رسم دنیا، موقعہ اور دستور کو بہانہ بناکر گزشتہ ہفتے کے آغاز میں قومی اسمبلی اور سینٹ کے اجلاس بلائے گئے تھے۔ ان کے شروع ہونے سے قبل ہی اس کالم میں رائے دینے کی جسارت کی تھی کہ طلب کیے اجلاسوں میں کرونا کی وبا ہمارے نمائندہ ہونے کے دعوے داروں کی کماحقہ توجہ حاصل نہیں کرپائے گی۔ حکومتی اور اپوزیشن اراکین فقط ایک دوسرے پر کیچڑاچھالتے ہی نظر آئیں گے۔
عمران حکومت کے قیام سے قبل جو ”نظام کہنہ“ اس ملک پر مسلط رہا اس کی بدولت چند منافقانہ کلمات ہماری روزمرہ زبان کا حصہ بن گئے تھے۔ ”قومی اتفاق رائے“ ایسے کلمات میں سرفہرست رہا۔ یہ فرض کر لیا گیا کہ وطن عزیز پر جب کوئی ”بحران“ نازل ہو جائے تو باہمی اختلافات بھلاکر حکومت اور اپوزیشن اس کا مقابلہ کرنے کے لئے یکجا ہوجاتی ہیں۔ فی الفور پارلیمانی اداروں کے اجلاس منعقد ہوتے ہیں۔ اپنی تقاریر کے ذریعے ”ہمارے نمائندے“ عوام کی ”اجتماعی بصیرت“ کو ”بروئے کار“ لاتے ہوئے ”بحران“ سے نبردآزما ہونے کے لئے اتفاق رائے کی بنیاد پر کوئی ٹھوس اور جارح حکمت عملی ترتیب دینے کی کوشش کرتے ہیں۔
Read more