افغانستان سلطنتوں کا قبرستان نہیں بلکہ ان کا غلام رہا ہے

آپ نے اکثر سنا ہو گا کہ افغانستان کو کوئی فتح نہیں کر سکا اور وہ سلطنتوں کا قبرستان رہا ہے۔ جس نے بھی اس پر حملہ کیا وہ نیست و نابود ہو گیا۔ وغیرہ وغیرہ۔ آئیے تاریخ میں ایک ڈبکی لگاتے ہیں اور جانتے ہیں کہ حقیقت کیا ہے۔

تاریخ انسانی کی پہلی بڑی سلطنت ایرانی بادشاہ سائرس (کوروش اعظم) کی تھی۔ ڈھائی ہزار سال پہلے وہ پہلا بادشاہ تھا جس نے شہنشاہ کا لقب اختیار کیا، یعنی شاہوں کا شاہ۔ آپ اس کی سلطنت کا نقشہ دیکھیں۔ امید ہے کہ ہخامنشی سلطنت میں آپ کو دائیں طرف تمام موجودہ افغانستان بھی دکھائی دے گا جو کہ سائرس کی ہخامنشی سلطنت کا ایک صوبہ تھا۔ یعنی موجودہ افغان علاقے ایرانی سلطنت کے مفتوحہ غلام تھے۔

Read more

’افغان سیکس سکینڈل‘: ’ہر کوئی آپ سے جنسی تعلق قائم کرنا چاہتا ہے‘

افغانستان میں اعلیٰ حکومتی سطح پر جنسی ہراس کے الزامات نے تہلکہ مچا دیا ہے۔ حکومتی اہلکاروں نے تو ان الزامات کی تردید کی ہے لیکن بی بی سی نے معاملے کی تحقیقات کے دوران ایسی خواتین سے بات کی جنھوں نے ہراس کے اس ماحول کی بھیانک منظر کشی کی ہے۔

Read more

‎پاکستان کیوں افغانستان میں مداخلت کرتا ہے؟

‎پاکستان اور افغانستان کے تعلقات ان دنوں ایک مرتبہ پھر کشیدہ ہیں۔ پاکستان اور افغانستان کے تعلقات مسلسل کیوں کشیدہ رہتے ہیں یہ سمجھنے کے لیے تاریخ کا تھوڑا سا مطالعہ ضروری ہے۔ سنہ 1823 میں نوشہرہ کی جنگ کے بعد درہ خیبر تک کا علاقہ رنجیت سنگھ کی پنجابی سلطنت میں شامل ہو چکا تھا جو کہ برطانوی راج کے پنجاب پر قبضے کے بعد اس کی سلطنت کا حصہ بن گیا۔ پاکستان اور افغانستان کے کشیدہ تعلقات کی جڑیں 1893ء میں شروع ہونے والے مسئلہ پختونستان سے جڑی ہوئی ہیں۔ اس وقت برطانوی راج کے نمائندے سر ہنری مورٹیمر ڈیورنڈ نے برطانوی ہندوستان اور افغانستان کو الگ کرنے کے لیے ڈیورنڈ لائن کی بنیاد رکھتے ہوئے ایک سرحد قائم کی، جس سے پختون قبائل دو حصوں میں تقسیم ہوئے۔

Read more

افغانستان کی بچہ پوش لڑکیاں

کل نادیہ ہاشمی کی کتاب ”دا پرل دیٹ بروک ایٹس شیل“ ختم کی۔ کچھ کتابیں ایسی ہوتی ہیں کہ اٹھا لیں تو ختم کیے بغیرچھوڑنا مشکل ہو جاتا ہے۔ کتاب کی دکھ بھری کہانی دو لڑکیوں کے گرد گھومتی ہے جو افغانستان میں بچہ پوش بن کر زندگی سے لڑتی ہیں۔ یہ بچہ پوش کیا ہیں یہ سن کر شاید بہت سے لوگ حیران پریشان رہ جایں گے۔ جب میں نے پہلی بار اس رواج کے بارے میں پڑھا تو

Read more

ہمارا واشنگٹن جانے کا راستہ کابل سے گزرتا ہے، شاہ محمود قریشی

امریکی دارالحکومت میں قائم ایک تھنک ٹینک یونائٹڈ سٹیٹس انسٹی ٹیوٹ فار پیس میں منعقد ہوئے ایک سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے شاہ محمود قریشی نے کہا کہ پاکستان اور امریکہ کے باہمی تعلقات میں بہتری افغانستان کے حالات میں بہتری پر منحصر ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے لئے واشنگٹن جانے کا راستہ کابل سے ہو کر گزرتا ہے۔ شرکا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان، افغانستان اور امریکی حکومتوں میں اس بات پر اتفاق پایا

Read more

امریکا اور طالبان، مذاکرات کے لئے مثبت اشارے

مغربی میڈیا کی تازہ رپورٹس کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ نے امریکی سفارتکاروں کوطالبان سے براہ راست امن مذاکرات شروع کرنے کی ہدایات دی ہیں تاکہ افغانستان میں سترہ سال جنگ کا خاتمہ کیا جاسکے۔ ابھی تک اس سلسلے میں باضابطہ اعلان تو نہیں کیا گیا لیکن حال ہی میں امریکی وزیرخارجہ مائیک پومپیو اور افغانستان میں امریکی فوجی کمانڈرجنرل جان نکولسن نے طالبان سے مذاکرات کا عندیہ دیا تھا۔ طالبان نے براہ راست مذاکرات سے متعلق رپورٹس پرتبصرہ کرتے ہوئے

Read more

روس کو افغانستان میں ہم کھینچ کر لائے تھے: امریکی صدارتی مشیر

افغانستان پر سوویت یونین کے حملے کے وقت امریکی صدر کارٹر کے قومی سلامتی کے مشیر زبیگنیف برزنسکی کا 1998 میں ایک فرانسیسی جریدے ”لا نویل آبزرویتر“ کو دیا گیا ایک انٹرویو۔ اس سے سات مہینے پہلے جون 1997 میں وہ سی این این کی کولڈ وار سیریز میں بھی ایسے ہی خیالات کا اظہار کر چکے تھے۔ سوویت یونین کی گرم پانیوں کی چاہ پر ابال کھانے والوں کے لیے یہ انٹرویو دلچسپ ہو گا۔ اور ان کے لیے

Read more

روس اور گرم پانیوں کا افسانہ

ہمارے ہاں ضیا الحق کے دور میں یہ تاثر شدت سے دیا گیا کہ سوویت یونین کی افغانستان میں فوجی مداخلت کا مقصد یہ تھا کہ وہ بحیرہ عرب کے گرم پانیوں تک پہنچ سکے، اور افغانستان کے بعد سوویت یونین کے حملے کا اگلا نشانہ پاکستان ہوتا۔ کارٹر دور کے مشیر برائے قومی سلامتی، برزنسکی اپنے انٹرویو میں، اور رابرٹ گیٹس اپنی کتاب میں یہ بات کہہ چکے ہیں کہ سوویت یونین کا افغانستان میں فوجی مداخلت کا کوئی

Read more