میری بیٹی کو فرینڈ ریکوئیسٹ بھیجنے والے لوگ

میری بیٹی کو مجھ سے اکثر ایک شکایت بہت ہی شدید طریقے سے رہی ہے۔ وہ یہ کہ اکثر میرے فیس بک پر موجود لوگ اسے فرینڈ ریکئسٹ بھیجتے ہیں۔ گو کہ چند خواتین یا لڑکیاں بھی اس میں شامل ہوتی ہیں مگر ظاہر ہے کہ اسے مرد یا لڑکے زیادہ کھٹکتے ہیں یا یوں کہا جائے کہ برے لگتے ہیں۔ کیونکہ خود دبئی میں رہتی ہے اس لیے آئے دن فرینڈ ریکوئیسٹ کا اسکرین شاٹ اور ایک بپھرا ہوا

Read more

نوین جی حیدر۔ ایک فائٹر

نوین حیدر ایک فائٹر تھیں۔ وہ ایک ہمدرد انسان بہترین استاد اور دوستوں کی دوست تھیں۔ ان کا اپنے شاگردوں کے ساتھ صرف کلاس رومز تک کا رشتہ نہیں تھا کیونکہ اپنا بیشتر وقت وہ ان کی کونسلنگ میں صرف کرتیں اور پیشہ وارانہ زندگی میں بھی ان کی معاون اور مدد گار رہتیں۔ یہی وجہ تھی کہ وہ ہمہ وقت اپنے شاگردوں میں گھری رہتی اور اپنا بیشتر وقت بھی ان ہی کے ساتھ گزارتی تھیں۔ وہ ایک زبردست موٹیویٹر تھیں اور اپنے شاگردوں کی چھو ٹی چھوٹی کامیابیوں پر ان کو بے حد داد دیا کرتیں تھیں۔ ایک استاد اور شاگرد کا ایسا رشتہ اب کم کم ہی دیکھنے کو ملتا ہے۔

مجھے وہ دن اچھی طرح یاد ہے جب کراچی میں تاریخ اور عورت کے عنوان سے سے ایک کانفرنس منعقد ہوئی تھی اور اس میں مجھے بھی ایک مقالہ پڑھنا تھا۔ کانفرنس کا جب پہلا سیشن اختتام پذیر ہوا تو انہوں نے ہال میں باآواز بلند کہا آج صائمہ نے اپنا وننگ اسٹروک کھیلا ہے۔ ان کی طرف سے ایسی حوصلہ افزائی میرے لئے باعث مسرت تھی۔

Read more

”عزت بچا کے خاموشی سے نکل آتیں“

پبلک مقامات پر ہراساں کیا جانا ہمارے ہاں عیب میں شمار نہیں ہوتا۔ تو کیا ہوا وہ تم پہ جملے کس رہے تھے۔ وہ تو بھونکتے ہیں بھونکنے دو۔ خاموش رہو۔ خاموش رہو!
”کوئی بات نہیں، بھونکنا ان کی عادت ہے تم عزت بچا کے خاموشی سے نکل آتی“

Read more

’افغان سیکس سکینڈل‘: ’ہر کوئی آپ سے جنسی تعلق قائم کرنا چاہتا ہے‘

افغانستان میں اعلیٰ حکومتی سطح پر جنسی ہراس کے الزامات نے تہلکہ مچا دیا ہے۔ حکومتی اہلکاروں نے تو ان الزامات کی تردید کی ہے لیکن بی بی سی نے معاملے کی تحقیقات کے دوران ایسی خواتین سے بات کی جنھوں نے ہراس کے اس ماحول کی بھیانک منظر کشی کی ہے۔

Read more

ممٹی کا بھوت اور ننھی عفرا

لُو کے تھپیڑوں سے سُرخ تپتی دوپہروں میں جب عفرا اور اُسکے بہن بھائیوں کو تھپک تھپک کر سُلانے کی کوشش کرتی اُنکی ماں جب خود تھک ہار کر سو جاتی تو چند ہی لمحوں بعد وہ سب بہن بھائی چُپکے سے ٹھنڈے کمرے سے نکل چھت پر بنی دھوپ سے چمکتی ممٹی پر جا کر کھیل کود میں مشغول ہو جاتے۔ معصوم کلکاریاں موسم کی حدت سے بے خبر ہو کر آسمان کو چھونے لگتیں۔ زندگی اس سے زیادہ حسین ہو ہی نہیں سکتی تھی۔

پھر ایک دن جانے ایسا کیا ہوا کہ کہ عفرا ممٹی پر جانے سے گھبرانے لگی۔ اُس نے دوپہر کو بھی ماں سے لپٹ کر سونا شروع کر دیا۔ گرمی کی شدت سے گھبرائی اُسکی ماں بہتیرا کوشش کرتی کہ عفرا دُور ہو کر سوئے لیکن عفرا تو مانو بندر کے نوزائیدہ بچے کی مانند اور بھی چمٹتی جاتی۔ ساری دوپہر خوف سے لرزتی عفرا شام ہوتے ہی بالکل نارمل ہو جاتی۔ وہ کسی کو بھی نہ بتا سکی کہ کہ آخر ایسا کیا ہوا تھا کہ وہ اتنا ڈرنے لگی۔ اُسکے بہن بھائی اُسکے تھر تھر کانپنے کا مذق اُڑاتے لیکن کسی نے بھی وجہ جاننے کی کوشش نہ کی۔

Read more

جنسی ہراسانی مسئلہ ہے، سنگین مسئلہ!

جنسی ہراسانی ایک عام مسئلہ ہے، جس کا سامنا تقریباً ہر جنس کو کرنا پڑتا ہے۔ کبھی باس کے ہاتھوں، کبھی کولیگ کے ہاتھوں، کبھی رشتے دار کے ہاتھوں، کبھی ہمسائے کے ہاتھوں، کبھی کسی کے ہاتھوں۔ سند یہ ہے کہ سرویز بتاتے ہیں کہ اٹھانوے ( 98 ) فیصد لوگ جنسی ہرا سانی کا سامنا کرتے ہیں۔ خواہ مشرق ہو یا مغرب یہ مسئلہ ہر جگہ ہے۔ فرق یہ ہی ہے کہ مشرق میں جنسی ہرا سانی کے قوانین نہایت کمزور ہیں۔ جبکہ تہذیب یافتہ مغرب کے کچھ حصے میں مضبوط جنسی ہرا سانی کے نہایت مضبوط قوانین موجود ہیں۔

آج انیس سال کا ہوتے ہوئے جب آج سے بارہ تیرہ سال پہلے کا وقت سوچتا ہوں کہ جب میں متعدد بار ہراساں ہوا تھا، تو خود سے سوال پوچھنے پر مجور ہو جاتا ہوں کہ میں اس وقت اپنے والد یا والدہ جنہوں نے مجھے بہت اعتماد دیا ہے، انہیں یہ بات کیوں نہیں بتا سکا؟میں کیوں تنہا اس اذیت میں مبتلا رہا کہ وہ آنٹی جب بھی آئیں تو کسی کونے کدھرے میں گھس جاؤں یا قریب رہتی اماں کے گھر چلا جاؤں یا وہ انکل جب بھی آئیں تو فوراً اماں کی اوٹ میں ہو جاؤں۔ تو جواب مجھے ایک ہی ملتا ہے کہ معاشرے کا دباؤ کچھ ایسا تھا کہ ہمت کبھی کر ہی نہیں سکا۔ ط

Read more

مدرسے میں جنسی ہراسانی پر مزاحمت کرنے والی نصرت جہاں کی المناک موت

کچھ ہفتے قبل بنگلہ دیش کی 19 سالہ نصرت جہاں رفیع کو اسلامی مدرسہ کے ہیڈ ماسٹر کے خلاف جنسی ہراسانی کی شکایت درج کروانے پر مٹی کا تیل چھڑک کر جلا دیا گیا۔ اس کے جسم کا اسی فی صدی جل گیا اور پھر چار دن بعد 10 اپریل کو وہ موت کی ابدی نیند سو گئی۔ پولیس نے اب تک پندرہ افراد کو حراست میں لے لیا ہے۔

یہ 27 مارچ کا دن تھا جب اس کے مدرسہ کے ہیڈ ماسٹرسراج الدولہ نے نصرت جہاں کو اپنے دفتر میں بلایا۔ جب اس نے اس کے جسم کو نازیبا طریقے سے چھوا تو وہ وہاں سے بھاگ گئی اور پولیس سٹیشن میں جا کر رپورٹ درج کروادی۔ ویڈیو ٹیپ کی ہوئی تفتیشی رپورٹ میں اس نے اس واقعے کی تمام تفصیل بیان کی۔ 6، اپریل کو اس نے سکول میں امتحان دینا تھا اس لئے وہ اپنے بھائی کو حفاظت کے لئے ساتھ لے گئی۔ بھائی کو سکول میں داخل نہیں ہو نے دیا گیا مگر کسی نے نصرت جہاں کو کہا کہ اس کی دوست کو پیٹا جا رہا ہے اس لئے وہ چھت پر آجائے۔

Read more

ہوس بھری نظریں، بلیک میلنگ۔ پاکستانی خواتین کی جنسی ہراسانی

حال ہی میں امریکہ سے پاکستان منتقل ہونے والی مغربی تعلیم یافتہ تانیہ کو اس وقت دھچکا لگا جب وہ ایک نجی ٹی وی چینل میں اپنے پیشہ ورانہ ذمہ داریوں سے فارغ ہونے کے بعد اسلام آباد کے پوش ایریا میں واقع اپنے گھر کی طرف جاتے ہوئے کچھ مردوں کی ہوس بھری نظروں کا نشانہ بنی۔ ایسا اکثر ہوتا تھا لیکن تانیہ نے بتایا کہ اس نے کبھی اتنا دھیان نہیں دیا ”جتنا تنگ ہوکر آج دینا پڑا“۔ مغربی جدید معاشرے میں تربیت پانے والی پرکشش شخصیت کی حامل جواں سال تانیہ لئے یہ سب کچھ حیران کن تھا۔

اور اس سے بڑھ کر یہ کہ تانیہ ایک ایسے پیشے سے وابستہ تھی جس کی ذمہ داریوں میں ہراسانی کے خلاف جدوجہد بھی شامل ہے، لیکن وہ خود جنسی طور پر ہراساں کرنے کے اس انوکھے طریقے سے حیران و پریشان ہوگئی۔ تانیہ جیسی شخصیت کے لئے یہ سب کچھ اجنبی ہوسکتا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کے معاشرے میں یہ معمول کی بات ہے۔

Read more

بچوں سے پہلے والدین کی تربیت ضروری ہے

ہم ایسے معاشرے سے تعلق رکھتے ہیں جو بچوں کے لیے قطعی محفوظ نہیں ہے۔ ہم اجنبی ماحول سے تو بچوں کی حفاظت یقینی بنانے کی بھرپور کوشش کرتے ہیں مگر ان قابل اعتبار لوگوں سے بے فکر ہو جاتے ہیں جو اکثر اوقات خطرے کا اصل موجب ہوتے ہیں۔ آج کل کے دور میں بچوں کو جنسی تربیت دینا از حد ضروری ہے مگر اس سے بھی ضروری امر والدین کی اس حوالے سے تربیت ہے۔ ہم بچوں کو یہ تو سمجھا دیتے ہیں کہ اجنبی لوگوں سے محتاط رہنا ہے مگر اس بات کو کیوں نظر انداز کر دیتے ہیں کہ ایک خاص عمر کے بعد بچے کو قریبی رشتے دار کی گود میں بھی نہیں بیٹھنا چاہیے۔

Read more

جنسی ہراسانی: سوال ہے وقار کا

خواتین کو عزت دو صرف زبان سے نہیں دل سے۔ ورک پلیس ہراسمنٹ ایک مسئلہ جو خواتین کی ترقی و کامیابی کا سب سے بڑا دشمن بنتا دکھائی دیتا ہے۔

ہراسمنٹ جسے عرف عام میں ہراساں کیا جانا کہتے ہیں ایک عالمی مسئلہ بنتا جارہاہے یا یوں کہ لیں کہ یہ مسئلہ تو شاید ازل سے ہی تھا تاہم وقت اور زمانے کی تیز رفتار ترقی میں بڑھتے ہوئے خواتین کے کردار نے اس مسئلے کو بھی پر لگا دیے ہیں۔ پہلے زمانے میں اگر پانچ فیصد خواتین ملک و قوم کی ترقی میں اپنا کردار ادا کرتی نظر آتی تھیں تو آج کے زمانے میں یہ تعداد کہیں زیادہ بڑھ چکی ہے اور کسی نہ کسی طرح ملک و قوم کی ترقی میں زیادہ یا کم اپنا کردار ادا کررہی ہیں۔

Read more

دفتروں میں جنسی ہراس کیا ہے؟

دفتروں میں اخلاقی حدیں پار ہونے کا معیار کیا ہے؟

فرض کیجیے کہ آپ کو بینک میں مینیجر کی نوکری ملی ہے۔ نئی مینیجر ہونے کی حیثیت سے آپ واضح طور پر تھوڑی فکرمند ہیں لیکن ایک سینیئر ساتھی خوشی کے ساتھ باگ ڈور سنبھالنے میں آپ کی مدد کرتا ہے اور آپ اسے ان کی خوش اخلاقی سمجھتی ہیں۔ آپ کچھ اور سوچیں گی بھی کیوں؟

لیکن پھر آپ محسوس کرتی ہیں کہ اس ساتھی کا رویہ آپ کو پریشان کر رہا ہے۔ کبھی وہ کوئی بات کہہ دیتا ہے اور کبھی آپ کو چھو لیتا ہے۔ لیکن آپ اس خیال کو جھٹک دیتی ہیں اور اپنے کام پر دھیان دینے لگتی ہیں۔ آپ کو لگتا ہے کہ شاید آپ ہی غلط فہمی کا شکار ہو گئی ہیں۔ لیکن پھر ایک دن کچھ ایسا ہوتا ہے کہ آپ کو لگتا ہے اس نے حد پار کر لی ہے اور آپ ان کے رویے کو مزید نظرانداز نہیں کر سکتیں۔

Read more

خواتین کو ہراساں کیے جانے کے واقعات: کیا فسانہ؟ کیا حقیقت؟

گذشتہ دنوں پڑوسی ملک کی معروف اداکارہ تنوشری دتہ کے حوالے سے ساتھی اداکار پر لگائے جانے والے جنسی ہراسانی کے الزام نے ایک بار پھر ماضی میں رونما ہونے والے اس نوعیت کے واقعات کی جانب توجہ مبذول کرادی ہے۔ تنوشری دتہ کا شمار بالی وڈ کی ان اداکاراؤں میں ہوتا ہے جنھوں نے کم عرصے میں فلمی صنعت میں اپنی پہچان بنالی اور کئی سپر ہٹ فلموں کا حصہ بھی رہیں۔ لیکن نجانے ایسا کیا ہوا کہ تنوشری

Read more

جنسی ہراسانی کی شکار لڑکی: جاؤ بی بی معاف کرو

بات کچھ یوں ہے صاحبو ویسے تو ہر بات سے پہلے تمہید باندھنا ضروری نہیں ہوتی مگر آج اس کو کچھ ضروری جانا۔ ابھی فیس بک پر ہم سب کا ایک کالم "میڈیکل یونیورسٹیزکی فکیلٹی میں چھپے جنسی درندے” نظر سے گزرا۔ چونکہ خود بھی میڈیکل کے شعبے سے تعلق ہے تو تجسس پیدا ہوا کہ ایسا بھی کیا ہوگیا کہ ہمیں خبر ہی نہ پڑی۔ کالم سے کچھ واضح ہوا کہ پنجاب میڈیکل کالج کے ایک پروفیسر نے ایک

Read more

ادبی اور سیاسی ہراسگی

جنسی استحصال ایک قدیم عمل اور جدید موضوع ہے۔ گزشتہ کالم میں بھی اس بات کا تذکرہ کیا تھا کہ ویسٹرن ورلڈ میں روشن خیالی کے باوجود ایسے واقعات کثرت سے رونما ہوتے ہیں لیکن وہاں متاثرہ مر د و خواتین بتانے میں ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرتے جبکہ ہمارے معاشرے میں لب کشائی کا رواج جمہوریت کی طرح نیا ہے ۔ ماہر ین نفسیات نے جنسی ہراسگی کو مختلف درجوں میں تقسیم کر رکھا ہے تاہم کرپشن کی طرح جنسی

Read more

میشا شفیع کا الزام اور فیمن ازم کی دکان داری

فیمن ازم کی بات کرنا دراصل ایک فیشن ہے۔ آپ فیمن ازم کی بات کر کے مہذب سے لگتے ہیں، اور ایسا لگنا چاہتے ہیں۔ ”اپنا کھانا خود گرم کرو“، میرا جسم، میری مرضی“؛ اس طرح کے جذباتی نعروں پر تنقید کر کے آپ بنیاد پرست، یا دقیانوسی کہلانے کا خطرہ مول نہیں لینا چاہتے۔ لیکن نا سمجھی سے لگائے جانے والے ایسے نعرے محروم عورت کے لیے مزید محرومیوں ہی کا پیش خیمہ ہوں گے۔ میشا شفیع نے علی

Read more

پٹاری سے لاڑکانہ تک عورت نشانے پر ہے

گلی محلے میں جب کبھی خواتین نکلتی ہیں تو کیسے ٹھرے پہ بیٹھے چھڑے چھانٹ آوازے کستے ہیں؟ کبھی کبھی جب ہم ٹویٹر پہ کوئی بات کہنے نکلتے ہیں تو ہمیں بھی ایسا ہی لگتا ہے کہ کوئی بات ہو، کوئی بھی بات ہو، چاہے آج ہم یہ ہی فضولیات کیوں نہ لکھ رہے ہوں کہ آسمان ذرا کم نیلا اور مکھن ذرا کم پیلا۔ کوئی نہ کوئی عزت دار حضرت آ کے ایک ایسا بے تکا رپلائی دیں گے

Read more

متشاعرات اور جنسی ہراسانی کا غیر منصفانہ قانون

میں نے بارہا تذکرہ کیا ہے کہ ادب یعنی شاعری اور فکشن میں ایک خاص سوچ کی حامل خواتین نے یلغار کی ہے جن کی ادب شناسی عمیرہ احمد کے ناولوں، ڈراموں سے زیادہ نہیں، یا فراز اور پروین شاکر کی ہلکی پھلکی رومانی یا عشقیہ شاعری سے زیادہ نہیں۔ اپنے زمانے میں ساحر، مجاز اور اختر شیرانی مقبول تھے۔ جب فیس بک نے رابطے کا براہ راست اور محفوظ  ذریعہ فراہم کیا تو کچھ نے پسند کرنے والی مداحوں

Read more