زاہد نگاہ کم سے کسی رند کو نہ دیکھ

ایک دن میں میجر صاحب کے ساتھ ان کے گھر کے لان میں بیٹھا ہوا تھا ان کے ایک دوست میجر اقبال بھی موجود تھے۔ سردیوں کے موسم میں دھوپ کا مزہ لیتے ہوئے ہلکی پھلکی گپ شپ لگا رہے تھے کہ دروازے کی گھنٹی بجی میں نے اٹھ کر گیٹ کھولا تو باہر ایک مفلوک الحال سے شخص کو موجود پایا۔ استفسار پر اس نے بتایا کہ اس کا نام منگا مسیح ہے اور وہ سیالکوٹ سے میجر صاحب

Read more

اب اتنی سادگی لائیں کہاں سے

ایک دن سکول میں حافظ عبیدالرحمٰن صاحب ملے اور مجھ سے دریافت کیا کہ ڈاکٹر کا رشتہ طے ہو گیا ہے۔ میرے انکار پر بولے کہ عظیم آباد میں چوہدری عبدالغفور کی بیٹی بھی ڈاکٹر ہے۔ وہاں دیکھ لو۔ نہایت بھلے انسان ہیں۔ گھر آ کر لوکل ڈائریکٹری سے چوہدری صاحب کا نمبر لے کر انہیں فون کیا اور حافظ صاحب کے ریفرنس سے آنے کی اجازت طلب کی۔ انہوں نے بتایا کہ بیٹی بھی آج کل آئی ہوئی ہے۔

Read more

داناؤں کی بات نہ مانی کام آئی نادانی ہی

ہماری سب کاسٹ جھمے چنڈور ہے۔ جب بھی کوئی آدمی الٹا سیدھا کام کرتا تو اسے عموماً  جھما ہونے کا طعنہ دیا جاتا۔ اس سلسلے میں کچھ قصے کہانیاں ہمارے جھما قبیلے میں زبان زد عام تھے۔ جھموں کا ایک بڑا بابا نورا اپنے گھر کے باہر کھڑا تھا کہ ایک فضلو نامی آدمی پاس سے گزرا۔ اس نے ایک ان بنی چارپائی اٹھائی ہوئی تھی اور ساتھ ہی چارپائی بننے کے لیے اس کا بان بھی اٹھایا ہوا تھا۔

Read more

ہمارے بھی ہیں مہرباں کیسے کیسے

ہمیں شہر میں منتقل ہوئے تین چار ماہ کا عرصہ گزرا تھا کہ قدرت نے ہمیں بیٹے کی ان مول نعمت سے نواز دیا۔ تم شادی کے تقریباً ایک سال بعد امید سے ہوئی تھیں اور اس ایک سال کا عرصہ تم پر بہت ہی بھاری گزرا بلکہ آخر میں تو اس بھاری پن کا احساس مجھے بھی ہونا شروع ہو گیا تھا۔ حالاں کہ پریگنینسی میں سال دو سال کی تاخیر ہو جانا تو کوئی ایسی بھی غیر معمولی

Read more

 تو میرا شوق دیکھ میرا انتظار دیکھ

تمہاری سنگت کے بغیر ایک اور سال گزر گیا۔ بیتے ہوئے سالوں کی سنہری اور خوب صورت یادوں کا ایک ہجوم ہے۔ جو ساون کے بادلوں کی طرح سبق روی سے قلب و روح کے دریچوں سے گزرتا چلا جا رہا ہے۔ تمہارے ساتھ گزارے ہوئے سینتیس سال چار ماہ اور اکیس دن کا طویل عرصہ یوں لگتا ہے۔ جیسے پلک جھپکتے ہی گزر گیا ہو۔ پتہ ہی نہیں چلا کہ تم کب میرے پاس آئیں اور کب رخصت بھی

Read more

ذمہ داریوں میں اضافہ

ایک دن میں سکول سے گھر پہنچا تو دیکھا کہ ابا جی ہاتھ میں فیتا لیے میجر صاحب کے گھر کے ساتھ پڑی ہوئی خالی جگہ کی پیمائش کر رہے تھے۔ استفسار پر بتایا کہ تمہارے لیے یہاں پر ایک چھوٹا سا گھر بنوا کر دے رہا ہوں۔ مجھے ان کی اس بات سے شرمندگی ہوئی کیونکہ اس کا پس منظر مجھے معلوم تھا۔ ان دنوں تم گاؤں میں رہا کرتی تھیں اور میں ہفتے میں ایک بار چھٹی کا

Read more

گاؤں میں چھتوں کی دنیا

شادی کے بعد ہم لوگ تقریباً ڈیڑھ سال کا عرصہ گاؤں میں بقیہ خاندان کے ساتھ اپنے آبائی گھر میں رہتے رہے۔ یہ وہ زمانہ تھا جب ڈبل بیڈ اور اٹیچڈ باتھ روم کا رواج گاؤں میں تو کیا ہمارے تو شہر میں بھی نہیں تھا۔ سارا شہر ایک ہی طرز کے نقشہ کے مطابق بنائے گئے بلاکس پر مشتمل تھا۔ یکساں سائز کے ان رہائشی پلاٹوں پر تقریباً ایک ہی طرز کے گھر تعمیر کیے گئے تھے۔ گلی کے

Read more

ماحول میں تفاوت

تم اپنے والدین کی پہلی اولاد تھیں اور شادی کے دس سال بعد ڈھیر ساری دعاؤں۔ منتوں اور چڑھاووں کے بعد پیدا ہوئی تھیں۔ اس لیے تم پورے خاندان کی آنکھوں کا تارا تھیں۔ سرخ و سپید خوبصورت رنگت گھنگھریالے بال اور خصوصی رنگت کی پرکشش اور ستاروں کی طرح چمکتی ہوئی آنکھیں جو کبھی نیلی محسوس ہوتیں اور کبھی ہلکی سبز۔ بلکہ بعض اوقات تو ان کی رنگت بلی کی آنکھوں کی رنگت جیسی بھی محسوس ہوتی۔ تم تقریباً

Read more

زنگ خوردہ زنجیر عدل

میں پچھلے دنوں آسٹریلیا میں تھا۔ وہاں پر ایک منسٹر کا بیٹا جو کہ ٹرک ڈرائیور تھا اس نے ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کی تو ٹریفک کے محکمے نے اس کا ڈرائیونگ لائسنس منسوخ کر دیا۔ اس کے والد نے اپنے آفیشل لیٹر پیڈ پر ٹریفک وارڈن کو اپنی طرف سے ایک خط لکھا جس میں بتایا گیا تھا کہ اس کا بیٹا اپنے بیوی بچوں کا واحد کفیل ہے۔ وہاں عام طور پر میاں بیوی دونوں ہی کام

Read more

حیات قائد کے گمنام گوشے

قائد اعظم محمد علی جناح کے دادا کا نام پونجا تھا۔ جو بمبئی پریذیڈنسی کے علاقہ کاٹھیاواڑ کی ایک ریاست گونڈل کے ایک چھوٹے سے گاؤں میں رہائش پذیر تھے۔ جس کا نام پنیلی تھا۔ یہ ان کا جدی پشتی گاؤں تھا۔ یہیں پر ان کے آبا و اجداد کی ہڈیاں دفن تھیں۔ اس گاؤں کی آبادی تقریباً ایک ہزار نفوس سے بھی کم تھی۔ گاؤں کے باسیوں کی اکثریت زراعت پیشہ تھی۔ لیکن پونجا کا شمار گاؤں کے ان

Read more

سقوط ڈھاکہ کا سیاہ باب

وطن عزیز کی تاریخ میں 16 دسمبر 1971ء کا دن ذلت اور رسوائی کے ایک ایسے داغ کی حیثیت رکھتا ہے جس کو شاید کبھی بھی مٹایا نہ جا سکے۔ یہ وہ دن تھا جب ہمارے وطن عزیز کا ایک بازو ہماری کوتاہیوں اور دشمن کی ریشہ دوانیوں سے کاٹ کر ہم سے علیحدہ کر دیا گیا۔ آئیے ہم ماضی کے جھروکوں میں جھانکتے ہوئے اس المیے کے اسباب و علل کا ایک جائزہ لیتے ہیں۔ پاکستان کی پہلی دستور

Read more

سوچ کا فرق

ضلع کے تمام ہائی سکولوں اور ہائر سیکنڈری سکولوں کے سربراہان کی ماہانہ میٹنگ تھی۔ کارروائی کے رسمی آغاز کے بعد ضلع کے فنانس افسر سٹیج پر تشریف لائے جو ہمارے ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ سے ہی گئے ہوئے تھے۔ انہوں نے سٹیج پر آتے ہی حاضرین کو بتایا کہ ضلعی افسران کے پاس موجود پرانی جیپوں کو بیچ کر ان کو جی ایل آئی دی جا رہی ہے اور تحصیلی سطح پر کام کرنے والے افسران کے لیے سوزوکی کلٹس اور

Read more

گاؤں کا پنچایتی نظام

گاؤں کے چوک میں ایک کنواں تھا۔ صبح شام کنویں کے رہٹ میں بیل جوت کر پانی نکا لا جاتا یہیں پر ایک حوض بنا ہوا تھا۔ جیسے پانی سے بھر دیا جاتا اور گاؤں کے لوگ یہاں سے اپنے ڈھور ڈنگروں کو پانی پلاتے اور نہلا بھی لیتے۔ لوگوں کے نہانے کے لیے بھی یہاں غسل خانے موجود تھے۔ اور رہٹ کی مدد سے نکالے گئے پانی کی ڈائریکٹ سپلائی یہاں پر موجود تھی۔ لوگ ان غسل خانوں میں

Read more

جنات سے ملاقات

ایک رات کھانے کے بعد ہم لوگ گاؤں سے باہر آئے تو دور بہت دور ایک چھوٹا سا روشن دیا دکھائی دیا۔ وہ کبھی چلتا اور کبھی بجھ جاتا۔ جلنے اور بجھنے کے عمل ایک تسلسل سے جاری تھے۔ مجھے میرے دوستوں نے بتایا کہ یہاں پر چڑیلیں موجود ہیں۔ دیے کا بار بار جلنا اور بجھنا ان کی موجودگی کی علامت ہے۔ اتنی دیر میں میری نظر سکول کی طرف اٹھی۔ وہاں پر موجود درخت تیز روشنی میں نہائے

Read more

دیہی ثقافت میں خواتین کے مسائل

قبرستان گاؤں کے قریب ہی تھا۔ رات کو یہاں سے گزرنے والے افراد کے ساتھ بھوت پریت یا کسی غیر مرئی مخلوق سے ملاقات معمول کی بات تھی۔ کبھی کوئی چڑیل قبر سے مردہ نکال کر اس کی ہڈیاں چبا رہی ہوتی تو کبھی آگ کے الاؤ کے گرد بھوت اپنے بیوی بچوں سمیت محو رقص ہوتے۔ کبھی وہاں پر اسی مخلوق کی شادی کی تقریب جاری ہوتی اور کبھی ہاتھی گھوڑوں پر سوار فوجیں جنگ و جدل میں مصروف

Read more

جہالت اور جنات کا چولی دامن کا ساتھ

ہمارے گاؤں میں لوگوں کی زندگی بہت سادہ اور سست رو تھی۔ پنجابی فلموں میں دکھائے جانے والے روایتی اور ظالم جاگیر دار کا کہیں دور دور تک نام و نشان بھی نہیں تھا۔ زیادہ تر لوگوں کی اپنی ذاتی تھوڑی تھوڑی زمینیں تھیں۔ سارا خاندان زمینوں پر مل جل کر کام کرتا اور اپنی روزی روٹی کا بندوبست کرتا۔ دیوان صاحب کی ہمسائیگی کی وجہ سے یہاں بھی نت نئی کہانیاں گردش کیا کرتی تھیں۔ موگے کے قریب ایک

Read more

اقبال کا فلسفہ خودی اور مرد مومن

برصغیر پاک و ہند میں جب چاروں طرف غلامی کی تاریکیاں چھانے لگیں، جب رگوں میں زندگی کا خون منجمد ہونے لگا، جب حوصلوں کی چمک ماند پڑنے لگی، آزادی کا تصور رکھنا بھی بغاوت سے تعبیر کیا جانے لگا اور زندگی مردہ دلی بن کر رہ گئی تو فکری بے حسی اور ذہنی پسماندگی کے اس ظلمت کدے میں علامہ اقبال کی شخصیت امید کی روشن کرن کی حیثیت سے نمودار ہوئی۔ آپ سمجھتے تھے کہ آزادی کی نعمت

Read more

کشتی، پہلوانی اور لٹھ بازی

ہر سال دیسی مہینے اساڑھ 25، 26 اور 27 تاریخ کو بابا جی کا سالانہ عرس ہوا کرتا۔ اس میں پنجاب بھر سے تھیٹر، چڑیا گھر، عجائب گھر، سینما، مداری، شعبدہ باز، جادوگر اور دیگر فنکار آتے اور اپنے اپنے فن کا مظاہرہ کر کے اپنے لیے روزی روٹی اور حاضرین کے لیے تفریح طبع کا سامان مہیا کرتے اُن دنوں عالم لوہار، عنایت حسین بھٹی اور استاد گامن کے تھیٹر خصوصی شہرت رکھتے تھے۔ ان تھیٹر کے سامنے پلے

Read more

( 7 ) لنگر خانے میں آسمانی حور

بابا جی کے عقیدت مند اور مریدین پورے پاکستان میں پھیلے ہوئے ہیں۔ لوگ دور دراز کے علاقوں سے آتے۔ اور اپنی حاجتیں اور مرادیں پانے کے لیے یہاں نوراتے کاٹتے۔ نوراتوں کے قیام کے دوران یہ مریدین ننگے پاؤں ہی چلتے پھرتے۔ پاؤں میں جوتا پہننے کی ممانعت ہے۔ بابا جی کے لنگر سے کھانا کھاتے۔ اور سارا دن دربار میں حاضری کی حالت میں رہتے۔ عورتیں عام طور پر دربار میں جھاڑو پوچا کرتیں۔ اور مرد بھی حسب

Read more

آسٹریلیا میں اسلامی تعلیمات کی ترویج

اسلام ایک آفاقی مذہب ہے اور اس کی تعلیمات تمام بنی نوع انسان کے لیے ہیں۔ قرآن مجید جو ہماری مذہبی کتاب ہے۔ اس میں ان تعلیمات کا جگہ جگہ تذکرہ موجود ہے۔ قرآن مجید فرقان حمید کا انداز بیان خطیبانہ ہے۔ خالق کائنات جب بھی مخاطب ہوتے ہیں۔ تو عمومی طور پر یا ایھا الذین (اے لوگو) کہہ کر خطاب کرتے ہیں۔ کہیں بھی یا ایھا المسلمین کہ کر خطاب نہیں کیا گیا۔ اس کے علاوہ وہ رب العالمین

Read more

آسٹریلیا میں معاشرتی طرز زندگی

آسڑیلیا ایک ایسا ملک ہے۔ جس میں دنیا جہان میں موجود تمام رنگ و نسل اور مذاہب و عقائد کے لوگ موجود ہیں۔ بلکہ یہاں کرہ ارض پر موجود تمام نسلوں کے مجموعے سے بھی کہیں زیادہ نسلیں موجود ہیں۔ کیوں کہ یہاں پر موجود تمام رنگ و نسل کے لوگوں کے باہمی اختلاط سے نت نئی مخلوط نسلیں وجود میں آ رہی ہیں۔ یہاں کے باشندوں کے رسم و رواج مختلف ثقافت مختلف، مذاہب مختلف، زبانیں مختلف، رنگ مختلف

Read more

آسڑیلوی تہذیب دنیا کی قدیم ترین تہذیب (2)

برطانوی نو آبادیوں میں بھیجے جانے والے زیادہ تر مجرم مرد تھے۔ اگرچہ ان میں کچھ ایسے بھی تھے۔ جنہیں قتل جیسے سنگین جرائم میں سزائیں دی گئی تھیں۔ تا ہم اکثریت کو چھوٹے موٹے جرائم میں سزائیں دی گئیں تھیں۔ یوں لگتا ہے کہ اس کا واحد مقصد انہیں مجرم قرار دے کر آبادکاروں کی شکل میں مختلف نوآبادیوں میں منتقل کرنا تھا۔ مثلاً کچھ کو کسی تالاب یا دریا سے کوئی چیز چوری کرنے کی سزا ملی تھی۔

Read more

آسٹریلوی تہذیب دنیا کی قدیم ترین تہذیب

براعظم آسٹریلیا کو دنیا کے دیگر براعظموں اور ملکوں کے مقابلے میں غیر معمولی حیثیت حاصل ہے۔ آسٹریلیا دنیا کا سب سے چھوٹا براعظم ہونے کے باوجود دنیا کا چھٹا بڑا ملک شمار کیا جاتا ہے۔ مگر اس کی دنیا کے کسی بھی ملک سے سرحدیں نہیں ملتیں۔ اس کی ساحلی پٹی انسٹھ ہزار چھ سو اکیاسی کلومیٹر ( 59681 ) پر محیط ہے۔ یہاں کا سب سے بڑا دریا میوری (Murray) دو ہزار تین سو پچھتر کلومیٹر اور سب

Read more

میرا قلم میرے رختِ سفرمیں رہتا ہے

میرا آسٹریلیا کا ایک سال کا وزٹ ویزا لگ چکا تھا۔ یکم ستمبر سے پہلے پہلے میں نے آسٹریلیا میں انٹری دینا تھی۔ ایک تو میں اپنے مزاج اور معمول کے مطابق اس مسئلے کو لٹکائے جا رہا تھا اور دوسرے میرے ذہن کے کسی گوشے میں یہ خدشات بھی موجود تھے۔ کہ کسی بھی دعوت کی فوری قبولیت سے انسان ہلکا پڑ جاتا ہے۔ اس کے رعب اور شان میں فرق آ جاتا ہے۔ اور تیسرے حکومت آسٹریلیا کو

Read more

قصہ حصول ویزہ برائے دولت مشترکہ آسٹریلیا

جب میں نے آسٹریلیا جانے پر رضا مندی کا اظہار کیا تو بچے بہت خوش ہوئے۔ اور تیمور نے میرے کاغذات وغیرہ منگوا کر جھٹ پٹ ویزے کے لیے آسٹریلین کونسلیٹ میں درخواست گزار دی۔ ایسا لگتا تھا کہ آسٹریلوی حکومت کو میری ذات میں پوشیدہ صلاحیتوں کا بخوبی ادراک ہو چکا ہے۔ جن سے میں بقلم خود، جملہ احباب، رشتہ داروں، واقف کاران اور حتیٰ کہ اہل خانہ بھی قطعاً نابلد تھے۔ کیوں کہ دو ہفتوں کے بعد ہی

Read more

مکلاوے کی رسم قبیح کا خاتمہ

کسی بھی معاشرے میں رسم و رواج کا تعلق اس معاشرے کے رہن سہن، تہذیب و تمدن اور ثقافت پر ہوتا ہے مذہب پر نہیں۔ مکلاوا بھی ایک ایسی ہی علاقائی رسم ہے جو مختلف قبیلوں اور خاندانوں میں تو موجود ہے لیکن اکثریت میں اس کا وجود عنقا ہے۔ بیان اس رسم کے بارے میں کچھ اس طرح ہے کہ یہ شادی بیاہ سے منسلک ہے۔ شادی کے بعد دلہن ایک دن کے لیے دلہا کے گھر میں آتی

Read more

میلبورن میں لوگوں کے اوقات کار

تمہارے جانے کے تین چار دن بعد ہی تیمور آسٹریلیا سے گھر پہنچ گیا۔ آتے ہی جس طرح وہ ٹوٹ کر مجھ سے گلے لگ کر رویا۔ مجھے لگا کہ تمہارے جانے کا دکھ اُسے مجھ سے کہیں زیادہ ہے۔ وہ بڑی دیر تک میرے کندھے پر سر رکھے زار و قطار روتا رہا۔ او ر روتا ہی چلا گیا۔ جب کافی وقت اسی کیفیت میں گزر گیا۔ تو مجھے ہوش آیا اور میں نے اُسے چپ کرانا شروع کیا۔

Read more

شاہ مراد اور بابا نو گزا (4)۔

بستی کے قریب ہی بڈھ کے پار قبرستان تھا۔ اس قبرستان میں بابا شاہ مراد کا دربار بھی تھا۔ جہاں ہر سال ساون کی پندرہ، سولہ اور سترہ تاریخ کو میلہ لگتا تھا۔ میلہ کوئی بہت بڑا نہیں تھا۔ بس قرب و جوار کے پانچ پانچ سات سات دیہات سے لوگ آ جاتے۔ یہاں پر کبڈی، کشتی، گھڑ سواری، بیلوں کی دوڑ اور دوسرے چھوٹے چھوٹے بہت سے کھیل تماشوں کا اہتمام کیا جاتا۔ اشیائے خوردنی، بچوں کے کھلونوں، خواتین

Read more

(6) بابا حاجی شیر دیوان صاحب

میرا گاؤں چاولی مشائخ بابا حاجی شیر دیوان صاحب نامی مشہور و معروف اور تاریخی حیثیت کی حامل مذہبی شخصیت کے نام پر رکھے گئے قصبے دیوان صاحب کے پہلو میں واقع ہے۔ یہیں پر بابا صاحب کا مزار بھی ہے۔ اس دربار کی کرامات کی مناسبت سے گاؤں میں نت نئی کہانیاں گردش کیا کرتی تھیں۔ کبھی یہ پتا چلتا کہ ایک شادی شدہ جوڑا بابا جی کے قدموں سے لپٹ کر رات بھر رو رو کر اولادِ نرینہ

Read more

(3) چاندنی راتوں میں بنسری کی مدھر تانیں

خدا کی اس بستی کے ایک طرف بے آباد زمینوں کا وسیع و عریض سلسلہ دور دور تک سطح مرتفع کی شکل میں پھیلا ہوا تھا۔ جب کبھی بارش تھوڑی سی زیادہ ہوجاتی۔ تو اس سطح مرتفع سے بارش کا پانی آبی رووں کی شکل میں بڈھ میں آن گرتا۔ جہاں پر یہ پانی بڈھ میں شامل ہوتا۔ وہاں سے اکثر مچھلیاں بڈھ سے نکل کر ان آبی رووں میں آ جاتیں اور پانی کے مخالف سمت میں چل پڑتیں۔

Read more

عورت نما مچھلی پارٹ (4)

تمہاری بستی کا ماحول ہمارے گاؤں سے کچھ مختلف تھا۔ وہاں مختلف مافوق الفطرت قسم کے قصے کہانیاں اور داستانیں زبان زد عام تھیں۔ جن میں اکثر کے راوی بابا جلال تھے۔ جو رشتے میں میرے ماموں تھے۔ وہ ہمیں بتاتے کہ زیر زمین پانی میں گٹھ مٹھیوں کی ایک پوری دنیا آباد ہے۔ گٹھ مٹھیے سے مراد ایک ایسا آدمی ہے جس کا قد ایک بالشت کے ساتھ بند مٹھی کو ملا کر رکھا جائے تو دونوں کی مجموعی

Read more

ماسی جی کا آنگن اور ناظرہ قران (3)

تم جس بستی سے بیاہ کر ہمارے گھر آئی تھیں۔ وہ ارض پاکستان سے بھی کوئی سو سال پہلے کے زمانے کی عکاس تھی۔ وہاں کے بزرگوں کو اس بات پر بڑا فخر تھا کہ انہوں نے نہ صرف یہ کہ یہاں پر لڑکیوں کا کوئی سکول نہیں بننے دیا بلکہ اس بستی کی کسی ایک لڑکی کو بھی پڑھائی لکھائی کے قریب بھی پھٹکنے نہیں دیا تھا۔ اس بستی کی تمام لڑکیوں کے لیے تعلیم کی اعلیٰ ترین ڈگری

Read more

آتشیں رنگت کا عروسی جوڑا پارٹ(2)

26 جون کا دن سال کا شاید گرم ترین دن تھا۔ صبح سویرے ناشتہ کرنے کے بعد باہر کھیتوں میں سیر کو نکل گیا۔ واپسی پر دیکھا کہ میجر صاحب نے بارات روانگی کے تمام معاملات اپن ہاتھ میں لیے ہوئے ہیں، مجھے دیکھتے ہی فوراً بولے تم کہاں پھر رہے ہو؟ اب تک تیار نہیں ہوئے، تمہیں پتہ ہے آج کونسا دن ہے؟میں نے سادگی سے نفی میں سر ہلا دیا۔وہ مسکراتے ہوئے بولے جلدی کرو،تیار ہو جاؤ بس تمہاری

Read more

(1) جوڑے آسمانوں پر بنتے ہیں

کہتے ہیں کہ جوڑے آسمانوں پر بنتے ہیں اور اُن کا ملن زمین پر ہوتا ہے۔ تمہارے اور میرے ازدواجی بندھن کا وقوع پذیر ہونا اس کہاوت کی سچائی کا زندہ ثبوت ہے۔ تمہارے والد اور والدہ دونوں ہی میرے خالہ زاد تھے۔ باپ کے رشتے کے لحاظ سے تم میری بھتیجی اور والدہ کے ساتھ رشتے کے لحاظ سے تم میری بھانجی لگتی تھیں۔ ہمارے یہاں مروجہ معاشرتی اصولوں کے مطابق ماں کے رشتے کو زیادہ اہمیت دیتے ہوئے

Read more

وجود زن سے ہے تصویر کائنات میں رنگ (2)

وطن عزیز میں خواتین کے حقوق کے حصول اور تحفظ کے لیے بہت سی خواتین کام کر رہی ہیں۔ ان کے نزدیک مغرب کی عورت کی زندگی ایک آئیڈیل کی حیثیت رکھتی ہے اور وہ اس آئیڈیل کے حصول کے لیے کوشاں ہیں۔ یہ کام اکیلے دھکیلے بھی سر انجام دیا جا رہا ہے اور این جی اوز بنا کر اجتماعی شکل میں بھی ہو رہا ہے۔ ضرورت اس امر کو سمجھنے کی ہے کہ ہر دو معاشروں میں عورت

Read more

وجود زن سے ہے تصویر کائنات میں رنگ

(پارٹ اول) یوم خواتین کے موقع پر دنیا بھر میں عورتوں کے حقوق کے حصول اور ان کے تحفظ کے لیے جلسے جلوس ہوتے ہیں۔ ریلیاں نکالی جاتی ہیں مختلف سیمینار اور مباحث کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ اس موقع پر پاکستان میں کیے جانے والے عورت مارچ کی بھی خوب دھوم مچتی ہے۔ لبرل خواتین مساوات، برابری اور اپنے حقوق کے حصول کے لیے نعرہ زن نظر آتی ہیں۔ عام طور پر ان خواتین بلکہ تیسری دنیا کی اکثر

Read more

مرے کو مارے شاہ مدار

ایک حکایت یوں بیان کی جاتی ہے کہ ایک ہی گھر میں دو سگے بھائی رہائش پذیر تھے ان میں سے ایک ہندو تھا اور دوسرا مسلمان۔ ہندو بھائی نے ایک کمرے میں اپنے بھگوان کو ایک بت کی شکل میں رکھا ہوا تھا وہ صبح سویرے اٹھتا بت کو نہلا دھلا کر خوشبو لگاتا اس کے سامنے کھانے پینے کی اشیا رکھتا اور نہایت عقیدت و احترام سے ہاتھ باندھ کر کھڑا ہوجاتا بھجن گاتا اس کی پوجا پاٹ

Read more

بکرا خریدنے کے چکر میں ہم پھنس گئے

یہ غالباً نوے کی دہائی کا ذکر ہے کہ بکرا عید کی آمد تھی۔ جیسے جیسے عید قریب آ رہی تھی بکرے کی خریداری کے لیے بیگم کا اصرار بڑھتا جا رہا تھا۔ اور حسب عادت ہم ٹال مٹول سے کام چلا رہے تھے۔ ایک دن حالات کو کافی دگر گوں دیکھ کر بیگم کو بڑے مدبرانہ انداز میں سمجھایا کہ دیکھو ابھی عید آنے میں دو ہفتے باقی ہیں۔ دو ہفتے تک بکرا صاحب کے چارہ پانی کے انتظامات

Read more

امید کی کرن نظر نہیں آتی

یار لوگوں کا خیال ہے۔ کہ اس بات کا پتہ چلانے کے لیے کہ خوشیا گھر پر موجود ہے۔ یا نہیں۔ آسمان کی طرف نگاہ بلند کریں۔ اگر وہاں نچلی فضا میں زمین کی طرف مائل بہ پرواز چیلیں دکھائی دے جائیں۔ تو سمجھ لیں۔ کہ خوشیا نہ صرف اپنے گھر پر موجود ہے۔ بلکہ اس کے مضبوط، کھردرے طاقتور اور جہازی سائز کے پہلوانی ہاتھوں کے شکنجے میں کسا ہوا کوئی قسمت کا مارا اپنی حجامت بھی کروا رہا

Read more

معاشی بحالی کا قومی پروگرام

نو مئی کے واقعے کے بعد پی ٹی آئی کو دیوار کے ساتھ لگانے کی بھر پور کوششیں کی جا رہی ہیں۔ اس وقت تمام ریاستی ادارے عمران خان کو سیاست سے مائنس کرنے کے لیے ایک پیج پر ہیں۔ اس مقصد کے حصول کے لیے ہر جائز اور ناجائز حربہ آزمایا جا رہا ہے۔ پی ٹی آئی کے بہت سے راہنما ریاستی جبر کے سامنے مٹی کے شیر ثابت ہوتے گرفتار ہوئے۔ دو دن جیل میں رہے۔ اور باہر

Read more

دریا کو اپنی موج کی طغیانیوں سے کام

ایک آدمی کی بیوی نافرمان تھی۔ وہ اسے راہ راست پر لانے کے لیے اکثر وعظ و تلقین کرتا رہتا۔ کبھی اس دنیا میں ذلت، رسوائی اور بدنامی کے خوف سے ڈراتا۔ تو کبھی موت کے بعد دوزخ میں ملنے والی سزاؤں کا ذکر کر کے اس کے چال چلن میں مثبت تبدیلی لانے کے لیے کوشاں رہتا۔ بالآخر ایک دن وہ خاتون تنگ آ کر بولی۔ کہ میں ایک شرط پر تمہاری بات ماننے کے لیے تیار ہوں۔ کہ

Read more

نومولود گھوڑی، کوہلو اور پنچایت کا انصاف

پچھلے وقتوں کی بات ہے۔ جب ذرائع آمدورفت ابھی اتنے ایڈوانس نہیں ہوئے تھے۔ عموماً لوگ پیدل سفر کیا کرتے تھے۔ اور صاحب حیثیت لوگ حسب توفیق گدھے، گھوڑے، خچر یا اونٹ پر سوار ہو کر سفر طے کیا کرتے تھے۔ ایک آدمی گھوڑی پر سوار ہو کر کہیں دور دراز جا رہا تھا۔ دن ڈھلے ایک گاؤں میں پہنچا۔ تو اس نے رات یہیں پر بسر کرنے کا فیصلہ کیا۔ گاؤں کی نکڑ پر ایک تیلی کا گھر تھا۔

Read more

سو رہے خاک میں ہم شورش تعمیر لیے

میں چند دن پہلے سبزی منڈی فروٹ لینے کے لیے گیا۔ تو وہاں پر میرے سہولت کار نے مجھے بتایا کہ اس سال آم بہت مہنگا رہے گا۔ کیوں کہ ملتان میں آم پیدا کرنے والی زمینوں کا بڑا حصہ ہاؤسنگ سکیموں کی زد میں آ چکا ہے۔ گویا کہ جدید ہاؤسنگ سوسائٹیز کے منفی اثرات اب غذائی اجناس پر ظاہر ہونا شروع ہو چکے ہیں۔ میرے شہر کے چاروں طرف تقریباً  پندرہ کلومیٹر کے دائرے میں ہاؤسنگ سکیموں کی

Read more

کوئی ایسی دوا دے چارہ گر

جوں ہی جنازہ میرے پاس سے گزرا میں ٹھٹھک گیا۔ میں نے کفن میں ملبوس میت پر نگاہ ڈالی۔ اور جنازہ اٹھانے والے لوگوں کو جنازہ نیچے رکھنے کا اشارہ کیا۔ انہوں نے تذبذب کی حالت میں جنازے کو نیچے اتار کر زمین پر رکھا۔ تو میں نے ان سے درخواست کی۔ کہ میں مردے کا منہ دیکھنا چاہتا ہوں۔ ایک بزرگ نے کفن کھول کر مجھے میت کا چہرہ دکھایا۔ میں تو چہرہ دیکھتے ہی بھانپ گیا۔ کہ یہ

Read more

شام ہوتے ہی تیرے ہجر کا دکھ

میں تمہارے سرہانے بیٹھا تمہیں بغور تک رہا تھا۔ تم سفید براق لباس زیب تن کیے ہوئے بڑے سکون سے سو رہی تھیں۔ تمہارے چہرے پر پھیلی ہوئی سرشاری اور طمانیت کی امتزاجی کیفیت نے اس میں ایک ایسا انو کھا نکھار پیدا کر دیا تھا۔ کہ تم زمینی مخلوق کی بجائے کسی اور ہی دنیا کی باسی معلوم ہو رہی تھیں۔ ایک متبرک اور مقدس آسمانی نور کے غیر مرئی ہالے نے تمہارے پورے وجود کو گھیر رکھا تھا۔

Read more