چکر ہے مرے پاؤں میں، زنجیر نہیں ہے

“مجھے کامیابی کا کیا انعام ملے گا؟ یہ میری زندگی کا اہم سنگ میل ہے” زندگی کے دکھائی نہ دینے والے امتحانوں کے ساتھ جینا تو ہر کسی کی اپنی ہمت اور ظرف کا امتحان ہوا کرتا ہے مگر وہ امتحان جن میں برسہا برس کے دن رات کی مغز پچی کی گئی ہو، ان سے عہدہ برآ ہونے کا احساس رگ و پے میں برق دوڑ دیا کرتا ہے۔ ہمیں موہوم سا خیال گزرتا ہے کہ سنکی اور پاگل

Read more

پدرسری معاشرے کی بااختیار عورت یا دولے شاہ کی چوہیا؟

لمبوترا منہ، چھوٹا سا سر، احساس سے عاری آنکھیں، وحشت زدہ چہرہ، ڈھیلا ڈھالا پیوند زدہ لباس، گلے میں منکوں کی مالا، ہاتھ میں کشکول! یہ ہمارے بچپن میں کیے گئے سفر کی اولین یادوں میں سے ایک ہے۔ جب بھی ٹرین گجرات سٹیشن پہ رکتی، وہ گیروے لباس میں ملبوس کمپارٹمنٹ میں داخل ہو جاتا، ساتھ میں ایک بڑی بڑی مونچھوں اور دہکتی آگ سی آنکھوں والا ساتھی ہوتا جو اسے گاڑی میں چڑھاتا یا اتارتا۔ اسے دیکھتے ہی

Read more

آج کے مسخ خدوخال اور ماضی کے مکروہ خطوط

دل سے ملال کا موسم جاتا ہی نہیں! سو اپنے آپ سے ہی سوال کرنے کو جی چاہتا ہے۔ کیا کوئی عورت ایسی ہو گی جو سڑک پر اپنی راہ چلتے چلتے کسی نہ کسی مرد کی بن بلائی توجہ بلکہ مداخلت مجرمانہ سے واقف نہ ہو؟ اور ایسی خاتون کہاں سے تلاش کریں جو بس سے اترتے چڑھتے، ریل میں سوار ہوتے، بازار میں جاتے، پارک میں ٹہلتے سانپ سی رینگتی انگلیوں کا لمس نہ جانتی ہو؟ اور وہ

Read more

بندہ مزدور کی سلگتی آنکھیں۔۔۔ اور سانجھ کا سپنا

سوا نیزے پہ سورج، چلچلاتی دھوپ، مانو آسمان سے آگ برس رہی ہو لیکن کاروبار حیات موسموں کا مرہون منت تو نہیں ہوا کرتا۔ اپنے پرسکون، نیم تاریک اور خنک آمیز گھر کے دروازے سے نکل کے گاڑی کی طرف بڑھتے ہوئے لو کے تھپیڑے چہرے سے ٹکراتے ہیں۔ اونگھتا برگد اپنی نیم باز آنکھوں سے دیکھ کے مسکراتا ہے اور پھر سے اپنے گیان میں گم ہو جاتا ہے۔ پیاسے پرندے آنگن میں رکھے پانی کے برتن میں اپنی

Read more

کنواری ماں، اندھا قانون اور مسیحا کا جرم

چودہ برس کا سن، پیلی پھٹک رنگت، چہرے پہ بے بسی، آنکھ میں رنج و الم، لیبر وارڈ کے ایک بستر پہ ایسی دکھتی تھی جیسے مقتل میں ننھی سی گڑیا بھولے بھٹکے آ گئی ہو۔ اس چڑیا سی بچی کے لئے یہ مقتل گاہ ہی تو تھی جہاں وہ پچھلی رات ہی چودہ برس کے سن میں ماں بنی تھی۔ ریپ اور پولیس کے متعلق بات چلی تو بھولی بسری یادوں میں سے بے اختیار وہ بچی جھانک کے

Read more

سرگودھا میں غیرت کی عمر: نو برس

نو برس قبل اپنے بھائی کے گھر آنے والے ننھے فرشتے کو گود میں لے کر پیار کرتے ہوئے کیا اس عورت کو علم ہو گا کہ وہ اپنے قاتل کو بوسہ دے رہی ہے ؟ کیا وہ جانتی ہو گی کہ میری مرضی کا خراج اسے دس برس بعد اپنے لہو کی صورت میں بھرنا ہو گا؟ نو برس کا ننھا قاتل اور تیس برس کی مقتولہ! کیا نو برس کے بچے کو علم تھا کہ مرد کی عزت

Read more

میڈیکل کی مخلوط تعلیم اور لڑکا اک شرمیلا سا

آگ اور پٹرول کی جو آزمائش میڈیکل کالج میں مولانا طارق جمیل کو جھیلنا پڑی، ان دنوں کی بابت ہی تو انہوں نے فرمایا ہے کہ شکر کا مقام یہ رہا کہ انہوں نے جلد بھانپ لیا کہ وہاں گزارے ہوئے دنوں کا حاصل اعلیٰ تعلیم اور مسیحائی کی بجائے بے راہ روی اور ریپ ہے تو وہ چپکے سے وہاں سے نکل لئے۔

یقین جانیے جب سے یہ بیان سنا ہے ہمارا دل تو پارے کی طرح لرز رہا ہے کہ نہ جانے کون سا منہ لے کے روز حشر کو جائیں گے۔ ہم تو بڑی پامردگی سے انہی راہوں کے نہ صرف راہی رہے بلکہ بے شمار کو ہلا شیری دے کر اس رستے کی دعوت بھی دی۔ ویسے آپس کی بات ہے اگر طارق جمیل ان دنوں میں ہمارے شناسا ٹھہرتے تو شاید ہماری زندگی میڈیکل کالج سے فرار ہو کے تو سنورتی ہی، ہماری آخرت کو بھی آج لالے نہ پڑے ہوتے!

تو چلیے دیکھتے ہیں ماضی کا ایک دن میڈیکل کالج میں طارق جمیل کے ہمراہ!

Read more

ہما کوکب بخاری: تیس برس پر پھیلی جڑواں کہانی

صاحب، کیا ایسا کوئی ہے ہم میں سے جس نے جڑواں بچوں کے بچھڑ جانے والے واقعات پہ مبنی فلمیں نہیں دیکھیں ہوں گی؟ اور ہوتا کیا تھا اگر بچے ہم شکل ہوئے تو وقت ولادت ہی جدائی کا انتظام کچھ ایسے ہوتا کہ یا تو دایہ کی نیت خراب ہو جاتی یا پھر خاندانی دشمنی کام کر دکھاتی۔سو ناظرین دل پہ ہاتھ رکھ کے یہ تماشا دیکھتے رہتے کہ ایک بچہ مغرب پہنچ گیا تو دوسرا مشرق میں، ایک

Read more

ماں کا خواب اور امید کی ڈوری

چراغ حسن حسرت لکھتے ہیں،  ” آغا حشر صاحب کا خیال تھا کہ دنیا میں کامیابی حاصل کرنے کے لیے اپنی تعریف کرنا بہت ضروری ہے۔ ایک مرتبہ کسی اخبار میں میری ایک نظم جو غالباً عید کے متعلق تھی، شائع ہوئی۔ آغا نے اخبار دیکھا تو نظم کی بڑی تعریف کی۔  خصوصاً آخری شعر کئی مرتبہ پڑھا اور پھر بولے ‘‘اماں تم بہت خوب کہتے ہو۔ اس سے اچھا کوئی کیا کہے گا؟’’ ‎میں نے کہا ‘‘آغا صاحب آپ

Read more

قبر میں اکیلی کیوں لیٹی؟

باہر اکیلی کیوں نکلی؟ رات کے وقت سفر کیوں کیا؟ سر پہ دوپٹہ کیوں نہیں تھا؟ منہ حجاب سے کیوں نہیں ڈھانپا؟ جینز کیوں پہنی؟ شوخ رنگ کیوں اوڑھے؟ بھنویں کیوں ترشوائیں؟ چست لباس سے جسم کیوں نمایاں کیا؟ چادر سے جسم کے زاویے چھپائے کیوں نہیں ؟ منہ پھاڑ کے ہنسی کیوں؟ زیادہ باتیں کیوں کرتی ہے ؟ میک اپ کیوں کیا ؟ بال کیوں کٹوائے تھے؟ لڑکوں کے ساتھ تعلیم کیوں حاصل کی؟ مردوں کے ہمراہ دفتر میں

Read more

سات ستمبر اور طاہرہ کا دوسرا جنم

بات کچھ عجیب سی ہے! ہو سکتا ہے آپ کو اچنبھا ہو لیکن بات ایسی ہی ہے۔ آج سوچا یہ داستان بھی کہہ ڈالی جائے کہ چہیتے اور اہلے گہلے لفظوں سے کہانی گوندھنے کا شوق دل سے جاتا نہیں۔ خود سے آشنا ہوتے ہوئے، زندگی سے آشنا ہونے کی کتھا جس نے ہمیں خوش بھی کیا، اداس بھی اور حیران بھی! ہم نے اس دنیا میں دو دفعہ جنم لیا، پہلی دفعہ سات دسمبر اور دوسری دفعہ سات ستمبر!

Read more

خلیل الرحمن قمر سے پروفیسر رانا اعجاز تک

زیادہ دن نہیں گزرے کہ ہم اس بات پہ اپنے آپ سے شرمندہ تھے کہ ہم اس دور میں عمر تمام کرتے ہیں، جس میں خلیل الرحمٰن قمر اپنے منہ سے جھڑنے والے پھولوں کے ساتھ موجود ہیں۔ یقین جانیے ابھی وہی زخم ہرا تھا کہ پنجاب یونیورسٹی کے پروفیسر رانا اعجاز احمد کی خبر سامنے ہو گئی۔  موصوف استاد کے رتبے پہ فائز ہیں لیکن نہ جانے کیسے زمینی حقائق سے نظریں چرا کے کسی یوٹوپیا میں بسیرا کیے

Read more

مردانہ بانجھ پن اور سٹم سیلز!

پچھلے دنوں ہوا کے دوش پہ تیرتا ہوا ایک وڈیو کلپ ہم تک آن پہنچا جس میں پاکستان کے ایک چھوٹے شہر میں مقیم ایک خاتون ڈاکٹر اپنے ہسپتال میں مردانہ بانجھ پن کا علاج سٹم سیل سے کرنے کا مژده سنا رہی تھیں اور کامیابی کا تناسب آسمان کو چھو رہا تھا۔ سن کے، ہم چپ رہے ہم ہنس دیے، والا معاملہ آن پڑا۔ ڈاکٹر صاحبہ کے نام کے ساتھ رنگا رنگ ڈگریوں کی بہار تھی۔ لیکن بنیادی ڈگریوں

Read more

مردانہ بانجھ پن: کیا، کیسے اور کیوں؟

ایک مرد اور دو عورتیں! ہمیشہ کی طرح وہی مثلث، اور ہمارا کلینک! شوہر بیوی اور ساس! صاحب، ہمارا مسئلہ کچھ اور ہے- ہمیں عورت کی شکم سیری اور سر پہ چھت کے عوض وہ تازیانے نہیں قبول جو مالک اپنا حق سمجھتے ہوئے اپنی ملکیت پہ برساتا ہے۔ کاش میں وہ منظر ان تمام لکھاریوں کو دکھا سکوں جنہیں عزت سے سر اٹھا کے زندگی گزارنے کی خواہش اور ” ظالم مرد کی برابری” میں فرق معلوم نہیں۔ اس

Read more

یہ شام غریباں نہیں، شام زینب ہے!

شام آئی، ڈھلی اور تاریک ہو گئی! سورج اپنی روشنی پھیلانے پہ شرمندہ ہوتے ہوئے ڈوب گیا! چاند نہیں نکلا!  رات کی سیاہ تاریکی ہر طرف نگاہیں چراتے پھیلتی رہی! رات جانتی تھی کہ وحشت و بربریت کا بازار گرم ہونے کو ہے! جری مردوں کا ٹولہ اور نہتی عورتیں! صحرا میں گڑے خیموں کو آگ لگا کے تماشا دیکھتے سرکش مرد اور جان بچاتی عورتیں اور بچے! بچیوں کے منہ پہ طمانچے مارنے والے بہادر مرد اور کانوں سے

Read more

حسین صرف پیاس کا نام نہیں!

”بیٹا مجلس میں جانے کے لئے تیار ہو جائیے“ ہم محرم میں منعقد ہونے والی یومیہ مجلس میں شرکت کے لئے جا رہے تھے اور چاہتے تھے کہ بچے بھی ساتھ چلیں۔ دونوں بچوں کے پاس نہ جانے کی ہزار تاویلیں تھیں۔ ”مولوی حضرات بہت چیخ چیخ کے بولتے ہیں جس سے کچھ سمجھ نہیں آتا اور سر میں درد الگ سے ہوتا ہے“ ”رسومات کا ایک ڈھیر ہے، علم اور ضریح تو ٹھیک ہے لیکن مہندی کی رسومات، حضرت

Read more

راولپنڈی کینٹ کی پُلی، مردانہ ٹرک اور خاتون ڈرائیور

آج ہم نے زور زور سے گاڑی کا ہارن بجایا اور کئی منٹ تک بجاتے ہی چلے گئے۔ ایک ایسی جگہ پہ جہاں دور دور تک ہارن کی آواز سنائی نہیں دیتی بلکہ ہارن بجانا بد اخلاقی میں شمار ہوتا ہے۔ یہ کارنامہ کرنے کے بعد ہمیں کچھ کمینی سی خوشی محسوس ہوئی کہ ہم عورتوں کو، مردوں کی اکثریت کم عقل ڈرائیور پکار کے ٹھٹے لگاتی نظر آتی ہے۔ کوئی گاڑی سڑک پہ غلط موڑ کاٹ لے، آہستہ چل

Read more

مردوں کی دنیا میں عورتوں کا گاڑی چلانا

مان لیا حضور، عورت بنی ہی اسی لئے ہے کہ اس پہ پھبتیاں کسی جائیں، حظ اٹھایا جائے، ایک آنکھ میچ کے، قہقہہ لگا کے! ہمارے لئے کوئی نئی بات نہیں کہ معاشرے کے طرز عمل سے واقف ہیں۔ یہی تو سنتے، سہتے زندگی کی منزلیں طے کرتے ہوئے اس عمر تک آن پہنچے ہیں۔ قلم اٹھانے پہ اس لئے مجبور ہوئے ہیں کہ دل پہ چوٹ سی لگی ہے۔ ایسا محسوس ہوا کہ اکیسویں صدی میں رہتے ہوئے بھی

Read more

ڈاکٹر رشید جہاں: انگارے والی یا سراپا چراغ؟

” ڈاکٹرنی نے مجھ سے میری عمر پوچھی میں نے کہا بتیس سال۔ کچھ اس طرزسے مسکرائی جیسے کہ یقین نہ آیا۔ میں نے کہا، مس صاحب آپ مسکراتی کیا ہیں؟ آپ کو معلوم ہو کہ سترہ سال کی عمر میں میری شادی ہوئی تھی اور جب سے ہر سال میرے ہاں بچہ ہوتا ہے۔ سوائے ایک تو جب میرے میاں سال بھر کو ولایت گئے تھے اور دوسرے جب میری ان سے لڑائی ہو گئی تھی۔ اور یہ دانت

Read more

اشفاق احمد کی "ماما سیمیں” اور ہمارے بچے

اسی کی دہائی میں نشر ہونے والا ڈرامہ "ماما سیمیں” دیکھا تو بانو قدسیہ اور اشفاق احمد کے نقطۂ نظر کو جانچنے کے لئے تھا لیکن احساس کا کوئی لمحہ ہمیں اپنے گریبان میں جھانکنے پہ مجبور کر گیا۔ "کیا ہمارے بچوں نے بھی یہی سوچا ہو گا؟ اسی طرح ماما طاہرہ کو برا بھلا کہا ہو گا جب وہ کبھی ہسپتال، کبھی سہیلیوں سے ملاقات اور کبھی دوسرے ملکوں کو روانہ ہو جایا کرتی تھیں”۔ بیسویں صدی غروب ہونے

Read more

بانو قدسیہ پتی بھگتی، اشفاق احمد پتنی بھگت کیوں نہیں؟

نیلم احمد بشیر نے پنڈورا باکس کھولاہے یا ایک ایسی پٹاری کا ڈھکن اٹھا دیا ہے جس میں برسہا برس کے خوابیدہ سوالات کلبلا کلبلا کے پھن پھیلا رہے ہیں۔ بانو قدسیہ اور اشفاق احمد کی تحریروں کی آئیڈیل عورت! کون ہے وہ آخر؟ بے جان، گونگی، ستی ساوتری، سر جھکائے، نگاہیں نیچی رکھے، اپنی خواہشات سے بے نیاز، ممتا کے شیرے سے لتھڑی، پتی ورتا، جی حضوری میں باکمال، لب پہ قفل لگائے، قربانی کے لئے ہمہ وقت تیار،

Read more

کرنال اور ملتان ایک گھر میں رہتے ہیں!

"میں لمحہ موجود میں سانس لیتا ہوں لیکن زندہ میں اس لمحے میں ہوں جب میں نے اپنی دھرتی، اپنے شہر کی مٹی کو آخری دفعہ دیکھا۔ میں اس وقت میں جیتا ہوں جب مجھ سے میرا گھر چھوٹا اور میں اپنے محلے، اپنے شہر، اپنی سرزمین سے جدا ہوا۔ مجھے آج بھی وہ گلیاں بلاتی ہیں جہاں میں اپنے دوستوں کے ساتھ ڈھلتی شام میں کھیلا کرتا جب تک سورج کی سنہری لو ملجگے اندھیرے میں نہ بدل جاتی۔

Read more

مرد کی آنر کلنگ آخر کیوں نہیں؟

رب کائنات! کیا مجھے دیکھ رہا ہے تو؟ کیا میری اذیت بھری سسکیاں پہنچ رہی ہیں تم تک؟ ماں تو ہے نہیں جسے میں اپنا ریزہ ریزہ جسم دکھاؤں۔ باپ بھی کچھ برس پہلے داغ مفارقت دے چکا کہ جس سے لپٹ کے میں اپنے دل کا حال کہوں۔ تین معصوم بھائی جو زمانے کی کھٹنائیوں سے انجان اپنی آپا کو ہر دکھ کی دوا سمجھتے ہیں، کیا سمجھیں گے بھلا؟ سنا ہے کہ تو شہ رگ سے بھی قریب

Read more

ازدواجی زندگی کی غلام گردشیں

وہ میرے سامنے بیٹھی رندھی آواز میں بول رہی تھی “ ڈاکٹر ! میرا دل چاہتا ہے میں خود کشی کر لوں “ “کیوں بھئی، کیا ہوا “ “ شادی کے بعد میری ساس نے ایک دن مجھے سانس نہیں لینے دیا۔ دن رات کام ہے اور طعن و تشنیع۔ سمجھ میں نہیں آتا کہ ہم لڑکیاں خوشی خوشی سولی کیوں چڑھ جاتی ہیں “ اور میں کچھ اور سوچ رہی تھی ! دنیا کے وجود میں آنے کے بعد

Read more

بے خواب آنکھوں، خاموش ہونٹوں اور ساکت دلوں سے مکالمہ

کیا نام ہو گا اس کا؟ بشیر؟ ناصر؟ احمد یا کامران؟ ‎کس پیشے سے تعلق رکھتا ہو گا؟ درزی؟ چھابڑی فروش؟ گداگر؟ موچی؟ کسان؟ یا نشہ گزیدہ آوارہ گرد؟ ‎ہم زندگی کی جس بھی سیڑھی پہ کامرانی کے جھنڈے گاڑیں، اس میں ہماری دن رات کی ریاضت کے ساتھ ساتھ کسی اور کی بے لوث قربانیوں کا لہو بھی شامل ہوتا ہے۔ ‎نہ جانے یہ خیال در دل سے اس وقت ہی کیوں ٹکراتا ہے جب اپریشن تھیٹر میں تیز

Read more

خانہ بدوشی میں نانی اماں والی عید؟

"اماں، عید کے دن میٹھے میں کیا بنائیں گی آپ؟” "ارے بیٹا تم لوگ تو ہو نہیں تو کیا اہتمام کروں، آئس کریم سے کام چل جائے گا” صاحب اپنوں سے سات سمندر دور رہنے کا قطعی یہ معنی نہیں کہ دور کی خبر ہی نہ لی جائے۔ سو یہ گفتگو عید سے ایک دن پہلے ماں بیٹی کے درمیان ہو رہی تھی۔ "ارے اماں، آپ سویوں کے بنا عید کیسے منا سکتی ہیں؟ بھول گئیں نانی اماں کی بنائی

Read more

پیٹرا کی گم گشتہ تہذیب اور صدیوں سے انتظار کرتی کھڑکی!

کرنل صاحب اور ان کی بیگم کو اندیشہ تھا کہ ہمارے تنہا جانے کی صورت میں کہیں ان کی اردنی مہمان نوازی پہ کوئی حرف نہ آ جائےاور اگر ہم ان بھول بھلیوں میں کہیں بھٹک گئے تو پھر کیا ہو گا؟ ہم نے بہتیرا کہا کہ ہم نگری نگری بھٹکنے والے جوگی اور بیراگی لوگ ہیں، ہم خانہ بدوشوں کو ہمارے حال پہ چھوڑ دیجیے۔ مگر صاحب ہماری کہاں سنی گئی۔ انہوں نے اپنی سب سے چھوٹی بیٹی اسلام

Read more

گیتوں میں گندھی اردن کی ایک شام!

عجیب سا اشتہار تھا! ” آپ کے ووٹ کی ضرورت ہے، دنیا کے نئے سات عجائبات کے چناؤ ميں حصہ لے کر اپنا ووٹ ڈالیے” ساتھ دی گئی فہرست میں ڈھیروں ڈھیر مقامات کے نام شامل تھے۔ ہم نے حیرت سے پڑھا اور سوچا، تو کیا وہ عجائبات قصہ پارینہ ہوئے؟ کوئز ٹیم کے کیپٹن ہونے کے ناطے بچپن کے تمام برس دنیا کے ساتوں عجائبات کا محل وقوع اور تفصیل یاد کرنے میں گزر گئے۔ جب ذہنی آزمائش کے

Read more

ہم سب کے مدیر کے نام کھلا خط!

محترم مدیر، ہمارا تیکھے پن کا شوق کچھ یوں ہے کہ چھٹتی نہیں یہ کافر منہ سے لگی ہوئی۔ چلیے، اتنا فائدہ تو ہوا کہ ہمارے کالم پہ آپ کے لعل وگوہر کی عنایت ہوئی۔  ہم نے اب تک "ہم سب” پر ایک سو پچانوے کالم لکھے اور آپ سے زیادہ کون جانتا ہے کہ ستر فیصدی کالم ہم نے جھوٹے سماجی رویوں کا نقاب نوچتے ہوئے لکھے ہیں۔ سماج اور معاشرت کا زہر عورت کو کیا سے کیا بنا

Read more

ماں کی بجائے ساس بن جائیے: بیٹی کے ایام سیدھے ہو جائیں گے!

 بیماری کا احوال بھی ہو چکا، ہارمونز اور الٹرا ساؤنڈ کے نتائج بھی سامنے میز پہ دھرے جا چکے اور اب مریضہ اور ان کی اماں کا ہم سے فکر آمیز سوال،  ” ڈاکٹر صاحب، کیا ماہانہ ایام باقاعدہ ہو جائیں گے ہم تو مختلف ہسپتالوں کے چکر لگا لگا کے اور دوا کھا کھا کے تھک چکے "  ہم حساب لگا چکے ہیں کہ مریضہ محض پولی سسٹک اووریز کا شکار ہے، وہ بھی ابتدائی طور پر۔ پولی سسٹک

Read more

عورتوں میں پولی سیسٹک اووریز کا قصہ کیا ہے آخر؟

ہفتہ واری کلینک تھا۔ چوبیس پچیس سالہ لڑکی اندر داخل ہو ئی، مائل فربہی، خوش شکل۔ “جی فرمائیے، میں کیا کر سکتی ہوں آپ کے لئے؟” ہم نے اس کے کرسی پہ بیٹھتے ہی پوچھا، “ڈاکٹر صاحب ، مجھے پی سی او کی شکایت ہے” “بیٹا، آپ اپنی تکلیف بتائیں گی مجھے” ہم نے مسکرا کے پوچھا، “جی، یہ ساری رپورٹیں ہیں میرے پاس پولی سیسٹک اووریز کی” وہ بولی، “وہ میں بعد میں دیکھوں گی پہلے آپ مجھے اپنی

Read more

ماسٹر سارنگ شر کا زناٹے دار تھپڑ: مزا آیا؟

بچپن گزرا، فاروق قیصر کے پروگرام کلیاں میں طنز و مزاح بھرے فقرے سن کے، کچھ سمجھ میں آتے، کچھ نہیں۔ انکل سرگم اور ہیگا اشاروں کنایوں میں بہت سے اسرار و رموز کھولتے۔ گھر کے بڑے ہر لفظ پہ لوٹ پوٹ ہو جاتے پر ہم تو ایک ہی جملہ ازبر کیے بیٹھے تھے، "کر لو جو کرنا ہے”۔ بہت بعد میں پتہ چلا کہ معروف دانشور خالد احمد گزشتہ صدی کے آخری برسوں میں ہفت روزہ آج کل کی

Read more

لمس کوئی سا بھی ہو، نہیں چاہیے!

مسافروں سے بھری ٹرین چھکا چھک دوڑتی چلی جا رہی تھی۔ زیادہ تر لوگ کھڑے تھے، کچھ سائڈ پہ نصب نشستوں پہ تشریف رکھتے تھے، ہر کوئی اپنے حال میں مست، اپنے آپ میں گم نظر آتا تھا۔ جب بھی کوئی سٹیشن آتا، کچھ لوگ اتر جاتے، کچھ سوار ہو جاتے لیکن کہیں بھی کوئی بدنظمی نظر نہ آتی۔ ہمارے ساتھ بیٹھی ہوئی خاتون کی گود میں ایک ننھا منا بچہ قلقاریاں مار رہا تھا۔ کبھی منہ میں ہاتھ ڈالتا،

Read more

زہرا ضمیرِ صدف میں بھی محفوظ نہیں

زہرا  صدف! تمہاری موت پہ کچھ لکھیں یا چپ رہیں۔ ستم یہ ہے کہ اعصاب شل ہو جانے سے لکھنے کی ہمت نہیں اور چپ رہنے کی صورت ضمیر کچوکے دیتا ہے۔ کیا قسمت پائی ہے ہم نے کہ یہاں نہ زینب محفوظ ہے، نہ صغرا مامون ہے اور نہ زہرا کو امان ملتی ہے۔ کیا لوگ ہیں کہ کہ نام میں علویت کا دعویٰ رکھتے ہیں اور اعمال میں سفلے پن کی آخری حد۔ تم موت کو گلے لگا

Read more

شہر بانو اور شہر زاد!

اماں کا ڈنڈا سر پہ تھا اور بیٹی کی دہائیاں! کچھ سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ ان دو محبت کرنے والیوں کو کیسے سمجھائیں کہ ہمارے بس میں کچھ نہیں! ایسا محسوس ہوتا ہے کہ سرمئی شام کا جھٹپٹا رات کی تاریکی میں ضم ہونے کو ہے، تبھی تو کہانیوں کی پٹاری سے کوئی دھیرے دھیرے سر اٹھا رہا ہے۔ وہ سب شامیں یاد آنے لگی ہیں جب ملتان کی فورٹ کالونی میں پانچ چھ سالہ ماہم گلی میں

Read more

اکھ وچ باقی نیر نئیں۔۔۔

ایک باپ کو بیٹی کی قبر پہ پچھاڑیں کھاتے دیکھ کے کچھ زخموں کے منہ کھل گئے اور پھر سے رسنے لگے ۔ ہم گزشتہ واقعات سے لگے زخموں کے تعفن اور سڑاند کو عارضی طور پہ فراموش کرتے ہوئے رہ حیات پر پاؤں گھسیٹنا چاہتے ہیں لیکن کوئی نہ کوئی منظر دانستہ موندی گئی آنکھ میں اس قدر ارتعاش پیدا کرتا ہے کہ ہم پھر سے بلکنے پہ مجبور ہو جاتے ہیں۔ ہمارا راگ پرانا ہے لیکن یقین کیجیے

Read more

فریڈا کاہلو: رنگوں کے جھولے میں بیٹھ کر آسمان چھونے والی عورت

پولیو کے ننھے وائرس سے ہونے والی جسمانی معذوری سے ابھی تن من سنبھلا نہ ہو کہ ٹریفک حادثہ جسم کو ادھیڑ ڈالے، خستہ حال رگ و ریشہ اور سوختہ بدن، کیسے جئیں اب؟ اور اس نے جواب ڈھونڈھ لیا! "اماں، چلیے فریڈا کوہلو کی تصاویر کی نمائش پہ چلتے ہیں” "ضرور، مجھے فریدہ کاہلوں سے ملنا ہے، نام تو بالکل پاکستانی ہے” ہم شرارت سے مسکرائے، "کیا کہہ رہی ہیں، کون فریدہ کاہلوں؟” "تم نہیں سمجھو گی، تم کیا

Read more

جانا مے خانے میں ثنا خوان تقدیس مشرق کا

کلاس ختم ہونے کے بعد اس سے پہلے کہ ہم تتر بتر ہوتے، کینیڈا سے تعلق رکھنے والی کیتھرین اچھل کے اپنی نشست سے کھڑی ہو گئیں، ” آج میری سالگرہ ہے سو آپ سب شام سات بجے مدعو ہیں " سب تھکے ماندوں میں جیسے کرنٹ دوڑ گیا، کچھ نے اونچا اونچا ہیپی برتھ ڈے گانا شروع کر دیا، کچھ تالیاں پیٹنے میں لگ گئے اور کچھ لگے تھرکنے! معاف کیجیے گا، یہ کہانیاں ہم نہیں کہتے، یہ کہانیاں

Read more

And The Doctor Went Dutch…

امتحان کی دبدھا میں گم ہم شاید اسی طرح بھٹکتے رہتے اگر جان نورسینی سے ملاقات نہ ہو گئی ہوتی۔ انہوں نے ہمارے تمام سوال سنے بلکہ تابڑ توڑ حملے برداشت کیے، مسکرائے اور کہنے لگے، ” آپ کو ایجوکیشن کی فیلڈ بلا رہی ہے” “ایجوکیشن”، ہم نے آنکھیں پٹپٹائیں، “آپ جانتے ہیں، ہم کل وقتی گائناکولوجسٹ ہیں، نوکری چھوڑ کے یونی ورسٹی کیسے جا سکتے ہیں؟” "آپ جیسوں کے لئے ہی تو ماسٹرخت ہے” “یہ ماسٹرخت کس بلا کا

Read more

امتحان ہم نے دیے اور امتحاں ہم نے لئے۔۔۔

ڈگری اور امتحان کا ذکر نکلا تو بہت سے گزرے زمانوں کی کہانیاں یاد آ گئیں. بتائے دیتے ہیں کہ امتحان ہماری کمزوری تب سے رہا ہے، جب سے سوچ کے دروازے وا ہوئے، چاہے وہ زندگی کا امتحان ہی کیوں نہ ہو! بچپن میں جب امتحانی پرچہ سامنے آتا تو دیکھتے ہی ایک خیال سنپولیے کی طرح سر اٹھاتا کہ آخر ان تین گھنٹوں کے کچھ سوال و جواب سے متمحن کیسے جان سکتا ہے، کہ ہم کون ہیں

Read more

A Pilot’s Degree? EXACT(LY)

ایک تھے نواب اسلم رئیسانی۔ بلوچستان کے وزیر اعلیٰ تھے جب فرمایا کہ ڈگری تو ڈگری ہوتی ہے، اصلی ہو یا جعلی۔ جملہ مفید مطلب تھا، خوب اچھالا گیا۔ پھر 2015 میں نیویارک ٹائمز کے صفحات پر شعیب شیخ نمودار ہوئے اور کوئی 140 ملین ڈالر کی جعلی ڈگریوں کا بین الاقوامی سکینڈل۔ شعیب شیخ ایک آزاد، غیر جانبدار اور محب وطن نیوز چینل بھی چلا رہے تھے۔ تو یہ طے پایا کہ بدعنوان میڈیا سیٹھوں نے ان کے خلاف

Read more

مجھے اپنی بیٹی کو قتل کرنا ہے!

” مجھے اپنی بیٹی کو قتل کرنا ہے” "ایسا کیا کر دیا اس نے؟” "وہ ایک لڑکے کی محبت میں مبتلا ہے، اس سے رہ و رسم رکھے ہوئے ہے، میں یہ برداشت نہیں کر سکتا” ” کیا قتل کے سوا کوئی اور راستہ نہیں؟” ” یہ میری عزت اور غیرت کا مسئلہ ہے، بیٹی نے باپ کی پگ اچھالی ہے” "مجھ سے کیا چاہتے ہو؟” "تم بحثیت وکیل مجھے بتاؤ کہ قتل کے بعد مجھے کم سے کم سزا

Read more

ہمارے ابا ڈکٹیٹر نہیں تھے

اگر ہم سے کوئی پوچھے کہ اپنے ابا کی شخصیت کی ایک خوبی بتاؤ جو نظر کو خیرہ کرتی ہو، صرف ایک! کیا کہیں گے ہم؟ سوچ کے سمندر میں غوطہ لگا کے کیا چننا چاہیں گے؟ ذہانت؟ آزادی نسواں کی حمایت؟ کتابوں کے رسیا؟ خلق خدا سے محبت؟ مصفح گفتار؟ مروت و انکساری؟ مہمان نواز؟ کشادہ دل؟ شفقت ومحبت؟ احساس کی دولت سے مالا مال؟ شریک حیات سے بے پناہ محبت؟ صلہ رحمی ؟ یک لخت دماغ میں ایک

Read more

ویانا کی گلیاں اور باپلو نیرودا کی نظم

ویانا یاد آ گیا! ایسا تو ہونا ہی تھا! وکٹر فرینکل کا ذکر ہوا تھا، ویانا تو یاد آنا ہی تھا! خوابوں کا شہر ویانا! شام دلفریب تھی! یورپ کے موسم گرما کی شام! آسٹریا سنٹر کے وسیع و عریض ہال کے سٹیج پہ کچھ لڑکیاں وائلن اور پیانو بجاتی تھیں گویا دل کے تار چھیڑتی تھیں۔ ہال میں ایسا سناٹا کہ سوئی بھی گرے تو آواز آئے، چار ہزار مندوبین کا مجمع! دنیا کے چورانوے ممالک سے چار ہزار

Read more

وکٹر فرینکل ۔۔۔ نازی عقوبت خانے سے زندگی کا راز چرانے والا مسیحا

"عجیب دن ہیں! اندر جان لیوا تنہائی ہے اور باہر چہار سو پھیلتا ہوا اندھیرا! نہ دل میں اترنے والی چاندنی ہے اور نہ ہی آنکھوں کو چھو جانے والی ستاروں کی جگمگاہٹ! دل پہ یاسیت چھائی ہے، روح مضمحل ہے، زندگی میں کوئی مفہوم نہیں رہا! میں مزید زندہ نہیں رہنا چاہتی!” نصف شب کا عالم اور فون اٹھانے پہ ایک کرب زدہ بھرائی آواز نے کچھ کلمات ادا کئے۔ فون کے دوسری طرف مہربان صورت شخص نے کچھ

Read more

ڈاکٹر نورین عامر: مسیحائی کی بے وفائی کا نوحہ

قیامت کی گھڑی تھی جو اس شام آئی اور جسم و جان کو مضمحل کرتے ہوئے یاد کے منظر نامے کا ایک بڑا حصہ اپنے ساتھ لیتے ہوئے رات کے تاریک دامن میں اتر گئی۔ ابھی تو آصف فرخی کا نوحہ پڑھ کے ہی سنبھل نہ پائے تھے کہ ایک اور شام غریباں آ ٹھہری! نئے گھر میں اترے دوسرا تیسرا روز تھا۔ ہر طرف سامان بکھرا پڑا تھا، کچھ کھلا کچھ بندھا۔ چھوٹی سی بچی گود میں، اوائل گرما

Read more

گڑیا گھر کے جھوٹ سے نجات کا وقت

مرد اور عورت! اس کائنات کا اولین تعلق، اٹل حقیقت اور ابدی سچائی! پچھلے دنوں سوشل میڈیا پہ بپا طوفان نے کچھ سوچنے پہ مجبور کر دیا ہے۔ ایک روتی التجا کرتی آواز گونج رہی ہے، ” میں ایک عورت ہوں اور میں نے وہ کیا ہے جو ہر شادی شدہ عورت کرتی۔ اپنا گھر بچانے کے لئے، اپنے شوہر کو دوسری عورت کے چنگل سے چھڑانے کے لئے میں نے یہ سب کیا ہے " ہم ہک دک سوچ

Read more

فیڈریکو گارشیا لورکا: آمریت شاعر کو قتل کر سکتی ہے، شاعری کو نہیں

زندگی میں بہت سے اجنبی راستے آپ کے قدم اپنی طرف بڑھنے ہی نہیں دیتے چاہے خواہش دل کا آزار ہی کیوں نہ بن جائے۔ پراسراریت کے دھندلکوں میں چھپی سرزمینیں اور ان دیکھی محبت کا فسوں! ایسا ہی کچھ معاملہ ہمارے اور سرزمین اندلسیہ کے درمیان پایا جاتا ہے۔ اندلسیہ اور قرطبہ، غرناطہ اور الحمرا! ہماری اندلس سے محبت میں کچھ ہاتھ تو اس آ ٹھ سو سالہ تاریخ کا تھا جو بچپن سے سنہرے ماضی کی شکل میں

Read more

آٹھ سالہ زہرہ شاہ بنام پیاری ماں

پیاری اماں! مجھے بہت دور جانا ہے بہت دور! ایک مہربان صورت والے انکل مجھے لینے آئے ہیں، انہوں نے میری انگلی تھام لی ہے۔ لیکن میں تمہیں دیکھے بنا نہیں جانا چاہتی تھی اماں! ایک دفعہ، آخری دفعہ تمہاری صورت دیکھنے کی ،تمہاری آغوش میں آنے کی تمنا تھی۔ انکل نے مجھے بتایا کہ میں اب تم سے گلے نہیں مل سکتی، میرے اور تمہارے درمیان دو دنیاؤں کا فاصلہ حائل ہے، میں تم سے جدا ہو چکی ہوں۔

Read more

جہاں بیٹی ماں کی کوزہ گری کرتی ہے

ایک عجیب سے خلجان میں مبتلا ہیں ہم! سمجھ ہی نہیں پاتے کہ اس سے ہمارا رشتہ ہے کیا؟ ایسا کب ہوا؟ احساس میں تبدیلی کب آئی،کچھ خبر نہیں۔ گزرے برسوں میں پلٹ کے دیکھتی ہوں تو احساس ہوتا ہے کہ بہت نامعلوم طور پہ ہم دونوں نے ایک دوسرے سے اپنی جگہ بدلی ہے اور روایتی رشتہ کہیں پیچھے رہ گیا ہے۔ زندگی کے اس سفر میں بے شمار ذمہ داریوں کی گھٹڑی زاد سفر کے طور پہ ساتھ

Read more

عورت کے خلاف جرم کے وکیل ۔۔۔ خود پوشیدہ یا ممکنہ مجرم ہیں

کسی خیر خواہ نے زہرخند مسکراہٹ کے ساتھ استہزائیہ جملہ اچھالا ہے،  "ہمارے ملک کی ہر عورت کاری، ونی یا سوارہ کا شکار نہیں ہوتی۔ہمارے ملک کی ہر عورت ریپ بھی نہیں ہوتی، ہمارے ملک کی ہر عورت کی قران سے شادی بھی نہیں ہوتی۔پھر اتنا واویلا کاہے کو؟ اتنا رونا دھونا کیوں؟” نہہیں معلوم حیرت ہے یا کرب، لیکن ہم انگشت بدنداں سوچ رہے ہیں کہ کیا کسی دوسرے پہ گزرے ظلم کی تکلیف محسوس کرنا عنقا ہو چکا۔

Read more

گھر کا راستہ بھول جانے والے کا جنم دن

میری تمہاری یہی کہانی ہے! ہمیں گوجرانوالہ سے محبت سی ہو گئی ہے، شاید کہ پرکھوں کا تعلق اس مٹی سے تھا! یہ وجہ ممکنات میں ہو سکتی ہے لیکن ہم سے پوچھیے تو اس محبت کا تار میرا جی سے جا ملتا ہے، جی وہی میرا سین والے دیوانے فرزانے میرا جی! میرا جی کی شاعری کے فسوں نے ہمیں دھیرے دھیرے اپنے حصار میں لیا۔ پھر ان کے اہلے گہلے الفاظ کی بھول بھلیوں میں کھو کے جی

Read more

میں (بھی) کرنل کی بیوی ہوں

‘میں کرنل کی بیوی ہوں’ نامی وائرل ہوتا وڈیو کلپ دیکھ کے دل اندر ہی اندر کلس رہا ہے۔ رہے نا ہم پھسڈی کے پھسڈی! مشہور ہونے کا ایک اور موقع گنوا دیا۔ گھر میں ایک چھوڑ، تین تین کرنل موجود اور ہم اس طنطنے سے بات کرنا سیکھ ہی نہ سکے کہ آج ہماری بھی وڈیو وائرل ہوتی اور ہم لاکھوں سکرینز پہ جلوہ فگن ہوتے۔ اب دل چاہ رہا ہے کہ لہرا لہرا کے گائیں، میں کرنل کی

Read more

ٹوکیو کے چھوٹے کیفے میں محبت کی آنچ پر پکا شوارمہ

جاپانی رسم الخط میں لکھے تمام بورڈز میں واحد اس دوکان کا بورڈ تھا جو انگریزی میں لکھا گیا تھا۔ کاماکورا کا عظیم بدھا دیکھنے کے بعد شکم کےاحتجاج پہ ہم اس دکان کی طرف کھنچے چلے جا رہے تھے جہاں کچھ گھنٹے قبل شوارمہ کی خوشبو نے ڈاکٹر فرح کے پاؤں میں بیڑی ڈالنے کی کوشش کی تھی! ہم دونوں اندر داخل ہوئے تو ایک زوردار آواز میں اسلام علیکم نے ہمارا استقبال کیا، ہم تو جیسے اچھل ہی

Read more

وبا کے دنوں میں عید کی خریداری

کورونا کی ستم کاریاں اپنی جگہ مگر عید کا تصور دل کو بالکل ویسے ہی گدگداتاہے جیسے ہم بچپن میں بے قراری سے عید کا انتظار کیا کرتے تھے۔ ہفتوں پہلے خریداری شروع ہوتی، رنگ برنگ کپڑے، ہم رنگ جوتے، پرس، کلپ اور جانے کیا کچھ۔ چاند رات گزرنے میں ہی نہ آتی اور اس کی طوالت دل کو بے چینی میں مبتلا کرتی۔ صبح کاذب کے ساتھ ہی اچھل کے بستر سے برامد ہوتے، عیدی کا تصور آنکھوں میں

Read more

کاما کورا میں بدھ کے مجسمے تلے رڈ یارڈ کپلنگ سے ملاقات

وہ بھی وہیں کھڑا تھا، جہاں ہم تھے! ہماری طرح ہی مبہوت، بدھا کے اس عظیم مجسمے کو دیکھتے ہوئے! درمیان میں کچھ فاصلہ تھا، کچھ زیادہ نہیں، صرف ایک سو پچیس برس! ہم کاما کورا میں تھے! ٹیکسلا سے ہمارا بندھن بہت سی یادوں سے بندھا ہے۔ بچپن میں ٹیکسلا میوزیم پہلی دفعہ سکول کے ساتھ جانا ہوا اور بہت بعد میں پہلی سرکاری نوکری ہی ٹیکسلا میوزیم کے سامنے بنے ہوئے مرکز صحت میں کی جہاں سرکار کے

Read more

آج ہمارا دن ہے!

دل میں کوئی چٹکی بھرتا ہے، کیا واقعی تمہارا دن ہے؟ تمہارا کیا کمال؟ یہ سہرا تو کسی اور کے سر سجتا ہے جس نے تمہیں اس سنگھاسن پہ لا بٹھایا۔ احسان اس ننھی پری کا جو پچیس برس قبل بنا کسی چاہت، خواہش اور تگ و دو کے ہمارے بطن میں آ ٹھہری۔ نتیجہ یہ ہے کہ آج ہم گردن تانے، انبساط کے عالم میں کہہ رہے ہیں کہ یہ ہمارا دن ہے! انصاف کا تقاضا تو یہ ہے

Read more

مولانا ضمیر اختر نقوی عرف ’یہ تو ہو گا‘

رہ رہ کے تاؤ آ رہا ہے اپنے آپ پہ! تیس برس ہو گئے ڈاکٹر بنے، پچیس برس ہو گئے گائنی میں کام کرتے! دنیا کی مختلف یونیورسٹیوں سے سائنس میں ڈگریاں حاصل کر ڈالیں، ہزاروں مریضوں کا علاج کر لیا، لیکن پھر بھی ہم نالائق کے نالائق ہی ٹھہرے! موئے انگریزوں کی کتابیں پڑھ پڑھ کے اپنے ہاں کا جوہر قابل ہمیں نظر ہی نہیں آیا کہ زانوئے تلمذ تہ کرتے اور علم کے کچھ نادر موتی چن لیتے۔

Read more

ایک دھوپ کا ٹکڑا تھا، ایک بدلی کی چھایا تھی

رات تاریک تھی، بے حد تاریک! دبی دبی سسکیاں، بے آواز گرتے آنسو، لرزتا بدن، تنہائی، یادیں، فراق کا کرب، کھو دینے کا غم، کیا تھا جو اس رات میں نہیں تھا! اجنبی مسافروں کے درمیان تنہا، ایک جوان عورت، چھوٹی سی بچی گود میں سمیٹے، آنسوؤں کے ہار پروتی اپنے آپ سے باتیں کرتی تھی۔ آخر یہ بس اتنی آہستہ روی سے کیوں چلتی ہے؟ بار بار رکتی کیوں ہے؟ ملتان پنڈی سے اس قدر دور کیوں ہے؟ کاش

Read more

میرے ابا جی، حقہ اور عورت کا مرتبہ

ابا نے اپنا امتحان امتیاز سے پاس کیا، پورے نمبر لے کے، دس میں سے دس! آپ نے جدید دنیا کا ایک فیشن ‘شیشہ’ تو دیکھ ہی رکھا ہو گا! کیا شیشہ پینے کا اتفاق بھی ہوا یا دیکھنے کی حد تک ہی شناسائی ہے؟ ماضی کی گلیوں میں جھانکتے ہوئے اگر کبھی ہم یہ کہہ بیٹھیں کہ ہم نے تو بچپن میں ہی شیشہ اصلی شکل میں برت لیا اور بھرنا بھی سیکھ لیا تو بچے آنکھیں پھاڑ کے

Read more

ٹوکیو میں چیری بلاسم، ڈاکٹر فرح اور ڈاکٹر یاسوشی

چیری بلاسم کا موسم پھر آن پہنچا! ہر برس ان پھولوں کو دیکھ کے ہم کہیں اور، بہت دور پہنچ جاتے ہیں۔ وہ چیری بلاسم سے لدے ہوئے درخت کے نیچے ہمارا کھڑا ہونا، ہوا کی سرسراہٹ سے ڈھیروں پھول زمین پہ گرنا، جن میں سے کچھ ہوا میں تیرتے ہوئے ہمارے بالوں میں اٹک جاتے تھے۔ "اماں! اماں! دیکھیے تو سہی” وہ دور سے پھولی سانسوں کے ساتھ ہماری طرف بھاگی چلی آ رہی تھی، ہاتھ میں ایک لفافہ

Read more

کراچی میں شوہر اور ساس کے ہاتھوں جلائی جانے والی لڑکی کا پرسہ

نہ جانے دروازے پہ کون یہ لفافہ چھوڑ گیا ہے۔اٹھا کے چاک کرتے ہوئے سوچتی ہوں۔ بظاہر کوئی دعوت نامہ معلوم ہوتا ہے۔ "شاہ لطیف ٹائون، کراچی میں چولہا پھٹنے سے جھلس کے مر جانے والی کے آنسو پونچھنے کے لئے ایک تقریب کا اہتمام کیا گیا ہے۔ آپ کی آواز نقار خانے میں طوطی کے مثل ہی سہی لیکن ہمارے زخموں پہ پھاہا رکھنے کے مانند ہے۔ ہماری خواہش ہے کہ آپ تشریف لائیں۔ بے بسی، درد، رنج و

Read more

ڈاکٹر لورنا برین نے خود کشی کر لی!

ہم کہانیاں سنتے ہیں اور دیکھتے بھی ہیں، دن رات، صبح شام! رنج و الم، مظلومیت، محکومیت، بےبسی، درد، انہونی کا ڈر، بے چینی، مجبوری، آس و نراس، پریشانی، امید و ناامیدی، موت و زندگی، خوف، ڈپریشن، انگزائٹی! کیا ایسا ممکن ہے کہ ہم یہ کہانیاں وہیں کے وہیں بھلا دیں؟ ہم وہی رہیں جو داستان سننے اور دیکھنے سے پہلے تھے۔ ہم گھر کو لوٹیں تو زندگی کا وہ ورق اپنی کتاب ہستی سے حذف کر کے دہلیز پار

Read more

بے حیا عورتوں سے ملاقات

میں عورتوں کے ہجوم میں گھری ہوں۔ مضمحل، تھکی ماندی، مضروب عورتیں …کرب و اذیت چہرے پہ نمایاں! ہر ایک میرا دامن پکڑ کے کچھ کہنے کی کوشش میں ہے۔ ہر کسی کی کوشش ہے کہ وہ اپنا درد کہہ ڈالے جو اسے مصلوب کیے ہوئے ہے۔ ہر عورت اپنا تعارف کروانا چاہتی ہے! یہ عورتیں نہیں ہیں، زندہ لاشیں ہیں یا شاید مردہ کہانیاں! آوازیں ہی آوازیں! میں قبر میں مردہ بے جان حالت میں ریپ ہونے والی عورت

Read more

اللہ طارق جمیل کے لئے آسانیاں پیدا کرے

محترم طارق جمیل بہت مشکل میں ہیں۔ مقدمہ ایسا کمزور ہے کہ منصف سے نظریں چرا کر اپنے ہی موکل سے داد چاہتے ہیں۔ چاہ اور بیزاری کے چاہ ماروت میں جھولتے حضرت، زمین پر اپنی نارسائی کی خجالت سے گریزاں، فلک کی پہنائیوں میں اپنے ترسیدہ تخیل کا پیوند ٹانکتے ہیں۔ ہجوم طفلاں کی آرزوئے خام کو مہمیز کرتے محترم کے بیان کا مرکزی خیال تو عورت ہی ہے۔ بات صرف اتنی ہے کہ دنیا میں رہنے والی انہیں

Read more

ہم نشینی اگر کتاب سے ہو۔۔۔

ڈاک سے ایک پارسل موصول ہوا ہے ۔ میں بے صبری سے کاغذ چاک کرتے ہوئے پارسل کھولتی ہوں۔ بیچ میں محبت کا تحفہ ہے جو ایک دوست نے اپنی دوستی کے بیج کی نمو کرتے ہوئے بھیجا ہے۔ ہر تحفہ کیسا بھی ہو، چاہے جانے کا احساس دلاتا ہے لیکن کچھ تحفے تو دل کے تار چھیڑ دیتے ہیں۔ ہم نے آنکھ کھولی تو گھر میں کتابیں ہی کتابیں تھیں۔ مذہب، ادب، فکشن، نان فکشن، جاسوسی، تاریخی، ڈائجسٹ، بچوں

Read more

۔۔۔ کی گود میں حور دیکھ کر

"پردہ ہٹے گا آہستہ آہستہ، سامنے تخت پہ ایک لڑکی کہنی سے ٹیک لگائے نیم دراز ہو گی۔ اس کے جسم پہ سو جوڑے ہوں گے، ہر جوڑا الگ نظر آتا ہو گا۔ ہر جوڑے کے لحاظ سے چہرے پہ میک اپ کی لہریں لگی ہوں گی۔ ہر جوڑے کی خوشبو الگ مہک رہی ہو گی۔ ہر جوڑے کا ڈیزائن الگ الگ نظر آئے گا۔ میرے کرتے کے نیچے بنیان نظر نہیں آتی (ہنسی) اس کے سو جوڑے الگ الگ

Read more

کورونا آیا ۔۔۔ اور زمانے یاد آئے

لاک ڈاؤن کی مدت بڑھا دی گئی ہے۔ہم گاڑی چلاتے ہوئے مریض دیکھنے جا رہے ہیں اور گاڑی میں ایک خوبصورت آواز گونج رہی ہے، شہر خالی، خانہ خالی، کوچہ خالی، جادہ خالی یوں لگتا ہے شاعر ہمارے ساتھ والی نشت پہ براجمان چاروں طرف دیکھ رہا ہے۔ چہار سو پھیلی خاموشی، ویرانی، تنہائی اور خالی پن کا درد قلم پہ الفاظ کی صورت اتر آیا ہے۔ وبا کے کارن شاعر کی چشم تصور مجسم ہونے کا کیا یہ سبب

Read more

زندگی کے کھیل میں پہلا ایکٹ

اگر ہم یہ کہیں کہ ہم زندگی کے کھیل میں شامل وہ فنکار ہیں جن کے سامنے پہلا اور آخری ایکٹ کھیلا جاتا ہے تو غلط نہ ہو گا۔ ہم برسہا برس سے اس کھیل میں ایک ہی کردار نبھائے چلے جا رہے ہیں ہر دن، ہر لحظہ، ہر وقت! دنیا کے سٹیج سے پردہ اٹھتا ہے، نیا فنکار قدم رکھتا ہے۔ پہلی چیخ بیتھوون کی سمفنی کی مانند سماعت میں رس گھولتی ہے اور ہمارے دل کی کلی کھل

Read more

دیکھا ایک خواب …  امیتابھ سے ایک ملاقات

وہ ہمارے آگے آگے ڈگ بھرتا جا رہا تھا۔ طویل قامت، دبلا پتلا، عام سا پاجامہ قمیض پہنے، عام سا آدمی۔ لیکن کچھ تو تھا کہ نزدیک سے گزرنے والا ہر شخص پہلی اتفاقی نظر کے بعد چونک کے دوباره دیکھتا، چہرے پہ مسکراہٹ پھیل جاتی اور ہاتھ ہلا دیتا۔ جواباً طویل قامت کا سر خم ہوتا، لیکن چلنے کی رفتار سست نہ پڑتی۔ ہم ہانپتے کانپتے ایک ہاتھ میں بیگ، دوسرے میں لیپ ٹاپ سنبھالے اس کے پیچھے پیچھے

Read more

اجنبی قصبہ، بوگن ویلیا کی بیلیں اور عطااللہ کی کالی قمیص

یورپ کا ایک سرد دن، نہروں, پلوں پھولوں اور ہریالی سے سجا قصبہ، قدامت کی جھلک لئے، بنچوں پہ بیٹھے اخبار پڑھتے عمر رسیدہ لوگ، سیاحوں کی ٹولیاں! جہاں دور دور تک کوئی ایشیائی نظر نہ آتا ہو، ایسے میں کانوں سے ایک بھولے بسرے گیت کے بول ٹکرائیں، ” قمیض تیری کالی، سوہنڑے پھلاں والی” تو یقیناً آپ کا بھی وہی حال ہو گا جو ہمارا ہوا۔ پاؤں شل ہو چکے تھے لیکن منزل آ کے ہی نہیں دے

Read more

تھا زندگی میں مرگ کا کھٹکا لگا ہوا

کیا موت میں بھی حسن کی جھلک ہوا کرتی ہے؟ کیا کبھی ایسا ہوا کہ موت کسی کی من چاہی مراد ٹھہری ہو اور آنگن کے ادھ کھلے کواڑ سے اندر جھانکنے پہ کسی کی منتظر آنکھ اسے دیکھ کے چمک اٹھی ہو؟ کورونا کے ہاتھوں موت کو گلے لگانے والوں کے اعدادوشمار بڑھتے ہی چلے جاتے ہیں۔ موت کے بےرحم پنجے ہر طرف گڑے دیکھ کے دل دکھ میں لپٹی افسردگی اوڑھ کے کبھی ٹھہرتاہے تو کبھی سرپٹ دوڑتا

Read more

کوئٹہ کے مسیحا اور ایوان اقتدار کی قربان گاہیں

ہم تو خیر پردیس میں ہیں اور دیس کی خیر مناتے ہیں۔ کورونا کی آفت نے دیس بدیس کی تفریق مٹا ڈالی ہے۔ دو بیٹیاں نیو یارک میں ہیں اور نیویارک میں کورونا نے آندھ اٹھا رکھی ہے۔ یہاں اومان اور خلیج کے دوسرے ممالک میں وبا کی شدت اگرچہ نسبتاً کم ہے لیکن معمولات زندگی معطل ہیں۔ یہ اور قصہ ہے کہ میڈیکل کے شعبے سے وابستہ افراد کے لئے لاک ڈاؤن کی سہولت میسر نہیں ہے بلکہ ہنگامی

Read more

آسیب زدہ نیویارک میں محصور بیٹی کے نام

جان مادر! تمہارا خط پڑھا! دل کی دھڑکنیں بے تریتب ہوئی جاتی ہیں۔ بے آواز آنسو گریبان بھگوتے ہیں، کرب سانس نہیں لینے دیتا۔ سوچتی ہوں، گہرے احساس کا یہ روگ اس عمر میں آخر کیسے لاحق ہوا تمہیں ؟ پھر خیال آتا ہے تمہارا کیا دوش؟ تم نے تو زندگی کو اس دن سے برتنا شروع کیا جب تم ماں کے بطن میں تھیں۔ تم زندگی کے اس سفر میں شروع ہی سے ماں کی ہمرکاب رہیں، ننھی عمر

Read more

قیدی پرندے کی بات جاننے والی شاعرہ: مایا اینجلو

ماں! یہ سچ ہے تمہیں میرے لئے بنایا گیا تمہاری آواز مجھے سکون بخشتی ہے تمہارے بازو مجھے جھلانے کے لئے تخلیق کئے گئے تمہارے جسم کی مہک مجھے معطر کرتی ہے ماں! تم مجھے سمجھتی تھیں اور میں تمہیں جانتی تھی تمہیں لگا کہ تم میری رکھوالی کرتی تھیں لیکن میری نظر تمہارا تعاقب کرتی تھی ہر ایک لمحہ تمہاری مسکراہٹ، تمہارا غصہ اور تمہاری غیر موجودگی میں میں تم بننے کی کوشش کرتی جیسے تم گنگناتی تھیں جیسے 

Read more

مسیحا سے سپاہی تک: حلف اپنا اپنا

شام کا جھٹپٹا پھیل رہا ہے۔ مضمحل سورج ڈوبنے کو ہے۔ تھکی ماندی دھوپ کی پیلی کرنیں اور آسمان کی ماند پڑتی نیلاہٹ ایک اداسی بھرا منظر کینوس پہ بناتی ہیں۔ پرندے گھونسلوں کا رخ کر رہے ہیں۔ فضا میں جامد سناٹا ہے گویا کائنات تھم سی گئی ہے۔ میں پورچ میں کھڑی ہوں۔ لان میں میرا پسندیدہ برگد کا درخت چپ چاپ کھڑا ہے۔ جانے کس سوچ میں گم ہے۔ بوڑھے درخت کی عمر کی گواہی لٹکتی ہوئی جٹائیں

Read more

وبا زدہ نیویارک میں مقیم بیٹی کا خط

اماں! فضا میں موت رقص کر رہی ہے، چہرے پہ مکروہ ہنسی سجائے، دانت نکوسے زندگی پر جھپٹنے کی کمینی خوشی موت کے بھیانک ہیولے میں چھپائے نہیں چھپتی۔ جان لیوا موسیقی کی آواز تیز ہوتی ہے، وہ گھومتی ہے تیز اور تیز، چاروں طرف۔ سرد ہوائیں چلتی ہیں، انسان پتھر کا ہو رہا ہے، تنہائی جان لیوا ہے۔ آسمان کا رنگ بدل سا گیا ہے۔ میرے کمرے کی چھوٹی سی کھڑکی سے آسمان کا ایک ٹکڑا جھانکتا ہے۔ نیلاہٹ

Read more

ایک طبیب کی حکایت: کیمیا گر سے مسیحائی تک

کورونا کے ہر طرف چرچے سن کے کہیں آپ اوبھ تو نہیں گئے ؟ ہمارا تو کچھ ایسا ہی عالم ہے۔ مریض دیکھتے دیکھتے بے اختیار سوچے جاتے ہیں کہ آفت کی گھڑی میں دل بہلنے کا کچھ تو سامان ہونا چاہئے، امید کا الاؤ روشن رہنا چاہیے۔ بالکل اسی طرح جیسے تاریک راتوں میں بھٹکے ہوئے مسافر کو دور کہیں سے ٹمٹماتی لو زندگی کی نوید سنا دے۔ فیض صاحب کا قلم بھی تو یہی کہتا تھا کہ ویرانے

Read more

پاکستان میں ڈاکٹر اور طبی عملہ: لاٹھی چارج سے سیلوٹ تک

آنسو گیس کے گولے پھٹ رہے تھے، فضا میں پھیلی گیس آنکھوں، ناک اور حلق میں گھستی تھی۔ آنکھوں سے پانی بہہ بہہ کے سامنے کے منظر کو دھندلاتا تھا۔ کھانسی تھی کہ رکتی نہ تھی، ہر سانس جسم پہ قرض بنا جاتا تھا۔ آنسو گیس ک چھاؤں میں لاٹھیاں برس رہی تھیں۔ برسانے والے ہر گز نہیں دیکھتے تھے کہ لاٹھی کھانے والے نہتے بھی تھے اور اس ملک و قوم کا مستقبل بھی۔ نہ ہی وہ یہ سوچتے

Read more

مفتی منیب کا طنبورہ

ابتلا کا دور ہو، اپنوں سے دوریاں ہو، تو دل متضاد سی کیفیات کا شکار رہتا ہے۔ جہاں دیس سے آنے والی خبر دکھ دیتی ہے کہ امراء کے لئے اپنی زندگی کا معنی مختلف اور غریب کی کٹیا میں جلنے والے چراغ سے کچھ سروکار نہیں۔ غریب کی زندگی محل میں لگنے والی موری کی وہ اینٹ ہے، جو سرک بھی گئی تو دوسری لگ جائے گی۔ وہاں مفتی منیب کی نادان دوستی بہت سے سوال جنم لیتی ہے۔

Read more

اک عشق کا غم آفت اور۔۔۔ پھر کورونا کے خود ساختہ طبیب

روم جل رہا تھا، آگ کی لپٹیں آسمان کو پہنچ رہی تھیں اور رومن شہنشاہ نیرو کی بانسری مدھر تانیں بکھیر رہی تھی۔ اب کیا کہیے کہ ہمیں بانسری کی لے ہمیشہ رگ جاں سے بہت قریب محسوس ہوئی یوں جیسے جیون کی رمزیں کھولتی یہ کوک ہمیں کہیں اور، کہیں دور لے جاتی ہو۔ شاید یہی وہ کشش تھی جو ہمیں اسی کی دہائی میں وائی ڈبلیو سی اے  کے میوزک سکول تک لے گئی۔ گرمی کی تپتی دوپہروں

Read more

حاکمیت مردوں کی ہے تو عورت ریپ کیوں ہوتی ہے؟

23 مارچ ہے۔ ٹھیک 80 برس پہلے ہندوستان کے مسلمانوں نے تقسیم کا مطالبہ کیا تھا۔ یہ مطالبہ تسلیم ہو گیا، دو ملک وجود میں آ گئے لیکن اس تقسیم کے اسکرین پلے سے آج تک لہو ٹپک رہا ہے۔ لہو جو شریانوں کو کاٹ کے بہایا جاتا ہے۔ لہو جو عزتوں کی ہولی کھیل کر آنکھوں کے راستے ٹپکایا جاتا ہے۔  ایک کتھا سنانا چاہتے ہیں ہم! یہ کہانی سات دہائیوں سے کہی جا رہی ہے لیکن اذیت ہے

Read more

دیوار: محبت کرنے والی آنکھ کی بے بسی ہے

ژاں پال سارتر کی کہانی دیوار پڑھی ہے آپ نے؟ برا نہیں مانیے گا۔ میں نے آپ سے گلزار کی فلم غالب دیکھنے کی تصدیق نہیں چاہی۔ میں بھی آپ ہی کی طرح نیم خواندہ ہم وطن ہوں۔ مجھے خود ساختہ شاعر بن کے اپنی ہی شاعری کا بے معنی پیش لفظ لکھنا نہیں آتا۔ شریک جرم نہیں ہوں، میں جرائم پیشہ لوگوں کو بھائی نہیں کہتی۔ قوم کا دستور چرانے والوں کی اطاعت نہیں کر سکتی۔ میں ٹیلی ویژن

Read more

پیرس کی ایک بھیگی رات، اور اجنبی گھر

گہری نیند تھی، پر آنکھ کھل گئی۔ فضا میں جلترنگ کا شور تھا جو روح کی گہرائیوں میں اتر رہا تھا۔ کمرے میں بہت ہلکی روشنی تھی اور چھت پہ بنی ہوئی شیشے کی کھڑکی پہ ساز بج رہا تھا۔ سارے کے سارے سر۔ بہت لطف انگیز کیفیت تھی، دل چاہ رہا تھا وقت کا سمے تھم جائے۔ کچھ مہینے پہلے کی بات ہے، بڑی بیٹی نے ذکر کیا کہ اس کو اپنے ماسٹرز کے سلسلے میں کچھ دنوں کے لئے پیرس جانا ہو گا۔ ہم کافی سال پہلے بچوں کے ساتھ وہاں جا چکے تھے۔ چونکہ چھوٹی بیٹی اس وقت بچی تھی اس لئے فورا مچل گئی کہ اس کو بھی بہن کے ساتھ جانا ہے۔

اب مچلنے کی باری تھی ہمارے دل ناداں کی، کہ دل ڈھونڈتا تھا فرصت کے رات دن۔ چھٹی کا جدول دیکھا تو پتہ چلا کہ ہم بھی دل کی مان سکتے ہیں سو طے یہ پایا کہ ہم تینوں ماں بیٹیاں پیرس یاترا کو نکلیں گی۔ صاحب اور صاحب زادہ، دونوں گھر ٹھہرنے کے لئے تیار تھے۔

Read more

قبولہ شریف کے گدی نشین کا کینڈی کرش معجزہ

تکبر، رعونت، بے نیازی، بے حسی اور سنگدلی کی جیتی جاگتی تصویر! مسند پہ اپنے آپ کو دیوتا سمجھ کے براجمان، اپنے جیسوں سے ہی اپنے ہاتھ اور پاؤں پر بوسوں کی بارش، سجدہ ریزی، اور ان کے خون پسینے سے کمائے ہوئے سکوں کی نذرانے کے طور پہ وصولی۔  ایسی شان بے نیازی کہ فون پہ اپنی دلچسپیوں میں محو اور محویت کے اس عالم میں اپنے مفاد پہ ایسی نظر جیسے اڑتی چڑیا کے پر گنے جائیں۔ ہزار

Read more

چودہ سالہ بچی کے جسم کی مرضی

لیجیے عزیزان من! ایک اور کم عمر عورت کے جسم نے اپنی مرضی کر ڈالی! راولپنڈی کے علاقے رتہ امرال کی رہائشی چودہ سالہ بچی ماں کے درجے پہ فائز ہوئی اور اپنے جیسی ایک اور بچی کو جنم دے دیا۔ گویا ایک اور عورت زمانے کی گردش یا کسی اور گھاگ شکاری کا شکار بننے کے لئے اس جنگل میں تشریف لے آئی۔ چودہ برس کی بچی کے جسم کو روندنے کے نتیجے میں بچی کی پیدائش کا سہرا

Read more

کرونا سے بچنے کے لئے احتیاطی تدابیر

دونوں بیٹیوں کی فکرمندی سے بھرپور مشترکہ کال تھی!
” اماں میری یونیورسٹی بند ہوگئی اب باقی کلاسیں آن لائن ہوں گی“
” میرے دفتر نے آنے سے منع کر دیا، اب گھر سے بیٹھ کے کام کرنا ہو گا“

”اماں! آپ لوگ کیا کر رہے ہیں؟ “ سوال داغا گیا،
” بیٹا، ہم لوگ کمپیوٹر پہ بیٹھ کے مریض دیکھنے سے تو رہے۔ ہمارا تعلق اس پیشے سے ہے جو کرونا کے مریض کو سامنے پا کے بھاگنے کی بجائے اس کا علاجکرے گا“
” اماں اپنا خیال رکھیے گا“

اب خیال رکھنے میں کیا کیا احتیاطی تدابیر کی ضرورت ہے؟ ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے قارئین بھی جان لیں!

Read more

میرا جسم، میری مرضی: گولڑہ شریف کے تین بھائی اور ایک بہن

عورت مارچ سے چہار سو گونجتے متنازعہ نعرے “میرا جسم، میری مرضی” کے بعد ہم پہ ایک شکریہ واجب ہو گیا ہے! اور یہ شکریہ ادا کرنا ہے گولڑہ شریف راولپنڈی کے رہائشی ان باریش بھائیوں کا جنہوں نے ثابت کر دیا کہ اس نعرے کی صداقت اور اصلیت کیا ہے اورہمارے معاشرے کی مجموعی حمیت و غیرت کہاں کھڑی ہے؟ خبر پچھلے برس کی ہے لیکن جب بھی پڑھیں جسم و روح کو ریزہ ریزہ کرتی ہے۔ دل تھام

Read more

میرا جسم میری مرضی: فحش نعرہ نہیں، انسان ہونے کا اعلان ہے

"میرا جسم میری مرضی، نہایت بیہودہ اور واہیات نعرہ ہے، اس کے الفاظ فحش ہیں، آپ اس کی حمایت کیوں کر رہی ہیں؟” یہ ہے وہ پیغام جو ہمیں دنیا کے ہر کونے سے موصول ہو رہا ہے۔ دوست احباب، خاندان، ہم جماعت، قارئین، ہم سے پوچھتے ہیں کہ اب تک تو ہم اچھے بھلے ایک “اچھی” عورت کی طرح جیے جا رہے تھے۔ پھر یہ کایا کلپ، آخر کیوں؟ ہم جواباً ہنس پڑتے ہیں اور سوچتے ہیں کہ کوئی

Read more

چڑیل عورتیں اور ایک بے چارہ غیرت مند مرد

کمال ہے بھئی ، ہم تو شدید حیرت کا شکار ہیں آج کل! کسی شخص کا انتہائی زہر آلود لہجہ اور چھلنی کرتے گستاخ الفاظ ہوں، گھمنڈی انداز ہو، کسی اور کو فکری اختلاف کی صورت میں انسان ہی نہ سمجھے، پھر بھی دیوتا ہی سمجھا جائے، پھر بھی چاہا جائے۔ معاشرے کے مرد و زن کی ایک بڑی تعداد اس کے حق میں خم ٹھونک کے میدان میں اتر آئے اور تاویلات کا ڈھیر لگا دے کہ حضور سے

Read more

خلیل الرحمن قمر نے اپنی اصل شکل دکھا دی

ہمیں قطعی حیرت نہیں ہوئی کہ کس آسانی سے تم نے کروڑوں عوام کے سامنے منہ در منہ مغلظات بکیں۔ ہم اس لئے شانت رہے کہ ہمیں علم ہے ہر کمزور مرد کے پاس جب دلائل کی کمی ہو جائے، کہنے کو کچھ نہ رہے اور مردانگی جوش مارے تو منہ سے ایسے پھول ہی جھڑا کرتے ہیں۔ ہمیں ان الفاظ کے سننے پہ غم بھی نہیں ہوا کہ ہمارے معاشرے کی خواتین کی اکثریت ایسے بدصورت پھول اپنے دامن

Read more

اس عاشقی میں عزت سادات بھی گئی

پچاس کے پیٹے میں ہوں، بالوں میں چاندی چمک رہی ہے، نجیب الطرفین سید ہوں، معزز پیشے سے تعلق رکھتی ہوں، ہزاروں مریض دیکھ چکی ہوں، ہزاروں ہی شاگرد ہیں کہ ڈاکٹری کے طلبا وطالبات کو پڑھاتی بھی ہوں۔ ادب سے محبت بچپن سے لیکن کوچہ قلم گری میں حال ہی میں قدم رکھا ہے۔

معاشرے کی اندھی حقیقتوں اور برہنہ سچائیاں ہمیشہ سے تکلیف دیتی تھیں۔ لوگ ایک ہی طرح پیدا ہوتے ہیں، ایک ہی قسم کے ماحول میں پرورش پاتے ہیں مگرکوئی فرعون کے گھر سے موسی بن کے نکلتا ہے اور کو ئی نبی کی اولاد ہو کے بھی باپ پہ یقین نہ رکھتے ہوئے کشتی میں سوار نہیں ہوتا۔ کچھ کا مقدر پاتال کیوں ہوتا ہے۔ ہابیل کون بنے گا اور قابیل سی ملامت کس کے حصے میں آئے گی، کون دار پہ چڑھے گا۔ زہر کا پیالہ کون پیے گا۔

Read more

سراج الحق کی بیعت کا اعلان: میرا جسم تمہاری مرضی

ہم سراج الحق کے مداح تو پہلے سے تھے لیکن اب تو معتقدین میں شامل ہو گئے، جب سے انہوں نے "میرا جسم میری مرضی” جیسے بے ہودہ نعرے کے خلاف ملک گیر مہم چلانے کا اعلان کیا ہے۔ آخر یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ چار بیویوں، بے شمار لونڈیوں اور ستر حوروں کا نجات دہندہ اس بے ہودہ نعرے کو معاشرے میں قبولیت کی سند بخش دے۔ دیکھیے نا، آج تک تو عورت تفسیر تھی  ” میرا جسم

Read more

پنجابی، پنجابی بولنے سے کیوں شرماتے ہیں

اماں! آپ ہم سے پنجابی کیوں نہیں بولتیں۔ آپ نے ہمیں سکھائی بھی نہیںمیری امریکہ میں جرنلزم پڑھنے والی، فر فر انگریزی بولنے اور لکھنے والی بیٹی، سوالیہ نشان بنی کھڑی تھی۔” آپ کو کیسے خیال آیا بیٹا؟ “” اماں! وہ خالو عرفان ملک ہیں نا، پنجابی کے شاعر اور آپ کی دوست کے میاں۔ میں جب بھی ان کے گھر جاتی ہوں وہ مجھ سے پنجابی میں بات کرتے ہیں۔ اور مجھے نانی ماں کی یاد آتی ہے۔ وہ مجھ سے ہمیشہ پنجابی میں بات کرتی تھیں نا“اس سوال نے دماغ کے بہت سے نہاں دریچوں کو وا کر دیا، ماضی میں جھانکنا عذاب ہوتا ہے لیکن بعض دفعہ یہ کھڑکی خود بخود کھل جاتی ہے

Read more

اے سے ایپل، بی سے بال۔۔۔

ایک چھوٹی سی بچی زور زور سے اپنا سبق دہرا رہی تھی اور ہم سوچ رہے تھے، اے سے ایپل وہ آموختہ ہے جو ہر کسی نے اپنی زندگی میں کبھی نہ کبھی ضرور یاد کیا ہوگا۔ اے (A) انگریزی حروف تہجی کا پہلا حرف، جس کا ذکر ہمارے معاشرے میں بہت کثرت سے کیا جاتا ہے۔ والدین کو بچوں کے لئے ہمہ وقت اے گریڈ کی تمنا ہے، شہریوں کو ہر چیز اے ون چاہیے، سیاسی فنکاروں کو زنداں

Read more

سن یاس؟ غم نہ کر، زندگی پڑی ہے ابھی

زندگی میں کوئی دل چسپی نہیں رہی! بات کرنے کو جی نہیں چاہتا! دل چاہتا ہے روتی رہوں! نیند نہیں آتی! رات سوتے میں آنکھ کھل جاتی ہے!پسینے میں بھیگ جاتی ہوں اور دل کی دھڑکن بے ترتیب ہو جاتی ہے! جسم میں تھکاوٹ اور درد رہتا ہے! شوہر کا لمس اچھا نہیں لگتا! بے چینی بہت زیادہ ہے! ارے صاحب، حیران مت ہوئیے، یہ ہم اپنی حالت زار بیان نہیں کررہے بلکہ ان تمام خواتین کا حال دل ہے

Read more

سبز پاسپورٹ کی بڑھتی ہوئی عزت کی گواہی

ہم سب کے محبوب وزیر اعظم کا کمال یہ ہے کہ جب بھی منہ کھولتے ہیں ، پھول جھڑتے ہیں اور ہمیں سمجھ نہیں آتی کہ ان لولوئے گلفام کو کیسے سمیٹیں۔ جی یہ چاہتا ہے کہ کاش وہ وہی عمران خان رہتے جو کرکٹ کےمیدان میں تیز تیز دوڑتے تھے، مسکرانا نہیں جانتے تھے اور اپنے مداحوں سے بات کرنا اپنی شان کے خلاف سمجھتے تھے۔ یہ خیال ہمیں ان کا وہ دعوی سن کے آیا ہے جس میں

Read more

واہت تونا کا آرٹ: پاؤں کی جوتی سے منہ پر جوتی تک

گو کہ ہمیں خبریں سننے کا قطعی کوئی شوق نہیں لیکن پچھلے دنوں اس قدر شور و غوغا تھا کہ ہمیں کان دھرنا ہی پڑے۔ سنا ہے کوئی وزیر مشیر ٹی وی پہ آئے اور اپنی زنبیل سے جوتے برامد کرکے میز پہ پٹخ دیے۔ اینکر اور ساتھی تو محظوظ ہوئے ہی، اہل پاکستان کی بھی باچھیں کھل گئیں۔ پاکستان میں چونکہ تفریح کی شدید کمی ہے سو ایک مفت کا تماشا لوگوں کے ہاتھ لگا، خوب ٹھٹے لگے۔ یوں

Read more