جمائمہ خان بالآخر ہمارے ساتھ مل کر ہنسیں مگر کس پر؟

صاحب، رنج کی شدت اس قدر ہے کہ ہم خود کلامی کے مرض میں مبتلا ہو کر کچھ سوال اپنے آپ سے پوچھے چلے جا رہے ہیں؟ اگر ریپ عورت کے کپڑوں سے متعلق ہے تو زینب فرشتہ اور ان جیسی لاکھوں بچیاں کیا پہن کر سامنے آتی ہیں کہ ریپسٹ اپنے ہوش و حواس کھو بیٹھتا ہے؟ قبر میں لیٹنے والی عورتوں کا کفن کیا اس قدر ناکافی ہوتا ہے کہ بہت سے معصوم ریپسٹ مردہ جسم کے بلاوے

Read more

اقبال اور منٹو میں بحث: اردوادب کو ماہواری کیوں نہیں آتی؟

ہم عجیب سی الجھن کا شکار ہو گئے جب ہماری بیٹی نے ہم سے وہ سوال پوچھا۔ پہلے تو سمجھ میں ہی نہیں آیا کہ کیا جواب دیں؟ سمجھ آیا تو دل مچل اٹھا کہ کون کون؟ پھر یوں ہوا کہ دل بے تاب کے سامنے ہتھیار ڈالتے ہوئے ہمیں فہرست مرتب کرنے کی ضرورت پیش آ گئی۔ ارے یہ تو بتایا ہی نہیں کہ سوال کیا تھا؟ ہوا کچھ یوں کہ ہماری بیٹی کچھ ایسے واقعات کے بارے میں

Read more

منبر و محراب کی اوٹ میں رکھا جھوٹ!

ڈھٹائی اور ہٹ دھرمی کو مجسم دیکھنا ہو تو مفتی عزیز کو دیکھ لیجیے جن کا خیال ہے کہ وطن عزیز میں پائی جانے والی مخلوق اتنی کم فہم ہے کہ ان کی سادگی پہ مر مٹے گی اور ان کی بلائیں لیتے ہوئے نہیں تھکے گی۔ ویسے آپس کی بات ہے کہ ان کا خیال کچھ ایسا غلط بھی نہیں۔ بے شمار چاہنے والے مفتی صاحب کے اردگرد حصار بنائے ان پہ برسائے جانے والے تیر و تفنگ کا

Read more

مثانے کی کمزوری: ماہواری یا امرت دھارا؟

نصف شب کا گجر جونہی بجتا، کچھ عجیب سا محسوس ہوتا اور وہ چھوٹی سی بچی بیدار ہو جاتی۔ نیند میں مندی ادھ کھلی آنکھیں، سویا ہوا ذہن، کچھ دیر تو سمجھ ہی نہ آتی۔ لیکن سرما کی سرد راتوں میں جب جسم فوراً ہی کپکپانا شروع کر دیتا، تب بستر چھوڑنے کے سوا کوئی اور چارہ نہ ہوتا۔ “آپا کو جگاؤں کہ اماں کو؟ اماں تو تھکی ہوئی ہوں گی بہت… آپا نے بھی کالج جانا ہے صبح.. اف،

Read more

ماہواری اور ٹرنر سنڈروم: زندگی کی نمو کا سوال

"آپ ماہواری کا پیچھا کب چھوڑیں گی؟” کسی مہربان نے استہزائیہ انداز میں مسکراہٹ ہماری طرف اچھالتے ہوئے پوچھا "جب تک آپ ماہواری اور اس سے جڑے مسائل سجھنے کے قابل نہ ہو جائیں۔ جان لیجیے کہ ماہواری ہے تو آپ ہیں، ماہواری نہیں تو کچھ بھی نہیں۔ اس قانون سے کوئی ماورا نہیں” کہیں پچھلے جنم میں ہمارا تعلق لٹھ ماروں کے قبیلے سے تو نہیں تھا؟ جواب دینے کے بعد خود ہی بے اختیار ہو کے سوچا۔ سوچیے

Read more

خبردار؛ ماہواری آئی ہے، چھونا مت!

آنگن میں تیز دھوپ پھیلی تھی۔ تخت پہ بچھی چادر پہ کٹی ہوئی ہری کیریوں کا ڈھیر پھیلا ہوا تھا، ساتھ میں ہری مرچیں اور لیموں بھی رکھے تھے۔ ایک طرف دو خواتین مصالحے کا ڈھیر لگائے بیٹھی تھیں۔ کلونجی، میتھی دانہ، سرسوں کا تیل، نمک مرچ، ہلدی کا تناسب طے ہو رہا تھا۔ مٹی کے دو بڑے مرتبان بھی قریب موجود تھے۔ پاس بیٹھی ایک نوعمر لڑکی اپنی متجسس آنکھیں گھماتی بالآخر پوچھ ہی بیٹھی، “اماں آپ کو اچار

Read more

ڈاکٹر آصف فرخی دوستوں کو جُل دے گئے

گستاخی معاف ڈاکٹر صاحب، آپ نے کھیل کے آداب کی خلاف ورزی کی ہے۔ چپکے سے تالہ بندی کا تالہ توڑ کے دوستوں کے گھیرے سے نکل لئے، جو ابھی تک سمجھ نہیں پا رہے کہ یہ ہوا کیا اور اب وہ کیا کریں! پچھلے دو ماہ سے شگفتگی اور امید کے رنگ لئے، مرصع اردو میں حالاتِ حاضرہ پہ کہی جانے والی باتوں اور دیس دیس کی کہانیوں نے ہر کسی پر ایسا جادو کیا تھا کہ بار بار

Read more

ہمیں ہمارے خیر خواہوں سے بچائیے

اگر آپ ہمیں سدھار کے راہ راست پہ لانا چاہتے ہیں تو جان لیجیے کہ اب بہت دیر ہو چکی اور مرض لاعلاج ہو چکا۔ اگر آپ کو ہماری آخرت کی فکر کھائے چلی جار ہی ہے تو تب بھی ہم مجبور ہیں کہ آپ کو اپنے ساتھ قبر میں لے جا نہیں سکتے۔ ایسے میں یہی مشورہ دے سکتے ہیں کہ صبر کے گھونٹ بھریے اور رب سے فریاد کیجیے کہ جس نے ہمیں یہ جرات گفتار عطا کی۔ یقین مانیے وہ سننے والا ہے۔

”میں ایسے بہت سے مردوں کو جانتا ہوں جن کی زندگی ان کی بیویوں نے عذاب بنا رکھی ہے، میں ایسے بہت سے مردوں کو جانتا ہوں جو عورتوں کے ہاتھوں بلیک میل ہو رہے ہیں۔

Read more

بیٹوں کو ماہواری کی تعلیم دیجیے!

”مجھے وہ صبح کبھی نہیں بھولے گی جب میں سکول جانے کے لئے باتھ روم میں تھی اور میں نے کموڈ میں پیشاب کے ساتھ سرخ قطرے گرتے دیکھے۔ میں گھبرا کے اٹھی کہ شاید چوٹ لگ گئی ہے۔ عجیب سی بات تھی کہ درد کہیں نہیں تھا، چوٹ کا نشان بھی نہیں ملا مگر خون بہتا جا رہا تھا۔

آخر باہر آ کر میں نے کمبل میں دبکی ماں کا کندھا ہلایا، امی میرے پاجامے میں خون ہے، نہ جانے کہاں سے بہہ رہا ہے۔ امی کی نیند میں بھری آنکھیں ایک دم کھل گئیں اور وہ مجھے چپ کر کے دیکھتی رہیں، ایسے لگا کہ سکتے میں ہیں۔

امی، دیکھیں نا، میں پھر سے کہا۔ اس وقت میری عمر ساڑھے دس برس تھی۔

Read more

پاکستانی عورت تھپڑ کھاتے ہوئے ہی اچھی لگتی ہے!

آپ لوگوں نے ائر بلیو میں ہونے والے واقعے کو ہنسی ٹھٹھے میں اڑا دیا لیکن ایک اہم بات کی طرف آپ کی توجہ نہیں گئی، اگر چہ آپ کو سوچنا چاہیے تھا کہ اسی میں معاشرے کی بقا ہے۔ بات کچھ یوں ہے کہ ہم سب بیویوں والے ہیں اور جو نہیں ہیں، وہ بھی خدا کے فضل سے ہو جائیں گے۔

مجھے اس نوجوان کو اپنی بیوی کو بوسہ دینے پہ حیرانی نہیں ہوئی۔ مادر پدر آزاد نئی نسل کے لئے یہ کوئی بڑی بات نہیں لیکن اس معاشرے میں ان کی تعداد تو آٹے میں نمک کے برابر ہے۔ اکثریت تو ہم جیسے با حیا، غیرت مند اور صراط مستقیم پہ چلنے والوں کی ہے۔

زیادہ پریشانی یہ ہوئی کہ اس شوہر کو اپنی بیوی پہ پیار آیا اور اتنا شدید آیا کہ جہاز میں بیٹھے بیٹھے ہی بیوی کو چوم لیا۔ حیرت اور پریشانی کی بات ہے نا! یہ کیا بات ہوئی، بیوی پہ بھلا کس کو پیار آتا ہے؟ اور چلیے اگر یہ مان لیں کہ یہ پیار نہیں تھا، جنسی خواہش کی شروعات تھی تب بھی بیوی کو چومنے کی کیا ضرورت ہے؟ بھئی سیدھے سبھاؤ گھر جاؤ اور اسلامی طریقے سے ازدواجی تعلق قائم کرو۔

Read more

جہاں بیٹی کو ماں بننا پڑتا ہے

"اس نے ہمیں بہتر ماں بننے میں ہماری مدد کی”  یہی کہا تھا نا ہم نے کچھ عرصہ پہلے، اور بخدا غلط نہیں کہا تھا۔ اصل میں کہنے اور بتانے کو اتنا کچھ ہے کہ لاکھ چاہنے کے باوجود کچھ نہ کچھ تشنہ لبی رہ جاتی ہے۔ بات کچھ یوں ہے کہ تخلیق کا یہ ہنر ہماری سائیکالوجسٹ بیٹی نے استعمال کیا اور ان بدصورت دھبوں کو مٹانے کی کوشش کی جو ماں باپ اپنی لاعلمی سے بچوں کی شخصیت

Read more

انسان کا بچہ پالنا کھیل نہیں!

وہ نوعمر لڑکی ہمارے سامنے بیٹھتے ہی بھبھک بھبھک کے رو دی، "ڈاکٹر مجھے بتائیے، مجھے ابھی تک حمل کیوں نہیں ہو رہا؟” حیرت کے مارے ہم کرسی سے اچھل پڑے۔ سر سے پاؤں تک اسے دیکھنے کے بعد اس سے پوچھا، “بیٹا عمر کتنی ہے تمہاری؟ “جی بیس برس” وہ قدرے شرما کے بولی، “اور شادی کو کتنا عرصہ ہو گیا؟” ہم نے پوچھا “چار ماہ “ وہ سسکیاں لیتے ہوئے بولی۔ دل چاہا کہ اپنے بال نوچ لیں

Read more

قفس میں عید

ہم نے پچھلی عید پہ اپنے لان میں سارا دن اکیلے بیٹھے یہ سوچتے ہوئے گزارا تھا کہ یہ آسیب جو شہر بھر کو گھیرے ہے، سڑکوں اور گلیوں پہ جو پہرہ ہے، دور دور تک کسی متنفس کا وجود نہیں، یہ تنہائی اور زندگی کا انوکھا پن ہمیں دو ہزار بیس کی یاد دلائے گا۔ شقی القلب اور ظالم دو ہزار بیس جو ہماری زندگیوں کے قیمتی لمحات ہڑپ کر گیا!

پردیس میں رہنے والوں کے لئے عید کا دن ویسے ہی ایک عذاب بن کر گزرتا ہے۔ اپنوں سے دوری، پردیس کی تنہائی، بچھڑ جانے والوں کا غم، اکیلے پن کا درد! ایک ایسا درد جس کا درماں کوئی نہیں، کچھ نہیں!

Read more

درد کے کاسنی پازیب بجاتے ہوئے۔۔۔ عید آئی ہے

‎ پردیس ہے، عید ہے، کھڑکی سے باہر موسم بہت اچھا ہے پر دل کے موسم کا کیا کریں؟ ‎کبھی کبھی جی چاہتا ہے وقت کے اڑن کھٹولے پہ جا بیٹھوں، اپنے بچپن میں جا اتروں، وہ سارے منظر پھر سے دیکھوں، وہ لمحے مٹھی میں بند کرنے کی کوشش کروں جو ہاتھ سے ریت کی طرح پھسل کے عمر عزیز کے خلا میں گم ہو چکے ہیں۔ ‎جونہی رمضان شروع ہوتا، ہم ابا سے تقاضا کرنا شروع کر دیتے

Read more

اپنی مسیحی دوست ریچل کے نام ایک خط!

ریچل پیاری! مجھے علم ہے کہ تم حالیہ واقعات پہ بہت اداس ہو گی سو جی چاہتا ہے کہ تم سے بہت سی باتیں کی جائیں۔ ان دنوں کی باتیں جب کچھ علم نہیں تھا کہ ایک دن ایسا آئے گا جب ہم ایک دوسرے کے لئے اجنبی ٹھہریں گے اور دلوں میں کدورتیں بھر چکی ہوں گی۔ تمہاری اور میری ملاقات میڈیکل کالج میں ہوئی جہاں تمہاری شوخی اور شرارت نے تمہیں بہت جلد ہر دلعزیز بنا دیا۔ تمہاری

Read more

ہم نے ممتا کیسے سیکھی؟

اگر آپ شادی شدہ مرد ہیں تو بیگم کے ساتھ کبھی نہ کبھی گائناکالوجسٹ کے کٹہرے میں ضرور کھڑے ہوئے ہوں گے۔ اگر ابھی خوش قسمتی یا بدقسمتی سے یہ بور کے لڈو آپ نے نہیں کھائے تو خاطر جمع رکھیے آپ کا وقت ضرور آئے گا۔

اگر آپ عورت ہیں تو تب بھی آپ نے ایک خشک مزاج، تنک ڈاکٹر کے منہ سے مشین گن کے فائر کی طرح نکلتے ان سوالوں کی بوچھاڑ کا سامنا ضرور کیا ہو گا۔
کتنے حمل ہوئے، کب کب ہوئے، نتیجہ کیا رہا، اسقاط یا بچہ، زچگی طبعی رہی یا سیزیرین، زچگی کے بعد کسی پیچیدگی کا سامنا، دودھ کون سا پلایا؟ وقفے کے لئے کیا استعمال کیا؟

Read more

ابا کا ترکہ!

بائیس برس بیت گئے۔ ابا کی تدفین کے بعد سوئم ہو چکا تو مہمان بھی رخصت ہوئے اور گھر میں رہ گئے، اماں اور ہم بہن بھائی!
کرنے کو کچھ تھا نہیں سوائے اس کے کہ روزانہ لاؤنج میں بچھی سفید چادروں پہ بیٹھ کے گٹھلیوں پہ ایصال ثواب کے لئے کچھ نہ کچھ پڑھا جائے۔ دوست احباب میں سے بھی کوئی نہ کوئی روزانہ آ جاتا، غمزدہ خاندان کی دلجوئی کے قرینوں میں سے ایک!

تیسرے چوتھے دن سوچا کہ ابا کی چھوڑی ہوئی چیزوں کا بٹوارہ ہی کر لیا جائے۔ سب ہی مرنے والوں کے ورثا شاید کچھ دنوں بعد یوں ہی سوچتے ہیں۔
خیر جناب، الماریاں کھولی گئیں، صندوق بھی دیکھ لیا گیا۔ جو کچھ نکلا، وہ سب نے دیکھ لیا۔ ایسے مواقع پہ چپقلش تو ہوا ہی کرتی ہے سو ہم بہن بھائیوں میں بھی ہوئی۔ کیا کیجیے بندہ بشر ہو اور لالچ کا آسیب نہ آن گھیرے، بھلا کیسے ممکن؟

Read more

روزہ، ماہواری اور شرم!

گرما کی دوپہر کا سلسلہ یادوں کے دریچوں پہ دستک دیتے ہوئے کچھ ایسا یاد کرواتا ہے کہ منہ پہ بے اختیار مسکراہٹ پھیل جاتی ہے۔ بچپن، تجسس، ہمارے نہ ختم ہونے والے سوال، گرما میں سکول سے چھٹیاں اور طویل دوپہریں! اماں سے گپ شپ کا سلسلہ چلتا تو ماں بیٹی کا رشتہ غائب ہو جاتا۔ یوں لگتا دو سہیلیوں میں نوک جھونک ہو رہی ہے۔ ہمیں باتیں سننے کا شوق، اماں کو سنانے کا سو چقوں کی اوٹ میں رنگین ٹائلوں والے برآمدے میں سورج کی تپش سے اوجھل وہ دوپہریں خوب مزے سے کٹتیں۔

”اماں آپ کو ماہواری کس عمر میں آئی تھی؟“ ہم پوچھتے
”افوہ یہ تم کس قسم کی باتیں پوچھتی ہو؟“ اماں حیرانی سے دیکھتیں

”بتائیے نا“ ہمارا اصرار بڑھتا چلا جاتا،
”ارے بھئی جب میری شادی ہوئی تو اس وقت تک ماہواری نہیں آئی تھی،“
کیا؟ ماہواری کے بغیر شادی ہو گئی، آپ کے ماں باپ اس قدر ظالم؟ ”
ہم چلاتے،

Read more

ماہواری: یہ خاموشی کب تک؟

موسم گرما کی ایک ایسی دوپہر جب چیل بھی انڈا چھوڑ جاتی ہو، سکول بس سے اترنے والی بچی نے ادھر ادھر دیکھا اور ایک طرف کو چل دی۔ ہر روز بس معمول کے مطابق رکتی، وہ بس سے چھلانگ لگا کے اترتی، بستہ کمر پہ بندھا ہوتا اور تیزی سے چلتی ہوئی اس گلی میں داخل ہو جاتی جو دو تین موڑ مڑتی اس کے گھر تک جاتی تھی۔ وسیع سڑک پہ دو رویہ دکانیں تھیں جو دوپہر کے

Read more

آتی جاتی سانس کا عالم نہ پوچھ

سیزیرین کرتے ہوئے ہمارے ہاتھ تیزی سے چل رہے ہیں۔ مختلف پرتیں کاٹتے ہوئے، خون روکتے ہوئے، شریانوں کو پکڑ تے ہوئے۔ ہمیں کسی بھی مرحلے کے لئے سوچنا نہیں پڑتا۔ یہ اتنا ہی آسان ہے جیسے گاڑی چلانا، یا پھر چہل قدمی کرنا جہاں قدم آپ سے آپ فاصلہ طے کرتے جاتے ہیں۔ کچھ ہی لمحوں میں وہ سامنے ہو گا وہ جس کے استقبال کے لئے نرس ہاتھ پھیلائے اور ڈاکٹر سٹیتھوسکوپ لگائے انتظار میں کھڑا ہے۔ رحم

Read more

بارہ ہفتے کا بیٹا: جیتا تو آج گبھرو ہوتا

“کیا آپ کا حمل کبھی ساقط ہوا؟ کیا آپ اس تکلیف سے کبھی گزریں؟” سامنے بیٹھی مریضہ کا زارو قطار روتے ہوئے ہم سے یہ سوال تھا۔ “جی ہاں، دو مرتبہ” ہم نے دھیرے سے کہا۔ “کیا آپ کو رحم کی صفائی کے مرحلے سے گزرنا پڑا؟” اگلا سوال۔ “ہاں بالکل” “کیا آپ کو صدمہ پہنچا تھا؟” وہ بے قراری سے بولی، ہم چپ رہے۔ “ڈاکٹر آپ تو ڈاکٹر ہیں نا، آپ کو تو سب علم ہے نا” “ارے بھئی

Read more

میرا نام کہاں ہے؟

”بیگم و امجد حسین کی لاڈلی دختر نیک اختر کی تقریب عروسی ہمراہ عزیزی فہیم حسین طے پائی ہے۔ آپ کی موجودگی ہماری تقریب کو چار چاند لگا دے گی۔ متمنی شرکت!“
شادی کارڈ پڑھتے ہوئے ہم نے حیرت سے سوچا، بھلا یہ کیا نام ہوا؟ دختر نیک اختر؟

بھاگے بھاگے آپا کے پاس پہنچے، کہ یہ کیسا نام ہے، وہ کارڈ پڑھ کے ہنستے ہوئے کہنے لگیں،
”ارے تم غلط سمجھیں، دختر نیک اختر بیٹی کا نام نہیں، بیٹی کے لئے لکھا گیا ہے“

”لیکن بیٹی کا نام کدھر ہے؟“ ہماری سمجھ سے بات ابھی بھی باہر تھی۔

Read more

جب دوا میں بے حیائی نظر آنے لگے

”کوئی پوچھے ان نگوڑوں سے، کیوں ہم سے بار بار کہتے ہو کہ ہم اپنی بچیوں کو یہ ویکسین لگوائیں۔ یہ تو بنائی ہی موئی گوریوں کے لئے گئی ہے جو چھوٹی عمر میں ہی درجنوں بوائے فرینڈ رکھ چھوڑتی ہیں۔ اگر شادی کریں بھی تو بھلا ایک شادی تک محدود کہاں رہتی ہیں۔ تو انہیں تو ضرورت ہوئی نا۔ اب ہماری بچیاں یہ بوائے فرینڈ شرینڈ کیا جانیں۔ جہاں اماں ابا بیاہیں گے، چلی جائیں گی اور وہاں سے مر کے ہی نکلیں گی۔ پھر کیا ضرورت اس ویکسین کی؟ خواہ مخواہ پیسے کا ضیاع۔ بس بی بی یہ بتا دو کہ یہ بیماری ہماری طرف کی بچیوں کو تو نہیں ہوتی نا“

Read more

جب ماہواری پچھل پیری بن جاتی ہے!

ہمارے میسنجر میں آیا برقی پیغام کہانی سناتا تھا! "میری دوست کا لندن میں آپریشن ہو رہا تھا۔ وہ دو بچوں کی ماں اور عرصہ دراز سے پیٹ میں درد کی وجہ سے بے حال رہتی تھی۔ ماہواری کے ساتھ ہونے والا درد روز مرہ کے معمولات کو مشکل بنانے کے ساتھ زندگی کے رنگ بھی پھیکے بنا چکا تھا۔ کوئی انجیکشن اور کوئی گولی ایسی نہ تھی جو کچھ گھڑیاں سکون سے گزرنے دیتیں۔ ازدواجی تعلقات میں ہم بستری

Read more

خواتین پَیپ سمیر ٹیسٹ کو دوست بنائیں

”ڈاکٹر میرے شوہر خوش نہیں ہیں!“
وہ تھکے تھکے لہجے میں بولیں، چالیس کے پیٹے میں وہ تھیں، سو ہم نے بات اڑانے کے لئے ہنس کے کہا،
”فکر نہ کیجیے، شوہروں کا یہی وتیرہ ہوا کرتا ہے، بھلے مانس خوش ہوتے ہی نہیں“
وہ ہولے سے مسکرا دیں۔

”اب بتا دیجیے، کیوں ناراض رہتے ہیں وہ“
”وہ ڈاکٹر، پچھلے پانچ چھ ماہ سے ہم جب بھی۔ وہ جب بھی۔۔۔“ وہ جھینپ کے رک گئیں
”جی، جب بھی۔ کہیے؟“
ہم نے انہیں بات مکمل کرنے کا حوصلہ دیا

” جی، پچھلے کچھ عرصے سے ہم جب بھی ہم بستری کرتے ہیں، ان کو محسوس ہوتا ہے کہ ان کے عضو پہ تھوڑا سا خون لگ گیا ہے۔ میرے جسم پہ بھی کچھ خون کے دھبے ہوتے ہیں، ساتھ میں درد بھی بہت ہے۔ میں بہت پریشان ہوں ڈاکٹر“

Read more

سن یاس میں خون: خطرے کی گھنٹی!

پچھلے برس کووڈ کے آغاز کے دن تھے جب ہمیں ایک پرانی شناسا کا پیغام ملا، "سنو، ایک مشورہ کرنا ہے” "بصد شوق” ہمارا جواب! "تم تو جانتی ہی ہو کہ ہم پچاس سے اوپر کے ہو چکے ہیں۔ سن یاس شروع ہوئے کم وبیش تین برس ہو چلے، آخری دفعہ ماہواری بھی تین برس پہلے ہی آئی تھی۔ اب تک چین سے زندگی بسر ہو رہی تھی۔ لیکن ابھی پچھلے ماہ سے ہمیں دوبارہ سے خون آنا شروع ہو

Read more

آبروریزی: تقسیم کے فسادات میں فحاشی کی تلاش

نیلم احمد بشیر کے قلم کی کاٹ سہنا اہل درد کے لئے قطعی آسان نہیں! ” اس نے تو کبھی سلطانہ کے چہرے کو بھی نظر بھر کے غور سے اچھی طرح مکمل طور پر دیکھا نہیں تھا۔ کہاں یہ کہ وہ اس کے سامنے مکمل طور پر بے لباس پڑی تھی۔ متوحش آنکھوں والی خوف سے لرزتی ہوئی منہ سے عجیب سی خرخر کی سی آوازیں نکالتی یہ غیر انسانی دکھتی مخلوق کیا وہی تھی؟ خون آلود ٹوٹے ہوئے

Read more

مردانہ ذہن میں ڈیٹا ڈیلیٹ کرنے کا بٹن کہاں ہے؟

"رحم میں بچہ دیکھنے کے لئے الٹراساؤنڈ مشین کے دو حصے اہم ہیں، سکرین جس پہ بچے کا عکس نظر آئے گا اور پروب جو خاتون کے پیٹ پہ رکھا جائے گا۔آپ کی آنکھیں سکرین کی طرف ہونی چاہییں اور یہ پروب ( probe) مریض کے پیٹ پہ” ہم اپنی جونئیر ڈاکٹر کو حاملہ عورت کا الٹراساؤنڈ کرانا سکھا رہے تھے۔ “یہ گول سی نظر آنے والی چیز بچے کا سر ہے، یہ پسلیاں نظر آ رہی ہیں اور یہ

Read more

ماہواری کی ناہمواری: تالا کنڈا سب ٹھیک ہے!

نہ آئے تو شناخت مبہم، آ جائے تو شرمندگی! وقت سے پہلے آئے تو عذاب، رخصت جلد ہو جائے تو زندگی ویران! وقفہ کم ہو جائے تو خون کی کمی، دورانیہ طویل ہو جائے تو نقاہت! درد کے ساتھ آئے تو زندگی تعطل کا شکار، بے قاعدہ ہو جائے تو بانجھ پن! وہ گھبرائی ہوئی خاتون ایک پندرہ سولہ برس کی بچی کے ساتھ ہمارے کمرے میں داخل ہوئی تھیں۔ کرسی پہ دھم سے بیٹھتے ہوئے بولیں، “ڈاکٹر صاحب، میں

Read more

کووڈ 19 میں حمل کی پیچیدگیاں اور سری لنکن سفیر

ماضی میں ایک زمانہ ایسا آیا تھا جب لالی ووڈ سینما کی فلموں کی عکس بندی شمالی علاقوں کی بجائے غیرملکی مقامات پہ ہونے لگی۔ ہمارے میڈیکل کالج کے دنوں میں کچھ اس طرح کے نام سننے کو ملتے، ہانگ کانگ کے شعلے، بنکاک کی بجلیاں ، مس کولمبو۔ کڑھتے ہوئے دل مسوس کے رہ جاتے کہ ہمارے تخلیقی جوہر کو نہ جانے کس کی نظر لگی کہ ماضی میں سنائی دینے والے سب نغمیت سے بھرپور دلفریب نام وقت

Read more

طاہر بنوں کہ ہاشم؟   

کل چھٹی کا دن تھا! گھنٹی بجی، دیکھا دروازے پہ ایک دوست کھڑی تھیں، ہانپتی کانپتی اندر داخل ہوئیں۔ سانس بحال ہوا تو کچھ پراسرار سے لہجے میں پوچھنے لگیں، “سنو، تمہارے ہسپتال میں پلاسٹک سرجری کا شعبہ ہے نا؟” “جی، کیوں پوچھ رہی ہیں؟” “کیا وہاں’ وہ’ والا آپریشن ہوتا ہے؟” ان کی آواز دھیمی سے دھیمی ہوتی چلی گئی “ یہ ‘وہ والا’ کونسا آپریشن ہے؟” ہم نے تعجب سے پوچھا، “ارے سمجھا کرو نا” وہ ماتھے پہ

Read more

گائنا کالوجسٹ اپنی مریضہ کی ماں بھی تو ہوتی ہے

خون سے لت پت چہرہ، سوجی ہوئی ناک، کرب میں ڈوبی ہوئی آواز! کیا یہ وہی لڑکی تھی جو صرف ایک گھنٹہ پہلے ہمارے کلینک میں ہمارے سامنے بطن میں پلتے بچے کی فکر لیے بیٹھی تھی! تین برس کے علاج کے بعد ٹھہرنے والا پہلا حمل، ساتواں مہینہ، نقاہت، ہائی بلڈپریشر، پردیس، اور بے بسی! کچھ ہی دیر بعد دکھ اور درد سے بھری کچھ تصویریں ہماری اسسٹنٹ کے فون پہ ہمیں پکار رہی تھیں! غصے، رنج اور بے

Read more

ماؤ، بہنو، بیٹیو، اپنے آپ سے محبت کیجیے!

عائشہ تمہاری موہنی سی صورت دل میں کھب سی گئی ہے۔ میٹھی آواز، تیزی سے پلکیں جھپکاتی، آنسو چھپانے کی کوشش، باپ کو دلاسا دیتی، تقدیر سے گلہ کرتی، دوستوں اور والدین کی محبت پہ ناز کرتی، اپنی ادھوری یک طرفہ محبت کا فسانہ سناتی، اللہ سے مل کر سوال پوچھنے کا عندیہ دیتی، ندی میں کودنے سے چند لمحے پہلے کی عائشہ! وڈیو ہے یا پدرسری نظام کے منہ پہ ایک زور دار طمانچہ اور ایک ایسا آئینہ جو

Read more

برسات کی وہ رات!

کیا کبھی آپ نے بہت سی بدروحوں کو مل کے چیختے سنا ہے؟ یا پھر ٹھہر ٹھہر کے بین کرتی آوازوں کا شور جو ریڑھ کی ہڈی میں خوف کی سرد لہر دوڑاتے ہوئے آپ کو اپنی جگہ پہ ساکت کردے۔ بالکل بچپن کے اس کھیل کی طرح جس میں ایک بچے کو اشارے سے ساکت کر دیا جاتا تھا۔ اب بھلے کچھ بھی ہو، جسم جس بھی پوزیشن میں ہو، اردگرد کچھ بھی ہو رہا ہو، ساکت بچے کو

Read more

ہمیں یقین ہے کہ آپ فیمینسٹ ہیں!

فیمینزم سے جڑے طعن و تشنیع کے تمغے وصول کر کے بڑی بٹیا سے دل کا حال بیان کیا تو وہ جان عزیز قہقہہ لگا کر کہنے لگیں، "سارے جہاں کا درد جگر میں سمیٹنے والی میری ماں، آپ فیمینسٹ نہیں ہیں” "کیا….. کیا … کیا کہہ رہی ہو؟ کیوں میری کمائی ڈبو رہی ہو؟” (للہ فارن فنڈنگ نہ سمجھ لیجیے گا ) وہ مزید ہنسی، ” اماں، آپ ایک محلوں میں رہنے والی خاتون اور ایک جھونپڑی کی مکین

Read more

نہیں، نہیں، مجھے فیمینسٹ نہ کہیے!

ٹی وی سکرین پہ ایک خود مختار اور با اعتماد عورت کے منہ سے یہ دفاعی الفاظ سن کے ایسا محسوس ہوا کہ ان کا مفہوم کچھ یوں ہو، نہیں، نہیں، مجھے دیوانہ مت کہیے، نہیں، نہیں، مجھے نام و نمود کی کوشش میں نعرے باز عورت مت سمجھیے۔ مجھے ڈیڑھ اینٹ کی مسجد بناتی، فہم و شعور سے عاری ایک کردار مت سمجھیے۔ مجھے پتی ورتا عورتوں کو اکسانے والی باغی عورت مت سمجھیے۔ مجھے مردوں سے نفرت کرتی

Read more

سیاہ فام عورتوں کے جسم اور سفید فام ڈاکٹر کی مرضی

عورت مارچ کو مغربی ایجنڈا، پروپیگنڈہ، جسم فروشی کے کاروبار، فحاشی اور عریانی سے جوڑنے والوں کو ہم ایک کہانی سنانا چاہتے ہیں۔ ان عورتوں کی کہانی جو مغرب کی باسی تھیں اور انہوں نے اس نعرے کو اسی طرح سمجھا، جیسے سمجھنے کا حق ہے! ” یہ چوڑے منہ والا گرین آرمیٹیج ہے، یہ دانتوں والا ایلیسسز ہے، یہ نازک چیزیں کو پکڑنے کے لئے بیپکاک ہے، یہ ڈوئنز اور یہ سمز " ہم میڈیکل کے طلبا و طالبات

Read more

وہ پانچ نکات جو پدرسری نظام سمجھ نہیں پاتا

پدرسری نظام کی کرامات کا نظارo ہم نے اوائل عمری ہی میں کر لیا۔ نہ صرف ہم نے بلکہ ہمارے ابا نے بھی، جنہوں نے ناصرف پدرسری نظام کی سفاکی کو پہچانا بلکہ اپنی اولاد کی نبض پہ بھی ہاتھ رکھتے ہوئے ہوا کا رخ بھی بھانپ لیا! آج جی چاہتا ہے کہ لکھ ڈالوں کیسے ہمارے ابا نے اپنی بیٹی کی باغی طبعیت کی تشخیص کرتے ہوئے پدرسری نظام کا ساتھ دینے کی بجائے نظام میں ہی دراڑ ڈال

Read more

ایک عورت جسے پیدا ہونے سے آٹھ برس پہلے ونی کیا گیا

میرا جسم تب بیچ دیا گیا جب میں عالم ارواح کی مکین تھی اور جسم ہونے اور نہ ہونے کے بیچ معلق تھا! میرے اس جسم کی خرید وفروخت جو موجود ہی نہیں تھا، کا ذمہ دار وہ شخص تھا جو دنیا میں میرا ہونے والا باپ تھا۔ اسے اپنے مادہ تولید اور اپنے قبضے میں موجود بیوی نامی غلام عورت کے رحم پہ اس قدر اعتماد تھا کہ اس نے اس سودے کی حامی بھر لی جس کا انتظار

Read more

ہم سب عورتوں کی مرضی!

اگر کوئی ہم سے پوچھے کہ بارہ مہینوں میں کونسا مہینہ من بھاتا ہے ہم جھٹ سے کہیں گے تیسرا! اگلا سوال یہ ہو سکتا ہے کہ کیوں تو سنیے جناب، ہر برس تیسرے مہینے کی آمد ہی سے ہمارے دل کی کلی کھل جاتی ہے۔ ہم جھوم جھوم جاتے ہیں کہ فضا میں ایک ایسے لفظ کی تکرار ہے جو ہر عورت کے دل سے اٹھنے والی آواز ہوتی تو ہے، لیکن زبان پہ لانے کی اجازت نہیں ہوتی۔

Read more

ویڈیو کالم: میرا جسم میری مرضی فحش نعرہ نہیں، انسان ہونے کا اعلان ہے

“میرا جسم میری مرضی، نہایت بیہودہ اور واہیات نعرہ ہے، اس کے الفاظ فحش ہیں، آپ اس کی حمایت کیوں کر رہی ہیں؟”

یہ ہے وہ پیغام جو ہمیں دنیا کے ہر کونے سے موصول ہو رہا ہے۔ دوست احباب، خاندان، ہم جماعت، قارئین، ہم سے پوچھتے ہیں کہ اب تک تو ہم اچھے بھلے ایک “اچھی” عورت کی طرح جیے جا رہے تھے۔ پھر یہ کایا کلپ، آخر کیوں؟

Read more

زچہ کی طبیعت کیوں خراب ہے؟

لیجیے جناب زچگی ہو چکی اور زچہ وبچہ خیریت سے گھر پہنچ چکے۔ اب ماحول کچھ یوں ہے کہ شادیانے بج رہے ہیں، مٹھائیاں بٹ رہی ہیں، دوست احباب سے مبارکبادیاں وصول کی جا رہی ہیں اور ننھیال ددھیال میں نام رکھنے کی رسہ کشی جاری ہے۔ ابا حضور کے مقام پہ فائز ہونے والے صاحب خواہ مخواہ مونچھوں پہ تاؤ دیتے چلے جا رہے ہیں لیکن کیا کسی نے زچہ کی خبر لینے کی کوشش کی جو سر لپیٹے

Read more

راج بی بی کی کہانی

میں آٹھ جوان بچوں کی ماں ہوں! ایک ستاون سالہ ادھیڑ عمر عورت! دل چاہتا ہے کہ آنکھ بند ہونے سے پہلے وہ سب کہہ دوں جو حسرت ہی رہی کہ کوئی سن لے اور سمجھ بھی لے! پھر سوچتی ہوں کہ نہ جانے میری آواز آپ تک پہنچ بھی پائے گی کہ نہیں؟ اگر پہنچ بھی گئی تو معلوم نہیں اس وقت تک میں زندہ بھی ہوں گی کہ نہیں؟ میرا دشمن کوئی اور نہیں، میرا اپنا شوہر میرے

Read more

ویڈیو کالم: تپتے توے پہ پھدکتا مینڈک!

 طاقت اور اختیار کا کھیل، گیس لائٹنگ! جس میں ایک فریق دوسرے فریق کا نفسیاتی اور جذباتی استحصال کرتے ہوئے اس کی ذات کے یقین، اعتماد، نظریات اور خواہشات پہ متواتر تنقید کرتے ہوئے اس قدر شکوک وشبہات پیدا کر دیتا ہے کہ شکار کا اپنی ذات ہی سے یقین اٹھ جاتا ہے۔ اعتماد کرچی کرچی ہو جاتا ہے، نظریات متزلزل ہو جاتے ہیں اور وہ گیس لائٹر کی پیدا کردہ اس سوچ پہ ایمان لے آتا ہے کہ نقص کا منبع اسی کی ذات ہے۔ گیس لائٹنگ کا دائرہ عمل محض عورت اور مرد کے تعلقات تک محدود نہیں۔ بے پناہ طاقت اور اختیار کی چاہ، فتح کرنے کی خواہش اور دوسروں کو اپنا مطیع بنانے کا چاؤ معاشرے کے مختلف طبقات، افراد اور تعلقات میں دیکھا جا سکتا ہے۔

Read more

زچگی کی پیچیدگیاں اور عورت کی زندگی

"کیا ماں بننا ہر عورت کے لئے اتنا ہی عذاب ناک ہوا کرتا ہے؟” اس کی آنکھوں سے آنسوؤں کی لڑی رخساروں کو بھگوتے ہوئے نیچے کو پھسل رہی تھی، "میری زچگی گھر میں لیڈی ہیلتھ وزیٹر کی مدد سے ہوئی۔ اس وقت اس نے کچھ نہیں بتایا۔ کچھ دنوں بعد مجھے محسوس ہوا کہ میرا اپنے جسم پہ اختیار ختم ہو چکا ہے۔ موقع محل کی نزاکت کا خیال رکھے بنا ریح خارج ہو جاتی اور اس سے بھی

Read more

تشریف لاتی ہیں مردوں کی دشمن

” سنبھل کے بیٹھیے، آ رہی ہیں مردوں کی دشمن” ” انہوں نے عورت کی بے مہار آزادی کا جھنڈا اٹھا رکھا ہے” ” دیکھتے ہی ڈر لگتا ہے کہ جانے کیا کہہ دیں۔ تحریری کلاس لینے میں تو بہت ماہر ہیں” ” سادہ لوح عورتوں کو پٹیاں پڑھا کے خراب کر رہی ہیں " ” اپنی بیویوں کو ان سے دور ہی رکھو، عورت کا مقام وہی ہے جو مرد یا معاشرہ متعین کرتا ہے” “مرد کی بہت بڑی

Read more

کھلونے، کتابیں اور گزرے ہوئے خواب

ہمیں ایک دھمکی آمیز پیغام وصول ہوا ہے اور مشکل یہ ہے کہ سر تسلیم خم کیے بنا چارہ بھی نہیں! نئے برس کا آغاز ہو چکا ہے۔ یہی وہ وقت ہوتا ہے جب دور دیس میں رہنے والے ان زمینوں کو لوٹتے ہیں جہاں سے برسوں پہلے وہ نئی منزلوں کی طرف اڑان بھر کے اجنبی سرزمینوں میں اپنا گھر بنا لیتے ہیں۔ ” میں سالانہ چھٹیاں منانے آنا چاہتی ہوں لیکن صرف اس صورت میں جب آپ گھر

Read more

پاسٹرناک اور اولگا: انقلاب، جنگ اور آمریت کے رنگوں سے سجی محبت!

"وہ بادلوں کا مکین ہے، اسے وہیں رہنے دو” ساٹالن جیسے ڈکٹیٹر کے منہ سے یہ الفاظ ایک ایسے شخص کے لئے نکلے جسے 1958 میں لٹریچر میں ملنے والا نوبل انعام وصول کرنے کی اجازت بھی نہ مل سکی۔ بیسیوں صدی کا وہ سحر انگیز ادیب اور شاعر جس کی زندگی درد، جنون، عشق، ہمدردی اور جذبے کے رنگوں سے لکھی گئی تھی۔ سٹالن جیسا ڈکٹیٹر بھی بورس پاسٹرناک کی شاعری کی سحر انگیزی سے نہ بچ سکا اور

Read more

بائیس برس بعد جنت سے ابا کا پہلا خط

ایک خط آیا ہے ہمارے نام! بے پناہ محبت سے گندھی ہوئی سطریں کسی مضراب کی طرح روح کی تاروں کو ایسے چھیڑتی ہیں کہ آنکھ کے ساکت پانیوں میں طغیانی آ جاتی ہے اور وہ بے شمار بھولی بسری یادیں ملتجی نظروں سے ہمیں یوں دیکھتی ہیں گویا اس قفس سے رہائی چاہتی ہوں۔ جان پدر! بہت ہفتوں سے دل چاہ رہا تھا کہ تمہیں خط لکھوں بالکل ویسے ہی جیسے کبھی تمہاری طالب علمی کے زمانے میں ہفتہ

Read more

مردوں کے لئے مانع حمل طریقے اور مردانہ کمزوری 

کیا کہیے کہ ہمیں اکثر اپنے قارئین کی ذہانت و فطانت دنگ کرتی ہے جو بھانپ لیتے ہیں کہ موضوع پہ بات کرتے ہوئے کہاں ہم دانستہ پہلو تہی کر گئے اور کہاں نادانستگی میں چوک ہو گئی۔ مانع حمل کی گفتگو میں خواتین کے زیر استعمال طریقے تو زیر بحث آئے لیکن مرد حضرات کی کہانی ہم نے اس لئے نہ چھیڑی کہ انہی سے تو شکوہ ہے کہ خاندانی منصوبہ بندی سے بیر رکھ چھوڑا ہے۔ ایسے میں

Read more

ہماری اماں نے مانع حمل طریقے کیوں اختیار نہیں کئے؟

ہمارے منہ پھٹ ہونے میں کبھی کسی کو کوئی شک نہیں رہا۔ بقول کچھ درون خانہ راز داروں کے، زبان وقت پیدائش ہی کچھ طویل دکھتی تھی۔ اماں اکثر ذکر کرتیں کہ پالنے میں ہی اس قدر باتیں اور اتنا صاف لہجہ کہ لوگ قیاس کرتے کہ شاید بچی کی عمر تو زیادہ ہے لیکن بونی ہونے کی وجہ سے قامت مختصر ہے۔ آپا بھی کچھ ایسی ہی کتھا سناتیں کہ وہ اکثر ہمیں گود میں لٹا کر بہلانے کو

Read more

اسقاط حمل میں عورت پر کیا گزرتی ہے؟

حمل اور اسقاط! ہمارے لئے یہ الفاظ انتہائی کرب آمیز، بوسیدہ اور کریہہ ہیں جن کے عقب سے موت دانت نکوسے ہنستی اور قہقہے لگاتی ہے، اکیسویں صدی کی عورت کی بے چارگی پر جس کے لئے کچھ نہیں بدلا،حتیٰ کہ موت بھی! کیسے لکھیں ان نیم مردہ عورتوں کا احوال جو اسقاطِ حمل کی پیچیدگیوں کا شکار ہو کے ہسپتال پہنچتیں… ٹوٹے پھوٹے سٹریچر پہ میلی چادر کے نیچے لاغر جسم، موت کی زردی اوڑھے چہرہ، برفیلی پتلیاں، دم

Read more

نابالغ لڑکی، اندور کی شاہ بانو اور کراچی کے مفتی طارق مسعود

ڈاکٹر اظہراور ڈاکٹر علیزہ کی بے وقت موت دکھ میں تو مبتلا کرتی ہے لیکن بہت سے سوالوں کو بھی جنم دیتی ہے۔ ان سوالات کا منبع وہ گھڑی ہوئی کہانیاں ہیں جو کوچہ وبازار میں ناچ رہی ہیں۔ ایک کہانی کا سرا باپ کی دوسری شادی کی خواہش اور بیٹی کی مزاحمت سے جڑتا ہے۔ ہمیں نہیں معلوم کہ سچ کیا ہے لیکن ہم نے ایسے بہت سے ادھیڑ عمر مرد دیکھ رکھے ہیں جو یہ آرزو حرز جاں

Read more

میڈم، عزت نفس کے معنی جانتی ہیں آپ؟

“آپ کب سے ہمارے پاس کام کر رہی ہیں؟” “جی بارہ برس” “آپ تو غیر ملکی ہیں تو کیا آپ نے ہماری زبان سیکھنے کے لئے کوئی کورسسز لیے؟” “جی نہیں” “پھر آپ کام کیسے کرتی ہیں؟” “وہ جی ادھر ادھر سے سن کے کچھ سیکھ لیا تو کام چل جاتا ہے” “اچھا ذرا کچھ بول کے دکھائیے ….” “کیا؟” “اپنا تعارف ہی کروا دیں” “انا دکتورہ طاہرہ، انا شغل مستشفی وزارہ” “ہاہاہا انہیں دیکھیے، گرامر تک تو آتی نہیں

Read more

مردانہ آگ کے دریا پر چھٹکی خاتون جینیئس کی چاندنی

23  “آخر کیسے ہو سکتا ہے یہ؟ میں نہیں مان سکتا! یہ زیادتی ہے مصنف کی، یکطرفہ گمان!” “لیکن چاچا، کیا خبر ایسا ہوا ہی ہو؟” “ہر گز نہیں! جس پائے کی وہ خاتون تھیں، ایسے عامیانہ پن سے وہ اپنی پسندیدگی کا اظہارنہیں کرسکتیں تھیں” “لیکن چاچا، دل پہ تو زور نہیں چلتا نا” “نہیں بیٹا، اتنی بڑی شخصیت کا دل اتنا اتاؤلا نہیں ہوا کرتا۔ اور اگر دل نے چاہا بھی تو وہ اٹھارہویں صدی کی کوئی خاتون

Read more

فحش نگار منٹو کی برسی

کہتے ہیں وہ فحش نگار تھا! بات کچھ سمجھ میں آتی نہیں! کیا جو اس نے لکھا وہ ہوا نہیں؟ یا جو کچھ ہوا وہ لکھا نہیں؟ کیوں تھا آخر وہ ایسا؟ ایک معما، اپنے محبت کرنے والوں کے لئے بھی، اور نفرت کرنے والوں کے لئے بھی! کہتے ہیں، کثرت شراب نوشی نے اس کا جگر چھید ڈالا! کیا محض شراب وجہ بنی یا ارد گرد پھیلا وہ ننگا سچ جسے بھلانے کے لئے وہ نشے کا سہارا لیتا

Read more

اماں کا زیور والا ڈبہ

اماں کی قبر کی مٹی ابھی گیلی تھی، لیکن پردیس رہنے والوں کو تو واپس جانا تھا! اماں نامی داستان کا آخری باب ختم ہو چکا تھا اور پیچھے رہ جانے والوں کو زندگی کی گاڑی پھر سے دھکیلنا شروع کرنی تھی! ہم بجھے ہوئے دل سے سامان سمیٹ رہے تھے جب ہماری چھوٹی بھاوج کمرے میں داخل ہوئیں۔ کچھ دیر کے لئے یونہی کھڑی رہیں اور پھر اپنی بند مٹھی ہماری طرف بڑھاتے ہوئے کھول دی، “آپی یہ… یہ”

Read more

شب زفاف یا موت کا دروازہ!

پاکستان کے ایک بڑے ہسپتال میں ہم کام کر رہے تھے۔ رات ڈھل رہی تھی، سپیدہ سحر ابھی نمودار نہیں ہوا تھا کہ ڈیوٹی ڈاکٹر کی گھبرائی ہوئی آواز میں کال آئی، ” ڈاکٹر فورا آئیے، مریض بہت سیریس ہے، بہت خون بہہ چکا ہے " "مسئلہ کیا ہے؟ " ” نئی نویلی دلہن ہے، رات میں ہی شادی ہوئی ہے۔ اندام نہانی ( vagina) سے بہت تیزی سے خون بہہ رہا ہے. شاید اندر زخم بہت بڑا ہے "

Read more

ہزارہ: نام میں موت رکھی ہے!

” کیا حیدر؟” "نہیں ہاشم” "جی نہیں! حیدر زیادہ اچھا ہے” "پر میرے دل کو ہاشم بھاتا ہے” مسئلہ بہت گھمبیر تھا! نام دو تھے اور اور بچہ ایک! یہ ان دنوں کی بات ہے جب ہمارے گھر کے آنگن میں دو صاحبزادیوں کے بعد پھر سے قلقاریاں گونجنے والی تھیں اور شنید تھی کہ بہنوں کا بھائی تشریف لانے کو پر تول رہا ہے۔ گھر میں نام چننے کے مراحل میں گرماگرم بحث چھڑ چکی تھی جس کی ایک

Read more

دو انگلیاں کہوں یا دو آنکھیں؟

لاہور کورٹ میں دو انگلی معائنے کا ذکر ہوا اور ہر طرف چرچا بھی خوب تھا تو سوچا کہ کیوں نہ لکھ ہی دیا جائے کہ اصل میں ہے کیا یہ مشہور زمانہ یا دوسرے الفاظ میں بدنام زمانہ دو انگلیوں سے کیا جانے والا معائنہ!

وہ زمانے لد گئے جب بچوں کو یہ بتایا جاتا تھا کہ رات کو گھر میں پریاں اتری تھیں اور ایک ننھا مہمان چھوڑ گئیں۔ یا پھر ایک پرندہ اپنی چونچ میں چھوٹا بے بی تحفے کے طور پہ لایا۔ نئے ہزاریے کے بچے ان کہانیوں کے بعد پوچھا کرتے ہیں کہ آپ کا مطلب ہے ہمارے خاندان میں کوئی بھی نارمل انداز سے پیٹ میں نو ماہ گزار کے سیدھے راستے سے پیدا نہیں ہوا؟

مرد اور عورت کی جسمانی ہیئت میں فرق محض اتنا ہے کہ دونوں کے تولیدی اعضاء ان کی کارکردگی کے لحاظ سے مختلف بنائے گئے ہیں۔

Read more

ریپ اور قصہ ٹو فنگر ٹیسٹ کا

پنجاب حکومت کے محکمہ صحت سے راہ ورسم بہت پرانی ہے اور محبت یا عداوت کا یہ تعلق کم و بیش اٹھارہ برس تک قائم رہا۔ اس طویل رفاقت کا اختتام کچھ اس طرح سے ہوا کہ ان کی سردمہری میں تو تبدیلی آنے کے کوئی آثار نہیں نظر آتے تھے مگر ہمارا صبر جواب دیے جاتا تھا۔ اس رفاقت میں جگہ جگہ کی خاک پھانکنا پڑی، کبھی حاکم وقت کا حکم اور کبھی اپنی مجبوری۔ لیکن ایک بات تو

Read more

لیکوریا کوئی بیماری نہیں!

ٹوکن نمبر تین کا نشان روشن ہوتے ہی وہ دونوں ہمارے کمرے میں داخل ہوئیں۔ ادھیڑ عمر خاتون کے ہمراہ دبلی پتلی بچی، چودہ پندرہ برس کا سن، سہما ہوا چہرہ اور اڑی اڑی رنگت!
بچی بہت گھبرائی ہوئی نظر آتی تھی سو اسے اپنے سامنے والی کرسی پہ بٹھا کے ہم نے بہت پیار سے پوچھا،
” بیٹا بتائیے کیا تکلیف ہے؟“

اس نے جواب دینے کی بجائے گڑبڑا کے ماں کی طرف ملتجیانہ نظر سے دیکھا، سو جواب ماں کی طرف سے آیا،
” ڈاکٹر صاحب، اس کی کمر میں بہت درد رہتا ہے، بھوک نہیں لگتی، معمولی کام سے تھکاوٹ ہو جاتی ہے۔ وہ ساتھ میں۔ وہ اصل میں لیکوریا بھی بہت ہے، تو لیکوریا کے لئے آپ کے پاس لائی ہوں“

”اف یہ منحوس لفظ۔ لیکوریا۔“

Read more

پرسنل باؤنڈری کے بارے میں کچھ خیالات

"اماں، یہ میری پرسنل باؤنڈری ہے، پلیز اس میں دخل اندازی مت کیجیے” حیدر میاں سے گرماگرم بحث میں الجھنے کے دوران جونہی یہ الفاظ سنے، ہم نہ صرف اپنی جگہ سے اچھلے بلکہ چودہ طبق بھی روشن ہو گئے۔ "کیا مطلب؟ میں ماں ہوں تمہاری” ہم نے ہکلاتے ہوئے کہا، "بے شک! اور میں بحثیت ماں آپ سے بہت محبت کرتا ہوں اور آپ کی رائے کا احترام بھی! مجھے علم ہے کہ آپ بھی مجھ سے بہت محبت

Read more

تم ہزارہ لوگ ایک ہی دفعہ کیوں نہیں مر جاتے؟

پھر وہی خبر، چند لاشیں، گریہ زاری، نوحہ، برفباری اور انصاف کے منتظر لواحقین! سب کچھ پھر وہی! کتنے دھماکے؟ کتنی دفعہ؟ کتنے لاشے؟ کتنے چھلنی جسم؟ کتنی نفرتیں؟ کتنی جنت کی کمائی؟ جنت کا بھاؤ تاؤ بے شمار جسموں میں سیسے کے مول؟ کوئٹہ، ہزارے اور نسل کشی۔ دیکھو، تم لوگ تاریخ تو پڑھتے ہی ہو گے!،معلوم ہے نا یہودیوں کی نسل کشی کیسے ہوئی؟ ارے نادانو، مت سمجھو کہ وہ زمانہ اور تھا۔ مرنے اور مارنے کے لئے

Read more

مفتی صدر الدین آزردہ سے مفتی طارق مسعود تک

اردو کی دنیا میں اقبال تو بس ایک ہی گزرا ہے۔ جو بات ہمارے دل میں ہوتی ہے، یہ ظالم ہم سے بہت پہلے کہہ گیا اور کس رسان سے کذب و ریا کے لبادے چاک کر گیا۔ فرمایا؛ فقیہ شہر کی تحقیر کیا مجال مری مگر یہ بات کہ میں ڈھونڈتا ہوں دل کی کشاد اقبال کے بعد ایک صدی گزر گئی۔ ہم آج بھی سوچتے ہیں کہ کچھ دل کی کشاد کا پہلو نکلے، کہیں سے اس کرن

Read more

ایک طویل برس کی آخری شام

دو ہزار بیس کا آخری سورج ڈھل رہا ہے۔ شام کا ملگجا اندھیرا، درختوں کے لمبے ہوتے سائے، پرندوں کی نیچی اڑان، کچھ کہتا ہوا سناٹا، تھمی ہوئی ہوا، تھکی تھکی لہریں، خاموش سمندر! پچھلے برس کی آخری شام کسے معلوم تھا کہ ہماری زندگیوں میں کیا طوفان آنے کو پر تول رہا ہے؟ ہم دو ہزار انیس کو جس اطمینان اور خوشی سے الوداع کہہ رہے ہیں وہ سب کچھ ہی دن میں ہم سے چھننے والا ہے؟ کون

Read more

تمہارے خط میں نیا اک سلام کس کا تھا؟

نہ جانے کس نے کہا تھا مگر کیا خوب کہا تھا ” تمہاری آزادی کی حد وہاں تک ہے جہاں سے میری ناک شروع ہوتی ہے "۔ بخدا ہمیں یہ بھی علم نہیں کہ ان دانشور کی ناک فطری حدود اربعہ رکھتی تھی یا پناکو کارٹون کی طرح کسی اور جہان کی خبر لاتی تھی۔ جوں جوں عمر ڈھل رہی ہے اس قول کی سچائی پہ مزید سر دھننے کو جی چاہتا ہے۔ استاد ذوق کی خواہش کہ اب تو

Read more

بے نظیر بھٹو: "ہماری بیٹی کی ہم جماعت اور دوست…”

دبی دبی آہ اور کرب میں ڈوبے الفاظ!  ہمارے گھر میں یہ جملہ بہت بولا گیا اور سنا گیا۔ کہنے والے یا اخبار پڑھ رہے ہوتے یا ٹی وی دیکھ رہے ہوتے، آنکھ میں نمی ہوتی، لہجے میں اضطراب اور درد۔ یہ اس سے میرا پہلا تعارف تھا جو قلبی تعلق میں بدل گیا کہ وہ ہم سے بچھڑ جانے والی بڑی بہن کی زندگی کے کچھ ادوار میں اپنا مقام رکھتی تھی۔ دبلی پتلی، شہد رنگ چہرہ، طویل قامت،

Read more

تم، تم اور تم۔۔۔ کی چھتری سے بچنے کے 18 اصول

گیس لائٹنگ پہ بات ہوئی تو بہت سے متجسس قارئین نے سوال کیا کہ آخر اس کا حل کیا ہے؟ لوگ گیس لائٹر کے ساتھ برسوں کیسے بتا دیتے ہیں؟ کیا گیس لائٹر جانتا ہے کہ وہ کیا کر رہا ہے؟ گیس لائٹنگ سے کیسے بچا جا سکتا ہے؟ صاحب آپ سب کی رائے کو مقدم جانتے ہوئے بہت کچھ کھنگالا اور آپ کے سوالوں کے جواب ڈھونڈنے کی کوشش میں ہم کہاں تک کامیاب ہوئے، اس کا فیصلہ آپ

Read more

چاند پہ چہل قدمی کون کر رہا ہے؟

وہ ایسے چلتا جیسے چاند پہ چل رہا ہو، ایک قدم آگے، دو قدم پیچھے۔۔۔ پھونک پھونک کے رکھے قدم، کشش ثقل سے آزاد ایک مخصوص جنبش! کون کر سکتا تھا بھلا ایسا، بریک ڈانس کے شہنشاہ مائیکل جیکسن کے سوا! حیدر میاں ڈانس سیکھنے کے شوقین اور وہ بھی بریک ڈانس! کل ان کو اپنی مشق کرتا دیکھ کے ہمیں نہ صرف مائیکل جیکسن یاد آئے بلکہ ان کا مشہور زمانہ ڈانس مون واک یا چاند پہ چہل قدمی

Read more

ٹھنڈی عورت اور نس نس میں کھولتا آتش فشاں

گزشتہ کالم میں ہم بات کر رہے تھے گیس لائٹنگ پہ جو اختیار اور طاقت کے کھیل کا ایک اہم ہتھیار ہے۔ فلم گیس لائٹ میں ہیروئن انگرڈ برگمین اور شوہر کے درمیان ایک اور مکالمہ دیکھیے جس میں ہیروئن پہ اپنا اختیار قائم رکھنے کے لئے بے بنیاد الزامات پہ شرم دلا کے اسے احساس جرم میں مبتلا کیا جا رہا ہے۔ "تم یقیناً مایوس ہوئی ہوں گی جب تم اس شخص سے بات نہیں کر سکیں” "کون؟” "وہی،

Read more

تپتے توے پہ پھدکتا مینڈک!

ہماری بیٹی اور بیٹا خلاف معمول باورچی خانے میں تھے۔ "اماں! اماں، کچن میں آئیے، چولہے میں گیس رک رک کے آ رہی ہے اور لائٹر بھی کام نہیں کر رہا” "اف، انہیں آج کیا چولہا چوکی کا شوق لاحق ہوا؟” ہم زیر لب بڑبڑاتے ہوئے کچن میں پہنچے۔ کچھ جدید زمانے کی غذا تیار کرنے کے اجزا چاروں طرف پھیلے ہوئے تھے اور چولہا تھا کہ جل کے نہیں دے رہا تھا۔ "گیس اور لائٹر ! دونوں میں ہی

Read more

دس دسمبر 1948ء: جب انسانوں نے اپنے حقوق کا اعلان کیا

"یہ زندگی خواہ فاقوں سے لبریز ہے….. مگر آزاد ہے…..اپنے آقا خود آپ ہو….اگر اپنا سر بھی کاٹنا چاہو تو کوئی روکنے والا نہیں…..میں اب یہاں لیٹا آسمان کی طرف دیکھ رہا ہوں…. ستارے میری طرف دیکھ دیکھ کر آنکھیں جھپک رہے ہیں…. معلوم ہوتا ہے وہ مجھ سے کہہ رہے ہیں، کچھ فکر نہ کرو، جاؤ دنیا کی سیاحت کرو مگر دیکھو کسی کی غلامی قبول نہ کرنا…..دل کس قدر مسرور ہے” ( گورکی- مترجم منٹو) دس دسمبر کو

Read more

اردو سماج اور ادب میں عورت کا کردار!

روز ازل سے انسانی معاشرے کا تانا بانا جن بنیادوں پہ بنا گیا ان میں طبقات، زبانوں اور پیشہ ورانہ شناخت کے علاوہ جسمانی ساخت کی تقسیم بھی شامل تھی جسم کی خصوصیات پر کی گئی تقسیم، انسانی جسمانی ساخت (اناٹومی) کی بنیاد پہ کی گئی تقسیم۔ یہ تقسیم ارتقائے حیات کے اس مرحلے پر ناگزیر تھی۔ ارتقا کی منزلوں میں جب انسان نے سوچنے سمجھنے کی صلاحیت پیدا کی تب اس نے معاشرے میں انصاف، اقدار، افکار اور افعال

Read more

بھنگیوں کی توپ!

ہمیں اپنی دوست کی عیادت کو جانا تھا ایک اور دوست کے ساتھ لیکن ایک مشکل آن پڑی تھی! ” دیکھیے مجھے بھی خیریت دریافت کرنے جانا ہے لیکن وعدہ کیجیے کہ میری غلط بیانی کی تردید نہیں کریں گی” ” غلط بیانی کی تردید؟ ارے غلط بیانی ہی کی تو تردید کی جاتی ہے ” ہم نے ابرو چڑھائے، ” آپ کو تو علم ہے، میں ان کے گھر کا کچھ نہیں کھا سکتی۔ منع کرتے ہوئے شرمندگی ہوتی

Read more

اللہ میاں کے نام ایک خط

یقین جانیے ہم پہ غیب سے مضامین قطعی وارد نہیں ہوتے۔ یہ تو آپ کے رنگا رنگ چٹکلے ہیں جو ہمیں لکھنے پہ اکساتے ہیں۔ علی افتخار جعفری نے کیا خوب کہا تھا، ‎راہ کے پتھر کی جگہ کاسہ سر رکھتا ہوں ‎خلق پر آپ کی ٹھوکر کی حقیقت تو کُھلے کچھ ایسا ہے کہ ہمارے کالمز پڑھنے کے بعد ہمارے بہت سے خیر خواہوں اور چاہنے والوں کو ہماری آخرت کی فکر ہو چلی ہے۔ ہمیں علم نہیں، انہیں

Read more

لبرل یا لوزر؟

ہم نیم خواندہ دانشوروں کے قلم سے "لبرل” کا طعنہ پڑھ کے ایک بلند آہنگ قہقہہ لگاتے ہوئے پوچھتے ہیں، "اگر ہم لبرل ہیں تو آپ کیا ہیں؟ لوزر؟” پچھلے ڈیڑھ برس میں یہ لقب ( لنڈے کی لبرل آنٹی) بہت دفعہ ہمیں عطا ہوا اور ہر دفعہ اس نے ہمارے چہرے پہ مسکراہٹ بکھیری۔ ہمیں ہر دفعہ یوں لگا کہ جیسے ہم جانے انجانے میں کچھ لوگوں کی دم پہ پاؤں رکھ دیتے ہیں۔ ہمارے مہربانوں نے ڈارون کا

Read more

کیمیائی طور پہ جنسی نامردمی اور منٹو!

منٹو، عہد حاضر کا سب سے بڑا نباض! دیکھئیے کیا لکھتا ہے، ”خان بہادر کی بیوی اپنے شوہر کے کمرے میں گئی جو کہ خالی تھا مگر بتی جل رہی تھی۔ بستر پر سے چادر غائب تھی۔ فرش دھلا ہوا تھا، ایک عجیب قسم کی بو کمرے میں بسی ہوئی تھی۔ خان بہادر کی بیوی چکرا گئی کہ یہ کیا معاملہ ہے، پلنگ کے نیچے جھک کر دیکھا مگر وہاں کوئی بھی نہیں تھا۔ لیکن ایک چیز تھی، اس نے

Read more

کاظمی اینڈ سنز عرف سترہ برس کا بیٹا

حمل کے پانچویں مہینے میں ہونے والا الٹرا ساؤنڈ تھا۔ ادھیڑ عمر ریڈیولوجسٹ انہماک سے سکرین پہ نظریں گاڑے، ہاتھ سے مشین پروب کو پکڑے تصویر پہ توجہ مرکوز کیے ہوئے تھے۔ یکایک ان کی پیشانی پہ کچھ شکنیں ابھریں اور آنکھیں سکڑ گئیں۔ چہرے پہ لکھی تشویش پڑھی جا سکتی تھی۔ کاؤچ پہ دراز مریضہ نے ڈاکٹر کی بدلتی حالت دیکھ کر کچھ متفکر ہو کر پوچھا، ”ڈاکٹر صاحب سب ٹھیک ہے نا؟“ ” مجھے افسوس ہے کہ آپ

Read more

پردہ بکارت میں اٹکی عقل اکارت

خدا غریق رحمت کرے، اکبر اللہ آبادی کی آدھی عمر کلرکوں اور باقی عمر عورتوں پر چاند ماری کرنے میں گزری۔ ہم میں سے شاید ہی کوئی ہو گا جس نے اکبر کا یہ معروف شعر نہ پڑھ رکھا ہو، پوچھا جو میں نے آپ کا پردہ وہ کیا ہوا کہنے لگیں کہ عقل پہ مردوں کے پڑ گیا اب نہ معلوم اکبر کی مراد کس پردے سے تھی لیکن زمانہ موجود کے مردوں کی عقل پہ جو پردہ پڑا

Read more

ویران سڑک پہ سائیکل، تانگہ اور مردانگی

سائیکل کا ہینڈل ایک ہاتھ سے پکڑے سائیکل لہراتا، بلند آواز میں ماہیا گنگناتا پچیس چھبیس برس کا مرد، گرما کی سہ پہر، سنسان سڑک، تیز رفتاری سے دوڑتا تانگہ اور اس کی پچھلی نشست پہ بیٹھی تین خوفزدہ عورتیں اور ایک پانچ چھ برس کی ناسمجھ بچی! سائیکل والا کبھی تانگے کے بالکل قریب آ جاتا اور کبھی کچھ پیچھے رہ جاتا۔ تینوں عورتیں آپس میں گہری سہلیاں تھیں اور گھر سے کچھ وقت ایک دوسرے کے ساتھ گزارنے

Read more

علیشا کی شلوار ایک آئینہ ہے!

اماں مجھے ڈر لگ رہا ہے! اماں تم کہاں ہو؟ اماں مجھے بھوک لگ رہی ہے اماں کمرے کا دروازہ کھلتا کیوں نہیں؟ اماں تم مجھے اکیلا چھوڑ کے کہاں چلی گئی ہو؟ اماں تم نے تو کہا تھا ہم بہت اچھی جگہ جا رہے ہیں جہاں کھانا ملے گا تم مجھے آئس کریم کھلاؤ گی! اماں…. اماں.. … آ جاؤ نا اماں! دیکھو اب تو رو رو کے میری آواز بیٹھ گئ ہے مجھے پیاس بھی بہت لگی ہے

Read more

عورت کی جنسی ہراسانی کو پیدایشی حق سمجھنے والے۔۔۔

“تم آٹا گوندھتے ہوئے اتنا ہلتی کیوں ہو” خلد مکانی اماں کہا کرتی تھیں، جب ہر بات میں مین میخ نکالنے والا کوئی قابل ذکر بات نہ ڈھونڈ سکے تو اس کی تان اس جملے پہ آن ٹوٹتی ہے، اور ہمیں یہ بات یاد آ گئی بینک وڈیو پہ لکھے گئے ہمارے کالم پہ اہل دانش و فہم کے کمنٹس پڑھ کر۔ سمجھ سے باہر ہے کہ کیا کہیں… ‎دیوں کو خود بجھا کر رکھ دیا ہے ‎اور الزام اب

Read more

کفن کی بات کرتے ہو۔۔۔۔

"کالج میں پڑھنا چاہتی ہو تو برقعے کے ساتھ کفن بھی لے کر آنا”  یہی لکھا ہے نا تم نے لوئر دیر میں لڑکیوں کے کالج کے باہر چسپاں حکم، دھمکی اور قہر میں بجھے اس کاغذ کے ٹکڑے پر! جی چاہتا ہے یہ پوچھنے کو کہ کیا اس ڈھائی گز لٹھے کی سفید دھجی کو تم کفن کہتے ہو جس میں اپنی گونگی بہری عزت کو لپیٹ کر زمین میں دباتے ہو! آؤ ہم بتائیں تمہیں کہ کفن ہوتا

Read more

اسلام آباد بینک وڈیو: عورت کا جسم اور باس کی مرضی

جسم عورت کا ہو اور اس کو گدھ نما ہوس زدہ مرد شکار نہ کرے، کیسے ممکن ہے؟ خلیل الرحمن قمر اور ان کے چاہنے والوں کو اب علم ہو جانا چاہیے کہ میرا جسم میری مرضی نامی نعرہ کن وجوہات کی بنا پہ بلند کیا گیا تھا۔ اگر ابھی ہٹ دھرمی باقی ہے تو پھر تازہ ترین کلپ دیکھ کر جشن منائیے جس میں بنک مینیجر کام میں شدید مصروف ہو کے بھی فراموش نہیں کرتا کہ شکار آس

Read more

قاسم علی شاہ کا امتحانی پرچہ آؤٹ

موٹیویشنل سپیکر قاسم علی شاہ کہتے ہیں ’اچھی بیوی کیسے بننا ہے، یہ کہیں نہیں پڑھایا جاتا۔ آپ کسی سکول میں چلے جائیں، میٹرک کی ڈگری تک، 10 برس میں یہ کہیں نہیں پڑھایا جاتا۔ حالانکہ ایک عورت کی زندگی میں ان دو کرداروں کی بڑی اہمیت ہے، یعنی اچھی بیوی اور اچھی ماں بننا۔‘ ہمیں خبر ہے کہ قاسم علی شاہ نے اشفاق احمد اور بانو قدسیہ کے خوان نعمت سے فیض اٹھا رکھا ہے، اس لئے نہ تو ہم

Read more

سلامت مسیح چوڑھا اور اونچ نیچ کی شطرنج

نانی کی بڑبڑاہٹ اس وسیع و عریض آنگن میں گونج رہی تھی، "کم بختی مارا، ابھی تک نہیں آیا۔ ہزار بار کہا کہ جب تک بچے ادھر ہیں، وقت پہ آیا کرو۔ بچے معصوم بھی کیا سوچتے ہوں گے کہ نانی کا گھر ہے یا تعفن کا ڈھیر، ہم ایسے ہی شہر سے چھٹیاں گزارنے گاؤں آئے " “بےبے جی، کون نہیں آیا؟” ہم نے سوال کیا ایک دم ہی لہجے میں شیرینی بھرتے ہوئے وہ بولیں، “بے بے کی

Read more

کافر عشقم، مسلمانی مرا درکار نیست

گزشتہ اٹھارہ ماہ میں اپنوں اور غیروں سے طعن و دشنام سننے کی عادت سی ہو گئی تھی۔ لیکن اب کی بار جو پتھر آئے ہیں انہوں نے نہ صرف روح کو تار تار کیا ہے کہ برس ہا برس کے تعلق داروں نے بھرم توڑ دیا ہے۔ پریم رس کا پیالہ پھوڑ دیا، جو مے تھی، بہا دی مٹی میں۔ اور ہمیں سوچنے پہ مجبور کر دیا کہ پاکستان کا اعلیٰ تعلیم یافتہ طبقہ بنیادی انسانی حقوق کو کس

Read more

‎آرزو راجہ سے آرزو فاطمہ تک کی کہانی

تیرہ برس کا سن، تبدیلئ مذہب اور عقد! گزشتہ کچھ دنوں میں اس پہیلی کو اگر حل کرنے کا سوچا جائے تو ایک ہی نام فٹ بیٹھتا ہے، اور وہ ہے آرزو راجہ! خبر ہے، کراچی سے تعلق رکھنے والی تیرہ سالہ مسیحی بچی آرزو راجہ کو تیرہ اکتوبر کو اغوا کے بعد جبراً مسلمان کیا گیا اور چھیالیس برس کے اظہر علی سے نکاح پڑھوا کے رخصت کر دیا گیا۔ اظہر علی بدقسمت لڑکی آرزو راجہ کے ہمسائے ہوا

Read more

بچے کی پیدائش! طبعی یا سیزیرین؟

نصف شب کا عالم، گہری نیند اور ہم چونک کے اٹھ بیٹھے۔ کیا کہیں گجر بجا تھا یا دور کسی قافلے کے اونٹوں کے گلے میں بندھی گھنٹیوں نے سر جگایا تھا! افوہ، ہمارے فون کی گھنٹی بج رہی تھی اور ہمیں ہسپتال بلایا گیا تھا۔ لیبر روم میں ایمرجنسی تھی کہ درد زہ میں مبتلا خاتون کی زچگی کے آخری مرحلے پہ بچے کو اوزار کی مدد سے پیدا کروانے کی کوشش کی گئی تھی اور بوجہ ناکامی ہوئی

Read more

مدیر "ہم سب” کا تبصرہ اور ہمارا جواب دعویٰ

‎پدر سری معاشرہ صرف عورت کو دولہ شاہ کی چوہیا نہیں بناتا، مرد کو بھی ایک مردہ چوہے سے لٹکتا ہوا دو پایہ بناتا ہے۔ کبھی پدر سری معاشرت کے مردوں پر اثرات کے بارے میں بھی لکھیے۔ مجھ سمیت بہت سے پڑھنے والوں کا بھلا ہو گا۔ و – مسعود ****             **** یہ الفاظ ان کے قلم سے صفحہ قرطاس پہ بکھرے ہیں جن کی دانش، فہم، ذکاوت، معاملہ فہمی، سنجیدگی، حسن ظن، رواداری

Read more

موت کو الوداعی بوسہ!

بے جان سرد جسم، بے نور آنکھیں، ساکت چھاتی، دل کی بیرونی عضلاتی دیوار اور ہمارے تیزی سے حرکت کرتے ہاتھ، بے ترتیب سانسیں، سینے سے باہر کو آتا دل! ہم بے طرح ہانپ رہے تھے لیکن رک نہیں سکتے تھے۔ اس ٹھٹھرے ہوئے جسم میں بے بس دل کی منجمد حرکت کو واپس لانا تھا ہمیں! ایک دو تین چار پانچ …. پندرہ دفعہ چھاتی دبانا تھی اور پھر منہ سے منہ ملا کے ایک سانس دینا تھی۔ سانس

Read more

مسقط سے لاس اینجلس تک

"مہتمم مطبخ یا دروغه مطبخ ” ہم خود کلامی کرتے ہوئے مسکرائے، کیا نام دیں اپنے آپ کو؟  دیکھیے گردش دوراں نے یہ دن بھی دکھانا تھا کہ ہمارے حصے میں یہ ڈیوٹی آئی تھی۔ وہ جو فرائض سونپنے کا چارٹ بنایاگیا تھا اس میں یہ کہتے ہوئے لکھا گیا، ” قیام میرے ذمے، طعام آپ کے" یہ بڑا نازک مرحلہ تھا کہ وہ کام جو ہمیں زندگی کا سب سے بورنگ کام لگے یعنی باورچی خانے میں پیاز، ادرک

Read more