سرگودھا میں غیرت کی عمر: نو برس

نو برس قبل اپنے بھائی کے گھر آنے والے ننھے فرشتے کو گود میں لے کر پیار کرتے ہوئے کیا اس عورت کو علم ہو گا کہ وہ اپنے قاتل کو بوسہ دے رہی ہے ؟ کیا وہ جانتی ہو گی کہ میری مرضی کا خراج اسے دس برس بعد اپنے لہو کی صورت میں بھرنا ہو گا؟ نو برس کا ننھا قاتل اور تیس برس کی مقتولہ! کیا نو برس کے بچے کو علم تھا کہ مرد کی عزت

Read more

شکل دکھانے کے قابل تو رہنے دو – مظہر برلاس کا ناقابل اشاعت کالم

چند برس پہلے جنوبی ہندوستان سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر ذاکر نائیک نے یزید کے حق میں گفتگو شروع کی تو مسلمان پریشان ہو گئے کہ یہ کیا کہہ رہا ہے، لوگوں کو پریشان کے ساتھ حیران بھی ہونا چاہیے تھا کیونکہ چودہ سو سال سے کچھ لوگ یزید کو سچا ثابت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، لاکھ کوششوں کے باوجود زمانہ اسے سچا ماننے کے لئے تیار نہیں جبکہ نواسۂ رسول ﷺ حضرت حسینؑ کو مسلمان ہی نہیں،

Read more

مرتضی بھٹو: تیری یاد کے آنسو

نجانے کیوں آج کربلا اور شہیدان کربلا کے بارے سوچتے سوچتے مجھے پہلے پابلو نرودا اور پھر مرتضی بھٹو یاد آ گئے شاید ان کے مابین کوئی رشتہ ہے؟

شہیدان کربلا حق و باطل کے درمیان امتیاز کا استعارہ ہیں تو پابلو نرودا کی نظموں میں مزاحمت کے پورے پورے شہر آباد ہیں اور جرات و انصاف کے نور سے دھلا شخص مرتضی بھٹو تو سر تا پا مزاحمت تھا۔

اسی مہینے کی 20 تاریخ کو مرتضی بھٹو کی نجانے برسی کا کون سا نمبر ہے جو کہ میرے لیے بالکل بھی اہم نہیں کیونکہ چاہے آج وہ ہمارے درمیاں موجود نہیں لیکن میرا ماننا ہے کہ وہ اپنے ہاتھوں میں اپنے لہو بھرے کپڑے لیے تاریخ کے چوراہے پر مظلوم مزاحمت کی علامت بن کر ارنسٹ ہمینگوے کی نوبل انعام یافتہ کتاب ”The old man and the sea“ کے اس فقرے کو سچ ثابت کر رہا ہے کہ
”آدمی کو مارا جا سکتا ہے اسے شکست نہیں دی جا سکتی“
اور یقیناً مرتضیٰ بھٹو بھی مار دیا گیا لیکن اسے شکست ابھی ہرگز نہیں ہوئی۔

Read more

ناصر کاظمی کا انتخاب انیسؔ: ایک تعارف

(1) ایک دن پاپا نے کہا کہ میر انیسؔ کے کچھ شعر پڑھ کے توایسا لگتا ہے جیسے امام حسین ؑ نے اسے خواب میں آ کے لکھوائے ہوں۔ اس وقت انہوں نے جو شعر سنائے وہ بہت عرصہ مجھے یاد رہے۔ کاش میں انہیں نوٹ کر لیتا۔ پاپا انیسؔ کے ایک مرثیے کا مصرع، اس عہد میں سب کچھ ہے پر انصاف نہیں ہے، اور ایک سلام کا یہ شعراکثر پڑھا کرتے تھے: در پہ شاہوں کے نہیں جاتے

Read more

عمر (رضی اللہ عنہ) بھی ہمارے اور حسین (علیہ السلام) بھی ہمارے ہیں

ہم کلمہ گو ہیں لیکن اپنے عمل کو اسلام کے تناظر میں دیکھنے کی اجازت کسی کو نہیں دیتے۔ ہم عقل کی بنیاد پہ قرآن کے فہم کی ڈٹ کر مخالفت کرتے ہیں لیکن ساتھ ہی اسلام کے دائرے کو اتنی ہی وسعت دینا پسند کرتے جتنی سی وسعت ہماری عقل کو حاصل ہے۔ پوری دنیا میں رمضان کا مہنہ ایک مخصوص مذہبی جوش اور جذبے کے ساتھ گزارا جاتا ہے جس میں صاحب ثروت افراد غربا اور مسکین کو

Read more

کربلا کے پوشیدہ اسباق اور غیرمسلم مفکرین

کچھ لوگ کہتے ہیں کہ کربلا کی جنگ دو شہزادوں کی جنگ تھی۔ یہ اسلام یا اقدار کی نہیں بلکہ اقتدار کی جنگ تھی۔ چارلس ڈکن نے اس بات کا جواب دیتے ہوئے لکھا : ”If Hussain had fought to quench his worldly desires then why his sister، wife and children accompanied him? it stands to reason therefore، that he sacrificed purely for Islam۔“ ”اگر امام حسین محض اپنی خواہشات کے لیے لڑے تھے (جیساکہ بعض لوگ کہتے ہیں کہ

Read more

کورونا وائرس: کیا عقیدے اور دعا کی طاقت نے پاکستان کو کورونا سے محفوظ رکھا؟

لیکن دنیا کے لیے حیران ُکن یہ امر بھی ہے کہ لوگوں کی لاپرواہی اور حکومت کی نرمی کے باوجود پاکستان میں کورونا کا پھیلاو کافی محدود رہا۔

Read more

یوم عاشورہ، سیکیورٹی اور ایک پرانی کہانی

ابھی کچھ دن ہوئے ہیں کہ عالم اسلام کا ایک مقدس دن ”یوم عاشورہ“ نہایت ہی عقیدت و احترام سے منایا گیا۔ یہ دن پوری دنیا میں اور بلا تفریق مذہب منایا جاتا ہے۔

میں نوکری کی وجہ سے کراچی میں رہتا ہوں لیکن اس دن سے عقیدت یا اس دن کے حوالے سے اپنے ”ناسٹیلجک“ ہونے یعنی جلوس عزاء، تعزیوں، علم کے قافلوں، روایتی نوحوں، ماتمداری اور مرکزی ماتمی جلوس میں ”حسین“ کی پر درد صدا سے اپنے جذباتی وابستگی اور بچپن سے لڑکپن اور لڑکپن سے جوانی تک کے سفر کی یادداشتوں کو دوبارہ جینے کے لئے عاشورہ کے دن اپنے آبائی شہر بھٹ شاہ پہنچ جاتا ہوں۔

Read more

بنائے لا الہ است حسین

اسلام کی تاریخ کا بغورمطالعہ کیاجائے تو اسلام کا بچپن جناب ابوطالب ؑ کی گود میں بہلتا نظر آئے گا، اسلام کی جوانی رحمتہ اللعالمین ﷺ کے دامن کی چھاؤں تلے آرام کرتی نظرآئے گی اوراسلام کا بڑھاپا مولاعلی ؑکے طاقتور بازوؤں کے آنگن میں سانس لیتا نظرآئے گا۔ لیکن ایک وقت ایسا بھی آیا کہ اسلام کو خود کو بچانے کے لئے حسین ؑجیسے لجپال کا سہارا اور پناہ لینا پڑی۔ حسین مولا کی زندگی پر طائرانہ نظرڈالیں تومعلوم

Read more

کربلا: جمہوریت اور ملوکیت کی جنگ

محرم سے سال نو کا آغاز ہو گیا ہے، ہر انسان امام عالی مقام کی جدوجہد کے لئے اپنا اپنا نقطہ نظر رکھتا ہے۔ واقعہ کربلا کے متعلق میری ناقص رائے یہ ہے، کہ امام حسین رضی اللہ عنہ کی جدوجہد کا اصل فلسفہ ظالم اور جابر حکمران کے خلاف مزاحمت تھا، جسے مسلمانوں نے 61 ہجری میں ہی فراموش کر دیا تھا، حقیقی فلسفہ کی جگہ کوفیوں نے ہمیں گریہ و زاری اور ماتم کے مصنوعی فلسفے کا علم

Read more

زہرا بتولؑ کی گود کا پالا، تین دن کا پیاسا حسینؑ

عاشورہ دس محرم کو زہرا بتولؑ کی گود کا پالا، رسول ﷺ کا نواسہ، تین دن کا پیاسا حسینؑ شہید ہوکر فتح مند ہوتے ہیں۔ عزیز ملک کی ”خون حسینؑ“ میں ہے کہ ”انصار اور اہل بیتؑ میں سے کوئی بھی حضرت امامؑ کی طرف سے لڑنے والا باقی نہ رہا۔ صبح عاشورہ سے دوپہر تک ان کی محفل میں مئے وحدت کی گردش رہی۔ پھر میخانہ عشق کے یہ متوالے نشہ سرمدی میں سرشار ہوکر ستاروں کی سمت پرواز

Read more

اپنا اپنا یزید

محرم ہر سال آتا ہے اور ہم میں سے کچھ یکم سے دس محرم تک اور کچھ صرف دس محرم کو ماتم یا سوگ منا کر پلٹ کر اپنے اپنے کاموں میں گم ہو جاتے ہیں کہ پھر آئندہ برس جب برسی آتی ہے تو پھر سیاہ لباس پہن کر ماتم کرنے لگ جاتے ہیں۔ حضرت امام حسین ( رض) کی شہادت کا ماتم کرتے ہیں کہ وہ کربلا میں بے یارومددگار شہید کر دیے گئے۔ روتے ہیں سینہ کوبی کرتے ہیں زنجیر زنی کرتے ہیں اور آگ پر بھی چلتے ہیں خود کو جتنی تکلیف دے سکیں دیتے ہیں کہ حضرت جی کی تکلیف کو یاد کر سکیں مگر افسوس کہ آج تک سوائے سینہ کوبی کے ہم اور کچھ نہیں کر سکے۔

Read more

سفر کربلا اور دور حاضر

سن 61 ہجری میں جب تمام عالم اسلام سے مسلمان اللہ کے گھر حج کرنے جا رہے تھے تب میرے پیارے نبی ﷺ کا پیارا نواسہ مکہ کو چھوڑ کر عالم اسلام کو بچانے کے لیے اپنے خانوادہ اور ساتھیوں کے ہمراہ سفر کربلا کو روانہ ہوئے۔ عجیب سفر تھا جس میں بوڑھے جوان بچے سب شامل تھے۔ چھ ماہ کے شہزادہ علی اصغر بھی بقا اسلام کے لیے سفر پہ روانہ تھے۔ مولا حسین علیہ السلام اس حق و باطل کی جنگ کا انجام با خوبی جانتے تھے مگر نانا کے دین کی خاطر سفر کربلا پر روانہ ہوئے۔

Read more

محرم الحرام اور ہم (شیعہ و سنی)۔

محرم الحرام کا چاند افق پہ ابھرا تو دل ناتواں نے اک قوی و مصمم ارادہ باندھا کہ مذہبی بحث مباحثہ نہیں کرنا اور حسب معمول کی تکرار سے بچنا ہے تو بعطائے فضل رہی سو فیصد تو نہیں مگر پچانوے فیصد اپنے مصمم ارادے کی تکمیل میں کامیاب رہا ہوں۔ ایک دو جگہ پہ تھوڑی بہت بات کی بھی تو معاملے کی نزاکت و طوالت کو دیکھتے ہوئے خاموشی میں ہی عافیت جانی۔

چونکہ اللہ تعالیٰ کے حکم و فضل سے بخیر و عافیت دسویں محرم الحرام کا مبارک، عظیم اور دکھوں سے بھرا دن گزر چکا تو سوچا کہ جو جو اس محرم میں دوستوں سے سیکھا اس کو سہارے قلم کے زینت بنا دوں کاغذ کی۔

Read more

شیعہ فیکٹ چیکر – کیا حقیقت ہے کیا افسانہ

جیسے ہی ماہ محرم کا آغاز ہوتا ہے، غیر تشیع حلقوں میں شیعہ عقائد کے حوالے سے بحث چھڑ جاتی ہے۔ ویسے تو سال بھر کسی نہ کسی موقع پر یہ نکات اٹھائے ہی جاتے ہیں مگر محرم الحرام کے ابتدائی دس ایام اس نوعیت کی بحث میں خاصی اہمیت رکھتے ہیں۔ اس نقطے کو سمجھنے کے لئے انٹیگریٹو کمپلیکسٹی یا انضمامی پیچیدگی کی اصطلاح کو سمجھنا زیادہ مناسب رہے گا کہ ایسا کیوں ہے۔ اس سے مراد ایسی سوچ اور شخصیت کی تشکیل ہے جو اپنے نظریات، خیالات اور عقائد کو باریک بینی، معقولیت اور دانستگی سے مرتب کرے۔

ایسے انسان خود کو دوسروں کی جگہ اور حالات میں سماں کر سوچتے ہیں۔ اس کے بنیادی تین مراحل ہیں ؛ آئسولیشن یا علیحدگی، ڈفرنسیایشن یا تفریق اور تیسرا سب سے اہم مرحلہ ہے انضمام یا شمولیت کا۔ ایک شخص کے عقائد یا نظریات دوسرے عقائد اور نظریات سے علیحدہ اور جدا ہو کر ہی ترتیب دیے جاتے ہیں۔ دو مختلف نظریات ایک دوسرے سے متفرق ہوتے ہیں اور ایک جگہ دو یا دو سے زیادہ رائے پائی جا سکتی ہیں جو کہ سنگین اور جھوٹ بیک وقت ہو سکتی ہیں۔

Read more

ہمارے بچپن کا محرم صرف شیعوں کا نہ تھا

یوں تو مجھے اسلامی مہینے اب جا کر کہیں یاد ہوئے ہیں۔ مگر بچپن میں بس دو ہی مہینوں کا پتہ ہوتا تھا۔ رمضان اور محرم۔ رمضان میں روزوں کے لیے اہتمام کرتے ہوئے بڑوں کو دیکھ کے اندازہ ہوتا تھا کہ یہ کوئی خاص مہینہ ہے۔ اور خوشی یہ ہوتی تھی کہ عید آئے گی تو نئے کپڑے جوتے اور عیدیاں ملیں گی۔ محرم میں یکم محرم سے دس محرم تک امی اور خالائیں ہر چیز پہ پابندی لگا دیتیں۔ وی سی آر پہ فلمیں دیکھنا بند ہو جاتا۔ ڈیک پہ گانے نہ چلتے۔ اور ٹی وی پہ سوائے کارٹون کے ہمیں دیکھنے کو ویسے ہی کچھ نہ ملتا تھا۔

میں نے اپنے بچپن کا کچھ حصہ کراچی گزارا ہے۔ کچھ گاؤں اور زیادہ تر لاہور۔ میں آج اپنے بچپن کا دور یاد کرتی ہوں۔ تو یاد آتا ہے کہ اس وقت لوگوں کے دکھ سکھ سانجھے ہوتے تھے۔ ایک دوسرے کا احترام تھا۔ لاہور ہمارے محلے میں ایک گھر شیعوں کا تھا۔ تو محرم کے دنوں میں خاص خیال رکھا جاتا کہ ان کی دل آزاری نہ کی جائے۔

Read more

سرخ خون سیاہ کیوں پڑ جاتا ہے؟

سرخ رنگ ہر دور میں ایک نئے انداز میں تازہ ولولے کے ساتھ ابھرتا ہے اور رفتہ رفتہ جب اس پر مصلحتی سیاہ رنگ غالب آنے لگتا ہے تو کہیں اور سے ایک اور سرخ فوارہ ابل پڑتا ہے۔ پڑھیے وسعت اللہ کا ہفتہ وار کالم بات سے بات۔

Read more

میدانِ کربل میں تنہا حسینؑ!

تاریخ میں ذکر ہے کہ جب یزید نے مدینہ میں حضرت امام حسینؑ پر بیعت کے لیے دباؤ بڑہایا تو امامؑ، مدینہ کو چھوڑ کر مکہ کی طرف روانہ ہوئے۔ وہاں پر 4 ماہ سے زائد عرصہ قیام کیا اور جب حج کا ارادہ کرتے ہوئے احرام بھی باندھ لیا تو یزید نے عمرو بن عاص کو ایک لشکر کے ساتھ حاجیوں کے لباس میں مکہ بھیجا اور اسے حکم دیا کہ اگر حسینؑ خانہ کعبہ کے پردوں میں بھی

Read more

یزیدی نہیں، حسینی بن

کربلا محض ایک واقعہ ہی نہیں، ایک استعارہ ہے، ظلم کے خلاف ڈٹ جانے کا نام ہے، ایک حقیقت کا نام ہے، کربلا ایک خاموش طوفان کا نام ہے کہ جب وہ آتا ہے تو سب یزیدیوں کو بہا کر لے جاتا ہے۔ کربلا کیا ہے، سیاسی مزاحمت کی ایک عمدہ ترین مثال۔ کربلا اور حسینیت لازم وملزوم ہیں۔ جہاں جہاں کوئی ظالم یزید کربلا برپا کرے وہاں وہاں کوئی نہ کوئی حسین ضرور آجایا کرتاہے۔ کربلا محض سینکڑوں سال

Read more

امام حسین ؓ کو کیا کرنا چاہیے تھا؟ (مکمل کالم)

چند کتابیں جو ہمیشہ میری سائیڈ ٹیبل پر موجود رہتی ہیں اُن میں سے ایک مولانا مودودی کی ’خلافت و ملوکیت‘ ہے۔ شکر ہے کہ یہ کتاب کبھی اسکول کے نصاب کا حصہ نہیں رہی ورنہ آج کل کے کسی مہا پُرش نے اِس پر بھی پابندی لگوا دینی تھی۔ کسی زمانے میں اِس کتاب اورمولانا کے خلاف فتوے بھی صادر کیے گئے تھے مگر اِس کے باوجود یہ مولانا کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی کتابوں میں سے

Read more

دلوں کے حکمران

آج دس محرم الحرام ہے۔ حضرت حسینؓ کا یوم شہادت۔ 1381 ہجری سال پہلے آج ہی کے دن انہوں نے میدان کربلا میں جام شہادت نوش کیا تھا… سرداد نہ داد دست در دست یزید… سر دے دیا لیکن یزید کے ہاتھ میں ہاتھ نہیں دیا۔ چلئے، میدانِ کربلا چلتے ہیں، حفیظ جالندھری کے ہمراہ، انہوں نے حضرت امامؓ کا جو سراپا بیان کیا ہے، اور میدان کربلا کی جو منظر کشی کی ہے، وہ اپنی مثال آپ ہے۔ دیکھئے

Read more

حسینی کہلانے کے پیمانے

اگر آپ کی شخصیت قول اور فعل کے تضاد سے بچی ہوئی ہے تو آپ حسینی ہیں۔ اگر آپ جھوٹ کے حسین پردوں میں سچ کی تلخی پہچان پا رہے ہیں تو آپ حسینی ہیں۔ کسی غیر قانونی فائل پر دستخط کرنے کا اگر آپ پر بہت دباؤ ہے اور آپ انکار کرتے ہیں تو آپ حسینی ہیں۔ آپ کے حسینی ہونے میں کوئی شک نہی جب آپ اپنی ذات کے سود و زیاں سے نکل کر دوسروں کے حقوق

Read more

حسین صرف پیاس کا نام نہیں!

”بیٹا مجلس میں جانے کے لئے تیار ہو جائیے“ ہم محرم میں منعقد ہونے والی یومیہ مجلس میں شرکت کے لئے جا رہے تھے اور چاہتے تھے کہ بچے بھی ساتھ چلیں۔ دونوں بچوں کے پاس نہ جانے کی ہزار تاویلیں تھیں۔ ”مولوی حضرات بہت چیخ چیخ کے بولتے ہیں جس سے کچھ سمجھ نہیں آتا اور سر میں درد الگ سے ہوتا ہے“ ”رسومات کا ایک ڈھیر ہے، علم اور ضریح تو ٹھیک ہے لیکن مہندی کی رسومات، حضرت

Read more

مجلس شام غریباں کا آغاز کیسے ہوا؟

٭مجلس شام غریباں برصغیر کی عزاداری کا ایک لازمی جز ہے۔
٭مجلس شام غریباں کی روایت 1926ء میں شروع ہوئی۔
٭اس مجلس کو مجلس شام غریباں کا نام منے آغا صاحب راز اجتہادی نے دیا۔

٭ شام غریباں کی پہلی مجلس سے مولانا سبط محمد ہادی نے خطاب کیا۔
٭ 1930ء یا 1931ء میں یہ مجلس لکھنؤ ریڈیو اسٹیشن سے بھی نشر ہونے لگی۔

٭1928ء سے 1963ء تک اس مجلس سے عمدۃ العلما مولانا سید کلب حسین صاحب نے خطاب فرمایا۔
٭ریڈیو پاکستان سے پہلی مرتبہ مجلس شام غریباں 1954ء میں نشر ہوئی۔
٭پاکستان ٹیلی وژن سے پہلی مرتبہ مجلس شام غریباں 1968ء میں نشر ہوئی۔

Read more

حسین علیہ السلام سب کے

شجاعت میں مثل جناب علی کرم اللہ وجہہ، عباس علیہ السلام جیسا جری سپہ سالار لشکر، اذن جنگ مل جاتا تو تاریخ کا دھارا مختلف ہوتا۔ لیکن وقت کے امام نے اس کو ایک جنگ کے بجائے معرکۂ حق و باطل رہتی دنیا کے لیے قائم رکھنا تھا۔ اور آج تک جہاں حق کا ذکر ہو وہاں فلسفۂ حسینیت کی پکار سنائی دیتی ہے اور جہاں باطل کی پہچان کی جانی مقصود ہو اسے یزیدیت سے پہچانا جاتا ہے۔ چھ ماہ کے علی اصغر علیہ السلام کے گلے کو تین منہ کے تیر نے چھلنی کیا تو اس کے بعد کیا یزیدیت کا چہرہ دنیا کے سامنے بے نقاب نہیں ہوا؟

جناب قاسم علیہ السلام کا سرزمین کرب و بلا میں ٹکڑے ہو جانا، علی اکبر علیہ السلام جیسے کڑیل جوان کے سینے میں برچھی کا اتر جانا، عون و محمد علیہم السلام اجمعین کی بچپنے کو شکست دیتے ہوئے داد شجاعت دینا۔ حبیب ابن مظاہر علیہ السلام جیسے پر خلوص دوست کا آواز امام حسین علیہ السلام پہ لبیک کہنا، دربار یزید میں بنت علی سلام اللہ علیہا کا تاریخی خطبہ، کیا یہ سب آج کے دور میں مشعل راہ اب نہیں رہا؟ کیا کردار امام حسین علیہ السلام اور اصحاب حسین علیہ السلام آج کے دور میں زندگیوں میں نکھار لانے کے لیے کافی نہیں؟ دلوں کو شفاف، پاکیزہ کرنے کے لیے کربلا کا پیغام کافی نہیں؟ بالکل کافی ہے۔ لیکن حقیقتاً ہم آج حسینیت سے دور ہوتے جا رہے ہیں۔

Read more

کربلا یوں بسائی جاتی ہے: یہ ہمارے ابا نے بتایا

گھڑی کی سوئیوں کی تیزی کے ساتھ، اس کے چمکتے شیشے میں اپنا عکس دیکھتی ہوں تو مجھے اپنی ماں نظر آتی ہے اور سر جھکائے غور و فکر میں غلطاں اپنے شوہر کو دیکھتی ہوں تو مجھے ان میں ان کے ابا کی شباہت نظر آتی ہے۔ اپنے ماں باپ سے لاکھ اختلاف کے باوجود گزرتا وقت ہمارے چہرے میں ان کی شباہت ہی نہیں لاتا، عادت و اطوار بھی ان سے لگا کھانے لگتے ہیں۔ ماں کی عظمت

Read more

انچولی کا محرم اور مجالس

آپ انچولی میں ایک سال محرم کرلیں۔ اس کے بعد نجف جائیں، کربلا جائیں، مشہد جائیں، دمشق جائیں، آپ کو اجنبیت کا احساس نہیں ہوگا۔ انسانوں کے دل میں ایک جیسے جذبات ہوں تو شہروں کی فضا بھی ایک جیسی ہوجاتی ہے۔

Read more

امریکا میں نوحہ خوانی

امریکا میں ہمارا یہ دوسرا محرم ہے۔ بلکہ مجھے تیسرا کہنا چاہیے۔ 2017 میں دس دن کے لیے آیا تھا تو محرم ہی کے دن تھے۔ ہیوسٹن میں میرے ماموں زاد بھائی تصور حسنین رات کو مجھے مجلس میں لے گئے۔ ہیوسٹن میں بے شمار کراچی والے رہتے ہیں۔ بلکہ امروہے والے بھی۔ انچولی کے فہیم بھائی اور حسین جری ملے۔ دوسرے شہروں کے کئی لوگ پہچان گئے۔ سوشل میڈیا پر گالیاں کھانے والوں کی صورت سب یاد رکھتے ہیں۔

Read more

اماں رخصت ہونے کے لیے عاشور گزرنے کی منتظر تھیں

میں نے جب ہوش سنبھالا تو اماں کا چہرہ اس وقت بھی جھریوں سے بھرا ہوا تھا۔ ہم اپنی نانی کو اماں کہتے تھے۔ ان کے زمانے میں ماں کو اماں ہی کہا جاتا تھا۔ پھر امی کہا جانے لگا۔ آج کل بچے ممی اور ماما کہتے ہیں۔ اماں کا نام تحسینہ خاتون تھا۔ چہرے پر جھریاں، دائیں گال پر جلد کے رنگ کا مسّا یا دانہ، سر سفید اور گھر میں بچوں کے سامنے بھی ہر وقت ڈھکا ہوا۔

Read more

کربلا میں دو بار قتل کیا گیا شہید

چھٹی محرم کربلا کے ننھے شہید علی اصغر کا دن ہے۔ وہ چھٹی محرم کو شہید نہیں کیے گئے تھے۔ کربلا کی جنگ دس تاریخ کو ہوئی تھی اور سب شہادتیں بھی لیکن عزاداروں نے کچھ دن کئی شہیدوں کے نام سے مخصوص کردیے ہیں۔ چھٹی محرم کو مجالس اور جلوسوں میں خاص طور پر جھولے نکالے جاتے ہیں اور علی اصغر کو یاد کیا جاتا ہے۔ میں پہلی بار کربلا گیا تو میرا خیال تھا کہ وہاں جنگ کا

Read more

خون کا ماتم جگر لے گیا

بڑا ہے درد کا رشتہ یہ دل غریب سہی تمھارے نام پہ آئیں گے غم گسار چلے ایسا لگتا ہے کہ فیض نے یہ شعر کربلا والوں کے نام کہا تھا۔ ادھر کسی نے حسین کا نام لیا، ادھر عزادار جمع ہونے لگے۔ گریہ و ماتم شروع ہوگیا۔ کراچی میں بہت سی ماتمی انجمنیں ہیں، ہر شہر میں ہوتی ہیں، جنھیں لوگ مجالس اور جلوس میں بلاتے ہیں۔ ان میں ایک یا کئی نوحہ خواں ہوتے ہیں جنھیں صاحب بیاض

Read more

کربلا کی ڈائری سے ایک صفحہ

میں پہلی بار عمرہ کرنے گیا تو مدینے کی زیارت بھی کی۔ وہاں جنت البقیع کے باہر ایک اجنبی ملا جس نے پوچھا، ’’کیا تمھارا کبھی کربلا جانے کا ارادہ ہے؟‘‘ میں نے کہا، ’’ایک بار جاچکا ہوں اور دوسرے بار جانے کی خواہش ہے۔‘‘ اس نے ایک لفافہ دیا اور کہا کہ یہ بھی لے جانا۔ میں نے وہ لفافہ جیب میں ڈال لیا۔ جب کوئی کربلا جاتا ہے تو لوگ اسے عریضے دیتے ہیں۔ ان میں وہ اپنی

Read more

کربلا میں شب عاشور اور خضر سے گفتگو

تین سال پہلے آج کے دن میں کربلا میں تھا۔ مغرب سے کچھ پہلے میں نے اپنے بیٹے حسین سے کہا کہ چلو، تمھیں کربلا کی شب عاشور دکھاتا ہوں۔ چودہ صدیاں پہلے اسی مقام پر یہ رات امام حسین کے قافلے پر بھاری تھی۔ اس رات کربلا والے نہیں سوئے۔ کربلا والوں کو ماننے والے آج بھی نہیں سوتے۔ حسین اس وقت بارہ سال تھا۔ میں اس کا ہاتھ تھام کر ہوٹل سے نکلا۔ اگر آپ کبھی کربلا نہیں

Read more