مطمئن رہنے کا فن سیکھنا پڑتا ہے!

میرا سفر گاؤں کی کچی گلیوں میں گلی ڈنڈا کھیلنے والے دوستوں سے شروع ہوا تھا اور پھر اس فہرست میں وہ بھی شامل ہوئے، جو گولف کھیلنے اور گھڑ سواری کے شوقین ہیں۔ ان سب کو میں تین دائروں، حصوں یا اقسام میں تقسیم کرتا ہوں۔ ایک وہ ہیں، جن کے پاس دولت بھی ہے، دو چار کے پاس شہرت بھی ہے، کاریں بھی ہیں، شراب بھی ہے، ایک نہیں بیک وقت کئی کئی گرل یا بوائے فرینڈز بھی

Read more

پنجاب کلچر ڈے: یہ پینڈو کہاں سے آ گئے ہیں؟

رنگ گورا چٹا تھا، کُھلے ہوئے سیاہ بال وہاں کھڑے تمام سیاحوں سے لمبے تھے۔ دھوپ سے بچنے کے لیے اس نے سیاہ رنگ کا چشمہ لگا رکھا تھا۔ جینز اور اوپر کیسری رنگ کا کُرتا کنول دیپ کور کو سب سے منفرد بنا رہا تھا۔ ہم دونوں سری لنکا کے انتہائی قدیم قلعے سیگیرییا کی ٹکٹیں لینے کے لیے ساتھ ساتھ کھڑے تھے۔ ایک بلند پہاڑ پر واقع یہ قلعہ تقریبا 473 برس بعد از مسیح تعمیر کیا گیا

Read more

ایسے لوگوں سے دور رہیے!

یہ آج سے پانچ چھ برس پہلے کی بات ہے۔ میں نے ایک جگہ انویسٹ منٹ کی اور یک دم کافی سارا نقصان ہو گیا۔ یہ میری زندگی کی پہلی انویسٹمنٹ تھی، کافی برسوں سے تنخواہیں جوڑ کر رکھی ہوئی تھیں اور میں کافی پریشان تھا۔ میں نے اپنے ایک دوست کو بتایا کہ ایسا ہو گیا ہے۔ اس نے سنتے ہی لمبی چوڑی ایک تقریر کا آغاز کیا۔ میری جو جو غلطی تھی، اسے مزید بڑھا چڑھا کر بیان

Read more

ایرانی شہزادیوں کی حرم میں نایاب تاریخی تصاویر

اُنیس ویں صدی کے ایرانی فرمانروا ناصر الدین شاہ قاچارکی 80 سے بھی زائد بیویاں تھیں۔ اس بادشاہ کے حرم میں موجود ملکاؤں اور شہزادیوں کی تصاویر کو دیکھ کر پتہ چلتا ہے کہ اس وقت خوبصورتی کے معنی آج سے کس قدر مختلف تھے۔ تقریباﹰ تین ہزار سالہ طویل ایرانی بادشاہت کے امین ناصر الدین شاہ قاچار نے تقریباﹰ اڑتالیس برسوں تک ایران پر حکومت کی۔ جہاں پہلے تصویر کشی کا کام مصور سرانجام دیتے تھے، وہاں ناصر الدین

Read more

جرمنی میں پاکستانیوں کے دھتکارے ہوئے بچے

وہ انیس برس کی ترک لڑکی تھی۔ بچہ پیدا ہو چکا تھا اور اس کے والدین میرے دوست کے پاس آئے بیٹھے تھے کہ رضوان سے کہو کہ ہم سے رابطہ کرے، ہم خود سارے انتظامات کریں گے اور اس کے ساتھ اپنی بیٹی کی شادی دھوم دھام سے کر دیں گے۔ کہانی کچھ یوں تھی کہ رضوان (نام تبدیل کر دیا گیا ہے) ڈنکی لگا کر یورپ پہنچا تھا اور اس کے پاس رہائشی کاغذات نہیں تھے۔ کاغذات یا

Read more

پاکستان کے جرمنی کو قرضہ دینے کی کہانی تاریخ کی روشنی میں

آپ کو اکثر پاکستانی نیوز ویب سائٹس اور سوشل میڈیا پر یہ خبر پڑھنے کو ملتی ہے کہ ایک وقت تھا جب پاکستان نے جرمنی کو مالی امداد فراہم کی تھی اور اب پاکستان اس ملک سے امداد حاصل کرتا ہے۔ پاکستان میں معتبر انگریزی اخبار دا نیوز نے نومبر دو ہزار چودہ میں اس حوالے سے ایک آرٹیکل شائع کیا تھا۔ اس کے بعد دو ہزار پندرہ میں یہی دعویٰ پاکستان کے مشہور صحافی جاوید چودھری نے اپنے ایک

Read more

ہماری نئی نسل کا خاموش المیہ

پانچ چھ برس پہلے میرے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ صورتحال اتنی تیزی سے گمبھیر ہوتی چلی جائے گی۔ لیکن گزشتہ چھ ماہ سے جیسے جیسے میں زیادہ غور کر رہا ہوں، ویسے ویسے مجھ پر نئے حقائق آشکار ہو رہے ہیں۔ مسئلہ اپنی جگہ موجود ہے لیکن اس سے بڑھ کر مسئلہ یہ ہے کہ اس حوالے کبھی کچھ پڑھنے میں سامنے نہیں آیا اور نہ ہی کبھی کسی کو اس موضوع پر سنجیدگی سے بات

Read more

صحن میں لگا کیکر

بے بے جی کا نام تو حاکم بی بی تھا لیکن ایسی حاکم بی بی، جس کے نصیب کے سکے کھوٹے تھے۔ پچاس ساٹھ برس پہلے جب ابو جی پھمہ سرا چھوڑ کر آئے تھے تو بابا اور بے بے جی بھی اسی گلی میں آن بسے تھے۔ ہماری گلی میں ابھی آٹھ دس خاندان ہی آ کر آباد ہوئے ہوں گے کہ بابا ابراہیم اور بے بے نے مل کر کریانے کی ایک دکان کھول لی۔ دکان کیا تھی،

Read more

مسئلہ افغانستان: مساجد پر تالوں سے برقع پہننے کی پابندی تک

افغانستان تقریباً چالیس برسوں سے جنگ کے دائرے میں قید ہے۔ اب بہت ہی کم لوگوں کو یاد ہے کہ افغانستان میں مسائل کا آغاز کب، کیسے اور کیوں ہوا تھا؟ یہ سب کچھ پیسے، طاقت یا مذہب کی وجہ سے ہوا؟ اس سوال کا حتمی جواب تو کسی کے پاس نہیں ہے لیکن مختصر تاریخی وجوہات یہ ہیں۔ افغانستان میں مختلف قومیں آباد ہیں لیکن ان میں ایک چیز مشترک ہے۔ وہ ہے مذہب اور آزادی کی طلب۔ افغانستان

Read more

گلی کا کتابی عشق اور شرمندگی

دبلا پتلا سا جسم تھا لیکن نین نقش تیکھے تھے۔ رنگ سانولا تھا لیکن موٹی موٹی آنکھوں میں ہر وقت ایک چمک سی رہتی تھی۔ آنکھوں کے گرد حلقے تھے لیکن یہ تو ان کے سب گھر والوں کے ہی تھے۔

گھر کے چھوٹے موٹے سبھی کام وہ ہی نمٹاتی تھی۔ شاید دو یا تین اس کی بڑی بہنیں بھی تھیں لیکن گلی کی نکڑ پر کریانے کی دکان سے گھی، چینی یا بسکٹ وغیرہ لینے ہمیشہ وہ ہی آتی تھی۔ سبزی لینی ہو، بازار سے کچھ لانا ہو یا درزی کے پاس جانا ہو، یہ سبھی کام وہ ہی سرانجام دیتی تھی۔ سانولے رنگ اور دبلے پتلے جسم کی وجہ سے شاید ہی کسی لڑکے کو اسے مڑ کر دیکھنے کا خیال آتا ہو لیکن مجھے اس میں بہت نفاست نظر آتی تھی۔ بڑے سلیقے سے سر پر دوپٹہ لیا ہوتا تھا، بال ہمیشہ ترتیب میں ہوتے تھے، سلیقے سے مانگ نکلی ہوتی تھی اور وہ آہو چشم اردگرد کی دنیا سے بے خبر صرف اپنے راستے کی تلاش میں رہتی تھی۔

Read more

بے حیا سی لڑکی اور دین دار سا داڑھی والا

اس لڑکی نے کبھی دوپٹہ نہیں اوڑھا تھا۔ کبھی بولڈ مغربی لباس تو کبھی دیسی اسٹائل کے کپڑے۔ بال کھلے ہوتے تھے، میک اپ کی دلدادہ تھی۔ آتے جاتے لڑکوں سے مسکرا کر بات کر لیا کرتی تھی۔ کھلی طبعیت کی لڑکیوں یا لڑکوں کے قصے نہ بھی ہوں تو بنا لیے جاتے ہیں، زبانوں اور کانوں سے نکلی کہانیوں کا سفر جاری رہتا ہے، بلاوجہ لوگوں کو ان کے بارے میں باتیں کر کے سکون ملتا ہے، کہانیاں گڑھ کے مزہ آتا ہے۔

میں جب بھی کسی کے پاس کھڑا ہوتا، اس لڑکی کا ذکر آتے ہی مرد کیا خواتین بھی یہی کہتیں کہ وہ ”بے حیا“ سی لڑکی ہے، اس کا کیا ہے بھلا، اسے اچھے برے کی تمیز ہی کیا ہے، اپنی روایات بھول چکی ہے اور جن لوگوں کی تربیت نہیں ہوتی ایسی حرکتیں ہی کرتے ہیں۔

Read more

آج کے مسلمان اور کافر: بس یہی 2 سینٹ کا فرق ہے!

مجھے تیسرے مہینے بھی یہ میل موصول ہوئی کہ آپ کی ادائیگی میں سے یہ دو سینٹ واپس کر دیے گئے ہیں۔ یہ چند پیسوں سے بھی کم قدر بنتی ہے۔ اتنی چھوٹی رقم کی اطلاع دینے کے لیے بھی، جو خرچ آئے گا وہ اس سے کہیں زیادہ ہو گا۔

پہلے تو میں حیران ہوا کہ اگر یہ کمپنی مجھے اتنی چھوٹی رقم واپس نہ کرتی، مجھے ای میل ہی نہ کرتی تو مجھے کیا پتا چلنا تھا۔ دوسرا اس کی پاکستانی چند پیسوں سے بھی کم قدر بنتی ہے، اس سے مجھے کیا فرق پڑنا تھا؟

Read more

اسرائیل پاکستان سفارتی تعلقات اور پس پردہ پیغامات

بظاہر پاکستان پر اس وقت شدید دباؤ ہے اور یہ دباؤ بھی پرانے خلیجی دوستوں کی طرف سے ہے۔ ماضی میں پرویز مشرف اسرائیل کے ساتھ تعلقات قائم کرنا چاہتے تھے لیکن سعودی عرب نے روک دیا کہ ابھی نہیں، ایک ساتھ کریں گے۔ اب سعودی عرب غیر علانیہ سفارتی تعلقات قائم کر چکا ہے جبکہ متحدہ عرب امارات اور بحرین علانیہ کر چکے ہیں۔ قطر کے پس پردہ مذاکرات جاری ہیں اور ان خبروں کی تردید اب مشکل ہے کہ پاکستان کے ساتھ بھی مذاکرات کا آغاز ہو چکا ہے۔

Read more

بھارت سے متعلق ای یو ڈس انفو کی رپورٹ: جب مجھے نشانہ بنایا گیا

برسلز کے ادارے ”ای یو ڈس انفو لیب“ نے بھارت کا ایک وسیع نیٹ ورک بے نقاب کیا ہے۔ یہ نیٹ ورک کس قدر منظم طریقے سے کام کر رہا تھا، یہ جان کر آپ حیران ہوئے بغیر نہیں رہ سکتے۔ اس میں ”فری بلوچستان کمپین“ کا بھی ذکر کیا گیا ہے کہ یورپ میں اس مہم کو کس طرح بھارتی ”فیک میڈیا“ اسپورٹ کرتا رہا اور کس طرح پلے کارڈز لگائے گئے۔

اسی حوالے سے میں آپ کو اپنا ایک واقعہ سناتا ہوں کہ چند برس پہلے مجھے کس طرح دباو کا نشانہ بنایا گیا، کس طرح نہ صرف میری صحافت پر سوالیہ نشان لگایا گیا بلکہ میری جاب کو بھی براہ راست ٹارگٹ کیا گیا۔

Read more

شلواریں قمیضیں بیچتا ہے تو جنید بڑا اور معتبر نام ہو گیا؟

مجھے میرے دونوں صحافی دوست کہہ رہے تھے کہ دیکھو نہ تو جنید بین الاقوامی سنگر تھا اور نہ ہی وہ عالم دین یا مولانا ہے، جیسا کہ میڈیا میں ڈھنڈورا پیٹا جا رہا ہے۔ ایسے ہی اسے سر پر چڑھایا جا رہا ہے۔ بس یہ ہوا ہے کہ جو کل تک دین اور مذہب کو دکانداری بنانے پر جنید جمشید پر تنقید کر رہے تھے، آج وہ بھی ہوا دیکھ کر اس کی تعریف کر رہے ہیں۔

مجھے اپنے ان دونوں صحافی دوستوں سے شدید اختلاف تھا۔ میں نے کہا کہ آپ صرف یہ ماننا نہیں چاہ رہے کہ کسی داڑھی والے شخص کے اتنے زیادہ چاہنے والے ہو سکتے ہیں۔

Read more

مریم نواز، بلاول بھٹو اور ایک غریب کی سوچ

کہتے ہیں کہ بندے کے اپنے حالات بہتر ہوں تو وہ معاشرتی مسائل سے بیگانہ ہونے لگتا ہے۔ میرے ساتھ بھی شاید ایسا ہی ہوا ہے۔ جب سے معاشی حالات بہتر ہوئے ہیں تو دوسروں کا درد، دکھ اور ان کی تکالیف کا احساس کم ہوتا جا رہا ہے۔ یا ہو سکتا ہے کہ میری نفسیات کے پیچھے یہ بھی ہو کہ انہی غموں، فکروں اور مسائل سے بھاگ کر تو جرمنی آئے تھے۔ شاید لاشعوری طور پر میرے ذہن میں

Read more

امریکی وزیر خارجہ اور ”دہشت گرد ملا برادر“ کی ملاقات

سیکھنے کے لحاظ سے گزشتہ دس برس میرے لیے بہت اہم تھے۔ ہم صحافیوں کو مختلف پیمانوں، قوانین اور ضوابط کے اندر رہتے ہوئے کام کرنا ہوتا ہے۔ جس طرح ماس میڈیا اور آج کل کا سوشل میڈیا آپ کی ذہن سازی کر رہا ہے، اسی طرح صحافیوں کی بھی ذہن سازی ہو رہی ہوتی ہے۔ گزشتہ دس برسوں کے دوران میں نے دیکھا ہے کہ جنگوں کے آغاز کے لیے عوامی ذہن سازی بہت ضروری ہے اور اس کے

Read more

یہ آخری نگاہ

سانولی رنگت والی صوفیہ ڈرائنگ روم میں صوفے پر بیٹھی میرا انتظار کر رہی ہے۔ ہاتھ میں موبائل ہے، شاید اپنی دوستوں کو واپسی کے پلان سے آگاہ کر رہی ہو۔ ہانیلورے اور پاول باہر لان میں کھڑے ہیں لیکن میری نظریں افق کے ساتھ گلے ملتے ہوئے برف پوش پہاڑوں پر جمی ہیں۔ یہ صدیوں سے ایسے ہی ایستادہ ہیں، شاید یہ افق سے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے نتھی ہو چکے ہیں۔ کبھی کبھار بادلوں کا ایک ریلا آتا ہے اور چوٹیاں نئی نویلی دلہن کی طرح شرما کر ان کے پیچھے اپنا دودھیا مکھڑا چھپا لیتی ہیں۔

قریب ہی بہتے ہوئے جھرنے کی آواز کانوں میں رس بھر رہی ہے۔ پانی پتھروں سے ایسے پرترنم انداز سے ٹکرا رہا ہے کہ سماعتیں مسکراتی جاتی ہیں۔ سامنے ٹھہری ہوئی نیلگوں جھیل ایسی محسوس ہو رہی ہے، جیسے پہاڑوں کے دامن میں ایک بہت بڑا زمرد جڑ دیا گیا ہو۔ چوٹیوں سے اترتے ہوئے گھوڑوں کی طرح ہوا کے تر و تازہ جھونکے آتے ہیں تو جھیل کی بالائی سطح پر ارتعاش سی پیدا ہو جاتی ہے۔

Read more

عوام کو اوپر سے کیسے کنٹرول کیا جاتا ہے؟

بیس کی دہائی میں نیویارک کے بینکوں نے ملک بھر میں نئے ڈیپارٹمینٹل اسٹورز کی چینز کو فنانس کرنا شروع کر دیا۔ ان اسٹوروں پر بڑے پیمانے پر تیار کی جانے والی اشیاء رکھی گئیں اور برنیز کو ایسے نئے صارفین تیار کرنے کا ہدف دیا گیا جو ان کو خریدیں۔ برنیز نے مختلف تجربات کرنا شروع کر دیے۔ برنیز کا ایک کلائنٹ ولیم رانڈولف ہوسٹ بھی تھا، جس نے اپنا خواتین کا میگزین پروموٹ کرنے کا کہا۔ بیرنیز نے

Read more

ذہنی دباؤ اور میڈیا کا آپس میں تعلق

امریکی مصنف مارک ٹوین کا ایک مشہور قول ہے، ”اگر آپ اخبار نہیں پڑھتے تو آپ ان انفارمڈ ہیں اور اگر آپ پڑھتے ہیں تو آپ مس انفارمڈ ہیں۔“
میری ذاتی رائے میں آج کے انسان کے ذہنی دباؤ اور پریشانی کی ایک بڑی وجہ آج کا الیکٹرانک اور سوشل میڈیا بھی ہے۔

میں جرمنی میں نیا نیا آیا تو ایک مصری کے پاس کام ملا، کام یہ تھا کہ ٹی وی کی مرمت کے اشتہارات لوگوں کے پوسٹ باکس میں ڈالنے تھے۔ ایک دن مصری نے مجھے دریائے رائن کے کنارے واقع امرا کے گھروں کے پاس اتارا کہ ان کے پوسٹ باکسز میں اس کے وزٹنگ کارڈ نما اشتہارات ڈالنے ہیں۔

Read more

ایک دوسرے پر کیک پھینکنے کا نیا رجحان

ویسے تو یہ آپ کی نجی زندگی ہے، سالگرہ بھی آپ کی ہوتی ہے، پیسے بھی آپ کے ہیں، ایسا کرنا شاید آپ کے لیے باعث مسرت اور خوشی بھی ہو لیکن مجھے یہ بات عجیب سی لگتی ہے۔

آپ ذرا اندازہ لگائیں کہ اس کے پیچھے محنت کتنی ہے۔ ایک کسان کتنی محنت کرتا ہے، بھینسوں کی دیکھ بھال ہوتی ہے، چارہ تیار ہوتا ہے، صبح سویرے کوئی اٹھتا ہے، آپ کے لیے دودھ نکالتا ہے اور پھر حفاظت کے ساتھ آپ تک پہنچایا جاتا ہے۔ کئی خوش قسمت کوئی کلو دو کلو خریدتے ہیں اور لاکھوں پاکستانی ایک کلو بھی خریدنے کی سکت نہیں رکھتے۔

Read more

’میں سب سے بڑے ایڈونچر کے لیے تیار ہوں‘ – مستنصر حسین تارڑ کا انٹرویو

کچھ خواتین و حضرات چہل قدمی کر رہے تھے، کچھ بھاگ رہے تھے اور کچھ موٹی توندوں والے بابو ٹائپ حضرات وہاں لگے بینچوں پر سویرے سویرے ملکی سیاست پر تبصرے کرنے میں مصروف تھے۔

لیکن ماڈل ٹاؤن پارک کے اس جاگنگ ٹریک پر ہماری نظریں صرف مستنصر حسین تارڑ صاحب کو تلاش کر رہی تھیں، سچ پوچھیے تو میں اپنے بچپن کے ’چاچا جی‘ کی تلاش میں تھا، جن کی آواز کے ساتھ ہماری صبح ہوتی تھی۔

آنکھوں کی چمک آج بھی ویسی ہی تھی، جیسی پچیس برس پہلے ہوا کرتی تھی، لیکن بڑھاپے کی چار دیواری میں گھری ان آنکھوں میں ہلکی سرخ ڈوریاں ماضی کی ان گنت جاگتی راتوں کا پتا دے رہی تھیں۔ ’پانامہ ہیٹ‘ کے نیچے سے سفید بال چمک رہے تھے، نیلے ٹراؤزر کے اوپر کیسری رنگ کی فلیس کی شرٹ، اپر نارتھ فیس کا تھا، پاؤں میں جاگنگ شوز اور گلے میں سرمئی رنگ کا مفلر۔

Read more

عمران خان، ڈاکٹر الف نون اور پیجو نائی

گلی میں میں ڈھول کی آواز آ رہی تھی، گاؤں دیہاتوں میں آج بھی گھروں کے دروازے سارا دن کھلے ہی رہتے ہیں، بس برائے نام ایک پردہ وغیرہ ہی لٹکا ہوتا ہے یا پھر وہ بھی نہیں۔ پنوں مراثی ڈھول کی تھاپ کے ساتھ ساتھ ہر گھر میں ایک ایک پمفلٹ بھی پھینکتا جا رہا تھا۔

اس وقت ہمارے لیے مارکیٹنگ کا یہ طریقہ بالکل نیا تھا۔ اس سے پہلے ایک مرتبہ ہم نے یہ دیکھا تھا کہ محترمہ بے نظیر بھٹو کی دوسری حکومت سے پہلے ہیلی کاپٹر سے انتخابی پمفلٹ پھینکے گئے تھے اور ہم کھیتوں میں نوٹوں کی طرح انہیں پکڑنے کے لیے بھاگتے رہے تھے۔

پنوں مراثی ہر ایک کو خوشخبری سنا رہا تھا کہ ساتھ والے محلے میں ڈاکٹر الف نون آ گئے ہیں۔ اس پمفلٹ پر ڈاکٹر صاحب کے نام کے ساتھ ایم بی بی ایس، ایم ایس اور کئی دیگر ڈگریوں کے نام بھی لکھے ہوئے تھے، جو ہم میں سے کسی کو بھی نہیں پتا تھے۔

Read more

سگریٹ پیتی ہوئی لڑکی

ابو جی نے سرخ رنگ کی گرگابی پہنی ہوئی تھی، کندھے پر حسب معمول صافہ تھا، ایک ہاتھ سے تہمد پکڑی ہوئی تھی اور دوسرے ہاتھ سے میرا ہاتھ مضبوطی سے تھاما ہوا تھا۔

ابو جی نے سروسز ہسپتال کے سامنے والی سڑک عبور کرنے کے لیے بڑے اشارے کیے، ہاتھ ہلا ہلا کر کہا کہ کوئی گاڑی، موٹر سائیکل یا رکشہ آہستہ کرے، ٹریفک آہستہ ہو تو ہم سڑک کراس کرسکیں لیکن گاڑیاں آتی تھیں اور شراٹے بھرتے ہوئے گزر جاتی تھیں۔

میں ابو جی سے بھی زیادہ سہما ہوا تھا، یوں لگ رہا تھا کہ بے ہنگم طریقے سے ٹوں ٹوں ٹاں ٹاں کرتیں گاڑیاں ہمیں اپنے ٹائروں تلے روندتے ہوئے گزر جائیں گی۔ ابو جی دو چار قدم آگے بڑھتے لیکن گاڑیوں کی سپیڈ اور حالات کی نزاکت کا اندازہ کرتے ہوئے فوراً پسپائی اختیار کر لیتے۔ میرا دل شاید ان سے بھی زیادہ تیزی سے دھک دھک کر رہا تھا، ہم پریشان تھے کہ لاہور کی سڑک کراس کرنا ہی ہمارے لیے نانگا پربت سر کرنے جیسا ہو گیا تھا۔ پھر اللہ بھلا کرے وہاں کھڑے ایک شخص کا، جس نے کہا کہ آؤ بزرگو! میں آپ کو سڑک پار کرواتا ہوں۔ نوشہرہ ورکاں کی چھوٹی سی دنیا سے نکل کر یہ لاہور سے میرا پہلا تعارف تھا۔

ڈاکٹر عبدالجبار اب تو شاید کینیڈا میں ہوتے ہیں لیکن اس وقت سروسز ہسپتال کے شعبہ امراض دل کے انچارج تھے۔

Read more

پاکستانی حقہ، جرمن اسٹوڈنٹ یونین اور فیسوں میں اضافہ

ہر جرمن لڑکی اور لڑکا سب سے پہلے آ کر یہی پوچھتا تھا کہ یہ اتنا خوبصورت حقہ (شیشہ) کہاں سے آیا ہے؟ حقہ گھومنے والا تھا۔ لمبے پائپ پر گولڈن تلہ تھا اور چلم بھی رنگ برنگی تھی۔ یہ میں خاص طور پر گوجرانوالہ سے لے کر گیا تھا اور اس احتجاجی کیمپ کی جان بنا ہوا تھا۔ یونیورسٹی آف بون کے وسیع و عریض گارڈن میں یہ احتجاج چھٹے روز میں داخل ہو چکا تھا لیکن لڑکوں اور

Read more

’ڈیپ نیوڈ‘ ٹیکنالوجی سے ملبوس خواتین کی برہنہ تصاویر

رپورٹ میں ایک اور خطرناک ٹیکنالوجی کا حوالہ بھی دیا گیا ہے۔ اس ٹیکنالوجی کا نام ’ڈیپ نیوڈ‘ ہے۔ اس ٹیکنالوجی کی ذریعے ایک ملبوس خاتون کی تصویر لی جاتی ہے اور پھر ٹیکنالوجی اس کے جسمانی خد و خال کا جائزہ لیتے ہوئے ایک ایسی تصویر تیار کر دیتی ہے، جو برہنہ ہوتی ہے اور دیکھنے میں بالکل اصلی لگتی ہے۔ یہ ٹیکنالوجی صرف خواتین کے لیے تیار کی گئی ہے اور اس سے مردوں کی تصاویر تیار نہیں کی جاتیں۔

Read more

اگر وہ صلاح الدین کی بجائے نواز شریف یا زرداری ہوتا۔ ۔ ۔

مجھے پڑھے لکھے دوست کہتے ہیں کہ تم تاریخ کی غلط سائیڈ پر کھڑے ہو۔ جب تم آج کے ”جمہوری نمائندوں“ کے ”خلاف“ لکھتے ہو تو اصل میں تمہاری سوچ جمہوریت مخالف ہے۔ اس فقرے کا مجھ پر نفسیاتی دباؤ اس قدر پڑا ہے کہ میں نے گزشتہ چند ماہ سے پاکستانی سیاست اور خاص طور پر مسلم لیگ نون اور پیپلز پارٹی کے حوالے سے کچھ بھی لکھنا مناسب نہیں سمجھا۔

Read more

مسئلہ کشمیر: اہم مسلم ممالک کس کے ساتھ کھڑے ہیں؟

سعودی عرب، ایران، ترکی، متحدہ عرب امارات، کویت، قطر، بحرین اور عمان کو اسلامی دنیا کے اہم ممالک تصور کیا جاتا ہے۔ ان میں سے کون سا ملک اس وقت کس کے ساتھ کھڑا ہے؟ جانیے کون سا مسلمان ملک بھارت کا کیوں ساتھ دے رہا ہے؟

کشمیر کی صورت حال کے حوالے سے خلیج کے تقریبا سبھی عرب ممالک خاموش ہیں۔ اس خاموشی کی سب سے بڑی وجہ ان مسلمان ملکوں کے بھارت کے ساتھ تجارتی روابط ہیں۔ بھارت جزیرہ نما عرب کا انتہائی اہم اقتصادی پارٹنر ہے اور ان ممالک کے ساتھ سالانہ ایک سو ارب ڈالر سے زیادہ کی تجارت کرتا ہے۔

Read more

زیادہ اچھے نمبروں کی دوڑ میں بچوں کو مریض مت بنائیے

وہ ویسے ہی سہما ہوا تھا، ہونٹوں پر پپڑی جمی ہوئی تھی، بلب کی روشنی میں اس کا رنگ مزید پیلا لگ رہا تھا، آنکھیں بُجھی بُجھی سی تھیں، کندھوں پر ایک وزنی بستہ تھا۔ تھکاوٹ سے چور اس بچے نے مجھ سے ہلکا سا ہاتھ ملایا اور چپ کر کے چارپائی پر بیٹھ گیا۔ میں نے اپنے رشتہ داروں سے فورا پوچھا کہ یہ عشاء کے وقت کہاں سے آ رہا ہے؟ بچے کی امی جی نے فورا جواب دیا ماشا اللہ ٹیوشن سے ابھی واپس آیا ہے، سارا دن پڑھتا ہے، کھیل کی طرف بھی کم ہی دھیان جاتا ہے، ماشا اللہ سے لائق ہے۔

Read more

حکومتیں عوام کو کیسے بے وقوف بناتی ہیں؟

اس کے بعد امریکی خفیہ ادارے سی آئی سے نے بھی فرائیڈ فیملی کی تیار کردہ تکنیکس استعمال کرنے کا وسیع پروگرام شروع کیا اور اس سلسلے میں سب سے پہلا تجربہ دوسری عالمی جنگ کے ان فوجیوں پر کیا گیا، جو شدید نفسیاتی دباؤ کا شکار تھے۔ یہ امریکا میں نفسیات دانوں یا تحلیل نفسی کے شعبے کے عروج کا آغاز تھا۔ اب بات صرف ماڈل کنزیومرز (صارفیں) کی نہیں بلکہ ماڈل شہری تخلیق کرنے کی جا رہی تھی۔

Read more

‎پاکستان کیوں افغانستان میں مداخلت کرتا ہے؟

‎پاکستان اور افغانستان کے تعلقات ان دنوں ایک مرتبہ پھر کشیدہ ہیں۔ پاکستان اور افغانستان کے تعلقات مسلسل کیوں کشیدہ رہتے ہیں یہ سمجھنے کے لیے تاریخ کا تھوڑا سا مطالعہ ضروری ہے۔ سنہ 1823 میں نوشہرہ کی جنگ کے بعد درہ خیبر تک کا علاقہ رنجیت سنگھ کی پنجابی سلطنت میں شامل ہو چکا تھا جو کہ برطانوی راج کے پنجاب پر قبضے کے بعد اس کی سلطنت کا حصہ بن گیا۔ پاکستان اور افغانستان کے کشیدہ تعلقات کی جڑیں 1893ء میں شروع ہونے والے مسئلہ پختونستان سے جڑی ہوئی ہیں۔ اس وقت برطانوی راج کے نمائندے سر ہنری مورٹیمر ڈیورنڈ نے برطانوی ہندوستان اور افغانستان کو الگ کرنے کے لیے ڈیورنڈ لائن کی بنیاد رکھتے ہوئے ایک سرحد قائم کی، جس سے پختون قبائل دو حصوں میں تقسیم ہوئے۔

Read more

اگر آبنائے ہرمز میں جنگ ہوئی تو شعلے پاکستان تک پہنچیں گے

تمام مشرق وسطی میں دو سب سے اہم ترین مقامات آبنائے ہرمز اور باب المندب ہیں۔ جمعرات کو انہی دو میں سے ایک مقام پر دو آئل ٹینکروں کو نقصان پہنچایا گیا ہے۔ اگر یہ ایک منظم حملہ ہوا ہے تو اس کی چنگاریاں تمام مشرق وسطی کو جنگ کی آگ میں دھکیل دینے کی سکت رکھتی ہیں۔انگریز شاعر جان ملٹن نے 1667 میں ”پیراڈائز لاسٹ“ میں لکھا تھا، ”شیطان ہیروں اور جواہرات سے مزین ایک شاہی تخت پر بیٹھا ہے اور اس کا قبضہ ہندوستان سے لے کر ہرمز کے خزانوں پر ہے۔ “

Read more

والدین کے سامنے اولاد کی تعریف

ان دو میں سے ایک واقعے نے تو مجھ پر، میری یادوں اور میرے رویے پر بہت گہرے اثرات مرتب کیے ہیں۔میں آپ سب سے معذرت خواہ بھی ہوں اور مجھے کبھی کبھار خود بھی اس بات کا احساس ہوتا ہے کہ جب پاکستان اور دنیا کو اتنے اہم مسائل کا سامنا ہے، لوگ ادب پر لکھ رہے ہیں، انسانی حقوق کی پامالیوں کے خلاف کھڑے ہیں تو میں کیوں چھوٹی چھوٹی باتوں اور رویوں کو موضوع بناتا ہوں۔ لیکن پھر یہ خیال بھی آتا ہے، جو چھوٹی سی بات میرے اندر تبدیلی کا باعث بنی ہے، یا جس سے مجھے خوشی پہنچی ہے، شاید اس سے کسی دوسرے شخص کو بھی خوشی پہنچے یا کسی دوسرے شخص کو بھی پسند آ جائے؟ تو ان دو واقعات کا بھی میری خوشی اور ایک رویے میں تبدیلی سے بہت گہرا تعلق ہے۔

Read more

آپ نفسیاتی مریض بن جائیں گے

کل میرے ایک دوست عدنان نے مجھے یہ پیغام بھیجا۔ وہ خوش طبع ہیں لیکن حساس طبیعت کے بھی مالک ہیں۔ پاکستان میں موجود میرے کئی دوست آج کل اسی کیفیت میں مبتلا ہے۔ گزشتہ چند ماہ سے میرے کئی دوست ایسی کیفیت کا اظہار کر چکے ہیں۔ پلیز آپ پہلے عدنان کا یہ میسیج پڑھ لیں۔ “کبھی کبھی میرا دل کرتا ہے اس تعفن زدہ معاشرے سے بھاگ جاؤں، ٹی وی سے کوسوں دور ہو جاؤں، سوشل میڈیا جب

Read more

پاکستان: جمہوریت کرپشن اور خاندانی سیاست سے گلے ملتی ہے

جمہوریت کے ابھی پر نہیں نکلے تھے۔ پانچ برسوں میں ایک مرتبہ ہی ووٹ ڈالیں جائیں یا ہر بڑے حکومتی فیصلے سے قبل عوامی ریفرنڈم کا انعقاد کروایا جائے کی بحث جاری تھی۔ سن انیس سو بتیس میں صدر فرینکلن ڈی روزویلٹ کی ’دا نیو ڈیل تھیوری‘ کا آغاز ہو چکا تھا۔ لیکن ان کے مقابلے میں اس وقت کے سرمایہ دارانہ نظام اور کیپٹیلزم کے نمائندے ایڈورڈ برنیز نے کہا تھا کہ آپ جمہوریت کو کیپٹلزم سے الگ نہیں کر سکتے۔ ان کی شادی ضروری ہے ورنہ جمہوریت ناکام ہو جائے گی۔ وہ کہتے تھے ترقی کے پیچھے حکومتوں کا نہیں بلکہ کاروباری اداروں کا ہاتھ ہوتا ہے۔

جمہوریت اور سرمایہ دارانہ نظام کو ایک ساتھ نتھی کرنے کا ایک منفی نتیجہ یہ نکلا ہے کہ دنیا کی دولت سمٹ کر چند ملٹی نیشنل کمپنیوں، چند خاندانوں اور ایک مخصوص طبقے کے ہاتھ میں آتی جا رہی ہے۔ سن دو ہزار آٹھ کا معاشی بحران اسی ضمن میں پہلا جھٹکا تھا۔ یہ جوڑ کب تک چل پاتا ہے، مزید دس برس، بیس برس یا پچاس برس یا کئی صدیاں فی الحال کچھ کہنا مشکل ہے۔ لیکن پاکستان میں جمہوریت کو فوج کے علاوہ بھی ایک شدید بحران کا سامنا ہے۔ یہاں جمہوریت کیپٹلزم کے علاوہ کرپشن اور خاندانی سیاست سے بھی گلے مل چکی ہے۔ یہ مرکب جمہوریت کے لیے سب سے زیادہ خطرناک ہے۔

Read more

ایک پنجابی کا دکھ

گرمیوں کی چاندنی راتوں میں ”لکن میٹی“ ہمارا پسندیدہ ترین کھیل ہوتا تھا۔ بعض اوقات مغرب کے وقت ہی ہم یہ کھیلنا شروع کر دیتے تھے۔ چھوٹی عمر کے لڑکے لڑکیاں سبھی مل کر کھیلتے تھے۔ وہ معصوم چہرے، پکڑے جانے کے خوف سے تیز دھڑکتے دل، نیم اندھیرے میں خوشی سے چمکتی آنکھیں، خاموش رہنے کی تنبیہ کے ساتھ ہونٹوں پر رکھی انگلیاں، بات بے بات نکلتی ہنسی، سبھی کہیں ماضی میں ہی گم ہو گئے ہیں۔

مٹی کی کوٹھڑیوں میں، کھڑی چار پائیوں کے پیچھے، صحن میں لگے درختوں کی اوٹ میں چھپنا، سبھی کچھ نہر میں گرے سکے کی طرح کہیں کھو گیا ہے۔ کبھی یادوں کی ڈبکی لگتی ہے تو نہر کی تہہ سے صرف مٹی ہاتھ آتی ہے۔

پاکستان میں اور کچھ میری طرح دیار غیر میں بیٹھی الف انار اور بے بکری والا قاعدہ پڑھنے والی آخری نسل یادوں کے دیے جلائے اپنے آخری دن پورے کر رہی ہے۔

Read more

عمران خان، ڈاکٹر الف نون اور پیجو نائی

گلی میں میں ڈھول کی آواز آ رہی تھی، گاؤں دیہاتوں آج بھی گھروں کے دروازے سارا دن کھلے ہی رہتے ہیں، بس برائے نام ایک پردہ وغیرہ ہی لٹکا ہوتا ہے یا وہ بھی نہیں۔ پُنوں مراثی ڈھول کی تھاپ کے ساتھ ساتھ ہر گھر میں ایک ایک پمفلٹ بھی پھینکتا جا رہا تھا۔

اس وقت ہمارے لیے مارکیٹنگ کا یہ طریقہ بالکل نیا تھا۔ اس سے پہلے ایک مرتبہ ہم نے یہ دیکھا تھا کہ محترمہ بے نظیر بھٹو کی دوسری حکومت سے پہلے ہیلی کاپٹر سے انتخابی پمفلٹ پھینکے گئے تھے اور ہم کھیتوں میں نوٹوں کی طرح انہیں پکڑنے کے لیے بھاگتے رہے تھے۔

پُنوں مراثی ہر ایک کو خوشخبری سنا رہا تھا کہ ساتھ والے محلے میں ڈاکٹر الف نون آ گئے ہیں۔ اس پمفلٹ پر ڈاکٹر صاحب کے نام کے ساتھ ایم بی بی ایس، ایم ایس اور کئی دیگر ڈگریوں کے نام بھی لکھے ہوئے تھے، جو ہم میں سے کسی کو بھی نہیں پتا تھے۔ ڈاکٹر صاحب ایک دم مشہور ہو گئے تھے اور پر کوئی ڈاکٹر صاحب، ڈاکٹر صاحب کرنے لگا تھا۔

Read more

صحافی، سیاستدان، انسانی حقوق کے کارکن اور نازیبا الفاظ کا استعمال

محترم مبشر زیدی صاحب نے کل اپنے ایک ٹوئٹر پیغام میں پاکستان کے چیف جسٹس صاحب کے لیے چند “نازیبا” الفاظ کا استعمال کیا ہے۔ مجھے کم از کم ایک پڑھے لکھے اور کتب شناس شخص سے یہ توقع ہرگز نہیں تھی۔ مجھے یوں لگا جیسے وہ وقاص گورائیہ بن گئے ہوں۔ وقاص گورائیہ صاحب سے چند ماہ پہلے ملاقات ہوئی تو میں نے ان سے بھی گزارش کی تھی کہ پلیز الفاظ کے چناو میں خاص توجہ دیں، آپ

Read more

جہاں محبت کی سزا موت ہے

جمے ہوئے خون پر مکھیاں بھنبھنا رہی ہیں، بال بکھرے ہوئے ہیں اور روشنی سے عاری آنکھیں اپنی جگہ ساکت ہیں۔ گردن ایک طرف لٹک رہی ہے تو دھڑ دوسری طرف، تیز دھار چھری سے اس لڑکی کا گلا کاٹ دیا گیا ہے۔ یہ محبت کی سزا ہے۔ نحیف سے جسم والی چھبیس سالہ مدیحہ کی لاش چند روز پہلے ایک کھیت سے ملی تھی۔ ایک مقامی کسان نے دیکھتے ہی پولیس کو فون کیا۔ موقع پر بنائی جانے والی

Read more

کھیتوں سے لے کر مساجد تک، کن طریقوں سے پانی کی بچت ممکن ہے؟

نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر کے ممالک کو میٹھے پانی کی کمی کے مسائل کا سامنا ہے۔ پانی کی تقسیم پر جنگوں کا نظریہ اب حقیقت کا روپ دھارتا نظر آتا ہے۔ جانیے کہ پاکستان کس طرح اپنے پانی کے مسائل سے نمٹ سکتا ہے؟ پاکستان اور اس کے بڑے شہروں میں آبادی انتہائی تیز رفتاری سے بڑھ رہی ہے، زیر زمین پانی کی سطح کم ہو رہی ہے اور شمال میں واقع گلیشیئرز تیزی سے پگھلتے جا رہے

Read more

جادو نگری سے آیا ہے کوئی جادوگر

آج مغرب تک تو حبس اور پسینے سے برا حال تھا لیکن اکتوبر کی اس پہلی بارش نے ہی موسم کے ساتھ ساتھ احساس کو بدل کر رکھ دیا ہے۔ رات کے بارہ بج چکے ہیں اور حبس کا زور ٹوٹ چکا ہے۔ بارش تو ایک گھنٹے بعد ہی رک گئی تھی لیکن لائٹ ابھی تک نہیں آئی۔ میرے پاؤں تو چھت پر ہیں لیکن میں خود کو آندھی کی طرح تیز اور اپنے ساتھ چھوٹی چھوٹی بوندیں لے کر

Read more

پاکستان اور اسرائیل کے مابین خفیہ سفارت کاری

حالیہ چند برسوں میں سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور قطر جیسے عرب ممالک کا رویہ اسرائیل کے حوالے سے نرم ہوا ہے۔ ترکی، اردن اور مصر پہلے ہی تعلقات استوار کر چکے ہیں۔ تازہ حالیہ تبدیلیاں اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات کی طرف پیش قدمی کا بھی اشارہ ہیں۔

پاکستان ابھی تک تین بنیادی وجوہات کی بناء پر اسرائیل سے تعلقات قائم نہیں کر سکا۔ نمبر ایک عرب مسلم ممالک کے ساتھ مذہبی یکجہتی کی وجہ سے، نمبر دو دنیا بھر میں قدامت پسند مسلمان تنظیموں کے رد عمل کی وجہ سے، اور نمبر تین ملک کے اندر سیاسی عدم استحکام اور مذہبی گروپوں کے رد عمل کے خوف سے۔ اگر سعودی عرب سفارتی تعلقات استوار کرتا ہے اور کچھ ہی عرصے بعد پاکستان بھی اس کی پیروی کرے گا۔ ترک، اردن یا پھر مصر ماڈل کو اپنا لیا جائے گا۔

ماضی میں سیاسی سطح پر پاکستان اور اسرائیل کے مابین کب کب اور کہاں کہاں خفیہ رابطے ہوئے۔ شہباز شریف ، بے نظیر بھٹو، اکرم ذکی، پرویز مشرف، ظفراللہ خان، شہریار خان، گوہر ایوب خان، مولانا اجمل قادری، خورشید قصوری، سیدہ عابدہ حسین، رفیق تارڑ اور جمشید مارکر کن کن اسرائیلیوں سے اور کب کب ملے، اس کا اندازہ سابق اسرائیلی سفیر اور تین کتابوں کے مصنف ڈاکٹر موشے کا ایک تحقیقی مقالہ، اسرائیلی اسٹیٹ آرکائیو، سینٹرل زینوسٹ آرکائیو اور اسرائیلی وزارت خارجہ کے آرکائیو کی شائع کردہ دستاویزات پڑھنے سے ہوتا ہے۔ اس تحریر میں صرف سیاسی سطح پر ہونے والے رابطوں کا احاطہ کیا گیا ہے۔ اس میں فوجی اور خفیہ ایجنسیوں کی سطح پر ہونے والے رابطے شامل نہیں ہیں۔

Read more

خان صاحب کی بیڈ لک، تیل مہنگا اور عالمی معیشت زوال پزیر

اسے نواز شریف صاحب کی خوش قسمتی سمجھیے کہ جب وہ اقتدار میں آئے تو عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتیں نچلی ترین سطح (37 ڈالر فی بیرل تک) پر تھیں۔ اور اسے عمران خان کی بدقسمتی سمجھیے کہ انہیں اقتدار ایک ایسے وقت میں ملا ہے، جب عالمی مارکیٹ میں نہ صرف تیل کی قیمتیں (72 ڈالر فی بیرل) بڑھ رہی ہیں بلکہ ایک نیا عالمی معاشی بحران سر اٹھا رہا ہے۔ آپ صرف پاکستانی روپے اور ڈالر

Read more

جمہوریت اور کیپٹل ازم کا جوڑ کب ہوا؟

امریکا میں جمہوریت کی مخالفت میں اضافہ ہوتا جا رہا تھا۔ سن 1932ء میں نئے امریکی صدر کا انتخاب کیا گیا، جس نے فری مارکیٹ کو ریاستی طاقت سے کنٹرول کرنے کا اعلان کیا۔ تاہم صدر فرینکلن ڈی روزویلٹ نے جمہوریت کی مخالفت کی بجائے ایک نئے طریقے سے اسے مزید مضبوط بنانے کا اعلان کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ عوام کی دماغ سازی کرنے، ان کے لاشعور میں چھپی خواہشات اور جذبات سے کھیلنے کی بجائے عوام کے

Read more

کامیاب کیرئیر اور ترقی کرنے کا تھکا دینے والا سفر

انسان کا سفر ضرورتوں سے شروع ہوتا ہے اور اسے پتا ہی نہیں چلتا کہ کب یہ سفر ضرورتوں سے ہٹ کر خواہشات، پیسے جمع کرنے کے شوق، نوٹ گننے یا بینک بیلنس بنانے کی ہابی میں تبدیل ہو چکا ہے۔ میرے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی ہوا ہے۔ گھر سے ضرورتیں پوری کرنے نکلے تھے اور پھر آج تک گاؤں مستقل واپسی نہیں ہو سکی۔ ماں باپ اور بہن بھائیوں کو اسی آس پر چھوڑا تھا کہ ترقی کر

Read more

پھولوں کا جزیرہ اور صوفیہ کا ساتھ

صوفیہ اور میری سائیکل ساتھ ساتھ تھی۔ کبھی وہ آگے نکلنے کی کوشش کرتی اور کبھی میں اور کبھی ہم دونوں ہی تھک کر سائیکل آہستہ آہستہ ایک ساتھ چلانا شروع کردیتے۔ ٹیولپ کے سرخ، پیلے، زعفرانی اور نرگس کے سفید پھول تاحد نگاہ پھیلے ہوئے تھے۔ گلِ لالہ اور نرگس کے اتنے زیادہ اور اتنے وسیع رقبے پر پھیلے یہ پھول میں نے زندگی میں پہلی مرتبہ دیکھے تھے۔ یہ کھیت کائنات کے کسی اَن دیکھے طلسماتی جزیرے کے

Read more

خواتین نے سیگریٹ پینا کب اور کیسے شروع کیے؟

ایڈروڈ برنیز (Edward Bernays) دنیا کے وہ پہلے شخص تھے، جنہوں پروپیگنڈا کی بجائے پبلک ریلشنز یا پی آر کی اصطلاع متعارف کروائی تھی۔ یہ وہ پہلے شخص تھے، جنہوں نے خواتین کو سیگریٹ پلانے کا تجربہ کیا تھا۔ یہ وہ پہلے شخص تھے، جنہوں نے عوام یا یجوم کو کنٹرول کرنے کے طریقوں کی بنیاد رکھی تھی۔ بیسویں صدی پر ایڈروڈ برنیز کا اثر سگمنڈ فرائیڈ سےکم نہیں ہے لیکن بہت ہی کم لوگ ان کے بارے میں جانتے

Read more

پاکستانیوں کی چند حیران کن خوبیاں

* پاکستانی نوجوان زندہ دل ہیں، ہزار کمیوں کوتاہیوں کے باوجود جب فلاحی کام کرنے پر آتے ہیں تو محدود وسائل کے باوجود دن رات ایک کر دیتے ہیں، خلوص اور دل سے کام کرتے ہیں۔ اس کی تازہ مثال اگست میں ”درخت لگاؤ مہم“ کی ہے۔ یہ مہم حیران کن طور پر کامیاب جا رہی ہے۔ اگر میں اپنے دوستوں کا ہی اندازہ لگاؤں تو تقریبا بیس فیصد نے پودے لگائے ہیں۔ اس مہم میں زیادہ تر نوجوان شامل

Read more

جہانگیر ترین اور ہمارے گاؤں کی پہلی بس

ہمارے گاؤں سے شیخوپورہ جانے والی سب سے پہلی بس فجر کی اذانوں کے وقت نکلتی تھی۔ ڈرائیور اڈے میں کھڑی بس سے انتہائی اونچا ہارن بجانا شروع کر دیتا تھا اور گھر چار پائیوں پر لیٹے لوگوں کو پتا چل جاتا تھا کہ پہلی بس نکلنے والی ہے۔ بس کے ڈرائیور کو ایک ایک اسٹاپ کا پتا ہوتا تھا کہ یہاں سے بس میں کون بیٹھے گا۔ صبح صبح سب سے زیادہ سبزی اور پھل فروش ہی چڑھتے تھے

Read more

میری جرمن ڈاکٹر کا ٹوتھ پیسٹ سے مسواک تک کا سفر

میں ڈاکٹر کرسٹینا کے پاس تقریباً دس برس قبل دانتوں کا معائنہ کروانے کے لیے گیا تھا۔ چیک اپ کرتے ہوئے اس نے کہا، ”لگتا ہے تم چاکلیٹ اور میٹھی چیزیں کم کھاتے ہو، تمہارے دانت مضبوط ہیں اور کہیں بھی کیڑا لگا نظر نہیں آ رہا۔‘‘ میں نے جواب دیا کہ میں شوق سے میٹھی چیزیں کھاتا ہوں لیکن ماضی میں باقاعدگی سے مسواک کرتا رہا ہوں، ابھی جرمنی آ کر ٹوتھ پیسٹ کا باقاعدگی سے استعمال شروع کیا

Read more

ایک نئی امید پیدا ہوئی ہے

عمران خان کے پاس الیکشن کی صورت میں اقتدار میں آنے کا یہ شاید آخری موقع تھا، ان کے لیے یہ میک یا بریک کی صورتحال تھی۔ آج اپنی پہلی تقریر میں جن مسائل کا، جس احسن طریقے سے انہوں نے ذکر کیا ہے، وہ ایک عام، غریب اور مڈل کلاس طبقے کا دل جیت لینے کے لیے کافی ہیں، بلکہ ان کے الفاظ کسی بھی باشعور انسان کا دل جیتے کے لیے کافی ہیں۔ دھاندلی اور ملکی فوج کی

Read more

اگر میں ”محکمہ زراعت“ ہوتا

* اگر میں ”محکمہ زراعت“ ہوتا تو مجھے اچھی طرح معلوم ہوتا کہ اس وقت خطے میں فیصلہ کن معاشی اور سیاسی فیصلے کیے جا رہے ہیں۔ اس لیے میری کوشش ہوتی کہ کوئی بھی ایسی حکومت نہ آئے جو خطے میں میری پالیسیوں کو چیلنج کرے، اور میرا مقابلہ کرنے پر اتر آئے۔ * میری سب سے پہلی کوشش ہوتی کہ نواز شریف کی طرح اکثریتی حکومت نہ بنے۔ میں اس مرتبہ معلق پارلیمان کو ترجیح دیتا، کمزور حکومت

Read more

ریحام خان اب آپ اخلاقی لحاظ سے کتنا گریں گی؟

یہ اس معاشرے کے زوال کی نشانیاں ہیں، پستی کو ظاہر کرتی ہیں، کونے کونے میں بکھری بدبودار جہالت کو عیاں کرتی ہیں۔ یہ ذہنوں کی گندگی اور سوچوں کا کوڑا کرکٹ ہے۔ چند دن پہلے مجھے تحریک انصاف کے کارکنوں کی ان گھٹیا حرکتوں پر بہت دکھ ہوا کہ وہ نواز شریف کے گھر پر حملہ کر رہے ہیں اور محترمہ کلثوم نواز کی بیماری کا طرح طرح سے مذاق اڑا رہے ہیں۔ مجھے زیب نہیں دیتا کہ میں

Read more

پاکستانی سیاست کے بنارسی ٹھگ

پاکستان کے قیام سے لے کر اب تک صرف چار سو خاندان اس ملک کی سیاست پر راج کرتے آئے ہیں۔ ان خاندانوں کو مزید تقسیم کر دیا جائے تو ان کی تعداد تقریباً ایک ہزار بنتی ہے۔ آج تک یہی بے رحم ایلیٹ کلاس اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھ کر سسکتے، بلکتے غریب عوام کو خوشحال بنانے، انہیں تین وقت کی روٹی دینے، سڑکیں، گلیاں، تعلیم اور صاف پانی فراہم کرنے کے نعرے لگاتی آئی ہے۔ پاکستان میں بدترین

Read more

جو نہیں ہو گا وہ اخبار میں آ جائے گا

پاکستان کے قیام سے لے کر اب تک صرف چار سو خاندان اس ملک کی سیاست پر راج کرتے آئے ہیں۔ ان خاندانوں کو مزید تقسیم کر دیا جائے تو ان کی تعداد تقریباﹰ ایک ہزار بنتی ہے۔ آج تک یہی بے رحم ایلیٹ کلاس اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھ کر سسکتے، بلکتے غریب عوام کو خوشحال بنانے، انہیں تین وقت کی روٹی دینے، سڑکیں، گلیاں، تعلیم اور صاف پانی فراہم کرنے کے نعرے لگاتی آئی ہے۔ پاکستان میں بدترین

Read more

چاند رات کے کاسنی آنسو

اب تو محسوس بھی نہیں ہوتا کہ ہم قافلے سے بچھڑ چکے ہیں، اس کاررواں سے الگ ہو چکے ہیں، جس کا ہر فرد پیار، محبت، دوستی، خوشی اور غمی کی لڑی میں پرویا ہوا ہے۔ مجھے بڑا یاد ہے کہ وہ میری جرمنی میں پہلی عید تھی۔ میں پانچ یورو کا کالنگ کارڈ لے کر آیا، دل بے چین تھا، امی سے بات کرنی تھی، ابو سے بات کرنی تھی، بھائیوں کو دل کا حال بتانا تھا، بہنوں سے

Read more

پیغمبروں کے سروں پر چھاؤں کرنے والے قبیلے کا قتل

نوے سالہ بوڑھے باپ کے کندے جھکے ہوئے تھے۔ اس کے جوان بیٹے اور بیٹیاں اس کے ساتھ ہی کھڑے تھے۔ اندازہ تھا کہ موت قریب ہے لیکن باپ ہاتھ اٹھائے دعا کر رہا تھا کہ اے خدا قاتل نرم دل ہوں تو اچھا ہے۔ نجانے کیوں اسے امید تھی کہ صرف اسے ہی قتل کیا جائے گا اور اس کی اولاد کی زندگیاں بخش دی جائیں گی۔ باپ کی موت سامنے تھی لیکن اولاد کچھ بھی کرنے سے قاصر

Read more

اپنی دعاؤں میں اپنا زوال

میں فرسٹ ایئر کر چکا تھا لیکن سیکنڈ ایئر کی فیس کے لیے پیسے نہیں تھے۔ میں کئی مہینوں سے گھر پر پڑا تھا۔ سبھی بہن بھائی ابھی اپنی پڑھائی کے اختتام پر تھے، اخراجات زیادہ تھے اور گھر کا سارا بوجھ صرف ابو جی کے کندھوں پر تھا۔ میں سارا سارا دن جگری یاروں وکی اور عامر کے ساتھ گھومتا رہتا تھا۔ رات کو دیر سے گھر آتا تا کہ ابو جی سے سامنا نہ ہو۔ ابو جی جب

Read more

سالانہ ہزاروں ’ناجائز بچوں‘ کا خفیہ قتل

پاکستان میں سالانہ ہزاروں کی تعداد میں نومولود بچوں کو ’ناجائز‘ قرار دیتے ہوئے خفیہ طور پر قتل کر کے دفن کر دیا جاتا ہے۔ کوڑے کے ڈھیروں پر بچوں کی ایسی لاشیں بھی ملتی ہیں، جن کے جسم کے حصے جانور کھا چکے ہوتے ہیں۔ صوبہ پنجاب کے شہر گوجرانوالہ کی تحصیل نوشہرہ ورکاں کے ایک میٹرنٹی ہوم میں کام کرنے والی نرس رضیہ الیاس ( نام تبدیل کر دیا گیا ہے) کہتی ہیں، ”میں نے اب نوزائیدہ بچوں

Read more

پاکستان میں ناجائز بچے، کوڑے کے ڈھیروں پر

دونوں بچوں کے چہرے انتہائی معصوم ہیں۔ ان کی تدفین سے پہلے ان کو آخری غسل دیا جا رہا ہے۔ پاکستان کے جنوبی شہر کراچی میں ان کو کوڑے کے ڈھیر پر مرنے کے لیے چھوڑ دیا گیا تھا۔ سماجی کارکن محمد سلیم ان دونوں چھوٹی چھوٹی لاشوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بتاتے ہیں، ”دونوں بچے ایک یا دو دن کے ہوں گے۔ ‘‘ دوسری طرف ان کے ساتھی انتہائی احتیاط سے ان دونوں نومولود بچوں کو غسل دینے

Read more

یہ کتابیں چوری کیوں نہیں ہوتیں ؟

میرے ذہن میں آنے والا پہلا خیال یہ تھا کہ یہ کتابیں چوری ہو جانی ہیں۔ یہ سن دو ہزار پانچ کی بات ہے، میرے لینگوئج اسکول کے راستے پر ایک دن ایک لکڑی کی الماری رکھی ہوئی تھی اور اس میں پانچ سات کتب پڑی ہوئی تھیں۔ الماری پر چسپاں ایک کاغذ پر لکھا تھا کہ “آپ اپنی مرضی کی کتاب لے جا سکتے ہیں اور پڑھ کر دوبارہ ادھر ہی رکھ دیں۔ اگر آپ کے پاس کوئی کتاب

Read more

درختوں کے دیوانے جرمن

سڑک کے بالکل وسط میں استادہ یہ چھوٹا سا درخت میرے گھر سے تقریبا دو سو میڑ دور ہے۔ چند برس پہلے جب میں اس علاقے میں شفٹ ہوا تھا تو یہ ایک چھوٹا سا، ننھا منھا سا پودا تھا۔ پہلی مرتبہ اسے دیکھ کر مجھے حیرانی ہوئی کہ صرف اس ایک چھوٹے سے پودے کے لیے سڑک کا رخ بائیں جانب موڑ دیا گیا ہے؟ ہر ڈرائیور کو یہاں گاڑی آہستہ کرنا پڑتی ہے، ٹریفک کی روانی متاثر ہوتی

Read more