دو دھرنوں کا تہذیبی تضاد

بعد میں پتہ چلا کہ ان میں سے ایک نوجوان راولپنڈی میں چوری چکاریوں کی وارداتوں میں ملوث تھا اور دوسرا نوجوان پشاور میں ایک لوکل ویگن کا کنڈیکٹر تھا جب کہ ان کے باقی ساتھی بھی اوّل الذکر کی مانند کسی کار آمد کام کی بجائے معاشرے کا بوجھ ہی تھے ان کی تعداد درجن بھر تھی اور ان کے عقب میں چند ماڈرن لڑکیاں پارٹی کی ٹوپیاں پہنے اور چہروں پر مختلف رنگوں کی پینٹنگز بنائے تالیاں اور

Read more

فیض اور شیخ ایاز کے مقابلے کا پختون رحمت شاہ سائل

بائیں بازو سے تعلق رکھنے والے گرفتار چند افراد کو مارشل لا حکومت کی قائم کردہ فوجی عدالت کے سامنے پیش کیا گیا تو فوجی عدالت کے سربراہ جو ایک نوجوان کرنل تھے کی نگاہ سب سے آخر میں کھڑے چھوٹے سے قد کے نوجوان پر پڑی، پتہ نہیں اُردو بولنے والے کرنل کے دل میں کیا آیا کہ اس پختون نوجوان کو آگے آنے کا اشارہ کیا اور مہذب اور میٹھے لہجے میں پوچھا کہ کیا کام کرتے ہو؟

Read more

مولانا آ رہا سے مولانا آ گیا ہے تک

میرا کالم ”مولانا کو اتنا ایزی بھی نہ لیں“ لگ بھگ ایک مہینہ پہلے ہم سب پر شائع ہوا (عنوان کی معمولی تبدیلی کے ساتھ ) اور پھر کئی اخبارات نے بھی اسے چھاپا۔ کالم کی اشاعت کے وقت مولانا فضل الرحمٰن نہ آزادی مارچ کے لئے نکلے تھے نہ سڑکوں پر ایک جم غفیر برآمد ہوا تھا۔ نہ سندھ اور پنجاب میں ایک خلقت اُمڈ آئی تھی، نہ خیبر پختون خواہ اور بلوچستان سے قافلے روانہ ہوئے تھے، نہ

Read more

"جب آئے گا عمران” سے "پھر آ گیا عمران” تک

ہم تھوڑا سا پیچھے کی طرف جاتے ہیں، معاشی صورتحال اگرچہ زیادہ قابل شتائش ہرگز نہ تھی لیکن وہ بتدریچ بہتری کی جانب گامزن ضرور ہوگئی تھی جس کا اعتراف عالمی ادارے بھی کرنے لگے تھے۔ دُنیا کا سب سے بڑا منصوبہ بلکہ عجوبہ سی پیک ضروری کاغذی کارروائی سے نکل کر عملی صورت کی طرف بڑھنے لگا تھا۔ طویل اور تباہ کُن دھشت گردی پر پاک فوج مسلسل آپریشن کے ذریعے قابو پانے لگی تھی۔ کراچی الطاف حسین کے

Read more

عجیب نواز شریف ہے

میڈیا پر اس کا نام لینے پر پابندی ہے لیکن میڈیا پر وہ چھایا ہوا ہے۔ ”کرپٹ“ بھی وہ ہے اور اُمیدوں کا محور بھی وہ ہے۔ مشکل ترین دنوں اور آزمائشوں کا شکار بھی وہ ہے اور ملک بھر میں سب سے زیادہ چاھا جانے والا اور مقبول بھی وہ ہے۔ عجیب نواز شریف ہے خود بیمار اور کمزور ہے لیکن اس ملک کے طاقتوروں کی چیخیں بھی وہ نکال رہا ہے۔ خود جیل میں ہے لیکن اپنے ہر

Read more

صرف امن ہی کا سوال ہے

چار گھنٹے پرمحیط طویل اور پہاڑی سفر کے بعد میں ضلع خیبر (سابقہ ایجنسی) کی دور افتادہ لیکن جنت کی شباہت لئے انتہائی حسین اور یخ بستہ وادی تیراہ میں صورتحال سے بر سر پیکار ادارے کے مقامی ہپڈ کوارٹر پہنچا تو تو نوجوان اور خوش مزاج افسروں اور برفانی ہوا نے ایک ساتھ استقبال کیا ایک کمرے میں خور و نوش کے فورًا بعد ایک چھوٹے سے بریفنگ ہال میں قدرے طویل لیکن حد درجہ معلومات افزا سلسلہ چلا

Read more

مولانا فضل الرحمن کی دیوانہ وار سیاست کا اٹھتا ہوا طوفان

تازہ خبر یہ ہے کہ مولانا فضل الرحمٰن کے کارکن ستائیس کی بجائے پچیس تاریخ (جمعہ) سے ٹولیوں کی شکل میں نکلنا شروع ہوں گے، ہر ٹولی بارہ بارہ افراد (جس میں دس کارکن اور دو خادمین) پر مشتمل ہوگی۔ یہ دو خادم سفر اور کھانے پینے کے انتظامات اور لیڈر شپ سے رابطے اور ہدایات لینے کی ذمہ داری بھی نبھائیں گے۔ رکاوٹوں کی صورت میں نئے راستوں کی تلاش اور انتخاب بھی ان خادمین کی ذمہ داری ہوگی۔

Read more

لکھنا بھی ہے اور احتیاط بھی لازم ہے

کچھ دن پہلے جب میں اپنی پیشہ ورانہ مجبوریوں کی سبب گمشدگی کے لبادے میں ملبوس ایک ایسے شخص کے پاس بیٹھا ھوا تھا جن کی پروفیشنلزم، خلوص اور خیر کی تمنّا پر مجھے تو کیا شاید تاریخ کے کسی لمحے کو بھی شبہ تک نہ ہو کیونکہ ناسازگار رتوں اورخون آشام بلاؤں کو ایک مہارت اور دلیری کے ساتھ ملیامیٹ کرنے کا سہرا انہیں کے سرہے۔ لیکن ھم لکھنے والوں کے سروں پر ہمیشہ دوھرا عذاب ہی ہوتا ہے

Read more

سیاستدان تو غلام احمد بلور بھی ہے

اس عہد ستم کا المیہ دیکھیں کہ جب بے ضمیر کرداروں، بازاری زبانوں اور کذب بیانی کے ماہر ٹولے سیاسی بساط پر ایک بے حیا تاریخ کو بُن رہے ہیں، وہیں نا پید ہوتے عہد کا ایک ایسا سیاستدان اب بھی باقی ہے جو نہ صرف شرافت، وفا شعاری اور جمہوری جدوجہد کا ایک تابندہ کردار ہے بلکہ کبھی سیاست میں قربانیوں کی تاریخ کھلی تو بلاشبہ میر قافلہ بھی وہی ٹھرے گا۔  شاید یہ بات تو ایک دُنیا جانتی

Read more

نئی تازی خبریں اور حکومت کی پریشانیاں

مولانا فضل الرحمن ایک طوفان خیز دھرنے سے چاروں جانب جس ہلچل اور سیلاب بلا خیزی کا طوفان اُٹھائے ہوئے ہیں اس کے بطن سے کم ازکم عمران خان اور اس کی حکومت کی رخصتی ہرگز بر آمد نہیں ہوگی۔ بے شک دھرنا ہوگا اور مولانا اس کے ذریعے ”اپنی طاقت“ کا پیغام مطلوبہ منطقوں تک پہنچانے کی بھرپور کوشش بھی کریں گے لیکن ”مطلوبہ منطقے“ بھی کچی گولیاں نہیں کھیلی ہیں۔

Read more

شہر لاھور تری رونقیں قائم آباد

منظر جاوید ایک میٹنگ کے سلسلے میں لاھور سے اسلام آباد روانہ ہوئے تو فون کیا کہ میں بھی کل اسلام آباد آ جاؤں اور پھر کل وہاں سے اکٹھے لاھور چلیں گے جہاں میری دو کتابوں کی طباعت کا مسئلہ در پیش ہے جس کی ذمہ داری میں نے اس پر ڈال دی ہے بلکہ میری لا پرواھی کو مد نظر رکھتے ہوئے خود یہ ذمہ داری لی ہے۔ سو دوسرے دن میں حسب پروگرام مقررہ وقت پر پشاور

Read more

ابصار عالم! اب بھی وقت ہے، سدھر جائیں

میں ہمیشہ کہتا رہا کہ تمھاری ایمانداری اور اُصول پسندی تمھارے لیے مسائل پیدا کرے گی لیکن مطیع اللّہ جان نے کب بات مانی تھی جو ابصار عالم بھی مان لیتا۔ سو اس کی پیمرا چئیرمین تعیناتی پہلے دن سے منسوخ کردی گئی بلکہ تمام تنخواہیں واپس جمع کرانے کا حکم بھی جاری کردیا گیا کیونکہ ہم ایک ابصار عالم کی خاطر اپنی ان “شاندار روایتوں“ کو نہیں توڑ سکتے جو ہم نے ملک کو فائدہ پہنچانے اور ایماندای کے

Read more

مولانا کو اتنا ایزی بھی نہ لیں

آزادی مارچ کے حوالے سے اگر یہ کالم صرف خیبرپختونخواہ کی حد تک بھی محدود رہے تو تیاریاں ملاحظہ ہوں کہ اگست کے مہینے میں جمعیت علماء اسلام کےتمام اضلاع (بشمول فاٹا اضلاع) کے امراء اور جنرل سیکرٹریز کے مسلسل اور مشترکہ اجلاس ہوتے رہے۔ جس میں انتہائی نچلی سطح حتی کہ محلے اور مسجد تک کے تنظیمی معاملات اور تیاریوں پر بھی طویل مشاورت اور بحث ہوتی رہی۔ صوبائی شوری کے اجلاس کے بعد مقرر کردہ کمیٹی نے صوبے

Read more

تقریر اور کارکردگی میں فرق ہوتا ہے

اس کی تیز اور گرج دار آواز سکیورٹی کونسل کے اجلاس میں گونجی اور کہا کہ سکیورٹی کونسل انصاف دلانے میں ناکام ہو چکا ہے۔ میں اور میرا ملک کسی ظالمانہ فیصلے کو نہیں مانتے، ہم اپنے ملک اور اپنی عزت کی خاطر لڑنے کی تاریخ بھی رکھتے ہیں اور حوصلہ بھی۔ سکیورٹی کونسل بے شک کسی جابرانہ فیصلے کو قانونی شکل فراہم کردے لیکن میں اس فیصلے کا حصہ نہیں بنوں گا اور ہم اپنا ہی فیصلہ کرنے میں

Read more

دو عظیم طبقوں کے ساتھ ایک عظیم ظلم

جدوجہد کردار علم اور خدمات کے حوالے سے تاریخی طور پر سب سے سر بلند یہی دو طبقے ہیں جن کے ہاتھ بہت عظیم اور قابل احترام لوگ آئے اور یہی دو طبقے ہیں جن کے نام پر ان کے نام لیواوں نے نہ صرف ذاتی ایجنڈوں کا مکروہ کھیل کھیلا بلکہ سماج کو بہت حد تک گمراہ کر نے میں بھی کامیاب رہے۔ میں بات کر رہا ہوں مذہبی طبقے اور بائیں بازو عرف عام میں لبرل طبقے کی،

Read more

ایک نئی اشرافیہ کی تخلیق

گویا صورت حال یہ ہو گئی ھے کہ آپ تین بار کے منتخب وزیراعظم نوازشریف کو بغیر کسی ٹھوس ثبوت کے چور، ڈاکو اور خائن بولتے رہیں ملک کے موجودہ وزیراعظم عمران خان تو کیا اس کی بہنوں کے سروں کی چادروں تک کو کھینچتے رہیں سابق صدر مملکت آصف علی زرداری کو ڈکیت اور مافیا کے القابات سے نواز تے رہیں۔ مولانا فضل الرحمان کی پگڑی اچھالتے رہیں۔ اسفندیار ولی خان سے محمود خان اچکزئی کے خاندانوں تک زیر

Read more

گلالئی اسماعیل: یہ خاندان آپ ہی کو مبارک ہو

گلالئی اسماعیل بھا گ گئی اور اس وقت نیویارک میں اپنی بہن کے پاس رہائش پزیر ہے۔ پہنچی وہی پہ خاک جہاں کا ”خمیر“ تھا۔
ضیاء الدین یوسفزئی (ملالہ کے والد ) سے حسین حقانی تک ایک طویل سلسلہ ہے جو غنیم کے درو بام پر ایستادہ اپنی دھرتی کو طعنہ زنی میں شب و روز ایک کیے ہوئے ہیں۔ (کیا مصنف ان طالبان کو الزام نہیں دیں گے جن کی وجہ سے ملالہ مرتے مرتے بچی اور اب بھی پاکستان واپس آنے پر اس کی جان کو خطرہ ہے؟ مدیر)

Read more

گھوٹکی واقعہ اور ایک تباہ کن بیانیہ

بتایا جا رہا ہے کہ بچہ اپنی پڑھائی پر توجہ نہیں دے رہا تھا اور اس دن بھی وہ ہوم ورک کر کے نہیں آیا۔ سکول کے پرنسپل نوتن کمار (جس کا تعلق ہندو مذہب سے ہے ) نے چودہ سالہ بچے کو سزا دی اور اسے اپنی پڑھائی بہتر بنانے پر سخت وارننگ دی۔ بچہ گھر پہنچا تو اپنے والد سے شکایت لگائی کہ پرنسپل نوتن کمار نے توھین رسالت کی ہے اور یہیں سے شاہ لطیف کی شاعری

Read more

تجزیہ نگاروں کا پراسرار غول

پتہ نہیں یہ لوگ کہاں سے آن ٹپکے اور پلک جھپکتے میں تجزیہ نگار بلکہ سینئر تجزیہ نگار بن بیٹھے حالانکہ ان کی تجزیہ نگاری سننے اور دیکھنے سے بہتر ہے کہ کوئی مزاحیہ پروگرام دیکھا جائے۔ ایک صاحب تو باقاعدہ لکھ کر یا لکھوا کر لاتے ہیں اور اپنی “طوطا نما” تجزیہ نگاری سے احمقوں کو مزید احمق بناتے ہیں۔ سُنا ہے ایک لائیو شو کے دوران اس کے ایک ساتھی نے وقفے کے دوران اس کا “تجزیہ“ چرایا

Read more

درندگی کے موسم میں مرتی کلثوم نواز

وہ نمود و نمائش اور تکبر سے بہت دور ایک پڑھی لکھی (حتٰی کہ صاحب کتاب) خاتون تھیں لیکن ان لوگوں نے تو وہی کہنا تھا جو انھیں سمجھایا گیا تھا یا جس طرح ان کی تربیت کی گئی ہے۔ لیکن ٹھہریے پہلے ہمیں یہ بات پوری طرح سمجھ لینی چاہیے کہ بے شک اس ملک میں سمجھ اور شعور سیاسی سوجھ بوجھ اور احترام جمہوریت کا علم ایک جذبے کے ساتھ یقینًا اٹھایا گیا ہے اور خلقت کا ایک

Read more

نواز شریف اسی ہفتے رہا ہو سکتے ہیں

کیا نواز شریف کی دیو ہیکل سیاسی قوت (خصوصاً پنجاب ) کو اتنی آسانی کے ساتھ نظر انداز کیا جائے اور وہ بھی ایک ایسے وقت میں جب وہ اپنی بیٹی سمیت پابند سلاسل ہے، جبکہ پورا خاندان ابتلاء اور آزمائشوں کے سامنے ہے۔ جس نے ہمدردی کی ایک طاقتور لہر کو شریف فیملی کی سمت موڑ دیا ہے۔

Read more

جنگ نہیں امن کی طرف بڑھنا ہو گا

ھم ایک صدی سے بھی کم عرصے پر نگاہ ڈالیں تو جنگ نے اپنے پیچھے اموات خون زخموں بھوک اور افلاس کے علاوہ کچھ بھی نہیں چھوڑا یکم ستمبر 1939 ء کو جرمن فوج پولینڈ میں داخل ہوئی اور اسی دن اس جنگ کا آغاز ہوگیا۔ جسے ہم دوسری جنگِ عظیم کے نام سے جانتے ہیں، اور جس میں دنیا کے اکسٹھ ممالک نے حصّہ لیا (کل دُنیا کی % 80 ) جبکہ یہ جنگ چالیس ملکوں کی زمین پر

Read more

کشمیر: بنیادی مسئلہ کیا ہے

یہ ایک بڑی ریاست تھی۔ جس میں موجودہ مقبوضہ کشمیر، آزاد کشمیر، گلگت بلتستان، جمّوں اور لدّاخ شامل تھے یعنی ایک طرح سے ایک پوراملک تھا۔

ہندوستان کی آزادی کی تحریک اُٹھی اور برطانوی حکومت پسپا ہونے لگی تو فیصلہ ہوا کہ مسلم اکثریتی علاقے پاکستان جبکہ ہندو اکثریتی علاقے ہندوستان کے حصّے میں آئیں گے۔

Read more

مطالعہ پاکستان کے لئے ایک کالم

چلیں ہم تاریخ کے ساتھ ساتھ چلتے ہیں۔
بانئی پاکستان قائداعظم کی لاش جس ایبولینس میں پڑی تھی وہی ایمبولینس کئی گھنٹے لاش لئے روڈ پر اس لئے کھڑی رہی کہ وہ خراب ہوگئی تھی کیونکہ فاطمہ جناح اس کا اصلی انجن یچ کر کھا چکی تھیں۔

وزیراعظم پاکستان لیاقت علی خان کے سینے میں گولیاں اس لئے پیوست ہوگئیں کہ وہ کشمیر کا سودا کر چکے تھے اور ”مودی“ کے یار بن گئے تھے۔ پہلی اسمبلی کے سپیکر خواجہ ناظم الدین گورنر جنرل غلام محمد کے غیر آئینی اقدام ( اسمبلی توڑنے ) کے خلاف اس لئے عدالتوں میں دھکے کھاتا رہا کہ اس نے ٹھیکیداروں سے کمیشن لیا تھا۔

Read more

ایک سپہ سالار وہ بھی تھا

اس کا گھوڑا جس سمت کو بھاگتا وھی علاقہ مسلمان ریاست میں شامل ہو تا خلیج فارس سے فلسطین تک نہ کوئی سلطنت اس کے سامنے رکا نہ کوئی قبیلہ اس کے فتوحات روک سکا اور پہر تاریخ کا یہ عظیم جرنیل اور فاتح اپنا لشکرِلے کر مدینہ لوٹ آیا، اور پورے شہر میں ایک جشن برپا تھا۔ ہر کوئی اسی دراز قامت فاتح کو دیکھنے کا متمنی تھا۔ جس نے طاقتور ترین سلطنت روما کی اینٹ سے اینٹ بجا دی تھی اور جس کی جنگجویانہ صلاحیت ہر خاص و عام کو متاثرکیے ہوئے تھی۔

Read more

ہنٹر ایس تھامسن، صحافتی سچائی اور امریکی اخلاقیات

 ہنٹر تھامسن کی دانش اور دلیری سے بھرپور صحافتی تحریروں کو پورے امریکہ میں بہت شہرت ملی کیونکہ اس نے خطرناک سچ پر بھی سوالات اُٹھانے شروع کر دیے تھے۔ مشہور امریکی صحافی ہنٹر ایس تھامسن کے اس مخصوص جرنلزم سٹائل کو گونزو جرنلزم کہا جاتا ہے۔ اس طرح کی جرنلزم میں لکھاری اپنی رائے کو طنز مبالغہ اور غیر یقینی خیالات کے لبادے میں لپیٹ کر پیش کرتا ہے جبکہ بعض اوقات اپنے آپ کو بُرا پیش کر کے

Read more

مودی کے ہاتھ میں کاغذ کا بے وقعت پُرزہ

راہول گاندھی بے شک ایک نوجوان سیاسی لیڈر ہیں لیکن سوشل میڈیا پر ان کا ٹویٹ پڑھا تو میں نے دل ہی دل میں ان کے دانش اور وژن کی داد دی اس نے لکھا کہ ”کشمیر کی اہم ترین لیڈر شپ کو خفیہ جیلوں میں ٹھونس کر گویا دہشت گردوں کو ان کی خلاء پر کرنے کی دعوت دی گئی اور یہ مودی سرکار کا احمقانہ اور دانش سے تہی فیصلہ ہے“ لیکن کیا کیجئے کہ تعصب اور نفرت

Read more

ٹموتھی ڈیکسٹر نے کیسے دولت کمائی؟

اگر ابراھام لنکن سے بل گیٹس اور لیڈی ڈیانا سے کرنل سنیڈرز (کے ایف سی کا مالک ) تک عالمی شہرت حاصل کرنے والے اپنے چمکتے ہوئے تارے اور دمکتی ہوئی قسمت لے کر نہ آتے تو آج وہ بھی کسی مائیکل اور کسی میری کی طرح گمنام زندگی گزارتے اور گمنام موت مرتے۔ یہ قسمت ہی ہے جوبعض اوقات لغزش پا کو بھی منزلوں پر پہنچانے کا سبب بنتی ہے۔ حیرت ہوتی ہے کہ اس میں نہ عقل کا

Read more

وادی تیراہ سے مہمند ایجنسی تک

ہیلی کاپٹر فضا میں بلند ہوا تو ایک مشہور ٹیلیوژن چینل سے وابستہ نوجوان صحافی نے میرے کان میں کہا کہ سر ہم صحافیوں کی زندگی کچھ زیادہ خطروں سے دوچار نہیں ہوتی جارہی ہے؟ میں نے حیرت کے ساتھ اس کی طرف دیکھا تو اس نے شرارت آمیز مسکراہٹ کے ساتھ ہیلی کاپٹر کی حالت زار کی طرف اشارہ کیا لیکن لگ بھگ پچیس منٹ بعد یہی ”حالت زار“ ہمیں وادی تیراہ کے نواح میں پیندی چینہ کے سرسبز و شاداب پہاڑوں کے بیجوں بیج بخیر و عافیت اتار چکا، جہاں کچھ افسران اپنے سٹاف کے ساتھ گاڑیوں سمیت ہمارے منتظر تھے۔

Read more

فاٹا دہشت گردی سے ترقی تک

بریفنگ سابق فاٹا اضلاع میں سکیورٹی صورتحال اور ڈیویلپمنٹ کے حوالے سے تھی لیکن ظاہر ہے بہت سارے سوال بھی پوچھے جانے تھے اور بہت سے موضوعات بھی کھلنے تھے۔ کور کمانڈر پشاور جنرل شاھین مظہر ایک اور سینئر افسر کے ہمراہ سابق فاٹا کے ساتوں اضلاع میں سکیورٹی اور ترقی کے حوالے سے پشاور کے سینئر صحافیوں کو تفصیلی بریفنگ دینے لگے تو اُمید اور خوشگواری کی بارش پیہم برستی رہی کیونکہ دہشت گردی کا ذکر کم بلکہ بہت

Read more

عرفان صدیقی۔ راستوں کی دھول ہوتی خوشبو

سرشام چند پراسرار لوگوں نے اس کے گھر کا گھیراؤ کیا اور چھوٹے سے قد اوربڑے ذہن والے بوڑھے عرفان صدیقی کو لے کر چلتے بنے، کیونکہ اس ”کرپٹ“ آدمی نے اپنے گھر کا خرچہ چلانے کے لئے اپنی جسمانی قامت جیسے چھوٹے گھر کا ایک پورشن بغیر اطلاع کے کرائے پر چڑھا دیا تھا اور ظاہر ہے حکومت عمران خان کی ہے اور وہ کسی کرپٹ کو نہیں چھوڑتا۔ اس لئے اس ”خوفناک کرپشن“ پر اس ”طاقتور“ کو دھر لیا گیا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ گھر ان کے بیٹے کے نام پر ہے اور کرایہ نامہ بھی اسی کے نام پر ہے جس سے عرفان صدیقی کا کوئی لینا دینا نہیں۔

Read more

عمر مختار: وہ بندہ صحرائی جو ایک آزاد شیر تھا

اس کا نام آزادی اور حریت کی تاریخ کا ایک جگمگاتا استعارہ ہے وہ لیبیا کے ایک چھوٹے سے گاؤں جنزور میں 1862 ء کو پیدا ہوا، بنیادی طور پر وہ ایک دیہاتی سکول میں اُستاد اور قرآن پاک کا معلم تھا، حد درجہ سادہ اطوار لیکن مضبوط اعصاب رکھنے والے سکول ٹیچر کی ابتدائی زندگی گھر مسجد اور سکول کے گرد گھومتی رہی۔ اس کا بے پایاں خلوص اور آہنی اعصاب اسے ایک افسانوی کردار والا باغی بنانے کے

Read more

کپتان کا حکم ہے کہ گھبرانا نہیں

یو ایس ائیرویز 1549 پندرہ جنوری دو ہزار نو کی ایک برفیلی صبح کو نیویارک ائیر پورٹ سے ساؤتھ کیرولینا کے لئے ایک سو پچپن مسافروں کو لے کر اُژی تو ستاون سالہ کیپٹن چیلسی سلنبرگر اپنے فرسٹ افسر جیفری سکائلز کو اپنے ائیر فورس کے زمانے (جب چیلسی برگر ایک فائیٹر پائلٹ ہوا کرتا تھا) کے تجربات سناتا اور جہاز ساؤتھ کیرولینا کی طرف تین ہزار فٹ بلندی پر اُژاتا رہا جہاز کے بعض مسافر خوابیدہ تھے جبکہ بعض

Read more

اک ذرا صبر کہ بس جبر کے دن تھوڑے ہیں

اس مملکت خداداد نے ہمیشہ یونہی تو نہیں رہنا ہے۔ آمریتوں، کرپشن، اقرباء پروری، جبر و استحصال اور بربریت کے منہوس سایوں میں اس وطن کے خاک نشینوں نے بہت ظلم سہہ لئے، فطرت کا قانون ہے اور اٹل قانون کہ تمام منفی عوامل ایک مہلت کے اندر پنپتے اور فنا ہوتے ہیں لیکن تکبّر اور جبر کا ہمیشہ یہی مزاج ہوتا ہے کہ وہ فطرت کے قوانین پر اپنی طاقت کو ترجیح دیتے ہیں لیکن مظلومیت کو فطرت ایک

Read more

پختون قوم کی میڈیا پسندی اور حجرے کا کردار

یہ حجرہ ہی تھا جو صدیوں سے پختون خطے میں مجموعی طور پر سماجی زندگی کا نہ صرف اہم ترین حصّہ رہا بلکہ یہاں کی اجتماعی دانش بھی اسی مرکز سے پھوٹتی رہی۔ حُجرے کی یہی مرکزیت ہی تھی جس نے پختونوں کے مزاج میں با خبری اور خبر تک رسائی کا رنگ بھرا اور اسے ان کی جبلت کا حصہ بنایا۔ آگے چل کر یہی مزاج جدید دنیا اور میڈیائی ارتقاء سے ہم آھنگ ہونے لگا۔

ہماری نسل سے ذرا اُدھر ریڈیو نہ صرف حجرے کے سب سے اونچے طاق پر پہنچ گیا تھا بلکہ اسی ریڈیو کے سامنے کثرت کے ساتھ لوگ (خصوصاً بزرگ ) بھی نظر آنے لگے تھے اور یہی وہ وقت تھا جب خبریت کا مزاج رکھنے والی قوم کے سامنے خبر کا دائرہ پھیلنے لگا۔

Read more

میں اپنے آنسوؤں کو کس کے حوالے کروں

کرک کے دور افتادہ گاؤں غنڈی میرا خان خیل میں جس وقت عمر خٹک کو لحد میں اُتارا جا رہا تھا، عین اس وقت حیات آباد پشاور کے قبرستان میں ڈاکٹر پروین بھی خاک اوڑھنے لگی تھی۔
یہ دونوں بظاہر عام لوگ تھے کیونکہ پروین ایک گائناکالوجسٹ تھی اور عمر کرک کا ایک مقامی سیاستدان جو اپنے مقامی لوگوں میں اُٹھتا بیھٹتا اور وہ لوگ ہمیشہ اپنا ووٹ اس کی امانت سمجھتے رہے۔

Read more

آمر اور سیاستدان کا فرق یہ ہے

عمران خان نے اپنی افتاد طبع کے مطابق جس طرح اپنی سیاست کو گالم گلوچ آمریت پسندی اور حقائق سے دوری پر استوار کیا اسی طرح اپنے پیروکاروں کی تربیت بھی کی اور انھیں ایک عجیب و غریب ”سیاسی شعور“ فراہم کیا جہاں سے بے سروپا اور حقائق سے ماورا سوالات بہم اُٹھ رہے ہیں، دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ سوالات صرف جمہوریت سیاست اور سیاستدانوں پر اُٹھائے جا رہے ہیں، اس کی پہنچ نہ کسی عہدِ آمریت تک ہے نہ کسی آمر کے گریبان تک

الزام و زم کی قمچیاں بنتی زبانوں کی زد میں نہ ایبڈو کا سرکس سجاتا ایوب خان آتا ہے، نہ ملک کو دولخت کرتا یحیٰی خان نہ کوڑوں اور پھانسیوں کے بازار سجانے والا ضیاء الحق اور نہ ملک کو آگ میں جھونک کر فرار ہونے والا پرویز مشرف بلکہ صرف وہ لوگ آتے ہیں جو جمہوری جدوجہد کے حامی بنتے ہیں۔

Read more

تبدیلی کا عذاب اور پیٹ کی حقیقت

نام تو اس نے پہلے ہی سونامی رکھا تھا لیکن تب کسے معلوم تھاکہ عمران خان جوں ہی اقتدار کا زینہ چڑھے گا تو اس کی تبدیلی کا خواب ایک مجّسم عذاب بن کر گلی گلی وہ تباہی پھیلائے گی کہ سونامی بھی منہ چھپاتی پھرے گی، اس بد نصیب مملکت کو اب کے بار ایک عجیب آدمی سے واسطہ پڑا ہے۔

جس کاخیال ہے کہ بائیس کروڑ خلقِ خدا میں کوئی ذی ہوش اور صاحب عقل انسان زندہ ہی نہیں بچا بلکہ سب اس کی اداؤں کی قتیل ہی ٹھہرے، تبھی تو وہ مذہب سے معاشیات اور تاریخ سے سیاست تک دلیل سے عاری اور حقائق سے دور بے ڈھنگی گفتگو کرتے ہوئے سانس تک نہیں لیتا۔

Read more

تاریخ کے ساتھ کھلواڑ

یہی دو طبقے تھے جن کے ہاتھ بہت عظیم اور قابل احترام لوگ آئے اور یہی دو طبقے ہیں جن کے نام پر ہمیشہ وارداتیں بھی کی گئیں۔میں بات کر رہا ہوں مذہبی طبقے اور بائیں بازو عرف عام میں لیفٹسٹ طبقے کی، ہم اوّل الذکر طبقے پر نگاہ ڈالیں تو مولانا قاسم نانوتوی سے انورشاہ کاشمیری تک اور مولانا عبیداللّہ سندھی سے مولانا محمد طاہر پنج پیر تک، مولانا احمد رضا بریلوی سے شاہ احمد نورانی تک اور مولانا حسین علی سے ابولاعلٰی مودودی تک، جدوجہد اور کارکردگی کا ایک قابل فخر اور لھلھاتا ہوا زرخیز سلسلہ ہے لیکن ہم لوگ آخر کتنا جانتے ہیں کہ ان عظیم لوگوں نے اپنی پُر خلوص جدوجہد کے لئے ذاتی حیثیت میں کتنی صعوبتیں اُٹھائیں اور اُنھوں نے اپنے مشن اور پیغام کے ذریعے کتنی روشنی بانٹی لیکن اس حقیقت سے کون آنکھیں چُرائے گا کہ اس مذہبی طبقے سے وہ کردار بھی برآمد ہوئے جنہوں نے اپنے اپنے مفادات کے لئے انتہائی بے دردی کے ساتھ نہ صرف مذہب کو استعمال کیا بلکہ بعض اوقات معاشرے کو جہالت، بربادی حتٰی کہ خوں ریزی کی طرف دھکیلا اور یہی وہ چیز ہے جس نے مذہبی طبقے کے خلاف ایک طاقتور رد عمل کو پروان چڑھایا، جس کی زد میں وہ لوگ بھی آئے جن کی کارکردگی انتہائی شاندار اور جدوجہد حد درجہ جینوئن تھی۔

Read more

حضور کریمؐ کی سیاسی کامیابیاں

اگرہم چند لمحوں کے لئے اپنے عقیدے اور فکری بنیاد سے الگ ہو کربھی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کو سوچیں تو خالص دنیاوی حوالے سے ہاتھ آئی خیرہ کن کامیابیاں ہمیں ششدر کر دیتی ہے۔ کیونکہ اگر ہم سکندر اعظم، نپولین اور ہٹلر کو لیں تو ان کی زندگی ایک سپہ سالار اور فاتح جنگ سے بڑھ کر کوئی نہیں۔ گوتم بدھ کی زندگی ریاضت اور عبادت کے گرد گھومتی ہے، جبکہ افلاطون اور ارسطو صرف حکیم اور فلسفی تھے، جبکہ اس کے بر خلاف رسولِ عربیؐ کی زندگی ہمہ جہت حیثیت کی حامل ہے۔

Read more

ایک امید بھری ملاقات کی روداد

یہ ایک مستطیل کمرہ ہے نفاست سے سجا ہوا، جس کے کھڑکیوں کے باہر شیشے کے اس پار ہرے ہرے لان دور تک پھیلے ہوئے ہیں۔ کمرے کے غربی حصّے میں ترتیب کے ساتھ چند صوفے رکھے ہیں۔ ابھی ابھی دو سینئیر افسران مجھے لے کر اس کمرے میں داخل ہوئے اور میرا میزبان ( بوجوہ نام یا عھدہ لکھنے سے گریز کر رہا ہوں ) ایک گرم جوشی کے ساتھ میری جانب لپکا تو مجھ پر ایک حیرت کا

Read more

لکھاریوں کا المیہ اور میڈیا کی غنودگی

ایک انگریز مفکر نے کہیں لکھا تھا کہ میرا خلوص مجھے وہاں بھی بچا لیتا ہے جہاں میری عقل بے بس نظر آتی ہے، سو ہم جیسے لکھنے والوں کے ساتھ یہی واقعات ہوتے ہیں اور بارہا ہوتے ہیں۔ حیرت اس بات پر نہیں ہوتی کہ ایک جنون خیز جذبے کے ساتھ ہم ”ریڈ لائنز“ کے اس پار چلے جاتے ہیں بلکہ حیرت اس پر ہوتی ہے کہ ہم زندہ سلامت بھی رہ جاتے ہیں وہ بھی ایک ایسے ملک میں جہاں آزادی اظہار کا تقاضا بھی غداری کے زمرے میں آتا ہے اور جہاں گلی گلی بندوق عدالت لگاتی اور فیصلے سناتی پھرتی ہے لیکن ان عوامل سے الگ یہاں ہر شخص نے اپنی اپنی ریڈ لائن کھینچی ہے اور وہ آپ کی تحریروں میں اپنی خواہش کا عکس دیکھنے کا متمنّی ہوتا ہے لیکن اگر معاملہ اس کے برعکس ہو توپھر الزامات بہتان طرازی اور نایاب گالیوں کی بوچھاڑ سے آپ کا واسطہ دیر تک پڑا رہے گا۔

Read more

ایک پختون پاکستانی کا تپتا ہوا کالم

یہ پی ٹی ایم کے رہنما محسن داوڑ کا ذاتی بیانیہ ہے پختون قوم کا اجتماعی بیانیہ ہرگز نہیں لیکن ٹھہرئیے پہلے ماضی قریب کے اس خوں چکاں اور بے رحم ماضی پر نگاہ کرتے ہیں جس نے وزیرستان کی روایت پرست اور تنہائی پسند پختونوں کو انسانیت سوز مظالم سے دوچار کیا۔ کون سا ظلم ناروا تھا جس نے ان کے درو بام نہیں اجاڑے۔ کون سا ایسا خاندان تھا جن کی دہلیز پر خون ناحق نہیں ٹپکا۔ کون سا ایسا گھر تھا جس کے مکینوں نے رُلا دینے والی ہجرت کا عذاب نہیں سہا اور کون سا ایسا فرد تھا جس نے دہشت اور بربریت کے موسموں میں اپنی سانسیں نہیں گنیں۔

ظاہر ہے ان حالات سے ایک مظلومیت بھرے رد عمل کا اُبھرنا تھا اور پھر ایسا ہی ہوا ایک گمنام نوجوان منظور پشتین اپنے آنسوؤں سمیت ایک خوفناک نعرے کے ساتھ منظر پر اُبھرا اور متاثرہ منطقے میں بلخصوص مقبولیت کے معراج پر پہنچا جو ایک منطقی بات تھی۔

Read more

جھوٹی جنت کا دعویدار

تینوں نوجوان ایران کے مشھور علمی شہر نیشاپور میں اپنے اپنے علاقوں سے علم حاصل کرنے پہنچے اور تینوں قریبی دوست بنے ان میں سے ایک کا نام عمر اور دو نوجوانوں کے نام ایک جیسے یعنی حسن تھے۔تینوں کو آگے چل کر قدرت نے لازوال شہرت عطا کی۔ پہلے دو دوستوں کی شہرت کے ساتھ احترام اور محبت وابستہ ہے کیونکہ عمر نامی نوجوان بعد میں عمر خیام جبکہ حسن نام کا پہلا نوجوان خراسان کے سلجوقی حکمرانوں کا انتہائی ذھین اور قابل اعتماد وزیراعظم بنا جسے دُنیا نظام الملک طوسی کے نام سے جانتی ہے۔ جبکہ ان کے برعکس تیسرے دوست کو وہی شہرت ملی جو ابلیس کو ملی تھی کیونکہ اس کا مسلک وہی تھا جس پر ابلیس ہمیشہ اُتراتا رہا۔ یعنی انسانوں کو گمراھی اور بربادی کی طرف دھکیل کر اس پر تکبر بھی کرنا۔

Read more

روشن فکر اور تاریک دنیا کا ایک سیاسی کارکن

اسے توصحیح طرح سے یاد بھی نہیں کہ اپنی پاٹی سے پُر خلوص وابستگی اور اپنی بد بختیوں کا آغاز اس نے عمر کے کس حصّے میں کیا شاید نوجوانی سے بھی بہت پہلے کہیں بچپن کے آس پاسلیکن ٹھہرئیے اگر ہم لکھنے والے سیاسی لیڈروں کی کرپشن اور بے تحاشا جھوٹ سے صرف نظر کرتے ہوئے ان کے ”اقوال زریّن“ پر روز و شب بحث کرتے اور صفحے کے صفحے سیاہ کر سکتے ہیں تو کیا ایک گمنام لیکن حد درجہ مخلص سیاسی کارکن کا حق نہیں بنتا کہ اس کی قربانیوں کے طویل سلسلے اور غضب کی نظریاتی کمٹمنٹ کو موضوع سخن بنائیں۔

Read more

نہیں جناب حکومت چلانا آسان نہیں ہوتا

بہت پرانی بات ہے کہ فردوس جمال کو طارق عزیز نے اپنے پروگرام نیلام گھر میں بلایا تو سوال پوچھاکہ فردوس اداکاری اور پرفارمنگ آرٹ میں آپ نے ایک طویل عرصہ گزارا اور ایک زمانے سے اپنے فن کا خراج لیا بتائیے کہ اداکاری مشکل کام ہے یا آسان؟پڑھے لکھے اور دانشمند فردوس جمال نے سوال سنا تو لمحہ بھر کو کسی گہری سوچ میں ڈوب گئے اور پھر اپنے سر کو کھجاتے ہوئے طارق عزیز کی طرف دیکھ کر کہا طارق صاحب جن کو صحیح معنوں میں اداکاری آتی ہے اُن کے لئے یہ ایک مشکل کام ہے لیکن جن کو نہیں آتی اُن کے لئے بہت آسان ہے۔

Read more

عمران خان کا آخری اقتدار

ذوالفقار علی بھٹو تب ایک طاقتور مقبول رہنما کے طور پر منظر پر اُبھرے، جب تاریخ کا منہ زور دھارا سب کچھ تلپٹ کر رہا تھا مشرقی پاکستان کا سانحہ رونما ہو چکا اور نوے ہزار فوج ہندوستان میں قید ہوگئی تھی بھٹو نے وزارت عظمٰی سنھبالی تو اس کی ذات طاقت کا مرکز ٹھہری لیکن حالات کے پیش نظر یہ سب کچھ عارضی تھا کیونکہ مقتدر قوتوں پر ہر حوالے سے بُرا وقت تھا بعد میں ”برے وقت“ والوں

Read more

یہ ہوتا ہے عوامی بیداری کا ثمر

دونوں قبیلوں ( ہُو تو اور تُو تسی ) کے درمیان دشمنی تو کئی عشروں سے جاری تھی لیکن چھ اپریل انیس سو چورانوے کو رونڈا کا صدر جے ویل ہیپی ارمانا (جس کا تعلق ہُو تو قبیلے سے تھا
اپنے ہمسایہ ملک برونڈی کے صدر سپرین نیڑین میرا کے ساتھ دارالحکومت کیگالی کے قریب پراسرار فضائی حادثے میں مارے گئے تو چند گنھٹے بعد پورا ملک رونڈا ایسے خوفناک فسادات اور قتل و غارت کی لپیٹ میں آیا جس کی مثال انسانی تاریخ میں ملنا مشکل ہے۔

دونوں قبائل خصوصًا ہُوتو قبیلے کی غضب اور وحشت ایسی تھی کہ درندے بھی پناہ مانگیں۔
آپ اندازہ لگائیں کہ دارالحکومت کیگالی کے ایک ہی شاھراہ پر صرف ستر منٹ کے اندر اندر ساڑھے آٹھ ہزار سے زائد لوگوں کو مارا گیا۔ یہ فسادات اپریل سے جولائی تک سو دن جاری رہے اور اس مختصر وقت میں دس لاکھ سے زائد لاشیں گرائی گئیں، فسادات اتنے شدید تھے کہ اقوام متحدہ کی امن فوج نے بھی ہاتھ کھڑے کر دیے۔

Read more

عمران خان اور جذباتی عدم توازن

عمران خان اور جذباتی عدم توازن پھر یوں ہوا کہ میدان میں بد زبانی کے ہتھیار سے لیس اور سیاست و تہذیب سے بے بھرہ ایک شخص کو سیاسی لیڈر کی عبا پہنا کر اُتارا گیا کم عمر اور شعور و تجربے سے تہی نوجوانوں کے معصوم اذھان کو نفرت سے لبالب بھر دیا گیا۔ میڈیا پر زھر افشانی کی خاطر ایسے ایسے چھرے لا کر بٹھائے گئے جن کے ضمیر غائب اور زبانیں ان کے قد سے بھی لمبی تھیں۔ اور پھر اس منصوبے سے تحریک انصاف نامی جماعت برآمد ہوئی۔

جولائی دوھزار اٹھارہ میں چور چور کے بے معنی منشور کے ساتھ ایک عدد الیکشن بھی برائے ضرورت کھیلا گیا۔ اور پھر یوں ہوا کہ ایک مطلوب اور پسندیدہ وزیراعظم ہاتھ لگا جس نے پہلے ہی دن ایوان صدر میں غلط الفاظ بول کر حلف بھی اُٹھا لیا۔ ظاہر ہے اس ”انتظام“ کے بعد ملک کی باگ ڈور اس وزیر اعظم اور اس کے ان ساتھیوں نے سنبھالنی تھی جن کا کل سیاسی اثاثہ گالیوں اور بہتان طرازیوں کے علاوہ کہیں نظر نہیں آیا تھا حتٰی کہ اس پارٹی نی پانچ سال تک ایک صوبے میں حکومت بھی چلائی سو اس انتظام کے بعد یہی ہونا تھا جو ہو رہا ہے۔

Read more

فاٹا انضمام یا فاٹا انتشار

اتنا بڑا قدم اُٹھانے سے پہلے کیا ہوم ورک اور منصوبہ بندی مکمل کر لی گئی تھی؟ڈیڑھ سو سالہ نظام جو وھاں کی سماجی زندگی اور اجتماعی خدوخال کی تشکیل کرتا اور آگے بڑھاتا رہا اسے اکھاڑنے سے پہلے کیا ضروری نہیں تھا کہ اگلے مرحلے کے لئے تیاری تمام تر جزئیات کو مدنظر رکھ کرکی جاتی، لیکن ایسے تکلفات میں پڑنا چونکہ ہمارا قومی مزاج ہی نہیں اس لئے حسبِ توقع اندھیرے میں چھلانگ لگادی اور فاٹا انضمام کا اعلان بغیر کسی تیاری کے کر لیا گیا۔

Read more

ڈیرہ اسماعیل خان کے سکول میں درحقیقت کیا ہوا تھا؟

الیان کی عُمر دس سال ہے اور ذہنی طور پر تھوڑا سا کمزور بچّہ ہے، وہ ڈیرہ اسماعیل خان کے ایک اعلٰی درجے کے سکول میں پانچویں جماعت کا طالبعلم ہے اس کے کلاس میں حسن فہیم نام کا ایک اور بچّہ بھی پڑھتا ہے۔ جس کا والد مقامی ہسپتال میں ڈاکڑ ہے، چونکہ الیان کا والد فوج میں ہے اس لئے اس کے ساتھی حسن نے اس کے سامنے معصومیت اور نا سمجھی کی وجہ سے ایک مخصوص طبقے میں گونجتا وہ نعرہ لگاتا جسے عام طور پر نہ ہی پسندیدگی ملی اور نہ مقبولیت۔اس پر الیان کو غصہ آیا اور دونوں بچّے ایک دوسرے کے ساتھ لڑ پڑے اور ایک دوسرے کے چہروں کو معمولی زخمی کیا الیان کی والدہ کو اطلاع ملی تو وہ فورًا سکول پہنچی جہاں اس نے بچّے کا زخمی چہرہ دیکھا تو سراسیمگی میں اپنے شوہر کو فون کیا جو تھوڑی دیر بعد سکول پہنچا

Read more

ہماری سیاسی روایات اور عمران خان کی اجنبی تہذیب

ولی خان اور ان کے ورکر میزبان تھے اور پشاور میں اپوزیشن جماعتوں کے انتخابی اتحاد کا جلسہ تھا، ان جماعتوں کی مشترکہ صدارتی اُمیدوار فاطمہ جناح تھیں۔ جب فاطمہ جناح سٹیج پر آئیں تو تمام کرسیوں پر سنیٹر لیڈرز براجمان تھے۔ ولی خان بھی ایک کرسی پر بیٹھے ہوئے تھے جوں ہی فاطمہ جناح پر نظر پڑی تو بھاگ کر گئے فاطمہ جناح کے سر پر بھائیوں کی طرح دست شفقت رکھا ہاتھ سے پکڑا اور اپنی کرسی پر بٹھا کر خود ایک عام کارکن کی طرح کرسی کے پیچھے کھڑے ہو گئے اور دیر تک کھڑے رہے کیونکہ سٹیج پر دوسری کرسی موجود نہ تھی۔

ولی خان، خان عبدالغفار خان کے بیٹھے تھے جبکہ فاطمہ جناح قائداعظم محمد علی جناح کی بہن۔ دونوں خاندانوں کے درمیان سیاسی اختلاف غضب کا تھا لیکن ذاتی احترام ایسا کہ ایک زمانے کو ششدر کر دیا تھا۔

مسلم لیگ کے قیوم خان اور نیشنل عوامی پارٹی کے خان عبدالولی خان کے درمیان سیاسی تناؤ ہمیشہ انتہا کو چھوتا ہوا محسوس ہوا، حتٰی کہ بابڑہ جیسے خونچکاں واقعات بھی اسی تاریخ کا حصہ بنے لیکن یہی قیوم خان جب ستّر کے عشرے میں بھٹو حکومت میں وفاقی وزیر داخلہ اور مخلوط حکومت کا حصہ تھے تب ولی خان اور اس کے ساتھی حیدرآباد ٹریبیونل میں پابند سلاسل تھے، قیوم خان کے سخت سیاسی مخالف ولی خان کی اہلیہ بیگم نسیم ولی خان پارٹی کو متحرک کرنے گھر سے نکل آئی تھیں اور تحریک چلا رہی تھیں۔ اس تحریک کو عوامی نیشنل پارٹی کے سخت جان ورکر عروج پر لے گئے اور بھٹو حکومت کو بہت حد تک پریشان کیا۔

اس حوالے سے وزیر اعظم بھٹو نے پرائم منسٹر ہاؤس میں میٹنگ بلوائی تھی اسی میٹنگ میں بھٹو نے بیگم نسیم ولی کے بارے میں کچھ نازیبا الفاظ کہے۔ سامنے بیھٹے ہوئے وزیر داخلہ قیوم خان کا چہرہ سُرخ ہوگیا اور اپنی کرسی سے اُٹھ کر بھٹو جیسے آدمی سے کہا زبان سنبھال کر بات کریں مجھے اختلاف ولی خان سے ہے، بیگم نسیم میری بہن جیسی ہے۔ تلخی اتنی بڑھی کہ بات طعنوں اور گالیوں تک پہنچی اور قیوم خان میٹنگ چھوڑ کر چلے گئے ( اس واقعہ کے چشم دید گواہ قیوم خان کے سیکیورٹی افسر ذاکر خان زندہ ہیں اور پشاور میں مقیم ہیں۔ ) بعد میں قیوم خان نے اس ”گستاخی“ کی کیا قیمت ادا کی وہ ایک الگ کہانی ہے۔

اکبر بگٹی بلوچ قوم پرستی کے سر خیل تھے جبکہ چودھری ظہور الہی مسلم لیگ سے وابستہ کٹر پاکستانیت کے علمبردار لیکن نظریاتی بعد کے باوجود دونوں میں ذاتی دوستی اور احترام کا ایسا رشتہ کے باید و شاید۔ مچھ جیل سے عدالتی پیشی کے لئے کوئٹہ لاتے ہوئے اکبر بگٹی نے اپنے دوست ظہور الہی کو ایک قاتلانہ حملے سے بچایا بھی اور دوست کی خاطر دشمنی بھی مول لی تھی۔

افغان جنگ کے دوران اے این پی اور جماعت اسلامی نظریاتی محاذ پر شدت کے ساتھ ایک دوسرے کے مد مقابل تھے لیکن انہی دنوں جماعت کے امیر قاضی حسین احمد مرحوم تنظیمی دورے پر چارسدہ گئے تو ولی خان کو پیغام بھیجا کہ دوپہر کا کھانا آپ کے ہاں کھاؤں گا۔ کھانے کے بعد دونوں گپیں ہانکتے اور قہقہے لگانے دکھائی دیے۔

نوبزادہ نصراللہ اور خواجہ خیر الدین جبکہ پیر پگاڑا اور شاہ احمد نورانی کی پارٹیاں اور سیاسی نظریات الگ الگ تھے لیکن باہمی دوستی اور احترام کا جذبہ ایک جیسا۔

اسی طرح نواز شریف اوربے نظیر بھٹو ایک دوسرے کے سیاسی حریف تھے لیکن بے نظیر بھٹو پنڈی کی سڑکوں پر ایک شامِ الم میں ماری گئیں تو تھوڑی دیر بعد نواز شریف اس کے سرہانے کھڑا جیالوں کو گلے لگاتا اور آنسو بھاتا دکھائی دیا۔

یہ تھی ہماری قابل فخر اور شاندار روایتوں سے مزین وہ سیا سی خیمہ جس میں اچانک عمران خان گھس آیا اور پھر کہاں کا ذاتی تعلق و دوستی اور کون سی تہذیب و شائستگی۔ پھر تو بات اپنے ہاتھوں سے پھانسی دوں گا اورچور ڈاکو لٹیرا سے ہوتی ہوئی گیلی شلواروں تک جا پہنچی صرف اسی پر ہی بس ہوتا تو ہم قلمی موشکا فیوں کی ہنر مندی سے کام لیتے ہوئے حرف و لفظ کے معنی و مفہوم سے نا شناسی، سادہ بیانی، زبان کی پھسلن حتٰی کہ بلند فشار خون کے بہانے ٹانک کر اس ادھڑے اور بوسیدہ و بد رنگ سیاسی پوشاک کو بھی اطلس و کمخواب بنا دیتے لیکن خان صاحب اپنے نظریے و بیانیے سمیت اس حد تک جا پہنچے کہ مشرقی تہذیب و تمدن ایک کرا ہت بھری اجنبیت کے ساتھ دیکھتی رہ گئی۔

کبھی کبھی تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ سینکڑوں سالوں سے رواداری ہمدردی اور شائستگی سے معمور تہذیب کو خان صاحب نے نہ صرف بے دردی سے مار ڈالا بلکہ اب اس کی لاش کو گلیوں کے کیچڑ میں کھنچتے ہوئے ان سیٹیوں اور تالیوں کا لطف اٹھا رہا ہے جو سفاکی اور بیگانگی کے ایک غول سے بر آمد ہو رہے ہیں۔

بے نظیر بھٹو کی موت پر ان کے خاندان والوں سے عمران خان کی حاضری اور تعزیت تو درکنار ہمدردی کے دو بول تک نہیں کہے حالانکہ بے نظیربھٹو کے شدید سیاسی مخالفین سمیت تمام جماعتوں کے رہنما اپنے اپنے آنسو ان کی دہلیز پر چھوڑ آئے تھے۔

پشاور کا بلور حاندان مظلومیت اور ہمدردی کا ایک سوگوار استعارہ ہے۔ مدتوں اس خاندان کے مردوں کے پرخچے اُڑتے رہے، خواتین بیوہ ہوتی رہیں اور بچے یتیم ہوتے گئے۔ کون سنگدل ہو گا جس کی آنکھوں میں نمی نہ اُتری ہو یا جس نے موقع ملتے ہی اس خاندان کے ویران آنگن میں حاضری نہ دی ہو لیکن عمران خان ایسے ویران آنگنوں میں آنسوؤ ں کے سوغات بانٹنے والے آدمی ہی نہیں اور وہ بھی ان کے ہاں جو ان کے جماعت کا حصہ نہیں۔ اور تو اور اپنے سگے چچا زاد بھائی نجیب اللہ نیازی ( جو پنجاب اسمبلی کے ممبر تھے ) کی موت پر حاضری تو درکنار تعزیتی بیان تک سے گریز کیا کیونکہ مرحوم اور اس کا بڑا بھائی حفیظ اللہ نیازی سیاسی مخالف تھے۔

اورپھر اس حوالے سے کلثوم نوازکا معاملہ تو رونگٹے کھڑے کر دیتاہے۔
اُف خدایا!
تمھاری زمین پر ایسی سفاک درندگی بھی پل رہی ہے؟

ایک بے ضرر بلکہ غیر سیاسی خاتون اپنے خاندان پر اترے آزمائش و ابتلاء کے قہر آلود موسموں میں اور غریب الوطنی میں کینسر سے ایڑیاں رگڑ رگڑ کر مر رہی تھیں لیکن دوسری طرف سرِ شام ٹیلی وژن چینلوں پر زہریلے قہقہوں کے ساتھ عمران خان کے پیروکار پھیل جاتے اور موت سے بر سر پیکار آخری سانسیں لیتی مریضہ کو ڈرامہ باز کہہ کر اس کا مذاق اُڑاتے رہتے۔
بس بھی کروں خُدا کی قسم مزید لکھا نہیں جاتا۔

Read more

ایک موحد اور ایک متکبر کی کہانی

بہت سال پہلے ڈیرہ اسماعیل خان میں میری تعیناتی ہوئی تو کچھ دن مسافری اور تنہائی کے ساتھ کاٹنے کا عادی ہونے ہی والا تھا کہ ادبی اور صحافتی دوستوں کو۔ میری آمد کی خبر ہو گئی۔ عزیز دوست اورڈیڑھ درجن کتابوں کے مصنف پروفیسر حنیف خلیل تب ایک کالج میں تعینات تھے ممتاز شاعرشھاب صفدر تو تھے ہی مقامی باشندے جبکہ مشہور ادیب ڈاکٹر چراغ حسین سول ہسپتال کے ایم ایس تھے۔

پروفیسر یحیٰ بھی پی ایچ ڈی مکمل کر کے دوستوں کو روایتی کھانا صحبت کھلانے میں مگن تھے سو ریسٹ ہاؤس کے جس کمرے میں میرا قیام تھا وہاں سے اداس تنہائی نکلتی اور دوست داخل ہوتے گئے۔

یہ بھی سردیوں کی ایسی ہی ایک شام تھی کہ اچانک دروازے پر ہلکی سی ایک دستک ہوئی، میں نے دروازہ کھولا تو ایک وجیہہ اور خوش لباس اجنبی نوجوان سامنے کھڑا تھا، سلام کیا اور ہاتھ ملاتے ہوئے پُر اعتماد طریقے سے اپنا تعارف کرایا، میرا نام دانیال حسین ہے اور میں ایک مقامی سکول میں ٹیچر ہوں آپ کی تحریریں پڑھتا رہتا ہوں کسی سے پتہ چلا کہ آپ آج کل یہاں پر ہیں سو میں نے سوچا کہ آپ سے مل آؤں۔

Read more

عمران خان استعمال ہونے والی شخصیت ہیں یا کرنے والی؟

ہم پہلے اُنیس سو بیانوے میں جھانکتے ہیں کرکٹ ورلڈکپ میں صرف آٹھ ٹیمیں حصہ لے رہی تھیں، پاکستان نے فائنل جاوید میانداد، وسیم اکرم اور عاقب جاوید کی شاندار کارکردگی کی بدولت جیت لیا لیکن ٹرافی عمران خان نے خلاف روایت اپنے پلیئرز کی تعریف کیے بغیر اُٹھائی کیونکہ کپتان وہ تھا تاہم یہ ٹرافی کلائیولائیڈ اپنے ملک ویسٹ انڈیز اور رکی پونٹنگ اپنے ملک آسڑیلیا کے لئے بحیثیت کپتان دو دو بار اُٹھا چکے ہیں۔

اُنیس سو تراسی کا ورلڈ کپ بھارتی کپتان کپل دیو اس حالت میں جیت چکا تھا جب پوری بھارتی ٹیم پسپا ہو چکی تھی لیکن کپل دیو نے تن تنہا مخالف ٹیم کے پرخچے اُڑا کر رکھ دیے تھے۔

ایلن بارڈر، رانا ٹونگا، دھونی، سٹیو وا، اور مائیکل کلارک بھی بحیثیت کپتان کرکٹ ورلڈ کپ جیت چکے ہیں، لیکن ان میں سے کسی ایک نے بھی اپنی جیت کو سیاسی سٹنٹ نہیں بنایا نہ اس کا کوئی سیاسی یا سماجی فائدہ اُٹھایا کیونکہ یہ لوگ نہ صرف اچھے سپورٹس مین تھے بلکہ سپورٹس مین سپرٹ سے آگاہ بھی تھے جبکہ دوسری طرف عمران خان اس کامیابی کو دھرنوں، جلاؤ گھیراؤ، مارو پیٹو تک بھی لے کر آئے۔

Read more

پشاور میں اُدھڑتا ہوا نیا پاکستان

اگر اندھی عقیدت کے گھوڑوں پر سوار عمران خان کے پیروکار حقائق کی زمین پر قدم رکھ دیں تو نہ صرف ان کی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ جائیں گی بلکہ وہ بہت دیر تک اپنے آپ کو کوستے رہیں گے کہ سیاسی بے بصیرتی اور خوش فہمیوں کا عذاب انہیں کن بے اماں راستوں اور سنگ بار موسموں میں لا کے چھوڑ گیا ہے۔

دگرگوں اقتصادی صورتحال مہنگائی کا عفریت سفارتی سطح پر ناکامیاں اور دنیا بھر میں تنہائی تو وہ بڑے مسائل ہیں جس نے تمام اہل فکر و نظر کو چونکایا بھی اور ڈرایا بھی، لیکن اس کے علاوہ بہت سے ناکام منصوبے اور عقل سے عاری اقدامات اور اس کے بطن سے پھوٹتے مسائل نے ایک خلقت کی ناک میں دم کر رکھا ہے۔

Read more

لیڈر جیسنڈا آرڈرن جیسے ھوتے ہیں

وہ پارلیمنٹ ہاؤس میں داخل ہوئی تو حد درجہ سنجیدہ لیکن اس سے کہیں زیادہ غمگین تھی اس کی اسی سنجیدگی اور غمگینی نے اسے دنیا کے سامنے سب سے زیادہ ذمہ دارکمٹد اور مضبوط لیڈر کے طور پر پیش کردیا ہے ایک طرف اس کی اداس ہمدردی لاکھوں کروڑوں انسانوں کی آنکھیں نم کر چکیں تو دوسری طرف اس کے غصے سے ڈونلڈ ٹرمپ بھی کانپ اٹھا تھا (آگے اس کاذکر آئے گا)وہ پارلیمنٹ میں داخل ہوئی تو ایک سناٹا چھا گیا تمام ممبران پارلیمنٹ اپنی اپنی نشستوں پر بیٹھے گوش بر آواز تھے دنیا بھر کے اھم ٹیلی وژن چینلوں کے کیمرے اس پر فوکس کیے ہوئے تھے وہ اپنی نشست پر پہنچی اپنا مائیک آن کیا اور انگریزی زبان کے علاوہ دوسری زبانوں مثلا عربی اردو وغیرہ سے نا بلد ہونے کے باوجود تقریر کا آغاز کرتے ہوئے شستہ لہجے میں السلام علیکم کہا اور چند سیکنڈ کے اندر اندر اس نے پوری دنیا کو یہ میسج دے دیا کہ میں بات انسانوں اور میری زمین پر ان کے ساتھ ہونے والی زیادتی کے حوالے سے کرنے والی ہوں کسی کے مذہب اور عقیدے کے حوالے سے نہیں۔

Read more

بریگیڈیئر ریٹائرڈ اسد منیر کی فردِ جرم

11مارچ کو مرحوم بریگیڈیئر ریٹائرڈاسد منیر نے ٹویٹر پر ناصر کاظمی کا شعر لکھا!
کیا دن تھے جب نظر میں خزاں بھی بہار تھی
یوں اپنا گھر بہار میں ویراں نہ تھا کبھی

ظاہر ہے ایسے شعر کے سحر میں گم ہونے سے کوئی بہت بد ذوق آدمی ہی بچے گا لیکن شعری لطف کے ساتھ میں ایک بار پھر چونکا کیونکہ کچھ عرصے سے اس کے ٹویٹس خلافِ معمول اور کسی گہرے دکھ اور بے بسی کی طرف اشارہ کر رہے تھے۔

میرا اندیشہ صحیح ثابت ہوا۔

Read more

مضبوط اور پراسرار نواز شریف

میاں نواز شریف اور اس کا خاندان دل دھلا دینے والی صعوبتوں اور دلآزار موسموں کے سامنے ہیں ابھی بخت انگڑائی اور سرکش ہوائیں تمھنے کا نام نہیں لے رہی ہیں لیکن جب کبھی مخالف سمت سے اُٹھنے والی ہوا تاریخ کا ورق پلٹے گی اور چونکا دینے والے حقائق نوشتہ دیوار بنیں گے تو مہ و سال پر پیھلی بے ثمر محبتوں اور رائگاں عقیدتوں کا روپ کیا ہوگا؟ابھی سازگار رتوں اور آسودہ فضاؤں کا وہ موسم اس بد نصیب زمین پر نہیں اُترا جس میں ایک سہولت کے ساتھ اس طرح کے سوال اُٹھائیں جائیں یا ان کی تلاش میں نکلا جائے لیکن ابھی سفاک روزوشب میں ایک آدمی خاک اوڑھتی شریک حیات مصائب و آلام کے شکار خاندان اور تیزی کے ساتھ اپنی گرتی ہوئی صحت کے باوجود بھی اپنے اس مؤقف پر دلیری کے ساتھ ڈٹا ہوا ہے۔

Read more

عمران خان کے چند اچھے فیصلے

ان کالموں کے قارئین اچھی طرح جانتے ہیں کہ میں کبھی عمران خان کی شخصیت اور سیاست سے متاثر نظرنہیں آیا کیونکہ آمریت پسند سیاست گالم گلوچ، بہتان طرازی، یو ٹرنز اور چور ڈاکو جیسا لہجہ اور سیاست مجھے اپنے اس بے بنیاد اور جذباتی سحر میں نہ جکڑ سکیجس نے کنٹینر کے ارد گرد ایک بے ثمر اور نتیجہ غافل غول کو اکٹھا کیا بلکہ میں ان لکھاریوں میں سے ایک تھا جنھوں نے اپنی پوری قوّت اور شّدت کے ساتھ اس بد رنگ سیاست کے خلاف اپنی آواز کو بلند رکھا اور ہمیشہ ہی بلند رکھا اس سلسلے میں کوئی حرصِ کرم یا خوفِ خمیازہ میرے قلم کا رُخ نہیں موڑ سکی بلکہ ہمیشہ وہی لکھا جو میرے ضمیر پر کبھی تنکے کے برابر بوجھ بھی نہ ڈال سکی۔سو اس مزاج اور قلم درازی کے باوجود بھی اگر اُمید کی ننھی ننھی کرنیں اس گھپ اندھیرے میں نظر آئیں تو بجائے اس کے کہ عمران دُشمنی میں اسے نظر انداز کیا جائے کیوں نہ اسے اُمید سحر کی پیامبری اور خوش امیدی کے سلیقے سے برتا جائے۔

Read more

کچھ بھی اتفاقاً نہیں ہوتا

فون کرنے والے اجنبی شخص نے بتایا کہ اس نے میری تحریریں پڑھیں اور کہیں سے میرا نمبر لے کر فون کیا وہ انکساری اور شائستگی کے ساتھ اسرار کر رہا تھا، کہ میں ان کے ساتھ چائے پی لوں وہ اپنی بزرگی کے باوجود بہت معصومیت کے ساتھ کہہ رہا تھا کہ میرا گھر آپ کے بالکل قریب ہے آپ کو زیادہ زحمت نہیں کرنا پڑے گی۔ بادل نخواستہ میں نے ان کی دعوت قبول کر لی اور دوسرے دن ان کے محل نما گھر میں ان کے سامنے بیٹھا تھا تھوڑی دیر بعد انواع و اقسام کی چیزیں ہمارے سامنے میزوں پر دھری ہوئی تھیں نوکر ادھر ادھر ٹہل رہے تھے لیکن اس سب کچھ کے با وجود میں محسوس کر رہا تھا کہ اس پر اپنی امارت کی بجائے ایک گہری لیکن آسودہ روحانیت کا غلبہ ہے اس نے اپنی کہانی شروع کی۔

Read more

کیا جنیوا معاہدہ صرف ابھینندن پر لگتا ہے، 71 سے قید سپاہی بنات خان پر نہیں؟

وہ اسی وطن کا بیٹا تھا اور اسی وطن کے لئے لڑ رہا تھا لیکن نصف صدی ہونے کو آئی اور کسی نے مڑ کر پوچھا بھی نہیں کہ وہ زندہ بھی ہے یا دُشمن ملک کے کسی جیل میں اپنوں سے دوری، بے گناہی اور بے وطنی کے عذاب جھیلتے جھیلتے اپنی آزادی کے خوابوں اور گھر لوٹنے کی حسرتوں سمیت مر گیا ہے۔ یہ ایک فوجی سپاہی بنات خان کی دلدوز کہانی ہے۔ بنات خان کا تعلق ضلع صوابی کے مشہور گاؤں پنج پیر سے تھا۔ چھ فٹ لمبا قد اور اسی طرح سُرخ و سفید رنگت جو ان علاقے کے لوگوں کا عمومی طور پر خاصا ہے ساٹھ کے عشرے میں جب وہ بائیس سال کا ایک خوبرُو نوجوان تھا وہ پاک فوج میں بحیثیت سپاہی بھرتی ہوا اب گاہے وہ چھٹی پر اپنے گاؤں آتا اور کبڈی کے میدان میں اُترتا تو تماشائی دنگ رہ جاتے کیونکہ ایسی جوانی اور ایسی طاقت بہت کم لوگوں کو نصیب ہوتی ہے۔

Read more

جنگ کیا مسئلوں کا حل دے گی

یکم ستمبر 1939 ء کو جرمن فوج پولینڈ میں داخل ہوئی اور اسی دن اس جنگ کا آغاز ہوگیا۔ جسے ہم دوسری جنگِ عظیم کے نام سے جانتے ہیں، اور جس میں اکسٹھ ممالک نے حصّہ لیا (کل دُنیا کے % 80 ) جبکہ یہ جنگ چالیس ملکوں کی زمین پر لڑی گئی۔ جنگ کی تباہ کاری کا اندازہ اس سے لگائیں کہ صرف روس کے ستّر ہزار گاؤں اور بتیس ہزار کارخانے راکھ کا ڈھیر بن گئے تھے۔ چھ سال بعد یہ جنگ اختتام کو پہنچی تو ہیروشیما سے برلن اور لندن سے سٹالن گراڈ تک موت ہی موت تھی۔

جنگ شروع کرنے والے اٹلی کے مسولینی کو اپنے ہی عوام نے 28 اپریل 1945 ء کو اٹلی میں مار دیا جبکہ دو دن بعد یعنی 30 اپریل کو اس کے ساتھی جرمنی کے ہٹلر نے بھی خودکشی کر لی لیکن تب تک پانچ کروڑ افراد مارے جا چکے تھے اور دُنیا کے ایک بڑے حصّے خصوصًا یورپ سے دھواں اُٹھ رہا تھا اور سوگواروں کی تعداد لاشوں سے بھی کم رہ گئی تھی۔

Read more

وہ ریاست مدینہ اور یہ ریاست مدینہ

تاریخ پر طویل بحث کی بجائے چلیں ہم ریاستِ مدینہ کا ذکر صرف حضرت عمرؓ کے دورِ خلافت تک محدود کرتے ہیں جو انسانی تاریخ کی بہترین انتظامی سیاسی اور فوجی اصلاحات کا ایک زریّں دور ہے، لیکن سب سے پہلے ہمیں سمجھنا ہوگا کہ یہ مثالی ریاست تب وجود میں آئی جب ریاست کے سربراہ نے اپنے آپ کو وی آئی پی سٹیٹس اور پروٹوکول سے الگ کرکے عوام میں شامل کر لیا اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں تھا کہ انتظامی گرفت پر اثر پڑا بلکہ عام لوگوں کے مسائل سے شناسائی اور قریبی رابطے نے خلیفہ کے منصب کو کہیں زیادہ اعتماد اور وقار بخشا جس کی وجہ سے حضرت عمرؓ انتہائی سخت لیکن شاندار فیصلے کرنے کی پوزیشن میں آئے، اور اس کی سب سے بڑی وجہ بھی یہی تھی کہ عوام (رعایا) کو اپنے حاکم کے اخلاص، ایمانداری، تدبّر اور تعمیر وترّقی کے وژن پر ذرہ برابر شبہ بھی نہیں رہا تھا۔

Read more

بات پابندیوں سے نہیں بنتی

صحافی اور قلم کار اری ٹیرین صدر عیسٰی ایزافورکی کے ان جابرانہ اور غیر منصفانہ اقدامات کے خلاف حرکت میں آئے تو جبر کا اژدھا (اری ٹیرئن صدر) ان کی طرف پلٹا اور انہیں ہڑپ کرنے لگا اس نے ایک صدارتی حکم جاری کیا کہ جو بھی صحافی یا قلم کار مخالفت کرے گا تو عدالتی کارروائی یا ٹرائل نہیں ہوگا بلکہ صرف سزا سنائی جائے گی اور وہ بھی سخت سزا۔ دو ہزار ایک میں اس نے رہی سہی کسر بھی پوری کردی اور ملک بھر میں آزادی صحافت پر نہ صرف پابندی لگا دی گئی بلکہ ان اداروں سے وابستہ تقریبًا تمام صحافیوں کو جیلوں میں ٹھونس دیا گیا، جہاں بہت سے صحافی مار دیے گئے۔

Read more

جدید میڈیا کا میدان اور درپیش چیلنجز

عرب شاعر کا قبیلہ میدان میں اترا تو وہ ایک ٹیلے پر چڑھا اور اپنے قبیلے کا قصیدہ پڑھا کہ ”ھماری تلواریں ہمیشہ دشمنوں کے خون سے سیراب ہوتی ہیں ہمارے پہاڑ وں کی بلند قامتیں اور صحراؤں کے چوڑے سینے ہمارے قبیلے کی فطرت کو واضح کرتی ہیں“ اس لئے میں نے پہلے بھی لکھا کہ قدیم عربوں میں شاعر قبیلوں اور معاشرے کا مرکزی نقطہ فکر ہوا کرتے تھے کیونکہ شعراء کو ذریعہ اظہار کی تمام قوّت میّسر تھی۔ جس میں ذہانت، الفاظ اور مجمع سرِ فہرست ہیں، اور یہی وجہ ہے کہ ان معاشروں کی ذہنی تربیت اور اُٹھان اسی لافانی شاعری کے سائے میں پروان چڑھی جو اس معاشرے کا ایک اھم جز تھی، میں چونکہ اس دور کی عربی شاعری اور شاعر کو میڈیا کا ابتدائی زمانہ سمجھتا ہوں۔

اس لئے میرا خیال ہے کہ قوموں کی اجتماعی نفسیات اور روّیوں کی تشکیل میں میڈیا کا کردار انتہائی اہم اور بنیادی ہوتا ہے، سو ہم زمانہ حال میں جب اپنے قومی روّیے میں تشّدد، اخلاقی گراوٹ، اقدار کی پامالی اور بہتان طرازی کے بڑھتے ہوئے تناسب کو شّدت کے ساتھ محسوس کرتے ہیں تو ان منفی عوامل کا کھوج ہمیں سب سے پہلے جدید میڈیا کے دروازے پر لا کھڑا کر دیتا ہے۔

Read more

محبوب شاہ کا خواب اور بوڑھے صوفی کی بات

محبوب شاہ ایک ادارے میں گزشتہ تیس سال سے کلاس فور کا ایک معمولی ملازم ہے۔ اور وہی زندگی گزار رہا ہے جو اس طرح کے لاکھوں لوگ اس مملکتِ خدادا میں گزارتے ہیں۔ اپنی غربت بے تحاشا مسائل اور بے بسی کے ساتھ محبوب کی بیٹیاں جوان ہوتی گئیں اور اس کے ناتواں کندھوں کا بوجھ بنتی گئیں۔

وہ اپنی بہت ہی معمولی تنخواہ پر بینک سے قرض پر قرض لیتا رہا اور بیٹیوں کو رُخصت کرتا رہا اس کا بال بال قرض میں جکڑتا گیا اور بینک کی چاندی ہوتی گئی اور جب یکم تاریخ آتی تو بینک اس کی پوری تنخواہ پر جھپٹ جاتا اور وہ خالی آنکھوں سے ادھر اُدھر دیکھ کر اپنی بے بسی بانٹتا رہتا۔

ایسے ہی دنوں میں ایک دن وہ بھی آیا، جب روزے ختم ہونے کو تھے اور عید سر پر کھڑی تھی۔ دفتر کے ملازمین اپنی اپنی تنخواہیں لے کر سودا سلف لینے نکل رہے تھے تو محبوب گہری سوچوں میں غرق کمرے کے ایک کونے میں اکیلا بیٹھا اپنی چادر کے پلُو سے اپنے آنسو پونچھ رہا تھا۔

Read more

مجھے معلوم تھا تم آؤ گے

اُنّیس سو بیس کے لگ بھگ جب تُرکی اپنی بقاء کی آخری اور فیصلہ کن جنگ لڑ رہا تھا، تو ایک دن ترک فوج کے ایک میجر اپنے دو سپاہیوں کے ساتھ دشمن کے نرغے میں آگیا۔ اور شدید فائرنگ شروع ہوگئی۔ میجر اور ایک سپاہی نے بھاگ کر مورچے میں پناہ لی، جبکہ ان کا ایک ساتھی فائرنگ کی زد میں آگیا اور گر پڑا۔ ساتھی سپاہی نے دیکھا تو میجر سے اجازت مانگی۔ کہ کہ میں اپنے ساتھی

Read more

اخباری وارداتیں اور حقائق کی گمشدگی

مارشل لاء حکومت کے صوبائی گورنر جو ایک سرونگ جنرل بھی تھے نے نوجوان کپتان کو ستائش بھری نظروں سے دیکھا اور اسے اپنا اے ڈی سی بننے کی ”پیشکش“ کی کپتان نے پیشکش کو والد کے مشورے سے ”مشروط“ کیا لیکن دوسرے دن والد نے جنرل کے خاندان پر تحفظات کا اظہار کیا اور کہا تم اس پر چھتری تانے کیسے لگو گے۔ سو دوسرے دن جنرل کو پیغام دیا گیا کہ پیشکش مسترد کردی گئی ہے۔

یہ ایک مشہور کالم نگار کے کالم کا ایک حصہّ تھا، جو کئی سال پہلے ایک قومی روزنامے میں چھپا اورجس جس صاحب عقل نے پڑھا تو سر پیٹ کر رہ گیا کہ وہ کون سی فوج ہے جس میں ایک جنرل کپتان سے درخواست کرتا ہے اور پھر حقارت کے ساتھ اسے مسترد بھی کیا جاتا ہے۔ کیونکہ پوری دنیا میں رائج دستور ہے کہ فوج میں سخت ڈسپلن کے ساتھ حکم اور تعمیل کا سلسلہ ہی چلتا ہے۔ پیشکش، والد، مشورہ اور خاندانی حوالہ نہیں چلتے۔

Read more

ساہیوال واقعہ اور خون خاک نشیناں

بس یوں ہوا کہ ایک چھوٹے سے خاندان نے نئے نویلے کپڑے پہنے۔ بچوں کو نہلا دُھلا کر تیار کیا اپنی استعداد کے مطابق حاصل کی گئی چھوٹی سی سوزوکی کار میں بیٹھے اور پنجاب کی ایک تحصیل بورے والا میں اپنے عزیزوں کے ہاں شادی میں شرکت کے لئے روانہ ہوئے لیکن پھر یوں ہوا کہ ساہیوال کے قریب ریاست جی ہاں یعنی ریاست کے ایک ادارے نے اس بے ضرر اور معصوم خاندان کو گھیر لیا اور دن

Read more

ثاقب نثار اور تاریخ کا کٹہرا

ثاقب نثار تاریخ کا حصہ بن گئے لیکن تاریخ اس پر اور اس کے عدالتی کردار پر سوال اٹھاتی رہے گی۔ تاریخ پوچھتی رہے گی کہ ایک منتخب وزیراعظم کو ایک ایسے جرم میں کیوں ایوان اقتدار سے نکالا جو اس پر ثابت بھی نہ کر سکے۔ تاریخ یہ پوچھتی رہے گی کہ آپ ایک مخصوص جماعت کے لئے ایک جج کی بجائے ایک مخالف سیاسی ورکر سے بھی کم تر سطح پر کیوں اور کیسے چلے گئے؟

تاریخ پوچھتی رہے گی کہ آپ بد ترین ڈکٹیٹر پرویزمشرف کو کٹہرے میں کیوں کھڑا نہ کر سکے اور کیوں یہ نہ پوچھ سکے کہ دس سال تک اس ملک کی تقدیر سے کھیلنے کا حق آپ کو کس نے دیا تھا؟ آپ ان پر سکون گلی کوچوں میں دہشت گردی والی پراسرار جنگ کیوں اور کہاں سے لے کر آئے جس نے گلی گلی میں خون کی بارش بر سا دی۔ جب کہ اس کے بر عکس عوام کے منتخب وزیر اعظم اور اراکین پارلیمان کے لئے آپ فرعون بنے ہوئے تھے

تاریخ یہ بھی پوچھتی رہے گی کہ راؤ انوار اور احسان اللہ احسان جیسے خونخوارقاتلوں تک قانون کی پہنچ کیونکر ناممکن ہو گئی تھی اور وہ سرعام دندناتے پھر رہے تھے۔

Read more

پختونوں کا میڈیائی مزاج اور زرد صحافت کی پہچان

پختون قوم ہمیشہ فطری طور پر میڈیا کے بہت قریب ہوتی ہے کیونکہ حجرہ یہاں کی سماجی زندگی کا نہ صرف اہم ترین حصّہ رہا بلکہ یہاں کی اجتماعی دانش بھی اسی مرکز سے پھوٹتی رہی۔ حُجرے کی یہی مرکزیت ہی تھی جس نے پختونوں کے مزاج میں با خبری اور خبر تک رسائی کا رنگ بھرا۔ آگے چل کر یہی مزاج جدید دنیا اور میڈیائی ارتقاء سے ہم آہنگ ہونے لگا۔

ہماری نسل سے ذرا اُدھر ریڈیو نہ صرف حجرے کی سب سے اونچی طاق پر پہنچ گیا تھا بلکہ اسی ریڈیو کے سامنے کثرت کے ساتھ لوگ (خصوصًا بزرگ ) بھی نظر آنے لگے تھے اور یہی وہ وقت تھا جب خبریت کا مزاج رکھنے والی قوم کے سامنے خبر کا دائرہ پھیلنے لگا۔

Read more

نایاب لوگوں کو لے جانے والے دو ہزار اٹھارہ کو کون سا نام دیں

یقینًا ہر سال رخصت ہوتے ہوتے بہت سے ایسے لوگوں کو اپنے ساتھ بہا کر لے جاتا ہے جن کی جدائی ہمیں مار ڈالتی ہے، لیکن 2018 ء اس حوالے سے بہت سفاک اور بے رحم سال رہا کیونکہ جاتے جاتے وہ کچھ ایسے لوگوں کو بھی لے گیا جو ایک مردہ اور تاریک معاشرے میں کم از کم ایک دیپ تو جلاتے رہے۔

سیاست، انسانی حقوق، اور فن وادب سے وابستہ ان لوگوں کی فتوحات گننے کے بجائے ان کی جدوجھد اور کمٹمنٹ اور اپنے کام سے عقیدت کی حد تک محبت ہی کو پیمانہ بنا کر تجزیہ کیا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ رخصت ہوتے ہوئے سال نے ہمیں کن نا یاب ہیروں سے محروم کیا۔

Read more

انصاف اور صرف انصاف

تقریبًا ڈھائی ہزار سال قبل چین کا عظیم فلسفی اور مفکّر کنفیوشس اپنے پیروکاروں کے ساتھ ایک جنگلی علاقے سے گزرا، تو ایک خاتون اپنی جھونپڑی کے دروازے پر اکیلی بیھٹی ملی۔ کنفیوشس خاتون کو دیکھ کر اپنا گھوڑا اس کے پاس لے گیا اور پوچھا کہ تمھارے ساتھ اس گھر میں اور کون رہتا ہے؟

خاتون نے جواب دیا کہ میرا شوہر اور میرا بیٹا میرے ساتھ تھے لیکن اب دونوں اس دُنیا میں نہیں رہے۔
کیوں؟ کیا ہوا ان کو؟

خاتون کی آنکھوں میں آنسو بھر آئے اور کہا اس علاقے کے چیتے بہت خونخوار ہیں چند سال پہلے وہ میرے شوہر کو چیڑ پھاڑ کر کھا گئے۔ اور ایک سال پہلے یہی حادثہ میرے اکلوتے بیٹے کے ساتھ بھی پیش آیا۔

Read more

خون کے رشتے یا خلوص کے رشتے

منظر جاوید کا تعلق جھنگ کے ایک دور افتادہ اور پسماندہ گاؤں سے ہے جبکہ میں خیبر پختون خواہ میں اسی طرح کے ایک گاؤں سے تعلق رکھتا ہوں۔ ہم دونوں کی زبان روایات اور علاقے ایک دوسرے سے بہت مختلف ہیں۔ ظاہر ہے کوئی رشتہ داری بھی نہیں۔ ہم دونوں کو ایک دوسرے سے کوئی مفاد بھی نہیں کیونکہ اللّہ تعالٰی نے ہم دونوں کو اپنی اپنی جگہ آسودگی سے نوازا ہے۔ چند دن پہلے جب میں اپنی فیملی

Read more

میاں نواز شریف کی خاموشی، خوف یا حکمت؟

پانامہ کیس میں حکومت کے خاتمے کے چند دن بعد نواز شریف پارٹی اجلاس میں شرکت کے لئے مری سے اسلام آباد روانہ ہوئے تو اس وقت تک نواز شریف کے حامیوں میں ایک اداسی بھری دہشتناک خاموشی پھیلی ہوئی تھی لیکن جوں ہی اس کی گاڑی اسلام آباد سے چند کلومیٹر دور بھارہ کہو کے مقام پر پہنچی تو غیر متوقع طور پر عوام کا ایک سیلاب اُمڈ آیا۔

جس نے کئی عشرے پہلے لاہور ریلوے سٹیشن پر بھٹو کے استقبال کی یاد تازہ کر دی۔ اب آنے والے شب و روز کا منظرنامہ بھی تقریباً اس جیسا ہی تھا۔ اس چھوٹے سے قصبے میں دیوانہ وار استقبال نے مشکل ترین ایّام میں میاں صاحب کے حوصلے کو بھی بڑھایا اور آئندہ کے لئے اس کی مناسب منصوبہ بندی اور پالیسی کو بھی واضح کیا۔

Read more

فطرت کے اٹل اُصول

اس مملکت خداداد نے ہمیشہ یونہی تو نہیں رہنا ہے۔ آمریتوں، کرپشن، اقرباء پروری، جبر و استحصال اور بربریت کے منحوس سایوں میں اس وطن کے خاک نشینوں نے بہت ظلم سہہ لئے، فطرت کا قانون ہے اور اٹل قانون کہ تمام منفی عوامل ایک مہلت کے اندر پنپتے اور فنا ہوتے ہیں لیکن تکبّر اور جبر کا ہمیشہ یہی مزاج ہوتا ہے کہ وہ فطرت کے قوانین پر اپنی طاقت کو ترجیح دیتے ہیں لیکن مظلومیت کو فطرت ایک غیر محسوس طریقے سے سہارا دیتی اور قوّت فراہم کرنے میں مگن ہوتی ہے اور پھر جب ہم تاریخ کی طرف مڑ کر دیکھتے ہیں تو ہر عمر ہر تہذیب اور ہر زمانہ بے شمار مثالوں سے بھرا دکھائی دیتا ہے۔ حوالہ خواہ افراد کا ہو یا مجموعی معاشرے کا فطرت کے یہی اٹل قوانین ہی ہیں جو فیصلہ کرتے ہیں اور آخری فیصلہ۔

Read more

عمران خان کے لئے ضروری یو ٹرن

میں عمران کو ایک اثاثے کے طور پر ہمیشہ دیکھتا رہا ہوں اور میری یہ رائے اس وقت بھی تھی جب وہ اقتدار سے کوسوں دور تھے۔ عمران خان بعض معاملات میں دو سرے سیاستدانوں پر برتری لئے ہوئے ہیں۔ مثلاً ایک کھلاڑی کی حیثیت سے وہ بین الاقوامی شہرت رکھتے ہیں اور سب سے بڑھ کر ان کے پاس یوتھ کا ایک بڑا لاٹ بھی موجود ہے۔

اگر ان چیزوں (خوبیوں ) کو وہ قدرے دانائی کے ساتھ استعمال کرنا شروع کردیں تو ان کی سیاسی کامیابی کے امکانات کئی گنا بڑھ سکتے ہیں، لیکن یہاں سوال یہ ہے کہ ان خوبیوں کو استعمال میں لانے کا طریقہ کار کیا ہونا چاہیے؟

عمران خان کے ارد گرد اس وقت تین طرح کے کارکن ہیں، ایک وہ جینوئن کارکن جوسمجھتے ہیں کہ نظام کی تبدیلی کے لئے ان کی اور عمران خان کی سوچ ایک جیسی ہے، دوسرے وہ کارکن ہیں جن کا خیال ہے کہ ان کی شکل عمران خان سے ملتی ہے اور تیسرے وہ جو ان کے ساتھ تصویر اتروا کر یا ان کی گاڑی کے ساتھ لٹک کر اسے اپنے مقاصد کے لئے استعمال کرتے ہیں۔

Read more

طاہر داوڑ کی زندگی سے جنازے تک

اپنے اغوا ہونے سے صرف تین دن پہلے طاہر داوڑ اور میں اس سکول سے باہر اکٹھے نکل آئے، جہاں ہم دونوں کے بیٹے زیرِ تعلیم ہیں اور ہمیں سکول انتظامیہ نے دوسرے بچوں کے والدین سمیت مشاورت کے لئے ایک ہی دن بلایا تھا کار پارکنگ میں آکر طاہر داوڑ نے میرے کندھے پر ہاتھ رکھا اور اپنا خوبصورت پشتو شعر سنایا، جس کا ترجمہ یُوں ہے کہ نہیں اترا ہے تو بھی آسماں سے میں خاشاک زمیں ہرگز

Read more

یہ گالیاں کس کو پڑ رہی ہیں؟

ایک بھرے جلسے میں جب ہوا کے گھوڑوں پر سوار اس کے جذباتی کارکن اس کے سامنے تھے تو سٹیج پر آ کر عمران خان نے حسب معمول بلوچستان کے ایک غریب بچے کی بھوک اور پیاس کی کہانی سنائی پھر ورلڈ کپ اور شوکت خانم سے ہوتا ہوا اپنے ہر مخالف کو چور ڈاکو اورکرپٹ (لیکن صرف سیاستدان۔۔۔ فوجی ڈکٹیٹر اور موصوف کے ساتھی ہرگز نہیں) کے القابات اور خطابات دینے کے بعد فرمایا۔۔۔ میں وعدہ کرتا ہوں کہ

Read more

مطیع اللہ جان ۔ دربدری کی ایک تاریخ

لگ بھگ تین عشرے پرانی بات ہے، میں پشاور سے انٹر کر کے اسلام آباد آیا اور بی اے میں داخلہ لیا تو یہاں کی فضا مجھ جیسے دیہاتی نوجوان کے لیئے قدرے نامانوس اور اجنبی سی تھی، لیکن اپنے مخصوص سیاسی خیالات اور لکھنے پڑھنے کے رجحان نے میری شرماھٹ اور تنہائی کو تیزی کے ساتھ پیچھے دھکیلا اوراس میں سیاسی اور ادبی خیالات رکھنے والے بہت اچھے دوستوں کا رنگ بھرنا شروع کیا۔ تب کیا معلوم تھا کہ

Read more

حضور کریمٌ کی سیاسی زندگی

اگر ہم سکندر اعظم، نپولین اور ہٹلر کو لیں تو ان کی زندگی ایک سپہ سالار اور فاتح جنگ سے بڑھ کر کوئی نہیں۔ گوتم بدھ کی زندگی ریاضت اور عبادت کے گرد گھومتی ہے، جبکہ افلاطون اور ارسطو صرف حکیم اور فلسفی تھے، جبکہ اس کے بر خلاف رسولِ عربیٌ کی زندگی ہمہ جہت حیثیت کی حامل ہے۔ قول و فعل کی یکسانی تعلیم معتدل عملیت اور سب سے بڑھ کر زندگی ہی میں کامیابی کی لحاظ سے ایک

Read more

آزادی کی تاریک سرنگ

اس ملک کا پرانا نام اسمارا تھالیکن انسویں صدی میں جب اٹلی نے اس پر قبضہ کیا تو اس کا نام بھی تبدیل ہو گیا اور وہ اسمارا سے اریٹیریا بن گیا۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد اٹلی اپنے مسائل سے دوچار ہوا تو اریٹیریا ہمسایہ ملک ایتھوپیا کو سونپ کر چلتا بنا، ایتھوپیا نے اسے اپنا حصہ بنا کر خود میں ضم کر لیا اور یہاں سے ایریٹرین عوام نے اپنی آزادی کی جدوجہد شروع کی۔ عیسٰی ایزا فورکی

Read more

پرنٹ میڈیا۔ تاریخ اور مستقبل

1609ء میں جرمنی سے پہلا مطبوعہ خبرنامہ (اخبار ) اویساریشن آرڈرزیٹنگ ( Avisa Relation order zeitung) شائع ہوا جبکہ انگریزی صحافت کی ابتدا 13 سال بعد ہوئی جب 1622ء میں لندن سے ویکلی نیوز کا اجراء ہوا۔ لیکن اردو صحافت کو پہلا قدم اٹھانے کے لئے ابھی دو سو سال کا انتظار کرنا ہی تھا۔ 27 مارچ 1827ء کو کلکتہ سے شائع ہونے والے فارسی ہفت روزہ “جامِ جہان نما” کو منشی سدا سکھ مرزا پوری نے اردو کے قالب

Read more

ٹموتھی ڈکسٹر نے دولت کیسے کمائی؟

اگر بنجمن فرینکلن (سابق امریکی صدر ) سے بل گیٹس اور لیڈی ڈیانا سے کرنل سنیڈرز (کے ایف سی کا مالک ) تک عالمی شہرت حاصل کرنے والے اپنے چمکتے ہوئے تارے اور دمکتی ہوئی قسمت لیکر نہ آتے تو آج وہ بھی کسی مائیکل اور کسی میری کی طرح گمنام زندگی گزارتے اورگمنام موت مرتے یہ قسمت ہی ھے جوبعض اوقات لغزش پا کو بھی منزلوں پر پہنچانے کا سبب بنتی ہے حیرت ہوتی ہے کہ اس میں نہ

Read more

یہ انسان تھے یا فرشتے؟

ایرینا سینڈلر کا تعلق (وارسا) پولینڈ سے تھا ۔دوسری جنگِ عظیم کے دوران اسے اس کیمپ میں پلمبر کا کام مل گیا ،جہاں نازی فوج نے کئی ہزار یہودی خاندانوں کو محصور کر رکھا تھا ۔ ایک خوفناک موت ان یہودی خاندانوں کے آس پاس منڈلا رہی تھی ۔ایرینا سینڈلر روز اس کیمپ میں محصور معصوم بچوں اور ان کی طرف بڑھتی ہوئی موت کو دیکھتی اور انہیں بچانے کا منصوبہ بناتی رہتی بالآخر اس کا منصوبہ مکمل ہوا. اس

Read more

کلثوم نواز: مر کے بھی چین نہ پایا تو کدھر جائیں گے

لیکن ان لوگوں کو کیا کہ وہ ایک پڑھی لکھی نمود و نمائش اور تکبر سے بہت دور ایک پڑھی لکھی ( حتٰی کہ صاحب کتاب ) خاتون تھیں ان لوگوں نے تو وہی کہنا تھا جو انھیں سمجھایا گیا تھا یا جس طرح ان کی تربیت کی گئی ہے۔ لیکن ٹھہریے پہلے ہمیں یہ بات پوری طرح سمجھ لینی چاہیے کہ بے شک اس ملک میں سمجھ اور شعور سیاسی سوجھ بوجھ اور احترام جمہوریت کا علم ایک جذبے

Read more

جنریشن ایکس اور ڈیجیٹل جنریشن کی مشکل

عمرانیات کے ماہرین کا خیال ہے کہ ہماری نسل کے افراد جن کی عمریں پینتالیس سال سے ذائد ہے انہوں نے انسانی تاریخ میں دنیا کو سب سے ذیادہ بدلتے ہوئے دیکھا، یہی ماہرین 1961ء سے 1981ء کے درمیان پیدا ہونیوالی نسل کو جنریشن ایکس کہتے ہیں۔ اس جنریشن نے بارشوں کے موسم میں ٹپکتے ہوئے چھت سے ڈاکئے کے ہاتھ سے لیتے ہوئے خط تک اور ٹاٹ سکول سے گمشدہ مرغی کی تلاش میں گاؤں چھان مارنے تک وہ

Read more

ریاستِ مدینہ کے طور طریقے اور عمران خان

چلیں ہم ریاستِ مدینہ کا ذکر صرف حضرت عمرؓ کے دورِ خلافت تک محدود کرتے ہیں جو انسانی تاریخ کی بہترین انتظامی سیاسی اور فوجی اصلاحات کا ایک زریّں دور ہے، لیکن سب سے پہلے ہمیں سمجھنا ہوگا کہ یہ مثالی ریاست تب وجود میں آئی جب ریاست کے سربراہ نے اپنے آپ کو وی آئی پی سٹیٹس اور پروٹوکول سے الگ کرکے عوام میں شامل کر لیا اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں تھا کہ انتظامی گرفت پر اثر

Read more

سلیم صافی: مجرم یا صحافی

پرانی بات ہے، میں ایک قومی روزنامے سے بحیثیت کالم نگار وابستہ تھا۔ پشاور صدر کے جس بلڈنگ میں مذکورہ روزنامے کا دفتر تھا، وہاں ایک کمرے میں ایک نیوز ایجنسی کا دفتر بھی تھا، ایک دبلا پتلا دیہاتی ٹائپ کا ایک نوجوان اسی نیوز ایجنسی میں کام کرتا تھا سو اس بلڈنگ کے علاوہ کبھی پریس کلب، کبھی کسی تقریب، کبھی کسی اخبار کے دفتر یا راہ چلتے کثرت سے ہماری ملاقاتیں ہوتی رہتیں لیکن وہ کبھی میرے قریبی

Read more

اپوزیشن عمران کے معاملے میں غصے نہیں تدّبر سے کام لے

یہ تحریریں پڑھنے والوں کو بخوبی علم ہے کہ میں کبھی عمران خان کا مداح نہیں رہا یا با الفاظ دیگر اپنی حقیقت پسندی کو کسی بے بنیاد خوش فہمی کی نذر نہیں ہونے دیا کیونکہ صبح و شام اس کے یو ٹرنز بھی دیکھے اور پی ٹی آئی حکومت کو بھی کے پی کے میں بھگتا۔ اس کے عوامی کی بجائے ایمپائر پولیٹکس اور ایک "شفاف” الیکشن بھی ہماری آنکھوں کے سامنے ہوتے رہے جس کے ذریعے عمران خان

Read more

امریکی صحافی کا گونزو جرنلزم

ہنٹر ایس تھامسن کی صحافتی تحریروں کو پورے امریکہ میں بہت شہرت ملی کیونکہ اس نے خطرناک سچ پر بھی سوالات اُٹھانے شروع کر دیے تھے۔ ہنٹر کے اس سٹائل کو گونزو جرنلزم کہا جاتا ہے۔ اس طرح کی جرنلزم میں لکھاری اپنی رائے کو طنز مبالغہ اور غیر یقینی خیالات کے لبادے میں لپیٹ کر پیش کرتا ہے جبکہ بعض اوقات اپنے آپ کو بُرا پیش کر کے معاشرے کی تصویر دکھاتا ہے۔ ہنٹر تھامسن ہمیشہ سچ کا متلاشی

Read more

یومِ شہداء پولیس کے حوالے سے

(یہ بیٹے بھی دکانوں پر نہیں بکتے ) دروازے کی بیل بجی اور تھوڑی دیر بعد میرا ڈرائیور آئی جی پولیس کی طرف سے بھیجا گیا وہ دعوتی کارڈ تھما گیا، جو یومِ شہداء کے حوالے سے منائے جانے والے پروگرام سے متعلق تھا۔ اس دن کے آتے ہی ایک غیر محسوس طریقے سے ہمیشہ میری آنکھیں نم اور سینہ چوڑا ہو جاتا ہے، کیونکہ یہی تو وہ دن ہے جو سارہ سال لمحہ لمحہ مجھ جیسے ناتواں کمزور اور

Read more

ھمارا کوئی کیپٹن چیلسی سلنبرگر بھی نہیں

یہ پن دراج نوری دو ھزار نو کی ایک برفیلی صبح تھی۔ یو ایس ائیرویز 1569نیویارک ائیر پورٹ سے ساؤتھ کیرولینا کے لئے ایک سو پچپن مسافروں کو لے کر اُڑی ستاون سالہ کیپٹن چیلسی سلنبرگر اپنے فرسٹ آفیسر جیفری سکائلز کو اپنے ائیر فورس کے زمانے ( جب چیلسی برگر ایک فائیٹر پائلٹ ہوا کرتا تھا) کے تجربات سناتا اور جہاز ساؤتھ کیرولینا کی طرف تین ہزار فٹ بلندی پر اُژاتا رہا، اس دوران کینڈا کی طرف سے برفانی

Read more

گھبرو اور دلیر پنجاب

یہ پنجاب ہی تھا جسے ایک طویل عرصے تک چھوٹے صوبے جابرانہ ایسٹبلیشمینٹ کے ساتھی اور سیاسی سپورٹر ہونے کا طعنہ دیتے رھے بلکہ شیخ مجیبُ الرحمٰن کو یہاں کی سڑکوں سے پٹ سن کی بُو تک آنے لگی تھی، لیکن وقت کبھی کبھی ایک سفاکانہ بے رحمی کے ساتھ نہ صرف آنکھیں پھیر لیتا ہے بلکہ ماضی کے ساتھ تمام رشتے ناطے توڑ بھی دیتا ہے، اور وقت کا وہ خود سر ”گھبرو“ اِس وقت پنجاب کے میدانوں میں

Read more

ایسے ہوتے ہیں ہیروز – لیبیا کا صحرائی شیر عمر مختار

وہ لیبیا کے ایک چھوٹے سے گاؤں جنزور میں 1862ء کو پیدا ہوا، بنیادی طور پر وہ ایک دیہاتی سکول میں اُستاد اور قرآن پاک کا معلم تھا، حد درجہ سادہ اطوار لیکن مضبوط اعصاب رکھنے والے سکول ٹیچر کی ابتدائی زندگی گھر مسجد اور سکول کے گرد گومتی رہی۔ اس کا بے پایاں خلوص اور آہنی اعصاب اسے ایک افسانوی کردار والا باغی بنانے کے لئے کافی تھے۔ اس لئے اکتوبر 1911ء کو اطالوی بحریہ کے جہاز لیبیا کے

Read more

میڈیا کے رجحانات اور جدید تقاضے

قدیم عربوں میں شاعر قبیلوں اور معاشرے کا مرکزی نقطہ فکر ہوا کرتے تھے کیونکہ شعراء کو ذریعہ اظہار کی تمام قوّت میّسر تھی۔ جس میں ذہانت، الفاظ اور مجمع سرِ فہرست ہیں، اور یہی وجہ ہے کہ ان معاشروں کی ذہنی تربیت اور اُٹھان اسی لافانی شاعری کے سائے میں پروان چڑھی، میں چونکہ اس دور کی عربی شاعری اور شاعر کو میڈیا کا ابتدائی زمانہ سمجھتا ہوں۔ اس لئے میرا خیال ہے کہ قوموں کی اجتماعی نفسیات اور

Read more

وہ ایک جرنیل ہی تھا

لشکرِ مدینہ لوٹ آیا، اور پورے شہر میں ایک جشن برپا تھا۔ ہر کوئی اسی دراز قامت آدمی کو دیکھنے کا متمنی تھا۔ جس نے طاقتور ترین سلطنت روما کی اینٹ سے اینٹ بجا دی تھی اور جس کی جنگجویانہ صلاحیت ہر خاص عوام کو متاثرکیے ہوئے تھی۔ چمڑے کا ایک وسیع خیمہ ہے، اور عرب کے با اثر سرداروں اور پُر جوش نوجوانوں کے درمیان وہ ایک خوش رنگ غالیچے پر بیٹھا تکیے کے ساتھ ٹیک لگائے ہوئے ہے۔

Read more

نصیبوں کا دھنی نواز شریف اور مسلسل جدوجہد کرنے والا عمران خان

میاں محمد شریف 1919ء میں مقبوضہ کشمیر کے قصبے اننت ناگ میں پیدا ہوئے۔ تلاش معاش کے سلسلے میں ان کا خاندان امرتسر چلا گیا۔ قیام پاکستان کے بعد وہ لاہور آ گئے۔ اُنہوں نے ایک چھوٹی سی خراد مشین خریدی اور ایک چھوٹے سے گیراج میں کام کرنے لگے۔ تاہم ترقی کی رفتار وقت کی رفتار سے بہت کم تھی۔ یہی تیز رفتاری انہیں 25دسمبر 1949ء کا دن دکھا دیتی ہے۔ جب ان کے گھر ان کا پہلا بیٹا

Read more

معرکے میں چھتیس جرمن سنائپرز کو مار ڈالنے والی گھوسٹ سنائپر

اس کا نام لیودمیلاپاؤلی شنکو تھا۔ وہ 1916ء کو یوکرائن میں پیدا ہوئی۔ بچپن میں وہ ایک شرمیلی اور خوفزدہ سی بچی ہوا کرتی تھی۔ کسی کے وہم و گمان میں بھی اس وقت یہ بات نہ تھی کہ یہ دھان پان سی اور الگ تھلگ رہنے والی لڑکی مستقبل میں ایک مضبوط ترین عورت بن کر اُبھرے گی۔ یہی خوفزدہ سی لڑکی جوں جوں جوان ہوتی گئی زمانے سے آزمائی اور انسانوں سے پہچان بھی ہوتی گئی۔ رفتہ رفتہ

Read more

اگلے الیکشن میں خیبر پختون خوا کا متوقع منظرنامہ

آپ 1970ء میں خیبرپختون خوا (تب صوبہ سرحد) کی صوبائی اسمبلی کی سیٹوں پر نظر ڈالی، تو چالیس ممبران پر مشتمل اسمبلی میں (اے این پی تب نیپ ) نے سب سے زیادہ تیرہ سیٹیں جیتیں۔ مسلم لیگ نے بھی مجموعی طور پر تیرہ سیٹیں جیتیں لیکن یہ جماعت تین ٹکڑوں میں بٹی ہوئی تھی۔ (قیوم مسلم لیگ، کنونشن مسلم لیگ اور کونسل مسلم لیگ ) تاہم قیوم مسلم لیگ نے اکیلے دس سیٹیں جیتیں جبکہ جمیعت العلماء اسلام نے

Read more