تین کردار اور تین سائے

پیپلز پارٹی گیم میں ’اِن‘ رہتے ہوئے پانسہ پلٹنا چاہتی ہے، مسلم لیگ (ن) گیم سے آؤٹ ہونا نہیں چاہتی اور مولانا گیم سرے سے کھیلنے کے ہی مخالف ہیں، ایسے میں کھیل کون جیتے گا اور بازی کس ہاتھ آئے گی؟

Read more

اعظم سواتی کا بیان اور میڈیا کا منفی رویہ

نئے وزیر ریلوے اعظم سواتی کے حوالے سے سوشل میڈیا پر ایک گمراہ کن خبر گردش کرنے لگی ہے۔ اس خبر کے مطابق اعظم سواتی نے بیان دیا ہے کہ ریلوے نہیں چلا سکتے ؛ سٹیل ملز کی طرح بند کرنا پڑے گا۔ یہ مختصر سا جملہ نو منتخب وزیر ریلوے سمیت شیخ رشید اور عمران خان کے منہ پر تھپڑ کے مترادف ہے۔ اگر اعظم سواتی نے اسی قسم کا بیان دیا ہوتا تو ڈھیروں سوالات اٹھتے کہ ریلوے

Read more

اپوزیشن بمقابلہ اپوزیشن

تحریک انصاف کی حکومت کی کارکردگی ایک کامیاب عوامی تحریک کا موجب بن سکتی ہے مگر اپوزیشن جماعتیں بجائے حکومت کو دفاعی صورت حال سے دوچار کرنے کے خود مدافعانہ حیثیت اختیار کرتی دکھائی دیتی ہیں۔

Read more

’لُک آئی ایم چِلنگ‘

لانگ مارچ سے حکومت جائے یا نہ جائے مگر وسطی پنجاب میں اینٹی اسٹیبلیشمنٹ بیانیہ خطرے کی گھنٹی ضرور بجا رہا ہے۔ ایسے میں کیا لاہور کے ’ناکام‘ جلسے پر حکومت کو ’چِل‘ کرنا چاہیے؟

Read more

یہ دسمبر ستمگر

اسلام آباد مذاکرات کو تیار نہیں اور اپوزیشن بات چیت پر رضامند نہیں ایسے میں ادارے کتنا عوامی دباؤ برداشت کر سکتے ہیں اس کا فیصلہ یہ دسمبر کرے گا لیکن دعا ہے کہ اب کی بار یہ دسمبر ستمگر نہ ہو۔

Read more

آزادی صحافت: ’حکومت کا قابل نفرت سمجھنا کسی صحافی کے لیے تمغے سے کم نہیں‘

پاکستان میں نہ تو صحافیوں کو نشانہ بنایا جانا نیا ہے اور نہ ایسی سوشل میڈیا پوسٹس لیکن صحافیوں کا کہنا ہے کہ موجودہ حکومت میں یہ کچھ زیادہ ہوتا جا رہا ہے حتیٰ کہ اس میں حکومتی مشیر اور معاون پیش پیش ہیں۔

Read more

جناب! عوام کو ہلکا نہ لیں

ہو سکتا ہے کہ یہ سوچ حاوی ہو کہ لگتے رہیں نعرے، ہوتے رہیں جلسے، چلتی رہے تحریک اور بڑھتے رہیں لانگ مارچ، ہمیں اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ کیونکہ ہاتھی کے پاؤں میں سب کا پاؤں۔ اپوزیشن حکومت کا کیا بگاڑ لے گی؟ پڑھیے عاصمہ شیرازی کا کالم

Read more

عمار علی جان: لاہور میں طلبہ یکجہتی مارچ کے بعد سماجی کارکن کو ’گرفتار کرنے کی کوشش‘

پاکستان کے صوبہ پنجاب کے شہر لاہور میں سماجی کارکن عمار علی جان کو طلبہ یکجہتی مارچ کے بعد گرفتار کرنے کی کوشش کی گئی تاہم وہ اور ان کے دیگر ساتھی مزاحمت کے بعد اس سے بچ نکلنے میں کامیاب ہو گئے۔

Read more

چار صحافی اسلام آباد ہائی کورٹ میں دائر پٹیشن سے دست بردار، معاملہ کیا ہے؟

پاکستان میں اشتہاری اور مفرور ملزمان کے میڈیا پر دکھانے پر پابندی کا معاملہ اور پیمرا کی جانب سے اس بارے میں جاری احکامات پر ہائی کورٹ میں دائر درخواست میں سے چار صحافیوں نے اپنے نام نکلوا لیے ہیں۔

اسلام آباد ہائی کورٹ میں جمعرات کو اس معاملے پر سماعت شروع ہوئی تو دو خواتین صحافیوں غریدہ فاروقی اور محمل سرفراز نے پٹیشنر میں رہنے کی استدعا کی جو عدالت نے منظور کر لی۔

اس سے قبل مذکورہ دونوں صحافیوں نے پٹیشن سے دست بردار ہونے کے لیے عدالت میں درخواست جمع کرائی تھی۔

عاصمہ شیرازی، سلیم صافی، نسیم زہرہ اور زاہد حسین درخواست میں سے نام نکالنے والوں میں شامل ہیں۔ ​جب اُن سے رابطہ کرنے کی کوشش کی گئی تو انہوں نے بات کرنے سے معذرت کر لی۔

Read more

اسرائیل کو تسلیم کرنے کا دباؤ: ’لگے رہو مُنا بھائی‘

اسرائیلی اخبار کیوں لکھ رہے ہیں کہ پاکستان کی طاقتور اسٹیبلشمنٹ اسرائیل سے روابط رکھنے میں کوئی حرج نہیں رکھتی، ہم اس بارے میں کوئی بات لکھنے اور بولنے کو تیار نہیں، پڑھیے عاصمہ شیرازی کا کالم۔

Read more

یہ دھرنا بھی کیا دھرنا تھا؟

اس بار یہ سوال عام ہے کہ اب پھر کیوں؟ نہ سول ملٹری تناؤ، نہ پنڈی اسلام آباد میں کچھاؤ، منتوں مرادوں سے لائی گئی ایک صفحے کی حکومت، ایک بیانیہ اور ایک تحریر۔ پھر یہ حادثہ کیوں کر ہوا؟ آخر اس کی پرورش بھی تو سالوں ہوئی ہو گی۔ حادثے بہرحال اچانک نہیں ہوا کرتے: پڑھیے عاصمہ شیرازی کا کالم۔

Read more

خواتین کالم نگاروں میں زاہدہ حناکا مقام

صحافیانہ نقطہ نظر سے کالم سے مراد وہ تحریر ہوتی ہے جو کوئی لکھاری کسی بھی اخبار کے اداراتی صفحہ پر یا کسی اور صفحہ پر حالات حاضرہ، سیاست، معیشت، معاشرت، ادب، کتاب و صاحب کتاب، شاعر ادیب اور دیگر موضوعات پر مختصر تجزیہ کسی بھی ایک عنوان کے تحت قلم بند کرے۔ اس طرح کی تحریر لکھنے والا کالم نگار کہلاتا ہے۔ لمحہ موجود میں کالم کی اہمیت بہت بڑھ گئی ہے۔ معروف ادیب و کالم نگار زاہدہ حنا نے اپنے کالم ”کے ایل ایف: کالم اور کالم نگار“ میں لکھا کہ ”کالموں کو جمہوری دنیا میں نہایت اہمیت دی جاتی ہے اور وہاں کے حکمران اپنے اپنے ملکوں کے اہم کالم نگاروں کو پڑھتے ہیں تاکہ اپنی پالیسیاں بنانے میں ان کی رائے کو مد نظر رکھیں کیونکہ وہ ان کی تحریروں کو زبان خلق، تصور کرتے ہیں“ ۔

اردو میں کالم نگاری کی ابتدا کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ 1877 ء میں اس وقت ہوئی جب ہندوستان سے سجاد حسین کی ادارت میں اخبار ”اودھ پنچ“ جاری کیا گیا۔ وہی اس کے مدیر اعلیٰ تھے۔ سجاد حسین نے اس اخبار میں فکاہیہ کالم لکھنا شروع کیے۔ ایک روایت یہ بھی ہے کہ اردو میں کچھ فارسی کی ملاوٹ سے 1731 ء میں جعفر زٹلی نے طنزیہ و مزاحیہ شاعری کے طرز پر فکاہیہ کالم لکھے۔ منشی سجاد کے علاوہ کالم نگاری کرنے والوں میں تربھون ناتھ ہجر، رتن ناتھ سرشار، مچھو بیگ، ستم ظریف، جوالا پرشاد برق، نواب سید محمد آزاد، منشی علی احمد شوق اور اکبر الہ آبادی شامل تھے۔

Read more

بائیڈن جیتے یا ٹرمپ، ہمیں اس سے کیا؟

جمہوریت کا صحیح مطلب اور ماخذ ہمارے ہاں صرف ’وہ‘ سمجھتے ہیں۔ جہاں جسے جب چاہا لگا دیا، جب چاہا ہٹا دیا۔۔۔ جب چاہا انقلاب کے نعرے لگوائے، جب چاہا احتساب کو ہتھیار بنایا۔۔۔ کم و بیش بہتر سال سے جمہوریت کی بس یہی کہانی ہے: پڑھیے عاصمہ شیرازی کا کالم۔

Read more

بائیڈن جیتے یا ٹرمپ، ہمیں اس سے کیا؟

جمہوریت کا صحیح مطلب اور ماخذ ہمارے ہاں صرف ’وہ‘ سمجھتے ہیں۔ جہاں جسے جب چاہا لگا دیا جب چاہا ہٹا دیا۔۔۔ جب چاہا تحریر و تقریر کی آزادی دی جب چاہا چھین لی۔ جب چاہا انقلاب کے نعرے لگوائے، جب چاہا احتساب کو ہتھیار بنایا، کم و بیش بہتر سال سے جمہوریت کی بس یہی کہانی ہے۔

Read more

سوشل میڈیا پر بحث: وزیر داخلہ اعجاز شاہ کی تقریر تنبیہ تھی یا دھمکی؟

وزیر داخلہ بریگڈیئر (ر) اعجاز شاہ نے ایک عوامی تقریب میں تقریر کے دوران مسلم لیگ ن کے سیاسی بیانیے کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے جو بیانات دیے انہیں سوشل میڈیا پر کھلی دھمکی قرار دیا جا رہا ہے۔

Read more

جی ٹی روڈ کا بیانیہ

میدانِ سیاست میں زیرک سیاست دان اپنی ٹائمنگ کے اعتبار سے میچ خود مقرر کر رہے ہیں۔۔ کب، کہاں، کتنا سکور کرنا ہے یہ بھی خود طے کر رہے ہیں۔ اصل امتحان اب اہل اختیار کا ہے کہ کھیل کھل کر کھیلنے دیں گے یا پچ ہی اُکھاڑیں گے۔

Read more

صفحہ کون پلٹے گا؟

بھٹو صاحب اور میاں نواز شریف میں یہ قدر مشترک ہے کہ دونوں نے ’سیاسی پختگی‘ کے بعد اپنے راستے اسٹیبلشمنٹ سے جُدا کیے۔ بات بھٹو صاحب کو ذرا جلدی سمجھ میں آئی جبکہ میاں صاحب کو چند سال لگ گئے: پڑھیے عاصمہ شیرازی کا کالم۔

Read more

پی ڈی ایم کا گوجرانوالہ میں جلسہ: 'نواز شریف اور ن لیگ کے لیے یہاں سے واپسی ممکن نہیں'

متحدہ اپوزیشن کے گوجرانوالہ جلسے میں نواز شریف نے اپنی تقریر میں پاکستانی فوج کے سربراہ کا نام لے کر ان پر الزامات عائد کیے۔ اس پر سوشل میڈیا پر بحث جاری ہے لیکن سب متفق ہیں کہ یہ کوئی معمولی بیانات نہیں۔

Read more

گوجرانوالہ: ڈھول کی تھاپ اور سیاسی ترانوں کی گونج میں حزبِ اختلاف کا حکومت مخالف جلسہ

‘پہلوانوں کے شہر’ گوجرانوالہ میں جمعہ کے روز حزبِ اختلاف کی جماعتوں کے اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ یعنی پی ڈی ایم کا پہلا جلسہ میلے کا سا سماں پیش کر رہا تھا۔

Read more

گوجرانوالہ جلسہ: پاکستان میں اپوزیشن جماعتوں کے خلاف تحریک کا آغاز، شہر میں 31 مقامات کنٹینرز لگا کر سیل

پاکستان میں صوبہ پنجاب کے شہر گوجرانوالہ میں آج حزب اختلاف کی جماعتیں ایک جلسے کے ساتھ حکومت مخالف تحریک کا آغاز کرنے جا رہی ہیں لیکن اس دوران اپوزیشن رہنماؤں اور کارکنوں کو کنٹینرز کی صورت میں رکاوٹوں کا سامنا ہے۔

Read more

گوجرانوالہ جلسے کا مومنٹم بن چکا

سیاست کے کھیل میں اہم ترین بات پیش قدمی ہوتی ہے۔انگریزی میں اسے Initiative کہتے ہیں۔شطرنج میں چلایا پہلا مہرا۔ تاش میں پھینکا پہلا پتہ۔حکمرانوں کی یہ خواہش ہی نہیں بلکہ ضرورت ہوتی ہے کہ Initiative ہمیشہ ان کے ہاتھ میں رہے۔عمران خان صاحب نے حکومت سنبھالنے کے بعدمگر Initiativeکی اہمیت کوسمجھنے کی ضرورت ہی محسوس نہیں کی۔بنیادی طورپر ایک بائولر ہوتے ہوئے اپوزیشن کے دور کی طرح مخالفین کی وکٹ اُڑانے کو بے چین رہے۔ بھول جاتے ہیں کہ

Read more

غلطی کہاں ہوئی؟

مقابلہ اُس اپوزیشن کے ساتھ ہوا جس کے پاس تجربہ بھی تھا اور وقت پر کھیلنے کا طریقہ بھی۔ برس ہا برس سے اقتدار کی راہداریوں سے واقف جانتے ہیں کہ ترپ کا پتہ کب چلنا ہے اور میز کے اس طرف کس طرح آنا ہے: پڑھیے عاصمہ شیرازی کا کالم

Read more

جنوری سے بہت پہلے کام ختم ہوجائے گا: مریم نواز

پاکستان مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز نے کہا ہے کہ آل پارٹیز کانفرنس نے [حکومت کے خاتمے کی] حتمی تاریخ جنوری کی دی ہوئی ہے تاہم انھیں لگتا ہے کہ جنوری سے بہت پہلے ‘کام ختم ہوجائے گا۔’

Read more

غداری کے تمغوں کی لوٹ سیل

آخر کسی نے تو غداری کے مقدمے کا آئیڈیا دیا ہو گا جس سے ملک کے وزیراعظم نے بھی خود کو فاصلے پر کر لیا ہے۔ جس ملک کا چیف ایگزیکٹو معاملات سے لاتعلق ہو جائے وہاں مسائل کون حل کرے گا؟: پڑھیے عاصمہ شیرازی کا کالم

Read more

مولانا فضل الرحمان کے لہجے میں سختی اور نیب کے نوٹس کی بازگشت

مبصرین کا کہنا ہے کہ نیب کے ایک مبینہ نوٹس کی بازگشت کے بعد جمعیت علماء اسلام ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمان جس طرح کھل کر میدان میں آئے ہیں اس طرح کا رویہ پہلے کم ہی دیکھنے کو ملا ہے۔

Read more

ایسا پہلی بار ہوا ہے۔۔۔

پہلی بار یہ بھی ہو رہا ہے کہ دفاع کے لیے لائی جانے والی حکومت مدافعت کے لیے دفاعی ادارے کو استعمال کر رہی ہے اور ادارہ اپنے دفاع میں مدافعانہ پالیسی اختیار کیے ہوئے ہے: پڑھیے عاصمہ شیرازی کا کالم

Read more

محمد زبیر نواز شریف، مریم نواز کے حوالے سے جنرل قمر جاوید باجوہ سے دو بار ملے: آئی ایس پی آر

پاکستانی فوج کے ترجمان نے کہا ہے کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما محمد زبیر برّی فوج کے سربراہ جنرل قمر باجوہ سے نواز شریف اور مریم نواز کے حوالے سے دو مرتبہ ملے تھے تاہم محمد زبیر کے مطابق ان ملاقاتوں میں ایسی کوئی بات نہیں ہوئی۔ مریم نواز نے کہا ہے کہ ان کے والد کے کسی نمائندے نے جنرل باجوہ سے ملاقات نہیں کی۔

Read more

عاصمہ شیرازی کا کالم: نواز شریف کی سیاست کا آغاز یا اختتام

نواز شریف کی تقریر کے دو جملوں نے جیسے سکتہ طاری کر دیا ہے، ’ریاست سے اوپر ریاست اور مد مقابل عمران خان نہیں اُن کے لانے والے‘ نواز شریف نے یہ کیوں کہا؟ کیا نواز شریف اب بھی کسی ڈیل کے چکر میں ہیں اسی لیے اسٹیبلشمنٹ کو دباؤ میں لا کر فیصلہ کروانا چاہتے ہیں: عاصمہ شیرازی کا کالم۔

Read more

مار دو، لٹکا دو، جلا دو

لاہور سیالکوٹ موٹروے پر گوجرہ کے مقام پر ایک خاتون کے ساتھ پیش آنے والے دلخراش واقعے کے بعد بشمول عوام میڈیا کی ساری توجہ اسی واقعے پر مرکوز ہے۔ کیوں نہ ہو، واقعہ ہی اتنا دہلا دینے والا ہے۔

اس واقعے کے بعد تین طرح کی بحثیں چھڑ گئی ہیں عمومی طور پر اس واقعے سے متعلق یا اس سانحے سے متاثرہ کوئی تحریر پڑھیں یا تقریر سنیں تمام ان تین طرح کی بحثوں میں ہی اضافہ کرتی نظر آتی ہیں۔

پہلی بحث مذکورہ موٹروے پر وارداتیں رپورٹ ہونے کے باوجود سیکیورٹی کی عدم موجودگی پر مبنی ہے۔ پنجاب حکومت کی جانب سے موٹروے پولیس کی جانب سے سیکیورٹی مقرر کرنے تک پنجاب پولیس کے 250 اہلکار مقرر کر کے بحث کا یہ ”چیپٹر کلوز“ کرنے کی کوشش کی گئی ہے لیکن کچھ منچلے ہیں کہ رٹ لگائے بیٹھے ہیں ذمہ داروں کا تعین کرو انہیں سزائیں دو۔ ارے بھائی منچلو! جب پنجاب حکومت اہلکار مقرر کر چکی ہے تو کاہے مغز کھپاوت ہو۔ بس ہو گیا نہ عملہ مقرر۔ بات ختم۔ آگے بڑھو۔

Read more

گونگا معاشرہ بہری ریاست

ہر گزرتے دن کے ساتھ خوف کے سائے گہرے ہو رہے ہیں۔ خوف کا سبب جرائم کی شرح نہیں وہ انکار ہے جس کا شکار ریاست ہو چکی ہے، وہ افراد ہیں جو مظلوم کو قصوروار ٹھرا دیتے ہیں۔ پڑھیے عاصمہ شیرازی کا کالم

Read more

موٹروے ریپ کیس: کیا شہباز شریف نے قومی اسمبلی میں لاہور، سیالکوٹ موٹروے کا کریڈٹ لینے کی کوشش کی؟

بی بی سی نے یہ جاننے کی کوشش کی ہے کہ کیا واقعی شہباز شریف نے ریپ واقعے کا تذکرہ کرتے ہوئے اپنی جماعت کو موٹروے بنانے کا کریڈٹ دیا؟ یا اصل کہانی کچھ جو 18 سیکنڈ کے کاٹے گئے کلپ میں توڑ مروڑ کر دکھانے کی کوشش کی گئی ہے۔

Read more

راکھ میں دبی چنگاریاں

صرف فرقہ واریت ہی نہیں صوبائیت اور علاقائیت نے بھی اپنے پنجے گاڑنے شروع کر دیے ہیں۔ ذرا ذرا سی بات پر وفاق کے صوبوں کو طعنے اور عوام میں گہرے بیج بوتے تعصبات ایک خوفناک منظر پیش کر رہے ہیں: پڑھیے عاصمہ شیرازی کا کالم

Read more

ہائبرڈ جمہوریت اور صدارتی نظام

قرضوں اور مہنگائی کی بلند ترین شرح، بیروزگاری اور دن بہ دن کمزرور ہوتی مملکت کا حل شاید پارلیمانی نظام کے خاتمے اور صدارتی نظام کے نفاذ میں ہی چھپا ہو لیکن عوام کو یہ تو بتایا جائے کہ اس وقت پاکستان میں کون سا نظام رائج ہے؟ پڑھیے عاصمہ شیرازی کا کالم

Read more

آقا گوئبلز کے پیروکار

حال ہی میں گوئبلز کے نظریات اور ’فرمودات‘ پڑھنے کا اتفاق ہوا۔ اس قدر دلچسپ فرمودات کہ یوں سمجھیے جیسے ٹیلی وژن سکرین پر روشن کئی چہروں سے تعارف ہو رہا ہو۔ ایسے کہ گوئبل کہیں جرمنی میں نہیں یہیں بہت ہی قریب لاہور، فیصل آباد یا اسلام آباد میں ہی بات کر رہا ہو: پڑھیے عاصمہ شیرازی کا کالم۔

Read more

صحافت کی دبنگ عورتیں – مکمل کالم

مہمل سرفراز ایک دبنگ خاتون صحافی ہیں، اکثر سر پر صافہ باندھ کر ٹی وی پروگراموں میں شرکت کرتی ہیں، یہ صافہ اب ایک طرح سے ان کا ’انتخابی نشان‘ بن چکا ہے۔ اگلے روز انہوں نے اپنے ٹویٹر کھاتے سے نمونے کے چند تبصروں کا عکس سکرین شاٹ شیئر کیا جو ان کے بارے میں کچھ لوگوں نے ٹویٹ کیے تھے۔ یہ تبصرے نہیں تھے ننگی گالیاں تھیں، بلکہ اس سے بھی آگے کی کوئی چیز۔ جو زبان ان تبصروں میں استعمال کی گئی تھی اسے بیان کرنا کسی شریف آدمی تو کیا کسی بدمعاش کے لیے بھی ممکن نہیں کہ بدمعاشوں کی بھی کچھ نہ کچھ اخلاقیات ہوتی ہیں۔

ایسا ہی کچھ عاصمہ شیرازی کے ساتھ بھی ہو چکا ہے، یہ نڈر عورت ان گنتی کے چند لوگوں میں شامل ہے جو طالبان کے عروج کے زمانے میں ڈنکے کی چوٹ پر حق سچ کی بات کیا کرتی تھی، اس ایوارڈ یافتہ خاتون صحافی نے بھی گزشتہ کچھ برسوں میں سوشل میڈیا پرنہ صرف غلیظ ترین مہم کا سامنا کیا بلکہ عاصمہ کو جان سے مارنے کی دھمکیاں بھی ملیں۔ عاصمہ شیرازی نے ان حالات میں کیسے کام کیا، یہ تفصیل انہیں ایک لیکچر کی صورت میں ویڈیو بنا کر یو ٹیوب پر چڑھا دینی چاہیے تاکہ صحافی بننے کے خواہش مند لڑکے لڑکیاں یہ جان سکیں کہ سچ بولنے کی کیا قیمت چکانی پڑتی ہے۔

Read more

خواتین صحافیوں کی فریاد

تیسری دنیا کے بیشتر ممالک ابھی اس مقام کو نہیں پہنچے کہ وہاں خواتین کو وہ تمام حقوق حاصل ہوں جن کی ضمانت خود ان کا دستور، عالمی قوانین، ضوابط اور مہذب دنیا کی روایات دیتی ہیں۔ پاکستان اسلامی جمہوریہ کہلاتا ہے۔ لیکن یہ ایک افسوسناک حقیقت ہے کہ یہاں خواتین کو نہ صرف وہ حقوق حاصل نہیں جو اسلام جیسا شاندار مذہب انہیں دیتا ہے بلکہ وہ ان جمہوری حقوق سے بھی محروم ہیں جو ہمارے جمہوری آئین میں

Read more

بلاول بھٹو صاحب! عاصمہ شیرازی کے ساتھ ہماری بھی سنیں

جناب عالی! آپ نے خواتین صحافیوں کی ہراسمنٹ کا نوٹس لیا ہے تو آج کل سچ کی آواز اٹھانے والی خواتین کی ایک اور بھی مخلوق پائی جاتی ہے جنہیں بلاگر کے کھاتے میں ڈالا جاتا ہے۔ وہ چونکہ صحافی نہیں کہلاتیں اس لیے ان کو کسی بھی ادارے سے کوئی تنخواہ یا اعزازیہ نام کی کوئی چیز نہیں دی جاتی جب تک کہ وہ کسی نہ کسی ایڈیٹر کی چہیتی یا تعلق دار نہ ہوں۔ چونکہ وہ ٹک ٹاک

Read more

فیصلے کی گھڑی

انڈیا اور امریکہ کی بڑھتی قربت کے بیچ چین اور انڈیا کا سرحدی تنازعہ، عرب امارات اور اسرائیل کے مابین جگری یاری، سعودی عرب اور پاکستان کے مابین ہلکی پھلکی موسیقی انہی تبدیلیوں کا شاخسانہ ہے: پڑھیے عاصمہ شیرازی کا کالم

Read more

وزیر اعلیٰ پنجاب کی بُزداریاں!

وفاق ہو یا صوبے، خیبر پختونخواہ ہو یا پنجاب، ُبزدار صاحب اطاعت کی ایسی اعلیٰ مثال بن گئے ہیں جن کا ذکر آپ کو گورنر جنرل غلام محمد کی طرح صرف تاریخ کی کتابوں میں ہی ملے گا: پڑھیے عاصمہ شیرازی کا کالم

Read more

سرینگر ہائی وے، ہارن دو راستہ لو

تحریک انصاف کی حکومت خاموشی کے منٹ بڑھا دے، کشمیر کمیٹی پر کسی کو بھی لگا دے، ساری ہائی ویز کے نام سرینگر رکھ لے تب بھی کیا کشمیر اور کشمیریوں کے دل فتح کرنے میں کامیابی ہو گی؟ کشمیر کا مقدمہ لڑنا ہے تو سرینگر ہائی وے پر چڑھنے کے لیے پاکستان کو زور دار ہارن بھی دینا ہو گا اور اپنا راستہ بھی لینا ہو گا۔

Read more

آخر نون لیگ چاہتی کیا ہے؟

حزب اختلاف کے پلڑے میں نون لیگ کا وزن حکومت پر دباؤ بڑھا سکتا ہے۔ مڈ ٹرم انتخابات اور اس سے قبل انتخابی اصلاحات کے لیے جز وقتی تبدیلی کے فارمولے کی راہ میں رکاوٹ خود نون لیگ کا ایک صفحے پر نہ ہونا ہے۔ عاصمہ شیرازی کا کالم۔

Read more

پنجاب میں مائنس پلس کا کھیل

بزدار صاحب کو ہٹا دیا جائے تو کون ہو گا وزیراعلی۔۔۔ پرویز الٰہی ایک اہم امیدوار ہو سکتے ہیں مگر وہ بھی بزدار کے سب سے بڑے حمایتی یوں ہیں کہ بزدار انھیں بہت سُوٹ کرتے ہیں: پڑھیے عاصمہ شیرازی کا کالم۔

Read more

نئی صف بندی اور کپتان

پلک جھپکنے کے مقابلے میں سب سے بڑا امتحان آنکھوں کی پتلیوں کا ہے جنھیں ساکت بھی رہنا ہے اور دوسرے پر نظر بھی رکھنی ہے۔ ساکت، خاموش نظریں سب دیکھتی ہیں مگر جیت کے جنون میں ہل نہیں سکتیں کیونکہ جو پلک جھپکے گا وہی شکست تسلیم کرے گا۔ پاکستان کی سیاست اس وقت اُسی مرحلے سے گزر رہی ہے۔

عوام سیاست سے دور اور مایوس ہو رہے ہیں۔گو دلچسپی کا سامان ہر روز دستیاب ہوتا ہے۔ ہر دور میں کچھ منظر پر اور کچھ پس منظر میں ہلتی ڈوریاں نئی کہانیاں پردہ سکرین پر لے کر حاضر ہوتی ہیں اور یوں سیاسی تھیٹر پر جاری پتلی تماشہ ناظرین کو پلک جھپکنے نہیں دیتا۔

Read more

صدف زہرہ گھر بچانے کی کوشش میں موت کے گھاٹ اتر گئی

عورت مارچ، عورت مارچ، ان عورتوں کو کیا خبر مسائل کی۔ بس آزادی چاہیے، گھروں سے نکلنے کی، گھر میں کوئی ٹوکے نہ روکے، بس اپنی من مانیاں کرتی رہیں۔

صحیح تو کہتے ہیں لوگ، صدف نے بھی تو من مانی ہی کی۔ ایسے شوہر کو ایک آخری موقع دینے کی من مانی، جس کے بارے میں اسے سب خبر تھی۔ آئے روز گالیوں لاتوں مکوں سے تواضع ہونے سے لے کر، اس کے گھناؤنے کردار تک، خواتین کو بلیک میل کرنے کے ساتھ ساتھ ایک بیٹی کا باپ ہوتے ہوئے بھی غیر خواتین سے تعلقات تک، صدف کو سب خبر تھی۔ ماں نے روکا، اب مت جاؤ، یہ شخص نہیں سدھرے گا۔ بہن نے بھی سمجھایا، لیکن اسے تو دھن سوار تھی، ماں کو جواب دیا، اماں آخری چانس دینے میں حرج نہیں اس نے عدہ کیا ہے اب وہ ایسا کوئی کام نہیں کرے گا، بیٹی کی ماں ہوں، کل کو کوئی میری بیٹی کو طعنہ نہ دے کہ ماں کو طلاق لینے کا بڑا شوق تھا۔

Read more

نقالوں سے ہوشیار، جعلسازوں سے خبردار

جعلی انتخابات کے ذریعے سامنے آنے والی جعلی قیادتوں پر ’اصلی اور وکھری قیادت‘ کا ٹھپہ لگ بھی جائے تو بھی نقل اور جعل سازی پکڑی جاتی ہے۔ پڑھیے عاصمہ شیرازی کا کالم۔

Read more

متبادل کی تلاش

خواہشات کے گھوڑوں کی لگام صرف نظام فطرت کے ہاتھ ہے، ارادے ٹوٹ جاتے ہیں تو فہم قدرت سمجھ میں آتا ہے۔ اختیار اور اقتدار کی گلیوں میں ہر نکڑ پر موقع پرست گھات لگا کر بیٹھتے ہیں اور یہ بھی سچ ہے کہ سیاست اور حکومت محض طاقت کے بل بوتے نہیں بلکہ فہم و فراست سے چلتی ہے۔

پاکستان کی غیر سیاسی اشرافیہ ایک بند گلی میں جتنی اب ہے اس سے پہلے کبھی نہ تھی۔ اکہتر میں پاکستان دو لخت ہوا، پاکستان کے ہزاروں قیدی انڈیا کے ہاتھ ہتھیار کے طور آئے۔

Read more

اس چُپ میں کوئی طوفان نہیں

عجب بولہبی ہے ہر طرف کہ آواز عالم کی ہے اور لہجہ جاہل کا۔۔۔ بوجہلی سی بوجہلی کہ علم کے طالب جہالت کی آواز بن گئے ہیں۔ قحط الرجالی کا یہ عالم ہے کہ معمولی سی قابلیت والے باعلم اور بظاہر قد آور دراصل بونے ہیں۔ یوں تو ہمیں بھی ہر وقت شکایت کی عادت سی ہو گئی ہے مگر یقین مانیے جب بھی قلم اٹھایا تو سوچا آج کچھ منفی نہیں لکھنا، مگر ڈھونڈنے سے بھی نہ اچھی خبر

Read more

ریاست کا شہریوں سے گم شدہ معاہدہ

حرف لکھتی ہوں اور مٹا دیتی ہوں۔ ایک ایک لفظ جیسے منوں وزنی ہے لیکن حرف ہی تو شناس ہے اور حرف کو ہی تو ثبات ہے۔ حرف کی گواہی تو القلم اور حرف کا انعام ہی کتاب ہے۔ سو حرف کی قسم کہ سچ مگر تلخ اور کڑوا ہے۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ سے چند دنوں سے اکتاہٹ سی ہو گئی ہے۔ جس طرح کے ٹرینڈز سوشل میڈیا پر چل رہے ہیں یوں لگتا ہے کہ گٹر اُبل پڑے ہوں۔ تعفن سا تعفن ہے کہ دم گھٹتا محسوس ہوتا ہے۔ ایسے میں بلوچستان کی بیٹیوں اور بہنوں کی لاپتہ بھائیوں کے لیے پکار نے دل اور بھی بوجھل کر دیا ہے۔

Read more

عاصمہ شیرازی کا کالم: ’اگر مگر‘ پالیسی اور شیرو

ممکنہ طور پر قومی کمان اور رابطے کی کمیٹی اپنا کام بہترین کر رہی ہے ‘مگر’ عملدرآمد بہر حال انتظامیہ کاکام ہے۔۔۔ اب سوال یہ ہے کہ انتظامیہ کون ہے؟ میرے خود سے ہی پوچھے گئے اس سوال کا جواب کس کے پاس ہو گا؟ میز پر گھومتی گھما دینے والی گیم ’روبکس کیوب‘ یا ’جادوئی پزل‘ کے تمام خانے ایک جیسے مگر رنگ الگ تھلگ۔ ’بظاہر‘ عوام کے ہاتھوں منتخب سیاسی حکومت کی اس پزل گیم نے عوام کو

Read more

سنہ 2020 کی لاپتہ عید

غم کیا ہے، کسی غمزدہ آنکھ سے پوچھیے۔ موت کے رقص میں زندگی کے معنی کیا ہیں، خوف سے پوچھیے۔ سانس سے وابستہ آس کیا ہے، اُمید سے پوچھیے۔ گذشتہ جمعے کو آس، اُمید، زندگی سب ہار گئے۔۔۔ جیتا تو فقط خوف۔

کورونا کے خوف کے سائے میں عید پہلے ہی کچھ خاص پر لطف نہ تھی اور پھر جہاز کے حادثے نے تو گویا تمام رنگ ہی چھین لیے۔

Read more

کورونا بمقابلہ ارطغرل

میرے پانچ سالہ بیٹے نے ٹی وی ہیڈ لائنز دیکھ کر خوف زدہ آنکھوں کے ساتھ سوال کیا، ماں! کیا کورونا بہت خطرناک ہے؟ میں نے رٹے ہوئے طوطوں کی طرح گذشتہ دو ماہ کے دوران ازبر کیے ہوئے جواب دہرانے شروع کر دیے۔

اسے سمجھایا کہ کورونا جان لیوا ہے، سماجی دوری کے فوائد اور بار بار ہاتھ دھونا وغیرہ۔ مگرصاحبزادے نے قطعی درگزر کر کے روکا اور پوچھا کہ کیا ’اتغور‘ یعنی ارطغرل کورونا کا مقابلہ کر سکتا ہے؟

Read more

کورونا کے بعد کا نیو ورلڈ آرڈر؟

کس نے سوچا تھا کہ 2019 کا ڈوبتا سورج اور 2020 کا آغاز ایک ایسے اٴن دیکھے دشمن سے دوچار کر دے گا جس کا نہ کوئی چہرہ ہے اور نہ ہی وزن، نہ آنکھیں ہیں اور نہ ہی ذہن، نہ کوئی ہیئت ہے اور نہ ہی شکل، مگر وجود ایسا کہ لاکھوں مربع میل پر محیط ریاستیں اس کے سامنے بے بس اور کھربوں کے ہتھیار اُس کے سامنے بے اختیار۔ ایک وائرس نے دنیا بدل کر رکھ دی

Read more

کیا مریم نواز اگلی سونیا گاندھی ہو سکتی ہیں؟

دنیا بھر کی جمہوریتوں میں اپوزیشن کو Government in Waiting یعنی اگلی آنے والی حکومت کہا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حزبِ اختلاف اہم معاملات پر ایک مختلف زاویہ یا نظریہ سامنے رکھتی ہے۔ بالغ جمہوریتوں میں حزبِ اختلاف پالیسی پیپرز شائع کرتی ہے، حکومت کی معاشی، دفاعی، خارجہ اور داخلہ پالیسی پر کڑی نظر رکھتی ہے، حکومت بجٹ پیش کرتی ہے تو اپوزیشن بھی اپنا ایک shadow budget پیش کرتی ہے اور اپنا نکتہ نظر عوام کے سامنے

Read more