پاکستانی کرکٹ ٹیم جہاں میدان میں غیرمعمولی کارکردگی دکھاتی رہی ہے وہیں میدان سے باہر کے تنازعات بھی اسے ہر دور میں گھیرے میں لیتے رہے ہیں۔ ان تنازعات نے اکثر بغاوت کا روپ دھارا ہے۔
کبھی کپتانوں کا سخت رویہ اس کا سبب بنا تو کبھی معاوضوں میں اضافے کا معاملہ اتنی گمبھیر صورتحال اختیار کر گیا کہ کھلاڑیوں نے نہ کھیلنے تک کی دھمکی دے ڈالی۔
جب بھٹو نے کاردار سے آنکھیں پھیر لیں
یہ 1976 کی بات ہے۔ نیوزی لینڈ کی کرکٹ ٹیم پاکستان کے دورے پر تھی۔ اس وقت عبدالحفیظ کاردار پاکستان کرکٹ بورڈ کے صدر تھے۔ وہ پاکستانی کرکٹ میں سیاہ سفید کے مالک تھے۔
وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو سے ان کے برسوں پرانے تعلقات سب کو اچھی طرح معلوم تھے۔ وہ پنجاب کی حکومت میں وزیرخوراک بھی رہے اور بھٹو کے کہنے پر ہی انھوں نے پاکستان کرکٹ بورڈ کی باگ ڈور سنبھالی تھی۔
Read more