سپریم کورٹ کا فیصلہ چیف جسٹس ثاقب نثار نے لکھا ہے۔ فیصلے کا آغاز کلمہ شہادت سے کیا گیا ہے۔ رسول پاکؐ کے نام کے تقدس کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے اقبال کا شعر لکھا گیا ہے
کی محمد سے وفا تونے تو ہم تیرے ہیں
یہ جہاں چیز ہے کیا لوح و قلم تیرے ہیں
یہ بتایا گیا ہے کہ رسول پاکؐ سے بے انتہا محبت ایک مسلمان کے ایمان کا جزو ہے۔ مختلف آیات اور احادیث مبارکہ کی مدد سے اس پوائنٹ کو اجاگر کیا گیا ہے۔ مختلف آیات کے بارے میں علما کی تشریح بیان کرتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ اللہ اور رسولؐ کے مخالفین کے لیے موت کی سزا ہے اور اس مخالفت میں بلاسفیمی بھی شامل ہے۔
جسٹس آصف سعید کھوسہ نے اپنا اتفاقی نوٹ لکھتے ہوئے کہا کہ معافیہ بی بی اور اسما بی بی سگی بہنیں ہیں جنہوں نے مقدمے کے اہم عنصر یعنی جھگڑے کو مکمل طور پر چھپایا اور جب وکیل صفائی نے جرح کے دوران پوچھا بھی تو انہوں نے کسی قسم کے سخت الفاظ کے تبادلے اور بعد میں جھگڑے سے انکار کیا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ دونوں خواتین معافیہ بی بی اور اور اسما بی بی کو سچائی کا کوئی پاس نہیں اور وہ جھوٹا بیان دے سکتی ہیں۔
جسٹس آصف سعید کھوسہ نے نوٹ کیا کہ مقدمے کے گواہان کے بیانات نہ صرف باہمی طور پر متضاد پائے گئے بلکہ مقدمے کے دوسرے حقائق سے بھی مماثلت نہیں رکھتے تھے۔
مقدمہ ہذا میں ہر واقعاتی زاویے کے متعلق استغاثہ کی جانب سے پیش کردہ شہادتوں میں واضح اور یقینی تضادات، جن کا میں نے متذکرہ بالا سطور میں مشاہدہ کیا، سے یہ افسوس ناک اور ناقابلِ انکار تاثر قائم ہوتا ہے کہ ان تمام افراد جن کے ذمے شہادتیں اکٹھی کرنا اور تفتیش کا کام تھا، نے ملی بھگت سے یہ طے کیا ہوا تھا کہ وہ سچ نہیں بولیں گے یا کم از کم سچائی کو باہر نہیں آنے دیں گے۔
Read more