بعض اوقات ہم لکھاریوں کو انگریزوں پر بہت پیار آتا ہے اور ہم تنہائی میں اکثر باتیں کرتے ہیں کہ انگریز ہوتے تو ایسا ہوتا، انگریز ہوتے تو ویسا ہوتا۔ انگریزوں سے اس محبت کی وجہ ان کی مبینہ انصاف پسندی اور قانون پر عملداری ہے، یہ وہ باتیں ہیں جو ہم نے ڈائجسٹوں میں کہانیوں کی شکل میں پڑھ رکھی ہیں، ان کہانیوں میں انگریز دور میں ہونے والی وارداتوں کی تفتیش کا نقشہ بے حد پر اثر انداز میں کھینچا جاتا تھا اور بتایا جاتا تھا کہ انگریز سرکار کے کڑے احتساب کے خوف سے اس تھانیدار کی راتوں کی نیند حرام ہوجاتی تھی جس کے علاقے میں قتل یا ڈکیتی کی واردات ہوتی تھی۔
مجھے یاد ہے کہ عنایت اللہ کے ماہنامہ ’حکایت‘ میں ایک تھانیدار کی کہانی شائع ہوا کرتی تھی، یہ کہانی کسی سنگین واردات کی تفتیش کے گرد گھومتی تھی، چونکہ انگریز کا بنایا ہوا جاسوسی کا نظام بے حد شاندار تھا اس لیے بالآخر مجرم پکڑا جاتا تھا۔ ان کہانیوں نے ہمارے ذہن پر جو تاثر چھوڑا وہ آج تک قائم ہے اور اسی تاثر کے زیر اثر کچھ لوگ، جن میں سے زیادہ تر کا تعلق ہم سے پچھلی نسل سے ہے، آج بھی انگریز کے دور کو یاد کر کے آہیں بھرتے ہوئے کہتے ہیں کہ وہ زمانہ کم ازکم آج کے مقابلے میں تو بہتر تھا۔
Read more