پاکستانی مزاح کو ایکسپورٹ کریں

پہلا تعارف:کچھ عرصہ پہلے سوشل میڈیا پر ایک مزاحیہ ویڈیو میری نظر سے گزری، وہ ویڈیو ایک خاتون نے بنائی تھی جس میں وہ ڈاکٹر بن کر خواتین کو مشورے دیتی ہے اور پھر مریض عورتوں کا روپ دھار کر ان کی نقالی بھی کرتی ہے، ان میں شرمیلی کنواری لڑکی سے لے کر دیہات کی بے باک عورت تک سب شامل تھیں۔ وہ ویڈیو کلپ جراثیم کی طرح پھیلا، گویا بہت وائرل ہوا۔ اس کلپ میں ہمارے سماجی رویوں

Read more

مرزا غالب بنام پرویز مشرف

آ ہا ہا ہا! میرا پیارا پرویز مشرف آیا۔ کیوں صاحب اب روٹھے ہی رہو گے یا منو گے بھی؟ دیکھو بھائی میرا حال بھی تم سے مختلف نہیں۔ آٹھ پہر پڑا رہتا ہوں۔ اصل صاحب فراش ہوں۔ کوئی شغل، کوئی اختلاط، کوئی جلسہ، کوئی مجمع پسند نہیں۔ اب تو مغل جان بھی نہیں رہیں کہ ہماری مزاج پرسی کو آ جاتیں۔ تم خوش قسمت ہو کہ مہوش حیات نامی زہرہ جبیں اکثر محبت سے تمہارا ذکر کرتی ہے۔ میرے

Read more

مذاکرات اور عام معافی کا مغالطہ

چوبیس سال کی نور مقدم کو قتل کر کے اس کی لاش کی بوٹیاں کرنے والا ظاہر جعفر اس وقت جیل میں ہے، عدالت اسے پھانسی کی سزا سنا چکی ہے اور قاتل نے اس سزا کے خلاف اپیل دائر کر رکھی ہے۔ یہاں میرا ایک سوال ہے۔ کیا ایسا نہیں ہو سکتا کہ ریاست پاکستان ظاہر جعفر سے ’مذاکرات‘ کرے اور اگر وہ مستقبل میں پرامن شہری بننے کی یقین دہانی کروا دے تو ریاست اسے رہا کردے؟ پچیس

Read more

وہ باتیں جو بیس برس کی عمر میں سیکھنی چاہئیں (مکمل کالم)

ہم جیسے لوگ جو پڑھ لکھ کر چار باتیں سیکھ جاتے ہیں خود کو خواہ مخواہ طرم خان سمجھنے لگتے ہیں ،ہمیں لگتا ہے کہ جو تجربہ ، علم اور ہنر ہمارے پاس ہے اسے حاصل کرنا ضروری ہے باقی سب وقت کا ضیاع ہے ۔ ہم اِس بات پر بھی بہت جز بز ہوتے ہیں کہ زندگی نے تجربے کے ساتھ جو باتیں عمر کے اِس حصے میں ہمیں سکھا دی ہیں وہ بیس برس کا نوجوان اب تک

Read more

ماحولیاتی آفات کا تباہ کن طوفان آ رہا ہے

میں نے زندگی میں مسلسل اس قدر شدید گرمی کی لہر کبھی نہیں دیکھی، میں نے اتنی بڑی تعداد میں جنگلات میں آگ لگنے کی خبریں پہلے نہیں سنیں اور میں نے گلیشئیرز کو یوں پگھلتے ہوئے بھی کبھی نہیں دیکھا! نیٹ فلیکس پر ایک فلم ہے، Don’t Look Up، لیونارڈو ڈی کیپریو نے اس میں ڈاکٹر منڈی کا مرکزی کردار ادا کیا ہے جو ایک ماہر فلکیات ہے۔ اس فلم کی کہانی بہت دلچسپ ہے۔ امریکہ کی ایک یونیورسٹی

Read more

کسی کے مرنے پر کیا لکھا جائے؟ (مکمل کالم)

کیا یہ ضروری ہے کہ کسی کے مرنے پر اس کی مغفرت کی دعا ہی کی جائے؟ کیا کسی کے مرنے سے اس کے تمام گناہ از خود معاف ہو جاتے ہیں؟ کیا مرنے والی کی صرف خوبیاں ہی بیان کی جانی چاہئیں کیونکہ دنیا کا یہی رواج ہے؟ کیا مرنے والا شخص کے مقام کا تعین اس کے اعمال سے نہیں کیا جانا چاہیے جو وہ اپنی زندگی میں کرتا رہا؟ کیا مرنے والے شخص کی ذات کی تمام

Read more

ہم بورس بیکر کو دیوالیہ نہ ہونے دیتے!

جس زمانے میں ہم جوان ہو رہے تھے اسے آپ اسی کی دہائی کہہ سکتے ہیں، یہ وہ دور تھا جب پی ٹی وی پر خواتین کا ٹینس میچ بھی ہمارے بزرگوں کو ’سافٹ پورن‘ لگتا تھا۔ آدھا وقت ہمارا اسکول میں گزرتا اور باقی کا آدھا وقت سٹیفی گراف اور مارٹینا نورواتی لووا کی سکرٹ پر فوکس کرنے میں۔ مردوں کے ٹینس مقابلے میں نہیں دیکھتا تھا البتہ ان میں ایک نام بہت زور و شور سے سننے کو

Read more

متوازی کائنات کے مسافر

پہلی دنیا: اس دنیا میں ایک ماں ہے اور اس کے دو بچے ہیں۔ یہ ماں اپنے بچوں کو لے کر ڈاکٹر کے پاس آئی تھی، ماں نے برقع پہنا ہوا تھا اور اس کی صرف آنکھیں نظر آ رہی تھیں۔ بچوں کے پرانے اور بوسیدہ کپڑوں سے اندازہ ہو رہا تھا کہ ان کا تعلق غریب گھر سے ہے۔ چھوٹا بچہ، جس کی عمر تین یا چار برس ہوگی، بہت شور کر رہا تھا، بار بار ماں کو بلاتا

Read more

ایک پنجابی زمیندار کی کہانی اور ہماری عیاشیاں

ہمارے اسکول کی اردو کتاب میں ایک مضمون تھا ’ایک پنجابی زمیندار کی کہانی‘ ۔ یہ مضمون چوہدری افضل حق کی کتاب ’زندگی‘ سے لیا گیا تھا۔ یہ ایک ایسے پنجابی زمیندار کی کہانی ہے جو دیہاتی رسوم و رواج میں جکڑا ہوا ہے۔ اس کے ہاں بیٹا پیدا ہوا تو اس نے مہاجن سے قرض لے کر برادری والوں کی دعوت کی، بعد میں قرض چکانا مشکل ہو گیا۔ کچھ عرصے بعد باپ فوت ہوا تو اس کے کفن

Read more

حیراں سر ِبازار (مکمل کالم)

رات کے گیارہ بج رہے ہیں، نیند آنکھوں سے کوسوں دور ہے، دماغ میں مختلف قسم کے خیالات جمع ہیں، سوچ رہا ہوں کہ آج سارا دن میں نے کیا تیر مارا، کون سے ایسا کام کیا جس کے بارے میں کہہ سکوں کہ یہ کسی حد تک تعمیری یا تخلیقی تھا، کوئی کام ذہن میں نہیں آرہا، لیکن یہ ضروری بھی تو نہیں کہ بندہ روزانہ کوئی کارنامہ سرانجام دے کر ہی سوئے، آخر زندگی میں معمول کے دن

Read more

ہم سری لنکا سے ہزار درجے بہتر ہیں

ایک روز ہم چند دوست کسی ریستوران میں بیٹھے کھانا کھا رہے تھے، دوران محفل گفتگو کا رخ مختلف ملکوں کی ثقافت اور رسم و رواج کی طرف مڑ گیا۔ ایک دوست نے، جو امریکہ سے تازہ تازہ وارد ہوا تھا، امریکیوں کی عادات و خصائل پر روشنی ڈالنی شروع کی اور پھر ڈالتا ہی چلا گیا حتی کہ ہماری آنکھیں چندھیا گئیں۔ کہنے لگا کہ امریکہ میں لوگ بار بار چائے یا کھانے کا پوچھ کر مہمان کو زچ

Read more

کیا افغانستان میں اسلامی نظام نافذ ہے؟ (مکمل کالم)

اگر آپ کو ایک سوال نامہ دیا جائے جس میں پوچھا گیا ہو کہ کیا افغانستان میں اسلامی نظام نافذ ہے، ہاں یا ناں میں جواب دیں، تو آپ کا جواب کیا ہو گا؟ ہو سکتا ہے کہ کچھ لوگ ناں میں جواب دیں تاہم مجھے یقین ہے کہ ہمارے مذہبی طبقے سے تعلق رکھنے والے دوستوں کا جواب ہاں میں ہی ہو گا۔ وجہ اس کی یہ ہے کہ جس قسم کے اسلامی نظام کی ترویج ہمارے یہ دوست

Read more

بن مانسوں کے قبیلے میں

کمیٹی کے اجلاس میں شرکت ہمیشہ سے ہی میرے لیے تکلیف کا باعث رہی ہے۔ اِن اجلاسوں میں عموماً فروعی مسائل پر گفتگو ہوتی ہے اور اصل موضوعات کو اکثر پس پشت ڈال دیا جاتا ہے یا پھر انہیں اگلے اجلا س تک کے لیے موخر کر دیا جاتا ہے۔ لیکن ہر مرتبہ ایسا نہیں ہوتا۔جب سے اجلاس کی سربراہی نوجوان چمپنزی کے پاس آئی ہے حالات میں کافی بہتری دیکھنے میں آئی ہے۔صاحب صدر نہ صرف خوش شکل اور

Read more

ایک ارب ڈالر کی خاطر غلامی اور امیروں کا اربوں ڈالر کا ڈاکا

ہم محض ایک ارب ڈالر کے لیے پوری دنیا میں ذلیل ہوتے ہیں۔ اس ایک ارب ڈالر کے لیے کبھی ہم سعودی عرب کی منتیں کرتے ہیں اور کبھی آئی ایم ایف کے پاؤں پکڑتے ہیں۔ عالمی ساہوکار ہماری حالت پر ترس کھا کر اپنی جیب سے چند ڈالر نکالتا ہے اور سادہ کاغذ پر درجنوں شرائط لکھوا کر دستخط کروا لیتا ہے تاکہ ہم اس کا قرضہ سود سمیت واپس کرنے کے قابل ہو سکیں۔ اس کے بعد ہم

Read more

سراج الدولہ، میر جعفر اور رابرٹ کلائیو

برصغیر کی تاریخ کے بارے میں ہمارا تاثر یہ ہے کہ انگریز سفارتکار تھامس رو ہندوستان میں تجارت کا اجازت نامہ حاصل کرنے کی غرض سے مغل بادشاہ جہانگیر کے دربار میں پیش ہوا، وہاں اس نے جہانگیر کو اپنی چکنی چپڑی باتوں سے رام کیا، بھولے بھالے جہانگیر نے تجارت کی اجازت دے دی، انگریز ہندوستان پہنچ گئے، وہاں انہوں نے ایسٹ انڈیا کمپنی کی بنیاد رکھی اور پھر اس کمپنی نے اطمینان سے پورے بر صغیر پر قبضہ

Read more

لتا منگیشکر کا انٹرویو اور دائمی خوشی کی آرزو

آج سے تین ماہ پہلے جب لتا منگیشکر کی موت ہوئی تو پوری دنیا میں اس کا غم منایا گیا، خاص طور سے برصغیر پاک و ہند میں تو ہر مکتبہ فکر کے افراد  نے انہیں ہدیہ تبریک پیش کیا، دو ارب کی آبادی کے اس خطے میں شاید ہی کوئی شخص ایسا ہو گا جس نے لتا جی کے فن کی تعریف نہ کی ہو۔ ان کی وفات پر اخبارات میں سینکڑوں مضامین لکھے گئے اور ٹی وی پر

Read more

ایم ایس سی پاس خود کش بمبار

پہلا سوال:ایم ایس سی ڈگری کی حامل، تعلیم یافتہ لڑکی، جو دو بچوں کی ماں ہو، فلسفے اور تاریخ کی کتابیں پڑھتی ہو، ٹویٹر پر اپنے شوہر اور بچوں کے تصاویر پوسٹ کرتی ہو اور اسکول میں پڑھاتی بھی ہو، اگر خود کش جیکٹ پہن کر چار بے گناہ افراد کو ہلاک کردے تو کیا اس میں اور طالبان میں کوئی فرق ہو گا؟ دوسرا سوال:کیا مسلح جد و جہد، چاہے وہ اپنے حقوق کے حصول کے لیے ہو، آزادی

Read more

فیک نیوز کی دوڑ میں پیچھے کیوں کر رہا جائے!

پاکستان کتنے ارب ڈالر کا مقروض ہے؟ ہمارا تجارتی خسارا کتنا ہے؟ ملک میں مہنگائی کی شرح کیا ہے؟ گزشتہ پانچ برسوں میں ہماری برآمدات میں کتنا اضافہ ہوا ہے؟ ہمارے زرمبادلہ کے ذخائر کتنے ارب ڈالر ہیں اور اس میں دوست ممالک کا کتنا حصہ ہے؟ چین، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، امریکہ، آئی ایم ایف اور ورلڈ بنک کے ہم نے کتنے ڈالر واپس کرنے ہیں؟ اس میں سے قرضہ کتنا ہے اور گرانٹ کتنی ہے، دونوں میں

Read more

آرام طلب لوگوں کے لیے ایک کالم

آج صبح ساڑھے سات بجے میری آنکھ کھلی تو حسب عادت میں نے سوچا کہ ابھی کچھ دیر مزید سو لیا جائے۔ دوسری مرتبہ ساڑھے آٹھ بجے گھڑی پر نظر پڑی، دماغ نے مشورہ دیا کہ اب اٹھ جانا چاہیے، ویسے بھی تمام موٹیویشنل سپیکر صبح سویرے اٹھ کر ورزش کا مشورہ دیتے ہیں، مگر دل نے کہا کہ جو مزا نیند کے اِس اضافی آدھ گھنٹے میں آئے گا وہ کسی اور کام میں نہیں آسکتا، ورزش میں تو

Read more

اکثریت کا معجزہ

چرچل سے ایک قول منسوب کیا جاتا ہے کہ ’جمہوریت کے خلاف بہترین دلائل جمع کرنے ہوں تو فقط پانچ منٹ کسی اوسط درجے کے ووٹر سے گفتگو کر کے دیکھ لیں۔ ‘ بظاہر اس بات میں بہت وزن ہے، خاص طور سے نام نہاد پڑھے لکھے بابو تو اس دلیل کی بنیاد پر جمہوریت کو روزانہ گالیوں سے نوازتے ہیں کہ ہمارے جیسے ملکوں میں جاہل ووٹر بریانی کی ایک پلیٹ پر ووٹ بیچ آتے ہیں۔ اس کلاس کا

Read more

سازشی تھیوری میں کتنے مصالحے ڈالے جاتے ہیں

آج سے تین سال پہلے جب کرونا کی وبا پھیلی تو دنیا کو سمجھ ہی نہ آئی کہ یہ کیا ہوا ہے، اس ضمن میں طرح طرح کی سازشی تھیوریاں گھڑی گئیں، کسی نے کہا کہ یہ بل گیٹس کا ویکسین بیچنے کا منصوبہ ہے، کسی نے مغربی ممالک کو مورد الزام ٹھہرایا، کسی نے فائیو جی نیٹ ورک کی لہروں سے اس کے تانے بانے ملائے، کسی نے پرانی فلم کا کوئی سین نکال کر دکھایا کہ دیکھو سازش

Read more

یہ مسائل ’آئینی‘ یہ ترا بیان غالب

اگر کوئی مجھ سے پوچھے کہ پوری انسانی تاریخ میں سے ایک ایسی دریافت سوچ کر بتاؤ جو سب سے زیادہ حیران کن ہو تو میرا جواب ہو گا ’قانون‘ ۔ یہ انسان کی ایسی دریافت ہے جس پر وہ بجا طور پر داد کا مستحق ہے بلکہ میری رائے میں تو اس کائنات میں اگر کہیں ذہین مخلوق بستی ہے تو شاید وہ بھی ہمیں اس دریافت پر شاباش دے گی۔ قانون کی خوبصورتی یہ ہے کہ اس کی

Read more

ہندوستان کی غیرت مند حکومت اور حجام کی شیو

سن تھا 1971، مقام تھا مشرقی پاکستان اور وزیر اعظم تھی اندرا گاندھی۔ مشرقی پاکستان میں مکتی باہنی کی تحریک زوروں پر تھی، حکومت نے وہاں آپریشن شروع کر رکھا تھا۔ اس دوران اندرا گاندھی نے اپنی ’آزاد خارجہ پالیسی‘ کے تحت پوری دنیا کے رہنماؤں کو خط لکھے جس میں انہوں نے پاکستان میں جاری آپریشن اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے یہ تاثر دیا کہ بھارت اس معاملے میں

Read more

نام نہاد پڑھی لکھی اشرافیہ کا جرم

گزشتہ دنوں کھانے پر ایک انجینئر صاحب سے ملاقات ہوئی، نہایت خوش پوش اور پڑھے لکھے انسان تھے، کسی ملٹی نیشنل کمپنی سے وابستہ تھے، ان سے اچھی گپ شپ رہی، گفتگو کے دوران وہ ہر بات پر خواہ مخواہ قہقہہ لگاتے تھے جسے دیکھ کر مجھے شک ہوا کہ انہیں ڈالروں میں تنخواہ ملتی ہے۔ میرا شک ٹھیک نکلا۔ تھوڑی دیر تک ان سے انجینئرنگ کے شعبے کے حوالے سے گفتگو ہوتی رہی اور پھر بالآخر گفتگو کا رخ

Read more

سچ اور جھوٹ کا فیصلہ کیسے ہو؟

پچھلے دو گھنٹے سے میں اپنے کمپیوٹر کی خالی سکرین کو گھور رہا ہوں، کچھ سمجھ نہیں آ رہی کہ کیا لکھوں، دو چار فقرے لکھتا ہوں اور پھر کاٹ دیتا ہوں۔ یہ کوئی انہونی بات نہیں، ایسا اکثر ہوجاتا ہے اور اسی کڑے وقت کے لیے میں نے موضوعات کی ایک ٹوٹی پھوٹی سی فہرست بنا کر رکھی ہوئی ہے، کچھ نوٹس بھی محفوظ ہیں۔ مگر آج کل ملک میں جس قسم کے حالات ہیں، ان میں ان موضوعات

Read more

چانکیہ، سن زو، میکاولی اور اب ”میں“۔

جیسا کہ آپ سب جانتے ہیں مجھے ’موٹیویشنل کالم‘ لکھنے کا بہت شوق ہے۔ اس کے دو فائدے ہیں۔ پہلا فائدہ تو یہ ہے کہ زیادہ سوچنا نہیں پڑتا، موٹیویشن کے نام پر کوئی بھی کہانی اٹھائیں، اس کی نوک پلک سنواریں، تھوڑا بہت میک اپ کریں، کچھ اضافہ و ترمیم اپنی سے طرف سے کریں، بس بن گیا کالم۔ اور کہانی کا ہونا بھی کچھ ایسا ضروری نہیں، چند لگے بندھے سے اصول ہیں، ان کو چٹخارے دار انداز

Read more

جارج کینٹر کی ”سیٹ تھیوری“ اور ”نمبرز گیم“ (مکمل کالم)

سکول کے زمانے میں ہمیں ’سیٹ تھیوری ‘ پڑھائی جاتی تھی ، یہ ریاضی کا تصور تھا جس میں بتایا جاتا تھا کہ سیٹ کیا ہوتا ہے ، سب سیٹ کسے کہتے ہیں ،مثلاً اگر ایک جماعت میں پچاس بچے ہوں تو ہم کہیں گےکہ یہ پچاس بچوں کا سیٹ ہے ۔ یہ تھیوری ایسی ہی آسان مثالوں سے شروع ہوتی مگر آگے چل کر اتنی پیچیدہ ہوجاتی کہ دماغ کی چولیں ہل جاتی تھیں۔ اِس تھیوری کا موجد جرمن

Read more

معاشرے میں دانشمندوں کا کیا کام ہوتا ہے

جس اسکول کی میں بات کرنے لگا ہوں وہ پاکستان کا سب سے بڑا اسکول سسٹم ہے، ملک بھر میں اس کی شاخیں ہیں، لاکھوں بچے ان برانچوں میں پڑھتے ہیں، پاکستان سے باہر بھی اس کے کئی کیمپس ہیں اور یہ بتانے کی چنداں ضرورت نہیں کہ یہ اسکول انگریزی میڈیم ہے اور اس کی ماہانہ فیس پچیس سے تیس ہزار روپے ہے۔ جو لوگ اس کی انتظامیہ میں شامل ہیں، وہ رات دن اپنے دفاتر میں یوں مصروف

Read more

اورنگزیب سے جارج واشنگٹن تک (مکمل کالم)

کبھی کبھی میں سوچتا ہوں کہ اگر میں دو چار سو سال پہلے کے زمانے میں کسی مغل شہنشاہ کے گھر پیدا ہوتا تو زندگی کیسی ہوتی۔ شاید ایک وسیع و عریض سلطنت میرے تصرف میں ہوتی جہاں صرف میرا ہی حکم چلتا۔ مگر جب مغل بادشاہوں کی تاریخ پڑھتا ہوں تو لرز جاتا ہوں اور اپنی اس فینٹسی سے توبہ کر لیتا ہوں۔ مثلاً مغل شہنشاہ جہانگیر نے مرنے سے پہلے وصیت کی تھی کہ شہریار خان، اس کا

Read more

ڈیوڈ ہیوم کی تشکیک، عقل اور معجزے

ڈیوڈ ہیوم سے میری ملاقات ایڈنبرا میں ہوئی تھی، موصوف ان دنوں اپنی کتاب ”Treatise on Human Nature“ کی ناکامی پر کافی دل گرفتہ تھے، یہ کتاب انہوں نے بہت محنت سے لکھی تھی اور ہر لکھاری کی طرح ان کا خیال تھا کہ یہ کتاب دنیا میں تہلکہ مچا دی گی۔ تہلکہ تو خیر کیا مچانا تھا، اس کتاب کا پہلا ایڈیشن بھی نہ بک سکا۔ اور ظاہر ہے کہ ہیوم اس کے لیے اپنے ناشر کو ہی قصور

Read more

سور کے دل والا انسان اور علما کا مخمصہ

آج سے پانچ دن پہلے اس شخص کی موت واقع ہو گئی جس کے سینے میں ڈاکٹروں نے سور کا دل لگایا تھا۔ سور کے دل کے ساتھ وہ بیچارہ بمشکل دو ماہ ہی زندہ رہا۔ ڈاکٹروں نے اس تجربے سے پہلے ہی خبردار کر دیا تھا کہ اس میں کیا ممکنہ خطرات پیش آ سکتے ہیں۔ آپریشن سے پہلے اس شخص کی حالت زندوں میں تھی نہ مردوں میں، وہ چھ ہفتوں سے بستر پر تھا اور فقط مشینوں

Read more

میرا وجود

پہلے یہ جگہ اتنی آباد نہیں تھی۔ دوچار مکان تھے اور ایک آدھ دکان تھی جہاں کبھی کبھار کوئی گاہک نظر آ جاتا تھا۔ مگر اب کچھ عرصے سے وہاں لوگوں کی خاصی آمدورفت ہو گئی ہے اور اس کی وجہ ایک ایسا شخص ہے جس کے متعلق میں بعد میں آپ کو بتاؤں گا۔ پہلے میں کچھ اپنے بارے میں بتا دوں۔ میں زیادہ تر اپنے گھر میں رہتا ہوں، باہر نہیں نکلتا اور لوگوں کی بھیڑ بھاڑ میں

Read more

جشن کہاں منانا ہے، رہنمائی فرما دیں! (مکمل کالم)

افغانستان میں طالبان کی فتح کو چھ ماہ سے زیادہ ہوچکے ہیں، امریکہ وہاں سے دُم دباکر بھاگ چکا ہے، افغانستان میں بھارتی قونصل خانے بند ہو چکے ہیں، اشرف غنی جو ہمیں ایک آنکھ نہیں بھاتا تھااِس وقت عرب امارات میں کہیں پناہ لیے بیٹھا ہے،کابل میں ہماری مرضی کی حکومت قائم ہو چکی ہےجس کی ہم دنیا بھرمیں وکالت کرتے پھر رہے ہیں، سرحد پاردہشت گردوں کو بھارتی ایجنسیوں کی جو پشت پناہی حاصل تھی وہ ختم ہو

Read more

(مکمل کالم) مغربی دنیا کی بدمعاشی

ہم لوگ مغربی ملکوں کی شان میں کچھ زیادہ ہی قصیدے پڑھتے ہیں۔ قصور ہمارا بھی نہیں۔ ایک تو ان ملکوں کی چکاچوند ہی ایسی ہے کہ بندے کی آنکھیں چندھیا جاتی ہیں اور دوسرا ہمارے کرتوت ایسے ہیں کہ ہر معاشرہ ہی ہمیں آئیڈیل لگتا ہے۔ اور بات صرف چکا چوند ہی نہیں ان کا نظام بھی قابل رشک ہے۔ جب ایسے کسی ملک میں جانے کا اتفاق ہوتا ہے تو محدب عدسہ لگا کر ان ملکوں کی خرابیاں

Read more

اسلامی نظام کا ماڈل، جمہوریت اور ہم

دنیا میں اس وقت حکمرانی کے پانچ ماڈل ہیں۔ خالص جمہوریت، ناقص جمہوریت، ملاوٹ شدہ جمہوریت، آمریت اور بادشاہت۔ اسلامی ماڈل اس وقت کہیں رائج نہیں۔ آپ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، ترکی، ملائشیا، انڈونیشیا، ایران، عراق یا مصر کو اگر اسلامی ماڈل کہنا چاہیں تو کہہ لیں مگر اصل میں یہ مسلم ممالک ہیں، اسلامی ماڈل یہاں رائج نہیں۔ آمریت اور بادشاہت کو بھی آپ ایک ہی ماڈل کہہ سکتے ہیں مگر اس میں تھوڑا سا فرق یہ ہے

Read more

مسکان خان کا عورت مارچ

وہ عورت مارچ ہی تھا جو مسکان خان نے کیا۔ بھارت کے جنونیوں کے سامنے ڈٹ کر کھڑے ہوجانا، ان کے سامنے اللہ اکبر کا نعرہ لگانا اور حجاب اتارنے سے انکار کرنا۔ میرا برقع میری مرضی۔ یہی عورت مارچ ہے۔ ہر عورت کی طرح مسکان خان کا بھی بنیادی حق ہے کہ وہ اپنی مرضی کا لباس پہنے اور اپنے عقیدے، مذہب اور رسوم و روایات کے مطابق زندگی گزارے، کسی انسان کو ان حقوق سے محروم نہیں کیا

Read more

مسلمان ممالک ترقی کیوں نہیں کر پاتے

کبھی کبھی مجھے سمجھ نہیں آتی کہ مسلمان ممالک کا مسئلہ آخر ہے کیا؟ انتہائی کوششوں کے باوجود بھی یہ ملک مغربی دنیا سے پیچھے کیوں ہیں؟ ان ملکوں میں ترقی کا وہ ماڈل کیوں نہیں پنپ سکا جو یورپ اور امریکہ میں کامیابی سے رائج ہے؟ حالانکہ یورپی یونین کی طرح مسلمان ملکوں نے بھی اپنا اتحاد بنا رکھا ہے، تیل اور معدنیات کے ذخائر ان کے پاس ہیں، تعلیم پر بھی اب ان کی خاص توجہ ہے، جدیدیت

Read more

اب برف باری دیکھنے کہاں جائیں؟ (مکمل کالم)

اگر آپ سیر و سیاحت کے دلدادہ ہیں، پہاڑوں کی برف آپ کو رومان انگیز لگتی ہے، کم وقت میں زیادہ لطف اٹھانا چاہتے ہیں اور میری طرح ایڈونچر کے شائق بھی نہیں یعنی برف باری دیکھنے کے بعد اپنے اہل خانہ کے ساتھ زندہ سلامت گھر واپس آنا چاہتے ہیں تو پھر ان سردیوں میں مالم جبہ سے ہو آئیں۔ جب سے مری کا سانحہ ہوا ہے، ہر بندہ ہی برف باری سے خوفزدہ ہو گیا ہے۔ اور یہ

Read more

کاش ہماری یادداشت چلی جائے (مکمل کالم)۔

چند فرضی کرداروں سے آپ کا تعارف کرواتے ہیں۔ پہلا کردار روڈولف بیکر کا ہے۔ یہ جرمنی کی دائیں بازو کی سیاسی جماعت Alternative für Deutschland (AfD) کا رکن ہے۔ یہ جماعت اپنے سخت گیر نظریات کی وجہ سے مقبول ہے جو یورپی یونین اور امیگریشن قوانین کی سخت مخالف ہے۔ روڈولف اس کا زبردست حامی ہے، وہ سمجھتا ہے کہ غیر جرمن لوگوں نے جرمنی کا ستیاناس کر دیا ہے اس لیے کسی غیر جرمن کو یہاں کی شہریت

Read more

سوشلسٹ انقلاب کا ’فیل گڈ‘ ماڈل اور ایک امیر انقلابی

ایکس ایک امیر آدمی ہے لیکن اس کے باوجود اس کا خیال ہے کہ ملک میں انقلاب آنا چاہیے۔ اپنی اس خواہش کا اظہار ایکس نے مجھ سے کیا تو میں نے پوچھا کہ اچانک اس انقلاب کی کیا وجہ۔ کہنے لگا کہ میں ایک کمپنی کا سی ای او ہوں، لاکھوں میں تنخواہ ہے، کاروبار خود ہی دوڑ رہا ہے، صبح نو بجے دفتر جاتا ہوں، شام پانچ بجے واپس آ جاتا ہوں، اس کے بعد رات تک فارغ

Read more

آڈیو کالم – ٹیسٹ ٹیوب، سروگیسی اور اب سور کا دل

اگر آپ کی ملاقات کسی ہم جنس پرست مرد سے ہو اور وہ آپ کو یہ بتائے کہ اس کا ’خاوند‘ رات کو دیر سے گھر آتا ہے، اسے وقت نہیں دیتا اور بچوں کو بھی نہیں سنبھالتا تو آپ کا رد عمل کیا ہو گا؟ ایک مرتبہ امریکہ میں مجھے اسی قسم کے بندے سے پالا پڑا تھا جس کی یہ گفتگو سن کر میں چکرا کر رہ گیا تھا۔ اس مرد رعنا کی شادی کو چار سال ہوئے

Read more

ارسطو کی کتاب، کافی، سگار اور مسرت – مکمل کالم

سقراط، افلاطون اور ارسطو، یہ تین فلسفی ایسے ہیں جن سے میں بہت تنگ ہوں۔ تینوں یونانی ہیں اور ایک ہی عہد میں آگے پیچھے وارد ہوئے۔ حضرت سقراط تو خیر قابو میں ہی نہیں آتے، انہوں نے اپنے شاگردوں کو زچ کرنے کے لیے ایک انوکھا طریقہ ڈھونڈا تھا جس میں وہ ان سے مکالمہ کرتے اور شاگردوں سے بظاہر آسان سوال پوچھ کر انہی سے جواب مانگتے اور اگر کوئی بیچارہ جواب دینے کی غلطی کر بیٹھتا تو

Read more

ٹیسٹ ٹیوب، سروگیسی اور اب سور کا دل!

اگر آپ کی ملاقات کسی ہم جنس پرست مرد سے ہو اور وہ آپ کو یہ بتائے کہ اس کا ’خاوند‘ رات کو دیر سے گھر آتا ہے، اسے وقت نہیں دیتا اور بچوں کو بھی نہیں سنبھالتا تو آپ کا رد عمل کیا ہو گا؟ ایک مرتبہ امریکہ میں مجھے اسی قسم کے بندے سے پالا پڑا تھا جس کی یہ گفتگو سن کر میں چکرا کر رہ گیا تھا۔ اس مرد رعنا کی شادی کو چار سال ہوئے تھے، دو بچے تھے، اس کا شکوہ یہ تھا کہ خاوند اس سے بیزار ہو چکا ہے، گھر پر بالکل توجہ نہیں دیتا، اٹھے بیٹھے طعنے دیتا ہے، لہذا اب وہ اس سے علیحدہ ہونے کے بارے میں سوچ رہا ہے۔

Read more

زمین تباہ ہو کر رہے گی

اگر کسی دور افتادہ سیارے میں بسنے والی مخلوق ہماری زمین کی فلم بنائے اور دیکھے کہ ہم انسان اکیسویں صدی میں کیسے اور کیسی زندگی گزار رہے ہیں تو وہ فلم کس قسم کی ہوگی؟ اس فلم کو دیکھ کر وہ مخلوق ہمارے بارے میں کیا اندازہ لگائے گی؟ کیا وہ مخلوق ہماری ترقی اور ذہانت سے متاثر ہوگی؟ کیا وہ یہ سمجھے گی کہ اخلاقی اعتبار سے ہم انسان اعلیٰ مرتبے پر فائز ہیں؟ یا پھر وہ ہمیں

Read more

بس اتنی سی خواہش ہے

کورے کاغذ کو گھورتے رہنا نہایت تکلیف دہ کام ہے۔ خاص طور پر جب لکھنے کو دل ہی نہ کر رہا ہو۔ بندہ لکھے بھی تو کیا لکھے۔ وہی خبریں اور ان پر وہی ماتم۔ بہاولپور میں ٹریکٹر ٹرالی نے موٹر سائیکل رکشے کو ٹکر مار دی، چار بچے جاں بحق۔ اسلام آباد میں دس برس کی بچی کا ریپ، قتل کر کے لاش میٹرو سٹیشن کے واش روم میں پھینک دی۔ کراچی میں چودہ سال کے بچے کا پولیس

Read more

نیوٹن، بائبل اور سائنس – کیا سائنسدان مذہبی ہو سکتا ہے؟

اگر آپ ٹرنٹی کالج، کیمبرج جائیں تو سب سے پہلا خیال آپ کے دماغ میں یہ آئے گا کہ وہ درخت دیکھا جائے جس کے تنے کے ساتھ بیٹھ کر نیوٹن کو خیال آیا تھا کہ اس کے سر پر گرنے والا سیب نیچے آنے کی بجائے اوپر کی طرف کیوں نہیں گیا۔ آج سے تقریباً چار سال پہلے جب مجھے اس کالج کی یاترا کا موقع ملا تھا تو میں نے کالج کے دروازے پر موجود دربان سے اسی

Read more

ہم، طالبان اور افغانستان (مکمل کالم)

ہمارا تعلق پاکستان کی اس نسل سے ہے جس کا بچپن، لڑکپن اور جوانی افغان جنگ کی خبریں سنتے اور سہتے گزر گئی۔ 24 دسمبر 1979 کو جب سوویت فوجیں افغانستان میں داخل ہوئیں تو اس وقت پاکستان میں مارشل لا نافذ ہوئے دو سال ہو چکے تھے۔ اگلی ایک دہائی تک ہم نے پی ٹی وی اور ریڈیو پاکستان پر جو خبریں سنیں وہ یا تو افغان جہاد کے بارے میں ہوتی تھیں یا پھر ملک میں نظام اسلام

Read more

تئیس لاشیں، مشیت ایزدی کے کھاتے میں ڈال دیں – مکمل کالم

ہم دسمبر کے آخری ہفتے میں مری گئے تھے، خیال تھا کہ برف باری دیکھنے کو مل جائے گی، دو دن مری میں رہے پر برف باری نہ ہوئی۔ نتھیا گلی بھی گئے پر وہاں بھی دھوپ نے ہی استقبال کیا۔ بالآخر مایوس ہو کر واپسی کا راستہ لیا۔ جونہی موٹر وے پر پہنچے تو بارش شروع ہو گئی، فون دیکھا تو ایک دوست نے مری سے برف باری کی ویڈیو بھیجی تھی اور ساتھ پیغام لکھا تھا کہ آپ

Read more

لاہور اب رہنے کے قابل نہیں رہا

لاہور شہر اب رہنے کے قابل نہیں رہا۔ یہ جملہ لکھنے سے پہلے میں نے ہزار بار سوچا۔ دل کٹ کر رہ گیا۔ حقیقت مگر یہی ہے۔ جن دنوں ہم سکول میں پڑھتے تھے، اس وقت کی سردیاں مجھے یاد ہیں۔ دو تین ڈگری سینٹی گریڈ عام بات تھی۔ سموگ کا کسی نے نام تک نہیں سنا تھا۔ ایسی کڑاکے کی سردی پڑتی تھی کہ دانت بجتے تھے۔ ہم ہتھیلیوں کو رگڑ رگڑ کر پھونکیں مارتے تھے، دستانے پہنے بغیر

Read more

یکم جنوری اور پراٹھوں کا ناشتہ – مکمل کالم

سال کے پہلے دن کا آغاز میں نے دیسی گھی کا پراٹھا کھا کر کیا ہے، انجام خدا جانے۔ جو بندہ یکم جنوری کو موٹیویٹ نہیں ہو سکتا اس کا سال کے باقی مہینوں میں کیا حال ہو گا یہ اندازہ لگانا چنداں مشکل کام نہیں۔ دل تو میرا چاہ رہا ہے کہ میں رضائی اوڑھوں اور لمبی تان کے سو جاؤں، دو تین گھنٹے بعد اٹھوں، دال چاول کھاؤں اور پھر سو جاؤں۔ رات کو ایک ولیمے میں شرکت

Read more

دانشوروں کی جملہ اقسام – مکمل کالم

انگریزی کا ایک لفظ ہے ’integrity‘ ۔ عام طور سے اس کا ترجمہ دیانت داری یا امانت داری کیا جاتا ہے جس سے گزارا تو ہو جاتا ہے مگر تسلی ٰ نہیں ہوتی کیونکہ دیانت داری ’honesty‘ کا ترجمہ ہے اور یوں integrity کے لیے یہ لفظ موزوں نہیں ہے۔ Integrity کے لیے راست بازی اچھا متبادل ہو سکتا ہے۔ خیر، ان میں سے جوبھی لفظ آپ کو مناسب لگے اسے integrity کے متبادل کے طور پر چن لیں کیونکہ

Read more

ہم اتنے بھی برے نہیں ہیں – مکمل کالم

مجھے اب بھی ایک خوش گمانی سی ہے کہ ہم ایسے نہیں ہیں جیسے ہم بن چکے ہیں۔ ہم اتنے برے نہیں ہیں۔ ایک غیر ملکی شخص کو جو ہمارے ملک میں مہمان تھا، غیر مسلم تھا، اسے مذہب کے نام پر ہمارے ہی ملک میں قتل کیا گیا اور اس کی لاش کو آگ لگائی گئی، مگر یہ ہم نہیں تھے۔ اس واقعے کے رد عمل نے بھی کسی حد تک یہ ثابت کیا ہے کہ ہم ایسے نہیں۔

Read more

نئے سال کی حکومتی ڈائری کیسی ہو! (مکمل کالم)

کرنل فریدی ’جاسوسی دنیا‘ کا کردار تھا، یہ کردارابن صفی نے تخلیق کیا تھا۔ کرنل فریدی کی خصوصیت یہ تھی کہ وہ دنیا کا ہر ہنر جانتا تھا۔ جرائم کی تفتیش تو خیر اُس کا بنیادی کام تھا مگر اِس کے علاوہ وہ لڑائی بھڑائی کا بھی ماہر تھا، تنہا آٹھ دس آدمیوں سے بھِڑ جانا اُس کے بائیں ہاتھ کا کام تھا۔ وہ آدھ گھنٹے تک سانس روک کر پانی کی تہہ میں رہ سکتا تھا، بیک وقت دو

Read more

’ایکس ‘ کی آخری خواہش (مکمل کالم)

میں یہ تو نہیں کہہ سکتا کہ ’ایکس‘ سے میری دوستی تھی لیکن ہمارا اچھا تعلق ضرور تھا۔ مہینے میں ایک دو بارہماری ملاقات ہو جایا کرتی تھی۔ اُس ملاقات میں ہم مختلف موضوعات پر گفتگو کرتے، بحث کرتے، اپنی زندگی کے تجربات ایک دوسرے کو سناتے۔ ملاقاتوں کا یہ سلسلہ کئی سال چلتارہا لیکن پھر اچانک ایک حادثہ ہو گیا۔ میں اُس حادثے کے بارے میں بھی بتاؤں گا مگر پہلے میں آپ کو ایکس کا کچھ تعارف کروا

Read more

’ایکس‘ کی آخری خواہش – مکمل کالم

میں یہ تو نہیں کہہ سکتا کہ ’ایکس‘ سے میری دوستی تھی لیکن ہمارا اچھا تعلق ضرور تھا۔ مہینے میں ایک دو بار ہماری ملاقات ہو جایا کرتی تھی۔ اس ملاقات میں ہم مختلف موضوعات پر گفتگو کرتے، بحث کرتے، اپنی زندگی کے تجربات ایک دوسرے کو سناتے۔ ملاقاتوں کا یہ سلسلہ کئی سال چلتا رہا لیکن پھر اچانک ایک حادثہ ہو گیا۔ میں اس حادثے کے بارے میں بھی بتاؤں گا مگر پہلے میں آپ کو ایکس کا کچھ

Read more

زبان سنبھال کے (مکمل کالم)

یہ ہمارے اسکول کے زمانے کی بات ہے، پی ٹی وی پر اشفاق احمد کا ایک ڈرامہ نشر ہوا، نام تھا ’توتا کہانی‘ ۔ ہم نے اردو قاعدے میں طوطا ہمیشہ ط سے پڑھا تھا، اس لیے جب پی ٹی وی پہ ت سے توتا دیکھا تو سمجھ نہ آئی کہ کون سا طوطا ٹھیک ہے۔ بعد میں ایک مرد عاقل نے سمجھایا کہ برخوردار اگر اشفاق صاحب نے ت سے لکھا ہے تو یہی درست ہو گا لہذا اسی

Read more

میں نے ڈھاکہ ڈوبتے (کیوں) دیکھا؟

آج 12 دسمبر ہے۔ میرے سرہانے بریگیڈئیر صدیق سالک کی کتاب ”میں نے ڈھاکہ ڈوبتے دیکھا“ رکھی ہے۔ میں اس کتاب کو اٹھاتا ہوں، چند ورق الٹتا ہوں اور واپس رکھ دیتا ہوں، کچھ دیر بعد دوبارہ اسے کھولتا ہوں، اپنی ذلت کی داستان پڑھتا ہوں اور پھر بند کر دیتا ہوں۔ پوری کتاب پڑھنے کے لیے قاری میں حوصلہ اور ڈھٹائی چاہیے۔ مجھ میں دونوں نہیں۔ تاہم جی کڑا کر کے میں نے اس میں ملک ٹوٹنے کا احوال

Read more

آزردہ گھرانے کی ایک لڑکی (مکمل کالم)

ٹالسٹائی کے شہرہ آفاق ناول ’اینا کارینینا‘ کا آغاز اِس جملے سے ہوتاہے۔ ’’تمام سکھی گھرانے ایک سے ہوتے ہیں۔ ہر آزردہ گھرانہ اپنے الگ انداز میں آزردہ ہوتا ہے۔ ‘‘پہلی مرتبہ جب میں نے جملہ پڑھا تو صحیح طرح سمجھ نہیں آئی کہ اِس کا کیا مطلب ہے۔ مگر آج سے بارہ دن پہلے بالآخر مجھے اِس جملےکا مطلب سمجھ آ گیا۔ یہ بارہ دن پرانی بات ہے، مال روڈ لاہور کے ہوٹل میں کام کرنے والی ایک لڑکی

Read more

دس فیصد سچ (مکمل کالم)

ہم دودھ کو کیتلی میں ڈال کر چولہے پر رکھتے ہیں ، نیچے آگ جلا دیتے ہیں ، تھوڑی دیر میں جب دودھ ابل کر کیتلی سے باہر آ جاتا ہے تو ہم دودھ کے خلاف ایک مذمتی بیان جاری کرتے ہیں کہ دودھ نے ہمارا سر شرم سے جھکا دیا اور یہ بھول جاتے ہیں کہ کیتلی کے نیچے آگ ہم نے خود جلائی تھی ۔ 3 دسمبر کو صبح گیارہ بج کر پینتیس منٹ پر سیالکوٹ میں ایک

Read more

اجتماعی بھلائی کا المیہ (مکمل کالم)

ایک شخص نائی کی دکان پر بیٹھا شیو کروا رہا تھا کہ اچانک اس کے برابر والے شخص نے اخبار پڑھتے ہوئے اطلاع دی کہ ’دس کروڑ سال بعد سورج ٹھنڈا ہو جائے گا۔ ‘ یہ خبر سنتے ہی شیو کروانے والے نے ہڑبڑا کر چہرے سے صابن صاف کیا، تولیے کو پرے پھینکا، نائی کو دھکا دیا اور تیزی سے دکان سے نکلنے لگا مگر پھر اچانک اسے کچھ خیال آیا اور اس نے رک کر خبر پڑھنے والے سے پوچھا ’کیا کہا تم نے؟‘ دوسرے شخص نے جواب دیا ’یہی کہ سورج دس کروڑ سال بعد ٹھنڈا ہو جائے گا۔

Read more

چار اہم باتیں جو میں نے سیکھیں

یہ پرانی بات ہے۔ غالباً ان دنوں میں یونیورسٹی میں پڑھتا تھا۔ کسی نے بتایا کہ فلاں جگہ سیمینار ہے جہاں بہت بڑے بڑے لوگ آ رہے ہیں، اعلیٰ تقاریر ہوں گی، مزا آئے گا، سو ہمیں بھی چلنا چاہیے۔ میں نے ہامی بھر لی۔ جب ہم تقریب میں پہنچے تو وہاں ایک صاحب کو مدعو کیا گیا جنہوں نے پروپیگنڈا کے موضوع پر کچھ بات کرنی تھی۔ ان کا تعارف ماہر ابلاغیات کی حیثیت سے کروایا گیا اور ساتھ

Read more

ایک مثالی عورت کیسی ہونی چاہیے

ایک مثالی عورت کیسی ہونی چاہیے اِس کا مجھے بالکل بھی اندازہ نہیں اور اِس لا علمی کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ میں عورت نہیں ہوں۔ آپ مجھ سے پوچھ سکتے ہیں کہ پھر مثالی مرد کی تعریف ہی بتا دو تو میرا جواب وہی ہوگا جو ابن صفی نے ایک مرتبہ اپنے قاری کو دیا تھا، اُن سے کسی نے پوچھا تھا کہ کیا وجہ ہے آپ کے ہر ناول میں عمران کو کوئی نہ کوئی لڑکی مل

Read more

نیلی آنکھوں والے بچوں کے قتل کا قانون (مکمل کالم)

2007 وہ سال تھا جب پاکستان دہشت گردی کی لپیٹ میں تھا، لال مسجد کا سانحہ ہو چکا تھا اور سوات میں شدت پسندی اپنے پنجے گاڑ چکی تھی۔ اگر ہم اس سال کو ’base year‘ تصور کر لیں تو پتا چلے گا کہ 2007 سے لے کر آج تک دہشت گردی کے مختلف واقعات میں تقریباً بائیس ہزار پاکستانی شہری اور سات ہزار سیکورٹی اہلکار شہید ہوئے۔ ان چودہ برسوں میں ریاست نے دہشت گردوں کے ساتھ امن معاہدے

Read more

سرخ لکیر والے موضوعات – مکمل کالم

آج بھی وہی معاملہ درپیش ہے کہ کیا لکھا جائے۔ بعض اوقات موضوع کا انتخاب کرنے میں اتنا وقت لگ جاتا ہے کہ جتنے وقت میں یار لوگ ہفتے بھر کے کالم تیار کر لیتے ہیں۔ بظاہر چاروں طرف موضوعات کی بہار ہے مگر ان میں سے آدھے موضوعات ایسے ہیں جن پر روزانہ اڑھائی سو کے لگ بھگ مضامین مختلف اخبارات میں شائع ہوتے ہیں، سو اس قسم کے کسی موضوع پر لکھنا ایسے ہی جیسے انارکلی میں کپڑوں

Read more

قبر میں لیٹا ہوا ایک شخص

ایک زندہ اور مردہ انسان میں کیا فرق ہوتا ہے؟ یہ سوال میں نے ایک ایسے شخص سے کیا جسے مرنے کے بعد تازہ تازہ دفنایا گیا تھا۔ اس کی قبر کافی تنگ تھی جس کی وجہ سے مجھے اس سے بات کرنے میں دقت ہو رہی تھی، شاید مرنے والے کے رشتہ داروں نے اسے دفنانے سے پہلے قبر میں لیٹ کر اس کی لمبائی چوڑائی کا اندازہ نہیں لگایا تھا۔ اس کے لواحقین تدفین کے بعد واپس جا

Read more

اردو کی پانچ بہترین کتابیں

ایک روز ہم دوستوں میں بحث چھڑ گئی کہ اگر ہمیں ایک عالمی کرکٹ ٹیم بنانی پڑے تو اس میں کون سے بہترین کھلاڑیوں کو شامل کیا جائے گا۔ بحث کے لیے ہم نے کچھ اصول طے کر لیے۔ مثلاً یہ کہ ٹیم1970کے بعد کے کھلاڑیوں پر مشتمل ہوگی کیونکہ اس سے پہلے کی کرکٹ کا دور کلاسیکی دور تھا جس کا موازنہ آج کی کرکٹ سے نہیں کیا جا سکتا۔ دوسرا اصول یہ طے کیا کہ یہ ٹیم ٹیسٹ میچ کی ہوگی اور تیسرا اصول یہ طے کیا کہ ٹیم کی سیلیکشن ذاتی پسند، نا پسند اور جذبہ قومیت سے بالا تر ہو کر کی جائے گی۔

Read more

پانچ سوال، پانچ جواب

سوال نمبر 1 : کیا مذہبی گروہوں کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ اپنے نظریات کے تحفظ کے لیے دھرنے، احتجاج اور گھیراؤ جلاؤ کا راستہ اختیار کریں بالکل ویسے ہی جیسے سیاسی جماعتیں اپنے مقاصد کے لیے یہ تمام طریقے استعمال کرتی ہیں؟ سوال نمبر 2 : اگر کوئی جماعت اپنے مقاصد کے حصول کے لیے مذہب کو بنیاد بناتی ہے تو کیا اس کے بارے میں یہ کہنا مناسب ہو گا کہ وہ مذہب کا استعمال کر

Read more

’ کائنات میں نا معلوم کیا ہے؟‘

بچپن میں جب ہم سنتے تھے کہ فلاں سیارہ ہم سے اتنے لاکھ میل کے فاصلے پر ہے یا کہکشائیں ایک دوسرے سے دور ہوتی چلی جا رہی ہیں تو اکثر سوچتے تھے کہ ماہر فلکیات کو یہ باتیں کیسے پتا چلتی ہیں۔ کیا یہ لوگ فیتا پکڑ کر زمین سے سیارے تک کا فاصلہ ماپتے ہیں یا پھر انہوں نے دور آسمانوں میں کوئی اڈہ بنایا ہوا ہے جہاں سے انہیں کوئی پیغامات بھیجتا ہے۔ فیتے والی بات تو

Read more

ایک نارمل ملک کیسا ہوتا ہے؟ (مکمل کالم)

ایک عام، سادہ، متوسط درجے کا ملک کیسا ہوتا ہے؟ اس کے شہر وں میں کیا ہوتا ہے، وہاں کے باسی کیا کرتے ہیں، کس طرح رہتے ہیں، اُن کی تفریحات کیا ہوتی ہیں، شام کو کیا کرتے ہیں، چھٹیاں کیسے مناتے ہیں، سڑکوں پر کیسے چلتے ہیں، کاروبار کیسے کرتے ہیں، احتجاج کیسے کرتے ہیں، سوگ میں کیا کرتے ہیں، جشن کیسے مناتے ہیں؟میں زیادہ دنیا تو نہیں گھوما مگر پھربھی چھبیس ستائیس ملک دیکھ چکا ہوں، ترقی یافتہ

Read more

کالعدم عورت مارچ والے (مکمل کالم)

یہ کالعدم عورت مارچ والوں نے عجیب تماشا بنا رکھا ہے، اِن لوگوں کا جب دل کرتا ہے پورا ملک بند کر دیتے ہیں، کبھی دھرنا دیتے ہیں کبھی حکومت کی رِٹ کو للکارتے ہیں تو کبھی کھلم کھلا خون خرابے پر اتر آتے ہیں۔ حکومت بھی اِن کے ساتھ لاڈلے بچوں کا سا برتاؤ کرتی ہے، اگر یہ سرکاری املاک کی توڑ پھوڑ کریں تو جواب میں انہیں پچکارا جاتا ہے، اگر یہ سڑکیں بند کر دیں تو اِن

Read more

Squid Game (مکمل کالم)

جنوبی کوریا نے حال ہی میں ایک ٹی وی سیریز بنائی ہے ، نام ہے ’Squid Game‘۔نیٹ فلکس پر اِس سیریز کی دھوم مچی ہوئی ہے ، اب تک کروڑوں لوگ اسے دیکھ چکے ہیں اور کہا جا رہا ہے کہ یہ سیریز مقبولیت کے اگلے پچھلے تمام ریکارڈ توڑدے گی ۔کہانی کچھ یوں ہے کہ جنوبی کوریا کی ایک پراسرار کمپنی ایسے لوگوں کی تلاش کا کام کرتی ہے جن کا دیوالیہ نکل چکاہے ، جو معاشی طور پر

Read more

پتھر تو بہر حال دھکیلنا پڑے گا (مکمل کالم)

بندہ صبح اٹھتا ہے، ناشتہ کرتا ہے اور کام پر نکل جاتا ہے۔ عمر یونہی تمام ہو جاتی ہے۔ کسی کی زندگی عیاشیوں میں گزرتی ہے اور کسی کی کوڑے کے ڈھیر سے گلا سڑا پھل تلاش کرنے میں نکل جاتی ہے۔ کولن پاول بھی مر جاتا ہے اور اسامہ بن لادن بھی۔ بڑے سے بڑا فرعون بھی بالآخر مقبرے میں ہی دفن ہوتا ہے چاہے وہ مقبرہ اہرام مصر جیسا عالیشان ہی کیوں نہ ہو۔ انسان گناہ گار ہو

Read more

میری ٹائم مشین اور برٹرینڈ رسل (مکمل کالم)

گزشتہ تین ماہ سے میری ٹائم مشین کی گراری خراب تھی، میں نے کئی خرادیوں کو دکھایا مگر ان سب نے یہی کہا کہ قبل از مسیح یونان کا ماڈل ہے سو اس کی گراری ایتھنز سے ملے گی۔ ایک سیانے مستری نے البتہ یہ لطیف نکتہ سمجھایا کہ باؤ جی اسی ٹائم مشین پر دو اڑھائی ہزار سال ماضی میں یونان جانے کی کوشش کریں، اگر وہاں تک پہنچ گئی تو کمپنی والے اسے بالکل نیا کر دیں گے،

Read more

غامدی صاحب سے معذرت کے ساتھ (مکمل کالم)

ایک سوال کافی عرصے سے دماغ میں کلبلا رہا تھا، بالآخر اُس کا غیر تسلی بخش جواب مل گیا۔ سوال یہ تھا کہ کیا اسلام میں متغلب کی حکومت کے خلاف مزاحمت کرنا جائز ہے ؟ متغلب کی حکومت سے مراد ایسی حکومت ہے جو اپنی طاقت کے بل بوتے پر غلبہ حاصل کرلے، اسے عوام کی تائید حاصل نہ ہو اور وہ کسی جمہوری طریقہ کار سے وجودمیں نہ آئی ہو۔ اس سوال کا بالواسطہ جواب میرے پسندیدہ عالم

Read more

زندگی کیا ہے؟ مکمل کالم

چھٹی کا دن ہو، فرصت کے لمحات ہوں اور راوی، چناب، جہلم سب چین ہی چین لکھتے ہوں، ایسے میں بندہ فلسفے کی کوئی کتاب اٹھائے اور پڑھنا شروع کردے تو لگتا ہے جیسے زندگی کی تمام گتھیاں اس میں سلجھا دی گئی ہیں۔ زندگی کیا ہے، کیسے گزارنی ہے، مصیبتوں سے کیسے نمٹنا ہے، غم کو کیسے منانا ہے، خوشی میں شانت کیسے رہنا ہے، دولت کو کتنی اہمیت دینی ہے، سکون کیسے حاصل کرنا ہے، موت کے وقت

Read more

عمر شریف کا قاتل کون ہے؟

ایک شخص ماہر نفسیات کے پاس گیا اور اسے اپنی بیماری کا احوال بتاتے ہوئے کہنے لگا کہ ڈاکٹر صاحب میں بہت اداس رہتا ہوں، اکثر اوقات مجھ پر مایوسی کے دورے پڑتے ہیں اور میں شدید ڈپریشن کا شکار ہو جاتا ہوں، بتائیے میں کیا کروں۔ ڈاکٹر نے اس کی بات غور سے سنی اور کہا کہ شہر کے مرکزی تفریحی تھیٹر میں ایک کامیڈین ہر ہفتے کی شپ اپنا پروگرام پیش کرتا ہے، اس کی باتیں بہت دلچسپ

Read more

عمر شریف کا’ قاتل ‘کون ہے؟ (مکمل کالم)

ایک شخص ماہر نفسیات کے پاس گیا اور اسے اپنی بیماری کا احوال بتاتے ہوئے کہنے لگا کہ ڈاکٹر صاحب میں بہت اداس رہتا ہوں، اکثر اوقات مجھ پر مایوسی کے دورے پڑتے ہیں اور میں شدید ڈپریشن کا شکار ہو جاتا ہوں، بتائیے میں کیا کروں۔ ڈاکٹر نے اُس کی بات غور سے سنی اور کہا کہ شہر کے مرکزی تفریحی تھیٹر میں ایک کامیڈین ہر ہفتے کی شب اپنا پروگرام پیش کرتا ہے، اُس کی باتیں بہت دلچسپ

Read more

بیزاری + سُستی = ؟

طبیعت پر آج کل عجیب سی بیزاری چھائی ہوئی ہے، شاید موسم کا اثر ہے۔ لیکن موسم کا اثر کیا صرف مجھ پر ہی ہے۔ ہمیں تو جو بات سمجھ نہیں آتی وہ یا تو خدا پر ڈال دیتے ہیں یا موسم پر۔ میاں، آج کل سستی کیوں چھائی ہے۔ موسم کا اثر ہے۔ تم امتحان میں کیوں فیل ہو گئے۔ خدا کو یہی منظور تھا۔ بس قصہ ختم۔ اس سے آگے بحث کرنے کا کوئی فائدہ نہیں۔ ویسے بھی

Read more

علامہ اقبال نے ٹھیک نہیں کیا!

اگر ہمیں کوئی شخص پاکستان کے مشاہیر کی فہرست مرتب کرنے کے لیے کہے تو وہ فہرست کس قسم کی ہوگی؟ اس میں کون کون سے نام شامل ہوں گے؟ ادب، شاعری، فلسفہ، مذہب، صحافت، تاریخ اور قانون کے شعبوں میں سے ہم کن لوگوں کو چن کر ایسی فہرست میں داخل کریں گے؟ چلیے صرف ادب کی فہرست مرتب کر کے دیکھتے ہیں۔ اشفاق احمد، پطرس بخاری، فیض احمد فیض، غلام عباس، احمد ندیم قاسمی، منٹو، شفیق الرحمن، ن

Read more

ہمارا نصاب کیسا ہو، علامہ اقبال جیسا ہو (مکمل کالم)

”غضب خدا کا میں نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ مملکت خدادا د پاکستان میں یہ دن بھی آئے گا۔ نہ جانے ہماری غیرت کو کیا ہو گیا ہے، ویسے تو ہم آئے دن ذرا ذرا سی باتوں پر ہنگامہ مچا دیتے ہیں مگر یہاں تو طوفان آ کر گزر بھی گیا اور کسی کے کان پر جوں تک نہیں رینگی۔ کہاں گئے وہ لکھاری اور دانشور جو حکومتی اہلکاروں کو معمولی لغزشوں پر آڑے ہاتھوں لیتے تھے مگر

Read more

پہاڑوں کے درمیاں

پہاڑوں کا سفر ہو، رات کا وقت ہو، سنسان راستہ ہو اور منزل نا معلوم ہو۔ ایسے میں دور کہیں کسی چھوٹے سے ہوٹل کی روشنیاں نظر آ جائیں تو فلمی ساسین بن جاتا ہے۔ جب ہم لاہور سے نکلے تھے تو منزل معلوم تھی، ارادہ تھا کہ اسلام آباد سے ہوتے ہوئے سر شام نتھیا گلی پہنچیں گے اور وہاں ڈاک بنگلے میں رات بسر کریں گے۔ محکمہ ڈاک نے اب اپنے ’بنگلے‘ کرائے پر دینے شروع کر دیے

Read more

ابلیس کے لیے منصفانہ سماعت کا حق

اکثر آپ نے امریکی فلموں میں یہ منظر دیکھا ہو گا کہ جب کوئی پولیس والا کسی ملزم کو موقع واردات سے گرفتار کرتا ہے تو ہتھکڑیاں پہناتے ہوئے یہ جملے ضرور کہتا ہے کہ ”تمہیں خاموش رہنے کا حق حاصل ہے، جو کچھ بھی تم اپنے دفاع میں کہو گے اسے عدالت میں تمہارے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، تمہیں وکیل کرنے کا حق بھی حاصل ہے، اگر تم وکیل کرنے کے متحمل نہیں ہو سکتے تو سرکار اپنے خرچے پر تمہیں وکیل فراہم کرے گی۔“ اسے Miranda Warning کہا جاتا ہے، اس کا ماخذ امریکی عدالت عظمیٰ کا ایک فیصلہ ہے جس کے مطابق پولیس پر یہ لازم ہے کہ وہ گرفتاری کے وقت ملزم کو اس کے حق دفاع کے متعلق صراحت سے بتائے۔

Read more

انشورنس کمپنیوں کے فراڈ سے ذرا بچ کے

ایک بہت ہی پرانا لطیفہ ہے جو حال ہی میں میرے ایک دوست نے تیسری مرتبہ سنایا اور مروتاً مجھے اس پر تیسری دفعہ ہنسنا پڑا۔ انشورنس کمپنی میں نیا بھرتی ہونے والا سیلز مین اپنی ملازمت کے پہلے دن جب مختلف لوگوں سے ملاقات کر کے واپس دفتر پہنچا تو اس کے تجربہ کار منیجر نے پوچھا کہ سناؤ کام کا پہلا دن کیسا رہا۔ اس نے کہا ”سر لوگوں نے جو گالیاں دیں ان کے سمیت بتاؤں یا

Read more

اکتالیس برس اصل میں کتنا عرصہ ہے؟ (مکمل کالم)

” 1980 اور 2021 میں اتنا ہی فرق ہے جتنا 1939 اور 1980 میں!“ یاد نہیں کہ یہ جملہ میں نے کہاں پڑھا تھا مگر اس چھوٹے سے جملے نے میرا نقطہ نظر ہی تبدیل کر دیا، میں نے کبھی اس طرح سوچا ہی نہیں تھا۔ ہماری نسل کے لوگ اسی کی دہائی میں اسکول میں پڑھتے تھے، اس وقت جب کوئی استاد ہمیں دوسری جنگ عظیم کے بارے میں بتاتا کہ دنیا نے ایک عالمی جنگ 1939 میں لڑی

Read more

اگر آپ سال میں صرف ایک کتاب پڑھنا چاہتے ہیں ….

دنیا میں دو طرح کے لوگ ہوتے ہیں، ایک وہ جو کتابیں پڑھتے ہیں اور دوسر ے جو کتابیں نہیں پڑھتے۔ بقول شخصے جو بندہ کتابیں نہیں پڑھتا اُس میں اور کسی ان پڑھ شخص میں زیادہ فرق نہیں۔ تاہم کتابیں پڑھنے والوں کی بھی آگے سے دو اقسام ہیں، پہلی قسم وہ ہے جو بڑے شوق سے کتابیں خریدتے ہیں، انہیں میز پر سجا کر رکھتے ہیں، احتیاط سے ورق الٹ کر دو چار صفحے پڑھتے ہیں اور پھر

Read more

میرا پاکستان کیسا ہو، افغانستان جیسا ہو؟ (مکمل کالم)

افغانستان پر اتنے کالم اور مضامین لکھے جا رہے ہیں کہ مجھے لگتا ہے اگر میں نے کالم اس موضوع پر کالم نہ لکھا تو لوگ سمجھیں گے کہ میں ’افغان امور کا ماہر‘ نہیں ہوں۔ جبکہ ایک سکہ بند کالم نگار کے لیے ضروری ہے کہ وہ موٹر مکینک کا کام بھی جانتا ہو اور افغانستان کے حالات پر بھی گہری نظر رکھتا ہو۔ بد قسمتی سے میں ان دونوں باتوں میں ہی کورا ہوں۔ راستے میں کہیں گاڑی

Read more

امکانات کی دنیا یا قسمت کی جادوگری (مکمل کالم)

اس بات کا کتنے فیصد امکان ہے کہ کوئی شخص اپنے گھر کے باغیچے میں بیٹھا ہو اور اس پر آسمانی بجلی گرے اور وہ موقع پر ہی فوت ہو جائے؟ یا اس بات کا کتنا امکان ہے کہ آپ کی نئی گاڑی موٹر وے پر چلتے چلتے اچانک بند ہو جائے؟ یا روزگار کا متلاشی کوئی نوجوان اپنے پاسپورٹ پر امریکہ کا ویزا لگوا کر نکلے اور وہ پاسپورٹ کنویں میں جا گرے؟ اس قسم کی باتوں کے امکانات

Read more

وہ پیدا ہی غلط ہوئی تھی!

موٹر وے پر عورت کا ریپ کیوں ہوا؟ کیونکہ وہ ویران سڑک پر تنہا کھڑی تھی۔ مینار پاکستان پر چار سو لوگوں نے ایک لڑکی کے کپڑے کیوں پھاڑے؟ کیونکہ وہ ٹک ٹاک بناتے ہوئے معنی خیز اشارے کر رہی تھی۔ نور مقدم کا قتل کیوں ہوا؟ کیونکہ وہ ایک غیر مرد کے گھر تنہا گئی تھی۔ چھ برس کی زینب کا ریپ کیوں ہوا؟ کیونکہ اس کے والدین ملک میں نہیں تھے۔ یوم آزادی کے موقع پر ایک لفنگے نے رکشے میں بیٹھی خاتون کا زبردستی بوسہ کیوں لیا؟ کیونکہ وہ جانتے بوجھتے ہوئے چودہ اگست کی رات کو باہر نکل آئی تھی۔ راولپنڈی میں مدرسے کے ناظم نے بارہ سال کی طالبہ پر جنسی تشدد کیوں کیا؟ کیونکہ اس کے ماں باپ نے لڑکی کو مرد استاد کے پاس بھیجنے کی غلطی کی تھی۔ رکشے میں سوار ہونے والی ماں بیٹی کو رکشہ ڈرائیور نے اپنے ساتھی کے مل کر ریپ کیوں کیا؟ یہ بڑھتی ہوئی فحاشی کی وجہ سے ہے۔ تین سالہ بچی کا ریپ کیوں ہوا؟ یہ دین سے دوری کا انجام ہے۔ ٹھٹہ میں چودہ سال کی لڑکی کی لاش کو قبر سے نکال کر ریپ کیوں ہوا؟ یہ جنسی گھٹن کا نتیجہ ہے۔ پردہ دار عورت کا ریپ کیوں ہوا؟ یہ جنسی آزادی کا نتیجہ ہے۔ پانچ بچوں کی ماں کا ریپ کیوں ہوا؟ یہ مادر پدر آزادی کے ثمرات ہیں۔ ذہنی طور معذور بچی کا ریپ کیوں ہوا؟ وہ پیدا ہی غلط ہوئی تھی!

Read more

ہم اتنے بھی احسان فراموش نہیں

ایک مریض کے پاس علاج کے لیے پیسے نہیں تھے، اس کی بیوی نے وزیر اعلیٰ سندھ کو مدد کے لیے خط لکھا، اس خط کے مندرجات اخبارات میں رپورٹ ہوئے، ممتاز کالم نگاروں نے اس پر کالم لکھے، وزیر اعظم نے نوٹس لیا، سندھ حکومت نے علاج معالجے کا ذمہ اٹھا لیا، صدر مملکت نے خود جا کر مریض کی مزاج پرسی کی، ملک کے مخیر حضرات نے اس مریض کے لیے امداد کا اعلان کیا اور یوں بطور قوم ہم ’سرخرو‘ ہو گئے۔ آخر یہ ’وی آئی پی‘ مریض کون تھا جس کے لیے اتنا تردد کیا گیا؟

یہ مریض اکبر علی خان تھا، شہید ملت لیاقت علی خان کا بیٹا، اور اس کی امداد کے لیے خط لیاقت علی خان کی بہو نے لکھا تھا۔

Read more

”مت“ سمجھو ہم نے بھلا دیا۔ مکمل کالم

اگر کوئی پاکستانی صدق دل سے یہ سمجھتا ہے کہ طالبان اللہ کے سپاہی ہیں، مجاہد ہیں، انہوں نے محض جذبہ ایمانی کے بل پر کفر کو شکست دی ہے اور اب وہ افغانستان کی سر زمین پر اللہ کا نظام نافذ کریں گے تو اسے چاہیے کہ فوراً ً بوریا بستر باندھے اور بال بچوں سمیت افغانستان منتقل ہو جائے۔ اس بات کو طعنہ ہر گز نہ سمجھا جائے کیونکہ ہم میں سے وہ لوگ جو مغربی ممالک کے نظام سے متاثر ہیں اور وہاں کے سسٹم پر رشک کرتے ہیں، ان کی پوری کوشش ہوتی ہے کہ کسی طرح ان ممالک کی شہریت حاصل کر لی جائے۔

ثبوت کے طور پر ان درخواستوں کی تعداد ملاحظہ ہو جو روزانہ ہم پاکستانی ان سفارت خانوں میں جمع کرواتے ہیں اور پھر جس کی درخواست منظور ہو جاتی ہے وہ خوشی کے شادیانے بجاتا ہوا بیوی بچوں کو لے کر امریکہ کینیڈا سیٹل ہو جاتا ہے۔ اگر کسی وجہ سے پورے کنبے کا ویزہ لگنا ممکن نہ ہو تو پھر کم ازکم بچوں کی پڑھائی کا بندوبست ضرور مغربی ممالک میں کیا جاتا ہے چاہے اس کے لیے اپنا پیٹ ہی کیوں نہ کاٹنا پڑے۔ اب یہ دلیل افغانستان کے باب میں کیوں نہ دی جاوے؟

Read more

ایک نا مکمل تحریر

ہمارے ہمسائے میں کچھ لوگ رہتے ہیں، عجیب و غریب لوگ، بظاہر ان کی شکلیں انسانوں سے ملتی ہیں مگر ہمارا خیال ہے کہ وہ ہم جیسے انسان نہیں۔ ہمیں یوں لگتا ہے جیسے وہ انسانوں سے کم تر کوئی مخلوق ہیں، کم از کم ایک درجے کم۔ اور یہ فقط ہماری رائے نہیں بلکہ علاقے کے دیگر مکین بھی ان کے بارے میں ایسا ہی سوچتے ہیں۔ لیکن ہم میں سے کوئی بھی یہ بات کھلے بندوں نہیں کرتا اور نہ ہم نے کبھی اشارتاً اس بات کا اظہار ان عجیب و غریب لوگوں کے سامنے کیا ہے۔

ہماری اخلاقی اقدار اس بات کی اجازت نہیں دیتیں کہ ہم انہیں یہ باور کروائیں کہ وہ ہم میں سے نہیں۔ اسی لیے ہم اپنے تئیں ان کے ساتھ انسانوں جیسا برتاؤ ہی کرتے ہیں۔ لیکن کبھی کبھی ہمیں یوں لگتا ہے جیسے انہیں علم ہے کہ ہم ان کو اپنے جیسا انسان نہیں سمجھتے۔ یہ بات انہوں نے کبھی اپنے منہ سے نہیں کہی اور نہ ہی اپنے کسی رویے سے ایسا ظاہر کیا ہے جس سے یہ معلوم ہو سکے کہ وہ ہمارے دلوں کا حال جانتے ہیں۔ لیکن اس کے باوجود نہ جانے کیوں ہمیں یہ شک ہے کہ انہیں ہمارے خیالات کا بخوبی اندازہ ہے۔

Read more

غربت میں کون سی عظمت ہے؟

مجھے ان لوگوں پر رشک آتا ہے جو ہر مسئلے کا حل چٹکیوں میں سمجھا دیتے ہیں۔ سوال چاہے جتنا بھی گمبھیر ہو، جواب میں آپ کبھی ان کے منہ سے یہ نہیں سنیں گے کہ میں اس بارے کچھ نہیں جانتا یا مجھے اس موضوع پر مزید تحقیق کی ضرورت ہے، وہ ہمیشہ دو ٹوک بیان دیں گے، قطعیت کے ساتھ۔ کچھ نمونے کے سوالات ملاحظہ ہوں۔ اگر قسمت میں سب کچھ لکھا ہے تو محنت کرنے کی کیا ضرورت ہے؟ کون سا وظیفہ پڑھیں جس سے تمام مسائل حل ہو جائیں؟ مسلمان دنیا میں رسوا کیوں ہو رہے ہیں؟ پیسہ کمانے کی خواہش کس طرح انسان کا سکون برباد کر دیتی ہے؟ ذہین فطین لوگ امیر کیوں نہیں ہوتے، جاہل اور ان پڑھ دولت کیسے کما لیتے ہیں؟ سکون قلب کیسے حاصل کیا جائے؟ غم اور نا امیدی سے نکلنے کا نسخہ کیا ہے؟ زندگی میں درست فیصلے کیسے کیے جائیں؟ دعائیں کیسے قبول ہوتی ہیں؟ یہ وہ سوالات ہیں جن کا کوئی آسان جواب نہیں مگر آپ یو ٹیوب کھولیں، وہاں آپ کو پاکستانی دانشوروں کی زبانی ان تمام سوالات کے جوابات مل جائیں گے۔

Read more

”نکتہ چیں ہے، غم دل اس کو سنائے نہ بنے“ – مکمل کالم

ایک ہاتھ میں کافی کا مگ ہو، دوسرے میں سگار ہو، سامنے دریا کا کنارہ ہو، شب کا اندھیرا ہو، رعنائیوں کا پہرا ہو، خامشی کا بسیرا ہو اور ایسے میں اچانک کوئی غالب کی غزل گنگنا دے ’نکتہ چیں ہے غم دل اس کو سنائے نہ بنے‘ تو وہ لمحے یادگار بن جاتے ہیں۔ لیکن شرط یہ ہے کہ غزل درست طریقے سے گائی جائے۔ بر صغیر پاک و ہند کے ہر بڑے گلوکار اور گائیکہ کی یہ خواہش رہی ہے کہ وہ غالب کا کلام گائے لیکن غالب کی غزلوں کے بعض اشعار اور ان کے پوشیدہ معنی اس قدر لطیف اور باریک ہیں کہ انہیں سمجھ کر گانا کوئی آسان کام نہیں، یہی وجہ ہے کہ عام طور سے غالب کی آسان غزلوں کو فلمی گانوں کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے، گلوکار بھی عموماً سادہ غزلیں ہی محفلوں میں سناتے ہیں اور اگر ان میں کوئی پیچیدہ شعر آ جائے تو اسے چھوڑ دیتے ہیں۔

Read more

اولمپک ایسوسی ایشن بازار ہی سے تمغہ خرید لے!

پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن ایک قسم کی سرکاری تنظیم ہے جو گزشتہ تہتر برس سے قائم ہے۔ تنظیم کی ویب سائٹ پر اس کا مشن کچھ یوں لکھا ہے کہ اس کا مقصد ’اولمپک چارٹر کے تحت اولمپک ایسوسی ایشن کے ویژن کو قابل عمل طریقے سے پھیلا کر پاکستان میں اولمپک تحریک کو ترقی دینا، اس کی ترویج کرنا اور اس کا تحفظ کرنا ہے۔‘ اللہ جانے اس کا کیا مطلب ہے، غالباً ’وہ‘ یہ کہنا چاہ رہے ہیں

Read more

مردوں کے دماغ میں ایک ’چپ‘ لگا دیں

پہلا مفروضہ : دس لڑکے اور دو لڑکیاں ایک جنگل میں پکنک منانے جاتے ہیں، جنگل میں کوئی موبائل فون کام نہیں کرتا، آس پاس کوئی آبادی نہیں، قریبی سڑک بھی پندرہ کلومیٹر دور ہے۔ ان لڑکے لڑکیوں کی عمریں اٹھارہ سال سے زائد ہیں اور انہوں نے جنگل میں دو دن گزارنے ہیں۔ پہلا مفروضہ یہ ہے کہ تمام لوگ بحفاظت واپس آ جائیں گے، ان کی آپس میں کوئی لڑائی نہیں ہو گی، کسی کو دوسرے سے کوئی شکایت نہیں ہوگی۔

دوسرا مفروضہ :ایک ممکنہ صورتحال یہ ہو سکتی ہے کہ جنگل میں قیام کے دوران کوئی ’جوڑا‘ باہمی رضامندی سے آپس میں تعلق قائم کر لے اور باقی لوگ اس پر اعتراض کرنے کی بجائے اپنی دھن میں مگن رہیں اور دو دن بعد سب لوگ نارمل انداز میں واپس آ جائیں۔

تیسرا مفروضہ : تیسرا امکان اس بات کا ہو سکتا ہے کہ لڑکوں میں سے کوئی ان دو لڑکیوں کے ساتھ زبردستی کرے اور ان کا ریپ ہو جائے۔

Read more

اڑھائی ہزار سال پہلے کی چند ملاقاتیں (مکمل کالم)

آج سے 2700 سال پہلے جب میں یونان میں تھا تو میرا فلسفیوں کے ساتھ کافی اٹھنا بیٹھنا تھا، یہ کوئی ایسی عجیب بات نہیں تھی، اُس دور میں یونان میں ہر دوسرا بندہ فلسفی تھا، حتّٰی کہ جو گوالا میرے گھر دودھ پہنچایا کرتا تھا وہ بھی اپنا ایک خاص فلسفیانہ نکتہ نظر رکھتا تھا، بھلا سا نام تھا اُس کا، ہاں یاد آیا ’دودھکریٹس ‘۔ ایک روز میں نے اُس سے پوچھا کہ کائنات کا راز کیا ہے،

Read more

سدھارتھ گوتم نے کیا کہا تھا؟ (مکمل کالم)

عظیم لوگ بعض اوقات عام انسانوں کے لیے بڑی مشکل پیدا کر دیتے ہیں۔ قدرت کی طرف سے اِن لوگوں کو غیر معمولی صلاحیت اور ذہانت میسر ہوتی ہے اور یہ لوگ تکالیف سہنے اور مصائب کا سامنا کرنے کی بھی ہمت رکھتے ہیں۔ اپنی انہی خدا داد خوبیوں کی بنا پر یہ لوگ عام آدمی کے مقابلے میں زندگی کو قدرے مختلف انداز سے دیکھتے ہیں اور پھراسی تناظر میں زندگی کی معنویت بیان کرتے ہیں۔ تاہم اِس کا

Read more

ملالہ کی تصویر والی کتاب (مکمل کالم)

’ہدایت نامہ طلبا‘ شفیق الرحمن کا ایک شاہکار مضمون ہے، وہ اس میں نصابی کتابوں کی مضحکہ خیز باتوں کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ ”لوگ عموماً چراگاہوں میں بھیڑ بکریاں پال کر گزارا کرتے ہیں یا کھیتی باڑی کرتے ہیں۔ جغرافیے (کی کتابوں ) میں یہ فرض کر لیا جاتا ہے کہ دفتروں اور کارخانوں میں آدمی کام نہیں کرتے۔“ پہلی مرتبہ جب میں نے یہ مضمون پڑھا تو مجھے اپنے اسکول کا دور یاد آ گیا، اس زمانے میں ہم نے بھی نصابی کتابوں سے یہی کچھ اخذ کیا تھا کہ لوگ یا تو گاؤں میں کبڈی کھیلتے ہیں یا پھر کھیت میں ہل چلاتے ہیں، کوئی ٹی وی پر ڈرامہ دیکھتا ہے اور نہ شہر میں نوکری کرتا ہے۔ گو کہ آج کل کی نصابی کتابیں کچھ مختلف ہو گئی ہیں اور ان میں شہری زندگی کا ذکر مل جاتا ہے، تاہم ایک بات ان کتابوں میں عجیب ہے کہ جہاں بھی کسی لڑکی یا عورت کی شبیہ بنائی جاتی ہے وہاں اس کے سر پر دوپٹہ اوڑھا دیا جاتا ہے۔ گویا بچوں کو غیر محسوس طریقے سے یہ بات ذہن نشین کروائی جاتی ہے کہ سلجھی ہوئی اور با وقار خاتون ہمیشہ سر پر دوپٹہ رکھے گی۔

Read more

پاکستان اور سویٹزرلینڈ کی سیاحت کا موازنہ (مکمل کالم)

مجھے ایڈونچر کا کوئی شوق نہیں اور سفر کے دوران تو بالکل نہیں۔ میں آرام دہ سفر کا قائل ہوں۔ بیاباں میں خیمے لگا کر رہنے یا پہاڑوں پر ہانپتے ہوئے چڑھنے میں مجھے کوئی دلچسپی نہیں (انگریزی میں جسے ’ہائیکنگ‘ کہتے ہیں ) ۔ میرا ماننا ہے کہ جب اللہ کی ساری زمین ہی خوبصورت ہے تو خواہ مخواہ جان جوکھم میں ڈال کر کسی پر فضا مقام تک جانے کیا ضرورت ہے! لیکن اس مرتبہ نہ چاہتے ہوئے

Read more

’ارشاد نامہ‘ کا پوسٹ مارٹم (مکمل کالم)

کچھ عرصہ پہلے مجھے فون پر ایک پیغام موصول ہوا جس میں لکھا تھا کہ آپ کا پتہ درکار ہے، اپنی کتاب ارسال کرنی ہے، عاجز، ارشاد حسن خان (سابق چیف جسٹس آف پاکستان )۔ ریٹائرمنٹ کے بعد چونکہ ہر بندہ ہی عاجز ہو جاتا ہے اِس لیے مجھے زیادہ حیرت نہیں ہوئی۔ چند دنوں بعد مجھے اُن کی کتاب ’ارشاد نامہ ‘ موصول ہو گئی، جج صاحب نے کمال شفقت سے اپنے دستخطوںکے ساتھ ’اِس عاجز ‘ کو بھیجی

Read more