسمانی افتاد آ پڑی ہے۔ دنیا میں جینے کے لیے آپ کے نیاز مند نے بھی مضبوط اعصاب کا ایک مکھوٹا اوڑھ رکھا ہے۔ سچ یہ ہے کہ جذباتی در و بست کچھ ایسا مضبوط نہیں۔ پانی کی سطح عموماً خطرے کے نشان سے ایک

Read more

Colonial Lahore: A Post-dated Letter for Future Generations

In this book, “Colonial Lahore”, Professor Aziz ud Din Ahmad has encapsulated a transformational century of Lahore in a rhapsodic note which is simultaneously a panegyric tribute and a pyrrhic elegy. The city of Lahore is to this part of the world what cities like Paris, St. Petersburg, London, Delhi, Shanghai, Vienna and New York are to their respective lands. John Milton included Lahore in his inventory of the finest cities of the world in “Paradise Lost”. Lahore has had

Read more

خوئے غلامی میں پختہ ہوئے 25 کروڑ

اقبال کا تیسرا مجموعہ کلام ’ضرب کلیم‘ 1936 ءمیں شائع ہوا۔ اقبال کے شعری خزانے میں تخیل کے اعتبار سے ’جاوید نامہ‘ اور اردو غزل کی رفعت میں ’بال جبریل‘ کا جواب نہیں۔ ضرب کلیم میں اقبال نے ذیلی عنوان ہی میں دور حاضر کے خلاف اعلان جنگ کر دیا۔ یہ گزشتہ صدی کی تاریخ کے تشکیلی برس تھے۔ سپین کی خانہ جنگی شروع ہو چکی تھی اور دوسری عالمی جنگ شروع ہونے میں محض تین برس باقی تھے۔ دو

Read more

نعرے کی خلیج اور مکالمے کا احترام

دوست شکایت کرتے ہیں کہ درویش کی تحریر پڑھنے کے لیے لغت کی ضرورت پیش آتی ہے اور بعد ازاں سر پر روغن بادام سے مالش کروانا پڑتی ہے۔ حقیقت میں ایسا کچھ نہیں۔ احباب باقاعدہ کڑھے ہوئے عالم ہیں۔ زبان کا آسان یا مشکل ہونا ان کا مسئلہ نہیں۔ البتہ کبھی کبھار کوئی رائے توسن طبع پر گراں گزرے تو از رہ تواضع زبان پر تنقید کے پردے میں اپنے اختلاف کا اظہار کرتے ہیں۔ ’تم زمانے کی راہ

Read more

حادثہ تاریخ مرتب نہیں کرتا

قوموں کی تاریخ علم، معیشت اور تمدن کے ارتقا سے مرتب ہوتی ہے۔ اس سفر میں ایسا بھی ہوتا ہے کہ کسی خاص واقعے سے جڑا ہوا تقویمی عدد علامتی شکل اختیار کر لیتا ہے۔ پچھلی صدی میں 22 جون 1941ء کو جرمنی نے روس پر حملہ کیا تو اس روز دوسری عالمی جنگ کا نقشہ ہی تبدیل نہیں ہوا، نتیجہ بھی طے پا گیا۔ قریب چھ ماہ بعد 7 دسمبر 1941ء کو جاپان نے پرل ہاربر پر حملہ کیا

Read more

تاریخ فراموش کرنے کی اجتماعی نفسیات

فروری2018 میں یہی جاتی سردیوں کے دن تھے۔ ایک دوست کسی اہم سرکاری اجلاس میں شرکت کر کے لاہور واپس پہنچا۔ فون کر کے ایک کافی ہاﺅس میں بیٹھنے کی دعوت دی۔ مجھے دوست کے لہجے سے اندازہ ہوا کہ کافی کا کپ تو محض بہانہ ہے، دوست کو دل کا بوجھ ہلکا کرنے کے لیے کسی ایسے ساتھی کی تلاش ہے جسے خبر نشر کرنے کا ہوکا نہ ہو۔ خبر کی ترسیل کے لیے تو صحافت میں بہت سی

Read more

کچھ والٹیئر، ژولا اور جوائس کے بارے میں

کافکا کے ناول The Trial کو استعارہ بناتے ہوئے برادر بزرگ نے ایک خوبصورت کالم لکھا۔ برادر بزرگ کہتے ہیں کہ کافکا عجیب رنگ کا لکھنے والا ہے۔ اس رائے سے اختلاف ممکن نہیں۔  پھر کافکا کے رنگ تحریر کا ایک شاندار محاکمہ کرتے ہوئے فوجی عدالتوں سے ملنے والی سزائوں کے ضمن میں طبلے پر آخری چوٹ لگاتے ہیں۔ سبحان اللہ۔ ابھی ہمارے درمیان ادب اور سیاست کے دھاروں سے دریا نکالنے والا قلم موجود ہے۔ اس زاویے سے

Read more

دسمبر 2024 : ربع صدی کی رائیگانی (مکمل کالم)

آج 31 دسمبر 2024 ءہے۔ ٹھیک پچیس برس پہلے دسمبر 1999 کے آخری روز نئے ہزاریے کا جشن منایا گیا تھا۔ ن۔ م راشد کے لفظوں میں ’آدم کی ولادت کے نئے جشن پہ لہراتے جلاجل کے نئے خواب‘ تو ہمارے حصے میں نہیں آئے کیونکہ ہمارے استاد نے نصف صدی پہلے لکھا تھا ’ نیا سال کئی سال سے نہیں آیا‘۔ صبح شام کی بحرانی دلدل میں پاﺅں گھسیٹنے والوں کے لیے یہی مناسب ہے کہ ربع صدی کے

Read more

27 دسمبر2007 سے نو مئی 2023 تک

 27دسمبر2007 کو آج ٹھیک سترہ برس گزر گئے۔ اس شام راولپنڈی میں بے نظیر بھٹو کو شہید کیا گیا تھا۔ کیا یہ محض اتفاق ہے کہ آج کے اخبارات میں ان 60 افراد کوفوجی عدالتوں سے قید کی سزاﺅں کی خبر شائع ہوئی ہے جنہیں 9 مئی 2023 کو فوجی تنصیبات پر حملوں کا مجرم پایا گیا۔ وقت کا جبر ہے کہ 2015 میں 21ویں آئینی ترمیم کے تحت قائم ہونے والی فوجی عدالتیں 6جنوری 2017 کو ختم ہونا تھیں۔23

Read more

منقش مرغ اور اونی بھیڑ کی حکایت

غریب قلم مزدوروں کی کیا بضاعت ہے۔ سیٹھ صاحب اور ان کے موروثی پرچہ نویسوں کی نگہ نیم باز کے اشارے پر رکھے چراغ ہیں۔ اک پل کی پلک پر دنیا ہے۔ صاحبان محرم راز نے ٹیڑھی آنکھ سے دیکھا تو روٹیوں کے لالے پڑ جاتے ہیں۔ ٹھیک اسی طرح جیسے فیض صاحب جیل گئے تو مشتاق گورمانی کی بن آئی اور سالک صاحب کی سرگوشی سے ”امروز“ میں چراغ حسن حسرت کا چراغ دھواں دے گیا۔ کچھ ہفتے قبل

Read more

چگی داڑھی بکری اور جمہوری غزال

یہ بات ہمیشہ حیران کرتی تھی کہ گھر میں دادا اور ان کی سب اولاد قد کاٹھ ، خدوخال اور رنگ روپ میں ہیٹے تھے لیکن دادی کا قد چھ فٹ سے نکلتا ہوا تھا اور رنگ میدہ شہابی تھا۔ ایک کم عمر بچہ کیسے جانتا کہ دادی ایک یتیم کشمیرن بچی تھی جو حالات کی نامعلوم موجوں پر بہتی مشرقی پنجاب میں لدھیانہ تک آئی تھیں۔ گرمیوں کی شاموں میں چھت پر پانی کا چھڑکاﺅ ہو جاتا تھا۔ دادی

Read more

دستِ عطا کی حنا کاری میں نقوشِ خطا

بہت دن سے تشویش تھی کہ ممتاز قومی سائنس دان، جمہوریت دشمنی کے علمبردار اور ٹیکنوکریٹ بندوبست کے داعی محترم ڈاکٹر عطا الرحمن کا نسخہ اجل مدت سے نظر نواز نہیں ہوا۔ خاکم بدہن، ڈاکٹر عطا الرحمن دیانت دار، غیر سیاسی اور ٹیکنو کریٹ صاحبان علم کے دست اعجاز سے مایوس تو نہیں ہو گئے۔ 12 دسمبر کی صبح ’ٹیکنو کریٹ جمہوریت کی ضرورت‘ کے عنوان سے ڈاکٹر صاحب کا کالم پڑھ کر دل حزیں کو گونہ اطمینان ہوا۔ یوں

Read more

جلتے ہوئے جنگل میں فاختہ کا گھونسلا

8 دسمبر کو خبر آئی کہ شام کا صدر بشار الاسدرات کی تاریکی میں فرار ہو کر اپنے سرپرست ملک روس پہنچ گیا۔ تو کیا شام میں وہ جنگ بالآخر ختم ہو گئی جو 2011 ءمیں شروع ہوئی تھی۔ اس کا جواب نہیں میں ہے۔ اسد گھرانے کی شام میں 1971 ءسے قائم آمریت اپنے پیچھے پیچیدہ لڑائیوں اور خانہ جنگیوں کا امکان چھوڑ گئی ہے۔ فی الحال تو دنیا بشار الاسد کی قیمتی گاڑیوں کے ذخیرے اور خوفناک عقوبت

Read more

کشتیوں کا پل اور 25 کروڑ مسافر

یہ 19 ویں صدی کی باتیں ہیں۔ ایسٹ انڈیا کمپنی نے 1843ء میں سندھ اور 1849ء میں پنجاب پر قبضہ کر لیا۔ ابھی یہاں بنیادی بندوبست کے معاملات چل رہے تھے کہ 1857ء کا ہنگامہ برپا ہو گیا۔ ایک برس بعد 1858ء میں برطانوی حکومت نے ایسٹ انڈیا کمپنی ختم کر کے ہندوستان پر براہ راست حکومت شروع کر دی۔ 1881ء میں پہلی بار ہندوستان میں مردم شماری کی گئی تو پنجاب کی آبادی دو کروڑ جبکہ سندھ کی آبادی

Read more

جھانسی کی رانی اور جنرل بخت خان

کوچہ سیاست کے بدلتے رنگ دیکھتے نصف صدی ہونے کو آئی۔ چھتیس برس اخبار کے صفحات پر بدلتے لب و لہجے میں حسن طلب کی باس سے آشنائی ہو چکی۔ ہمیں خبر کے واقعاتی حقائق دیکھنا ہوتے ہیں۔ کسی درجہ دوم کے اہلکارسے ’اندر کی خبر‘ جاننے کی خواہش یا ضرورت باقی نہیں رہی۔ یہ ’نام نہاد ذرائع‘ جن بتان خاک و سنگ کے ’ارادے‘ بیان کرتے ہیں ہم پتوں سے گزرتی ہوا کی سرسراہٹ سے ان کا انجام تک

Read more

خورجی کے خوارج اور گرو کی بانی

میلان کنڈیرا کا ناول ’وجود کی ناقابل برداشت لطافت‘ ہماری نسل کا نمائندہ ادبی استعارہ ٹھہرا۔ ہماری نسل نے ساٹھ کی دہائی کے خواب آگیں برسوں میں آنکھ کھولی۔ جوانی میں سرد جنگ کے خاتمے اور عالمی جمہوری ابھار سے جذبوں کو مہمیز کیا۔ مذہبی دہشت گردی کا جنم دیکھا اور اب بڑھاپے میں جمہوریت دشمن اور مقبولیت پسند سیاست کا بڑھتا ہوا اندھیرا دیکھ رہے ہیں۔ ناول کا خلاصہ بیان کرنا ممکن نہیں۔ ایک منظر یاد دلانا مقصود ہے۔

Read more

یہ غروب عصر کا وقت ہے

یہ فیصلہ کرنا مشکل ہو رہا ہے کہ خالد احمد کی موت وقت کا ظلم ہے، آمریت کا بانجھ پت جھڑ ہے یا ایک پسماندہ معاشرے کی بے ہنگم افراتفری کے پس پردہ دبے پاؤں بڑھتی بے خبری۔ یہ ہماری یاد کی رحم دلی ہے جو ہمیں دکھ کی تیز آنچ کا احساس نہیں ہونے دیتی یا تاریخ کی دانستہ تنسیخ ہے جو شعورِ تناسب کو ملیامیٹ کرتی گزر رہی ہے۔ خالد احمد لاہور کے مشرق میں کوئی 75 میل

Read more

شرطیہ پرانا پرنٹ اور داغوں کی بہار

اخبار سے خبر تو اب غائب ہو گئی۔ کالم کے نام پر خامہ فرسائی کے اطوار بھی چراغ حسن حسرت کے لفظوں میں ’کثرت استعمال‘ سے متروک ہو رہے ہیں۔ فکاہیہ کالموں میں ایک عطا الحق قاسمی اگلے وقتوں کی نشانی بچے ہیں۔ رپورٹنگ سے کالم کا رخ کرنے والے خبر کو کالم کا لبادہ پہناتے ہیں مگر صیغہ متکلم کی خود آرائی اور مبینہ ذرائع کے دام میں الجھ جاتے ہیں۔ کچھ ماضی کے آثار ہیں جنہیں شاید نظریاتی

Read more

موچی کے بالشتیے اور بادشاہ کا لباس فاخرہ

میرا جی کو گھر یاد آتا تھا اور مجھے ماں یاد آتی ہے۔ میرے بچپن میں جاڑا بہت کڑاکے کا پڑتا تھا۔ ماں نرم روئی کا لحاف مجھ پر ڈال کر سر پر اونی ٹوپی اوڑھا دیتیں۔ اور پھر روئی کے ڈھیر میں چھپے اس ’گولو شاہ‘ کو مزے مزے کی کہانیاں سناتیں۔ میری پسندیدہ کہانی ایک غریب موچی کے بارے میں تھی جس کے تیار کئے ہوئے ادھورے جوتے کوئی رات کے اندھیرے میں مکمل کر دیتا تھا۔ ایسی

Read more

اپریل 2022 کے بعد پہلا ناقابل اشاعت کالم (بھلا ہوا میری گاگر ٹوٹی)

ہر اشاعتی ادارے کی ایک پالیسی ہوتی ہے اور کچھ خارجی تحدیدات بھی۔ ادارتی صفحے پر لکھنے والے کا ادارے سے معاہدہ ضرور ہوتا ہے لیکن کسی موقر ادارے میں کالم لکھنے والے کو ہدایت نامہ جاری نہیں کیا جاتا۔ لکھنے والا اپنی رائے کے اظہار میں آزاد ہے۔ دوسری طرف ادارے کو استحقاق ہے کہ اگر کسی تحریر کو کسی بھی وجہ سے شائع نہ کرنا چاہے تو اسے روک لے۔ آخر لکھنے والا بھی تو ایک فرد ہی

Read more

کیا تین روز بعد دنیا بدل جائے گی؟

جب یہ کالم آپ کے ہاتھوں میں پہنچے گا، امریکی انتخابات میں صرف دو روز باقی ہوں گے۔ 5 نومبر بروز منگل کو 35 کروڑ امریکیوں میں سے تقریباً 18 کروڑ شہری ووٹ سے اگلے چار برس کے لیے ڈیموکریٹک امیدوار کاملا ہیرس اور ری پبلکن امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ میں سے اپنے صدر کا انتخاب کریں گے۔ رائے عامہ کے جائزوں کے مطابق دوسری عالمی جنگ کے بعد یہ امریکا کا سخت ترین انتخاب ہے کیونکہ دونوں امیدواروں کے درمیان

Read more

جمہوریت سیکھنا پڑتی ہے

پچھلے 25 برس میں ہمارے عامل صحافیوں کی بڑی تعداد غربت کی لکیر سے نیچے آ گئی ہے۔ دوسری طرف کچھ صحافیوں کی قسمت ایسی کھلی ہے کہ وہ مشاہرے وغیرہ کے جھنجھٹ سے بے نیاز ہو گئے ہیں۔ رزق میں ایسی کشائش آئی ہے کہ باقاعدگی سے ترقی یافتہ مغربی ممالک میں چھٹیاں وغیرہ مناتے ہیں اور واپسی پر ہمیں یورپ کی صاف ستھری سڑکوں، عالی شان عمارتوں اور خوابناک تفریح گاہوں کے قصے سناتے ہیں۔ درویش کو چند

Read more

نواز شریف دل برداشتہ کیوں ہیں؟

ہندوستان کا بٹوارا انسانی تاریخ میں ایک منفرد تجربہ ہے۔ زمانہ امن میں شاید ہی کہیں ایسا ہوا ہو کہ چند مہینوں کے اندر ایک کروڑ سے زائد انسانوں کو مجبوراً نقل مکانی کرنا پڑی۔ اس افراتفری میں مرنے والوں اور بچھڑنے والوں کی تعداد پانچ لاکھ سے دس لاکھ تک رہی۔ اس خونچکاں انسانی المیے میں ہر گھرانے کی اپنی ایک داستان تھی اور ہر فرد کی ایک کہانی تھی۔ میرے بچپن تک اس اکھاڑ پچھاڑ کے معاشی اور

Read more

ذاکر نائیک سے ایک درخواست

برادرم یاسر پیرزادہ کی طرح درویش نے بھی ارادہ باندھا تھا کہ ڈاکٹر ذاکر نائیک کے فرمودات کو نظر انداز ہی کیا جائے۔ ہمارا ملک بہت سے پیچیدہ سیاسی اور معاشی مسائل سے دوچار ہے۔ آئین میں ترمیم بظاہر پارلیمنٹ کا اختیار ہے لیکن ہمارے تاریخی تناظر بالخصوص حالیہ سیاسی بندوبست میں مجوزہ آئینی ترمیم مختلف آئینی اداروں میں توازن بحال کرنے کی کوشش ہی نہیں، سیاسی قیادت کے تدبر کا امتحان بھی ہے۔ یہ ایک اتحادی حکومت ہے جسے

Read more

معیشت اور سیاست: بہار اور خزاں کا پنڈولم

رواں برس کے آغاز میں پاکستان سیاسی بے یقینی، معاشی دلدل اور سفارتی تنہائی کے سہ جہتی بحران سے دوچار تھا۔ عام آدمی سے لے کر اہل دانش تک سبھی مایوسی کا شکار تھے۔ نئے مالی سال میں کچھ امید افزا اشارے سامنے آئے ہیں۔ آئی ایم ایف سے آئندہ تین برس کے لئے قریب سات ارب ڈالر کی اعانت منظور کی گئی ہے۔ ایشین ڈویلپمنٹ بینک نے دو ارب ڈالر کا عندیہ دیا ہے۔ ورلڈ بینک نے پاکستانی معیشت

Read more

دھونکل شریف کا مرید اور اقبال احمد کی نصیحت

خطہ پاکستان بالخصوص منطقہ پنجاب تاریخ انسانی میں فروغ شرافت کے لئے جانے جاتے ہیں۔ اس وادی سرسبز و آب شیریں میں ہر دوسرا قصبہ اور ہر تیسرا گاؤں ’شریف‘ کے لاحقے سے متصف ہے۔ حالیہ برسوں میں پاکپتن شریف نامی قصبے کے مرجع خلائق ہونے کے اسباب تو آپ جانتے ہیں۔ کچھ علمائے تاریخ کی رائے میں تخلیق کائنات کے بعد اجزائے ہستی کے جو حصے بچ رہے ان میں شرافت کا ذخیرہ مقدار میں سب سے زیادہ تھا۔

Read more

ڈی چوک میں لال گلاب کا تختہ

لکھنے والے بھی عجیب مخلوق ہوتے ہیں۔ ایک ہی وقت میں کئی دنیاؤں میں بسیرا کرنے والے نہ چاہتے ہوئے بھی گلی کوچوں میں بسنے والی سادھارن مخلوق سے الگ کسی کھپریل کے نیچے جا بیٹھتے ہیں۔ کوئی ٹکسالی گیٹ کے حجرے میں جا بیٹھتا ہے تو کوئی دریا کے کنارے کسی بے آباد عبادت گاہ کے خاموش کونے میں چند بوسیدہ کتابوں اور اپنے ہی لکھے پرانے کاغذوں کے ساتھ وقت گزارتا ہے۔ یہ لوگ کسی کو فائدہ پہنچاتے

Read more

کوئی سکھ دا سنیہا آیا؟

پنجابی زبان میں عنوان باندھا ہے۔ نسرین انجم بھٹی حیات ہوتیں تو نہال ہو جاتیں۔ مفہوم سادہ ہے کہ کہیں سے کوئی خوشی کی خبر آئی؟ صحافت مگر وحشی صفت پیشہ ہے۔ اساتذہ نے خبر کی تعریف یہ باندھی کہ اس میں کچھ نحوست، ملال یا کم از کم خرق عادت پہلو پایا جائے۔ بزرگوں کا احترام بر چشم ما لیکن بندہ تہی کیسہ آج اچھی خبروں کا پشتارہ لایا ہے۔ نوع انسانی نے زبان ایجاد کی تو اس کی

Read more

ان دیکھی منجدھاریں اور انجان مانجھی

یونہی ماضی کے کچھ گھاؤ دیکھنا چاہے تھے، تاریخ کی نمایش گاہ میں کچھ بے پرکھی پتواروں کا تذکرہ تھا۔ بات ابھی عالمی جنگ کے اختتام پر برطانوی ہند کی سیاست کے ان برسوں تک پہنچی تھی جہاں، ’دونوں وقت آن ملا کرتے ہیں دم بھر کے لئے‘ ۔ ایسے میں ایک مہربان نے بلمپت کے انترے میں بے جگہ بے داد سے راگ کی چال میں کھنڈت ڈال دی۔ خضر دوراں کے کم سواد تبصرے کی رفوگری پر ایک

Read more

ایک انسان کی زندگی اور مبتدی تاریخ دان

گزشتہ اظہاریے میں ہندوستان پر برطانوی تسلط کی تاریخ کے بارے میں چند سوال اٹھائے تھے۔ یہ اشارہ مقصود تھا کہ دونوں ملکوں میں تقسیم کے بعد پیدا ہونے والی نسلیں تاریخ کا نامکمل اور گمراہ کن تصور رکھتی ہیں۔ اخباری کالم ایک مشکل صنف ہے۔ لفظوں کی تعداد طے ہے اور حقائق سے انحراف کی وہ آزادی بھی میسر نہیں جو فکشن نگار کو حاصل ہوتی ہے۔ مذکورہ تحریر پر ایک مہربان نے اپنے مخصوص انداز میں کاٹ دار

Read more

تاریخ کے مخطوطے میں ترمیم نہیں ہوتی

معمورہ دنیا میں روز اک خرابی چلی آتی ہے۔ اصحاب سبحہ و زنار دست و گریباں ہیں۔ 25 کروڑ خاک نشین اپنے دکھوں کی ستر پوشی میں الجھے ہیں۔ انہیں دستور کی شق 175 (اے ) سے واسطہ ہے اور نہ 184 ( 3 ) سے تعلق ہے۔ انہیں تو منٹو مارلے اصلاحات کے بعد سے دائرے میں بٹھا رکھا ہے کہ تبادلہ، توسیع اور ترمیم کی سہ شاخہ ترشول سے بندگان عالی قدر کی ترقی کا تماشا کیا کریں۔

Read more

ویکلاف ہیول کا ڈرامہ ’یادداشت‘ اور دیگر فتنے

’پاکستانی ادب میں مزاحمتی روایت‘ پڑھا رہا ہوں۔ حبیب جالب پر بات میانی افغاناں (ہوشیارپور) سے شروع ہوئی۔ ایوب خان کی آئینی عنایت پر لکھی نظم ’دستور‘ پڑھی گئی۔ گفتگو بے ارادہ سنجیدہ ہو رہی تھی۔ گزشتہ لیکچر میں فیروز الدین منصور پر فیض صاحب کا غزل نما مرثیہ ’تیرے غم کو جاں کی تلاش تھی۔‘ پڑھتے ہوئے استاد کی آواز بھرا گئی تھی۔ کچھ لمحے خاموش رہنا پڑا۔ استاد کے لیے جذبات سے مغلوب ہونا مناسب خیال نہیں کیا

Read more

معلق محل سے آتی صدائیں

کہانی ختم نہیں ہوتی، کہانی کہنے والے کو کسی موڑ پر خاموش ہونا پڑتا ہے۔ جیسے ہم سب کو، اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ وہ سردیوں کی کہر زدہ شام ہو گی یا موسم گرما کی صبح میں پھیلتی ہوئی دھوپ، ایک روز خاموش ہونا ہے۔ ہماری چپ سے دنیا کا شور ختم نہیں ہو گا، بچے بستہ اٹھائے روزانہ کی طرح سکول روانہ ہوں گے، سبزی والا اپنی ریڑھی پر، معمول کے مطابق، ہرے پتوں پر سرخ

Read more

اندھیرے کنویں میں اترتی سیڑھیاں

محض ماہ و سال کا حساب ہوتا تب بھی اکرام اللہ لمحہ موجود میں بزرگ ترین اردو فکشن نگار قرار پاتے۔ اسد محمد خان 1932ء اور محمد سلیم الرحمن 1934ء میں پیدا ہوئے تھے۔ اکرام اللہ جنوری 1929ء میں جالندھر کے قصبے جنڈیالہ میں پیدا ہوئے۔ 1961ء میں اکرام اللہ کی پہلی کہانی ’اتم چند‘ ادب لطیف میں شائع ہوئی تو ان کے رنگ تحریر پر منٹو کا گہرا اثر تھا۔ موضوع اور اسلوب کے اعتبار سے اکرام اللہ کی

Read more

منحرف شہری کا رضاکارانہ اعتراف

آج کچھ دل کی باتیں کرتے ہیں۔ مجھے کرہ ارض کے اس ٹکڑے پاکستان پر رہتے چھ دہائیاں ہونے کو ہیں۔ میں نے ’رہنے‘ کا لفظ لکھا ہے، ’بسنے‘ کا ذکر نہیں کیا۔ رہنے اور بسنے میں باریک سا فرق ہے۔ ’بستیاں بسنے کو لازم ہے کہ دو چار رہیں، دہر کو کوچہ دلدار سمجھنے والے‘۔ میری مدت العمر میں نقشے پر پاکستان کا رقبہ دس لاکھ تیس ہزار مربع کلومیٹر سے گھٹ کر آٹھ لاکھ بیاسی ہزار مربع کلومیٹر

Read more

قاسمی صاحب کس دھندے میں پڑ گئے

قبلہ عطا الحق قاسمی نے عجب چونچال طبیعت پائی ہے۔ بیٹھے بٹھائے مینڈھے لڑانا کوئی ان سے سیکھے۔ اسحاق المعروف بہ طاہر القادری نامی ایک مرد پیر بعمر تہتر برس کینیڈا کے گوشہ عزلت میں ’ایک تکیہ بنائے اپنی اولاد کو لیے بیٹھا ہے‘۔ نہ کاہو سے دوستی، نہ کاہو سے بیر۔ ہاتف کا اشارہ ہو تو ’ریاست بچانے‘ یا ’انقلاب‘ برپا کرنے وطن مالوف کا رخ کرے، ورنہ اپنے پارہ نان پر اکتفا ہے۔ ’انقلاب‘ کا پھریرا تحریک انصاف

Read more

دکھ کی دلیل مسترد کی جاتی ہے

2016 کا ایک قصہ سنانا چاہتا ہوں۔ آپ کے نیاز مند نے جنوری 2016 میں کچھ دوستوں کی مدد سے ایک رضاکارانہ ویب سائٹ شروع کی۔ اس میں کارکنوں کے لئے کوئی مالی منفعت تھی اور نہ لکھنے والوں کو کوئی آنہ ٹکا دیا جاتا تھا۔ پالیسی بہت سادہ تھی۔ لکھنے والوں کو سیاسی اور سماجی موضوعات پر اظہار خیال کی پوری آزادی تھی البتہ خلاف قانون اور منافرانہ مواد پر پابندی تھی۔ مذہبی آزادی، رواداری اور خرد افروزی کی

Read more

عورت کس کے اعصاب پر سوار ہے؟

علامہ اقبال نے ضرب کلیم میں ہند کے شاعروں، صورت گروں اور افسانہ نویسوں پر طنز کرتے ہوئے فرمایا تھا۔ ‘آہ بے چاروں کے اعصاب پہ عورت ہے سوار’۔ 1936ء میں شائع ہونے والی اس تصنیف کو حضرت اقبال نے ‘دور حاضر کے خلاف اعلان جنگ’ کا ذیلی عنوان دیا تھا۔ اس کتاب میں عورت کے موضوع پر نو مختصر نظمیں شامل ہیں۔عورت کے حقوق, آزادی اور مساوات کے تصورات یورپ میں روشن خیالی کی تحریک کے زیر اثر اٹھارہویں

Read more

ڈاکٹر خالد سہیل کے لئے ’فروغ گلشن و صوت ہزار‘ کا پیغام

برادر محترم ڈاکٹر خالد سہیل، آپ کا شفقت نامہ ’ایرانی شاعرہ فروغ فرخ زاد اور گناہِ پُرلذت‘ کے بامعنی عنوان سے یکم اگست کو موصول ہوا۔ مندرجات ایسے بصیرت افروز اور نکتہ آفریں تھے کہ فوراً قلم اٹھانے کر ’جواب دوست‘ رقم کرنے کا تقاضا کرتے تھے۔ آپ جیسے ہمہ وقت سرگرم عمل دوست سے اپنی مصروفیت کا ذکر چھیڑنا رفعت تخلیق کی نسیم سبک رو کے سامنے مکروہات دنیا کے کباڑ خانے کی نمائش کے مترادف ہے لیکن اے

Read more

المیہ تمثیل کے آخری ایکٹ کا پہلا منظر

انسانی تاریخ کی تمثیل دو دھاروں کی کشمکش سے عبارت ہے، طاقت اور محبت۔ طاقت نے وسائل پر قبضے ، فیصلہ سازی کے اختیار، اقتدار کے تام جھام، اونچ نیچ کی دیواروں، تفرقے، نفرت، تقلید اور جہالت کے ہتھیار ایجاد کئے ہیں۔ محبت نے پیداوار، علم، تخلیق، تعمیر، ہمدردی، احساس ، جذبوں کی سانجھ اور ذوق جمالیات کی مدد سے طاقت کی آندھیوں کا مقابلہ کیا ہے۔ ذہن انسانی کی دو اہم ترین ایجادات زبان، اور انصاف ہیں جن کے

Read more

دریائے یانگسی کی تین گھاٹیاں اور ہماری سیاست

دریائے یانگسی چین کے جنوب مغرب میں تبت کی سطح مرتفع سے نکل کر 6300 کلومیٹر دور چین کے مشرقی سمندر میں گرتا ہے۔ دنیا کے اس تیسرے طویل ترین دریا سے سیراب ہونے والے زرخیز خطے چین کی جی ڈی پی کا 20 فیصد حصہ ہیں۔ چینی رہنما سن یات سن نے اس دریا پر بند باندھ کر چین کی معیشت بدلنے کا خواب دیکھا تھا۔ 1994 ءمیں تین گھاٹیوں سے منسوب ڈیم کی تعمیر شروع ہوئی۔ 31 ارب

Read more

قرارداد مقاصد اور علامہ شبیر احمد عثمانی (14 )

آج کی محضرات اس ادارتی صفحے (روز نامہ جنگ) پر انقطاعی تحریر ہیں۔ روزنامہ اخبار کی اپنی اشاعتی اور پس پردہ تحدیدات ہوتی ہیں جن کا احترام لکھنے والے پر لازم ہے۔ یار من عزیز از گل سر سبد کو غالب کا یہ پامال مصرع یاد دلانا تو آداب دوستی سے انحراف ہو گا کہ ’در پہ رہنے کو کہا اور کہ کے کیسا پھر گیا‘۔ قرارداد مقاصد سے ہمارا قومی نصب العین ایسا دھندلایا کہ ہم ایک جدید جمہوری

Read more

’حدیث دیگراں‘ اور اپنے ملال کا بیان

مشفق مکرم عرفان صدیقی نے حالیہ تحریر کا آغاز ’چوں کفر از کعبہ بر خیزد…‘ کے فارسی مصرعے سے کیا ہے۔ گویا اردو کالم میں فارسی شعر کے حوالے کی روایت کو تازہ سند مل گئی۔ درویش تو بزرگوں کے اتباع میں عافیت ڈھونڈتا ہے۔ طالب علم کو اپنی شکستہ بیانی پر غالبؔ جیسا غرہ نہیں کہ کسی پری وش کے ذکر سے راز داں کے رقیب بننے کا اندیشہ لاحق ہو۔ سو، میں مولانا روم کے ایک شعر کی

Read more

قرارداد مقاصد اور علامہ شبیر احمد عثمانی (13)

اس اظہاریے میں جماعت اسلامی اور سید ابوالاعلیٰ مودودی اس لیے زیر بحث آئے کہ قرارداد مقاصد منظور ہونے کے بعد جماعت اسلامی کی مجلس شوریٰ نے 15 مارچ 1949ء کو ریاست پاکستان کی حمایت کا اعلان کیا تھا۔ جماعت اسلامی کی مجلس شوریٰ کے مطابق ’پاکستان کی دستور ساز اسمبلی نے یہ قرارداد (قرارداد مقاصد) منظور کر کے جماعت اسلامی کے مطالبہ کی روح کو قبول کر لیا ہے۔ اگر اس قرارداد کے الفاظ اور ان کے مضمرات و

Read more

دلہن ایک رات کی اور بوسکی کناری

لاہور میں ایسی بارش ہوئی کہ جل تھل ہو گیا۔ پانی اتر گیا لیکن زمین گیلی ہے۔ صحافی کی مجبوری ہے کہ سورج آگ برسا رہا ہو یا سردی سے دانت بج رہے ہوں، دھند میں راستہ سجھائی نہ دیتا ہو، اسے اپنی بات کہنا ہوتی ہے۔ صحافی سیاست دان نہیں کہ موقع محل کی مناسبت سے تقریر مرتب کر لے۔ آج بھی کچھ پھسلواں قطعات میں قدم رکھنا ہے لیکن کیا کیا جائے۔ ’گھائل ہے آواز ہوا کی اور

Read more

چیف جسٹس کو دھمکی؟

خیر گزری کہ ہمارے خستہ مکان کی بنیاد ابھی قائم ہے، دیوار، دالان اور دریچوں کے درو بست میں تزلزل کے آثار بہرحال نمودار ہو چکے۔ غیر ملکی قرض 130 ارب ڈالر کو جا پہنچا۔ جی ڈی کا کل حجم 340 ارب ڈالر ہے۔ گرمی کی شدت نے زمین و آسماں زیر و زبر کر رکھے ہیں۔ ایسے میں بجلی کے ایک یونٹ کی قیمت 65 روپے کو جا پہنچی۔ فی کس آمدنی 1680 ڈالر ہے جو بھارت اور بنگلہ

Read more

چاندی کی کڑاہی، دیگ اور برقعہ

پاکستان تحریک لبیک کے نائب امیر مولانا ظہیر الحسن کے بارے میں خبر آئی کہ وہ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے بارے میں ایک کروڑ روپے انعام کا اعلان کرنے کے بعد اوکاڑہ میں چھپ گئے تھے جہاں سے انہیں گرفتار کر لیا گیا۔ اس پر درویش کو اپنی سترہ برس پرانی ایک تحریر یاد آ گئی جو لال مسجد اسلام آباد کے آپریشن سے چار روز قبل 7 جولائی 2007ء کو بی بی سی اردو پر شائع ہو

Read more

قرارداد مقاصد اور علامہ شبیر احمد عثمانی (12)

قرارداد مقاصد کی بحث بنیادی طور پر مطالبہ پاکستان کی سیاسی نوعیت اور پاکستانی ریاست کے موجودہ تشخص میں پائی جانے والی خلیج سے تعلق رکھتی ہے۔ اسی ضمن میں سید ابوالاعلیٰ مودودی کا ذکر بھی چلا آیا۔ معلوم ہوا ہے کہ جماعت اسلامی کے احباب سید مودودی کے تاریخی موقف کا حوالہ دینے پر خورسند نہیں ہوئے۔ تاریخ کا دریا اپنے بہاﺅ میں متنوع منطقوں سے گزرتا ہے۔ تحریک پاکستان کے بارے میں سید مودودی کے ارشادات تاریخ کا

Read more

دریا کے خواب سے محروم نسلیں

ایران کے شہر نیشاپور میں بارہویں صدی کے وسط میں شیخ فریدالدین نام کا ایک شخص پیدا ہوا۔ اپنے آبائی پیشے کی نسبت سے فریدالدین عطار کہلاتا تھا۔ کوئی تیس برس کی عمر میں فریدالدین نے قریب 4600 اشعار پر محیط ایک مثنوی ’منطق الطیر‘ لکھی۔ دور دراز بستیوں، اجنبی منطقوں اور دشوار گزار بستیوں کا سفر کر کے اپنے زمانے کے اصحاب علم سے ملاقات اور استفادے کے جواہر ریزے سمیٹ کر اس شخص نے قلم اٹھایا تو ’سیمرغ‘

Read more

ملکی سلامتی پر سمجھوتہ نہیں ہو سکتا

14 اپریل 2022ء کو میجر جنرل بابر افتخار نے ایک اہم پریس کانفرنس کی تھی جس کا کلیدی جملہ یہ تھا کہ ’ہمارا سیاست سے کوئی لینا دینا نہیں‘ نیز یہ کہ ’ٹی ٹی پی کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں ہو رہے بلکہ ان کے خلاف بھرپور کارروائی کی جا رہی ہے۔ ‘ گزشتہ روز لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے پریس کانفرنس میں بتایا ہے کہ ’عزم استحکام فوجی آپریشن نہیں بلکہ انسداد دہشت گردی مہم ہے جس کا

Read more

ڈاکٹر خالد سہیل: پھر تمہارا خط آیا

برادر محترم ڈاکٹر خالد سہیل یہ عنوان ابن انشا کی محبت کے موضوع پر ایک سادہ سی نظم سے لیا ہے۔ چند سطریں ملاحظہ فرمائیے۔ ’شام حسرتوں کی شام / رات تھی جدائی کی / صبح صبح ہر کارہ / ڈاک سے ہوائی کی / نامہ وفا لایا / پھر تمہارا خط آیا‘۔ ابن انشا بے پناہ تخلیقی آدمی تھے، نظم ہو یا نثر، غزل ہو یا مزاح، کسی گھر بند نہیں تھے۔ رومانوی طبیعت پائی تھی۔ شادیوں اور محبتوں

Read more

قرارداد مقاصد اور علامہ شبیر احمد عثمانی (11)

سید ابوالاعلیٰ مودودی نے 1932ءمیں حیدرآباد سے رسالہ ’ترجمان القرآن‘ جاری کیا جس کے مضامین آہستہ آہستہ مذہبی اور سماجی موضوعات سے میدان سیاست کا رخ کرنے لگے۔ جولائی 1937 میں سید مودودی نے ترجمان القرآن ہی میں ’مسلمان اور موجودہ سیاسی کشمکش‘ کے عنوان سے مضامین کا ایک سلسلہ شروع کیا جس کی پہلی جلد اپریل 1938 میں شائع ہوئی۔ اس سلسلے کی تیسری اور آخری جلد 1943 میں شائع ہوئی۔ اس دوران سیاست میں دلچسپی رکھنے والے مسلم

Read more

قومی معیشت: لنگر یا غریب کا دستر خوان

فیض صاحب کوئی چار برس پاکستان ٹائمز اور امروز کے چیف ایڈیٹر رہے۔ دھیمے لہجے کے شاعر کی طبیعت بھی بے نیاز تھی۔ روزمرہ تفصیلات میں الجھنے سے یک گونہ گریز تھا۔ بڑے آدمیوں کی ذہنی ترجیحات کچھ اور ہوتی ہیں۔ (جنرل خالد محمود عارف نے ضیا الحق کو ’King of Trivia‘ لکھا ہے)۔ فیض صاحب اخبار کے دفتر میں آتے، نیوز روم اور رپورٹروں پر ایک نظر ڈالی اور اپنے کمرے میں چلے گئے۔ اخبار کا اداریہ البتہ جم

Read more

آج کے دن کوئی اخبار نہ دیکھا جائے

سلطان احمد خان 1938ء میں ٹونک (راجستھان) میں پیدا ہوئے۔ مخمور سعیدی کے نام سے اردو شعر میں مقام پایا۔ 2010ء میں انتقال ہوا۔ آج کے کالم کا عنوان مخمور صاحب کے ایک شعر سے اخذ کیا ہے۔ پڑھنے والی آنکھ مگر پوچھتی ہے کہ آج کے دن کی کیا تخصیص ہے۔ گزرے وقتوں میں اخبار نے کس روز ہمیں سبز گھاس پر اڑتی تتلیوں کی خبر دی تھی۔ ہمت کر کے آج کا اخبار بھی دیکھ لیتے ہیں۔ بنوں

Read more

برادرم ڈاکٹر خالد سہیل کی خدمت میں

برادر محترم ڈاکٹر خالد سہیل صاحب! آپ کا شفقت نامہ موصول ہوا۔ حضرت! عاجز نے تو اپنے تئیں آپ کو جنم دن پر مبارکباد ارسال کی تھی۔ توسن خیال مگر غم زمانہ سے کچھ ایسا آشنا ہوا ہے کہ خوشی اور ملال کے بیچ کھنچی لکیر مدت ہوئی غبار ایام میں گم ہو چکی۔ واللہ خبر نہیں ہوتی کہ کس لمحہ خوشی میں گوشہ چشم سے آبلہ اشک پھوٹ بہتا ہے۔ جو بات عزیز دوست کی عمرِ خوش رنگ کے

Read more

قرارداد مقاصد اور علامہ شبیر احمد عثمانی (10)

برصغیر میں برطانوی راج کے آخری تیس برس ایک تلاطم خیز سیاسی عہد کی کہانی ہے۔ اس دوران بڑے طوفان اٹھے، ان گنت لہریں بنتی اور بگڑتی رہیں۔ آل انڈیا کانگرس نے جنوری 1930ء میں اپنے سالانہ اجلاس منعقدہ لاہور میں مکمل آزادی کا مطالبہ کیا تو مسلم لیگ ایک داخلی بحران سے دوچار تھی۔ مارچ 1927ء میں قائداعظم کی ’تجاویز دہلی ‘منظور نہیں ہوسکیں۔ مسلم لیگ پنجاب سر محمد شفیع کی قیادت میں الگ ہوگئی اور علامہ اقبال اس

Read more

72 سالہ خالد سہیل سے اختلاف اور ماﺅں سے متعلق تجویز

آج 9 جولائی ہے، میرے عزیز دوست، استاد، ماہر نفسیات، صاحب دانش اور صاحب السیر ڈاکٹر خالد سہیل آج ٹھیک بہتر برس کے ہو گئے۔ 9 جولائی 1952 کو پیدا ہو کر خیبر میڈیکل کالج پشاور سے تعلیم پانے کے بعد پانچ دہائیوں سے دور دیس بسرام کرنے والے خالد سہیل نے کیسی تخلیقی، محبتوں سے لبریز، رنگوں میں ڈوبی اور حرف و دانش میں شرابور زندگی گزاری ہے۔ آج یار عزیز کا کچھ ذکر رہے۔ اس سے پہلے مگر

Read more

قرارداد مقاصد اور علامہ شبیر احمد عثمانی (9)

6 اس موضوع پر گزشتہ تحریر اس سوال تک پہنچی تھی کہ متحدہ ہندوستان میں مسلمانوں کی مذہبی قیادت کے دعوے دار گروہ کا قائداعظم کی سیاست سے کیا تعلق تھا۔ 1906ء میں قائم ہونے والی مسلم لیگ ہندوستانی مسلمانوں کے خالص سیاسی تحفظات کی روشنی میں قائم ہوئی تھی اور اس کا محرک 1905ء میں ہونے والی تقسیم بنگال کی آل انڈیا کانگرس کی طرف سے مخالفت تھی۔ مسلم لیگ کی طرف سے یکم اکتوبر 1906ء کو وائسرائے ہند

Read more

جمہوریت تعویز گنڈے کا دھندا نہیں

6 دیوار سے لٹکے کیلنڈر پر کندہ تاریخیں تو محض گزرتے وقت کا خاموش نشان ہیں۔ انہیں انسانی ہاتھوں کی محنت اور کاسہ سر میں کارفرما شعور سے معنی دیے جاتے ہیں۔کل 4 جولائی تھا۔ امریکی 4جولائی 1776 ءکو اپنے اعلان آزادی کی منظوری کی یاد میں اسے یوم آزادی کے طور پر مناتے ہیں۔ ہماری تاریخ میں بھی 4جولائی کی آزمائش گزری ہے ۔ ہمارے منتخب اور زخم خوردہ وزیراعظم نواز شریف کو کارگل کی برف پوش چوٹیوں پر

Read more

امریکی سپریم کورٹ سے جڑانوالہ فسادات تک

6 ٹھیک سو برس پہلے 9 فروری 1922 کو کلکتہ کی عدالت میں بیان دیتے ہوئے مولانا ابوالکلام محی الدین آزاد نے ہزاروں برس پر پھیلی انسانی تاریخ کو ایک جملے میں سمیٹ دیا تھا۔ فرمایا ’تاریخِ عالم کی سب سے بڑی نا انصافیاں میدانِ جنگ کے بعد عدالت کے ایوانوں ہی میں ہوئی ہیں‘۔ مولانا کے اس بیان پر ایک صدی کی آندھیاں اور طوفان گزر گئے۔ انسانوں نے چھوٹی بڑی سینکڑوں جنگیں بھگتیں اور عدالتوں میں انصاف کا

Read more

قرارداد مقاصد اور علامہ شبیر احمد عثمانی (8)

قرارداد مقاصد اور شبیر احمد عثمانی کے عنوان سے یہ بحث ایک سادہ سے جملے سے شروع ہوئی تھی ۔ عرض کی تھی کہ قرارداد مقاصد ان بنیادی سیاسی اور جمہوری اصولوں سے انحراف تھا جن کی بنیاد پر ہندوستان کی تقسیم کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ اس پر دائیں بائیں سے ردعمل ظاہر ہوئے ۔ ابتدائی اعترا ض یہ تھا کہ علامہ شبیر احمد عثمانی کی توہین ہوئی ہے ۔ اس پر وضاحت کی گئی کہ تمام انسانوں کے

Read more