میدانِ کربل میں تنہا حسینؑ!

تاریخ میں ذکر ہے کہ جب یزید نے مدینہ میں حضرت امام حسینؑ پر بیعت کے لیے دباؤ بڑہایا تو امامؑ، مدینہ کو چھوڑ کر مکہ کی طرف روانہ ہوئے۔ وہاں پر 4 ماہ سے زائد عرصہ قیام کیا اور جب حج کا ارادہ کرتے ہوئے احرام بھی باندھ لیا تو یزید نے عمرو بن عاص کو ایک لشکر کے ساتھ حاجیوں کے لباس میں مکہ بھیجا اور اسے حکم دیا کہ اگر حسینؑ خانہ کعبہ کے پردوں میں بھی

Read more

امام حسین ؓ کو کیا کرنا چاہیے تھا؟ (مکمل کالم)

چند کتابیں جو ہمیشہ میری سائیڈ ٹیبل پر موجود رہتی ہیں اُن میں سے ایک مولانا مودودی کی ’خلافت و ملوکیت‘ ہے۔ شکر ہے کہ یہ کتاب کبھی اسکول کے نصاب کا حصہ نہیں رہی ورنہ آج کل کے کسی مہا پُرش نے اِس پر بھی پابندی لگوا دینی تھی۔ کسی زمانے میں اِس کتاب اورمولانا کے خلاف فتوے بھی صادر کیے گئے تھے مگر اِس کے باوجود یہ مولانا کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی کتابوں میں سے

Read more

دلوں کے حکمران

آج دس محرم الحرام ہے۔ حضرت حسینؓ کا یوم شہادت۔ 1381 ہجری سال پہلے آج ہی کے دن انہوں نے میدان کربلا میں جام شہادت نوش کیا تھا… سرداد نہ داد دست در دست یزید… سر دے دیا لیکن یزید کے ہاتھ میں ہاتھ نہیں دیا۔ چلئے، میدانِ کربلا چلتے ہیں، حفیظ جالندھری کے ہمراہ، انہوں نے حضرت امامؓ کا جو سراپا بیان کیا ہے، اور میدان کربلا کی جو منظر کشی کی ہے، وہ اپنی مثال آپ ہے۔ دیکھئے

Read more

حسین صرف پیاس کا نام نہیں!

”بیٹا مجلس میں جانے کے لئے تیار ہو جائیے“ ہم محرم میں منعقد ہونے والی یومیہ مجلس میں شرکت کے لئے جا رہے تھے اور چاہتے تھے کہ بچے بھی ساتھ چلیں۔ دونوں بچوں کے پاس نہ جانے کی ہزار تاویلیں تھیں۔ ”مولوی حضرات بہت چیخ چیخ کے بولتے ہیں جس سے کچھ سمجھ نہیں آتا اور سر میں درد الگ سے ہوتا ہے“ ”رسومات کا ایک ڈھیر ہے، علم اور ضریح تو ٹھیک ہے لیکن مہندی کی رسومات، حضرت

Read more

میر انیس کے گھرانے کی سنّی بہو

خاندانی لوگوں کی پہچان ان کے عمل سے ہوتی ہے۔ احمد نوید نے جب اپنے ابّا سے کہا کہ وہ جس لڑکی سے شادی کرنا چا ہتے ہیں وہ سنّی ہے، تب انہوں نے مسکرا کر کہا مجھے کوئی اعتراض نہیں، اپنی امی سے پوچھ لو۔ انہوں نے کہا امی سے پوچھ چکا ہوں، انہوں نے بھی یہی کہا ہے ۔ادھر مجاہد بریلوی کی بیگم نزہت شیریں جو ہماری کولیگ تھیں انہوں نے ہمیں بتایا کہ احمد نوید ہم سے شادی کرنا چا ہتے ہیں تو ہمارے دماغ میں بھی یہی آیا کہ رشتہ فوراً مسترد ہو جائے گا ۔خیر پہلے تو ہم موصوف سے ملے اور سمجھا دیا کہ کو ئی امید نہ رکھیں، رشتے میں بہت بڑا عیب ہے۔ یہ بھی بڑے سیانے تھے۔

مجاہد بریلوی اور شیریں کے ساتھ گھر پہنچ گئے۔ مجاہد بھائی کی سفا رش رنگ لائی۔ پاپا نے رشتہ قبول کر لیا۔ بڑی بہن نے کہا، لوگ کیا کہیں گے۔ بولے جب ایک باپ اپنی بیٹی کی شادی خود کر رہا ہو تو کسی کی ہمت نہیں ہو تی کہ کو ئی کچھ کہے۔ شاندار مہندی ،شاندار بری، مگر یہ سب امی ( ساس ) کے رکھ رکھاؤ اور سلیقہ مندی کا منہ بولتا ثبوت تھی ۔ ورنہ امی تو اپنی شاہی ذندگی کے ساری آسائشیں انڈیا میں چھوڑ آئی تھیں۔ اور وہاں سے شاہی وقار اور تمکنت کے ساتھ صبر و قناعت کی دولت سمیٹ لائی تھیں۔ پاپا کی منشاء کے مطابق سنّی طریقے سے نکاح ہوا ، سسرال میں ابّا ( سسر ) نے صیغے پڑھے اور یہ رشتہ مزید مضبوط ہو گیا۔ کچھ دن بعد محرّم آ گئے ۔

Read more

مجلس شام غریباں کا آغاز کیسے ہوا؟

٭مجلس شام غریباں برصغیر کی عزاداری کا ایک لازمی جز ہے۔
٭مجلس شام غریباں کی روایت 1926ء میں شروع ہوئی۔
٭اس مجلس کو مجلس شام غریباں کا نام منے آغا صاحب راز اجتہادی نے دیا۔

٭ شام غریباں کی پہلی مجلس سے مولانا سبط محمد ہادی نے خطاب کیا۔
٭ 1930ء یا 1931ء میں یہ مجلس لکھنؤ ریڈیو اسٹیشن سے بھی نشر ہونے لگی۔

٭1928ء سے 1963ء تک اس مجلس سے عمدۃ العلما مولانا سید کلب حسین صاحب نے خطاب فرمایا۔
٭ریڈیو پاکستان سے پہلی مرتبہ مجلس شام غریباں 1954ء میں نشر ہوئی۔
٭پاکستان ٹیلی وژن سے پہلی مرتبہ مجلس شام غریباں 1968ء میں نشر ہوئی۔

Read more

یا حسین تیری پیاس کا صدقہ

یہ تب کی بات ہے جب ہم ایک گمراہ، مشرک، بدعتی معاشرے میں رہتے تھے۔ اے اللہ مجھے اور میرے مشرک، گمراہ، بدعتی پرکھوں اور اس سماج کو معاف کردینا جسے کوئی تمیز نہیں تھی کہ عقیدے اور بدعقیدگی میں کیا فرق ہے۔ اچھا مسلمان کون ہے اور مسلمان کے بھیس میں منافق اور خالص اسلام کو توڑنے مروڑنے اور اس کی تعلیمات کو مسخ کرنے والا سازشی کون۔

اے میرے خدا میری بدعتی والدہ کو معاف کردینا جو اپنی سادگی میں ہر یکم محرم سے پہلے پڑنے والے جمعہ کو محلے پڑوس کی شیعہ سنی عورتوں کو جمع کرکے کسی خوش الحان سہیلی سے بی بی فاطمہ کی کہانی سننے کے بعد ملیدے کے میٹھے لڈو بنا کر نیاز میں بانٹتی تھی۔

Read more

جب سنی محرم منایا کرتے تھے

زیادہ پرانی بات نہیں ہے۔ قوموں کی زندگی میں تیس پینتیس سال کی بھلا کیا اہمیت ہوتی ہے۔ 1979 کا تاریخ ساز اور تباہ کن سال گزرے نصف دہائی بیت چکی تھی مگر ابھی ہمارے معاشرے میں اس کا زہر سرائیت نہیں کر پایا تھا۔

ہمیں کوئی علم نہیں تھا کہ ہمارے ہم جماعتوں کا مسلک کیا ہے۔ مسلک کیا ہمیں تو ان کی ذات کے بارے میں بھی علم نہیں ہوتا تھا کیونکہ اس زمانے میں پنجاب یونیورسٹی کے یونی لیب سکول میں طلبا کو پہلے دو ناموں سے ہی پکارا جاتا تھا۔ ہمارے نام کے ساتھ خان نہیں لگتا تھا۔ ایسے میں جب پانچویں یا چھٹی جماعت میں ایک ٹیچر نے بے خیالی میں ایک ہم جماعت کا پورا نام پکار دیا تو سارے ہم جماعت بے تحاشا ہنسنے لگے۔ تنویر سعید باجوہ۔ باجوہ؟ باجوہ کیا ہوتا ہے؟ تنویر کے نام کے ساتھ یہ کیوں لگا دیا گیا ہے؟ باجوہ سے ملتا جلتا لفظ جو ہم بچوں نے اس وقت تک سنا تھا وہ باجرا تھا، یہی گمان گزرا کہ ٹیچر نے کچھ غلط پڑھ دیا ہے۔ معصومیت سی معصومیت تھی۔

Read more

کربلا یوں بسائی جاتی ہے: یہ ہمارے ابا نے بتایا

گھڑی کی سوئیوں کی تیزی کے ساتھ، اس کے چمکتے شیشے میں اپنا عکس دیکھتی ہوں تو مجھے اپنی ماں نظر آتی ہے اور سر جھکائے غور و فکر میں غلطاں اپنے شوہر کو دیکھتی ہوں تو مجھے ان میں ان کے ابا کی شباہت نظر آتی ہے۔ اپنے ماں باپ سے لاکھ اختلاف کے باوجود گزرتا وقت ہمارے چہرے میں ان کی شباہت ہی نہیں لاتا، عادت و اطوار بھی ان سے لگا کھانے لگتے ہیں۔ ماں کی عظمت

Read more

آٹھ محرم الحرام اور بسم اللہ خان شہنائی والے

بسم اللہ خان ایک کٹر مذہبی انسان تھے۔ دین کے تمام فرائض پورے کرتے تھے۔ فجر کی نماز پڑھے بغیر ان کا دن شروع نہیں ہوتا تھا۔ جو کماتے تھے، اپنے بچوں اور ضرورت مندوں کو دے دلا کر ہاتھ کے ہاتھ فارغ ہو جاتے تھے۔ کنجوسی کرتے تو نواب ہوتے، توکل کرتے تھے، حال مست رہتے تھے۔ ایک سادہ سا گھر تھا، دروازوں اور دیواروں پر کہیں رنگ ہوتا تھا، کہیں نہ بھی ہوتا، ان کی بلا جانے۔ سونے

Read more

روشنیوں کا شہر آفتوں کی زد میں

پاکستان کا سب سے بڑا شہرکراچی جو کبھی روشنیوں کا شہر کہلاتا تھا آج آفتوں اور مصیبتوں سے گھرا ہوا ہے۔ کراچی ابھی کورونا کی آفت سے نکل نہیں پایا تھا کہ بارشیں خدائی قہربن کر برس رہی ہیں۔ کراچی میں اس قدر شدید بارشیں ہوئیں ہیں کہ نصف صدی کا ریکارڈ ٹوٹ گیا ہے۔ موسلادھار بارشوں نے کراچی کو وینس بنا کر رکھ دیاہے، سیلابی ریلے کی شکل میں سڑکوں پر بہتا پانی سامنے آنے والی ہر شے کو اپنے ساتھ بہا کر لے جا رہا ہے۔

Read more

بچہ گود لینا – پاکستانی تناظر میں 

پہلے حصے میں بچہ گود لینے کی بات مغربی ملکوں کے معاشرے کو سامنے رکھ کر کی تھی۔ اب کچھ بات کرتے ہیں کہ پاکستان میں بچہ گود لینے کا کیا طریقہ کار ہے۔ پہلی بات تو یہ کہ پاکستان میں مغربی طریقے پر بچہ گود لیا ہی نہیں جاسکتا۔ اور اسی لیئے اس پر قانون سازی بھی نہیں ہوئی۔ کسی لاوارث بچے کا سر پرست تو بنا جا سکتا لیکن بچے کو اپنی اولاد نہیں بنا سکتے۔ 1989 میں

Read more

کئی چاند تھے سرِآسمان

اس بے پناہ داستان کا مرکزی کردار محمد یوسف سادہ کار کشمیری کی تیسری اور سب سے چھوٹی بیٹی وزیرخانم عرف چھوٹی بیگم ہے۔ محمدیوسف سادہ کار کی پیدائش غالِباً 1793 میں ہوئی۔ اس کے والد کا نام محمد یعقوب بڈگامی تھا اور چچا کانام یعنی محمد یعقوب بڈگامی کے بھائی کا نام محمد داؤد بڈگامی تھا۔ محمد یعقوب اور محمد داوٴد کے والد کا نام محمد یحیٰی اور دادا کا نام مخصوص اللہ تھا جو میاں مخصوص اللہ مرقع

Read more

کئی چاند تھے سر آسمان ۔ ایک مطالعہ

کتنے برسوں کے بعد ایک ایسا ناول پڑھنے کو ملا جس نے راتوں کی نیند اڑا دی اور پھر ایک ایک دوست کو پکار پکار کے کہا کہ یہ ناول ضرور پڑھو دیکھو لفظ کیا ہوتے ہیں کہانی کیا ہوتی ہے اور تخلیقی اظہار کیا چیز ہے سب نے پڑھا اور اتفاق کیا قبل ازیں قرۃ العین حیدر کے ناول ”آگ کا دریا“ نے بھی کچھ اسی طور اپنے سحر میں جکڑا تھا یہ ایک حقیقت ہے کہ اردو ادب

Read more

انچولی کا محرم اور مجالس

آپ انچولی میں ایک سال محرم کرلیں۔ اس کے بعد نجف جائیں، کربلا جائیں، مشہد جائیں، دمشق جائیں، آپ کو اجنبیت کا احساس نہیں ہوگا۔ انسانوں کے دل میں ایک جیسے جذبات ہوں تو شہروں کی فضا بھی ایک جیسی ہوجاتی ہے۔

Read more

امریکا میں نوحہ خوانی

امریکا میں ہمارا یہ دوسرا محرم ہے۔ بلکہ مجھے تیسرا کہنا چاہیے۔ 2017 میں دس دن کے لیے آیا تھا تو محرم ہی کے دن تھے۔ ہیوسٹن میں میرے ماموں زاد بھائی تصور حسنین رات کو مجھے مجلس میں لے گئے۔ ہیوسٹن میں بے شمار کراچی والے رہتے ہیں۔ بلکہ امروہے والے بھی۔ انچولی کے فہیم بھائی اور حسین جری ملے۔ دوسرے شہروں کے کئی لوگ پہچان گئے۔ سوشل میڈیا پر گالیاں کھانے والوں کی صورت سب یاد رکھتے ہیں۔

Read more

امام بارگاہ غفران مآب لکھنو کی مجلس کا احوال: ہندو افسر کی زبانی

امام بارگاہ غفران مآب، یکم محرم، چودہ مئی، 1964 غفران مآب روڈ سے وکٹوریہ روڈ کی طرف آئیں تو لوگوں کی ایک بہت بڑی تعداد تیزی سے امام باڑے کی طرف جاتی نظر آتی ہے۔ ان میں سے اکثر معقول لباس میں ہیں۔ بہت کم ایسے ہوں گے جو غریب طبقے میں شمار ہوں۔ غفران مآب امام باڑے کی مجلس عموماً مشہور علماء اور ذاکر پڑھتے ہیں اس لیے پڑھا لکھا طبقہ بہت زیادہ کھنچا چلا آتا ہے۔ ذرا آگے

Read more

شاہ است حسین، بادشاہ است حسین

خواجہ معین الدین چشتی اجمیری کی ایک رباعی محرم میں بہت لوگ پڑھتے اور لکھتے ہیں لیکن شاید اس کا درست مطلب کم لوگوں کو معلوم ہے۔ شاہ است حسین، بادشاہ است حسین دین است حسین، دین پناہ است حسین سر داد، نداد دست درِ دست یزید حقا کہ بنائے لا الہ است حسین کسی زبان میں کوئی سے بھی دو الفاظ ہم معنی نہیں ہوتے۔ شاہ کا مطلب ہے روحوں کا مالک۔ بادشاہ کا مطلب ہے جسموں کا مالک۔

Read more

وجاہت مسعود کا ”محاصرہ“

آج سے تیرہ برس قبل جب میں نے جنگ میں کالم لکھنے شروع کیے تو میرا خیال تھا کہ یہ کام بہت آسان ہے، کہیں بھی بیٹھ کر کچھ بھی گھسیٹ دو چھپ جائے گا، اور یہ بات کچھ ایسی غلط بھی نہیں تھی، بے شمار کالم نگار آ ج بھی اپنے پیر کے انگوٹھے سے قلم پکڑ کرکالم گھسیٹتے ہیں اور ان کے مضامین پورے کروفر کے ساتھ اخبارات کی زینت بنتے ہیں، میں ایسے کالم نگاروں کا بے

Read more

اماں رخصت ہونے کے لیے عاشور گزرنے کی منتظر تھیں

میں نے جب ہوش سنبھالا تو اماں کا چہرہ اس وقت بھی جھریوں سے بھرا ہوا تھا۔ ہم اپنی نانی کو اماں کہتے تھے۔ ان کے زمانے میں ماں کو اماں ہی کہا جاتا تھا۔ پھر امی کہا جانے لگا۔ آج کل بچے ممی اور ماما کہتے ہیں۔ اماں کا نام تحسینہ خاتون تھا۔ چہرے پر جھریاں، دائیں گال پر جلد کے رنگ کا مسّا یا دانہ، سر سفید اور گھر میں بچوں کے سامنے بھی ہر وقت ڈھکا ہوا۔

Read more

کربلا میں دو بار قتل کیا گیا شہید

چھٹی محرم کربلا کے ننھے شہید علی اصغر کا دن ہے۔ وہ چھٹی محرم کو شہید نہیں کیے گئے تھے۔ کربلا کی جنگ دس تاریخ کو ہوئی تھی اور سب شہادتیں بھی لیکن عزاداروں نے کچھ دن کئی شہیدوں کے نام سے مخصوص کردیے ہیں۔ چھٹی محرم کو مجالس اور جلوسوں میں خاص طور پر جھولے نکالے جاتے ہیں اور علی اصغر کو یاد کیا جاتا ہے۔ میں پہلی بار کربلا گیا تو میرا خیال تھا کہ وہاں جنگ کا

Read more

خون کا ماتم جگر لے گیا

بڑا ہے درد کا رشتہ یہ دل غریب سہی تمھارے نام پہ آئیں گے غم گسار چلے ایسا لگتا ہے کہ فیض نے یہ شعر کربلا والوں کے نام کہا تھا۔ ادھر کسی نے حسین کا نام لیا، ادھر عزادار جمع ہونے لگے۔ گریہ و ماتم شروع ہوگیا۔ کراچی میں بہت سی ماتمی انجمنیں ہیں، ہر شہر میں ہوتی ہیں، جنھیں لوگ مجالس اور جلوس میں بلاتے ہیں۔ ان میں ایک یا کئی نوحہ خواں ہوتے ہیں جنھیں صاحب بیاض

Read more

کربلا کی ڈائری سے ایک صفحہ

میں پہلی بار عمرہ کرنے گیا تو مدینے کی زیارت بھی کی۔ وہاں جنت البقیع کے باہر ایک اجنبی ملا جس نے پوچھا، ’’کیا تمھارا کبھی کربلا جانے کا ارادہ ہے؟‘‘ میں نے کہا، ’’ایک بار جاچکا ہوں اور دوسرے بار جانے کی خواہش ہے۔‘‘ اس نے ایک لفافہ دیا اور کہا کہ یہ بھی لے جانا۔ میں نے وہ لفافہ جیب میں ڈال لیا۔ جب کوئی کربلا جاتا ہے تو لوگ اسے عریضے دیتے ہیں۔ ان میں وہ اپنی

Read more

آج کا کربلا اور ھـــل من ناصـــر ینصـــرنا کی صدا

ایک تصویر ہے جس میں میاں افتخار حسین اپنے اکلوتے بیٹے کی قبر کے سامنے بیٹھے ہیں۔ ایک تصویر ہے جس میں مشال کے والد اپنے جوان بیٹے کی قبر کو سلام کرتے ہیں۔ دونوں تصاویر میں بوڑھے باپ ہمت اور جرات کی تمثیل دکھائی دیتے ہیں مگر کیا ان کے دل کا حال کوئی جان سکتا ہے؟ ایسے کئی باپ ہیں جنہوں نے اپنے جوان بیٹے جنونیت کے ہاتھوں کھو دیئے مگر ہمیں نہیں پتہ کیونکہ ہم نے ان

Read more

کربلا میں شب عاشور اور خضر سے گفتگو

تین سال پہلے آج کے دن میں کربلا میں تھا۔ مغرب سے کچھ پہلے میں نے اپنے بیٹے حسین سے کہا کہ چلو، تمھیں کربلا کی شب عاشور دکھاتا ہوں۔ چودہ صدیاں پہلے اسی مقام پر یہ رات امام حسین کے قافلے پر بھاری تھی۔ اس رات کربلا والے نہیں سوئے۔ کربلا والوں کو ماننے والے آج بھی نہیں سوتے۔ حسین اس وقت بارہ سال تھا۔ میں اس کا ہاتھ تھام کر ہوٹل سے نکلا۔ اگر آپ کبھی کربلا نہیں

Read more

عقیدوں کی جنگ سے کلچر کے تصادم تک

حال ہی میں سوئٹزر لینڈ میں دو مسلم لڑکیوں کو شہریت دینے سے انکار کر دیا گیا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ ان لڑکیوں نے اسکول میں لڑکوں کی موجودگی میں سوئمنگ پول میں نہانے سے انکار دیا تھا۔ سوئمنگ کی یہ پریکٹس دراصل اسکول کے نصاب کا حصہ ہے۔ لڑکیوں کا موقف تھا کہ ان کا مذہب اس بات کی اجازت نہیں دیتا کہ نا محرم کے سامنے یا ساتھ سوئمنگ پول میں نہایا جائے۔ سوئس حکومت

Read more