عصر کا وقت اور رقص بسمل

عصر کی ایک اذان کربلا میں ہوئی، ایک اکہتر میں ہوئی ہو گی، ایک ابھی دو برس پہلے بھی ہوئی تھی جب مرنے والے ہر بچے کے ماں باپ بھائی بہن جان چکے تھے کہ سارا گھر لے گیا گھر چھوڑ کے جانے والا اور ایک اذان آج ہو رہی ہے۔ آج جمعہ ہے اور جمعہ مبارک کے پیغامات سے موبائل اٹا پڑا ہے۔ انسان خسارے میں ہے!

اکہتر کے وقت ہم میں سے بیشتر پیدا بھی نہیں ہوئے تھے۔ بنگلہ دیش بننے کا دکھ اس نسل کا دکھ نہیں ہے۔ جو ہونا تھا وہ ہو گیا۔ جس طرح خاک اڑائی گئی وہ بھی دیکھ لیا۔ جو قصوروار تھے انہیں بھی جان لیا، جو محض لاچار تھے انہیں بھی دیکھ لیا۔ سوال آج کا ہے، ویگنوں کی چھتوں پر لدی لاشیں باقاعدہ بات کرتی ہیں جنہیں وہ کان نہیں سن سکتے جو اکہتر سے پہلے بھی ایسی آوازوں کو بے وقت کی راگنی کہا کرتے تھے۔ لاشوں کے پروٹوکول دیکھنے والے لاشوں کی بے حرمتی بھلا نہیں سکتے۔ یہ سچ ہر زمانے میں بولا جاتا ہے لیکن تربیت یافتہ نصابی دماغ اسے نفرت کی آواز جان کر ایک دم اگنور کرتے ہیں اور کرتے رہیں گے۔

Read more