ایک روز قبل امریکی صدر جو بائیڈن نے 11 ستمبر تک افغانستان سے امریکی و اتحادی افواج کے مکمل انخلا کا اعلان کیا ہے۔ اگرچہ یہ تاریخ طالبان کے ساتھ معاہدہ میں منظور کی گئی یکم مئی کی تاریخ سے کئی ماہ آگے ہے، اس کے باوجود کوئی یقین سے نہیں کہہ سکتا کہ افغانستان سے امریکی افواج کی واپسی کے بعد وہاں امن و امان کی صورت حال کیا ہوگی۔ اور پاکستان کو اس سلسلہ میں کن حالات کا سامنا کرنا پڑے گا۔
پاکستان اس دوران اپوزیشن اتحاد کے جوڑ توڑ، تحریک انصاف میں پڑنے والی ممکنہ پھوٹ اور تحریک لبیک کے احتجاج کے بعد اس پر لگائی گئی پابندی سے پیدا ہونے والی صورت حال سے نمٹنے کی کوشش کر رہا ہے۔ تاہم ملک کی خارجہ پالیسی اور قومی سلامتی کے بعض ایسے اشاریے سامنے آئے ہیں جن پر غور کرنے اور ٹھوس حکمت عملی بنانے کی ضرورت ہے۔ ورنہ ملک کا داخلی انتشار اس کے قومی سلامتی سے جڑے مفادات پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔ یہ پہلو باعث حیرت نہیں ہونا چاہیے کہ ایک ایسے وقت میں جب امریکہ اس خطے میں اپنی فوجی سرگرمی ختم کرنے کی تیاری کر رہا ہے، عین اسی بیچ متحدہ عرب امارات کے توسط سے پاکستان اور بھارت کے درمیان مصالحت کا ڈول ڈالا گیا ہے۔ واشنگٹن میں متحدہ عرب امارات کے سفیر یوسف العتیبہ کا کہنا ہے کہ ’ہو سکتا ہے کہ پاکستان اور بھارت بہترین دوست نہ بن پائیں لیکن ہماری خواہش ہے کہ ان کے درمیان ایسے حالات پیدا ہوجائیں کہ وہ ایک دوسرے سے بات کرسکیں اور معاملات کو مل جل کر طے کر لیں‘ ۔
Read more