اسے معلوم تھا کہ وہ موت سے لڑنے جا رہی ہے۔ وہ اپنے دشمنوں سے بخوبی واقف تھی۔ اسے معلوم تھا کہ ریاست پاکستان کی ”مستقل“ مقتدر قوتیں، اپنے اقتدار کو دوام بخشنے کے لیے کسی بھی حد تک جا سکتی ہیں۔ وہ ان کی رگ رگ سے واقف تھی، اپنے باپ کی موت کے بعد سے ان کے خلاف ایک مسلسل جدوجہد کر رہی تھی کہ ”نہ ان کی رسم نئی ہے نہ اپنی ریت نئی“۔ اس کی جد و جہد تھی، اس ملک کے لیے۔ جمہوریت کے لیے۔ شخصی آزادیوں کے لیے۔ روشن خیال اور ترقی پسند سوچ کے لیے۔ ملائیت کی چھتری تلے پلنے والی آمریت سے آزادی کے لیے۔ مظلوموں کے لیے۔ مزدور اور کسان کے لیے۔ عوام کے حق حکمرانی کے لیے۔ یعنی میرے لیے۔ اور آپ کے لیے۔
اسے علم تھا کہ پاکستان جیسے ملک میں یہ لڑائی آسان نہیں ہے۔ حریف نا صرف بہت طاقتور ہے، بلکہ بے رحم بھی۔ منافقت اور پروپیگنڈا اس کا خاص ہتھیار ہے۔ اسی ہتھیار کا سہارا لے کر جب چاہتا ہے، اسلام کا لبادہ اوڑھ لیتا ہے۔ اور جہاد کے پر فریب نعرے کے ذریعے عوام کے مذہبی جذبات کو اپنے حق میں استعمال کرتا ہے۔ چاہے اس کے لیے اپنے معصوم ذہن نوجوانوں کو ”شہادت“ کی بھینٹ چڑھانا پڑے۔ چاہے اس کے لیے عدم برداشت اور مذہبی منافرت کے بیج بونے پڑیں۔ اور جب ضرورت پڑتی ہے تو بغل میں کتے دابے، روشن خیالی کا چورن بیچنا شروع کر دیتا ہے۔ دو دہائیوں سے بنائے گئے نام نہاد ہیرو ایک پل میں ولن قرار دے سکتا ہے۔ مقصد صرف اپنے اقتدار کو دوام بخشنا، عوام چاہے جئیں یا مریں، اس کی صحت پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔
Read more