1953 کے پنجاب فسادات سے کالعدم تحریک لبیک تک: کیا پاکستان میں کچھ بدلا ہے؟

نسبتاً طویل مکالمے کا یہ حصہ ملک میں پہلے مارشل لا کا باعث بننے والی ایک پُر تشدد تحریک کے پس منظر، اس کے مختلف کرداروں، اُن کے مقاصد اور طریقہ واردات پر ہی روشنی نہیں ڈالتا بلکہ یہ بھی واضح کرتا ہے کہ ریاست و سیاست سے وابستگی رکھنے والے عناصر اپنے سیاسی مقاصد کے لیے کس حد تک چلے جاتے ہیں۔

Read more

ایوب خان: اہم مواقع پر ہمیشہ منظر سے غائب ہو جانے والے ایک متذبذب ڈکٹیٹر

یہ اُس فیلڈ مارشل کا جنازہ تھا جو اس ملک کی فوج کا پہلا پاکستانی سپہ سالار، پہلا چیف مارشل لا ایڈمنسٹریٹر اور دوسرا صدر تھا۔ اُن (ایوب خان) کی وفات پر سرکاری ذرائع ابلاغ سے صرف اتنی ہی اطلاع نشر ہوئی: ’پاکستان کے ایک سابق صدر انتقال کر گئے‘، خبر میں اُن کا نام شامل کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کی گئی۔

Read more

روٹی نہیں تو سونا بھی مٹی

پروفیسر ڈاکٹر خلیل طوقار نے اردو سیکھی اور اس میں نام پیدا کیا لیکن نہیں معلوم یہ کیسے ہو گیا کہ اردو کے ساتھ ساتھ پاکستان کی دیگر قومی زبانوں سے بھی شناسائی پیدا ہوتی چلی گئی، ہندکو پر تو ایسی دسترس ہوئی کہ اس کی گرامر تک لکھ ڈالی: ’ایسے کہتے ہیں سخن ور سہرا‘۔ پاکستان کے ایٹمی پروگرام کے بانی ڈاکٹر آئی ایچ عثمانی یاد آگئے، مرحوم گفتگو کے دھنی تھے، کانوں میں رس گھولنے والی گفتگو کے

Read more

استقلال مارشی

قسمت کی خوبی دیکھیے کہ فیض کہاں یاد آئے۔ وہ معرکہ چناق قلعے کی سو سالہ تقریبات تھیں جس میں تقریباً چالیس سربراہانِ مملکت و حکومت شریک تھے۔ اختتامی تقریب میں کنسرٹ تھا اور قائد جمہوریت رجب طیب ایردوآن کا خطاب۔ اس خطاب کی کشش ایسی تھی کہ لگتا تھا کہ شہر کا شہر امڈ آیا ہے۔ کانگریس سینٹر ہم نے بہت دیکھ رکھے ہیں لیکن یہ تو پوری جلسہ گاہ تھی جس میں ہزاروں ترک سما گئے۔ 1974 میں

Read more

تذکرہ ماضی کا، کہانی حال کی

عمران خان نے اعتماد کا ووٹ لیا، اطمینان کا سانس لینے کے بعد تسبیح کلائی پر لپیٹی اور خم ٹھونک کر ’غداروں‘ کو للکارا۔یہی منظر تھا جسے دیکھ کر تاریخ کے دفینوں سے کئی واقعات نے سر اٹھایا، نیز کتابوں کے انبار تلے دب جانے والی ایک مختصرسی کتاب کی یاد آئی۔ برادر محترم ڈاکٹر ظفر حسین ظفر نے یہ کتاب عنایت کرتے ہوئے کہا تھا کہ فاروق بھائی! آپ اسے پڑھیں گے تو یوں سمجھیے، ماضی کی پر پیچ

Read more

اقبال اور حلقہ یاراں

اقبال سے مجھے اس چھتنار درخت کی یاد آتی ہے جس کے سائے میں بیٹھ کر میں نے سلطنت افکار و خیال اِس بادشاہ کو پہچانا۔ اُس اقبالؒ سے تو میں واقف تھا جو کشمیری شال اوڑھے، مٹھی پر سر ٹکائے غور و فکر میں مصروف نظر آتے ہیں لیکن وہ اقبال جو میرے بوڑھے والد کے رگ وپے میں مشک بو تھا، اس سے میں نا واقف تھا۔ انھوں نے اقبال سے ہمارا تعلق ایک مذہبی عقیدے کی طرح

Read more

ایک خواب جسے دیکھنے کی اجازت نہیں

بلوچستان کو پاکستان کا مستقبل سمجھا جاتا ہے، اس لیے میرا خیال تھا کہ عبد المتین اخونزادہ اس تاثر کی لاج رکھتے ہوئے بھی پرانی ازکار رفتہ باتوں سے صرف نظر کر کے کوئی ایسی بات کہیں گے جو اِن کی ترقی اور خوش حالی کا ذریعہ بنے گی، بیرونی ملکوں میں ان کے بچوں کے داخلوں کا راستہ کھولے گی اور کوئی دامن مراد ایسا بھرے گی جسے دیکھ کر نیب والے آہیں بھریں لیکن کچھ بگاڑ نہ پائیں۔

Read more

کاش یہاں فلم کاکلچر ہوتا!

کاش ہمارے یہاں فلم کا کلچر ہوتا یا فلم ساز ہی دو چار موضوعات کے اسیر نہ ہوتے۔ اگرخوش قسمتی سے ایسا ہوتا تو ہماری فلم کا شہرہ چار دانگ عالم میں ہوتا۔ لوگ بھول جاتے کہ کوئی فلم ’ونس اپون آ ٹائم ان ممبئی‘ یا اس جیسی دیگر فلمیں بھی بنا کرتی تھیں۔ کوئی شبہ نہیں کہ بالی ووڈ نے متنوع موضوعات پر کمال کی فلمیں بنائی ہیں۔ صرف’ ونس اپون آ ٹائم ان ممبئی‘ پر ہی کیا موقوف،

Read more

اپنے کام سے کام رکھنے کا چلن

’کیا سوچ رہے ہیں ، فاروق بھائی؟‘ ڈاکٹر خلیل طوقار نے میرے چہرے پر خیال کی لہریں گنیں اور اپنے نرم، ملیح لہجے میں دریافت کیا۔میں تھوڑا گڑبڑا گیا: ’سوچ تو کچھ نہیں رہا تھاڈاکٹر صاحب!بس، اندازہ لگا رہا تھا‘۔ ’کس بات کا اندازہ؟‘۔ ’اس بات کا اندازہ کہ آپ لوگوں کی نماز خراب کرنے کے لیے کوئی اپنا ستر توڑنا چاہے تو اُس کی گستاخی یا جرأت رندانہ کی سطح کیا ہونی چاہیے؟‘۔ اب کے چکرانے کی باری ڈاکٹر

Read more

تاشقند معاہدے میں کشمیر کو بنیادی حیثیت کیوں نہ مل سکی؟

تاشقند میں پاکستانی وفد کے سربراہ ایوب خان کو پے در پے حیرانیوں کا سامنا کرنا پڑا جس میں کئی باتوں کی وجہ اس وقت کے وزیرِ خارجہ ذوالفقار علی بھٹو اور اُن کی وزارت تھے۔

Read more

کشیدگی کہاں لے جاتی ہے

شیخ رشید اپنی بات مکمل کر چکے تو بچوں نے احتجاجا ٹیلے ویژن کا گلا دبایا اور سوال کیا:کوئی شخص ملک کا شہری ہو، خواہ ہی بڑا ملزم یا مجرم کیوں نہ ہو، اسے شہریت سے کس طرح محروم کیا جاسکتا ہے؟ مجھے افراسیاب خٹک یاد آگئے۔ نیب پر پابندی لگی تو ابھی ان کے کھیلنے کھانے کے دن تھے یعنی وہ طالب علم تھے اور پختون اسٹوڈنٹس فیڈریشن میں ہوا کرتے تھے، وہی جیسے نوجوان ہوتے ہیں، بڑے بڑے

Read more

نظریہ پاکستان کی مخالفت کا الزام: حیدرآباد سازش کیس کی حقیقت کیا تھی؟

حیدرآباد ٹربیونل کے خاتمے اور قیدیوں کی رہائی کے باوجود یہ سوال اہم رہا کہ حیدرآباد سازش کیس کی حقیقت کیا تھی اور اس میں کن کن لوگوں کو کس انداز میں شامل گیا گیا۔

Read more

سیاسی بحرانوں میں صدر مملکت کا کردار

وہ بڑی عجیب رات تھی۔ دھرنا تو کئی روز سے جاری تھا ، صبح و شام تقریریں سننے کی عادت بھی ہوگئی تھی اور منہ اندھیرے آنکھ کھلتے ہی نیوز چینل لگانے کا بھی معمول بن چکا تھا کہ وہ چند گھنٹے جو نیند میں گزرے ہیں، کسی ان ہونی کی خبر تو نہیں لائے؟ بڑوں کے دن اور رات اگر ایسی کیفیات میں گزرتے تھے تو بچوں کے بھی اپنے تجربات تھے۔ ایوان صدر میں رہنے والے افسروں اور

Read more

مزاری صاحب اور طلب کا ایک لمحہ

پروفیسر ڈاکٹر زاہد منیر عامر تحقیق و ادب کے آدمی ہیں۔ یوں، دنیا کی چمک دمک کو چھوڑ کر کرم خوردہ کتابوں کو پسند کرنے والے لوگ ہوتے ہی مختلف ہیں لیکن ڈاکٹر صاحب کا معاملہ  جدا ہے۔ وہ سہج سہج کر چلنے اور بات کرنے کے عادی ہیں، یہ خوبی انھیں کچھ اور نمایاں کر دیتی ہے اور دیکھنے والا سوچتا ہے کہ خدایا یہ شخص ہے کیا؟ اس راز کے کھلنے میں شاید کچھ وقت لگ جاتا اگر

Read more

دو مہربان بزرگوں کی یاد

وہ بھی سیاسی انتقام کے دن تھے، کچھ ایسی وجہ ہی رہی ہوگی کہ پولیس صحبت پور میں داخل ہوئی، یہ بات حیران کن تھی لیکن مزید حیرت کی بات یہ ہوئی حاجی احمد علی کھوسہ کے گھر داخل ہوئی اور انھیں لے کر چلتی بنی۔ اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند فرمائے،نیک دل زمیندار تھے، ایک خیال جن کے ذہن میں بیٹھ گیا تھا کہ اگر اس دیس میں کوئی بہتری آنی ہے تو وہ سیاست کے راستے ہی

Read more

کراچی سرکلر ریلوے

ایک بجے کے لگ بھگ کلاسیں ختم ہو جاتیں تو کچھ لوگ سینٹرل مسجد کا رخ کرتے اور کچھ کیفے ٹیریا کا۔یہ دونوں مقامات کشش رکھتے تھے۔ مسجد میں ظہر کی چار رکعتوں کے بعد طلبہ کی ٹولیاں صحن، برآمدے اور دروازوں کے کھلے چبوتروں پر دھرنا دے کر بیٹھیں اور باتوں کے وہ فوارے چھوٹتے کہ سننے دیکھنے والے سب بھیگ کے اٹھتے۔ کچھ ایسے ہی مناظر کیفے ٹیریا کے ہوتے۔آلو کے کٹلٹ اور انڈاگھوٹالے کے ساتھ دو لقمے

Read more

، ہمارے لیے ایران کا کھلتا دروازہ

خارجہ تعلقات میں اعلانات سے زیادہ اشارے اہم ہوتے ہیں۔کچھ ایسے ہی اشارے پاک ایران تعلقات کے ضمن میں بھی میسر ہیں۔ جواد ظریف اسلام آباد بعد میں پہنچے، اس سے پہلے ایک پیغام پہنچا جس میں امریکی صدارتی انتخاب میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی شکست کا ذکر کیے بغیر کہا گیا کہ جن کو جانا تھا، چلے گئے، ہمیں یہیں رہنا ہے۔ اس معنی خیز پیغام کے بعد جواد ظریف پاکستان چلے آئے اور انھوں عمران خان سے ملاقات

Read more

بس، یہ آخری جملہ…

‘’بس منے، یہ آخری جملہ، پھر میں چلا‘‘۔یہ شاہ صاحب تھے، وہ کرسی سے اٹھ کھڑے ہوئے جس پر وہ بیٹھے ہی کہاں تھے اور آخری جملے کا آغاز کیا۔ جملہ روشنی کی رفتار سے سفر کرتے ہوئے جانے کہاں جا نکلا،پھر نا معلوم شاہ صاحب کب واپس اپنی نشست پر بیٹھے اورکب یہ جملہ کانٹا بدل کر کسی دوسری شاہراہِ پر گامزن ہوا، اس کی خبر شاہ صاحب کو ہوئی، نہ ان کے مصاحبین کو۔ شاہ صاحب کون تھے،

Read more

باکو جس کی شریانوں میں بہادری کا لہو دوڑتا ہے

ابھی پرسوں پرلے روز اہل باکو بے تاب ہو کر سڑکوں پر نکل آئے اور انھوں نے آرمینیا کی جارحیت کے خلاف لڑنے والوں کے ساتھ اظہار یک جہتی کیا ۔ مظاہرین کے پس منظر گلابی رنگ کا ایک مینار سر اٹھائے کھڑا تھا، اس دیس میں مزاحمت کی سب سے بڑی علامت۔ یہ علامت کیا ہے؟ ایک معمہ ہے۔ کوئی دائیں جانب سے دیکھتا ہے اور کوئی بائیں طرف سے،ایک طرف سے دیکھنے والے اسے چھ(6سمجھتے ہیں اور دوسری

Read more

سیاست میں پرسیپشن بدل چکا

امریکا میں صدارتی انتخابات کا معرکہ شروع ہونے کو ہے لیکن یہاں جس واقعے کا ذکر ہے، وہ کچھ پرانا ہے، یوں کہیے کہ کچھ زیادہ ہی پرانا۔ حریف جیسا کہ ہوتا ہے، حتمی نامزدگی سے پہلے ہی اپنا اپنا منشور پیش کر کے رائے دہندگان کی توجہ کے حصول کی کوشش کرتے ہیں اور پارٹی کے اندر اثر و رسوخ  بڑھانے کی بھی۔ اس واقعے کا تعلق بھی نامزدگی کے اسی مرحلے سے ہے۔ ایک صاحب جو نسبتاً زیادہ

Read more

معزولی اور منادی: ملک بادشاہ کا، حکم کمپنی بہادر کا

جھگڑا تو ایک کافر ادا، یعنی کسی قتالہ عالم پر تصرف کا تھا، لیکن آپ چاہیں تو اسے قوت و اقتدار کی دیوی پر غلبے اور اس کے اصل حق کا معاملہ سمجھ لیں کہ اس واقعے کا شمار بھی ان چند اہم واقعات میں ہوتا ہے جو بر عظیم پر انگریز کے مکمل قبضے اور اس سے قبل اس کی قوت و جبروت کا سکہ جمانے کا ذریعہ بنے۔ بس، یوں سمجھیے کہ ایک انگریز کا قتل ہو گیا اور وہ بھی ایک ایسے انگریز کا جس کے اقبال کا سکہ حضرت پیر و مرشد، خاقانی ہند ظل سبحانی ابو المظفر بہادر شاہ ظفر کے (در حدود قلعہ معلی) سریر آرائے سلطنت ہونے کے با وجود دلی پر چلتا تھا کہ نام اس کا ولیم فریزر تھا اور شہر کی ایک طرہ دار حسینہ کو محض اس لیے تصرف میں لانے کا خواہش مند تھا کہ انگریز تھا، اس واسطے کہ مال و منال، گولا بارود اور سپاۂ قاہرہ اس کے در کی لونڈیاں تھیں۔

جاہ و حشم کے یہ مظاہر بڑے بڑوں کی آنکھوں میں چکا چوند پیدا کر دیتے ہیں اور نا سمجھوں کو بھی سمجھ دار بنا دیتے ہیں مگر ایک نا سمجھی تو وہ الہڑ دوشیزہ نہ سمجھی کہ جب قوت و اقتدار کے نشے میں چور، وہ گورا حاکم اس بی بی کے در پر پہنچا اور اس کے لطف و کرم کا طلب گار ہوا، تو وہ غیرت ناہید انجام بد اور نتیجے کے خوف سے بے نیاز ہو کر اس کے ساتھ بے اعتنائی سے پیش آئی اور اسے باہر کا راستہ دکھایا، کچھ اسی مزاج کا اس کا محب تھا کہ نواب ایک ریاست کا تھا، اس دور نا سعید میں بھی ہوش کے ناخن لینے کے بجائے غیرت و حمیت کی باتیں کیا کرتا اور کمپنی بہادر کی آڑ میں تیزی کے ساتھ قدم بڑھاتے ہوئے فرنگیوں کو ہندوستان سے نکال باہر کرنے کے منصوبے بنایا کرتا۔

Read more

جنرل مظفر عثمانی: تھا تو وہ خاک نشین ہی۔۔۔

یار، ایک حسرت رہ گئی، یہ جینٹل مین بسم اللہ والے کرنل اشفاق تھے۔ انھوں نے اپنی حسرت کو یاد کیا اور مجھے اس دن کی یاد آئی جب ظہر کی نماز کے بعد مسجد سے میرا نکلنا تھوڑا مشکل ہو گیا تھا۔ پیش امام نے السلام علیکم و رحمتہ اللہ کہہ کر نماز مکمل کی تو میں نے پلٹ کر دیکھا، تین ستاروں والی وردی میں ملبوس ایک بزرگ عین میرے پیچھے مصروف نماز تھے۔ کچھ دیر میں نے

Read more

مودودیؒ، نصراللہ اور زرداری

”نواب زادہ نصراللہ خان بعض لوگوں کو اس لیے برے لگتے ہیں کہ مولانا مودودی ؒجیسی باتیں کرتے ہیں“ ۔ یہ جملہ پڑھے ہوئے، یوں سمجھئے کہ مدت بیت چکی تھی جب نواب زادہ نصراللہ خان سے ملاقات ہوئی۔ وہ اس سیاست کا زمانہ تھا جسے نوے کی دہائی سے منسوب کیا جاتا ہے یعنی میاں اور بی بی کی لڑائی یوں جاری تھی جس کانقشہ حضرت صوفی تبسم جیسے عدیم المثال شاعر نے بچوں کے لیے ایک نظم میں

Read more

درندوں کی طاقت کا راز

وہ سمرقند کی رات تھی، چاندنی میں نہائی ہوئی۔ یہاں وہاں جانے کے لیے پوچھنا پڑتا تھا۔ پوچھو تو سمجھو گئے۔ غلام جو ہمارا میزبان تھا، مصیبت میں پڑ جاتا۔ زبان سے وہ کچھ کہتا تو نہیں تھا لیکن ہمیں معلوم تھا کہ اپنے بزرگوں کے شہر میں گھومتے ہوئے دائیں بائیں جو کچھ سائے دکھائی دیتے ہیں، ان کا اہتمام وہی کرتا ہے تاکہ مسافر بھٹکنے نیز کسی مصیبت میں پھنسنے سے محفوظ رہیں مگر وہ چودہویں کی رات تھی، دودھ میں نہائے ہوئے شہر کے حسن سے آنکھیں ٹھنڈی کرنے کی خواہش منہ زور تھی۔

نوید سے میں نے کہا، شہر آرزو کی سڑکیں اور گلیاں اس سمے نہ دیکھیں تو کیا دیکھا؟ ڈاکٹر نوید الٰہی اس عہد کے سب سے بڑے مسئلے یعنی بدامنی اور دہشت گردی سے نمٹنے کے عالمی شہرت یافتہ ماہر سہی لیکن ان کے دل میں ایک شاعر بھی سانس لیتا ہے۔ میری بات سن کر انھوں نے آنکھ ماری اور کہا کہ ہاں یار، مجھے تو ٹوتھ برش بھی خریدنا ہے۔ یوں اس عذر ”شرعی“ نے ہوٹل زرینہ کے بند دروازے کھول دیے اور یہ مسافر امیر تیمور اور الغ بیگ کے زمانے کی دو تین پتھریلی گلیوں کے در و دیوار کو چھوتے اور ٹٹولتے ہوئے ریگستان اسکوائر جا پہنچے۔

Read more

دیار شمس اور اس کا مسافر

ڈاکٹر طارق کلیم کو اللہ سلامت رکھے، ایک بار ان کے دل کا درد جاگا اور انھوں نے صحافتی ہنگامہ خیزی کے باعث زبان و ادب پر مرتب ہونے والے اثرات پرغور و فکر کا موقع فراہم کیا۔ کانفرنس بڑی کامیاب رہی کیوں کہ صحافت اور ادب، ان دونوں شعبوں کی بڑی اہم اور نمایاں شخصیات اس میں شریک ہوئیں جیسے کشور ناہید، عطا الحق قاسمی، ڈاکٹر طاہر مسعود،سید طلعت حسین، اوریا مقبول جان، ملک محمد معظم اورجناب سجاد میر۔

Read more

آیا صوفیہ جامعی

جیسے ہی آیا صوفیہ پر نگاہ پڑی،کیمسٹری کے ایک بزرگ استاد یاد آگئے۔ نام تو ذہن میں نہیں لیکن وہ بڑے باکمال بزرگ تھے۔ ان کی خدمت میں جب بھی حاضر ہوئے، کوئی نہ کوئی بات سیکھ کرہی نکلے۔ ایک روز انھوں نے بتایا کہ یہ جو بارہ مہنیوں کا کیلنڈر ہے، اس میں بڑی خرابی ہے۔کسی مہینے کے دن برابر نہیں۔ پوچھیں کہ ایساکیوں ہے تو عقل کا کوئی جواب نہیں ملتا: ’’پھر اس کا حل کیا ہے؟‘‘فرمایا کہ

Read more

استنبول میں عالمی کشمیر کانفرنس

چلیں آئیں، چلتے ہیں، ڈاکٹر خلیل طوقار نے کہا۔ محسن رمضان اس وقت زاہدہ خاتون شیروانیہ کے پیچیدہ شعروں کے ترجمے میں مصروف تھے۔ و ہ تھوڑی تھوڑی دیر کے بعد معصوم صورت بنا کر میری طرف دیکھتے اور کسی شعر پر انگلی رکھ کر کہتے، استاد! بس، ایک نظر اس پر ڈال لیں۔ اس ہونہار نوجوان نے اتنی گہری شاعرہ کا اپنی زبان میں ایسا پتا مار کر ترجمہ کیا ہے کہ دل سے دعا نکلتی ہے۔ دوسری طرف

Read more

سید منور حسن: تند مزاج درویش

کراچی میں تازہ وارد ایک نوجوان سید منور حسن کی خدمت میں حاضر ہوا، ٹٹول کر جیب سے ایک رقعہ نکالا اور جھک کر ان کی خدمت میں پیش کر دیا۔ سید صاحب نے دیکھے بغیر اِسے میز پر ڈال دیا، کچھ دیر کے لیے دراز کو ٹٹولا، فارغ ہو کر اچٹتی سی ایک نگاہ رقعے پر ڈالی اور اٹھ کھڑے ہوئے۔ اٹھتے اٹھتے جیسے انھیں کچھ یاد آیا اور انھوں نے نگاہ التفات کے منتظر اجنبی کی طرف دیکھا

Read more

فیضی کا فیض

”کچھ دن ہمیں اور دے دو فاروق! “۔ یہ دوست محمد فیضی تھے۔ وہ خزاں کا موسم تھا اور پتوں کے جھڑنے کی رفتار بہت تیز تھی۔ سردی کیا اور گرمی کیا، کراچی کو اس سے زیادہ فرق نہیں پڑتا مگر وہ انسانوں کے گرنے کا موسم تھا، خزاں کی ایسی بہار جس نے گلی کوچوں کو لہو میں رنگ دیا۔ شہر میں لاشیں اس رفتار سے گریں کہ زبان اور اصطلاحیں تک بدل گئیں۔ تھانوں اور اسپتالوں سے شام

Read more

آصف فرخی ، وہ دھیرے سے دل میں اتر جانے والا

بادل امنڈ گھمنڈ کر آرہے تھے ، کوئی کوئی بوند گرتی تھی لیکن اتنی بھرپور کہ جہاں گرتی بھگوتی چلی جاتی اورجسم میں سردی کی لہر دوڑ جاتی۔ گاڑی سے اتر کر میں نے سامان پر ایک نگاہ ڈالی اور اسے سمیٹ کر ڈیپارچر کی طرف بڑھنے ہی کو تھا کہ بادل اس زور سے کڑکا، گویا آسمان ہی پھٹ پڑے گا۔ عین اسی لمحے میں نے اپنے کاندھے پر ایک نرم ہاتھ کا لمس محسوس کیا ، اس سے پہلے

Read more

فخر اور اس جیسے 22 کروڑ

فخر الدین سیّد یوں چلا گیا جیسے جھونکا ہوا کا جاتا ہے۔ اس جوانان مرگ سے کبھی ملاقات نہ ہو سکی لیکن ایک زمانہ تھا ،صبح شام اس سے بات ہواکرتی۔ جیسا کہا جاتا ہے کہ: ’’ سنو اور اطاعت کرو‘‘فخر کا معاملہ کچھ ایسا ہی تھا۔اِسے جو کہا جاتا، خاموشی کے ساتھ سنتا اور پھر کام میں جت جاتا، کچھ دیر کے بعد وہ مشکل سے مشکل مہم بھی سر ہو جاتی جس کا بیڑا اٹھانے سے بڑے بڑے

Read more

بلیاں کمزور ہو گئی ہیں

”اس وبا نے تو بلیوں سے بھی رزق چھین لیا“ ۔ خاتون خانہ نے صاف کی ہوئی پالک کی مٹھی ایک جانب رکھی اور دکھ کے ساتھ اطلاع دی۔ گھر میں بلی کبھی ہوتی تھی، اب نہیں ہوتی۔ اس لیے بچے محلے کی بلیوں کو دودھ ڈال کر ہی خوش ہو جاتے ہیں۔ بلی گھر کی پلی ہو یا آوارہ، اس کی نفاست اور نخرے کا جواب نہیں۔ ہمارے ہاں دو بلیوں کا آنا جانا ہے، ایک سنہری اور دوسری

Read more

یتیموں کا دن

کچرے کے ایک ڈھیر کے پاس کھڑا میں سوچ رہا تھا کہ آخر اس کہانی کا سرا کہاں سے ملے؟ سوال یہ درپیش تھا کہ بڑے بڑے شہروں کے بیچ اور اطراف میں یہ جو کچرے کے عظیم الشان ڈھیر پڑے رہتے ہیں، ان پر بھی ایک مخلوق پلتی ہے، کیا اس مخلوق سے ہمارا بھی کوئی تعلق واسطہ ہے اور اگر ہے تو ہماری زندگیوں پر ان کے اثرات کی نوعیت کیا ہے؟ یہی سوچتے ہوئے کہانی کا سرا

Read more

ایک روپیہ اسکول

اس بچے کو دیکھا تو عید کا دن یاد آگیا۔ ہمارے بچپن میں اس روز مائیں اپنے بچوں کو بوروکیڈ کی چمچماتی ہوئی سنہری شیروانی پہناتیں اور اسی کپڑے کی رام پوری ٹوپی جسے تہہ کردیں تو سمٹ کر جیب میں آجائے۔ اس بچے نے بھی کچھ ایسے کپڑے ہی پہن رکھے تھے، چمچماتے اور بھڑکیلے، تیل سے اس کے بال جمے ہوئے تھے اور اس کے جسم میں بجلیاں بھری تھیں۔ ماں پکڑ کر سیدھا بٹھاتی تو وہ تڑپ

Read more

جبل پور کا جیالا

مجھے ایک ایسے شخص کے بارے میں بات کرنی ہے، جس سے میرا کبھی کوئی تعلق نہیں رہا لیکن اسی لاتعلقی نے ایک ایسے تعلق کو جنم دیا، سماجی ربط ضبط میں بالعموم جس کی کوئی مثال شاید ہی ملے۔ کچھ عرصہ ہوا، 1953 کے اخبارات دیکھنے کا موقع ملا۔ اُس سال جنوری میں جامعہ کراچی اور شہر کے دیگر تعلیمی اداروں سے ایک تحریک پھوٹی۔ مسئلہ تو نہایت معمولی تھا، یعنی فیسوں میں اضافہ، طلبہ نے اس فیصلے کے

Read more

…اور کتنی آزمائش؟

چلتے چلتے ہم ایک خالی پلاٹ تک پہنچے پھر قدم وہیں جم گئے۔وہ چند نوجوان تھے، خوش دل، خوش خیال اور خوش جمال، نیم دائرے کی شکل میں کھڑے ان نوجوانوں کے ہاتھ ایک دوسرے کے ہاتھوں میں تھے اور وہ حرکت میں تھے، ان کے لچکیلے جسم،بازو اور ٹانگیں۔ ترنگ میں آکر جب وہ اپنے بازو جھلاتے تو شوق دید سے آنکھیں جھپکنا بھول جاتیں،ہاتھوں کا رخ زمین کی طرف ہوتا تو وہ انگریزی کا (V)بن جاتا، آسمان کی

Read more

ہم وطن جنہیں وبا سے پہلے بیروزگاری لپٹ گئی ہے

دروازہ کھلا تو جیسے زلزلہ آگیا ، اس کے بعد بیٹے کی شکل دکھائی دی۔ آج کل کے بچے اسی طرح آندھی اور طوفان بنے پھرتے ہیں۔ ممکن ہے، ہم لوگ بھی ایسے ہی رہے ہوں لیکن اپنی حماقتیں کسے یاد رہتی ہیں؟ خیر، ذکر اس نوجوان کا تھا ۔اس کی برہمی کا سبب فوراً ہی سمجھ میں آگیا۔ہمارے وقتوں میں تعلیم اتنی مشکل نہ تھی۔ کالج سے یونیورسٹی گئے ،فارغ ہوئے تو اللہ نے روز گار کا بندوبست کردیا۔

Read more

وبا کا ایک دن

فجرکے بعد سونا بھی ایک طرح سے فرائض میں شامل ہے۔نیند پوری کر کے میں اٹھا اور مچی مچی آنکھوں کے ساتھ دروازہ کھول کر بالکونی تک پہنچا، اخبار ابھی تک نہیں آیا تھا۔اخبار اور ناشتے کے درمیان ایک نامعلوم سا وقفہ ہوتا ہے لیکن یہ وقفہ طویل ہوگیا توآنکھیں کھل گئیں۔لاک ڈاؤن کی بات کئی روز سے چل رہی تھی ، ہو گا یا نہیں ہو گا،واضح نہیں تھا۔ کراچی سے کچھ آواز آتی تھی ،اسلام آباد سے کچھ

Read more

اگر اٹلی کے انجام سے بچنا ہے!

حضرت خواجہ خضر چلتے چلتے صحرا میں جا پہنچے اور حیران ہوئے۔ سوچا کہ یہاں تو سمندر لہریں لیا کرتا تھا، یہ خشکی کہاں سے آگئی؟ یہی سوچتے ہوئے وہ آگے بڑھے تو ان کا سامنا ایک چرواہے سے ہو ا۔ اس کی بکریاں خاردار جھاڑیوں سے الجھی ہوئی تھی اور وہ خود چیتے کی مانند دائیں سے بائیں دیکھتا تھاکہ مبادا کوئی درندہ اس کے ریوڑ کو نہ آلے۔ حضرت خواجہ نے اسے متوجہ کیا اور پوچھا، اے گلہ

Read more

راجہ فاروق حیدر کے خواب

نیلی مسجد کو دیکھا تو جی چاہا، دائیں جانب اس جگہ دیوار سے ٹیک لگا کر بیٹھ جاؤں جہاں کسی بزرگ کی جائے عبادت نشان زد ہے، وقت کم تھا اور ہم سفر جلدی میں، اس لیے بھاگم بھاگ آیا صوفیہ میں جا گھسے۔ ایک گائیڈ اپنے حصے کے زائرین میں گھرا اِس عمارت کے اُن رازوں سے پردہ اٹھا رہا تھاجو مسافروں پر عام طور پر نہیں کھلتے۔ لوگ حیرت سے منہ کھولے گائیڈ کا بولا ہوا ایک ایک

Read more

ٹی وی جیسا حساس شعبہ شوقیہ فن کاروں کے ہاتھوں میں

جن دنوں حسینہ معین کے ڈراموں کا جادو سر چڑھ کر بول رہا تھا،ہماری نسل کی مسیں بھیگ رہی تھیں ۔ ہم  بڑے انہماک کے ساتھ ان کے نٹ کھٹ ڈرامے دیکھا کرتے۔ دھوپ کنارے، پرچھائیاں اور بہت سے دوسرے ڈراموں کی یاد اب بھی دل میں گھنٹیاں بجا دیتی ہے۔شکیل، ساحرہ کاظمی، مرینا خان اور سب سے بڑھ کر راحت کاظمی۔  اِن ہی دنوں نہ جانے کیسے یہ خیال جڑ پکڑ گیا کہ راحت فقط اداکار نہیں دانش ور

Read more

سائبان پاکستان

چنار کے درخت سے ہمارا ایک خاص تعلق ہے ۔ قزاقستان سے ہمارے تعلق کی اپنی بنیادیں ہیں،گہری اور پائیدار۔اس دیس سے ہمارے رنگ و نسل اور خون کے رشتے بھی ہیں، تاریخی مشترکات بھی ہیں اور عقیدے و ایمان کی یک جائی بھی لیکن یہاں ذکر چنار کا ہے۔ اس ملک کی پہچان بھی چنار ہی ہے لیکن بانداز دگر۔ قزاقستان کے دارالحکومت میںBayterek Tower کی حیثیت ایسی ہی ہے جیسے لاہور میں مینار پاکستان کی۔ ہمارا یہ مینار

Read more

چین اور مسلمان

ہم چنگ ڈاؤ(Qingdao)کے مسافر تھے۔ کچھ دن ہمیں یہاں گزار کر براستہ ارومچی پاکستان لوٹنا تھا اور اس شہر میں ہمارا قیام تھوڑا نہیں پانچ چار روز کا تھا۔ ارومچی، چین کے نیم خود مختار علاقے سنکیانگ کا دارالحکومت اور مسلم اکثریتی علاقہ ہے۔ کئی برس ہوتے ہیں، سعودی عرب سے واپس آتے ہوئے اس خطے کے لوگوں سے جہاز میں ملاقات ہوئی تھی۔ یہ لوگ اس زمانے میں حج کے لیے پاکستان کا راستہ استعمال کیا کرتے تھے۔ بھاری

Read more

مرے کام کچھ نہ آیا یہ کمال نے نوازی

عمران خان ملایشیا نہیں گئے پھر چلے گئے، اس کے بعد رجب طیب ایردوآن اسلام آباد چلے آئے۔  بس اس سے کڑیاں خود بخود ملتی چلی گئیں اور سوچنے والوں نے سوچا کہ گاڑی جس مقام سے پٹری سے اتری تھی، لگ بھگ اسی جگہ سے واپس اپنے راستے پر آن چڑھی ہے۔عالم اسلام کے مقبول ترین رہنما کے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب نے اس تاثر کو مزید قوی کیا ہے لیکن سنتے ہیں، اصل کہانی کچھ اور

Read more

شیریں مزاری اور دفتر خارجہ

ارون دھتی رائے ہوں یا نو م چومسکی، اس طرح کے لوگ ہمیں کیوں پسند ہیں؟ شاید اس لیے کہ یہ لوگ لگی لپٹی رکھے بغیر بات کرتے ہیں۔ گرد و پیش کے ادنیٰ مفادات کو خاطر میں نہیں لاتے، اعلیٰ اقدار کو پیش نظر رکھتے ہیں اور جس بات کو سچ سمجھتے ہیں، دھڑ سے کہہ دیتے ہیں۔ اپنے ہاں عاصمہ جہانگیر ہوا کرتی تھیں، ان سے پہلے حبیب جالبؔ تھے۔ اُس عہد میں بھی جب ایوب خان کے

Read more

ششی تھرور کی مہربانی

بہاؤ کے خلاف تیرنے والے بڑے لوگ ہوتے ہیں لیکن جو لوگ ٹریفک کے بہاؤ کے خلاف چلتے ہیں، زیادہ بڑے ہوتے ہیں کیونکہ یہ لوگ آسانی کے ساتھ کسی کے ہاتھ پاؤں توڑ سکتے ہیں، دل چاہے تو جان بھی لے سکتے ہیں۔ اس سے بڑھ کر خوبی یہ ہے کہ اپنی جان کی فکر بھی انھیں کچھ کم ہی ہوتی ہے چونکہ یہ بڑے لوگ ہیں، اس لیے انھیں مفت کے وکیل بھی مل جاتے ہیں۔ کراچی والے

Read more

اپنے عہد کی گواہی

اردو کے کرشماتی افسانہ نگار انتظار حسین نے یاداشتوں کو ٹٹول کر کہانی بنا دیا تو ان پر پر ناسٹیلجیا کی پھبتی کسی گئی، خاص طور پر اُن حلقوں کی طرف سے جنھوں نے اپنی روایت سے کنارہ کشی اختیار کر کے مغربی تجربے کی روشنی میں اپنے مزاج کو سمجھنے کی کوشش کی۔ یہ بحث ہمارے ہاں عشروں چلی۔ جس پر ایسے ایسے خیالات ظہور میں آئے کہ حیرت ہوتی ہے، حالانکہ یہ ماضی کے واقعات ہی ہوتے ہیں

Read more

فواد چوہدری کاغصہ

فواد چوہدری کہتے ہیں، ریاستی ادارے انھیں انصاف دلائیں یا الزام لگانے والے الزام کو ثابت کریں، ایسا اگر نہیں ہو گا تو پھر وہی ہوا جو مبشر لقمان کے ساتھ ہوا یا اس سے قبل سمیع ابرہیم کے ساتھ ہوا۔ گزشتہ چار پانچ برس کے دوران میں یہ ملک جن تجربات سے گزرا ہے، اس کے سبب فواد چوہدری نے بہت سی محبت اور بہت سی مخالفت کمائی ہے، اس بنا پر اس واقعے پر تالی بجانے والے بھی

Read more

ہوا بدلنے کے آثار

کوئٹہ کا ایک سفر کبھی نہیں بھولتا، ریل گاڑی اسٹیشن پر پہنچی تو مسافروں نے اس پر ہجوم کیا۔ اُ ن زمانوں میں اوّل ٹرین پر سوار ہونا پھر اس میں جگہ بنانا جان جوکھوں کا کام تھا۔ خوش قسمتی سے جنھیں جگہ مل جاتی، وہ آنے والوں کا راستہ بند کر دیتے۔ گاڑی کے اندر جہاں بیٹھنے کی جگہ ہوتی، لوگ باگ ایک دوسرے پر چڑھے دکھائی دیتے۔ کوئی جگہ بنانے کی کوشش کرتا تو پہلے سے بیٹھے ہوئے

Read more

عبدالصمد بنگالی اور سقوط ڈھاکہ کی روح تڑپا دینے والی یاد

ابا جی نے ایک روز اعلان کیا: ”آج سے گھر کا سودا سلف عبدالصمد بنگالی کے ہاں سے آئے گا“۔ وہ عجب زمانہ تھا۔ ہمارے بزرگ بات بات پر جذباتی ہوجاتے، مشرقی پاکستان کے ذکر پر آنسو بہاتے اور اُس دیار سے کسی کے آنے کی خبر ملتی تو اس کی راہ میں پلکیں بچھا دیتے۔ بھٹو صاحب کے اقتدار کا سورج نصف النہار پر تھا، بھارت کی قید سے رہا ئی کے بعد بہاریوں اور محب وطن بنگالیوں کی

Read more

طلبہ یونین کی بحالی – سو رنگ کے پھول کھلنے کی نوید

لوگ جو بھی کہیں کالجوں اور یونیورسٹیوں میں بہار دو بار آتی۔ ایک اس وقت جب انتخابات ہوا کرتے اور دوسرے نئے تعلیمی سال آغاز پر داخلوں کے موقع پر۔ ان دونوں مواقع کی یادیں دلوں میں تتلیاں بن کر اڑتی ہیں۔ داخلوں کے موقع پر نئے طلبہ اپنی تعلیمی پیش رفت میں سرشاری، میرٹ کے باعث داخلہ ملنے یا نہ ملنے کی فکر مندی کے باوجود اور اپنی خوبصورتی اور وجاہت کے اظہار کے لیے بہترین جامہ زیبی کا

Read more

گر زباں ہو دل کی رفیق

یہ اختلاف بیزاری کا زمانہ ہے۔ آپ نے جیسے ہی اپنی رائے کا اظہار کیا یا کوئی سوال ہی اٹھا کیا، سنگ زنی شروع ہو گئی۔ اس رجحان کا تازہ تجربہ ایک دیرینہ رفیقِ کار حمیداللہ عابد کو ہوا ہے۔ حمیداللہ عابد نہایت پڑھے لکھے، محنتی اور لائق صحافی ہیں چونکہ پڑھنے لکھنے کی عادت ہے اور لکیر کے فقیر بھی نہیں ہیں، اس لیے صرف اثبات اور تائید کے خواہشمندوں کے ساتھ ان کی کم ہی بنتی ہے لہٰذا

Read more

لال پرچم کا خیر مقدم

ایک عزیز دوست نے سوال کیا کہ علی قاسمی کو جانتے ہو؟ ذرا توقف کے بعد وضاحت کی کہ وہی علی عثمان قاسمی جو عطا الحق قاسمی کے فرزند ہیں۔ اسی ہلے میں انھوں نے اطلاع دی کہ یہ نوجوان بھی ترقی پسندوں کے مظاہرے میں پائے گئے، لال قمیص پہن کر، یقینا لال لال لہرائے گا جیسے نعرے بھی لگائے ہوں گے۔ ممکن ہے، وہ ابھی کچھ مزید بھی کہتے لیکن میں نے سوال کردیا کہ پھر؟ ”پھر کیا؟

Read more

کس نے غائب کیے خوابوں کے رنگ؟

ایوانِ صدر میں آئے زیادہ دن نہیں گزرے تھے کہ ایک شخص سے میری ملاقات ہوئی۔ یہ شخص مجھے کچھ مختلف سا لگا لیکن ذرا ٹھہریے، یہ ماجرا اتنا سادہ نہیں۔ اس ایوان کی راہ داریوں میں چلنے والوں کے بارے میں میرے تصورات میں کچھ مسئلہ ہے جس کی جڑیں طلسم ہوش ربا یا داستانِ امیر حمزہ جیسی پر پیچ داستانوں پیوست ہیں۔ اِن داستانوں کے کردار دراصل کچھ ایسے ماورائی ہیں کہ سب سائے محسوس ہوتے ہیں۔ کچھ

Read more

عوام کی شرکت کے بغیر سیاسی تحریک کیسے چلے؟

سیاسی تحریکوں کی اثر انگیزی کے بارے میں ایک سوال پرجمیعت علمائے اسلام کے سیکرٹری جنرل مولانا عبد الغفور حیدری نے عجب بات کہی۔ فرماتے ہیں جب تحریک نظام مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم چلی، وہ بچے تھے، اس لیے نہیں جانتے کہ اس تحریک کا مزاج اور افتاد کیا رہی ہے۔ ہماری تاریخ میں تحریکوں کی ماں کا درجہ تو بلاشبہ تحریک پاکستان کو حاصل ہے لیکن 1977 ء کی تحریک کی اہمیت بھی بنیادی ہے۔ کسی نظریاتی وجہ

Read more

سرسید احمد خان کا پیغام اور ڈاکٹر طاہر مسعود

ہماری قومی زندگی سرسید کے بغیر نامکمل ہے۔ وہ ہماری تحریک آزادی کے جد امجد اور بنیاد ہیں۔ وہ مسلمانانِ برصغیر کو جدید تعلیم کی طرف متوجہ نہ فرماتے اور اس مقصد کے لیے تحریک نہ چلاتے تو نہ صرف یہ کہ علی گڑھ وجود میں نہ آتا بلکہ برصغیر کے طول و عرض میں مسلمان نوجوانوں کی تعلیم کے بے شمار تعلیمی ادارے بھی قائم نہ ہوتے ۔ سرسید کی یہی تحریک ہے جس نے برصغیر کے مزاج میں

Read more

ترقی پذیر دنیا میں فارمیسی: کچھ سبق بھارت سے بھی

چند میٹھی گولیاں اور دو قطرے دوائی، ہومیو پیتھی کا ہمارے ہاں بس یہی مطلب ہے لیکن جو لوگ جانتے ہیں، وہ اس کے سحر سے نکل نہیں پاتے۔ اہل دل جس طرح بابوں بزرگوں کی تلاش میں جان مار دیتے ہیں، محبان ہومیوپیتھی بھی ایسا ہی کرتے ہیں۔ بس اسی تلاش میں ڈاکٹر ارشد محمود سے ملاقات ہوگئی۔ تصوف کی طرح اس طریقۂ علاج کی بنیاد بھی خلوص، محبت اور محنت سے اٹھی ہے، اس لیے عمومی تاثر یہی

Read more

مولانا کی مٹھی

دھرنے کے بحرِ بے کراں میں توجہ کے قابل صرف ایک مولانا فضل الرحمن ہی نہیں، اس ملک کے 72 برس بھی ہیں جن کی کوکھ سے دھرنے اور بحران پے درپے نکلتے ہیں اور تاریخ کا رزق بن کر کسی نئے بحران کی راہ ہمور کر جاتے ہیں۔ ایک نونہال نے گلہ کیا کہ ہماری قسمت ہی خراب ہے جب سے ہوش سنبھالا ہے،سوائے انتشار کے کچھ نہیں دیکھا۔ بس، اسی شکوے کی کمان سے یاد نے الٹی زقند

Read more

سی پیک: اقتصادی راہداری پر ترقی کا انجن

شنگھائی تعاون تنظیم کا اجلاس ہونے والا تھا۔ اجلاس کے سلسلے میں چین جو تیاریاں ہورہی ہوں، اپنی جگہ، پاکستان میں بھی جوش و خروش غیر معمولی تھا کیونکہ خطے کے اس غیر معمولی اتحاد میں رکن کی حیثیت سے پاکستان کی مکمل شمولیت کے بعد یہ پہلا اجلاس تھاجس میں پاکستان کی نمائندگی صدر مملکت ممنون حسین کو کرنی تھی۔ ان ہی تیاریوں کے سلسلے میں چین سے صحافیوں کا ایک وفد پاکستان پہنچا تو چین کے سفیر عزت

Read more

جنسی ہراسانی۔۔۔ اور کتنی جانیں لو گے؟

پروفیسر شریف المجاہد اور ان کے شاگرد رشید پروفیسر زکریا ساجد بڑے زیرک لوگ ہیں۔ ان بزرگوں نے جامعہ کراچی میں شعبہ ابلاغ عامہ قائم کیا تو اس کے ساتھ ہی کچھ اصول بھی طے کیے۔ پہلا اور بنیادی اصول یہ تھا کہ اساتذہ ہوں یا طلبہ، شعبے کے تمام تر وابستگان اپنی توانائیاں شعبے کی تعمیر و ترقی پر صرف کریں گے اوران کے درمیان اختلاف کی نوعیت محض علمی ہوگی شخصی یا ذاتی نہیں۔ ایک اصول یہ بھی

Read more

شاہی جوڑے کا دورہ پاکستان اور ہماری صحافت

چند برس ہوتے ہیں، ہمارے طلعت حسین نے ایک سوال اٹھایا۔ سوال یہ تھا کہ یہ ہمارے ٹیلی ویژن چینل برطانیہ کے شاہی خاندان پر اتنا فدا کیوں ہوئے جاتے ہیں؟ اصل میں ہوا یوں کہ شہزادہ ولیم اور شہزادی کیٹ مڈلٹن رشتہ ازدواج میں منسلک ہو گئے۔ برطانوی عوام کے لیے تو یہ موقع خاص تھا ہی ہمارے ٹیلی ویژن نے ہمارے لیے بھی اسے خاص بنا دیا۔ شادی کی تقریبات دکھانے کے لیے گھنٹوں نشریات جاری رکھی گئیں۔

Read more

گستاخان اقبالؒ

 سندھی کہاوت ہے جب تم کبھی لنگڑوں کے گاؤں میں جاؤ تو لنگڑانا شروع کر دو ورنہ لنگڑے تمھاری ٹانگ توڑ ڈالیں گے۔ سمجھ دار لوگ ایسے مشوروں کو نظر انداز نہیں کیا کرتے البتہ دیوانوں کی بات الگ ہے۔ ان دیوانوں میں ایک اقبالؒ بھی تھے جنھوں نے غلاموں کے دیس میں آزادی کی بات کی اور اتنے زور دار طریقے سے کی کہ صدیوں کے پسے اور کچلے ہوئے خاک بسر لوگ انگڑائی لے کر اٹھ کھڑے ہوئے

Read more

جمیل اطہر کی کتاب میں ایک فلم کی کہانی رکھی ہے

اخبار ایک زمانے میں زندگی تھے۔ اخبار میں چھپنا، اس میں دِکھنا، یہ سب غیر معمولی تھا، اخبار میں لکھنے والوں کی تو بات ہی الگ تھی، وہ لوگ جو اس کارخانہ عجائب کے کرتا دھرتا ہوتے، عامیوں کو کسی دوسری دنیا کی مخلوق لگتے۔ کچھ ایسی ہی باتیں تھیں جن کے دوش پر اڑتا ہوا میں لاہور جا پہنچا۔ اخبارات کے دفاتر دیکھے، ان میں کام کرنے والے دیکھے، کام کرنے کا انداز دیکھا، چھوٹی پیالیوں میں بار بار

Read more

مولانا اور بے نظیر

ہماری سیاست کے دو جڑواں بچے تھے، چند برس ہوتے ہیں، ان میں سے ایک سیا سی کشمکش کی نذر ہو کر ہمیشہ کی نیند سو گیا اور اب ایک اپنی زندگی کی شاید سب سے مشکل اور پیچیدہ آزمائش سے نبرد آزما ہے۔ جان سے گزر جانے والی بے نظیر بھٹو تھیں جب کہ پیچھے رہ جانے والے مولانا فضل الرحمان ہیں جو تخت یا تختہ کرنے پر تلے دکھائی دیتے ہیں۔ پاکستانی سیاست کی ان دو شخصیات کی

Read more

طاہر القادری: اس تند وتیز ندی کا اترنا

 پروفیسر، ڈاکٹر اور شیخ الاسلام کے مناصب ابھی تک انھوں نے نہیں سنبھالے تھے لہٰذا صرف علامہ کہلاتے تھے۔ ٹیلی ویژن پر رنگ آ چکے لیکن رنگ بازی کے آنے میں ابھی دیر تھی۔ شاید یہی سبب ہوگا کہ فہم القرآن جیسے پروگرام بہت مقبول تھے جن میں اس دیس کے سنجیدہ علما اور بزرگ نمودار ہوتے اور حکمتِ قرآن پر دانش کے موتی بکھیرتے۔ علامہ طاہر القادری کی رونمائی بھی پہلے پہل اسی پلیٹ فارم سے ہوئی، اسی پروگرام

Read more

بی ایم کٹی: اب کسی اور خرابے میں صدا دے گا فقیر

بی ایم کٹی کے ذکر پر اوّل دل میں ایک گدگدی سی ہوتی ہے، اس کے بعد یادوں کی پٹاری کھل جاتی ہے۔  یہ زمانہ طالب علمی کی بات ہے۔  کراچی یونیورسٹی میں ایک صاحب ہواکرتے تھے، یوسف مستی خان، گورے چٹے، موٹے تازے اور تھوڑے سے پراسرار، بی ایم کٹی کا جب بھی ذکر ہوتا، نہ جانے کیوں اُن کا سراپا نظر میں گھوم جاتا۔ برسوں بعد جب بی ایم کٹی کی تصویر دیکھی تو احساس ہوا کہ بعضے

Read more

جو بھرم بچا تھا، نہیں رہا

امام اختلاف حضرت حسن نثار جو بات ایک زمانے سے کہتے چلے آرہے ہیں، اس حکومت کے نفس ناطقہ فواد چوہدری کی سمجھ میں اب آئی ہے کہ یہ امتِ مسلمہ کیا ہوتی ہے؟ یہی بات کچھ دن قبل وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی صاحب نے بھی کہی تھی لیکن اب ان کا مؤقف مختلف ہے اور انھوں نے فرمایاہے کہ متحدہ عرب امارات پاکستان کا دوست ہے۔ اس ملک کی طرف سے مودی کو ایوارڈ دینے کا معاملہ ان کے اپنے تعلقات کا معاملہ ہے۔ اس بیان پر ناز بٹ کا ایک شعر یاد آگیا ؂

Read more

کشمیر اور اصحابِ شعر و ادب

اٹھا ساقیا پردہ اس راز سے
لڑا دے ممولے کو شہباز سے

اقبال ؒ کا یہ شعر ایک جہانِ معنی اپنے اندر سموئے ہوئے ہے لیکن پاکستان اور بھارت کے درمیان جب مبارزت آرائی ہوئی توقوم نے اسی فکر سے توانائی لے کر تاریخ رقم کردی۔ 65 ء کا معرکہ ہو یا دیگر مواقع، پاکستانی اہلِ قلم نے بھی اقبالؒ کی اس تابندہ روایت کی پیروی کی۔ واقعہ یہ ہے کہ یہ اہل فکر اور اہل قلم ہی ہوتے ہیں جو آزمائش کے مواقع پر قوموں کے جسم و جا ں میں جذبے کی روح بیدار کر کے معجزوں کی راہ ہموار کردیتے ہیں۔

Read more

دریائے کھرمنگ اور کارگل کے مسافر

وہ جھاگ اڑاتا، شور مچاتا اور بل کھاتا دریائے کھرمنگ تھا جس کے کنارے کھڑی جیپ میں ہم بیٹھے تو وہ ازخود رواں ہوگئی یوں کارگل کے مسافروں کا منزل پر پہنچنے کے بجائے دریا میں ڈوبنے کا امکان پیدا ہوگیا۔ دبلا پتلا ڈرائیور چیتے کی طرح چھلانگ لگا کر ہینڈ بریک لگانے میں کامیاب نہ ہوتا تو شہادت یقینی تھی۔ ابھی ہم اس حادثے سے جان بر نہیں ہوئے تھے کہ دشمن کی طرف سے گولہ باری شروع ہوگئی

Read more

عرفان صدیقی: ایک لکھاڑ کی حکایت

” بھئی ، یہ شخص تو لکھاڑ ہے لکھاڑ!“ صلاح الدین صاحب نے پڑھتے پڑھتے سر اُٹھایا اور مسکراتے ہوئے کہا۔ صلاح الدین صاحب اسلاف کی وہ یادگار تھے، شخصی صحافت جن سے منسوب ہوتی ہے۔ تکبیر بھی شخصی صحافت ہی کا ایک نمونہ تھا لیکن اس میں جمہوریت کے بھی کچھ جراثیم تھے۔ ہر ہفتے ایک گرینڈ میٹنگ ہوتی جس میں شعبہ ادارت کے تمام سینئر اور جونیئر مل بیٹھتے اور اگلے ہفتے کے شمارے کی منصوبہ بندی ہوتی۔

Read more

جماعت اسلامی کی فکر سے متاثر افراد دوسری جماعتوں میں کیوں چلے جاتے ہیں؟

عرفان صدیقی صاحب کی دلچسپ گرفتاری اور رہائی سے پہلے ایک واقعہ اور بھی ہو گزرا ہے۔ ہمارا یار عزیز ارشاد محمود تحریک انصاف کو پیارا ہو گیا ہے۔ یہ بھی اچھا لگا کہ تحریک انصاف نے اِس نگینے کی قدر کی، اسے اپنی آزاد کشمیر شاخ کا سیکریٹری اطلاعات بنا دیا۔ ارشاد وضع دار آدمی ہے، ورنہ حقیقت تو یہ ہے کہ اس کی بے پناہ صلاحیتوں کے مقابلے میں یہ منصب فروتر ہے، اس جماعت کے اربابِ بست

Read more

ایک نہ ہونے والی ملاقات کی یادیں

یہ ایک عجب اتفاق ہے کہ ہم پاکستانیوں کی دنیا بھر کے لوگوں سے ملاقات ہوجاتی ہے لیکن مصریوں سے نہیں ہوتی، ہوتی بھی ہے تو کم کم ہوتی ہے۔  میرا تجربہ بھی اس سے مختلف نہیں لیکن محمد مرسی صدر منتخب ہوئے تو یہ خواہش جاگی کہ نہ صرف مصر کے اس بطل جلیل سے ملاقات ہونی چاہیے بلکہ بدلے ہوئے مصر پر ایک نظر بھی ڈالنی چاہیے لیکن حالات کا رخ کچھ ایسا رہا کہ مرسی کے دور

Read more

عزیز آباد کا پیر عرف بانی ایم کیو ایم

اہلِ کراچی ایک صبح اٹھے تو حیران رہ گئے، شہر کی تقریباً ہر دیوار پر ایک ہی تحریر جلوے بکھیر رہی تھی: ”قائدے تحریک، الطاف حسین“۔ کہیں کہیں لکھنے والے نے اس کلمے کی ترتیب بدل ڈالی اور لکھا: ”تحریکے قائد۔ “ تحریر سے لکھنے والے کی ذہنی سطح اور ذوق کا اندازہ خوب ہوتا تھا، برش پکڑنے کا سلیقہ اور نہ روشنائی کے استعمال کا قرینہ، کہیں قائد کے ”ق“ کی رال ٹپکنے لگتی اور کہیں تحریک کی ”ک“ بے وزن ہوجاتی۔ یہ چاکنگ میں نے دیکھی تو سوچا کہ جو لوگ اس قدر پھوہڑ ہوں، کیسی ہو گی ان کی تحریک اور کیا کرے گا ان کا قائد؟

Read more

ادریس بختیار کا عہد تمام ہوا

ادریس بھائی سے کب اور کیسے شناسائی ہوئی؟ شاید ذہن پر بہت زور دے کے بھی یاد نہ آ سکے۔ اس لیے میں اس تعلق کو اپنی صحافتی عمر سے جوڑتا ہوں۔ ہماری نسل کے لوگوں نے جب قلم پکڑنا سیکھا، اس قلم رو میں ادریس بختیار کا سکہ رواں تھا، کچھ ایسا کہ بر عظیم ہند کے مسلمان شہنشاہوں کی یاد آتی ہے۔ ہمارے اس دیار کے بادشاہ اپنے زور بازو سے سلطنت بناتے، سخت محنت کر کے اس

Read more

سندھ میں امتحانی نقل کا آزار

فلسفہ تو یہی کہتا ہے کہ یہ سارے کا سارا کاروبار حیات نقل کے زور پر چل رہا ہے، اس کے باوجود امتحان میں نقل قابل قبول نہیں تو کیوں؟ ایران توران میں اس سوال کی کوئی اہمیت ہے اور نہ لوگوں کے پاس ایسی باتوں پر سوچنے کے لیے اب وقت ہے۔ سبب یہ ہے کہ دنیا اس طرح کے بہت سے سوال بہت پہلے حل کر کے آگے بڑھ چکی۔ اگر یہ سب ہو چکا اور دنیا اس

Read more

معدومیت کے خطرے سے دوچار کشمیری تہذیب

کشمیری تہذیب کو تین ادوار میں تقسیم کیا جاسکتا ہے، یعنی عہدِموسیقیت، رومانویت اور حقیقت پسندی، لیکن یہ باتیں پرانی ہوئیں، یہ متنوع تہذیب موجودہ عہد میں بھی ایک دور سے گزر رہی ہے جس کا کوئی عنوان ابھی تک تجویز نہیں کیا جاسکا۔ کشمیر کا عہدِ موسیقیت صرف موسیقی کے لیے معروف نہیں، کیوں کہ اُس عہد کے لوگوں کا ذوقِ جمال زندگی کے ہر شعبے سے جھلکتا ہے جسے دیکھ کرایسی ہی کیفیت پیدا ہوتی ہے جیسی کوئی

Read more

تہذیبوں کے درمیا ن مکالمہ اور جیسنڈا آرڈن

نعیم رشید تو ہمارے جگر کا ٹکڑا تھے ہی جیسنڈا آرڈن بھی راتوں رات ہمارے دلوں کی ملکہ بن گئیں۔ ان کی مدح میں جوشِ جذبات میں رندھی ہوئی ایسی ایسی گفت گو سننے کو ملی کہ جی خوش ہوگیا۔ معاشرے میں آج بھی ایسے لوگوں کی کمی نہیں جو رنگ، نسل اور مذہب کے امتیاز میں بعض اوقات حد سے گزر جاتے ہیں اور شرف انسانی کو پامال کردینے سے بھی نہیں چوکتے لیکن اسے مادام جیسنڈا آرڈن کی

Read more

جماعت اسلامی: تعمیر میں مضمر خرابی

کبھی کبھی ایسا ہوتا ہے کہ معاشرے کے بعض توانا اور انتہائی ناگزیر مظاہر دیکھتے ہی دیکھتے غیر متعلق ہوجاتے ہیں۔ ان معاشرتی عوامل کی بعض خوب صورت مثالیں میدانِ سیاست سے بآسانی دستیاب ہیں۔ تازہ ترین مثال جماعت اسلامی کی شکل میں سامنے آرہی ہے۔ گزشتہ چند روز کے دوران جماعت اسلامی کے تعلق سے دو اہم واقعات رونما ہوئے، اوّل، جماعت سے وابستہ ابتدائی نسل کی انتہائی اہم شخصیت یعنی چوہدری رحمت الٰہی انتقال کر گئے اور دوم،

Read more

متبادل بیانیہ: خورشید ِفکر و خیال

اوّل اقبالؒ، ان کے بعد انتظار حسین۔ اقبالؒ نے تو فقط اتنا ہی کہا تھا ہاں دکھا دے اے تصور پھر وہ صبح وشام تو دوڑ چل پیچھے کی طرف اے گردش ایام تو انتظار حسین فرمانبردار نکلے، انھوں نے یہ بات سنی اور گردش ایام کو ایسا پیچھے کی طرف دوڑایا کہ دفتر کے دفتر لکھ ڈالے، بس یہی جرم تھا جس کے سبب وہ ماضی پرست ٹھہرائے گئے۔  ماضی اچھا ہو یا برا، اس کی خوبی یہ ہے

Read more

ناموسِ رسالت ﷺ اور اس کا تحفظ

ایمپائر اسٹیٹ بلڈنگ میں ہم محض ارادے سے داخل ہوئے تھے کہ اس بلند وبالا عمارت کی چھت پر کھڑے ہو کر نیویارک کے نظارے سے دل شاد کریں گے مگر یہاں تو ہماری ملاقات چھریرے بدن اور لمبوترے چہرے والے سانولے سلونے نوجوان سے ہو گئی۔ یہ وکر م تھا۔ ایک بھارتی نوجوان۔ اسے ہمیں پاکستان میں انسانی حقوق کی بگڑتی ہوئی صورت حال پر بریفنگ دینا تھی۔ وکرم اور اِس کی پاکستانی معاون نے میز پر دستاویزات کے

Read more