بارش اور گل نرگس آبی

A بارش مجھے ہمیشہ بے چین کر دیتی ہے۔ بارش کی ایک قطار میں برستی بوندیں ایک طویل سہرے کی لڑیوں جیسی لگتی ہیں۔ سرمئی اور سلیٹی بادلوں کی گھٹائیں جب آسمان پر تیرتی ہیں تو دل جھوم اٹھتا ہے۔ کئی دنوں سے بارشیں خوب کھل کر برس رہی ہیں۔ پچھلے دو دن سے بارش پھر سے اپنا رنگ برسا رہی ہے۔ اپنے لاؤنج کی بڑی سی فرنچ ونڈو سے میں پائیں باغ میں ایستادہ انجیر، السٹونیا، زیتون اور پام

Read more

قائد اعظمؒ کا یوم وفات اور حیرت انگیز حقیقت

قلم فاؤنڈیشن کے چیئرمین علامہ عبدالستار عاصم صاحب اکثر و بیشتر اپنے ادارے کی بہترین کتابیں بھیجتے رہتے ہیں۔ ان کتابوں میں ایک کتاب ڈاکٹر صفدر محمود صاحب کی ”سچ تو یہ ہے“ میرے پاس بہت عرصہ پہلے آئی تھی۔ چونکہ میں خوفناک کرونا کا شکار ہو گئی تھی اور پھر بعد ازاں پوسٹ کووڈ پیچیدگیوں نے اس قدر الجھائے رکھا کہ سدھ بدھ بھی جاتی رہی اور جان کے لالے پڑے رہے۔ ڈاکٹر صفدر محمود صاحب کی کتاب پڑھنے

Read more

الوادع! اے کشمیر کے شیر دل مجاہد

زندگی میں ایسے بہت سے لوگ ہوتے ہیں جن سے ہم نہ تو کبھی ملتے ہیں اور ناں ہی انہیں دیکھا ہوتا ہے۔ لیکن ان کی شخصیت میں کچھ عجب سا رنگ ہوتا ہے۔ کچھ لوگ اپنی شخصیت کی اتنی گہری چھاپ لیے ہوتے ہیں کہ کوئی رشتہ نہ ہونے کے باوجود وہ اپنے اپنے سے لگتے ہیں۔ محترم سیّد علی شاہ گیلانی بھی کچھ ایسے ہی انسان تھے۔ ان کے چہرے کی متانت، سنجیدگی، نرمی اور افکار کی مضبوطی

Read more

اور سر اچھلتے ہیں

کل شام میں یونہی خالی بیٹھی بے ترتیب سی سوچوں میں غلطاں تھی۔ میرے موبائل فون کی گھنٹی مسلسل بجے جا رہی تھی۔ میں چونکی فون اٹھایا تو اسلام آباد سے روٹری کلب کے چیئر مین ڈاکٹر ملک اشرف حمید صاحب کا فون تھا۔ ان سے ہمارا بہت دیرینہ تعلق ہے۔ وہ ایک ہمدرد اور نیک دل انسان ہیں۔ فلاح و بہبود کے بہت سے کاموں میں خود کو ہمہ وقت مصروف رکھتے ہیں۔ اس دن بھی اسی سلسلے میں

Read more

الوداع! دلیپ کمار صاحب

سہانا سفر اور یہ موسم حسیں
ہمیں ڈر ہے ہم کھو نہ جائیں کہیں

یہ وہ گانا ہے جو ہم زمانہ طالب علمی میں سکول، کالج یا کسی بھی نجی ٹرپ پہ جاتے ہوئے کورس میں گایا کرتے تھے۔ دلیپ صاحب کی فلم ”مدھومتی“ کا یہ گانا مقبول عام تھا۔ مدھومتی کا مرکزی خیال آوا گون کا نظریہ تھا۔ کون جانتا تھا اس فلم کا ہیرو سرما کی ایک ٹھٹھرا دینے والے دن کو 11 دسمبر 1922 کو پشاور کے ایک پھل فروش کے ہاں پیدا ہوا۔ یہ بچہ گوری رنگت سیاہ بال اور سیاہ آنکھوں والا گویا کہ پٹھانوں کے مخصوص حسن سے مالا مال تھا۔

Read more

موت کی وادی سے واپسی

رمضان کا آخری عشرہ چل رہا تھا۔ ہماری طبیعت یوں تو یکم رمضان سے ہی خراب چل رہی تھی۔ کبھی بخار، کبھی کپکپی چڑھنا اور پینا ڈول کھانے کے بعد ٹھیک ہوجانا کچھ معمول کی بات بن گئی تھی۔ ہم یہی سمجھتے رہے کہ یہ ہمارے R۔ A کی وجہ سے ہے اسی طرح ہفتہ گزر گیا۔ بالآخر شوکت خانم سے کووڈ ٹیسٹ کروایا جو منفی آیا تو دل میں سکون اتر آیا۔ لیکن طبیعت میں بہتری نہیں آئی۔ دو

Read more

ضیا شاہد صحافت کی ضیا

آج دوسرا اتوار ہے اور خبریں کا سنڈے میگزین میرے سامنے کھلا پڑا ہے۔ میں ضیا شاہد صاحب کا کالم ڈھونڈ رہی ہوں۔ مگر آج بھی میگزین پر ان کے کالم والا صفحہ سونا پڑا تھا۔ میں سنڈے میگزین میں صرف ان کا کالم بہت رغبت سے پڑھا کرتی تھی۔ باقی بس سرسری نگاہ ڈال کر گزر جاتی۔ میں ہمیشہ ضیا شاہد صاحب سے کہا کرتی تھی ”آپ اتنا کام کیسے کر لیتے ہیں۔“ جواب میں وہ بھینچے ہوئے منہ

Read more

محبتوں بھری عیدیں

ماہ رمضان کے ساتھ ساتھ عید کی خوشیوں کا شور ہواؤں میں ہے۔ کورونا وبا کی لہر بے رحم موجوں کی طرح انسانوں کو نگلے جا رہی ہے۔ پچھلے سال کی عید بھی تنہائی میں گزری تھی۔ اب کے برس بھی لگتا ہے ایسی ہی پھیکی اور بے مزہ سی عید ہی گزرے گی۔ کورونا وبا کی موجودہ تیسری لہر سے بہت سے گھر اجڑ چکے ہیں۔ کسی کی ماں چلی گئی تو کسی کی بیٹی۔ کسی کا بھائی چلا

Read more

عورت تشدد سہ کر اور پاؤں پکڑ کر سہاگن رہنے پر تیار نہیں

کہا جاتا ہے کہ بہت زیادہ امیر اور بہت زیادہ غریب انسان کا کوئی مذہب نہیں ہوتا۔ بالکل اسی طرح بہت مجبور انسان بھی کسی ریت رواج مذہب یا اخلاقیات کا پابند نہیں رہتا۔ اس کی مجبوری جب مصیبت بننے لگتی ہے تو پھر وہ کسی بھی قیمت پر اس سے چھٹکارا حاصل کرنا چاہتا ہے۔ تاریخ کے پنوں پر دیکھیں تو مختلف وقتوں میں مختلف تحریکیں چلتی رہیں جن میں بہت سے ازم بھی پیدا ہوئے۔ تاریخ نے اپنے

Read more

سلیمہ ہاشمی میری محسن

اگر میں یہ کہوں کے نیشنل کالج آف آرٹس میری پہلی محبت ہے تو غلط نہیں ہو گا۔ میری این سی اے میں داخلے کی کہانی بہت دلچسپ ہے۔ این سی اے جانے کی خواہش میں نے بہت پہلے ہی سے دل میں پال لی تھی۔ مجھے بچپن ہی سے رنگوں، شاعری، موسیقی اور کتابوں سے خاص دل چسپی رہی۔ ماں مجھے سائنس اور ریاضی پڑھانا چاہتی تھیں، وہ مجھے اس دور کی ہر ماں کی طرح ڈاکٹر بنانے کی

Read more

علی سد پارہ! تیرے بن ویران ہیں یہ راستے

محبت بھی ایک عجیب و غریب احساس ہے۔ کب کہاں کس سے ہو جائے پتہ ہی نہیں چلتا۔ محمد علی سدپارہ بھی ایسے ہی لوگوں میں سے تھا۔ جسے پہاڑوں سے بھر پور عشق تھا۔ یوں تو محمد علی سدپارہ نے دنیا کی آٹھ بلند ترین چوٹیاں سر کر رکھی تھیں۔ سب پاکستانیوں کو اس پر فخر تھا۔ لیکن اس دفعہ اس کو دیکھے بغیر محبت بھی ہو گئی تھی۔ عجب بے چین آتما تھی فطرت کے بالکل ہمرکاب ایک جفاکش سر پھری روح۔ پہاڑوں کی خاموشیوں سے ہمکلام ہونے کو انتہائی بلند چوٹیوں کے آخری مقام تک جا پہنچتا تھا۔

پربتوں سے اس کی لافانی محبت کی داد بھلا کس طرح دی جا سکتی ہے۔ وہ تو پیدا ہی زمین سے تین ہزار فٹ کی بلند و بالا چوٹیوں کے دامن میں ہوا تھا۔ مجھے ذاتی طور پر کوہ پیمائی کی کبھی سمجھ نہیں آئی۔ میں تو ان ڈرپوک لوگوں میں سے ہوں جن کو اسلام آباد کے دامن کوہ پر کھڑے ہو کر نیچے دیکھنے سے گھبراہٹ ہونے لگتی ہے۔ مری کے کشمیر پوائنٹ پر کسی اونچے ٹیرس کے سے نیچے جھانکتے ہوئے خوف کی جھرجھریاں میرے بدن میں دوڑنے لگتی ہیں۔

Read more

فلم بازار اور عورت کی منڈی

ہمیشہ سے یہی سنتے آئے ہیں کہ زندگی مشکل ہے۔ لیکن زندگی مشکل نہیں ہے بلکہ بنا دی جاتی ہے۔ ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کی تگ و دو میں انسانی جذبات چولہے پر چڑھے رہتے ہیں۔ گھڑی گھڑی نراس کا تڑکا لگنے سے مداخلت کی کڑوی بدبو چاروں اور پھیلنے لگتی ہے۔ ازل سے ہی مرد اور عورت کے عشق کی داستانیں بھی زبان زد عام ہیں۔ آج جی کر رہا ہے انڈین فلم بازار کی بات کی جائے۔

Read more

زندگی ایک ماسک ہو کر رہ گئی ہے

"سنیں آپ باہر جا رہے ہیں؟ آپ نے اپنا ماسک رکھ لیا ہے نا؟” "اوہ! نہیں! بھول گیا. ابھی لیتا ہوں.” یہ کہہ کر وہ تیزی سے واپس مڑے اور اپنا نیا نکور ماسک سائڈ بورڈ پر سے اٹھا لیا. جب سے کورونا آیا تھا ان کے ہاں سائڈ بورڈ پر مستقل ایک ٹوکری رکھی تھی جو ہر وقت ماسک سے بھری ہی رہتی. پاس ہی ہاتھوں سے جراثیم پاک کرنے والی بوتلیں بھی رکھی تھیں. "ماہین! سنو تم ہسپتال

Read more

دھنی پتے بارش کا پانی پیتے ہیں

میں آج اپنے پینٹنگ کے نئے سٹوڈیو اور سٹڈی کی گڈ مڈ ہوئی کتابوں کی آرائش میں لگی تھی کہ انگریزی کی ایک پرانی شاعری کی کتاب ہاتھ لگی۔ اس میں ڈبلیو۔ ایچ۔ ڈیوس کی نظم ”The Rain“ بہت دیر بعد دوبارہ پڑھی۔ جی میں اک خیال آیا کہ کیوں نہ اس نظم اور اس کے شاعر پر بات کی جائے۔ ڈیوس بیچارہ تقریباً اپنی پوری زندگی بنجاروں کی طرح ایک جگہ سے دوسری جگہ نقل مکانی کرتا رہا۔ مگر

Read more

پچھلی یادوں کی چند یادیں

ٹرین ایک جھٹکے سے اترتی اور چند مسافر جن میں ہم بھی ہوتے تیزی سے نیچے اتر جاتے کہ چھوٹا اسٹیشن تھا ، ریل بھی بس کوئی پل کو ہی رکتی۔ پاپا پہلے ہی سے سامان برتھ سے اتار کر نیچے سیٹ کے پاس رکھ لیتے ہمارا کوئی بیگ رہ نہ جائے۔ جیسے ہی مسافر پلیٹ فارم پر قدم دھرتے ٹرین چھک چھک کرتی ہوئی پٹڑی پر پھر سے رینگنے لگتی ، اسے بھی شاید اگلی منزل پر پہنچنے کی جلدی ہوتی۔ ٹرین چلی جاتی تو اسٹیشن پر چھائی خاموشی بھی ہمارے ہمراہ ہو لیتی۔

Read more

لاہور کے کچرے کو فوری صاف کیا جائے!

کہتے ہیں کہ ”چاول کا ایک دانہ ہی کھا کر دیگ کا پتہ چل جاتا ہے۔“ لیکن یہاں ہم پاکستانی تو کچھ عجب سی قوم ہیں ایک دانہ تو کیا پوری کی پوری دیگ کھا جاتے ہیں پتہ نہیں چلتا۔ حتیٰ کہ ہم پچھلے کئی دہائیوں سے بے شمار دیگیں کھا چکے ہیں مگر ہمارے ذائقوں کے مسام تقریباً بند ہوچکے ہیں۔ کسی بھی کڑوے، کسیلے، روکھے، پھیکے ذائقے کا فرق معلوم ہی نہیں پڑتا۔ ہر چیز مزے دار اور

Read more

کاش یہ دہشت گردی بھی ٹویٹر پر ہی ہوجاتی

ہماری سیاست کی دنیا اپنے اپنے مفادات کی منطق پر مبنی ہے لیکن جب یہ مفادات سادہ لوح عوام کے حقوق کا تحفظ نہیں کرتے ، دنیا ان پر نہ صرف ظلم کرتی ہے بلکہ قہقہے بھی لگاتی ہے۔ تب حاکم وقت کا رویہ اس جرنیل کی طرح ہو جاتا ہے جو اپنے عہدے کی طاقت کے نشے میں چور ہو کر اقتدار پر قبضہ کر لیتا ہے۔ کان کنی کے پیشے کے بارے میں یوں تو لوگ واقف ہی ہیں کہ کتنا خطرناک اور جان جوکھوں کا کام ہے۔ اس پر ماضی میں بڑے بڑے مصوروں نے تصویر کشی کی، شاعروں نے شاعری کی لیکن پاکستان میں یہ پیشہ قریب قریب موت کے کنویں میں کام کرنے کے مترادف ہے۔

Read more

سیاست اور زمانے

مکر کی چالوں سے بازی لے گیا سرمایہ دار انتہائے سادگی سے کھا گیا مزدور مات علامہ اقبال کا شعر آج کی موجودہ صورت حال کے سیاق و سباق میں یاد آ رہا ہے۔ ہماری تمام پارٹیوں کے سیاست دان آج تک کوئی ایسا باقاعدہ نظام نہیں بنا سکے جس میں عوامی حقوق کا خیال رکھا گیا ہو۔ یوں تو عوامی نعروں کے انبار لگے ہوئے ہیں۔ ہر سیاسی پارٹی نے اپنے اپنے وقتوں میں سیاست کی دکانات کو چمکانے

Read more

کرونا، کتنوں کے پیاروں کو لے گیا

کرونا کی دوسری لہر کے خوفناک مہلک وار بے رحمی سے جاری و ساری ہیں۔ یہ وبا کتنوں کے پیاروں کو بے دردی سے اپنے ساتھ لے گئی اس کا اندازہ شاید ان لوگوں کو نہیں ہے جو اس کا مذاق اڑاتے ہیں۔ وطن عزیز میں بہت سے پڑھے لکھے ذی شعور لوگ بھی یہ کہتے ہوئے پائے جاتے ہیں کہ کرونا نہیں ہے حکومت ڈراما کر رہی ہے۔ کرونا میں متاثرہ شخص جب وہ بات کرے یا کھانسے کے تھوک یا ناک سے نکلنے والی رطوبتوں سے پھیلتا ہے۔ موسم سرما میں چونکہ عام نزلے زکام کے بھی لوگ شکار ہوتے ہیں لہٰذا بیشتر لوگوں کو پتہ ہی نہیں چلتا کہ وہ وائرس کے نشانے پہ آچکے ہیں۔

Read more

کرونا، چھٹیاں، تعلیم اور سیاسی اجتماعات

ہزار کوشش کریں کہ سیاست میں ذاتیات پر نہ اترا جائے لیکن مجال ہے جو ہمارے یہاں اس طرح کے حالات پیدا نہ ہوں۔ کہیں جینے پر سیاست، کہیں مرنے پر سیاست، کہیں حالات پر سیاست، کہیں واقعات پر سیاست، کہیں جلسوں پر سیاست تو کہیں کرونا پر سیاست۔ کرونا نے کچھ عجب ڈھنگ سے پوری دنیا میں معیشت، تعلیم، روز گار، زندگی کرنے کے سب اطوار یکسر بدل کر رکھ دیے ہیں۔ کبھی ہمارے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ ایک دن ایسا بھی آئے گا جب ایک عالمی وبا تمام انسانوں کو اپنی گرفت میں لے کر کروڑوں زندگیاں نگل لے گی۔

Read more

جمہوریت کا جرنیل

بابائے قوم قائد اعظم نے کبھی بلند آواز میں شاید اپنے حریفوں تک سے بھی بات نہ کی ہو گی۔ قائد اعظم کو جھوٹے پراپیگنڈے اور سستی شہرت سے بہت سخت نفرت تھی۔ اس کے علاوہ قائد اعظم یہ بھی برداشت نہیں کر سکتے تھے کہ حقیقت کو چھپایا جائے یا سچی باتوں کو توڑ مروڑ کر پیش کیا جائے۔ مجھے ہمیشہ ان سب لوگوں پہ بشمول اپنے ابا کے رشک آتا ہے، جو قائد اعظم سے ملے اور ان کی تقریریں سنتے تھے۔ مجھے فخر ہے میں اس باپ کی بیٹی ہوں جو قائد اعظم کی مسلم لیگ کے کارکن تھے۔

بابائے قوم قائد اعظم تاریخ عالم میں عظیم المرتبت شخصیات میں شمار ہوتے ہیں۔ ایک ایسی ہستی جنھوں نے برصغیر کے مسلمانوں کی ہچکولے کھاتی ہوئی کشتی کو نہایت کامیابی سے کنارے پر لگایا۔ وہ دیانت، امانت، حق گوئی، ایثار و قربانی، معاملہ فہمی، سیاسی تدبر اور جہد مسلسل کا عملی نمونہ تھے۔ حال ہی میں بابائے قوم کے مزار پر چند شر پسند عناصر نے نعروں کی شکل میں جو ہلڑ بازی کی اس میں انھوں نے خود اپنی تربیت اور تہذیب کے کپڑے اتار کر رکھ دیے۔

Read more

سانحہ موٹروے! چند گزارشات

میں آج تک یہ سمجھنے سے قاصر ہوں کہ ہمیں نصاب میں جھوٹ کیوں پڑھایا جاتا ہے۔ مطالعۂ پاکستان میں یہ کیوں لکھا جاتا ہے کہ اسلام دین فطرت ہے جس کی تعلیمات کے مطابق بنیادی حقوق کے لحاظ سے سب انسان برابر ہیں۔ عورت وہ لفظ ہے جو انسان کو عزت و حرمت سے آگاہ کرتا ہے۔ غلط۔ تمام مذاہب بشمول اسلام ہر قسم کے نسوانی تشدد کی مذمت کرتے ہیں۔ غلط۔ اسلام نے خواتین کو حکومت، سیاست، قیادت اور مشاورت سمیت زندگی کے تمام شعبوں میں اہم ذمہ داریاں سونپی ہیں۔

غلط۔ اکثر عورتیں اس تصور کی بنا پر تشدد کا شکار ہوجاتی ہیں کہ وہ مردوں کی نسبت کم تر ہیں۔ کیوں آخر یہ سب کیوں پڑھایا جا رہا ہے؟ بعض واقعات کسی بھی معاشرے اور قوم کے مردہ ہونے کے لیے کافی ہوتے ہیں۔ کسی ایسے معاشرے میں جو اسلامی جمہوریہ کہلاتا ہو وہاں پانچ سال کی بچی کو اٹھا کر ریپ کرنے کے بعد اس کی سوختہ لاش کو بوری میں بند کر کے پھینک دیا جاتا ہے۔ صرف پنجاب میں پچھلے دو سالوں میں خواتین اور بچیوں سے زیادتی کے ان گنت کیس رپورٹ ہوئے ہیں۔

Read more

کھاراپانی آنکھوں تک آپہنچا

کراچی کے نہ تو ہاتھ باگ پہ ہیں اور نہ ہی پاؤں رکاب میں ہیں۔ یہاں کے لوگوں کو چاہیے کہ اگر اس شہر میں رہنا ہے تو اپنی زبان بند رکھیں اور اس شہر میں ظلم و ستم سہتے رہیں۔ اپنی زندگیوں کو جمع جوگ کرتے کرتے اس نامہرباں وقت کے ہاتھوں نیچے ہوتے ہوئے آسماں کے پانیوں میں ان کی سب خواہشیں بہتی ہی چلی جارہی ہیں۔ امیر شہر بھی لگتا ہے اب تو اپنی ہی نالائقیوں جو

Read more

بے جی کا صندوق اور تقسیم کی کہانی

”بے جی آخر آپ کے اس صندوق میں کیا پڑا رہتا ہے جسے آپ ہر ساتویں دن کھول کر کبھی مسکراتی اور کبھی ڈبڈباتی آنکھوں سے دیکھتی چلی جاتی ہیں؟“ وہ اکثر بے جی سے پوچھا کرتی وہ کہتیں : ”یادوں کی اوڑھنی اوڑھ لینے سے میں بچپن کی گلیوں میں پہنچ جاتی ہوں۔ یادیں ایک ایسا اندھا آئینہ ہے جس میں اپنا آپ تو نظر آتا ہے لیکن آر پار دکھائی نہیں دیتا۔ وہ پرانے عکس، وہ پرانے رشتے،

Read more

لاہور گرامر کی بچیاں اور مجید امجد کی نظم

”سنو! یہ جو ہم نے Straight As والی لڑکیاں اپنے سکول کے A لیول میں لی ہیں یہ تو ہمارے سکول کا نام روشن کریں گی اور یہ جو درمیانے قسم کے رزلٹ لے کر لڑکیاں آئی ہیں یہ بھی ٹھیک ہیں۔ اب آتے ہیں تیسرے نمبر کی ان لڑکیوں پہ جو C، D، Eگریڈ لے کر آئی ہیں اور ان کو پڑھنے سے کوئی خاص شغف نہیں۔ ان کی فیسوں سے ہمارے سٹاف کی تنخواہیں نکلتی ہیں۔ لہٰذا وہ

Read more

ایلان کردی عیاد خان کے روپ میں

نیلو فردیمر ایک ترک صحافی اور فوٹو گرافر بورڈیم ترکی میں رہتی اور ڈوگن نیوز ایجنسی کے لیے کام کرتی تھی۔ 2015 ء میں جب شام میں جنگی بحران تباہی کا باعث بنا ہوا تھا تو نیلوفر نے موسم گرما میں یورپین ہجرت کرنے والے لوگوں کے انقلابی بحران کی تصویر کشی کی تھی۔ اسی دوران اس نے ایک تین سالہ شامی بچے ایلان کردی کی تصویر اپنے کیمرے میں محفوظ کی۔ وہ ننھا بچہ ساحل سمند ر پر اوندھے

Read more

کوئی استاد لاولد نہیں ہوتا

”ابتدا ہے رب جلیل کے بابرکت نام سے جو دلوں کے بھید خوب جانتا ہے۔ دیکھتی آنکھوں اور سنتے کانوں آپ کو طارق عزیز کا سلام پہنچے“ ۔ یہ الفاظ اس شخصیت کے ہیں جن کا قد کاٹھ ماپنے کے لیے علم و ادب کا پیمانہ چاہیے۔ اب ہم کہاں سے لائیں وہ الفاظ، وہ ادائیگی، وہ لب و لہجہ اور آواز جو کانوں سے ہوتی ہوئی سیدھا دل میں اتر جاتی تھی۔ نیلام گھر پاکستان ٹیلے ویژن کا وہ پروگرام تھا جو اپنے آپ میں ایک اکیڈمی تھا، ازاں بعد اسے طارق عزیز شو کا نام دے دیا گیا۔

زندگی تو خاکی ہے بالآخر اس نے ایک دن خاک میں خاک ہی ہوجانا ہے۔ علم و آگہی کے ان گنت چراغ جلانے والی ایک ہمہ جہت شخصیت اپنے خالق حقیقی سے ملنے اپنے ابدی سفر پر روانہ ہو چکی ہے۔ موت اس فانی دنیا کا خاتمہ ضرور ہے لیکن پھاٹک ہے اس جہاں کا جو امیدوں، جگنوؤں، پھولوں، مخملی گھاس اور مشک و عنبر کی بسی ان وادیوں میں کھلتا ہے جسے جنت کہتے ہیں۔ طارق عزیز صاحب نے یقیناً اس گرم جوشی سے اہل جنت کو بھی سلام کہا ہوگا اور ”پاکستان زندہ باد“ کا گرجتا نعرہ لگایا ہوگا۔

Read more

کورونا کی تنہائی اور کنفیوژن

گورنمنٹ کرے تو کیا کرے؟ لوگ کریں تو کیا کریں؟ عوام کرے تو کیا کرے؟ اس وقت ملک بھر میں کورونا مریضوں کا شدید امتحان ہے۔ لاہور میں لوگوں نے بداحتیاطی کی تمام حدیں پھلانگ دیں۔ اس وقت سرکاری اور نجی ہسپتالوں میں مریضوں کی دیکھ بھال کی سکت ختم ہو گئی ہے۔ کچھ دنوں سے کوئی دلاسا دینے والا نہیں رہا۔ ایک عجب سی تشنگی سی چھا گئی ہے ہر طرف۔ کتابوں میں پڑھا کرتے تھے زندگی ایک معمہ ہے نہ سمجھ میں آیا ہے نہ آئے گا۔

Read more

کچھ زخم ہوتے ہیں خاص!

کہا جاتا ہے وقت سب سے بڑا مرہم ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ سب زخم بھر جاتے ہیں لیکن آج تک ایسا ہوتے دیکھا نہیں گیا۔ پرانے زخم بھی تازہ ہی رہتے ہیں۔ جو باغ بہار میں اجڑ جائیں اس گلشن میں دوبارہ کبھی پھول کھلتے ہوئے نہیں دیکھے گئے۔ اگر کوئی کسی دائمی مرض کا شکار ہو جائے تو گزرے وقت کے ساتھ زندگی جینا تو سیکھ جاتا ہے لیکن اپنی محرومی کو بھلا نہیں سکتا۔ کیا دنیا

Read more

دواؤں کے حصول کو ہر صورت ممکن بنایا جائے

جب ہم کسی فلم میں مہلک بیماریوں سے لوگوں کو دلیرانہ زندگی کی جنگ لڑتے ہوئے دیکھتے ہیں تو اس پہ بہت رشک آتا ہے۔ ہم اس کردار کی صحت یابی اور زندگی کے لیے دعائیں بھی کرتے ہیں۔ لیکن حقیقت میں اگر کوئی شخص خطرناک مرض کا شکار ہو جائے تو وہ ایک دلدوز اور دلخراش تجربہ ہوتا ہے۔ کسی بھی بیماری کا تعلق ذہن اور جسم دونوں سے جڑا ہوتا ہے۔ بیمار شخص اپنی ذہنی صحت کو برقرار

Read more

میرے بیٹے کے برطانیہ سے آنے کے بعد ہم پر کیا گزری؟

گزشتہ دسمبر میں چین سے یہ وبا پھوٹی ان دنوں ہم اپنی بیٹی کی شادی کی تیاریوں میں مصروف تھے۔ خبر کو بس خبر کی طرح سنا اور آگے چل دیے۔ جنوری کے آخر تک حالات بہت بہتر تھے۔ میرا چھوٹا بیٹا جو لندن کی معروف یونی ورسٹی میں زیر تعلیم تھا جنوری میں بہن کی شادی میں شرکت کرنے کو آیا تھا اورآخر میں وہ اپنی بقیہ کلاسز اور سالانہ امتحان کے لیے واپس چلا گیا۔

Read more

تو مجھ پہ ٹوٹ پڑا سارا شہر نابینا

سورۂ بقرہ میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کے دور کی کہانی کا ایک واقعہ کچھ اس طرح ہے کہ بنی اسرائل میں ایک دولت مند آدمی تھا جس کے وارث اس کی دولت ہتھیانے اور اُس کے مرنے کا انتظار کررہے تھے حتیٰ کہ اسے قتل کردیا۔ مقتول کے وارث ایک دوسرے پہ شک کا اظہار کرتے ہوئے اس معاملے کو حل کروانے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے پاس گئے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اُنھیں اللہ کے حکم سے

Read more

سائنس، کورونا وائرس اور ایمان

جس دن سے لاک ڈاؤن شروع ہوا ہے، میں سچ کی شناخت ڈھونڈ رہی ہوں۔ مجھے معلوم نہیں ہو رہا سچ کہاں ہے۔ مجھے اندازہ نہیں ہو رہا کہ سچ ہے کیا۔ میں اس نکتے پہ اٹکی ہوئی ہوں کہ یہ نزلے، زکام کا وائرس ہے جو ہمیشہ سے ایک شخص سے دوسرے کو منتقل ہو جاتا رہا ہے۔ میری بچپن کی ایک سہیلی کو ہر سال خوف ناک زکام ہوا کرتا ہے۔ حتیٰ کہ وہ ہر سال اس کی

Read more

اب سبھی کو سبھی سے خطرہ ہے!

کرونا ایک ایسی وبا ہے جس نے پوری دنیا کو چاروں شانے چِت کر دیا ہے۔ میرا پیارا پاکستان جہاں زیادہ تر لوگ غربت سے نیچے اپنی زندگی کرتے ہیں۔ روزانہ کی بنیادوں پر مزدور قطار در قطار کبھی مین مارکیٹ کبھی جیل روڈ کبھی شادمان کبھی مغلپورہ جیسی جگہوں پہ روزی روٹی کی تلاش میں کندھا سے کندھا ملائے بیٹھے ہوتے ہیں۔ ہائے ہائے! ان جیسوں کا کیا ہوگا یہ غریب کسی کرونا ورونا سے ہلاک ہوں یا نہ

Read more

عورت مارچ اور ہمارے مباحث

آج کل عورت مارچ کے حوالے سے ایک نئی گرما گرم بحث چل نکلی ہے۔ ہر نجی ٹی۔ وی چینل پر مختلف پینل پر لوگ بیٹھے اس بحث پر جھگڑوں کی حد تک مباحثوں میں مصروف ہیں۔ دو روز قبل ایک نجی چینل پر عورت مارچ کے ایک پروگرام میں خلیل الرحمن قمر اور ماروی سرمد دونوں کو اکٹھے بلا لیا گیا۔ لو بھئی اور کیا چاہیے تھا دونوں کے اپنے اپنے نظریے اور پاسبان عقل و تہذیب دونوں ہی

Read more

تو کیا ہوا؟

غلامیوں کے سیاہ بادل ایک دو سالوں میں نہیں چھٹتے بلکہ اس سے نجات پانے کے لیے برس ہا برس درکار ہوتے ہیں۔ بیکراں قربانیوں کے بعد کہیں جا کر آزادی کے سُورج کی سنہری کرنیں طلوع ہوتی ہیں۔ تو کیا ہوا؟ اگر ہم آزاد ملک میں رہتے ہوئے بھی آزاد نہیں۔ جمہوریت کا حُسن یہ ہی ہے۔ تو کیا ہوا؟ اگر تاریخ، آئین اور عدلیہ سب نئی ساخت کے ساتھ متشکل ہورہی ہیں۔ توکیا ہوا؟ اگر پھر سے طاقت

Read more

آزادی بھی اِک آیت ہے

5 فروری مقبوضہ کشمیر کے لوگوں کے ساتھ اظہار یک جہتی کے طور پر منایا جاتا ہے۔ ہمیشہ کی طرح اس دفعہ بھی ہر شعبۂ زندگی سے تعلق رکھنے والے اور ہر عمر کے لوگوں نے بھر پور احتجاج میں حصّہ لیا۔ اس دفعہ خوشبوؤں اور آرٹ کے شہر پیرس میں بھی فنکار بنے نہتے کشمیریوں کی آواز۔ پاکستان سے مختلف مصوروں کی کشمیر کے مظالم پہ بنائی گئی تصویروں کی نمائش پیرس کی ایمبیسی میں ہوئی۔ ان تصویروں میں

Read more

خلیل الرحمن قمر آپ نے عورت کو اچھی اور بری عورت کی بحث کی تکرار میں لا کھڑا کیا ہے

عورت کے معاشرتی اور تہذیبی تصور کے بارے میں صدیوں سے بہت کچھ لکھا اور فلمایا جاچکا ہے۔ لیکن کیا ہم کبھی اس متوازن وقت کے دھارے میں آئیں گے جہاں عورت صرف محبت کے توسط اور ملکیت کے حوالے سے نہ پہچانی جائے بلکہ اس کی اپنی پہچان ہو۔ عورت ہمیشہ اپنی ذات قربان کرتی رہی کبھی ماں کے روپ میں، کبھی بیوی کے ناتے، کہیں بہن کے رشتے سے اور کبھی بیٹی کے مقام پہ۔ ہمارا سماج کبھی

Read more

جابی بابا کی شادی

بیٹیوں کو رخصت کرنا واقعی ہی بہت مشکل کام ہوتا ہے۔ یوں لگتا ہے آپ کی رگوں میں سے جیسے کوئی جان نکال کر لے گیا ہو۔ کسی کو معلوم نہیں ہوتا کہ ماں کے دل پہ کیا گزرتی ہے۔ ایک طرف تو اچھے لوگ مل جانے پر دل خوشی سے باغ باغ ہوجاتا ہے تو دوسری طرف اُداسیاں دل کے درو دیوار پر ڈیرے ڈال لیتی ہیں۔ آج احساس ہوا کہ اسم محبت کا طلسم درِ دل پر کیسے

Read more

سب سے پہلے پاکستان

”پھانسی سے پہلے اگر موت ہوجائے تو لاش کو گھسیٹ کر لایا جائے اور ڈی چوک پر تین دن لٹکایا جائے۔ “ ”سابق چیف آف آرمی سٹاف غدار ہے۔ “ اولیور کروم ویل کی لاش کو سزا دینا آصف سعید کھوسہ نے مثالی قرار دیا۔ ہمارے پیارے نبی رسالت مآب ؐ نے لاش کی بے حُرمتی سے منع فرمایا۔ یہ فیصلہ کس قدر جاہلانہ اور ظالمانہ ہے۔ یہ غصّے اور ذاتی عناد کی Superlative degree کی بھی انتہا ہے۔ پاکستان

Read more

نام تو سنگِ مر مر رکھا ہوتا

ماں تُو نے مجھے کیوں جنما؟ کاہے کود ردِ زہ سہا؟ پہلے ہی مار دیا ہوتا میرے اندر نمو ہی پھل نہ پاتا تو کتنا اچھا ہوتا؟ مارنا ہی تھا تو جنما کیوں؟ ماں تجھے درد نہ ہوا؟ تیری سانسیں نہ تھمیں؟ ماں! تیرا دل دھڑکنا بند نہ ہوا؟ اے اللہ! تُو نے اپنے بندوں سے اپنی محبت کے اظہار کے لیے ستر ماؤں کی محبت کی مثال دی ہے۔ لیکن کیا تُو نے مجھے صرف اس لیے پیدا کیا

Read more

کل کے حواری آج کے جواری

پگڑی، عمامہ یا دستار کو تعظیم، عزتِ نفس، جرأت، روحانی پاکیزگی اور پرہیز گاری کا نشان تصور کیا جاتا ہے۔ مولانا کے لفظی معنی ہمارا سربراہ یا مالک کا ہے۔ اب مالک تو صرف وہی ذات ہے جو مخلوق کی خالق ہے۔ واحدہے، یکتا ہے، اس کا کوئی ہم سر نہیں۔ ذرا سوچیے! کوئی ذی روح کسی انسان کو مالک کیوں کر ہوسکتا ہے؟ ہاں! سربراہ کہا جاسکتا ہے لیکن اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ وہ اپنے سرِدست

Read more

لائبریری سے جُڑی میٹھی یادیں

 ”چلیں چلیں پاپا! جلدی کریں نکلیں ورنہ ٹرین چُھوٹ جائے گی“۔ ”ابھی تو دو گھنٹے پڑے ہیں ٹرین کے چلنے میں بیٹا! اتنی جلدی کیا ہے؟ “ پاپا جواب دیتے۔ انہیں معلوم تھا کہ مجھے ریلوے اسٹیشن جانے کی جلدی کیوں رہتی تھی در اصل مجھے ریلوے اسٹیشن کے وہ بک سٹال درویدہ کرتے ہوئے مقناطیسی کشش سے بلاتے تھے جہاں سے اپنی کہانیوں کی کتابیں خریدنے کے لیے میں بے تاب رہتی تھی۔ ریل کی پٹڑی پر چُھک چُھک

Read more

اب وہ پہلی سی چائے کہاں!

چائے کا لفظ زباں پہ آتے ہی گُھلنے لگتا ہے ایک شیریں مٹھاس کی طرح، یوں لگتا ہے چینی میں لپٹی یادوں کی ڈلی زباں پر رکھ دی ہے جو آہستہ آہستہ گُھلے جاتی ہے۔ آج چائے پہ لکھنے بیٹھی تو ماضی کی یادوں کا ہر دروازہ بنا دستک دیے ہی کُھلنے لگا۔ سہیلیاں، دوست، اقربا سردیوں کی وہ صُبحیں اور شامیں جو کہرے میں لپٹی ہوئی چائے کے نازک برتنوں کی کھنک سے مزین تھی وہ سب یاد آیا۔

Read more

ہر کتا پاگل نہیں ہوتا!

” بلاول زرداری صاحب نے اپنی حالیہ پریس کانفرنس میں کہا کہ موجودہ چُنیدہ حکومت نے کشمیر کے ایشو سے توجہ ہٹانے کے لیے خورشید شاہ کو گرفتار کیا۔ بلاول صاحب کا یہ بیان سمجھ سے بالا تر ہے کہ اس قسم کی وجوہات بتانے سے کون سے سیاسی اور حفاظتی پہلو متاثر ہو رہے ہیں ما سوائے کرپشن بچانے کے۔ بس کر دیں پیارے بلاول! کچھ توہمارے بچوں کے بارے میں بھی سوچیں کیا ان کو بحیثیتِ انسان سکون

Read more

بیداری کی لہر

لگتا تو یوں تھا کہ دونوں ہمسایہ ملکوں کے درمیان قائم دوستی کا پُل اس خون کے دریا کو پار کرنے میں مدد دے گا جو بٹوارے کے وقت بن گیا تھا۔ لیکن ایسا کچھ بھی نہ ہوا بلکہ کشمیر کے مدعے کو لے کر دونوں ملکوں کے بیچ تین جنگیں بھی ہوئیں کشمیر کے باسیوں کو کبھی بھی حقِ رائے دہی کا اختیار دیا ہی نہ گیا اور شاید بھارت میں گزرتی ہوئی سب حکومتوں نے تہیہ کر رکھا

Read more

بھارت کشمیر پر قبضہ کر سکتا ہے، کشمیری روح ہمیشہ آزاد رہے گی

y جب سے کشمیر پر جبراً کرفیو لگا کر لاکھوں لوگوں کو گھروں تک محصور و مجبور کر دیا گیا ہے تب سے مجھ سے کچھ اور لکھا ہی نہیں جا رہا، سوچا ہی نہیں جا رہا، بولا ہی نہیں جا رہا۔ ہر لمحہ، ہر پل، ہر لحظہ صرف کشمیر اور کشمیریوں کی آزادی کا خیال دل میں بیٹھ سا گیا ہے۔ آج بھی لکھنا تو کچھ اور تھا دراصل لکھنا شروع بھی کر دیا تھا صلاح الدین اور ریحان

Read more

عمروں سے لمبی تحریک

 یوں تو شہر میں اور وادی میں دنگے چلتے ہوئے دس ماہ گزر گئے لیکن یہ پندرہ دن تو مانو جیسے لوگوں کی نسوں میں خوف تن گیا ہے دوسری طرف مودی کے غنڈوں کے سروں میں ظلم، بربریت، قتل عام اور سفاکیت سما گئی ہے۔ کرفیو کچھ دیر کے لیے بھی نہیں کُھلا حتیٰ کہ بکرا عید پہ لوگوں کو نماز پڑھنے سے روک دیا گیا۔ قربانی نہیں کر سکے وہ مظلوم کشمیری ہاں ان کی جانیں ضرور آزادی

Read more

سُلگتا کشمیر

کشمیر پہ ایک صدی سے زیادہ مسلمانوں کی آبادی سکھوں اور ڈوگروں کی غلامی میں ہر طرح کے ظلم و ستم کا نشانہ بنتی رہی۔ اُسی زمانے میں مہاراجہ ہری سنگھ 1925 میں ریاست کشمیر پہ گدی نشین ہو کر عیش و نشاط کی بدمستیوں میں غرق ہو گیا۔ ہری سنگھ کا زیادہ تر وقت بمبئی، کلکتہ، لندن اور پیرس کی رنگین گلیوں میں گزرتا۔ پیچھے میدان خالی دیکھ کر ریاست کے ہندو اہل کاروں کی چیرہ دستیاں کچھ یوں

Read more

سب سے بڑا جھوٹ

کیاہم سب جانتے ہیں کہ دنیا میں بہت سے لوگ سب سے زیادہ اور سب سے بڑا جھوٹ کیا بولتے ہیں؟ میرے خیال میں ہم سے سے بڑا جھوٹ یہ بولتے ہیں کہ ”میں اللہ سے ڈرتا /ڈرتی ہوں“۔ حالاں کہ ایسا ہرگز نہیں ہے۔ آپ لوگ بھی سوچ رہے ہوں گے میں کیا کہہ رہی ہوں جی حضور! یہی بات ہے اگر آج دنیا کے لوگ ربّ سے ڈررہے ہوتے تو کیا دنیا میں اتنی بُھوک، ننگ اور افلاس

Read more

امریکہ میں عمران خان کی فتوحات

واشنگٹن ڈی سی میں کیپٹل ون ایرینا میں پاکستانیوں کی بڑی تعداد نے پی ٹی آئی کی طرف سے منعقدہ جلسے میں بھرپور شرکت کی نیو یارک اور دُور دُور سے لوگ شریک ہوئے یوں لگ رہا تھا جیسے الیکشن سے پہلے جلسہ ہو رہا ہو۔ لوگوں میں عمران خان کی مقبولیت بے مثال تھی۔ لوگ وہاں صبح 10 بجے سے پہنچنا شروع ہوئے اور عمران خان لگ بھگ ساڑھے پانچ بجے وہاں پہنچے لیکن لوگ بے تابی سے اپنی

Read more

ہمپٹی ڈمٹی سَیٹ آن آ وال

Humpty Dumpty sat on a wall Humpty Dumpty had a great fall All the kings Horses & all the kings Men Could not put Humpty together again یہ وہ انگریزی لوک نظم ہے جو برسہا برس سے نہ صرف انگلینڈ بلکہ پوری دنیا میں بچوں کو نرسری سے ہی سکھائی پڑھائی جاتی ہے۔ تھوڑا سا اس کے پس منظر کو جاننے کی کوشش کرتے ہیں۔ ہمیشہ سے یہ کہا جاتا ہے کہ ننھے بچوں کو جس طرح چاہے اس سانچے

Read more

کہانیوں پر مشتمل ایک خط

محترم ڈاکٹر صاحب! تسلیمات! امید کرتی ہوں آپ خیریت سے ہوں گے۔ آپ کی کتاب درویشوں کا ڈیرہ نے دنیا کے کونے کونے سے نہ صرف مداح پیدا کیے بلکہ ایسے بہت سے لوگ بھی سامنے آئے جو اپنی اپنی گزارشات کی چٹھیاں دلوں میں لیے ٹامک ٹوئیاں مار رہے تھے جونہی اس کتاب کی شکل میں اک روشنی کی کرن دکھائی دی تو سب منہ کے بل دوڑ پڑے۔ لگے لکھنے خط۔ میں بھی انہی لوگوں میں سے ایک

Read more

فنکار اور قحط الرّجال

دلدار پرویز بھٹی مرحوم کہا کرتے تھے : ”اَیس مُلک وچ رہن دا اُصول اے جیہڑا ماڑا اے اوہدی ہتھی پے جاؤ تے جیہڑا تگڑا اے اوہدے پَیری پے جاؤ“۔ زمانۂ طالب علمی میں ان کے پروگرام شوق سے دیکھا کرتی بلکہ ایک بار آرٹ کی طالبہ کی حیثیت سے ان کے پروگرام میں بطور مہمان بلائی گئی تھی وہ یادیادوں کے جھروکوں سے اُبھرتی رہتی ہے۔ دلدار پرویز بھٹی مرحوم کا یہ جملہ زندگی کی راہوں پر چلتے ہوئے بارہا مجھ سے آن ٹکرایا۔

Read more

لاہور کی چیلسی کا ڈاکٹر

جو لمحے وقت کے درختوں سے گِر جاتے ہیں پھر وہاں وہ لمحے نہیں بلکہ ان لوگوں کی داستانیں ملتی ہیں جن کی زیست کے شجر سے وہ لمحے گِرتے ہیں۔ ان پتوں کے گِرنے سے پہلے وہاں مکمل سکوت ہوتا ہے مگر جیسے ہی ان گِرے ہوئے پتوں پہ کسی کا پاؤں آتا ہے تو ان کی چرچراہٹ سے چیختے ہوئے پتوں میں سے کتنی کہانیاں، افسانے، گیت اور داستانیں ہواؤں میں رقص کرنے لگتی ہیں۔ ان کہانیوں کے

Read more

بیٹیوں کا نام رکھتے ہوئے کچھ تو سوچیں!

اللہ میاں جی! یوں تو ہم ہر وقت تجھ سے گلے شکوے کرتے ہی رہتے ہیں ذرا سی تکلیف ہوئی تو رونا شروع ہوگیا ہمارا۔ لیکن اب تو حد ہی ہوگئی۔ یا اللہ! تُو نے عورت کیوں پیدا کی اور پھر خوب صورت ننھی فرشتوں جیسی فرشتہ بچیاں کیوں بنائیں؟ کیا تجھے معلوم نہ تھا یہ بھیڑیوں کا جنگل ہے، جنگل جہاں رستہ بھٹکتا نہیں بھٹکایا جاتا ہے۔ ہائے ربّا! تُو نے کومل کلیاں روندنے کو تو نہ بنائی تھیں۔ دنیا میں ہر چیز کا متضاد ہے دن کا رات، روشنی کا اندھیرا، خوشی کا غم اور فرشتے کا شیطان ہاں وہ کوئی شیطان ہی ہوگا انسان تو ہو نہیں سکتا۔

Read more

ایک خط محرموں کے نام

بابا یہ خط ہر اس بیٹی کے دل کی آواز ہے جو اس دھرتی پہ جنم لیتی ہے۔ پتہ ہے اس کی زندگی کا محورو مرکز اس کا باپ اور بھائی ہوتا ہے۔ زندگی کی کڑی دھوپ میں یقینا وہ شجر سایہ دار کی طرح ہیں۔ بیٹی اپنے ان توانا رشتوں کی اوٹ میں محبتیں ڈھونڈتی رہتی ہے اور وہ اسے محبت کی بجائے صرف عزت کے ترازو میں تولتے رہتے ہیں۔ بیٹی کی روح ہمہ وقت محبت کی متلاشی رہتی ہے۔ باپ اور بھائیو ں کے ہوتے اسے کسی کمی کا احساس نہیں ہوتا۔

لیکن جب یہی رشتے اسے بیچتے ہیں تو کتنی کم مائیگی کا احساس دل میں گھر کر جاتا ہے۔ یوں توصدیوں سے عورت کا استحصال ہوتا آیا لیکن آج ٹیکنالوجی کے اس دورِ جدید میں اس طرح کے واقعات کا وقوع پذیر ہونا نہایت ظلم اورجہالت کی بات ہے۔ پچھلے کچھ دنوں سے چینی لڑکوں اور پاکستانی لڑکیوں کی شادیاں اور ان کا سمگل ہونا بہت بڑا لمحۂ فکریہ ہے۔ پہلے تو یہ بے چاری اپنوں کے ہاتھوں رسوا ہوتی رہی اور اب غیروں کے ہاتھوں بے دریغ اسے بیچا جارہا ہے۔

Read more

روبوٹ چوہے، میڈیا اور عوام

ایک نجی ٹی وی چینل میں پی پی پی کے سابقہ ایم۔ پی۔ اے جناب سردار نبیل گبول صاحب فرما رہے تھے کہ وزیراعظم عمران خان صاحب نے پارلیمنٹ لاجز میں، مختلف ارکانِ اسمبلی کے کمروں میں روبوٹ چوہے چھوڑرکھے ہیں تاکہ اُنھیں اپوزیشن کے خفیہ منصوبوں یا ارادوں کے بارے میں تازہ ترین خبریں ملتی رہیں۔ ان کا یہ دعویٰ تھا کہ ایک سیکرٹری ان کا لگایا ہوا تھا بلکہ وہ یہ کہنا چاہ رہے تھے کہ وہ سیکرٹری

Read more

سب کشف اور کمال ہیں روٹی کے واسطے

ہم لوگ بھی عجیب ہیں اگر بدقسمتی سے کوئی ذیابیطس یا بلند فشارِ خون یا دل کے عارضے میں مُبتلا ہو تو اپنے معالج کی تحریر کردہ دوائیں لینے کی بجائے لوگوں کے مشوروں پر عمل کرتے ہیں۔ ایک کہتا ہے زیادہ دوا مت کھانا معدہ خراب ہوجائے گا۔ دوسرا کہتا ہے وہ دوا مت لینا گردوں پر اثر کرتی ہے۔ تیسرا کہتا ہے فلاں دوا لینے سے بینائی متاثر ہوتی ہے وغیرہ غرض جتنے منہ اُتنی باتیں۔ اس عمل

Read more

بیساکھی کا میلہ یادوں کے جھروکے سے

 سُنو مَیں روز دیکھتا ہوں کہ پچھلے گاؤں سے دُھواں اُٹھتا ہے۔ میری سمجھ میں نہیں آتا یہ دُھواں کس چیز کا ہے؟ بُوڑھے آم کا درخت پوپلر کے درخت سے کہہ رہا تھا۔ یہ دُھواں کھانا پکانے کا نہیں کیونکہ ایک تو یہ صبح تقریباً 9 بجے کے قریب اُٹھتا ہے اور اس میں سے عجیب سی سڑن والی بدبو سی اُٹھتی ہے۔ آخر یہ ہوکیا رہا ہے؟ چلو کل پنچھیوں سے پوچھیں گے۔ اگلے دن آم کے درخت نے اپنی شاخ پہ بیٹھی کوئل سے پوچھا: ”بی کوئل!سُنو تمہارے بارے میں کہاوت ہے کہ تم دوسروں کے پیغام لے کر آتی ہوتو بتاؤ تو سہی کہ برابر والے گاؤں سے آخر یہ روز ایک مخصوص وقت میں اتنا تیز اور بدبو دار دُھواں سا کیوں اُٹھتا ہے؟ ارے مت پوچھو! وہاں آبادی سے باہر ایک گڑھے میں کچھ جلایا جاتا ہے۔

Read more

چھوٹی چھوٹی قیامتیں

 یوں توقیامت کا ایک دن مقرر ہے لیکن ان چھوٹی چھوٹی قیامتوں کا کیا کریں جو آئے دن بنی نوع انسانوں پہ ٹوٹتی رہتی ہیں۔ کبھی دہشت گردی کی صورت میں، کبھی خود کش حملوں کی شکل میں اور کبھی قدرتی آفات کی طرح برس جاتی ہیں۔ پچھلے دنوں نیوزی لینڈ میں بھی ایک ناگہانی قیامت گزر گئی۔ عنبرین رشید، نعیم رشید کی اہلیہ کی ویڈیو تو سب ہی نے دیکھی کس قدر صبراورہونٹوں پہ پُرسکون مسکراہٹ جمائے یہ عورت کس طرح اپنے اندر اُٹھتے جوالا مکھی کو سنبھالے ہوئے بردباردکھائی دیتی ہے۔نعیم رشید وہ انسان ہے جس نے اووروں کو بچاتے ہوئے اپنی جان دی بلکہ اس عظیم شخص کے جوان بیٹے نے بھی باپ کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے اپنی جان دے دی۔ میری نعیم رشید کی بڑی بھابی جو ان کی کزن بھی ہیں سے بات ہوئی تو بتانے لگیں کہ نعیم بچپن ہی سے اپنے نام کے ساتھ گریٹ لکھا کرتا تھا۔ ہم ہنستے تھے اور کبھی کبھار تو مذاق اُڑا یا کرتے تھے لیکن اب سمجھ میں آیا وہ کیوں گریٹ کا لفظ اپنے نام کے ساتھ استعمال کرتاتھا۔

Read more

عورتو، صبح ہی صبح تمھیں کیا ہوگیا؟

آج بہت دنوں بعد ددّا صبح ہی آگئی تھیں۔ مَیں نے پوچھا ددّا خیریت تو ہے اتنے دنوں بعد کیسے آنا ہوا؟ بس یہ پوچھنا تھا کہ لگیں اپنے سر کو پیٹنے۔ مَیں نہ کہتی تھی بیٹا کہ اس کے مرنے کے بعد دیکھ لینا سب مشکل میں آجائیں گے، زندگی اجیرن ہوجائے گی، اب اللہ کو کیا منہ دکھائیں گے؟ کیا ہوا؟ کون مر گیا۔ خیریت تو ہے۔ کس کی زندگی اجیرن ہوگئی۔ ارے یاد نہیں بیٹا میں کچھ عرصہ پہلے کہا تھا کہ دوپٹہ مرگیا دیکھ لو کتنی مشکل ہوگئی۔

ارے نہیں ددّا! آپ دیکھتی نہیں ابھی اکثریت کے کندھوں پہ دوپٹے جھول رہے ہیں۔ ارے چھوڑو! تم کیا باتیں کرتی ہو بیٹا اب کندھوں پہ پڑے دوپٹوں کو چھوڑویہاں توپورا منظر ہی دُھواں دُھواں ہورہا ہے۔ جانتی نہیں تم جو کچھ یہ مُوئی عورتوں نے 8 مارچ کو آزادی کے نام پہ کیا؟ جانتی ہو مارچ کا بنیادی مطلب تو ہے کہ باوقار انداز سے قدم سے قدم ملا کر چلنا لیکن اس روز تو ایک طوفانِ بدتمیزی برپا تھا۔ ہاں ددّا! میں بھی سوچ رہی ہوں ایک زمانہ تھا جب امرتا پریتم نے عورت کے استحصال پہ خون کی ندیاں بہہ جانے پہ کُرلا کُرلا کر وارث شاہ کو آواز دی تھی۔

Read more

ایک درویش سے ملاقات

 ڈاکٹر صاحب سے میری ملاقات میری کتابی رُخ یا کتابی چہرہ سہیلی رابعہ الربا نے کروائی۔ پہلے تو آپ سوچ رہے ہوں کتابی رُخ کاکیا مطلب ہے؟ تو بھئی facebookکی اُردو میرے ذہن میں تو یہی آئی۔ باقی آپ بتا دیجیے۔ کچھ لوگوں سے تعلق اتنا عجیب ہوتا ہے کہ اسے الفاظ کا جامہ نہیں پہنایا جاسکتا۔ نجانے رابعہ سے میری روح کا کون سا اور کس جنم کا رشتہ ہے جو محبت کی مضبوط ڈوری سے بندھا ہوا ہے۔

Read more

ماما! بابا! ڈر لگ رہا ہے

ماما! رُکو ذرا میرے جوتے رہ گئے پیک ہی نہیں کیے وہ اُٹھا لوں۔ ارے ہاں دیکھو تو یہ ہری چُوڑیاں اس دَھانی دوپٹے کے ساتھ کتنی اچھی لگیں گی ناں ماما! مَیں ڈھولک پہ گانے بھی گاؤں گی، روکنا نہیں آخر کو میرے چاچا کی شادی ہے۔ کچھ ایسے ہی الہڑ، اٹکھیلے مدھر جذبات ہوں گے 13 سالہ اریبہ کے جس نے ابھی جوانی کی دہلیز پر قدم دھرنا ہی تھا، جس نے ابھی آسمان پر پورے ستارے بھی

Read more

ڈاکٹر عافیہ کو رہائی کیوں نہیں ملتی!

کیا وجہ ہے کہ عافیہ صدیقی کی رہائی ابھی تک پسِ دیوار ہے۔ ان دیواروں سے آوازیں ٹکرا ٹکڑا کر لوٹ آتی ہیں۔ مَیں بتاتی ہوں میرے مذہب نے مرد اور عورت دونوں کو اپنے اپنے دائرہ عمل میں برابری عطا کی ہے۔ فوقیت صرف اس کو حاصل ہے جو متقی اور پرہیزگار ہے۔ لیکن افسوس صد افسوس کہ عافیہ موومنٹ جو واٹس ایپ پہ ایک گروپ کی صورت میں چل رہی ہے اس کے مرد ممبران شاید ہر عورت کو پریشان کرنا اپنا حق سمجھتے ہیں۔ ان کو لگتا ہے کہ شاید یہ عورتیں جو اس تحریک کا حصہ ہیں وہ مفت کا مال ہیں کسی طرح بھی ان کی تعریف کرکے انہیں ایذا کا نشانہ بنا لے کوئی فرق نہیں پڑتا بلکہ اُلٹا شاید وہ اپنی تعریف سُن کر خوش ہوں۔

کان کھول کر سب سُن لیں ایسا ہرگز نہیں عورت اگر کوئی کام کرتی ہے تو یہ اس کی صلاحیت یا کوئی مشن ہوتا ہے۔ ہماری تہذیب اس چیز کی اجازت نہیں دیتی کہ عورت کو کمزور یا نادان سمجھ کر اُسے بے وقوف بنایا جائے۔ ہمارے ہاں جنس، خوب صورتی، عورت اور ادب شایدمفت کا مال سمجھا جاتا ہے۔ مَیں نے بچپن ہی سے عورت کو زیادہ کام کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ مگر پھر ایک قابلِ رحم بات یہ ہے کہ اگر اس عورت کو کوئی کسی بھی وجہ سے پریشان کرے تو اسے یہ باور کرایا جاتا ہے کہ خاموش رہو۔

Read more

آواز کی دنیا: ریڈیو پاکستان ایک سرمایہ

, 3جون 1947ء کو بابائے قوم قائد اعظم ؒ کی آواز میں تحریک ِ پاکستان کی کامیابی کی نوید بذریعہ آل انڈیا ریڈیو سے ملی ۔ بعد ازاں غلامی کے طویل سناٹے میں 13اور 14اگست کی درمیانی شب کو مصطفی علی ہمدانی کی آواز ہوا کی لہروں پہ کچھ اس طرح گونجی’’اسلام علیکم ! پاکستان براڈ کاسٹنگ ان سروس، ہم لاہور سے بو ل رہے ہیں،13اور14اگست سن 47کی درمیانی رات بارہ بجے ہیں ۔ طلوعِ صبحِ آزادی!‘‘پھر قومی ترانہ آواز

Read more