یہ سنہ ہے 1603 اور منظر ہے سلطنتِ عثمانیہ کے سلطان احمد اول کے اقتدار کے پہلے سال میں ترک شاہی حرم کا!
یونان کے گاؤں سے سلطان کے لیے تحفے کے طور پر اغوا کر کے لائی گئی ایک دبلی پتلی سی لڑکی نئے سلطان کی دادی صفیہ سلطان کے قدموں میں گر کر گھر واپس جانے کی بھیک مانگ رہی ہے۔
صفیہ سلطان اسے بتاتی ہیں کہ اب یہ ناممکن ہے اور پھر پیار سے اس کی طرف دیکھتے ہوئے ایک مشورہ دیتی ہیں۔ ’دیکھو بیٹی،ایک عورت کو اپنی زندگی میں کئی کردار نبھانے پڑتے ہیں۔ وہ زندگی کے ہر مرحلے میں ایک مختلف انسان ہوتی ہے۔ ایک بچی، ایک عورت، ایک ماں، اور، اگر وہ سمجھدار ہے اور اس پر خدا کی مہربانی ہے تو وہ سلطانہ بھی بن سکتی ہے۔ فرق صرف اس بات سے پڑتا ہے کہ وہ خود اپنے لیے کیا انتخاب کرتی ہے۔‘
پھر صفیہ سلطان اپنی بات ختم کرتے ہوئے انستاسیا نامی اس لڑکی سے کہتی ہیں کہ ’اطمینان رکھو، تمہارا مستقبل بہت روشن ہے۔‘
یہ تو تھا انستاسیا کی زندگی پر بنی ترک ٹی وی سیریز کوسم سلطان کا ایک منظر۔ اب سلطنت عثمانیہ کے مختلف حصوں سے اغوا ہو کر اور غلام بن کر شاہی حرم میں پہنچنے والی کچھ لڑکیوں کی حقیقی زندگی پر ایک نظر ڈالتے ہیں، جن کا بعد میں شمار اپنے دور کی طاقتور ترین عالمی شخیصات میں ہوا۔
Read more