انتہا پسندی کا علاج کیسے ممکن ہوگا؟

بنیادی نوعیت کا سوال یہ ہونا چاہیے کہ ہمارے معاشرے میں نفرت، تعصب اور اس کے نتیجے میں تشدد کی فکر کیسے آگے بڑھی۔ کیا وجہ ہے کہ ہم پرامن انداز میں اپنے معاملات کو حل کرنے میں ناکام ہورہے ہیں۔ تنازعات کا ابھرنا ایک فطری امر ہوتا ہے۔ لیکن اہم بات یہ ہوتی ہے کہ ہم مجموعی طور پر تنازعات سے کیسے نمٹتے ہیں۔ کیونکہ دیکھنے کو یہ ملتا ہے کہ ہم تنازعات کو حل کرنے کی کوشش میں

Read more

پرتشدد معاشرے کے رجحانات

پاکستانی معاشرہ انتہا پسندی، عدم برداشت، غصہ، تعصب اور نفرت کی سیاست سے نمٹنے کی کوشش کررہا ہے۔ کیونکہ سماجی، اخلاقی اور سیاسی بیماریوں نے پورے معاشرے کو ایک بیماری کی صورت میں اپنی لپیٹ میں لیا ہوا ہے۔ مجموعی طور پر ہمیں بطور معاشرہ ایک ایسے معاشرے کی تلاش ہے جو مہذہب بھی ہو اور ذمہ دار بھی۔ کیونکہ روزانہ کی بنیادوں پر ہمیں ایسی خبریں یا واقعات دیکھنے یا سننے کو ملتے ہیں جو ہمیں خطرناک معاشرے کی

Read more

الزامات کی سیاست اورقومی تقاضے

پاکستان کی مجموعی سیاست الزامات کے گرد گھومتی ہے۔ الزامات حقیقت پر مبنی ہوں یا اس میں مصنوعی انداز سے رنگ بھرے گئے ہوں ایسے لگتا ہے کہ اس ملک کا بنیادی مسئلہ الزامات پر مبنی سیاست ہے۔ حکومت ہو یا حزب اختلاف کی سیاست یا اہل دانش کی مجالس ہوں یا میڈیا پر جاری بحث ومباحثہ سب کا مسئلہ دوسروں پر الزامات عائد کرکے خود کو بچانا ہوتا ہے۔ یہ ہمارا قومی مزاج بنتا جارہا ہے کہ ہم اپنی

Read more

پنجاب کا سیاسی و انتظامی بحران

وزیر اعظم عمران خان بدستور وزیر اعلی عثمان بزدار کی سیاسی حمایت میں پیش پیش ہیں۔ وہ سیاسی مخالفین سمیت اپنی ہی جماعت کے ان افراد کا مطالبہ ماننے کے لیے تیار نہیں کہ پنجاب کے بحران کی اصل وجہ وزیر اعلی عثمان بزدار ہیں۔ کیونکہ جب سے عثمان بزدار کو وزیر اعلی پنجاب نامزد کیا گیا تو ان کے بارے میں اسی رائے کو تقویت دی گئی کہ وہ پنجاب جیسے مضبوط صوبہ میں وزیر اعلی کے طور پر

Read more

نئے انتخابات کا مطالبہ

پاکستان میں انتخابات کی تاریخ ہمیشہ سے متنازعہ رہی ہے۔ کوئی بھی فریق جو انتخاب ہارتا ہے وہ انتخابی نتائج کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں اور ان کے بقول ہمیں ایک منظم سازش کے تحت انتخابی جیت سے دور رکھا گیا ہے۔ عمومی طور پر انتخابات او راس کے نتائج میں اسٹیبلیشمنٹ کے کردار کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ جو جماعتیں انتخابات جیت جاتی ہیں ان کے نزدیک اسٹیبلیشمنٹ کا کردار منصفانہ اور شفاف ہوتا

Read more

طلبہ تنظیموں کی بحالی

پاکستان کے اہل دانش اور سیاسی، علمی و فکری اشرافیہ میں طلبہ تنظیموں کی بحالی میں رائے عامہ تقسیم نظر آتی ہے۔ ایک طبقہ ان طلبہ تنظیموں کی پرزور بحالی کا حامی ہے اور ان کے بقول طلبہ کو سیاسی او ر سماجی شعور کے عمل سے کسی بھی طور پر دور نہیں رکھا جاسکتا۔ اسی طرح اس طبقہ کی رائے ہے کہ طلبہ تنظیمیں مستقبل میں مختلف محاذ پر قیادت کے خلا کو پر کرنے میں معا ون ثابت

Read more

مقامی حکومتوں کے انتخابات

جمہوری وسیاسی نظام میں مقامی حکومتوں کے نظام کو خصوصی اہمیت حاصل ہوتی ہے۔ بنیادی وجہ یہ ہوتی ہے کہ ایک طرف ان مقامی اداروں کو ہم بنیادی جمہوری ادارے یا جمہوری نرسریاں کہتے ہیں تو دوسری طرف عام آدمی کے روزمرہ کے معاملات کا براہ راست تعلق بھی اسی مقامی نظام سے جڑا ہوتا ہے۔ دنیا بھر میں حکمرانی کے نظام کو شفاف اور موثر یا پائدار بنانے کے حوالے سے سب سے زیادہ توجہ مقامی نظام کی مضبوطی

Read more

ابھی تصادم کی سیاست ختم ہوتے نظر نہیں آتی

عمران خان بنیادی طورپر پاپولر سیاست کے حامی سیاست دان ہیں۔ یہ ہی وجہ ہے کہ ان کی حکومت یا طرز حکمرانی میں ہمیں حزب اختلاف کی سیاست کی جھلک نمایاں طور پر نظر آتی ہے۔ عمران خان کے سیاسی مخالفین یا سیاسی پنڈت بھی اس نکتہ کو بیان کرتے ہیں کہ عمران خان کی سیاست میں جذباتیت یا ٹکراؤ کی پالیسی کا غلبہ ہے۔ وزیر اعظم عمران خان نے دو دن کی ذاتی چھٹی کے بعد جو تقریر کی

Read more

نواز شریف کا سیاسی مخمصہ

نواز شریف کا علاج کی غرض سے باہر جانا یقینی تھا۔ کیونکہ یہ ان کی خواہش بھی تھی اور بیماری کی ضرورت بھی کہ وہ اپنا مکمل علاج باہر ہی سے کروائیں۔ اس کے لیے ان کو عدالتی وحکومتی ریلیف درکار تھا جو سخت مشکلات کے باوجود ان کو مل گیا ہے اور اب وہ علاج کی غرض سے ملک سے باہر چلے گئے ہیں۔ اگرچہ شریف فیملی کے بقول وہ بہت جلد ملک میں واپس آئیں گے، لیکن فوری

Read more

نان ایشوز کی سیاست

پاکستان کی مجموعی سیاست نان ایشوز یا شخصیات کے گرد گھوم رہی ہے۔ میڈیا ہویا سیاسی محاذ یا اہل دانش کی سیاسی مجالس سب کا موضوع ہمیں ایسے مسائل نظر آتے ہیں جو قومی مفادات یا سلامتی و خود مختاری سمیت عام آدمی کے مفادات کے بالکل برعکس ہے۔ نظام میں بہتری پیدا کرنا یا اس میں ایسی اصلاحات کو سامنے لانا جو ہمیں ترقی سے جوڑ سکے کے مقابلے میں ہمیں محاذ آرائی، انتشار، ذاتی مفادات بلاوجہ کی ایسی

Read more

مولانا فضل الرحمن کیا کچھ حاصل کرسکے؟

یہ بات پہلے ہی طے تھی کہ مولانا فضل الرحمن کہ آزادی مارچ یا دھرنے کے نتیجے میں کوئی بڑی سیاسی یا حکومتی تبدیلی کا امکان موجود نہیں ہے۔ ویسے بھی سیاسی دھرنوں یا طاقت کے زور پرحکومتوں کو گرانا یا وزیر اعظم کے استعفی کا مطالبہ کسی بھی طور پر نہ تو قانونی تقاضوں کو پورا کرتا ہے او رنہ ہی سیاسی و جمہوری تقاضوں کو۔ کیونکہ اگر حکومت یا وزیر اعظم کی تبدیلی کا طاقت کے زو رپر

Read more

سویلین بالادستی کی جنگ

پاکستان میں سیاسی اور جمہوری قوتیں عمومی طور پر ملک میں سویلین بالادستی کی جنگ لڑنے کی بات شدت سے کرتی ہیں۔ یہ واقعی ایک بنیادی نوعیت کا سیاسی مسئلہ ہے جو قومی سیاست کو درپیش ہے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ پاکستانی سیاست اور بالخصوص جمہوریت بدستور اپنے ارتقائی عمل سے گزررہی ہے۔ عمومی طور پر دلیل یہ دی جاتی ہے کہ سیاست اور جمہوریت کا سفر جمہوری قوتوں کو ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھ کر عملا

Read more

انتخابی دھاندلی پر مبنی سیاست

پاکستان کی سیاسی اور جمہوری تاریخ میں ”انتخابی دھاندلی“ ایک بنیادی مسئلہ رہا ہے۔ یہ ہی وجہ ہے کہ ہر انتخابات کے بعد جیتنے اور ہارنے والوں کے درمیان انتخابی ساکھ پر سوالات اٹھتے ہیں اور انتخابی حیثیت کو متنازعہ بنایا جاتا ہے۔ جو لوگ انتخابات جیت جاتے ہیں ان کی نظر میں انتخابات بھی شفاف تھے اور ان میں ریاستی اداروں یا اسٹیبلیشمنٹ کی مداخلت کا کوئی کردار نہیں تھا۔ لیکن اس کے برعکس انتخابات میں ہارنے والے انتخابی

Read more

سیاست کی بند گلی کھولنی ہوگی

پاکستان کی سیاست عملی طور پر ایک نئی جہت کی متلاشی ہے۔ کیونکہ موجودہ سیاست سے وہ نتائج حاصل کرنے میں ہم ناکام ہورہے ہیں جو ہماری قومی ضرورت سمیت سیاسی اور جمہوری تقاضوں کو پورا کرسکے۔ سیاست اور جمہوریت کا بنیادی محور عام آدمی کی سیاست سے جڑا ہوتا ہے۔ کیونکہ جب سیاست سے جڑے تمام قیادتیں عوام کو بنیاد بنا کر ان کی توجہ حاصل کرنے کی کوشش کرتی ہیں تو مفاد بھی ان ہی سے وابستہ ہونا

Read more

طبقاتی نظام اور استحصالی سیاست

پاکستان کا آئین اور قانون تمام شہریوں کے درمیان برابری او رکسی بھی طرز کی عدم تفریق کے پہلو کو نمایاں کرتا ہے۔ لیکن جب آئین عملا محض کتابوں یا لفظوں تک محدود رہے جائے تو اس کی اہمیت اور ساکھ بھی بری طرح متاثر ہوتی ہے۔ پاکستان کا بنیادی مسئلہ بھی اس سیاسی، سماجی، انتظامی، معاشی اور قانونی تضادات کا شکار ہے۔ آئین یا قانون کے مقابلے میں ہم فرد کی سیاسی، سماجی او رمعاشی حیثیت یا اختیار کو

Read more

مسئلہ کشمیر اور خورشید محمود قصوری کا بیانیہ

مقبوضہ کشمیر کی موجودہ صورتحال میں ہمیں ٹھوس اور عقلی بنیادوں پر گفتگو کے مقابلے میں کافی حد تک جذباتیت کا مسئلہ موجود رہتا ہے۔  سب جانتے ہیں کہ ہمیں جذباتیت کے ساتھ ساتھ سوچ سمجھ کر ٹھوس اور حقایق کی بنیاد پر کشمیر کے مقدمہ کو لڑنا ہے۔ دانشوروں، لکھنے اور بولنے والے فکری افراد کا حقیقی کردار ہی یہ بنتا ہے کہ وہ معاشرے میں موجود داخلی اور خارجی مسائل پر روایتی فکر کے مقابلے میں ایک ایسا

Read more

کیا ہم واقعی ترقی کرنا چاہتے ہیں؟

یہ ایک بنیادی نوعیت کا سوال ہے کہ کیا واقعی ہم بطور معاشرہ، ریاست اور حکومت ترقی کرنا چاہتے ہیں۔ اگرچہ سب کا مجموعی جواب یقینی طور پر یہ ہی ہوگا کہ ہم ترقی کے خواہش مند ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ اگر واقعی ہم ترقی کرنا چاہتے ہیں تو ہمارا طرز عمل کیا ہونا چاہیے۔ کیونکہ محض ترقی کی خواہش کرکے ہم ترقی نہیں کرسکتے۔ ترقی کی بنیاد خواہش کے ساتھ ساتھ اس کے عملی اقدامات، سوچ، فکر

Read more

جلاؤ، گھیراؤ اور حکومت گراؤ سیاست

پاکستان کی مجموعی سیاست سیاسی المیوں سے بھری ہوئی ہے۔ اس سیاست میں کوئی بھی جماعت کسی کا سیاسی مینڈیٹ قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتی۔ جو بھی سیاسی جماعت انتخابات جیتتی ہے اس کے نزدیک انتخابات شفافیت کی بنیاد پر ہوتے ہیں اور ہر ہارنے والی جماعت یہ سمجھتی ہے کہ اسے ایک سازش کے تحت پس پردہ قوتوں نے ہرایا ہے۔ اسی طرح اگر اسٹیبلیشمنٹ کسی سیاسی جماعت یا گروہ کی حمایت کرتی ہے توسب اچھا ہوتا

Read more

عوام متبادل سیاست کی تلاش میں ہیں

عام آدمی یا کمزور طبقہ کا بنیادی مسئلہ حکمرانی کے نظام میں شفافیت اور منصفانہ نظام کا رہا ہے۔ حکمرانی چاہے سول ہو یا فوجی دونوں نظاموں میں عام آدمی کی سیاست ان کی توقعات اور خواہشات کے برعکس رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ملک میں حکمرانی کا نظام ہمیشہ سے سوالیہ نشان بھی رہا ہے اور لوگوں کا عدم اعتماد بھی۔ جو نظام عوامی اعتماد میں سیاسی ساکھ کے بحران کا شکار ہو اس نظام کی اہمیت اور

Read more

غریب اور کمزور شہری کو بھی حکومت کی ترجیحات میں شامل کیا جائے

کسی بھی معاشرے میں ایک ذمہ دار ریاست اور حکومت کا تصور بنیادی طور پر شہریوں کے مفادات، تحفظ، ترقی، خوشحالی اور منصفانہ نظام کی بنیاد پرکھڑا ہوتا ہے۔ ریاست اور شہریوں کے درمیان جو باہمی تعلق ہے اس کی بنیاد بھی 1973کے دستور میں دیے گئے بنیادی حقوق کے باب میں موجود ہے۔ ریاست شہریوں سے وعدہ کرتی ہے کہ وہ ان کے حقوق کو یقینی بنائے گی اور اس کے بدلے میں شہری ریاست، حکومت کو یہ ضمانت

Read more

نوجوان نسل کی رہنمائی کیسے کی جائے؟

پاکستان کی ایک بڑی سیاسی طاقت نوجوان طبقہ ہے۔ کیونکہ کسی بھی معاشرے کی ترقی کا بنیادی نکتہ نوجوان نسل کی ترقی سے جڑا ہوتا ہے اور کوشش کی جاتی ہے کہ ریاستی و حکومتی سطح پر زیاد ہ سے زیادہ مواقع اور سازگار ماحول کو یقینی بناکر ان کی ترقی کو ممکن بنانا ہوتا ہے۔ لیکن یہ سب کچھ اسی صورت میں ممکن ہوتا ہے کہ جب ریاستی و حکومتی سطح پر نوجوان طبقہ ان کی سیاسی ترجیحات کا

Read more

کیا فضل الرحمن کچھ حاصل کر سکیں گے؟

مولانا فضل الرحمن بنیادی طور پر اقتدار کے اہم کھلاڑی ہیں اور وہ خود یہ اعتراف کرتے ہیں کہ سیاست کی بنیاد ہی طاقت کے مراکز میں اپنی سیاسی اہمیت کو منوانا اور طاقت کے کھیل کا حصہ بننے سے جڑی ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مولانا مذہبی سیاست کو بنیاد بنا کر اقتدار کے کھیل کو اپنی سیاسی ترجیحات کا حصہ بناتے ہیں۔ بے نظیر بھٹو ہوں یا نواز شریف یا جنرل مشرف ہوں یا آصف علی زرداری

Read more

وزیر اعظم عمران خان کا کمال

وزیر اعظم عمران خان نے حقیقی معنوں میں خود کو عالمی سطح پر ایک بڑے سیاسی مدبراور فہم وفراست پر مبنی راہنما کے طور پر پیش کرکے ایک بڑی عالمی پزیرائی حاصل کی ہے۔ ان کے بقول وہ خود کو کشمیر کے تناظر میں داخلی او رخارجی دونوں محاذوں پر ایک بڑے سیاسی سفیر کے طو رپر پیش کریں گے، واقعی سچ کردکھایا۔ بطوروزیر اعظم اس قدر متحرک اور فعال کردار ماضی میں ہمیں اس کی کوئی نظیر نہیں ملتی

Read more

سیاسی محاذ آرائی سے باہر نکلنا ہوگا

پاکستان کی سیاست کا بنیادی مسئلہ سیاسی محاذ آرائی اور ایک دوسرے پر بداعتمادی کا پہلو ہے ۔ سیاست میں جب کوئی فریق ایک دوسرے کو قبول کرنے کی بجائے سیاسی تعصب،  نفرت، بغاوت یا عدم برداشت،  الزام ترشیوں منفی طرز عمل کا مظاہرہ کرے تو اس کا عملی نتیجہ سیاسی محاذ پر ایک بڑی محاز آرائی اور انتشار کی سیاست کے تناظر میں پیدا ہوتا ہے ۔پاکستان کی سیاست کا المیہ بھی کچھ اسی طرح کا ہے جہاں استحکام

Read more

کیا شفاف احتساب ممکن ہو سکے گا ؟

کیا پاکستان میں شفاف اور منصفانہ احتساب ممکن ہے ؟ یہ ایک ایسا بنیادی نوعیت کا سوال ہے جو ہمارے اہل دانش سمیت رائے عامہ تشکیل دینے والے افراد یا اداروں سمیت عام آدمی کی بحث کا موضوع ہے ۔ پاکستان کا ماضی احتساب کے حوالے سے کافی مایوس کن اور متنازعہ ہے ۔او ل یہاں کبھی احتساب ہوا نہیں ہے اور دوئم اگر کچھ کرنے کی کوشش کی گئی تو اس میں سیاسی انجیرئنگ یا سیاسی انتقام کی بو

Read more

حکمرانی کا طرز فکر بدلنا ہوگا

پاکستان میں حکمرانی کا نظام ہمیشہ سے سوالیہ نشان کے طور پر موجود ہے۔ سول حکمرانی ہو یا فوجی حکمرانی کے ادوار سب نظاموں میں حکمرانی کا نظام لوگوں کی بنیادی توقعات اور خواہشات کی عکاسی نہیں کرسکا۔ یہی وجہ ہے کہ حکومت کسی کی بھی ہو لوگ حکمرانی کے نظام حکومت سے ہمیشہ ہی نالاں نظر آتے ہیں۔ اس کا ایک نتیجہ بری حکمرانی کے تناظر میں ریاست اور عوام یا حکومت اور عوام کے درمیان بڑھتی ہوئی ایک

Read more

عثمان بزدار کی حقیقی سیاسی طاقت کیا ہے؟

اس میں کوئی شبہ نہیں کہ وزیر اعلی پنجاب سردار عثمان بزدار کی اصل سیاسی طاقت وزیر اعظم عمران خان ہی ہیں۔ وزیر اعلی پنجاب کے طو رپر عثمان بزدار کے سیاسی انتخاب، تقرری او رایک برس تک ان کے اقتدار کی کھلی حمایت کے پیچھے بھی عمران خان ہی ہیں۔ حالانکہ عثمان بزدار کو وزیر اعلی کے طور پر اپنی تقرری سے لے کر اب تک داخلی اور خارجی دونوں محاذ پر سخت مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا ہے

Read more

پولیس اصلاحات: کیا کچھ ممکن ہوسکے گا؟

پنجاب میں پولیس اصلاحات ایک بڑا چیلنج ہے۔ کیونکہ جب پولیس کو ادارہ جاتی عمل یا قانون کی حکمرانی کی بجائے حکمران طبقہ اپنے سیاسی مقاصد یا مفادات کے لیے استعمال کرے گا تو اس عمل میں سے شفافیت اور جوابدہی کا نظام ممکن نہیں ہوگا۔ یہ امر فطری ہے کہ جب حکمران طبقہ پولیس کو اپنے سیاسی مفاد کے لیے استعمال کرے گا تو اس کا ایک نتیجہ پولیس کے نظام میں بھی دیکھنے کو ملتا ہے جہاں پولیس

Read more

مشروط مذاکر ات کی پیشکش

پاکستان او ربھارت کے درمیان مسائل کا حل جنگ نہیں بلکہ دو طرفہ مذاکر ات اور متنازعہ امور پر بات چیت کی مدد سے مسائل کا حل تلاش کرنا ہے۔ آج کی جمہوری سیاست میں مسائل کو بات چیت کی مدد سے ہی حل کیا جاتا ہے اور کوشش کی جاتی ہے کہ سیاسی، سفارتی، ڈپلومیسی کے محاذ پر کی جانے والی کوششوں کی مدد سے مسائل کا حل تلاش کیا جائے۔ پاک بھارت بداعتمادی ایک بنیادی مسئلہ ہے او

Read more

اقتدار کا ایک برس

بنیادی طور پر عمران خان نے بہت زیادہ توقعات بڑھا کر اقتدار حاصل کیا تھا اوران کا دعویٰ تھا کہ وہ اقتدار سنبھالتے ہی ”تبدیلی“ کا ایک ایسا منظر پیش کریں گے جو ماضی کے مقابلے میں بہتر اور نمایاں ہوگا۔ لیکن حزب اختلاف اور حزب اقتدار کی سیاست میں جو بنیادی حقایق ہوتے ہیں وہ ایک دوسرے سے کافی مختلف ہوتے ہیں۔ کیونکہ جذباتیت پر مبنی سیاست کے مسائل عمومی طور پر لوگوں میں ہیجانی کیفیت تو پیدا کرسکتے

Read more

کراچی کا سیاسی نوحہ

ہمارا سیاسی المیہ یہ ہے کہ ہم دنیا بھر میں حکمرانی کے نظام کو شفاف بنانے کے مختلف تجربات سے کچھ سیکھنے کے لیے تیار نہیں۔ ہم روایتی طور پر حکمرانی کے نظام کو قائم کر کے عام آدمی کی زندگی میں مشکلات پیدا کرنے کا سبب بنتے ہیں اور ہماری حکمرانی کا نظام بنیاد ی طور پرعام آدمی کے مفادات سے برعکس ہے۔ دنیا نے حکمرانی کے نظام کو شفاف بنانے کے لیے عدم مرکزیت پر مبنی نظام کو

Read more

عالم انسانیت کو بیدار ہونا ہو گا

مقبوضہ کشمیر کا مسئلہ عالمی حیثیت اختیار کرگیا ہے۔ کوئی یہ حقیقت تسلیم کرے یا نہ کرے کشمیر کی یہ مزاحمتی سیاسی تحریک کی شدت نے عالمی دنیا کو اپنی طرف متوجہ کیا ہے۔ یہ ایک گلوبل دنیا ہے اور جہاں ٹیکنالوجی کی بنیاد پر میڈیا کا غلبہ ہے اور اس تناظر میں دنیا میں ہونے والے واقعات کو عالمی دنیا کی نظروں سے کسی بھی طو رپر اوجھل نہیں رکھا جاسکتا۔ بھارت کی ریاست اور حکومت جو کچھ مقبوضہ

Read more

جنرل باجوہ کی توسیع

فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں توسیع کا فیصلہ غیر ممکنہ نہیں تھا۔ سیاسی پنڈتوں نے کافی عرصہ پہلے ہی یہ پیش گوئی کردی تھی کہ موجودہ سیکورٹی مسائل کے پیش نظر آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کا فیصلہ کیا جاسکتا ہے۔ اصولی طور پر کہا جاسکتا ہے کہ ادارہ جاتی عمل میں فردکے مقابلے میں ادارہ کی اہمیت زیادہ ہوتی ہے۔ لیکن کسی بھی آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کا

Read more

بند دروازہ کھولنا ہوگا

پاکستان اور بھارت کے درمیان بہتر تعلقات کی بحالی ایک مشکل اور پیچیدہ مسئلہ ہے۔ جب بھی تعلقات کی بحالی کی بات کہیں آگے بڑھتی ہے تو کوئی نیا واقعہ صورتحال کو اور زیادہ خراب کردیتا ہے۔ مسئلہ کشمیر دونوں ملکوں کے درمیان ایک اہم مسئلہ ہے اور ہمارے بیشتر مسائل اسی اہم نکتہ یعنی کشمیر کی سیاست سے جڑے ہیں۔ حالیہ دنوں میں مقبوضہ کشمیر کا مسئلہ دونوں ملکوں میں ایک نئی بدمزگی کی صور ت میں سامنے آیا

Read more

خارجہ پالیسی کا محاذ

آج کی دنیا کی سیاست میں خارجہ پالیسی کی درست سمت بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔ عالمی اور علاقائی سیاست میں وہی ملک اہمیت رکھتے ہیں جو خود کو دنیا کے ساتھ جڑ کر رہتے ہیں۔ اگرچہ خارجہ پالیسی کا بنیادی نکتہ مفادات سے جڑی سیاست ہوتی ہے اور جس ملک کے بھی کسی بھی ملک کے ساتھ مفادات جڑے ہوں گے، وہ اہمیت اختیار کرے گا۔ ایک بنیادی نکتہ یہ اٹھایا جاتا ہے کہ آج کی عالمی سیاست میں معیشت

Read more

انسانی حقوق کا مقدمہ

مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کا مقدمہ بنیادی اہمیت کا حامل ہے۔ یہ ہی وجہ ہے کہ بھارتی ریاست اور بالخصوص مودی حکومت کے تناظر میں اس وقت عالمی دنیا میں مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی بدترین پامالی پر دنیا بھر میں سخت مزاحمت ہورہی ہے۔ 15 اگست کو بھارت کے یوم آزادی کے موقع پر دنیا بھر میں مقبوضہ کشمیر کے حق میں اور بھارتی حکومت سمیت بی جے پی کی انتہا پسند پالیسیوں کے خلاف بڑا یوم

Read more

ماں جی کی یاد میں

معروف شاعر عباس تابش کا یہ شعر جب بھی پڑھتا ہوں تو واقعی ماں یاد آجاتی ہے۔ اس کے بقول : ایک مدت سے میری ماں نہیں سوئی تابش میں نے ایک بار کہا تھا مجھے ڈر لگتا ہے ماں کی جدائی کا دکھ ایک ایسا دکھ ہے جو آج بھی میری زندگی کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔ ماں کا رشتہ ہی ایک ایسا عجیب و غریب رشتہ ہے جس میں سوائے محبت، احساس، درد، مددگار، خلوص، اپنائیت، جذبہ، قربانی،

Read more

سیاسی اور سفارتی ڈپلومیسی کا محاذ

بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر پر کیے جانے والے حالیہ فیصلہ کے نتیجے میں پاکستان پر سیاسی اور سفارتی محاذ پر ڈپلومیسی کا دباؤ بڑھ گیا ہے، کیونکہ مسئلہ محض کشمیر تک ہی محدود نہیں بلکہ پاک بھارت تعلقات سمیت جنوبی ایشیا یا اس خطہ کی سیاست سے جڑے مسائل سنگین صورتحال اختیار کرگئے ہیں۔ ایسی صورتحال میں پاکستان اپنے اوپر دباؤ کو کم کرنے اور مقبوضہ کشمیر کے مسئلہ پر کشمیروں کے ساتھ مکمل سیاسی اور سفارتی یکجہتی

Read more

مسئلہ کشمیر اور بھارت کی جارحیت

نریندر مودی کی جنونی اور ہندوتہ پر مبنی حکومت نے مقبوضہ کشمیر میں آئین کے آرٹیکل 370 اور 35۔ Aکو ختم کرکے اس کی خود مختار حیثیت کو ختم کرتے ہوئے ریاست کو دو حصوں میں تقسیم کیا ہے۔ حالیہ فیصلہ سے مقبوضہ کشمیر اب نیم خود مختار ریاست نہیں بلکہ وفاقی علاقہ کہلائے گا جس کی اپنی قانون ساز اسمبلی ہوگی۔ مودی سرکار نے مقبوضہ وادی کو دو حصوں میں تقسیم کرتے ہوئے وادی جموں وکشمیر کو لداخ سے

Read more

آرمی چیف، نوجوان طبقہ اور قومی بیانیہ

پاکستان کا نوجوان طبقہ ایک بڑے بحران یا چیلنجز سے گزرہا ہے۔ بنیادی مسئلہ عدم تحفظ اور غیر یقینی صورتحال کا ہے اورجس میں معاشی عمل سے جڑا مسئلہ بنیادی اہمیت رکھتاہے۔ مسئلہ محض پڑھے لکھے نوجوان لڑکوں اورلڑکیوں کا ہی نہیں بلکہ وہ نوجوان جو پڑھ لکھ نہیں سکے ان کو بھی کیسے قومی ترقی کے دھار ے میں لانا ہے، بڑا سوال ہے۔ کیونکہ عمومی طورپر نوجوان طبقہ کے مسائل اوران کی ترقی پر حکومتی اورریاستی سطح پر

Read more

افغان بحران کا حل

اس وقت عالمی دنیا سمیت خطہ کے ممالک کی توجہ کا مرکز افغانستان کے بحران کا حل ہے۔ یہ جو نئے سیاسی امکانات افغان بحران کے تناظر میں پیدا ہورہے ہیں اس نے عالمی دنیا سمیت علاقائی ممالک کو ایک نئی امید دی ہے۔ کیونکہ افغان بحران کا حل محض افغانستان کے داخلی معاملات تک محدود نہیں بلکہ خود علاقائی یا خطہ کی سیاست سمیت اس کے سیاسی تانے بانے افغان بحران کے حل سے جڑے ہوئے ہیں۔ یہ بات

Read more

مسئلہ کشمیر، پاک بھارت تعلقات اور امریکہ

پاکستان اور بھارت کے درمیان بہتر تعلقات کے درمیان کشمیر کا مسئلہ ایک بنیادی نوعیت کی حیثیت رکھتا ہے۔ بالخصوص پچھلے چند برسوں میں کشمیر کے مسئلہ نے ایک بین الا اقوامی مسئلہ کے طور پر اپنی اہمیت منوائی ہے۔ اس کی وجہ مقبوضہ کشمیر میں جاری مقامی جدوجہد ہے۔ اس جدوجہد میں بالخصوص نئی نسل کی موثر شمولیت اور بھارت کی جارحیت نے مسئلہ کی توجہ عالمی قوتوں کی طرف بھی دلوائی ہے۔ کشمیر کے بحران کے حل میں

Read more

سوشل میڈیا پر رواداری اور مکالمہ کا کلچر

دنیا میں اظہار آزادی کے تناظر میں اب سوشل میڈیا ایک بڑی طاقت بن کر سامنے موجود ہے۔ الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا کے مقابلے میں سوشل میڈیا ایک مقبول میڈیا کی حیثیت اختیار کرگیا ہے۔ عمومی طور پر سوشل میڈیا کو نئی سیاسی، سماجی تبدیلی کے تناظر میں دیکھا جاتا ہے اور سمجھا جاتا ہے کہ اس نئے میڈیا کو نظرانداز کر کے کسی بھی مہم کو کامیاب نہیں بنایا جا سکتا۔ یہ ہی وجہ ہے کہ اب بڑے بڑے

Read more

قبائلی علاقہ جات اور جمہوریت کی فتح

یہ واقعی پاکستان کی سیاسی جمہوری تاریخ کا اہم دن ہے جب فاٹا سے تعلق رکھنے والے قبائلی لوگوں نے پہلی بار ملکی تاریخ میں براہ راست انتخابی عمل میں حصہ لے کر نہ صرف ووٹ ڈالا بلکہ اپنی مرضی اور منشا کے مطابق اپنے امیدواروں کا خود فیصلہ کیا۔ یہ عمل حقیقی معنوں میں اہم اور ان مقامی قبائلی لوگوں کو قومی سیاسی دھارے میں لانے کے لیے ایک بڑی پیش رفت سے جڑا ہے۔ یہ احساس وہاں کے

Read more

غذائی عدم تحفظ اور حکمرانی کا بحران

پاکستان کی حکمرانی کے بحران کی ایک اہم کنجی غربت میں اضافہ ہے۔ یہ بحران کم ہونے کی بجائے تسلسل کے ساتھ بڑھ رہا ہے او رتمام تر حکومتی دعووں کے باوجود غربت کا بحران کم ہونے کی بجائے اور زیادہ بگاڑ کا منظر پیش کررہا ہے۔ غربت کے مختلف پہلو ہوسکتے ہیں او راس کی کئی سطح پر درجہ بندی کی جاسکتی ہے۔ ایک مسئلہ غذائی عدم تحفظ کا بھی ہے۔ یہ ایک انسانی بنیادی حق ہے جو اسے

Read more

غذائی عدم تحفظ اور حکمرانی کا بحران

پاکستان کی حکمرانی کے بحران کی ایک اہم کنجی غربت میں اضافہ ہے۔ یہ بحران کم ہونے کی بجائے تسلسل کے ساتھ بڑھ رہا ہے اور تمام تر حکومتی دعووں کے باوجود غربت کا بحران کم ہونے کی بجائے اور زیادہ بگاڑ کا منظر پیش کررہا ہے۔ غربت کے مختلف پہلو ہوسکتے ہیں اور اس کی کئی سطح پر درجہ بندی کی جا سکتی ہے۔ ایک مسئلہ غذائی عدم تحفظ کا بھی ہے۔ یہ ایک انسانی بنیادی حق ہے جو

Read more

مقامی حکومت اور ترجیحات کا مسئلہ

18 ویں ترمیم کے بعد یہ سیاسی منطق دی گئی تھی کہ اب حکمرانی کے بحران کے حل میں وفاقی حکومتوں کے مقابلے میں صوبائی حکومتوں کا اہم کردار ہوگا۔ مقامی ترقی کی کنجی صوبائی حکومتوں کو دی گئی تھی کہ وہ 1973 کے دستور کی شق 140۔ Aکے تحت صوبائی سطح پر سیاسی، انتظامی اورمالی اختیارات کو صوبوں سے ضلعی، تحصیل اور یونین کونسل کی سطح پر منتقل کریں۔ ماضی میں یہ دلیل دی جاتی تھی کہ وفاق صوبائی

Read more

عثمان بزدار کا چیلنج

وزیر اعلی پنجاب عثمان بزدار کو ابتدائی طور پر تین بڑے چیلنجز کا سامنا تھا۔ اول ان کے سیاسی مخالفین نے ان کی وزیراعلی کے طور پر تقرری کو سیاسی میدان میں بہت زیادہ چیلنج کیا اور کہا کہ یہ تقرری پنجاب کے مفاد اور ترقی کے خلاف ہے۔ دوئم تحریک انصاف کے اندر بھی ایک ایسا بڑا طبقہ موجود تھا جو سمجھتا تھا کہ پنجاب میں مسلم لیگ ن کا مقابلہ کرنے کے لیے عثمان بزدار کی تقرری سود

Read more

خطہ کی سیاست اور قومی بیانیہ

پاکستان کی داخلی سیاسی، معاشی استحکام سمیت خود مختاری اور سلامتی کے لیے داخلی سیاست کے ساتھ ساتھ خارجی اور بالخصوص علاقائی سیاسی استحکام کنجی کی حیثیت رکھتا ہے۔ پچھلے دنوں فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ کے بقول اگر پاکستان کے اپنی سلامتی کے تحفظ کو یقینی بنانا ہے تو اسے اپنی خطہ کی سیاست میں اپنا کردار بڑھانا ہوگا۔ پہلی بار کسی آرمی چیف نے خطہ کی سیاست کو اپنی ترجیحات کا حصہ بنایا ہے۔ ذاتی طور

Read more

مقبوضہ کشمیر اور انسانی حقوق کی پامالی

دنیا میں مقبوضہ کشمیرکا مسئلہ ایک عالمی مسئلہ ہے۔ اس مسئلہ پر عالمی دنیا کے حکمرانوں کی بے حسی اور مجرمانہ خاموشی سمیت خود بھارت کی اپنی ریاست کا رویہ کافی شرمناک ہے۔ مسئلہ محض پاکستان کا نہیں بلکہ عالمی دنیا سے جڑے انسانی حقوق کے ادارے تسلسل کے ساتھ بھارت کی مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی بدترین خلاف ورزیوں پر آواز اٹھاکر عالمی دنیا کے دروازوں پر دستک دے رہے ہیں۔ لیکن عالمی دنیا کی بے حسی یہ

Read more

وجاہت مسعود کا فکری بیانیہ

وجاہت مسعود پاکستان کے سیاسی، سماجی اور علمی و فکری حلقوں میں ایک ممتاز دانشور کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ان کی شناخت انسانی حقوق کے معروف کارکن، صحافی، مصنف، تجزیہ نگار اور استاد کی ہے۔ وہ ایک سنجیدہ طرز فکر کے لکھاری ہیں جن کی تحریریوں میں آپ کو سنجیدگی اور منطق کا پہلو نمایاں نظر آئے گا۔ جذباتیت کے مقابلے میں دلیل کے ساتھ اپنا مقدمہ پیش کرنے والے وجاہت مسعود شخصیات پر مبنی محاز آرائی میں الجھنے کی

Read more

جامعات کا نظام کیسے درست ہوگا؟

پاکستان کا بنیادی مسئلہ تعلیم کا بگاڑ ہے۔ پرائمری تعلیم سے لے کر ہائر ایجوکیشن تک ہمیں معاملات میں ایسی بنیادی نوعیت کی خرابیاں غالب نظر آتی ہیں جو ہماری عمومی ساکھ کو نقصان پہنچانے کا سبب بنتی ہے۔ پہلا بنیادی مسئلہ ترجیحات کا ہے۔ تعلیمی ترجیحات کا شور تو بہت سننے کو ملتا ہے، مگر عملی طو رپر ہماری ترجیحات اپنے کیے گئے دعووں کے برعکس ہوتی ہے۔ ریاستی عدم توجہی اور انتظامی و علمی و فکری مسائل کی

Read more

نئے صوبوں کی تشکیل کی بحث

پاکستان میں اس وقت سیاسی جماعتوں، اہل دانش اور سیاسی کارکنوں سمیت علمی و فکری محاذ پر نئے صوبوں کے قیام کی بحث بڑ ی شدت سے کی جاتی ہے۔ اس بحث کے حق میں اور مخالفت میں فریقین مختلف دلائل دے کر اپنا اپنا سیاسی اور قانونی موقف پیش کرتے رہتے ہیں تاکہ وہ اپنی اپنی دلیل پر رائے عامہ کو قائل کرسکیں۔ نئے صوبوں کا قیا م ایک سیاسی، انتظامی اور قانونی مسئلہ ہے اور جہاں اس کی

Read more

بھارت کی داخلی جمہوریت

دنیا بھر میں رائج سیاسی نظاموں میں جمہوریت ایک بہترین نظام ہے۔ کیونکہ بنیادی طور پر یہ نظام عوامی سطح پر حکومتی اور سیاسی نظام میں عام لوگوں کی شمولیت کو زیادہ موثر اور شفاف بناتا ہے۔ یہ ہی وجہ ہے کہ جمہوری نظاموں کو دیگر نظاموں پر سیاسی او راخلاقی سبقت حاصل ہے۔ لیکن یہاں سمجھنا ہوگا کہ ہم جمہوریت سے جڑے کس نظام کی بات کررہے ہیں۔ ایک نظام جمہوریت کے بارے علمی اور فکری بنیادوں پر موجود ہے جو ہمیں جمہوریت سے قریب آنے اور اس کو اختیار کرنے پر قائل کرتا ہے۔

Read more

معاشی بحران کا گرداب

پاکستان عملی طور پر ایک بڑے سنگین معاشی بحران سے نمٹنے کی کوشش کررہا ہے۔ بالخصوص عام آدمی اس وقت معاشی بدحالی کی بنیاد پر خود کو سب سے زیادہ مشکل اور تنہا محسوس کرتا ہے۔ یہ بحران محض چند ماہ کا نہیں بلکہ گذشتہ کئی دہائیوں سے جاری ہماری معاشی اور سیاسی پالیسیوں کا نتیجہ ہے جس نے ملک کو مضبوط معیشت کی بنیاد فراہم نہیں کی۔ عمومی طور پر یہ دلیل دی جاتی ہے کہ سیاسی استحکام کے بغیر ہم کوئی معاشی استحکام بھی پیدا نہیں کرسکیں گے۔اس وقت تحریک انصاف کی حکومت کو حزب اختلاف یا اپنے سیاسی مخالفین کے مقابلے میں ایک بڑا چیلنج معاشی میدان میں درپیش ہے۔ اگر عمران خان کی حکومت اس معاشی بحران میں عام یا کمزور آدمی کو فوری کوئی ریلیف نہ دے سکی تو اس سے جہاں حکومت کی ناکامی کا تصور ابھرے گا وہیں حکومت اور عوام کے درمیان بھی واضح خلیج پیدا ہوگی۔

Read more

پاکستانیوں کے مغالطے

یاسر پیرزادہ ایک معروف دانشور، مصنف، کالم نگار کی حیثیت سے ملک کی سیاسی اور سماجی اشرافیہ میں ایک منفرد نام رکھتے ہیں۔ بنیادی طور پر بیوروکریٹ ہیں مگر لکھنے اور پڑھنے کا جنون رکھتے ہیں او ر اسی جنون کی بنیادپر اپنی تحریریوں کی مدد سے نئی نسل کی علمی و فکری راہنمائی کرنے والوں میں پیش پیش ہوتے ہیں۔ اپنی تحریروں کا ایک وسیع حلقہ رکھتے ہیں او ران کو پسند کرنے والے او ران پر تنقید کرنے والے بھی موجود ہیں۔

Read more

کیا مودی ایک نئے دور کی ابتدا کرسکیں گے؟

اس بات کا اندازہ تو سب کو ہی تھا کہ بھارتی انتخابات میں مودی او ران کی جماعت جیتے مگر سیاسی پنڈتوں کے بقول اس بار انتخابی نتائج عملی طور پر ماضی کے نتائج سے مختلف ہوں گے۔ منطق یہ دی جارہی تھی کہ جیت تو مودی کی ہوگی مگر نتائج کے تناظر میں بھار ت میں مخلوط او رکمزور حکومت بننے کے امکانات زیادہ ہوں گے۔ ایک دلیل یہ بھی دی تھی کہ بھارت میں حکومت بنانے میں کنجی کا کردار وہاں کی علاقائی جماعتیں ہی کریں گی اور وہ بی جے پی او ر کانگریس میں سے جس کی حمایت میں اپنا پلڑا ڈالیں گی وہی حکومت بناسکے گا۔

Read more

وزیر اعلی عثمان بزدار کا مقدمہ

وزیر اعلی پنجاب کے طور پر عثمان بزدار کی تقرری وزیر اعظم عمران خان کی جانب سے ایک حیران کن اور غیر متوقع فیصلہ تھا۔ بہت سے لوگوں نے وزیر اعلی عثمان بزدار کا نام بھی اسی وقت سنا جب ان کی وزیر اعلی کے طور پر نامزدگی ہوئی تھی۔ پنجاب کی سیاست کی سمجھ بوجھ رکھنے والے بہت سے سیاسی پنڈت وزیر اعظم عمران خان کے اس فیصلہ کو ایک بڑا سیاسی جوا اور ایک بڑی سیاسی ناکامی سے تعبیر کرتے تھے۔ ان سیاسی پنڈتوں کے بقول پنجاب میں تحریک انصاف ایک بڑی سیاسی لڑائی ایک کمزور وزیر اعلی کے مقابلے میں ایک مضبوط، متحرک اور فعال وزیر اعلی ہی لڑسکتا ہے۔ بالخصوص اگر پنجاب میں تحریک انصاف نے مستقبل کی سیاست میں اپنی سیاسی حیثیت کو برقرار رکھنا ہے تو اس کے لیے وزیر اعلی کے طور پر عثمان بزدار کی تقرری درست فیصلہ نہیں ہوگا۔

Read more

مقامی حکومتوں کا نظام ۔حصہ دوئم

تحریک انصا ف کو یہ داد دینی ہوگی کہ ان کی جانب سے پیش کردہ مقامی حکومتوں کا نظام 2019 ماضی کے نظام سے کافی بہتر ہے او راس میں اختیارات کی تقسیم بھی کافی حد تک نظر بھی آتی ہے۔ لیکن اس کے باوجود اس نظام میں چندایسی خامیاں ہیں جن کی نشاندہی ضروری ہے کیونکہ کوئی بھی نظام مکمل طو رپر شفاف یا خود مختاری کے زمرے میں نہیں آتا۔ ہر نظام اپنے اندر اصلاحات کی گنجائش رکھتا ہے او رایک اچھی حکومت ہمیشہ سے اصلاحات او رترمیم کی گنجائش رکھ کر نظام کو تواتر کے ساتھ موثر اور شفاف بناتی ہے۔ کیونکہ اگر مقصد مقامی نظام حکومت کی مدد سے مقامی طرز حکمرانی کو عوامی خواہشات کے تابع بنانا ہے تو ہمیں اپنے دروازے بند نہیں کرنے چاہیے۔

Read more

مقامی حکمرانی کا نظام

جمہوریت کی حقیقی بنیاد اس کے مقامی حکمرانی کے نظام سے جڑی ہوتی ہے۔ جو سماج مقامی سطح پر جمہوری حکمرانی پر مبنی نظام کو مضبوط نہ بناسکے تو ا س کی اوپر کی سطح پر موجود جمہوری نظام کی کوئی اہمیت نہیں ہوتی۔ عام آدمی کا جمہوریت سے رشتہ اس کے مقامی مسائل کے حل کے ساتھ جڑا ہوتا ہے۔ لیکن جب مقامی لوگوں کے مسائل حل ہونے کی بجائے او رزیادہ بگاڑ کا شکار ہوں تو ان کی جمہوریت سے وابستگی او رباہمی عمل یا تعلق بھی کمزور پڑجاتا ہے۔ پاکستان میں جمہوریت کی کمزوری کی داخلی اور خارجی محاذ پر بہت سی مثالیں دیں جاتی ہیں، لیکن اہل سیاست کا ایک بڑا طبقہ جمہوریت، سیاست اور حکمرانی کے نظام کو مقامی نظام حکومت کے ساتھ جوڑ کر دیکھنے کی بجائے خود بھی سیاسی تنہائی کا شکار ہوتا ہے اور دوسروں کو بھی اس میں مبتلا کرتا ہے۔

Read more

بگاڑ کو دور کرنا ہو گا

پاکستان کی بنیادی مسئلہ جمہوری حکمرانی اور ایک ایسا منصفانہ اور شفاف سیاسی، انتظامی، قانونی اور معاشی نظام کا ہے، جو لوگوں کی بنیادی نوعیت کی ضروریات کو پورا کر سکے۔ کیونکہ کوئی بھی نظام بنیادی طور پر لوگوں کی ضرورتوں اور خواہشات سے ہی جڑا ہوتا ہے اور اگر کوئی نظام لوگوں کی ضرورتوں کو پورا نہ کر سکے تو اس کی اہمیت اور ساکھ پر سوالات اٹھ جاتے ہیں۔ عمومی طور پر پاکستان میں لوگوں میں نظام کے

Read more

کیا نریندر مودی انتخاب ہار جائیں گے؟

بھارت کے انتخابات محض اس کا داخلی مسئلہ نہیں بلکہ اس کا براہ راست تعلق جنوبی ایشیا اور کی سیاست سے جڑ ا ہوا ہے۔ 23 مئی 2019 کو یہ واضح ہوجائے گا کہ اقتدار کا ہما کس کے سر بیٹھے گا۔ اہم مقابلہ بھارتی جنتا پارٹی کا حکومت کانگریس سمیت سیاسی مخالفین کے ساتھ ہے۔ نریندر مودی بمقابلہ راہول گاندھی۔ 11 اپریل سے 19 مئی 2019 تک 29 ریاستوں اور سات وفاقی کنٹرول کے یونٹوں میں سات مراحل میں

Read more

غیر منتخب افراد اور سیاسی نظام

آج کی سیاست میں بعض افراد اور ادارے جمہوریت کو بنیاد بنا کر یہ بنیادی سوال اٹھاتے ہیں کہ ہماری حکمرانی کے نظام یا پارلیمانی جمہوری نظام میں منتخب افراد کے مقابلے میں غیر منتخب افراد کو بہت زیادہ اہمیت دی جاتی ہے۔ اسی اہمیت کے پیش نظر ہمیں بہت سی حکومتوں میں ان کی جانب سے ایسے افراد کی سیاسی عہدوں پر تقرریاں نظر آتی ہیں جو عملا عوام کے منتخب نمائندے نہیں ہوتے۔ بہت سے اہل دانش ہونے

Read more

غیر یقینی کی کیفیت سے باہر نکلنا ہوگا

پاکستانی معاشرہ کا ایک بحران تیزی سے بڑھتی ہوئی بے یقینی , بداعتمادی , خوف یا بے اعتباری کی کیفیت کا ہے ۔اس کیفیت کا عملی نتیجہ یہ نکل رہا ہے کہ لوگ سمجھتے ہیں کہ ہم اپنے مسائل سے نجات حاصل نہیں کرسکیں گے ۔یہ کیفیت محض عام لوگوں تک ہی محدود نہیں بلکہ معاشرے کا ایک بڑا طبقہ جو رائے عامہ بنانے میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے وہ بھی حالات سے مایوس نظر آتا ہے ۔نجی مجالس

Read more

مسلم لیگ ن کی نئی سیاسی انگڑائی

مسلم لیگ ن بنیادی طور پر سیاسی تنہائی کا شکار ہے۔ یہ سیاسی تنہائی خود ان کی داخلی سیاست کے تضادات سے جڑی ہوئی ہے۔ کیونکہ جب سیاسی جماعتوں میں اتفاق رائے کی سیاست کا فقدان ہو یا سیاسی جماعتوں کے داخلی جمہوری نظام کمزور ہوں تو اس کا عملی نتیجہ بڑی سیاست کے خلفشار کی صورت میں سامنے آتا ہے۔ مسلم لیگ ن بنیادی طور پر شریف خاندان کے گرد گھومتی ہے۔ اس کے ماضی اور حال پر شریف

Read more

عمران حکومت اور بلدیاتی نظام

پاکستان کی سیاسی اور جمہوری حکمرانی کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ اس نے ماضی کی غلطیوں سے کچھ بھی نہیں سیکھا۔ عمومی طور پر اچھی طرز پر مبنی سیاست ماضی کے تجربات اور غلطیوں سے سبق سیکھ کر مستقبل کو بہتر بنانے کی کوشش کرتی ہے۔ لیکن ہمارے سیاسی اور جمہوری نظام سے جڑے افراد یا قیادت کی ترجیحات میں سیاسی نظام کی اصلاح کوئی بڑا سیاسی ایجنڈا نہیں۔ وہ روایتی، غیر جمہوری سیاست اور اپنے آمرانہ

Read more

شخصیت پرستی پر مبنی سیاست

جب سیاست انفرادی شخصیات کے گرد محدود ہوجائے تو وہاں اداروں کی مضبوطی کا عمل بہت پیچھے رہ جاتا ہے۔ کیونکہ انفرادی اور شخصیت پرستی پر مبنی سیاست کا المیہ یہ ہوتا ہے کہ اس کے موضوعات بھی ذاتیات تک محدود ہوتے ہیں۔ اس کا عملی نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ معاشرے میں اہم اور حساس معاملات یا موضوعات بہت پیچھے چلے جاتے ہیں اور ہمارے مباحث ایسے معاملات میں الجھ کر رہ جاتے ہیں جو ہماری ریاستی اور قومی

Read more

نظام کی درستی کا مسئلہ

بنیادی طور پر ایک بڑا بحران نظام کی درستگی، شفافیت اور انصاف پر مبنی نظام کا ہے۔ ایک ایسا نظام جو لوگوں جو عام آدمی میں اپنی ساکھ بھی قائم کرسکے اور لوگوں کی بنیادی ضرورتوں کو بھی پورا کرسکے۔ ہماری سیاسی، سماجی جدوجہد عملی طور پر نظا م کی درستگی کے نعروں کے درمیان ہوتی ہے اور ہر سیاسی جماعت اور اس کی قیادت نظام کی تبدیلی کو بنیاد بنا کر لوگوں کو اپنی طرف متوجہ بھی کرتی ہے۔ لیکن ایسا لگتا ہے کہ ہماری اپنی سیاست کا المیہ نظام کی تبدیلی کے مقابلے میں افراد اور فرد یا خاندان کی ترقی تک مرکوز ہوتی ہے۔

Read more

حکومت کا داخلی بحران

عمومی طور پر کسی بھی حکومت کو دو محاذوں پر بحران کا سامنا ہوتا ہے۔ اول داخلی او ردوئم خارجی محاذ پر، یہ دونوں سطحوں پر موجود مسائل سے نمٹنے کی صلاحیت ہی کسی بھی حکمرانی کا بڑا امتحان ہوتا ہے۔ کیونکہ ہمارے جیسے ملکوں میں حکمرانی کا نظام کسی بڑے چیلنج سے کم نہیں ہوتا۔ حکمرانی کا ایک ایسا نظام جو خوبیاں کم او رخامیاں زیادہ رکھتا ہو اس میں حکمرانی کی شفافیت اور فعالیت کو قائم کرنا کوئی آسان کام نہیں ہوتا۔

ایک دلیل یہ بھی دی جاتی ہے کہ خارجی بحران سے نمٹنے کے لیے حکمرانی کے نظام کی بنیادی شرط داخلی بحران سے نمٹنا ہوتا ہے۔ کیونکہ اگر آپ خود داخلی بحران سے نمٹنے کی صلاحیت سے محروم ہو تو خارجی مسائل سے نمٹنا بھی ناممکن ہوتاہے۔ ایک المیہ یہ بھی ہے کہ ہم بحرانوں کا تجزیہ پیش کرتے ہوئے داخلی بحران کو قبول کرنے کی بجائے سارا ملبہ خارجی عوامل پر ڈال کر خود کو بچانے کی کوشش کرتے ہیں، لیکن یہ حکمت عملی وقتی ہوتی ہے جو کہ کارگر نہیں ہوتی۔

Read more

ادارہ سازی کا بحران

پاکستان کا بنیادی مسئلہ ادارہ سازی کا بحران ہے۔ کوئی بھی ریاست کی کامیابی کی کنجی اداروں کی مضبوطی، استحکام، خود مختاری اور شفافیت کے ساتھ جڑی ہوتی ہے۔ ریاستی نظام کو جانچنے کا ایک بڑا پیمانہ یہ بھی ہوتا ہے کہ یہاں اداروں اورافراد کے مقابلے میں کس کو بالادستی حاصل ہوتی ہے۔ کیونکہ جہاں افراد مضبوط ہوں گے وہاں ادارے کمزور اورجہاں ادارے مضبوط ہوں گے وہاں افراد اداروں کے تابع ہوتے ہیں۔ لیکن ہمارا قومی بحران یہ

Read more

کمزور طبقات کا بیانیہ

پاکستان کی سیاست، سماج اور ریاستی وحکومتی اداروں کی سطح پر ”بیانیہ“ کی بحث بڑی شدت سے کی جاتی ہے۔ ہمارے اہل دانش کی بھی ساری دانش ”بیانیہ“ کے گرد ہی گھومتی ہے۔ لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ عوام اور طاقت ور طبقات کا ”بیانیہ“ ایک دوسرے سے مختلف ہے۔ ہر کوئی فرد یا فریق اپنے مفاد کو ترجیح دے کر اپنا موقف پیش کرتا ہے۔ ایسی صورتحال میں جو ریاست او رشہریوں کا باہمی تعلق ہوتا ہے او راس سے جڑا جو بیانیہ ہوتا ہے وہ پس پشت چلاجاتا ہے۔یہ ہی وجہ ہے کہ حکمران یا طاقت ور طبقات اور عوام کے درمیان سوچ، فکر او رحکمت عملیوں کا ٹکراؤ نظر آتا ہے۔ اس ٹکراؤ نے عملی طور پرطاقت ور او رکمزور کے درمیان سیاسی، سماجی، انتظامی او رمالی خلیج پیدا کردی ہے۔ یہ خلیج عمومی طور پر ریاست اور شہریوں کے درمیان بداعتمادی کو پیدا کرنے اور لوگوں کو ریاستی معاملات یا تعلق سے کمزور کرنے کا بھی سبب بنتی ہے۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ اس بات کا احساس طاقت ور طبقات میں بہت کم پایا جاتا ہے۔

Read more

انصاف کا نظام اور پارلیمانی ترجیحات

پاکستان کا سیاسی نظام بنیادی طور پر عدم انصاف کے نظام پر کھڑا ہے۔ یہ کسی ایک ادارے کی ناکامی نہیں بلکہ مجموعی طور پر ریاستی، حکومتی اور ادارہ جاتی نظام کی ناکامی ہے۔ کیونکہ کوئی بھی ناکامی کسی سیاسی تنہائی میں نہیں ہوتی۔ ہر ناکامی کا تعلق مختلف معاملات سے جڑا ہوتا ہے اور کوئی بھی فریق یا ادارہ خود کو اس ناکامی سے بری الزمہ قرار نہیں دے سکتا۔ وجہ صاف ہے کہ جب ریاست کے مجموعی نظام

Read more

حزب اختلاف کی سیاست کا المیہ

قومی سیاست کی ہمیشہ سے یہ بدقسمتی رہی ہے کہ اسے نہ تو اچھی حکمرانی مل سکی اور نہ ہی اچھی حزب اختلاف۔ یہ ہی وجہ ہے کہ ہماری قومی اور جمہوری سیاست جمہوری اصولوں کے مطابق نہیں چل سکی۔ اچھی حکومت سے مراد ایک ایسی حکمرانی ہوتی ہے جو عوامی مفاد کو سامنے رکھ کر اپنی سیاسی، سماجی او رمعاشی ترجیحات کا تعین کرتی ہے۔ اسی طرح ان کی ایک او راہم ترجیح شفافیت، جوابدہی کا ایسا نظام وضع کرنا ہوتا ہے جو ان کی حکمرانی کے نظام کو موثر بنانے میں مدد فراہم کرتا ہے۔

Read more

مودی کا انتخابی منشور اور ہندوتوا کی سیاست

نریندر مودی بنیادی طور پر بھارت کی سیکولر سیاست کو ہندوتوا پر مبنی سیاست میں تبدیل کرنا چاہتے ہیں۔ یہ ان کی پرانی سیاسی سوچ ہے اور اسی بنیاد پر وہ سخت گیر ہندو سیاست کے علمبردار سمجھے جاتے ہیں۔ ابھی چند دن بعد بھارت میں سات مراحل پر مشتمل عام انتخابات کا سلسلہ شروع ہونے والا ہے۔ ان انتخابات میں مودی کی حمایت اور مخالفت کی بنیاد پر سب جماعتوں نے سیاسی لنگوٹ کس کر میدان میں اپنا اپنا

Read more

قیادت کا فقدن اور قومی بحران

پاکستان داخلی اور خارجی محاذ پر ایک بڑے بحران سے گزررہا ہے۔ یہ بحران آج کا پیدا کردہ نہیں بلکہ کئی دہائیو ں سے جاری سیاسی، سماجی اور معاشی پالیسیوں سمیت قیاد ت کے طرز عمل کا بھی ہے۔ قیادت سے مراد محض سیاسی قیادت ہی نہیں بلکہ تمام اداروں سمیت ہر شعبہ کی قیادت اس بحران کی براہ راست ذمہ دار ہے۔ سیاسی اور فوجی قیادتوں نے ماضی میں جس انداز سے ملک چلایا وہ ظاہر کرتا ہے کہ

Read more

افتخار مجاز بھی رخصت ہوئے

موت برحق ہے اور ہر ایک کو آنی ہے۔ لیکن بعض شخصیات ایسی ہوتی ہیں جن کے بچھڑنے کا دکھ بہت تکلیف دیتا ہے۔ اگرچہ یہ محسوس ہو رہا ہوتا ہے کہ کوئی آپ کا پیارا آپ سے بچھڑنے والا ہے، مگر امید کا ایک پہلو ہوتا ہے کہ شاید وہ نہ جائے اور ہمارے درمیان ہی رہ کر ویسے ہی وقت گزارے جیسے گزار رہا ہوتا ہے۔ لیکن موت کو کون ٹال سکتا ہے۔ بعض شخصیات کی خوبی یہ

Read more

احتساب کا عدم شفافیت پر مبنی نظام

جو بھی سیاسی نظام عدم شفافیت اور عدم جوابدہی پر مبنی ہوگا وہ اپنی سیاسی و قانونی ساکھ قائم نہیں رکھ سکے گا۔ کیونکہ سیاست او رجمہوریت پر مبنی نظام میں شفاف حکمرانی بنیادی جز ہوتا ہے۔ جو بھی سیاسی نظام شفاف نہیں ہوگا اس میں کرپشن، بدعنوانی، اقراپروری سے جڑے نظام کو ہی طاقت ملتی ہے۔ ایک مسئلہ کرپشن ہے، دوسرا مسئلہ کرپشن سے جڑے ان احتساب کے اداروں او رنظام کا ہے جو خود عملی طور پر عدم شفافیت پر کھڑے نظر آتے ہیں۔ اس میں سیاسی حکومتیں ہوں یا فوجی حکمران طبقہ سب نے ہی احتساب کے نظام کے ساتھ وہ سب کچھ کیا جو عملی طور پر نہیں کیا جانا چاہیے تھا۔ یہ ہی وجہ ہے کہ احتساب کا شور توبہت سننے کو ملتا ہے مگر عملی طور پر اس سے جڑے اقدامات یا قانون کی حکمرانی کا پہلو بہت کمزور اور لاچار نظر آتا ہے۔

Read more

علمی و فکری میلہ کی پزیرائی

کسی بھی معاشرے کاحسن کا اس کا علمی و فکری اثاثہ ہوتا ہے۔ لیکن یہ کام اسی صورت میں ہوتا ہے جب ریاست، حکومت، ادارے او ررائے عامہ بنانے والے افراد او رادارے مل کر علمی او رفکری ماحول کو پیدا کرنے او راسے مضبوط بنانے میں اپنا اپنا موثر کردار ادا کرتے ہیں۔ کیونکہ علمی او رفکری ماحول لوگوں کو سیکھنے، سکھانے، ایک دوسرے کے تجربات سے فائدہ اٹھانے سمیت معاشرے میں ایک متبادل فکری سوچ او ر فکر کو بالادستی دیتی ہے۔معاشرے کی اصل ضرورت دنیا میں ہونے والی نئی نئی تبدیلیوں سے آگاہی او را س کی مدد سے اپنے لیے ترقی کا راستہ تلاش کرنے سے جڑی ہوتی ہے۔ یہ کام ایک بڑی فکری اور مالی سرمایہ کاری سے ہی ممکن ہوتا ہے او راس کام کا تجزیہ کرتے وقت ہم قومی سطح پر اپنی ترجیحات کا تعین بھی کرسکتے ہیں کہ ہم عملی طور پر کہاں کھڑے ہیں۔

Read more

غربت کا خاتمہ کیسے ممکن ہوگا؟

عوامی مفادات سے جڑا ایک بنیادی مسئلہ غربت کے خاتمہ کا ہے۔ اگرچہ پاکستان میں سیاسی یا فوجی کوئی بھی حکومت ہو اس کا بنیادی نوعیت کا نعرہ عام آدمی اور بالخصوص غربت کا خاتمہ ہوتا ہے۔ لیکن بدقسمتی سے پاکستان کی مجموعی سیاست میں عوام او راس کا بنیادی مفاد حکمران طبقہ کا کوئی بڑا مسئلہ نہیں رہا۔ وہ عوامی مسائل کی بنیاد پر سیاست تو کرتے ہیں لیکن اقتدار میں آنے کے بعد ان کی سیاسی ترجیحات کافی مختلف ہو جاتی ہیں۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ عوام کو یہ دیکھنا پڑتا ہے کہ حکمران طبقہ معاشی طو رپر خو دکفیل جبکہ عام آدمی معاشی طو رپر زیادہ بدحال ہوتا ہے۔ یہ ہی وجہ ہے کہ عام آدمی اور حکمران طبقہ کے درمیان ہمیشہ سے بداعتمادی پر مبنی خلیج حکمرانی کے منصفانہ اور شفاف نظام کو چیلنج کرتا ہے۔

Read more

عثمان بزدار کا چیلنج

وزیر اعلی پنجاب عثمان بزدار کی تقرری ایک بڑا سیاسی موضوع ہے۔ کیونکہ وہ ایک تجربہ کار سیاست دان یا پارلیمنٹرین کی حیثیت نہیں رکھتے تھے او رنہ ہی ان کا تحریک انصا ف میں کام کرنے کا کوئی وسیع تجربہ تھا۔ یہ ہی وجہ ہے کہ ان پر حد سے زیادہ تنقید کا پہلو بھی نظر آتا ہے او ران کے مخالفین کے بقول پنجاب کو ایک کمزور وزیر اعلی دے کر اصل اختیارات کا مرکزاسلام آباد یا وزیر اعظم کو خود بنایا گیا ہے۔ ایک طرف ان کے مخالفین کی یہ دلیل ہے تو دوسری طرف تحریک انصاف کے حامیوں کا نکتہ نظر ہے کہ پنجاب جیسے مضبوط او رطاقت ور صوبہ میں ایک کمزور وزیر اعلی دے کر پی ٹی آئی کی مستقبل کی سیاست کو نظرانداز کیا گیا ہے۔ ایک دلیل سیاسی پنڈتوں کی بھی ہے کہ ان کے بقول اگر پنجاب میں مسلم لیگ ن اور شریف برادران کی سیاست کو کمزورکرنا تھا تو پی ٹی آئی کی وزیر اعلی کے طور پر عثمان بزدار کی تقرری سمجھ سے بالاتر ہے او ریہ بات سیاسی طو رپر ہضم نہیں ہوتی۔

Read more

بلاول بھٹو کی سیاست

بلاول بھٹو کی سیاست کے تناظر میں پیپلز پارٹی کے نظریاتی ساتھیوں کا نکتہ نظر یہ تھا کہ وہ اپنے والد آصف علی زرداری کی سیاست سے بالکل مختلف طرز کی سیاست کرکے کھوئی ہوئی پارٹی کی ساکھ کو بحال کرنے میں کلیدی کردار ادا کریں گے۔ بہت سے سیاسی پنڈتوں کی بھی یہ ہی توقع تھی کہ وہ روایتی طرز کی سیاست کی بجائے ایک ایسی سیاست کو ترجیح دیں گے جو ان کو بھی مقبول لیڈ ر کے طور پر پیش کرے گی اور ملکی سطح کی سیاست میں وہ ایک نئی امید بھی پیدا کرسکیں گے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ پیپلز پارٹی کو اپنی سیاسی بحالی میں ایک نوجوان قیادت درکار تھی جو بلاول بھٹو کی صورت میں سامنے آئی تھی۔

Read more

بہاول پور سانحہ اور تعلیم کا بیانیہ

پاکستان کا ایک بنیادی مسئلہ انتہا پسند رجحانات کا پھیلاؤ ہے۔ یہ مسئلہ محض مذہبی نہیں بلکہ سیاسی، سماجی اور علمی و فکری سطح پر بھی موجود ہے۔ اس کی بڑی وجہ معاشرے میں عدم برداشت کا کلچرکا بڑھنا اور مکالمہ یا رواداری کے کلچر کا کمزور ہونا ہے۔ کوئی بھی معاشرہ جب مجموعی طور پر اپنے مرض کو قبول کرنے سے انکار کردے تو اس مسئلہ کا علاج بھی ممکن نہیں ہوتا۔ ایک فکری مغالطہ یہ پھیلایا جاتا ہے

Read more

دہشت گردی کی جنگ

دہشت گردی کسی بھی نوعیت کی ہو یا اس کا پس منظر سیاسی، سماجی، علاقائی، لسانی، قوم پرستی یا مذہبی بنیاد ہو اس کی ہر سطح پر یا فریق کی جانب سے نہ صرف مذمت ہونی چاہیے بلکہ اس کے خاتمہ پر سب کو مشترکہ حکمت عملی اختیار کرنی ہوگی۔ دہشت گردی کا یہ بیانیہ کہ اس کی بنیاد محض مذہبی یا بالخصوص اسلام کے ساتھ جوڑ کر دیکھی جانی چاہیے، درست حکمت عملی نہیں۔ اس وقت عالمی دنیا میں مسلم دشمن یا مخالف عناصر اس منطق کو بنیاد بنا کر پیش کرتے ہیں کہ دہشت گردی کا تعلق اسلام کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔

Read more

میثاق جمہوریت اور سیاسی قیادت

پاکستان کی سیاسی قیادت کا المیہ یہ ہے کہ جب یہ طبقہ حکمرانی کے نظام سے باہر ہوتا ہے یا وہ ذاتی سیاست کے مسائل کی وجہ سے مشکلات کا شکار ہوتا ہے تو ان کو جمہوریت، قانون کی حکمرانی اور آئین کی پاسداری کا بخار چڑھ جاتا ہے۔ لیکن جب یہ ہی طبقہ اقتدار کی سیاست کا حصہ بنتا ہے تو یہ سنہرے الفاظ، خیالات، سوچ اور فکر کو پس پشت ڈال کر حکمران طبقہ محض ذاتی مفادات پر

Read more

ترجیحات کا ٹکراؤ

سیاست میں بنیادی اہمیت سیاسی ترجیحات کی ہوتی ہے۔ مسائل تو بہت ہوتے ہیں اور ان کی اہمیت سے بھی انکار ممکن نہیں ہوتا۔ لیکن ایک اچھی، موثر، بہتر اور شفاف حکمرانی سمیت عوامی مسائل کی اہمیت کو سمجھنے والی حکومت یا قیادت کی خوبی یہ ہوتی ہے کہ وہ بہت زیادہ بردباری اورتدبر و فہم کے ساتھ اپنی سیاسی، سماجی اور معاشی ترجیحات کا تعین کرتی ہے۔ ترجیحات کا درست سمت بنیادی طو رپر حکومت اور عوامی سطح پر ایک دوسرے کے بارے میں اعتمادسازی یا بھروسا کی سیاست کو تقویت دینے کا سبب بنتی ہے۔ ہماری جمہوری حکمرانی کا المیہ ہے کہ یہاں جو کچھ حکمرانی کے نام پر ہورہا ہے اس سے عوام اور حکمران طبقہ کے درمیان واضح خلیج پیدا ہورہی جو حکمرانی کے مروجہ نظام کی مجموعی ساکھ اور شفافیت پر سوالات اٹھاتی ہے۔

اسی طرح جب سیاست بنیادی طور پر عوامی مسائل سے ہٹ کر سیاست دانوں، سیاسی جماعتوں یا ارکان پارلیمنٹ کی ذاتی ترجیحات سے جڑ جاتی ہے تو اس کا نتیجہ بھی معاشرے میں ایک ٹکراؤ کی صورت میں پیدا ہوتا ہے۔ حال ہی میں پنجاب میں وزیر اعلی، صوبائی ؒ وزرا، مشیروں اور صوبائی ممبران کی تنخواہوں، مراعات اور دیگر لوازمات کے حوالے سے منظور ہونے والا بل کی صورت بھی ایک بڑے تنقیدی پہلو کے طو رپر سامنے آئی ہے۔ وزیر اعلی، وزرا اور ارکان صوبائی ممبران کی تنخواہوں میں اضافہ یقینی طو رپر ان کے لیے اہمیت رکھتا ہوگا اور اس کی ضرورت کو بھی تسلیم کیا جاسکتا ہے۔

Read more

کیا واقعی نواز شریف سے انتقام لیا جا رہا ہے؟

نواز شریف ایک مقبول راہنما ہیں۔ لیکن اس وقت یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ وہ ایک بڑے سیاسی اور ذاتی کرب سے گزررہے ہیں اور شاید انہوں نے کبھی اس منظر کے بارے میں نہیں سوچا ہوگا جو اس وقت ان کو درپیش ہے۔ نواز شریف کی سیاسی تنہائی جہاں ان کی اپنی سیاسی حکمت عملی کا حصہ ہے وہیں ان کے بعض سیاسی مشیر بھی موجودہ حالات کے ذمہ دار ہیں، جہاں نواز شریف کھڑے ہیں۔ نواز شریف اسٹیبلیشمنٹ کے ساتھ ٹکراؤ پیدا کرکے اپنی سیاسی برتری کی ایک بڑ ی جنگ جیتنا چاہتے تھے۔

Read more

قومی بیانیہ اور دہشت گردی کی جنگ

پاکستان بنیادی طور پر انتہا پسندی اور دہشت گردی کی جنگ سے نمٹنے کی کوششوں کا حصہ ہے۔ حالیہ برسوں میں یقینی طور پر پاکستان نے عملی طور پر انتہا پسندی اور دہشت گردی سے نمٹ کر کافی حد تک اہم کامیابیا ں بھی حاصل کی ہیں۔ اس کا اعتراف داخلی اور خارجی دونوں سطحوں پر کیا بھی جاتا ہے۔ لیکن اس کے باوجود یہ جنگ بدستور جاری ہے او راس میں ابھی ریاستی، حکومتی او رمعاشرتی محاذ پر بہت کچھ کرکے دکھانے کی ضرورت ہے۔ یہ اس لیے بھی کرنا ضروری ہے کہ اول یہ ہماری ریاست او رمعاشرہ کی کی بقا کی جنگ ہے اور دوئم ہمیں دنیا میں بھی اس تصور کو بھی ایک مضبوط بنیاد فراہم کرنی ہے کہ ہم دیانت داری، سنجیدگی اور اپنی مضبوط سیاسی، سماجی، انتظامی او رریاستی کمٹمنٹ کے ساتھ اس جنگ میں کلیدی کردار ادا کررہے ہیں۔اس جنگ سے نمٹنے کے لیے پاکستان نے ریاستی سطح پر دو اہم دستاویز جاری ک

Read more

عورت با اختیار اور مستحکم پاکستان

کیا کوئی معاشرہ عورت کی سیاسی، سماجی اور معاشی حیثیت کو مستحکم کیے بغیر ترقی کرسکتا ہے تو یقینی طور پر جواب نفی میں ہوگا۔ کیونکہ وہی معاشرہ عملی طور پر مستحکم ہوتا ہے جہاں برابری کی بنیاد پر عورتوں او رمردوں کو ترقی کے یکساں مواقع میسر ہوں۔ جو معاشرہ عورتوں کے بارے میں تعصب یا اسے کمتر کا درجہ دے کر آگے بڑھنا چاہتا ہے وہاں عورتوں کا استحصال کا امر یقینی ہوتا ہے۔ عورتوں کی ترقی کا مسئلہ محض پاکستان کا ہی مسئلہ نہیں بلکہ دنیا بھر میں عورتوں کی ترقی کا عمل مردوں کی ترقی کے مقابلے میں پیچھے ہے۔ بالخصوص جنوبی ایشیا کے ممالک میں اگر عورتوں کی صورتحال کا جائز ہ لیں تو وہ سیاسی، سماجی او رمعاشی محرومی جیسے مسائل کا شکار ہیں۔ اس کی بنیادی وجہ ہماری جیسی ریاستوں کی ترجیحات کا ہے جہاں عورتوں کے مسائل کو بہت زیادہ سنجیدہ نہیں لیا جاتا او رنہ ہی ان کو کوئی اہمیت دی جاتی ہے۔

Read more

پاک بھارت باہمی تعلقات کا بیانیہ

جنوبی ایشیا او راس خطہ کی سیاست، معیشت اور سماج کی مجموعی ترقی دو طرفہ بہتر تعلقات، سازگار ماحول اور تعاون کے ساتھ جڑی ہوئی ہے۔ یہ اسی صورت میں ممکن ہے جب دونوں اطراف کی ریاست، حکومتیں، سیاسی جماعتیں، اہل دانش، رائے عامہ تشکیل دینے والے ادارے اور عوام باہمی اختلافات، تعصبات، نفرت اور تلخیوں سمیت ماضی کو بھلا کر مستقبل کی طرف کھلے دل کے ساتھ پیش قدمی کرے۔ کیونکہ ہم سب یہ اتفاق کرتے ہیں کہ جنگیں

Read more

میڈیا، جنگ اور امن کا ایجنڈا

دنیا بھر میں عوامی رائے عامہ اور طاقت ور فریقین یا فیصلہ ساز اداروں یا افراد میں میڈیا کی اہمیت سے انکار نہیں کیاجاسکتا۔ پرنٹ، الیکٹرانک یا سوشل میڈیا کی نئی طاقت ہو سب ہی اپنی اپنی سطح پر اہمیت رکھتے ہیں۔ کیونکہ جب یہ دلیل دی جاتی ہے کہ میڈیا محض معلومات کا پھیلاؤ ہی نہیں کرتا بلکہ لوگوں میں تعلیم اور سیاسی و سماجی شعور کو اجاگر کرنے میں بھی اس کا کلیدی کردار ہے تو اس کی

Read more

مقامی حکمرانی کا بحران اور حکومتی ترجیحات

پاکستان میں بنیادی طو رپر حکمرانی کا بحران ہے۔ یہ بحران کسی ایک حکومت کا پیدا کردہ نہیں بلکہ ہر سیاسی اور فوجی حکومت کے ادوار میں ہمیں حکمرانی کا بحران بالادست نظر آیا ہے۔ وجہ واضح ہے کہ ہم دنیا میں اچھی حکمرانی کے نظاموں او ران کے تجربات سے سیکھنے کے لیے تیار نہیں اور نہ ہی اچھی حکمرانی کا نظام ہماری بڑی سیاسی ترجیحات کا حصہ بن سکا ہے۔ یہ ہی وجہ ہے کہ حکمرانی کے نظام کے تناظر میں ہمیں ریاست، حکومت او ر عوام کے درمیان واضح خلیج اور بداعتمادی دیکھنے کو ملتی ہے۔ عمومی طور پر دنیا نے اچھی حکمرانی کے لیے عدم مرکزیت یعنی اختیارات کو نچلی سطح پر زیادہ سے زیادہ منتقل کرکے اپنی مقامی حکمرانی یا مقامی حکومتوں کے نظام کو درست سمت اور ایک با اختیا رادارہ بنانے کی طرف پیش قدمی کرکے سیاسی اور جمہوری نظام کی ساکھ کو بحال یا قائم کیا ہوا ہے۔

Read more

ٖپاکستان کی خارجہ پالیسی میں مثبت اشارے

پاکستان کی موجودہ سیاسی اور عسکری قیادت کو یہ داد دینی ہوگی ہم نے پچھلے کچھ عرصہ میں اپنی خارجہ پالیسی میں موجود بڑے چیلنجز کو بہتر انداز سے نمٹنے کی مثبت کوششیں کی ہیں۔ یہ ہی وجہ ہے کہ اس وقت پاکستان خارجہ پالیسی میں علاقائی اور عالمی سیاست میں ایک اہم فریق کے طور پر کھڑا ہے اور سب کی نظریں پاکستان پر ہیں۔ سعودی ولی عہد کا شہزادہ محمد بن سلمان دورہ پاکستان محض سیاسی قیادت کی سطح پر ہی نہیں بلکہ وفود کی سطح پر وزرائے خارجہ، وزرائے تجارت اورنجی شعبے کے اہم رابطو ں، فیصلوں او رنتائج کا ذریعہ بنا ہے او را س دورے کی مدد سے دونوں ملکوں نے عالمی برادری کو اہم پیغامات بھی دیے ہیں۔

Read more

جمہوریت اور حکمرانی کو درپیش چیلنجز

پاکستان میں جمہوریت بدستور اپنے ارتقائی عمل سے گزررہی ہے۔ یہ ہی وجہ ہے کہ ہم مجموعی طور پر ان ممالک یا ریاستوں میں شمار نہیں ہوتے جہاں حقیقی جمہوریت کو برتری حاصل ہوتی ہے۔ جمہوریت کی پاسداری اور نظام کو جمہوری خدوخال میں ڈالنے کی باتیں آسان اور عملی طور پر جمہوری نظام او راس کی طرز فکر کو نافذ کرنا اور خود کو اس میں جوابدہ بنانا مشکل کام ہے۔ بالخصوص ایسے معاشروں میں جہاں جمہوریت داخلی محاذ پر کوئی مضبوط جڑیں نہ رکھتی ہو او راس میں خارجی مداخلتیں زیادہ ہوں تو وہاں جمہوریت کا عمل اور زیادہ کمزور نظر آتا ہے۔

جمہوریت کو ایک بڑا چیلنج مرکزیت پر مبنی نظام سے ہوتا ہے جو ایک سطح پر طاقت کو منجمند کرکے لوگوں کو سیاسی او رجمہوری عمل میں شرکت کے عمل کو محدود کرتا ہے۔ آج بھی اہل دانش پاکستان میں جمہوریت سے جڑے مسائل کا احاطہ کرتے ہیں اور ان بنیادی وجوہات کو پیش کرتے ہیں جو عملا ملک میں جمہوری نظا م کو درپیش ہیں۔

Read more

کیا عمران خان بے لاگ احتساب کر پائیں گے؟

کیا واقعی پاکستان میں ایک بے لاگ، منصفانہ اور شفاف احتساب کا عمل ممکن ہوسکے گا؟ یہ ایک ایسا سوال ہے جو سیاسی مجالس میں ہمیشہ سے زیر بحث رہتا ہے۔ اس مسئلہ پر اہل دانش کی رائے تین حصوں میں تقسیم نظر آتی ہے۔ اول یہاں بے لاگ شفاف احتساب ممکن نہیں ہوسکے گا؟ اس طبقہ کے بقول ریاست اور حکمران یا بالادست طبقات نے ہمیشہ سے احتساب کے عمل کو سیاسی بنیادوں پر چلایا اور اس کے پیچھے عملا سیاسی مخالفین کو دیوار سے لگانا مقصود تھا۔

دوئم یہاں جو نظام ریاستی، حکومتی اور ادارہ جاتی سطح پر موجود ہے اس میں کمزور سیاسی کمٹمنٹ سمیت سیاسی، انتظامی اور قانونی سقم کی موجودگی میں ایک شفاف احتساب کا عمل کوئی آسان کام نہیں ہوگا۔ سوئم یہاں احتساب کا عمل اس لیے بھی ممکن نہیں کہ تمام طاقت کے مراکز نے اپنے اپنے مفادات کو بنیاد بناکر ایک ایسا سمجھوتہ کررکھا ہے جس میں کوئی کسی کا احتساب عملا نہیں کر سکے گا اور عملی طور پر سب ایک دوسرے کی کرپشن کو سیاسی تحفظ دیتے رہیں گے۔

Read more

ڈیل اور ڈھیل کی سیاست

پاکستان کی سیاست عملی طور پر دو چہرے رکھتی ہے۔ اول وہ چہرہ جو سیاسی سکرین پر دکھایا جاتا ہے یا دیکھا جاتا ہے۔ دوئم وہ سیاسی چہرہ بھی ہے جو پردہ سکرین کے پیچھے پس پردہ سیاسی قوتوں اور طاقت ور طبقات یا پس پردہ قوتوں کے درمیان خاموشی سے کھیلا جاتا ہے۔ پاکستانی سیاسی تاریخ کا جائزہ لیا جائے تو اس میں پس پردہ سیاست کے مسائل اور کچھ لویا کچھ دو کی بنیاد پر سیاست سمیت سازشی

Read more

جمہوریت اور حکمرانی کو درپیش چیلنجز

پاکستان میں جمہوریت بدستور اپنے ارتقائی عمل سے گزررہی ہے۔ یہ ہی وجہ ہے کہ ہم مجموعی طور پر ان ممالک یا ریاستوں میں شمار نہیں ہوتے جہاں حقیقی جمہوریت کو برتری حاصل ہوتی ہے۔ جمہوریت کی پاسداری اور نظام کو جمہوری خدوخال میں ڈالنے کی باتیں آسان اور عملی طور پر جمہوری نظام او راس کی طرز فکر کو نافذ کرنا اور خود کو اس میں جوابدہ بنانا مشکل کام ہے۔ بالخصوص ایسے معاشروں میں جہاں جمہوریت داخلی محاذ پر کوئی مضبوط جڑیں نہ رکھتی ہو او راس میں خارجی مداخلتیں زیادہ ہوں تو وہاں جمہوریت کا عمل اور زیادہ کمزور نظر آتا ہے۔

Read more