دلیپ کمار میں کیا خاص بات تھی؟ مکمل کالم

تقسیم ہند کے وقت دلیپ کمار نے اپنے بھائی ناصر خان کو لاہور بھیجا تاکہ وہ حالات کا جائزہ لے کر بتائے کہ کیا ان کے فلمی کیرئیر کے لیے پاکستان آنا بہتر ہو گا یا ہندوستان میں رہنا۔ ناصر خان نہ صرف لاہور آئے بلکہ یہاں ایک فلم ’تیری یاد‘ میں کام بھی کیا جسے پاکستان کی پہلی فلم کہا جا تا ہے (اس فلم کا قصہ خاصا دلچسپ ہے جو پھر کبھی ) ۔ واپس جا کر انہوں نے دلیپ کمار کو مشورہ دیا کہ بہتر ہے کہ وہ بھارت میں ہی رہیں، وہاں فلموں کا مستقبل زیادہ تابناک ہے۔

Read more

’مہذب‘ ممالک کچھ شرم کریں

پہلی مثال: چند روز پہلے پلڈاٹ کے روح رواں احمد بلال محبوب صاحب نے ایک ٹویٹ کی جس میں انہوں نے برطانوی جریدے اکانومسٹ کی ایک رپورٹ کا حوالہ دیا۔ رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ کرونا وائرس سے پہلے کی نارمل دنیا کیسی تھی اور آج اس وبا کے تقریباً ڈیڑھ سال بعد مختلف ممالک کی کیا صورتحال ہے۔ جریدے نے مختلف اعداد و شمار کی مدد سے معمول کی زندگی ماپنے کا ایک اشاریہ مرتب کیا جسے اس نے Global Normalcy Index کا نام دیا ہے، اس اشاریے کے مطابق وبا سے پہلے معمول کی دنیا اگر 100 پوائنٹس پر تھی تو آج کی دنیا 66 پوائنٹس پر ہے، بدترین وقت اپریل 2020 کا تھا جب یہ عالمی اشاریہ 35 پوائنٹس پر تھا۔

Read more

مردوں کی فرسٹریشن کا علاج (مکمل کالم)

’اگر عورت مختصر لباس پہن کر گھر سے باہر نکلے گی تو اس کے ریپ ہونے کے امکانات بڑھ جائیں گے۔‘ ’معاشرے میں چونکہ فحاشی اور عریانی بڑھ رہی ہے اس لیے مرد بے قابو ہو رہے ہیں، انہیں قابو میں رکھنے کے لیے ہمارے ملک میں مغربی ممالک کی طرز پر نہ کوئی نائٹ کلب ہے اور نہ ایسی کوئی جگہ جہاں ان مردوں کی فرسٹریشن کا مداوا ہو سکے، لہذا یہ بڑھتی ہوئی فرسٹریشن ریپ کا سبب بنتی

Read more

افغانستان کا گرین کارڈ – مکمل کالم

خدا کو جان دینی ہے، سچ بات کہنے سے گھبرانا نہیں چاہیے اور غلطی کا اعتراف کرنے میں شرمانا نہیں چاہیے۔ گزشتہ برس تک میرا بھی یہی خیال تھا کہ امریکہ نے افغانستان میں مطلوبہ مقاصد حاصل کر لیے ہیں اور یوں اس کی افواج فتح کا نقارہ بجاتی ہوئی افغانستان سے نکل رہی ہیں۔ لیکن پچھلے ہفتے میں نے روزنامہ کالک میں ایک اداریہ پڑھا جس کے بعد مجھے اپنے خیالات پر نظر ثانی کرنی پڑی۔ یہ بڑے آدمی کی نشانی ہوتی ہے کہ وہ ہمیشہ حقائق کی روشنی میں اپنا نظریہ تبدیل کرتا ہے، مجھ میں ایسی کئی نشانیاں ہیں مگر خدا کا شکر ہے کہ میں نے کبھی غرور نہیں کیا۔

Read more

قانون بمقابلہ انصاف۔ مکمل کالم

”میں حیران ہوتا ہوں کہ کہیں ہم آئین، قانون اور عدالتوں کے ساتھ زیادہ امیدیں وابستہ تو نہیں کر بیٹھے۔ میرا یقین کریں یہ جھوٹی امیدیں ہیں، ایسی امیدیں رکھنا غلط ہے۔ آزادی دراصل انسانوں کے دل میں ہوتی ہے اور اگر وہاں اس کی موت واقع ہو جائے تو کوئی آئین، قانون یا عدالت اس آزادی کو زندہ کرنے میں ہماری مدد نہیں کر سکتی۔ اور جب تک دل میں آزادی کی وہ امید قائم ہے تب تک اس آزادی کو برقرار رکھنے کے لیے کسی آئین، قانون اور عدالت کی ضرورت نہیں۔“ امریکی جج، لرنڈہینڈ، 1872 تا 1961۔

Read more

قانون بمقابلہ انصاف (مکمل کالم)

”میں حیران ہوتا ہوں کہ کہیں ہم آئین، قانون اور عدالتوں کے ساتھ زیادہ امیدیں وابستہ تو نہیں کر بیٹھے۔ میرا یقین کریں یہ جھوٹی امیدیں ہیں، ایسی امیدیں رکھنا غلط ہے۔ آزادی دراصل انسانوں کے دل میں ہوتی ہے اور اگر وہاں اس کی موت واقع ہو جائے تو کوئی آئین، قانون یا عدالت اُس آزادی کو زندہ کرنے میں ہماری مدد نہیں کر سکتی۔ اور جب تک دل میں آزادی کی وہ امیدقائم ہے تب تک اس آزادی

Read more

زندگی میں پچھتاوے نہیں ہونے چاہئیں (مکمل کالم)

پسند کی شادی کا ارادہ کرنے والے کسی نوجوان نے ایک مرتبہ مجھ سے پوچھا کہ کیا اسے اپنی مرضی کی شادی کرنی چاہیے یا والدین کی بات مان کر ان کی من پسند بہو کے حق میں ہاں کر دینی چاہیے؟ جواب میں اس سے میں نے کچھ سوال کیے تاکہ اندازہ لگا سکوں کہ وہ شادی کو کتنا سنجیدگی سے لیتا ہے، عورت کے بارے میں اس کے کیا خیالات ہیں، کہیں وہ محض جوانی کے ابال کے تحت کوئی فیصلہ تو نہیں کر رہا اور لڑکا اور لڑکی کا خاندان سماجی رتبے اور ’کلاس‘ کے اعتبار سے برابر ہے یا دونوں میں غیر معمولی فرق ہے؟

جب وہ ان تمام باتوں کا غیر تسلی بخش جواب دے چکا تو میں نے اس سے کہا کہ زندگی میں کوئی بھی بڑا یا چھوٹا فیصلہ کرتے وقت دو باتوں کو مدنظر رکھنا چاہیے۔ پہلی بات تو یہ کہ اس فیصلے کے نتیجے میں کوئی پچھتاوا نہ ہو اور دوسری یہ کہ اس فیصلے کے نتائج اور مضمرات کا سامنا کرنے کی آپ میں ہمت اور حوصلہ ہو۔ پھر اس نوجوان سے میں نے کہا کہ اپنی شادی کے فیصلے کو ان دونوں باتوں کی چھلنی سے گزار کر دیکھو کیا ہوتا ہے؟

Read more

مفتی عزیز الرحمان کیس: آبلے پڑ گئے زبان میں کیا؟ مکمل کالم

اس واقعے کو پانچ دن گزر چکے ہیں، ابھی تک کوئی جلوس نہیں نکلا، کسی مدرسے کا گھیراؤ نہیں ہوا، کسی نے چنگھاڑتا ہوا کالم نہیں لکھا، کسی نے زہر میں بجھی ہوئی ٹویٹ نہیں کی، کسی نے شرعی سزاؤں کے نفاذ اور عملدرآمد کا مطالبہ نہیں کیا، کسی نے جمعے کے خطبے میں ملزم کا نام لے کر اس کے گھناؤنے جرم پر فتوی ٰ صادر نہیں کیا اور تحفظ دین کے کسی داعی کے ذہن میں ملزم کی گرفتاری تک دھرنا دینے کا خیال تک نہیں آیا۔ کیوں؟

وجہ ہم سب کو معلوم ہے کہ یہ واقعہ کسی جدید انگریزی اسکول میں پیش نہیں آیا، ملزم کا تعلق کسی اقلیتی برادری سے نہیں ہے، واقعے میں کوئی اداکار یا شو بز کا کوئی شخص ملوث نہیں ہے اور واقعے میں کسی نام نہاد لبرل شخص کا ذکر نہیں ہے۔ اگر ایسا کچھ ہوا ہوتا تو اب تک ملزمان کو بغیر کسی ٹرائل کے بھٹی میں جھونک دیا گیا ہوتا یا ڈنڈے مار مار کر ہلاک کر دیا گیا ہوتا یا ان کے خلاف کفر کا فتوی ٰ جاری کر دیا گیا ہوتا۔

Read more

سول سروس کا زوال (مکمل کالم)

ہماری سول سروس کے ایک افسر ہیں، صاحب کردار، کھرے اور دبنگ، قانونی اصول و ضوابط کا چلتا پھرتا انسائیکلو پیڈیا ہیں، آئین کی کوئی ایسی شق نہیں جو انہیں زبانی یاد نہ ہو اور سول سروس کا کوئی ایسا قانون نہیں جو انہوں نے گھول کر نہ پیا ہو۔ اب ریٹائر ہو چکے ہیں۔ ایک مرتبہ میں نے ان سے پوچھا کہ آپ کی اس قابلیت کا راز کیا ہے، کافی دیر تک وہ کسر نفسی سے کام لیتے

Read more

ابن رشد کا جواب (مکمل کالم)

تہافتہ الفلاسفہ میں امام غزالی نے فتویٰ دیا تھا کہ جو شخص یہ دعویٰ کرے کہ عالم قدیم ہے، خدا کو جزئیات کا علم نہیں اور حشر کے روز معاملہ اجسام سے نہیں ارواح سے پیش آئے گا (حشر اجساد کا مسئلہ) ، وہ تکفیر کا مرتکب ہو گا۔ ابن رشد نے جب تہافتہ الفلاسفہ کا جواب لکھنے کا بیڑا اٹھا یا تو ان کے پیش نظر نہ صرف امام غزالی کی علمی وجاہت تھی بلکہ یہ فتویٰ بھی تھا۔ لیکن ابن رشد نے یہ کام بلا خوف و خطر انجام دیا اور امام غزالی کے بیس نکات کا ترتیب وار جواب دے کر یہ ’ثابت‘ کیا کہ امام کا یوں کسی پر تکفیر کا الزام لگانا خود ان کی تعلیمات کے خلاف ہے۔

Read more

امام غزالی کے فلسفیوں کے خلاف بیس نکات

”میں نے ایک ایسے گروہ کو دیکھا ہے جو اپنے ہمعصروں پر محض ذکاوت کے ذریعے امتیاز حاصل کرتے تھے۔ ان کو اسلامی فرقوں سے کوئی واسطہ نہ تھا نہ عبادت سے کوئی سروکار، وہ شعائر اسلام کی تحقیر کرتے تھے اور انہوں نے تمام قیود و شریعت سے آزادی حاصل کر لی تھی۔ ان کے کفر کا صرف یہی سبب تھا کہ چند لغو باتیں ان کے کان میں پڑ گئیں تھیں۔ انہوں نے سقراط، بقراط، افلاطون، ارسطا طالیس

Read more

ہمارے نصاب میں بھی فحاشی ہے (مکمل کالم)

قوم کو مبارک ہو کہ ہم نے ایک اور سازش پکڑ لی، اس مرتبہ یہ سازش اغیار نے نہیں بلکہ اپنوں نے کی تھی اور وہ بھی بچوں کے خلاف۔ ہمیں علم ہی نہیں تھا کہ ہمارے معصوم بچوں کو سائنس کے نام پر فحش مواد پڑھایا جا رہا ہے، افسوس کہ ہم کئی دہائیوں تک اس سے بے خبر رہے، اب اللہ جانے فحش مواد پڑھنے والے ان بچوں نے بڑے ہو کر معاشرے میں کس قدر بے حیائی

Read more

الف اور ابلیس (مکمل کالم)

الف کالج میں تھا جب ابلیس سے اس کی پہلی مرتبہ ملاقات ہوئی۔ وہ اسے ایک دوست کے روپ میں ملا تھا۔ پہلا سگریٹ، پہلی انگریزی فلم اور پہلی مرتبہ پھجے کے پائے کھانے وہ ابلیس کے ساتھ ہی اس بازار میں گیا تھا جہاں اب صرف شرفا رہتے ہیں۔ شروع شروع میں الف کو ابلیس میں ہمراہی میں بہت لطف آتا تھا لیکن الف کی اس سے دوستی زیادہ دیر نہیں چلی اور کچھ ہی عرصے میں ان کی

Read more

تین ہفتے (مکمل کالم)

دروازے کے باہر ایک مرتبہ پھر کھٹکا ہوا۔ ایک گھنٹے میں یہ دوسری آواز تھی جو اُس نے سنی۔ پہلی مرتبہ جب اسے یہ آواز سنائی دی تھی تو اُس نے واہمہ سمجھ کر نظر انداز کر دیا تھا۔ مگر اِس مرتبہ اسے یقین ہو گیا کہ ہو نہ ہو یہ وہی شخص ہے جو پچھلے تین ہفتوں سے اُس کے پیچھے ہے۔ تین ہفتے پہلے اُس کی زندگی بالکل ایک عام انسان کی زندگی تھی۔ لاکھوں کروڑوں انسانوںکی طرح

Read more

اسرائیل بمقابلہ فلسطین۔ حقائق کیا ہیں؟

حقائق کیا ہیں؟ دوسری جنگ عظیم کے بعد برطانیہ مسئلہ فلسطین اقوام متحدہ کے سپرد کر گیا تھا، اقوام متحدہ نے 1947 میں فلسطین کو یوں تقسیم کیا کہ فلسطین کے ساتھ اسرائیل کا قیام بھی عمل میں آ گیا مگر یہ تقسیم ایسی تھی کہ کہیں فلسطینی علاقہ تھا تو کہیں اسرائیلی اور ان علاقوں کے ٹکڑے آپس میں گڈ مڈ تھے۔ تاہم دونوں ریاستیں رقبے میں تقریباً برابر تھیں۔ سن 48 ء میں عرب ممالک نے اسرائیل کے ساتھ جنگ چھیڑ دی، اسرائیل جنگ جیت گیا اور نتیجے میں اس نے مزید فلسطین کے مزید ایک تہائی علاقے پر قبضہ کر لیا۔

بعد میں مغربی پٹی اور یروشلم کا کچھ علاقہ اردن کے پاس جبکہ غزہ کا علاقہ مصر کے قبضے میں چلا گیا۔ فلسطینی بیٹھے بٹھائے گھر سے بے گھر ہو گئے۔ 67 ء میں پھر عرب ممالک نے اسرائیل پر حملہ کر دیا۔ اس مرتبہ اسرائیل نے غزہ، مغربی پٹی، گولان کی پہاڑیاں اور جزیرہ نما سنائی پر قبضہ کر کے تمام عرب ممالک کے کس بل نکال دیے۔ گویا 47 ء میں جن دو ریاستوں کا رقبہ برابر تھا، 67 ء میں اس میں سے ایک ریاست کا وجود ہی ختم ہو گیا جبکہ دوسری ریاست، اسرائیل، کا رقبہ قبضے کے بعد دگنے سے بھی بڑھ گیا۔

Read more

خیال کہاں سے آتا ہے؟ (مکمل کالم)

میں ہفتے کی صبح آٹھ بجے بیدار ہوتا ہوں، دماغ میں ہوتا ہے کہ آج کالم لکھنا ہے۔ پہلا ایک گھنٹہ تو اخبارات کے مطالعے میں گزر جاتا ہے، پھر سوشل میڈیا کی خبر لیتا ہوں کہ وہاں کیا ہنگامہ برپا ہے، اس کے بعد خیال آتا ہے کہ آج چھٹی ہے تو کیوں نہ براؤن بریڈ کی بجائے پراٹھے کی عیاشی کر لی جائے۔ اِس عیاشی کے بعد جب غنودگی طار ی ہونے لگتی ہے تو دل کرتا ہے

Read more

ایک قابل اعتراض اشتہار (مکمل کالم)

آج ایک عجیب معما درپیش ہے۔ ایک موضوع پر کالم لکھنا چاہتا ہوں پر سمجھ نہیں آ رہی کہ کیسے آغاز کروں۔ موضوع قطعاً اچھوتا نہیں بلکہ سچ پوچھیں تو خاصا گھسا پٹا ہے تاہم لکھتے ہوئے جو ’اصطلاحات‘ استعمال کرنی پڑیں گی انہیں سوچ کر الجھن میں ہوں۔ اگر وہ اصطلاحات استعمال کرتا ہوں تو خدشہ ہے کہ کہیں مدیر صاحب اُنہیں فحش قرار دے کر قینچی نہ چلا دیں اور اگر اُن اصطلاحات کا کوئی شریفانہ متبادل استعمال

Read more

’آدھے گنجم، آدھے بالم‘

ہم میں سے جو لوگ اسی کی دہائی میں پلے بڑھے انہوں نے پی ٹی وی کی صورت میں ایک عجیب و غریب دور دیکھا۔ ایک چینل تھا، ایک حکمران تھا اور ایک ہی قسم کی خبریں ہوا کرتی تھیں۔ میرا بچپن اور لڑکپن جنرل ضیا کی صورت دیکھتے ہوئے گزرا، اس وقت یوں لگتا تھا جیسے یہ صورتحال آنے والی صدیوں تک ایسی ہی رہے گی۔ تاہم پی ٹی وی کے تفریحی پروگراموں کا معاملہ مختلف تھا۔ پی ٹی وی کو خبروں کا طعنہ تو دیا جا سکتا ہے مگر تفریحی پروگراموں میں اس کے نمبر پورے تھے۔

Read more

ظلم کی مذمت میں بھی دوہرا معیار؟ (اضافہ شدہ کالم)

پہلا واقعہ: کابل میں ’سید الشہدا‘ نام کا ایک اسکول ہے، زیادہ تر وہاں غریب بچے بچیاں پڑھتے ہیں جو اپنی فیس بھی بمشکل ادا کر پاتے ہیں۔ آج سے تین دن پہلے ہفتے کے روزاس اسکول کے باہر ایک گاڑی میں زور دار دھماکہ ہوا، دھماکہ اتنا شدید تھا کہ بچے خوف کے عالم میں باہر نکل آئے جس کے ساتھ ہی یکے بعد دیگرے مزید دو دھماکے ہوئے اور ان معصوم بچوں کے جسموں کے چیتھڑے ہوا میں

Read more

کائنات سے پردہ اٹھ رہا ہے

میں اس وقت ایک کمرے میں بیٹھا ہوں، یہ کمرہ میرے گھر میں ہے، میرا گھر لاہور میں ہے، لاہور پاکستان میں ہے، پاکستان ایشیا میں ہے، ایشیا زمین پر واقع ہے، زمین نظام شمسی کا حصہ ہے، یہ نظام شمسی ایک کہکشاں کے ’اندر‘ ہے جس کا نام ملکی وے ہے، یہ ملکی وے ان کھربوں کہکشاؤں میں سے ایک ہے جو اس کائنات میں ہیں، یہ کائنات شاید کسی اور کائنات کے ’اندر‘ واقع ہے اور وہ کائنات کسی تیسری کائنات کے ’اندر‘ اور تیسری کائنات غالباً کسی چوتھی کائنات کے ’اندر‘ ہوگی اور یوں یہ سلسلہ ’نا تمام‘ ہی رہے گا!

یہ انسانی ذہن کی محدودیت کی ایک مثال ہے، ہمارے ذہن میں ہر شے کا تصور کسی دوسری شے کے ساتھ جڑا ہے، ہم یہ سوچ ہی نہیں سکتے کہ کوئی چیز کسی دوسری چیز سے ماورا وجود بھی رکھ سکتی ہے، ہمارا دماغ جب کسی شے کے وجود کا تعین کرنے کی کوشش کرتا ہے تو اسے کسی دوسری شے کے اندر تلاش کرتا ہے اور وہ دوسری شے ہمیں کسی تیسری شے کے اندر ملتی ہے اور یہ یوں سوچ کا ایک لامتناہی سلسلہ شروع ہو جاتا ہے جو کہیں رکتا نظر نہیں آتا۔

Read more

مولانا طارق جمیل اب فیشن انڈسٹری میں! مکمل کالم

مولانا طارق جمیل عہد حاضر کے بہت بڑے عالم دین ہیں، واعظ ہیں، مبلغ ہیں، خطیب ہیں۔ اللہ نے ان کو بہت صلاحیتوں سے نوازا ہے، آپ کا حافظہ قابل رشک ہے، سینکڑوں آیتیں، احادیث اور روایتیں آپ کو ازبر ہیں، تقریر کرتے ہیں تو سماں باندھ دیتے ہیں، ایسی فصاحت اور بلاغت سے گفتگو کرتے ہیں کہ بندہ مبہوت ہو جاتا ہے۔

اکثر اپنی تقاریر میں حور کا سراپا بیان کرتے ہیں تو مردوں کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ دنیا بھر میں آپ کے پرستار پھیلے ہیں، مولانا کہیں بھی چلے جائیں لوگ دیوانوں کی طرح ان کی طرف کھنچے چلے آتے ہیں، ان کی ایک جھلک دیکھنے کے لیے بیتاب رہتے ہیں، ان سے ہاتھ ملانے کو خوش بختی سمجھتے ہیں اور ان کی میزبانی کے لیے دل و جان سے حاضر رہتے ہیں۔

Read more

عوام کو آکسیجن چاہیے مکمل کالم

کچھ سال پہلے کی بات ہے، مجھے ایک جگہ لیکچر دینے کا موقع ملا، لیکچر کا اہتمام ریٹائرڈ افسران کی ایک انجمن نے کیا تھا اور حاضرین میں اچھے خاصے پڑھے لکھے لوگ شامل تھے۔ اس لیکچر میں کہیں اس بات کا بھی ذکر تھا کہ یہ دنیا مختلف طریقوں سے کیسے تباہ ہو سکتی ہے اور ہم اسے تباہی سے کیسے بچا سکتے ہیں! لیکچر کے اختتام پر انجمن کے کرتا دھرتا ایک ریٹائرڈ افسر نے، جنہیں غیر متعلقہ گفتگو کرنے میں ملکہ حاصل تھا، کہا کہ ہم انڈیا پر ایٹم پھینک کر اسے تباہ کر سکتے ہیں اور اس ضمن میں ہمیں جوابی حملے کا کوئی خوف نہیں ہونا چاہیے کیونکہ دنیا کے پچاس ملکوں میں پونے دو ارب مسلمان بستے ہیں، اگر یہاں دو کروڑ بندے مر بھی گئے تو کوئی فرق نہیں پڑے گا!

Read more

وحید الدین خاں جیسا کہاں سے لائیں (مکمل کالم)۔

مولانا وحید الدین خاں کا سب سے بڑا کارنامہ ان کی کتاب ’تعبیر کی غلطی‘ ہے جو ’1963 میں شائع ہوئی، اس وقت مولانا کی عمر 38 برس تھی۔ وحید الدین خاں کی یہ کتاب مولانا مودودی کی دین کی اس تعبیر کے رد میں لکھی گئی تھی جس کے تحت مودودی صاحب نے سیاسی اسلام کا پورا مقدمہ قائم کیا تھا۔ اس کتاب کی اشاعت سے پہلے مولانا نے مختلف مسلم اکابرین بشمول جماعت اسلامی ہند کے امیر مولانا ابو اللیث اصلاحی ندوی اور مولانا مودودی سے طویل خط و کتابت کی۔ یہ خط و کتابت پڑھنے سے تعلق رکھتی ہے۔

Read more

مسٹر ’فے‘ کی کمپنی (آخری حصہ)۔

پہلا حصہ: مسٹر ’فے‘ کی کمپنی (1)۔ مسٹر فے اپنی کمپنی کی بنائی ہوئی ’چِپ‘ کی کامیابی پر بہت خوش تھا، اسے یقین تھا کہ وقت گذرنے کے ساتھ یہ چِپ امیر طبقے کے علاوہ عام لوگوں میں بھی مقبول ہو جائے گی مگر اِس کے لیے ضروری تھا کہ چِپ کی پیداواری لاگت کم کی جائے اور پیدا واری لاگت کم کرنے کے لیے ضروری تھاکہ چِپ کی فروخت وسیع پیمانے پر ممکن بنائی جائے۔ مگر فی الحال یہ

Read more

مسٹر ’فے‘ کی کمپنی (1)۔

جدید مصنوعات تیار کرنے والی بین الاقوامی کمپنی نے جب اس چھوٹے سے شہر میں اپنی فیکٹری کھولنے کا اعلان کیا تو لوگوں کو خاصی حیرت ہوئی۔ ویسے تو اس شہر میں تمام سہولیات موجود تھیں مگر یہاں کبھی کوئی بڑا کارخانہ نہیں کھولا گیا تھا اور اس کی وجہ یہ تھی کہ یہ جگہ کسی صنعتی علاقے میں آتی تھی اور نہ ہی یہاں کسی قسم کی کوئی کاروباری چھوٹ میسر تھی۔ ملک کے مشہور اسکولوں کی اکا دکا شاخیں یہاں موجود تھیں، ایک جدید اسپتال تھا، ابھی حال ہی میں چند نوجوانوں نے مل کر مقامی ریڈیو چینل بھی قائم کیا تھا مگر اس کی نشریات کا دائرہ چند کلومیٹر تک محدود تھا۔

Read more

ہماری اموات اتر پردیش سے زیادہ کیوں ہیں؟ مکمل کالم

پاکستان کا اگر بھارت کی کسی ریاست سے موازنہ کیا جا سکتا ہے تو وہ اتر پردیش ہے۔ اس ریاست کی آبادی لگ بھگ پاکستان کے برابر ہے، اس میں انیس فیصد مسلمان ہیں، اسی فیصد ہندو ہیں اور باقی دوسرے مذاہب کے لوگ ہیں۔

اتر پردیش کا ماحول، وہاں کے لوگوں کی بود و باش، عوام کا مزاج، ان کے رہنے سہنے کا طریقہ، لباس، معاشرت، میل جول، طرز حکمرانی، اگر ہمارے جیسا نہیں تو کم از کم ہم سے ملتا جلتا ضرور ہے۔ میں اعداد و شمار پڑھا کر آپ کو بور نہیں کرنا چاہتا فقط چند سوالات ذہن میں کلبلا رہے ہیں جن کا جواب درکار ہے۔

Read more

ایک درویش صفت عورت کی کہانی ( 2 )

اگر آپ آج فارغ ہیں تو اردو لغت نکالیں اور اس میں درویش، صوفی اور سالک کا مطلب تلاش کریں اور پھر اسے میری کیوری کی زندگی پر منطبق کر کے دیکھیں، ان الفاظ کے معنی خود بخود آشکار ہو جائیں گے۔ مادام کیوری وہ عورت تھی جو اگر چاہتی تو اپنی سائنسی دریافت کے ذریعے جائز طریقے سے کروڑوں ڈالر کما سکتی تھی مگر اس نے ایسا نہیں کیا، الٹا جو انعامی رقم اسے زندگی میں ملی وہ فلاحی کاموں میں خرچ کر دی اور اپنی جمع پونجی سائنس کی راہ میں لٹا دی۔

Read more

ایک درویش صفت عورت کی کہانی  (مکمل کالم)

میری کیوری وہ خاتون تھی جس نے نوبل انعام کی تاریخ میں پہلی مرتبہ دو الگ الگ شعبوں، کیمیا اور طبیعات، میں انعامات حاصل کیے۔ میری کیوری کے نام سے میں بچپن میں واقف ہوا تھا، شاید کوئی مضمون نظر سے گذرا تھا جس میں لکھا تھا کہ انہوں نے ’اتفاقاً‘ ریڈیم دریافت کیا تھا۔ اُن کا یہ تعارف ذہن سے چپک کر رہ گیااور میں یہ سمجھتا رہا کہ اِس عورت کا ’تکا‘ لگ گیا جس کی وجہ سے

Read more

میری عینک، میرا ’ورلڈ ویو‘ مکمل کالم

میں اپنی نو عمری کے زمانے ایک انگریزی اخبار میں کام کیا کرتا تھا، وہ اخبار اس گروپ کا تھا جو دائیں بازو کا نظریاتی اردو اخبار نکالتا تھا سو ایک عمومی تاثر یہ تھا کہ انگریزی اخبار کی پالیسی بھی اردو اخبار جیسی ہوگی۔ تاہم حیرت انگیز طور پر یہ انگریزی اخبار اپنے اردو پیٹی بند بھائی سے بالکل مختلف تھا۔ یہ اخبار قدرے جدید رجحانات کو فروغ دیتا تھا، اس میں نسبتاً سیکولر سوچ کے حامل افراد کالم لکھتے تھے، ادارتی بورڈ میں زیادہ تر جدید وضع قطع کے انگریزی بولنے والے صحافی شامل تھے، فیشن ایبل داڑھیوں والے مدیر تھے جبکہ رپورٹنگ کا شعبہ بھی ایسے نوجوانوں پر مشتمل تھا جو اس زمانے کے حساب سے ’ماڈ سکاڈ‘ کہلاتے تھے۔

Read more

سوچ کے وائرس کی ویکسین (مکمل کالم)

پہلی مثال: ایک ڈاکٹر صاحب سے میری گفتگو ہوئی، یہ ڈاکٹر بہت قابل ہیں، امریکہ اور برطانیہ کی ڈگریاں اِن کے پاس ہیں، سانس کی بیماریوں اورانتہائی نگہداشت کے امور کے ماہر ہیں، آج کل اِن کے پاس کرونا کے مریضوں کا بہت رش ہوتا ہے۔ میں نے ڈاکٹر صاحب سے پوچھا کہ آپ روزانہ کرونا کے بیسیوں مریض دیکھتے ہیں، اَس سے آپ کو کرونا لگنے کا بہت خطرہ ہے تو کیا آپ نے ویکسین لگوا لی ہے ؟

Read more

سوچ کے وائرس کی ویکسین – مکمل کالم

پہلی مثال : ایک ڈاکٹر صاحب سے میری گفتگو ہوئی، یہ ڈاکٹر بہت قابل ہیں، امریکہ اور برطانیہ کی ڈگریاں ان کے پاس ہیں، سانس کی بیماریوں اور انتہائی نگہداشت کے امور کے ماہر ہیں، آج کل ان کے پاس کرونا کے مریضوں کا بہت رش ہوتا ہے۔ میں نے ڈاکٹر صاحب سے پوچھا کہ آپ روزانہ کرونا کے بیسیوں مریض دیکھتے ہیں، اس سے آپ کو کرونا لگنے کا بہت خطرہ ہے تو کیا آپ نے ویکسین لگوا لی ہے؟ ان کا جواب میرے لیے بہت حیرت انگیز تھا۔

کہنے لگے ”میں نے ویکسین نہیں لگوائی، میں روسی ویکسین سپوtنک کا انتظار کر رہا ہوں، اس کی تاثیر چینی ویکسین سے زیادہ ہے۔“ میں نے کہا ”ڈاکٹر صاحب، چینی اور بھارتی ویکسین کی تاثیر تقریباً برابر ہے، ہندوستانی وزیر اعظم اور ان کی کابینہ کے کچھ وزرا نے تو اپنی ویکسین ہی لگوائی ہے۔“ اس پر ڈاکٹر نے جواب دیا ”انڈیا کی بات آپ جانے دیں، وہاں کی کوئی بھی ویکسین آئی میں نہیں لگواؤں گا، ان سے کوئی بعید نہیں کہ ہم پاکستانیوں کے لیے جعلی ویکسین تیار کر کے بھیج دیں!“ اس نکتے پر میری اور ڈاکٹر صاحب کی گفتگو ختم ہو گئی۔

Read more

صالحین کے گروہ کے پاس کون سا نسخہ ہے؟ مکمل کالم

ایک منٹ کے لیے فرض کر لیں کہ کوئی معجزہ رونما ہو گیا ہے اور ملک میں صالحین کا گروہ برسر اقتدار آ گیا ہے۔ یہ بے حد نیک، مخلص، دیانتدار، متقی اور پرہیز گار بندے ہیں جنہیں مال و دولت، نمود و نمایش، طاقت و اقتدار کی کوئی خواہش نہیں۔ یہ درویش صفت لوگ ہیں جنہیں بڑی مشکل سے اس بات پر راضی کیا گیا ہے کہ آپ عنان اقتدار سنبھال لیں اور ملک کو مسائل کے گرداب سے نکال کر ترقی کی شاہراہ پر گامزن کر دیں۔ ہم اس معجزے پر تبصرہ نہیں کریں گے کہ آیا صالحین کا ایسا کوئی گروہ ملک میں وجود بھی رکھتا ہے یا نہیں اور رکھتا ہے تو اسے کیسے برسر اقتدار لایا جا سکتا ہے۔

Read more

قدرت کا نظام اور بوٹے کی خوش فہمی مکمل کالم

میرا دوست ایک امیر آدمی ہے، کئی فیکٹریوں کا مالک ہے، وہ روزانہ ان فیکٹریوں کا دورہ کرتا ہے، اپنی امارت کا حساب لگاتا ہے اور پہلے سے زیادہ دولت مند ہو کر گھر لوٹتا ہے۔ عموماً دیکھا گیا ہے کہ ایسے لوگ شاہ خرچ نہیں ہوتے مگر بوٹا بالکل بھی کنجوس نہیں۔ جی ہاں، اس کا نام بوٹا ہے۔ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ اتنے امیر کبیر آدمی کا نام بوٹا بہت عجیب ہے مگر مجھے بالکل عجیب نہیں لگتا کیونکہ جس وقت سے میں بوٹے کو جانتا ہوں اس وقت وہ سر تا پا ’بوٹا‘ تھا۔

خیر چھوڑیے، نام میں کیا رکھا ہے۔ میں بتا رہا تھا کہ بوٹے کو اللہ نے ایک سخی دل سے نوازا ہے، کوئی شخص اس کے سامنے ہاتھ پھیلا دے وہ کچھ نہ کچھ دے کر ہی رخصت کرتا ہے، فیکٹری ملازمین کی تنخواہیں نہ صرف وقت پر ادا کرتا ہے بلکہ دیگر سیٹھوں کے مقابلے میں اجرت بھی زیادہ دیتا ہے۔ کئی رفاہی ادارے اس کے مالی تعاون سے چل رہے ہیں، بے شمار اسکولوں میں قابل اور ضرورت مند بچوں کی فیس بھی بوٹا خود دیتا ہے اور یوں اس کا شما ر شہر کے مخیر حضرات میں ہوتا ہے۔

Read more

کیا پنجابی واقعی مزاحمت نہیں کرتے؟ (مکمل کالم)

میرا دوست ’الف ‘آج کل کچھ تشکیک کا شکار ہے۔ کچھ عرصہ پہلے تک جب اُس سے بات ہوتی تھی تو وہ اپنے خیالات کا اظہار قطعیت کے ساتھ کرتا تھا، اُس کی رائے دو ٹوک ہوتی تھی اور وہ پاکستانی تاریخ کے حوالے سے کسی قسم کے ابہام کا شکار نہیں لگتا تھا۔ شہاب الدین غوری اور محمود غزنوی اُس کے ہیرو تھے کیونکہ وہ مسلمان حملہ آور تھے جنہوں نے برصغیر کے ہندو حکمرانوں پر حملے کیے تھے۔

Read more

ویکسین کی دوڑ میں ہم کہاں کھڑے ہیں؟ (مکمل کالم)

دنیا میں ویکسین بنانے والی سب سے بڑی کمپنی کا نام ’سیرم انسٹیٹیوٹ پرائیویٹ لمیٹڈ‘ ہے، یہ بائیو ٹیکنالوجی اور فارماسیوٹیکل کمپنی ہے جو 1966 میں نجی طور پر قائم کی گئی تھی اور یہ بھارت کے شہر پونا میں واقع ہے۔ یہ کمپنی ایک باپ اور بیٹے کی ملکیت ہے اور اس کمپنی میں آکسفورڈ کی ویکسین ایسٹرا زینیکا تیار کر کے پوری دنیا میں سپلائی کی جا رہی ہے۔ پہلے پہل جب میں نے یہ خبر سنی تو

Read more

صحرا میں ایک رات – مکمل کالم

سنسان راستہ ہو، ویرانہ ہو، دور دور تک کوئی آبادی نہ ہو، تا حد نگاہ تاریکی ہو، کسی ذی روح کا نشان نہ ہو، سکوت ہو اور جدید زندگی کے جہاں آثار نہ ہوں۔ ایسا سفر ایک خواب تھا جو بالآخر پورا ہو گیا۔

ہم بہاولپور سے نکلے تو شام کے ساڑھے پانچ بج رہے تھے۔ مضافات میں پنجاب کا حسن اپنے جوبن پر ہوتا ہے، سرمئی دھندلکے میں لہلہاتی فصلیں ایک عجیب سی رومان انگیز فضا پیدا کر دیتی ہیں۔ قدرت سے اگر بیوپار ممکن ہوتا تو ہم ان حسین نظاروں کے عوض اپنا سب کچھ تیاگ دیتے۔ اس وقت ہماری گاڑی پنجاب کے قصبات اور دیہات کے درمیان دوڑتی ہوئی جا رہی تھی، تھکا ماندا سورج دھیرے دھیرے ڈھل رہا تھا اور شام انگڑائی لے کر بیدار ہو رہی تھی۔

Read more

مجھے اچھا لگتا ہے شوہر سے ایک قدم پیچھے چلنا۔ کیوں؟(مکمل کالم)۔

آج میرا ارادہ عورت مارچ کے خلاف لکھنے کا ہے اور اس ضمن میں مجھے اپنے پیٹی بند بھائیوں اور ان بہنوں کی مدد درکار ہے جو عورت مارچ کو مغرب زدہ این جی اوز کا یجنڈا، صیہونی سازش، غیر ملکی امداد اکٹھا کرنے کی مہم اور ہماری اخلاقی اور مذہبی اقدار پر حملہ سمجھتے ہیں۔ جو لوگ میری اس بات طنز سمجھ رہے ہیں ان کی خدمت میں گزارش ہے کہ میں گزشتہ دو دن سے پوری نیک نیتی کے ساتھ عورت مارچ کے خلاف دلائل اکٹھے کر رہا ہوں۔

Read more

حقیقت کہاں ہے، ابوالکلام سے جانیں – مکمل کالم

’مغالطہ پاکستان‘ میں ہمیں پڑھایا گیا تھا کہ کانگریس ہندوؤں کی جماعت ہے، اس جماعت میں متعصب ہندو بھرے ہیں جو مسلمانوں کو شودر سمجھتے ہیں اور مکار اور سازشی ہندوؤں کا یہ ٹولہ انگریزوں سے ساز باز کر کے ہندوستان کے مسلمانوں کو اپنا غلام بنانا چاہتا ہے۔ اچھے بچوں کی طرح ہم نے یہ باتیں رٹ لیں۔ مگر اس دوران کسی نے ہمیں یہ نہیں بتایا کہ مولانا محمد علی جوہر اور ابوالکلام آزاد جیسے جید مسلم علما ہندوؤں کی اس کانگریس پارٹی کے صدر بھی رہے ہیں۔

بڑے ہو کر جب ہمیں یہ بات پتا چلی اور ہم نے سوال اٹھایا کہ ابوالکلام جیسا عالم دین ایک متعصب ہندو پارٹی کا سربراہ کیسے بن گیا تو جواب میں ہمیں قائد اعظم کا وہ مبینہ جملہ سنا کر خاموش کروا دیا گیا کہ ’مولانا آزاد کانگریس کے شو بوائے ہیں۔‘ اس کے بعد اب کس میں ہمت تھی کہ قائد کے بیان کو چیلنج کرتا۔ چپ ہو گئے۔ حقیقت کیا تھی، یہ ہمیں ابوالکلام آزاد نے سمجھایا!

Read more

کرونا اور ہمارا رویہ: ’اس سال کے حساب کو برق آفتاب ہے‘

جیسا کہ آپ لوگ جانتے ہیں مجھ میں دو غیر معمولی خصوصیات ہیں، ایک تو میری یاد داشت بہت اچھی ہے اور دوسری۔ مجھے اس وقت یاد نہیں۔ اپنی اسی حیرت انگیز صلاحیت کا استعمال کرتے ہوئے آج میں نے ذہن پر زور دیا تو یاد آیا کہ پاکستان میں کرونا وائرس کا پہلا مریض ایک سال پہلے 26 فروری 2020 کو سامنے آیا تھا۔ اس وقت سے لے کر اب تک جو واقعات ہوئے، ان میں سے بعض بہت عجیب و غریب تھے، آج ان باتوں کو سوچیں تو لگتا ہے جیسے وہ کسی اور ہی دنیا کی کہانی ہو۔ مگر کیا وہ سب ہماری یاد داشت میں ہے جو گزشتہ ایک برس میں ہوا؟

Read more

تھل کے صحرا سے دریائے سندھ تک (مکمل کالم)

میں راستوں کا بہت کچا ہوں، کبھی کبھی تو اپنے گھر کا راستہ بھی بھول جاتا ہوں اور دوسرے شہروں کے راستے تو مجھے بالکل یاد نہیں رہتے۔ حالانکہ محبی حبیب اکرم نے، جو پورے پاکستان کو اپنے ہاتھوں کی لکیروں کی طرح جانتے ہیں، مجھے اچھی طرح سمجھایا تھا کہ ڈیر ہ اسماعیل خان جانے کے لیے جوہر آباد سے نکلنے والی سڑک لینا مت بھولنا، یہ سڑک اٹامک انرجی کمیشن سے ہوتی ہوئی آگے تھل کے ریگستان سے

Read more

کائنات کا راز پانے والے برگزیدہ بندے (مکمل کالم)۔

امریکہ میں ایک درگاہ ہے جہاں کچھ برگزیدہ لوگ سارا سال خدا کے آگے جھولی پھیلائے کھڑے رہتے ہیں۔ دن ہو یا رات، یہ وقت کی پروا کرتے ہیں اور نہ اپنے آرام کی، ان کا تمام وقت اپنے رب سے علم کی طلب میں گزرتا ہے۔ ان لوگوں کی تپسیا میں ایسی شدت ہے کہ خدا انہیں مایوس نہیں کرتا اور ان کی جھولی علم کے موتیوں سے بھرتا رہتا ہے۔ یہ برگزیدہ بندے بھی خدا کا دیا ہوا علم اپنے آپ تک محدود نہیں رکھتے اور کوشش کرتے ہیں کہ اللہ کی مخلوق کے ساتھ یہ علم بانٹا جائے، سو جس کی جتنی توفیق ہوتی ہے اپنے دامن میں موتی بھر کر لے جاتا ہے۔

Read more

وہ پانچ اہم باتیں کیا ہیں جو ہماری درسگاہیں نہیں سکھاتیں

کسی جاننے والے کا فون آیا، انہوں نے بتایا کہ ان کا بیٹا بزنس منیجمنٹ کی تعلیم حاصل کر رہا ہے، ڈگری حاصل کرنے کے لیے ضروری ہے کہ وہ کسی اچھی کمپنی میں انٹرن شپ بھی کرے سو میں یہ کام کروا دوں۔ میں نے کہا کہ آپ بیٹے کو میرے پاس بھیج دیں۔ نوجوان آیا تو میں نے اس کا مختصر سا انٹرویو لینے کی کوشش کی، وہ ہنس کر کہنے لگا کہ مجھے سچ مچ کی انٹرن شپ نہیں کرنی، ایک سرٹیفیکیٹ درکار ہے کہ میں نے فلاں کمپنی میں دو ماہ کام کیا ہے، بس اسی بنیاد پر ڈگری مل جائے گی۔

دوسرا واقعہ میرے ایک کولیگ نے سنایا جس کے پاس مختلف پروفیشنلز کو لائسنس جاری کرنے کا اختیار ہے۔ اسے کسی نے سفارشی فون کیا کہ فلاں نوجوان کو بھیج رہا ہوں، اس کا انٹرویو نسبتاً آسان کرنا۔ نوجوان آیا اور سلام دعا کے بعد بیٹھتے ہی بولا کہ سر انٹرویو تو رسمی کارروائی ہے، آپ بس لائسنس جاری کریں۔

Read more

بو علی سینا بمقابلہ امام غزالی – مکمل کالم

مسلمان فلسفی بو علی سینا نے ایک مرتبہ کہا تھا کہ ”میں نے ارسطو کی کتاب ’ما بعد الطبیعات‘ کو سمجھنے کے لیے اسے چالیس مرتبہ پڑھا اور آخر تب سمجھ آئی جب اس پر ال فارابی کا مقالہ پڑھا۔“ یہ جملہ میں نے حال ہی میں فلسفے کی ایک کتاب میں پڑھا، کتاب کا نام The History of Philosophyہے اور مصنف ہے اے سی گریلنگ۔ پروفیسر گریلنگ کی فلسفے اور دیگر موضوعات پر اب تک تیس سے زائد کتابیں شائع ہو چکی ہیں، آپ کئی برس تک گارڈین اور ٹائمز میں کالم لکھتے رہے ہیں اور 2014 میں ’مین بکر پرائز‘ کے چیئرمین رہ چکے ہیں۔

یہ کتاب جب میں نے دیکھی تو ایک خوشگوار حیرت ہوئی کہ اس میں صرف مغربی فلسفیوں کے افکار ہی نہیں بلکہ چین، ہندوستان، افریقہ اور مسلم فلسفیوں کے نظریات کا بھی احاطہ کیا گیا ہے۔ گو کہ چھ سو صفحوں کی اس کتاب میں مغربی مفکرین کا ذکر پانچ سو سے زیادہ صفحات پر پھیلا ہوا ہے اور باقی دنیا کو محض پچاس صفحوں میں بھگتا دیا گیا ہے مگر یہ بھی غنیمت ہے کیونکہ رسل سے لے کر ول دیوراں تک زیادہ تر لکھاریوں نے مغربی فلسفے پر ہی کام کیا ہے اور مسلمانوں سمیت باقی دنیا کو زیادہ لفٹ نہیں کروائی۔ اس کتاب میں بھی مسلمان فلسفیوں والا حصہ، گو کہ مختصر ہے، مگر خاصا دلچسپ ہے۔ اسی لیے اگلے روز دنبہ کڑاہی کھانے کی بجائے میں نے یہ کتاب خرید لی۔

Read more

اپنی تو قسمت ہی خراب ہے ! (مکمل کالم)

               نپولین کے بارے میں ایک واقعہ مشہور ہے کہ ایک مرتبہ کسی نوجوان کو اُس کے پاس لایا گیا، تعارف کروانے والے نے نوجوان کی بہت تعریفیں کیں اور کہا کہ یہ شخص بہت ذہین اور محنتی ہے، اِس میں قابلیت کوٹ کوٹ کر بھری ہے، جسمانی اعتبار سے بھی چوکس اور تنومند ہے، اگر نپولین اسے اپنی فوج میں شامل کر لے تو یقینا یہ نوجوان ایک اثاثہ ثابت ہوگا۔ نپولین نے تمام باتیں غور سے سنیں اور

Read more

اتائی ڈاکٹر اور اولاد کا غم

میرا دور پار کا ایک دوست ہے، سال چھ مہینے میں ایک مرتبہ اس سے ملاقات ہو جاتی ہے، جب بھی ملتا ہے تو ایسا لگتا ہے جیسے روئے زمین پر اس سے زیادہ خوش کوئی آدمی نہیں۔ بات بات پر لطیفے سناتا ہے، قہقہے لگاتا ہے، دوستوں پر جملے کستا ہے اور اگر کوئی اس پر جواباً جملہ کسے تو کھل کر داد دیتا ہے بشرطیکہ جملہ تخلیقی ہو۔ اس کی محفل میں وقت گزرنے کا پتا ہی نہیں چلتا۔ مگر اس کی ایک بات بے حد عجیب ہے۔

وہ اچانک کئی مہینوں کے لیے غائب ہو جاتا ہے۔ فون کا جواب دیتا ہے اور نہ کسی پیغام کا ۔ بلکہ اکثر تو اس کا فون ہی بند ملتا ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ وہ شہر چھوڑ کر کہیں چلا جاتا ہے۔ ایک مقامی بینک میں اس کی ملازمت ہے اور ’عرصہ روپوشی‘ کے دوران بھی وہ باقاعدگی سے اپنی ڈیوٹی پر جاتا ہے۔ یہ بات تمام دوستوں کے علم میں ہے اس لیے سب کو مزید غصہ آتا ہے، ہمیں لگتا ہے کہ وہ جان بوجھ کر ہمیں نظر انداز کرتے ہوئے رابطہ نہیں کرتا لہذا ہم اس رویے کو بدتہذیبی پر محمول کرتے ہیں۔

Read more

سر گنگا رام کا مجسمہ (مکمل کالم)

اتوار کی صبح ہم گاڑی لے کر نکل جاتے ہیں اور پرانے لاہور کی گلیوں اور اندرون شہر کے محلوں میں گھومتے ہیں۔ کبھی کوئی پرانا مزار اپنی جانب کھینچ لیتا ہے توکہیں کوئی اجڑا ہوا باغ راستے میں آ جاتا ہے، کبھی کسی مندر کی باقیات دکھائی دے جاتی ہیں تو کہیں مسجد کے میناروں سے روشنی پھوٹتی نظر آجاتی ہے، کبھی کسی قدیم حویلی کی کشش کھینچ کے لے جاتی ہے تو کہیں کسی چوبارے پہ تاریخ آواز

Read more

کرونا اور کائناتی اہمیت کا مغالطہ (مکمل کالم)

یہ کائنات کس قدر پراسرار اور عظیم الشان ہے اور اِس میں ہماری کیا اوقات ہے، اِس بات کا اندازہ یوں لگایا جا سکتا ہے کہ آج سے قریباً تیرہ ارب سال پہلے جب یہ کائنات وجود میں آئی تو اُس’ لمحے میں وقت صفر تھا ‘ اور مادہ بھی کوئی وجود نہیں رکھتا تھا، سائنس دان اُس ’لمحے ‘کو singularity کہتے ہیں۔ آج اگر ہم singularity کی تخلیق کا ادراک کرنا چاہیں تو سب سے پہلے ہمیں پروٹون کے

Read more

دولت مندوں کے بارے میں تین غلط فہمیاں (مکمل کالم)

کسی زمانے میں چینی فلسفی کنفیوشس کا یہ قول میرا پسندیدہ ہوا کرتا تھا کہ زندگی میں وہ کام کرو جس کا تمہیں شوق ہے پھر تمہیں کوئی کام نہیں کرنا پڑے گا۔ اِس بات سے قطع نظر کہ اُس مرد دانانے یہ بات کہی تھی یا نہیں، اِس قول کے ساتھ کنفیوسش کا نام جڑا تھا اِس لیے کبھی اختلاف کی جرات ہی نہیں ہوئی۔ لیکن آج جنوری کی دھوپ سینکتے ہوئے اچانک خیال آیا کہ کیوں نہ استاد

Read more

کچھ Non offensive مزاح کے بارے میں (مکمل کالم)

گاؤں کے چودھری کی شادی تھی، مراثی کو بھی دعوت ملی، وہ خوش خوش پہنچ گیا کہ گوشت کھانے کو ملے گا مگر جب کھانا پیش کیا گیا تو مراثی کے حصے میں فقط شوربہ ہی آیا، بوٹی نہ ملی۔ مراثی نے پھر سالن مانگا تو دوبارہ اس کی پلیٹ شوربے سے بھر دی گئی، دو تین مرتبہ جب ایسا ہی ہوا تو مراثی نے سالن کی پلیٹ پرے رکھی اور چودھری کے بیٹے کو آواز دے کر کہا ”پتر،

Read more

سپینوزا کا خدا کس کام کا ہے؟ (مکمل کالم)

یہ واقعہ آپ نے بھی سن رکھا ہوگا کہ آئن سٹائن سے کسی نے پوچھا کہ کیا آپ خدا پر ایمان رکھتے ہیں؟ وقت کا دھارا بدلنے والے سائنس دان نے جواب دیا ”میں سپینوزا کے خدا کو مانتا ہوں۔“ مراد یہ تھی کہ میں ایسے غیر شخصی خدا کو مانتا ہوں جو کائنات کا خالق تو ہو سکتا ہے مگر انسانوں کی زندگیوں میں دخیل نہیں ہے، دنیاوی معاملات میں مداخلت نہیں کرتا، معجزے تخلیق نہیں کرتا اور دعاؤں

Read more

’تم منٹو کو نہیں جانتے‘ (مکمل کالم)

’چراغوں کا دھواں‘ میں انتظار حسین نے منٹو کے متعلق ایک دلچسپ واقعہ لکھا ہے، انہی کی زبانی سنیئے : ”جلسہ ابھی شروع نہیں ہوا تھا۔ لوگ رفتہ رفتہ آ رہے تھے۔ مگر منٹو صاحب پہلے سے آئے بیٹھے تھے۔ منٹو صاحب کو میں نے اس سے پہلے کبھی نہ انجمن کے جلسہ میں دیکھا تھا نہ حلقہ کے جلسے میں۔ جانے کس رو میں یہاں آ گئے تھے۔ پروگرام میں ان کا افسانہ تو تھا نہیں۔ یا شاید ہو۔

Read more

عفریت اور بونوں کا شہر – مکمل کالم

اس چھوٹے سے شہر میں یہ واقعہ بہت عجیب تھا اس لیے بات جلدی پھیل گئی۔ شہر کی ایک گمنام سی بستی کو جانے والے راستے پر ایک آدمی تقریباً بیہوشی کی حالت میں سڑک کے کنارے پڑا ہوا ملا۔ یہ کوئی ایسی غیر معمولی بات نہیں تھی۔ اکثر لوگ یوں سڑک پر گرے پڑے مل جاتے ہیں، ان میں سے زیادہ تر لوگ نشے کی زیادتی کی وجہ سے اس حالت کو پہنچتے ہیں اور کچھ ایسے بھی ہوتے ہیں جن کا کوئی مستقل ٹھکانہ نہیں ہوتا۔ سڑک پر لڑھک جانے کی وجہ سے کبھی کبھار ایسا کوئی شخص تیز رفتار گاڑی کی زد میں آ بھی جاتا ہے۔

Read more

انقلابی لطیفے نظام ہضم کو درست رکھتے ہیں (مکمل کالم)

کمیونسٹ پارٹی کی ایک ذیلی تنظیم نے فیصلہ کیا کہ انہیں انقلاب عظیم کی سالگرہ منانی چاہیے، چنانچہ ایک شاندار تقریب کا اہتمام کیا گیا جس میں پارٹی کے چیئرمین نے تقریر کرتے ہوئے کہا کہ ”میرے کامریڈ دوستو، ذرا دیکھو انقلاب کے بعد ہماری پارٹی نے کیسے لوگو ں کی زندگیاں بدل دی ہیں۔ اماں مشکایا کی مثال آپ کے سامنے ہے، یہ بیچاری اس قدر غریب تھی کہ اس کے پاس کپڑوں کا صرف ایک جوڑا تھا اور

Read more

دائیں بازو کے جذباتی لکھاری، بائیں بازو کے منطقی دانشور اور پانچ واقعات

پہلا واقعہ۔ 3 جنوری کی صبح بلوچستان کے علاقے مچھ میں کوئلے کی کان میں کام کرنے والے گیارہ مزدور اپنے جھونپڑی نما مکان میں سوئے رہے تھے کہ اچانک کچھ مسلح افراد نے ان پر دھاوا بول دیا۔ بندوق کی نوک پر ان بد حال مزدوروں کے ہاتھ پیر باندھے گئے، انہیں گولیاں ماری گئیں اور پھر انہیں کسی جانور کی طرح ذبح کر کے اس عمل کی ویڈیو بنا کر انٹر نیٹ پر چڑھا دی۔ قتل ہونے والے مظلوموں کا تعلق شیعہ ہزارہ برادری سے تھا جبکہ قتل کی ذمہ داری داعش نے قبول کی۔

دوسرا واقعہ۔ چند ہفتوں سے ٹی وی چینلز پر ایک اشتہار نشر کیا جا رہا تھا جس میں ایک پاکستانی مرد اداکار کسی قوت بخش وٹامن کی تشہیر کرتا ہوا کہتا تھا کہ یہ صرف مردوں کے لیے ہے۔ سنا ہے کہ اب سے چند گھنٹے پہلے پیمرا نے اس بیہودہ اور فحش اشتہار کے نشر کرنے پر پابندی لگا دی ہے۔ تیسرا واقعہ۔ 30 دسمبر کو خیبر پختونخوا کے ضلع کڑک میں انتہا پسندوں کے ایک ہجوم نے ہندوؤں کی ایک مقدس ہستی کی سمادھی اور اس میں واقع مندر کو تباہ کر کے آگ لگادی اور اسی جگہ پر واقع ہندو برادری کے ایک زیر تعمیر مکان کو بھی مسمار کر دیا۔

چیف جسٹس جناب گلزار احمد نے فوری طور پر واقعے کا ازخود نوٹس لیتے ہوئے مندر کی از سر نو تعمیر کا حکم دیا ہے۔ کئی سال بعد تاریخ میں شاید یہ پہلا موقع ہے جب از خود نوٹس کے اختیار کا درست استعمال کیا گیا ہے۔ چوتھا واقعہ۔ 2 جنوری کو اسلام آباد میں اکیس سالہ نوجوان اسامہ ستی کو پولیس نے ناکے پر روکنے کی کوشش کی اور گاڑی نہ روکنے پر چاروں طرف سے گولیوں کی بوچھاڑ کر کے موقع پر اس نوجوان کو ہلاک کر دیا۔ نوجوان کی جتنی عمر تھی اتنی ہی اسے گولیاں ماری گئیں۔

مقتول کے والد کے مطابق چند دن پہلے اسامہ کی پولیس اہلکاروں سے تلخ کلامی ہوئی تھی اور پولیس نے اسے ’مزا چکھانے‘ کی دھمکی دی تھی۔ پانچواں واقعہ۔ 22 دسمبر کو بلوچستان سے تعلق رکھنے والی خاتون کریمہ بلوچ ٹورنٹو میں اچانک مردہ حالت میں پائی گئیں۔ مس بلوچ پانچ برس سے کینیڈا میں خود ساختہ جلا وطنی کی زندگی گزار رہی تھیں۔ ان کی موت کی خبر کے چند ہی گھنٹوں بعد ٹورنٹو پولیس نے بیان دیا کہ اس واقعے میں کسی قسم کے جرم کے شواہد نہیں ملے۔

یہ پانچ مختلف واقعات ہیں، ان کا آپس میں کوئی تعلق نہیں، اسی لیے یہ واقعات لکھتے ہوئے میں نے کسی ترتیب کا خیال نہیں رکھا۔ بطور لکھاری یہ میری ’صوابدید‘ ہے کہ میں کس واقعے کو موضوع بناؤں اور کس زاویے سے اس پر لکھوں۔ لیکن جب بھی کوئی لکھاری اپنے صوابدیدی اختیار کا استعمال کرتے ہوئے موضوع کا انتخاب کرتا ہے تو ساتھ ہی وہ قاری پر اپنی ترجیحات، نظریات اور انداز فکر بھی واضح کر دیتا ہے۔ پہلے واقعے سے شروع کرتے ہیں۔ شاید ہی کوئی کالم نگار ہو جس نے اس موضوع پر ماتم نہ کیا ہو، لیکن محض نوحہ لکھنا کافی نہیں، یہ زاویہ دکھانا بھی ضروری ہے کہ یہ داعش ہمارے

ملک میں کہاں سے آئی، اس کی ہمدرد اور ہم خیال تنظیمیں کون سی ہیں، یہ کون لوگ ہیں جو مذہب کے نام پر سفاکی سے قتل کو جائز سمجھتے ہیں اور کیوں ہمارے وہ دوست جنہیں ذرا سی بھی آزاد خیالی برداشت نہیں، اس مذہبی جنونیت پر منہ میں گھنگنیاں ڈال کر بیٹھ جاتے ہیں اور اگر بولتے بھی ہیں تو یوں کہ داعش جیسی کسی تنظیم کی دل آزاری نہ ہو۔ کسی موضوع پر محض لکھنے سے حق ادا نہیں ہو جاتا بلکہ دیکھا یہ جاتا ہے کہ لکھنے والے نے کیا لکھا ہے۔

میرے پاس بھی یہ اختیار موجود ہے کہ جس اشتہار پر پیمرا نے پابندی لگائی اس پر لکھوں اور کہوں کہ یہ پابندی ٹھیک لگی ہے، اس قسم کے اشتہارات ٹی وی پر نہیں چلنے چاہئیں کہ یہ اشتہارات تو مغربی ممالک میں بھی رات کو ایک مخصوص وقت کے بعد نشر کیے جاتے ہیں مگر پھر سوچا کہ کیا میری ترجیح یہ اشتہار ہے یا کڑک میں تباہ کیا گیا مندر جس نے میرے ملک کا تاثر برباد کر دیا! مندر کو آگ لگائی گئی، سمادھی جلا دی گئی، ایک ہم وطن ہندو کا گھر مسمار کر دیا گیا۔ کیا اس موضوع پر لکھنے کا ٹھیکہ صرف وجاہت مسعود کا ہے؟ مذہبی رجحان رکھنے والے ہمارے دوست اس پر کیوں نہیں لکھتے؟ انہیں اس ضمن میں کیا امر مانع ہے؟ کیوں اس موضوع پر ویسے ہی پھنکارتے ہوئے کالم نہیں آئے جیسے عورت مارچ کے پلے کارڈ پر درج نعروں کے خلاف آتے ہیں؟

چوتھے واقعے پر بھی میڈیا میں بہت کچھ لکھا اور کہا گیا ہے۔ یہ موضوع ایسا ہے جس پر مرد حر بننا قدرے آسان ہے کیونکہ مجرمان پولیس اہلکار ہیں۔ اس واقعے کی تفصیلات پڑھیں تو روح کانپ جاتی ہے کہ کیسے سفاک پولیس والوں نے گولیوں کی بوچھاڑ کر کے اس نوجوان کو چھلنی کر دیا۔ پولیس کی جاری کردہ پریس ریلیز اور بعد ازاں عدالت میں بیانات سے صاف لگتا ہے کہ کسی کو اپنے کیے پر پشیمانی نہیں۔ اور وجہ اس کی یہ ہے کہ یہ پہلا واقعہ ہے نا آخری۔

خروٹ آباد سے لے کر حیات بلوچ کے قتل تک اگر کسی کو سزا ہو جاتی تو شاید یہ پولیس والے گولیاں مارنے سے پہلے کچھ سوچتے۔ لیکن جس معاشرے میں سی سی پی او کی ذہنی پستی قابل رحم ہو وہاں گریڈ سات کے نیم خواندہ کانسٹیبل کے ہاتھ میں خود کار اسلحہ اسی قسم کے بہیمانہ قتل کے کام ہی آئے گا۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ایسے حالات میں بھی ریاست سے محبت غیر مشروط ہوتی ہے؟ اس سوال کا جواب اسامہ ستی کے والد، ہزارہ برادری کے پسماندگان اور ہندو ہم وطنوں سے لینا چاہیے، ہم لکھاری اس بات کا جواب نہیں دیں گے کیونکہ ہمارے پاس لکھنے کے لیے اور بہت سے ’اہم موضوعات‘ ہیں۔

اب کچھ بات پانچویں واقعے کی بھی ہو جائے۔ جس روز کریمہ بلوچ کی ’پراسرار‘ موت کی خبر آئی، ٹویٹر پر اس کا ٹرینڈ چل گیا اور بہت سے بائیں بازو کے لکھاریوں نے مس بلوچ کی موت کو قتل قرار دیا۔ میں یہ بات سمجھنے سے قاصر ہوں کہ کس بنیاد پر انہوں نے یہ رائے قائم کی! ٹورنٹو پولیس نے دو ٹوک الفاظ میں ایسے کسی امکان کو رد کر دیا تھا مگر ہمارے یہ دانشور دوست مسلسل یہ تاثر دیتے رہے کہ مس بلوچ کو ان کے بلوچ قوم پرست خیالات کی پاداش میں یقیناً قتل ہی کیا گیا ہوگا۔ عام حالات میں یہ لوگ عقلی دلائل سے کام لیتے ہیں اور یہی بات انہیں دائیں بازو کے جذباتی لکھاریوں سے ممتاز کرتی ہے مگر اس معاملے میں انہوں نے جذبات سے کام لیا اور یہ نہیں سوچا کہ ہم جمال خشوگی قتل کے بعد کے

عہد میں ہیں، یہ ممکن نہیں کہ کینیڈا جیسے ملک میں جلا وطنی کی زندگی گزارتی ہوئی کسی عورت قتل کر دیا جائے اور ٹورنٹو پولیس اس کی پردہ پوشی کرنے کی کوشش کرے۔ آج سے دس سال پہلے لندن میں عمران فاروق کا قتل ہوا تھا، سکاٹ لینڈ یارڈ نے تفتیش کی اور بالآخر گزشتہ برس مجرمان کو سزا ہوئی۔ عرض صرف اتنی ہے کہ جس طرح مذہبی رجحان رکھنے والوں پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ مذہب کے نام پر ہونے والی دہشت گردی اور جنونیت کی دوسرے لکھاریوں سے بڑھ کر مذمت کیا کریں اسی طرح بائیں بازو کے آزاد خیال دانشوروں پر بھی اتنی ہی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنے نظریات کے ہاتھوں یرغمال بننے کی بجائے حقائق کو پرکھا کریں اور درست بات کہنے سے نہ ہچکچایا کریں چاہے وہ بات ان کے نظریات سے میل نہ کھاتی ہو۔ کبھی کبھی بزم مے سے تشنہ کام آنے میں بھی کوئی حرج نہیں!

Read more

ایک دن، دو جنازے

میں نے آج کے کالم کی پہلی دو سطریں ہی لکھی تھیں کہ برادرم اجمل شاہ دین کا میسج موصول ہوا۔ ”رؤف طاہر صاحب فوت ہو گئے ہیں۔“ یوں لگا جیسے یک دم آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھا گیا ہو، میں نے باقاعدہ آنکھیں مل کر دوبارہ پیغام پڑھا مگر میرے آنکھیں ملنے سے بھلا پیغام کیسے بدل سکتا تھا۔ میں نے فوراً اجمل کو فون ملایا، انہوں نے بدقت تمام اتنا بتایا کہ ابھی ڈیڑھ گھنٹہ پہلے ساڑھے دس بجے کے قریب رؤف صاحب آن لائن کلاس لے رہے تھے، کلاس ختم ہوئی تو ساتھ ہی ان پر سکتہ سا طاری ہو گیا، فوراً ایمبولنس میں انہیں قریبی اسپتال لے جایا گیا، وہاں پہنچے تو پتا چلا کہ ہارٹ اٹیک سے موت تو پہلے ہی واقع ہو چکی ہے۔

Read more

شاباش تم کر سکتے ہو کی موٹی ویشن۔ مائی فٹ!

زی ہمارا کالج کے زمانے کا دوست ہے، اچھا خاصا معقول آدمی ہے، پڑھائی لکھائی میں بھی ٹھیک تھا، بہت زیادہ ذہین تو نہیں کہہ سکتے البتہ غبی یا نالائق بالکل نہیں تھا، آپ اسے اوسط سے کچھ اوپر درجے کے لوگوں میں بھی شامل کر سکتے ہیں۔ کالج کی تعلیم کے بعد اس نے وہی کیا جو سب کرتے ہیں، نوکری کی تلاش، ایک یونیورسٹی میں لیکچرر کی آسامی نکلی تو وہاں درخواست بھجوا دی۔ انٹرویو کے لیے بلاوا آ گیا۔ اس سے پہلے دو درجن امیدوار وہاں اسی نوکری کے لیے موجود تھے۔

ابھی دس امیدواروں کے انٹرویو ہی مکمل ہوئے تھے کہ اچانک اس یونیورسٹی میں کوئی ہنگامہ شروع ہو گیا، منتظمین نے باقی انٹرویو منسوخ کر دیے اور امیدواروں سے کہا کہ انہیں اگلی تاریخ سے آگاہ کر دیا جائے گا۔ لیکن وہ اگلی تاریخ کبھی نہیں آئی۔ جتنے امیدواروں کے انٹرویو کیے گئے تھے انہی میں سے ایک شخص کو بلا کر نوکری کا پروانہ دے دیا گیا۔ جس خوش نصیب کو وہ نوکری ملی، کسی زمانے میں وہ ہمارے دوست زی کا ہم جماعت تھا اور کسی بھی طرح زی سے زیادہ قابل نہیں تھا۔

Read more

زندگی کو عذاب بنانے کا طریقہ(مکمل کالم)

میرے پلنگ کے ساتھ ایک چٹائی بچھی ہے، اس پر میں نے بجلی کی ایکسٹینشن رکھی ہوئی ہے، توسیعی تار کا دوسرا سرا ایک ساکٹ میں ہے جہاں سے اسے بجلی کی رو ملتی ہے۔ کچھ عرصہ پہلے تک جب بھی مجھے اپنا فون چارج کرنے کی ضرورت پیش آتی، میں پلنگ پر لیٹے لیٹے ہی اسے ایکسٹینشن میں لگا دیتا تھا۔ بظاہر اس سارے نظام میں کوئی خرابی نہیں تھی مگر جب بھی میں پلنگ سے اترتا تو میرے

Read more

ویکسین لگوائیں یا تعویذ گھول کر پئیں؟

ہمیں تو بتایا گیا تھا کہ یہ وائرس بائیولوجیکل جنگ کا ہتھیار ہے، ہمیں تو کہا گیا تھا کہ یہ بل گیٹس کی ویکسین بیچنے کی سازش ہے، ہمیں تو سمجھایا گیا تھا کہ یہ خدا کا عذاب ہے، ہمیں تو دلاسا دیا تھا کہ یہ وائرس سنا مکی، شہد، زیتون کے تیل اور دو چار کھجوریں کھانے سے ’فوت‘ جاتا ہے۔ اب ’خداوند یہ تیرے سادہ دل بندے کدھر جائیں!‘ ویکسین لگوائیں یا تعویذ گھول کر پئیں؟

Read more

مسٹر جناح۔ ۔ مفلس سے ارب پتی ہونے کا سفر (مکمل کالم)

مولانا ابو الکلام آزاد ’انڈیا ونز فریڈم ‘ میں لکھتے ہیں کہ گاندھی جی کے ساتھ ایک احمق قسم کی عورت ہوا کرتی تھی، اُس کا نام امت السلام تھا، اُس کی حماقتیں اپنی جگہ مگر وہ تھی نیک نیت۔ اُس نے دیکھا کہ کچھ اردو خبارات جناح صاحب کو ’قائد اعظم‘ بھی لکھتے ہیں۔ جب مہاتما گاندھی نے جناح صاحب کو ملاقات کی دعوت کے لیے خط لکھنا تھا تو اُس عورت نے گاندھی جی کو بتایا کہ انہیں

Read more

میں، میں، میں۔۔۔

کسی بیگانی شادی میں اجنبی لوگوں کے درمیان پکی سی شکل بنا کر بیٹھنے سے زیادہ بورنگ کوئی کام نہیں ۔ ویسے تو میں خاصا آدم بیزار قسم کا آدمی ہو ں، خواہ مخواہ کسی سے گفتگو کا آغاز نہیں کرتا مگر ایسے میں اگر کوئی خوش اخلاقی سے ابلتا ہوا میزبان کسی دوسرے مہمان سے تعارف کروا دے تو بات شرو ع ہو ہی جاتی ہے ۔شادی ہو، مرگ ہو، جہاز میں برابر والی نشست کا مسافر ہو، ڈاکٹر

Read more

جنرل نیازی کا آرام دہ بستر (مکمل کالم)

کیا 16 دسمبر 1971 کو جنرل امیر عبداللہ نیازی کا ڈھاکہ کے پلٹن میدان میں بھارتی جرنیل کے سامنے ہتھیار ڈالنے کا فیصلہ درست تھا؟ کیا جنرل نیازی کے پاس ہتھیار ڈالنے کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ بھی تھا؟ کیا جنرل نیازی کو ہتھیار ڈالنے کا براہ راست حکم دیا گیا تھا اور اگر ایسا کوئی حکم دیا گیا تھا تو اس کی قانونی حیثیت کیا تھی؟ یہ وہ سوال ہیں جو ہر سال 16 دسمبر کو زندہ ہو جاتے

Read more

نکاح کے ساتھ بھی۔ توبہ توبہ! (مکمل کالم)

مفتی منیب الرحمن صاحب نہ صرف بڑے عالم دین ہیں بلکہ عمدہ لکھاری بھی ہیں، اس بات کا ثبوت ان کے کالم ہیں جن میں شگفتگی بھی ہوتی ہے اور طنز کی کاٹ بھی، غالب جیسے ’آدھے مسلمان‘ کو بھی ’کوٹ‘ کرتے ہیں اور فیض جیسے ’کمیونسٹ‘ کو بھی، کالم میں حسب ضرورت شگوفے بھی بکھیرتے ہیں اور حسب توفیق پھبتیاں بھی کستے ہیں۔ بہت کم لوگوں کو اس بات کا علم ہوگا کہ آج سے چودہ سال پہلے جب

Read more

کچھ دوستی اور بریک اپ کے بارے میں۔ مکمل کالم

اس روز الف سے میری گرما گرم بحث ہو گئی۔ بحث تو پہلے بھی ہوتی تھی مگر اس مرتبہ کسی قدرے تلخی ہو گئی۔ حالانکہ بات کچھ بھی نہیں تھی۔ ہم دونوں ایک ریستوران میں بیٹھے کافی پی رہے تھے، سورج ڈوب چکا تھا اور شام کے سائے گہرے ہو رہے تھے، دسمبر کی خنکی ابھی اتنی نہیں بڑھی تھی کہ آتش دان کی ضرورت پڑتی۔ موضوع کچھ خاص نہیں تھا، ہم ادھر ادھر کی باتیں کر رہے تھے اور باتوں ہی باتوں میں نہ جانے کب ہمارے لہجوں میں کڑواہٹ آ گئی اور ہم نے ایک دوسرے کو بلاوجہ طعنے دینے شروع کر دیے۔

اب یاد کرتا ہوں تو مجھے لگتا ہے جیسے ہمارے دلوں میں شاید پہلے سے کوئی کدورت تھی جو اس روز رنجش کا سبب بن گئی۔ بہرحال جو بھی ہوا، اس روز کے بعد ہم نے ایک دوسرے کو فون نہیں کیا۔ یوں لگا جیسے برسوں پرانا ہمارا تعلق چند منٹوں میں ختم ہو گیا ہو۔ میں نے دل میں سوچا کیا یہ تعلق کیا اتنا ہی کمزور تھا کہ ایک جھٹکا بھی نہ سہ سکا۔ مگر پھر ایک عجیب بات ہوئی۔ چند روز بعد میں گھر سے خریداری کی غرض سے نکلا، جس دکان سے میں عموماً خریداری کرتا ہوں وہاں کا سیلز مین میرا جاننے والا ہے، اس نے کہا کہ اگر آپ ہماری دکان کا رعایتی کارڈ بنوا لیں گے تو آئندہ ہر خریداری پر آپ کو دس فیصد بچت ہو گی۔

Read more

نیل آرمسٹرونگ کا اسلام قبول کرنا – مکمل کالم

1983 میں ملائشیا اور سری لنکا کے اخبارات میں ایک خبر شائع ہوئی کہ چاند پر قدم رکھنے والے پہلے خلاباز نیل آرمسٹرونگ جب چاند پر گئے تو انہوں نے وہاں ایک آواز سنی، پہلے تو انہوں نے اسے واہمہ خیال کیا مگر پھر ان کے ساتھیوں نے بھی اس آواز کو صاف سنا۔ بعد ازاں جب وہ مختلف ممالک میں لیکچر دینے گئے تو قاہرہ بھی ان کا جانا ہوا اور انہوں وہی آواز سنی، پوچھنے پر معلوم ہوا کہ یہ تو اذان کی آواز ہے، ہو بہو وہی جو انہوں نے چاند پر سنی تھی۔ یہ سن کر انہیں بہت تعجب ہوا اور انہوں نے اسلام کے بارے میں تحقیق و مطالعہ شروع کیا اور بالآخر متاثر ہو کر اسلام قبول کر لیا۔ یہ خبر بعد میں دنیا کے دیگر اخبارات نے بھی نقل کر کے شائع کی اور یوں پوری دنیا میں پھیل گئی۔

مولانا وحید الدین خان اپنی کتاب ”اسباق تاریخ“ میں یہ واقعہ بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ جب میں نے یہ خبر پڑھی تو نیل آرمسٹرونگ کو خط لکھ کر اس خبر کی بابت پوچھا۔ جواب میں نیل آرمسٹرونگ نے ذاتی دستخطوں سے خط کا جواب دیا اور لکھا: ”آپ کے خط کا شکریہ۔ میرے اسلام قبول کرنے کی خبریں، اذان کی آواز کو چاند پر اور اس کے بعد قاہرہ میں سننا، سب خلاف واقعہ ہیں۔ میں کبھی مصر نہیں گیا۔ ملائشیا، انڈونیشیا اور دوسرے مقامات کے کچھ رسالوں اور اخبارات نے یہ خبریں بغیر تصدیق کیے ہوئے چھاپی ہیں۔ اس اہل صحافت نے آپ کو جو بھی زحمت دی ہو اس کے لیے میں معذرت چاہتا ہوں۔ خلوص کے ساتھ۔ نیل آرمسٹرونگ۔“ مولانا وحید الدین لکھتے ہیں کہ ’کیسی عجیب بات ہے کہ مسلمانوں نے آرم سٹرونگ اور ان جیسے دوسرے بندگان خدا کے سلسلہ میں اپنی ذمہ داریوں کو تو پورا نہیں کیا۔ البتہ فرضی کہانیاں بنا کر خوش ہو رہے ہیں کہ چاند سے لے کر امریکی خلاباز تک سب کو ان کے دین اعظم نے فتح کر رکھا ہے۔

Read more

جوا کھیلنے کا ’اصول‘ ۔ مکمل کالم

رولیٹ جوئے کی ایک قسم ہے جو ایک پہیہ نما چرخی کے ذریعے کھیلا جاتا ہے، چرخی میں سینتیس خانے بنے ہوتے ہیں اور ہر خانے میں ایک سے لے کر چھتیس تک ہندسے درج ہوتے ہے جبکہ ایک خانہ صفر کے ہندسے کا ہوتا ہے۔ کھیلنے کا طریقہ یہ ہے کہ چرخی کو گھمایا جاتا ہے اور ساتھ ہی ایک چھوٹے سے گیند کو مخالف سمت میں پھینکا جاتا ہے۔ جواری اس بات پر شرط لگاتے ہیں کہ گیند کس ہندسے میں آ کر ٹکے گی۔ اگر جواری کا بتایا ہوا ہندسہ درست ثابت ہو جائے تو اسے ایک ڈالر کے عوض پینتیس ڈالر ملتے ہیں اور ساتھ میں اس کا ڈالر بھی۔

بظاہر یہ کھیل بہت پر کشش ہے مگر حقیقت یہ ہے کہ ہر شرط میں جواری کی ہار کا امکان سینتیس میں سے چھتیس مرتبہ ہے۔ ویسے تو یہ بالکل سامنے کی بات ہے مگر فقیر کی عقل چونکہ کم ہے اس لیے فقیر کو تب سمجھ آئی جب یہ بات The Drunkard ’s Walk میں پڑھی اور ساتھ میں ایک دلچسپ واقعہ بھی جس نے ہمیشہ کے لیے دماغ میں Probability Theory (نظریہ احتمال (کا تصور واضح کر دیا۔ جوزف جیگر نامی ایک شخص نے 1873 میں ایک عجیب و غریب فیصلہ کیا۔

Read more

جنگل میں بھٹکتے ہوئے – مکمل کالم

مجھے اس جنگل میں گھومتے ہوئے دو گھنٹے ہو گئے تھے، شاید میں راستہ بھول چکا تھا۔ ٹھنڈ میری ہڈیوں میں سرایت کر رہی تھی اور خون رگوں میں جما ہوا محسوس ہو رہا تھا۔ کچھ دیر پہلے تک سائیں سائیں کرتا ہوا جو جنگل مجھے رومانوی لگ رہا تھا اب اسی ویرانی سے مجھے وحشت ہو رہی تھی۔ شروع سے ہی مجھے ویران جگہوں پہ جانے کا شوق تھا مگر یہ جنگل کوئی ایسا ویران بھی نہیں تھا۔ یہ شہر کے نواح میں واقع تھا اور اس جنگل کی سیر کا مشورہ مجھے میرے ایک دوست نے دیا تھا، اس نے کہا تھا کہ اگر میں نے جنگل میں خیمہ لگا کر رات نہ گزاری تو سمجھو زندگی میں کوئی ایڈونچر نہیں کیا۔

مجھے ایڈونچر سے نفرت ہے، خاص طور پر ایسے ایڈونچر سے جس سے بچ نکلنے کا کوئی طریقہ نہ ہو۔ خیر اب کیا ہو سکتا تھا۔ شام ہو چکی تھی، کچھ ہی دیر میں اندھیرا چھانے والا تھا اور سردی بڑھتی جا رہی تھی۔ میں نے جیکٹ میں کے تمام بٹن ٹٹولے، سب اوپر تک بند تھے۔ خوش قسمتی سے میں چمڑے کے دستانے پہننا نہیں بھولا تھا اور سفری تھیلا بھی میرے پاس تھا جس میں چند ضروری ادویات اور چھوٹا سا پاور بینک بھی تھا۔ میں نے اپنے موبائل کی بیٹری چیک کی، اس کی طاقت تو ٹھیک تھی مگر رابطے کے سگنل مفقود تھے۔

Read more

کانٹ نے محض وقت ہی ضائع کیا

میں نے خود سے عہد کیا تھا کہ کم از کم ایک ماہ تک آپ کو فلسفے کے موضوع پر بور نہیں کروں گا اور ما بعد الطبیعات اور بدیہی اور تجربی علم کا فرق بتانے کی بجائے چٹ پٹے قصے سنا کر یا اپنی پارسائی کا کوئی واقعہ لکھ کر کالم کا پیٹ بھر دوں گا۔ مگر افسوس میں اپنا یہ عہد نبھا نہیں پاؤں گا۔ اس کی دو وجوہات ہیں۔ ایک تو یہ کہ میرے پاس سنانے کے لیے اپنی عظمت کی کوئی داستان نہیں۔ اور دوسرے، کئی سا ل بعد با لآخر مجھے بدیہی اور تجربی علم کا فرق سمجھ میں آ گیا ہے۔

دنیا میں اگرکوئی ایسا فلسفی پیدا ہو جائے جو کائنات کی تخلیق اور خدا کے وجود جیسے دقیق سوالات کا جواب تلاش کرنے کا ایسا ٹھوس طریقہ بتا دے جس کے بعد بحث کی گنجایش ہی ختم ہو جائے تو ایسے فلسفی کا تاریخ میں کیا مقام ہوگا؟ اس فلسفی کا تاریخ میں وہی مقام ہوگا جو عمانوئل کانٹ کا ہے۔ دنیا کے فلسفے کی تمام کتابو ں میں تین فلسفی ایسے ہیں جن کے ذکر کے بغیر فلسفے کی تاریخ مکمل نہیں ہوتی، افلاطون، ارسطو اورکانٹ۔

Read more

بغیر نکاح کے؟ توبہ توبہ

میں صبح اٹھ کر تمام بڑے اردو انگریزی اخبارات کا مطالعہ کرتا ہوں پر یہ خبر نہ جانے کیوں میری نظر سے نہیں گزری۔ بھلا ہو پروفیسر ہود بھائی کا جن کا انگریزی کالم پڑھ کر مجھے پتا چلا کہ گزشتہ ہفتے سے متحدہ عرب امارات میں نئے قوانین کا اطلاق ہوا ہے جن کے بعد اب وہاں شراب پینے پر رہی سہی پابندی بھی ختم کر دی گئی ہے، یہی نہیں بلکہ اب غیر مرد اور عورت بغیر شادی کے اکٹھے رہ سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ بھی کچھ قوانین میں ترمیم کی گئی ہے جیسے کہ غیرت کے نام پر قتل کو اب عام قتل کی طرح ہی جرم سمجھ کر مقدمہ چلایا جائے گا اور شادی، طلاق، وراثت وغیرہ کے قوانین بھی تبدیل کیے گئے ہیں۔ ہو سکتا ہے کبھی کوئی لبرل قسم کا عالم دین کھینچ تان کر کہیں سے شراب کی گنجایش پیدا کر لے مگر نا محرم مرد اور عورت کا بغیر نکاح کے اکٹھے رہنا کہیں سے بھی اسلامی قوانین یا شریعت کے مطابق نہیں۔ تو کیا یہ سمجھا جائے کہ امارات میں مذہب کی نئی تشریح کی گئی ہے یا پھر وہاں کے حکمران بدل گئے ہیں؟ جی نہیں، ایسا کچھ نہیں ہوا، مذہب بھی وہی ہے اور حکمران بھی پرانے ہیں، فقط زمانہ بدل گیا ہے۔ کچھ دہائیوں کی بات ہے، شاید مسلمان ممالک ہم جنس پرستی کی اجازت بھی دے دیں!

Read more

کرونا کو بگڑنے سے کیسے بچائیں

آپ میں سے جن لوگوں کا اپنے بارے میں خیال ہے کہ زندگی نے ان کے ساتھ بہت نا انصافی کی ہے وہ یہ واقعہ پڑھنے کے بعد فیصلہ کریں کہ کیا ان کے ساتھ ڈاکٹر لی سے بھی زیادہ نا انصافی ہوئی ہے! چین کا ڈاکٹر لی وہ پہلا شخص تھا جس نے دنیا کو کرونا وائرس کے خطرے سے آگاہ کیا۔ یہ ڈاکٹر وہان کے اسپتال میں کام کرتا تھا، دسمبر 2019 میں جب وہاں اوپر تلے سات مریض داخل ہوئے جن میں ایک ہی قسم کی علامات تھیں تو اس ڈاکٹر کا ماتھا ٹھنکا۔

Read more

ایک قیدی اور کال کوٹھڑی کی چابی

اسے یاد نہیں کہ پہلی مرتبہ جب اسے اس کال کوٹھڑی میں لایا گیا تو وہ کتنے برس کا تھا۔ یہ بات اس کی یاد داشت سے محو ہو چکی تھی۔ اسے بس اتنا یاد تھا کہ کئی سال پہلے جب اسے اس کال کوٹھڑی میں بند کیا گیا تھا تو اسے فقط ایک حکم نامہ پڑھ کر سنایا گیا تھا جس کی رو سے تا حکم ثانی اب اسے یہیں قیام کرنا تھا۔ اس نے داروغہ جیل سے اس حکم نامے کی نقل مانگی تھی مگر اس کی درخواست یہ کہہ کر رد کر دی گئی کہ قانون کے مطابق قیدی کو اس حکم نامے کی نقل فراہم نہیں کی جا سکتی۔

تب اسے معلوم ہوا کہ وہ قیدی ہے۔ مگر یہ بات تو ویسے بھی اسے معلوم ہونی چاہیے تھی، آخر اسے قیدیوں کی طرح بیڑیاں پہنا کر ہی تو اس کوٹھڑی میں رکھا گیا تھا۔ پہلے پہل اس کا خیال تھا کہ یہ قید کسی غلط فہمی کا نتیجہ ہے، یہ لوگ کسی خطرناک مجرم کے دھوکے میں اسے پکڑ لائے ہیں اور جب انہیں اپنی غلطی کا احساس ہوگا تو یقیناً یہ نہ صرف اسے با عزت طریقے سے رہا کردیں گے بلکہ اپنی غلطی کی معافی بھی مانگیں گے۔ یہی سوچ کر اس نے کئی برس اس قید تنہائی میں گزار دیے۔

Read more

مہدی حسن، رفیع، راج کپور اور قسمت کا کھیل

یہ پچاس کی دہائی کا واقعہ ہے۔ ریڈیو پاکستان، لاہور کے ایک پروڈیوسر ہوا کرتے تھے، سلیم گیلانی، جو بعد میں ڈائریکٹر جنرل کے عہدے تک گئے، شاعر بھی تھے، ان کے پاس ایک نوجوان آیا جسے گانے کا بہت شوق تھا۔ سلیم گیلانی نے اس نوجوان کا آڈیشن لیا، آڈیشن میں سلیم گیلانی کو اس کی آواز بہت پسند آئی۔ انہوں نے نوجوان سے کہا کہ تم میں بہت ٹیلنٹ ہے، ایسی آواز ہر کسی کی نہیں ہوتی مگر اس آواز کو ضائع نہ کرنا، کسی ایری غیری جگہ نہ جانا اور نہ ہی میراثیوں کے پاس جا کر اپنے گلے کا ستیاناس کرنا، میں فی الحال ایک تربیتی کورس پر امریکہ جا رہا ہوں، واپس آ کر تمہیں ریڈیو میں گانے کا موقع دوں گا۔

Read more

اقبال، میں اور میری خودی

”خمار گندم“ میں ابن انشا کا ایک مضمون ہے ”فیض اور میں“ ۔ مضمون کیا ہے گویا اردو مزاح کا ایک شاہکار ہے۔ ابن انشا نے ان لوگوں پر طنز کیا ہے جو مشاہیر کے فوت ہونے کے بعد ان سے اپنی بے تکلفی کے قصے بیان کرتے ہیں۔ مضمون کے شروع کا حصہ اقبال سے متعلق ہے۔ ایک ٹکڑا دیکھئے۔ ”اسی زمرے میں ڈاکٹر محمد موسی ٰ پرنسپل بانگ درا ہو میو پیتھک کالج گڑھی شاہو کو رکھئے۔ جنہوں نے علامہ اقبال مرحوم کی زندگی کے ایک اور غیر معروف گوشے کو بے نقاب کیا۔

Read more

گاڑی ریورس کرنے کا صحیح طریقہ (مکمل کالم)

               عجیب زمانہ آگیا ہے، لطیفہ سناتے ہوئے بھی ڈر لگتا ہے، نہ جانے کب کہاں کس ’ازم‘ کی لپیٹ میں آ جائے۔ بہرحال۔ سردار جی ایک شخص کو گاڑی ریورس کرنے میں مدد دیتے ہوئے ہدایات دے رہے تھے کہ ”آتے جاؤ، آتے جاؤ، ہاں ہاں ٹھیک ہے، ایسے ہی آتے جاؤ۔۔۔ “ اچانک ایک زوردار آواز کے ساتھ گاڑی کھمبے میں جا لگی۔ سردار جی نے اطمینان سے آواز لگائی ”وج گئی جے۔ “ (لگ گئی ہے)۔ سردار

Read more

آزادی اظہار کے ٹھیکیدار

یہ 2014 کی بات ہے، میں امریکی ریاست ہوائی میں ایک سیمینار میں شرکت کی غرض سے موجود تھا، امریکی معاشرے اور طرز زندگی کے بارے میں گفتگو جاری تھی، دوران گفتگو ایک پاکستانی نژاد امریکی نے کہا کہ یہاں اہم قانون سازی یہودی لابی کے مفادات کے خلاف نہیں ہو سکتی۔ ابھی اس کی بات ٹھیک طرح مکمل بھی نہیں ہوئی تھی کہ ایک شخص اٹھا اور اس نے کہا کہ یہ الفاظ یہودیوں کے خلاف تعصب پر مبنی ہیں فوراً واپس لیے جائیں۔ اس پر پہلے شخص نے سوال کیا کہ کیا تم یہودی لابی کا انکار کر سکتے ہو، کیا واشنگٹن میں یہودی لابی موجود نہیں؟

جواب میں دوسرا شخص بولا کہ زیادہ سے زیادہ تم یہ کہہ سکتے ہو کہ وہ اسرائیلی لابی ہے، یہودی لابی کہنا درست نہیں، یہ بات مذہبی تعصب ظاہر کرتی ہے۔ سیمینار کے اختتام پر اس پاکستانی نے یہودی سے مصافحہ کیا اور معافی مانگی۔ بظاہر یہ ایک چھوٹا سا واقعہ تھا مگر اس سے ایک بات ثابت ہوئی کہ امریکہ میں کوئی معمولی بات بھی یہودیوں کی دل شکنی کا سبب بن سکتی ہے لہذا محتاط رہا جائے۔ ہو سکتا ہے آپ میں سے کچھ لوگ استدلال کریں کہ ایک واقعے سے عمومی نتائج اخذ کرنا دانشمندی نہیں تو ان کی خدمت میں ایک اور مثال پیش ہے۔

Read more

حقیقت تک پہنچنے کا نسخہ

انٹر نیٹ پر ایک لیکچر سننے کا اتفاق ہوا، لیکچر دینے والا یہ سمجھانے کی کوشش کر رہا تھا کہ کسی بھی معاملے کی حقیقت معلوم کرنے کا کیا طریقہ ہونا چاہیے۔ اس مرد عاقل نے ایک دلچسپ مثال دی۔ اس نے کہا کہ بچپن سے ہمیں سانتا کلاز کے قصے سنائے جاتے ہیں، ہمیں بتایا جاتا ہے کہ سانتا کلاز کرسمس کی رات بچوں کو تحائف دینے آتا ہے، اور پھر اگلی صبح سچ مچ وہ تحائف ہمیں تکیے کے نیچے مل جاتے ہیں، فلموں، ڈراموں اور کہانیوں میں سانتا کلاز کا ذکر ملتا ہے، کرسمس کے دنوں میں بازاروں اور شاپنگ مالز میں سانتا کلاز سے ہماری ملاقات بھی ہو جاتی ہے، ایک سفید داڑھی مونچھ والا بابا جس نے سرخ پھندنے والے ٹوپی پہنی ہوتی ہے مسکرا کر بچوں سے ملتا ہے، ہم اسے سانتا کلاز مانتے ہیں، بچے اس کے ساتھ ہاتھ ملاتے ہیں، تصویریں بنواتے ہیں اور پھر بڑی خوشی سے ایک دوسرے کو بتاتے ہیں کہ انہوں نے سانتا کو دیکھا۔

Read more

ہمیں نادرہ یا گوری نہ سمجھا جائے، پلیز!

یادش بخیر، کسی زمانے میں فلمی اداکاراؤں سے اخباری انٹرویو میں ایک سوال ضرور پوچھا جاتا تھا کہ اگر آپ کو فلموں میں ’بولڈ سین‘ کرنے کو کہا جائے تو کیا آپ تیار ہو جائیں گی۔ جواب میں اداکارہ کہتی تھی ”اگر سکرپٹ کی ڈیمانڈ ہوئی تو ضرور کروں گی۔“ اس زمانے کے فرسٹریٹڈ نوجوانوں کے لیے اخبار کا یہ جملہ ہی کافی ہوتا تھا۔ یہ بات مجھے اس لیے یاد آئی کہ اسی یا نوے کی دہائی تک خواتین کا فلموں میں کام کرنا بے حد معیوب سمجھا جاتا تھا بلکہ سچ پوچھیں تو ان کے لیے خاصے بیہودہ القاب استعمال کیے جاتے تھے اور وجہ اس کی یہ تھی کہ زیادہ تر اداکارائیں لاہور اور ملتان کے اس خاص بازار سے آتی تھیں جو رقاصاؤں کے لیے مشہور تھے اور یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں تھی۔

اس خاص پس منظر کی وجہ سے فلمی دنیا میں کام کرنے والی خواتین پر ایک مخصوص ٹھپہ لگ چکا تھا جس سے کئی دہائیوں کے بعد اب کہیں جا کر چھٹکارا ملا ہے۔ آج اچھے گھرانوں کی پڑھی لکھی خواتین بھی فلموں میں کام کر رہی ہیں اور ان کی خواندگی کی وجہ سے ہی ان کی عزت کی جاتی ہے۔ مگر اس کا یہ ہرگز مطلب نہیں کہ ہم ان پرانی اداکاراؤں کی محض اس وجہ سے تضحیک کریں کہ وہ کانونٹ یا گرامر اسکول میں نہیں پڑھ سکیں یا حالات کے جبر نے انہیں بازار میں لا پھینکا لہذا انہیں کسی بھی اچھے برے نام سے پکارا جا سکتا ہے۔

Read more

مجھے نوبل انعام کی خواہش نہیں مکمل کالم

مجھے پوری امید تھی کہ امسال ادب کا نوبل انعام اس فقیر کو دیا جائے گا (یہاں فقیر سے مراد فدوی اور فدوی سے مراد میں خود ہوں ) لیکن ہر سال کی طرح اس مرتبہ بھی مغربی اداروں نے تعصب سے کام لیتے ہوئے کسی نا معلوم امریکی شاعرہ کو ادب کا نوبل انعام دے دیا ہے۔ صاحب طرز ادیب اور کالم نگار مسعود اشعر صاحب (اس پائے کے اب چند لوگ ہی ہمارے درمیان رہ گئے ہیں ) نے اپنے تازہ کالم میں اس شاعرہ کی نظم کے ایک حصے کا ترجمہ لکھا ہے اور ساتھ ہی پاکستانی ادیبوں اور شاعروں کو مشورہ دیا ہے کہ اگر نوبل انعام کمیٹی والوں کا دل جیتنا ہے تو اس قسم کی نظمیں لکھا کرو۔

Read more

حقیقت وہ نہیں جو نظر آتی ہے

ریاضی اور طبیعات میں ایک تصور ہے جسے ہم انفینٹی یعنی لا محدودیت کہتے ہیں، یہ ایک پیچیدہ تصور ہے، اسکول کے زمانے میں ہمیں صرف یہ بتایا گیا تھا کہ اگر کسی بھی ہندسے کو صفر سے تقسیم کر دیا جائے تو جواب لا محدود آتا ہے۔ یہ لا محدود کیا ہے؟ کیا کوئی بھی شے لا محدود ہو سکتی ہے؟ کیا یہ کائنات لا محدود ہے اور اس کی کوئی حد نہیں؟ اگر اس کی کوئی حد نہیں تو پھر یقیناً ہم جیسی اور بھی دنیائیں ہوں گی، وہ کہاں ہیں؟

کیا ایٹم کولا محدود مرتبہ مزید چھوٹے ذرات میں تقسیم کیا جا سکتا ہے؟ اگر نہیں تو کیا اس کی کوئی حد ہے اور وہ حد کیا ہے؟ یہ وہ سوالات تھے جو ذہن میں تو کلبلاتے تھے مگر ان کا جواب کسی کے پاس نہیں تھا یا یوں کہیے کہ کم از کم ہمیں کوئی ایسا بندہ نہیں ملا جو ان سوالات کے تسلی بخش جواب دے کر مطمئن کر دیتا۔ جستجو ہو تو خدا بھی مدد کرتا ہے، پچھلے دنوں ایک ایسی کتاب پڑھنے کا موقع ملا جس میں لکھاری نے نہ صرف ان گتھیوں کو سلجھا دیا ہے بلکہ کائنات سے متعلق سر بستہ رازوں کو یوں بیان کیا ہے جیسے کوئی ولی جذب و مستی کے عالم میں اپنے مرید کو دوسری دنیاؤں کی جھلک دکھا دے۔ تین ہفتے پہلے فدوی اس کتاب پر ایک کالم لکھ چکا ہے جس میں وعدہ کیا تھا کہ کتاب کا نام بعد میں بتاؤں گا، وعدے پر قائم ہوں، مگر پہلے کتاب کے کچھ حصے ’چکھ‘ لیں!

Read more

عورت کا لباس اور ہمارے برانگیختہ جذبات – مکمل کالم

مولانا وحید الدین خان سے کسی نے پوچھا کہ حضرت یہ ثانیہ مرزا نیکر پہن کر ٹینس کھیلتی ہے تو بطور مسلمان عورت کیا ان کے لیے یہ لباس موزوں ہے؟ مولانا نے جواب دیا کہ جب ثانیہ مرزا ان سے اپنے لباس کے اسلامی یا غیر اسلامی ہونے کے بارے میں پوچھیں گی تو وہ انہیں بتا دیں گے، آپ ثانیہ مرزا کے لباس کے بارے میں فکر مند نہ ہوں۔

کچھ باتیں طے شدہ ہیں مگر دہرانے میں کوئی حرج نہیں۔ مثلاً ہر شخص کو اس بات کی آزادی ہے کہ وہ اپنی رائے کا برملا اظہار کرے، اسی آزادی کے تحت اگر کوئی یہ کہتا ہے کہ ٹراؤزر اور ٹی شرٹ میں ورزش کرتی ہوئی لڑکی یا کسی اشتہار میں رقص کرتی ہوئی عورت ہمارے مذہب اور اقدار کی عکاسی نہیں کرتی تو یہ رائے رکھنا اس کا حق ہے بالکل اسی طرح جیسے یہ متضاد رائے رکھنا کسی دوسرے شخص کا حق ہے کہ عورتوں کو اپنی مرضی کا لباس پہننے کی آزادی ہونی چاہیے۔

Read more

کراچی کا سفر اور غربت کا مجرا – مکمل کالم

گاؤں کے سرے پر واقع آخری مکان مجھے بہت پسند ہے، جیسے ریل گاڑی کا آخری ڈبہ، جس کے بعد تا حد نگاہ صرف ریل کی پٹری دکھائی دیتی ہے۔ آخری مکان بھی ایسا ہی ہوتا ہے، دور دور تک کوئی آبادی نہیں ہوتی، زندگی اس مکان سے شروع ہوتی ہے۔

کافی دنوں سے سوچ رہا تھا کہ لاہور سے کراچی براستہ موٹر وے سفر کیا جاوے، یار لوگوں سے سنا تھا کہ اب بارہ گھنٹوں میں بندہ کراچی پہنچ جاتا ہے اور واپس بھی صحیح سلامت آتا ہے، بوری میں نہیں آتا۔ مبالغہ آرائی چونکہ لاہوریوں کی گھٹی میں پڑی ہے سو احتیاطاً گوگل مد ظلہ سے بھی پوچھ لیا کہ سفر کتنا طویل ہے، جواب آیا چودہ گھنٹے۔ ’خاکم بدہن‘ میں یوسفی صاحب ایک شخص کا خاکہ بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ ”اس کے متعلق محلے میں مشہور تھا کہ پہلی جنگ عظیم کے بعد سے نہیں نہایا ہے۔“ صبح خیزی کے باب میں اپنا معاملہ بھی کچھ ایسا ہی ہے، اسکول کے زمانے کے بعد شاید ہی کبھی منہ اندھیرے اٹھنے کا اتفاق ہوا ہو۔ مگر اب مجبوری تھی سو ہمت کر کے علی الصبح پانچ بجے روانہ ہو گئے اور ساتھ میں کھانے پینے کا اتنا سامان رکھ لیا جتنا عام طور پر لوگ جنگ کے دنوں میں گھر پر ذخیرہ کر لیتے ہیں۔ دراصل ہمیں بتایا گیا تھا کہ موٹر وے صرف سکھر تک ہے اور اس پر سروس ایریاز تعمیر تو ہو چکے ہیں مگر ابھی چالو نہیں ہوئے، وہاں پٹرول ملتا ہے اور نہ کھانا۔

Read more

ٹوپی سے خرگوش نکالنے والے – مکمل کالم

میرے گھر کے باہر جو سٹریٹ لائٹ ہے وہ سال کے تین سو چونسٹھ دن خراب رہتی ہے، آج پچھترواں دن ہے۔ سڑک سے کوڑا کرکٹ اٹھانے کا بھی کوئی تسلی بخش انتظام نہیں، اکثر کوئی نہ کوئی شریف آدمی وہاں کوڑے کا ڈھیر لگا کر چلا جاتا ہے۔ اور اسی سڑک پر چند قدم آگے کچھ دکانیں، ایک دو ریستوران اور اکا دکا کھوکھے بھی ہیں جن کی تجاوزات کی وجہ سے اچھی خاصی چوڑی سڑک تنگ معلوم ہوتی ہے۔ میں خود کو ایک ذمہ دار، چوکس اور سیانا شہری سمجھتا ہوں جو کہ ظاہر کہ میری خوش فہمی ہے، میں ذمہ دار ہوں نہ چوکس اور سیانا تو بالکل بھی نہیں۔

دنیا جہان کو مشورے دیتا پھرتا ہوں مگر اپنا یہ حال ہے کہ آج تک یہ معلوم نہیں کر سکا کہ سٹریٹ لائٹ ٹھیک کرنے کی ذمہ داری کس کی ہے۔ پہلے میں سمجھتا تھا کہ شاید یہ کام بجلی کے محکمے کا ہے مگر پھر مجھ سے بھی زیادہ کسی سیانے نے بتایا کہ مقامی حکومت نام کی کوئی شے ہوتی ہے جو اگر مادی وجود رکھتی ہو تو اس کا منتخب نمائندہ اہل علاقہ میں سے ہی کسی کو یہ کام تفویض کر دیتا ہے، واللہ اعلم بالصواب، خدا کو جان دینی ہے میں آج تک ایسے کسی مرد حر کو تلاش نہیں کر سکا جس کے ذمے یہ کام ہو۔

Read more

ایکس، الف اور میں – مکمل کالم

’ایکس‘ ایک آزاد خیال شخص ہے، اپنے اعمال اور نظریات میں لبرل، لیکن مذہب سے اسے خدا واسطے کا بیر ہے اور اسے وہ ہر برائی کی جڑ سمجھتا ہے، جرم کہیں بھی ہو کسی نے بھی کیا ہو ایکس گھما پھر کر اسے مذہب کے ساتھ جوڑ دیتا ہے۔ ہر داڑھی والے کو وہ جنونی اور انتہا پسند سمجھتا ہے اور ٹخنوں سے اونچی شلواریں پہننے والے کا مذاق اڑاتا ہے۔ کوئی کلین شیو بندہ اگر اس کے سامنے جھوٹ بولے تو وہ بات ہنسی میں اڑا دیتا ہے مگر وہی بات اگر کوئی مولوی قسم کا شخص کہے تو مقدمہ مذہب کے خلاف کھڑا کر دیتا ہے۔

حاجی، نمازی لوگ اسے منافق لگتے ہیں، وہ سمجھتا ہے کہ ایسے لوگ عبادات کے پردے میں اپنی منافقت اور گناہ چھپانے کی کوشش کرتے ہیں۔ وہ کسی داڑھی والے دکاندار سے سودا سلف نہیں خریدتا، باریش لوگوں سے اسے خدا واسطے کا بیر ہے۔ مدرسوں میں دی جانے والی تعلیم کے بھی سخت خلاف ہے، ایکس کا خیال ہے کہ مدرسوں میں جہالت پروان چڑھتی ہے، تنگ نظری اور فرقہ واریت کو فروغ دیا جاتا ہے جس سے ملک میں تشدد پھیلتا ہے۔ وہ بڑی تو کیا چھوٹی عید منانے کے بھی خلاف ہے، اس کا کہنا ہے کہ رمضان میں لوگوں نے اگر اسی طرح جھوٹ، منافقت اور بد دیانتی سے ہی کام لینا ہے تو پھر عید کا کوئی جواز نہیں۔ اور بڑی عید کو تو وہ طنزاً ’بار بی کیو عید‘ کہتا ہے اور مذہبی لوگوں کو طعنہ دیتا ہے کہ ان کی قربانی کا فلسفہ بکرے کی ران روسٹ کروانے تک محدود ہے۔

Read more

قسمت کی دیوی کس پر مہربان ہوتی ہے؟

آئن سٹائن ریاضی میں پاس نہیں ہو پاتا تھا، نیوٹن کو مطالعہ انگلستان کی ٹیوشن رکھنی پڑی تھی اور نیل بوہر کا دینیات میں دل نہیں لگتا تھا۔ جینئس لوگوں کے بارے میں اس قسم کی کہانیاں سب نے سن رکھی ہیں۔ ان کہانیوں سے ہمیں ایک نا معلوم سی خوشی ملتی ہے کہ نالائق ہونا کوئی بری بات نہیں، جینئس لوگ بھی اپنے اسکول میں فیل ہوتے تھے، رسمی تعلیم میں ان کا دل نہیں لگتا تھا اور اکثر مرد مجہول تو اپنی نالائقیوں کے باعث کالج سے نکالے بھی گئے تھے۔ سو ہم بھی چھپے جینئیس ہیں، بس زمانہ ہماری قدر نہیں کر رہا ہے۔

جہاں تک آئن سٹائن کا تعلق ہے وہ ریاضی میں واقعی کمزور تھا۔ ایک مرتبہ نو سال کی بچی باربرا نے اسے خط لکھا کہ اسے ریاضی کا مضمون سمجھنے میں مشکل پیش آتی ہے، آئن سٹائن نے جواب دیا کہ میری بچی پریشان مت ہو، میں تمہیں یقین دلاتا ہوں کہ تمہارے مقابلے میں میری مشکل کہیں زیادہ ہے۔ خیر یہ بات تو یونہی بیچ میں آ گئی، سنانے والا اصل قصہ کچھ اور ہے۔

Read more

مخلوط تعلیم اور میرے فیورٹ مولانا

”ہر گائے دودھ دیتی ہے، گائے ایک جانور ہے لہذا ہر جانور دودھ دیتا ہے۔“
”تم ایک کرپٹ شخص ہو، تم نے ناجائز کمائی سے محل نما گھر خریدا ہے۔ جواب :تم نے بھی تو لڑکی کو بھگا کر شادی کی تھی۔“

”زید:پاکستان میں ہر پانچ عورتوں میں سے ایک عورت کبھی نہ کبھی اپنی زندگی میں جنسی ہراسانی کا شکار ہوتی ہے۔ بکر:تمہیں اس ملک میں کیڑے نکالنے کا شوق ہے، بھارت میں یہ شرح ہم سے کہیں زیادہ ہے۔“

”ایکس : دنیا میں جنوں بھوتوں کا کوئی وجود نہیں، اگر ہوتا تو کبھی نہ کبھی ہمارا اس مخلوق سے براہ راست واسطہ ضرور پڑتا۔“ زی۔ : ”ہمارا براہ راست واسطہ تو کبھی گھانا کے صدر سے بھی نہیں پڑا تو کیا ہم اس کے وجود سے بھی انکار کر دیں!“

یہ ہمارا بحث کرنے کا عمومی انداز ہے۔ اس قسم کی گفتگو کو اپنے تئیں ہم ”مدلل“ سمجھتے ہیں۔ موٹر وے پر خاتون کے ساتھ اجتماعی زیادتی کے واقعے کے بعد تازہ ترین دلیل مارکیٹ میں یہ آئی ہے کہ یہ سب مخلوط تعلیم کا نتیجہ ہے۔ یہ کہنا ہے میرے فیورٹ مولانا کا ، دلیل انہوں نے یہ دی ہے کہ جہاں آگ اور پٹرول اکٹھے ہوں گے وہاں یہ سب تو ہوگا۔

Read more

یہ ریپ کا کلچر ہے – مکمل کالم

یہ واقعہ 16 دسمبر 2012 کا ہے، وقت ہے رات ساڑھے نو بجے کا اور مقام ہے نئی دہلی۔ 23سالہ جیوتی سنگھ اپنے ایک مرد دوست کے ہمراہ سنیما سے فلم دیکھ کر نکلی ہے۔ گھر واپس جانے کے لیے دونوں ایک بس میں سوار ہوتے ہیں جس میں ڈرائیور سمیت پہلے سے چھ افراد موجود ہیں۔ ایک کنڈکٹر نما لڑکا جس کی عمر اٹھارہ سال سے بھی کم ہے انہیں بتاتا ہے کہ یہ بس وہیں جا رہی ہے

Read more

یہ ریپ کا کلچر ہے – مکمل کالم

یہ ریپ کا کلچر ہے

یہ واقعہ 16 دسمبر 2012 کا ہے، وقت ہے رات ساڑھے نو بجے کا اور مقام ہے نئی دہلی۔ 23 سالہ جیوتی سنگھ اپنے ایک مرد دوست کے ہمراہ سنیما سے فلم دیکھ کر نکلی ہے۔ گھر واپس جانے کے لیے دونوں ایک بس میں سوار ہوتے ہیں جس میں ڈرائیور سمیت پہلے سے چھ افراد موجود ہیں۔ ایک کنڈکٹر نما لڑکا جس کی عمر اٹھارہ سال سے بھی کم ہے انہیں بتاتا ہے کہ یہ بس وہیں جا رہی ہے جہاں انہیں پہنچنا ہے۔ تھوڑی دیر بعد جیوتی سنگھ اور اس کے دوست کو احساس ہوتا ہے کہ بس اپنے مقررہ راستے پر چلنے کی بجائے کسی دوسری طرف نکل گئی ہے اور بس کے دروازے بھی بند ہو گئے ہیں۔

Read more

ریپ ہونے کی صورت میں محکمہ ہذا ذمہ دار نہ ہوگا – مکمل کالم

اس دنیا میں روزانہ ہر عمر کی عورت کا ریپ ہوتا ہے، تین سال کی بچی سے لے کر پچھتر برس کی بڑھیا تک۔ رنگ، نسل، مذہب، قومیت اور لباس کی کوئی قید نہیں۔ بکنی، ساڑھی، برقع، نیکر، عبایہ، جینز، حجاب، فراک، سکرٹ، شلوار، کچھ بھی پہنا ہو، کوئی فرق نہیں پڑتا۔ عورت رات کے دو بجے اکیلی سڑک پر ہو یا بس میں اپنے دوست کے ساتھ ہو، کسی بھرے پرے دفتر میں ہو یا نائٹ کلب میں، پنج وقتہ نمازی ہو یا کسی مرد کی طرح ڈرنک کرتی ہو، میرا جسم میری مرضی کے نعرے لگاتی ہو یا یتیم بچیوں کی پناہ گاہ کی محافظ ہو، ڈومنی ہو یا پردہ دار، چہرہ بغیر میک اپ کے رکھتی ہو یا غازے کی تہیں سجاتی ہو، قائد اعظم کے مزار کے احاطے میں ہو یا اپنی قبر میں، ریپ کرنے والا اس کی لاش نکال کر بھی ریپ کرے گا اور مردوں کے اس معاشرے میں کچھ لوگ ہوں گے جو کہیں گے کہ کفن میں چہرہ ڈھانپا نہیں گیا تھا اس لیے ریپ ہوا۔

موٹر وے پر تین بچوں کی ماں کے ساتھ گینگ ریپ ہوا، اس سے زیادہ بھیانک جرم کا تصور ممکن نہیں، لیکن یہ جملے اب بے معنی ہو چکے، جس ملک میں ایسی گھناؤنی واردات کے بعد یہ بحث شروع ہو جائے کہ کیا اس عورت کو رات کے وقت ویران موٹر وے پر سفر کرنا چاہیے تھا یا نہیں اور یہ بحث چھیڑنے والے نہ صرف پڑھے لکھے لوگ ہوں بلکہ ان کا تعلق سول سروس سے ہو تو باقی اندازہ خود لگا لیں کہ اس معاشرے کا عام مرد کیسے سوچتا ہوگا۔ آپ کے لیے اگر یہ اندازہ لگانا اب بھی مشکل ہو تو بطور مرد میں مدد کر دیتا ہوں۔

Read more

ہم کیسی دنیا میں رہتے ہیں؟

”یہ دنیا کیا ہے۔ رنج و الم کی تصویر ہے، یہاں موت ہے اور دکھ ہے، طاعون، بیماری اور قحط ہے، خشک سالی، سیلاب اور پالا ہے، یہ دنیا آفتوں کا گھر ہے اور ان دیکھے حادثات کی آماجگاہ ہے، یہاں ظلم ہے، فساد ہے، گنوار پن ہے، بے یقینی ہے، پاگل پن ہے، یہاں نیکی کے نتیجے میں گناہ پیدا ہوتا ہے اور فسق و فجور سے اچھائی کا کام لیا جاتا ہے، یہاں خوشی بھی بے معنی ہے اور خود غرضی کا بھی کوئی فائدہ نہیں، یہاں مصیبتوں کی کوئی وجہ ہے اور نہ خوف سے فرار کی کوئی صورت!“ ہنری ایڈمز، 1838 ء تا 1918 ء۔

اس سفاک دنیا کی شاید اس سے بہتر تعریف ممکن نہیں۔ اس سے پہلے کہ کسی مطمئن ارب پتی کو اس بیان میں غلو نظر آئے اور وہ مجھے پرلے درجے کا قنوطی قرار دے، میں پہلے ہی وضاحت کردوں کہ جس ہنری ایڈمز نے یہ بات کہی تھی خود اس کا تعلق اشرافیہ سے تھا، ابراہم لنکن نے اسے برطانیہ میں امریکہ کا سفیر مقرر کیا تھا اور اسے سیاحت کا چسکا تھا، گھوم پھر کر اس نے یہ دنیا دیکھی تھی لہذا ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ یہ قول کسی ایسے شخص کا ہے جس کی اپنی زندگی کرب میں گزری تھی۔

Read more

راکٹ نما انسان اور روشنی کی رفتار

فزکس میں ایک اصطلاح استعمال ہوتی ہے Escape Velocity، اردو میں شاید ہم اسے ’سرعت فرار‘کہیں گے۔ یہ وہ کم سے کم رفتار ہے جو ایک جسم کو کسی سیارے کی قوت ثقل کے دائرہ اثر سے باہر نکلنے کے لیے درکار ہوتی ہے۔ مثلاً جب ہم زمین پر کھڑے ہو کر ایک گیند کو ہوا میں اچھالتے ہیں تو وہ واپس زمین کی طرف آ جاتی ہے تاوقتیکہ ہم گیند کو اُس رفتار کے ساتھ نہ اچھالیں جو کشش

Read more

طاقت کا چشمہ عوام ہیں (مکمل کالم)

رؤف طاہر صاحب پاکستان کی سیاسی تاریخ کی چلتی پھرتی کتاب ہیں، حافظہ ان کا بلا کا ہے اور حس مزاح بھی خوب ہے، جس محفل میں موجود ہوں وہاں حسب عادت و توفیق پھلجھڑیاں چھوڑتے رہتے ہیں۔ ملکی تاریخ کے بیسیوں واقعات انہیں یاد ہیں، اِن میں سے زیادہ تر کے وہ عینی شاہد ہیں جبکہ باقی واقعات انہیں مستند حوالوں کے ساتھ ازبر ہیں۔ ایسا ہی ایک دلچسپ واقعہ وہ اکثر سناتے ہیں کہ 1975 میں لاہور کے

Read more

امام حسین ؓ کو کیا کرنا چاہیے تھا؟ (مکمل کالم)

چند کتابیں جو ہمیشہ میری سائیڈ ٹیبل پر موجود رہتی ہیں اُن میں سے ایک مولانا مودودی کی ’خلافت و ملوکیت‘ ہے۔ شکر ہے کہ یہ کتاب کبھی اسکول کے نصاب کا حصہ نہیں رہی ورنہ آج کل کے کسی مہا پُرش نے اِس پر بھی پابندی لگوا دینی تھی۔ کسی زمانے میں اِس کتاب اورمولانا کے خلاف فتوے بھی صادر کیے گئے تھے مگر اِس کے باوجود یہ مولانا کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی کتابوں میں سے

Read more

ایک نصاب، ایک کتاب، ایک جیسے روبوٹ – مکمل کالم

سنا ہے ملک میں یکساں نصاب تعلیم لاگو ہونے جا رہا ہے، سنا ہے کہ تاریخ میں پہلی مرتبہ یہ کام ہوا ہے، سنا ہے کہ پورے ملک کے بچے آئندہ ایک ہی نصاب پڑھیں گے اور یہ بھی سنا ہے کہ اس کے بعد پوری قوم ایک سانچے میں ڈھل جائے گی۔ اللہ مبارک کرے!

ہمارے ملک میں شاید ہی کوئی نعرہ اتنا گمراہ کن ہو جتنا یکساں نصاب تعلیم کا نعرہ۔ میں نے آج تک جتنے لوگوں سے اس نعرے کا مطلب پوچھا ہے ان سب نے مختلف جواب دیے ہیں۔ فدوی کا سوال ہوتا ہے کہ کیا اس نعرے کا مطلب ایسا نصاب تیار کرنا ہے جو پورے ملک میں یکساں طور پر نافذ کیا جا سکے تو جواب ملتا ہے کہ ہاں۔ مگر یہ جواب حقیقت پر مبنی نہیں کیونکہ یکساں نصاب تو پہلے سے موجود ہے جسے قومی نصاب کہتے ہیں اور اس نصاب میں تمام درجوں کے مضامین کے لیے پوری تفصیل اور جزئیات کے ساتھ learning outcome بتائے گئے ہیں اور مثالوں سے واضح کیا گیا ہے کہ کسی مضمون کو پڑھنے کے بعد بچے میں کس معیار کی تعلیمی قابلیت پیدا ہو جانی چاہیے۔

Read more

صحافت کی دبنگ عورتیں – مکمل کالم

مہمل سرفراز ایک دبنگ خاتون صحافی ہیں، اکثر سر پر صافہ باندھ کر ٹی وی پروگراموں میں شرکت کرتی ہیں، یہ صافہ اب ایک طرح سے ان کا ’انتخابی نشان‘ بن چکا ہے۔ اگلے روز انہوں نے اپنے ٹویٹر کھاتے سے نمونے کے چند تبصروں کا عکس سکرین شاٹ شیئر کیا جو ان کے بارے میں کچھ لوگوں نے ٹویٹ کیے تھے۔ یہ تبصرے نہیں تھے ننگی گالیاں تھیں، بلکہ اس سے بھی آگے کی کوئی چیز۔ جو زبان ان تبصروں میں استعمال کی گئی تھی اسے بیان کرنا کسی شریف آدمی تو کیا کسی بدمعاش کے لیے بھی ممکن نہیں کہ بدمعاشوں کی بھی کچھ نہ کچھ اخلاقیات ہوتی ہیں۔

ایسا ہی کچھ عاصمہ شیرازی کے ساتھ بھی ہو چکا ہے، یہ نڈر عورت ان گنتی کے چند لوگوں میں شامل ہے جو طالبان کے عروج کے زمانے میں ڈنکے کی چوٹ پر حق سچ کی بات کیا کرتی تھی، اس ایوارڈ یافتہ خاتون صحافی نے بھی گزشتہ کچھ برسوں میں سوشل میڈیا پرنہ صرف غلیظ ترین مہم کا سامنا کیا بلکہ عاصمہ کو جان سے مارنے کی دھمکیاں بھی ملیں۔ عاصمہ شیرازی نے ان حالات میں کیسے کام کیا، یہ تفصیل انہیں ایک لیکچر کی صورت میں ویڈیو بنا کر یو ٹیوب پر چڑھا دینی چاہیے تاکہ صحافی بننے کے خواہش مند لڑکے لڑکیاں یہ جان سکیں کہ سچ بولنے کی کیا قیمت چکانی پڑتی ہے۔

Read more

پیش گوئیاں کرنے کی سائنس کیا ہے؟ (مکمل کالم)

دس برس پہلے کا ایک واقعہ یاد آ گیا۔ ہم لوگ ایک ہوٹل میں بیٹھے کافی پی رہے تھے، سیاست پر گرما گرم بحث جاری تھی، گفتگو کرنے والوں میں آٹھوں گانٹھ کمیت کالم نگار شامل تھے۔ اچانک اُن میں سے ایک کالم نگار نے ہاتھ اٹھا کر دو ٹوک انداز میں پیش گوئی کی کہ یہ حکومت دسمبر میں ختم ہو جائے گی۔ سب حیرانی سے اُن کی طرف تکنے لگے۔ انہوں نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا

Read more

ایک ملک جو اقلیتوں کے لیے حاصل کیا گیا – مکمل کالم

ایک طوائف کا خط۔ اندھے۔ پشاور ایکسپریس۔ کرشن چندر کے یہ تین افسانے اگر آپ نے نہیں پڑھے تو آج وقت نکال کر پڑھ لیں۔ ایک طوائف کا خط پنڈت جواہر لعل نہرو اور قائد اعظم جناح کے نام ہے۔ ایک طوائف دو بچیوں کی سرپرست ہے، ایک بچی کا نام بیلا ہے جو بارہ برس کی ہے، بٹوارے کے خوں ریز فسادات میں طوائف نے اسے ایک مسلمان دلال سے تین سو روپے میں خریدا تھا، یہ مسلمان دلال

Read more

”مولوی محمد علی جناح“

میرے کمرے میں قائد اعظم کی جو تصویر آویزاں ہے اس میں قائد کا چہرہ کلین شیو ہے، انہوں نے تھری پیس سوٹ پہنا ہے اور ہاتھ میں سگار ہے، تاہم میرے ایک دوست کی خواہش ہے کہ میں قائد کی تصویر تبدیل کردوں اور اس کی جگہ شیروانی اور جناح کیپ والی پورٹریٹ آویزاں کروں، یہی نہیں بلکہ ان کے ہاتھ سے سگار بھی ”چھین“ لوں اور ان کے چہرے پر داڑھی بڑھا کر نیچے ”مولوی محمد علی جناح“ لکھ دوں۔ یہ خواہش صرف میرے دوست کی ہی نہیں بلکہ ہر اس شخص کی ہے جو اس ملک میں قائد کے ویژن کی بجائے اپنی مرضی کا نظام نافذ کروانا چاہتا ہے، اور لطف کی بات یہ ہے کہ ان دوستوں کے اکابرین وہی ہیں جنہوں نے سرے سے پاکستان کے قیام کی مخالفت کی اور قائد اعظم کو ”کافر اعظم“ کہا۔

Read more

کرونا وائرس۔ ۔ ۔ NCOC کی شاباش تو بنتی ہے (مکمل کالم)

برطانوی صحافی مہدی حسن بہت دلچسپ انداز میں چہکارتے (ٹویٹ کرتے )ہیں۔ پچھلے دنوں انہوں نے ٹویٹ کی کہ اگر کوئی شخص کہے کہ باہر بارش ہو رہی ہے اور دوسرا شخص کہے کہ بارش نہیں ہو رہی تو صحافی کا کام یہ خبر بنانا نہیں کہ الف کہہ رہا ہے کہ بارش ہو رہی ہے جبکہ ب کا کہنا ہے کہ نہیں ہو رہی، ایک کھراصحافی کھڑکی کھول کر دیکھے گا اور بتائے گا کہ حقیقت کیاہے۔ یہ تو

Read more

نامعلوم سے نامعلوم تک – مکمل کالم

مولانا روم 1207ء میں بلخ میں پیدا ہوئے، سر آئزک نیوٹن 1642ء میں برطانیہ میں پیدا ہوئے اور چارلس ڈارون بھی 1809ء میں برطانیہ میں پیدا ہوئے۔ مثنوی مولانا روم تیرھویں صدی کی پیدایش ہے، نیوٹن کی  Principia Mathematica سترھویں صدی میں شائع ہوئی اور ڈارون کی شہرہ آفاق کتاب  On the Origin of Species انیسویں صدیں میں منظر عام پر آئی۔ مثنوی مولانا روم کا اردو ترجمہ اِس وقت میرے سامنے ہے، اِس کا مقدمہ سجاد حسین صاحب نے

Read more

میں تو چلی سنگا پور – مکمل کالم

ایک وقت تھا جب میں غیر ملکی شہریت لینے کو اچھا نہیں سمجھتا تھا، میراخیال تھا کہ اپنے وطن کی شہریت چھوڑ کر یا اُس کے ہوتے ہوئے کسی دوسرے ملک کی وفاداری کا حلف اٹھانا ایک بے حد نا معقول بات ہے جس کی کوئی توجیہ نہیں دی جا سکتی۔ لیکن بارہ اکتوبر 1999کی شام کو میرے یہ خیالات تبدیل ہو گئے۔ اُس روز میں نے سوچا کہ کیا ہمارے مقدر میں یہ یہی سب کچھ لکھا ہے؟ہمارے پاس

Read more

پرفیکشن اسٹ (Perfectionist)۔

کتنا اچھا ہو اگر آپ کی زندگی میں ہر چیز ترتیب کے ساتھ ہو! آپ کی جنم پرچی سے لے کر ایم اے کی سند تک اور پنگھوڑے میں انگوٹھا چوسنے کی تصویر سے لے کر شادی میں دودھ پلائی کی تصویر تک ہر شے ایک پرفیکٹ طریقے سے منظم ہو۔ آپ کی سٹڈی میں کتابوں کی کیٹیلاگ ہو اور تمام کتابیں یوں نمبروں کے ساتھ ترتیب میں لگی ہوں جیسے لائبریری آف کانگریس ہو۔ آپ کی ذاتی فائلیں انڈیکس کے ساتھ الماری میں سجی ہوں اور ان میں موجود تمام کاغذ تاریخ کی ترتیب سے موجود ہوں تاکہ کوئی بھی کاغذ ڈھونڈنے میں تیس سیکنڈ سے زائد کا وقت نہ لگے، یہی نہیں بلکہ یہ انڈیکس آپ کے کمپیوٹر میں بھی محفوظ ہو۔

Read more