ذرا پرانے محلوں کا تصور ذہن میں لائیے۔ چھوٹے بڑے گھر، ساتھ ساتھ جڑے گھر اور ایک دوسرے کے اندر گھُسے گھر۔ وہاں پر رہنے والوں کی عادات بھی عجیب تھیں۔ سب الگ الگ خاندان ہوتے لیکن ایک ہی لگتے۔ سب کو معلوم ہوتا آج فلاں کے گھر نئے کپڑے سلے ہیں، فلاں کے گھر مہمانوں نے آنا ہے اور فلاں کے گھر کون سی ہنڈیا پکی ہے۔ گویا کئی گھروں پر مشتمل وہ ایک محلہ ایک ہی گھر لگتا۔ اس محلے والوں کی یہ بھی ایک خصوصیت ہوتی کہ جب کوئی دلہن بیاہ کر کسی کے گھر آتی تو اس گھر کی دیواروں اور منڈیروں پر خواتین، لڑکیاں اور بچے دن رات چڑھے رہتے۔
وہ نئی دلہن کی ٹوہ لینے کے ساتھ ساتھ اُس پر اپنے تعارف کا رعب بھی جماتے۔ اگر کبھی ایسا ہوتا کہ نئی نویلی دلہن کام کاج اور گھر داری کی ماہر نہ ہوتی تو سسرال والے اپنی عزت کی خاطر اُس کے پھوہڑ پن پر پردہ ڈالتے۔ اُس دلہن کی نندیں، بھاوجیں اور بڑی بوڑھیاں اُس کے ذمے گھرداری کے تمام کام درپردہ خود کردیتیں اور محلے والیوں کو یہ تاثر دینے کی کوشش کی جاتی کہ ان کی بہو بہت سگھڑ ہے۔ اپنی عزت بچانے کے لیے سسرال والوں کی یہ کارروائی ایک خام خیالی ہی ہوتی کیونکہ گھر کی دیواروں اور منڈیروں سے ہروقت لٹکی خواتین اور لڑکیاں وغیرہ اُس گھر کے سب رازونیاز سے واقف ہوتیں۔
Read more