پاکستانی فلمی صنعت کے ہونہار فلم ساز اور ہدایت کار محمد طارق کے ساتھ ایک نشست

داکار محمد علی سمیت اردو اور پنجابی فلموں کے سپر اسٹارز کا بادشاہوں والا انداز ہوتا تھا کہ ہمیں شاہانہ پروٹوکول ملے کوئی ٹوکنے والا نہ ہو۔ میں اس بات کے خلاف تھا۔ پہلے دن میں نے محمد علی صاحب کو مکالمے وغیرہ بتلائے تو کہنے لگے کہ یہ مکالمہ منہ پر نہیں آ رہا اس کو بدل دیں۔ میں نے کہا کہ جناب یہ تو بڑا سوچ سمجھ کے کام کیا گیا ہے۔ پھر آپ تو بڑے اداکار ہیں آپ اسے یاد کر کے منہ پر چڑھائیں۔ یہ کہہ کر لائٹ آف کرا دی۔ ان کو آج تک کسی نے روکا نہیں تھا۔ وہ سناٹے میں آ گئے۔ میں نے کہا کہ میں اس فلم (بگڑی نسلیں 1983) کا فلم ساز بھی ہوں۔ سوچ لیں کہ کام کریں گے یا نہیں۔ پانچ منٹ سوچنے کے بعد کہا کہ میں آپ کے کام میں نہیں بولوں گا۔

Read more

تھیٹر، اسٹیج، ریڈیو اور فلم کے اداکار مسعود اختر

میں جب لاہور جاتا ہوں فلمی دنیا کے نامور ہدایتکار ایس سلیمان المعروف سلو بھائی کی خیریت معلوم کرنے زرین پنا سے ملنے الحمرا ضرور جاتا ہوں۔ اس مرتبہ ان کے ساتھ کینٹین جاتے ہوئے دروازے سے پہلے ایک طرف ہٹ کر بیٹھے تھیٹر، ریڈیو، فلم اور ٹیلی وژن کے نامور فنکار مسعود اختر بھائی پر نظر پڑی۔ بے ساختہ میں ان کی جانب لپکا۔ حسب معمول تپاک سے ملے۔ موقع مناسب دیکھ کر میں نے ان سے بات چیت

Read more

پاکستانی فلمی صنعت کا ایک معتبر نام موسیقار موسیقار بخشی وزیر

وہ 2017 کا کوئی مہینہ ہو گا۔ میں روزنامہ نوائے وقت کے صفحہ فن و ثقافت کے لئے پاکستان کے نامور موسیقاروں پر لکھ رہا تھا۔ گاہے بگاہے انٹر نیٹ سے بھی استفادہ کیا۔ لیکن جب موسیقار بخشی وزیر پر کام شروع کیا تو راستے محدود ہو گئے۔ لیکن مزید معلومات کے لئے جستجو جاری رہی۔ پھر خوش قسمتی سے 2020 میں حضرت تنویرؔ نقوی کے بیٹے شہباز کی معرفت وزیر حسین صاحب کے بیٹے نعیم وزیر تک رسائی ہوئی۔

Read more

نامور ہدایت کار، مصنف اور فلمساز حسن عسکری

گزشتہ سے پیوستہ ہفتے ایور نیو فلم اسٹوڈیو لاہور میں مجھے فلمی دنیا کی ایک ایسی شخصیت سے ملاقات کا شرف حاصل ہوا۔ جس سے فلم نگری کے تمام چھوٹے بڑے بہت پیار کرتے ہیں۔ یہ مسکراتے چہرے والے ہر دل عزیز فلم ڈائریکٹر حسن عسکری ہیں۔ میں عسکری بھائی سے جب بھی ملا ہمیشہ خوش دلی سے ملتے ہیں۔ عام طور پر کسی نامور فلمی شخصیت پر لکھنے کا ایک فارمولا ہوتا ہے۔ ان کی ابتدا، فلموں میں آنا،

Read more

ملکہ حسن کہلانے والی اداکارہ صابرہ سلطانہ

میری خوش قسمتی تھی کہ پاکستانی فلمی صنعت کی نامور اداکارہ صابرہ سلطانہ سے پچھلے دنوں زرین پنا کی معرفت ایک نشست ہوئی۔ بہت سی باتیں ہوئیں۔ انہوں نے کچھ پیغامات بھی دیے اور تلخ حقیقتیں بھی بتائیں جو ان کے مطابق سامنے آنا چاہئیں : ”سب سے پہلے تو میں یہ بتا دوں کہ صابرہ سلطانہ میرا اصلی نام ہے۔ بعض غلط فہمیوں کی وجہ سے میرا نام رابعہ بتلایا گیا ہے جو صحیح نہیں۔ میرا بابائے اردو کے

Read more

بھارت کے مشہور زمانہ ’بوفورس اسکینڈل‘ سے ہم کیا سیکھ سکتے ہیں؟

سوئیڈش تحقیقی افسر لنڈاسٹروم کو اس بات کا بہت افسوس ہے کہ پچھلے 30 سالوں میں بھارت سے کسی سراغ رساں، تحقیقاتی افسر وغیرہ نے اس سے کوئی رابطہ نہیں کیا۔ خود سویڈن میں یہ کیس 1988 میں ہی بند کر دیا گیا۔ اب وہ ( لنڈ اسٹروم ) سویڈن اور بھارتی حکام پر کوئی انحصار نہیں کرتے لہٰذا جو کچھ انہیں معلوم ہے وہ چترا کو منتقل کر رہے ہیں۔

آج کل چوں کہ بی جے پی کی حکومت ہے لہٰذا وہ تمام مصلحتیں اور لحاظ قصۂ پارینہ ہوئے جن کی بنا پر ایک طرح یا دوسری طرح بوفورس کیس میں راجیو گاندھی کے ملوث ہونے کی وجہ سے کیس ہی کو داخل دفتر کر دیا گیا تھا۔ یہ اسکینڈل بی جے پی کے نشی کانت دبے نے لوک سبھا میں اٹھایا۔ بھارتی پارلیمان (لوک سبھا) میں جب ان انکشافات کی بابت سوال جواب ہوئے تو سونیا اور راہول گاندھی واک آؤٹ ہی کر گئے۔ بوفورس کی بوتل کا جن ایک مرتبہ اور باہر آ گیا۔

Read more

منور ظریف سے طارق ظریف تک: ہدایت کار شاہد مہربان کی نئی فلم ”سچی مچی“

میں ایک عرصے سے کوشش کر رہا تھا کہ عظیم کامیڈین منور ظریف کے کسی قریبی عزیز سے ملاقات ہو جائے۔ ایک دوپہر میں ایور نیو اسٹوڈیوز کے منیجر، نگار ایوارڈ یافتہ فلم ایڈیٹر زیڈ اے زلفی صاحب کے دفتر میں بیٹھا تھا کہ مجھے برابر میں واقع باری فلم اسٹوڈیوز سے فلمساز و ہدایتکار نوید رضا کا فون آیا کہ آپ کے مطلب کی خبر ہے۔ میں فوراً ان کے دفتر پہنچا۔ انہوں نے بتایا کہ منور ظریف مرحوم کا

Read more

کچھ موسیقار زیڈ ایچ فہیم کے بارے میں

یہ اکتوبر 1980 کا زمانہ ہے۔ پاکستان ٹیلی وژن کراچی میں مجھے شعبۂ پروگرامز میں آئے ہوئے کچھ ہی روز ہوئے تھے کہ اچانک راہداری میں ایک جانا پہچانا چہرہ نظر آیا۔ یہ زیڈ۔ ایچ۔ فہیم صاحب تھے۔ ذہن میں ایک چھپاکا ہوا اور میں ماضی میں غوظہ زن ہو گیا۔ 1969 کا زمانہ ہو گا جب میں نے انہیں ائرپورٹ کلب کراچی میں فلم ”دل میرا دھرکن تیری“ میں قتیل ؔشفائی کی لکھی اور ماسٹر عنایت حسین کی موسیقی

Read more

فلم اور ٹیلی وژن ہدایت کار: ایس سلیمان

لاہور میں فنکاروں سے ملنے ملانے کے لئے اکتوبر اور نومبر بہت بہتر ثابت رہا۔ میں نے الحمرا سے کام کا آ غاز کیا۔ یہاں کتھک اور دیگر کلاسیکی رقص میں ایک مستند ملکی اور بین الاقوامی نام، صدارتی تمغۂ حسن کارکردگی یافتہ ’زرین پنا‘ سے ملاقات کی۔ اس ملاقات میں میرے ساتھ تین بڑی شخصیات، فلمی گیت نگار حضرت تنویر ؔ نقوی، جناب طفیلؔ ہوشیار پوری صاحب اور سپریم کوٹ کے ریٹائرڈ چیف جسٹس ( 1968 ) سید فضل

Read more

گیت، مکالمہ و کہانی نگار، ہدایتکار اور فلمساز سیف الدین سیفؔ

18 جون 1959 سے مسلسل 3 سال بھارتی پنجاب میں چلنے والی فلم ” کرتار سنگھ“ کے خالق، پہلے بہترین فلمساز کا نگار ایواڑڈ پانے والے۔
20 مارچ 1922۔ 12 جولائی 1993

نام سیف الدین اور تخلص سیفؔ، 20 مارچ 1922 کو امرتسرکے ایک معزز ادبی گھرانے میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم مسلم ہائی اسکول امرتسر سے حاصل کی۔ میٹرک کا امتحان بطور پرائیویٹ امیدوار دیا اور اچھے نمبروں سے پاس کیا۔ پھر ایم اے او کالج امرتسر میں داخلہ لیاجہاں محمد دین تاثیر پرنسپل اور انگریزی کے استاد فیض احمد فیضؔ تھے۔ ان دونوں کی قربتوں نے سیفؔ میں علمی اور ادبی ذوق بیدار کیا لیکن بعض سیاسی اور مذہبی مسائل میں الجھنے کی بنا پر انہیں امتحان دینے سے روک دیا گیا۔ اس وجہ سے سیفؔ نے تعلیم سے مونہہ موڑ لیا اور تلاش معاش میں سرگرداں ہو گئے۔ اس پس منظر میں 1946 میں فلمی لائن اختیار کی اور فلمی کہانیاں لکھنے لگے۔

افسوس کہ بر صغیر کی تقسیم کی وجہ سے ان کی لکھی ہوئی فلمیں نمائش کے لئے پیش نہ ہو سکیں۔ پاکستان بننے کے بعد یہ ہجرت کر کے لاہور آ گئے اور پھر یہیں سے اپنی ادھوری تعلیم کا سلسلہ شروع کیا۔ پاکستان میں فلمی کہانیوں کے ساتھ ساتھ نغمہ نگاری اور مکالمے لکھنا بھی ان کی روزی کا ذریعہ بن گیا۔

Read more

1965 میں ریڈیو پاکستان کے جنگی اور ملی نغموں کے پروڈیوسر محمد اعظم خان

مجھے عرصے سے کسی ایسی شخصیت کی تلاش تھی جس نے 1965 کے جنگی نغمے ریڈیو پاکستان سے پروڈیوس کیے ہوں۔ میں جب جب لاہور گیا یہ خواہش بڑھتی ہی گئی۔ اتفاق سے پچھلے دنوں قسمت نے یاوری کی اور گوہر مقصود ہاتھ آیا جب تمغۂ امتیاز یافتہ موسیقار، سجاد طافو نے بتایا کہ وہ ایک ایسے شخص کو جانتے ہیں جو ریڈیو پاکستان لاہور کے انسائکلوپیڈیا ہیں۔ اور۔ انہوں نے ہی 1965 میں لاہور مرکز سے جنگی نغمے پیش

Read more

فلمی پلے بیک اور غزل گلوکارہ اقبال بانو

غیر منقسم ہندوستان کے شہر روہتک میں گلوکارہ زہرہ بائی کے ہاں 1935 میں پیدا ہونے والی بچی کو آگے چل کر زمانے نے گلوکارہ اقبال بانو کے نام سے یادکیا۔ ان کے تذکروں میں دہلی میں، دہلی گھرانے کے مشہور استاد صابری خان سے کلاسیکی اور نیم کلاسیکی موسیقی کی تعلیم حاصل کرنے کا ذکر ملتا ہے۔ خاکسار نے کراچی میں دہلی گھرانے کی نامور اور معتبر شخصیت استاد مظہر امراؤ بندو خان سے جب اس سلسلے میں استفسار

Read more

گیت نگار حسرت ؔجے پوری کی بیٹی کشور جے پوری سے ایک بات چیت

مجھے حسرتؔ کے گیتوں سے ہمیشہ ہی دل چسپی رہی۔ ان سے میرا لگاؤ یوں بھی بڑھ گیا، جب میں نے ان کے تذکرے میں کہیں پڑھا کہ وہ اردو کے مشہور شاعر مولانا حسرتؔ موہانی سے بے حد عقیدت رکھتے تھے۔ اسی نسبت سے آپ نے اپنا تخلص حسرتؔ اختیار کیا۔ ان کی کہی ہوئی پہلی غزل کا یہ شعر ملاحظہ ہو:

کس ادا سے وہ جان لیتے ہیں

مرنے والے بھی مان لیتے ہیں

حسرتؔ کا سلسلہ اردو غزل کے عظیم شاعر مرزا غالبؔ تک پہنچتا ہے۔ آپ کے نانا، فدا حسین فدا ؔ جے پوری، آغا دہلوی کے شاگرد تھے، جن کا شمار مرزا غالبؔ کے شاگردوں میں ہوتا تھا۔ اسی نسبت سے آپ کا سلسلہ تلمذ مرزا غالبؔ تک پہنچتا ہے۔

Read more

پاکستانی یادگار فلمی حمد، نعتیں اور قوالیاں

نہ جانے کیوں بعض دانشور پاکستانی فلموں اور اس سے منسلک شعبوں کو کسی قابل گردانتے ہی نہیں۔ جب کہ ہماری فلموں کے تمام شعبوں میں معیاری کام ہوا ہے جیسے حمد، نعتیں، منقبتیں اور قوالیاں۔ ہماری فلموں میں حمدیہ اور نعتیہ کلام نہایت اعلیٰ پائے کا لکھا گیا اور پھر ان کی طرزوں نے ایک ایسا سماں باندھا کہ آج بھی ان کو سنا جائے تو دل کھنچتا ہوا محسوس ہوتا ہے۔ سونے پہ سہاگہ یہ کہ فلمی گلوکاروں نے خوبصورت طرزوں اور بولوں کو ادا کرنے میں اپنی روح نکال کر رکھ دی۔

ایک جائزہ:

Read more

موسیقار ایم ارشد سے ایک ملاقات

اس مرتبہ میرا لاہور آنا نامور شخصیات سے ملاقات کا موجب رہا۔ ان ملاقاتوں کے لئے میں حضرت تنویرؔ نقوی کے صاحبزادے شہباز تنویر نقوی اور نعیم وزیر کا مشکور ہوں۔ شہباز کا گزشتہ تحریر میں تعارف ہو چکا۔ نعیم وزیر کا تعارف یہ ہے کہ وہ پاکستانی فلمی دنیا کی نامور موسیقار جوڑی بخشی وزیر کے وزیر صاحب کے بیٹے ہیں۔ اور خود بھی اپنے والد کے نقش قدم پر چل رہے ہیں۔ ان کے ساتھ نگار ایوارڈ یافتہ مشہور فلمی موسیقار ایم اشرف کے موسیقار بیٹے ایم ارشد سے میری ایک دلچسپ ملاقات ہوئی جو پڑھنے والوں کے لئے پیش خد مت ہیں۔

” کچھ اپنے والد صاحب کے بارے میں بتائیے“ ۔
” اپنے ابا جی، ایم اشرف صاحب کا میں بھلا کیا تعارف کرا سکتا ہوں۔ وہ بڑے خوش مزاج، مزے دار آدمی اور میرے دوست تھے۔ شروع میں وہ میرے دوست نہیں بلکہ باپ ہی تھے“ ۔
” ان کو فلمی دنیا میں کس نے متعارف کروایا؟“ ۔

Read more

تنویرؔ نقوی/ شہبازؔ نقوی اور طفیل ہوشیارپوری / عرفان باری: خوشبو کا سفر جاری ہے

پچھلے دنوں میرا کراچی آنا ہوا۔ یہاں کافی لوگوں سے ملاقاتیں ہوئیں۔ ان میں مدیر نگار ویکلی اسلم الیاس رشیدی صاحب اور دیگر احباب شامل ہیں۔ یہاں سے میرا پروگرام لاہور جانے کا تھا اور یہ ٹھان رکھا تھا کہ اس دفعہ لاہور فلم انڈسٹری کی تاریخ پر مزید تحقیق کی جائے۔ اتفاق سے میں جوہر ٹاؤن میں ایک دوست کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا۔ وہاں ہماری فلمی صنعت کے نامور شاعر حضرت تنویرؔ نقوی مرحوم کے صاحبزادے شہباز تنویر

Read more

گلوکار اخلاق احمد

دہلی میں 10 جنوری 1946 کو پیدا ہونے والے اخلاق احمد 1947 میں قیام پاکستان کے بعد اپنے خاندان کے ساتھ پاکستان ہجرت کر گئے۔ ان کے تمام تذکروں میں تاریخ پیدائش 1946 ملتی ہے لیکن لندن میں واقع ان کی قبر کے کتبے پر تاریخ پیدائش 1950 لکھی ہے۔ انہوں نے 1960 کی دہائی میں کراچی اسٹیج سے فنکارانہ زندگی کا آغاز کیا۔ وہ پاکستانی فلمی دنیا کے پس پردہ گلوکاروں کی تیسری نسل کی نمائندگی کرتے ہیں۔ ایک دہائی

Read more

پاکستان کی پہلی سپر سٹار ہیروئین: صبیحہ خانم

اداکارہ اقبال بیگم المعروف بالو اسٹیج ڈراموں میں کام کرتی تھیں اور غیر منقسم ہندوستان کی فلم ”سسی پنوں“ اور بہت سی فلموں میں بھی کام کر چکی تھیں۔ ان کے والدین کا تعلق گجرات ( پاکستان ) کے کھاتے پیتے زمیندار گھرانے سے تھا۔ شومیٔ قسمت کہ ان کی شادی معاشی طور پر ایک کمزور شخص محمد علی ماہیا سے ہو گئی ’بد قسمتی‘ جس کے تعاقب میں تھی۔ یہ اپنی بیگم کے روپے پیسے کے ہوتے ہوئے کام

Read more

بین الاقوامی شہرت یافتہ پاکستانی فلمی گیت نگار قتیلؔ شفائی

ہنسو اور ہنستے ہنستے ڈوبتے جاؤ خلاؤں میں ہمیں پر، رات بھاری ہے ستارو تم تو سو جاؤ تمہیں کیا! آج بھی کوئی اگر ملنے نہیں آیا یہ بازی ہم نے ہاری ہے ستارو تم تو سو جاؤ اورنگ زیب خان المعروف قتیلؔ شفائی ہری پور سے تعلق رکھتے تھے۔ وہ جب پیدا ہوئے تو اس وقت وہاں علم و ادب کا دور دور تک نام و نشان نہیں تھا۔ علم و ادب کے ایسے بنجر علاقے میں شاعری۔ ۔

Read more

موسیقار خلیل احمد

ہم سب ڈاٹ کام کے قاری جمیل احمد صاحب نے مجھ سے کہا ہے کہ فلم اور پی ٹی وی کے نامور موسیقار خلیل احمد صاحب کے بارے میں لکھوں۔ لیجیے تحریر حاضر ہے : 3 نومبر 1936 کو آگرہ شہر میں پیدا ہونے والے خلیل احمد خان یوسف زئی کو زمانہ پاکستانی فلموں اور پاکستان ٹیلی وژن کے نامور موسیقار خلیل احمد کے نام سے جانتا ہے۔ ان کے بعض تذکروں میں پیدائش کی تاریخ 3 مارچ اور شہر

Read more

فلمساز، ہدایتکار، کہانی نگار اور موسیقار خواجہ خورشید انور

ہم سب ڈاٹ کام کی ایک قاری کوثر نجمی میری تحریروں پر اکثر تبصرہ فرماتی ہیں۔ ان کی فرمائش تھی کہ میں ملک کے عظیم موسیقار خواجہ خورشید انور پر کچھ لکھوں۔ لیجیے خواجہ صاحب پر تحقیق پیش خدمت ہے : خواجہ خورشید انور 21 مارچ 1912 کو محلہ بلو خیل، میانوالی میں پیدا ہوئے۔ شاعر مشرق علامہ اقبا ل ؒ کی اہلیہ ان کی خالہ تھیں۔ خواجہ صاحب کے والد خواجہ فیروز الدین لاہور کے کامیاب بیرسٹر تھے۔ بیرسٹر

Read more

میر حمایت علی المعروف حمایت علی شاعر

میر حمایت علی المعروف حمایتؔ علی شاعر 14 جولائی 1926 کو اورنگ آباد (دکن) میں پیدا ہوئے۔ لڑکپن ہی میں اپنے وقت کے بائیں بازو کے صاحب قلم افراد سے متاثر ہو گئے پھر مقامی روزنامہ ’خلافت‘ میں بھی کام کیا اور آل انڈیا ریڈیو سے وابستہ ہو گئے جہاں کئی جہتوں میں آپ نے کام کیے جیسے ڈرامے میں صدا کاری وغیرہ۔ ان کے آبا و اجداد کا پیشہ سپاہ گری تھا۔ لکھنے لکھانے کا آغاز افسانہ نگاری سے

Read more

پاکستانی فلمی دنیاکے نامور موسیقار اے حمید

یہ 1933 کا سال تھا جب ’دیو سماج‘ کالج، امرتسر میں موسیقی کے پنڈت، پروفیسرشیخ محمد منیر کے ہاں بیٹا پیدا ہوا۔ نومولود کے چچا ایم اسلم بھی بمبئی میں اس وقت جانے پہچانے اداکار تھے۔ بچے کا نام شیخ عبدالحمید رکھا گیا۔ ابتدا ہی سے اس بچے نے موسیقی میں دلچسپی کا مظاہرہ کیا۔ خودبچے کے والدموسیقی کے پنڈت، پروفیسرشیخ محمد منیر تدریس کے علاوہ عملاً گیتوں کی دھنیں بھی ترتیب دیتے تھے۔ موصوف نے غیر منقسم ہندوستان میں

Read more

کچھ باتیں علی سفیان آفاقی کی

ہم سب ڈاٹ کام میں میری تحریروں کو باقاعدہ پڑھنے اور پھر ان میں کمی بیشی کا بتانے اور تبصرہ کرنے والے تمام خواتین اور حضرات میرے محترم ہیں! ایسے ہی دو کرم فرما : اجیت کمار اور سہیل الزمان کی فرمائش پر آج علی سفیان آفاقی صاحب پر لکھ رہا ہوں۔ کسی مصنف کے اچھا لکھنے کے کئی پیمانے ہو سکتے ہیں لیکن سب پیمانوں سے بڑا پیمانہ یہ ہے کہ پڑھنے والا جب اس کی کتاب پڑھنا شروع

Read more

تسلیم فاضلی: ایسا فاضل جسے تسلیم کیا جا چکا

اظہار انور المعروف تسلیم فاضلی نے 1947 میں دہلی کے ایک ادبی گھرانے میں آنکھ کھولی۔ ان کے تذکروں میں تاریخ پیدائش 1941 بھی ملتی ہے۔ بہن بھائیوں میں سب سے چھوٹے ہونے کی وجہ سے گھر بھر کی آنکھ کا تارہ اور لاڈلے تھے۔ والد سید مرتضیٰ حسین دعاؔ ڈبایؤی اور دو بڑے بھائی صباؔ فاضلی (یہ جوانی میں ہی انتقال کر گئے) اور نداؔ فاضلی شاعر اور ادیب تھے۔ اس طرح گویا لکھنا لکھانا اور شعر گوئی تسلیم

Read more

فلموں اور گیتوں میں عید کا دن

ایک زمانہ تھا جب ملک میں فلمساز، اسٹوڈیو مالکان اور تقسیم کار، سنیما مالکان سے پیشگی معاملات طے کر کے اپنی فلموں کو عید کے موقع پر نمائش کے لئے پیش کیا کرتے تھے۔ کیوں کہ عید پر لگنے والی بیشتر فلمیں بہت عمدہ بزنس کرتی تھیں لیکن میں نے عید پر فلمیں ناکام ہوتے ہوئے بھی دیکھیں جو ایک ہفتہ بھی مکمل نہ کر سکیں۔ شاید نیک شگون کے لئے نئی فلمیں جمعہ کے روز سنیماؤں کی زینت بنا

Read more

سحر انگیز اور دل موہ لینے والے موسیقار نثار بزمی

جل گاؤں، ریاست مہاراشٹرا، بھارت میں سید قدرت علی کے ہاں 1924 کو بچے کی پیدائش ہوئی۔ سید نثار احمد نام تجویز ہوا۔ کسے معلوم تھا کہ آگے چل کر یہ برصغیر پاک و ہند میں نام کرے گا۔ ابھی گیارہ بارہ سال کی عمر ہو گی کہ معاشی مسائل سے نبٹنے کی خاطر ان کو ( اس وقت ) بمبئی کی ایک نامور قوال پارٹی میں شمولیت اختیار کرنا پڑی۔ سر تال خدائی عطیہ تھا جب کہ موسیقی کے اسرار و رموز سے کوئی واقفیت نہیں تھی۔ تب قسمت نے یاوری کی اور 1930 کے اواخر میں بمبئی کی موسیقی میں اہم شخصیت خان صاحب امین علی خان کی شاگردی میں چار سال رہے۔ یوں محض 13 سال کی عمر میں مروجہ راگ راگنیوں اور آلات موسیقی میں خاصی مہارت حاصل کر لی۔ 1939 میں صرف 15 سال کی عمر میں آل انڈیا ریڈیو میں اسٹاف آرٹسٹ ہو گئے۔ یہیں ( بمبئی ) کے ریڈیو اسٹیشن سے نشر ہونے والے ڈراموں میں گیتوں کی طرزیں بھی بنائیں۔ ان کی بنائی ہوئی دھنوں پر رفیق غزنوی اور امیر بائی کرناٹکی جیسے نامور موسیقاروں اور فنکاروں نے گایا۔ یہ معمولی بات نہیں۔ ایسے کامیاب کام کے بعد سید نثار کی ماہانہ تنخواہ بڑھا کر پچاس روپے کر دی گئی جو اس وقت ایک معقول رقم مانی جاتی تھی۔

Read more

بھارتی فلمی صنعت کی کامیاب ترین خاتون موسیقار: اوشا کھنہ

مجھے اتنا تو پتا ہی تھا کہ اوشا کھنہ بھارت کی ایک مشہور خاتون موسیقار ہیں۔ ان کے بعض گیت مجھے زبانی یاد بھی تھے لیکن ان کے بارے میں مزید جاننے کا شوق مجھے پلے بیک سنگر ایس بی جون صاحب نے دلایا۔ فلم ’‘ سویرا ”( 1959 ) میں ماسٹر منظور حسین شاہ عالمی والے کی موسیقی میں فیاضؔ ہاشمی کا گیت“ تو جو نہیں ہے تو کچھ بھی نہیں ہے، یہ مانا کہ محفل جواں ہے حسیں

Read more

موسیقار شوکت علی دہلوی المعروف ناشاد

” میرے دو دادا ترکستان سے کسی مہم میں لشکریوں کے ساتھ آئے پھر یہیں کے ہو رہے۔ جب ہی ہمارے خاندان میں ہاشمی سلسلہ چلتا ہے۔ میرے ابا نے بھی بعض فلموں میں شوکت علی ہاشمی کے نام سے موسیقی دی۔ موسیقی میں ہمار ا دہلی گھرانہ ہے۔ ہمارا رستم پارک، لاہور والا مکان جب بنا تو اُس وقت اُس اسٹریٹ پر یہ اکیلا گھر تھا لہٰذا اس اسٹریٹ کا نام میرے والد نے ہاشمی اسٹریٹ لکھوایا۔ ہم لوگ

Read more

موسیقارمصلح الدین اور پلے بیک سنگر ناہید نیازی

26 فروری 1941 کو پیدا ہونے والی شاہدہ نیازی المعروف ناہید نیازی مشہور شاعر، گلوکار موسیقار اور براڈکاسٹرجناب سجاد سرور نیازی کی صاحبزادی اور پلے بیک سنگر نجمہ نیازی کی بڑی بہن ہیں۔ ناہید نیازی کے تذکروں میں ملتا ہے کہ اِن کے اندر کے گلوکار کو خواجہ خورشید انور نے دریافت کیا۔ ویسے بھی ناہید نیازی نے اپنے والد سے کوئی تو ’اثرات‘ لئے ہی ہوں گے۔ روایت کی جاتی ہے کہ فلم ”زہرِ عشق“ میں موسیقار خواجہ خورشید

Read more

وائلن نواز سعید احمد کی کھری کھری باتیں

گراموفون ریکارڈ، کیسٹ، سی ڈی، ریڈیو پاکستان اور دیگر ایف ایم اسٹیشنوں پر لگنے والے فِلمی اور غیر فِلمی گانے ہوں یا ٹیلی وژن پر موسیقی کی لایؤ محفلیں۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اِن سب کی ایک مشترکہ چیز۔ ۔ ۔ ۔ ۔ میوزیشن یا سازندے۔ یہ ہیں۔ ۔ ۔ ۔ ۔ تو موسیقی کا جہاں بھی آباد ہے۔ میں تو یہاں تک کہوں گا کہ گیت و غزل خود سازندوں کے آگے ہاتھ باندھے کھڑے ہوتے ہیں۔ اِس میں

Read more

کیریکٹر ایکٹر اور پاکستان ٹیلی وژن کے اداکار کمال ایرانی

میرے ہم مکتب اور ہم جماعت سید شبیر نواز صفوی کے چچا مشہور آدمی تھے۔ اکثریت کے چچا اور ماموں ویسے ہی پیارے اور میٹھے ہوتے ہیں اور شبیر کے یہ چچا کمال ایرانی تو واقعی کمال کے چچا تھے۔ 05 اگست 1932 بروز جمعہ، پیدا ہونے والے کمال الدین صفوی المعروف کمال ایرانی، پاکستانی فلمی صنعت کا ایک روشن ستارہ ہیں۔ پاکستان فلم ڈیٹا بیس کے مطاق انہوں نے 244 فلموں میں اداکاری کے جوہر دکھائے۔ اِن میں 188

Read more

پاکستان فلم کی عہد ساز شخصیت: گیت نگار تنویر نقوی

برِ صغیر کے نامور گیت نگار تنویر ؔ نقوی کے فلمی گیت پاک و ہند کی تقسیم سے پہلے ہی عوام میں بے حد مقبول ہو گئے تھے۔ ”دنیائے ادب و فلم میں تنویر ؔنقوی کا نام ایک معتبر، صاحب ِکمال و جمال اور مستند فطری شاعر کے طور پر زندہ و تابندہ و پائندہ ہے۔ سید خورشید علی نقوی پورا نام، تنویرؔ تخلص کے ساتھ تنویر ؔ نقوی مختصر سے دو لفظی ادبی نام کے ساتھ ایک طویل مدت

Read more

صدارتی تمغہ حسنِ کارکردگی ( بعد از مرگ ) اور نگار ایوارڈ یافتہ گیت نگار مسرور ؔ انور

سوہنی دھرتی کے حوالے سے ایک ہی نام ذہن میں آتا ہے جو مسرور انور کاہے۔ اُن کے ساتھ راقم نے خاصا وقت گزارا۔ یہ روز مرہ معاملات میں کیسے تھے؟ گھر میں بحیثیت باپ اور دیگر افراد سے تعلقات میں کیسے تھے؟ ایک اِنسان کے ناتے راقِم نے اُن کو کیسا پایا؟ مختصر عرض کرتا ہوں۔ خاکسار، پاکستان ٹیلی وژن کا مشکور ہے کہ اُس کے طفیل فِلم، ٹی وی، ریڈیو او ر اسٹیج کی کئی شخصیات کے ساتھ

Read more

پاکستان کے پہلے نگار ایوارڈ یافتہ پاپولر گلوکار احمد رُشدی

احمد رُشدی: 1980 کی دہائی میں پا کستان ٹیلیوژن کراچی مرکزکے شعبہ پروگرام میں خاکسار کو ملک کی نامور شخصیات کوقریب سے دیکھنے اور ان کی صحبت میں بیٹھنے کا موقع ملا۔ جیسے احمد رشدی جو پاکستانی فلمی صنعت کا ایک بہت بڑا نام ہے۔ فلمی دنیا میں ان کی آمد ریڈیو پاکستان کراچی کے ذریعہ ہوئی۔ جہاں 50 کی دہائی کے اوائل میں ریڈیو سے ان کی آواز میں بچوں کے پروگرام ”بچوں کی دنیا“ کا یہ گیت نشر

Read more

ریڈیو پاکستان کراچی مرکز کے سینئر پروڈیوسر سید مہدی ظہیر

پاکستان ٹیلیوژن کراچی مرکزکے شعبہ پروگرام میں خاکسار کو 80 کی دہائی میں معاون پروڈیوسر کی حیثیت سے ملک کی نامور شخصیات کوقریب سے دیکھنے اور ان کی صحبت میں بیٹھنے کا موقع ملا۔ دل چاہتا ہے کہ ان کے ساتھ کام کرنے کا تجر بہ اور ان کی فنکارانہ زندگی کی کچھ باتیں کی جائیں جو شاید پڑھنے والوں کو دلچسپ لگیں۔ یاداشت کے پردے میں جو پہلی شبیہہ ابھرتی ہے وہ مہدی ظہیر ہیں۔ قناعت کی عملی تصویر:

Read more

نامور فلمی شخصیت جناب سُرور بارہ بنکوی

مشرقی پاکستان کی پہلی کمرشل اُردو فلم ”چندا“ کے کہانی نویس اور گیت نگار
’ اک چراغ کیا جلا سو چراغ جل گئے‘
اور
’ بھری دنیا کو ویراں پاؤ گے جب ہم نہیں ہوں گے‘
جیسے گیتوں کے خالق

آخری دم تک فلم و ادب کی خدمت کرنے والے
فلمساز، کہانی نویس، گیت نگار اور ہدایتکار
مشرقی پاکستان کی فلمی دنیا کے ہر دل عزیز
اپنے دور کے ترجمان
سُرورؔ بارہ بنکوی
( 1919 سے 1980 )

Read more

” شاعرِ پاکستان“ کا خطاب پانے والے صہبا اختر

30 ستمبر 1931 کو سری نگر میں پیدا ہونے والے اختر علی رحمت نے زمانے کی بے حد سختیاں برداشت کیں اور بہت ہی کٹھن سرد وگرم دیکھے تو کہیں جا کر صہبا بنے۔ وہ کس پائے کے انسان تھے؟ ڈاکٹر ابو الخیر کشفی کہتے ہیں : ”یہ وہ شخصیت ہیں جنہوں نے ساری زندگی کبھی کسی کی غیبت نہیں کی“۔ اِن کے والد رحمت علی رحمت امرتسر کے رہنے والے تھے۔ یہ مانے ہوئے شاعر ، تھیٹر کے ڈرامہ

Read more

لال محمد ( 1933۔ 2009 ) اور بلند اقبال ( 1930۔ 2013 )

1965 کی پاک بھارت جنگ کے دوران ہمارے گھر میں ریڈیو پاکِستان کراچی سے جنگی ترانے اور نغمات بہت شوق سے سُنے جاتے تھے۔ یہ ترانے سُن سُن کر مجھے بھی یاد ہو گئے۔ اِن کو میں بہت شوق سے گاتا تھا۔ اُس زمانے میں ریڈیو پاکستان کراچی سے اِتوار کی صبح بچوں کا پروگرام آیا کرتا تھا۔ جنگ کے اِختتام پر محض میرے شوق کی خاطر میری والدہ مجھے ریڈیو اسٹیشن لے گئیں۔ پروگرام ’ بچوں کی دُنیا‘ کے پروڈیوسر

Read more

کلیمؔ عثمانی: وہ خوش نصیب فلمی شاعر جن کے تقریباً سب ہی گیت مقبول ہوئے

احتشام الہٰی المعروف کلیمؔ عثمانی پاکستانی فلموں کے ایک معروف صاحبِ طرز گیت نگار ہیں۔ پاک بھارت فلمی دنیا میں بعض شعراء کو گیت نگاری کے ساتھ ساتھ مستند غزل کہنے والا بھی مانا جاتا ہے جیسے تنویر ؔ نقوی، ساحرؔ لدھیانوی، سیف الدین سیفؔ، قتیلؔ شفائی، مجروحؔ سلطانپوری، شکیلؔ بدایونی، جانثارؔ اختر وغیرہ۔ ان ناموں میں ایک معتبر نام کلیمؔ عثمانی کا بھی ہے۔ انہوں نے اپنے اوائل فلمی دور میں ہی گیت کے ساتھ غزل میں بھی اپنے

Read more

ایک دِن میں چھ گیت تیار کرنے والے موسیقار بابا جی اے چشتی

فلمی موسیقی کی جب بھی بات کی جا ئے گی وہ غیر منقسم پاک و ہند کی فلموں سے شروع ہوگی۔ پاکستانی موسیقار ناشاد، فیروز نظامی، خواجہ خورشید انور اور رشید عطرے قیامِ پاکستان سے پہلے ہی مستند تھے۔ پاکستان بننے کے بعد یہاں بھی بڑے نامور موسیقار اُبھرے جیسے : ماسٹر عنایت حسین، نثار بزمی، ماسٹر عبداللہ، اے حمید، سگے بھائیوں کی جوڑی سلیم اقبال، حسن لطیف للک، موسیقار جوڑی بخشی وزیر، وزیر افضل، موسیقار جوڑی لال محمد اقبال،

Read more

پاکستان ٹیلی وژن کے پہلے فیملی کامیڈی اداکار، گلوکار اور موسیقار خالد نظامی

پاکستان ٹیلی وژن کراچی مرکز کا میں ہمیشہ مشکور رہوں گا کہ یہاں شعبہ پروگرام میں کام کرنے کے دوران بہت سے فنکاروں سے ملاقات رہی اور کئی ایک کے ساتھ کام کرنے کے مواقع بھی آئے۔ اِن میں ایک بڑا نام خالد نظامی کا ہے۔ میرا ان سے 80 کی دہائی میں بہت زیادہ ملنا جلنا تھا۔ ٹیلی وژن ڈراموں میں ان کا نام منجھے ہوئے کامیڈین میں آتا تھا۔ کراچی اسٹیج میں یہ بہت مقبول تھا۔ اپنے کردار

Read more

فلمی صنعت کے دو اہم نام آغا جی اے گل اور زیڈ اے زلفی

آغا جی اے گل : ( 1913 سے 1983 ) آغا جی اے گل نے 1937 میں محض 24 سال کی عمر میں ایور نیو پکچرز کا ادارہ قائم کیا۔ کسے معلوم تھا کہ 19 سال کے اندر یہ ادارہ فلم اسٹوڈیوز بھی بنا لے گا۔ اسٹوڈیو ز بھی وہ جو 1956 میں ملک کا ایک مثالی نگار خانہ بننے والا تھا۔ قیامِ پاکستان کے موقع پر مغربی پاکستان میں صرف لاہور ہی میں فلم سازی ہو رہی تھی۔ اس وقت

Read more

تمغہ حسنِ کارکردگی اور 13 مرتبہ بہترین گلوکارہ کی نگار ایوارڈ یافتہ گلوکارہ مہناز

1968 اور 69 19 کا زمانہ تھا۔ خاکسار ریڈیوپاکستان کراچی کے موسیقی کے پروگرام ”نئے فنکار ’‘ میں حصّہ لینے تقریباً ہر ہفتہ ریڈیو اسٹیشن جاتا تھا۔ وہاں کئی نامور ہستیوں کی دعائیں لینے کا اعزاز حاصل ہو ا۔ اختر وصی علی صاحب اور اُن کی بیگم کجّن صاحبہ سے ذکر شروع کرتا ہوں۔ یہ دونوں پاکستان منتقل ہونے سے پہلے آل انڈیا ریڈیو سے وابستہ تھے۔ ریڈیو پاکستان کراچی آ کر بہت جلد یہ محض سوز و سلام، مرثیہ

Read more

پاکستانی فلموں کی ایک معتبر ترین شخصیت: عنایت حسین بھٹی

حافظِ قرآن – صوفی منش اور ہر دل عزیز – ریڈیو پاکستان کے پہلے پنجابی ڈرامے میں مرکزی کردار ادا کرنے والے- درد مند دل اور ساری زندگی اپنے محسنوں کو یاد رکھنے والے – بھا گاں والیو نام جپو مولا نام، نام مولا نام – اے مردِ مجاہد جاگ ذرا اب وقتِ شہادت ہے آیا – پاکستان کی پہلی سرائیکی فلم کے فلمساز – واحد پاکستانی مرد جو بیک وقت سُپر اسٹار پلے بیک سنگر اور اداکارتھے – فلمساز، گلوکار، اداکار اور ہدایتکارعنایت حسین بھٹّی

Read more

سِتار نواز، ارینجر، فلم اور ٹیلی وژن موسیقار جاوید اللہ دتّہ

اخبارات، رسائل، ریڈیو اور ٹیلی وژن پر جب کبھی بھی کوئی موسیقی کی بات ہوتی ہے تو تین ہی لوگوں کا تذکرہ آتا ہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ گلوکار، گیت نگار اور موسیقار۔ حقیقت یہ ہے کہ فلم، ریڈیو یاٹیلی وژن ہر جگہ کی موسیقی میوز یشنوں یا سازندوں کے بغیر صفر ہے۔ میوز یشن موسیقی کی لازم اکائی ہے اس کے بغیر دھن لاکھ اچھی ہو، پھیکی ہی رہے گی۔ فلم، ریڈیو، ٹی وی، آرٹس کونسلوں کے موسیقی کے

Read more

گلوکار موسیقار اور مستند شکاری شرافت علی خان ( 16 اگست 1924 سے 17 اپریل 1991 )

جب تیرے شہر سے گزرتا ہوں۔ ۔ ۔ ۔ ۔ سُپر ہٹ فلم ’وعدہ‘ 1957 میں نمائش کے لئے پیش ہوئی جس کے مصنف، فلمساز اور ہدایتکار وحید الدین ضیاء الدین احمد المعروف ڈبلیو زیڈ احمد تھے۔ اِس فلم کو مقبول بنانے میں ایک گیت کا بھی بڑا ہاتھ ہے۔ یہ سدا بہار گیت، شاعر سیف الدین سیفؔ کی نظم ہے جسے موسیقار رشید عطرے کی موسیقی میں گلوکار شرافت علی نے صدا بند کرایا۔ آج 62 سال بعد بھی

Read more

کہاں ہو تم چلے آؤ۔۔۔۔۔ بولتی دھنیں بنانے والے فرحت انگیز موسیقار کریم شہاب الدین

دیکھا نہ تھا کبھی ہم نے یہ سماں ایسا نشہ تیرے پیار نے دیا کھو گئے سپنوں میں ہم تیری یاد آ گئی غم خو شی میں ڈھل گئے اِک چراغ کیا جلا سو چراغ جَل گئے ماضی کے یہ گیت کل بھی مقبول تھے اور آج بھی مقبول ہیں۔ لیکن المیہ یہ ہے کہ اِن گیتوں کے گلوکاروں کے نام تو عوام جانتی ہے لیکن اکثریت کو اِن مقبول ترین نغمات کے خالق، یعنی موسیقار اور شا عر کا

Read more

برِ صغیر کے نامور گیت نگار فیاض ہاشمیؔ پر ایک تحریر

’ یہ راتیں یہ موسم یہ ہنسنا ہنسانا، مجھے بھول جانا انہیں نہ بھلانا‘ ’ تصویر بناتا ہوں تصویر نہیں بنتی‘ ’ چلو اچھا ہوا تم بھول گئے، اک بھول ہی تھا میرا پیار او ساجنا‘ جیسے گیت لکھنے والے طلعت محمود کو طلعت محمود بنانے والے نگار ایوارڈ یافتہ اور فنکاروں کو تراشنے والے فیاضؔ ہاشمی ( 18 اگست 1920 سے 29 نومبر 2011 ) فیاضؔ ہاشمی 18 اگت 1920 کو کلکتہ میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم کلکتہ میں

Read more

تمغہ حسنِ کارکردگی حاصل کرنے والے گلوکار اور موسیقار ایس بی جون

SB John Sunny Benjamin John ” جِس پتھر کو معماروں نے رد کیا، وہی سرے کا پتھر ہو گیا۔ ۔ ۔ ۔ ۔“ خدائے بزرگ و برتر کی عنایات کا جب نزول ہو تو وہ راتوں رات اپنے بندے کو شہرت کے آسمان کا تارہ بنا دیتا ہے۔ فلمی دنیا کے کئی ایک فنکاروں کے ساتھ ایسا ہوا لیکن ان میں سے بعض فنکار فلموں کے حوالے سے غیر فعال ہو گئے۔ ایسی ہی عنایات ایس۔ بی۔ جَون پر بھی

Read more

استاد سلامت حسین بانسری نواز

” میرے والد نظم و نسق میں سخت ضرور رہے لیکن پہلے بھی اور اب بھی بہت پیار کرنے والے ہیں۔ ہمیں یاد ہے کہ بچپن میں اپنے کام اور مصروفیات کے ساتھ ہم سب گھر والوں کو پابندی سے وقت دیتے اور باہر گھمانے پھرانے لے جاتے۔ آج ہمارے والد صاحب کے پاس، اور پھر اُن کے طفیل ہمارے پاس جو بھی ہے وہ میری دادی کی دعاؤں کی بدولت ہے۔ میرے پاپا نے ہماری دادی اور دادا کی

Read more

شام سے پہلے آنا

70 19 کی آخری دہائی میں پاکستان ٹیلی وژن نے گلوکار عالمگیر کو گھر گھر پہنچایا۔ اس مشہوری میں اس کی اپنی محنت، قسمت، اچھی دھنیں، اور دلوں کے تار چھو لینے والے عام فہم گیت بھی کم اہم نہیں۔ ان میں زیادہ تر نغمات محمد ناصرؔ کے لکھے ہوتے تھے۔ کہہ دینا آنکھوں سے سمجھ لینا سانسوں سے کوئی تو رہتا ہے سانسوں میں گلوکار: عالمگیر شاعر: محمد ناصرؔ پاس آ کر کوئی دیکھے تو پتا لگتا ہے دور

Read more