27 نومبر 2016 کو راقم الحروف نے جنرل قمر جاوید باجوہ کی تقرری کے وقت ”روانگی اور آمد“ کی عنوان سے تجزیہ تحریر کرتے ہوئے گزارش کی تھی کہ ”نئے آرمی چیف کے واسطے جنرل راحیل شریف کی با عزت ریٹائرمنٹ ایک نوشتہ دیوار ہے کہ آئین کے احترام کرنے سے ہی محترم ہوا جا سکتا ہے“ اسی تجزیہ میں جنرل کیانی کی ایکسٹینشن لینے کا ذکر کیا تھا کہ وہ انیس سو تہتر کے آئین کے نفاذ کے بعد جمہوری دور میں توسیع لینے والے پہلے جنرل تھے۔
ان دونوں امور سے بچنے کی طرف اشارہ کیا تھا۔ مگر پھر کیا ہوا ایک تاریخ بن چکی ہے، افسوس ناک تاریخ۔ 9 نومبر 2022 کو اپنے کالم ”تدبر و تحمل کی ضرورت“ میں جاپان کی ایک سفارتی تقریب کا احوال بیان کرتے ہوئے بالخصوص جنرل عاصم منیر کا ذکر کیا تھا کیونکہ سنیارٹی کو ترجیح دینے کی بازگشت اس قدر سنی جا رہی تھی کہ یقینی تھا کہ وہی آرمی چیف کے منصب پر فائز ہوں گے۔ اس تقریب میں تو میں نے ان کو گڈ لک کہا تھا مگر اب وہ منصب پر فائز ہو گئے ہیں تو ان سے بھی یہی گزارش کروں گا کہ وہ آئین کے احترام اور مستقبل میں توسیع سے اپنے آپ کو محفوظ رکھیں۔
Read more