ابو جی نے سرخ رنگ کی گرگابی پہنی ہوئی تھی، کندھے پر حسب معمول صافہ تھا، ایک ہاتھ سے تہمد پکڑی ہوئی تھی اور دوسرے ہاتھ سے میرا ہاتھ مضبوطی سے تھاما ہوا تھا۔
ابو جی نے سروسز ہسپتال کے سامنے والی سڑک عبور کرنے کے لیے بڑے اشارے کیے، ہاتھ ہلا ہلا کر کہا کہ کوئی گاڑی، موٹر سائیکل یا رکشہ آہستہ کرے، ٹریفک آہستہ ہو تو ہم سڑک کراس کرسکیں لیکن گاڑیاں آتی تھیں اور شراٹے بھرتے ہوئے گزر جاتی تھیں۔
میں ابو جی سے بھی زیادہ سہما ہوا تھا، یوں لگ رہا تھا کہ بے ہنگم طریقے سے ٹوں ٹوں ٹاں ٹاں کرتیں گاڑیاں ہمیں اپنے ٹائروں تلے روندتے ہوئے گزر جائیں گی۔ ابو جی دو چار قدم آگے بڑھتے لیکن گاڑیوں کی سپیڈ اور حالات کی نزاکت کا اندازہ کرتے ہوئے فوراً پسپائی اختیار کر لیتے۔ میرا دل شاید ان سے بھی زیادہ تیزی سے دھک دھک کر رہا تھا، ہم پریشان تھے کہ لاہور کی سڑک کراس کرنا ہی ہمارے لیے نانگا پربت سر کرنے جیسا ہو گیا تھا۔ پھر اللہ بھلا کرے وہاں کھڑے ایک شخص کا، جس نے کہا کہ آؤ بزرگو! میں آپ کو سڑک پار کرواتا ہوں۔ نوشہرہ ورکاں کی چھوٹی سی دنیا سے نکل کر یہ لاہور سے میرا پہلا تعارف تھا۔
ڈاکٹر عبدالجبار اب تو شاید کینیڈا میں ہوتے ہیں لیکن اس وقت سروسز ہسپتال کے شعبہ امراض دل کے انچارج تھے۔
Read more