ہم میں سے وہ لوگ جنہوں نے سرکاری سکول یا کالج سے تعلیم حاصل کی اور میٹرک یا ایف، ایس، سی میں سائنس پڑھی ہوگی، وہ اس بات سے بخوبی واقف ہوں گے کہ سائنس کے مضامین کو پڑھانے کے ساتھ ساتھ ایک فرسودہ سی تجربہ گاہ میں برائے نام تجربے بھی کروائے جاتے تھے اور پھر سالانہ امتحانات میں پریکٹیکل کے امتحان کا ڈھونگ بھی رچایا جاتا تھا۔ جسے پاس کرنا لازم ہوتا تھا۔ ہم چونکہ ایک ایوریج سٹوڈنٹ ہوا کرتے تھے لہذا اکثر اوقات یہ پیریڈ انجوائے کرتے، اس کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہوتی تھی کہ ہمارے ہاں اکثر سکولوں کی لیبارٹریز میں تجربے کرنے کے لئے سامان ضرورت سے کم ہوتا تھا اور جب تک ہماری باری آتی پیریڈ کا وقت ختم ہوچکا ہوتا اور ہم واپس اپنی کلاس میں پہنچ جاتے۔
لیکن سالانہ امتحانات میں کسی کی سفارش ہوتی تو پریکٹیکل میں بہتر نمبر مل جاتے ورنہ ایوریج نمبر سب کو ملتے تھے اور یوں سرٹیفیکیٹ کی شکل کچھ ہوجاتی۔ لیکن اگر آپ غور کریں تو سائنسی مضامین میں جو فارمولے اور تھیوری کوئی تین دہائیاں پہلے یعنی ہمارے زمانے میں پڑھائی گئی تھی، سلیبس آج بھی وہی ہے اور جہاں تک مجھے یاد پڑتا ہے ہمارے اساتذہ نے بھی وہی پڑھا تھا اور آج ہمارے بچوں کو بھی وہی کچھ پڑھایا جا رہا ہے اور تجربہ گاہوں میں وہی تجربات کروائے جاتے ہیں۔
Read more