انڈیا میں یہودیوں کی تاریخ: جب ایک یہودی شخص انڈیا کی مسلم ریاست کا وزیر اعظم بنا

انڈیا کی مغربی ریاست مہاراشٹر کے علی باغ شہر میں اگر آپ آج سیاحوں سے بھری جگہ سے آگے نکل کر لوگوں سے پوچھیں گے کہ سیناگاگ (یہودی عبادت خانہ) کہاں ہے تو شاید آپ کو اس سوال کا جواب نہیں ملے گا۔

Read more

خواتین کی صحت: ناتجربہ کار ڈاکٹر خواتین میں فسٹیولا کا مرض پھیلانے کی وجہ کیسے؟

دورانِ زچگی بچے کی پیدائش میں تاخیر کے دوران پیشاب اور پاخانے کی نالیوں پر دباؤ آتا ہے جس سے دونوں یا ایک میں سوراخ ہوجاتا ہے جس کو فسٹیولا کہا جاتا ہے اور نو عمری کی شادیوں اور زچگی کے دوران غیر تربیت یافتہ عملے کو فسٹیولا کی ایک بڑی وجہ سمجھا جاتا ہے۔

Read more

کمپنی کھولنے سے پہلے آنکھیں کھول لیں

میاں نواز شریف سمیت ہر رہنما کی تقریر سن کر آنکھیں بھر آئیں۔ غضب خدا کا ایسے مخلص و محب لوگوں کا بھی کوئی دشمن ہو سکتا ہے۔ مگر جب اپنے ہی کہے پر عمل کا موقع آتا ہے تو اجتماعیت تاش کے پتوں کی طرح بکھر جاتی ہے۔ ارکانِ پارلیمان پارٹی قیادت کے احکامات کے برعکس ووٹ دیتے ہیں یا پھر نہیں دیتے۔

Read more

ہندوستان کی رانی جس نے چیچک کے پہلے حفاظتی ٹیکے کے لیے ماڈلنگ کی

ینٹنگ کی تاریخ واڈیار بادشاہ کی شادی کی تاریخوں اور جولائی 1806 کے عدالتی ریکارڈ سے ملتی ہے جس میں اعلان کیا گیا تھا کہ دیوجممانی کو ٹیکے لگانے کا ’خوشگوار اثر‘ بہت سے لوگوں پر ہوا اور وہ ٹیکہ لگوانے کے لیے آگے آئے۔

Read more

اہل لکھنؤ سے متعلق بعض غلط فہمیاں

پچھلے دنوں منشی پریم چند کی کہانی پر بنی بھارتی فلم ”شطرنج کے کھلاڑی“ دیکھی۔ فلم کے دو مرکزی کردار لکھنؤ کے نواب ذادے ہیں اور شطرنج کے رسیا جنہیں اپنے گھر بار اور حالات سے کوئی دلچسپی نہیں اور وہ دنیا سے بے خبر ایک ویرانے میں شطرنج کی چالوں میں محو ہیں دوسری طرف گورا پلٹن شہرمیں داخل ہو رہی ہے اور نواب واجد علی شاہ کو معزول کر کے گرفتار کر لیا جاتا ہے۔ بلا شبہ یہ

Read more

عبیداللہ سندھی کا آزادی ہند کا چارٹر

اس واسطے گلچیں کو ہوئی مجھ سے عداوت
تزئین گلستاں میں مرا ہاتھ بہت ہے

انیس سو چوبیس آتے تک اگر چہ تقسیم بنگال کے خلاف تحریک، غدر اور باغی تحریکوں، تحریک ریشمی رومال، خلافت ہجرت، ترک موالات، مسلم لیگ اور کانگریس کے سیاسی اتحاد نے ہندوستان میں سلطنت برطانیہ کی گرفت کو زک پہنچایا تھا لیکن ابھی غیر ملکی سامراج سے آزادی کی منزل نہ صرف دور تھی بلکہ اس آزادی کی عملی صورت اور اس خد و خال بھی عوام تو کیا ملکی قیادت کے ذہن سے بھی بھی کوسوں دور تھے۔

Read more

آزاد ہو ا تھا دیس مگر۔۔۔

برسوں پہلے دور سر زمین ہمالہ کے دامن میں شہید ٹیپو سلطان کے مقدس لہو سے سرخ سرخ پھول کھلے تھے۔ ٹھیک وہیں سے گلستان پاکستان کی مہک محسوس ہو نے لگی تھی، اس زمانے میں پاکستان کے کئی نام تھے، ٹیپو سلطان کا سرنگا پٹم پاکستان، سراج الدولہ کا میدان پلاسی پاکستان، بہارد شاہ ظفر کا زندان پاکستان، سر سید کی درسگاہ علی گڑھ پاکستان، حالی کی مسدس پاکستان، محمد علی کا جوہر کا ہمدرد پاکستان، اقبال کا خواب

Read more

نوشابہ کی ڈائری: ڈر تھا کہ حیدرچوک کے مسئلے پر کوئی ہنگامہ نہ ہو جائے

27 اگست 1988 کتنے دنوں بعد ٹرین کا سفر کیا۔ میرپورخاص جا کر بیتے دن یاد آگئے۔ کب سے بھائی جان سے کہہ رہی تھی لے چلیں ہمیشہ ٹال دیتے تھے۔ زہرہ باجی کی شادی کا کارڈ نہ آتا اور امی چلنے کو نہ کہتیں تو اب بھی ٹالتے رہتے۔ یہ سن کر تو میں خوشی سے نہال ہوگئی کہ زہرہ باجی بیاہ کر کراچی آ رہی ہیں۔ مگر ان کا سسرال کتنی دور ہے رضویہ سوسائٹی میں، چلو شہر

Read more

دوستی اور محبت ضرور کریں

فیس بک سے شروع ہونے والی اکثر دوستیاں واٹس اپ پر محبت کی صورت پروان چڑھتی ہیں۔ اور پھر تنہائی میں کی گئی باتیں سوشل ہونے پر دم توڑ جاتی ہیں۔ لڑکیوں کی غیر اخلاقی تصاویر اور ویڈیو کے لیک ہونے کی تعداد میں جوں جوں اضافہ ہو رہا ہے اس سے لڑکیاں اتنی شرمندہ تو نظر نہیں آتیں لیکن اس پر پریشان ضرور ہیں کہ کوئی دوسرا ان کی ویڈیو شیئر کر کے ان کے ساتھ زیادتی کر رہا

Read more

ٹیپو سلطان – جنگ آزادی کا اولین ہیرو

اٹھارہ سو ستاون کی جنگ آزادی جس کا آغاز ایسٹ انڈیا کمپنی کے مسلمان اور ہندو سپاہیوں کی بغاوت سے ہوا۔ اس کو غیر متنازعہ طور پر ہندوستان کی آزادی کی پہلی جنگ قرار دیا جاتا ہے۔ بھارت کی بنیاد پرست بھارتیہ جنتا پارٹی نے برصغیر کی تاریخ کو اپنی خواہشات اور اپنے ہندو توا نظریہ سے زبردستی ہم آہنگ کرنے کے لئے دوبارہ سے لکھنا شروع کر دیا ہوا ہے۔ حال ہی میں وہاں سے ایک خبر آئی ہے کہ کمپنی کے ٹیکس حکام کے خلاف 1781 میں صوبہ بہار میں ہونے والی ہندو زمینداروں کی ایک معمولی بغاوت کو جنگ آزادی کی اولین جنگ قرار دینے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

جب ہم ہندوستان پر انگریزوں کے قبضے کی تاریخ پڑھتے ہیں تو بنگال میں جنگ پلاسی سے شروع ہو کر پنجاب میں سکھوں کی شکست تک تقریباً سو سال کا عرصہ بنتا ہے۔ اس عرصہ کے دوران انگریزوں کے خلاف مختلف طاقتوں کی طرف سے مزاحمت ہوئی جن میں قابل ذکر بنگال کے سراج الدولہ اور میر قاسم، اودھ کے شجاع الملک، مغل بادشاہ شاہ عالم ثانی، مرہٹے اور میسور کے حکمران شامل ہیں۔ لیکن ان سب طاقتوں میں میسور کے حیدر علی اور ان کے ہونہار فرزند ٹیپو سلطان نمایاں نظر آتے ہیں۔ ٹیپو سلطان پہلے ہندوستانی حکمران تھے جنہوں نے انگریزوں کو ہندوستان سے مکمل طور پر بے دخل کرنے کی ایک منظم کوشش کی۔

Read more

کورونا کی آڑ میں ٹیپو سلطان کی تاریخ مٹا دی

جنوبی ہند دکن کی سلطنت میسور کے سلطان حیدر علی کے ہاں کوئی اولاد نہ تھی۔ میسور میں ارکاٹ نامی علاقے میں ایک بزرگ حضرت ٹیپو مستان ولی کا مزار مبارک تھا۔ سلطان حیدر علی اپنی اہلیہ اور والدہ کے ہمراہ حضرت ٹیپو مستان ولی کی درگاہ پر حاضر ہوا اور فاتحہ خوانی کے بعد اولاد نرینہ کے لئے دعا مانگی۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی دعا قبول فرمائی اورانہیں ایک خوبصورت بیٹا عطا فرمایا۔ سلطان حیدر علی نے صاحب

Read more

برطانوی کرنسی پر نمایاں سیاہ فام، اشیائی اور اقلیتی گروہوں سے تعلق رکھنے والے افراد کی شمولیت کا عندیہ

برطانوی کرنسی پر آج تک سفید فام کے علاوہ کسی اور رنگ و نسل کے فرد کو شامل نہیں کیا گیا ہے۔ جن شخصیات کے ناموں پر غور کیا جا رہا ہے، ان میں ملٹری نرس میری سیول اور جاسوسہ نور عنایت خان شامل ہیں۔

Read more

گریش کرناڈ: طاق میں چراغ

گریش کرناڈ کو رخصت ہوئے سال بھر سے زیادہ کا وقت گزر گیا۔ ’’زندگی یوں بھی گزر ہی جاتی…‘‘ اگر محمود الحسن (لاہور) نے ایک دھندلی ہوتی ہوئی یاد کی طرف توجہ نہ دلائی ہوتی۔ جنوبی ہندوستان کے کئی مشہور لکھنے والوں سے دور اور پاس کا تعلق رہا۔ ایپاپنکر، سچدا نندن، سلمیٰ، یو آر اننت مورتی، گریش کرناڈ۔ اپنے رہن سہن، وضع قطع، بات چیت اور مزاج کے اعتبار سے ان میں اور شمالی ہندوستان کے ادیبوں میں بہت

Read more

ہوشیار ! کہیں علم کا وائرس نہ پھیل جائے

قبل از ضیا دور میں جیسی کیسی بھی تاریخِ عالم و تاریخِ برصغیر نچلے تعلیمی اداروں میں پڑھائی جاتی تھی، اب اس کی تدریس بھی عنقا ہے۔ اس زمانے میں میٹرک تک ہر بچے کو تاریخ کا مضمون پڑھایا جاتا،  بھلے یہ بچہ سائنس کا طالبِ علم ہو یا آرٹس کا۔یوں ہر بچے کو ماضی کے بارے میں سو فیصد نہیں تو کم ازکم چالیس فیصد سچ ضرور پڑھنے کو مل جاتا اور جو تاریخی کڑیاں غائب ہوتیں انھیں بچہ

Read more

آیا صوفیہ، ارطغرل، مسجد قرطبہ

اگلے ہفتے ترکی کی اعلیٰ عدالت استنبول کے آیا صوفیہ میوزیم کو دوبارہ مسجد میں تبدیل کرنے کی سرکاری درخواست پر فیصلہ سنانے والی ہے۔ آیا صوفیہ ڈیڑھ ہزار برس پرانی عمارت ہے اور پانچ سو سینتیس عیسوی میں مشرقی سلطنت روم کے شہنشاہ جسٹینین نے دارالحکومت قسطنطنیہ کے شایان شان بطور گرجا تعمیر کروائی۔ نو سو برس بعد عثمانی سلطان محمد دوم نے چودہ سو تریپن میں قسطنطنیہ فتح کیا تو دنیا کے سب سے بڑے گرجا گھر کی چھتوں اور گیلریوں میں کی گئی مذہبی مصوری کو ڈھانک دیا۔ اس عمارت میں نماز جمعہ کی امامت کی۔ بعدازاں معروف ترک ماہر تعمیرات سنان نے آیا صوفیہ پر اسلامی رنگ چڑھانے کے لیے عمارت میں میناروں کا اضافہ کروایا اور اسے باقاعدہ مسجد میں بدل دیا۔ اگلے پانچ سو برس تک یہاں نماز جاری رہی۔

آیا صوفیہ چرچ کے گنبد کا شکوہ اتنا متاثر کن تھا کہ جب سولہ سو سولہ میں استنبول میں عظیم الشان نیلی مسجد مکمل ہوئی تو اس کے ڈیزائن پر آیا صوفیہ کا آرکیٹیکچر غالب تھا۔ بعد ازاں عثمانی طرز تعمیر نے اسے اپنی تعمیراتی شناخت کا مستقل حصہ بنا لیا۔

Read more

اورنگ زیب عالمگیر کے فرامین اور ہندو مندر

’پاک سر زمیں‘ کے دارالحکومت ’اسلام آباد‘ میں آج کل ایک ہندو مندر کی تعمیر بارے گفت و شنید زوروں پر ہے۔ ’مجاہدین اسلام‘ اورچند موقع پرست سیاسی جماعتیں اپنے اپنے تیر اور جگر آزمانے میں مصروف ہیں۔ ایک دفعہ پھر ’اسلام خطرے میں ہے‘ کی دہائی ہے۔ بہرحال، اس سارے قضیے میں اس بات پہ تو سب متفق دکھائی دیتے ہیں کہ ’اسلامی جمہوریہ پاکستان‘ میں غیرمسلموں کی عبادت گاہوں کا ہر لحاظ سے تحفظ کیا جانا چاہیے۔ تنازع

Read more

جاتک کہانیاں اور آصف فرخی

نور عنایت کی انگریزی میں مرتب کردہ ’جاتک کہانیاں‘ کا آصف فرخی کا اردو ترجمہ ابھی ابھی تو پڑھا تھا اور پڑھ کر ایک طرح کا سکون اور اطمینان محسوس ہوا تھا کہ کوئی تو ایسا ہے جو آج کے دنوں میں، جب ادبا و شعرا اپنی شہرت اور اپنی خود نمائی کے لیے مغربی ادب کے دامن میں پناہ لینے پر فخر کرتے ہیں، مشرقی ادب کی بازیافت کر رہا ہے۔ امید تھی اور یقین بھی تھا کہ وہ مشرق کے ایسے ہی مزید چھپے ہوئے خزانوں کو ہمارے سامنے لائیں گے۔

لیکن ہونی کو کون ٹال سکتا ہے، انہیں کسی اور منزل کی طرف روانہ ہونے کی جلدی تھی، وہ روانہ ہو گئے۔ ’چپ چاپ‘ گوتم بدھ کی طرح جیسا کہ ’جاتک کہانیاں‘ کے تعارف میں انہوں نے لکھا ہے : ”وہ (گوتم بدھ) کپل وستو کے راج کمار تھے لیکن انہوں نے اس دنیا کے بارے میں جب سوچنا شروع کیا تو اس زندگی سے اکتا گئے۔ عیش و آرام کی زندگی سب کو چھوڑ کر ایک دن چپ چاپ اکیلے ہی چل دیے“ ۔

Read more

کرونا وائرس: ہم اور ہماری بے حسی

جی ہاں بالکل چائنا میں کورونا چمگادڑ کھانے کی وجہ سے آیا، امریکہ میں اس عذاب کی وجہ امریکہ کا مسلم ممالک پر کیے جانے والا ظلم تھا، انڈیا اس موذی مرض کا شکار کشمیریوں پر جاری بربریت کی وجہ سے ہوا۔ لیکن سوچنے کی بات یہ ہے کہ جناب ہم تو مسلمان ہیں الحمدللہ نہ ہم نے چمگادڑ کھائے نہ ہی پاکستان نے دوسرے ممالک پر ایٹمی ہتھیار چلائے، نہ ہی کشمیر یا کسی اور ملک پر مظالم ڈھائے۔

Read more

چین اور بھارت کی سرحدی کشیدگی اور پاکستانی ہیش ٹیگز

گزشتہ دنوں انڈیا اور چین کے درمیان سرحدی کشیدگی نے ایک بار پھر سر اٹھایا ہے اور لداخ سمیت انڈیا اور چین کے درمیان لائن آف ایکچوئل کنٹرول (ایل اے سی) کے مختلف مقامات پر دونوں جانب سے افواج کی موجودگی میں آئے روز اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ مختلف میڈیا رپورٹس کی مانیں تو لداخ میں پینگونگ ٹیسو، گالوان وادی اور دیمچوک کے مقامات پر دونوں افواج کے درمیان جھڑپ ہوئی ہے جبکہ مشرق میں سکم کے پاس بھی

Read more

ارتغرل ڈرامہ: آخر پرابلم کیا ہے

ارطغرل تیرہویں صدی کا ایک عظیم کردار ہے جس نے اپنے مضبوط حوصلے، یقین محکم، کامل ایمان اور بہادری سے ایک ایسی ریاست کی بنیاد رکھی جو 600 سالوں تک دنیا پر راج کرتی رہی۔ اگر مسلمانوں کی 14 سو سالوں کی تاریخ اٹھا کر دیکھی جائے تو وہ ایسے بے شمار کرداروں سے بھری پری ہے۔ جنہوں نے اسلام کا پرچم مضبوطی سے تھامے رکھا اور ظلم کے خلاف لڑتے رہے چاہے کتنی ہی اذیتیں ان کے سامنے کیوں نہ ہو وہ اپنے حق دین کے راستے سے کبھی نہیں بھٹکے اور نہ ہی کبھی اپنے دین سے منحرف ہوئے۔ سلطان صلاح الدین ایوبی، طارق بن زیاد، سلطان محمد فاتح، خالد بن ولید، محمود غزنوی، محمد بن قاسم، ٹیپو سلطان، بہادر شاہ ظفر اور ایسے بے شمار نام ملتے ہیں جو مسلمانوں کے عروج کی گواہی دیتے ہیں لیکن آج کا مسلمان زوال کا شکار ہے اور نہ ہی اپنے ماضی کے ان ہیروز کے بارے میں جانتا ہے۔

Read more

حقیقت میں ارطغرل غازی مسلمان تھے یا بت پرست؟

وزیر اعظم عمران خان کی خصوصی ہدایت پر پی ٹی وی پر چلنے والے شہرہ آفاق ڈرامے ارطغرل غازی سے اس وقت پاکستان کا بچہ بچہ نا صرف واقف ہو چکا ہے بلکہ وہ نسل جو تصوراتی اور افسانوی ہیروز کے سحر سے باہر نہیں نکلتی تھی وہ بھی اب ارطغرل، بامسی اور ترگت کو اپنا ہیرو ماننے لگ گئی ہے۔ جہاں نوجوان لڑکے حلیمہ جیسی صابر، وفا شعار اور بہادر لڑکی کے خواب دیکھنے لگ گئے ہیں تو وہیں دوسری طرف لڑکیاں بھی ارطغرل جیسا دلیر، ذہین اور دھن کا پکا مرد اپنے خوابوں میں سجائے بیٹھی ہیں۔ ایسے میں اچانک اس سوال کا جنم لینا بے حد معنی خیز ہے کہ کیا حقیقت میں ارطغرل غازی ایسے ہی تھے یا ان سب باتوں کے بالکل برعکس وہ ایک بت پرست تھے؟

Read more

فتوے، ارطغرل اور ٹیپو سلطان

جس طرح کے فتوے آج کل بعض علماء ارطغرل ڈرامہ سیریل کے حوالے سے صادر کر رہے ہیں، مجھے یاد آتا ہے کہ نوے کی دہائی کے اوائل میں شہید ٹیپو سلطان پر مبنی سیریل کو بھی کچھ اسی طرح نشانہ بنایا گیا تھا۔ ارطغرل پر نشانہ کچھ زیادہ ہی ہے کیونکہ نوجوان نسل اس میں اپناروشن اورتابناک ماضی، حمیت اور تہذیب وثقافت تلاشنے لگی ہے۔ بھگوان گڈوانی کی ناول دی سورڈ آف ٹیپوسلطان پر سیریل بنانے کا بیڑا معروف بالی ووڈ اداکار اور ہدایت کار سنجے خان نے اٹھایا تھا۔

Read more

غازی ارطغرل اور پاکستانی معاشرہ

”جب تک ہم اللہ کے راستے پر چلیں گے کوئی بھی ہمیں شکست نہیں دے سکتا“ غازی ارطغرل۔ مشرق وسطیٰ، وسطی ایشیا، ساؤتھ امریکہ اور ساؤتھ افریقہ میں 60 سے زیادہ ملکوں میں دیکھا جانے والا مشہور ڈرامہ غازی ارطغرل، اب وزیراعظم عمران خان کے کہنے پر پاکستان کے قومی ٹیلی ویژن پی ٹی وی پر دکھایا جا رہا ہے۔ یہ ڈرامہ سلطنت عثمانیہ (جو کہ مسلمانوں کی دنیا پر چھے سو سال تک حکومت کا باعث بنی) کے وجود

Read more

عمران خان صاحب! محمد بن قاسم بننے سے بہتر ٹیپو سلطان بن جائیں

پرویز مشرف نے ریاست کو قبضے میں لے کر غیر آئینی حکومت بنا کر عوام کو کئی نان ایشوز کے گرد گمایا۔ غیرسیاسی ذہن سازی کے لئے روشن خیالی کے نام پر مرا تھن ریس اور کئی ڈھکوسلے کیے گئے۔ مارشل لاء کو جمہوریت کی چھتری میں چھپانے کے لئے ملک بھر سے ایم این ایز اور ایم پی ایز خرید کر اسمبلیاں تخلیق کیں۔ ظفر اللہ جمالی اور شوکت عزیز کو وزیر اعظم بھرتی کیا۔ ملکی مسائل حل کرنے

Read more

آغا شورش کاشمیری کی شعلہ بیانی کے چند شاہکار

آغا شورش کاشمیری کے بہت سے تعارف ہو سکتے ہیں۔ وہ بیک وقت ایک اسکالر، لکھاری اور سیاستدان تھے۔ مذہب کے حوالے سے کافی متحرک ہونے کے ساتھ ساتھ معروف ہفتہ وار میگزین چٹان کے مدیر بھی تھے۔ ان کا ایک تعارف شعلہ بیان مقرر کا بھی ہے اور بلا شبہ ان کی چار چار گھنٹے کی تقریروں میں مجمعے کو سانپ سونگھ جاتا۔ اپنی شعلہ آفاق تقریروں کی بدولت کئی بار جیل یاترا نصیب ہوئی۔ تاہم زبان و بیان کے حوالے سے ان کی تقاریر میں کچھ چیزیں کمال کی ہوتی تھیں۔

Read more

میسور کی جنگ سے جنگ آزادی تک

ٹیپو کی عظمت کو تاریخ کبھی فراموش نہ کرسکے گی وہ مذہب ملّت اور آزادی کے لیے آخری دم تک لڑتا رہا یہاں تک کہ اس مقصد کی راہ میں شہید ہو گیا۔ ٹیپو سلطان کی عظمت سے متعلق یہ تاریخی فقرے شاعر مشرق علامہ اقبال نے اس وقت کہے جب وہ ٹیپوسلطان کے مزار میں تین گھنٹے گزارنے کے بعد جب باہر نکلے تو ان کی آنکھیں شدت جذبات سے سرخ تھیں۔ سلطان فتح علی ٹیپو کے والد کا

Read more