پڑھی لکھی خواتین کو طلاق زیادہ کیوں ہوتی ہے؟

میں اس وقت تھرڈ ائیر میں تھی۔ ہمارا معمول تھا کہ عصر اور مغرب کی نماز کے درمیان کا وقت میں اور ابو ساتھ گزارتے تھے۔ اس دوران چائے پی جاتی، کیرم بورڈ یا لڈو کھیلا کرتے اور ساتھ ساتھ باتیں بھی ہوتیں۔ کبھی سیاسی گفتگو، کبھی معاشرتی مسائل، کبھی شاعری، گیت اور چٹکلے تو کبھی سنجیدہ گفتگو۔ یہ میری زندگی کی بڑی خوبصورت یاد ہے۔ ایسی یاد جسے دل میں بہت سنبھال کے رکھا جاتا ہے، ایسی یاد کہ جس کے یاد آنے پر ہونٹوں پر مسکراہٹ بھی آجاتی ہے اور آنکھوں میں نمی بھی اور یہ بھی سمجھ نہیں آتا کہ مسکراہٹ زیادہ گہری ہے یا آنکھیں زیادہ نم ہیں۔

یہ وہ وقت ہے جس نے مجھے ابو کے بہت قریب کیا اور ان سے بہت کچھ سیکھنے کو ملا۔ ان کے پاس بیٹھنا اور ان کے ساتھ وقت گزارنا مجھے بہت اچھا لگتا تھا۔ ایک دن ہمیشہ کی طرح ہم بیٹھے چائے پی رہے تھے کہ اچانک ابو نے ایک سوال کیا کہ یہ پڑھی لکھی خواتین کو طلاق زیادہ کیوں ہوتی ہے؟ ان دنوں ہماری ایک جاننے والے خاتون نے، جو کہ کسی بینک میں ملازمت کرتی تھیں، شادی کے قریب 20 برس بعد خلع لے لی تھی۔ انہی دنوں ٹی وی پر ایک ڈرامہ بھی چل رہا تھا جس کا مرکزی کردار ایک پڑھی لکھی خود مختار خاتون اپنے شوہر سے عاجز آ کر طلاق لے لیتی ہے۔

Read more

یوم خواتین یا یومِ رسوائی

آٹھ مارچ کو پوری دنیا میں خواتین کا عالمی دن منایا گیا۔ لیکن پاکستان میں خواتین کے نام پر منایا جانے والا دن یادگاربن گیا۔ یہ ہماری روایت ہے کہ ہم اپنے ہرخاص موقع کو تھوڑی سی محنت کر کے بہت زیادہ خاص بنا لیتے ہیں۔ معاملہ خانگی سطح کا ہو یا قومی سطح کا ہم اس دن کو ایسا یادگار بنا دیتے ہیں۔ کہ اگلا ایسا ایونٹ آنے تک اس کی یاد خود بھی آتی ہے اور دوسروں کو بھی۔ کہ رنگ میں بھنگ ڈالنا ہمارا انفرادی نہیں اجتماعی چلن ہے۔یہ نئی بات نہیں، آج کی بات نہیں۔ یہ برسوں کی ریت ہے، روائیت ہے۔ بزرگوں سے چلی ہے اورانشاءاللہ نسل در نسل چلتی رہے گی۔ ہم کتنا ہی پڑھ لکھ جائیں، بیرونِ ممالک ٹاپ کی یونیورسٹیوں سے پڑھ کر ڈگریوں کے انبار اکٹھے کرلیں۔ لیکن اس ریت کو نہیں چھوڑیں گے۔ کیونکہ یہ ہماری جین میں شامل ہے، ہماری فطرت ہے اورفطرت کبھی نہیں بدلتی۔ آٹھ مارچ خواتین کے عالمی دن کے موقع پر خواتین مارچ کا اہتمام کیاگیا۔ لیکن افسوس کے ساتھ کہ خواتین کے لئے منایا جانے والا یہ دن خواتین ہی کی وجہ سے متنازع بن گیا۔

Read more

ہم لبرل ہیں

عورت مارچ نے تو گویا آگ لگادی ہے معاشرے کے چند گروہ جن الفاظ میں ان عورتوں کو یاد کر رہے ہیں مانو لعن طعن کی ڈگری حاصل کر کے آئے ہوں کون سی گالی ہے جو ان کے توشہ خانے میں موجود نہیں اگر الفاظ کے ذریعے ریپ کیا جاتا تو شاید یہ ریپ تاریخ میں سب سے بڑی تعداد میں عورتوں کے ریپ کے طور پر یاد رکھا جاتا۔ مگر حیرت ہے اس سائبر کرائمز کے قانون پر جسے چند افراد کی شان میں لکھے گئے جملے تو نظر آجاتے ہیں اور جن کی بنیاد پر وہ لوگوں کو اٹھا کر بھی لے جاتے ہیں مگر اس معاملے کو ایسے نظرانداز کرتے رہے جیسے یہ کسی اور ملک کے بسنے والوں کی بات ہورہی ہو

Read more

عورت کے مسلمہ حقوق

عورت کے حقوق کا تعین تو اس دن ہی ہو گیا تھا جس دن سورہ النساء کی مقدس آیات نازل ہوئی تھیں، عورت کے حقوق کے نام پر عورت مارچ اسلام آباد میں اپنی ماؤں بہنوں بیٹیوں کے ہاتھوں میں غلاظت سے بھرپور تحریری کتبے دیکھ کر ایسا محسوس ہوا کہ یہ لبرل عورتیں معاشرے میں آزادی نہیں بلکہ اسلام اور نظام اسلام سے بغاوت اور آزادی چاہ رہی ہیں، اگر آپ کو اسلام کے قوانین اتنے ہی ناپسند ہیں

Read more

عورت مارچ اور اسلامی لبرلزم

چند روز قبل عورت مارچ میں عورت کے حقوق کے نام پر جس بیہمانہ طور سے عورت کی بے ہرمتی کی گئی ہے اس پر حیرت کے ساتھ ساتھ افسوس بھی ہوا ہے کہ معاشرے کے ایک انتہائی سنگین مسئلے کو چند مغرب زدہ عورتوں نے مسخرہ پن بنا دیا۔ اس میں ہرگز کوئی شبہ نہیں ہے کے اس معاشرے میں سب سے زیادہ استحصال عورت ہی کا ہوتاہے اور اس پر کھل کر بات ہونی بنتی ہے لیکن کچھ سو کالڈ لبرل خواتین نے مسائل سے زیادہ جنسی معاملات کو پوسٹرز کی زینت بنا کر خود کو بولڈ منوانے کی کوشش کی ہے۔ ان کے لئے عورت مارچ بھی بس ایک ایونٹ سے بڑھ کر کچھ نہ تھا جس میں وہ اپنے آزاد، بولڈ اور لبرل ہونے کا راگ الاپتی رہیں۔

Read more

میرے آٹھ مارچ کے بینر پر کیا لکھا ہو گا؟

مارچ کی آٹھ تاریخ ایسی آئی اور بیشتر مرد و زن کے حواسوں پہ ایسی چھائی ہے کہ یوں لگتا ہے کہ پورا مارچ ہم آٹھ مارچ ہی سمجھ کے گزاریں گے۔ ویسے ہوا تو کچھ ایسا نہیں کہ لوگوں کی راتوں کی نیندیں اور دن کے چین کھو جائیں۔ لیکن دل کا کیا کریں کہ دل تو بچہ ہے جی۔ عورت مارچ نے معاشرے کے فرسودہ اور عورتوں بارے دقیانوسی اور گھٹی ہوئی سوچ پہ ایسی کاری ضرب لگائی ہے ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ جیسے ان کے کان اب تک شائیں شائیں کر رہے ہیں۔ اور ان کو اپنی آنکھوں پہ یقین بھی نہیں آ رہا کہ وہ ایسا بھی کچھ پڑھ سکتی ہیں۔ کیسا، بھئی یہی کہ اپنی ڈک پک اپنے پاس رکھو۔ ڈک۔ ٹیٹر شپ نہیں چلے گی۔

مجھے تو یہ بینر پڑھ کے اپنے آپ کو کوسنے دینے کا دل کیا کہ ایسا کریں ایکٹو جملہ میرے دماغ میں کیوں نہ آیا۔ مجھے یاد ہے کہ 2005 میں میری ایک قریبی عزیزہ نے بہت ذوق و شوق سے کمپیوٹر لیا۔ اسے سیکھنے کے لئے باقاعدہ ٹیچر رکھی گئی۔ نیٹ کنکشن اس وقت بہت پیچیدہ ہوتا تھا۔ ڈائل اپ وغیرہ کے بعد رو رو کے سپیڈ پکڑتا تھا۔ خیر ایسے ہی سیکھتے سکھاتے انہوں نے یاہو کی آئی ڈی بنائی۔ اور یاہو چیٹ روم میں جانا شروع کیا۔

وہاں ان کی کسی مرد سے مختلف موضوعات پہ بات چیت شروع ہوئی۔ دو چار بار کی بات کے بعد ان صاحب نے کہا کہ ویب کیم پہ بات کرتے ہیں۔

Read more

اچھی عورتوں کے غلامی مارچ کے نعرے

بری عورتوں کے آزادی مارچ سے ہمارے دل چھلنی ہیں۔ ان زخموں کو بھرنے کے لیے اب اچھی عورتوں نے بھی مارچ کی تیاری کر لی ہے۔ اس مارچ کے لیے ہمارے مشرقی معاشرے کی عظیم روایات کے عین مطابق مندرجہ ذیل نعرے تیار کیے گئے ہیں۔ ان نعروں سے ہمارا کھویا ہوا مقام ہمیں واپس مل جائے گا۔

Read more

میں ڈِک پکس کیوں نہ بھیجوں؟

چین میں میرا ایک سینئیر بیجنگ کی دیواروں پر تحقیق کر رہا تھا۔ اس تحقیق کے لیے وہ پورے شہر میں گھومتا تھا اور دیواروں پر لکھے الفاظوں اور تصاویر کو نوٹ کرتا تھا۔ ان الفاظوں اور تصاویر پر مبنی اس کا مقالہ بہت دلچسپ تھا۔ جبر باغیوں کو جنم دیتا ہے۔ بیجنگ کی دیواروں پر انہی باغیوں کی سوچ موجود تھی۔ اس سوچ کو بار بار مٹایا جاتا تھا۔ یہ باغی پھر بھی کسی نہ کسی طریقے سے بیجنگ کی دیواروں پر اپنی سوچ کے نشان چھوڑ جاتے تھے۔ جب اس نے اپنا مقالہ مجھے پڑھایا تو میں نے بھی لاہور سے متعلق ایسی ہی تحقیق کرنے کا سوچا جو فوراً ہی رَد کر دیا۔

دنیا بھر میں انسان کی عزت اس کے دماغ کی بنیاد پر کی جاتی ہے، ہمارا اس معاملے میں اپنا ہی معیار ہے۔ خواتین کے ساتھ یہاں بھی امتیازی سلوک کیا جاتا ہے۔ خواتین اپنا جسم لمبی سی چادر سے چھپا کر رکھیں جبکہ مرد فخریہ اپنے عضو خاص کی نمائش کر سکتے ہیں۔ جو زیادہ نمائش کرے وہ اتنا ہی دبنگ اور کسی خاتون کا دوپٹہ ہی سرک جائے تو وہ آوارہ اور بد چلن۔

Read more

اصلی عورت مارچ کے درست بینر

عورت کا دن آیا ہی ہے کہ سوشل میڈیا پر ایک طوفان بدتمیزی برپا ہے، اور ہر طبقہ اپنے دلائل کی تلواریں سونتے، مخالفین کے کشتوں کے پشتے لگا رہا ہے، اور جو بھی کوئی اس جنگ میں اعتدال کا مشورہ دے رہا ہے وہ بھی کٹ کٹ کر گر رہا ہے، اس میں اداکار بھی ہیں اور قلمکار بھی، اور تو اور اس طوفان نے عورت کی سب سے بڑی وکیل کشور ناہید کو بھی جا لیا۔

مرد، مردوں کی سننے پر تیار نہیں، عورتیں، عورتوں کی عزتیں اچھال رہی ہیں۔ ایسے طوفانی موسم میں، مجھ جیسے مذہبی لبرل، پوسٹکولونئیل فیمینسٹ، پوسٹ ماڈرن اینالسٹ کمبل مزید تان لیتے ہیں کیونکہ فضا میں ابھی خنکی ہے۔

ہم سب شاید اس طوفان کے تھمنے کا انتظار کر رہے ہیں۔ کیونکہ اگر مردوں کا ان آوارہ، بد چلن عورتوں کے گندے پوسٹرز، کپڑوں اور میک اپ سے دھیان ہٹے تو ہم سب انہیں ان تکالیف کا احساس دلائیں جو مجھ جیسی بغیر میک اپ کے برقعہ پوش خواتین کو بھی ان نعروں کی تائید پر مجبور کرتی ہے۔

Read more

عورت کو بے مہار آذادی نہی اس کے حقوق چاہیے

عورت کو آزاد کروانے کے لیے عورت مارچ ہوا۔ کیسا ہوا، یہ ہم سب کو معلوم ہے۔ اس کے اثرات معاشرے پر کیا مرتب ہوں گے، بحث طلب ہے۔ بات کا آغاز وہیں سے ہونا چاہیے جہاں سے آوازیں اٹھیں، صحیح غلط کا فیصلہ سماج کی نفسیات پر چھوڑ دیتے ہیں۔ عورت کے حقوق طے شدہ ہیں، ملتے ہیں یا نہی، اس پر بات ہونی چاہیے۔ ملتے ہیں تو اچھی بات۔ نہی مل رہے تو اس کے محرکات کیا ہیں؟ آیا کہ یہ ایک سماجی مسئلہ ہے، معاشی یا معاشرتی ہے یا کہ مذہبی؟ کیا بات مردوں کو روکتی ہے کہ وہ جس عورت کے وجود سے وجود پاتے ہیں، اور جس عورت سے اپنی ضروریات پوری کرتے ہیں اس کے احساسات کی جمالیاتی حساسیت سے نظریں چراتے ہیں۔

Read more

میرا جسم میری مرضی ،غلط کیا ہے

معاشرے فکری نمو سے ترقی پاتے ہیں۔ جن معاشروں میں فکر آزاد نہ ہو اور فکری آزادی مذہب، وطن پرستی اور فوج کی محبت سے مشروط کردی جائے تو پھر نیاپاکستان بنتا ہے اور نہ قوم بنتی ہے اور ملک ترقی کرتے ہیں۔ جو معاشرے عورت کو عزت نہیں دیتے ہیں وہ ہمیشہ زوال پذیری کا شکار رہتے ہیں اور کبھی ترقی نہیں کرتے ہیں۔ آٹھ مارچ کو ہونے والے عورت مارچ پر تحفظات کا اظہار کرنے والے شخصی آزادی اور عورتوں کے حقوق سے واقف نہیں ہیں یا پھر عورت کے سر عام بولنے پر خفا ہیں۔متشدد اور بے راہ روی جیسی خفگی میں بظاہراچھے بھلے مہذب اور پڑھے لکھے انسان نما پتلے یہ تک بھول گئے کہ عورت مارچ میں شریک پاکستانی سماج ہی کی خواتین تھیں۔ جن میں اکثریت مسلمان خواتین کی تھی۔ نوجوان خواتین کے ہمراہ بچے اور بوڑھی خواتین بھی شریک تھی جو جو پانچ وقت کی نمازی بھی پڑھتی ہیں۔ کچھ مشرقی اقدر کی آڑ لے کر اپنی ماؤں، بہنوں اور بیٹیوں کی ایسی تیسی کر رہے ہیں۔ کئی مذہب کو ہتھیار بناکر حملہ آور ہیں اور مذہب کی نمائندگی کا دعویٰ کرتے ہوئے قرآن و حدیث کے حوالے دے کر عورتوں کی تذلیل کرنے میں سبقت لیجانے پر کمر بستہ ہیں۔

Read more

عالمی یومِ خواتین اور ہم

1975 ء میں اقوامِ متحدہ نے عالمی یومِ خواتین آٹھ مارچ کو منانے کا اعلان کیا۔ اس سے پہلے جب آٹھ مارچ 1917 ء کو سوویت یونین میں عورتوں کو ووٹ کا حق ملا، تو یہ دن عورتوں کے دن کے طور پر منایا گیا اور دُنیا میں، جس ملک میں بھی سوشلسٹ تحریک موجود تھی، وہاں یہ دن منایا جانے لگا اور بالآخر اقوامِ متحدہ نے یہ دن عالمی یومِ خواتین کے نام کر دیا۔

امریکہ میں عورتوں کوووٹ کا حق 1920 ء میں ملا جب آئین میں انیسویں ترمیم متعارف کروائی گئی اور اس ترمیم کو سوسن بی اینتھونی کے نام پر ”اینتھونی ترمیم“ کا نام دیا گیا۔ ہم جب آج یہ دن مناتے ہیں تو اس کا سب سے بڑا مقصدان عورتوں کے سیاسی اور سماجی حقوق کے لئے اور بالخصوص ووٹ کا حق حاصل کرنے کے لئے کی گئی ایک لمبی جد و جہد کی کو خراجِ تحسین پیش کرنا ہے اور دوسرا اہم مقصدان عورتوں کے لئے آواز اٹھانا ہے، جنہیں اب بھی بنیادی انسانی حقوق حاصل نہیں اور ان پرمحض اس بنا پر ظلم کیا جاتا ہے یا ان سے امتیاز برتا جاتا ہے کہ وہ اس صنف سے تعلق رکھتی ہے۔

Read more

عورت مارچ – چند گزارشات

فیسبک سے عارضی چھٹی لینے کا سوچ رہا تھا کہ بہار کے مہینے مارچ میں عورت مارچ آ گیا۔ اس نے لکھنے پر پھر مجبور کر دیا۔ کل کے دن عورتوں کا پاور شو تھا۔ مارچ میں ڈسپلے کیے جانے والے پلے کارڈز اور پوسٹرز پر لکھے گئے سلوگنز پر گرما گرم بحث جاری ہے۔ مردوں کی اکثریت نے چند پوسٹرز کی فوٹوز لگا کر یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ یہ نری بیہودہ ایکٹویٹی تھی اور اس کا ہمارے معاشرے سے کوئی تعلق ہی نہیں۔ ایک پلے کارڈ؛ جسے لے کر ٹھٹھہ اڑایا جا رہا ہے ؛ سوچوں کو کئی سال پیچھے لے گیا۔یونیورسٹی میں میرا تیسرا سیمیسٹر چل رہا تھا۔ کسی ضروری کام سے آئی ٹی لیب میں میل اکاؤنٹ کھولا۔ بے فکری میں لاگ آؤٹ کرنا بھول گیا کیونکہ تب پرائیویسی کے متعلق زیادہ آگاہی نہ تھی۔ اس کے پیچھے یہ سوچ کار فرما تھی کہ میرے اکاؤنٹ سے کسی کا کیا لینا دینا؟ ہوا کچھ یوں کہ بعد میں آنے والے کسی شخص؛ جن کی ذہنیت پر مذکورہ پلے کارڈ بنایا گیا؛ نے میل کے ذریعے میرے فیسبک اکاؤنٹ کا پاسورڈ بدل کر اسے ہیک کر لیا۔

Read more

آزادی سے مادر پدر آزادی تک!

ہم لے کے رہیں گے آزادی، ہم چھین کے رہیں گے آزادی، ان نعروں سے یوں لگا جیسے یہ کشمیری خواتین ہیں جو بھارتی فوج کے مظالم سے تنگ آئی ہوئی ہیں اور یہ اپنی آزادی حاصل کرنے کے لئے یوں باہر روڈ پر بیٹھ کر احتجاج کر رہی ہیں۔ لیکن ان کے کپڑے، ہنستے مسکراتے لڑکوں کے ساتھ خوش گپیاں لگاتے، تصویریں بناتیں اور ہاتھوں میں اٹھائے ہوئے پلے کارڈ اور ان پر لکھے جملے پڑھ کر پتہ لگا کہ یہ کوئی کشمیر کی مظلوم عورتیں نہیں ہیں بلکہ یہ خواتین کے عالمی دن کے موقع پر اپنے حقوق مانگتی خواتین ہیں۔اپنے حقوق مانگنا ہر ایک کا حق ہے اورانسانیت کے دائرے میں رہ کر یہ خواتین اپنے جائز حقوق مانگتیں تو ان کو بہت سراہا جاتا۔ ہر پلیٹ فارم پر ان کی واہ واہ ہوتی اور ان خواتین کو جائز حقوق دلانے میں کئی مرد حضرات بھی ان کے حق میں لڑتے۔ ان کی زندگیوں کے مسائل حل کر کے بہتری کی طرف لانے کی کوششیں کی جاتیں۔ لیکن ان کے پلے کارڈ پر لکھے نعرے کچھ اس طرح سے تھے : میرا جسم میری مرضی، میں کھانا گرم کر دوں گی بستر خود گرم کر لو، میری شادی کی نہیں آزادی کی فکر کرو

Read more

ناک پہ غصہ دھرا ہوا

8 مارچ کو گزرے کئی روز ہو گئے۔ کوئی خواتین مارچ ہوا تھا۔ کوئی پلے کارڈز کا مسئلہ تھا۔ کچھ کے لیے ان پہ لکھے نعرے درست تھے، کچھ کے لیے نہیں، کچھ کی نگاہ میں معیوب تھے کچھ کی نظر میں دلچسپ۔ کچھ نعرے گذشتہ برس کے تھے جیسے ”میں کھانا گرم نہیں کروں گی“ کچھ نئے تھے جیسے ”اپنا بستر آپ گرم کرو“ اگرچہ یہ نعرہ ناقابل فہم ہے، اور جو سمجھا جا سکا وہ ناقابل عمل۔ میں Misogynist نہیں ہوں مگر چونکہ آگاہ ہوں کہ فیمینزم کی تحریک کیوں شروع ہوئی، کیسے شروع ہوئی، کس طرح آگے بڑھی اور اس کا انجام کیسے ہوا۔

فیمینزم کی کتنی روئیں Waves چلیں، ہر ایک کے پیچھے کیا عوامل تھے، اب اس کی کون سی رو ہے اور اس سے بھی آگاہ ہوں کی فیشن نما تحریک چاہے ملبوسات سے متعلق ہو یا کسی سنجیدہ مقصد کی خاطر اس کی شروعات مغرب سے ہوتی ہیں، پھر وہ ترقی پذیر ملکوں کے فیشن ایبل متمول طبقے میں سرایت کرتی ہے، جب تک وہ نچلے متوسط طبقے تک پہنچتی ہے، متمول طبقے میں فیشن کی کوئی نئی رو جگہ پا چکی ہوتی ہے جیسے نچلے متوسط طبقے کی لڑکیاں اب جینز پہن رہی ہیں جبکہ متمول فیشن ایبل حلقے کی لڑکیوں کے ملبوس میں جینز پہننا آؤٹ ڈیٹڈ ہو چکا، اس لیے میں فیمینزم کا حامی تو ہوں مگر فیمینسٹ نہیں ہوں۔

Read more

عورت مارچ مسائل، مطالبے، ردعمل

ایک کہانی پڑھی تھی ایک پتا پانی میں بہتا جا رہا تھا بہت خوش اچلتا کودتا۔ ایک پریشان حال آدمی نے اس سے پوچھا تم فنا کی جانب جا رہے ہو۔ درخت سے ٹوٹ چکے ہو۔ ساری زندگی تم نے درخت کی آبیاری کے لیے کام کیا اب جب تم بے جان ہوئے تو اس نے تمہیں جھٹک دیا۔ تمہیں دکھ نہیں ہوا؟ پتا بولا میں نے درخت کی آبیاری کا کام کیا تو درخت نے بھی مجھے سینچا میں نے اس نے مجھے پانی مہیا کیا اپنے جسم کا حصہ بنایا۔ میں نے قدرت کے رنگ دیکھے۔اس حسن کا حصہ رہا جسے قدرت نے لوگوں کے لیے باعث رحمت و فرحت بنایا۔ میں نے اپنے حصے کا کام خوشی سے کیا اپنی زندگی جی اور اب وقت آ گیا تھا کہ میں وہ جگہ کسی دوسرے کے لئے چھوڑ دوں۔ تاکہ زندگی کا نظام چلتا رہے۔ میں خوش ہوں کہ میں نے بھرپور زندگی گزاری۔ اب میں پانی میں تیروں گا پھر کہیں زمین کا حصہ بن کے مزید زندگی کا سبب بنوں گا تو اداسی کیسی۔

Read more

آٹھ مارچ کا مارچ۔ اب کارواں رکنے والا نہیں

آٹھ مارچ کو خواتین کا عالمی دن سالانہ آکر گزر بھی جاتا اور پتہ بھی نہیں چلتا تھا مگر اس بار ایسا طوفان برپا کر گیا ہے کہ لگتا ہے ہر شے تہہ و بالا ہوکر رہ گئی ہے۔ ہر طرف ایک شور برپا ہے کہ خواتین نے ایسے بینر اور پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے جو انھوں نے پہلے کبھی نہیں دیکھے تھے۔ کچھ تو قرب قیامت کی نشانی سمجھ کر اپنی عاقبت کی فکر میں پڑ گئے اور کچھ نے دوسروں کو راہ راست پر لانے کی ٹھانی ہے۔قبائلی اور جاگیر دارانہ سماج میں عورت کی حیثیت زرخرید غلاموں جیسی یا اس سے تھوڑی بہتر ہوتی تھی جہاں نہ صرف بازار میں کنیزیں اور غلام بیچے اور خریدے جاتے تھے بلکہ عام عورتیں بھی رشتے ناطے کے نام پر استحصال کا شکار ہوتی رہتی تھیں۔ صنعتی دور کے آغاز کے ساتھ دنیا میں جو بڑی تبدیلیاں رونما ہوئیں ان میں ایک تو جمہوریت ہے اور دوسری تبدیلی انسانوں کے برابری کو بطور بنیادی حق تسلیم کرنا ہے۔ غلاموں، مزدوروں کی طرح عورتوں کی برابری کے سماجی حقوق کی جدوجہد کا آغاز بھی ریاست ہائے متحدہ امریکا سے ہی ہوا اور

Read more

عورت مارچ، پدرسری کے خلاف ایک غضب مارچ

تقسیم ہند کے بعد اکثر روایات، ہند کیطرح تقسیم نہیں ہوئے۔ ان بہت سارے روایات میں خواتین کو پدرسری کی چھتری تلے رہنا ایک لازم و مطلق روایت رہی۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ روایات زور پکڑتی گیی اور عورت محکوم بنتی گیی۔ جہیز، تعلیم، جایداد میں حصہ، بچپن کی شادی اور بہت سارے ایسی بدبختیوں پہ تو اکثر لکھا جا چکا ہے، لیکن پچھلے سال سے اکایوں پہ لکھنا اور بولنا شروع ہوگیا ہے، جو میرے خیال سے

Read more

فیمینزم! عورت کے حقوق کی جنگ یا آزادی کی؟

8مارچ آیا اور آ کر چلا گیا مگر اس کی باز گشت ابھی تک سنائی دے رہی ہے۔ عورتوں نے اپنا عالمی دن کچھ اس ادا سے منایا کہ مجھ جیسے نو آموز قلم کار جو پی ایس ایل کی ہوشربائیوں سے نکل کر بھارتی میڈیا کی جنگی گیدڑبھبھکیوں میں گم تھے وہ بھی اپنے اپنے قلم دوات لے کر اس موضوع پر طبع آزمائی کرنے کے منصوبے بنانے لگ گئے۔اس موضوع پر کچھ لکھنے سے پہلے میں چند ایک سوالات سامنے رکھنا چاہتا ہوں تاکہ ہماری یہ بحث کسی منطقی نتیجہ تک راہنمائی کر سکے۔ پہلا سوال یہ کہ پاکستان میں عورتوں کا عالمی دن کیا فیمینزم کی کوئی کڑی ہے؟ آیا فیمینزم عورت کے حقوق کی جنگ ہے یا آزادی کی؟ آزادی کی صورت میں کس سے آزادی چاہیے مرد سے یا فرسودہ رسومات سے؟ اور آخری مگر اہم ترین سوال کیا منعقدہ عورت مارچ ہماری کثیرالجماعتی عورتوں کی جائز نمائندگی کرنے میں کامیاب بھی رہا یا نہیں؟

Read more

عورت مارچ مہم، ذہین دماغوں کا کامیاب منصوبہ

عورتوں کا عالمی تاریخی حوالوں سے 1909 سے منایا جا رہا ہے۔ جب یہ فروری میں منایا جانا شروع ہوا۔ پھر 1917 سے آج کے دن سے منایا جا رہا ہے یعنی 8 مارچ کو عالمی دن برائے خواتین کا درجہ حاصل ہوا ہے۔ پاکستان مین بھی ظاہر سی بات ہے دیگر عالمی دنوں کی طرح یہ دن بھی منایا جاتا ہے لیکن اس حوالے سے گزشتہ دو دہائیوں سے کافی شعور اجاگر ہوا ہے اس کی سب سے بڑی وجہ پرائیویٹ ٹی وی چینلز کی بھرمار، اخبارات کی اشاعت کا بڑھنا، اور سوشل میڈیا جیسے فورمز کا عام لوگوں تک رسائی ہو جانا ہیں۔

پاکستان میں گزشتہ دو دہائیوں سے عالمی دن برائے خواتین کی طرح دیگر عالمی دن منانے کی روایت مضبوط ہوتی جا رہی ہے لیکن اس حوالے سے تمام کارکردگی دو ہزار کے بعد سے زیادہ نمایاں ہوئی ہے۔ پاکستان میں اظہار رائے کی آزادی ایک اہم مسئلہ رہا ہے۔ لیکن کچھ سالوں سے اس حوالے سے اہم اقدامات کیے گئے ہیں جن کے تحت اظہار کی آزادی ملنا شروع ہوئی ہے (کچھ مسائل ابھی بھی اس حوالے سے موجود ہیں، لیکن بطور مجموعی ہم کہہ سکتے ہیں کہ اس وقت پاکستان میں اظہار سوچ کا یا اپنے خیالات کا کسی قدر آسان ہو چکا ہے ) اور یہی وجہ ہے کہ بعض معاملات میں اس آزادی کا منفی استعمال بھی دیکھنے میں آیا ہے۔

Read more

عورت مارچ میں کون عورتیں تھیں؟

سائیں شاہ لطیف فرماتے ہیں ”عورت محبت ہے“۔ خسرو فرماتے ہیں۔ ”عورت عاشق ہے“ جب ہی ان کے کلام میں عشق کا اظہار عورت کی زبانی ہے۔لیکن بر صغیر کی عورت کا استحصال خسرو کا کلام جھوم جھوم کر پڑھنے والوں اور سننے والوں نے صدیوں مذہب کے نام پر کیا، مغرب میں بھی یہی رواج تھا لیکن طویل جد و جہد کے بعد کم از کم وہاں کے کچھ اچھے مہذب مردوں نے قوانین سخت بنا ڈالے اس طرح سماج سدھار لیا گیا۔جب کہ مشرق میں مرد ابھی تک کنفیوز ہے کہ کیا کرے۔ مرد عورت کی آزادی کے نام سے بدکتا ہے، نہ جانے عورت کی آزادی سے وہ کیا سمجھتا ہے۔ شاید یہ کہ عورت مرد کے ساتھ سونا چھوڑ دے گی یا ہر مرد کے ساتھ سونا شروع ہو جائے گی، پچھلے دو دن سے محدود سوچ اور اس کا اظہاریہ یہی ظاہر کررہا ہے کہ سماج کا مرد یہی سمجھتا ہے، جب کہ عورت صرف یہ چاہتی ہے کہ وہ گھر سے پڑھنے یا نوکری کرنے کے لئے نکلے تو راستے میں کوئی اسے چھونے کی کوشش نہ کرے، اس کے ساتھ بے ہودہ گوئی نہ کرے۔

Read more

یہ عورتیں اچھی نہیں

’لو بیٹھ گئی صحیح سے‘ ۔ ’کھانا گرم کردیتی ہوں، بسترخود گرم کرلو‘ ۔ ’عورت بچہ پیدا کرنے کی مشین نہیں‘ ۔ ’ہمارا ٹائم بھی آئے گا‘ ۔ ارے۔ غضب خدا کا۔ یہ کیا بیہودگی ہے۔ نہ کوئی شرم نہ کوئی حیا۔ کیسی عورتیں ہیں یہ؟ یہ سب لکھتے ہوئے اور پھر تصویر بنواتے ہوئے شرم نہ آئی انہیں۔ دنیا کو منہ کیسے دکھائیں گی یہ بے حیا عورتیں؟ یہ عورتیں بالکل اچھی نہیں۔ہاں ہاں بالکل اچھی نہیں۔

Read more

آزادی مارچ، عورت اور حقوق

سو وہی ہوا جس کا ڈر تھا۔ عورت کا عالمی دن ایک کلنک کے ٹیکے کی طرح سب عورتوں کے منہ پر لگا دیا گیا۔ ایک ایسے گھٹیا اور بھونڈے طریقے سے منانے والوں نے منایا، دکھانے والوں نے دکھایا اور تبصرے کرنے والوں نے تبصرے کیے کہ اب سال بھر جو بھی عورت عورتوں کے حقوق کی بات کرے گی اس کے نام کے ساتھ لعنت اسی دن کی پڑے گی۔ سارا سال ان نعروں کے ساتھ عورتوں کے استحصال کو تقویت دی جاتی رہے گی۔ ”میرا جسم میری میری مرضی“ ، ”لو بیٹھ گئی“ ، ”ماں بہن“ جیسے فقرے سارا سال ہمارے چہروں پر تھپڑوں کی طرح پڑتے رہیں گے۔نہ فیکٹری میں کام کرنے والی عورت کی تنخواہ میں اضافہ ہوا، نہ مزدور عورتوں کو روک کر کھانا پیش کیا گیا، نہ کسی دفتر کسی ادارے میں اس دن کے احترام میں ایک ڈے کئیر قائم کیا گیا، نہ کسی باپ بھائی نے بیٹیوں میں وراثت تقسیم کی ، نہ بیٹیوں کو چند سال اور تعلیم کی اجازت دی گئی، نہ کسی بہن بیٹی سے منگنی یا شادی کرتے اس کی رضا پوچھی گئی، نہ کسی کے سر سے تہمت اتاری گئی نہ کسی کا الزام جھوٹا قرار پایا، بس ایک عالمی دن منایا گیا اور پاکستان کی پسی ہوئی عورت کی عزت کو مزید روند ڈالا گیا۔

Read more

عورت مہد سے لحد تک

چار سال پہلے جب میری بیٹی پیدا ہوئی تو میں میٹھا لے کر مسجد میں چلا گیا۔ مسجد میں ایک باوضو بندے نے پوچھا کس خوشی میں بھائی۔ جواب دیا تین سال بعد بیٹی پیدا ہوگئی۔ پلیٹ سے میٹھا اُٹھاتے ہویے ایک مضحکہ خیز انداز میں بولا ”تین سال بعد بچہ ہوا اور وہ بھی بیٹی، ایسا بولو کہ میرے گھر داماد کی پیدائش ہوئی بیٹی نہیں“۔ اس نمازی کی بات سے میرا دل پھٹ گیا لیکن کچھ مسجد کی تکریم اور کچھ بڑوں کی تحریم کی وجہ سے خاموشی میں مصلحت سمجھی اور باقی کی مٹھائی گھر لے کر واپس آیا۔

Read more

ہر ایرے غیرے کو مجازی خدا نہ سمجھیں

آج کے دور میں دونوں پارٹیوں کو پتہ ہے کہ سارے وعدے صرف لارے ہی ہیں اور ملٹی ٹاسکنگ کے تحت دونوں کھیل کا ایک مہرہ ہیں۔ لڑکی شرماتے شرماتے ادائیں دکھا کر مان جاتی ہیں جبکہ لڑکے کو لگتا ہے کہ اس نے بہت بڑا تیر مارا اور تیس مار خان بن گیا۔ وہ اس خوش فہمی میں ہی جھومتا رہتا ہے کہ وہ بہت بڑا فنکار ہے۔ اکثر یہ جال لڑکی کا ہوتا ہے جسے وہ مانتی نہیں ہے تاکہ بھرم برقرار رہے۔ چلیں ایک قہقہے سے آگے بڑھتے ہیں۔مارکیٹ میں آج کل نیا سٹنٹ آیا ہے۔ پہلا میسج آئے گا۔ ”دیکھئے میں آپ کو پسند کرتا ہوں اور میں آپ سے بے جا کا تعلق نہیں رکھنا چاہتا کیونکہ آپ سے میں شادی کرنا چاہتا ہوں“۔ اس پر لڑکی میں اچانک اتنا اعتماد آجاتا ہے جیسے ساری لڑکیوں سے برتری لے گئی ہو حالانکہ یہی میسج چار جگہ اکٹھا بھیجا گیا ہوتا ہے۔ اب یہی شادی کی بات کوئی تین چار بار دہرائی جاتی ہے اور چال کامیاب۔ اس پر لڑکی اسے اسی دن سے مجازی خدا سمجھنے لگتی ہے۔

Read more