میں اپنے مریضوں کو بری خبر کیسے سناتی ہوں؟

انٹرنل میڈیسن کے امتحان کے سوالوں میں‌ سے ایک پڑھا جو کہ ایک صاحب کے بارے میں‌ ہے جن کو تین سال پہلے پروسٹیٹ کا کینسر ہوگیا تھا۔ حالیہ ٹیسٹوں‌ سے یہ بات پتا چلی کہ پیٹ میں‌ موجود آعضا میں یہ کینسر سرایت کرگیا ہے۔ اب یہ بات مریض‌ کو کیسے بتائی جائے؟ یہ سوال اس بات کے بارے میں‌ ہے کہ بری خبر مریضوں کو کیسے دی جائے۔ پہلے زمانے میں‌ یہ بھی ہوتا تھا کہ اگر کوئی

Read more

Love Sickness – Happy Valentine’s Day

Life is to be fortified by many friendships۔ To love and to be loved is the greatest happiness of existence۔ ۔ Sydney Smith ایک مرتبہ ایک نوجوان کو ابن سینا کے پاس علاج کے لیے لایا گیا جو بظاہر کوئی بیماری نہ ہونے کے باوجود گھلتا چلا جارہا تھا۔ ابن سینا نے اس کی نبض پر ہاتھ رکھا اور اس سے ادھر ادھر کے لوگوں اور علاقوں ‌ کی بات چیت کرنے لگے۔ جب اس کی محبوبہ کے محلے اور

Read more

کیا قد لمبا ہونا ممکن ہے؟

جب ہم نارمن شفٹ ہوئے تو اس وقت میری بیٹی کوئی نو سال کی تھی۔ ایک رات وہ مجھےٹیکسٹ کر کے کہتی ہے کہ امی آپ جلدی سو جائیں تاکہ آپ میں گروتھ ہارمون نکلے اور آپ لمبی چوڑی اور مضبوط ہو جائیں۔ اس کی بات پڑھ کر میں بہت ہنسی تھی کہ یہ بات تو ایک اینڈوکرنالوجسٹ کے بچے کو ہی پتا ہوسکتی ہے کہ گروتھ ہارمون سوتے میں اور ورزش کرنے کے دوران نکلتا ہے۔ گروتھ ہارمون پچوٹری

Read more

بچوں بڑوں کو بھوک نہ لگنے کی کیا وجہ ہے؟

کچھ دن پہلے سائنس کی دنیا فیس بک پیج پر ایک سوال کیا گیا کہ بھوک نہ لگنے کی کیا وجہ ہے؟ اس سوال کو کئی مختلف حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ نوجوانوں میں بھوک نہ لگنے کی کیا وجوہات ہیں؟ وہ کون سی بیماریاں ہیں جن میں بھوک نہیں لگتی؟ نئی تحقیق سے کئی دلچسپ سوال بھی سامنے آئے ہیں کہ کیا بھوک نہ لگنا ایک بیماری ہے یا ہمارے جسم کا مدافعتی نظام ہے جس میں وہ ہاضمے کے نظام سے توجہ ہٹا کر ان حصوں کی مرمت پر دھیان دیتا ہے جو کسی بیماری سے متاثر ہیں۔ اگر کسی کو بھوک نہ لگ رہی ہو تو کیا ضروری ہے کہ ہم بچوں کو یا مریضوں کو زبردستی کھلائیں پلائیں؟

Read more

ٹیکسٹ نیک ماڈرن زمانے کی تشخیص

فائبرومائلجیا رہیوماٹولوجی کے میدان کی تشخیص ہے جو کہ اس وقت کی جاتی ہے جب تمام ٹیسٹ کرلینے کے بعد مریض کی علامات پر مبنی کوئی تشخیص نہ کی جاسکے۔ یعنی کہ جب مریض جوڑوں اور پٹھوں میں درد کی شکایت کریں اور تمام ایکس رے اور خون کے ٹیسٹ نارمل آئیں تو فائبرومائلجیا تشخیص کرتے ہیں۔ یہ ایک ڈایا گنوسس آف ایکسکلوژن ہے۔ بالکل ایسے ہی جیسے کسی کے دل کی رفتار تیز ہو اور تمام ٹیسٹ نارمل آئیں،

Read more

ذیابیطس اور سوتے میں دم گھٹنے کی بیماری

چونکہ ذیابیطس کے مریضوں میں مٹاپے کی بیماری عام ہے، ہمارے بہت سے مریضوں کو سلیپ ایپنیا یا سوتے میں دم گھٹنے کی بیماری لاحق ہے۔ اکثر لوگ سوتے میں خراٹے لیتے ہیں۔ عموماً اس کو ایک مزا حیہ بات سمجھا جاتا ہے۔ آپ نے کبھی غور کیا ہے کہ جو لوگ سوتے میں خراٹے لیتے ہیں کبھی کبھار وہ سانس نہیں لے رہے ہوتے۔ یہ اصل میں ایک خطرناک بات ہے۔ اس بیماری سے اموات ہوتی ہیں۔ مو ٹاپے

Read more

انڈیوسڈ ہائپوتھرمیا – جسم کو سرد کر کے موت سے بچانے کی تکنیک

جن افراد نے بھی میڈیکل فیلڈ میں ‌ ٹریننگ کی ہے، ہم سب نے یہ جملہ بہت مرتبہ سنا ہے کہ آپ مردہ تب تک نہیں ‌ ہیں ‌ جب تک آپ گرم اور مردہ نہیں ‌ ہیں۔ ٹھنڈے پانی میں ‌ ڈوبنے والے کئی افراد کو کئی گھنٹوں ‌ بعد بھی دوبارہ زندہ کرلیا گیا ہے۔ اس موضوع پر کئی دلچسپ ہالی وڈ موویاں ‌ بھی بن چکی ہیں۔ یہ بات کس کے ذہن سے نہیں گزری کہ موت

Read more

 Acute Pancreatitis یا لبلبے میں اچانک شدید سوجن ایک خطرناک مرض ہے

یہ اس وقت کا قصہ ہے جب میں پٹسپرگ پینسلوانیا میں انٹرنل میڈیسن میں ریزیڈنسی کر رہی تھی۔ پہلا سال چل رہا تھا اور ایک دن میں ہسپتال کی روٹیشن پر تھی۔ ایمرجنسی روم سے پیج آیا کہ ایک مریض اکیوٹ پینکریاٹائٹس (لبلبے میں یکدم ہوجانے والی انفلامیشن) کے ساتھ آیا ہے اور اس کو ہسپتال میں ایڈمٹ کرنا ہے۔ میں اور میرے ساتھ سیکنڈ ایر کا ریزیڈنٹ ای آر گئے اور اس مریض کو دیکھا۔ وہ 29 سال کا

Read more

کچھ چھالیہ کے بارے میں‌

میڈیکل کالج کا فائنل ایر تھا اور ایر نوز اور تھروٹ، ای این ٹی کا کلینک چل رہا تھا۔ دو برقعہ پوش خواتین داخل ہوئیں، ایک اسٹول پر بیٹھ گئیں‌ اور انہوں نے چہرے سے نقاب ہٹایا تو ان کا ایک طرف کا چہرہ آدھا کینسر نے کھایا ہوا تھا۔ میرے سارے میڈیکل کیریر میں‌ اتنا پھیلا ہوا کینسر اس سے پہلے اور اس کے بعد کبھی نہیں‌ دیکھا۔ ڈاکٹر صاحب نے ان کو دیکھ کر کہا کہ میں آپ

Read more

مذہب اور سائنس میں دوستی یا دشمنی کا تعلق نہیں

ڈاکٹر سہیل اور نادرہ مہر نواز کے خطوط کے تبادلے نے مجھے یہ مضمون لکھنے کی تحریک دی۔ جب میں‌ پاکستان میں‌ ہندوستان سے ہجرت کیے ہوئے گھرانے میں 1973 میں‌ پیدا ہوئی تو اس نئے ملک کی عمر 36 سال تھی۔ پاکستان کے لوگ، ان کا اٹھنا بیٹھنا، ان کے ملبوسات، آرٹ اور کلچر وغیرہ شروع شروع میں‌ ہندوستان کی طرح‌ ہی ہوتے تھے لیکن وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ اور آئین میں‌ مزید سے مزید تر اسلام شامل

Read more

ہر روز کسی ایک انسان کی مدد کریں

آج 2019 کی گیارہ نومبر ہے۔ نارمن اوکلاہوما میں ‌ شدید سردی پڑرہی ہے۔ درجہء حرارت 17 ڈگری فارن ہائیٹ تک گر گیا ہے۔ 32 ڈگری فارن ہائیٹ‌ پر پانی جم کر برف بن جاتا ہے۔ تیس میل فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوا چل رہی ہے اور ہلکی ہلکی برفیلی بارش بھی ہے۔ باہر نکلتے ہی محسوس ہوتا ہے کہ یخ ہوا ہڈیوں ‌ میں ‌ اتر جائے گی۔ اوکلاہوما کے موسم کے بارے میں ‌ کیا کہا جائے؟

Read more

ٹرانس جینڈر اور شائزوفرینیا

جس بات کو ہمارا دماغ نہ جانتا ہو، اس بات کو ہماری آنکھیں‌ نہیں‌ دیکھ سکتی ہیں۔ جن لوگوں‌ نے میڈیکل کالج میں‌ ریڈیالوجی کی کلاس لی ہوئی ہے یا میرج آف آرنلفینی کی مشہور پینٹنگ دیکھ رکھی ہے وہ سمجھ سکتے ہیں کہ ہمیں‌ پیتھالوجی ایکس رے یا سی ٹی اسکین یا ایم آر آئی میں‌ تبھی دکھائی دے گی جب ہم اسے سیکھ لیں‌ گے۔ پینٹنگ بھی آپ خود دیکھیں‌ اور سیکھیں‌ کہ اس کو کیسے دیکھنا ہے۔

Read more

رحم پر چھالے: خواتین کے ایک عام مرض کے بارے میں کچھ بنیادی باتیں

کچھ دن پہلے ایک خاتون نے سوال بھیجا کہ پولی سسٹک اوویرین سنڈروم (polycystic ovarian syndrome) کے بارے میں مشورہ دیں۔ پولی سسٹک اوویرین سنڈروم اینڈوکرنالوجی کے میدان میں ایک خاصی عام بیماری ہے اور ہمارے اس کے کافی مریض ہیں۔ جب میں یونیورسٹی آف اوکلاہوما میں فیلوشپ کررہی تھی تو ریپروڈکٹو اینڈوکرنالوجی کے ڈپارٹمنٹ میں ڈاکٹر لٹاشا کریگ اور ڈاکٹر کارل ہینسن نے پی سی او ایس پر کئی لیکچر دیے اس لیے آج کے مضمون کا انتساب ان

Read more

اسٹوئسزم (Stoicism) کی فلاسفی سے خواتین کو سہارا مل سکتا ہے

دو سال پہلے بک کلب میں‌ ایک فلسفے کے ٹیچر نے بھی آنا شروع کیا اور انہوں‌ نے ہائی اسکول کی فلسفے کی ٹیکسٹ بک پڑھنے کا مشورہ دیا۔ اس کتاب میں‌ دنیا بھر کے نامور فلسفیوں‌ کے خیالات کا خلاصہ بیان کیا گیا ہے۔ فلسفہ صرف تعلیمی اداروں‌ میں‌ علمی بحث کے لیے ہی نہیں‌ ہوتا۔ ہم عام انسان بھی اس کوانسانی تاریخ، زندگی اور دنیا کو بہتر سمجھنے کے لیے استعمال کرسکتے ہیں۔ فلسفے کی تعلیم وہ خزانہ

Read more

ایک ڈاکٹر کی چھٹیاں اور ملنے والوں کی بیماریاں 

پچھلے ہفتے ایک شام ٹوسٹ ماسٹر (Toast masters) میٹنگ میں‌ جانا ہوا۔ میں نے نئے افراد کو اپنا نام بتانے کی کوشش کی لیکن ان کا یہی مسئلہ تھا کہ کوئی لنڈا کہہ رہا ہے اور کوئی لڈنا۔ میں‌ نے بیگ میں‌ سے اپنا آئی ڈی بیج نکال کر ان کو اپنے نام کی ہجے بتانے کی کوشش کی۔ ان صاحب نے کہا اوہ آپ فزیشن ہیں۔ میں‌ نے جلدی سے بیج کا نیچے والا حصہ اپنے دوسرے ہاتھ سے

Read more

ٹرانس جینڈر کا علاج کیسے کیا جاتا ہے؟

سکھر کے قریب ایک اور چھوٹا سا شہر ہوتا تھا یا معلوم نہیں گاؤں تھا جس کا نام باگڑ جی تھا۔ خود تو کبھی گئے نہیں بس سنتے تھے کہ وہاں پر ایک پیر صاحب کا مزار ہے جس کے باہر درخت ہیں اور جو بھی کسی بھی وجہ سے ذہنی مریض ہو تو اس کو درخت سے باندھ آتے تھے تاکہ وہ ٹھیک ہوجائے۔ اس بات کا مجھے سخت افسوس ہے اور اسی لئے یہ مضون لکھ رہی ہوں

Read more

سنامن رولز کا قصہ

ہیپی فرائڈے!
ہسپتال کا ڈاکیا سارے ڈپارٹمنٹس میں ‌ صبح‌ صبح ڈاک پہنچاتا ہے اور جب تک نہ پہنچے لگتا ہے کہ ابھی دن شروع نہیں ہوا۔ فرائڈے سب کا پسندیدہ کام والا دن! آج جلدی چھٹی بھی ہوجائے گی اور دوسری اچھی بات یہ کہ ڈاکٹر سہیل کینیڈا سے آئے ہیں۔ سارا ویک اینڈ مکمل طور پر بک ہے۔

Read more

مجھے چرچ لے جاؤ

آج ساؤتھ ایشین ومن فزیشن کے گروپ میں ‌ ایک لیڈی ڈاکٹر نے افسوسناک خبر بتائی کہ ان کے 31 سالہ بھتیجے نے خود کشی کرلی۔ وہ انڈیا کے ایک مالدار گھرانے کا اکلوتا بیٹا تھا جس کو انہوں ‌ نے اپنی اقدار کے ساتھ پالا تھا۔ اس کو انہوں ‌ نے پڑھنے کے لیے امریکہ بھیجا جہاں اس نے بزنس میں ‌ ماسٹرز کی ڈگری لی۔ 20 سال کی عمر کے بعد اس نے اپنے ماں باپ کو بتایا کہ وہ ہم جنس پسند ہے لیکن انہوں ‌ نے اس کو خاموش رہنے کی تاکید کی اور ”نارمل“ رہنے کا مشورہ دیا۔ انہوں ‌ نے انڈیا میں ‌ ایک لڑکی سے اس کی شادی کی۔ جب وہ لڑکی اپنے شوہر کے ساتھ رہنے کے لیے امریکہ منتقل ہوگئی تو اس کے آنے کے ایک سال کے بعد اس لڑکے نے اس دہری زندگی سے تنگ آکر خودکشی کرلی۔ ماں باپ کی اولاد چھن گئی اور اس لڑکی کا شوہر۔

Read more

پیٹ میں ‌ سوراخ‌ والا آدمی

میڈیکل سائنس آج اتنی ترقی کرچکی ہے کہ بغیر کاٹے ہم انسان کے اندر نہایت تفصیل سے دیکھ سکتے ہیں۔ لیکن ایسا ہمیشہ سے نہیں ‌ تھا۔ اگر 1800 کی صدی میں ‌ کسی انسان کے اندر دیکھنا ہو تو اس کو کاٹے بغیر ایسا نہیں کیا جاسکتا تھا۔ لیکن ایک حادثے نے یہ ممکن بنادیا کہ چلتے پھرتے زندہ انسان کے اندر بغیر سی ٹی اسکین یا اینڈوسکوپ کے دیکھا جاسکے۔ اس وقت گیسٹرواینٹیرولوجی کے میدان میں ‌ زیادہ ترقی نہیں ‌ ہوئی تھی اور باقاعدہ یونیورسٹیوں ‌ میں ‌ ایسا کوئی جدید طریقہ موجود نہیں ‌ تھا جس سے یہ معلومات حاصل کی جاسکیں ‌ جو اس واقعے کی وجہ سے تعلیمی اداروں ‌ سے باہر موجود ایک ڈاکٹر کے ذریعے ممکن ہوا۔ اس تجربے نے کلینکل سائنس کے لیے بھی نئے دروازے کھولے۔

Read more

ٹرانس جینڈر، جنسیات اور سائنس

"میں‌ اس بات پر یقین رکھتی ہوں‌ کہ اگر پہیہ ایجاد ہو چکا ہو تو اس کو دوبارہ ایجاد کرنے کی کوشش محض وقت کا زیاں‌ ہے۔ مندرجہ ذیل مضمون ڈاکٹر خالد سہیل نے لکھا تھا اور اس میں‌ معمولی ردوبدل کے ساتھ اس کو ٹرانس جینڈر سیریز کا حصہ بنانے کے لئے شامل کر رہی ہوں۔ اس کے لئے ڈاکٹر سہیل کی اجازت لے لی گئی ہے اور یہ ان کے شکریہ کے ساتھ لکھا گیا ہے۔ ان کے

Read more

مسز خان ٹھیک ہی تو کہہ رہی ہیں

میں ‌ مسز خان کو نہیں ‌ جانتی ہوں۔ یہ خبر میں ‌ نے ہم سب آن لائن میگزین پر پڑھی ہے۔
”کراچی کی معروف سماجی کارکن مسز خان نے ان خواتین کو آڑے ہاتھوں لیا ہے جو گھریلو امور کی انجام دہی کو ایک طعنہ سمجھتی ہیں۔

نجی ٹی وی 92 نیوز کے مارننگ شو میں گفتگو کرتے ہوئے مسز خان نے کہا کہ ہمارے زمانے میں عورت کو شروع سے سمجھایا جاتا تھا کہ اپنی زبان زیادہ مت چلاؤ کیونکہ اگر عورت منہ زور ہو جاتی ہے تو معاملات بگڑتے ہیں۔ آج کی عورت ساس اور شوہر پر حکمرانی کرنے کی کوشش کرتی ہے۔

Read more

میں نے ابھی تک کڑھی نہیں پکائی

دو تین دن پہلے میں ‌ نے فیس بک کے ذریعئیے اپنے دوست اور رشتہ داروں ‌ سے مدد طلب کرتے ہوئے کہا کہ
اوکلاہوما میں شدید گرمی پڑ رہی ہے، ٹیکساس کا اور بھی برا حال ہو گا۔ دودھ خراب ہونے والا تھا تو میں نے اس کو ابالا، ٹھنڈا کیا اور اس میں دہی ڈال کر گیراج میں رکھ دیا۔ اگلے دن اچھا دہی بن گیا۔ اب مسئلہ یہ ہے کہ اتنے سارے دہی کا کیا کیا جائے؟

وہ پیلی پیلی سی کڑھی، پکوڑوں کے ساتھ جو آپ لوگ بناتے تھے، اس کی ترکیب یہاں لکھ دیں۔ پیلی کیسے ہوتی ہے؟ کیا ہلدی ڈالتے ہیں؟ چھوٹی خالہ، بڑی خالہ، امی یا جس کو بھی آتی ہو وہ بتا دیں۔
اب اتنی ساری کڑھی کون کھائے گا؟ اس کا حل میں نے پہلے سے سوچ لیا ہے۔ فریزر میں رکھ دیں گے!

Read more

کیا آپ Celiac بیماری کے بارے میں جانتے ہیں؟

تیرہ اگست 2019 کو ہماری بلی الائزا نے ضرورت سے زیادہ ہل جل کر اپنے کچھ ٹانکے کھول لیے اور آج اس کو اور ٹانکے لگے اور وہ بلیوں ‌ کے ہسپتال میں ‌ داخل ہے۔ آج ہماری ایک بوڑھی مریضہ آئیں ‌ تو میں ‌ نے ان سے پوچھا کہ آپ کیسی ہیں؟ کہنے لگیں، ہماری عمر میں ‌ کہیں بھی دکھائی دے جائیں تو اچھا ہی ہے! اور ہنسنے لگیں۔ وہ نہایت خوش مزاج انسان ہیں۔ بیمار ہوں

Read more

ٹرپل طلاق کا فیصلہ ایک لمحہ فکریہ ہے

زندگی کی مثال اس شخص کی کہانی سے سیکھی جا سکتی ہے جو دھوپ میں‌ بازار کے بیچ کھڑا ہوا برف بیچ رہا ہوتا ہے اور کہتا ہے کہ میرا سرمایہ گھلا جا رہا ہے۔ آج کل انڈیا، پاکستان اور امریکی خبروں‌ میں‌ ٹرپل طلاق کے خلاف انڈیا کی سپریم کورٹ کے فیصلے سے متعلق پڑھا۔ اس فیصلے کو خواتین کے حقوق کے لئیے ایک فتح تصور کیا گیا۔ شاید یہ خبر سن کر مجھے خوشی محسوس کرنی چاہئیے تھی

Read more

گھر میں بلی کیوں پالی جائے؟

آج سات اگست ”اوور دا ہمپ“ بدھ کا دن ہے۔ صبح الائزا نے مجھے جگایا۔ وہ جگانے کے لیے اپنا پنجہ چہرے پر آہستہ سے مارتی ہے۔ کبھی بھی رات میں ‌ نہیں بلکہ صرف روشنی ہوجانے کے بعد جس سے پتا چلتا ہے کہ جانوروں ‌ کو بھی معلوم ہوتا ہے کہ جاگنے اور ناشتہ کرنے کا صحیح وقت کیا ہوتا ہے۔ 2017 میں ‌ فروٹ فلائی ریسرچ کے ذریعے بایولوجکل کلاک کے جین دریافت کرنے پر تین امریکی

Read more

ڈاکٹر، بدلتے ہوئے قوانین اور اخلاقیات

آج 31 جولائی ہے۔ آج کا دن میرے لیے اداسی کا دن ہے کیونکہ 1980 میں ‌ آج ہی کے دن میرے والد مرزا شجاعت بیگ صرف 33 سال کی عمر میں ‌ ایک ویسپا کے ایکسیڈنٹ کے بعد کئی ناکام سرجریوں ‌ کے بعد وفات پاگئے تھے۔ اکثر لوگ ایک دوسرے سے پوچھتے ہیں کہ ماضی کا وہ کون سا لمحہ ہے جہاں ‌ آپ واپس جانا چاہیں گے۔ تو وہ لمحہ میرے لیے وہ تھا جب ابو نے ہسپتال میں ‌ مجھ سے کہا کہ گڑیا یہاں بیٹھ جاؤ میرے پاس لیکن میں ‌ باہر جا کر کھیلنا چاہتی تھی۔

پچھلے نو سال سے میں ‌ یہاں نارمن کے اسی ہسپتال کے کلینک میں ‌ کام رہی ہوں۔ ایک ہی جانا پہچانا پانچ منٹ کا راستہ ہے۔ ہماری بلڈنگ کے پاس ایک واٹر ٹاور ہے جس پر سرخ رنگ میں ‌ بڑا بڑا نارمن لکھا ہوا ہے۔ ڈاکٹرز کے لیے پارکنگ مخصوص ہے جن پر سائن لگے ہوئے ہیں ‌ کہ یہاں ‌ صرف فزیشن پارک کریں اور باقی سب کو ٹو کرلیا جائے گا۔ میرے خیال میں ‌ یہ صرف ایک خالی دھمکی ہے کیونکہ ہماری گاڑیوں ‌ میں ‌ کچھ ایسا نشان نہیں ہے جس سے کسی کو پتا چلے کہ کون سی گاڑی کس کی ہے۔

Read more

یوجینکس موومنٹ کیا ہے اور ہم اس سے کیا سیکھ سکتے ہیں؟

یوجینکس یونانی الفاظ کا مجموعہ ہے جس کے معنی ہیں ویل بورن یا بہتر نسل۔ یوجینکس وہ سائنس ہے جو انسانی نسل کو بہتر بنانے کے لیے چنے ہوئے اعلیٰ نسل کے افراد کے مابین ہی جنسی تعلقات اور بچے پیدا کرنے کی صلاحیت برقرار رکھنے پر زور دیتی ہے اور دماغی، جسمانی یا سماجی طور پر کمزور افراد کے تولیدی حقوق سلب کرنے پر زور ڈالتی ہے۔ اس مہم کا ابتدائی بنیادی مقصد عمدہ انسانی نسل کی افزائش کے ذریعے موروثی بیماریوں سے نجات حاصل کرنا تھا۔ سننے میں ‌ بظاہر معصوم اور ٹھیک ہی لگتا ہے لیکن اس مہم کا دنیا اور اس کے انسانوں ‌ پر کیا اثر پڑا، آج ہم اس پر بات کریں ‌ گے۔

Read more

بچوں کو جسمانی سزا دینے پر پابندی کیوں ضروری ہے؟

ایف ایم جی یعنی کہ فارن میڈیکل گریجؤیٹ پورٹل ایک پرائیوٹ کمپنی ہے جو آئی ایم جی یعنی انٹرنیشنل میڈیکل گریجؤیٹس کے لیے امریکہ میں‌ پریکٹس کرنے والے ڈاکٹرز کے ساتھ کام کرنے اور سیکھنے کے لیے چار ہفتے کی روٹیشن ترتیب دیتی ہے۔ میں‌ ان کی فیکلٹی میں‌ ہوں۔ اگر یہ مضمون پڑھنے والے اور ڈاکٹرز بھی پڑھنا چاہیں‌ یا پڑھانا تو وہ بھی سائن اپ کرسکتے ہیں۔ اس روٹیشن میں‌ میرا پڑھانے کا طریقہ کلاس میں‌ کھڑے ہوکر لیکچر دینے سے مختلف ہے۔ یکطرفہ نہیں بلکہ اس طرح ہے کہ میرے ساتھ مریض دیکھیں اور مجھے جو معلومات ہیں وہ میں‌ آپ کو سکھا دوں‌ گی اور آپ نے جو نیا سیکھا ہے وہ مجھے بھی پڑھا دیں۔

اس مہینے ہمارے ساتھ ڈاکٹر وانگ اینڈوکرائن کی روٹیشن کر رہے ہیں۔ ڈاکٹر وانگ نے شنگھائی چائنا کے قریب ایک شہر میں واقع میڈیکل کالج سے اپنی ڈگری مکمل کی اور اب سارے امریکی امتحان پاس کرنے کے بعد وہ ریذیڈنسی کے لیے اپلائی کر رہے ہیں۔ ڈاکٹر وانگ نے اینڈوکرائن کی روٹیشن کے دوران ہمیں‌ چین میں‌ چائلڈ ابیوز پر لیکچر دیا۔ اس میں‌ ہم سب کے لیے اہم سبق ہیں۔

Read more

ان خراب حالات سے نکلنے کا ایک ہی راستہ ہے

اسٹوڈنٹ لائف میں پروفیسرز اور اپنے کلاس فیلوز کے ساتھ مریض‌ دیکھتے تھے۔ لیکن وہاں باقاعدہ نوکری نہیں ‌ کی اس لیے شہروں ‌ میں ‌ کام کرنے کا یا ان مریضوں کو جاننے کا موقع نہیں ‌ ملا۔ لاڑکانہ میں ‌ 99 فیصد مریض سندھی، بلوچی یا سرائیکی بولتے تھے اور میں ‌ سن کر سمجھ لیتی تھی کہ وہ کیا کہہ رہے ہیں لیکن جواب میں ‌ اردو میں ‌ ہی بات کرتی تھی۔

زیادہ تر مریض اردو سمجھ لیتے تھے، کچھ کی بات میری کلاس فیلوز ترجمہ کرکے بتا دیتی تھیں، کلاس میں ‌ ڈسکشن انگلش میں ‌ چلتی تھی اور امتحان بھی انگلش میں ‌ ہوتے تھے اس طرح‌ اپنی میڈیکل کی تعلیم مکمل کی۔ ٹیچنگ ہسپتال میں ‌ آنے والے زیادہ تر مریض نہایت غریب ہوتے تھے اور کچھ کو ان کے گاؤں سے چارپائی میں ‌ لایا جاتا تھا، ہسپتال کے باہر ان کے گھر والے درختوں کے نیچے سو جاتے تھے۔ کچھ خواتین پتھر جوڑ کر لکڑیاں جلا کر اس پر توا رکھ کر روٹیاں پکا رہی ہوتی تھیں۔ کافی مریض میلوں ‌ پیدل چل کر ہسپتال پہنچتے تھے کیونکہ وہ رکشے وغیرہ کا کرایہ برداشت نہیں ‌ کرسکتے تھے۔

Read more

غربت کا خاتمہ اور رٹگر بریگمین کی کتاب ”یوٹوپیا فار ریالسٹس“

یوٹوپیا فارریلسٹس میں ‌ رٹگر بریگمین نے غریبی سے لڑائی پر پچھلے 150 سال سے جاری کافی ساری ریسرچ اسٹڈیز اور ان کے نتائج پیش کیے ہیں جو کہ کافی حیرت انگیز ہیں۔ لکھاری کہتے ہیں کہ ہر کسی کو مفت پیسے ملنے چاہئیں۔ لندن میں ‌ 2009 میں ‌ ایک تجربہ کیا گیا جس میں ‌ 13 بے گھر افراد جو کہ اسکوائر مل میں ‌ باہر سردی میں ‌ زمین پر سوتے تھے، ان کے تمام جرمانے اور فیسیں معاف کردی گئیں اور ان سب کو تین ہزار پاؤنڈ مفت دیے گئے جن کے لیے ان سے کچھ کرنے کا تقاضا نہیں ‌ کیا گیا۔

ایک سوشل ورکر نے کہا کہ مجھے ان لوگوں سے کچھ زیادہ توقعات نہیں تھیں۔ لیکن ان افراد کی خواہشات کافی سادہ سی تھیں۔ جیسا کہ ٹیلیفون، ڈکشنری، آلہ سماعت وغیرہ۔ ایک سال گزر جانے کے بعد انہوں ‌ نے صرف 800 پاؤنڈ خرچ کیے تھے۔ سائمن کی مثال لیں جو بیس سال سے ہیرؤنچی تھا۔ پیسوں سے اس کی کایا پلٹ گئی۔ سائمن نے نشہ چھوڑدیا اور باغبانی کی کلاسیں لینا شروع کیں۔ وہ اپنا خیال رکھنے لگا، نہاتا دھوتا، شیو کرتا اور اب اپنے گھر واپس جانے کے لیے سوچنے لگا۔

Read more

امریکہ اور ایران کی جنگ میں کس کا مفاد ہے

امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ کی باتیں ‌ ہورہی ہیں۔ آج کے دن میری اور آپ کی طرح‌ کے مختلف شعبوں ‌ سے تعلق رکھنے والے عام شہریوں ‌ کی کیا ذمہ داری بنتی ہے؟ اور ہم اس بارے میں ‌ کیا کرسکتے ہیں؟ دنیا کے تمام ممالک ایک دوسرے سے پیچیدہ تعلق میں ‌ منسلک ہیں۔ اگر ایک جگہ جنگ ہو تو اس سے پورے خطے پر ہی نہیں بلکہ ساری دنیا پر منفی اثر پڑتا ہے۔ جنگ سے فرار ہونے والے افراد سرحدیں ‌ عبور کرکے دوسرے ممالک میں ‌ پناہ لینے پر مجبور ہوجاتے ہیں۔ پڑوسی ممالک کے رہنماؤں کو اس بات پر غور کرنے کی ضرورت ہے کہ اس سے ان کی عوام پر کیا اثرات مرتب ہوں گے۔

امریکہ اور ایران کے درمیان تعلقات بہتر بنانے پر کئی سالوں ‌ سے دونوں ‌ طرف سے کافی لوگ کام کررہے تھے اور صدر اوبامہ کے دور میں ‌ ان ممالک کے درمیان معاہدہ بھی طے پایا۔ ایران نے نیوکلیئر ہتھیار بنانے روک دیے اور آئی اے ای اے انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی کے تفصیلی جائزے کے مطابق ایران اپنے معاہدے پر قائم رہا ہے۔

Read more

آئیے جسم کے مختلف غدودوں اور ہارمونز کے بارے میں جانیں

جب ہم نارمن شفٹ ہوئے تو عائشہ نو سال کی تھی۔ ایک رات کو اس نے مجھے ٹیکسٹ کرکے کہا کہ امی جلدی سو جائیں ‌ تاکہ آپ لمبی چوڑی اور مضبوط ہوجائیں۔ یہ پڑھ کر میں ‌ بہت ہنسی تھی کہ یہ بات تو اینڈوکرنالوجسٹ کے بچے کو ہی پتا ہوسکتی ہے کہ گروتھ ہارمون سوتے میں ‌ نکلتا ہے۔اب وہ ہائی اسکول میں ‌ ہے۔ پچھلے ہفتے اس کا اینڈوکرائن سسٹم کا ٹیسٹ تھا۔ اس امتحان سے ایک دن پہلے ہماری گفتگو کچھ یوں ‌ تھی۔عائشہ؛ امی میرے خیال میں ‌ اینڈوکرائن اور نیورالوجی دونوں ‌ بہت اہم میدان ہیں۔ اب مجھے وہ کافی بہتر سمجھ میں ‌ آنے لگے ہیں۔ میں ‌ نے ان کو جتنا بھی پڑھا تو ایسا ہی لگتا ہے کہ ہر چیز کے ٹھیک سے کام کرنے کے لیے سب سے زیادہ ان دونوں ‌ نظاموں ‌ کا درست رہنا بہت اہم ہے۔

Read more

پودے اگانا اور پھر زیرزمین امیدوں کو پانی دینا

مہینے میں ‌ ایک دن میں ‌ شفا کلینک میں ‌ والنٹیر کام کرتی ہوں ‌ جہاں ‌ پر ہم وہ مریض‌ دیکھتے ہیں جن کے پاس ہیلتھ انشورنس نہ ہو یا وہ ڈاکٹر کو دیکھنا افورڈ نہ کرسکتے ہوں۔ شفا کلینک اوکلاہوما کی اسلامک سوسائٹی کا حصہ ہے لیکن اس میں ‌ کسی بھی ملک اور کسی بھی مذہب کے لوگ آسکتے ہیں۔ شفا کلینک میں ‌ کام کرنے سے مجھے کئی ایسی انڈین اور پاکستانی خواتین کو دیکھنے

Read more

اینتھریکس اور بایو دہشت گردی

ریڈ لابسٹر میرا پسندیدہ ریسٹورانٹ! ویٹر نے کریڈٹ کارڈ کی شکل کا گفٹ کارڈ چارج کرنے کے بعد کہا کہ اس میں‌ پیسے ختم ہوگئے ہیں، اس کو ٹاس کردوں یعنی کہ پھینک دوں۔ نہیں نہیں، یہ ری چارج ایبل کارڈ ہے اس کو مت پھینکو! میں‌ نے ہاتھ بڑھا کر واپس لے لیا۔ یہ کارڈ مجھے لن انسٹیٹیوٹ سے ایک کلینکل ٹرائل میں‌ مریض کی طرح حصہ لینے کی وجہ سے ملا ہے۔ یہ ٹرائل اینتھریکس کی نئی اور

Read more

نوٹر ڈیم کتھیڈرل کے بارے میں ‌ کچھ دلچسپ حقائق

آج 2019 کی پندرہ اپریل ہے۔ آج صبح کام پر آتے ہوئے مجھے یہ اندازہ بالکل نہیں تھا کہ نوٹر ڈیم کتھیڈرل پر مضمون لکھوں ‌ گی۔ صبح مریضوں کے آنے سے پہلے بیک کیے ہوئے آلو کے ٹکڑے کرکے اس پر مکھن ڈال کر جلدی جلدی کھا رہی تھی تو ایک صاحب نے ڈاکٹر فیم کو دیکھنے کے بعد ہال میں ‌ سے گزرتے ہوئے میرے آفس میں ‌ سر داخل کرکے کہا کہ کیا آپ کو معلوم ہے کہ میں ‌ نے ابھی تک ناشتہ نہیں کیا ہے؟ میری میز پر ایک کیلا رکھا تھا تو میں ‌ نے ان سے کہا کہ آپ چاہیں ‌ تو یہ کھا سکتے ہیں۔

انہوں ‌ نے کہا نہیں نہیں میں ‌ ایسے ہی مذاق کررہا ہوں۔ پھر کہنے لگے کہ مجھے شکریہ کہنے کا اس سے پہلے موقع نہیں ملا لیکن آج سے سات سال پہلے میں ہسپتال میں ‌ داخل تھا اور آپ مجھے دیکھنے آئی تھیں۔ آپ ”کائنڈ“ اور ”نائس“ تھیں، آپ نے میرا اچھا علاج کیا اور میں بہتر ہوگیا تھا۔ میں ‌ نے ان سے کہا کہ سات سال گزر گئے اور آپ ٹھیک ٹھاک ہیں، یہ دیکھ کر مجھے خوشی ہوئی۔ پھر وہ چلے گئے۔ میں ‌ نے سوچا کہ خوش مریض‌ آپ کے سامنے بتا دیتے ہیں ‌ کہ وہ خوش ہیں اور جو ناخوش ہوتے ہیں وہ انٹرنیٹ پر جاکر ساری دنیا کو بتاتے ہیں کہ وہ کتنے ناخوش ہیں۔ اس لیے ہمیں ‌ خود ہی انٹرنیٹ پر یہ بتانا ہوگا کہ ہمارے سارے مریض ناخوش نہیں ہوتے۔ اس لیے آج کے مضمون میں ‌ لکھ رہی ہوں ‌ کہ ہمارے کچھ مریض خوش بھی ہیں۔

لنچ بریک سے پہلے مریضوں ‌ کے درمیان میں نے بی بی سی پر خبر دیکھی کہ نوٹر ڈیم کتھیڈرل میں ‌ آگ لگی ہوئی ہے۔ میں ‌ نے فوراً یہ خبر اپنے بچوں ‌ کو بھیجی۔ ہم دو سال پہلے پیرس گئے تھے اور نوٹر ڈیم میں ‌ بھی گھوم پھر کر آئے تھے۔ وہاں ‌ میں ‌ نے کچھ تصویریں ‌ کھینچی تھیں جو اس مضمون کے ساتھ شامل ہیں۔ میں امید کرتی ہوں کہ اس آگ پر جلدی سے قابو پالیا جائے گا۔ امید ہے کہ اس آگ میں ‌ کسی کی جان نہیں جائے گی اور اس شاندار اور خوبصورت تاریخی عمارت کی دوبارہ مرمت ہوسکے گی۔

Read more

بچوں اور بڑوں میں ٹائپ ون ذیابیطس کی پیچیدگیاں

مجھے کچھ ہفتے پہلے یہ بات معلوم ہوئی کہ پاکستان کے بڑے شہروں ‌ میں ‌ بھی ابھی تک پیڈیاٹرک اینڈوکرنالوجسٹ نہیں ہیں۔ 2019 میں ‌ پیڈیاٹرک اینڈوکرنالوجی جرنل میں ‌ چھپنے والے جاوید اے ایٹ ایل کے آرٹیکل کے مطابق کراچی میں ‌ ذیابیطس کیٹو ایسیڈوسس کے مریضوں ‌ میں ‌ موت کی شرح‌ 5 سے لے کر 24 فیصد تک دیکھی گئی ہے یعنی کہ سو میں ‌ سے 5 سے لے کر 24 بچے تک مرجاتے ہیں۔ حالانکہ ترقی یافتہ ممالک میں ‌ یہ شرح‌ صفر اعشاریہ ایک ہے۔

یعنی کہ ایک ہزار افراد میں ‌ سے ایک کی موت ہوتی ہے۔ یہ اعداد وشمار نہایت تشویش ناک ہیں۔ ذیابیطس کے میدان میں ‌ مزید ڈاکٹرز کی ٹریننگ کی ضرورت ہے۔ خواتین ڈاکٹرز کو اس طرح‌ کام کا ماحول فراہم ہونا چاہیے جس میں ‌ وہ بغیر خوف و ہراس اپنی قوم کے لوگوں ‌ کی صحت بہتر بنانے پر کام کرسکیں۔ اس کے علاوہ ماؤں کا تعلیم یافتہ ہونا ضروری ہے تاکہ وہ اپنے معصوم بچوں ‌ کی اس پیچیدہ بیماری کو سمجھ سکیں ‌ اور اس کے علاج میں ‌ ہاتھ بٹا سکیں۔ اپنے سامنے اپنے بچوں ‌ کو مرتے دیکھنا کوئی آسان کام نہیں ‌ ہے۔

Read more

عورتوں ‌ کے خلاف خواتین کون ہیں؟

ویک اینڈ پر میں اور میری فرانسس لوکل الیکشن میں ‌ حصہ بٹا رہے تھے۔ ہماری خوش نصیبی ہے کہ یہ 2019 ہے۔ 1921 تک خواتین کو امریکہ میں ‌ ووٹ ڈالنے کا حق حاصل نہیں تھا۔ یہ حق ان خواتین نے باہر سڑکوں ‌ پر نکل کر تمام خواتین کے لیے حاصل کیا جن کو پدرانہ معاشرے کی لعنت ملامت حاصل رہی ہے۔ یورپ اور امریکہ میں ‌ خواتین کی جدوجہد کے نتیجے میں ان کی زندگی بہتر ہوئی

Read more

مائیکل جیکسن، بچوں کا جنسی استحصال اور لیونگ نیورلینڈ

میں ‌ نے کام پر جانے کے لیے جب اپنی گاڑی اسٹارٹ کی تو ریڈیو بجنا شروع ہوگیا۔ مائیکل جیکسن کا پاپولر گانا تھرلر چل رہا تھا۔ یہ گانا تو بچپن سے سنتے آئے ہیں۔ مائیکل جیکسن سے میری نسل کے لوگ تمام زندگی سے واقف ہیں۔ اس وقت سے جب ٹیپ ریکارڈر کی ایک کیسٹ بیس روپے میں ‌ ملتی تھی۔ لیکن اس دن میرے احساسات مختلف تھے۔ اس گانے کی دھن پر سر ہلانے کے بجائے میں ‌ نے ہاتھ بڑھا کر چینل تبدیل کردیا۔ اب مجھے معلوم ہوا ہے کہ صرف میں ‌ ہی نہیں اور بھی بہت سارے لوگوں ‌ نے لیونگ نیورلینڈ دیکھنے کے بعد مائیکل جیکسن کی موسیقی سننا چھوڑ دی ہے۔

ہفتے کے دن میں ‌ نے پورے پانچ گھنٹے صرف کرکے ایچ بی او ڈاکیومینٹری لیونگ نیور لینڈ کے دونوں ‌ حصے دیکھے اور اس کے بعد ایک گھنٹے کا 34 سالہ ویڈ رابسن اور 40 سالہ جیمز سیف چک کا اوپرا کے ساتھ انٹرویو بھی دیکھا۔ اس ڈاکیومینٹری کو دیکھنے کے لیے، اس کو سمجھنے اور محسوس کرنے کے لیے جگر گردے کی ضرورت ہے۔ یہ کہانی مائیکل جیکسن کے بارے میں ‌ نہیں ہے۔ یہ معصوم بچوں ‌ کے بارے میں ‌ اور ان دو بہادر جوان آدمیوں کے بارے میں ‌ ہے جہنوں نے سامنے آکر اپنے ساتھ ہوئے بچپن میں جنسی استحصال پر تفصیل سے بات کی۔ اس کہانی میں ‌ ہم سب کے لیے سبق ہے۔

Read more

پاکستان – بھارت: ناگزیر ہمسائیگی اور اعتماد کا بحران

آج صبح ڈرتے ڈرتے کمپیوٹر آن کیا کہ کوئی بری خبر سننے کو ملے گی۔ انڈیا اور پاکستان کے درمیان ایک بڑی جنگ کی پیش گوئی کافی عرصہ سے چل رہی ہے کیونکہ 1947 سے جس راستے پر یہ خطہ رواں دواں ‌ ہے اس کا یہی منطقی نتیجہ ہوسکتا ہے۔ ہم دنیا کی تاریخ پر نظر ڈال کر دیکھ سکتے ہیں کہ طاقت ور افراد نے نفرت اور تفرق کی بنیادوں ‌ پر تقسیم اور جنگ سے کمزور کا

Read more

کیا ساری غلطی صرف داعش کی دلہن شمیمہ بیگم کی ہے؟

کچھ سال پہلے جب میں ‌ نے یہ خبریں ‌ پڑھیں ‌ کہ اور تصویریں ‌ دیکھیں ‌ تو مجھے شدید افسوس ہوا تھا کہ یہ چودہ پندرہ سال کی لڑکیاں ‌ برطانیہ اور امریکہ سے فرار ہوکر آئسس میں ‌ شامل ہونے چلی گئی ہیں۔ ساری دنیا مل کر ان پر لعن طعن کرنے میں ‌ مصروف ہے۔ خاص طور پر مغرب میں ‌ موجود مسلمان تنظیمیں ‌ ان کو برا بھلا کہنے میں ‌ اور خود کو ان سے الگ دکھانے میں ‌ پیش پیش ہیں۔ میرا نقطہء نظر ان سے مختلف ہے۔ میرے خیال میں ‌ یہ لڑکیاں ‌ اس نظام کی پیداوار ہیں جو ہمارے اردگرد پھیلا ہوا ہے اور ہم اس کو اس لیے دیکھنے سے قاصر ہیں کیونکہ منافقت اس طرح‌ ہماری زندگیوں ‌ کا گہرا حصہ ہے کہ وہ ہمارے بلائنڈ اسپاٹ میں ‌ ہے یعنی ہم اس کو دیکھ نہیں سکتے۔ کون سا پاکستانی بچہ ہے جس نے امریکہ کے لیے موت، اسرائیل کے لیے موت اور ہندوستان کے لیے موت کے نعرے اپنی دیواروں ‌ پر لکھے ہوئے نہیں ‌ دیکھے ہوں؟ ساتھ میں ‌ ہر کوئی یہ بھی چاہتا ہے کہ خود امریکہ منتقل ہوجائے۔

Read more

بے اولاد اور تنہا عورت: خطرے کی گھنٹی یا ایک نئی زندگی کا سنہری موقع

حال ہی میں ‌ ایک مضمون نظر سے گزرا جس کو بنت جمیلہ نے لکھا ہے۔ اس مضمون میں ‌ انہوں ‌ نے ان خواتین کی زندگی کی طرف توجہ دلائی ہے جن کو ہم سب جانتے ہیں۔ ہم میں ‌ سے کون نہیں ہوگا جس کے ساتھ پڑھنے والی اسٹوڈنٹس، پڑوسی یا رشتہ داروں ‌ میں ‌ ایسی خواتین نہ ہوں جن کی شادی نہیں ‌ ہوئی، بچے نہیں ‌ ہوئے یا ان کی شادی ہوکر طلاق ہوگئی اور وہ ادھیڑ عمر میں ‌ بچوں ‌ کی طرح‌ اپنے بھائیوں ‌ کے گھروں میں ‌، اپنے ماں باپ کے گھروں ‌ میں ‌ ڈر سہم کر زندگی گذارنے پر مجبور ہیں جہاں ‌ ان کے اٹھنے بیٹھنے، چلنے پھرنے، لوگوں ‌ سے ملنے جلنے یا باہر آنے جانے پر کڑی پابندیاں ‌ ہیں۔ یہ زندگیاں ‌ واقعی افسوس کے لائق ہیں۔ آج ہم ان کے تاریخی اسباب پر غور کریں ‌ گے، حالیہ واقعات کا ذکر ہوگا اور کچھ مستقبل میں ‌ تبدیلی لانے پر بات بھی ہوگی۔

ہم جانتے ہیں کہ پدرسری معاشرے میں ‌ خواتین خود ایک مکمل انسان نہیں ‌ سمجھی جاتیں ‌ بلکہ وہ ہر عمر اور زندگی کے دور میں ‌ بچوں ‌ کی حیثیت رکھتی ہیں جن کی دیکھ بھال کے لیے ایک آدمی کی ضرورت ہو۔ کیا یہ ایک سچائی ہے؟ نہیں! سماجی لحاظ سے کچھ ممالک میں ‌ ایسا ہے لیکن سائنسی اور انسانی حقوق کے لحاظ سے ایک نارمل زندگی گذارنے کے لیے کچھ بھی ایسا نہیں ‌ ہے جس کے لیے ایک خاتون کو ایک آدمی کی گارڈین شپ کی ضرورت ہو۔

Read more

گلے آج تو مل لے ظالم!

پچھلے ہفتے کیلیفورنیا میں‌ مٹاپے کی ایک نئی دوا کی ریسرچ کانفرنس تھی۔ اس کے بارے میں‌ ابھی کچھ زیادہ نہیں‌ بتا سکتے ہیں کیونکہ وہ فیز ٹو کلینکل ٹرائل میں‌ ہے۔ جب میں‌ ویک اینڈ پر گھر پہنچی تو اتوار کی صبح‌، بہت سویرے، ہسپتال سے کال آئی کہ آئی سی یو میں‌ آکر ایک مریض‌ دیکھ لیں‌ جس کا تھائرائڈ ہارمون کا لیول بہت بڑھا ہوا ہے۔ میں‌ نے جا کر اس کو دیکھا۔ وہ ایک 36 سالہ

Read more

وہ تین وجوہات جب محبت کافی نہیں ہوتی

محبت کائنات کا سب سے عظیم اور طاقت ور جذبہ ہے۔ 14 فروری پر اس سال پھر محبت کا عالمی دن منایا جائے گا۔ اس ویلنٹائن ڈے پر ہم اس بات پر غور کریں ‌ گے کہ کیا محبت سب کچھ ہے؟ کیا کسی بھی رشتے یا تعلق کی کامیابی اور سالمیت کا دارومدار صرف محبت پر ہوسکتا ہے؟ وہ کون سی وجوہات ہیں جن کی بنیاد پر محبت ہوتے ہوئے بھی محبوب سے قطع تعلق ضروری ہوجاتا ہے؟

پہلی وجہ: جب آپ اپنی زندگیوں ‌ میں ‌ مختلف چیزیں چاہتے ہیں۔ ہم میں ‌ سے ہر شخص دنیا کے پیچیدہ تانے بانے کا حصہ ہے۔ ہم سب اپنے اردگرد افراد اور علاقوں سے جڑے ہوئے ہیں۔ ہر رشتے اور تعلق میں ‌ دونوں ‌ فریق کچھ دیتے ہیں اور کچھ لیتے ہیں۔ تالی دو ہاتھوں ‌ سے بجتی ہے اور ٹینگو کرنے کے لیے دو افراد کی ضرورت ہوتی ہے۔ دنیا میں ‌ کچھ بھی مستقل نہیں۔ تجربات انسانوں ‌ کو وقت کے ساتھ بدلتے جاتے ہیں۔ اپنے ماحول کے مطابق بدلنا انفرادی سرواؤل کے لیے اہم بھی ہے۔ بلی جول کے گانے ڈونٹ گو چینجنگ! یہاں ‌ مجھے یاد آگیا جس کا ترجمہ کچھ یوں ‌ ہے۔

Read more

آدھے سر کے درد کی نئی دوا اور ٹیلی ویژن ڈراموں میں رونا دھونا

میرے نانا کہتے تھے کہ بادام کھانے سے دماغ تیز ہو جاتا ہے۔ یہ بیان کسی سائنسی ریسرچ پر مبنی نہیں تھا، صرف نسل در نسل منتقل ہوتا ایک خیال تھا۔ گزرے لوگوں کی تمام باتیں غلط نہیں ہیں۔ انسان مشاہدے سے بھی کافی سیکھ لیتے ہیں۔ کچھ تکے میں بھی صحیح‌ نکل آتا ہے۔ اس میں کچھ جادو نہیں۔ مشاہدہ درست نتائج مرتب کرتا ہے یا نہیں اس کے لیے باقاعدہ ریسرچ کرنے کی ضرورت ہوگی۔ سب سے پہلے

Read more

اگر اللہ میاں ہمیں کالا کلوٹا بنادیتے تو ہم کیا کرتے؟

فروری بلیک ہسٹری مہینہ ہے جس میں ‌ امریکہ میں ‌ کالوں کی جدوجہد اور ان کی منفرد تہذیب پر روشنی ڈالی جائے گی اور ان کی کامیابیوں ‌ کا جشن منایا جائے گا۔ حال ہی میں ‌ ایک واقعہ سامنے آیا جس میں ‌ ایک پاکستانی کرکٹر نے ایک افریقی کھلاڑی کو کالا کہہ کر پکارا جس پر اس کی پکڑ ہوئی۔ اچھی بات ہے کہ اس قصے سے لوگوں ‌ کو یہ سمجھنے کا موقع ملے گا کہ آج کی گلوبلائزڈ دنیا میں ‌ نسل پرستی کے لیے جگہ نہیں اور نسل کی بنیاد پر اپنی بالادستی ثابت کرنے کا دور گزر چکا ہے۔

کچھ دن پہلے میرے بیٹے نوید نے مجھ سے کہا کہ آپ وہ نظم لکھ کر دے دیں ‌ جو آپ ہمیں ‌ بچپن میں ‌ صبح جگاتے ہوئے سناتی تھیں۔ میں ‌ نے کئی بار پوچھا کہ اس کا کیا مقصد ہے، امریکی بچے تو اردو نہیں پڑھ سکتے۔ آخر کار اس نے بتادیا کہ وہ اس نظم کا اپنے بازو پر ٹیٹو بنوانا چاہتا ہے۔ یہ نظم کچھ یوں ‌ ہے،

Read more

نوید کی گرل فرینڈ

اوکلاہوما ایک قدامت پرست ری پبلکن سرخ ریاست ہے جہاں ‌ ہر سڑک پر دقیانوسی عیسائی چرچ ہیں۔ یہ بائبل بیلٹ کا حصہ ہے۔ یہاں ‌ اسکولوں ‌ میں ‌ بچوں ‌ کو مناسب جنسی تعلیم دینا منع ہے جس کی وجہ سے یہاں ‌ ٹین ایج حمل سارے امریکہ کے مقابلے میں زیادہ ہوتے ہیں۔ چونکہ میں بائیولوجی جانتی تھی، میں ‌ نے خود اپنے بچوں ‌ کو یہ تعلیم دی کہ خود کو کس طرح بچانا ہے۔ جو بھی گئی گزری تھوڑی بہت جنسی تعلیم اوکلاہوما کے پبلک اسکول فراہم کرتے ہیں، اس میں ‌ بھی میرے بچے شامل تھے۔ ہم نے دیگر مہاجرین کی طرح‌ اپنے بچوں ‌ کو اس تعلیم سے محروم رکھنے کی کوشش نہیں ‌ کی۔ جب لوگ کسی بات کو نہیں ‌ جانتے ہیں تو پھر وہ اس سے خوفزدہ ہوتے ہیں۔ والدین کو بھی تعلیم یافتہ کرنا ضروری ہے۔

17 سال کی عمر میں ‌ نوید نے ایک ویت نامی لڑکی این اپنی گرل فرینڈ بنالی۔ وہ بہت پیاری لڑکی تھی جس کے والدین ویت نام سے اوکلاہوما یونیورسٹی میں ‌ پڑھانے آئے ہوئے تھے۔ وہ پڑھنے میں ‌ بھی بہت اچھی تھی اور ہر سبجیکٹ میں ‌ اس کے اے گریڈ آتے تھے۔ ایک مرتبہ نوید ان کے گھر گیا تو اس کے ابو نے چار گھنٹے بٹھا کر ان دونوں ‌ کو کالج ایڈمیشن کا میتھ کا ٹیسٹ کروایا۔ مجھے این بہت پسند تھی۔ وہ اور نوید ایک ساتھ بہت خوبصورت لگتے تھے۔

Read more

میں‌ نے خود کو ذیابیطس سے کیسے بچایا؟

یہ کون آنٹی مجھے فیس بک فرینڈ ریکؤئسٹ بھیج رہی ہیں؟ جب میں‌ نے ان کی تصویر غور سے دیکھی تو میرے دل پر ایک گھونسہ سا لگا کہ وہ میری میڈیکل کالج کے زمانے کی پرانی کلاس فیلو تھی۔ اتنی جلدی سے اتنا سارا وقت ہاتھوں‌ میں‌ سے پھسل گیا۔ زندگیاں‌ دو تین نہیں‌ ہوتیں‌ کہ ایک میں‌ پڑھ لیں گے، دوسری میں‌ کام کریں‌ گے اور تیسری میں‌ تفریح۔ یہی ہے جو سب کچھ ہے۔ جب ہم اسکول

Read more

امریکہ میں مقیم خواتین گھریلو تشدد سے کیسے بچیں

پچھلے ہفتے ڈاکٹر سہیل نے ای میل میں ‌ اپنا نیا آرٹیکل پڑھنے کے لیے بھیجا جو طلاق کے موضوع پر لکھا گیا تھا۔ انہوں ‌ نے بہت سلجھے ہوئے اور شائستہ الفاظ میں ‌ بہت مشکل باتیں ‌ آسان کرکے سمجھائی ہیں۔ میں ‌ نے سوچا کہ اس نہایت اہم موضوع پر ان مشکل حالات کا سامنا کرنے والی خواتین کو بنیادی عملی معلومات حاصل ہونی چاہئیں۔

امریکہ میں ‌ کافی ساری خواتین دوسرے ملکوں ‌ سے یہاں ‌ شادی ہوکر آتی ہیں۔ خاص طور پر جنوب ایشیائی معاشرے میں ‌ کم عمر لڑکیوں ‌ کی ارینجڈ شادیاں ‌ ہوتی ہیں۔ انڈیا اور بنگلہ دیش ان دس ممالک کی لسٹ میں ‌ شامل ہیں جہاں ‌ سب سے زیادہ بچپن میں ‌ شادیاں ‌ ہورہی ہیں۔ ان ممالک سے آئے ہوئے مہاجرین والدین اپنے امریکی بیٹوں کے لیے اپنے گاؤں یا شہروں میں ‌ انڈین مووی پردیس کی طرح‌ واپس جاکر لڑکیاں ‌ لاتے ہیں۔

Read more

تنقید سہنا اور کرنا دونوں ہی سیکھنا ضروری ہیں

اکتوبر میں ‌ فیس بک میسنجر کے ذریعے ایک کالج اسٹوڈنٹ کا یہ پیغام موصول ہوا تھا۔ یہ سائکالوجی کا سوال تھا اس لیے میں ‌ نے ڈاکٹر (خالد) سہیل کو بھیجا جنہوں ‌ نے اس اسٹوڈنٹ کو اس موضوع پر اپنی ایک کتاب بھیجی جس کے لیے بہت شکریہ۔ اس اسٹوڈنٹ نے پھر سے مجھے ایک اور پیغام بھیجا کہ آپ بھی اس موضوع پر لکھیں۔ میں ‌ نے سائکائٹری میں ‌ چھ مہینے ہاؤس جاب کی تھی لیکن سائکائٹری میرا باقاعدہ شعبہ نہیں ہے، اس لیے اس مضمون کو اسی طرح‌ پڑھا جانا چاہیے۔

Read more

چینی ڈاکٹر کا جینیاتی تجربہ اور ڈیزائنر بچوں کی دنیا

کچھ دن پہلے ایک خبر سنی کہ ایک چینی تحقیق دان نے دو جڑواں بچیوں‌ کی جین ایڈیٹنگ کی۔ اس خبر نے سائنس کی دنیا میں‌ کھلبلی مچادی۔ اگر ان کا بیان درست ہے تو یہ دو بچیاں‌ پہلی انسان ہیں جن کے ڈی این اے میں‌ مصنوعی طریقے سے تبدیلی کی گئی۔ اس خبر کے آنے کے بعد میں‌ نے اپنے دو ٹین ایجر بچوں‌ اور ان کے دوستوں سے اس بارے میں‌ بات چیت کی تاکہ اس تجربے

Read more

بوہیمین رہیپسوڈی اور زندگی کی کامیابیاں و ناکامیاں

تھیوڈور روزاویلٹ نے کہا کہ ”ناقد وہ نہیں جس کو اصل اہمیت ملنی چاہیے، جو بتاتا ہے کہ کس طرح‌ ایک مضبوط آدمی پھسل گیا یا کاریگروں ‌ کو اپنا کام اور بہتر طریقے سے کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ کریڈٹ تو اس شخص کو ملنا چاہیے جو میدان میں ‌ اترتا ہے، جس کا چہرہ خون اور بہتے پسینے سے تر ہوتا ہے، جو کوشش کرتا ہے، غلطیاں کرتا ہے لیکن سامنے آتا ہے۔ “

آج کا مضمون ان تمام خوفناک بیماریوں ‌ کے بارے میں ہے جن سے آپ کی بھیانک موت واقع ہوسکتی ہے۔ جسٹ کڈنگ!

آج کا مضمون مووی ”بوہیمین رہیپسوڈی“ کے بارے میں ‌ ہے جو میں ‌ نے پچھلے ہفتے دیکھی۔ یہ مووی کوئین بینڈ کے لیڈ سنگر فریڈی مرکیوری کی زندگی اور ان کے بینڈ کی کامیابی کے بارے میں ہے۔ ”بوہیمین رہیپسوڈی“ گانا برطانوی راک بینڈ کوئین نے 1974 میں ‌ ریلیز کیا تھا۔ یہ اس بینڈ کا مقبول ترین گانا ہے۔ یہ بات بہت سے لوگ نہیں ‌ جانتے تھے فریڈی مرکیوری کا اصلی نام فاروق بلسارا تھا اور وہ تنزانیہ کے ا‌یک جزیرے پر ایک پارسی گھرانے میں ‌ پیدا ہوئے تھے۔ زینجیبار میں ‌ 1964 کے انقلاب کے بعد ان کے خاندان کو انڈیا ہجرت کرنا پڑی جہاں ‌ ان کے والد نے ان کو ایک اچھا پارسی لڑکا بنانے کے لیے بمبئی کے باہر سینٹ پیٹرزبرگ بورڈنگ اسکول میں ‌ داخل کروادیا۔ اسکول میں ‌ ان کو فریڈی کے نام سے پکارا جاتا تھا۔

Read more

ساؤتھ ایشین وومن ڈاکٹر آف نارتھ امریکہ اور پاکستانی قانون دان کے درمیان فیس بک چیٹ

میں ‌ نے ایک دن سوشل میڈیا پر دیکھا کہ ساؤتھ ایشین وومن فزیشن آف نارتھ امریکہ گروپ کی ایک کولیگ نے اپنے اور ایک پاکستانی قانون دان کے درمیان چیٹ کے اسنیپ شاٹس شئر کیے ہوئے ہیں۔ یہ خاتون ایک بہت مصروف اور کامیاب کارڈیالوجسٹ ہیں لیکن انہوں نے اپنے قیمتی وقت میں ‌ اس چیٹ میں ‌ حصہ لیا اور اس کو سب کے سامنے پیش کیا تاکہ لوگ اس سے سیکھیں۔ میں ‌ نے وہ سارے مسیج پڑھے اور ان سے اجازت لی کہ ان کو بغیر نام لیے اردو میں دوبارہ لکھا جائے تاکہ اور لوگ بھی اس سے انٹرنیٹ اور سماجی تعلقات کے آداب سیکھ سکیں۔ چونکہ کئی ممالک میں ‌ صنفی تقسیم سے لڑکے اور لڑکیوں ‌ کی الگ تھلگ پرورش کرنے کی کوشش ہوتی ہے، لوگوں ‌ کے درمیان ایک خلیج قائم ہوگئی ہے جس کی وجہ سے یہ ممالک نارمل انسانی تعلقات اور معاشرے تخلیق کرنے سے قاصر ہیں۔

Read more

تم بھی گورا پھنسا لو!

کچھ دن پہلے ایک خبر نظر سے گذری کہ ایک بیس سالہ پاکستانی لڑکے اور ایک اکتالیس سالہ امریکی خاتون شادی کررہے ہیں۔ اس خبر کے نیچے لوگوں‌ نے دلچسپ تبصرے کیے ہوئے تھے۔ کچھ لوگوں‌ کا خیال تھا کہ لڑکے نے گوری پھنسا لی ہے، کچھ خواتین سوچ رہی تھیں‌ کہ وہ ان خاتون کو گرین کارڈ کے لیے استعمال کررہا ہے۔ کچھ کافی غصے میں‌ تھیں‌ کہ اس نے اکتالیس سالہ پاکستانی خاتون سے شادی کیوں‌ نہیں‌ کی؟

Read more

حاملہ خواتین اور ذیابیطس

حمل اور ذیابیطس کو سمجھنے کے لیے تین اقسام میں‌ بانٹنا ضروری ہوگا۔ حمل اور ذیابیطس ٹائپ ون حمل اور ذیابیطس ٹائپ ٹو حمل کے دوران ہوجانے والی ذیابیطس یا جیسٹیشنل ذیابیطس ذیابیطس کی مریضاؤں کو حمل سے پہلے ہی اپنی ذیابیطس کو قابو میں‌ رکھنا ہوگا تاکہ اس کی پیچیدگیوں‌ سے بچا جاسکے۔ ٹائپ ون ذیابیطس کے مریضوں‌ کا علاج صرف انسولین سے ہی ممکن ہے۔ انسولین انجکشن کے ذریعے بھی دے سکتے ہیں اور انسولین پمپ سے بھی۔

Read more

ذیابیطس کے مریض‌ کو کون سی ویکسین لگوانی چاہئیں؟

پچھلے ہفتے ہسپتال میں‌ ذیابیطس کا میلہ تھا جس میں‌ ذیابیطس سے متعلق تعلیم، آلات، دوائیں، انشورنس کمپنیاں، زخموں کے علاج کے سینٹر اور ذیابیطس کے میدان میں‌ ریسرچ کی کمپنیوں کے اسٹال تھے۔ میں‌ باری باری سب پر گئی۔ ہماری مینیجر نے مجھے اور ڈاکٹر فیم کو کہا تھا کہ کلینک کے بعد آکر کم از کم چہرہ دکھا دیں۔ ذیابیطس کے میدان میں‌ مسلسل کام ہورہا ہے۔ لن اسنٹیٹوٹ میں‌ ان دنوں‌ جو کلینکل ٹرائل چل رہے ہیں

Read more

کتاب پڑھنے، بائیسکل چلانے اور گاڑی ڈرائیو کرنے سے عورتوں پر کیا اثرات پڑتے ہیں؟

ویک اینڈ بہت مصروف گذرا۔ جمعے کے دن کلینک کے بعد کومانچی میموریل کے فیملی میڈیسن کے ریزیڈنٹس کو کیلشیم کے زیادہ ہوجانے کی بیماری پر لیکچر دینا تھا۔ کیلشیم کا نارمل دائرے میں‌ ہونا بہت اہم ہے۔ اس کے زیادہ یا کم ہوجانے سے مسائل پیدا ہوتے ہیں۔ کیلشیم کے زیادہ ہونے یا کم ہونے کی وجوہات ایک دوسرے سے مختلف ہیں‌ اور ان کا علاج بھی اسی لحاظ سے مختلف ہے۔ یہ ایک الگ موضوع ہے۔ اتوار کو

Read more

کیا عورتیں واقعی بری ڈرائیور ہوتی ہیں؟

تاریخ‌ کے مطالعے سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ سائنسی ترقی سے جیسے ہی تیز رفتاری سے سفر ممکن ہوا، خواتین کو ان سواریوں ‌ کے استعمال سے ہر لحاظ سے روکنے کی کوشش کی گئی۔ جیسا کہ ہم جانتے ہیں، جب بائسکل نئی ایجاد ہوئی تو بائسکل چلانے والی خواتین میں ‌ ایک خیالی بیماری ایجاد کی گئی جس کو بائسیکل فیس کہتے ہیں۔ یہ کہا گیا کہ خواتین کے بائسکل چلانے سے ان کا منہ عجیب طریقے سے نکل آتا ہے جس سے بچاؤ کے لیے ان کو سائکل چلانے سے گریز کرنا چاہیے۔

سعودی عرب میں ‌ حال ہی میں ‌ خواتین میں ‌ گاڑی چلانے پر پابندی ختم کردی گئی۔ سعودی عرب میں بہت سارے ایسے بالکل غلط خیالات گردش میں ‌ ہیں جن سے خواتین کے حقوق کی پامالی میں ‌ مدد ملے۔ یہ بات بھی عام ہے کہ سائنسی یا مذہبی خیالات کو استعمال کرکے خواتین کو کم تر ثابت کیا جائے۔ کوئی سو سال پہلے تک سائنسدانوں ‌ کا خیال تھا کہ خواتین کو تعلیم حاصل نہیں ‌ کرنی چاہیے۔ اگر وہ اپنا دماغ استعمال کریں ‌ گی تو خون کے بہاؤ کا رخ بچہ دانی سے دماغ کی طرف ہوجائے گا اور وہ بانجھ ہوجائیں گی۔

Read more

ذیابیطس کے مریضوں کا ایرانی محسن ڈاکٹر سیمیول رہبر

کبھی کبھار ایک سائنسی ایجاد خود اپنا انعام ہوتی ہے۔ ڈاکٹر رہبر وہ انسان ہیں ‌ جنہوں ‌ نے ذیابیطس کے مریضوں ‌ میں ‌ 1968 میں ‌ ہیموگلوبن اے ون سی کی موجودگی دریافت کی۔ اس اہم ایجاد کو یک دم پزیرائی نہیں ‌ ملی جیسا کہ اکثر ہوتا ہے۔ لیکن اگلی دو دہائیوں ‌ میں ‌ ڈاکٹرز کو یہ اندازہ ہوا کہ ہیموگلوبن اے سی کو استعمال کرکے وہ اپنے مریضوں ‌ کا بہتر طریقے سے علاج کرسکتے ہیں۔ آج ہم جو کچھ بھی ذیابیطس کے بارے میں ‌ اس پر کی گئی ریسرچ سے جانتے ہیں اس میں ‌ ہیموگلوبن اے ون سی کا بڑا ہاتھ ہے۔ آپ میں ‌ سے جن لوگوں ‌ نے یوکے پی ڈی ایس کے ریسرچ پیپرز پڑھے ہیں، آپ دیکھ سکتے ہیں کہ کس طرح ہیموگلوبن اے ون سی سے ملنے والی انفارمیشن کو استعمال کرکے یہ معلوم کیا گیا کہ ذیابیطس کا کنٹرول بہتر کرنے سے اس کی پیچیدگیوں ‌ میں ‌ کمی واقع ہوتی ہے۔

Read more

ذیابیطس اور ہیموگلوبن اے ون سی

آج کا مضمون ہیموگلوبن اے ون سی سے متعلق ہے۔ جیسا کہ آپ جانتے ہوں گے کہ میں ‌ ذیابیطس کے مریض‌ روزانہ دیکھتی ہوں۔ ذیابیطس ایک طویل عرصے کی پیچیدہ بیماری ہے جس کا مناسب علاج نہ کیا جائے تو اس کی پیچیدگیاں ‌ پیدا ہوتی ہیں۔ زیادہ تر مریض‌ اس لیے ریفر کیے جاتے ہیں ‌ کہ علاج کے باوجود ان کی ذیابیطس کا کنٹرول بگڑا ہوا ہوتا ہے جس میں ‌ ان کی ہمیوگلوبن اے ون سی بڑھ جاتی ہے۔ سال میں ‌ ایک آدھ مریض‌ اس لیے بھی ریفر کیے جاتے ہیں کہ ان کی ہیموگلوبن اے ون سی بہت کم ہوتی ہے۔

Read more

ستاروں کی چھاؤں میں کرنوں کا رقص، کتاب اور بوسہ  ۔۔۔۔ ڈاکٹر لبنیٰ مرزا بنام رابعہ الربا

ڈیر رابعہ میں‌ چند ہفتے پہلے کینیڈا میں‌ تھی۔ ڈاکٹر سہیل سینئر لکھاری اور سینئر ڈاکٹر ہونے کی وجہ سے میرے مینٹور ہیں۔ انہوں‌ نے مجھے اپنی اردو لکھائی بہتر بنانے کے لیے یہ مشورہ دیا کہ میں رابعہ کی تخلیقات پڑھوں۔ انہوں‌ نے کہا کہ رابعہ کا اردو میں لکھنے کا انداز خوبصورت ہے اور اس سے مجھے اپنے جملے بہتر طریقے سے جوڑنے میں‌ مدد ملے گی۔ میرے اوکلاہوما واپس آنے کے بعد انہوں‌ نے اپنے اور آپ

Read more

کیا پولیو ویکسین سے بچے پیدا ہونے بند ہو جاتے ہیں؟

کالج کے دن تھے۔ میں ‌ اور کچھ اور لڑکیاں کہیں جارہے تھے جب ہماری ایک کلاس فیلو دھڑام سے منہ کے بل گر پڑی۔ ہم لوگ شاید اس کا خیال کرتے ہوئے آہستہ نہیں چل رہے تھے۔ اس دوست کو بچپن میں ‌ پولیو ہو گیا تھا جس کی وجہ سے وہ لنگڑا کر چلتی تھی۔ زیادہ چل پھر نہ سکنے سے وزن بھی بڑھ گیا تھا۔ ان دنوں ‌ میں ‌ وزن زیادہ تھا تو عمر کے ساتھ

Read more

بچوں کو حفاظتی ٹیکے لگوائیں یا نہ لگوائیں

ایک دن میں‌ یونہی فیس بک فیڈ چیک کررہی تھی تو میں‌ نے سفید فام خواتین کا ایک گروپ فوٹو دیکھا جس میں‌ انہوں‌ نے نیلی ٹی شرٹیں پہنی ہوئی تھیں‌ جن پر یہ فقرے لکھے ہوئے تھے کہ ویکسین لگانے سے آٹو امیون بیماریاں‌ ہوجاتی ہیں، ویکسین لگانے سے مرگی کے دورے پڑتے ہیں، اے ڈی ایچ ڈی یعنی اٹینشن ڈیفیسٹ کی بیماری ہوتی ہے، بچوں‌ کو سیکھنے میں‌ مشکل کا سامنا کرنا ہوتا ہے، بچوں‌ کی اچانک موت

Read more

کیا امریکی سفید فام مرد ڈاکٹروں کو خواتین ڈاکٹروں سے زیادہ تنخواہ ملنی چاہئیے؟

برابری کا مطلب یہ نہیں ہے کہ سب انسان ایک ہی قد، ایک ہی رنگ اور ایک ہی جسمانی یا ذہنی طاقت رکھتے ہوں۔ برابری کا مطلب یہ ہے کہ اگر ایک مرد، عورت یا بچہ ایک ایک بالٹی میں درختوں میں‌ سے سیب توڑ کر بھریں تو اس بھری ہوئی بالٹی کے لیے ان سب کو برابر معاوضہ دیا جائے۔ اور بس! جیسا کہ ہم سب جانتے ہیں دنیا کو سفید فام آدمی آقا چلا رہے ہیں۔ وہ ہر

Read more

میں‌ یونیٹیرین چرچ کی وائس پریزیڈنٹ کیسے بن گئی؟

کچھ مہینے پہلے الیکشن ہوئے اور یونیٹیرین چرچ میں‌ مجھے وائس پریزیڈنٹ چن لیا گیا۔ یہ میرا ایک لوکل آرگنائزیشن میں‌ لیڈرشپ کا پہلا موقع ہے اور میں‌ ابھی اس جاب کو سیکھنے اور سمجھنے کی کوشش کررہی ہوں۔ میں‌ یہاں‌ تک کیسے پہنچی؟ ہوسکتا ہے کہ یہ کہانی سن کر اور لوگوں‌ کو، خاص کر خواتین کو اپنی لوکل کمیونیٹیز میں‌ نیٹ ورکنگ سے متعلق معلومات حاصل ہوں۔  2010 میں‌ اینڈوکرنالوجی کی فیلوشپ ختم کرنے کے بعد جب میں‌

Read more

جدید زندگی چاہیے تو جدید اخلاقیات کو ماننا ہو گا

"یہ کیسا تالا ہے؟” ہاسٹل کے بابا نے پوچھا۔ ایسا ہلکا پھلکا سا اور چابی کا خانہ بھی نہیں‌ ہے! وہ صبح‌ سب لڑکیوں‌ کے کالج چلے جانے کے بعد سارے ہاسٹل میں‌ چکر لگا کر ہر دروازہ چیک کرتے تھے۔ یہ نمبروں‌ کا تالا ہے اور درست نمبر ڈالنے سے کھل جاتا ہے میں‌ نے ان کو بتایا۔ مجھے اور میری روم میٹ کو اس کا نمبر پتا ہے اور اگر ہم بھول جائیں‌ تو ایک دوسرے کو بتا

Read more

سب سے مشکل اور سب سے خوشگوار مریض

سوزن سونٹاگ نے کہا کہ ”بیماری زندگی کی رات کا حصہ ہے، یہ ایک مشکل شہریت ہے۔ ہر پیدا ہونے والا انسان دو شہریتیں‌ رکھتا ہے، ایک صحت مند ریاست کی اور دوسری بیمار ریاست کی۔ حالانکہ ہم سب یہی چاہتے ہیں‌ کہ بہتر پاسپورٹ استعمال کرتے رہیں‌ لیکن جلد یا بدیر ہم میں‌ سے ہر کسی کو اس دوسری ریاست کے شہری کی شناخت اپنانی ہوتی ہے۔ “ سارا دن لوگوں‌ کے دکھ اور تکلیفیں‌ سنتے سنتے یہ مشکل

Read more

ڈنر جل گیا!

دنیا میں سفر کرنے سے بہت کچھ دکھائی دیتا ہے اور سمجھ بھی آتا ہے۔ دنیا میں بھانت بھانت کے انسان بستے ہیں، وہ الگ زبانیں‌ بولتے ہیں‌ اور مختلف طریقے سے سوچتے ہیں۔ وہ مختلف طریقوں سے زندگی گذارتے ہیں۔ جو بھی چیزیں لوگوں‌ کے اردگرد موجود ہوتی ہیں، انہی کو استعمال کرکے وہ اپنے گھروندے بناتے ہیں۔ جیسے ساؤتھ ایشیا میں مٹی کو اینٹوں میں‌ بدل کر اس سے عمارات بناتے ہیں، اسی طرح درختوں کو کاٹ کر

Read more

نوید، نانی کی ذیابیطس اور جال میں پھنسی چڑیا

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک شہر میں ایک لڑکا رہتا تھا جس کا نام تھا نوید۔ نوید کی ایک چھوٹی بہن تھی اور وہ اپنے امی ابو کے ساتھ رہتے تھے۔ نوید کی نانی کو ذیابیطس ہوگئی تھی اور وہ روزانہ اپنی دوا باقاعدگی سے لیتی تھیں۔ نوید نے دیکھا کہ وہ ہر صبح‌ ایک انجیکشن لگاتی تھیں‌ جس کا نام تھا وکٹوزا اور رات میں‌ ایک گولی کھاتی تھیں جس کا نام تھا گلوکوفاج۔ دوا لینے سے

Read more

علاج معالجے کی اخلاقیات ۔۔۔ سرمئی کے کئی رنگ

انٹرنل میڈیسن کی بورڈ رویو کانفرنس میں‌ جا کر یہ معلوم ہوا کہ پچھلے دس سالوں‌ میں‌ میڈیسن میں‌ کتنی تبدیلیاں‌ آچکی ہیں۔ ایتھکس کا لیکچر کافی دلچسپ تھا۔ اس میں‌ کئی نوعیت کے کیس ڈسکس کیے گئے جن میں‌ سے کچھ مندرجہ ذیل ہیں۔ امید ہے کہ یہ کیسز قارئین کو سوچنے پر مجبور کریں‌ گے۔ پہلا سوال: آپ کے 56 سالہ مریض‌ کو حال ہی میں‌ گردے کے کینسر کے ساتھ تشخیص کیا گیا ہے۔ یہ اس وقت

Read more

ذیابیطس کی ایک مختصر تاریخ

ذیابیطس کوئی نئی بیماری نہیں ہے بلکہ دنیا میں صدیوں سے موجود ہے۔ انڈیا اور چین کی ہزاروں سال پرانی کتابوں میں ذیابیطس کا تذکرہ پایا جاتا ہے۔ ذیابیطس کا پرانا ترین کیس مصر میں ملتا ہے۔ 1550 قبل مسیح میں‌ مصری ڈاکٹر ہیسی را نے ایک مریض کا لکھا ہوا ریکارڈ چھوڑا جس میں مریض کو بار بار پیشاب آنے کا زکر ہے۔ ڈاکٹر کو یہ تو نہیں معلوم تھا کہ یہ کیا بیماری ہے لیکن انہوں نے مریض

Read more

میں‌ نے ایک جوتے کے ساتھ گاڑی چلائی

ہم لوگ پچھلے ہفتے ٹیکساس میں‌ ایف ایم 544 اور ہاتھورن اسٹریٹ کے چوراہے پر رکے ہوئے تھے۔ ایک سیکنڈ کے چھوٹے سے حصے میں‌ ہماری آنکھوں کے سامنے دو گاڑیاں بری طرح‌ سے ایک دوسرے سے ٹکرا گئیں۔ ایک لمحے کو مجھے سمجھ ہی نہیں‌ آیا کہ کیا ہوا ہے؟ اوپر دیکھا تو ٹریفک لائٹ سرخ تھیں۔ ظاہر ہے کہ وہ سرخ ہوگئی تھیں‌ تبھی میں‌ نے وہاں‌ گاڑی روک لی تھی۔ میرے دائیں‌ طرف سے یہ سیڈان گاڑی

Read more

میں آرام دہ حد تک بے حس ہوچکی ہوں!

نطشے نے کہا کہ اگر آرٹ نہ ہوتا تو ہم سچائی کے ہاتھوں‌ مٹ جاتے۔ مصور، مجسمہ نگار، موسیقار، اداکار اور رقاص ہمیں‌ اپنی زندگی کو سمجھنے اور اسے محسوس کرنے کی صلاحیت دیتے ہیں۔ ایک لیڈر سے کسی نے سوال کیا کہ آرٹ سے فنڈنگ کاٹ کر جنگ میں‌ پیسہ کیوں‌ نہ لگایا جائے؟ تو انہوں‌ نے جواب دیا کہ اگر ہم ایسا کریں‌ تو پھر ہم کس چیز کے لیے لڑرہے ہیں؟ 1950 کی دہائی میں‌ امریکہ سے

Read more

ایک خاتون ڈاکٹر کا حالِ دل

فی زمانہ خواتین جن مسائل اور مشکلات کا شکارہیں، اس کا ادراک خود خواتین کو آہستہ آہستہ ہو رہا ہے وہ شائد اس لیے کہ کچھ تعلیم بڑھی ہے اور کچھ گھر سے باہر کام کرنے کی وجہ سے وہ دوسرے لوگوں‌ سے مل جل سکتی ہیں، بات کرسکتی ہیں۔ اس طرح‌ ان کو معلوم ہوا کہ وہ اکیلی نہیں‌ تھیں‌ بلکہ تمام دنیا کی تمام خواتین ایک ہی طرح‌ کے حالات سے گذر رہی ہیں۔ انسانی عزت نفس اور

Read more

میں‌ اپنے ابو سے دس برس بڑی ہوں

ڈاکٹر لبنیٰ مرزا نے بہت دن بعد لکھا مگر ہمیشہ کی طرح authentic۔ مجھے یہ معصوم دلگداز تحریر پڑھتے ہوئے رسول حمزہ کی وہ نظم یاد آئی جس میں اس نے اسٹالن گراڈ کی جنگ میں مرنے والے اپنے بھائی کا ذکر کیا تھا۔ اس نظم کا ترجمہ فیض صاحب نے کیا تھا۔ آخری سطر تھی، اب مری عمر بڑے بھائی سے کچھ بڑھ کر ہے۔۔۔۔ انسانی تجربے کی یہ سانجھ ہی ہمیں ایک بڑا انسانی گھرانہ بناتی ہے۔ رنگ

Read more

خدا سرخ  ہے

پچھلے سال فلسفے کی ہائی اسکول کی ٹیکسٹ بک، پھر ڈاکٹر خالد سہیل کی کتاب "مسٹریز آف مسٹی سزم” اور ہرمن ہیس کی "سدھارتا اور اس کے بعد  گریگ ایپسٹین کی”گڈ وداؤٹ گاڈ” پڑھی گئیں۔ کوئی بھی ممبر کتاب کا مشورہ دے سکتا ہے۔ بک کلب میں‌ آجکل "گاڈ از ریڈ” پڑھی جارہی ہے۔ میں‌ نے اس کے حق میں‌ ووٹ ڈالا تھا۔ جب ہم چھوٹے بچے تھے تو میں‌ یہی سمجھتی تھی کہ خدا کا جیسا تصور میرے زہن

Read more

حمل اور ذیابیطس

ایک پڑھی لکھی خاتون جو پرہیز علاج سے بہتر ہے کے مقولے پر یقین رکھتی تھیں، اپنے پہلے بچے کے حمل کے دوران لیڈی ڈاکٹر کو دکھانے گئیں۔ انتظار گاہ میں‌ اور بھی کئی خواتین براجمان تھیں جو ایک دوسرے کے ساتھ گفت و شنید میں‌ مصروف تھیں۔ ان میں‌ سے ایک خاتون نے ان سے پوچھا کہ انہیں کیا تکلیف ہے؟ ان کو کسی اجنبی کا اپنی زاتی زندگی میں‌ ایک اجنبی کا ٹانگ اڑانا ٹھیک تو نہیں‌ لگا

Read more

مولوی کس نے بنایا؟

ہم سے پہلے بھی ایک دنیا تھی اور لوگ تھے اور ہمارے جانے کے بعد بھی دنیا رہے گی اور اس کے لوگ بھی۔ جو بوئیں، وہی کاٹنا ہوتا ہے۔ نفرت بوئیں گے تو آنے والی نسلیں‌ نفرت ہی سہیں گی۔ اپنے اردگرد دیکھیں۔ آج ہمارے پاس جو کچھ بھی ہے، جو بھی دوائیں ہیں ان سب پر ہم سے پہلے گذرے ہوئے لوگ کام کرگئے۔ ہمیں بھی اپنا حصہ بٹانا چاہئیے۔ تباہ کرنا بہت آسان ہوتا ہے اور کچھ

Read more

سی پی آر – مصنوعی تنفس سے زندگی بچانا

یہ مضمون لکھتے ہوئے میں‌ بہت برا محسوس کر رہی ہوں۔ اس کو لکھنے کے لئے کچھ انتظار کرنا پڑا۔ وہ اس لیے کہ جس کی وجہ سے لکھا جارہا ہے، میں‌ چاہتی تھی کہ وہ بہتر ہوجائے تب لکھوں۔ آج صبح وہ کافی بہتر تھی اور اس نے اس بات کی اجازت بھی دی کہ بغیر نام استعمال کیے اس کی مثال کو اس مضمون کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے۔ آج کے مضمون سے ہم سی پی آر

Read more

دھڑا دھڑ طلاقیں‌ کیوں‌ ہو رہی ہیں؟

یہ آج کل دھڑا دھڑ طلاقیں‌ ہر طرف کیوں‌ ہو رہی ہیں؟ میں‌ نے اس موضوع پر کئی ملکوں‌ میں‌ چلتی بحث سنی۔ انڈیا، صومالیہ، امریکہ اور پاکستان وغیرہ۔ ساری دنیا میں ایک کھلبلی مچ گئی ہے۔ پاکستان میں‌ طلاق کی شرح دو سو فیصد بڑھ گئی ہے۔ اوکلاہوما میں‌ ساٹھ فیصد شادیاں‌ طلاق پر ختم ہو رہی‌ ہیں۔ ہر جگہ خواتین اپنے شوہروں‌ کو چھوڑ کر جا رہی ہیں جس کو یہاں‌ اوکلاہوما میں بوٹ لگا دینا کہتے ہیں۔

Read more

روزوں میں ذیابیطس کے مریضوں کے لئے احتیاطی تدابیر

میڈیسن کا پہلا اصول ہے کہ ”ڈو نو ہارم“ یعنی کسی کو نقصان نہ پہنچائیں۔ چند سال پہلے خبریں پڑھنے سے یہ بات پتا چلی کہ شدید گرمی کی وجہ سے ہزاروں‌ روزہ داروں‌ کی موت واقع ہوئی۔ یہاں‌ تک کہ ان لاشوں‌ کو جمع کرنے کی سہولیات بھی کم پڑ گئیں۔ بغیر تعلیم اور مناسب سہولیات کے کسی شہر یا ملک کے افراد کو ایک ایسی صورت حال میں‌ ڈالنا جس سے ان کی موت واقع ہوجائے، ایک غیر

Read more

تیسری جنس کے طبی مسائل اور ہمارے رویے

 دنیا ایک حیرت کدہ ہے۔ ہم سب انسان انفرادی طور پر دنیا کو صرف اپنی آنکھوں‌ سے ہی دیکھ سکتے ہیں۔ ایک انسان دوسرے انسان کے احساسات، جذبات اور مسائل کو آسانی سے نہیں ‌سمجھ سکتا ہے۔ پھر اگر یہ انسان کسی اور وقتوں کے ہوں ‌یا ہمارے ماحول سے کہیں‌ دور رہتے ہوں تو پھر ہمیں‌ ان کو سمجھنا اور بھی مشکل ہوجاتا ہے۔ زبان سیکھنے سے، لکھنے اور پڑھنے سے اور کہانیوں‌، موسیقی اور گیتوں سے انسان ایک

Read more

امریکہ میں بچوں کی میڈیکل تعلیم کے بارے میں کچھ نکات

امی آپ کو پتا ہے کہ امریکی لیجسلیچر میں ‌کتنی کم خواتین ہیں؟” میری بیٹی نے کہا۔ اسی لئیے تو میں ‌کہتی ہوں ‌کہ آپ سپریم کورٹ جسٹس بن جائیں! اس سے بحث میں ‌کوئی نہیں‌ جیت سکتا اور اس خوبی کو مفید طریقے سے استعمال کرنا چاہئیے۔ میرے خیال میں‌ وہ اگر قانون دان بنے گی تو کوئی کیس نہیں ‌ہارے گی۔ لیکن مجھے ڈاکٹر بننا ہے اس نے کہا۔ بیٹا دیسی والدین یہی چاہتے ہیں‌ کہ ان کے

Read more

اوکلاہوما۔ بھیانک بگولوں کی سرزمین

اس شام ایک دم بجلی چلی گئی اور طوفان نے شدت اختیار کرلی۔ تلسا اوکلاہوما میں‌ ہمارے اپارٹمنٹ کے اوپر والی منزل سے لوگ بھاگتے ہوئے نیچے آئے اور زور زور سے دروازہ بجانے لگے۔ کیا ہم آپ کے گھر میں‌ چھپ سکتے ہیں؟ یہ نوے کی دہائی کی شروعات تھی اور ہم لوگ نئے نئے امریکہ شفٹ ہوئے تھے۔ ہمیں‌ کچھ سمجھ نہیں‌ آیا کہ یہ لوگ کس بات سے اتنا گھبرائے ہوئے ہیں۔ اوکلاہوما کی ریاست ”ٹورنیڈو ایلی“

Read more

حیض، انسانی تاریخ اور مائتھالوجی

میں ‌نے یونیورسٹٰی آف اوکلاہوما سے 2008 سے 2010 کے دوران اینڈوکرینالوجی میں‌ فیلوشپ کی تو مجھے ریپروڈکٹو اینڈو کرینالوجی اور پیڈیاٹرک اینڈوکرینالوجی کے ڈپارٹمنٹس میں‌ بھی کام کرنے اور سیکھنے کا موقع ملا۔ ایک سال کے لئے ہفتے میں‌ ایک کانفرس میں‌ جانا پروگرام کا لازمی حصہ تھا لیکن مجھے ان کی کانفرنس اتنی پسند تھیں‌ کہ ان میں‌ ایک دو بار خود بھی لیکچر دئیے اور دونوں‌ سال باقاعدگی سے جاتی رہی۔ اب ان پروفیسرز کے ساتھ اچھے

Read more