آم پھلوں کا بادشاہ کیسے بنا؟

آپ نے اکثر سنا ہو گا کہ آم پھلوں کا بادشاہ ہے۔ حالانکہ پھلوں میں سیب بھِی شامل ہے جس کی مدد سے آپ ڈاکٹروں کو اور دیگر آفت جاں عناصر کو خود سے دور رکھ سکتے ہیں، انگور بھی شامل ہیں جن کے خاندان کی مداحت میں شعرا نے دیوان کے دیوان لکھ ڈالے ہیں، تربوز بھی ہے جن سے آپ گرمیوں کی تپتی دوپہروں میں پہلے نہر میں بے تحاشا واٹر بال کھیل سکتے ہیں، اور پھر اسے دو ٹکڑے کر کے وہیں نہر کنارے بیٹھ کر کھا بھِی سکتے ہیں، اور کھانے کے بعد اس کو ہیلمٹ کی جگہ پہن کر سکون سے ٹھنڈے ٹھنڈے گھر بھی جا سکتے ہیں۔

Read more

کار بکاؤ ہے

ہم سے پہلےبھی کوئی صاحب گزرے ہیں جنہوں نے بیٹھے بٹھائے بکری پال لی تھی اور پھر عمر بھر اس کے زانو پر سر رکھ کرمنمناتے رہتے تھے۔ ہمیں غیب سے یہ سوجھی کہ اتفاق سے ولایت جارہے ہیں، کیوں نہ وہاں سے نئی کارلائی جائے؟ یعنی کیوں نہ جانے سے پہلے پرانی کار بیچ دی جائے؟ اور یہ سوچنا تھا کہ جملہ اندیشۂ شہر کو لپیٹ کرایک کونے میں رکھ دیا اور کار بیچنا شروع کردی۔ بوٹی بوٹی کرکے نہیں، سالم۔

Read more

استاد عمل خان کا سماج سدھار اسلحہ اور عشق محبت

یہ دیکھنے میں پستول سا تھا۔ گولی اس میں بندوق کی پڑتی ہے اگر کسی کو لگ گئی تو وہ گولی سے مرا نہ مرا اس طمانچی کی شکل دیکھ کر ضرور مر جائے گا۔ ماما نے خان کو ہدایات دیں اور ساتھ اک عدد بھرا ہوا سگریٹ بھی پیش کیا کہ یہ گولی چلانے سے پہلے پینا ہے، تمھیں پرسکون رکھے گا۔

ایک دو دن بعد ماما کا فون آیا کہ جلدی سے ہسپتال پہنچو۔ بھاگم بھاگ ایمرجنسی پہنچا تو ماما اسی تتر بتر خان کو مزید مفلوک الحال صورت میں باہر لا رہا تھا، خان باقاعدہ دیوانوں جیسی باتیں کر رہا تھا۔ ماما نے وہیں سے چرسی تکہ کی جانب جانے کو کہا۔ خان صاحب کی آنکھ پر پٹی بندھی ہوئی تھی اور بڑے ڈیزائن کے ساتھ پستول کی نال بنا کر آنکھ کو نمایاں کرا رکھا تھا مجھے یقین تھا کہ یہ ڈیزائن ماما کی ذاتی دلچسپی سے ہی بنایا گیا ہے۔

ہاتھ پر بھی اک دو سٹکر لگے ہوئے تھے البتہ زیادہ درد اس کو کمر پر ہوتا محسوس ہو رہا تھا کہ بار بار اس جانب ہاتھ لے جا رہا تھا۔ تکے کھاتے ہوئے خان سے پوچھا کہ کیا ہواتھا؟ اس نے کہا یار پتہ نہیں کیا ہوا۔ میں گھر میں بیٹھا اسلحہ چیک کر رہا تھا۔ اس سے پہلے ایک سوٹا لگا چکا تھا۔ بکری بہت ہی میں میں کر رہی تھی۔ بس دماغ گھوم گیا اس پر فائر کیا۔ بہت خوفناک اسلحہ ہے۔ بکری بھی مر گئی اور میں بھی زخمی ہو گیا۔

Read more

کہانی کھوتوں سے وطن کی خدمت لینے کی

میری بطور جوہری تربیت ہو رہی تھی۔ فرم کا امریکی مالک مجھے گھنٹوں اپنے پاس بٹھائے رکھتا اور مجھے قیمتی پتھروں بارے بتایا کرتا۔ کچھ سمجھ آتا اور زیادہ تر نہیں آتا تھا۔ اس دوران مالک کی بیوی نے ایک دن مجھے کچھ پھول تحفہ دیے۔ آدھے گھنٹے میں ہی جب میں آخری پھول کھا رہا تھا تو پکڑا گیا۔غم غصہ اکٹھے ہو تو کیسا ہوتا اسی دن شاید پتہ لگا تھا۔ وہ سامنے بیٹھ کر کئی منٹ مجھے گھورتی رہی۔ اس نے پوچھا بھی تو بس اتنا کہ ’آر یو گوٹ اور وٹ؟ ‘ یعنی مجھ پر بکری یا بکرا ہونے کا شبہ کر رہی تھی۔ میں نے اس کو ایک پھول پیش کیا اور کہا ’مائی کھا کر دیکھ‘۔ آخری آدھا پھول پھر اسی نے کھایا۔یہ سارا سین جس یار نے دیکھا تھا اس نے سارے دفتر میں یہ قصہ سنا دیا میں نے اسی کارکردگی کی وجہ سے اس کا نام بھیڈو رکھ دیا۔ وہ فرانس جا چکا ہے لیکن آج تک بھیڈو ہی کہلاتا ہے۔ ہم جب بھی ملیں اکیلے ہوں تو بھیڈو کی جانب ہاتھ کروں تو وہ کسی چھترے یا بکرے کی طرح اس پر ٹکر مارتا ہے۔ اس نے نام ہی نہیں قبول کیا اس میں بھیڈو کی صلاحیتیں بھی پیدا ہو گئی ہیں۔

Read more

سی آئی اے نے اسامہ بن لادن پر نائن الیون میں شمولیت کا غلط الزام لگانے پر معافی مانگ لی: دی اونین

مقبول عام امریکی جریدے دی اونین کی رپورٹ کے مطابق سی آئی اے نے نئی شہادتوں کے منظر عام پر آنے کے بعد کہ اسامہ بن لادن کا نائن الیون کی دہشت گردی میں کوئی ہاتھ نہیں تھا، بعد از مرگ معافی مانگ لی ہے۔

سی آئی اے کی ڈائریکٹر جینا ہاسپل نے یہ تسلیم کیا ہے کہ ان کے ادارے نے ایک غیر معمولی طور پر بڑی ٹریجیڈی کے باعث جلدبازی سے کام لیتے ہوئے غلط فیصلہ کیا تھا۔ انہوں نے بدھ کے دن اسامہ بن لادن کی فیملی سے معافی مانگی ہے کیونکہ نئی شہادتوں نے القاعدہ کے سابق چیف کے بارے میں یہ واضح کر دیا ہے کہ وہ نائن الیون کے حملوں میں کسی طرح ملوث تھے۔

Read more

نیو جرسی اور پرانی قمیص

یہ سترہ سال پہلے موسم خزاں کی ایک اداس شام تھی۔ زمان پارک لاہور کے ایک گھر میں ویرانی کا ڈیرہ تھا۔ ڈرائنگ روم میں تین افراد سر جھکائے سوچوں میں گم تھے۔ ان میں سے ایک وجیہہ و شکیل شخص نے گردن اٹھائی اور یوں گویا ہوا، ”سب کچھ ختم ہوگیا۔ نہ خدا ہی ملا نہ وصالِ صنم۔ جب تک میں زندہ ہوں تب تک تو یہ کام چلتا رہے گا لیکن اس کے بعد کیا ہوگا؟ کون اس کام کو چلائے گا؟ کیسے چلائے گا؟ کیا میری محنت اور جدوجہد میری زندگی کے ساتھ ہی ختم ہوجائے گی؟ کچھ سمجھ میں نہیں آرہا۔ “

Read more

کیا پاکستان میں سیاسی طنزنگاری کے نام پر ’بازاری مزاح نگاری‘ ہو رہی ہے؟

پاکستانی ٹیلیویژن اسکرینوں پر روزانہ شام کو سیاست پر مبنی مزاحیہ پروگرام نشر ہوتے ہیں۔ حسب حال، خبرناک، خبردار، خبرزار اور ایسے ہی بہت سے پروگرام تقریباً ہر ٹیلی وژن چینل سے نشر کئے جاتے ہیں جن میں سہیل احمد، امانت چن، امان اللہ، افتخار ٹھاکر، ناصر چنیوٹی، آغا ماجد اور ہنی البیلا جسے سٹیج اور ٹی وی کے مشہور مزاحیہ فنکار نظر آتے ہیں۔

ان ٹی وی پروگراموں پر وقتاً فوقتاً نسل پرستی، جسمانی عیوب اور جنسی شناخت پر مبنی جملوں کے ذریعے مزاح نگاری کرنے کا الزام لگتا رہتا ہے۔

Read more

غیر شادی شدہ بھتیجی اور بھانجی سے پیار کرنے والی آنٹی کے نام

پیاری   آنٹی! امید ہے کہ آپ اپنی شادی شدہ زندگی سے بھر پور لطف اٹھا رہی ہوگی اور اپنے گھرمیں اپنے شوہر اور بچوں کے ساتھ خوش و خرم رہ رہی ہوں گی۔ مجھے  ایک  سنگین مسئلہ درپیش ہے جس کی وجہ سے آج میں آپ کو یہ خط  لکھ رہی ہوں ۔وہ مسئلہ آپ کی مجھ سے بے تحاشہ محبت ہے جو ہر روز بڑھتی ہی چلی جا رہی ہے۔ اگر میں یہ کہوں کہ آپ اپنے شوہر اور

Read more

جنت سے احمد فراز کا انور مقصود کے نام خط

انور! تم سے ملے بغیر اوپر آگیا۔ استقبال کرنے کے لئے فیض اور جون ایلیا آئے۔ جون کو دیکھ کر مجھے حیرت ہوئی۔ کیوںکہ جون نے تو مجھے زمین پر ہی شاعر نہیں مانا تھا۔ فیض صاحب نے کہا "فراز، یہاں چھوٹا بڑا کوئی نہیں ہے۔ سب برابر ہیں۔ مغرب کے بعد تمہیں مرزا غالب نے بلایا ہے۔ رات کا کھانا علامہ اقبال کے ہاں ہے۔” میں نے کہا "فیض صاحب! مرزا غالب نے مغرب کے بعد کیوں بلایا ہے؟”

Read more

کھیتی باڑی یونیورسٹی کے سربراہ پروفیسر زراعت اقدس

میں کھیتی باڑی یونیورسٹی کا سربراہ جناب پروفیسر زراعت اقدس ہوں۔ میں بہت اہم آدمی ہوں۔ پاکستان ایک زرعی ملک ہے۔ ہماری معیشت، خوراک اور ٹیکس چوری کا انحصار زراعت پر ہے۔ زراعت ترقی کرے گی تو ملک ترقی کرے گا اور زراعت ترقی نہیں کرے گی تو ٹیکس چوری کے علاوہ سب کچھ ہی بیٹھ جائے گا۔ شعبہ زراعت کی اہمیت کھیتی باڑی یونیورسٹی کو مقدس بناتی ہے اور میں کھیتی باڑی یونیورسٹی کا سربراہ ہوں اس لیے سارے

Read more

کرنل صاحب کا انصاف

لفٹننٹ کرنل پیٹرسن عباسیہ کیمپ کے کمان افسر تھے۔ آپ کی سیرت کے کئی درخشاں پہلو تھے لیکن جس پہلو سے ہم ماتحتوں کا واسطہ تھا یعنی آپ کا مزاج، وہ اتنا درخشاں نہ تھا جتنا آتش فشاں تھا۔ نتیجتہً ہمیں جرمنوں کے علاوہ اپنے کرنل صاحب سے بھی جنگ یا خانہ جنگی کا سامنا تھا۔ آپ ادھیڑ عمر اور درمیانے قد کے خوبرو سے آدمی تھے۔ ملاقات پر ابتدائی کلمات میں ایسی شرافت و حلاوت کا اظہار کرتے کہ

Read more

ایک لفافہ بلاگر کی دکھ بیتی!

پتہ نہیں ان مذمتی بلاگوں کی آمد سے میری جان اور پڑھنے سے آپ کی جان کب چھٹے گی۔ اہل کرم کا تماشا نہیں مکنا اور نہ ہمارے لوح و قلم کی پرورش۔ بہت سوچا تھا کہ آج کچھ پکوڑوں کے فوائد پر لکھیں گے کہ روزوں کے ساتھ وہ بھی تو فرض کئے گئے ہیں۔ لیکن معاف کیجئے گا آج پھر رونا دھونا ہی چلے گا۔ کوئی نئی بات نہیں ہو گی بلکہ پچھلے دنوں کے مسئلے مسائل کو

Read more

ہیری میاں کا ولیمہ اور ٹیکس کا جنازہ

شادی کا کھانا تمام پاکستانیوں کا پسندیدہ کھانا ہے اور ”روٹی کھل گئی“ ہمارا قومی نعرہ جو ایسا ولولہ بیدار کرتا ہے جو شاید  مادام نور جہاں کی آواز میں پینسٹھ کی جنگ کے ترانے بھی نہ کر پائیں۔ ہر مرد و زن، بچہ بوڑھا اس للکار پر لبیک کہتے ہوئے ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کے چکر میں ہوتا ہے۔ ہمارا یہ قومی مزاج دیکھتے ہوئے یہ کہنا بھی قرین از قیاس ہے کہ ہمیں دعوت افطاری کی طرح

Read more

موبائل فون اور محو آئینہ داری محترمہ

ہمارے آگے جانے والی کار کسی مخمور سانپ کی طرح بل کھاتی جا رہی تھی۔ دائیں بائیں لہراتی اعلیٰ نسبی موٹر کار کی رفتار اتنی کم تھی کہ اس کے سامنے سڑک خالی تھی جبکہ پیچھے چیختی چنگھاڑتی گاڑیوں کی لائن لگی ہوئی تھی۔ کسی ہارن یا لائٹ کا صاحب کار پر کوئی اثر نہیں ہو رہا تھا۔ کراس کرنا اس لیے ممکن نہیں تھا کہ سڑک تنگ تھی ۔ اس گاڑی کی سرمست چال کی بنا پر ایسی کوئی

Read more

صیہونی سازش اور اہل ایمان کا روحانی دفاع

یہ لاہور کے مضافات میں واقع قلعہ نما محلاّت کے ایک کمرے کا منظر ہے۔ سنہری رنگ کے مرکزی صوفے پر سابق وزیر اعظم بیٹھے ہیں اور ان کے دائیں بائیں اور سامنے کے صوفوں پر مریم نواز، رانا ثناءاللہ، کیپٹن صفدر، سعد رفیق، خواجہ آصف، شہباز شریف اور پرویز رشید براجمان ہیں۔ ویڈیو لنک پر اسحاق ڈار بھی اس ملاقات میں شریک ہیں۔ نواز شریف کے چہرے پر مایوسی، افسردگی اور پریشانی واضح ہے۔ سینٹر ٹیبل پر خورونوش کی

Read more

فلم مائی کا لال سنسر ہوتی ہے

پچھلے دنوں فلم سنسر بورڈ نیا نیا بنا ہے اور اچھا بنا ہے۔ اس میں کچھ علما بھی شامل ہیں جن کو ویسے کبھی فلم دیکھنے کا اتفاق نہیں ہوتا۔ چنانچہ وہ پہلی بار یہ دیکھ کر حیران بھی ہوئے کہ تصویریں بھی چلتی پھرتی اور بولتی ہیں۔ آخر ہمارے ملک میں ایک بڑی آبادی ہے جو فلم نہیں دیکھتی، ان کی نمائندگی بھی ضروری تھی۔ پھر بہت سے لوگ ایسے ہیں جو فلم دیکھتے ہیں لیکن اس کی سمجھ

Read more

آؤ مشاعرہ کریں

شاعر و صحافی چراغ حسن حسرت نے 1904ء کو بارہ مولا میں ایک کشمیر گھرانے میں جنم لیا۔ سند باد جہازی، کوچہ گرد، اور کولمبس کے قلمی نام سے لکھا۔ ان کے لیے کہا جاتا ہے کہ وہ محاورہ اہل زبان کے معاملے میں خاصے قدامت پسند تھے۔ وہ روز مرہ اور تذکیر و تانیث وغیرہ میں لکھنو کی زبان کا تتبع کرتے تھے۔ دہلی کے مخصوص محاورات ان کی تحریروں میں نہ ہونے کے برابر ہیں۔ 1955ء، لاہور؛ محض

Read more

پاکستان میں تو ایسا نہیں ہوتا

اس بنک کی کہانی زمانے سے جدا ہے، جس برانچ میں میرا اکاونٹ ہے۔ واقعہ یوں ہے کہ بنک انتظامیہ نے بنک کی حفاظت کا ٹھیکا، ایک نجی سیکورٹی ادارے کو سونپ رکھا ہے۔ اس سیکورٹی ادارے کا اہل کار بڑا اکھڑ مزاج ہے۔ اس کا دل چاہتا ہے تو وہ کسی کلائنٹ کو بنک میں داخل ہونے کی اجازت دیتا ہے، اس کی مرضی نہ ہو، تو کسٹمر کو دروازے ہی سے لوٹا دینے کا حکم لگاتا ہے۔ نتیجہ

Read more

عربن سے عشق اور ہکا بکا یار دلدار

اُن دنوں ایک اسائنمنٹ تھی، مزاروں پر گھومتا پھر رہا تھا۔ ملنگوں سے باتیں کرتا، ان کی سنتا تھا وہ زندگی کو کیا سمجھتے ہیں کیسے دیکھتے ہیں۔ شام ہونے کو آتی تو ڈیرے پر پہنچ جاتا کہ نانا کے بے قابو ہو جانے کا اندیشہ رہتا تھا۔ مجھے تو خیر انہوں نے کیا کہنا تھا سارے گھر کی شامت آ جایا کرتی تھے کہ اس کو ڈھونڈ کر لاؤ کدھر چلا گیا، ابھی تک آیا کیوں نہیں۔ پنڈ میں

Read more

عورتیں چلغوزے ہیں اور مرد اخروٹ

ایک گورے نے 1992 میں کتاب لکھ ڈالی تھی کہ ’مین آر فرام مارس، ویمن آر فرام وینس‘ تو دنیا بھر میں تہلکہ مچ گیا کہ صاحب بڑا کارنامہ کیا ہے۔ ان کے کہنے کا مطلب یہ تھا کہ عورتیں خوبصورت ہوتی ہیں اور بندے۔ یعنی بندے اتنے خوبصورت نہیں ہوتے۔ یا ممکن ہے کہ یہ کہنا چاہتے ہوں کہ دونوں کے دماغ میں فرق ہوتا ہے اور وہ الگ الگ انداز سے سوچتے ہیں۔ آج ادھر پاکستان سے بھی

Read more