Author: عدنان خان کاکڑ
لینہ حاشر کہتی ہیں: ذرا سوچ کے آنا امتحان حشر میں
محترمہ لینہ حاشر کی تحریر ”مرنے کے بعد خواجہ سرا کا اپنی ماں کو خط“ اس وقت ”ہم سب“ کی تاریخ کی ایسی دوسری مقبول ترین تحریر بن چکی ہے جس نے شائع ہونے کے تین دن کے اندر اندر ایک لاکھ مرتبہ پڑھے جانے کا سنگ میل عبور کیا ہے، اور تین دن کے ٹوٹل ویو کے حساب سے تو یہ اس وقت اول نمبر پر ہے۔ لینہ حاشر کی اس تحریر کی وجہ سے ”ہم سب“ نے اپنی
Read moreایک دن میں ایک لاکھ ویو – شکریہ پاکستان
مورخہ 18 ستمبر 2016 کو ”ہم سب“ نے اپنی تاریخ میں پہلی مرتبہ ایک دن میں ایک لاکھ ویو حاصل کیے ہیں۔ ”ہم سب“ بس یہی کہہ سکتے ہیں کہ شکریہ پاکستان۔ لکھتے رہو، پڑھتے رہو، سوچتے رہو، اور کسی فکری کنویں کے قیدی مت بنو۔ جمود موت ہے اور حرکت میں زندگی ہے، افراد کی بھی اور قوموں کی بھی۔ حریت فکر اور آزاد تخیل کی پرواز جاری رکھو۔ شکریہ پاکستان
Read moreروس کو افغانستان میں ہم کھینچ کر لائے تھے: امریکی صدارتی مشیر
افغانستان پر سوویت یونین کے حملے کے وقت امریکی صدر کارٹر کے قومی سلامتی کے مشیر زبیگنیف برزنسکی کا 1998 میں ایک فرانسیسی جریدے ”لا نویل آبزرویتر“ کو دیا گیا ایک انٹرویو۔ اس سے سات مہینے پہلے جون 1997 میں وہ سی این این کی کولڈ وار سیریز میں بھی ایسے ہی خیالات کا اظہار کر چکے تھے۔ سوویت یونین کی گرم پانیوں کی چاہ پر ابال کھانے والوں کے لیے یہ انٹرویو دلچسپ ہو گا۔ اور ان کے لیے
Read moreروس اور گرم پانیوں کا افسانہ
ہمارے ہاں ضیا الحق کے دور میں یہ تاثر شدت سے دیا گیا کہ سوویت یونین کی افغانستان میں فوجی مداخلت کا مقصد یہ تھا کہ وہ بحیرہ عرب کے گرم پانیوں تک پہنچ سکے، اور افغانستان کے بعد سوویت یونین کے حملے کا اگلا نشانہ پاکستان ہوتا۔ کارٹر دور کے مشیر برائے قومی سلامتی، برزنسکی اپنے انٹرویو میں، اور رابرٹ گیٹس اپنی کتاب میں یہ بات کہہ چکے ہیں کہ سوویت یونین کا افغانستان میں فوجی مداخلت کا کوئی
Read moreبھیا ڈھکن فسادی نے غدار پکڑے
بھیا ڈھکن فسادی ہمارے سامنے بیٹھے تھے۔ روئے روشن سرخ تھا انار ہوا جا رہا تھا۔ سانسیں تیز چل رہی تھیں۔ صاف ظاہر تھا کہ حسب معمول شدید غصے میں ہیں۔ ہم نے چپ چاپ ٹھنڈے پانی کا ایک گلاس ان کے سامنے رکھ دیا جسے وہ شکریہ کہے بغیر ایک ہی سانس میں ہی چڑھا گئے۔ ہم منتظر رہے کہ اب سلسلہ کلام شروع ہو گا۔
بھیا ڈھکن فسادی: تم لبرل فاشسٹوں کی حکومت میں اب یہ دن بھِی دیکھنا تھا کہ ہماری قومی و دینی خدمات کو سراہنے کی بجائے ہمیں باعث فساد قرار دے دیا جائے؟
Read moreملک نیمروز میں انسان کو بکرے کا جگر لگاتے ہیں
عبدالستار ایدھی مرحوم کے بعد از مرگ اپنی آنکھوں کا عطیہ دینے پر بات چل رہی ہے اور کہا جا رہا ہے کہ یہ حرام کام ہے۔ ہم نے غور کیا تو بات معقول ہے۔ انسان کا جسم اس کی اپنی ملکیت نہیں ہوتا ہے، بعد از مگر اس کی چیر پھاڑ ہمیں جائز نہیں لگتی ہے۔ ویسے یہ مردہ انسان کا پوسٹ مارٹم وغیرہ بھِی بند ہونا چاہیے اور بندہ قریب المرگ ہو تو اس وقت یہ کام کر
Read moreحرمین الشریفین پر حملوں کے دو واقعات
پیر کے روز سحری کے وقت سے سعودی عرب میں دھماکے شروع ہوئے۔ پہلا حملہ جدہ میں سعودی قونصل خانے کے قریب ہوا۔ دوسرا قطیف شہر میں ہوا۔ سعودی عرب کا شیعہ اکثریتی علاقہ گاہے بگاہے داعش کے حملوں کا نشانہ بنتا رہا ہے۔ لیکن تیسرا حملہ تو تقریباً مسجد نبوی کی دیوار کے ساتھ ہی ہوا۔ کیا ہم اب بھی یہی کہیں گے کہ یہ ہماری جنگ نہیں ہے؟ کیا اب بھی اس کا باعث ہم ڈرون حملوں کو
Read moreمیاں خوجی فحاشی پکڑتے ہیں
(فسانہ آزاد کا تحریف شدہ جدید ایڈیشن) خواجہ بدیع الزماں کے نام سے تو آپ خوب واقف ہیں۔ بے تکلف دوست اور راہ چلتے انہیں خوجی کے نام سے پکارتے ہیں۔ ٹینی مرغے کے برابر قد پایا ہے، عمر ساٹھ سے کچھ اوپر ہے۔ پنڈت رتن ناتھ سرشار کے زمانے میں تو خود کو دگلے والی پلٹن کا کمیدان (کپتان) بتاتے تھے اور اسی کمیدانی کے زعم میں رستم سے بھی بھڑ جاتے تھے۔ ایسے ہی ایک معرکے کے بعد
Read moreبھیا ڈھکن فسادی نے سماج سدھارا
ہم بھیا ڈھکن فسادی کے محلے میں پہنچے تو بھیا ڈھکن فسادی کو اپنے ہمسائے سے بحالت دست و گریباں پایا۔ ان کا لحیم و شحیم ہمسایہ انہیں زمین پر گرا کر ان پر چڑھا ان کی خوب دھلائی کر رہا تھا۔ بمشکل تمام انہیں چھڑا کر ان کی بیٹھک میں لایا اور پوچھا کہ کیا ماجرا ہے۔
بھیا ڈھکن فسادی: ماجرا کیا ہونا ہے۔ قرب قیامت کا زمانہ ہے۔ لوگ نیکی کی بات سنتے ہی بلا وجہ فساد پر اتر آتے ہیں۔
ہم: پھر بھی۔ اس مرتبہ کیا ہوا ہے؟
بھیا ڈھکن فسادی: بھئی ہم نے بس ان کو یہی تو کہا تھا کہ اپنے گھر میں کہہ دیں کہ مکمل طور سے مستور ہوئے بغیر صحن میں مت نکلا کریں۔ یہ درست نہیں ہے۔
Read more








