یہ دیکھنے میں پستول سا تھا۔ گولی اس میں بندوق کی پڑتی ہے اگر کسی کو لگ گئی تو وہ گولی سے مرا نہ مرا اس طمانچی کی شکل دیکھ کر ضرور مر جائے گا۔ ماما نے خان کو ہدایات دیں اور ساتھ اک عدد بھرا ہوا سگریٹ بھی پیش کیا کہ یہ گولی چلانے سے پہلے پینا ہے، تمھیں پرسکون رکھے گا۔
ایک دو دن بعد ماما کا فون آیا کہ جلدی سے ہسپتال پہنچو۔ بھاگم بھاگ ایمرجنسی پہنچا تو ماما اسی تتر بتر خان کو مزید مفلوک الحال صورت میں باہر لا رہا تھا، خان باقاعدہ دیوانوں جیسی باتیں کر رہا تھا۔ ماما نے وہیں سے چرسی تکہ کی جانب جانے کو کہا۔ خان صاحب کی آنکھ پر پٹی بندھی ہوئی تھی اور بڑے ڈیزائن کے ساتھ پستول کی نال بنا کر آنکھ کو نمایاں کرا رکھا تھا مجھے یقین تھا کہ یہ ڈیزائن ماما کی ذاتی دلچسپی سے ہی بنایا گیا ہے۔
ہاتھ پر بھی اک دو سٹکر لگے ہوئے تھے البتہ زیادہ درد اس کو کمر پر ہوتا محسوس ہو رہا تھا کہ بار بار اس جانب ہاتھ لے جا رہا تھا۔ تکے کھاتے ہوئے خان سے پوچھا کہ کیا ہواتھا؟ اس نے کہا یار پتہ نہیں کیا ہوا۔ میں گھر میں بیٹھا اسلحہ چیک کر رہا تھا۔ اس سے پہلے ایک سوٹا لگا چکا تھا۔ بکری بہت ہی میں میں کر رہی تھی۔ بس دماغ گھوم گیا اس پر فائر کیا۔ بہت خوفناک اسلحہ ہے۔ بکری بھی مر گئی اور میں بھی زخمی ہو گیا۔
Read more