ڈیماگوگ کو شکست دینا ممکن ہے (مکمل کالم)

ہم سب کو یکایک یاد آ گیا ہے کہ ایک ہفتہ پہلے تک بھارت میں انتخابات ہو رہے تھے اور اب اُن کے حیران کُن نتائج کے بارے میں لکھنا ہمارا فرض ہے۔ اپنے ہاں کسی بھی شخص کو اُس وقت تک دانشور تسلیم نہیں کیا جاتا جب تک وہ امریکہ سے لے کر انٹارٹکا تک ہر ملک کے سیاسی اور سماجی حالات پر کماحَقّہ تبصرہ نہ کر سکے (اِس قسم کا تبصرہ غالباً حقہ پی کر کیا جاتا ہے)۔

Read more

ہم نے ہر تجربہ کر کے دیکھ لیا مگر ! مکمل کالم

”میں اکثر سوچتا ہوں کہ ہم نے آئین، قوانین اور عدالتوں سے کچھ زیادہ ہی امیدیں وابستہ کر لی ہیں۔ یہ جھوٹی امیدیں ہیں۔ یقین کیجیے یہ جھوٹی امیدیں ہیں۔ آزادی، عوام کے دل میں ہوتی ہے، اگر یہ دل سے ہی مِٹ جائے تو کوئی آئین، کوئی قانون، کوئی عدالت کچھ نہیں کر سکتی۔ اور اگر آزادی کی روح لوگوں کے دلوں میں موجود ہو تو پھر اُس کی حفاظت کے لیے کسی آئین، کسی قانون، کسی عدالت کی

Read more

کالج کی تعلیم بھی ضروری ہے مگر ۔ ۔ ۔ مکمل کالم

”اِس بات کا خیال رکھنا کہ کہیں اسکول تمہاری تعلیم کی راہ میں رکاوٹ نہ بن جائے۔“ یہ قول عموماً مارک ٹوئن سے منسوب کیا جاتا ہے مگر حقیقت میں یہ ایک لکھاری گرانٹ ایلن کا ہے۔ یہ قول سُن کر اگر کوئی سمجھے کہ گرانٹ ایلن بچوں کو اسکول میں داخل کروانے کے خلاف تھا تو اُس کی عقل پر ماتم ہی کیا جا سکتا ہے۔ اِس سے مراد یہ ہے کہ محض اسکول یا کالج کی ڈگری کافی

Read more

ترقی کی خواہش کو لگام دیں، ورنہ۔ ۔ ۔ مکمل کالم

”مجھ پر ایک عجیب بات کا انکشاف ہوا ہے۔ جب بھی میں کسی بے حد سیانے اور عالم فاضل شخص سے بات کرتا ہوں تو مجھے یقین ہوجاتا ہے کہ دنیا میں خوشی کا حصول اب ممکن نہیں رہا۔ لیکن جب میں اپنے باغبان سے بات کرتا ہوں تو میرا یقین بالکل اُلٹ جاتا ہے۔“ برٹرینڈ رسل۔ رسل نے یہ بات شاید ساٹھ ستّر برس قبل کہی تھی مگر آج کے دور نے اسے سچ ثابت کر دکھایا ہے۔ اِس

Read more

کیا واقعی کالج میں پڑھنا ضروری ہے؟ (مکمل کالم)

برٹش کونسل کے مطابق امسال ایک لاکھ طلبا او لیول کا امتحان دے رہے ہیں، ان امتحانات میں آٹھ مضامین کی فیس کل ملا کر 211000 روپے ہے، گویا فقط او لیول کے امتحان سے برٹش کونسل پاکستان سے 21 ارب روپے اکٹھے کر کے لے جائے گا جبکہ وفاقی حکومت کا ہائر ایجوکیشن کا پورے سال کا بجٹ 65 ارب روپے ہے، سو ہماری اشرافیہ کے بچے ایک امتحان پر 21 ارب روپے خرچ کرتے ہیں جو کہ قائد

Read more

(مکمل کالم) پرائیویسی کتنی ضروری ہے

یہ شاید 1994 کی بات ہے جب میں پہلی بار برطانیہ گیا تھا۔ پہلی ہی رات میرے میزبان مجھے بریڈ فورڈ کے ایک جوئے خانے میں لے گئے، ویسے تو ولایت جانے والا ہر بندہ ہی اس قسم کی جگہوں پر جاتا ہے مگر واپسی پر سفرنامہ یوں لکھتا ہے جیسے حج کر کے آیا ہو۔ بہر کیف، جب میں کسینو میں داخل ہوا تو وہاں کی چکا چوند دیکھ کر بھونچکا رہ گیا، فرط جذبات سے مغلوب ہو کر

Read more

الف کا اعترافی بیان (مکمل کالم)

الف کا اپنے بارے میں گمان تھا کہ وہ ایک نیک آدمی ہے، اور یہ گمان کچھ ایسا غلط بھی نہیں تھا۔ جس قسم کی زندگی اس نے گزاری تھی اس میں بدی کی گنجایش ویسے ہی کم تھی، لیکن انسان جس حال میں بھی ہو، بدی کے راستے اور طریقے بہرحال نکال ہی لیتا ہے۔ الف کے پاس بھی برائی کا آپشن موجود تھا، وہ چاہتا تو اس چار دن کی زندگی میں اپنے لیے گناہ کا موقع تلاش

Read more

ایک الجھن جو دور نہیں ہو رہی۔ مکمل کالم

الف کا اپنے بارے میں گمان تھا کہ وہ ایک نیک آدمی ہے، اور یہ گمان کچھ ایسا غلط بھی نہیں تھا۔ جس قسم کی زندگی اُس نے گزاری تھی اُس میں بدی کی گنجایش ویسے ہی کم تھی، لیکن انسان جس حال میں بھی ہو، بدی کے راستے اور طریقے بہرحال نکال ہی لیتا ہے۔ الف کے پاس بھی برائی کا آپشن موجود تھا، وہ چاہتا تو اِس چار دن کی زندگی میں اپنے لیے گناہ کا موقع تلاش

Read more

یہ لوگ کون ہیں، کہاں رہتے ہیں؟ (مکمل کالم)

ہم روزانہ گھر سے باہر نکلتے ہیں، بازاروں میں جاتے ہیں، دفتروں میں حاضری لگاتے ہیں، بچوں کو اسکول چھوڑتے ہیں، کوئی بیماری ہو تو اسپتال میں داخل ہوتے ہیں، تفریح کا ارادہ ہو تو ریستوران میں کھانا کھاتے ہیں۔ یہ تمام کام کرتے وقت ہمیں ارد گرد اپنے جیسے لوگ نظر آتے ہیں، جو بازاروں، دفتروں، اسکولوں، اسپتالوں اور ریستورانوں میں ہمیں ملتے ہیں، انہیں دیکھ کر لگتا ہے کہ سب کی ایک ہی دنیا ہے، ایک ہی قسم

Read more

سیاحت سے آمدن کیوں نہیں ہوتی؟ مکمل کالم

سکردو کی تین خصوصیات ایسی ہیں جو اسے باقی دنیا سے ممتاز کرتی ہیں۔ ایک، کٹپنا صحرا، دوسرا، دیوسائی کا میدان اور تیسرا بوریت۔ سکردو کا ہوائی اڈہ پہاڑوں کے درمیان صحرا میں واقع ہے، سرد صحرا کے بعد یہ دوسرا عجیب و غریب صحرا تھا جو ہم نے سکردو میں دیکھا۔ اس صحرا میں آپ خیمے لگا کر رہ سکتے ہیں، مگر یہ وہ خیمے نہیں جو پرانے زمانے میں عرب بدو صحرا میں لگایا کرتے تھے بلکہ یہ

Read more

اِس کائنات کا مصور کون ہے؟

ابن انشا نے ’استاد مرحوم‘ کے خاکے میں ایک جگہ لکھا ہے کہ ”آپ کے ایک ہاتھ میں چھ انگلیاں تھیں اِس لیے گیارہ تک باآسانی گن لیتے تھے۔“ سکردو میں تیسرے دن ہمیں جو ڈرائیور کم گائیڈ ملا اُس کے بھی ایک ہاتھ میں چھ انگلیاں تھیں مگر وہ بیچارہ فقط دس تک ہی گِن سکتا تھا کیونکہ اُس کے دوسرے ہاتھ میں چار انگلیاں تھیں، ایک انگلی اُس کی جلد بازی کی وجہ سے کسی حادثے میں کٹ

Read more

سونے کے پہاڑوں کا شہر (مکمل کالم)

سکردو کے ہوائی اڈے پر جہاز نے لینڈ کیا تو یوں لگا جیسے ہم سونے کے پہاڑوں کے درمیان آ گئے ہوں، چاروں طرف بلند و بالا چوٹیاں تھیں جن میں سے کچھ برف سے لدی ہوئی تھیں جبکہ کچھ پر سورج کی کرنیں ایسے پڑ رہی تھیں کہ وہ سنہری ہو لگ رہی تھیں۔ موسم صاف تھا، دھوپ نکلی ہوئی تھی، ہلکی ہلکی ہوا چل رہی تھی مگر ایسی نہیں کہ سردی محسوس ہو۔ ہمیں افسوس ہوا کہ خواہ

Read more

کارل پوپر سے ایک اور ملاقات (مکمل کالم)

ایک نوجوان سے کسی لڑکی نے پہلی مرتبہ ملاقات کی ہامی بھری تو نوجوان نے اپنے جہاندیدہ دوست سے مشورہ کیا کہ اسے ”ڈیٹ“ پر کیا کرنا چاہیے۔ دوست نے جواب دیا کہ سمارٹ عورتیں عموماً تین موضوعات پر گفتگو کرنا پسند کرتی ہیں، اپنے کھانے کی پسند نا پسند کے بارے میں، گھر والوں کے متعلق اور فلسفہ۔ نوجوان نے یہ بات پلے سے باندھ لی اور اگلے روز ملاقات کے لیے لڑکی کے پاس پہنچ گیا۔ تھوڑی دیر

Read more

میرا فلسفی ’دوست‘ کارل پوپر

مجھے اچھی طرح یاد تو نہیں کہ فلسفے کی لَت کیسے پڑی، شاید علی عباس جلال پوری کی کوئی کتاب ہاتھ آ گئی تھی، شروع شروع میں زیادہ سمجھ تو نہیں آئی البتہ چند بنیادی نوعیت کے تصورات ضرور ذہن میں بیٹھ گئے، اُس کے بعد جب بھی کتابوں کی کسی دکان یا میلے میں جانا ہوتا تو دو چار فلسفے کی کتابیں ضرور خرید لاتا۔ اِس کا فائدہ یہ ہوا کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اچھی خاصی کتابیں

Read more

تفریح کے شرعی طریقے کون سے ہیں؟ (مکمل کالم)

گزشتہ روز ایک دوست سے گپ شپ ہوئی، دوران گفتگو اس نے ایک بڑا دلچسپ جملہ بولا، اس نے کہا کہ پاکستان وہ ملک ہے جہاں خوشی منانا قابل دست اندازی جرم ہے۔ میں نے پوچھا وہ کیسے تو کہنے لگا کہ ہمارے ملک میں نیو ائر نائٹ پر پولیس رات گیارہ بجے ریستوران اور کیفے بند کروا دیتی ہے۔ مجھے اس بات میں کچھ غلو کا شائبہ ہوا تو اس نے وضاحت کی کہ دو سال پہلے لاہور کے

Read more

رئیس الجامعات اور اُن کی مزید نالائقیاں

گزشتہ دنوں پاکستان کی یونیورسٹیوں پر اِس خاکسار نے جو کالم لکھا تھا اُس پر مختلف اطراف سے حیرت انگیز ردعمل سامنے آیا، خود سرائی کی بندے کو عادت نہیں سو تھوڑے کہے کو بہت جانیں۔ ستائشی پیغامات بھیجنے والوں کا شکریہ تاہم اِس کالم کے جواب میں ایک ایسے صاحب نے بھی پیغام بھیجا جن کا نہ صرف میں احترام کرتا ہوں بلکہ اُن کی بات کو بھی اہمیت دیتا ہوں۔ پیغام یہ تھا: ”آپ نے نارووال یونیورسٹی کا

Read more

کیا ہمارا معاشرہ انتہا پسند ہے؟

کچھ عرصہ ہوا میں نے ایک امریکی جریدے میں افغان طالبان سے متعلق رپورٹ پڑھی تھی، رپورٹ چونکہ بہت دلچسپ اور مختلف تھی اِس لیے کچھ نکات ذہن میں رہ گئے۔ عموماً امریکی اور مغربی میڈیا طالبان کی انتہاپسندانہ سوچ کو تنقید کا نشانہ بناتا ہے اور وہاں عورتوں پر عائد پابندیوں کا ذکر کرتا ہے مگر اِس رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ دھیرے دھیرے افغان معاشرے میں جدیدیت کا رنگ چھا رہا ہے، نوجوان یو ٹیوب کی جانب

Read more

اڈیالہ جیل، سوشل میڈیا کا بیانیہ اور تعبیرِ غالب

یوسفی صاحب نے کہا تھا کہ غالب وہ شاعر ہے جو سمجھ نہ آئے تو دونا مزا دیتا ہے۔ یہ بات تو ٹھیک تھی مگر اب غالب کے شارحین اور عشاق نے مرزا کے ہر شعر کی ایسی ایسی تشریح کر کے دکھا دی ہے کہ بندہ سوچتا ہے ’گہرے سمندروں میں سفر کر رہے ہیں ہم۔‘ میں نے اپنے ایک پرانے کالم میں۔ اوہ معافی چاہتا ہوں، مجھے کالم کی جگہ اظہاریے کا لفظ استعمال کرنا چاہیے کہ استاذی

Read more

رئیس الجامعات اور اُن کی نالائقیاں

ایک ایسے شخص کا تصور کریں جس کا بال بال قرض میں جکڑا ہو، گھر میں کھانے پینے کے لالے پڑے ہوں، اُس کی بیوی ان پڑھ ہو، اُن کے تیرہ بچے ہوں جن میں سب سے بڑے بچے کی عمر سولہ سال اور سب سے چھوٹی بچی ابھی گود میں ہو، وہ شخص جو کماتا ہو سود کی ادائیگی میں نکل جاتا ہو اور ہر تین ماہ بعد اسے نیا قرض لے کر گھر کا خرچ چلانا پڑتا ہو۔

Read more

ہمارا تصور تقوٰی اور رمضان کا ’مزید احترام‘ (مکمل کالم)

”آج بھی آپ کو اپنے ہاں ایسے لوگ مل جائیں گے جن کا تقویٰ کا تصور اتنا غلط ہو گیا ہے کہ ایک سو چار درجے کا بخار ہے (مگر) روزہ چھوڑنے کو تیار نہیں۔ بھلے آدمیو اللہ نے تمہیں ایک رخصت (رعایت ) دی ہوئی ہے تو خواہ مخواہ اپنے اوپر یہ شدت کیوں لے رہے ہو، لیکن لیتے ہیں، روزہ چھوڑنے کو تیار نہیں، روزہ قضا نہیں کروں گا۔ سفر پر جا رہے ہیں اور روزہ قضا کرنے

Read more

مرتبان (مکمل کالم)

میں راستوں کا بہت کچا ہوں، اکثر راستہ بھول جاتا ہوں، مجھے ان لوگوں پر حیرت ہوتی ہے جو ایک مرتبہ کوئی نیا راستہ دیکھ لیں تو دوسری مرتبہ انہیں کسی سے پوچھنے کی ضرورت نہیں پڑتی، وہ اس راستے کے شارٹ کٹ نکال لیتے ہیں اور پھر بے حد آسانی کے ساتھ وہاں پہنچ جاتے ہیں۔ میری مصیبت یہ ہے کہ میں جن راستوں پر برسوں سے چل رہا ہوں وہ بھی مجھے یاد نہیں رہتے، اپنی اس نا

Read more

یوم جمہوریہ سے یوم پاکستان تک کا سفر

آج جب میں یہ کالم لکھ رہا ہوں تو 23 مارچ ہے، 1956 میں آج کے دن پاکستان نے اپنا پہلا آئین منظور کیا تھا اور انگریز کے بنائے ہوئے گورنمنٹ آف انڈیا ایکٹ، 1935 سے جان چھڑوائی تھی، اسی لیے 23 مارچ کو ہم یوم جمہوریہ کہتے تھے کیونکہ یہ دن ہمارے جمہوری سفر کے آغاز کی نشانی تھا، لیکن بھلا ہو خود ساختہ فیلڈ مارشل ایوب خان کا جنہوں نے اس کا نام تبدیل کر کے یوم پاکستان

Read more

میرے محبوب قائد کے بغیر دنیا کا نظام نہیں چل سکتا

یہ بات اب طے ہو چکی ہے کہ میرے محبوب قائد کے بغیر دنیا کا نظام نہیں چل سکتا، وہ زنداں میں ہو یا باہر ہمیشہ خبروں میں رہتا ہے، کوئی محفل نہیں جہاں اس کا ذکر نہ ہو اور کوئی گفتگو نہیں جو اس کا نام لیے بغیر جاری رہ سکے، ہر سو اسی کا چرچا ہے اور اسی کی باتیں ہیں۔ ایک طرف اس کے مخالفین ہیں جو اس سے عاجز آچکے ہیں، انہیں سمجھ نہیں آتی کہ

Read more

کچھ زیادہ ہی ہو گیا!

وہ زمانے گئے جب لوگ ایک دوسرے کو میراثیوں، پٹھانوں، سکھوں اور عورتوں کے لطیفے بلا روک ٹوک سناتے تھے۔ اب ایسی آزادی نہیں رہی۔ اب تو لفظ میراثی بولنے سے پہلے بھی دس مرتبہ سوچنا پڑتا ہے کہ کہیں دوسرا بندہ آپ کو دقیانوسی نہ سمجھ بیٹھے۔ اسی طرح محفل میں سکھوں یا پشتونوں کے لطیفے سنانے سے پہلے بھی نظر دوڑانی پڑتی ہے کہ کہیں کوئی ایسا شخص تو نہیں بیٹھا جو بعد میں نسل پرستی کا دعویٰ

Read more

پولینڈ کر سکتا ہے تو ہم کیوں نہیں؟ – مکمل کالم

یورپ کا ایک ملک ہے پولینڈ۔ 1980 کی دہائی میں اِس ملک کے معاشی حالات اِس قدر خراب تھے کہ حکومت کو اخراجات قابو میں رکھنے کے لیے شہریوں کی ماہانہ راشن بندی کرنی پڑتی تھی۔ قانون کی رُو سے ہر شخص ایک ماہ میں صرف پانچ سو گرام مکھن، ایک کوکنگ آئل کا پیکٹ، اڑھائی سو گرام مٹھائی، سوا کلو آٹا، اڑھائی کلو گوشت، سوا کلو چاول، دو کلو چینی، تین سو گرام کپڑے دھونے کا پاؤڈر، دو صابن

Read more

زمین سے اینڈرومیڈا گلیکسی تک (مکمل کالم)

ہیوسٹن/ واشنگٹن۔ یکم جنوری 2094 : انسانوں کی زمین سے مریخ پر منتقلی کا عمل شروع ہو چکا ہے۔ اس ضمن میں پہلا خلائی جہاز آج شام کو ہیوسٹن کے جانسن سپیس سنٹر سے روانہ ہو گا۔ جہاز میں امریکی ارب پتی، سیاست دان، اعلیٰ عہدے دار اور ہالی وڈ کی مشہور شخصیات سفر کریں گی۔ مریخ پر ان کی رہائش کے تمام انتظامات پہلے ہی مکمل کر لیے گئے ہیں۔ یاد رہے کہ پچیس برس قبل مریخ پر پانی

Read more

اعلی افسران قابل مگر سول سروس زوال پذیر ہے! (مکمل کالم)

اعلیٰ سرکاری افسران کا اجتماع تھا، ہر صوبے اور سروس کے افسر موجود تھے، پاور پوائنٹ پریزنٹیشنز دی جا رہی تھیں جن میں گمبھیر حکومتی مسائل کا حل پیش کیا جا رہا تھا۔ ایسی ہی پریزنٹیشن ایک جہاندیدہ افسر نے بھی دی جو سرد و گرم چشیدہ تھے، ملک کا کوئی ایسا کلیدی عہدہ نہیں تھا جس پر وہ فائز نہ رہے ہوں اور کوئی ایسی حکومت نہیں تھی جس کے ساتھ انہوں نے کام نہ کیا ہو۔ لب لباب

Read more

زندگی کی چند ’عیاشیاں‘ (مکمل کالم)

میرے ایک بے حد عزیز دوست ہیں جنہیں سفر کرنے کا بہت شوق ہے، اس شوق کی تکمیل کی خاطر وہ اپنے پاسپورٹ پر مختلف ممالک کے ویزے لگوا کر رکھتے ہیں۔ گزشتہ دنوں انہوں نے امریکہ کے ویزے کی درخواست دی جو قبول ہو گئی، سفارت خانے نے انہیں نیلے رنگ کا ایک پرچہ تھما دیا جس پر ’ویزہ منظور ہے‘ لکھا ہوا تھا اور کہا کہ پاسپورٹ چند روز میں مل جائے گا۔ تاہم کچھ دنوں تک جب

Read more

حلوہ ہماری ریڈ لائن ہے

ٹی وی پر کرکٹ میچ لگا ہے، قذافی اسٹیڈیم تماشائیوں سے کھچا کھچ بھرا ہے، میدان روشنیوں سے جگمگا رہا ہے، کیمرہ مین جب فضا سے لاہور کا منظر دکھاتا ہے تو یوں لگتا ہے جیسے یورپ کا کوئی شہر ہو۔ میں یہ سب دیکھ رہا ہوں اور سوچ رہا ہوں کہ مجھے اِس موضوع پر لکھنا چاہیے کہ ہمارے ملک میں کرکٹ کی رونقیں کیسے بحال ہوئیں۔ آسان سا موضوع ہے اور کرکٹ کے بارے میں تو ویسے ہی

Read more

سعی لا حاصل کا قانون (مکمل کالم)

میرا بڑا بیٹا دانیال، ماشا اللہ انیس برس کا ہے، خاموش طبیعت کا مالک ہے، اپنے آپ میں رہتا ہے، کوئی سوال پوچھو تو اس کا مختصر ترین جواب دیتا ہے، اپنے کام سے کام رکھتا ہے اور شریف اس قدر ہے کہ ہم پریشان رہتے ہیں کہ اس کی کوئی شکایت کیوں نہیں آتی، اسکول میں مار کٹائی کیوں نہیں کرتا، سیدھا گھر کیوں آ جاتا ہے، آوارہ گردی کے لیے کیوں نہیں نکلتا! اس کا واحد مشغلہ کتابیں

Read more

ژاک دیریدا کا گنجلک فلسفہ اور حق و باطل کا معرکہ

جوں جوں یہ دنیا پیچیدہ ہو رہی ہے توں توں زندگی مشکل ہو رہی ہے۔ اکیسویں صدی کے فلسفیوں کو ہی لے لیں، ان کی کوئی کل سیدھی نہیں، ہر بات گنجلک ہے، ژاک دیریدا سے لے کر مائیکل فوکو تک، ہر کسی کی کوشش رہی کہ انوکھی اور نہ سمجھ میں آنے والی بات کی جائے تاکہ انہیں کلاسیکی فلسفیوں سے ممتاز اور بڑا سمجھا جائے۔ اس کا یہ مطلب بھی نہیں کہ ان جدید فلسفیوں نے نیا زاویہ

Read more

ترے ’دعوے‘ پر جیے ہم تو یہ جان جھوٹ جانا (مکمل کالم)

ملک میں اس وقت نیک روحوں کا جمعہ بازار لگا ہے، اخلاص و ایمان کی دولت سے مالا مال لیڈران عوام کی خدمت کے لیے تڑپ رہے ہیں، آئین اور قانون کی پاسداری کی قسمیں کھائی جا رہی ہیں، کہیں سے فتح مکہ کا اعلان ہو رہا ہے تو کسی سنگھاسن سے ملک کو بچانے کے دعوے کیے جا رہے ہیں۔ یقین مانیں میں تو بہت خوش ہوں کہ اس قوم کے نصیب جاگے اور بالآخر اسے اتنے مخلص، با

Read more

دین میں اجتہاد اور کوڈک کمپنی کا سبق (مکمل کالم)

اس رات ہم سب دوست اکٹھے تھے ، الیکشن نتائج پر گرما گرم بحث جاری تھی ، ہر کوئی اپنا اپنا تجزیہ پیش کر رہا تھا اور مصر تھا کہ اس کی بات ہی درست ہے۔ ایسے میں ایک دوست نے کمال کی بات کی ، اس نے کہا کہ جس طرح دین میں اجتہاد ضروری ہے اسی طرح سیاسی جماعتوں کو بھی اجتہاد سے کام لینا چاہیے۔ اِس جملے کی تشریح چاہی تو اس نے سمجھایا کہ اگر دین

Read more

2024 سے تو 1988 بہتر تھا! (مکمل کالم)

ہمارے علاقے میں نیا میڈیکل سٹور کھلا ہے، نئی انتظامیہ اور نئے جذبے کے ساتھ۔ گھر میں سر درد کی گولیوں کا پتا ختم تھا تو وہاں لینے چلا گیا۔ کاؤنٹر پر موجود نوجوان سے کہا ایک پتا پیناڈول کا درکار ہے، اس نے دوسرے کاؤنٹر کی طرف اشارہ کر دیا، میں اس طرف گیا تو وہاں موجود سیلز مین نے بات سن کر سر کو جنبش دی اور پیچھے جا کر غائب ہو گیا۔ چند منٹ بعد اس کی

Read more

ایک آئیڈیل حکومت کیسی ہونی چاہیے؟ (مکمل کالم)

ایک مثالی حکومت کیسی ہوگی؟ اسے کیسے منتخب کیا جائے گا؟ یہ حکومت کیسے کام کرے گی؟ اس کے اختیارات کی حدود کیا ہوں گی؟ اور یہ مثالی حکومت انصاف کیسے کرے گی؟ یہ سوالات نئے نہیں ہیں، افلاطون سے لے کر ہنری ڈیوڈ تھورو تک، فلسفیوں نے ان سوالات کا مختلف طریقوں سے جواب دیا ہے۔ سو، آج ہم ان فلسفیوں کے افکار کو دماغ میں رکھ کر آئیڈیل حکومت کا خاکہ بناتے ہیں اور پھر زمینی حقیقت سے

Read more

ایودھیا سے ہم کیا سیکھ سکتے ہیں – مکمل کالم

گزشتہ ہفتے ایودھیا میں بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے رام مندر کا افتتاح کیا، یہ وہ مندر ہے جسے پانچ سو سالہ پرانی بابری مسجد کو مسمار کر کے تعمیر کیا گیا ہے۔ ہندوؤں کا دعویٰ تھا کہ بابری مسجد اِس مندر کو گرا کر بنائی گئی تھی، بھارتی سپریم کورٹ نے ہندوؤں کا یہ دعویٰ تسلیم کر لیا اور رام مندر کی تعمیر کا حکم دینے کے ساتھ ساتھ مسلمانوں کی دل جوئی کی غرض سے پانچ ایکڑ

Read more

سعودی عرب میں پہلا شراب خانہ اور علم الکلام کے ماہر

سعودی عرب کے شہر ریاض میں ملک کا پہلا شراب خانہ کھولا جا رہا ہے، فی الحال یہ شراب خانہ صرف سفارتی عملے کے لیے ہو گا لیکن شنید ہے کہ مستقبل میں اِس کا دائرہ کار بڑھا دیا جائے گا۔ ملک میں سنیما گھر پہلے ہی کھل چُکے ہیں اور سعودی حکومت 2030 تک مزید 300 سنیما گھر بنانے کا ارادہ رکھتی ہے۔ 2018 سے سعودی عرب میں خواتین کے گاڑی چلانے پربھی کوئی پابندی نہیں ہے، اسی طرح

Read more

یو ٹیوب، پتھر سے کیڑے کو رزق کا ذریعہ؟

سنا تھا، پر کبھی دیکھا نہیں تھا کہ خدا پتھر سے کیڑے کو رزق دیتا ہے۔ لیکن اب اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا۔ اگر آپ نے نہیں دیکھا تو فوراً یوٹیوب کھولیں اور غور کریں کہ اللہ کی مہربانی سے کیسے کیسے کیڑوں اور لارووں کو رزق مل رہا ہے۔ اِن لوگوں نے آج کل یوٹیوب چینلز بنا رکھے ہیں جہاں اُن کی اونٹ پٹانگ ویڈیوز کو لاکھوں کی تعداد میں دیکھا جاتا ہے ، نتیجے میں اِن کے چینلز

Read more

جنوری میں موٹیویشن عروج پر ہے – مکمل کالم

آج یکایک مجھے خیال آیا کہ جنوری گزرتا جا رہا ہے اور میں نے اب تک کوئی موٹیویشنل کالم نہیں لکھا، اپنی عظمت کا بیان نہیں کیا، منبر پر چڑھ کر وعظ نہیں دیا، اپنی کامیابیوں کی داستان نہیں لکھی اور اذیت ناک ڈسپلن اور نظم و ضبط کے قصے سنا کر قارئین کو متاثر نہیں کیا۔ پہلے تو آپ میری سُستی اور کاہلی کا اندازہ اسی بات سے لگا لیں کہ جو کالم مجھے جنوری کی پہلی تاریخ کو

Read more

مری کی مبینہ سردی اور موٹر وے کی سرد مہری – مکمل کالم

مری جانے کے لیے میں نے تین اوور کوٹ گاڑی میں لٹکائے، یہ سوچ کر کہ پہلا اس وقت پہنوں گا جب برف باری ہوگی، دوسرا اس وقت جب سردی میں باہر آگ جلا کر بیٹھیں گے اور تیسرا اس صورت میں اگر برف باری نہ ہوئی۔ وہ سردار جی یاد آ گئے جنہوں نے گھر میں تین تالاب بنوائے تھے، گھر کی رونمائی ہوئی تو مہمانوں کو بتایا کہ پہلے تالاب میں ٹھنڈا پانی ہے گرمیوں کے لیے اور

Read more

کس برہمن سے پوچھیں کہ سال اچھا ہے؟ مکمل کالم

ایک زمانہ تھا جب مستقبل کی پیش گوئی جوتشی، دست شناس اور نجومی کیا کرتے تھے۔ اب زمانہ بدل گیا ہے، اب برہمنوں سے پوچھنے کی ضرورت نہیں رہی کہ یہ سال اچھا ہو گا یا برا، یہ کام اب سائنسی بنیادوں پر ہوتا ہے اور مستقبل کی خبر دینے والوں کو پروفیسر کہا جاتا ہے۔ یہ وہ پروفیسر نہیں جو طوطے سے فال نکلواتے ہیں بلکہ یہ وہ لوگ ہیں جو شماریات اور اعداد و شمار کی مدد سے

Read more

جس زمانے میں ہم اسکول میں پڑھتے تھے – مکمل کالم

جس زمانے میں ہم اسکول میں پڑھتے تھے، اللہ اللہ وہ بھی کیا زمانہ تھا، اب یاد کرتا ہوں تو سوچتا ہوں وقت کیسے گزر گیا، اب تو نہ وہ اسکول رہے اور نہ وہ وقت۔ آپ اسے ناسٹلجیا کہہ سکتے ہیں، ہم سے پچھلی نسل کے لوگ بھی اپنے وقت کے بارے میں یہی سوچتے ہوں گے کہ اُن کا دور زیادہ خوبصورت تھا، شاید ہر نسل کو ایسا ہی لگتا ہے۔ ہمارے دور میں اسکولوں کے درمیان مقابلہ

Read more

کیا فقط مذہب اخلاقی حِس بیدار کرتا ہے؟ مکمل کالم

فرض کریں کسی ریستوران میں چار احباب بیٹھے رات کا کھانا کھا رہے ہیں۔ پہلا دوست بھنے ہوئے گوشت کا مزہ لے رہا ہے، دوسرا سبزی خور ہے سو وہ پالک پنیر سے کام چلا رہا ہے، تیسرے نے سگریٹ سلگایا ہوا ہے اور وہ شراب کے ساتھ تلی ہوئی مچھلی کھا رہا ہے جبکہ چوتھا سگریٹ کو نفرت سے دیکھ رہا ہے مگر شراب اُس نے سب سے زیادہ چڑھا رکھی ہے۔ اگر آپ سے پوچھا جائے کہ اِن

Read more

دریائے سندھ، کالا باغ اور دھُند میں لپٹا ہوا ڈاک بنگلہ – مکمل کالم

شام ڈھلنے سے کچھ پہلے ہم کالا باغ پہنچ گئے، داؤد خیل سے یہ جگہ پندرہ بیس منٹ کے فاصلے پر ہے، کالا باغ کے علاقے میں داخل ہوتے ہی دریائے سندھ آپ کا استقبال کرتا ہے۔ دریا کو عبور کرنے کے لیے یہاں لوہے کا ایک پُل ہے جو انگریزوں نے 1928 میں تعمیر کیا تھا، اِس پُل پر ریلوے ٹریک بھی موجود ہے مگر اب وہ متروک ہو چکا ہے، پُل سے صرف گاڑیاں اور موٹر سائیکلیں ہی

Read more

ریلوے سٹیشن کا رومانس – مکمل کالم

ہم لاہور سے روانہ ہوئے تو دوپہر کا ایک بج رہا تھا، خیال تھا کہ شام تک میانوالی کی حدود میں داخل ہوجائیں گے، مگر وہاں پہنچتے پہنچتے رات ہو گئی۔ قصور ہمارا اپنا تھا، برادرم گلِ نوخیز اختر کو چائے کی طلب ایسے ہوتی ہے جیسے کسی نشئی کو ہیروئن کی، ادھر گاڑی موٹر وے پر چڑھی ادھر موصوف نے ’چائے چاہیے‘ کا نعرہ لگایا، چار و ناچار ہمیں پہلی بریک سکھیکی پہ لگانی پڑی۔ حسبِ عادت موصوف نے

Read more

اب کی بار ساقی کس کے سامنے جام رکھے گا؟ – مکمل کالم

ہماری اردو شاعری کی روایت بہت دلچسپ ہے، اس میں مختلف کردار ہیں اور ہر کردار کا اپنا ایک پس منظر ہے، اسی پس منظر کی بدولت شاعر حضرات بعض اوقات ایک ہی شعر میں ایسا مضمون باندھ دیتے ہیں کہ جس کے لیے ورنہ انہیں علیحدہ سے افسانہ لکھنا پڑتا۔ آج کل ان کرداروں کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے کیونکہ زباں بندی کے اس دور میں اب استعارات بھری شاعری ہی ذریعہ اظہار ہے، نہ جانے کس تحریر

Read more

دو قومی نظریے کے بیانیے کے شیئر ہولڈرز – مکمل کالم

جس زمانے میں ہم اسکول میں پڑھتے تھے اُس زمانے میں ہمارے دماغ میں اپنے ملک سے متعلق ایک خاص قسم بیانیہ تھا، یہ بیانیہ دو قومی نظریے، ہندوستان دشمنی، مہا محب الوطنی اور پاکستان اسلام کے نام پر بنا ہے، جیسے نعروں پر مشتمل تھا۔ ریاست نے یہ بیانیہ تشکیل دیا تھا، نصاب میں یہی بیانیہ ہمیں رٹایا جاتا تھا، دائیں بازو کے دانشور اِس بیانیے کا پرچار کرتے تھے، بچوں کو اسی بیانیے سے جُڑی کہانیاں سنائی جاتی

Read more

غدار شیخ مجیب الرحمٰن؟ – مکمل کالم

آج سے دس سال پہلے آکسفورڈ یونیورسٹی پریس نے ایک کتاب شائع کی، نام تھا ”ادھوری یادیں“ ۔ یہ کتاب دراصل شیخ مجیب الرحمٰن کی چار نوٹ بکس پر مشتمل یادداشتوں کا مجموعہ ہے جو انہوں نے 1967 میں جیل میں قید کے دوران قلمبند کیں۔ اِس کتاب کا بہترین حصہ وہ ہے جو شیخ مجیب نے نہیں لکھا بلکہ اُن کی سیاسی زندگی کا خاکہ ہے جو کتاب میں ابتدائیے کے طور پر موجود ہے، اِس خاکے کا مصنف

Read more

جوتے سامنے رکھ کر نماز پڑھنے کا مسئلہ (مکمل کالم)

میرا ایک دوست پانچ وقت کا نمازی ہے، کبھی کبھار مجھے بھی تبلیغ کے لیے مسجد لے جاتا ہے، مگر جب بھی ہم اکٹھے جاتے ہیں تو اس بات پر بحث ہوجاتی ہے کہ وہ اپنے جوتے کیوں سامنے سجا کر نماز پڑھتا ہے۔ میں اس سے کہتا ہوں کہ اس طرح تم عملاً جوتوں کو سجدہ کرتے ہو جو کسی طور بھی مناسب نہیں، اگر تمہیں اپنے جوتے نماز سے زیادہ عزیز ہیں تو پھر ایسی نماز کا کوئی

Read more

بس سٹاپ والا شخص

”دراصل تم جانتے ہی نہیں ہے کہ قیامت برپا ہوئے سینکڑوں سال بیت چکے ہیں، یہ دنیا جو تمہیں دکھائی دے رہی ہے مصنوعی ہے، اصل دنیا تو کب کی ختم ہو چکی!“ نامعلوم شخص نے کہا۔ ”اور تمہیں اس بات کا کیسے علم ہے؟“ ”کیونکہ میں نے جنت میں خدا سے التجا کی تھی کہ مجھے ویسی دنیا دوبارہ تخلیق کردے۔“ ”اور خدا نے تمہاری بات مان لی؟“ ”ظاہر ہے، جنت میں تو ہر خواہش پوری کی جاتی ہے۔“

Read more

ڈیڑھ ارب مسلمانوں کی دعائیں – مکمل کالم

یاروں کی محفل تھی، گپ شپ چل رہی تھی، کھانا ہم کھا چکے تھے، چائے کا انتظار تھا، ایسے میں کسی دوست نے فقرہ اچھال دیا کہ ڈیڑھ ارب مسلمان فلسطینیوں کے لیے دعا کر رہے ہیں مگر اُن کی دعائیں قبول نہیں ہو رہی ہیں، کیا وجہ ہے؟ یہ بات کہنے کی دیر تھی کہ بحث چھِڑ گئی، کسی نے کہا کہ دعا انسان اور رب کا باہمی معاملہ ہے لہذا اِس کے لیے اجتماعی اصول وضع نہیں کیے

Read more

سوٹ پہن کر جہاد جائز ہوجاتا ہے – مکمل کالم

یادش بخیر۔ آج سے ٹھیک ایک سال پہلے مہسا امینی نام کی ایرانی لڑکی پولیس کی تحویل میں ماری گئی، اسے ایران کی نام نہاد اخلاقی فورس نے حجاب نہ پہننے کے الزام میں گرفتار کیا تھا۔ امینی کی موت کے بعد ایران میں کافی بڑے پیمانے پر مظاہرے ہوئے تھے جن میں خواتین پیش پیش رہیں، ان مظاہروں میں عورتوں نے امینی سے اظہار یک جہتی کے طور پر اپنے حجاب اتار پھینکے جبکہ کئی خواتین نے اپنے بال

Read more

دائیں سے بائیں بازو تک کا سفر – مکمل کالم

میں نے جس گھرانے میں آنکھ کھولی وہ ایک روایتی مذہبی گھرانا تھا، مذہبی یوں کہ میرے دادا جان پیر زادہ بہا الحق قاسمی باقاعدہ مولوی تھے، ماڈل ٹاؤن کی مسجد میں خطیب تھے، صالح، دیندار اور صحیح معنوں میں قناعت پسند انسان تھے۔ اُن کی چھ بیٹیاں اور دو صاحبزادے تھے، میری اِن چھ پھوپھیوں میں سے صرف ایک حیات ہیں جبکہ بیٹوں میں سے تایا ضیا الحق قاسمی وفات پا چکے ہیں جبکہ میرے والد عطا الحق قاسمی

Read more

چھ لوگوں کا قاتل کس کالج میں پڑھتا ہے؟ – مکمل کالم

چند دن پہلے افنان نامی جس نوجوان نے تیز رفتاری سے گاڑی چلاتے ہوئے لاہور میں ایک ہی خاندان کے چھ افراد کو ٹکر مار کر ہلاک کیا وہ نوجوان بھی لمز جیسے کسی اعلیٰ کالج میں پڑھتا ہے۔ نہ جانے کیوں مجھے لگتا ہے کہ اگر یہ نوجوان لمز والی تقریب میں ہوتا تو دیگر بچوں کی طرح یہ بھی چبھتے ہوئے سوالات پوچھتا کہ جناب والا آپ دیر سے کیوں آئے، آپ کی آمد پر ہٹو بچو کی

Read more

جب یہ پچیس کروڑ پچاس کروڑ ہوجائیں گے – مکمل کالم

دو دن پہلے کی بات ہے۔ میں گاڑی میں پٹرول ڈلوانے کے لیے رکا تو ایک چھوٹے سے بچے نے مجھے اپنی طرف متوجہ کر لیا جس کی عمر زیادہ سے زیادہ نو یا دس سال ہوگی، آٹھ بھی ہو سکتی ہے، اُس کے ہاتھ میں ایک کولر تھا اور وہ مجھے گرم انڈے بیچنا چاہ رہا تھا۔ اِس ’کاروبار‘ میں اُس کی ناتجربہ کاری کا یہ عالم تھا کہ اُسے ’گرم انڈوں‘ کی آواز بھی نہیں لگانی آتی تھی،

Read more

سردیوں کی شام اور دوستوں کی محفل – مکمل کالم

گزشتہ شب لاہور میں سرما کی پہلی بارش ہوئی تو موسم انگڑائی لے کر تبدیل ہو گیا، فضا کی آلودگی کم ہو گئی، ہوا میں خنکی بڑھ گئی اور کچھ رومانویت کا احساس ہونے لگا۔ ایسے میں خیال آیا کہ یاروں کی محفل سجائی جائے۔ ویسے تو ہم یار دوست تقریباً ہر ہفتے ہی ملنے کا موقع نکال لیتے ہیں مگر سردیوں میں ان محفلوں کا لطف اور دورانیہ بڑھ جاتا ہے۔ ہم سب برادرم اجمل شاہ دین کے کالج

Read more

کاش تم امام حسینؓ کا سر کاٹ کر نہ لاتے۔ مکمل کالم

اسرائیل پر حماس کے حملے کے بعد سے میں اِس بات پر غور کر رہا ہوں کہ اگر حماس نے یہ حملہ نہ کیا ہوتا تو کیا فلسطینی آج بھی ویسے ہی مر رہے ہوتے؟ کیا انہیں امن کی مہلت خرید کر اپنی تعمیر و ترقی کا کام نہیں کرنا چاہیے تھا؟ کیا اپنے بچوں کو تعلیم دلوا کر اِس قابل نہیں بنانا چاہیے تھا کہ جس سے اُن کا مستقبل محفوظ ہوجاتا؟ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ فلسطینی

Read more

لمز کے بچے – مکمل کالم

دو نقطہ نظر ہیں۔ ایک یہ کہ LUMS (لمز) کے طلبا نے سچ کا بول بالا کیا، جابر نہ سہی مگر سلطان کے سامنے کلمہ حق بلند کیا اور اسے تند و تیز سوالات سے بے بس کر دیا۔ طلبا نے بلا خوف و خطر حاکم وقت سے سوالات کیے اور پوچھا کہ تم تقریب میں پچاس منٹ دیر سے کیوں آئے ہو، ہمارا وقت ضائع کرنے کا حق تمہیں کس نے دیا، کیا زمانے میں پنپنے کی یہی باتیں

Read more

افغان مہاجرین کے خلاف کیا مقدمہ ہے

رات کے نو بج رہے ہیں، ٹی وی پر خبریں نشر ہو رہی ہیں، اِن خبروں میں سوائے تباہی اور بربادی کی اطلاعات کے کچھ نہیں ہے، انہی خبروں میں ایک خبر افغان مہاجرین کی وطن واپسی سے متعلق ہے۔ نیوز کاسٹر بتا رہی ہے کہ پاکستان میں غیر قانونی طور پر مقیم افراد کو دی جانے والی ڈیڈ لائن میں ایک دن باقی رہ گیا ہے، پس منظر میں افغان مہاجرین کی فوٹیج دکھائی جا رہی ہے، اِس فوٹیج

Read more

اسے کیا کرنا چاہیے؟ (مکمل کالم)

پردے پر منظر بدل چکا ہے، وہ واپس آ گیا ہے، اب اسے کیا کرنا چاہیے؟ اہل دانش کا خیال ہے کہ تاریخ نے اسے ایک اور موقع دیا ہے کہ وہ بڑا آدمی بنے اور امر ہو جائے، اس کام کے لیے اسے اپنا دل بڑا کرنا ہو گا، اپنے حریف کو معاف کرنا ہو گا، اس کے لیے انصاف کا مطالبہ کرنا ہو گا تاکہ اسے کھیلنے کے لیے پورا میدان ملے، اگر وہ ایسا نہیں کرے گا

Read more

فلسطینی ایسا کیا کریں کہ اسرائیل ناراض نہ ہو – مکمل کالم

چلیے آج ’شیطان کے وکیل‘ بن کر کچھ سوالوں کے جواب تلاش کرتے ہیں۔ پہلا سوال: حماس نے اسرائیل پر راکٹوں سے حملہ کیا جس کے جواب میں اسرائیل نے غزہ پر خوفناک بمباری کی، نتیجے میں اب تک پانچ ہزار سے زائد فلسطینی عورتیں، بچے اور جوان شہید ہوچکے ہیں، بمباری کا سلسلہ رکنے کا نام نہیں لے رہا، تو کیا یہ سمجھا جائے کہ حماس نے حملہ کر کے حماقت کی جس سے فلسطینیوں کو نقصان پہنچا؟ دوسرا

Read more

ملک میں سائنٹفک انکوائری کا ماحول کیوں نہیں؟ (مکمل کالم)

بظاہر یہ ایک معمولی سا واقعہ ہے، اخبارات میں اس کی خبر بھی شائع ہوئی ہے، سوشل میڈیا پر جرثومہ بھی بنا ہے مگر عام لوگوں کی توجہ نہیں حاصل کر پایا۔ واقعہ کچھ یوں ہے کہ پشاور یونیورسٹی کے اسسٹنٹ پروفیسر شیر علی نے، جن کا تعلق بنوں سے ہے، پچھلے دنوں ایک مذاکرے میں تقریر کرتے ہوئے کہا کہ برقعہ یا عبایہ نہ تو پختون روایات کا حصہ ہے اور نہ ہی اسلام میں اس کا ذکر ہے،

Read more

مغربی دنیا کے لبرل ازم کی آخری حد

غلاموں کا ایک گروہ کئی سال سے ایک پنجرے میں قید ہے، پنجرے کے مالکان اِن غلاموں کو صرف اپنے کام کاج کی غرض سے پنجرے سے باہر نکالتے ہیں، اُن سے مشقت کرواتے ہیں، انہیں بلاوجہ مارتے پیٹتے ہیں اور کبھی کبھار کسی غلام کو ذرا سی غفلت پر قتل بھی کر دیتے ہیں۔ ایک دن کچھ غلام فیصلہ کرتے ہیں کہ وہ پنجرے میں مزید زندگی نہیں گزار سکتے، انہیں اِس خوف اور دہشت کی زندگی سے آزاد

Read more

کامیابی کو رجنی کانت کی طرح ہینڈل کریں – مکمل کالم

قسمت کی واقعی اگر کوئی دیوی ہے اور حقیقت میں اگر وہ کسی پر مہربان ہے تو اُس شخص کا نام رجنی کانت ہے۔ رجنی کانت بھارت کا وہ سپر سٹار ہے جس کو لوگ بھگوان کی طرح پوجتے ہیں، جنوبی ہند کی فلموں میں اسے دیوتا کی طرح دکھایا جاتا ہے، اُس کا فلمی کیرئیر پچاس برس پر محیط ہے۔ وہ بسوں میں ٹکٹیں فروخت کیا کرتا تھا لیکن قسمت کی دیوی کی اُس پر نظر پڑ گئی اور

Read more

فلسطینیوں کی مسلح جد و جہد اور غامدی صاحب

پہلا، منظر :تاریخ ہے 19 اپریل 1943 اور مقام ہے وارسا، پولینڈ۔ جرمن افواج پولینڈ پر قبضہ کرچکی ہیں اور وارسا شہر کے یہودی اپنی بستیوں (Ghettos) میں مَحبوس ہو کر رہ گئے ہیں۔ یہ وہ دن تھا جب جرمن فوج اور پولیس یہودی بستی میں اِس نیت سے داخل ہوئی کہ یہودیوں کو وہاں سے نکال باہر کیا جائے گا، تاہم بستی کے اندر موجود یہودیوں نے جرمنوں کے خلاف مسلح مزاحمت کی، یہ دوسری جنگ عظیم کے دوران

Read more

مجھے میری ’ایپس‘ سے بچاؤ

کسی گھر میں ایک شخص نے بارہ چودہ سال کی بچی کو دبوچ رکھا ہے، وہ خوف کے عالم میں رو رہی ہے، وہ بچی کو پلنگ پر پھینکتا ہے، بچی بھاگ کر کمرے میں چھپنے کی کوشش کرتی ہے، وہ شخص الماری سے کلاشنکوف نکالتا ہے، وہاں موجود دو لوگ اس شخص کو روکنے کی کوشش کرتے ہیں مگر بظاہر وہ ان کے قابو نہیں آتا۔ کینیا کے کسی اسکول کا منظر ہے، وہاں لڑکیاں چیخ و پکار کر

Read more

اپنی ’درست‘ جنس تلاش کیجیے – مکمل کالم

ایک زمانہ تھا جب کسی بھی درخواست فارم میں جنس کے خانے میں صرف دو آپشن درج ہوتے تھے، مرد یا عورت۔ اب انسان نے چونکہ ترقی کر لی ہے سو درخواست فارم بھی جدید ہو گئے ہیں، اب اُن میں محض مرد یا عورت لکھنے سے کام نہیں چلتا کیونکہ اِس سے ٹرانس جینڈر افراد کی دل آزاری ہوتی ہے۔ چلیے یہ بات تو سمجھ میں آتی ہے مگر میرا اللہ جانتا ہے کہ مجھے علم نہیں تھا کہ

Read more

انسان کو ایک سائنسی معجزے کی ضرورت ہے (مکمل کالم)

ایک وقت آئے گا جب اس زمین پر انسان کا وجود ختم ہو جائے گا۔ شاید یہ وقت قیامت کے قریب آئے یا ممکن ہے قیامت سے پہلے ہی آ جائے کیونکہ قیامت تو پوری کائنات کے لیے برپا ہوگی جبکہ زمین تو فقط کائنات کے سمندر میں ایک ذرہ ہے۔ سو، اس بات کا امکان موجود ہے کہ اپنی حرکتوں کی وجہ سے ہم نسل انسانی کے خاتمے کو قیامت کے مقررہ وقت سے پہلے ہی یقینی بنا لیں۔

Read more

اخلاقیات کا لفظ اب ہماری لغت میں نہیں – مکمل کالم

میرا دوست اے ٹی ایم مشین کے باہر انتظار کر رہا تھا کہ کب اندر موجود شخص باہر نکلے اور وہ اے ٹی ایم سے پیسے نکالے، اتنے میں رکشے سے دو طالبات نکلیں، ایک مکمل با پردہ اور دوسری ماڈرن، یہ دونوں لڑکیاں بھی اے ٹی ایم استعمال کرنے آئی تھیں۔ جونہی اندر والے صاحب نے دروازہ کھولا، دو نوجوان جو پہلے سے وہاں کھڑے تھے فٹا فٹ اندر گھس گئے، میرے دوست کو نوجوانوں کی حرکت اچھی نہ

Read more

اعلیٰ تخلیقی کام کیسے کیا جائے؟

نکولا ٹیسلا بیسویں صدی کا ایک جینئس سائنسدان تھا جس نے انجینئرنگ کے شعبے میں سینکڑوں ایجادات کیں، اُس کی ایجاد کی گئی اشیا کی فہرست اتنی طویل ہے کہ شاید ہی کوئی دوسرا سائنسدان اُسے اِس میدان میں پچھاڑ سکے۔ تاہم افسوسناک بات یہ ہے کہ تمام عمر اپنی ایجادات کی مدد سے لاکھوں ڈالر کمانے والا ٹیسلا آخری عمر میں کنگال ہو گیا۔ اُس کی موت بھی عجیب و غریب حالات میں ہوئی، وہ اپنے ہوٹل سے نکل

Read more

ناتوانی سے حریف دمِ عیسیٰ نہ ہوا – مکمل کالم

آپ اگر صبح شام کسی بچے کو نالائق ہونے کے طعنے دیں، فیل ہونے پر اُس کی ڈنڈے سے پٹائی کریں، کسی مقابلے میں پیچھے رہ جانے پر اُس کا کھانا بند کر دیں اور پھر اُس سے یہ امید رکھیں کہ وہ اسکول کے سب سے قابل اور ہونہار بچے سے زیادہ نمبر لے کر آئے گا تو آپ کی امید پر فاتحہ ہی پڑھی جا سکتی ہے۔ لیکن آپ کی اِن تمام بیہودہ حرکتوں کے باوجود اگر آپ

Read more

ناتوانی سے حریف دم عیسیٰ نہ ہوا (مکمل کالم)

آپ اگر صبح شام کسی بچے کو نالائق ہونے کے طعنے دیں، فیل ہونے پر اس کی ڈنڈے سے پٹائی کریں، کسی مقابلے میں پیچھے رہ جانے پر اس کا کھانا بند کر دیں اور پھر اس سے یہ امید رکھیں کہ وہ اسکول کے سب سے قابل اور ہونہار بچے سے زیادہ نمبر لے کر آئے گا تو آپ کی امید پر فاتحہ ہی پڑھی جا سکتی ہے۔ لیکن آپ کی ان تمام بیہودہ حرکتوں کے باوجود اگر آپ

Read more

مس پاکستان حرام، مسٹر پاکستان حلال؟

کہتے ہیں کہ جب بغداد پر حملہ ہوا تو اُس وقت علمائے کرام یہ بحث کرنے میں مصروف تھے کہ سوئی کی نوک پر کتنے فرشتے بیٹھ سکتے ہیں۔ ’کہتے ہیں‘ میں نے اِس لیے لکھا کہ اِس واقعے کی صحت پر مجھے شبہ ہے لیکن اگر اِس واقعے کو ڈینگی بھی ہے تو کام چل جائے گا کیونکہ یہ واقعہ اب ضرب المثل بن چکا ہے اور محض اپنی بات میں وزن پیدا کرنے کی غرض سے سنایا جاتا

Read more

بھارت سے حسد کیوں؟ (مکمل کالم)

دو طریقے ہیں۔ پہلا طریقہ تو یہ ہے کہ بھارت کی کامیابیوں کی فہرست گنوائی جائے، اس کی کھلے دل سے تعریف کی جائے، اپنے ملک کا بھارت کے ساتھ تقابل کیا جائے، تجزیہ کیا جائے کہ ہم سے کہاں، کب اور کون سی غلطیاں ہوئیں اور پھر اس تجزیے کی روشنی میں اپنی روش بدلنے کی کوشش کی جائے۔ دوسرا طریقہ یہ ہے کہ بھارت میں اقلیتوں اور خاص طور سے مسلمانوں کی نسل کشی پر فوکس کیا جائے

Read more

ان حالات میں نوجوان کیا کریں؟ (مکمل کالم)

”سر، آج کل میں بہت پریشان ہوں، میرے پاس نوکری نہیں ہے، اگر آپ مہربانی کریں تو مجھے نوکری مل سکتی ہے، میں تمام عمر آپ کو دعائیں دوں گا۔“ جو لوگ اس ملک میں کسی چھوٹے موٹے عہدے پر فائز ہیں، کسی کاروباری کمپنی کے مالک ہیں یا پھر معاشرے میں کچھ اثر و رسوخ رکھتے ہیں، انہیں آئے دن اس قسم کے پیغامات موصول ہوتے رہتے ہیں۔ ملک کے معاشی حالات نے تو اچھے خاصے لوگوں کی کمر

Read more

تجربات۔ مکمل کالم

گھُڑ سوار:اُس کے ارد گرد پھولوں کی چادر بچھی ہے، سامنے سبزہ لہلہا رہا ہے، کنیزیں خدمت پر مامور ہیں اور انواع و اقسام کے میوہ جات طشتریوں میں رکھے ہیں۔ اسے غمِ روزگار نہیں، شب و روز گزارنے میں کوئی دقت نہیں اور کھیل تماشوں سے فرصت نہیں۔ دل کے بہلانے کے لیے غلام ایک اشارے کے منتظر رہتے ہیں اور شام ہوتے ہی بادہ و ساغر اُس کے سامنے سجا دیے جاتے ہیں۔ ہر شے کی فراوانی ہے،

Read more

اپنی پسند کا مفکر تلاش کریں – مکمل کالم

کبھی کبھی فلسفیوں کی بھی سمجھ نہیں آتی، جس کو دیکھو اپنی ڈیڑھ اینٹ کی مسجد بنائے بیٹھا ہے۔ آپ جس بھی مکتب فکر سے تعلق رکھتے ہوں، آپ کو اپنے مطلب کا فلسفی مل جائے گا۔ اگر قنوطی ہیں تو شوپنہار حاضر ہے، اگر رجائیت پسند ہیں تو ایپی کیورس کی تحریریں پڑھ لیں۔ اگر آپ کا خیال ہے کہ خارجی دنیا محض ہمارے ذہن کی اختراع ہے تو اس دعوے کی حمایت میں دلائل اٹھارہویں صدی کے پادری

Read more

اپنی پسند کا مفکر تلاش کریں (مکمل کالم)

کبھی کبھی فلسفیوں کی بھی سمجھ نہیں آتی، جس کو دیکھو اپنی ڈیڑھ اینٹ کی مسجد بنائے بیٹھا ہے۔ آپ جس بھی مکتب فکر سے تعلق رکھتے ہوں، آپ کو اپنے مطلب کا فلسفی مل جائے گا۔ اگر قنوطی ہیں تو شوپنہار حاضر ہے، اگر رجائیت پسند ہیں تو ایپی کیورس کی تحریریں پڑھ لیں۔ اگر آپ کا خیال ہے کہ خارجی دنیا محض ہمارے ذہن کی اختراع ہے تو اس دعوے کی حمایت میں دلائل اٹھارہویں صدی کے پادری

Read more

سمپسنز کی پیش گوئیاں اور کائنات کے حادثات (مکمل کالم)

’دی سمپسنز‘ امریکی کارٹون سیریز ہے، یہ 1989 میں شروع ہوئی اور اب تک اس کی ساڑھے سات سو اقساط نشر ہو چکی ہیں اور یوں یہ امریکی ٹی وی کی تاریخ کی سب سے طویل کارٹون سیریز ہے۔ یہ سیریز امریکی کلچر اور رہن سہن کی عکاسی کرتی ہے اور اس میں ایک خاص قسم کا طنز ہے جس کی وجہ سے یہ ہر قسم کے ناظرین میں مقبول ہے۔ پاکستان میں اس کی پسندیدگی کا عالم یہ ہے

Read more

سقراط کی ایک تقریر – مکمل کالم

The Apology of Socrates کا اگر ہم اردو میں ترجمہ کریں تو بڑا عجیب سا لگے گا ”سقراط کی معافی“ ۔ یہ کتاب افلاطون نے مکالمے کی شکل میں اُس وقت لکھی تھی جب سقراط کو موت کی سزا سنائی جانے والی تھی اور وہ اپنے دفاع میں ’دلائل‘ دے رہا تھا۔ سقراط پر مقدمہ تھا کہ اُس نے یونان کے نوجوانوں کو ذہنی طور پر ’کرپٹ‘ کر دیا ہے اور اب وہ اُن دیوتاؤں پر یقین نہیں رکھتے جن

Read more

رام چندر اور فاروق حسین کو آزادی مبارک

جون 1947، نسبت روڈ، لاہور: رام چندر کو کئی راتوں سے نیند نہیں آ رہی تھی، ہر لمحے اسے دھڑکا لگا رہتا کہ کہیں بلوائی اس کے گھر کا دروازہ توڑ کر اندر داخل نہ ہوجائیں اور اس کی دو عدد جوان بیٹیوں کو اٹھا کر نہ لے جائیں۔ ذرا سے کھٹکے پر وہ ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھتا اور اپنی چارپائی کے ساتھ رکھا ہوا ڈنڈا پکڑ لیتا کہ یہی اس کا واحد ہتھیار تھا۔ وہ ایک شریف اور سیدھا

Read more

ہم شرمندہ ہیں – مکمل کالم

اگر کسی کا خیال ہے کہ جڑانوالہ میں مسیحی بھائیوں کے مکانوں اور گرجا گھروں کو آگ لگانے والوں کو قرآن و حدیث کے حوالے دے کر قائل کیا جا سکتا ہے کہ انہوں نے غلط اور خلافِ اسلام کام کیا تو یہ اُس کی خام خیالی ہے۔ ہم سب نے وہ ویڈیوز دیکھی ہیں جن میں ’مشتعل ہجوم‘ نجی اور سرکاری املاک کو آگ لگا رہا ہے، اِس ہجوم میں شامل لوگوں میں سے شاید کوئی ایک آدھا شخص

Read more

یورپ میں ایسا کیا ہے جو ہم میں نہیں! (مکمل کالم)

کالم کی سری: یورپ کے سیر سپاٹے سے متعلق یہ آخری کالم ہے۔ آج سے پندرہ بیس سال پہلے تک سفرنامہ لکھنا نسبتاً آسان کام تھا، ٹکٹ خریدنے سے لے کر ہوٹل میں کمرہ بک کروانے تک ہر کام ہی ایڈونچر ہوتا تھا، سفرنامہ نگار حضرات یورپ امریکہ کے بارے میں جو لکھ دیتے قارئین چوم چاٹ کر پڑھ لیتے کیونکہ انہیں پتا ہی نہیں ہوتا تھا کہ باہر کی دنیا کیسی ہے۔ آج کل حال یہ ہے کہ اگر

Read more

وہ برلن کہیں کھو گیا – مکمل کالم

ایئر لائن کے کاؤنٹر پر موجود شخص اگر آپ کا پاسپورٹ دیکھ کر کہے کہ جناب آپ کی تو ٹکٹ ہی بُک نہیں ہوئی تو ایک مرتبہ ہاتھوں کے طوطے اُڑ جاتے ہیں۔ ایسا ہی کچھ میرے ساتھ ایمسٹرڈیم ہوائی اڈے پر ہوا۔ میری برلن کی ٹکٹ اسے نہیں مل رہی تھی، اُس نے پاسپورٹ کھنگال کے دیکھا، پھر میرا پورا نام پوچھا، نام کے ہجے پوچھے، پی این آر نمبر پوچھا، بالآخر ٹکٹ مل گئی۔ پھر کہنے لگا کہ

Read more

دَن ہاگ، برسلز اور لاہور کی بارش

ہم شہر میں داخل ہوئے تو رات کے ساڑھے دس بج رہے تھے، سورج غروب ہوئے ابھی ایک گھنٹہ بھی نہیں گزرا تھا، مگر ایسے لگ رہا تھا جیسے ہم کسی قبرستان میں آ گئے ہوں، چاروں طرف خاموشی تھی، اکا دکا گھروں میں روشنی ٹمٹماتی ہوئی نظر آ رہی تھی، دکانیں اور ریستوران بند تھے اور سڑک پر گاڑیوں کی تعداد نہ ہونے کے برابر تھی۔ ایک لمحے کے لیے یوں لگا جیسے یہ فلم ’A Quite Place‘ والا

Read more

ایمسٹرڈیم کی سائیکلیں، منشیات اور ۔ ۔ ۔ مکمل کالم

سیانے کہہ گئے ہیں کہ زندگی میں شارٹ کٹ نہیں لینا چاہیے، شارٹ کٹ کے عادی لوگ عموماً منزل مقصود پر نہیں پہنچ پاتے اور اُن کا ہاضمہ بھی اکثر خراب رہتا ہے۔ نہ جانے یہ سیانے لوگ کون تھے جو ایسی باتیں کر گئے اور ہم نے انہیں سچ مان لیا۔ نیروبی سے ایمسٹرڈیم براہ راست پرواز جاتی ہے مگر ہم نے کینیا ائر لائن کی وجہ سے شارٹ کٹ لینا مناسب نہ سمجھا اور ’وایا دوحہ‘ ایمسٹرڈیم پہنچے۔

Read more

نیروبی کا ایک اور روپ

نیروبی کا جنگل دیکھنے کے لئے ہم صبح پانچ بجے بیدار ہوئے، یہ جنگل شہر کے اندر واقع ہے اور اس کا کل رقبہ 118 مربع کلومیٹر ہے، یہاں ’بگ فائیو‘ کے پانچ میں سے چار جانور پائے جاتے ہیں جن میں چیتا، شیر، گینڈا اور افریقی بھینسا شامل ہیں جبکہ ہاتھی اس جنگل میں نہیں ہے، اس کے علاوہ یہاں زرافہ، ہرن، شترمرغ، دریائی گھوڑا اور دیگر جانور مل جاتے ہیں۔ نیروبی غالباً دنیا کا واحد شہر ہے جس

Read more

نیروبی کے تین روپ

جہاز نے نیروبی کے ہوائی اڈے پر اترنے کے لیے پہیے کھولے تو میں نے کھڑکی سے نیچے شہر کی جھلک دیکھنے کی کوشش کی دیکھا، ایک لمحے کے لیے یوں لگا جیسے کوئی دیو قامت ناگ پھن پھیلائے کھڑا ہے۔ پہلی مرتبہ افریقہ جا رہا تھا اِس لیے دماغ میں عجیب قسم کے خیالات آ رہے تھے، شاید اِس کی وجہ بچپن میں پڑھی ہوئی وہ کہانیاں تھیں جن میں افریقہ کا ذکر ایک پراسرار بر اعظم کے طور

Read more

نیروبی کے تین روپ

جہاز نے نیروبی کے ہوائی اڈے پر اترنے کے لیے پہیے کھولے تو میں نےکھڑکی سے نیچے شہر کی جھلک دیکھنے کی کوشش کی دیکھا، ایک لمحے کے لیے یوں لگا جیسے کوئی دیو قامت ناگ پھن پھیلائے کھڑا ہے۔ پہلی مرتبہ افریقہ جارہا تھا اِس لیے دماغ میں عجیب قسم کے خیالات آ رہے تھے ، شاید اِس کی وجہ بچپن میں پڑھی ہوئی وہ کہانیاں تھیں جن میں افریقہ کا ذکر ایک پراسرار بر اعظم کے طور پر

Read more

کالا رنگ، حساس عورتیں اور آج کا مزاح – مکمل کالم

آہ کیا زمانہ تھا، کیا آزادی تھی، کیا بے خوفی تھی! اِس سے پہلے کہ آپ میری آہ و بکا سے کوئی غلط مطلب اخذ کریں اور سوچیں کہ میں مردِ حُرّ بننے کی کوشش کر رہا ہوں اور علامتی انداز میں کالم لکھ کر شہیدوں میں نام لکھوانے کا ارادہ رکھتا ہوں، میں واضح کردوں کہ میری مراد ستّر کی دہائی سے ہے جب لوگوں کو بلا کھٹکے ہر قسم کی گفتگو کرنے کی آزادی تھی، وہ آزادی اب

Read more

ابن صفی کا کاتب اور آج کے دور کا مدیر (مکمل کالم)

آج بیٹھے بٹھائے مجھے ابن صفی کا ایک پیش رس یاد آ گیا۔ اپنے کسی ناول میں کاتب کی غلطیوں سے جز بز ہو کر انہوں نے لکھا کہ یہ کاتب حضرات عجیب و غریب قسم کی غلطیاں کرتے ہیں جن سے بعض اوقات مفہوم یکسر بدل جاتا ہے، پھر انہوں نے ایک واقعہ نما لطیفہ لکھا کہ ایک مرتبہ کسی نقاد نے تجریدی آرٹ پر مضمون لکھ کر رسالے کے مدیر کو بھیجا، مدیر نے پڑھ کر اسے کاتب

Read more

روبوٹس کی غلامی منظور نہیں

مصنوعی ذہانت کے حامل چند روبوٹس نے جنیوا میں پریس کانفرنس کی ہے اور انسانوں کو یقین دلایا ہے کہ اُن کا اپنے خالق کے خلاف بغاوت کا کوئی ارادہ نہیں اور نہ ہی وہ انسانوں کی ملازمتوں پر قبضہ کرنے کا کوئی منصوبہ رکھتے ہیں۔ گریس نامی ایک خاتون روبوٹ نے صحافیوں کے سوالوں کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ وہ انسانوں کے شانہ بشانہ کام کریں گی اور طب کے شعبے میں پیش آنے والی مشکلات کو دور

Read more

پریم چند کا پھٹا ہوا جوتا (مکمل کالم)

پریم چند کو کون نہیں جانتا، شاید وہ نہیں جانتے جو اردو نہیں جانتے۔ پریم چند کو آپ جدید اردو افسانے کا جد امجد کہہ سکتے ہیں۔ ان کا شمار اردو اور ہندی دونوں زبانوں کے سب سے بڑے مختصر افسانہ نگاروں اور ناول نگاروں میں ہوتا ہے۔ ہندی ادب کے ماننے والے اسے ’اپنیاس سمراٹ‘ کہتے ہیں، جو کہ ناول نگاری کا بادشاہ ہے۔ انہوں نے تقریباً پینتیس برس کے ادبی کیریئر میں جو کچھ لکھا ذات، پات اور

Read more

پریم چند کا پھٹا ہوا جوتا – مکمل کالم

پریم چند کو کون نہیں جانتا، شاید وہ نہیں جانتے جو اردو نہیں جانتے۔ پریم چند کو آپ جدید اردو افسانے کا جد امجد کہہ سکتے ہیں۔ اُن کا شمار اردو اور ہندی دونوں زبانوں کے سب سے بڑے مختصر افسانہ نگاروں اور ناول نگاروں میں ہوتا ہے۔ ہندی ادب کے ماننے والے اسے ’اپنیاس سمراٹ‘ کہتے ہیں، جو کہ ناول نگاری کا بادشاہ ہے۔ انہوں نے تقریباً پینتیس برس کے ادبی کیریئر میں جو کچھ لکھا ذات، پات اور

Read more

غیر یقینی کائنات میں سب کچھ ممکن ہے (مکمل کالم)

خدا بھلا کرے ورنر ہائیزن برگ کا جس نے کوانٹم میکینکس کا ’اصول عدم قطعیت‘ بولے تو Uncertainty Principle دریافت کر کے ہمارے لکھاریوں کو تصوف کو سائنس سے ثابت کرنے کا موقع فراہم کر دیا۔ یہ اصول بظاہر سادہ ہے، اس اصول کی رو سے ایٹم میں موجود ذرات کی رفتار اور مقام کا بیک وقت تعین نہیں کیا جا سکتا۔ یہ اصول نیوٹن کی کلاسیکی طبیعات کے ماڈل کی نفی ہے کیونکہ نیوٹن نے ہمیں بتایا تھا کہ

Read more

تارکین وطن، ہجرت اور دہری شہریت

تارکین وطن کو عموماً دو طعنے دیے جاتے ہیں۔ پہلا، یہ لوگ پاکستان میں جو زر مبادلہ منتقل کرتے ہیں وہ ملک پر احسان نہیں ہے، یہ پیسے وہ اپنے رشتہ داروں کو بھیجتے ہیں، اگر ان کے رشتہ دار یوگنڈا چلے جائیں تو یہ لوگ پاکستان کی بجائے یوگنڈا میں پیسے بھیجنا شروع کر دیں گے۔ دوسرا، ان لوگوں نے پر آسائش زندگی کی خاطر اپنا وطن چھوڑا، شہریت ترک کی، غیر ملک کی وفاداری کا حلف اٹھایا اور

Read more

کیا ائر کنڈیشنر کا موجد جنت میں جائے گا؟ مکمل کالم

”دیوسائی سے اگر آپ بھارتی سرحد کی طرف جانا شروع کریں تو راستے میں ایک وادی آتی ہے جس کا نام وادی گُلتری ہے، اب تو خیر وہاں تک پہنچنے کے لیے کچی پکی سڑک موجود ہے مگر جس وقت کی بات میں بتا رہا ہوں تب یہاں صرف پیدل ہی پہنچا جا سکتا تھا۔ پہلے آپ سکردو سے چِلم تک جاتے تھے جو ضلع استور کا ایک چھوٹا سا گاؤں ہے اور پھر وہاں سے تقریباً بارہ دن پیدل

Read more

ائر کنڈیشنر کا موجد جنت میں جائے گا؟ (مکمل کالم)

”دیوسائی سے اگر آپ بھارتی سرحد کی طرف جانا شروع کریں تو راستے میں ایک وادی آتی ہے جس کا نام وادی گلتری ہے، اب تو خیر وہاں تک پہنچنے کے لیے کچی پکی سڑک موجود ہے مگر جس وقت کی بات میں بتا رہا ہوں تب یہاں صرف پیدل ہی پہنچا جا سکتا تھا۔ پہلے آپ سکردو سے چلم تک جاتے تھے جو ضلع استور کا ایک چھوٹا سا گاؤں ہے اور پھر وہاں سے تقریباً بارہ دن پیدل

Read more

آبدوز میں مرنے والوں سے نفرت کیوں؟ (مکمل کالم)

پہلا سوال: اوشن گیٹ نامی کمپنی دنیا کے ارب پتی افراد کو ’ٹائٹن‘ نامی آبدوز میں بٹھا کر سمندر کی تہہ میں لے جانے کا کام کرتی ہے، اس سفر کے دوران یہ ’سیاح‘ سو سال پہلے ڈوب جانے والے جہاز ٹائٹینک کے ملبے کا نظارہ کرتے ہیں۔ اس آبدوز میں پائلٹ سمیت پانچ افراد بیٹھ سکتے ہیں اور ایک ٹکٹ کی قیمت اڑھائی لاکھ ڈالر ہے۔ چند روز پہلے ایسے ہی ایک سفر کے دوران یہ آبدوز تباہ ہو

Read more

یہ آخری کشتی نہیں جو ڈوبی ہے – مکمل کالم

آپ میں سے جن لوگوں میں نیٹ فلکس پر فلم The Swimmers نہیں دیکھی وہ یہ فلم ضرور دیکھیں۔ یہ دو بہنوں کی کہانی ہے جن کا تعلق شام سے ہے، اِن کا باپ انہیں تیراکی کی تربیت دیتا ہے تاکہ یہ اولمپک میں شرکت کر کے اپنے ملک کے لیے تمغہ جیت کر لائیں۔ لیکن پھر شام میں خانہ جنگی شروع ہوجاتی ہے، شروع شروع میں انہیں لگتا ہے جیسے یہ کچھ ہی دنوں کی بات ہے اور حالات

Read more