آج 2019 کی پندرہ اپریل ہے۔ آج صبح کام پر آتے ہوئے مجھے یہ اندازہ بالکل نہیں تھا کہ نوٹر ڈیم کتھیڈرل پر مضمون لکھوں گی۔ صبح مریضوں کے آنے سے پہلے بیک کیے ہوئے آلو کے ٹکڑے کرکے اس پر مکھن ڈال کر جلدی جلدی کھا رہی تھی تو ایک صاحب نے ڈاکٹر فیم کو دیکھنے کے بعد ہال میں سے گزرتے ہوئے میرے آفس میں سر داخل کرکے کہا کہ کیا آپ کو معلوم ہے کہ میں نے ابھی تک ناشتہ نہیں کیا ہے؟ میری میز پر ایک کیلا رکھا تھا تو میں نے ان سے کہا کہ آپ چاہیں تو یہ کھا سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا نہیں نہیں میں ایسے ہی مذاق کررہا ہوں۔ پھر کہنے لگے کہ مجھے شکریہ کہنے کا اس سے پہلے موقع نہیں ملا لیکن آج سے سات سال پہلے میں ہسپتال میں داخل تھا اور آپ مجھے دیکھنے آئی تھیں۔ آپ ”کائنڈ“ اور ”نائس“ تھیں، آپ نے میرا اچھا علاج کیا اور میں بہتر ہوگیا تھا۔ میں نے ان سے کہا کہ سات سال گزر گئے اور آپ ٹھیک ٹھاک ہیں، یہ دیکھ کر مجھے خوشی ہوئی۔ پھر وہ چلے گئے۔ میں نے سوچا کہ خوش مریض آپ کے سامنے بتا دیتے ہیں کہ وہ خوش ہیں اور جو ناخوش ہوتے ہیں وہ انٹرنیٹ پر جاکر ساری دنیا کو بتاتے ہیں کہ وہ کتنے ناخوش ہیں۔ اس لیے ہمیں خود ہی انٹرنیٹ پر یہ بتانا ہوگا کہ ہمارے سارے مریض ناخوش نہیں ہوتے۔ اس لیے آج کے مضمون میں لکھ رہی ہوں کہ ہمارے کچھ مریض خوش بھی ہیں۔
لنچ بریک سے پہلے مریضوں کے درمیان میں نے بی بی سی پر خبر دیکھی کہ نوٹر ڈیم کتھیڈرل میں آگ لگی ہوئی ہے۔ میں نے فوراً یہ خبر اپنے بچوں کو بھیجی۔ ہم دو سال پہلے پیرس گئے تھے اور نوٹر ڈیم میں بھی گھوم پھر کر آئے تھے۔ وہاں میں نے کچھ تصویریں کھینچی تھیں جو اس مضمون کے ساتھ شامل ہیں۔ میں امید کرتی ہوں کہ اس آگ پر جلدی سے قابو پالیا جائے گا۔ امید ہے کہ اس آگ میں کسی کی جان نہیں جائے گی اور اس شاندار اور خوبصورت تاریخی عمارت کی دوبارہ مرمت ہوسکے گی۔
Read more