ایک پُرانی غلطی

میں نے ساجدہ کو غور سے دیکھا۔ تھکی ہوئی کسی دیوی کی طرح معصوم لگ رہی تھی وہ۔ چہرے پر تھکن کے ساتھ ساتھ ایک عجب طرح کا اطمینان تھا۔ وہ بے حس، بے ہوش، بے خبر سورہی تھی۔ دنیا و مافیہا سے لاعلم گہری نیند میں نہ جانے کن خوابوں کی نگری میں کھوئی ہوئی تھی۔ تھکا ہوا تو میں بھی تھا مگر ایک بات ہوئی تھی جس نے میری نیند اُڑا دی۔ بار بار میرے دل پر کچوکے

Read more

سندھی کسان اور کتّے کی گواہی

وہ قبر ذرا سی مختلف تھی۔ عام قبروں سے ہٹ کر بالکل سڑک کے ساتھ لگی ہوئی۔ میں تو اسے قبر نہیں سمجھا تھا۔ بس مٹی کا ایک ڈھیر تھا وہ کسی بھی طرح کوئی قبر نہیں لگ رہی تھی۔ اسی قبر نما مٹی کے ڈھیر کے سامنے میری گاڑی خراب ہوگئی تھی۔ میں جیکب آباد سے سبّی کے راستے پہ نکلاہی تھا اور شہر کے ساتھ لگی ہوئی دیہی آبادی کو چھوڑ کر مین روڈ پر چلا جارہا تھا

Read more

چھوٹا دماغ اور بڑا مسئلہ

وہ مجھے کوئٹہ میں ملا۔ ٹیکسی میں بیٹھتے ہی مجھے پتہ چل گیا تھا کہ ٹیکسی ڈرائیور مذہبی آدمی ہے۔ کوئٹہ میں داڑھی رکھنا ایک عام سی بات ہے لیکن ہر داڑھی والے کا مذہبی ہونا کوئی ضروری نہیں۔ بے شمار بلوچ اور پٹھان داڑھی والے مل جائیں گے جن کی زندگی میں مذہب کا کوئی کردار نہیں ہوتا۔ کچھ ایسے بھی ہوتے ہیں جو بظاہر مذہبی ہوتے ہیں۔ اذان کی آواز آتے ہی مسجد کی طرف دوڑتے ہیں یا

Read more

کلین لڑکی کلین ٹوائلٹ

ہوٹل بہت شاندار تھا۔ شاندار کے ساتھ ساتھ کچھ اور بالکل نئی نئی، بلکہ اگر یہ کہا جائے کہ عجیب وغریب چیزیں تھیں تو کہنا غلط نہیں ہوگا اوروں کے لئے شاید عجیب وغریب نہ ہوں مگر کم ازکم میرے لئے تو عجیب وغریب ہی تھیں۔

بات یہ ہے کہ اپنے کام کے سلسلے میں مجھے بہت سے یورپ اور امریکہ کے بڑے بڑے ہوٹلوں میں رہنے کا موقع ملا تھا مگر یہ ہوٹل بہت ہی مختلف تھا بالکل مختلف۔ یورپ اور امریکہ کے ہوٹلوں، موٹلوں اور مہمان خانوں سے۔

Read more

امی کا جنازہ اور بدعت

امی کی میت آغا خان اسپتال کے برف خانے میں رکھی ہوئی تھی۔ برف کی طرح ٹھنڈی، جذبات خواہشات تضادات سے مبرّا، پیار سے بھری ہوئی آنکھیں بند تھیں۔ چوڑی پیشانی پر پڑی ہوئی شکنیں کہیں کھو گئی تھیں۔ مسکراتے ہوئے ہونٹوں سے ان کے سامنے کے دو چمکتے ہوئے دانت نظر آرہے تھے اورہمیشہ منور رہنے والا چہرہ نور سے خالی تھا مگر چہرے پر سکون ہی سکون تھا۔ میں نے لمحے کے لئے بھی نہیں سوچا تھا کہ

Read more

ماں کا آخری خط

پیارے بیٹے

خوش رہو، جو بھی کرو خوشی سے کرو۔ تمہاری زندگی طویل ہو، میری زندگی بھی تمہیں لگ جائے۔ تم جیو پھلو پھولو اور اللہ تعالیٰ کی رحمتیں تمہارے ساتھ ہوں۔

میں اورتمہارے ابو تمہارے لئے پریشان رہتے ہیں۔ ہماری تو یہی خواہش ہے کہ تم جلداز جلد اپنی تعلیم پوری کرلو اور اس قابل ہوجاؤ کہ دنیا میں سر اٹھا کر اچھے سے جیو، ہماری تو جیسی گزرگئی اچھی ہی گزرگئی۔ سستا زمانہ تھا۔ تمہارے ابو نے بغیر رشوت اور بے ایمانی کے گزارا کر ہی لیا اور کر ہی لیں گے، پر اب زمانہ خراب ہے، مہنگائی ہے، بے ایمانی رشوت عام ہے۔

Read more

محبت کی خاطر

میں نے اس کے سرخ و سفید جاذب نظر چہرے پر چوڑی پیشانی اور دونوں خوبصورت ذہین آنکھوں کے درمیان گولی ماری تھی۔ اس کا خوفزدہ اور پیلا ہوتا ہوا چہرا اب تک میرے سامنے ہے۔ پہلے اس کے چہرے پہ حیرت ہی حیرت نظر آئی اس نے سوچا بھی نہیں ہوگا کہ میں وہاں آؤں گا اور یہ تو اس کے تصور اور خواب و خیال میں بھی نہیں ہوگا کہ میرے پاس پستول ہوگا اور میں اسے نکال

Read more

عبدالسلام کی بچی اٹلی نہ جا سکی

انہیں میں نے انٹرنیشنل فارمرز مارکیٹ میں دیکھا۔ انٹرنیشنل فارمرز مارکیٹ بہت بڑی دکان ہے، یہاں زندہ مچھلی سے لے کر ہر قسم کا گوشت ہر قسم کے لوگوں کے لئے اور دنیا بھر میں اُگنے والی ہر طرح کی سبزی، دنیا کے ہر ملک نسل اور اقوام کے مصالحہ جات اور تقریباً ہر قسم کے پھل ملتے ہیں۔ اُس دکان کے ایک طرف سے دوسری طرف جانے میں تقریباً گھنٹہ لگ جاتاہے۔ پورے کا پورا علاقہ مصنوعی طور پر

Read more

راستہ بھولنے کے بعد خوشی کا سوال کیسا؟

”خوش کیسے ہوسکتی ہوں؟ “ اس نے اپنی بھاری بھاری پلکوں والی آنکھوں سے میری آنکھوں میں جھانکتے ہوئے کہا۔ اس کے چہرے کا کرب، اس کے من کا دکھ، اس کے اندر کی بے چینی سب کچھ جیسے میرے سامنے آگیا۔ مجھے شدت سے احساس ہوا کہ یہ سوال مجھے نہیں کرنا چاہیے تھا۔ کیوں کیا ایسا میں نے! مجھے شرمندگی سی محسوس ہونے لگی۔ کوئی اپنے سگے بھائی کے قتل کے بعد خوش کیسے رہ سکتا ہے؟ کیسے

Read more

بصرے کی رہنے والی اور امریکی پرچم کا بوسہ

میرا نام مَریّا ہے، مَریا حداد۔ میں بصرے کی رہنے والی ہوں اسی بصرے کی جو ہزاروں سال پرانا ہے۔ اسی بصرے کے ایک ہزاروں سال پرانے خاندان سے تعلق ہے میرا جو یسوع مسیح کے زمانے سے عیسائی ہے۔ جو گرجا گھروں کے اس شہر میں رہتا رہا، زمانے کے الم و غم سہتا رہا مگر یسوع مسیح کی عبادت سے گریزاں نہ ہوا۔ بصرے کے سبزے، مٹی اور دھول کو سانسوں میں لے کر، جو بصرے کو اپنے

Read more

پب والی لڑکی سے محبت اور طالبان کا تاوان

حلال گوشت کی دوکان پر اسے دیکھ کر میں حیران رہ گیا۔ ابھی پچھلے ہفتے کی بات ہے کہ بلوھیون پب، میں وہ مختصر ترین لباس میں ناچ رہی تھی۔ مجھے اچھی بھی لگی اور نشے میں نہ جانے کتنے ڈالر میں نے اس کے پین ٹیز اور برا کے اندر اپنے ہاتھوں سے ٹھونسے تھے۔ بالکل وہی تھی۔ مجھے اس کی شکل صرف اس لئے یاد رہ گئی کہ اس کے سرخ سلگتے ہوئے ہونٹوں کے بائیں جانب ایک

Read more

مجرم کا سچ اور معاشرے کا جھوٹ

”بس جی میں نے سر کو گلے سے کاٹ کر پہلے تو پرانے اخبار میں اچھے طریقے سے لپیٹا پھر ایک پلاسٹک کی تھیلی میں ڈال کر اوپر سے باندھ دیا، جسم کے ٹکڑے کرنا کوئی ایسا مشکل کام نہیں ہے جلدی جلدی ٹکڑے کیے پھر ٹرنک میں پہلے دھڑ رکھا اس پر دونوں ہاتھ، دونوں بازو، دونوں ٹانگ اور دونوں ران سجادیئے۔ چینی تالے کی چابیاں ٹرنک میں ڈال کر ٹرنک میں تالا لگاکر دبا دیا سوزوکی کیری میں

Read more

سندھ کی بیٹی، بہتا ہوا پیشاب اور فسٹیولا کی بیماری

سندھی لڑکیاں کبھی بھی مجھے اپنی طرف متوجہ نہیں کرسکیں۔ مجھے وہ خوب صورت لگتی ہی نہیں تھیں بلکہ حقیقت تو یہ ہے کہ بہت دنوں تک میں یہی سمجھتا رہا کہ سندھی لڑکیوں میں ضرور کوئی خرابی ہوتی ہے۔ ان میں کوئی جسمانی نقص ہے یا یہ کچھ ادھوری سی ہیں۔ میں نے کبھی بھی انہیں مکمل یا حسین نہیں سمجھا۔ شاید اس کی وجہ یہ ہو کہ سندھ کے بڑے سے بڑے سیاستدان، پیر، وڈیرے یہاں تک کہ

Read more

ایک خودکش بمبار اور ایک ڈاکٹر

”میں آٹھ منٹ میں زندہ انسان کی کھال کھینچ لیتا ہوں۔“ اس نے بڑے سکون سے مجھے دیکھتے ہوئے صاف الفاظ میں بتایا۔ دوبارہ سے میری ریڑھ کی ہڈی میں سردلہر دوڑتی چلی گئی، کوشش کے باوجود میں اپنے آپ کو پرسکون نہیں رکھ پایا۔ مجھے اپنے دل کی دھڑکن کی آواز محسوس ہورہی تھی۔ میرے دونوں کانوں کے نیچے والے پوربھی دھڑکن کے ساتھ دھک دھک کیے جارہے تھے۔ میری نظروں کے سامنے انٹرنیٹ کی وہ فلم آگئی جسے

Read more

ڈنمارک کی دوشیزہ، فلسطینی نوجوان اور اسرائیلی ایجنٹ

میں وہاں صبح سویرے پہنچا۔ ریلوے اسٹیشن سے بس پکڑ کر اس کے اپارٹمنٹ تک پہنچنا کوئی زیادہ مشکل نہ تھا۔ ڈبلن سے اوسلو تک پہنچنا بھی کوئی ایسا مشکل نہ تھا۔ مشکل تو اس کا سامنا کرنے میں تھی۔ نہ جانے وہ کیسی ہوگی، کس طرح سے اس نے حالات کا مقابلہ کیا ہوگا۔ وہ ہنسنے گانے گھومنے گھامنے والی سادہ سی یورپین لڑکی، اتنے بڑے حادثے کو کیسے بھگتایا ہوگا اس نے۔ میں سوچتا رہا اور پریشان ہوتا رہا۔

Read more

کراچی سے نیویارک تک: جالے اور دُھواں

نکاح سے پہلے وہ تحفہ پہنچ گیا، لمبا سا، موٹا سا۔ کپڑے کے ایک لمبے سے اور موٹے سے تھیلے میں لپٹا ہوا۔ قالین کو تہہ نہیں کرتے ہیں گول گول رول کرکے موٹے کپڑے کے تھیلے میں پرودیا جاتا ہے۔ کسی نے دیکھا بھی نہیں کہ کون اس تھیلے کو لے کر آیا ہے۔ اس تحفے کے پہنچتے ہی ہر ایک کی توجہ اس طرف چلی گئی۔ چھوٹے سے گھر کا آنگن ہوتا ہی کتنا بڑا ہے۔ آنگن کے بیچ میں اسے ڈال دیا گیا تھا۔

رات کی جاگی ہوئی، تھکی ہوئی لڑکیاں تیار ہونے کا سوچ ہی رہی تھیں۔ چھوٹے بچے اپنے اپنے کپڑے تھامے کھڑے تھے کہ بارات کے آنے سے پہلے پہن لیں۔ عورتیں بھی سوچ رہی تھیں کہ دلہن کے بیوٹی پارلر جانے کے بعد وہ بھی تیار ہونا شروع کریں گی کہ کسی نے کہا کہ ”اسے کھول کر تو دیکھو بھلا یہ قالین ہے کیسا؟ “

Read more

تیل سے آسودہ مقدس زمین پر ایک اور طرح کی بھوک

میں نے غصے سے کہا، ”شروع سے بتائیں، تفصیل سے بتائیں۔ ہندوستان میں کیا ہوا تھا، جدہ کیسے پہنچیں؟ وہاں پہنچ کر کیا ہوا؟ پہلی دفعہ کس نے آبروریزی کی تھی آپ کی؟ محل سے کس کے ساتھ بھاگی تھیں۔ اس فلپینی لڑکی کا کیا ہوا؟ کیا نام تھا اس کا، کس طرح سے مری تھی وہ؟ مطویٰ نے کیا کیا تھا؟ ریاض میں کس کس طرح سے تم دونوں کو پامال کیا گیا؟ صاف صاف لکھیں، ڈرنے کی کوئی

Read more

نئے دور کا نیا خاندان

رات دو بجے عذرا کا فون تھا۔ ”سر وہ لیبر میں ہے، ہسپتال آگئی ہے۔ شائستہ، وہی ایچ آئی وی والی عورت۔ “ ”کتنی دیر لگے گی تمہارے خیال میں؟ “ میں نے پوچھا۔ ”دو گھنٹے میں سب کچھ ہوجائے گا سر! ابھی وہ چھ سات سینٹی میٹر ہے اور بچے کا سر بالکل ہی نیچے آچکا ہے۔ درد ٹھیک ٹھاک اٹھ رہے ہیں۔ پروگریس کررہی ہے۔ “ عذرا نے جواب دیا تھا۔ میں نے کہا کہ ”میں آرہا ہوں۔

Read more

بیٹے کی جلاوطنی پر باپ کیوں خوش ہوتا ہے؟

میں چوتھے کیس کے بیچ میں تھا کہ میرے موبائل فون نے بجنا شروع کردیا۔ ”جس کا بھی ہے اسے بولو کہ بیس پچیس منٹ بعد فون کرے۔ “ میں نے چیخ کر تھیٹر انچارج سے کہا جس کی جیب میں آپریشن شروع کرنے سے قبل میں نے اپنا فون رکھ دیا تھا۔ ”سر! کوئی ڈاکٹر عامر ہیں، کہہ رہے ہیں کہ آپ فوراً انہیں فون کرلیں کوئی بہت ارجنٹ کام ہے۔ “ میری سمجھ میں نہیں آیا۔ ابھی کل

Read more

جہاز میں ایک سیٹ خالی تھی

”مگر امی وہ ابوکو کیوں مار دیں گے؟ “ ”کیوں کہ۔ کیوں کہ ایسا ہے کہ۔ “ میں نے رک رک کر کہا، ”۔ کہ وہ شیعہ ہیں۔ “ میری سمجھ میں نہیں آیا تھا کہ کیا جواب دوں۔ ”مگر امی شیعہ تو آپ بھی ہیں، میں بھی ہوں۔ “ ”ہاں نہیں مگر وہ صرف مردوں کو مار رہے ہیں۔ “ میں نے پھر جواب میں کہا تھا۔ ”تو امی۔ تو امی ابو سے کہیں کہ عورت بن جائیں۔ “

Read more

وہ بہت اچھی طوائف تھی

وہ مجھے بنکاک میں ملی تھی۔ میں ہوٹل سے باہر نکلا ہی تھا کہ ٹیکسی ڈرائیوروں نے مجھے گھیر لیا، ”لڑکی چاہیے، لڑکی۔ یو پاکستانی، مسلمان؟ مسلم لڑکی ایویل ایبل۔ آل کلین، نیشنل، میڈیکل سرٹیفکیٹ۔ باڈی مساج ساتھ میں۔ کلینک سیکس“ وغیرہ وغیرہ نجانے وہ لوگ کیا کیا بولتے رہے تھے۔ تیز تیز قدموں سے چل کر میں نے انہیں پیچھے چھوڑا۔ میں عیاشی ہی کرنے آیا تھا مگر اس وقت عیاشی کا پروگرام شروع کرنے کا وقت نہیں ہوا تھا۔ ابھی تو پاکستان سے مہمانوں نے آنا تھا۔ ان مہمانوں نے جن کے لیے یہ پورے ہفتے کا عیاشی کا پروگرام مجھے ہی بنانا تھا۔

Read more

ایک عورت، تین بدمعاش، ایک مولوی اور پولیس

”عورت تو پانی کی طرح ہوتی ہے، جب بھی پیاس لگی پی لیا ورنہ بہتی رہے۔ “

اس نے میری آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بڑی خوداعتمادی سے کہا۔ عام سا نام تھا اس کا، جمیلہ۔ عام سے خاندان کی عام سی لڑکی تھی وہ۔ کراچی کے کسی خاص علاقے سے بھی نہیں آتی تھی لیکن جب بھی آتی عام سی بات نہیں کرتی تھی۔ بہت گہرائی تھی اس کی باتوں میں۔ شاید کانوں کو زخمی کرنے والی سچائی بھی۔

دسویں جماعت تک پڑھی ہوئی عورت اس طرح کی بات کرے، مجھے تعجب بھی ہوا اور ایک طرح کی خفت بھی۔ یہ بات تو کسی فلاسفر نے کہی ہوتی، کسی کتاب میں چھپی ہوتی، کسی ڈرامے کا ڈائیلاگ ہوتا، کسی فلم کی کہانی بنتی اس سے۔ نیشنل جغرافیہ کی کسی ڈوکومینٹری کی ابتدا ہوتی اس سے۔

Read more

یاد بھی نہ رکھا اسے بھول بھی نہ پائے

اس نے اپنی چھاتیوں پر ایک گانٹھ سی ایک ابھار سا یا کچھ عجیب سا محسوس کیا ہوگا۔ ایک جھنجھناہٹ جیسے آہستہ آہستہ بہت ساری چیونٹیاں رینگ رہی ہیں اور ساتھ ہی سر سے لے کر پیر تک خوف کی ایک ٹھنڈی سی لہر دوڑ گئی ہوگی۔ کینسر، چھاتیوں کا سرطان، مجھے سوچ کر پسینہ آگیا۔ موت اپنا پرعزم چہرہ لیے سامنے کھڑی ہوگی اس کے۔ پھر تسلی دی ہوگی اس نے اپنے آپ کو، نہیں، کینسر نہیں ہوگا یہ۔ ایسی ہی معمولی سی بات ہوگی، معمولی سی معصوم سی سسٹ مگر پریشان تو ہوئی ہوگی وہ۔

Read more

گھنی مونچھیں، پراسرار مسکراہٹ اور کراچی کے قبرستان میں ایک قبر

وہ سب کچھ خیابانِ محافظ اور خیابانِ غاضی کے موڑ پہ ہوا۔ میں اپنی ٹویوٹا کیری میں تیزی سے موڑ کاٹ کر نکلی تھی کہ سامنے سے ہی وہ بڑی سی پجارو آگئی اور میری گاڑی پوری شدت کے ساتھ پجارو سے جا ٹکرائی۔ میرے تو جیسے ہوش اڑگئے۔ گاڑی کا نقصان ہوا مگر خوش قسمتی سے مجھے کچھ بھی نہیں ہوا۔ میں نے زور لگا کر دروازہ کھولا اور باہر نکل کر پوری شدت سے اس ڈرائیور پر چڑھ دوڑی تھی۔

”اندھے ہو۔ دیکھ کر نیں چلتے ہو۔ مار دیا میری گاڑی کو۔ پتا نہیں کن لوگوں نے تمہیں گاڑی دی ہے۔ ڈرائیور بنادیا ہے۔ “ میں چیخ ہی رہی تھی کہ ایک بھاری بھرکم آواز نے مجھے چونکادیا۔ ”میں نے گاڑی دی ہے اسے، میں نے ڈرائیور بنایا ہے اس کو، سارا قصور میرا ہے۔ اس کا کیا قصور ہے، کچھ بھی نہیں۔ ناراض اس پہ نہ ہوں مجھ پہ ہوں۔ اس غریب پہ کیوں برس رہی ہیں۔ “

Read more

جب بیٹی حیران کرتی ہے۔۔۔

میری بیٹی نے مجھے دو دفعہ حیران کیا۔ پہلی دفعہ جب اس نے مجھے لندن سے فون کرکے بتایا کہ وہ لاہورسے آئے ہوئے اپنے ہم جماعت لڑکے کے ساتھ شادی کرنا چاہتی ہے اوروہ یہ بھی چاہتی ہے کہ اس کی ماں کومیں سمجھاؤں کیوں کہ اس کا خیال تھا کہ مجھے تو کوئی اعتراض نہیں ہوگا لیکن اس کی ماں اور نانی طوفان کھڑا کردیں گی۔ دوسری دفعہ اس وقت جب منگنی کے بعد شادی سے صرف تین ماہ قبل اس نے مجھے رشتہ ٹوٹ جانے کی خبر دی تھی۔ دونوں دفعہ اس کی ماں اور نانی کو سمجھانا مشکل ہوگیا تھا۔ سمجھنا تومیرے لیے بھی مشکل تھا لیکن حالات سے سمجھوتہ اگر سمجھتا ہے تو اس لحاظ سے میری سمجھ اچھی تھی۔

Read more

19 نومبر کو بچوں کے عالمی دن پر مرنے والی بچی اور ڈاکٹر کے الفاظ

اس کی موت متوقع تو تھی مگر اس طرح اچانک وہ مرجائے گی اس کا مجھے اندازہ نہیں تھا۔ ابھی اس کی عمر ہی کیا تھی۔ میری سمجھ میں نہیں آتا ہے کہ اگر اوپر والا اسے کچھ دن اور ہمارے پاس چھوڑدیتا تو کیا فرق پڑجاتا، اس بھری پُری کائنات میں نہ آسمان ہلتا نہ چاند سورج ستاروں کی گردش پہ کوئی فرق پڑتا اور نہ ہی دنیا کی اچھائیوں برائیوں پہ کوئی حرف آتا۔ صرف تھوڑے دنوں کی

Read more

کامیاب تخلیق کار کی موت کا منظر

”مار ڈالو سالے کو، حرام زادے کو ابھی پکڑو اور لے چلو“ اور اس کے ساتھ ہی کسی نے مجھے گردن سے اس طرح پکڑ کر اٹھایا کہ میں اس کا چہرہ بھی نہیں دیکھ سکتا تھا۔ بڑی بڑی انگلیاں اوربھرابھرا ہاتھ جیسے گلا گھونٹنے کے لئے بالکل تیار۔ آنکھوں سے صرف سیاہ رنگ ہی نظر آیا۔ اس کی انگلیاں اس طرح سے میری گردن میں پیوست ہورہی تھیں کہ لگ رہا تھا جیسے گردن کے پار ہوجائیں گی۔ مجھے

Read more

بارش کی ایک رات اور بے خواب ممتا کے سترہ برس

 ”مجھے پہچان لیا ڈاکٹر! “ اس نے میری آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر ایک عجیب اطمینان کے ساتھ کہا۔ میں اسے سو سال کے بعد بھی پہچان لیتا، ابھی تو صرف سترہ سال ہی گزرے تھے۔ میں کیسے بھول سکتا تھا اُسے۔ اس طرح کے واقعات ہر ایک کی زندگی میں نہیں ہوتے ہیں اور جب ہوتے ہیں تو انسان انہیں بھول نہیں سکتا ہے۔ وہ آپ کی زندگی کے ساتھ ساتھ چلتے رہتے ہیں۔ پھر اس کا چہرہ بھی

Read more

زلیخا بی بی کے 45 برس اور سجدوں کی ایک رات

پچاس منٹ سے بھی کم وقت میں زلیخا بی بی کا آپرشن ختم ہوگیا تھا۔ وکرل کا ایک دھاگہ مالیت دو سو اسی روپے اسپائنل اینستھیسیاجس سے زلیخا بی بی کے جسم کو سُن کیا گیا تاکہ بغیر کسی تکلیف کے اپریشن ہوسکے۔ اسپائنل نیڈل قیمت بائیس روپے بے ہوشی کی دوا کی قیمت آٹھ روپے اگر بے ہوش کرنے والے ڈاکٹر کی فیس، سرجن کی فیس، اور آپریشن تھیٹر میں کام کرنے والوں کی فیس بھی لگائی جاتی اور

Read more

موت کے منہ سے لوٹنے والی ماں مجھے پانچ سو روپے دینا چاہتی تھی

یہ سیدھا سادھا اسقاطِ حمل کا کیس نہیں تھا۔نواب شاہ کے سول ہسپتال میں اسقاط حمل کے ساتھ بہت سارے مریض آتے ہیں۔ اسقاط حمل ایک عام بات ہے۔ لاکھوں کروڑوں عورتوں کو تو پتہ بھی نہیں چلتا ہے کہ ان کا حمل ضائع ہوگیا ہے۔ قدرت کا نظام ہی اس قسم کا ہے کہ ہونے والے بچے میں اگر ایسی خرابی ہو کہ جس کے ساتھ زندہ رہنا ممکن ہی نہ ہوتو پھر حمل خودبخود ضائع ہوجاتا ہے۔ بچہ خودبخود گرجاتا ہے۔ اس حمل کوضائع کرنے کے لئے، اس بچے کو گرانے کے لئے کسی دائی، نرس، مڈوائف یا ڈاکٹر کی ضرورت نہیں ہوتی ہے

Read more

میں چاہتا تھا کہ مجھے دفن کرنے کی بجائے جلا دیا جائے

ستاون سال کی عمر میں جب میں مکمل طورپر چاق و چوبند تھا، توانائی سے بھرپور اور ایک اچھی زندگی گزار رہا تھا کہ مجھ پر انکشاف ہوا کہ مجھے کینسر ہوگیا ہے۔

اس دن کام سے گھر آتے وقت ریڈیو پر خبر تھی کہ جس ہائی وے پر میں جاتا تھا اس پر ایک بڑا حادثہ ہوگیا ہے جس کی وجہ سے ٹریفک جام ہے۔ میں نے فوراً ہی گاڑی چھوٹے روڈ پر ڈال دی تھی۔ امریکا میں ہائی وے پر چلنے کا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ راستے میں کہیں بھی کوئی ٹریفک لائن نہیں ملتی ہے اور سفر بغیر کسی رکاوٹ کے ختم ہوجاتا ہے اور آرام سے بغیر رُکے ہوئے اپنے محلے یا شہر پہنچا جاسکتا ہے۔ پورا امریکا اسی قسم کے ہائی وے کے جالوں میں جکڑا ہوا ہے۔

Read more

وہ ماں جو بیٹوں پر بھاری ہو گئی تھی

اٹھارہ سال سے وہ میری مریضہ تھی۔ ہر کچھ مہینوں کے بعد اس کا شوہر اسے لے کر آجاتا، اسے دیکھتے ہی مجھے سخت تکلیف ہوتی، اندر بہت اندر جیسے کچھ ٹوٹ پھوٹ جاتا، گلے میں خشکی سی ہوتی اور دل زور زور سے دھڑکنے لگتا۔ یہ سمجھتے، جانتے بوجھتے ہوئے کہ میں نے اپنی سی پوری کوشش کرلی تھی۔ جو کچھ ہوسکتا، جو ممکن تھا، کسی طرح سے کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی میں نے۔ اسے دیکھ کر اپنی ناکامی، اپنے فن کی ناکامی، سائنس کی ناکامی، طب کی دنیا میں ہوتی ہوئی ترقی کی ناکامی اور سرجری کے ذریعے کیے جانے والے بعض عجیب و غریب آپریشنوں کی کامیابی کے باوجود اپنی سرجری کی ناکامی کا شدید احساس ہوتا تھا مجھے۔

Read more

میٹھی شتابی

کسی کی سمجھ میں نہیں آیا کہ کیا ہوا، سب کچھ ٹھیک ٹھاک تھا۔ عورتوں کی تقریب تھی۔ میٹھی شتابی۔ بہت سی عورتیں تھیں بھی نہیں۔ صرف قریبی رشتہ داروں کو بلایا گیا تھا۔ تقریب ابھی جاری تھی کہ یکایک شور اٹھا اور کسی لڑکی کی زور سے بین کرنے کی آواز آئی، ”مرگئی مرگئی جل گئی جل گئی۔ مرگئی مرگئی جل گئی جل گئی۔ مار دیا، میں نے اسے، مار دیا میں نے اسے، مولا مار دیا، اب کیا

Read more

فرعون کی بیٹی کی چیخ

وہ غیر معمولی طور پر عجیب و غریب مقدمہ تھا۔ قاہرہ تو کیا پوری دنیا کی کسی بھی عدالت میں اس قسم کا مقدمہ کبھی نہیں پیش کیا گیا۔ یہاں تک کہ جج اور عدالت کے اہلکار بھی اپنی حیرانی نہیں چھپارہے تھے۔ مقدمے کی نوعیت ایسی تھی کہ صرف قاہرہ اور مصر کے ہی عوام نہیں بلکہ تمام دنیا کے لوگ اس میں دلچسپی لے رہے تھے۔ عدالت کی تاریخ جاننے والے لوگوں کا کہنا تھا کہ یہ مقدمہ اپنی نوعیت کے لحاظ سے بہت انوکھا اوربالکل منفرد تھا۔

روزنامہ ”الاہرام“ کے مطابق این میری خلیل نام کی اٹھائیس سالہ انگریز عورت فراعینِ مصر کے میوزیم میں چھپ گئی تھی۔ میوزیم کے تمام اہلکاروں کے میوزیم سے چلے جانے کے بعد رات کی تاریکی میں اس انگریز عورت نے فراعین کی ملکاؤں کے کپڑے اُتاردیئے اور تقریباً سب کو ننگا کردیا۔ ہزاروں سال سے پوشیدہ شہزادیوں، ملکاؤں کے ان نسوانی اعضا کی تصاویر کھینچیں جن کا وقت بھی کچھ نہیں بگاڑسکتا تھا۔

ملکہ نفری ٹی ٹی، ملکہ اشاتی، ملکہ احمس، ملکہ طوطخ امن کی بیوی اور دیگرتمام ملکائیں ننگی پائی گئیں۔ اخبار نے باوثوق ذرائع کے حوالے سے لکھا تھا کہ این میری خلیل نے ملکاؤں کی ننگی تصویریں کھینچیں مگر فلش گن کے چمکنے سے خودکار الارم بج اُٹھے اورمسلح چوکیداروں نے رات کو ہی این میری کو گرفتار کرلیا تھا۔ دوسرے دن سے ہی اخباروں میں اس واقعے کی تشہیر شروع ہوگئی۔ ابتدائی گرفتاری کے بعد سے این میری پولیس کے حوالات میں تھی اور پولیس نے مقدمہ بنا کر عدالت کی ابتدائی کارروائیاں مکمل کی تھیں۔

Read more

زلیخا کا ناسور

لاڑکانہ تو شہر ہی وزیروں، وزیراعلاؤں اور وزیراعظموں کا تھا اور اس کے ساتھ ہی موہنجوداڑو کا رومانس، ہزاروں سال پرانی تہذیب کے آثار جس کے بارے میں، میں نے بہت کچھ سنا تھا اور پڑھا بھی تھا۔ اسی لاڑکانہ آنے کی دعوت نے مجھے یکایک مسحور سا کرکے رکھ دیا تھا۔ سالوں پہلے ڈاکٹر بننے کے بعد پاکستان چھوڑ کر جب میں لندن آکر آباد ہوا تو پھر پاکستان جانا نہیں ہوسکا تھا۔ واقعات بھی کچھ اس طرح سے

Read more

عطر شیشہ اور دوسرے مقامات پر زلزلے کی ضرورت

اسے عطر شیشہ سے لایا گیا تھا۔
ایبٹ آباد سے مظفرآباد کے راستے پر مانسہرہ سے نکل کر جب پہاڑی سلسلے شروع ہوتے ہیں، بڑی بڑی اونچی چوٹیوں کو پھلانگتے ہوئے سرسبزوادیوں سے گزرتے ہوئے جھرنوں، نالوں، نالیوں، ندی کے کنارے سفر کرتے ہوئے ایک چھوٹی سی جگہ عطر شیشہ کے نام سے آتی ہے۔ عطر شیشہ کے پاس کی کسی چھوٹے سے گاؤں سے ایدھی ایمبولینس کے رضاکار اسے لے کر آئے تھے۔

اس کے گھر کا کوئی فرد نہیں بچا تھا۔ نہ باپ نہ ماں نہ بھائی نہ بھابھی اور نہ ہی گھر کے تینوں بچے۔ زلزلہ سب کواپنے ساتھ لے گیا، صرف وہی اس گھر کی زندہ فرد تھی۔ اسے زلزلے نے تو کوئی نقصان نہیں پہنچایا مگر زلزلے کے فوراً بعد جب وہ اپنی پوری قوت سے اپنے ہی گھر کے ملبے کو کوڑ ہی تھی تو گرتے ہوئے گھر کی ایک دیوار کا حصہ اس پر آن گرا اور اس کی دونوں ٹانگیں ٹوٹ گئی تھیں۔

مانسہرہ کے بی ڈی او ہسپتال میں وہ بستر پر پڑی ہوئی تھی اوراس کا بستر گیلا تھا اور اس کے پاس سے سخت بدبوآرہی تھی۔ میں نے ہی سب سے پہلے اسے دیکھا تھا۔

Read more

زلزلہ، مال پانی اور ادھوری خوشی

چیف ہیلتھ افسر کی نئی پوسٹ تھی جو موجودہ چیف ہیلتھ افسر کے لئے خصوصی طور پر تخلیق کی گئی تھی۔ ہوا یہ تھا کہ چیف ہیلتھ افسر صاحب جب ریٹائر ہوئے تو وہ محکمہ صحت میں ڈپٹی سیکریٹری ہیلتھ کے عہدے پر فائز تھے۔ ڈاکٹر بننے کے بعد انہوں نے صحت کے محکمے میں ہر عہدے پر کام کیا، انہیں پہلی دفعہ ایک بیسک ہیلتھ یونٹ میں تقرری دی گئی اور کام وہ پشاور کے سرکاری ہسپتال میں کرتے رہے تھے۔ جب کہ تنخواہ انہیں بیسک ہیلتھ یونٹ سے ہی ملتی تھی۔

وہ بیسک ہیلتھ یونٹ نہیں گئے کیونکہ بیسک ہیلتھ یونٹ میں نہ کوئی سہولت تھی اور نہ ہی کوئی اور اسٹاف۔ محکمہ صحت میں کام کرتے کرتے ان کی ترقی بھی ہوتی رہی، انہیں ایک رورل ہیلتھ سینٹر کا انچارج بنا کر کوہستان کے علاقے میں پوسٹ کردیا گیا لیکن کام کے لئے انہیں پشاور کے پولیس ہسپتال میں رکھ دیا گیا تھا۔ پولیس ہسپتال تھوڑے دن کام کرنے کے بعد وہ میڈیکولیگل افسر بن گئے۔

کہتے ہیں میڈیکولیگل افسر کے طور پر کام کرتے کرتے انہوں نے کافی دولت کمائی۔ پشاور کے فیشن ایبل علاقے میں بنگلے بنائے، دکانیں خریدیں اور بینک بیلنس میں خاطر خواہ اضافہ بھی کیا۔ میڈیکولیگل افسر کے عہدے سے فارغ ہوکر وہ فیملی پلاننگ کے ڈائریکٹر ہوگئے۔ فیملی پلاننگ کے پروگرام کے تحت انہوں نے نئی عمارتیں بنوائی تھیں۔ ہیلتھ سینٹروں میں فیملی پلاننگ کے دفتروں کی تعمیر کروائی۔ بہت ساری بلڈنگیں اور عمارتیں بنوانے میں انہوں نے خود بھی کافی کچھ بنایا تھا۔ اپنے جیسے لوگوں کو نوکریاں دلوائی تھیں، تعلقات بنائے تھے اور جب انہیں فیملی ہیلتھ پروجیکٹ کا ڈائریکٹر بنایا گیا تو وہ مزید دو شادیاں بھی کرچکے تھے۔

Read more

اس کے پیکج میں خیرات شامل نہیں تھی

”یہ بی بی سی لندن ہے“
یہ آواز جیسے زندگی کا تحفہ لے کر آئی تھی، اندھیرا تو پانچ بجے ہی ہوگیا تھا۔ صبح گیارہ بجے میں نے گاڑی سے اُتر کر دو کمبل اور تقریباً پانچ کلو چاول اپنے کاندھے پر رکھا، پانی کی بوتل اور دوسرے ضروری سامان کے ساتھ ان پہاڑیوں پر چڑھنا شروع کردیاتھا۔ پہاڑوں کو سر کرنا میرا بہترین مشغلہ تھا۔ سرحد اور کشمیر کے پہاڑی سلسلوں کو عبور کرتے ہوئے نہ جانے کتنی دفعہ ان پہاڑوں کی بھول بھلیوں میں کھویا، راستے ڈھونڈے اور پھر دوبارہ ساتھیوں سے ملا تھا۔ عام طور پر موسم بہار کے زمانے میں جب نیچے زمین پر گرمی پڑرہی ہوتی تو ہم لوگ پہاڑوں کو سر کرنے نکل کھڑے ہوتے۔ عام طور پر گرمی میں ٹھنڈے پہاڑوں پر چڑھنے کا مزا ہی کچھ اور ہوتا ہے۔

پہاڑوں پر بسنے والے گاؤں دیہات کے لوگوں کی اپنی ہی زندگی تھی۔ ان کے لئے ہمارے جیسے پہاڑوں پر چڑھنے والے لوگ ایک طرح سے عجوبہ ہی ہوتے تھے۔ ان کی زندگی کا تو معمول تھا۔ ایک پگڈنڈی سے اُتر کر درختوں، جھاڑیوں کو پھلانگتے ہوئے، کسی چشمے سے پانی پینا ہے تو کسی آبشار، جھرنا، ندی نالے کے ساتھ ساتھ اپنے بھیڑ بکری چرانی ہے۔ پہاڑیاں جنگل، کھائیاں، غار، آبشار، دراڑیں ان کے لئے ایسا ہی ہی ہیں جیسے ہمارے لئے صدر کا گھنٹہ گھر، گھنٹہ گھر کے سامنے کا چوک، چوک کے ساتھ پوسٹ آفس، پوسٹ آفس کے پیچھے اسکول، اسکول سے آگے پولیس اسٹیشن اور پولیس اسٹیشن کے ساتھ ہسپتال۔

Read more

بیچ کا آدمی

وہ مجھے چکلالہ ایئرپورٹ پر ملا تھا۔

بہت دنوں بعد اسے دیکھ کر مجھے حیرت ہوئی، میں بچپن سے اسے جانتا تھا، ہم دونوں ایک ہی اسکول میں زیرتعلیم رہے تھے۔ پرائمری، سیکنڈری اسکول تک ایک کلاس میں ساتھ ہی رہے۔ اسکول کے بعد میں ڈی جے سائنس کالج میں داخل ہوکر پری میڈیکل پڑھنے چلا گیا جہاں سے مجھے میڈیکل کالج میں داخلہ آسانی سے مل گیا تھا۔ ایم بی بی ایس کرنے کے بعد میں ہڈیوں کی بیماری کا ماہر بننے کے لئے انگلینڈ چلا گیا۔ انگلینڈ سے واپس آکر میں ایک رفاہی ادارے سے وابستہ ہوکر ان کے ہسپتال میں کام کررہا تھا۔

پہلے میں نے سرکاری ملازمت ہی کی تھی۔ میرا تقرر لاڑکانہ کے چانڈکا میڈیکل کالج میں ہوا، وہاں میں کام نہیں کرسکا بڑی مشکل سے ٹرانسفرکراکر کراچی کے سول ہسپتال میں آیا تو یہاں کام کرنے کا انداز میری سمجھ سے بالاتر تھا۔ میں خاموشی سے سرکاری نوکری چھوڑ کر اس رفاہی ادارے سے منسلک ہوگیا تھا۔ اس کے علاوہ میرا پرائیویٹ کام بھی اچھا چل نکلا تھا اور کافی آرام سے زندگی گزررہی تھی۔ میڈیکل کے پروفیشن میں شروع کے چند سال ہی مسائل ہوتے ہیں لیکن ایک بار کام آجائے تو پھر نہ کام کی کمی ہے اور نہ ہی روپوں کی۔ یہاں تک کہ اگر ایمانداری سے بھی کام کیا جائے تو عزت کی زندگی گزاری جاسکتی ہے۔

Read more

کنکریٹ کے مقبرے اور ایک بلڈر کی لاش

زلزلے والے دن وہ مظفر آباد میں تھا۔ اپنے خاندان کے ساتھ۔ سوائے اُس کے کوئی بھی نہیں بچا تھا اس دن۔ بیوی اور تینوں بچے ٹنوں کنکریٹ کے نیچے اس کے سامنے، دفن ہوگئے اور اب خود اس کی لاش نیٹی جیٹی کے پل کے نیچے ملی تھی۔ اخباروں کی خبر کے مطابق اس نے خودکشی کرلی تھی۔ سیٹھ رزاق بھائی جو مانی۔ مجھے یقین تھا کہ اخباری خبر غلط ہے۔ ایک دن پہلے تو میری ملاقات ہوئی تھی۔ بہادر آباد میں نمکو کی دوکان کے پیچھے چھوٹی گلی میں۔ پٹھان کی چائے کی دوکان پر۔ میں نے اسے چائے کی کئی پیالیاں پلائی تھیں۔ اس کی باتیں سنی تھیں۔ وہ خطرناک باتیں کررہا تھا مگر خودکشی کی کوئی بات نہیں کی تھی۔ مجھے نہیں لگا تھا کہ وہ خودکشی کرے گا۔ وہ پریشان تھا، جس کی بیوی اور تین بچے یکا یک مرگئے ہوں وہ پریشان نہیں ہوگا تو کون پریشان ہوگا؟ہم دونوں کا بچپن ساتھ گزرا تھا۔ ایک اسکول میں پڑھا تھا ہم دونوں نے، کراچی کے پرانے این جے وی اسکول میں۔ وہ رہتا بھی اسکول کے پیچھے ہی تھا پارسی کالونی کے بالکل پیچھے ایک گندی سی گلی کے کنارے پر ہندوؤں کی بنائی ہوئی ایک خوبصورت بلڈنگ میں جس کو وہاں سے رہنے والے باسیوں نے بالکل خراب کردیا تھا۔ تین منزلہ بلڈنگ پر غیر قانونی طور پر دو اور منزلیں بن گئی تھیں۔ فلیٹوں کی خوبصورت بالکونیوں پر دیواروں کھیچ کر ہوا کاراستہ بند اور خوبصورتی تباہ کردی گئی تھی۔ ان میں ہی ایک فلیٹ میں اس کا بھی گھر تھا۔

Read more

زلزلے کے انتظار میں

”اپنی تو بس لاٹری نکل گئی، “ اس نے مری بیئر کی بوتل کو ہونٹوں سے ہٹا کر بڑے مست انداز میں کہا تھا۔ ”اُٹھائیس لڑکیاں مل گئی ہیں ابھی تک اور ابھی تو صرف شروع کا معاملہ ہے اوربھی مل جاتیں اور بھی ملیں گی پر مسئلہ یہ ہے کہ ساری دنیا ادھر گھوم رہی ہے۔ یہ سالے جیؤ، اے۔ آر۔ وائی، ہم، آج، انڈس، سبھی حرامی ادھر ہی گھوم رہے ہیں۔ پولیس کو تو سنبھالنا آسان ہے ایک

Read more

وکٹر بازینوف کی ووڈکا اور ڈاکٹر زینب کا جذبہ

مظفرآباد کے روسی کیمپ ہسپتال میں اچھی طرح سے گرم گرم پانی سے نہانے کے بعد وکٹر بازینوف مجھے ڈاکٹروں کے ڈائننگ روم میں لے گیا۔ کیمپ ہسپتال کے وارڈ کی طرح یہ بھی شاندار جگہ تھی۔ بہترین کھانا، صاف پانی اور چار پانچ قسم کی شراب کی بے شمار بوتلیں۔ اس نے رشین گوشت کا بنا ہوا برگر، گرم گرم سوپ کے ساتھ پیش کر دیا تھا۔ سیر ہو کر کھانے کے بعد میں وکٹربازینوف کے ساتھ ووڈکا کی

Read more

تلور کے شکاری اور اونٹ پر بندھا پرندہ

اتنی گہری، سیاہ اُداس ذہین آنکھیں میں نے آج تک نہیں دیکھی تھیں۔ وہ مجھے ائیرپورٹ پر ملا تھا۔ ایمریٹس ائیر کے بزنس لاؤنج میں اچھا سا کھانا کھا کر میں شیمپئن کی چسکیاں لے رہا تھا اور کراچی جانے والے جہاز کے انتظار میں بیٹھا تھا کہ وہ خود چلتا ہُوا میرے پاس آگیا۔ ”میں نے آپ کودیکھا ہے۔ “ اس نے مجھے غور سے دیکھتے ہوئے کہا تھا۔ ”بیٹھیے“ میں نے ہاتھ کے اشارے سے خالی کرسی کی

Read more

بالاکوٹ کی اصرا خان کی گڑیا

مجھے بالا کوٹ جانے دو۔ مجھے بالا کوٹ جانا ہے مجھے بالا کوٹ چلنا ہے۔ مجھے بالا کوٹ لے جاؤ۔ میرا دل وہاں ہے میرا دل وہاں ہے۔ میرا سب کچھ اُدھر ہے۔

اس نے میرا ہاتھ پکڑلیا۔ اس کے اُجڑے ہوئے خوبصورت چہرے پر آنسوؤں کی لکیریں بہہ رہی تھیں۔ اُس کی سبز سحرزدہ آنکھوں میں ویرانی دور تک پھیلی ہوئی تھی۔وہ زمین پر ایک اسٹریچر پر پڑی ہوئی تھی جسے صبح ہی بالاکوٹ سے لایا گیا تھا۔

مانسہرہ کا کیمپ ہسپتال کھچاکھچ بھرا ہوا تھا۔ ہر طرف عورتیں بچے جوان بوڑھے پڑے ہوئے تھے۔ کسی کاہاتھ ٹوٹا ہوا، کسی کے پیر ٹوٹے ہوئے تھے، کسی کے سر پر زخم تھا کسی کے بدن کے ہر حصے پر زخم تھا۔ آہ و بکا ایسی تھی جیسے قیامت کا سماں ہو۔ الامان والحفیظ

ایدھی کی ایمبولینس کے رضاکاروں نے اسٹریچر کو اُتار کر زمین پر رکھ دیا اور فوراً ہی دوسرے مریضوں کو لینے کے لیے بالاکوٹ روانہ ہوگئے تھے۔ خبریں آرہی تھیں کہ بالا کوٹ تباہ ہوگیا ہے۔ پورا شہر زمین کے اندر دھنس گیا ہے، بڑے بڑے ہوٹل، چھوٹے بڑے گھر، انسان، مویشی سب چندلمحوں میں زلزلے کی نذر ہوگئے تھے۔ پہاڑوں سے پتھر، ٹیلے اور چٹانیں لڑھک لڑھک کر گرے تھے اور سڑکوں، راستوں، پگڈنڈیوں کو بند کردیا تھا۔

Read more

ترکی کا کمبل جس نے میرے باپ کو بھکاری بنا دیا

جیسے ہی جہاز ممباسہ سے نکلا اور کھلے سمندر میں تیرتا، دوڑتا، اُڑتارواں دواں ہوا تو مجھے پتہ چلا کہ پاکستان میں زلزلہ آگیا ہے۔ اسلام آباد میں مرگلہ ٹاور گرگیا ہے اور کچھ عمارتوں کو نقصان پہنچا ہے۔ بعد میں خبر ملی کہ زلزلہ پاکستان کے شمالی علاقوں میں آیا ہے۔ پھر خبر ملی کہ مظفرآباد اورہندوستانی کشمیر کے علاقوں میں زلزلے کی شدت ہے۔ پھر پتہ لگا کہ بالا کوٹ اور باغ تو تباہ ہی ہوگئے ہیں۔ پورے کے پورے شہر زمین کے اندر دھنس گئے ہیں۔ آبادی صفحہ ہستی سے مکمل طور پر ختم ہوچکی ہے۔
ہر خبر کے ساتھ میری حالت غیر ہوتی جاتی تھی، یہ تو میرا علاقہ تھا۔ چٹہ بٹہ کا رہنے والا تھا میں۔ میرے ماں باپ، گھر، بچے، دوست، احباب، رشتہ دارسب چٹہ بٹہ میں تھے۔

جہاز کے ٹی وی والے کمرے میں صبح سے شام تک جب بھی فرصت ملتی میں بیٹھا خبریں دیکھتا اور سنتا رہتا۔ بی بی سی ریڈیو کے اُردو پروگرام کے وقت خبروں سے صحیح معنوں میں اندازہ ہوتا کہ کیا ہورہا ہے۔ خبریں بہت ساری تھیں۔ مانسہرہ، ہزارہ، ایبٹ آباد، چٹہ بٹہ کی خبریں، تباہی کی خبریں، موت کی خبریں، زخمیوں کی خبریں، دنیا بھر سے آنے والی امداد کی خبریں، نقصانات کی خبریں۔ کام کا مزا ختم ہوچکا تھا۔

Read more

پابلو نیرودا کی محبوب عورتیں

”یہ الورتینا کی تصویر ہے“، اس نے خوبصورت فریم کی ہوئی ایک تصویر کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا۔

الورتینا یقیناً خوبصورت تھی۔ ایک خاص کشش تھی اس کے چہرے پر اور چبھتی ہوئی آنکھیں جیسے دور تک دیکھ رہی ہوں۔ میں ٹھٹک کر اسے دیکھتا ہی رہ گیا۔

لاچس کولا میں الورتینا کی تصویر کیوں تھی، میں سوچنے لگا۔ لاچس کولا اس گھر کا نام تھا۔ گھر ایک جہاز کی مانند تھا۔ ایک چھوٹا سا بحری جہاز، خشکی پر ٹھہرا ہوا

Read more

ڈال سے ٹوٹے ہوئے پتے

پی آئی ڈی سی کے ساتھ پان کی دوکان سے جمیل نے مجھے پان دلایا۔ میں نے اس سے کہا کہ میں سگریٹ پیتا ہوا، خود ہی پرل کانٹی نینٹل چلا جاؤں گا مجھے کار میں وہاں تک چھوڑنے کی ضرورت نہیں ہے۔ میں نے سگریٹ سلگایا اور سڑک پار کر کے تیس پینتیس سال سے کھڑی ہوئی نامکمل بے آباد حیات ریجنسی کی عظیم الشان عمارت کی طرف پہنچ گیا تاکہ وہاں سے پرل کانٹی نینٹل کے دوسرے بڑے

Read more

بقاکا مسئلہ

صدر امریکہ نے بہت مخصوص لوگوں کی بہت ہی اہم اور بالکل خفیہ میٹنگ بلائی تھی، زندگی اورکائنات سے متعلق ملک کے قابل ترین ماہرین اور سائنسدانوں کی میٹنگ تھی اورساتھ ہی قومی سلامتی کونسل کے ارکان، فوج اور کچھ مخصوص سیاست دانوں کو بلایا گیا تھا۔ کانفرنس روم میں بیٹھے ہوئے سب لوگوں کے چہرے پر ہوائیاں اُڑ رہی تھیں اور جوزف وائتھ کی پریزنٹیشن کے بعد سبھوں نے اپنی ریڑھ کی ہڈیوں میں ٹھنڈ سی محسوس کی تھی۔ جوزف نے صاف صاف بتادیا تھا کہ تین سال آٹھ مہینہ اور چھ دن کے بعد تین سو میل لمبا ایک سو اٹھارہ میل چوڑا اور تقریباً ایک میل کی اونچائی لیے ہوئے کسی بہت بڑے ستارے کا ٹکڑا اٹھارہ ہزار میل فی گھنٹہ کی رفتار سے زمین سے ٹکرا جائے گا۔

مصیبت یہ ہے کہ اس ٹکڑے سے تقریباً ایک سو، دو سو اور دو سو پچاس میل کے فاصلے پر چھوٹے چھوٹے اٹھتّر ٹکڑے اور ہیں جن میں سب سے چھوٹا اکتیس میل لمبا اور دو میل چوڑا ہے اور سب سے بڑا باون میل لمبا اور ایک میل چوڑا ہے۔ بڑا ٹکڑا بحرالکاہل میں امریکہ سے تقریباً دو ہزار میل کے فاصلے پر گرے گا مگر بقیہ ٹکڑے بڑے ٹکڑے سے پہلے اور بعد میں زمین کے مختلف حصوں پر گرتے رہیں گے۔ ہوا یہ ہے کہ ہزاروں لاکھوں سال پہلے کائنات کے بہت اندر، بہت ہی اندر شاید کوئی اور بگ بینگ ہوا ہے۔

ستارے سیارے بنے ہیں دنیاؤں کا وجود عمل میں آیا ہوگا، تخلیق کا گورکھ دھندا شروع ہوا ہوگا اور اس توڑ پھوڑ میں بہت سارے آسمانی ٹکڑے مختلف رفتار سے مختلف سمتوں میں دائیں بائیں، اوپر نیچے، آگے پیچھے ہر طرف روانہ ہوگئے ہیں اور یہ ٹکڑے زمین کی طرف آرہے ہیں۔ ایسے کوئی بھی امکانات نظر نہیں آتے ہیں کہ یہ اپنا راستہ بدل لیں گے۔

Read more

وہ اپنی بچی کو مارنا نہیں چاہتی تھی

”تم رنڈی ہو“
”رنڈی ہو۔ ۔ ۔ ۔ ۔ طوائف ہو، طوائف ہو تم“
”گندی۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ملچھہ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ چھنال“
”رنڈی۔ ۔ ۔ ۔ ۔ رنڈی۔ ۔ ۔ ۔ ۔ رنڈی“
”یہ آوازیں میرے کان میں آتی ہیں رفیق، میں کیا کروں۔ “ سیما نے میرے ہاتھوں کو زور سے پکڑ کر دبایا اور آنسو بھری بڑی بڑی آنکھوں سے میر ی طرف دیکھتے ہوئے کہا تھا۔

میں نے اس کے ماتھے کو چوم لیا۔ اس کے سر پر ہاتھ رکھ کر پیار سے سمجھایا کہ نہیں سیما یہ سب بکواس ہے بے کار کی باتیں ہیں کچھ بھی نہیں ہے محض وہم ہے تمہارا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ کوئی کیوں کہے گا ایسی باتیں۔ ۔ ۔ ۔ ۔ گندی باتیں، تم نے کوئی خواب دیکھ لیا ہے۔

Read more

افغان لڑکی جو امریکہ میں محفوظ تھی

میں زندگی میں پہلی دفعہ جہاز کے فرسٹ کلاس میں بیٹھا تھا اور سوچ رہا تھا کہ جتنی آرام دہ سیٹیں بنی ہوئی ہیں اور جس طرح سے خاطر مدارت ہورہی ہے ان آسائشوں میں سفر کرنے والے کے لیے ان کو چھوڑنا کتنا مشکل کام ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بڑا آدمی، بڑا سیاستدان اور بڑا بے ایمان ان آسائشوں کو قائم رکھنے کے لیے ہر قسم کے ہتھکنڈے استعمال کرنے سے پیچھے نہیں ہٹتا ہے۔ غریب سے امیر بن جانا تو ہر ایک کو قبول ہے پر امارت سے غربت ناقابل قبول ہوتی ہے۔ جب تک ٹھنڈے پانی سے نہاتا رہتا ہے تو انسان کو وہی اچھا لگتا ہے لیکن ایک بار ٹھنڈا اور گرم پانی ملا کر نہانے کے بعد صرف ٹھنڈا پانی ناقابل قبول ہوجاتا ہے۔ ٹھنڈے پانی والے حمام سے گرما گرم شاور اور باتھ ٹب کا فاصلہ تو آسانی سے طے ہوجاتا ہے لیکن واپسی کا راستہ کسی طرح بھی قابل قبول نہیں ہوتا ہے۔

میں سوچ ہی رہا تھا کہ وہ لڑکی میرے برابر والی سیٹ پر آکر بیٹھ گئی، گوری چٹی سرخی مائل بال اور سلیقے سے پہنے ہوئے قیمتی امریکی کپڑے اور انداز میں بلا کی بُردباری تھی۔ میں نے اندازہ لگایا کہ تیس پینتیس سال سے زیادہ عمر نہیں ہوگی اس کی۔

اس نے آتے ہی اپنے بیگ میں سے لیپ ٹاپ نکالا اور اس پر کوئی کام کرنے لگی۔ میں تھوڑی دیر سوچتا رہا، نیوز ویک، ٹائمز اور نیویارک کی ورق گردانی کرنے کے بعد اپنے بیگ سے دیوان غالب کا دستی ایڈیشن نکال کر پڑھنے لگا۔

Read more

تھر کا ڈاکٹر اور ایک بوری کھجور

بوڑھے ڈاکٹر نے سگریٹ کا بھرپور کش لیا اور پھر کھانسنا شروع کردیا۔ کھانسی آہستہ آہستہ تیزتر ہوتی چلی گئی، اتنی تیز کے کانوں کو بُری لگنے لگی۔ میں پانی کا گلاس لے کر اندر پہنچا تو کھانس کھانس کر بوڑھے ڈاکٹر کی آنکھوں میں آنسو بھرگئے تھے اس کی تشکر بھری آنکھوں نے مجھے خوش آمدید کہا۔

بابا سگریٹ بھی نہیں چھوڑوگے اور مروگے بھی نہیں۔ میرے دل نے جیسے سرگوشی کی تھی۔ میں نہیں چاہتا تھا کہ وہ مرجائے مگر یہ تکلیف، یہ دکھ، یہ جسم کا عذاب، یہ کھانسی کا جہنم تو ایک مستقل تکلیف بن کر رہ گیا تھا۔ مجھے ان کے اس طرح سے کھانسنے پر شدید تکلیف ہوتی تھی۔

”اپریل بھی ختم ہوجائے گا۔ “ انہوں نے پانی کا گلاس ختم کرکے مجھے دیتے ہوئے کہا۔ اپریل سے پہلے انہیں اپریل کا انتظار تھا اور اب جب اپریل کے دن بھی تیزی سے گزررہے تھے تو ایسا لگتا تھا کہ ان کی جان انہی دنوں میں پھنسی ہوئی ہے۔

Read more

وہ فرانسیسی لڑکی خود کش بمبار بننا چاہتی تھی

”تم مسلمان ہو؟“ اس نے میری آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر ذرا تیز سے لہجے میں پوچھا تھا۔
”مسلمان تو ہوں لیکن شراب بھی پیتا ہوں۔“ میں نے اپنے واڈکا کے گلاس میں تیرتے ہوئے چھوٹے چھوٹے برف کے ٹکڑوں کو گھورتے ہوئے جواب دیا۔

”I hate muslims very much۔ ۔ ۔ ۔ ۔ میں مسلمانوں سے نفرت کرتی ہوں، شدید نفرت۔“ اس نے نفرت سے ہی جواب دیا۔

”اوہ! یہ تو فیشن ہے آج کل۔“ میں نے ہنستے ہوئے کہا۔ ”ہر ایک مسلمانوں سے نفرت کرتا ہے۔“ میں نے واڈکا کا ایک تلخ گھونٹ اپنے حلق سے اُتارتے ہوئے بیرے کو اشارہ کیا۔ اس کے بکارڈی کا گلاس بھرنے کی ضرورت تھی، ”لیکن ہر مسلمان بن لادن یا فلسطینی نہیں ہے اور ہر ایک اپنے سروں پر بم باندھ کر نہیں گھوم رہا ہے۔“

Read more

چھوٹا بچہ اور پٹھان معما

میری بیوی نے گاڑی رکوا کر ہی دم لیا، اس دن بھی وہ بندر روڈ پر صابری نہاری کے سامنے فٹ پاتھ پر بہت سارے بچوں کے ساتھ بیٹھا نہاری روٹی کھارہا تھا۔ سرخ و سفید رنگ کے بہت سارے افغانی بچّے ایک لائن میں فٹ پاتھ پر بیٹھے تھے اورباری آنے پر انہیں نہاری روٹی ملتی تھی۔ خدا ترس لوگ صدقہ، خیرات کرنے آتے اور صابری ریسٹورانٹ کے کاؤنٹر پر پیسے دے کر چلے جاتے۔ ایک بندے کا کھانا، سو بندوں کا کھانا۔ کھانا ہر وقت تیار تھا اور کھانے والے بھی بے شمار بیٹھے ہوتے تھے۔ یہ نظام آہستہ آہستہ ایک طرح سے بن گیا تھا۔

شہر میں جہاں جہاں کھانے پینے کی جگہیں تھیں، وہاں وہاں اس قسم کا نظام چل نکلا تھا۔ غریب بھکاری، بے گھر، فاقہ زدہ، کھانے سے محروم بوڑھے پھٹے کپڑوں میں ملبوس بھکارنیں سفید اورکالے برقعوں میں ملفوف عزّت دار گھرانوں کی عورتیں بھی یہاں سے کھانا جمع کرکے اپنے گھروں میں موجود پیٹ کے جہنم کے لیے اس ایندھن کو لے جاتی تھیں۔ بڑی بڑی عمارتوں، اونچے اونچے ایوانوں اور ان میں رہنے والے عظیم سیاستدانوں، مذہبی رہنماؤں، سماج کے ٹھیکیداروں کو یہ چھوٹے لوگ کبھی بھی نظر نہیں آتے ہیں۔

Read more

اپنی ہی ماں کا لگایا گہرا زخم

پاؤلا ڈمیٹری نام تھا اس کا۔ اس دن اسے میں نے پہلی دفعہ دیکھا۔ وہ ہمارے سٹنگ روم میں سرجھکائے میری بیوی کے سامنے بیٹھی ہوئی تھی۔ بچّے باہر کھیل رہے تھے۔ وہ میری بیوی کی ماں تھی۔ کارلا نے مجھے دیکھ کر بڑی سختی سے اپنی ماں سے کہا تھا ”کبھی نہیں، کبھی بھی نہیں آنا میرے پاس، اس گھر اور میرے بچوں پر تمہارا سایہ بھی نہیں پڑنا چاہیے۔ کبھی نہیں کبھی بھی نہیں۔ یو آر نومور مائی مدر۔ تم میری ماں نہیں ہو اور ہوگی بھی نہیں۔ “

وہ کارلا کی ہی طرح خوبصورت تھی۔ ساٹھ سال کے لگ بھگ عمر ہوگی اس کی مگر اس عمر میں بھی وہ بلا کی خوبصورت لگ رہی تھی۔ وہ دھیرے سے اُٹھی مجھے دیکھ کر مسکرائی اور خاموشی سے دروازہ کھول کر اپنی گاڑی میں بیٹھی، بھرپور نظروں سے اس نے لان میں کھیلتے ہوئے بچوں کو دیکھا اور خاموش گاڑی کا انجن چلا کر رخصت ہوگئی۔

کارلا سے میری ملاقات کلیولینڈ میں ہوئی۔ اوہائیو کے اس شہر میں وہ مجھے ہسپتال میں ملی۔ میں پاکستان سے ایم بی بی ایس کا امتحان پاس کرتے ہی نکل کھڑا ہوا اور نیویارک میں جا کر بسیرا ڈال دیا تھا۔ پیسوں کی کمی نہیں تھی اور ڈیڈی کے تعلقات بھی تھے۔ ڈیڈی سرکاری ملازم تھے۔ تنخواہ کے ساتھ دوسرے وسائل بھی تھے جن کی وجہ سے کبھی بھی روپے پیسوں کی کمی کا سامنا نہیں ہوا۔ دوسرے وسائل کا مجھے کوئی خاص اندازہ پاکستان میں رہ کر نہیں ہوا۔

Read more

کوکھ کی چوٹ

صبح چار اور پانچ کے درمیان باقر بھائی کو کراچی سینٹرل جیل میں پھانسی دی گئی اور صبح گیارہ بجے ان کی لاش گھر پہنچادی گئی۔ ان کی گرفتاری سے مقدمہ تک، فیصلے سے اپیلوں تک اور پھانسی سے لاش گھر پہنچنے تک، مجھے یاد نہیں ہے کہ میں نے امی کی آنکھوں کو کبھی خشک دیکھا ہو۔ آنسو جھرنے کی طرح بہتے رہے تھے، باقر بھیا کی تدفین کے چھ دن کے اندر اندر امی کا بھی انتقال ہوگیا تھا۔

جب لاش گھر پہنچی تو پہلی دفعہ مجھے ایسا لگا جیسے امی نے رونا بند کردیا ہے۔ آنسوؤں کے سوتے خشک ہوگئے ہیں۔ ایدھی کی ایمبولینس سے باقر بھیا کی لاش کو آہستہ آہستہ باہر نکالا گیا، چار پانچ مردوں نے اسٹریچر کو پکڑ کر اٹھایا اور اندر گھر میں پہلے سے تیار کیے ہوئے کمرے میں لاش کو تخت کے اوپر رکھ دیا گیا تھا۔

امی اپنے مڑے تڑے ہاتھوں سے میرا ہاتھ پکڑ کر کمرے میں آئی تھیں اور سب سے کہا کہ تھوڑی دیر کے لیے غسلانے سے پہلے سب لوگ کمرہ خالی کردیں۔ میری ہچکیاں بندھی ہوئی تھیں۔ کچھ سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ میں کیا کروں۔ یہ تو میں نے کبھی بھی نہیں سوچا تھا کہ باقر بھیا کو پھانسی لگ جائے گی۔

Read more

استحقاق اور ایمان

کینسر ہوگیا تھا ان کو۔ پھیپھڑوں کا کینسر۔ بائیوپسی کے بعد پیتھالوجسٹ نے یہی رپورٹ دی تھی۔ رپورٹ دیکھ کر میں نے فیصلہ کیا کہ اہل خانہ کواب بتانا ہوگا اور بہتر ہے کہ میں ہی بتاؤں۔ گذشتہ تین چار دنوں میں ان سے اور ان کی بیوی، بیٹی سے باتیں ہوتی رہی تھیں پھر پتہ چلا کہ وہ عامر کے والد ہیں۔ عامر میرے ساتھ ہی تھا کالج میں۔ ہم دونوں نے ساتھ ہی ایم بی بی ایس کیا، میں ڈاکٹر بن کر لندن چلاگیا جبکہ عامر امریکہ کا امتحان پاس کرکے وہاں چلا گیا تھا۔ پھر کچھ پتہ نہیں چلا۔ تین سو کی کلاس میں کون کہاں جاتا ہے، کسے پتہ لگتا ہے۔

وہ اپنی بیٹی کے ساتھ میری کلینک میں آئے تھے۔ کئی دنوں سے انہیں کھانسی تھی اور اب تو بلغم کے ساتھ خون بھی آجاتا تھا کبھی کبھی۔ پہلے تو انہوں نے کسی کو بتایا بھی نہیں مگر جب ایک دن کھانس کھانس کر بے حال ہوگئے تو ان کی بیوی نے بیٹی کو فون کرکے بتایا جو دوسرے دن ہی انہیں لے کر میرے پاس آگئی تھی۔ وہ سمجھ رہی تھی کہ انہیں ٹی بی ہوگئی ہے۔ ان کے بڑے بھائی کا انتقال بھی ٹی بی کی وجہ سے ہی ہوا تھا۔

Read more

ڈونگ ڈیانگ فونگ کی جنگ اب تک جاری ہے

”میں ویت نام کی جنگ سے بھاگا نہیں تھا۔ آخرتک لڑتا رہا، یہاں تک کہ جنگ ختم ہوگئی ویت کا نگ فوجیوں نے ہمیں گھیرلیا اور گرفتار کرلیا۔ کاش اس وقت ہی مجھے گولی مار دیتے، جان لے لیتے۔ کسی بھی طریقے سے، بغیر مقدمہ چلائے ہوئے یا مقدمہ چلاکرگولی مارنا کیا مشکل ہوتا ہے۔ کتنوں ہی کو مارا ہوگا انہوں نے، جیسے ہم نے مارا تھا لوگوں کو، فوجیوں کو، نہتے شہریوں کو، عورتوں کو، بچوں کو مگر میں

Read more

ڈھیلا پجامہ ایٹ ہاٹ میل ڈاٹ کام

اس دفعہ میں نے میمن لڑکی پھنسائی۔ گذشتہ چار سالوں میں میں کئی لڑکیوں کو پھنسا چکا تھا۔ پنجابی، گجراتی، پٹھان، یوپی والی، حیدر آباد دکن کی۔ صرف بہاری لڑکی نہیں پھنسی تھی۔ ہوا یہ کہ جس بہاری لڑکی کو پھنسانے کا چکر چل رہا تھا اس نے میرے ایک ای میل کی کاپی اپنے بھائی کو بھی بھیج دی۔ پھر یکایک میرے ای میل ایڈریس پر اس طرح سے حملے شروع ہوئے کہ میں تو گھبرا گیا۔ اس کے بعد میرا معمول تھا کہ بہاری شناخت کو سب سے پہلے خارج از امکان کردیتا تھا۔

Read more

معذوری اور باوقار سماج

نیویارک سٹی میراتھن دنیا میں منعقد ہونے والی دوڑوں میں اہم مقام رکھتی ہے۔ مجھے اکتوبر 1987؁ء میں موقع ملا کہ میں بھی اس دوڑ میں شریک ہوسکوں۔ اس دوڑ میں بہت ساری بے شمار متاثر کن باتیں تھیں مگرجس بات نے مجھے سب سے زیادہ حیران کیا وہ یہ تھا کہ میں نے پہلی دفعہ اتنی بڑی تعداد میں معذور بچوں، عورتوں اور مردوں کو اس میراتھن میں شریک دیکھا۔ بیساکھیوں، خاص قسم کی چھڑیوں اور مختلف قسم کی پہیوں والی گاڑیوں پر بے شمار لوگ چھبیس میل دو سو پینسٹھ گز کی اس دوڑ میں شامل تھے۔

بیساکھیوں اور پہیہ گاڑیوں کے ساتھ معذور لوگوں کے علاوہ بینائی سے محروم افراد، ذہنی پسماندگی کے شکار بچے اور بڑے بھی اس دوڑ میں شرکت کررہے تھے۔ میں جہاں نیویارک میراتھن کے انتظامات سے متاثر ہوا تھا اس کے ساتھ ساتھ کثیر تعداد میں مختلف اقسام کے معذور افراد کو دی جانے والی عزت سے حیران رہ گیا تھا۔

Read more

ڈھکّن بننے کا نہیں ہے

”تو وہ بھی ڈھکّن ہوگیا بالکل ڈھکّن! “ امین زور سے ہنسا، پھر ہنس ہنس کر بولنے لگا تھا۔
یہ اس کی پرانی عادت تھی جب کبھی بھی کوئی بات ایسی ہوتی جو خراب ہوتی، کوئی ناکامی، کوئی گھٹیا حرکت کوئی عجیب بات، کوئی بے کار کام، اس کے لیے ڈھکّن بن جاتی۔ ایک طرح سے یہ تکیہ کلام تھا اس کا۔

میں امین سے ملنے آیا تھا۔ وہ چودہ سال کے بعد امریکہ سے آیا تھا۔ ایسا گیا، ایسا گیا کہ اس دوران پھر واپس ہی نہیں آیا۔ آج تک پتہ نہیں لگا کہ وہ کیوں چلا گیا تھا۔ ان لوگوں کا بہترین کاروبار تھا کراچی میں۔ کیا نہیں تھا ان کے پاس۔ دولت، عزت، باپ کا جمایا ہوا بہترین کاروبار اور تین جڑے ہوئے بھائی، چلتا ہوا کام مگر ہم لوگوں کوتو یکایک پتہ لگا کہ پورا خاندان کراچی چھوڑ کر چلا گیا ہے۔

امین میرا بچپن کا دوست تھا۔ ساتھ ساتھ اسکول گئے پھر اسکول سے انٹر تک تو ساتھ رہے مگر انٹر کے بعد ہمارے راستے جُدا ہوگئے۔ میرا داخلہ میڈیکل کالج میں ہوگیا، کچھ دوست انجینئرنگ کالج یا پولی ٹیکنک چلے گئے اور امین نے باپ کے ساتھ کام سنبھال لیا۔

Read more

میں آریان کی بیوی تھی اور فیروز کی بھی

  آئن اسٹائن نے کہا تھا: “I want to know God‘s thought the rest are details“ میں تخلیق کار کی سوچ کو سمجھنا چاہتا ہوں، باقی تو صرف تفصیلات ہیں۔ شاید ساری زندگی آئن اسٹائن تخلیق کار کی سوچ کی گرہوں کو سلجھانے کی کوشش کرتا رہا۔ تخلیق کار کے گورکھ دھندے کو وہ کتنا سمجھا، مجھے نہیں پتہ مگر میں اس گورکھ دھندے میں کیسے اُلجھ کر سلجھی یا سلجھ کر اُلجھی، اس کا مجھے ابھی تک اندازہ نہیں

Read more

وہ لڑکی حسینی برہمن تھی اور میں شیعہ

پھر اس نے مجھ سے شادی کرنے سے انکار کردیا۔ وہ مجھے کولمبیا یونیورسٹی نیویارک میں ملی تھی، اس دن میں اپنے ریسرچ کے کام کے سلسلے میں شعبہ تاریخ کی چیف ریبکا بروڈوسکی سے ملنے گیا تھا۔ ریبکا بہت پڑھی لکھی یہودن تھی جس نے وعدہ کیا تھا کہ میرے ریسرچ پروجیکٹ میں میری مدد کرے گی۔ میں بادشاہ ڈیوڈ کے زمانے میں فلسطینیوں اور یہودیوں کے تعلقات ان کی آپس کی جنگ اور پھر فلسطینیوں کا بادشاہ ڈیوڈ

Read more

ایم اے قوی صاحب کے کاندھوں پر ڈرنے کے لیے کوئی بوجھ نہیں تھا

تقریباً ایک سال قبل 19 جون 2017ء کومیرے عزیز دوست عبدالسلام سلامی نے اپنے بھائی ایم اے قوی کا ایک ای میل مجھے بھیجا۔ یہ کوئی نئی بات نہیں تھی۔ وہ اکثر ان کے میل بھیجتے رہتے تھے، جن میں پاکستان، تعلیم، یورپ میں مختلف واقعات اور اسرائیل کی خبروں کے ساتھ ان کے اپنے خیالات بھی ہوتے تھے۔ لیکن اس دفعہ آنے والی میل بہت غیر معمولی تھی۔ میں نے اس میل کو دو دفعہ پڑھا اور دونوں بھائیوں

Read more

مردانہ جسم میں پھنسی لڑکی اپنا نربان کروانا چاہتی تھی

کچھ بھی نہیں تھا دونوں رانوں کے درمیان میں۔ صاف اور سپاٹ، صرف چھوٹا سا ایک سوراخ جس میں ڈاکٹروں نے ایک نلکی سی ڈالی ہوئی تھی، جہاں سے پیشاب ایک تھیلی میں جمع کر رہے تھے۔ مرنے کے بعد نلکی نکالی جا چکی تھی۔ جسم کو نہلا دُھلا کر ہم سب لوگوں نے صاف ستھرا کردیا۔ زُلفی نے بہت ساری روئی پانی میں ہلکے سے بھگو کر رانوں کے درمیان میں گوند سے چپکانا شروع کردی تھی۔ جسم۔ ۔

Read more

انور کی امی کا انتقال کب ہوا؟

ان کے گھر میں داخل ہوتے ہی مجھے کسی چیز کی کمی محسوس ہوئی تھی، میری سمجھ میں نہیں آیا کہ وہ کیا چیز تھی۔ کتنے برسوں سے میرا اس گھر میں آنا جانا تھا۔ یہ گھر میرے گھر کی ہی طرح تھا۔ یہاں کی ہر چیز سے میں آگاہ تھا پھر بھی اندازہ نہیں لگا سکا کہ کیا چیز نہیں ہے،کس چیز کی کمی ہے۔ انور سے میری دوستی کالج کے زمانے سے تھی۔ انٹر ہم دونوں نے ساتھ

Read more

چاند کی چوری

وہ سب کچھ نظر کے سامنے ہوا۔ چاندنی رات، سمندر کا کنارہ اورسمندر کی بے تاب پُرشور لہریں تھیں جو باربار ساحل کو چومنے کے لیے شدت کے ساتھ چیختی چنگھاڑتی زور و شور کے ساتھ حملہ آورہورہی تھیں۔ لق و دق بے قرار سمندر سے بے نیاز چاند اپنی جگہ پر کھڑا خاموشی سے مسکرا رہا تھا۔ پراسرار چاند نہ جانے کتنے اربوں سال سے اسی طرح اپنی جگہ سے دنیا والوں کو دیکھے جارہا تھا۔ چاند جو جسے

Read more

اکیلا باپ، ڈومیسٹک پارٹنر اور نیو جرسی میں ٹوٹنے والی منگنی

میں امریکا بہت آسانی سے پہنچ گیا تھا۔ کراچی میں کمپیوٹر انجینئرنگ میں بہت اچھے نمبروں سے پاس ہونے کے بعد کراچی میں بیٹھے بیٹھے مجھے مائیکرو سافٹ میں نوکری مل گئی اور ان کی طرف سے ہی میرے ویزے اور امیگریشن کے انتظامات کیے گئے تھے۔ مجھے اسلام آباد جانا پڑا تھا، جہاں سے کام کرنے کی اجازت والا ویزا لگ گیا تھا۔ سب کچھ اتنی آسانی سے ہوگیا کہ مجھے یقین ہی نہیں آیا کیوں کہ امریکا جانا

Read more

موت کی راہ نہ دیکھوں؟ کہ بن آئے نہ رہے

آپ کو کینسر ہے اور یہ شاید بہت خراب کینسر ہے۔ میں مریضوں سے جھوٹ نہیں بولتا ہوں، کبھی بھی نہیں۔ جھوٹ کا کبھی بھی کہیں بھی فائدہ نہیں ہوتا ہے۔ سب سے زیادہ نقصان جھوٹ بولنے والے کو ہی ہوتا ہے۔ میری بات سن کر وہ دوبارہ سے سنبھل کر بیٹھ گئیں اور مجھے غور سے دیکھنے لگی تھیں۔ وہ اٹھاون سال کی تھیں۔ سرخ وسفید خوبصورت چہرہ۔ ان کا شمار ابھی بھی حسین عورتوں میں کیا جاسکتا تھا۔

Read more

امریکہ، امی، ابو اور سوزانا

رات میں گہری نیند کے دوران کوئی ڈراؤنا خواب دیکھ کر میری آنکھیں کھل جاتیں تو میں گھبرا کر اُٹھ جاتا اور نہ جانے کیسے ابو بھی بیدار ہوجاتے تھے۔ میں زور سے ان کی انگلیاں پکڑلیتا اور مجھے ایسا محسوس ہوتا جیسے میں محفوظ ہوگیا ہوں پھر میں ان کی انگلیاں پکڑے پکڑے گہری نیند سوجاتا تھا۔ مجھے تو یادبھی نہیں ہے کہ نہ جانے کتنی دفعہ ایسا ہُوا ہوگا۔ ان انگلیوں نے کبھی مجھے مایوس نہیں کیا اور

Read more

آخری خط – اس سے تو اچھا تھا کہ مر جاتے

پیارے بیٹے خوش رہو، جو بھی کرو خوشی سے کرو۔ تمہاری زندگی طویل ہو، میری زندگی بھی تمہیں لگ جائے۔ تم جیو پھلو پھولو اور اللہ تعالیٰ کی رحمتیں تمہارے ساتھ ہوں۔ میں اورتمہارے ابو تمہارے لئے پریشان رہتے ہیں۔ ہماری تو یہی خواہش ہے کہ تم جلداز جلد اپنی تعلیم پوری کرلو اور اس قابل ہوجاؤ کہ دنیا میں سر اٹھا کر اچھے سے جیو، ہماری تو جیسی گزرگئی اچھی ہی گزرگئی۔ سستا زمانہ تھا۔ تمہارے ابو نے بغیر

Read more

انسانوں کی اس بدبو کو کون ختم کرے گا؟

رات کے گیارہ بجے تھے اور میں سونے ہی والا تھا کہ انہوں نے میرا دروازہ دھڑدھڑایا۔ میں سمجھ گیا تھا کہ یہ وہی ہوں گے۔ وہی ایسے وقت پر آتے تھے، بغیر کسی اطلاع کے دروازہ کھٹکھٹاتے نہیں تھے بلکہ دھڑدھڑاتے تھے۔ مجھے ان کا آنا اچھا لگتا تھا۔ ان سے باتیں کرنا اور دنیا کے بارے میں ان کے تجربات و نتائج سے آگاہ ہونا پاکستان کے دوغلے لوگوں سے ہونے والے ان کے تجربات پر سردھننا اور

Read more

بہترین ہوٹل، مسلم کموڈ اور عرب مسافروں کی دیگر مخصوص ضروریات

ہوٹل بہت شاندار تھا۔ شاندار کے ساتھ ساتھ کچھ اور بالکل نئی نئی، بلکہ اگر یہ کہا جائے کہ عجیب وغریب چیزیں تھیں تو کہنا غلط نہیں ہوگا اوروں کے لئے شاید عجیب وغریب نہ ہوں مگر کم ازکم میرے لئے تو عجیب وغریب ہی تھیں۔ بات یہ ہے کہ اپنے کام کے سلسلے میں مجھے بہت سے یورپ اور امریکہ کے بڑے بڑے ہوٹلوں میں رہنے کا موقع ملا تھا مگر یہ ہوٹل بہت ہی مختلف تھا بالکل مختلف۔

Read more

اردشیرکاؤس جی جیسا کوئی دوسرا نہیں

یہ 1996ء کی بات ہے میں سوبھراج میٹرنٹی ہسپتال میں صبح گیارہ بجے حاملہ عورتوں کی پُرہجوم کلینک میں انتہائی مصروف تھا۔ میرے کمرے کے باہر سو سے زیادہ عورتیں اپنی باری کا انتظار کررہی تھیں۔ اس مصروفیت کے عالم میں میرے کمرے میں موجودپرانے کالے ٹیلی فون کی گھنٹی بجی اور آپریٹر نے کہا کہ کوئی کاس جی صاحب آپ سے بات کرنا چاہتے ہیں۔ میں عام طورپرفون کا فوری جواب دیتا ہوں لیکن اس دن مریضوں کا بہت

Read more

نیم روشن شراب خانہ، حلال گوشت اور پاکستان

حلال گوشت کی دوکان پر اسے دیکھ کر میں حیران رہ گیا۔ ابھی پچھلے ہفتے کی بات ہے کہ بلوھیون پب، میں وہ مختصر ترین لباس میں ناچ رہی تھی۔ مجھے اچھی بھی لگی اور نشے میں نہ جانے کتنے ڈالر میں نے اس کے پین ٹیز اور برا کے اندر اپنے ہاتھوں سے ٹھونسے تھے۔ بالکل وہی تھی۔ مجھے اس کی شکل صرف اس لئے یاد رہ گئی کہ اس کے سرخ سلگتے ہوئے ہونٹوں کے بائیں جانب ایک

Read more

ماں کے جنازے کا حساب

  امی کی میت آغاخان اسپتال کے برف خانے میں رکھی ہوئی تھی۔ برف کی طرح ٹھنڈی، جذبات خواہشات تضادات سے مبرّا، پیار سے بھری ہوئی آنکھیں بند تھیں۔ چوڑی پیشانی پر پڑی ہوئی شکنیں کہیں کھو گئی تھیں۔ مسکراتے ہوئے ہونٹوں سے ان کے سامنے کے دو چمکتے ہوئے دانت نظر آرہے تھے اورہمیشہ منور رہنے والا چہرہ نور سے خالی تھا مگر چہرے پر سکون ہی سکون تھا۔ میں نے لمحے کے لئے بھی نہیں سوچا تھا کہ

Read more

چھوٹے دماغ کو صرف پاکستان کی فکر ہے اور بڑے کو کل عالم کی

وہ مجھے کوئٹہ میں ملا۔ ٹیکسی میں بیٹھتے ہی مجھے پتہ چل گیا تھا کہ ٹیکسی ڈرائیور مذہبی آدمی ہے۔ کوئٹہ میں داڑھی رکھنا ایک عام سی بات ہے لیکن ہر داڑھی والے کا مذہبی ہونا کوئی ضروری نہیں۔ بے شمار بلوچ اور پٹھان داڑھی والے مل جائیں گے جن کی زندگی میں مذہب کا کوئی کردار نہیں ہوتا۔ کچھ ایسے بھی ہوتے ہیں جو بظاہر مذہبی ہوتے ہیں۔ اذان کی آواز آتے ہی مسجد کی طرف دوڑتے ہیں یا

Read more

سمندر پار کے صحرائی جزیرے

”مکے، گھونسے، تھپڑ، ٹھوکر، لاتیں کھانے اور طعنے گالیاں ہی سننی تھیں، تم ڈاکٹر کیوں بنیں۔ پڑھی لکھی ہوکر بھی شوہر کی فرماں برداری نہیں غلامی کرنی تھی تو پھر کالج جانے کی کیا ضرورت تھی۔ پڑھا لکھا ہونے کے باوجود اگر اس ظالم سے ٹکر نہیں لے سکتی ہو تو تمھاری قسمت میں کچھ اور نہیں ہوگا۔ ‘‘ وہ ہماری کلاس کی سب سے خوبصورت لڑکی تھی نہ صرف یہ کہ خوبصورت بلکہ خوبصورتی کے ساتھ اس کی شخصیت

Read more

دو محبت کرنے والے اور چیک پوسٹ قالندیا

میں وہاں صبح سویرے پہنچا۔ ایرپورٹ سے بس پکڑ کر اس کے اپارٹمنٹ تک پہنچنا کوئی زیادہ مشکل نہ تھا۔ ڈبلن سے ڈنمارک پہنچنا کوئی ایسا مشکل نہ تھا۔ مشکل تو اس کا سامنا کرنے میں تھی۔ نہ جانے وہ کیسی ہوگی، کس طرح سے اس نے حالات کا مقابلہ کیا ہوگا۔ وہ ہنسنے گانے، گھومنے گھامنے والی سادہ سی یورپین لڑکی، اتنے بڑے حادثے کو کیسے بھگتایا ہوگا اس نے۔ میں سوچتا رہا اور پریشان ہوتا رہا۔ ڈبلن میں

Read more

زلزلہ اور موت

اسے مسلسل اُلٹیاں ہورہی تھیں، وہ نہ کچھ کھا پا رہا تھا اور نا ہی کچھ پینے کے قابل تھا۔ دونوں ہاتھوں میں دو موٹی موٹی سوئیاں لگی ہوئی تھیں، جس سے کہ اسے غذائیت پہنچائی جارہی تھی۔ یہ دونوں سوئیاں اور ان سے لگی ہوئی پلاسٹک کی ٹیوبیں، اس کی زندگی کی ٹیوبیں تھیں، جب تک ان ٹیوبوں سے پانی اور نمکیات اس کے خون میں جارہے تھے، وہ زندہ تھا۔ اسے ایئرپورٹ سے اسی صورت میں لایا گیا

Read more

کراچی کا ایک ہندو واپس آتا ہے

کلپنا! جہاز کا سفر بہت آرام دہ تھا اور ایئرانڈیا کی اچھی سی ایئرہوسٹیس نے راستے بھر خوب خیال رکھا۔ میں راستے بھر سوچتا رہا کراچی کے بارے میں۔ ان سڑکوں، گلیوں، بازاروں کے بارے میں جہاں زندگی کی ابتدا کی تھی، سب کچھ بدل گیا ہوگا ایسے ہی جیسے بومبے بدل گیا ہے، بڑا ہوگیا ہے روز بہ روز بڑھتا ہی چلا جارہا ہے۔ بومبے کا تو نام بھی بدل گیا ہے ممبئی، میری سمجھ میں نہیں آتا کہ

Read more

عذرا چوہدری، ڈھاکے کی مالا اور امی کے نام ایک خط

پہلا خط امی کا تھا۔ میرے ایم آر سی پی (MRCP) پاس کرنے پر بہت خوش تھیں اور اب میری شادی طے کردی گئی تھی، کسی جنرل جمال اختر چودہری کی دختر نیک اختر عذرا چوہدری کے ساتھ۔ خط کے ساتھ ایک فیملی گروپ فوٹو تھا جس میں جنرل صاحب اپنی وردی اور تمغوں کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے۔ ساتھ میں ایک خوبصورت سی، معصوم سی چھوٹی سی لڑکی تھی جو عذرا تھی، میری ہونے والی دلہن۔ اور بھی باتیں

Read more

کشمیر کی لٹی ہوئی کلی سے کرو گے شادی؟

خوف کا احساس بعد میں ہوا مگر اس سے پہلے درد میرے جسم کے ہرحصے پہ تیروں کی طرح برستا گیا۔ میری آنکھیں سے بے اختیار آنسو نکل آئے۔ گردن سے مفلر اور جسم سے بلاؤز کے اُترتے ہی اس کا جسم میرے سامنے تھا۔ دونوں کانوں کے ذرا نیچے سے ایک سرخ نشان نیچے کی طرف چلتاگیا تھا۔ حلق کے پاس سے گھومتا ہوا دونوں چھاتیوں ایک اُبھرا اُبھرا بھدّا سا نشان بن کر رہ گیا۔ جہاں دونوں نپل

Read more

پردیس میں بے بسی کی موت اور بہنوں کی نئی زندگی

اٹلی کے چھوٹے سے شہر کے قبرستان میں بائیس تابوت ایک ساتھ رکھے ہوئے تھے۔ 17 تابوتوں کے اوپر لکھا ہُوا تھا کہ نامعلوم جب کہ دو تابوت پاکستانیوں کے تھے، تین دوسرے تابوتوں میں تین عراقیوں کی لاشیں تھیں۔ نامعلوم اور غیر شناخت شدت لاشوں کو دیکھ کر اندازہ ہوتا تھا کہ شاید ان میں سے کچھ کا تعلق عراق یا فلسطین سے ہو اورکچھ پاکستانی لگتے تھے۔ میں اٹلی کے شہر روم میں واقع انسانی حقوق سے متعلق

Read more

آٹھ منٹ میں زندہ انسان کی کھال اتارنے والے کے ساتھ بارہ منٹ

میں آٹھ منٹ میں زندہ انسان کی کھال کھینچ لیتا ہوں اس نے بڑے سکون سے مجھے بتایا تھا۔ میری ریڑھ کی ہڈی میں سرد لہر دوڑتی چلی گئی، کوشش کے باوجود میں اپنے آپ کو پرسکون نہیں رکھ پارہا تھا۔ مجھے اپنے دل کی دھڑکن کی آواز محسوس ہورہی تھی۔ میری نظروں کے سامنے انٹرنیٹ کے اوپر وہ فلم آگئی جسے دیکھ کر کئی دنوں تک می بے چین اور بے قرار رہا تھا۔ اس فلم میں ایک افغان طالبان

Read more

عاشق نوجوان، ہندو لڑکی، گمراہ مولوی اور مجبور باپ

مجھے پھانسی مل جاتی تو اچھا تھا۔ اس نے بڑے دکھ سے میری جانب دیکھتے ہوئے کہا تھا۔ اس کے لہجے میں سارے جہاں کا درد اور اس کی آنکھوں میں بلا کی اُداسی تھی۔ ایسی بھرپور اُداسی جسے دیکھ کر دیکھنے والا بھی اُداس ہوجائے وہ اپنے باپ کے ساتھ آیا تھا۔ وہ مجھے سیدھے سادے سے آدمی لگے تھے، دُبلے پتلے، سر پر جالی والی سفید ٹوپی، چھوٹی اور تمیز سے تراشی ہوئی داڑھی اورآنکھوں پر قیمتی عینک

Read more