کیا کراچی کو زیادہ شہروں میں تقسیم نہیں کر دینا چاہیے؟

کراچی اتنی بڑی آبادی کا ایک شہر بن چکا ہے جو پاکستان جیسے غریب ملک کے لیے ناقابل کنٹرول ہے۔ ہم اکثر یہ بات بڑی دھوم سے بتاتے ہیں کہ کراچی پورے ملک کا معاشی مرکز ہے۔ یہاں پورے ملک سے آئے ہوئے مختلف طبقوں، زبانوں اور کلچر کے لوگ رہتے ہیں۔ فخر سے بتائی جانے والی یہ باتیں ہی شاید اس بگاڑ کی ابتداء ہیں جس کے باعث آج سب پاکستانی کراچی کے حوالے سے دکھی ہیں۔ آبادی کا

Read more

ہم کب آزاد ہوں گے؟

ہم نے سکول کی کتابوں میں ایک کہانی پڑھی تھی جس میں بتایا گیا تھا کہ ایک سوداگر نے طوطا پال رکھا تھا۔ ایک مرتبہ جب وہ سوداگر تجارت کے لیے چین جانے لگا تو طوطے کے پنجرے کے پاس آکر پیار سے بولا میاں مٹھو! میں تمہارے لیے چین سے کیا لاؤں؟ میاں مٹھو نے جواب دیا آپ میرے لیے وہاں سے کچھ مت لائیں، بس میرا ایک پیغام چین میں میرے طوطے بھائیوں کو دے دیں کہ میں

Read more

کیا علم کتابوں کی بجائے ٹاک شوز میں آ گیا ہے؟

پہلے کہا جاتا تھا کہ علم کتابوں میں ہے لیکن اب یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ علم ٹاک شوز میں ہے۔ ٹاک شوز کے اینکر پرسنز اور ان کے مہمانوں کی گفتگو سنیں تو یہی ثابت کیا جا رہا ہوتا ہے کہ ان کے دلائل علم و دانش سے بھرپور ہیں اور ان کی رائے حرف آخر ہے۔ بعض تو سورج کی روشنی کو بھی رات کا اندھیرا ثابت کرکے اپنے آپ کو سقراط جیسی عظمت کا حقدار سمجھتے

Read more

خارجہ امور میں رائٹروں اور دانشوروں کا کردار

تھوڑے پرانے زمانے میں ملک کا دفاع صرف فوج کے ذمے ہوتا تھا مگر موجودہ زمانے میں ملک کا دفاع فوج کے ساتھ ساتھ کچھ دوسرے شعبوں کو بھی کرنا پڑتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جدید دنیا میں لڑائی اور جنگ کے فزیکل محاذوں کے ساتھ ساتھ نان فزیکل محاذ بھی وجود میں آچکے ہیں جن میں اہم ترین محاذ پراپیگنڈہ کہلاتا ہے۔ یہ اتنا خطرناک محاذ ہے کہ پراپیگنڈے کے محاذ پر شکست خوردہ ممالک فزیکل

Read more

کشمیری کب مسکرائیں گے؟ کب ہنسیں گے؟

ہندوستان کے پہلے وزیراعظم پنڈت جواہر لال نہرو نے کشمیر کے حوالے سے ہندوستانی وعدوں کی یقین دہانی کے لیے پاکستان کے پہلے وزیراعظم لیاقت علی خان کو 1947۔ 48 ء کے دوران مختلف ٹیلی گرام ارسال کیں جن کے چند اقتباسات درج ذیل ہیں۔ آئیے پہلے نہرو بنام لیاقت علی خان کی ان ٹیلی گراموں کو پڑھ لیتے ہیں پھر ان سے چند سوالات اخذ کریں گے۔ (الف) بجانب وزیراعظم پاکستان ازطرف وزیراعظم انڈیا، مورخہ 27 اکتوبر 1947 ء

Read more

سفید آٹے کی روٹی یا ڈبل روٹی کھانے کے خوفناک نتائج

ہر نئے چڑھنے والے سورج کے ساتھ ہم اپنی ہزاروں برس پرانی ثقافت کو چھوڑتے جا رہے ہیں۔ اس کی ایک وجہ تو گلوبلائزیشن ہے اور دوسری ہمارا کچھ کچھ شودا پن جیسے کہ نودولتیوں میں ہوتا ہے۔ اپنی دھرتی ماں کی ثقافت کو چھوڑنے کے نقصانات میں آبا و اجداد کی شناخت بھول جانا، اپنی خاندانی تہذیب سے دور ہوجانا اور خاندان کے ٹوٹ جانے جیسے نقصانات شامل ہیں لیکن ان ثقافتی و تہذیبی نقصانات کو اگر ہم نودلتیے

Read more

ڈیئر امریکہ! اپنی سالگرہ کی خوشی میں مجھے آزاد کر دو

اچھے امریکہ! بہت دنوں سے سوچ رہی تھی کہ آپ کو خط لکھوں۔ کچھ باتیں کروں اپنی سناؤں آپ سے پوچھوں لیکن اپنے اندرونی حالات، بیرونی دباؤ، لاتعداد بچوں کے سوکھے پیٹ، بے شمار بیماریوں، غربت، مہنگائی اور ننگے تن جیسے مسائل میں ایسی الجھی کہ وقت کا پتا ہی نہیں چلا اور 73 سال بیت گئے۔ آپ کے اور میرے تعلق کا آغاز نہ جانے کب، کیسے اور کیوں ہوا؟ شاید آپ جانتے ہوں لیکن مجھے کچھ علم نہیں۔

Read more

بین الاقوامی سطح پر قومی زبان کی شناخت کا مسئلہ

کسی بھی زبان کو اپنی پہچان کروانے کے لیے ضروری ہوتا ہے کہ اس زبان کا اپنا رسم الخط اور مناسب تعداد میں اپنا لٹریچر موجود ہو۔ پاکستان کے طول و عرض میں درجنوں زبانیں بولی جاتی ہیں جن میں سے بہت سی ایسی ہیں جن کا اپنا رسم الخط اب موجود نہیں ہے اور ان کا لٹریچر بھی مناسب تعداد میں اب دستیاب نہیں ہے۔ بہت سے لسانی ماہرین کے مطابق زبان کی تعریف میں مختلف بولیاں یا مختلف

Read more

رابرٹ کلائیو نے الزامات کو ہی توہین سمجھ کر جان دے دی

پندرہویں صدی کے برطانیہ کے بادشاہ ہنری سیون کے زمانے سے ویلز برطانیہ کے قریب ایک امیر جاگیر قائم تھی۔ اس جاگیر کا نام کلائیو فیملی سٹیٹ تھا۔ اس جاگیر کے مالک خاندان کی عوامی اور سیاسی خدمات کی طویل ہسٹری تھی۔ ہنری بادشاہ کے خزانے کا نگران آئرش چانسلر بھی اسی خاندان سے تھا جبکہ سولہویں صدی میں بھی اس خاندان کے افراد برطانوی پارلیمنٹ کے رکن تھے۔ اٹھارہویں صدی کے آغاز میں اس جاگیر کا وارث رچرڈ کلائیو

Read more

بستی والوں اور سیاست والوں کے درمیان پڑا پردہ

ہماری سیاست اور سیاست دانوں کے اندرونی حالات کا موازنہ برصغیر کے لٹریچر کی تقریباً سو برس پرانی ایک کہانی ”پردہ“ سے کرتے ہیں۔ کہانی کے مطابق بخشو کے دادا محصول کے محکمے میں داروغہ تھے۔ آمدنی مناسب تھی۔ ان کے دو بیٹے تھے جو ریلوے اور ڈاکخانے میں ملازم تھے۔ دونوں کی شادیاں ہوئیں، بچے ہوئے اور خاندان بڑھتا گیا۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ خاندان کے افراد آبائی گھر سے نکل کر دور دراز علاقوں میں چلے گئے۔

Read more

کیا لوگ سیاست دانوں اور میڈیا کے ذہنی غلام ہیں؟

پورے پاکستان کو اس وقت ایک ہی مدار میں گھمایا جا رہا ہے۔ یعنی سیاست دانوں کے نت نئے ایشوز، اقتدار کے لیے باہمی دشمنیوں کی انتہائیں اور فوج یا سیکورٹی اداروں کو اپنے مفادات میں گھسیٹنا وغیرہ جیسے اذیت ناک معاملات دن رات چل رہے ہیں۔ میڈیا بھی زیادہ سے زیادہ کمرشل ریٹنگ حاصل کرنے کے لیے اس سیاسی ماردھاڑ اور چیخ و پکار کے علاوہ نہ کچھ اور دیکھ رہا ہے اور نہ ہی کچھ اور سن رہا

Read more

گمنام پتا والی بستی کی سیر

آپ کو ایک بڑے جدید شہر کے ایک ایسے پتے پہ لے چلتا ہوں جو گمنام ہے جس کے بارے میں آپ لوگ شاید نہیں جانتے۔ چلئے چلتے ہیں۔ گاڑی سے اتریئے۔ اب آپ سڑک پر ہیں۔ چلتے لوگ، بھاگتی گاڑیاں، کئی منزلہ عمارتیں، شاپنگ مال اور بڑی چمچماتی دکانیں اور غضب کی ہلچل ہے۔ اپنے پیروں کو تکلیف دیجئے، آگے بڑھئے، تھوڑا اور۔ سیدھا چلتے رہئے۔ بس اب دائیں یا بائیں کسی بھی طرف مڑ جائیے۔ کیا ہوا؟ راستہ

Read more

سقراط بننے کے لیے فیصلہ سننے کی ہمت چاہیے

نامور رائٹر کورامیسن کی مشہور کتاب سقراط کا اردو ترجمہ صبیحہ حسن نے کیا ہے۔ اس کتاب کے عدالتی مقدمے اور فیصلے کے باب میں سے چند اقتباسات جوڑ کر پڑھتے ہیں۔ یہ 95 ویں اولمپیاڈ کا پہلا سال تھا۔ اس سال کو ہم 399 قبل مسیح بھی کہتے ہیں۔ سقراط اب 70 برس کا ہوچکا تھا۔ اس نے فارقلیس کا زمانہ دیکھا تھا، سپارٹا سے خوفناک جنگ دیکھی تھی، انقلاب اور آمریت کے دوروں سے گزرا تھا اور اب بحال شدہ جمہوریت کے ابتدائی پرامن سالوں میں زندگی بسر کر رہا تھا۔

Read more

سویڈش وزیراعظم کے قتل میں بھارت کے ملوث ہونے کا امکان؟

سویڈن کے ہردلعزیز کرشماتی وزیراعظم اولوف پالمے کو 1986 ء میں قتل کر دیا گیا تھا۔ اس ہائی پروفائل قتل کے 34 برس بعد چند دن قبل سویڈش حکام نے قاتل کی نشاندہی کی ہے اور یہ کہہ کر کیس پر کارروائی بند کردی کہ مذکورہ قاتل کئی برس پہلے خودکشی کرچکا ہے۔ سویڈن کے وزیراعظم اولوف پالمے کے ہائی پروفائل قتل میں ملوث قاتل کی شناخت کے بعد کچھ حیرت انگیز امکانات پر غور کیا جانا ضروری ہے۔ سویڈن

Read more

قومی زبان پر سیاسی مشاہیر کی رائے

تحریک پاکستان، قیام پاکستان، 1973 ء کی آئین سازی اور 18 ویں آئینی ترمیم کے ذریعے آئین پر نظرثانی تک قومی زبان کی حیثیت کے مختصر پس منظر کا جائزہ لیتے ہیں۔ قائداعظمؒ محمد علی جناح، علامہ محمد اقبالؒ، قائد ملت لیاقت علی خان، خواجہ ناظم الدین اور محترمہ فاطمہ جناح سمیت تحریک پاکستان کی تمام بزرگ ہستیوں اور مشاہیر نے ریاست پاکستان کے لیے قومی زبان کے طور پر اردو کو ہی منتخب کیا۔ اس سلسلے میں جامعات اور

Read more

پھول سونگھنے کا شائق بیل اور پی ٹی آئی حکومت

بچوں کی کہانیاں لکھنے والا ایک مشہور امریکی رائٹر ”منرو لیف“ تھا۔ اس نے اپنی سب سے مشہور کہانی ”دی سٹوری آف فرڈیننڈ“ ایک گھنٹے سے بھی کم وقت میں پیلے کاغذوں والے رف پیڈ پر 1936 ء میں لکھی۔ کہانی کا اردو میں خلاصہ کچھ یوں کرتے ہیں کہ ”سپین کی ایک چراگاہ میں ایک ننھا بیل رہتا تھا۔ اس کا نام فرڈیننڈ تھا۔ اس کے دوسرے ننھے ساتھی بیل دوڑتے کودتے اور آپس میں ماتھے سے ماتھا ٹکراتے۔

Read more

قدیم روم کی سینیٹ اور جدید پاکستان کی سینیٹ

سینیٹ پاکستان میں مستقل سیاسی ادارہ ہے۔ اس کے موجد پرانے رومنز تھے۔ سینیٹ لاطینی زبان کا لفظ ہے جس سے مراد ہے ”بوڑھا آدمی“ ۔ یہ 753 قبل مسیح کا زمانہ تھا جب روم شہر آباد ہوا۔ اس وقت روم میں قبائلی سوسائٹی تھی۔ سب قبائل سے امیر اور سمجھدار بوڑھوں کو لے کر ایک کونسل بنائی گئی جو سینیٹ کہلائی۔ دنیا کی اس پہلی سینیٹ کے سو اراکین تھے۔ انہوں نے اپنا بادشاہ منتخب کیا۔ وہ پرانے روم

Read more

سفوکلیز کی اینٹی گنی، یونان کے ناراض دیوتا اور وزیر اعظم عمران خان

حضرت عیسیٰ ؑ کی آمد سے تقریباً پانچ سو برس پہلے کی بات ہے کہ ایتھنز یونان کے پوش علاقے میں ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ امیر خاندان آباد تھا جن کے لوہے کے کارخانے تھے۔ ان کے ہاں ایک بچہ پیدا ہوا جس کا نام ”سوفوکلیز“ رکھا گیا۔ دنیا کے قدیم ترین لٹریچر میں ٹریجڈی کے تین ڈرامے اب تک بہت مشہور ہیں۔ انہی میں سے ایک ”اینٹی گنی“ ہے جس کا رائٹر ”سوفوکلیز“ تھا۔ اس ڈرامے کا نچوڑ اس

Read more

خبریں ان کی۔ جملے ہمارے

دوستوں کی محفل میں گپ شپ چل رہی ہوتو ایسا بھی ہوتا ہے کہ کسی نے کوئی بات کی تو دوسرے نے اس بات پر ایسا جملہ پھینکا کہ بات بہت دور تلک نکل گئی اور محفل جملہ سازی کے کارخانے میں تبدیل ہوگئی۔ جملے پھینکنے والی دوستوں کی اس روایت کو ذیل میں چند تازہ خبروں کے ساتھ بھی آزماتے ہیں۔ ایک خبر: یوٹیوب پر کورونا سے متعلق ہر چار میں سے ایک ویڈیو گمراہ کن ہے، تحقیق۔ جملہ:

Read more

یہ وزارت اطلاعات ہے، کوئی اندر آکر بچ کر دکھائے

حکومت کی کارکردگی کا دفاع کرنا اور صحافیوں کے سامنے حکومت کا خلوص ثابت کرنا کسی ماہر یا بھلے مانس انسان کے بس کی بات نہیں ہے۔ اسی لیے اب وزیر اطلاعات کی جاب کے لیے اِس سے مختلف صلاحیتوں کا مالک ہونا ضروری ہوتا ہے۔ یہ علیحدہ بات کہ مختلف صلاحیتوں کے باوجود بھی وزیر اطلاعات صحافیوں اور اپنی حکومت دونوں کے شدید دباؤ اور تنقید کے نرغے میں آجاتے ہیں۔ روایت کے مطابق اس عہدے پر موجود افراد

Read more

کیا ہماری سیاست جنات کے سردار کی کہانی ہے؟

جب ہم سب چھوٹے تھے تو کمپیوٹر اور موبائل فون نہیں تھے۔ فیس بک، چیٹنگ یا رات کو ڈیٹنگ والی لمبی لمبی موبائل فون کالز کا زمانہ نہیں تھا۔ ہم سب سکول کے بعد گلیوں محلوں کی دھول مٹی میں کھیل کود کر دوپہر گزارتے۔ شام کو بڑوں کی ڈانٹ اور استادوں کے ڈنڈے کے خوف سے تختیوں اور کاپیوں پر سکول کا کام کرتے جسے بعد میں ہوم ورک کہا جانے لگا۔ رات ہوتی تو بچے بڑی بوڑھیوں، نانیوں

Read more

یہ لطیفہ آپ نے سن تو نہیں رکھا؟

سوشل میڈیا کی بدولت لطیفے بھی بہت وائرل ہونے لگے ہیں۔ لطیفے پہلے بھی تھے اور آئندہ بھی رہیں گے۔ اِن کی موجودگی سب معاشروں میں پائی جاتی ہے۔ لطیفے سے ہرکوئی لطف اندوز ہوتا ہے اور ذہنی تفریح محسوس کرتا ہے۔ کیا کبھی کسی نے سوچا کہ لطیفے اور انسان کا باہمی تعلق کب سے ہے؟ لطیفے کی خصوصیات کیا ہیں؟ اور لطیفے کے نفسیاتی اثرات کیا ہوسکتے ہیں؟ وغیرہ وغیرہ۔ آئیے! لطیفے کی ہسٹری پر ایک مختصر تحقیقی

Read more

سیاست کے روشن ستارے بنانے والی ریسرچ کمیٹی

ہمارے ہاں سیاست کے روشن ستارے بنانے والی ریسرچ کمیٹی کے مفکرین کی تین خصوصیات بہت اہم ہیں۔ پہلی یہ کہ بے ہنگم مجمع میں سے ایسے فرد کو پہچان لیتے ہیں جو اپنی خاص صلاحیتوں کی بنیاد پر مفکرین کے مفاد کی مستقبل کی سیاست کا سٹیئرنگ سنبھال سکتا ہے۔ دوسری یہ کہ کمیٹی کے مفکرین جس فرد کا انتخاب کرتے ہیں اُسے یہ یقین دلا دیتے ہیں کہ اس جیسی تاریخ ساز شخصیت نہ پہلے کبھی پیدا ہوئی

Read more

عوام کہ ٹھہرے اجنبی اتنی تبدیلیوں کے بعد

سعادت حسن منٹو کا افسانہ ”نیا قانون“ 1938 ء میں شائع ہوا۔ اس افسانے کا پس منظر انڈیا ایکٹ 1935 ء تھا جس میں انگریزوں کی طرف سے ہندوستان کو کچھ خودمختاری اور شہری حقوق دینے کی بات کی گئی تھی لیکن عملی طور پر ایسا نہ تھا۔ کہانی لاہور کے تانگہ چلانے والے منگو کوچوان کے گرد گھومتی ہے جسے حالاتِ حاضرہ اور سیاست میں دلچسپی تھی۔ وہ اپنے تانگے میں بیٹھی سواریوں کی ان موضوعات پر گفتگو کو

Read more

حقیقت کو پھانسی نہیں دی جا سکتی

وہ ایک دن تھا لیکن شاید دن نہیں تھا کیونکہ دن کو روشنی ہوتی ہے، اُجالا ہوتا ہے، سب کچھ صاف صاف نظر آتا ہے۔ تو پھر وہ رات تھی لیکن شاید رات بھی نہ تھی کیونکہ رات کو اندھیرا ہوتا ہے کچھ بھی دکھائی نہیں دیتا لیکن یہاں کچھ سائے موجود تھے جو ایک دوسرے کو جانتے تھے۔ وہ کچھ کر رہے تھے مگر یہ نہیں جانتے تھے کس کے لیے کر رہے ہیں اور اس کے اثرات کیا

Read more

گھاس پر مری ہوئی آسکروائلڈ کی بلبل اور عوام

انگریزی کے ایک بڑے ادیب ”آسکر وائلڈ“ اپنی مشہور کہانی The Nightingale & The Rose میں لکھتے ہیں کہ ”نوجوان طالبعلم گھر کے لان میں بے حد اداس بیٹھا تھا۔ وہ سوچ رہا تھا کہ اگر اسے کل صبح تک سرخ گلاب نہ ملا تو وہ پروفیسر کی بیٹی سے دوستی نہیں کرسکے گا۔ لڑکے نے اردگرد دیکھا اور سرد آہ بھری کہ میرے گھر کے لان میں کہیں بھی سرخ گلاب نہیں ہے۔ وہ مایوسی اور جذبات کی شدت

Read more

انسانی المیے سے بچنے کے لیے آمرانہ فیصلے ضروری ہوتے ہیں

کورونا بیماری نے جہاں انسانی لائف سٹائل کو ہلاکر رکھ دیا ہے وہیں کچھ انسانی فلسفے کے دعوؤں کا پول بھی کھل گیا ہے۔ مثال کے طور پر جمہوریت کو عوام کی خدمت کا درست طریقہ کہا جاتا تھا لیکن کورونا بیماری کے خلاف جنگ میں جمہوریت ناکام ہوگئی۔ وہ ایسے کہ کورونا کی روک تھام اور پھیلاؤ کو محدود کرنے کے لیے جمہوری طریقہ کار کی بجائے آمرانہ اصولوں کو بروئے کار لایا جارہا ہے۔ آئیے اس حیران کن

Read more

کیا ممکن ہے کہ کچھ درخت قبروں کے لیے بچ جائیں؟

آئیے بجٹ کی آگ، کسمپرسی، دہشت گردی، سیاست بازی، حکومت کی چالاکی اور اپوزیشن کی منافقت والی شِکر دوپہر جیسی باتوں کو چھوڑ کر آج ٹھنڈی ٹھنڈی چھاؤں والی باتیں کرتے ہیں۔ 5 جون ماحولیات کا عالمی دن ہے۔ ماحولیات کی روح ہرے بھرے درخت ہوتے ہیں۔ چلئے انہی ہری بھری روحوں کا ذکر کرتے ہیں۔ وہ جو ہم سے پہلے پیدا ہوئے، وہ جنہوں نے ہم سے پہلے جینا سیکھا، وہ جنہوں نے سانس لینے میں ہماری مدد کی،

Read more

خصوصی افراد اور فیاض الحسن چوہان کی معذرت

ایک دیسی کہاوت ہے کہ اگر قدرت قد کی لمبائی دیکھ کر اختیار دیتی تو آج سب اونٹ کوتوال ہوتے لیکن مشکوک جمہوریت میں ایسا ممکن ہے کہ کسی کو اونچا عہدہ مل جائے جو اُس کے ظرف سے بہت بلند ہو۔ پنجاب کے وزیر اطلاعات و ثقافت فیاض الحسن چوہان فاؤل کھیلنے کے عادی ہیں۔ انہیں باربار فاؤل کھیلنے کے باوجود بھی ٹیم سے علیحدہ نہیں کیا جاتا بلکہ ہرمرتبہ وہ معذرت کی سفید جھنڈی ہلاکر کھیل میں دوبارہ

Read more

کیا پاکستان میں ٹی وی کا عام ہونا بھی ایک امریکی ایجنڈہ ہے؟

ہمارے گھروں میں ٹیلی ویژن ایک اہم فرد کی حیثیت اختیار کرگیا ہے۔ اس کے بغیر گھر اور گھر والے مکمل نہیں ہوتے۔ مَردوں نے خبریں جاننی ہوں، عورتوں نے ڈرامے دیکھنے ہوں، مذہبی تسکین کے لیے علماء کی باتیں سننی ہوں، کھیل کے میدان میں کھلاڑیوں سے زیادہ چیئرلیڈرز کو حسرت سے تکنا ہویا کمرشلز میں چاند چہروں کی وہ ادائیں مفت دیکھنی ہوں جو من چلے کبھی پیسے خرچ کے وی سی آر پر دیکھا کرتے تھے، ان

Read more

!خفیہ ایجنسیوں کی کارروائیاں پبلک کرنے کا شیڈول

دوسری جنگ عظیم کے بعد سرد جنگ کا آغاز ہوا۔ یہ اپنی نوعیت کی انوکھی جنگ تھی جس میں فوجیں آمنے سامنے نہیں تھیں بلکہ اس جنگ میں لڑنے کے لیے منتخب افراد پہلے چڑیلوں اور بھوتوں کی عادات سیکھتے تھے پھر انسانی روپ دھار کر عام انسانوں میں گھل مل جاتے تھے۔ اس جنگ کی خصوصیت ہوتی تھی کہ ٹارگٹ مخالفین کی فوجیں نہیں بلکہ اکثر غیر فوجی اور عام انسان ہوتے تھے۔ جن کا تعلق بیشتر اوقات اپنی

Read more

امریکی ڈاکٹر کا مثالی کردار

پروفیسر سید محمد ذوالقرنین زیدی تاریخ دان ہیں۔ انہوں نے اپنی عمر کے تقریباً 40 سال تاریخ کے اندھیرے غاروں میں روشنی تلاش کرتے کرتے گزار دیے۔ وہ بین الاقوامی سطح پر بھی درس و تدریس اور تحقیق کا کام کرچکے ہیں۔ وہ کئی تحقیقی کتب و مقالوں کے مصنف بھی ہیں۔ عمر کے اُس حصے میں جب لوگ بچوں سے خدمت کروانا اور آرام کرنا اپنا ضروری حق سمجھتے ہیں اُس عمر میں بھی پروفیسر صاحب دن رات کتاب

Read more

بلاول بھٹو اور مریم نواز: دو مدمقابل سیاسی ستارے، دو خوف

پاکستان کی سیاست میں مریم نواز اور بلاول بھٹو دو ایسے نام ہیں جو اپنا مضبوط سیاسی مستقبل رکھتے ہیں لیکن یہی دو نام سیاسی مدمقابل اور سیاسی خوف کی دو علامتیں بھی ہیں۔ آئیے مریم نواز اور بلاول بھٹو کے ان تینوں پہلوؤں پر باری باری نظر ڈالتے ہیں۔ مریم نواز اور بلاول بھٹو کو مستقبل کے سیاسی ستارے کہا جائے تو یہ غلط نہ ہوگا کیونکہ مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی ہی وہ دو سیاسی جماعتیں ہیں

Read more

پرانے الفاظ کی نئی مثالوں سے تشریح

جب ہم چھوٹے تھے تو سکول کے امتحانات کے پرچوں میں لکھا ہوتا تھا کہ جواب کو آسان زبان میں مثالیں دے کر واضح کریں۔ اب بڑے ہوگئے ہیں تو تب بھی بہت سی باتوں کو سمجھنے کے لیے مثالیں ہی آسانی فراہم کرتی ہیں۔ آئیے اس فارمولے کو سامنے رکھتے ہوئے چند مشہور سیاسی الفاظ یعنی حکومت، حالات، اپوزیشن اور عوام کو جاننے کے لیے روزمرہ کی سادہ سادہ مثالوں کا سہارا لیتے ہیں۔ (حکومت) ہم حکومت کو سمجھنے

Read more

کورونا وائرس کی پہلی اطلاع دینے پر ڈاکٹر سماج دشمن قرار

افواہ پراپیگنڈے کا اہم ذریعہ کہلاتی ہے لیکن افواہ کو اچھی طرح جانچے پرکھے بغیر رد کردینا خطرناک بھی ہوسکتا ہے۔ اس کی تازہ مثال چین میں پھیلنے والے خطرناک کورونا وائرس کی پہلے پہل اطلاع دینے والے آنکھوں کے چینی ڈاکٹر کی دی جاسکتی ہے جنہوں نے سب سے پہلے اس کورونا وائرس کی اطلاع اپنے میڈیکل سوشل گروپ پر دی مگر انہیں سماج میں افراتفری پھیلانے والا مجرم فرد قرار دیا گیا۔ انہیں تھانے بلاکر تنبیہہ کی گئی

Read more

کشمیری مرنے سے نہیں ڈرتے، آپ لکھنے سے ڈرتے ہیں

کسی بھی انسان کے خلوص کی سچائی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ وہ آپ سے کیسے ملتا ہے اور کیا چاہتا ہے؟ اس فارمولے پر کشمیریوں کو رکھیں تو پتا چل جاتا ہے کہ بھارتی مقبوضہ کشمیر کے لوگ پاکستانیوں کے ساتھ دل کھول کر ملتے ہیں اور پاکستانیوں کی محبت کے علاوہ کچھ بھی نہیں چاہتے۔ پاکستانیوں کی طرف سے بھی ایسا ہی خلوص بھرا ردعمل کشمیریوں کو پچھلی سات دہائیوں سے مل رہا ہے۔

Read more

عمران خان ایک اچھے سیاسی منیجر مگر۔۔۔

پاکستان کے سیاسی منیجمنٹ سٹینڈرڈ کو سامنے رکھ کر آسانی سے تجزیہ کیا جاسکتا ہے کہ عمران خان ایک اچھے سیاسی منیجر ہیں۔ نواز شریف اور شہباز شریف کی ناقابل شکست شخصیت اور ان کی جماعت ن لیگ کے لیے طے شدہ شرمناک انجام کو منطقی سپورٹ دینے کے لیے عمران خان نے ن لیگ والوں پر اکتوبر 2011 ء میں لاہور سے جس مادرپدر آزاد گولہ باری کا سلسلہ شروع کیا تھا وہ بہت کامیاب رہا۔ یہ درست ہے

Read more

وطن سے محبت کا حلف

چلئے اڑھائی ہزار سال پہلے کے قدیم شہر ایتھنز میں چلتے ہیں۔ یہ زمانہ تقریباً ساڑھے چار سو سال قبل مسیح کا ہے۔ یہ وہ وقت ہے جب ”روم“ کی حیثیت ایک غیرمعروف قصبے کی سی تھی۔ اُن دنوں وہ ایتھنز کا سب سے بدصورت لڑکا تھا۔ حالانکہ یہ بات مکمل طور پر صحیح نہیں تھی کیونکہ اس کے چہرے پر کسی زخم، چیچک یا کسی دوسری بیماری کے داغ نہ تھے۔ بات صرف اتنی تھی کہ جس گوشت پوست

Read more

تحریک انصاف اور مڈل پاس ایٹمی سائنس دانوں سے نجات کی دعا

آئیے ایک ایسے فرد سے ملتے ہیں جو آٹھویں پاس ہے۔ اُس نے آٹھویں پاس تک کی کتابوں میں ایٹم بم کا ابتدائی فارمولا E=mc² پڑھا ہے۔ ایک دوسرے فرد کو ملتے ہیں۔ وہ بھی آٹھویں پاس ہے۔ اُس نے آٹھویں پاس کی کتابوں میں راکٹ سائنس کے بارے میں ابتدائی چند سطریں پڑھ رکھی ہیں۔ ایک تیسرے آٹھویں پاس فرد کو ملتے ہیں۔ اُس نے آٹھویں پاس کی کتابوں میں پڑھا تھا کہ پانی میں سے بجلی گزاری جائے

Read more

منڈے ہوئے سر کا کوئی ثبوت باقی نہیں رہے گا

ایک دفعہ کا ذکر ہے کسی ملک کے پارلیمان میں بہت ہلچل مچ گئی۔ اس کی وجہ کوئی سیاسی مسئلہ نہیں تھا بلکہ ایک وزیر کا سر اچانک استرے سے منڈا ہوا پایا گیا تھا۔ ایک دن پہلے تک اس وزیر کے سرپر خوبصورت گھنگھریالے لمبے بال تھے لیکن اب وہ نہیں تھے۔ پارلیمان کے اراکین اس وزیر کو دیکھ دیکھ کر سرگوشیاں کرنے لگے کہ وزیر کے ساتھ کیا معاملہ ہوا ہوگا؟ سب قیاس آرائیاں کررہے تھے۔ کسی نے

Read more

جماعت اسلامی کے کالم کے لیے 1275 صفحات کا مطالعہ

میں نے جماعت اسلامی کے ماضی، حال اور مستقبل کے حوالے سے کچھ عرصہ قبل دو اقساط میں تجزیاتی کالم تحریر کیے جو ”اشتہار برائے گمشدہ جماعت اسلامی“ اور ”جماعت اسلامی کا مستقبل، ماضی کی زبانی“ کے عنوان کے تحت شائع ہوئے۔ اِن کالموں پر جماعت اسلامی کا جوابی موقف ”محترم فرحان شوکت ہنجرا“ کے تحریر کردہ پریس ریلیز نما کالم کی صورت میں ”جماعت اسلامی جہد مسلسل کا نام“ کے عنوان کے تحت میرے کالموں کی اشاعت کے چند

Read more

پاکستانی شہری کا 2050 ء میں تہذیبی و اخلاقی معیار کیا ہوگا؟

تین ہزار برس پہلے کی بات ہے کہ جنوب مشرقی یورپ کے ملک یونان میں ایک شہر ایتھنز آباد تھا۔ یہ وہی شہر تھا جہاں سقراط پیدا ہوا جسے ماڈرن فلاسفی کا باپ کہا جاتا ہے۔ یہ وہی شہر تھا جہاں جمہوریت نے جنم لیا جو آج ماڈرن مہذب دنیا کی دلربا لاڈلی ہے۔ یہ وہی شہر تھا جو موجودہ یورپ کی آسمان چھو لینے والی ترقی کی بنیاد ہے۔ یہ وہی شہر تھا جس کی تنظیم اور بہادری سے

Read more

چھوٹی باتیں، بڑے سوال

اُن دنوں میں اوساکا یونیورسٹی جاپان میں اردو چیئر پر فائز تھا۔ ایک مرتبہ ایک جاپانی ماں سے ملنے کا اتفاق ہوا۔ وہ یونیورسٹی میں ہمارے اردو کے ساتھی جاپانی استاد کی ماں تھی۔ اُس نے ہماری دعوت کی۔ دروازے پر ہمارے استقبال کے ساتھ ہی اُس نے پاکستانی لوگوں کی محبت کے گُن گانے شروع کر دیے۔ وہ کہے جارہی تھی اور ہم پھولے نہیں سما رہے تھے۔ ”پاکستانی بہت انسان دوست ہیں، بہت مہمان نواز ہیں، غیرملکیوں کی

Read more

کتاب والی ایک روشن ستارہ بن گئی

صدیوں پہلے ریاست اور سیاست کا تصور ایک دانشور نے دیا تھا۔ بعد میں آنے والے زمانے میں جن جن جگہوں پر ریاست اور سیاست کے معاملات میں دانشور شامل رہے وہ علاقے آج ترقی یافتہ ممالک کہلاتے ہیں۔ تاریخ بتاتی ہے کہ پاکستان میں ریاست اور سیاست کے کاروبار سے دانشوروں کا عموماً کوئی تعلق نہیں تھا۔ سیاست مخصوص گروہ نے اپنا پیشہ بنا لیا جبکہ زیادہ تر دانشور اپنے قلم کتاب کے ساتھ ایک کونے میں جابیٹھے۔ پاکستان

Read more

کیا یہی ترقی ہے؟

پچھلی دہائیوں کی نسبت آج ہم زیادہ ترقی یافتہ ہیں۔ کوئی مانے یا نہ مانے پاکستان کے ہر شعبے میں بظاہر ترقی نظر آتی ہے۔ شہری سہولتیں، تعلیم، صحت، ذرائع ابلاغ، تعمیرات، ذرائع آمدورفت اور ذرائع آمدنی وغیرہ جس جس پر غور کریں ہم 50، 60، 70، 80 اور 90 کی دہائیوں سے آگے ہیں۔ ہمارے ہاں آنے والی ہر حکومت پہلے سے بڑا بجٹ پیش کرتی ہے۔ اس میں کرپشن کی گنجائش رکھ بھی لی جائے تب بھی ترقیاتی

Read more

آئین و قانون میں سقم اور مرغیوں کی آگ نما کلغی

سپریم کورٹ آف پاکستان نے اپنے ایک حالیہ فیصلے میں لکھا ہے کہ ”متعدد فیصلوں میں کہا جاچکا ہے کہ قانون سازی کرنا پارلیمنٹ کا اختیار ہے“۔ اِس فیصلے کے آخر میں چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس آصف سعید کھوسہ نے اضافی نوٹ میں لکھا کہ ”قواعد بنانے سے عوام کے منتخب نمائندوں کا اقتدار اعلیٰ مضبوط ہوگا“۔ مندرجہ بالا فیصلے کو پڑھنے اور دیگر کئی قوانین پر غور کرنے سے پتا چلتا ہے کہ پاکستان کے آئین و قانون

Read more

لیاقت علی خان اور ایوب خان کی سیاست پر اصلی تحقیق کی ضرورت

ہمارے سیاسی مسائل کا تعلق پاکستان کے آغاز سے جڑتا ہے۔ قائداعظمؒ محمد علی جناح کا احترام اگست 1947 ء کے بعد بھی عام لوگوں کے دلوں میں پوری آب و تاب کے ساتھ موجود تھا البتہ جسمانی بیماری کے باعث اُن کی انتظامی گرفت عملاً کمزور ہوچکی تھی۔ ”ایڈمنسٹریٹو سائنس“ کا مضمون پڑھنے والے جانتے ہیں کہ اگر کسی فرد کا احترام لوگوں کے دلوں میں ہو لیکن اُس کی انتظامی گرفت عملاً کمزور ہوچکی ہوتو پھر یہ ماتحتوں

Read more

”I have sinned“”میں نے گناہ کرلیا“

اٹھارویں صدی میں سندھ پر بلوچ حکمرانی کرتے تھے۔ وہ ”سندھ کے امیر“ کہلاتے تھے۔ ایسٹ انڈیا کمپنی نے سندھ کی ساحلی اہمیت کو سمجھتے ہوئے 1775 ء میں سندھ کے کلوہارا پرنس کے ساتھ ایک معاہدہ کیا اور ٹھٹھہ میں تجارتی مرکز بنایا۔ یہ شہر اُن دنوں سندھ کے امیر اور بارونق شہروں میں شمار ہوتا تھا۔ انگریزوں کے اس تجارتی مرکز کا خسارہ بڑھتا گیا جس کے باعث اسے 1792 ء میں بند کردیا گیا۔ 1799 ء میں

Read more

اشتہار برائے گمشدہ جماعت اسلامی

جماعت اسلامی اپنے سائز اور تاثر کے اعتبار سے کبھی بھی عوامی جماعت نہیں رہی لیکن اس کمی کے باوجود بھی جماعت اسلامی کا سیاسی رعب صف اول کی سیاسی جماعتوں جیسا تھا۔ جماعت اسلامی کے رہنماؤں کا بیان یا ایکشن حکومتی پالیسیوں میں تبدیلی کا باعث بنتا اور ووٹ نہ دینے کے باوجود بھی عوام اِن کی طرف متوجہ ضرور ہوتے۔ گویا ماضی کی جماعت اسلامی بے حد کم ووٹ بینک کے ساتھ بھی معاشرے پر ایک بڑا اثر

Read more

چیئرمین صاحب! پی آئی اے میں آیات کی بے ادبی کا امکان

مسافر جہازوں میں دوران پرواز مسافروں تک معلومات اور اطلاعات پہنچانے کے لیے جہاز کے مختلف حصوں میں چھوٹے سپیکر نصب ہوتے ہیں جن کے ذریعے مسافر پائلٹ یا فضائی میزبانوں کی آواز میں یا ریکارڈنگ کی صورت میں پیغامات وصول کرتے ہیں۔ پیغامات یا اطلاعات مکمل ہوجانے کے بعد عموماً مسافروں کی دلربائی کے لیے انہی سپیکروں کے ذریعے ہلکی پھلکی موسیقی کی آواز بھی جہاز کے اندر کے ماحول کو مترنم رکھتی ہے۔ مسافر جہاز کے اندر کی

Read more

جماعت اسلامی کا مستقبل کیا ہو گا؟

میرے پچھلے کالم کا عنوان ”اشتہار برائے گمشدہ جماعت اسلامی“ تھا جو 20 نومبر 2019 ء کو شائع ہوا۔ آج کا کالم اُسی کا دوسرا حصہ ہے جس میں جماعت اسلامی کے مستقبل کے حوالے سے کچھ عملی نکات زیربحث لائے گئے ہیں۔ کسی سیاسی جماعت کے مستقبل کے بارے میں اندازہ لگانے کے لیے ضروری ہوتا ہے کہ اُس کے موجودہ انسانی وسائل، نئے شامل ہونے والے انسانی وسائل اور نظریاتی پختگی کا جائزہ لیا جائے۔ یہی فارمولہ موجودہ

Read more

عوام کہ ٹھہرے اجنبی اتنی قلابازیوں کے بعد

اگست 2019 ء کی 5 تاریخ کو گزرے تین ماہ سے زائد ہوچکے ہیں۔ یہ وہ دن تھا جب بھارت نے بھارتی مقبوضہ کشمیر پر اپنے پنجوں کی گرفت مزید مضبوط کرنے کے لیے کشمیری وادی کی خودمختار حیثیت ختم کرکے اُسے یونائیٹڈ انڈیا کا حصہ بنا لیا۔ وہاں بسنے والے کشمیریوں کے لیے جہاں یہ آکسیجن بند کردینے کے مترادف تھا وہیں تکمیل پاکستان کے لیے بھی بھارت کا یہ قدم ایک براہِ راست چیلنج تھا۔ بھارتی مقبوضہ کشمیر

Read more

والٹیئر: ”اوراقِ ہند“ میں اصل ہندوستان کی باتیں

ہم فرانسیسی رائٹر والٹیئر کو بہت خوب جانتے ہیں۔ وہ تاریخ میں ایک روشن خیال مؤرخ اور فلاسفر کی حیثیت سے پہچانا جاتا ہے جس نے انسانی حقوق، مذہبی آزادی اور آزادانہ تجارت کے لیے عمربھر آواز بلند کی۔ والٹیئر وہ نام ہے جس کی سوچ نے انقلابِ فرانس کی بنیاد فراہم کی۔ اُس نے 20 ہزار سے زائد خطوط اور 2 ہزار سے زائد کتابیں اور پمفلٹ تحریر کیے۔ وہ اُس عہد میں سماجی اصلاحات کا انتہائی بے باک

Read more

چیف جسٹس صاحب! جھوٹی گواہی کی طرح جھوٹے می ٹو پر بھی فیصلہ

چیف جسٹس آف پاکستان عزت مآب جناب جسٹس آصف سعید خان کھوسہ صاحب نے جھوٹی گواہی کے خلاف تاریخ ساز فیصلہ دیا ہے۔ پاکستان میں گزشتہ 72 برسوں کے دوران عدالتی مقدمات میں جھوٹی گواہی کے باعث نہ جانے کتنے لوگ متاثر ہوئے اور کتنے خاندان برباد ہوئے لیکن جناب جسٹس آصف سعید خان کھوسہ صاحب سے قبل اس طرف کسی نے توجہ ہی نہیں دی یا جھوٹی گواہی کو ختم کرنے کے لیے کوئی عملی اقدام نہ کیا۔ چیف

Read more

یہ اندر کی خبریں کب اور کون بتائے گا؟

جب بھی کبھی کسی اہم واقعے کی اندر کی خبر کا پتہ چلتا ہے تو یہ خیال مزید پکا ہو جاتا ہے کہ بڑے واقعات خودبخود نہیں ہو جاتے بلکہ اُن کے پیچھے مفادات کی منصوبہ بندی ہوتی ہے۔ ایسا ہی ایک واقعہ لیبیا کے رہنما معمر قذافی کے قتل کا تھا۔ بظاہر قذافی اپنے مخالفین نیشنل ٹرانزیشنل کونسل کے باغیوں کے ہاتھوں قتل ہوئے۔ وہ اپنے چند حامیوں کے ساتھ سیوریج کے ایک بڑے پائپ میں چھپے ہوئے تھے

Read more

سقراط نے کہا ”اپنی مرضی سے کام نہ کرنے والا غلام ہے“

ہمارے سارے حکمران کہتے ہیں کہ وہ اپنی مرضی سے کام کرتے ہیں۔ ان کے چلے جانے کے بعد پتہ چلتا ہے کہ ان کا یہ کہنا دراصل اُس بچے کی مانند ہوتا ہے جو اپنے باپ کے جوتے میں پاؤں ڈال کر اپنے آپ کو بڑا ثابت کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ مصنف ”کورامیسن“ کی تحقیق کے مطابق فلسفہ کے بادشاہ ”سقراط“ نے شہر ایتھنز کے امیر اور خوبصورت نوجوان ”ایلسی بیادیز“ کو اسی نفسیاتی خوش فہمی کے بارے

Read more

بھارت نے کشمیر پر ٹرمپ کی ثالثی مان لی توپھر؟

بھارتی مقبوضہ کشمیر کے حوالے سے پاکستان کے سامنے تین ایریا کی پبلک رہی ہے۔ پہلی پاکستان کی پبلک، دوسری بھارت کی پبلک اور تیسری بین الاقوامی پبلک۔ پاکستان مقبوضہ کشمیر میں بھارتی ظلم و ستم اور مظلوم کشمیریوں کی کسمپرسی کی حالت زار مندرجہ بالا تینوں ایریا کی پبلک کو بتاتا چلا آرہا ہے جس کے باعث پہلا یہ کہ پاکستان کی پبلک کشمیر کے سلسلے میں عموماً حکومتی بیانیے کو تسلیم کرتی ہے۔ پاکستانی حکومتیں اِس سلسلے میں

Read more

اردو کے لیے فارسی اہم ہے یا سندھی، بلوچی، پشتو اور پنجابی؟

کہتے ہیں کہ اردو زبان کی پیدائش میں عربی، فارسی اور ترکی زبانوں کا اہم حصہ ہے۔ اُن دنوں جب حملہ آور ہندوستان میں آتے تھے تو اُن کے لشکروں میں عربی، فارسی اور ترکی زبان بولنے والے سپاہی شامل ہوتے تھے۔ اُن کے میل جول نے ایک نئی زبان کو جنم دیا تاکہ مختلف نسلوں کے لوگوں کا آپس میں ابلاغ آسان ہو سکے۔ یہ عمل خود بخود فطری انداز سے چلتا رہا اور نئی زبان یعنی اردو کی

Read more

ایٹمی جنگ کی دھمکیاں امن نہیں کولڈ وار ہیں

انسانوں کی طرح جنگوں کی بھی بہت سی اقسام ہیں۔ انہی میں سے ایک ”کولڈوار“ ہے جس کا ذکر سوویت یونین کے خاتمے سے پہلے بہت عام تھا۔ جونہی سوویت یونین ڈوبا، لوگوں نے سمجھ لیا کہ کولڈوار کا زمانہ بھی ختم ہوگیا۔ کولڈوار کے خاتمے کی بات کرنے سے پہلے اس کے آغاز کی بات کرتے ہیں۔ اب سے ٹھیک سات سو برس قبل یعنی چودہویں صدی میں سپین کا ایک مشہور پرنس ”ڈون جان مینوئل“ ہوگزرا ہے۔ وہ

Read more

کیا بھارت کو نیوکلیئر حملے کی سفارتی حمایت مل گئی ہے؟

پاکستان کو بھارت کی طرف سے جارحیت کا خطرہ ہمیشہ سے محسوس ہوتا آیا ہے۔ بھارت پر پاکستان کے شک کی وجوہات محض خیالی نہیں بلکہ منطقی اور عملی ہیں۔ سفارتی و معاشی میدانوں سے لے کر سازشی حربوں تک بھارت نے پاکستان کو نقصان پہنچانے میں کبھی کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی۔ بھارت کے پاس اس کی جو بھی منطق ہو لیکن یہ بات ریکارڈ کی ہے کہ پاکستان کو ہی ہمیشہ بھارت کے ہاتھوں دور رس نقصان ہوا

Read more

کیا یہاں بھی کبھی اصلی گورنمنٹ انسپکٹر آئے گا؟

”نکولائی گوگول“ یوکرائنی نسل کے مشہور روسی ادیب تھے۔ وہ 31 مارچ 1809 ء کو پیدا ہوئے اور 42 برس کی عمر میں 4 مارچ 1852 ء کو وفات پاگئے۔ اپنی مختصر زندگی میں نکولائی گوگول نے ایسی کہانیاں اور ڈرامے تخلیق کیے جو آج بھی اپنی مثال آپ ہیں۔ اُن کی تحریروں کا بنیادی موضوع اُس زمانے میں روس کے کرپٹ اور نا اہل حکمران تھے جن پر نکولائی گوگول نے اپنے قلم سے طنز کے تیر چلائے۔ اُن

Read more

“جنرل ایوب خان کمانڈر انچیف کیسے بنے؟”

کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ پاکستان کی سیاست میں مداخلت کی داغ بیل جنرل ایوب خان نے ڈالی۔ اپنی آپ بیتی ”فرینڈز، ناٹ ماسٹرز“ جس کا اردو ترجمہ ”جس رزق سے آتی ہو پرواز میں کوتاہی“ ہے، میں وہ اپنے کمانڈر انچیف بننے کے واقعات کچھ یوں تحریر کرتے ہیں ”اس بات پر طرح طرح کی قیاس آرائیاں ہورہی تھیں کہ جب جنرل گریسی کی ملازمت کی میعاد ختم ہوگی تو ان کی جگہ کسی پاکستانی کے کمانڈر انچیف

Read more

ایٹم بم ایک اشارہ ہی تو ہے

بچ جانے والے پاکستان کو محفوظ رکھنے کے لیے ایٹم بم بنانے کا فیصلہ کیا گیا۔ ذوالفقار علی بھٹو نے 20 جنوری 1972 ء کو ملتان میں پاکستان کے چیدہ چیدہ سائنس دانوں کا اجلاس بلایا اور اُن کی توجہ اِس طرف دلائی۔ کچھ محققین کے نزدیک پاکستان کے لیے ایٹم بم بنانے کا خیال سب سے پہلے صدر جنرل محمد ایوب خان کو آیا تھا۔ اُس وقت ذوالفقار علی بھٹو انہی کی کیبنٹ میں وزیر تھے۔ تاہم پاکستان کے

Read more

یہ آئین سیاست دانوں کا محافظ ہے یا عوام کا؟

پوچھا جاتا ہے کہ سب الزامات صرف سیاست دانوں پر ہی کیوں لگتے ہیں؟ اس کا سیدھا سا جواب ہے کہ سیاست دان ہی ریاست چلانے کے ذمہ دار ہوتے ہیں۔ موجودہ دور میں جمہوریت ریاستی امور چلانے کا بہترین ماڈل ہے۔ اس ماڈل کا سب سے اہم حصہ انتخابات اور منتخب ہونے والے سیاست دان ہوتے ہیں۔ انتخابات اور منتخب کرنے کے قواعدو ضوابط کو آئین کا نام دیا جاتا ہے۔ انتخابات کا جیسا طریقہ کار ہوگا اور منتخب

Read more

کہیں لوگوں کی کسمپرسی آئین سے اِمیون تو نہیں ہوگئی؟

ہمیں اکثرایسے جملے سننے کو ملتے ہیں کہ دوائیوں میں اثر ہی نہیں رہا یا ڈاکٹر نالائق ہوگئے ہیں۔ اسی لئے نزلہ، زکام، بخار جیسی چھوٹی چھوٹی بیماریاں بھی جلد ٹھیک نہیں ہوتیں۔ اپنی اس گفتگو کا نتیجہ ہم عموماًیہ نکالتے ہیں کہ چونکہ دوائیوں میں ملاوٹ ہوتی ہے، اس لیے وہ بے اثر ہوگئی ہیں اور ڈاکٹروں کے مسیحا کی بجائے سوداگر بن جانے کے باعث ان کے ہاتھوں سے برکت اٹھ گئی ہے۔ لوگوں کے اس نظریے کو

Read more

سمندر کے کنارے آباد ایک بستی

سمندر کے کنارے ایک بستی آباد تھی۔ بارشوں کا موسم تھا۔ سمندر اور بستی کی آبادی پر بوندیں ٹپ ٹپ گر رہی تھیں۔ آبادی کا ہر فرد اداس اور کمزور تھا۔ کھانے پینے کا سٹاک ختم ہوچکا تھا۔ کاروبار ٹھپ تھے۔ سب کے سب بھاری قرضوں کا بوجھ اٹھائے پھر رہے تھے۔ یوں کہئے کہ پوری آبادی کریڈٹ پر چل رہی تھی۔ مفلسی کے ان اندھیروں نے سمندر کے نیلے پانی کو بھی سیاہ کردیا تھا۔ اچانک ساحل پر ایک

Read more

بلوچ قائداعظمؒ کو سونے چاندی میں تولتے تھے

”جب پاکستان قائم ہوچکا تو قائداعظمؒ نے مجھے کراچی بلایا، میں 22 دنوں تک ان کا مہمان رہا۔ اس قیام کے دوران میں قائداعظمؒ نے فرمایا کہ میں اس ملک کا چلانے والا نہیں ہوں۔ وہ کہتے تھے دیکھو خان! میرے عزیز نوجوان! میں اب بوڑھا ہوچکا ہوں، تم آؤ اور میری مدد کرو، اس ملک کو چلانے کے لیے قابل آدمیوں کی ضرورت ہے۔ اس کے جواب میں خان آف قلات نے کہا کہ اگر یہ بات ہے تو

Read more

اِسی لیے امریکہ ایک سپرپاور ہے

جب 9 سیٹوں والے جہاز نے جدید شہر کی فضاؤں کو چیرتے ہوئے آگے بڑھنا شروع کیا تو جہاز کے اندر موجود ٹیلی فون کی گھنٹیاں بجنے لگیں۔  گورنر راڈ بلیگووچ نے اپنے اسسٹنٹ کو ٹیلی فون سننے سے منع کردیا اور جھنجھلائی ہوئی آواز میں بولا کہ میں کسی سے کوئی بات نہیں کروں گا کیونکہ یہ بہت بڑی خبر ہوسکتی ہے کہ مجھے گورنری سے ہٹا دیا گیا ہے، امریکی ریاست کی تاریخ میں ایسا پہلے کبھی نہیں

Read more

کرم کے موتی!

آئیے! ایک کہانی پڑھتے ہیں۔ ”ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ امریکہ میں کنٹکی ریاست کی مشرقی پہاڑیوں میں ایک مسلمان امریکی بوڑھا اپنے خاندان کے ساتھ اپنے فارم ہاؤس میں رہتا تھا۔ اُس فارم ہاؤس میں اُس بوڑھے کا ایک پوتا بھی تھا۔ داداجی صبح سویرے اٹھتے اور باورچی خانے کی میز پر بیٹھ کر قرآن شریف پڑھا کرتے تھے۔ اُن کا پوتا اُن کی ہر حرکت کا نوٹس لیتا رہتا اور ہر چیز میں ان کی نقل کرنے

Read more

بوڑھے ہوتے باپ اور جوان ہوتے بیٹے کے تعلقات

مشرقی کلچر میں گھر سکون، محبت اور احترام کی علامت کہلاتا ہے۔ انہی خوبیوں کی بناء پر گھر کو زمین پر جنت سے تشبیہ دی جاتی ہے۔ مشرقی کلچر کا وہ گھر کئی وجوہات کی بناء پر اب بہت سے مسائل سے دوچار ہے۔ اِن میں سے بعض ایسے ہیں جو تقریباً ہرگھر کا مسئلہ ہیں لیکن اُن کے بارے میں غوروفکر کرنے کی بجائے صرف شدید ردعمل کا سامنا کیا جاتا ہے یا شدید ردعمل دیا جاتا ہے جس

Read more

کیا بلاول بھٹو اور مریم نواز کو مِٹھے بابا کا مشورہ مل گیا؟

سیدھے سادے وقتوں میں بڑوں کی ایک معصوم شرارت ہوتی تھی کہ جب انہوں نے کسی دوسرے بڑے کو تنگ کرنا ہوتا یا نیچا دکھانا ہوتا تو وہ یہ کام بچوں سے کرواتے۔ مثلاً بچہ جاکر محفل میں بیٹھے مطلوبہ شخص کی پگڑی کھینچ لیتا یا بازار میں جاتے مطلوبہ شخص کے پیچھے بچے آکر اچانک اتنی زور سے چیختے کہ وہ شخص گھبرا کر پیچھے دیکھتا۔ ایسی حرکتوں کا مقصد ہوتا کہ اپنے مدمقابل شخص کو تمسخر کا نشانہ بنایا جائے۔ اگر مدمقابل شخص بچوں کی تمام شرارتیں خاموشی سے سہتا رہتا تو تمسخر کا نشانہ بنتا جو بچوں کو بھیجنے والوں کا اصل مقصد ہوتا اور اگر مدمقابل شخص بچوں پر دھاڑتا یا انہیں مارتا تو واویلا کیا جاتا کہ یہ کیسا شخص ہے کہ معصوم بچوں کو بھی نہیں بخشتا۔

Read more

15 مئی 1988 کا 15 مئی 2019 ء سے ایک سوال

یہ ٹھیک 31 برس پہلے 15 مئی 1988 ء کا دن تھا جب سوویت یونین کے جدید آرمرڈ پرسونل کیریئرز BTR۔ 80 s نے دریائے آمو پر ہیراتن پُل کراس کرکے واپس ماسکو کی راہ لی۔ افغانستان سے سوویت یونین کی فوجوں کے انخلاء کا یہ پہلا دن تھا اور یہ عمل 9 ماہ بعد 15 فروری 1989 ء کو مکمل ہوا۔ سوویت یونین کی فوجوں کی واپسی کی کمانڈ ”کرنل جنرل بورِس گروموو“ کررہے تھے۔ پاکستان میں سوویت یونین کی فوجوں کی واپسی کی خبر شادیانے بجاکر سنائی گئی کیونکہ 80 ء کی دہائی کے دنوں میں پاکستان کے گلی کوچوں میں ایک ہی نعرہ گونجتا تھا کہ ”کمیونزم کا قبرستان، افغانستان افغانستان“۔

Read more

آندھی باندھنے والے پیر بزرگ اور پاکستان کی طرف بڑھتا طوفان

یہ اُس وقت کے دیہات کی بات ہے جب دیہی زندگی آج کل کے شوریدہ زمانے میں ایک افسانوی کہانی محسوس ہوتی ہے۔ اُس وقت دیہی معاشرہ سکون، محبت، معمولی لڑائی جھگڑوں، صلح صفائی اور احترام وغیرہ کے لٹریری کردار کی طرح تھا۔ ٹھیک اُس وقت کے دیہاتوں میں ایک بات مشہور تھی کہ جب زور کی آندھی آنے کا امکان ہوتا تو پیر بزرگ اُس آندھی کو اپنی دعا سے روک دیتا۔ پیر بزرگ کے آندھی روکنے کے اِس

Read more

کیا پاکستان پچاس کی سیاست میں واپس چلا جائے گا؟

کچھ لوگ نوجوانی یا طالب علمی کے دوران پاکستان کی سیاست میں آئے اور عروج کے آخری روم تک گئے۔ یہ شاید اتفاق ہے کہ اِن سب کے سفر سیاست، عروج، زوال اور مقامی یا انٹرنیشنل ایجنسیوں سے تعلقات کی داستانیں آپس میں ملتی جلتی ہیں۔ ایسے سیاست دانوں کی مثالوں میں شیخ مجیب الرحمان، ذوالفقار علی بھٹو، الطاف حسین، بے نظیر بھٹو اور نواز شریف وغیرہ شامل ہیں۔ شیخ مجیب الرحمان نے اپنی سیاست کا آغاز قیام پاکستان کے

Read more

ڈاکٹر جمیل جالبی کے ہونے سے ماحول خوشگوار تھا

یہ اُس وقت کی بات ہے جب میں پنجاب یونیورسٹی لاہور میں ایم اے صحافت کا طالب علم تھا۔ ہم مطالعاتی دورے پر کراچی گئے۔ اُن دنوں غیرکراچی والوں کو کراچی جاتے ہوئے بہت سی دعاؤں اور فکرمندیوں کے ساتھ روانہ کیا جاتا تھا۔ اکثر گھر والے کراچی جانے والے عزیزو اقارب کو قرآن پاک کے نیچے سے گزار کر یا امام ضامن باندھ کر یا کالے بکروں کے صدقے کی منت مان کر رخصت کرتے تھے۔ اُن دنوں کراچی

Read more

پی ٹی آئی بھی پیپلز پارٹی کے دیومالائی ڈراوے میں

حضرت عیسیٰ ؑ کی پیدائش سے تقریباً دوہزار برس پہلے قدیم یونان کی روزمرہ زندگی میں دیوتاؤں اور دیویوں کا تصور بہت عام تھا۔ اِن دیوتاؤں اور دیویوں کے آغاز کی حقیقت کوئی نہیں جانتا تھا لیکن زبانی قصے کہانیوں اور زبانی لٹریری نظموں کے ذریعے سینکڑوں برس کا سفر کرنے کے بعد ان کے تصور سے پرانے یونان کا ہر باشندہ اچھی طرح واقف تھا۔ یہاں تک کہ آٹھ سو برس قبل مسیح میں دنیا کے مبینہ پہلے شاعر

Read more

”پڑھا لکھا“ اور ”لکھا پڑھا“ میں فرق

”پڑھا لکھا“ سے کیا مراد ہے یہ ہم اچھی طرح جانتے ہیں۔ اِن الفاظ کو ایک دوسرے کے ساتھ جگہ تبدیل کرکے پڑھا جائے تو ”لکھا پڑھا“ بنتا ہے۔ بظاہر اس کا مطلب بھی وہی لگتا ہے۔ عام محاورے میں اِن دونوں میں کوئی فرق ہو یا نہ ہو سیاسی میدان میں ”پڑھالکھا“ اور ”لکھا پڑھا“ ہونے میں واضح تضاد محسوس ہوتا ہے۔ آئیے چند مثالوں کو دیکھتے ہیں۔ جب پاکستان کی پہلی قانون ساز اسمبلی کو گورنر جنرل کے

Read more

پیپلز پارٹی انٹرنیشنل اور مقامی سٹیبلشمنٹ کے لیے فلیکسی بَل جماعت

”ڈیوَن“ انگلینڈ کی ایک پرانی کاؤنٹی تھی۔ وہاں 1210 ء میں ایک بچہ پیدا ہوا جس کانام ”ہنری بریکٹن“ رکھا گیا۔ وہ بڑا ہوکر چرچ میں مذہبی رہنما اور قانون کا استاد بنا۔ ہنری بریکٹن نے اُس وقت ایک ایسا نظریہ پیش کیا جو آٹھ سو برس بیت جانے کے بعد بھی دنیا کے غیرجمہوری حکمرانوں کا پسندیدہ نظریہ ہے۔ ہنری بریکٹن کے اِس زہرِ جمہوریت نظریے کو ”نظریہ ضرورت“ یا ”ڈاکٹرائن آف نیسے سٹی“ کہا جاتا ہے۔ پاکستان میں اس کی پہلی مشہور مثال 1954 ء میں فیڈرل کورٹ کے چیف جسٹس محمد منیر کی طرف سے گورنر جنرل ملک غلام محمد کے قانون ساز اسمبلی کو برخواست کرنے کے اقدام کو نظریہ ضرورت کے تحت درست قرار دینا تھا۔

Read more

پی پی پی۔ تین بڑے اور تین خصوصیات

جنگل میں آباد جانوروں، پرندوں اور حشرات کے اپنے اپنے مزاج ہوتے ہیں۔ وہ سب اپنے انہی فطری رویوں کے تحت زندگی گزارتے ہیں۔ کوئی بہادری سے شکار کرتا ہے، کوئی چھپ کر مارتا ہے اور کوئی دوسرے کی بچی کچھی خوراک کو اپنے زندہ رہنے کا سامان بناتا ہے۔ گویا سب وہی کرتے ہیں جو اُن کی اپنی نسل کے آباؤ اجداد نے کیا۔ اگر غور کریں تو ہماری سیاسی جماعتوں میں بھی یکسانیت کا وہی مزاج موجود ہے

Read more

پاکستان کے بدنام حکمران کون سے ہیں؟

پاکستان کے حکمرانوں کی فہرست میں طرح طرح کے نام شامل ہیں اور سب کے سب اپنی حمایت یا مخالفت میں مواد رکھتے ہیں مگر حکمران فہرست کی اس جرنیلی سڑک میں صرف تین نام ایسے ہیں جو اَب تک بدنامی کے پراپیگنڈے میں غیرمتنازع ہیں یعنی ان کے بارے میں کوئی بھی اچھی رائے نہیں رکھتا۔ آئیے پاکستانی تاریخ کے ان تینوں کرداروں کاجائزہ لیتے ہیں اور ان کا موازنہ دیگر حکمرانوں سے کرتے ہیں۔ غلام محمد لاہور میں

Read more

انسانی غلامی کی ڈراؤنی قسم۔ پولیٹیکل ماڈرن سلیوری

انسان نے انسان کو غلام بنانے کا سلسلہ تقریباً بارہ ہزار سال پہلے شروع کیا جب کھیتی باڑی شروع ہوئی۔ یہ پتھر کے زمانے کا آخری دور تھا۔ اس کے بعد کانسی اور لوہے کا زمانہ آیا اور گزر گیا۔ تب انسانی تاریخ لکھی جانے لگی۔ صفحہ صفحہ لکھتے لکھتے بارہ ہزار برس بیت گئے اور ہم اکیسویں صدی میں پہنچ گئے۔ انسان نے پتھر سے انفارمیشن ٹیکنالوجی تک کا جادوئی اور جناتی سفر طے کرلیا لیکن انسان کے ہاتھوں انسان کو غلام بنانے کا جرم ختم نہ ہوا۔انسانی ترقی کے ساتھ انسانی غلامی کی ترقی یافتہ صورتیں سامنے آتی گئیں جسے ”ماڈرن سلیوری“ کہا گیا۔ ماڈرن سلیوری کی تعریف میں انسانی سمگلنگ، جبری مشقت، بچوں سے مزدوری اور زبردستی کی شادیاں وغیرہ شامل ہیں۔

Read more

کیلے اور سیاست میں حیران کن مماثلت

سیاست میں ”بنانا ری پبلک“ کی اصطلاح عام ہے۔ اِسے سب سے پہلے امریکی مصنف اوہینری نے 1901 ء میں لاطینی امریکہ کی ریاستوں کے لیے ایجاد کیا۔ اس سے مراد وہ ریاستیں تھیں جہاں سیاست اور معیشت انتہائی غیرمستحکم ہوتی۔ یہ ممالک اپنی آمدنی کے لیے معدنیات اور کیلے کی کاشت پر مکمل انحصار کرتے۔ بنانا ری پبلک کی مذکورہ تاریخ کو چھوڑ کر اگر ہم کیلے اور سیاست دان میں مماثلت تلاش کریں تو بعض حیران کن نکات

Read more

ملکی دفاع کے لیے انگریزی چینلز اور شوز کی ضرورت

پاکستان کی ہسٹری کا ڈیٹا بتاتا ہے کہ ہمارے ہاں ٹیلی ویژن میڈیا کی ترقی فوجی حکمرانوں اور پاک بھارت تنازعات کی مرہونِ منت رہی ہے۔ ہوسکتا ہے کچھ لوگ اِسے غیرتحقیقی جملہ سمجھیں۔ لہٰذا ٹی وی اور چینلز کے آغاز اور فروغ پر سرسری نظر ڈال لیتے ہیں۔ ساٹھ کی دہائی کے پہلے سالوں میں مارشل لاء ڈکٹیٹر فیلڈ مارشل محمد ایوب خان کا طوطی بولتا تھا۔ انہی کے زمانے میں 26 نومبر 1964 ء کو پاکستان ٹیلی ویژن کا آغاز ہوا۔پی ٹی وی آنے کے تھوڑے عرصے بعد ہی پاک بھارت سرحدی جھڑپیں شروع ہو گئیں جن کا انجام ستمبر 1965 ء کی پاک بھارت بڑی لڑائی کی صورت میں ہوا۔ جب مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر جنرل محمد ضیاء الحق نے حکومت سنبھالی تو اُس وقت ملک میں ٹی وی زیادہ عام نہیں تھا۔ ٹی وی سیٹ کی قیمت زیادہ تھی اور لوگوں کو ٹی وی دیکھنے کا خبط بھی نہیں تھا۔ جنرل ضیاء الحق کی حکومت یعنی 80 ء کی دہائی میں پاکستان میں ٹی وی بہت عام ہوگیا، اُس کی دستیابی بہت آسان ہوگئی اور قیمت کم ہو جانے کے باعث لوگ ٹی وی کی خرید کی طرف متوجہ ہوئے۔

Read more

غیرمعیاری کسٹوڈین شپ۔ ہم سانپ تو نہیں ہیں

انسانی ہسٹری کے مطالعے سے پتہ چلتا ہے کہ جب سے مرد اور عورت کے درمیان شادی کا رواج پڑا اُسی وقت سے دونوں کے درمیان علیحدگی یا طلاق سے پیدا ہونے والے مسائل بھی شروع ہوئے۔ یہ الگ بات کہ اُن مسائل پر بہت دیر بعد توجہ دینی شروع کی گئی لیکن اب بھی ایسے حل طلب ایشوز ہیں جو بہت سنگین ہیں۔ طلاق کے بعد کے عمومی مسائل میں سب سے اہم مسئلہ بچوں کی پرورش اور کسٹوڈین شپ کا ہوتا ہے۔ طلاق کے بعد کے حالات کو جتنا بھی موافق بنالیا جائے اُس کے مختلف اثرات بچوں پر ضرور پڑتے ہیں۔مختلف ممالک میں اِن اثرات کی نوعیت اور شدت مختلف ہوتی ہے۔ اِن اثرات کے نتائج کا تعلق اُس معاشرے کے ثقافتی پس منظر، مذہبی رسم و رواج اور قوانین پر ہوتا ہے۔ مغربی ممالک میں بچوں کے حوالے سے عمومی قوانین بھی بہت سخت اور چیک اینڈ بیلنس کے نظام کے تحت ہوتے ہیں۔ اُن ممالک میں عموماً مذہبی رسم و رواج سے دوری اور ثقافت میں روایتی خاندانی نظام کا نظریہ ختم ہو جانے کے باعث طلاق شدہ والدین کے بچے نفسیاتی، معاشرتی اور معاشی خستہ حالی سے کسی قدر محفوظ رہتے ہیں۔

Read more

پاکستانی انٹیلی جنس ایجنسیوں نے خطے کو تباہی سے بچایا

یہ 1987 ء کا سال تھا جب بھارت اور پاکستان کی سرحدوں پر سخت کشیدگی تھی۔ عین اُسی وقت پاکستان کی انٹیلی جنس ایجنسیوں کو سگنل موصول ہوئے کہ بھارت پاکستان پر ایک بڑا حملہ کرنے والا ہے۔ اِن اطلاعات کے فوراً بعد صدر پاکستان جنرل محمد ضیاء الحق کرکٹ میچ دیکھنے کے لئے بھارت پہنچ گئے۔ میچ کے بعد صدر پاکستان کو الوداع کہنے کے لئے راجیو گاندھی کو مجبوراً ایئرپورٹ آنا پڑا۔ یہی وہ موقع تھا جب جنرل

Read more

ولی عہد محمد بن سلمان کے بارے میں یہ ضرور پڑھیے

سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان کی پاکستان میں حالیہ آمد کے موقع پر مثبت معاشی و سیاسی اثرات کے حوالے سے بہت بات کی جارہی ہے۔ ایسی شخصیت جو اپنی قائدانہ صلاحیتوں کی بناء پر نوجوانی میں ہی عالمی شہرت حاصل کرچکی ہو، اُس کی ذات کے بارے میں بھی لوگ زیادہ سے زیادہ جاننا چاہتے ہیں۔ آج کے اِس کالم میں ولی عہد محمد بن سلمان کی نجی زندگی کے حوالے سے چند اہم پہلوؤں کو قلم بند کیا گیا ہے جو قارئین کے لئے بہت دلچسپی کا باعث ہوں گے۔

آغاز میں یہ بتانا ضروری ہے کہ ولی عہد محمد بن سلمان 31 اگست 1985 ء کو ہفتے کے دن سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں پیدا ہوئے۔ اُن کی تاریخ پیدائش کے اعتبار سے علم نجوم میں اُن کا برج سنبلہ یعنی وِرگو ہے۔ جب ولی عہد محمد بن سلمان پیدا ہوئے تو اُس وقت فہد بن عبدالعزیز سعودی عرب کے بادشاہ تھے جبکہ دنیا کے پانچوں طاقتور ممالک امریکہ میں صدر ریگن، برطانیہ میں وزیراعظم مارگریٹ تھیچر، فرانس میں صدر متراں، سوویت یونین میں میخائل گورباچوف اور چین میں صدر لی شیانیان برسراقتدار تھے۔

Read more

سِول یا فوجی ہر حکمران کی خواہش آزاد خارجہ پالیسی

ناکام، مایوس اور مستقبل سے خوفزدہ اشرف غنی نے پاکستان کے حوالے سے جو حالیہ بیان دیا ہے وہ نہ صرف پاکستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت ہے بلکہ ٹیکنیکل طور پر اُن سِول ایکٹوسٹس کے خلاف بھی جاتا ہے جن کی حمایت میں وہ اپنا منہ سرخ کررہے ہیں کیونکہ اِس سے لگتا ہے کہ اُن سِول ایکٹوسٹس کو افغان ایجنسیوں کی حمایت حاصل ہے۔ اشرف غنی اپنے آپ کو افغانستان کا صدر کہتے ہیں لیکن دنیا کا بچہ بچہ جانتا ہے کہ وہ صرف کابل کے صدر ہیں۔

Read more

کیمپ جیل سے آصف ہاشمی کا جسٹس (ریٹائرڈ) ثاقب نثار کے نام کھلا خط

  پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما اور متروکہ وقف املاک بورڈ کے سابق چیئرمین سید آصف ہاشمی نے کیمپ جیل لاہور سے سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کے نام ایک کھلا خط لکھا ہے جو من و عن پیش ہے۔ سید آصف ہاشمی کو حکومت پاکستان نے اقلیتوں کے لئے خدمات سرانجام دینے پر 2013ء میں سِول ایوارڈ ستارہ امتیاز سے بھی نوازا تھا۔ جناب ثاقب نثار صاحب! مورخہ 17 جنوری 2019ء کو ملک کے مختلف

Read more

ایتھنز کے آسٹرے سیزم کی جگہ نیا قانون

کہتے ہیں کہ تقریباً پانچ سو برس قبل مسیح میں یونان کے شہر ایتھنز میں ”آسٹرے سیزم“ کا ایک رواج موجود تھا جس کے تحت شہر والے اپنے رہنما یا اہم فرد کی کسی عہدے پر مسلسل موجودگی سے تنگ آجاتے تو آسٹرے سیزم کے ذریعے اُسے دس برس کے لئے جلاوطن کر دیتے۔ اس کا طریقہ کار کچھ یوں تھا کہ سال کے دسویں مہینے کے چھٹے دن آسٹرے سیزم کرنے کا اعلان کیا جاتا۔ تمام شہری ٹوٹے ہوئے

Read more

کوئی جا کر عمیر، منیبہ اور ننھی کو بتائے

کوئی جا کر عمیر، منیبہ اور ننھی کو بتائے کہ سانحہ ساہیوال کی دوسری رات ہی ”سپر بلڈ وولف مون“ یعنی پورے چاند کا گرہن تھا۔ صدیوں پرانے توہمات اور کئی طرح کی دیومالائی کہانیوں میں سپر بلڈ وولف مون کے بارے میں بتایا جاتا کہ ایک مرتبہ راہو شیطان نے آب حیات پینے کی کوشش کی تو چاند نے اسے ایسا کرنے سے روکا۔ راہو شیطان نے جونہی آب حیات کا ایک گھونٹ پیا، چاند نے اس کا سر

Read more

تاریخی فیک نیوز بمقابلہ پاکستانی فیک نیوز

اِن دنوں فیک نیوز کی باتیں اُتنی ہی عام ہیں جتنی مہنگائی، اُتنی ہی سستی ہیں جتنی بحث، اُتنی ہی خوف ناک ہیں جتنی وبائی بیماریاں۔ فیک نیوز کی تباہی گھروں سے لے کر ملکوں تک، سیاسی جماعتوں سے لے کر حکومتوں تک، چھوٹی مارکیٹوں کے کاروبار سے لے کر انٹرنیشنل سٹاک مارکیٹوں تک پھیلی ہوئی ہے۔ فیک نیوز جدید ایجاد نہیں ہے۔ اس حوالے سے حیران کن دلچسپ تاریخی ریکارڈ بتاتے ہیں کہ اب تک فیک نیوز کی سب

Read more

ہر ڈیل کی ایک صبح ہوتی ہے

یہ اُن دنوں کی بات ہے جب لڑکیاں زیادہ خوداعتماد نہیں ہوتی تھیں۔ اُس وقت اگر کوئی لڑکی بیاہ کر شہر چلی جاتی اور اُس کے سسرال والے ذرا بڑے اور بہتر گھرانے کے مالک ہوتے تو وہ لڑکی کئی دنوں تک شادی کے بھاری بھرکم روایتی لباسوں، نئے نئے چہروں اور ہرطرف سے گھورتی آنکھوں کے باعث بدحواس پھرتی۔ وہ کبھی میز سے ٹکراتی، کبھی اُس سے کوئی برتن ٹوٹ جاتا اور کبھی ہنڈیا جلا دیتی۔ اس منظرنامے میں

Read more

پی ٹی آئی کی دلہن اور خرانٹ محلے والیاں

ذرا پرانے محلوں کا تصور ذہن میں لائیے۔ چھوٹے بڑے گھر، ساتھ ساتھ جڑے گھر اور ایک دوسرے کے اندر گھُسے گھر۔ وہاں پر رہنے والوں کی عادات بھی عجیب تھیں۔ سب الگ الگ خاندان ہوتے لیکن ایک ہی لگتے۔ سب کو معلوم ہوتا آج فلاں کے گھر نئے کپڑے سلے ہیں، فلاں کے گھر مہمانوں نے آنا ہے اور فلاں کے گھر کون سی ہنڈیا پکی ہے۔ گویا کئی گھروں پر مشتمل وہ ایک محلہ ایک ہی گھر لگتا۔ اس محلے والوں کی یہ بھی ایک خصوصیت ہوتی کہ جب کوئی دلہن بیاہ کر کسی کے گھر آتی تو اس گھر کی دیواروں اور منڈیروں پر خواتین، لڑکیاں اور بچے دن رات چڑھے رہتے۔

وہ نئی دلہن کی ٹوہ لینے کے ساتھ ساتھ اُس پر اپنے تعارف کا رعب بھی جماتے۔ اگر کبھی ایسا ہوتا کہ نئی نویلی دلہن کام کاج اور گھر داری کی ماہر نہ ہوتی تو سسرال والے اپنی عزت کی خاطر اُس کے پھوہڑ پن پر پردہ ڈالتے۔ اُس دلہن کی نندیں، بھاوجیں اور بڑی بوڑھیاں اُس کے ذمے گھرداری کے تمام کام درپردہ خود کردیتیں اور محلے والیوں کو یہ تاثر دینے کی کوشش کی جاتی کہ ان کی بہو بہت سگھڑ ہے۔ اپنی عزت بچانے کے لیے سسرال والوں کی یہ کارروائی ایک خام خیالی ہی ہوتی کیونکہ گھر کی دیواروں اور منڈیروں سے ہروقت لٹکی خواتین اور لڑکیاں وغیرہ اُس گھر کے سب رازونیاز سے واقف ہوتیں۔

Read more

برفیلے ٹھنڈے پانی سے خو ف زدہ آخری بندر

کہتے ہیں کہ قائد اعظم صدارتی نظام کو پسند کرتے تھے لیکن یہ خیال ضرور آتا ہے کہ ان کی زندگی میں ہی مقرر ہونے والے پہلے وزیراعظم لیاقت علی خان کی حکومت کے خدوخال ابتدائی پارلیمانی نظام سے ملتے جلتے تھے۔ اس کے علاوہ فیلڈ مارشل ایوب خان کے مارشل لاء سے قبل جتنی بھی سول حکومتیں برسراقتدار رہیں وہ کسی نہ کسی طرح پارلیمانی نظام کے ہی قریب تھیں۔ موجودہ آئین بھی مکمل طور پر پارلیمانی نظام کی

Read more

شیخ رشید یا پرویز الہی: کون بنے گا سلفر بادشاہ؟

بہت پہلے کی بات ہے کہ ایک چھوٹے سے شہر کی پرسکون گلیوں میں ایک دیوانہ سائیکل پر پھرا کرتا تھا۔ وہ جب بھی سکول جانے والے بچوں یا پڑھے لکھے نوجوانوں کو دیکھتا تو ان کے پاس سائیکل روک کر بڑی سنجیدگی سے بلند آواز میں تقریر شروع کردیتا۔ وہ سائنس کے مختلف فارمولے چیخ چیخ کر دہراتا اور دعویٰ کرتا کہ ایک دن انہی سائنسی فارمولوں کی ایجادات اور برکات کے باعث وہ بادشاہ بن جائے گا۔ وہ دیوانہ اپنی سائنسی تقریر میں کیمیائی پاؤڈر ”سلفر“ یعنی گندھک کا بہت ذکر کرتا۔

اس چھوٹے سے شہر کی پرسکون گلیوں کے مکینوں کا خیال تھا کہ اس دیوانے نے ابتدائی جماعتوں میں سائنس پڑھی تھی مگر بعد میں اس کے دماغی تار ہل گئے۔ وہاں کے لوگ اسے ”سلفر بادشاہ“ کے نام سے پکارتے تھے۔ ہر عہد میں ہماری سیاست کی میلی چادر پر بھی کئی ایسے نام موجود رہے ہیں جنہیں وزارت عظمیٰ یا وزارت اعلیٰ کے سپنے دکھائے گئے مگر سپنے تو پھر سپنے ہوتے ہیں، آنکھ کھلی تو ٹوٹ جاتے ہیں۔ ایسے سیاسی ”سلفر بادشاہ“ یاتو مخصوص کام لینے کے بعد نُکرے لگا دیے جاتے ہیں یا چھوٹی موٹی پروٹوکول والی گاڑیوں کے ہچکولوں پرہی انہیں گزارا کرا دیا جاتا ہے۔

Read more

کیا آئین عوام کے دکھ دور کر رہا ہے؟

ہمیں اکثر ایسے جملے سننے کو ملتے ہیں کہ دوائیوں میں اثر ہی نہیں رہا یا ڈاکٹر نالائق ہو گئے ہیں۔ اسی لئے نزلہ، زکام، بخار جیسی چھوٹی چھوٹی بیماریاں بھی جلد ٹھیک نہیں ہوتیں۔ اپنی اس گفتگو کا نتیجہ ہم عموماً یہ نکالتے ہیں کہ چونکہ دوائیوں میں ملاوٹ ہوتی ہے، اس لئے وہ بے اثر ہوگئی ہیں اور ڈاکٹروں کے مسیحا کی بجائے سوداگر بن جانے کے باعث ان کے ہاتھوں سے برکت اٹھ گئی ہے۔ لوگوں کے

Read more

مایوس ووٹروں نے جانوروں کو اپنا لیڈر چُن لیا

بعض ملکوں میں سیاست دانوں سے مایوس ہوکر ووٹروں نے علامتی طور پر جانوروں کو اپنا لیڈر منتخب کرلیا۔ ریڈرز ڈائجسٹ کی ایک مزاحیہ رپورٹ کے مطابق اگر کبھی کبھی منتخب انسانی نمائندے جانوروں کی طرح حرکتیں کرسکتے ہیں توپھر چار پاؤں والے اصل جانور اچھے لیڈر کیوں نہیں بن سکتے؟ شاید اسی لئے مختلف اوقات میں درج ذیل جانوروں کو عوام نے اپنا لیڈر بنایا۔ میکسیکو کے دو طالبعلموں نے 2013ء میں اپنی سیاسی قیادت سے مایوس ہوکر سفید

Read more

چلی ہے رسم کہ جمہوریت سے فائدہ اٹھاکر چلو

موجودہ دور میں ابن سلطان ایک ناپسندیدہ محاورہ ہے۔ ناپسندیدہ اس لئے کہ شاہی طرز حکومت میں بادشاہ کا بیٹا ہی بادشاہ بنتا تھا۔ حکمرانی کے اس پیدائشی حق کو جمہوریت نے چیلنج کیا۔ جمہوریت کی اصل کتاب میں حکمرانی کسی کا پیدائشی حق نہیں ہوتا۔ پاکستان میں جمہوریت کی الف لیلوی داستانیں ہی ہیں کیونکہ یہاں جمہوریت کی کتاب کے ٹائٹل پر تو جمہوریت لکھا گیا ہے لیکن اندر کے تمام اسباق ابن سلطان کے جدید فارمولوں سے بھرے

Read more