نئی قیادت اور پاک امریکہ تعلقات

امریکہ میں نئی سیاسی قیادت جو بائیڈن کی صورت میں سامنے آ چکی ہے۔ سابق صدر ٹرمپ کی شکست اور اب امریکی ایوان نمائندگان میں ٹرمپ کے خلاف مواخذے کی قرارداد کی منظوری کے بعد امریکی سیاست میں کافی ہلچل مچ گئی ہے۔ سابق صدر ٹرمپ اور ان کی حامی یقینی طور پر اپنے خلاف مواخذہ کی تحریک پر خاموش نہیں رہیں گے۔ سابق صدر ٹرمپ اور ان کے حامیوں کی مزاحمت کے نتیجے میں امریکہ کی نئی سیاسی حکومت

Read more

دہشت گردی اور ریاستی بیانیہ

وہ تمام ایسے معاملات جہاں ہم کمزور ہیں یا اپنی کمزوری دکھا رہے ہیں ، ان پر ہمیں شفافیت پر مبنی پالیسی یا اس پر عمل درآمد کے نظام کی ضرورت ہے۔ پہلی کنجی سیاسی او رمعاشی استحکام کی ہے۔ ان دونوں سطحوں کے استحکام کے بغیر ہم دہشت گردی یا اس میں موجود انتہا پسندی کی جنگ نہیں جیت سکیں گے۔ اس وقت جو ہمارا داخلی سیاسی بحران ہے جس میں ایک دوسرے کے خلاف بد اعتمادی اور ٹکراؤ یا نفرت یا ایک دوسرے کو قبول نہ کرنے روش ہے ، وہی ہمیں نہ صرف غیر مستحکم کر رہی ہے بلکہ یہ ہمارے دشمنوں کے لیے ایک بڑی سیاسی طاقت کی حیثیت رکھتی ہے۔

Read more

معاشی ترقی اور ای کامرس

پاکستان کی ترقی کی ایک بنیادی کنجی معاشی ترقی اور نوجوانوں کی معاشی عمل میں موثر شمولیت کے ساتھ جڑی ہوئی ہے۔ کیونکہ معاشی ترقی کا عمل ہی جہاں معاشرے کو ترقی کے قومی دھارے میں شامل کرنے کا سبب بنتا ہے بلکہ لوگوں کے لیے زیادہ سے زیادہ معاشی ترقی کے عمل میں مواقعوں کو پیدا کرنا بھی اسی سلسلے کی کڑی ہے۔ معاشی ترقی کا عمل اسی صورت میں آگے بڑھے گا جہاں ہمیں نئی نسل کے لیے

Read more

ہم کیسا معاشرہ چاہتے ہیں؟

پاکستان بطور ریاست یا معاشرہ لاتعداد مسائل سے دوچار ہے۔ یہ مسائل کسی ایک حکومت یا کسی ایک خاص سیاسی یا فوجی دور کا نہیں بلکہ یہ کہنا زیادہ درست ہوگا یہ مسائل مجموعی طور پر ہماری ریاستی و حکومتی پالیسیوں کا حصہ رہا ہے۔ ہم نے معاشرہ کو بنانے کی بجائے اس میں یا تو بگاڑ پیدا کیا یا اس میں ایک ایسی سیاسی، سماجی، انتظامی، معاشی تقسیم کو پیدا کیا جو قومی اجتماعی عمل کو کمزور کرنے کا

Read more

وزیراعظم کا اعترافِ حقیقت

وزیر اعظم عمران خان ایک روایتی سیاست دان نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ زیادہ تر ایسی باتیں وزیر اعظم کی حیثیت سے کر جاتے ہیں جو ہماری حکمرانی کے نظام میں عمومی طور پر دیکھنے کو نہیں ملتیں۔ کوئی بھی حکمران ہو وہ اپنی ناکامی تسلیم کرنے کی بجائے اپنے سیاسی مخالفین یا سابق حکمرانوں پر الزامات لگا کر اپنا دامن بچانے کی کوشش کرتا ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے اپنی حکومت کی ناکامی کے تناظر میں برملا یہ

Read more

سیاسی بحران سے نمٹنے میں حکومتی حکمت عملی

حکومت کے سامنے ایک بڑا چیلنج اس وقت حکومت مخالف قوتیں ہیں جو پی ڈی ایم کی سطح پر اتحاد بنا کر حکومت کو گرانے کا ایجنڈا رکھتی ہیں۔ ان حکومت مخالف جماعتوں کے بقول عمران خان کی حکومت کو گرانا اور ملک میں فوری طور پر نئے انتخابات کے ماحول کو پیدا کرنا ان کی بڑی سیاسی حکمت عملی کا حصہ ہے۔ پی ڈی ایم کی جماعتوں کے بقول موجودہ سیاسی صورتحال میں حکومت سے کسی بھی سطح پر

Read more

پاک بھارت تعلقات اور پاکستان مخالف بیانیہ

جنوبی ایشیا اور اس خطہ کی سیاست کی بنیادی کنجی سیاسی و معاشی استحکام اور ایک دوسرے ممالک کے درمیان بہتر تعلقات سے جڑی ہوئی ہے اور یہ ہی اہم سیاسی ترجیحات کا حصہ ہونا چاہیے۔ خطہ کی سیاست میں ایک بڑا نکتہ پاک بھارت تعلقات بھی ہیں۔ اس تعلقات میں بہتری کی نوعیت محض ایک یا دو ملکوں تک محدود نہیں بلکہ اس کا مثبت اثر پورے خطہ کی سیاست سے جڑا ہوا ہے۔ لیکن بدقسمتی سے اس وقت

Read more

استعفوں کی سیاست نتیجہ خیز ثابت ہوگی؟

حکومت اور حزب اختلاف کے درمیان بداعتمادی حد سے زیادہ بڑھ گئی ہے۔ کوئی بھی فریق دوسرے کے سیاسی وجود کو قبول کرنے سے عملاً انکاری ہے۔ حزب اختلاف کا بڑا اتحاد ”پی ڈی ایم“ کا براہ راست نشانہ عمران خان کی حکومت کا خاتمہ، نئے انتخابات اور اسٹیبلیشمنٹ سے جڑے اداروں کے سربراہان ہیں۔ ان کے بقول عمران خان حکومت اور اسٹیبلیشمنٹ کے درمیان جو باہمی گٹھ جوڑ ہے اسے ہر صورت توڑنا ہوگا۔ حکومت کے خاتمہ یا وزیر

Read more

الزامات اور کردار کشی پر مبنی سیاست

پاکستان کی سیاست میں الزام تراشیو ں، کردار کشی، لعن طعن اور ایک دوسرے کو قبول نہ کرنا یا سیاسی مخالفین کی تضحیک کرنے کا کھیل ہمیشہ سے ہماری سیاست میں غالب رہا ہے۔ سیاست دان اور سیاسی جماعتوں سمیت ان کے سیاسی کارکن مسائل کی بنیاد پر گفتگو کم اور ذاتیات پر مبنی گفتگو کر کے سیاسی ماحول کو زیادہ بدنما کرتے ہیں۔ اس کھیل میں سب ہی سیاسی جماعتیں، کارکن اور ان کی قیادتیں پیش پیش نظر آتی

Read more

عبدالقادر حسن: ایک عہد کا خاتمہ

شہر میں ایک چراغ تھا نہ رہا ایک روشن دماغ تھا نہ رہا عبدالقادر حسن کا شمار پاکستانی صحافت کے اس قبیلہ سے تھا جو نظریاتی صحافت کی تقسیم میں دائیں بازو میں شمار ہوتے تھے۔ چھ دہائیوں پر محیط ان کا صحافتی کیرئیرتھا۔ رپورٹر کی حیثیت سے اپنے کام کا آغاز کرنے والے عبدالقادر حسن نے صحافتی شعبہ میں نمایاں ترقی کی اور ان کو عملی طور پر ہماری صحافتی شعبہ میں نمایاں حیثیت حاصل تھی۔ دائیں اور بائیں

Read more

مقامی حکومتوں کے نظام سے انحراف کی پالیسی

مقامی حکومتوں کی مضبوطی اور خودمختاری کے تناظر میں عمران خان کی حکومت بھی ماضی کی حکومتوں سے ہٹ کر کوئی اچھی مثال قائم نہیں کر سکی۔ اہم بات یہ ہے کہ وزیر اعظم عمران خان حزب اختلاف کی سیاست میں مقامی حکومتوں کے نظام کی خود مختاری اور مضبوطی کو اپنی اہم سیاسی تر ترجیحات کے طور پر پیش کرتے تھے۔ لیکن اقتدار کی سیاست کا بڑا المیہ یہ ہی ہوتا ہے کہ سیاست دان حزب اختلاف اور حزب اختلاف کی سیاست میں دو مختلف چہرے رکھتے ہیں۔ یہ ہی طرز عمل ہمیں موجودہ عمران خان کی حکومت میں بھی دیکھنے کو ملتا ہے۔ اگرچہ عمران خان کی حکومت مقامی حکومت کے نظام کی سیاسی چیمپین تو بنتی ہے مگر عملی طور پر وہ بھی حکمرانی کے نظام کی درستگی میں ایک روایتی اور فرسودہ طرز کی سیاست سے جڑی نظر آتی ہے۔

Read more

ٹکراو اور بداعتمادی کی سیاست

ہماری سیاست اور جمہوریت بند گلی میں ہے۔ کیونکہ دونوں فریق حکومت او رحزب اختلاف ایک دوسرے کے سیاسی وجود کو قبول کرنے سے انکاری ہے۔ سیاست اور جمہوریت مفاہمت کے ساتھ آگے بڑھتی ہے او ر اس کی کنجی مکالمہ سے جڑی ہوتی ہے۔ لیکن یہاں کوئی بھی فریق کسی سے بات چیت یا مفاہمت کے لیے تیار نہیں۔ عمومی طور پر حکمران طبقہ کی ضرورت سیاسی مفاہمت ہوتی ہے۔ حکومت ہی کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ صورتحال

Read more

نیشنل ڈائیلاگ :کیا ممکن ہو سکے گا؟

قومی مکالمہ یا ڈائیلاگ ہونا چاہیے۔ یہ مکالمہ کسی ایک یا دو فریق کے درمیان نہیں بلکہ ریاست یا سماج سے جڑے تمام فریقین جو فیصلہ سازی کے عمل میں اہمیت رکھتے ہیں کو اس کا حصہ بننا ہوگا۔ سیاست کی سمجھ بوجھ رکھنے والے بہت سے اہل علم یا اہل سیاست کے بقول ملک میں جو بحران موجود ہے اس کا ایک بڑا حل یا اس کی ابتدائی کوشش قومی ڈائیلاگ سے جڑی ہوئی ہے۔ یہ سوچ اور فکر کوئی نئی نہیں اس سے قبل بھی ہم بہت سے اہل دانش کی جانب سے اس تجویز کو سن چکے ہیں۔ لیکن ہمارا سیاسی ماحول، تناو یا محاذ آرائی بداعتمادی، ایک دوسرے کے سیاسی قد یا وجود کو قبول نہ کرنے کے کلچر نے عملاً ڈائیلاگ کو بہت پیچھے چھوڑ دیا ہے۔

جو لوگ عمومی طور پر مختلف فریقین کے درمیان ڈائیلاگ پر زور دیتے ہیں ان کے سامنے دو سوچ اور فکر کا غلبہ ہے۔ اول ایک طبقہ کے بقول اس ڈائیلاگ میں فوج، عدلیہ، بیوروکریسی، بار ایسوسی ایشن، میڈیا سمیت حکومت اور حزب اختلاف اس کا حصہ ہوں۔ جبکہ دوسرے طبقہ کے بقول ڈائیلاگ صرف اور صرف حکومت اور حزب اختلاف کے درمیان ہی ہونا چاہیے اور ہر اس عمل سے گریز کرنا چاہیے جو آئینی حدود سے تجاوز کرے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ملک داخلی اور خارجی محاذ پر لاتعداد سنگین نوعیت کے مسائل سے دوچار ہے۔ مسائل کی نوعیت ایسی ہے کہ کوئی بھی فریق سیاسی طور پر تنہائی میں یہ معاملات حل نہیں کر سکتا۔ اس کے لیے مجموعی طور پر ایک بڑا اتفاق رائے یا متفقہ طور پر اجتماعی سطح کی کوششوں کی ضرورت ہے۔

Read more

اتحادی جماعتوں کی سیاست

عمران خان کی حکومت اتحادی جماعتوں کی بنیاد پر کھڑی ہے۔ عمران خان اتحادی جماعتوں کے ساتھ مل کر کام کرنے کا کوئی بڑا تجربہ نہیں رکھتے۔ یہ ہی وجہ ہے کہ ان کی اب تک کی حکومت اگرچہ اتحادی جماعتوں کے مرہون منت کھڑی ہے، لیکن ان اتحادی جماعتوں کے ساتھ ان کی حکومت کے تعلقات کبھی بھی بہتر نہیں رہے۔ سردار اختر مینگل بلوچستان سے عمران حکومت کے اتحادی تھے۔ کئی بار حکومت سے ان کی ناراضگی ہوئی اور کئی بار صلح۔ لیکن اب وہ حکومت کے اتحادی نہیں رہے بلکہ انہوں نے حکومت سے نالاں ہو کر حکومت مخالف دھڑے کا حصہ بن گئے ہیں۔

Read more

سوچ اور فکر کی تبدیلی کا امتحان

مجموعی طور پر معاشرے کا مزاج مسائل کو حل کرنے کی بجائے اسے پہلے سے زیادہ بگاڑ پیدا کرنے کا سبب بن رہا ہے۔ ہم اپنے اردگرد کے اچھے پہلووں کو نظرانداز کر کے منفی انداز میں سوچنے کے عادی بن گئے ہیں۔ یعنی ہمارا چیزوں یا ماحول کو دیکھنے کا زاویہ مثبت کم اور منفی زیادہ ہو گیا ہے۔ لوگوں کو لگتا ہے کہ ہم بطور ریاست، حکومت، معاشرہ سمیت ہر پہلو میں ناکام ہو گئے ہیں یا بطور ریاست ہم ایک ناکام ریاست کا رخ اختیار کر گئے ہیں۔ آپ کسی بھی نجی یا سیاسی و سماجی، علمی و فکری محفل میں چلے جائیں تو یہ ہی بیانیہ غالب نظر آتا ہے کہ ہم سب کچھ تباہ کر بیٹھے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس تباہی کا رونا رونے والوں میں زیادہ تر اکثریت معاشرے کے پڑھے لکھے افراد میں پائی جاتی ہے جو خود ایک بڑا لمحہ فکریہ ہے۔

Read more

مفاہمت کا راستہ اختیار کرنا ہوگا

عمومی طور پر پاکستانی سیاست میں ہمیشہ سے ایک بڑا ٹکراو حکومت او رحزب اختلاف کی سیاست میں نمایاں نظر آتا تھا۔ یہ ٹکراو کی کیفیت آج بھی ہماری سیاست میں بالادست ہے۔ کوئی بھی فریق دوسرے کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں۔ ہر فریق کی کوشش ہے کہ وہ دوسرے فریق کو نہ صرف شکست دے بلکہ اس کے سیاسی وجود کو ہی قبول کرنے سے انکاری ہے۔ لیکن اس بار سیاسی محاذ آرائی یا ٹکراو کی سیاست

Read more

پاکستان کا بحران: نیا مکالمہ کرنا ہو گا

پاکستان کا حالیہ بحران سنگین بھی ہے اور ایک ادارہ جاتی عمل میں ٹکراو کی کیفیت کو بھی نمایاں کرتا ہے۔ دو بنیادی نوعیت کے مسائل اس وقت ہمیں در پیش ہیں۔ اول حکومت اور حزب اختلاف کے درمیان نہ صرف بد اعتمادی بلکہ ایک دوسرے کے سیاسی وجود کو قبول نہ کرنے کی روش سے تلخی کا ماحول، دوئم اسٹیبلیشمنٹ اور حزب اختلاف کی جماعتوں کے درمیان بڑھتے ہوئے فاصلے، بد گمانی سمیت، عملی طور پر براہء راست اداروں اور ان کے سربراہوں پر تنقید اور الزامات کی بوچھاڑ۔ حزب اختلاف کا نیا اتحاد ”پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ“ کا اس وقت خصوصی ٹارگٹ، جہاں عمران خان ہیں، وہیں وہ اسٹیبلیشمنٹ کو بھی متنازع یا فریق بنا کر، اسٹیبلیشمنٹ اور حکومت کے درمیان ٹکراو پیدا کرنا چاہتے ہیں۔ یہ ٹکراو کی کیفیت کسی بھی صورت پاکستان، سیاست، جمہوریت اور ریاست کے مفاد میں نہیں ہے۔

حزب اختلاف کے اتحاد کے تحت ہونے والے جلسوں میں اسٹیبلیشمنٹ یا کسی ادارہ کے سربراہ سمیت، ان کے کردار پر سیاسی گفتگو یقینی طور پر مناسب نہیں اور نا ہی یہ ادارے سمیت ملک کے مفاد میں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ خود اسٹیبلیشمنٹ کے حلقوں میں بھی حزب اختلاف کے اس کھیل پر تشویش کا پہلو نمایاں نظر آتا ہے۔ نواز شریف، مریم نواز، مولانا فضل الرحمن، محمود خان اچکزئی، عبدالمالک، سردار اختر مینگل سمیت کئی لوگوں کے لہجے میں تلخی کا پہلو نمایاں ہے۔

Read more

فرقہ واریت کا خاتمہ اور پیغام پاکستان

پاکستان بطور ریاست, سماج یا معاشرہ جن بڑے سنگین مسائل سے دوچار ہے ان میں ایک بڑا بنیادی مسئلہ معاشرے میں موجود انتہا پسندی پر مبنی رجحانات یا فرقہ واریت جیسے مسائل میں شدت کا پیدا ہونا ہے. یہ مسئلہ چند برسوں کا نہیں بلکہ گزشتہ کئی دہائیوں سے بطور ریاست ہم اس مسئلہ کی سنگینی کا شکار ہیں. اس مسئلہ کے پھیلاو کی ایک بڑی وجہ ماضی میں موجود ریاستی و حکومتی پالیسیوں کا بھی بہت زیادہ عمل دخل

Read more

کیا مہنگائی پر قابو پایا جا سکے گا؟

پاکستان کی ریاست، حکومت اور معاشرے کے بڑے بڑے بحرانوں یا مختلف نوعیت کے مسائل میں ایک بڑا بنیادی مسئلہ، جو عمومی طور پر عام لوگوں کی ضرورت سے جڑا ہوا ہے، وہ خوفناک حد تک بڑھتی ہوئی مہنگائی کا ہے۔ ہماری بڑی بڑی سیاسی بحثوں میں، عام لوگوں کے بنیادی مسائل پیچھے رہ جاتے ہیں یا یہ حکمران طبقات کی بڑی ترجیحات کا حصہ نہیں بن پاتے۔ یہی وجہ ہے کہ ہماری سیاست، جمہوریت اور عام فرد کے درمیان ایک بڑی سیاسی خلیج پائی جاتی ہے۔ اس وقت قومی سطح پر جو بحث عام آدمی سے جڑی ہوئی ہے، وہ مہنگائی کی ہے۔ لیکن بظاہر ایسا لگتا ہے کہ عام آدمی کو اس حکمرانی کے نظام سے فوری طور پر کوئی بڑا ریلیف ملنے کی امید کم ہے۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ مسائل نہ صرف موجود ہیں بلکہ روزانہ کی بنیادوں پر ان میں شدت یا اضافہ ہو رہا ہے۔

عمران خان کی حکومت نے اقتدار سنبھالتے ہی بڑے بڑے سیاسی دعوے، تبدیلی کے تناظر میں کیے تھے۔ ابتدا میں عمران حکومت کا بیانیہ یہی تھا کہ ہمیں اقتدار مشکل اور بحران کی حالت میں ملا ہے اور فوری ریلیف ممکن نہیں۔ اسی طرح زیادہ تر غلطیوں کو سابق حکمران طبقات سے جوڑا گیا تھا کہ ان کی غیر منصفانہ معاشی پالیسیوں کے باعث حکومت کو مشکلات کا سامنا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ حکومتوں کے پاس کوئی ایسا بڑا جادوئی فارمولا نہیں ہوتا کہ وہ راتوں رات حالات کو تبدیل کر سکیں، اس لیے جو بڑے بڑے سیاسی دعوے، عمران حکومت نے کیے تھے، ان میں بھی جذباتیت کا پہلو زیادہ نمایاں تھا۔ لیکن اب کیوں کہ اس حکومت کو دو برس سے زیادہ کا عرصہ گزر گیا ہے، تو یہ حالات کو ٹھیک کرنے کے لیے کافی ہوتا ہے۔ اس لیے اب جب حکمران طبقہ محض سابق حکمرانوں پر الزامات لگا کر خود کو بچانے کی کوشش کرتا ہے تو یہ حکمت عوام میں قبولیت حاصل نہیں کر پاتی۔

Read more

نئے انتخابات کا مطالبہ

حزب اختلاف کی جماعتوں سمیت بہت سے اہل دانش یہ سمجھتے ہیں کہ ملک کے موجودہ سیاسی بحران کا حل نئے انتخابات کا راستہ ہے۔ اس طبقہ کے بقول ملک میں نئے منصفانہ اور شفاف انتخابات ہی بحران کو حل کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔ اس سوچ اور فکر کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ملک میں 2018 کے انتخابات شفاف نہیں تھے۔ اس طبقہ کے بقول موجودہ حکومت عوام کے ووٹوں کی بنیاد پر نہیں بلکہ یہ مینڈیٹ اسے اسٹیبلیشمنٹ کی حمایت کی وجہ سے ملا ہے۔

یہ ہی وجہ ہے کہ موجودہ حکومت کے مینڈیٹ کو حزب اختلاف کی سیاسی جماعتیں قبول کرنے سے انکاری ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ہماری سیاسی تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو سیاسی قوتوں سمیت اہل دانش کا ایک بڑا طبقہ ہمیشہ سے سیاسی بحران کی وجوہات یا محرکات کو سمجھنے کی بجائے قبل از وقت انتخابات ہی کو مسئلہ کا حل سمجھتا ہے۔

Read more

حزب اختلاف کی سیاسی جنگ

کیا واقعی پاکستان میں موجود حزب اختلاف کی جماعتوں نے حکومت کے خلاف حتمی جنگ کا اعلان کر دیا ہے؟ حزب اختلاف کا بننے والا نیا سیاسی اتحاد ”پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ” پی ڈی ایم ایک بڑی سیاسی تحریک کو پیدا کرنے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے؟ اور کیا ان کی یہ تحریک واقعی حکومت کو سیاسی محاذ پر ایک بند گلی میں دھکیل سکتی ہے؟ پاکستان کی سیاسی تاریخ کا المیہ یہ رہا ہے کہ یہاں حزب اختلاف کی سیاست کسی بھی شکل میں تعمیری کم اور مسائل کو پیدا کرنے کی زیادہ رہی ہے۔

حکومتوں کو قبول نہ کرنا، وقت سے پہلے گھر بھیجنا، پس پردہ قوتوں کی مدد سے سازشوں کو تیار کرنا یا اس پر عمل کرنا، سیاسی عدم استحکام پیدا کر کے سیاست اور معیشت دونوں کے لیے مشکلات پیدا کرنا، سیاسی جماعتوں کی سطح پر توڑ پھوڑ، منفی بنیادوں پر اتحادوں کا قیام، جلاؤ گھیراؤ اور ٹکراؤ کی سیاست کو غلبہ رہا ہے۔ یہ کام کسی ایک حزب اختلاف کا نہیں بلکہ مجموعی طور پر ہر حزب اختلاف کی سیاست انہی مقاصد کے گرد گھومتی ہے۔

Read more

مقامی حکومتوں کا نظام

پاکستان کے نظامِ حکمرانی میں، کیا واقعی مقامی حکومتوں کے نظام کو بنیادی ترجیحات کی بنیاد پر ایک مضبوط اور مربوط نظام کے تحت قائم کیا جاسکے گا؟ کیونکہ عملی طور پر پاکستان کا جمہوری حکمرانی کا نظام، مقامی حکومتوں کے نظام سے نا صرف محروم ہے بلکہ اس نظام کو سیاسی بنیادوں پر ایک بڑے سیاسی استحصال کا سامنا ہے۔ وفاقی حکومت یا بالخصوص صوبائی حکومتوں کا کردار سب سے زیادہ تنقید کے زمرے میں آتا ہے، جو اس بنیادی جمہوریت کے نظام کے ہی خلاف ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس وقت وفاق اور صوبائی سطح پر حکمرانی کے شدید ترین بحران میں سب ہی سیاسی، انتظامی اور قانونی فریقین مقامی حکومتوں کے نظام کی اہمیت پر زور دیتے ہیں۔ لیکن حکمران طبقہ چاہے ان کا تعلق کسی بھی سیاسی جماعت سے ہو، اس نظام کی تشکیل اور خود مختاری کو اپنے لیے ایک بڑا خطرہ سمجھتا ہے۔

Read more

حزب اختلاف کی اے پی سی کا نتیجہ کیا نکلے گا؟

کیا حزب اختلاف کی کل جماعتی کانفرنس او راس کا 26 نکاتی مشترکہ اعلامیہ واقعی حکومت کے لیے خطرہ کی گھنٹی کو بجاتا ہے او رکیا واقعی اس حکومت کا طبل جنگ بجنے والا ہے؟ بظاہر تو حزب اختلاف کے بڑے راہنماؤں نے کچھ ایسے ہی خیال پیش کیا تھا کہ یہ اے پی سی نہ صرف فیصلہ کن ہوگی بلکہ حکومت کا جانا ٹھرجائے گا۔ دلیل یہ دی گئی تھی کہ ایک دو نکات کو بنیاد بنا کر یہ

Read more

افغان بحران کا حل، چیلنجز و امکانات

دوحہ میں افغا ن حکومت اور افغان طالبان کے درمیان مذاکر ات کا دور بہت اہمیت رکھتا ہے۔ کیونکہ ماضی میں دونوں فریقین کے درمیان ایک دوسرے کے بارے میں بہت زیادہ بداعتمادی پائی جاتی تھی اور کوئی بھی فریق دوسرے کے وجود کو قبول کرنے کے لیے تیار نہ تھا۔ اس دوحہ مذاکر ات کو افغان بحران کے حل میں ایک بڑے سیاسی ”بریک تھرو“ کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ اگرچہ یہ بحران کے حل کی ابتدا

Read more

جنسی تشدد اور سماجی و قانونی بیانیہ

پاکستان میں بچوں، بچیوں اور عورتوں کے ساتھ جنسی بنیادوں پر طاقت، خوف، تشدد اور بندوق کی بنیاد پر زیادتی کے واقعات کا تسلسل کے ساتھ ہونا ایک حساس نوعیت کا مسئلہ ہے۔ اس طرز کے واقعات کی بنیاد پر داخلی اور خارجی دونوں محاذوں پر ملک کی تصویر ایک بدنما چہرے کے ساتھ سامنے آتی ہے۔ لوگوں عمومی طور ان واقعات پر معاشرے کی سیاسی، سماجی، اخلاقی اور قانونی ساکھ پر سوالات اٹھاتے ہیں۔ ایک طرف جنسی زیادتی کے

Read more

کیا کراچی واقعی تبدیل ہو سکے گا؟

کیا کراچی کا بنیادی مسئلہ ایک بڑا مالیاتی پیکج ہے جو شہر کی ترقی اور خوشحالی کو یقینی بناسکتا ہے؟ وزیر اعظم عمران خان کی جانب سے کراچی پیکج کو بنیاد بنا کر 1113 ارب روپے کی مالی مدد اہمیت رکھتی ہے۔ یہ ایک بڑا ترقیاتی پیکج ہے جس کی ماضی میں کوئی نظیر نہیں ملتی۔ یقینی طور پر کراچی کو اگر واقعی مثبت انداز میں تبدیل ہونا ہے تو اس میں ایک بڑا نکتہ مالیاتی وسائل کی فراہمی کا

Read more

بڑے شہروں کے مسائل

پاکستان میں حکمرانی کے نظام کو موثر وشفاف بنانے یا شہریوں کی بنیادی ضرورتوں کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے ہمیں ایک مربوط و جدید قسم کا سیاسی، انتظامی او رمعاشی نظام درکار ہے۔ بالخصوص جب ہم ملک کے بڑے شہروں کے مسائل کو دیکھتے ہیں تو اس غیر معمولی صورتحال کو دیکھتے ہوئے ہمیں غیر معمولی حکمت عملی درکار ہے۔ بڑے شہروں کا نظام ایک بڑی سرجری کا تقاضا کرتا ہے جو شہروں کی حالت کی درستگی میں

Read more

عمران خان کی حکومت کا مستقبل

وزیر اعظم عمران خان کے سیاسی مخالفین کی کوشش ہے کہ کسی طریقے سے عمران خان کی حکومت اپنی سیاسی مدت پوری نہ کرسکے اور ملک نئے انتخابات کی طرف فوری طور پر گامزن ہو سکے۔ اسی نکتہ کو بنیاد بنا کر تمام حزب اختلاف کی جماعتیں دو نکاتی بیانیہ پر توجہ دے رہی ہیں۔ اول عمران خان کی حکومت ناکام ہو گئی ہے اور ملک شدید ترین سیاسی، انتظامی اور مالی بحران کا شکار ہو گیا ہے۔ دوئم اس موجودہ بحران کا واحد حل نئے منصفانہ اور شفاف انتخابات ہیں۔

لیکن ان دونوں نکتوں پر حزب اختلاف کی جماعتیں عملی طور پر کوئی بڑی تحریک چلانے میں کوئی دلچسپی نہیں رکھتیں۔ ان کا خیال ہے کہ ہم محض سیاسی دباؤ یا میڈیا میں دباؤ ڈال کر حکومت کو مجبور کردیں گے کہ وہ یا تو خود مستعفی ہو جائے یا ان کے بقول سلیکٹرز خود حکومت کو گھر بھیجنے کا فیصلہ کر لے تاکہ ملک نئے انتخابات کی طرف گامزن ہو سکے۔

Read more

حکمرانی کا بحران اور صوبائی حکومتیں

پاکستان کا بحران حکمرانی کے نظام سے جڑا ہوا ہے۔ سیاسی یا فوجی حکومتوں کے ادوار بھی ہمیں ایک اچھی اور شفاف طرز حکمرانی فراہم کرنے میں بری طرح ناکام رہے ہیں۔ سیاست اور جمہوریت یا قانون کی حکمرانی کے بطن سے اگر اچھی حکمرانی کا نظام پیدا نہ ہو یا لوگوں کا نظام پر عدم اعتماد ہو تو سیاست اور جمہوریت کا مصنوعی عمل اپنی اہمیت کھو دیتا ہے۔ اس لیے موجودہ صورتحال میں لوگوں کی سیاسی و حکمرانی کے نظام پر بہت زیادہ عدم اعتماد یا بداعتمادی کی فضا پائی جاتی ہے۔

سوال یہ ہے کہ اچھی حکمرانی سے ہماری مراد کیا ہے۔ عمومی طور پر اچھی حکمرانی کو لوگوں کا نظام پر اعتماد، وسائل کی منصفانہ اور شفاف تقسیم، اداروں تک عام افراد کی رسائی، نگرانی اور جوابدہی کا موثر نظام، ادارہ جاتی عمل کا مضبوط ہونا، کمزور طبقات کے مفادات کو زیادہ تقویت دینا، اختیارات کی تقسیم اور عدم مرکزیت کا نظام، شہریوں کی نظام امور میں موثر شمولیت یا ان کی فیصلہ سازی میں شراکت، انصاف کا موثر نظام جیسے امور شامل ہوتے ہیں۔

Read more

نوجوان طبقہ: نفسیاتی مسائل اور جامعات کا کردار

پاکستان میں مسائل کی درجہ بندی میں ایک بڑا مسئلہ نوجوانوں کی سطح پر بڑھتے ہوئے نفسیاتی مسائل کا بھی ہے۔ نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں کو مختلف محاذ پر جن بڑے سیاسی، سماجی، انتظامی، اخلاقی، معاشی، قانونی مسائل میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے اس کا عملی نتیجہ نفسیاتی سطح پر بہت سے مسائل کی صورت میں سامنے آ رہا ہے۔ یہ مسائل اور ان کی بڑھتی ہوئی شدت نوجوانوں میں لاتعلقی، غصہ، نفرت، تعصب، منفی سطح کے خیالات،

Read more

عمران خان حکمرانی کے دو برس

وزیر اعظم عمران خان کی حکمرانی کے دو برس مکمل ہوگئے۔ وہ ایک بڑے سیاسی دعوے اور انقلابی تبدیلیوں سمیت ایک نئے پاکستان کی تشکیل کی بنیادپر اقتدار کا حصہ بنے تھے۔ اگرچہ حکومت کے پاس پانچ برس کا مینڈیٹ ہوتا ہے اور اس کی اچھی یا بری حکمرانی کا تجزیہ دو برسوں کی بنیاد پر قبل ازوقت ہو گا۔ لیکن ان دو برسوں کو بنیاد بنا کر ہم حکومت کی سمت، حکمت عملی، پالیسیوں اور طرز حکمرانی کے معاملات

Read more

کراچی کے بحران کا المیہ

کراچی کا بحران بہت پیچیدہ اور مشکل بھی ہے۔ کیونکہ کراچی میں موجود سیاسی فریقین خود بھی اس بحران کے حقیقی ذمہ دار ہیں اور بحران کے حل میں کوئی بڑا کردار ادا کرنے کے لیے تیار نہیں۔ ایم کیوایم، تحریک انصاف اور پیپلز پارٹی سمیت جماعت اسلامی وہاں کے حقیقی فریقین کے طور پر سمجھے جاتے ہیں۔ لیکن ان تمام فریقین کے درمیان جاری سیاسی محاذ آرائی اور بداعتمادی سمیت کرپشن، بدعنوانی، لوٹ مار، تشدد و لاقانونیت کی سیاست

Read more

مقبوضہ کشمیر :ہم کیا کچھ کر سکتے ہیں۔

ایک بنیادی مسئلہ مقبوضہ کشمیر کے تناظر میں پاکستان کی پالیسی کا ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ پاکستان بھارت کے ساتھ اپنے بہتر تعلقات کی بحالی میں دیگر امور کے ساتھ ساتھ مقبوضہ کشمیر کے مسئلہ کو بنیادی مسئلہ سمجھتا ہے۔ پاک بھارت تعلقات میں جو بگاڑ یا بداعتمادی ہے اس میں دیگر وجوہات کے علاوہ کشمیر ایک اہم نکتہ ہے۔ مقبوضہ کشمیر کی موجودہ صورتحال او ربالخصوص آرٹیکل 370 اور 35۔ Aکے اطلاق کے بعد جو صورتحال مقبوضہ

Read more

مسلم لیگ ن میں بڑھتا ہوا انتشار

سیاسی جماعتوں میں داخلی سیاسی بحران کا ہونا ایک فطری امر ہے۔ لیکن اہم بات یہ نہیں کہ سیاسی جماعتوں میں داخلی بحران کیونکر ہے بلکہ اس سے بڑی بات اس بحران سے سیاسی، انتظامی طور پر نمٹنے سے بھی جڑا ہوتا ہے۔ عمومی طور پر سیاسی جماعتوں کی قیادت اول تو اپنے داخلی سطح کے بحران کو قبول ہی نہیں کرتی۔ ان کے بقول پارٹی میں کوئی بحران نہیں اور جو بحران دکھایا جا رہا ہے وہ مخالفین کی

Read more

سوشل میڈیا، یوٹیوب اور سائبر کرائم

دنیا میں ابلاغ کے نظام میں پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کے بعد سوشل میڈیا ایک بڑی طاقت بن کر ابھرا ہے۔ اس سوشل میڈیا یا ڈیجیٹل پر مبنی جڑے نظا م میں بڑی تیزی سے نئی نئی جہتیں، ترقی او رکمالات دیکھنے کو مل رہے ہیں۔ یہ ہی وجہ ہے کہ پرنٹ او رالیکٹرانک میڈیا سے وابستہ لوگ بھی اب اپنی بات کو آگے پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا کا سہارا لیتے ہیں۔ یہ نظام محض میڈیا سے جڑے افراد

Read more

مقبوضہ کشمیر، مودی حکومت اور یوم استحصال

کشمیر کی جدوجہد آزادی اب محض کشمیر یا پاکستان اور بھارت کا مسئلہ نہیں۔ یہ مسئلہ ایک عالمی حیثیت اختیار کر گیا ہے او رجب بھی اس خطہ کی سطح پر امن، سلامتی او رخوشحالی کی بات ہوتی ہے تو مقبوضہ کشمیر کے مسئلہ کو ایک اہم نوعیت کا مسئلہ سمجھا جاتا ہے۔ پاکستان او ربھارت کی سطح پر جو تعلقات میں بگاڑ یا بداعتمادی موجود ہے اس کا بھی ایک بنیادی نکتہ مقبوضہ کشمیر کی سیاست سے جڑا ہوا

Read more

بھارت کی سیکولر سیاست اور اسلاموفوبیا کا جنگی جنون

بھارت کی سیکولر سیاست یا آئین کی جڑی سیاست کے بطن سے اس وقت ہندواتہ اور اقلیتوں سمیت مسلم دشمنی کی تصویر کافی گہری اور نمایاں نظر آتی ہے۔ بھارتی سیکولر چہرہ بھی کافی دغدار ہوگیا ہے۔ بھارت خود کو ایک پرامن مضبوط جمہوری ریاست یا ملک کے طور پر دنیا میں پیش کرتا ہے۔ لیکن اب عالمی رائے عامہ بھی اعتراف کررہی ہے کہ بھارت اپنی سیکولر سیاست کے مقابلے میں ہندواتہ پر مبنی سیاست سمیت خود کو اقلیتوں

Read more

حزب اختلاف کی سیاست کا مخمصہ

پاکستان میں حزب اختلاف کی سیاست مجموعی طور پر محازآرائی، ایک دوسرے کی حکومتوں کو قبول نہ کرنا، حکومتوں کو گرانا، کمزورکرنا اور الزام تراشی، کردار کشی سمیت اسٹیبلیشمنٹ کے ساتھ مل کر غیر جمہوری کھیل سے جڑی ہوئی ہے۔ اس کھیل میں کوئی ایک سیاسی جماعت ملوث نہیں بلکہ تمام حزب اختلاف کی جماعتیں اپنے اپنے سیاسی ادوار میں ایک دوسرے کے خلاف منفی کھیل کھیلتی رہی ہیں۔ حزب اختلاف جمہوریت سے جڑے نظام میں مستقبل کی حکومت ہوتی

Read more

پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کا بھارتی ایجنڈا

مسئلہ محض پاکستان کے ساتھ ہی نہیں بلکہ بھارت کے خطہ کے تمام ممالک کے ساتھ تعلقات کشیدہ پائے جاتے ہیں۔ اس کی ایک بنیادی وجہ یہ ہے کہ بھارت ا س خطہ میں تمام ملکوں پر زور دیتا ہے کہ وہ اس کی سیاسی چوہدراہٹ کو قبول کرے۔ یہ ہی دباؤ پاکستان پر بھی ہے کہ وہ اس خطہ میں بھارت کی بالادستی کو قبول کرے۔ اگرچہ پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت بھارت سے بہتر تعلقات چاہتی ہے،

Read more

سیاست اور جرائم کا باہمی گٹھ جوڑ

ہمارا سیاسی، انتظامی، قانونی اور معاشی نظام واقعی ایک بڑی تبدیلی چاہتا ہے۔ اگر ہم نے واقعی مثبت انداز میں آگے بڑھنا ہے تو تبدیلی کا یہ عمل ناگزیر ہوگیا ہے جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ معمولی پیچ ورک یا روایتی طور طریقوں سے ہم اپنے نظام میں بہتری پیدا کر سکتے ہیں وہ بھی غلطی پر ہیں۔ کیونکہ اب جو مسائل کی سنگینی ہے وہ کچھ بڑے اور غیر معمولی اقدامات کا تقاضا کرتے ہیں۔ اگرچہ اہل دانش

Read more

کرونا وائرس، مقامی حکومتیں اور طرز حکمرانی کے مسائل

ہمارے جیسے معاشروں میں اچھی اور شفاف طرز حکمرانی ایک بنیادی نوعیت کا مسئلہ ہے۔ کیونکہ ہمارے بیشتر مسائل کا براہ راست تعلق عملاً حکمرانی کے نظام سے جڑا نظر آتا ہے۔ وفاقی، صوبائی اور ضلعی یا مقامی حکمرانی کے نظام میں جو پیچیدہ یا سنجیدہ نوعیت کے مسائل ہمیں درپیش ہیں اس کا علاج تلاش کرنے کے لیے ریاستی و حکومتی سطح پر ہمیں کئی کمزوری کے پہلو نمایاں طور پر نظر آتے ہیں۔ اگرچہ یہاں سیاسی جماعتیں یا

Read more

مائنس ون فارمولہ کی سیاسی حقیقت

پاکستان کی سیاست کی خوبی یہ ہے کہ اس میں بحران کی کیفیت کو پیدا کرنا یا اسے برقرار رکھنا ہمارے سیاسی فریقین کی سیاست کا اہم جز ہے۔ یہ ہی وجہ ہے کہ تواتر کے ساتھ سیاسی محاذ آرائی یا سیاسی شگوفے چھوڑنا بھی ہمیں سیاسی منظر نامہ میں غالب نظر آتے ہیں۔ اس وقت بظاہر حکومت کو کوئی بڑا خطرہ نہیں مگر اسلام آباد کا سیاسی ماحول اور اس سے جڑے سیاسی یا میڈیا کے محاذ پر موجود

Read more

سید منور حسن روشنی کا مینار

اگچہ سید منور حسن بیمار تھے، مگر یہ اندازہ نہیں تھا کہ وہ رب کے حضور پیش ہونے والے ہیں۔ موت برحق ہے اور سب نے ہی اس عارضی دنیا سے حقیقی دنیا کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔ سید منور حسن بھی وہیں چلے گئے جہاں سے کوئی لوٹ کر نہیں آتا۔ لیکن کچھ شخصیات ایسی ہوتی ہیں جن کی موجودگی اور غیر موجودگی دونوں کا احساس غالب رہتا ہے۔ جو لوگ بھی سید منور حسن کو جانتے ہیں

Read more

ڈاکٹر مغیث شیخ۔ ۔ ۔ کیا کمال کا فرد تھا

سوچتا ہو ں کہ ڈھلیں گے یہ اندھیرے کیسے لوگ رخصت ہوئے اور لوگ بھی کیسے کیسے پاکستانی صحافت کے استادوں کے استاد، ممتاز دانشور، تجزیہ نگار، مصنف، میڈیا کی تعلیم میں نئی سے نئی جہتوں کو متعارف کروانے والے عظیم راہنما ڈاکٹر مغیث الدین شیخ بھی رب کے حضور پیش ہوگئے۔ کیا کمال کے فرد تھے جو اپنی ذات میں ایک انجمن اور ادارے کی حیثیت رکھتے تھے۔ کوئی پچیس برسوں پر محیط تعلق تھا اور تعلق بھی ایسا

Read more

ریاست اور شہریوں کے درمیان تعلق

پاکستان کی ریاست اور حکمرانی کے نظام کا بنیادی مسئلہ شہریوں کے ساتھ بداعتمادی کی فضا ہے۔ عمومی طور پر ریاست، حکومت اور شہریوں کے درمیان باہمی تعلق ہی ریاست اور معاشرہ کو مضبوط بنانے کی کنجی سمجھا جاتا ہے۔ ریاست اور شہریوں کے باہمی تعلق کو ہم ان کے درمیان عمرانی ماہدہ کے طور پر دیکھتے ہیں۔ ایک طرف ریاست و حکومت ذمہ دار ہوتی ہے کہ وہ شہریوں کے بنیادی حقوق اور مفادات کے تحفظ کے عمل کو

Read more

جامعات کا مقدمہ

پاکستان میں تعلیم ایک بنیادی نوعیت کا مسئلہ ہے۔ پرائمری، سیکنڈری یا ہائر ایجوکیشن ہو سب ہی ایک کمزور حالت میں نظر آتے ہیں۔ اس کی ایک بڑی وجہ ہماری ریاستی و حکومتی ترجیحات کا فقدان ہے۔ اگرچہ پرائمری تعلیم ایک اہم نکتہ ہے اور اس ملک میں ہمیں ہائر ایجوکیشن کمیشن تو نظر آتا ہے، مگر کوئی پرائمری تعلیم کی ترویج کا کمیشن دیکھنے کو نہیں ملے گا۔ اس وقت ایک مسئلہ ہماری جامعات کا ہے۔ 2002 میں یونیورسٹی

Read more

سادگی کا کلچر کا اختیار کرنا ہوگا

ہماری ریاستی، حکمرانی سمیت تمام طبقات کے نظام میں ایک بنیادی مسئلہ سادگی کے کلچر سے دوری بھی ہے۔ ہم نے بطور معاشرہ خود بھی اپنی زندگیوں میں اپنی مشکلات پیدا کی ہیں او را س کی وجہ ایک ایسے کلچر کو تقویت دینا ہے جو ان کے لیے مسائل پیدا کرنے کا سبب بن رہا ہے۔ ایک طرف ہمارا ماتم معاشی بدحالی کا ہے تو دوسری طرف ہم بطور معاشرہ اپنے معاملات میں بڑی تبدیلی پیدا کرنے کے لیے

Read more

احتساب کے نظام کی ناکامی

پاکستان کی سیاسی تاریخ کا جائزہ لیں تو یہاں احتساب کا عمل سیاسی جماعتوں سمیت سیاسی اور فوجی حکومتوں کے درمیان ایک بڑے سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال ہوا ہے۔ عمومی طور پر حکمرانی کے نظام میں موجود لوگوں نے اس احتساب کے نظام کو شفاف بنانے کی بجائے اسے اپنے سیاسی مخالفین کے خلاف استعمال کیا۔ یہ ہی وجہ ہے کہ یہاں احتساب کا نظام اپنی شفافیت اور ساکھ کو قائم کرنے میں بری طرح ناکام ثابت ہوا۔

Read more

حکمرانی کا بحران

پاکستان کی سیاست اور جمہوریت میں ایک بنیادی مسئلہ حکمرانی کے بحران کا ہے۔ سب اس نکتہ پر متفق ہیں کہ لوگوں کے مفادات کے تناظر میں حکمرانی کے بحران نے عام آدمی سمیت تمام طبقات کو ایک بڑی مشکل سے دوچار کیا ہوا ہے۔ حکمرانی کے بحران میں چند پہلو بہت زیادہ اہمیت رکھتے ہیں جن میں وسائل کی منصفانہ تقسیم، وسائل کی شفافیت کی بنیاد پر مختص کرنا، سیاسی، سماجی، انتظامی ومعاشی ترجیحات کی درست نشاندہی اور منصوبہ

Read more

بنیادی ترجیحات کا تعین کرنا ہوگا

کرونا کے بحران میں جو شعبہ سب سے زیادہ برے طریقے سے سامنے آیا وہ ریاستی و حکومتی تناظر میں صحت کا شعبہ ہے۔ صحت کا شعبہ ایک بنیادی انسانی حق ہے جو ریاست اور حکمرانوں کی بنیادی ذمہ داری کے زمرے میں آتاہے۔ لیکن ریاست اور ماضی یا حال کی تمام حکومتوں نے شعبہ صحت کے ساتھ جو سلوک کیا وہ آج ہم بنیادی طور پر ایک بڑے جرم کے طور بھگت بھی رہے ہیں۔ اس وقت کرونا کے بحران کے تناظر میں جو حالات ہمارے ہسپتالوں اور ا س میں موجود سہولتوں کی ہے یا جو ڈاکٹرز سمیت دیگر عملہ وہاں خدمات انجام دے رہا ہے ان کو جو شدید مشکلات کا سامنا ہے وہ کافی تکلیف دہ امر ہے۔ اس وقت حالت یہ ہے کہ جو لوگ بھی کسی مرض کی بنیاد پر سرکاری ہسپتالوں کی طرف رخ کر رہے ہیں ان کے لیے کوئی بڑی جگہ ہی موجود نہیں۔ خاص طور پر وینٹی لیٹرز کی کمی کے بحران نے کئی لوگوں کو زندگی سے موت کی طرف دھکیلا ہے۔

اس وقت ہر بندہ کسی نہ کسی بڑی سفارش کی تلاش میں نظر آتا ہے کہ کوئی اسے یا اس کے خاندان کے فرد کو ہسپتال داخل کروا دے یا

Read more

شہباز شریف کا سیاسی مقدمہ

جو لوگ یہ منطق دے رہے تھے کہ شہباز شریف کی واپسی ایک خاص مقصد، ڈیل یا حکمت عملی کا نتیجہ ہے۔ ان کے بقول شہباز شریف کو لانے کا مقصد عمران خان کی حکومت پر دباؤ بڑھانا، فوج اور عمران خان کے درمیان تعلقات کار میں ٹکراؤ اور ایک متبادل سیاسی پلان کی طرف پیش قدمی تھی۔ لیکن شہباز شریف کی واپسی کے بعد کے امکانات کا تجزیہ کیا جائے تو بظاہر یہ ہی لگتا ہے کہ ان کی آمد کے بارے میں جو بھی سیاسی پیش گوئیاں کی گئیں تھیں، وہ نتیجہ خیز نہ ہو سکیں یا اس میں حقایق سے زیادہ کسی کی خواہش کا عنصر زیادہ تھا۔

Read more

مودی، بھارت اور جنوبی ایشیا کی سیاست

نریندر مودی اور آر ایس ایس کا باہمی گٹھ جوڑ بھارت سمیت مقبوضہ کشمیر اور بالخصوص جنوبی ایشیا کے سیاسی استحکام میں ایک بڑے خطرے کے طور پر پیش کر رہا ہے۔ کیونکہ مودی کی ہندتوا کی حمایت میں جاری انتہا پسند پالیسی اور مسلم دشمنی یا دیگر اقلیتوں کے بارے میں بھی اختیار کی گئی پالیسیوں نے ان کا جمہوری مقدمہ کم زور کیا ہے۔ بھارت میں موجود مسلمان اور دیگر اقلیتیں خود کو بہت غیر محفوظ سمجھ رہی

Read more

رانا شفیق الرحمن ایک حقیقی سماجی و سیاسی کردار

پاکستان کے مقامی ہیروز پر نظر ڈالیں تو ایسے بے شمار سیاسی، سماجی ساتھیوں کی ایک طویل فہرست ہے، جنہوں نے دائیں اور بائیں بازو کی بنیاد پر علمی و فکری اور انقلابی بنیادوں پر بہت اعلی کام کیا ہے۔ اگرچہ ہمارے ہاں ہیروز کی پذیرائی میں کھیل، فن، اداکاری سمیت کچھ شعبوں کو زیادہ پذیرائی ملی ہے، جب کہ سیاسی، سماجی اور علمی و فکری میدان میں کام کرنے والے حقیقی ساتھیوں کو زیادہ پذیرائی نہیں مل سکی اور بہت سے لوگ ان کے کاموں سمیت ان کی جدوجہد سے بھی آگاہ نہیں۔

Read more

اتفاق رائے کی سیاست کا فقدان

عمومی طور پر جمہوری سیاست میں حکومت اور حزب اختلاف کے درمیان قومی سنگین مسائل پر اتفاق رائے کی سیاست کی بہت زیاد ہ اہمیت ہوتی ہے۔ کیونکہ مسائل کا حل ٹکراؤ کی سیاست کے مقابلے میں اتفاق رائے کی سیاست سے جڑا ہوتا ہے اور یہ عمل ایک ذمہ دار سیاست کے پہلوؤں کو بھی نمایاں کرتا ہے۔ لیکن بدقسمتی سے پاکستان جیسے معاشروں میں جہاں سیاست، جمہوریت اپنے ارتقائی عمل سے گزر رہی ہے تو وہاں ایک دوسرے کے سیاسی وجود کو قبول نہ کرنے اور ایک دوسرے کی ٹانگیں کھینچنے کی سیاست کو فوقیت دینے سے ہم مجموعی طور پر بگاڑ پیدا کرنے کا سبب بنتے ہیں۔ اس طرز کی سیاست کا عملی نتیجہ محاز آرائی اور لعن طعن کی سیاست کی صورت میں نکلتا ہے جو جمہوری سیاست میں عدم استحکام کی سیاست کو پیدا کرتا ہے۔ اتفاق رائے کی سیاست وہاں پیدا ہوتی ہے جہاں اہل سیاست سے جڑے افراد شعوری طور پر ایک ذمہ دار طرز کی سیاسی پختگی کا مظاہرہ کرتے ہیں۔

Read more

انصاف پر مبنی نظام کیسے ممکن ہوگا؟

پاکستان میں اگر ایک منصفانہ اور شفاف نظام کو لانا ہے تو یقینی طور پر اس کی ایک بڑی بنیاد سیاسی، سماجی اور معاشی انصاف پر مبنی نظام ہوگا اور اسی بنیاد پر ہم ایک مہذہب اور ذمہ دار معاشرہ کے تقاضوں کو پورا کر سکتے ہیں۔ جو بھی معاشرہ انصاف کے نظام کے تناظر میں برابری یا عدم تفریق کی بجائے طبقاتی بنیادوں پر انصاف کا نظام قائم کرے گا تو ان معاشروں کی کوئی سیاسی، اخلاقی اور قانونی

Read more

کیا واقعی ہم تبدیل ہوسکیں گے؟

عمومی طور پر ایک دلیل یہ دی جاتی ہے کہ اگر کوئی معاشرہ کسی بڑی مشکل کا شکار ہوتا ہے تو اس کے نتیجے میں مشکلات سے نمٹنے کے تناظر میں

کئی بڑے مواقع بھی پیدا ہوتے ہیں۔ کیونکہ ہر بحران کا اپنا ایک نظام ہوتا ہے اور بحرانوں سے نمٹ کر ہم مستقبل کی کے ماحول کو بھی بدلنے کی طرف پیش قدمی کر سکتے ہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ کوئی بھی معاشرہ سامنے آنے والے مواقع سے فائدہ اٹھاتا ہے یا اپنی عدم صلاحیت اور بہتر سمجھ بوجھ سمیت کمزور سیاسی کمٹمنٹ کے باعث فائدہ

Read more

میڈیا کا محاذ اور حکومتی بیانیہ

نئے وزیر اطلاعات سینٹر شبلی فراز اورمیڈیا سے جڑے معاملات پر وزیر اعظم کے معاون خصوصی جنرل (ر) عاصم سلیم باجوہ کی تقرری کی سیاسی ٹائمنگ بہت اہم ہے۔ دونوں افراد اچھی سیاسی اور انتظامی و عسکری شہرت کے حامل ہیں۔ بالخصوص جنرل (ر) عاصم سلیم باجوہ بطور سابق سربراہ آئی ایس پی ار ا ور میڈیا مینجمنٹ کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں۔ وہ بنیادی طور پر روایتی انداز میں میڈیا مینجمنٹ کی بجائے ان معاملات کو جدید انداز اور مربوط رابطہ سازی کی مدد سے چلاتے رہے ہیں۔

Read more

مودی حکومت اور اسلام فوبیا کا کھیل

بھارت میں بدقسمتی سے اس وقت اسلام مخالف لہر بڑی شدت سے موجود ہے۔ مودی حکومت کی بنیاد ایک سیکولر بھارت کے مقابلے میں عملاً ہندواتہ پر مبنی ریاست اور حکومت ہے۔ ان کے بقول بھارت صرف اورصرف ہندوؤں کا ہے اور جس مسلم سمیت تمام اقلیتوں کو اگر بھارت میں رہنا ہے تو اسے ہندواتہ کی بالادستی کو قبول کرنا ہوگا۔ اس کھیل کے اصل سرپرست نریندر مودی اور ان کی انتہا پسند جماعت بی جے پی اور اتحادی

Read more

شہباز شریف کہاں کھڑے ہیں

سیاست کا ایک المیہ یہ ہوتا ہے کہ لوگ اس عمل میں مستقبل کی بجائے ماضی میں رہ کر اپنا کردار ادا کرنا چاہتے ہیں۔ ان کے سامنے مستقبل کی تصویر کم اور ماضی کا ماتم زیادہ ہوتا ہے۔ سابق وزیر اعلی پنجاب شہباز شریف کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ خود ایک بڑے سیاسی گرداب کا شکار ہیں اور اس کی وجہ ان کے داخلی اور خارجی مسائل ہیں۔ ان کی جماعت سے جڑے لوگ جتنا مرضی اس با

Read more

خود مختار مقامی نظام حکومت ناگزیر ہوگیا ہے

کرونا وائرس سے جڑے بحران سے نمٹنے میں ریاستی و حکومتی سطح پر جو بڑے بڑے چیلنجز سامنے آئے ہیں ان میں ایک بڑا مسئلہ ملک میں مضبوط، مربوط، شفاف اور خود مختار مقامی حکومتوں کے نظام کا نہ ہونا ہے۔ اہل دانش کی سطح سے یا جو لوگ حکمرانی کے نظام کی افادیت یا اس کی شفافیت کو بہتر طور پر سمجھتے ہیں ان کا بنیادی نکتہ بھی ملک میں مقامی حکومتوں کے نظام کی عدم موجودگی ہے۔ بدقسمتی

Read more

کرونا وائرس اور نوجوان طبقہ

کرونا وائرس سے نمٹنا ایک بڑا قومی چیلنج ہے۔ یقینی طو رپر اس چیلنج سے نمٹنے میں ریاست یا حکومت تن تنہا کچھ نہیں کرسکتی۔ یہ جنگ ہمیں اگر جیتنی ہے تو ا س میں معاشرے کے تمام فریقین کو ریاست کے ساتھ کھڑا ہونا ہوگا۔ یہ وقت سیاسی اسکورنگ، مقابلہ بازی، الزام تراشی یا ایک دوسرے پر تنقیدی تیر چلانے کا نہیں۔ اگر ہم مثبت انداز میں جس بھی سطح پر موجود ہیں اور جتنا کچھ کرسکتے ہیں ہمیں

Read more

سیاسی مافیا پر مبنی گٹھ جوڑ توڑنا ہوگا

پاکستان کی سیاست، جمہوریت اور معاشرہ کو عملی طور پر طاقت ور طبقوں یا مختلف مفاداتی فریقین کے باہمی گٹھ جوڑ نے قبضہ کیا ہوا ہے یا ہماری سیاست ان طاقت ور لوگوں کے ہاتھوں یرغمال ہے۔ سیاسی جماعتیں، سیاسی قیادتیں اور جمہوری عمل کمزور اور طاقت ور مافیاز یا مفادات پر مبنی گروہ زیادہ طاقت حاصل کرچکا ہے۔ یہ ہی وجہ ہے کہ سیاست اور جمہوریت کے تناظر میں ہونے والے فیصلوں میں ہمیں ان ہی طاقت ور فریقین

Read more

قومی بحران میں سیاسی جماعتوں کا کردار

پاکستان کے سیاسی نظام میں سیاسی جماعتوں کی اہمیت سے کوئی انکار نہیں کرسکتا۔ سیاسی جماعتیں حکومت میں ہوں یا حزب اختلاف کا حصہ ہوں وہ سیاسی نظام کی حقیقی وارث ہوتی ہیں۔ لوگوں کی بڑی توقعات بھی سیاسی جماعتوں ان کی قیادت اور سیاسی کارکنوں سے جڑ ی ہوتی ہیں۔ ہر سیاسی جماعت یہ دعوی کرتی ہے کہ وہ عوام کے بنیادی حقوق کی جنگ لڑتی ہیں اور مشکل وقت میں عوام بالخصوص کمزور طبقات کے ساتھ کھڑی ہوتی

Read more

کیا ٹائیگرفورس کارگر ثابت ہوسکے گی؟

ہماری سیاسی حکومتوں کا المیہ یہ ہوتا ہے کہ وہ مشکل حالات یا غیر معمولی صورتحال میں مسائل سے نمٹنے کے لیے بعض اوقات ایسے اقدامات کرتی ہیں جو مثبت نتائج دینے کی بجائے ان کو ناکامی سے دوچار کرتی ہیں۔ یہاں مسئلہ حکومتوں کی سیاسی نیت پر شبہ کرنا نہیں بلکہ ان کے سیاسی فیصلوں یا سیاسی حکمت عملیوں کا جائزہ لینا ہے۔ اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ ہمارا حکمرانی کا نظام فرسودہ بھی ہے اور اپنی

Read more

غیرمعمولی حالات میں غیر معمولی اقدامات

پاکستان سمیت دنیا اس وقت بڑی عالمی وبا کرونا وائرس سے نمٹنے کی کوشش کررہی ہے۔ وہ ممالک جو بہت زیادہ ترقی اور وسائل رکھتے ہیں ان کو بھی شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ ہمارے جیسے ممالک جہاں سماجی اور معاشی ڈھانچے کمزور ہیں وہاں تو حالات اور زیادہ مخدوش دیکھنے کو مل رہے ہیں۔ بالخصوص حالات سے نمٹنے کے لیے جو بنیادی نوعیت کی سہولیات اور ڈھانچہ ہمیں درکار ہے اس کا فقدان ریاستی و حکومتی سطح پرغالب ہے۔

Read more

دنیا کو نئی جہت سے دیکھنا ہوگا

دنیا میں بعض واقعات یا حادثات ایسے ہوتے ہیں جو عالمی دنیا میں اپنے اثرات چھوڑتے ہیں اور پوری دنیا نہ صرف ان معاملات سے متاثر ہوتی ہے بلکہ وہ خود کو ان سے علیحدہ نہیں رکھ سکتے۔ یہ جو اس وقت عالمی دنیا ایک بڑی عالمگریت پر مبنی بڑی وبا کرونا وائرس کا شکار ہوئی ہے اس نے پوری دنیا کے سیاسی، سماجی، نفسیاتی، انتظامی اور معاشی ڈھانچوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ پوری دنیا میں اس وقت

Read more

حکمرانی کا نظام اور نئے صوبوں کی بحث

پاکستان کا بنیادی مسئلہ منصفانہ، شفاف اور جوابدہی پر مبنی حکمرانی کا نظام ہے۔ ایک ایسا نظام جو بنیادی طور پر تمام طبقات او ربالخصوص کمزور طبقوں کے مفادات کی بھرپور ترجمانی کرسکے۔ کیونکہ ہم سب مجموعی طور پر تسلیم کرتے ہیں کہ ہمارا موجودہ حکمرانی کا نظام تسلسل کے ساتھ اپنی افادیت کھوبیٹھا ہے۔ لوگوں کا اعتماد حکمرانی کے نظام پر موجود نہیں اور ان کو لگتا ہے کہ حکمرانی کا یہ نظام عام آدمی کے مقابلے میں ایک

Read more

ہندو انتہا پسندی کا سیاسی طوفان

بھارت اور بالخصوص نریندر مودی کی داخلی سیاست بڑی تیزی سے ہندو انتہا پسندی کی جانب بڑھ رہی ہے۔ اس بات کا احساس جہاں عالمی دنیا میں موجود ہے وہیں داخلی محاذ پر بھی سیکولر، لبرل اور اعتدال پسند بھارتیوں میں بھی تشویش کا پہلو نمایاں ہے۔ مسئلہ محض ہندو انتہا پسندی کا ہی نہیں بلکہ مسلمان سمیت دیگر اقلیتوں میں بھی اپنی سیکورٹی اور تحفظ کے تناظر میں ایک بڑا خطرہ موجود ہے۔ نئی دہلی کے حالیہ ہونے والے

Read more

شاہد خاقان عباسی اور نئے رولز آف گیمز

پاکستان میں موجود اہل دانش کا ایک بڑا طبقہ قومی بحران کے حل میں ایک نئے مکالمہ کی اہمیت پر زور دے رہا ہے۔ اس طبقہ کے بقول تمام فریقین کو موجودہ بحران سے نکلنے کے لیے ایک سنجیدہ اور باعمل مکالمہ کی ضرورت ہے۔ یعنی مختلف فریقین کے درمیان سیاست، معاشرت، قانون، معیشت، انتظامات اور حکمرانی کے نظام میں نئے رولز آف گیمز درکار ہیں۔ منطق یہ ہے کہ ہمارا موجودہ سیاسی، انتظامی نظام کافی حد تک ایک ایسے

Read more

قوم کا اعتماد بحال رکھنا ہوگا

کرونا وائرس کا مرض ایک عالمی بحران سے جڑا مسئلہ ہے اور ہمارے جیسے ملکوں کو بھی اس مرض نے اپنی لپیٹ میں لیا ہوا ہے۔ بظاہر ایسا لگتا ہے کہ یہ مرض ابھی اور زیادہ شدت سے ہمیں کسی بڑے بحران میں مبتلا کرسکتا ہے۔ پاکستان کی ریاست یا حکومت نے اس مرض سے بچاؤ کے لیے ہنگامی بنیادوں پر بڑے سخت فیصلے کیے ہیں۔ ان فیصلوں میں تعلیمی اداروں کی بندش، پی سی ایل میچوں کا روکنا، سیاسی،

Read more

مسلم لیگ ن کی سیاسی گمشدگی

مسلم لیگ ن ایک سیاسی حقیقت ہے اورپنجاب کی سیاست میں اسے اپنے سیاسی مخالفین کے خلاف ایک بڑی واضح برتری بھی حاصل ہے ۔ اگرچہ وہ اس وقت اقتدار کی سیاست میں نہیں لیکن اس کے باوجود مرکز اور پنجاب کی سطح پر ان کے منتخب نمائندوں کی تعداد موثر ہے اور وہ کسی بھی سطح پر ایک بڑا کردار اد ا کرنے کی صلاحیت بھی رکھتی ہے ۔ لیکن بظاہر ایسا لگتا ہے کہ مسلم لیگ ن سیاسی

Read more

ریاستی سطح پر چند بڑے چیلنجز

پاکستان نے اگر ایک درست سمت کو اختیار کرنا ہے اور خود کو داخلی اور خارجی دونوں محاذوں پر ایک مہذب اور ذمہ دار معاشرے سمیت ترقی اور خوشحالی میں تبدیل کرنا ہے تو ہمیں ایک نئے کردار اور فکر کی طرف توجہ دینی ہوگی۔ کیونکہ جو موجودہ ریاستی نظام ہے اس میں کئی سطحوں پر بنیادی نوعیت کی تبدیلیوں کی ضرورت ہے۔ انقلاب اور اصلاحات میں سے جمہوری راستہ اصلاحات کی طرف توجہ دیتا ہے اور اسے اگر ہم

Read more

دینی مدارس، بچوں پر تشدد اور علمائے کرام

بچوں او ربچیوں پر جسمانی، نفسیاتی اور ذہنی تشدد کی ہر شکل قابل مذمت ہے۔ ایک صحت مند معاشرے میں بچوں او ربچیوں پر بے جا تشدد اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی مختلف شکلیں خوفناک منظر کشی کرتی ہیں۔ روزانہ کی بنیادوں پر بچوں اور بچیوں کے خلاف تشد دکے بڑھتے ہوئے واقعات جن میں جنسی تشدد او رزیادتی بھی شامل ہے قابل مذمت ہے۔ بالخصوص ہمارے دینی مدارس کے ماحول میں سے تشدد اور جنسی تشدد

Read more

عورتوں کی تحریک۔ ایک نئی فکر کی ضرورت

ہر برس آٹھ مارچ کو دنیا بھر میں عورتوں کا دن منایا جاتا ہے۔ اس دن کا بنیادی مقصد ریاستی، حکومتی، ادارہ جاتی سمیت معاشرے کے تمام طبقات میں عورتوں سے جڑے مسائل پر آگاہی اور ان کے سیاسی، سماجی شعور کی اہمیت کو پیش کیا جاتا ہے۔ پاکستان کے تناظر میں بھی اس دن کی بڑی اہمیت ہے۔ کیونکہ پاکستان میں عورتوں کی سیاسی، سماجی، معاشی یا قانونی حیثیت کے زمرے میں لاتعداد مسائل موجود ہیں۔ خاص طور پر

Read more

افغان امن معاہدہ اور مستقبل کا نقشہ

افغان حکومت، طالبان اور امریکہ کے درمیا ن امن معاہدہ ایک تاریخی واقعہ ہے۔ اگرچہ اس امن معاہدہ سے کامیابی کے تناظر میں فوری نتائج نکالنا درست حکمت عملی نہیں ہوگی۔ یہ دستاویز ایک ابتدائی معاہدہ ہے اور اس پر عملدرآمد کرکے مستقبل میں افغانستان سمیت خطہ کی سیاست میں امن کا راستہ تلاش کیا جاسکتا ہے۔ یہ معاہدہ نہ تو فوری طور پر ہوا ہے اور نہ ہی کسی سیاسی تنہائی میں کیا گیا ہے۔ اس معاہدہ پر پہنچنے

Read more

ٹرمپ کی بھارت یاترا: کون کیا کچھ حاصل کر سکا؟

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا دورہ بھارت بنیادی طور پر بھارت اور امریکہ کے لیے ہی نہیں بلکہ پاکستان سمیت خطہ کی سیاست کے تناظر میں بھی کافی اہمیت رکھتا تھا۔ یہ ہی وجہ ہے کہ تینوں اہم فریق امریکہ بھارت اور پاکستان کی اس دورہ پر خاص نظر تھی اور ہر فریق اس دورہ کے عملی نتائج کو اپنے مفادات کے ساتھ جوڑ کردیکھنے کی کوشش کررہا تھا۔ بھارت نے عملی طور پر اپنے سیاسی اور سفارتی محاذ پر

Read more

بھارت میں مسلم دشمنی اور ہندوتوا کی سیاست

بھارت میں مسلم دشمنی یا اقلیتوں کو بنیاد بنا کر تنہا کرنا اور ان میں ڈر اور خوف کی سیاست پیدا کرکے انھیں تشدد کا نشانہ بنانا اس وقت ہندوتوا کی سیاست کا اہم ایجنڈا ہے۔ اس ایجنڈے کی سیاسی سرپرستی بی جے پی، نریندر مودی، آر ایس ایس سمیت سخت گیر ہندو یا مسلم دشمنی کی ذہنیت رکھنے والے پر تشدد مزاج کے حامل افراد کررہے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ان افراد کو نہ صرف بھارت کی

Read more

انتہا پسندی اور دہشت گردی کی جنگ

پاکستان عملی طور پر ان ممالک میں شامل ہے جو گذشتہ کئی دہائیوں سے انتہا پسندی اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی دہشت گردی کی جنگ سے نمٹنے کی کو ششوں میں مصروف ہے۔ پاکستان کے بارے میں عالمی رائے عامہ میں ایک عمومی رائے یہ تھی کہ پاکستا ن بطور ریاست کسی نہ کسی شکل میں انتہا پسند عناصر یا دہشت گردوں کی حمایت یا سرپرستی کرتا ہے۔ یہ ہی وجہ تھی کہ عالمی دنیا کی طرف

Read more

پاکستان کا مقدمہ۔ چند اچھے مثبت پہلو

پاکستان کی ریاست، حکومت اور معاشرے کے تناظر میں ہمیں کئی طرح کے داخلی اور خارجی بحران نظر آتے ہیں۔ ان میں سے بیشتر بحران ہمارے اپنے پید ا کردہ بھی ہیں، مگر ہم اس کو ماننے کی بجائے دوسروں پر یا سازشی تھیوریوں کی بنیاد پر خود کو بچانے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ پچھلی دویا تین دہائیوں میں ہماری ریاست کئی طرح کے بڑے چیلنجز سے نمٹنے کی کوشش کررہی ہے۔ ان چیلنجز میں

Read more

پارلیمانی جمہوریت اور سیاست کا مستقبل

بدقسمتی سے پاکستان میں سیاست، جمہوریت اور بالخصوص پارلیمانی سیاست کا مقدمہ ہمیشہ سے کمزور رہا ہے۔ اس کی ایک بنیادی وجہ تو یہاں جمہوری نظام کے عدم تسلسل سے جڑا ہوا ہے یا غیر سیاسی قوتوں کی مداخلتوں کی وجہ سے جمہوری نظام جڑ نہیں پکڑسکا۔ لیکن یہ آدھا سچ ہے، اور اس پہلو کا دوسرا سچ ہماری سیاسی جماعتیں، قیادتیں اور پارلیمانی سیاست سے جڑے طرز عمل کا بھی ہے جو خود کو نہ تو جمہوری سیاست سے

Read more

سیاسی جماعتوں کی ناکامی اور نئی سول سوسائٹی کا ظہور

معروف دانشور اور کالم نگار خورشید احمد ندیم کسی تعارف کے محتاج نہیں اور ہر وقت کچھ نہ کچھ کسی نئی سوچ وبچار میں محو رہتے ہیں۔ ان کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ خود بھی اور دوسرے اہل علم افراد کو بھی کسی نئی فکری بحث کا حصہ بنا کر لوگوں کے سامنے ایک متبادل بیانیہ پیش کرتے رہے۔ اسی کام کے تناظر میں وہ ایک علمی و فکری ادارہ بنا کر کام کررہے ہیں۔ یہ ہی وجہ ہے

Read more

طاقت کے مراکز میں ایک نیا مکالمہ

پاکستان کا مسئلہ ایک اچھی طرز حکمرانی ہے۔ ایسی حکمرانی جو منصفانہ اور شفاف بھی ہو اور لوگوں کی بنیادی ضرورتوں کو پورا کرتے ہوئے اس کی ساکھ اور صلاحیت بھی بہتر ہو۔ ہم عمومی طور پر حکمران طبقات پر حکومتی یا نظام کی ناکامی پر بہت زیادہ ماتم کرتے ہوئے سخت تنقید کرتے ہیں۔ لیکن ہمیں یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ ہمارا سیاسی، سماجی، انتظامی اور قانونی نظام سمیت معیشت کن خطوط یا بنیادوں پر کھڑی ہوئی ہے اور

Read more

دہلی کا انتخابی معرکہ: کیا ہم کچھ سیکھ سکیں گے؟

دہلی کے انتخابی معرکہ میں بی جے پی اور نریندر مودی یا ہندتوا پر مبنی سیاست کی ناکامی غیر متوقع نہیں تھی۔ کیونکہ کافی سیاسی پنڈت یہ پیش گوئی کرچکے تھے کہ دہلی کے انتخابی معرکہ میں عام آدمی پارٹی کو شکست دینا آسان نہیں ہوگا۔ لیکن موجودہ بھارت کی سیاست کے ماحول میں عام آدمی پارٹی کی جیت اور بی جے پی سمیت کانگریس کی بدترین شکست کافی اہمیت رکھتی ہے۔ کیونکہ نریندر مودی اور ان کے حامیوں کی

Read more

کیا مہنگائی پر قابو پایا جا سکے گا؟

پاکستان میں عام آدمی کے تناظر میں اس وقت ایک بنیادی مسئلہ بنیادی ضروتوں سے جڑی مہنگائی کا معاملہ ہے۔ اگرچہ مہنگائی کا مسئلہ ہمیشہ سے ہماری سیاست اور عام آدمی کے مفادات سے جڑا ہوا ہے۔ عام آدمی سمجھتا ہے کہ اس کی آمدن اور خرچ میں جو عدم توازن ہے اس کی بنیادی وجہ مہنگائی کا جن ہے جو اس کے لیے زیادہ معاشی بدحالی کے ماحول کو قائم کرتا ہے۔ یہ ہی وجہ ہے کہ کوئی بھی

Read more

کمزور اور غریب طبقہ کا تحفظ

پاکستان کی سیاسی، سماجی اور معاشی پالیسیوں سے جڑا ایک بنیادی نکتہ یا سوال معاشرے میں موجود کمزور اور غریب طبقہ کے تحفظ ہے۔ عمومی طور پر اس تحفظ کی ذمہ داری ریاست، حکومت، اداروں سمیت معاشرے میں موجود بالادست طبقات سے جڑی ہوئی ہے او ریہ عمل کمزور طبقات پر احسان نہیں بلکہ ان فریقین کی ذمہ داری کے زمرے میں آتا ہے۔ کیونکہ یہ ریاستی آئینی ذمہ داری ہے کہ ہر فرد کے بنیادی حقوق کی ضمانت ریاست

Read more

مودی حکمرانی جمہوریت کے منہ پر طمانچہ

نریندر مودی کی حکومت بھارت کی جمہوریت اور ریاست دونوں کے لیے ایک سیاسی بوجھ بن گئی ہے۔ یہ بات عالمی میڈیا سمیت خود داخلی سطح پر بھارت کے اندر سے ان آوازں میں شدت کے طور پر ابھر رہی ہے۔ بھارت کے داخلی اور خارجی دونوں محاذوں پر رائے عامہ قائم کرنے والے افراد او رادارے دونوں ہی بھارتی جمہوریت پر بنیادی نوعیت کے سوالات او رتحفظات پیش کررہے ہیں۔ اس وقت بھارت میں مجموعی طور پر مودی حکومت

Read more

سوشل میڈیا اور سماجی تبدیلی کا ایجنڈا

دنیا بھر میں سماجی، سیاسی او رمعاشی تبدیلیوں کے تناظر میں سوشل میڈیا کی اہمیت بہت بڑھ گئی ہے۔ تبدیلی سے جڑے افراد یا ادارے یا عملا رائے عامہ بنانے والے ادارے اس سوشل میڈیا کی مدد سے مختلف امور پر اثر انداز ہونے کی کوشش کرتے ہیں۔ جو کچھ سماج میں مختلف عمل کے تناظر میں ہمیں دیکھنے کومل رہا ہے اس میں سوشل میڈیا کے کردار کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ ہمارا رسمی پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا

Read more

کیا سیاسی کلچر کی تبدیلی ممکن ہوسکے گی؟

پاکستانی سیاست کا ایک بڑا مسئلہ سیاسی فریقین کے درمیان بڑھتی ہوئی محازآرائی، سیاسی تقسیم اور ایک دوسرے کے سیاسی وجود اور سیاسی عمل یا سیاسی حیثیت کو قبول نہ کرنا ہے۔ سیاست میں تنقید ایک فطری امرہے اور سیاسی فریقین اپنی داخلی سیاست سمیت سیاسی مخالفین کی مختلف سیاسی پالیسیوں کو شدید تنقید کا نشانہ بنا کر اپنا موقف پیش کرسکتے ہیں۔ لیکن سیاست میں تنقید اور تضحیک کے پہلو کے درمیان بنیادی نوعیت کا فرق ہے اور اس

Read more

ریاست کے مفادات پر مبنی سیاست

پاکستان کو ریاستی سطح پر کئی طرح کے چیلنجز کا سامنا ہے۔ ایک مسئلہ ریاست کے مفادات سے جڑا ہوتا ہے۔ ہماری سیاست اور سماج اپنی جگہ لیکن ریاست سے جڑے مفادات کی زیادہ اہمیت ہوتی ہے۔ عمومی طور پر ہم حکومت اور ریاست کے درمیان جو فرق ہوتا ہے اسے نظرانداز کرکے ایک ایسا موقف پیش کرنے کی کوشش کرتے ہیں جو ریاست کے مفادات کے لیے ٹکراؤ کا پہلو پیدا کرتا ہے۔ داخلی اور خارجی مسائل کو بنیاد

Read more

حکومتی اتحادی جماعتوں کا مسئلہ

عمران خان کی حکومت کا ایک مسئلہ یقینی طور پر اتحادی جماعتیں ہیں۔ ان میں ایم کیوایم، مسلم لیگ ق، بلوچستان میں مینگل گروپ اور سندھ میں گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس ہے۔ یہ جماعتیں وقتا فوقتا حکومت کے لیے اپنی شرائط کو سامنے رکھ کر نئی سے نئی مشکلات پیدا کرتی ہیں اور پھر کچھ لو او رکچھ دو کی بنیاد پر یا مستقبل کے وعدوں کو بنیاد بنا کر مسائل سے نمٹنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ ایک بار پھر

Read more

کیا کوئی پیپلز ایکٹ بھی بن سکے گا؟

پاکستان کی سیاست، سماجیات اور معیشت میں بنیادی کنجی عام آدمی یا کمزور طبقات کی سیاست ہے۔ کیونکہ عمومی طور پر سماج میں ریاست اور حکومتی سطح پر ہمیں ان کی پالیسیوں یا قانون سازی سمیت ان پر عملدرآمد کے نظام میں بہت زیادہ کمزوریاں دیکھنے کو ملتی ہیں۔ ایک طرف کمزور سیاسی ترجیحات تو دوسری مسائل کی درست نشاندہی اور ترجیحات کا تعین حکمرانی کے نظام میں ہمیں ایک بڑی خرابی کی صورت میں دیکھنے کو ملتا ہے۔ یہ

Read more

کیا مفاہمت کا عمل آگے بڑھ سکے گا؟

آرمی ایکٹ میں ہونے والی ترمیم کے تناظر میں حکومت اور حزب اختلاف کے درمیان ہونے والی مفاہمت کا عمل کیا مستقبل کی سیاست میں بھی آگے بڑھ سکے گا؟ سیاسی محاز آرائی او ربداعتمادی کی سیاست میں حکومت او رحزب اختلاف کا قومی مسائل پر ایک ہونا سیاسی عمل میں ایک بڑی پیش رفت سمجھا جارہا ہے۔ کیونکہ اس آرمی ایکٹ میں ہونے والی ترمیم سے پہلے دونوں فریقین حکومت او رحزب اختلاف ایک دوسرے کے سیاسی وجود کو

Read more

سیاست، جمہوریت اور انقلاب

آرمی ایکٹ میں ترمیم کے تناظر میں مسلم لیگ ن سمیت دیگر حزب اختلاف کی جماعتوں کی حمایت پر ان کو شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑرہا ہے اور اس سے اس تاثر کو اجاگر کیا جارہا ہے کہ جمہوریت کمزور ہوگئی ہے۔ سیاسی جماعتوں پر تنقید کی جارہی ہے کہ ا نہوں نے جمہوری طرز فکر کے مقابلے میں طاقت ور طبقات کا ساتھ دے کر اصولی، نظریاتی اور قانونی سیاست کو نقصان پہنچایا ہے۔ پہلی بات تو یہ

Read more

2020 کا پاکستان۔ نئے امکانات و خدشات

دنیا بھر میں بہت سے لوگ آنے والے نئے برس سے بہت سی نئی توقعات وابستہ کرکے گے بڑھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ عمومی طور پر لوگ مثبت اور منفی اشاریوں کی بنیاد پر نئے برس کا نقشہ کھینچنے کی کوشش کرتے ہیں اور بہت سے تجزیہ نگار اپنے تجزیاتی پہلو وں کی بنیاد پر ایک نیا مستقبل کا منظرنامہ سامنے لاتے ہیں۔ پاکستان کے تناظر میں 2020 کیسا ہوگا اور کیا اس میں تبدیلی یا بہتری کے تناظر میں

Read more

مکالمہ کا کلچر آگے بڑھانا ہوگا

پاکستانی قوم کا ایک بڑا مسئلہ مکالمہ کے کلچر کا فقدان ہے۔ اگرچہ یہ تسلیم کیا جاتاہے کہ ہمیں بند دروازوں کی بجائے کھلے دروازوں یا ذہن کے ساتھ مکالمہ کے کلچر کو فروغ دینا ہے۔ لیکن بدقسمتی سے اس ملک میں مکالمہ کا کلچر کمزور ہورہا ہے اور سب ہی فریقین انفرادی یا اجتماعی سطح پر مکالمہ کی بجائے اپنے خیالات، سوچ اور فکر سمیت اظہار میں تنگ نظری پیدا کرکے مکالمہ کے کلچر کو بند کرنے کا سبب

Read more

بلاول بھٹو کا سیاسی بیانیہ

پاکستان پیپلز پارٹی یقینی طور پر ایک سیاسی حقیقت ہے اور اس کی سیاست، جمہوریت کے تناظر میں سیاسی جدوجہد بھی باقی جماعتوں کے مقابلے میں قابل قدر ہے۔ پاکستانی سیاست میں اگر کسی جماعت نے سب سے زیادہ سیاسی قربانیاں دی ہیں تو اس میں بھی پیپلز پارٹی کے نام کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ ایک زمانے میں پیپلز پارٹی چاروں صوبوں میں اپنا سیاسی اثر نفوز رکھتی تھی اور چاروں صوبوں کی زنجیر کا نعرہ بھی پیپلز

Read more

احتساب کا متنازعہ عمل

پاکستان میں احتساب کا عمل ہمیشہ سے متنازعہ رہا ہے۔ سیاسی یا فوجی حکومتوں میں احتساب کے عمل کو سیاسی مخالفین کے خلاف ایک بڑے سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ یہ ہی وجہ ہے کہ کسی بھی سیاسی یا فوجی دور میں اول تو کرپٹ اور بدعنوان لوگوں کا احتساب ممکن نہیں ہوسکا اور نہ ہی یہ عمل سیاسی و قانونی نظام میں اپنی سیاسی ساکھ قائم کرسکا۔ ماضی میں نیب کے مقابلے میں پیپلز پارٹی

Read more

تصادم کی پالیسی کے ممکنہ مضمرات

پاکستان میں جمہوریت اور سیاست کے تسلسل سے آگے نہ بڑھنے کی بہت سی وجوہات میں ایک بڑ ی وجہ ریاستی و سیاسی اداروں کے درمیان محاذ آرائی اور تصادم پر مبنی پالیسی تھی۔ اس تصادم سے جڑی پالیسی کا عملی نتیجہ اداروں میں ٹکراؤ اور جمہوری عمل کی کمزوری کا سبب بنا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ماضی کی سیاسی تاریخ میں زیادہ تر واقعات سیاسی اور اسٹیبلیشمنٹ کے درمیان ٹکراوسے جڑے ہوئے ہیں۔ لیکن اس بار کچھ

Read more

نریندر مودی اور متعصب سیاست

بھارت کی موجودہ سیاسی قیادت اور بالخصوص وزیر اعظم نریندر مودی اور ان کے سخت گیر راہنما ایک ہندواتہ پر مبنی ریاست یا معاشرے کی جانب گامزن ہیں۔ موجودہ قیادت ایک ایسا بھارت چاہتی ہے جہاں ہندو بالادستی ہو اور دیگر مذاہب کے لوگوں اس بالادستی کو قبول کرکے بی جے پی یا آر ایس ایس کے نظریے کی حمایت کریں۔ حالیہ دنوں میں بھارت کی حکومت کی جانب سے متنازعہ شہریت کے قانون کی بنیاد پر یہ برملا کہا

Read more

جتھہ بردار وں کی سیاست

پاکستان میں انتہا پسندی اور دہشت گردی سمیت شدت پسندی کے خاتمہ میں ایک بڑی رکاوٹ ملک میں موجود سیاسی، سماجی او رمذہبی بنیاد پر قائم جتھہ برداروں کی حکمرانی ہے۔ یہ جتھہ بردار کسی بھی وقت مختلف طبقات او راپنی قیادت کی حمایت کے بعد جتھہ برداروں کی صورت میں ریاست، حکومت یا اداروں کی حکمرانی یا ان کی رٹ کو چیلنج کرتے ہیں۔ ان کا یہ عمل پرتشدد سیاست او راس کے مزاج کو طاقت دینے یا اس

Read more