پاکستانی فلمی صنعت کے ہونہار فلم ساز اور ہدایت کار محمد طارق کے ساتھ ایک نشست
داکار محمد علی سمیت اردو اور پنجابی فلموں کے سپر اسٹارز کا بادشاہوں والا انداز ہوتا تھا کہ ہمیں شاہانہ پروٹوکول ملے کوئی ٹوکنے والا نہ ہو۔ میں اس بات کے خلاف تھا۔ پہلے دن میں نے محمد علی صاحب کو مکالمے وغیرہ بتلائے تو کہنے لگے کہ یہ مکالمہ منہ پر نہیں آ رہا اس کو بدل دیں۔ میں نے کہا کہ جناب یہ تو بڑا سوچ سمجھ کے کام کیا گیا ہے۔ پھر آپ تو بڑے اداکار ہیں آپ اسے یاد کر کے منہ پر چڑھائیں۔ یہ کہہ کر لائٹ آف کرا دی۔ ان کو آج تک کسی نے روکا نہیں تھا۔ وہ سناٹے میں آ گئے۔ میں نے کہا کہ میں اس فلم (بگڑی نسلیں 1983) کا فلم ساز بھی ہوں۔ سوچ لیں کہ کام کریں گے یا نہیں۔ پانچ منٹ سوچنے کے بعد کہا کہ میں آپ کے کام میں نہیں بولوں گا۔
Read more


