مجھے بالا کوٹ جانے دو۔ مجھے بالا کوٹ جانا ہے مجھے بالا کوٹ چلنا ہے۔ مجھے بالا کوٹ لے جاؤ۔ میرا دل وہاں ہے میرا دل وہاں ہے۔ میرا سب کچھ اُدھر ہے۔
اس نے میرا ہاتھ پکڑلیا۔ اس کے اُجڑے ہوئے خوبصورت چہرے پر آنسوؤں کی لکیریں بہہ رہی تھیں۔ اُس کی سبز سحرزدہ آنکھوں میں ویرانی دور تک پھیلی ہوئی تھی۔وہ زمین پر ایک اسٹریچر پر پڑی ہوئی تھی جسے صبح ہی بالاکوٹ سے لایا گیا تھا۔
مانسہرہ کا کیمپ ہسپتال کھچاکھچ بھرا ہوا تھا۔ ہر طرف عورتیں بچے جوان بوڑھے پڑے ہوئے تھے۔ کسی کاہاتھ ٹوٹا ہوا، کسی کے پیر ٹوٹے ہوئے تھے، کسی کے سر پر زخم تھا کسی کے بدن کے ہر حصے پر زخم تھا۔ آہ و بکا ایسی تھی جیسے قیامت کا سماں ہو۔ الامان والحفیظ
ایدھی کی ایمبولینس کے رضاکاروں نے اسٹریچر کو اُتار کر زمین پر رکھ دیا اور فوراً ہی دوسرے مریضوں کو لینے کے لیے بالاکوٹ روانہ ہوگئے تھے۔ خبریں آرہی تھیں کہ بالا کوٹ تباہ ہوگیا ہے۔ پورا شہر زمین کے اندر دھنس گیا ہے، بڑے بڑے ہوٹل، چھوٹے بڑے گھر، انسان، مویشی سب چندلمحوں میں زلزلے کی نذر ہوگئے تھے۔ پہاڑوں سے پتھر، ٹیلے اور چٹانیں لڑھک لڑھک کر گرے تھے اور سڑکوں، راستوں، پگڈنڈیوں کو بند کردیا تھا۔
Read more