پشاور کے ایک مشہور فاسٹ بالر تھے۔ نیوزی لینڈ کے خلاف ون ڈے میں ایک بار پانچ وکٹیں لے بیٹھے۔ قومی ٹیم میں شامل رہے تھوڑا عرصہ لیکن کرکٹ بورڈ میں افسری کرتے عمر بتا دی۔ ایک فسٹ کلاس میچ کے دوران موصوف کو نہایت تسلی سے مار پڑی۔ ان کو اتنے چوکے چھکے لگے کہ انہیں کرکٹ سے نفرت ہو گئی ہو گی۔ ہمارے مشر کی ممتا کبھی کبھار ہی جاگتی ہے۔ جب جب جاگی ہے اس کی اپنی تو پھر بہترین ہوئی ہے لیکن اس کے ساتھ والوں کی بھی برابر ہوئی ہے۔ساتھ والوں کو محسوس زیادہ ہوتی ہے کہ ان کا قصور کوئی نہیں ہوتا۔ مشر نے پشوری فاسٹ بالر کو گدڑ کٹ کھاتے دیکھا تو اس سے رہا نہ گیا۔ ہم سب کو حکم دیا کہ اج اور ابھی سب اسی سے جا کر آٹو گراف لیں گے۔ یہ ہمارے شہر کا ہے۔ یہ کٹ کھائے یا کسی کو پھینٹی لگائے ہمیں اس سے پیار ہے۔ مشر نے ممتا بھرا منہ بنایا اور ہماری قیادت کرتے ہوئے آٹو گراف لینے چلا گیا۔ ہمارے پشوری فاسٹ بالر کو آگ لگ گئی جب اس سے آٹو گراف مانگا مشر نے۔
Read more