جھگڑا تو ایک کافر ادا، یعنی کسی قتالہ عالم پر تصرف کا تھا، لیکن آپ چاہیں تو اسے قوت و اقتدار کی دیوی پر غلبے اور اس کے اصل حق کا معاملہ سمجھ لیں کہ اس واقعے کا شمار بھی ان چند اہم واقعات میں ہوتا ہے جو بر عظیم پر انگریز کے مکمل قبضے اور اس سے قبل اس کی قوت و جبروت کا سکہ جمانے کا ذریعہ بنے۔ بس، یوں سمجھیے کہ ایک انگریز کا قتل ہو گیا اور وہ بھی ایک ایسے انگریز کا جس کے اقبال کا سکہ حضرت پیر و مرشد، خاقانی ہند ظل سبحانی ابو المظفر بہادر شاہ ظفر کے (در حدود قلعہ معلی) سریر آرائے سلطنت ہونے کے با وجود دلی پر چلتا تھا کہ نام اس کا ولیم فریزر تھا اور شہر کی ایک طرہ دار حسینہ کو محض اس لیے تصرف میں لانے کا خواہش مند تھا کہ انگریز تھا، اس واسطے کہ مال و منال، گولا بارود اور سپاۂ قاہرہ اس کے در کی لونڈیاں تھیں۔
جاہ و حشم کے یہ مظاہر بڑے بڑوں کی آنکھوں میں چکا چوند پیدا کر دیتے ہیں اور نا سمجھوں کو بھی سمجھ دار بنا دیتے ہیں مگر ایک نا سمجھی تو وہ الہڑ دوشیزہ نہ سمجھی کہ جب قوت و اقتدار کے نشے میں چور، وہ گورا حاکم اس بی بی کے در پر پہنچا اور اس کے لطف و کرم کا طلب گار ہوا، تو وہ غیرت ناہید انجام بد اور نتیجے کے خوف سے بے نیاز ہو کر اس کے ساتھ بے اعتنائی سے پیش آئی اور اسے باہر کا راستہ دکھایا، کچھ اسی مزاج کا اس کا محب تھا کہ نواب ایک ریاست کا تھا، اس دور نا سعید میں بھی ہوش کے ناخن لینے کے بجائے غیرت و حمیت کی باتیں کیا کرتا اور کمپنی بہادر کی آڑ میں تیزی کے ساتھ قدم بڑھاتے ہوئے فرنگیوں کو ہندوستان سے نکال باہر کرنے کے منصوبے بنایا کرتا۔
Read more