انڈین کپتان کے ہاتھوں جنگی قیدی بننے والا پائلٹ جو پاکستانی فضائیہ کا سربراہ بنا
پرویز قریشی مہدی سنہ 1971 کی جنگ کے پہلے جنگی قیدی تھے اور انھیں فور سکھ رجمنٹ کے کیپٹن ایچ ایس پناگ نے جنگی قیدی بنایا تھا۔
Read moreپرویز قریشی مہدی سنہ 1971 کی جنگ کے پہلے جنگی قیدی تھے اور انھیں فور سکھ رجمنٹ کے کیپٹن ایچ ایس پناگ نے جنگی قیدی بنایا تھا۔
Read moreسنہ 2007 میں جب سابق وزیر اعظم بینظیر بھٹو نو سالہ خودساختہ جلاوطنی ختم کر کے پاکستان آئیں تو کراچی میں ایک استقبالیہ ریلی میں ان پر حملہ کیا گیا۔ اس واقعے کی کوریج کرنے والے صحافیوں نے اس روز کیا دیکھا؟
Read moreآنے والے دنوں میں یہ بحث ہوتی رہے گی کہ گوجرانوالہ کے احتجاجی جلسہ میں کتنے لوگ تھے۔ یہ لوگوں کا سمندر تھا یا گیارہ جماعتیں مل کر بھی چند ہزارسے زیادہ لوگ اکٹھے نہیں کرسکیں۔ تاہم اس جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے سابق وزیر اعظم اور مسلم لیگ (ن) کے تاحیات قائد نواز شریف نے پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ اور آئی ایس آئی کے ڈی جی لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کا نام لے کر سیاسی
Read more’ہمدرد فاؤنڈیشن پاکستان‘ کے بانی سربراہ، ممتاز سماجی شخصیت، سیاستدان اور پاکستان کے نامور طبیب حکیم محمد سعید 17 اکتوبر 1998 کو ایک حملے میں ہلاکت کے بعد مدینہ الحکمت میں دفن کر دیے گئے مگر اُن کے قتل سے متعلق شکوک و شبہات کبھی دفن نہیں ہو سکے۔
Read moreپاکستان کی حزبِ اختلاف کی 11 جماعتوں کے اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈٰی ایم) کے زیر اہتمام پہلا جلسہ پنجاب کے وسطی شہر گوجرانوالہ میں ہوا۔
گوجرانوالہ کے جناح اسٹیڈیم میں ہونے والے جلسے میں اتحاد میں شامل جماعتوں کے رہنماؤں نے عوامی مسائل اور معاشی صورتِ حال پر حکومت کی پالیسیوں پر تنقید کی۔
Read moreساٹھ کی دہائی میں صدر ایوب خان کا امریکہ میں زبردست استقبال دراصل امریکہ کی اس خطے میں سرد جنگ کی پالیسی کا حصہ تھا جس میں چاہے کوئی فوجی آمر ہو یا مطلق العنان بادشاہ، اگر وہ کمیونزم کے خلاف ہے تو وہ امریکی اتحادی ہوگا۔
Read more”دیکھو دیکھو کون آیا، شیر آیا شیر آیا“۔ یہ وہ نعرہ ہے، جو مسلم لیگ نون کے جلسوں میں اس وقت گونجتے ہیں، جب نواز شریف اسٹیج پہ خطاب کے لیے آتے ہیں۔ تین مرتبہ وزیر اعظم بننے والے میاں نواز شریف کی سیاسی کیریئر پہ نظر دوڑائیں، تو ایک طرف ہمیں وہ دن یاد آتے ہیں، جب نواز شریف ایک فوجی آمر جنرل ضیا الحق کو کروٹ کروٹ جنت نصیب کرنے کی دعا دیتے ہیں اور دوسری طرف ایک اور فوجی جنرل پرویز مشرف کو قاتل اور غدار کہتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔
نواز شریف کو جب پاناما لیکس کے مقدمے میں، اقامہ کا ذائقہ ڈال کر اقتدار سے ہٹایا گیا، تو اس وقت نواز شریف نے مریم نواز شریف کے ساتھ ”ووٹ کو عزت دو“ کا نعرہ بلند کر کے اصلی شیر بننے کی کوشش کی۔ ان کی بیٹی مریم نواز شریف سوشل میڈیا پہ کافی متحرک نظر آنے لگیں اور بلاول بھٹو اور دوسرے سیاستدانوں کے ساتھ مل کر اپوزیشن کو متحرک و منظم کیا۔
Read moreبرصغیر میں برطانوی استعماریت کے اثرات تقسیم ہند کے بعد بھی باقی ہیں۔ اس خطے پر حکومت کرنے کے لیے انگریزوں نے جرنیلی طرز حکمرانی اپنایا، برطانوی سرکار نے ہندستان میں جنگ پلاسی کے بعد میجر جنرل رابرٹ کلائیو کو پہلا سیاسی حکمران بنایا۔ بنگال، کلکتہ، بہار اور اڑیسہ میں دیوانی کے اختیارات حاصل کرنے کے معاہدے پر دستخط بھی جرنیلی حکمران نے کیے۔ 1857 ء کی جنگ کے بعد صوبوں میں گورنری کے عہدوں پر بھی انگریز نے فوجی جرنیلوں کو تعینات کیا۔
برطانیہ کے سرکاری نیشنل آرمی میوزیم کے آرکائیوز میں کلائیو کو بے رحم فوجی کمانڈر، لالچی، قیاس آرائی کرنے والا اور سامراجی سیاست دان کہا گیا ہے۔ انگریز سرکار نے جمہور اور سیاست کو کنٹرول کرنے کے لیے ہندوستان میں فوجی اور بیوروکریسی کا مضبوط ڈھانچا تشکیل دیا تھا۔ جب تک یہ ڈھانچا طاقت ور نہیں ہوا، انگریز سرکار نے اس خطے میں جمہوریت کا تصور پنپنے نہیں دیا۔ تقسیم ہند کے بعد، برطانیہ کی تربیت یافتہ سول بیوروکریسی اور عسکری بیوروکریسی نے پاکستان پر نو آبادیاتی تسلسل کو قائم رکھنے میں اسی ڈھانچے سے مدد حاصل کی۔ سات اکتوبر کا روز انتہائی خاموشی سے گزر گیا، حالاں کہ یہ دن پاکستان کی سیاسی تاریخ میں ان مٹ نقوش رکھتا ہے، جب ملک میں پہلا مارشل لا نافذ ہوا۔
Read more12 اکتوبر 1999 ویسے تو پاکستانی تاریخ کا سیاہ باب ہے، لیکن یہ دن ہمارے ذہن پر ان گنت نقوش چھوڑ کر گیا۔ اس دن نے مجھے سیاسی سوچ دی جو اب تک میرے ساتھ ہے اور مرنے تک رہے گی۔ شکریہ جنرل (ر) پرویز مشرف اور ان کے رفقاء کا جنھوں نے میرے ذہن کو سیاسی طور پر اتنا پختہ کیا کہ میں آئین کو اس ملک کی سب سے مقدس دستاویز سمجھنے لگا۔ اس دن کی روداد یہ
Read moreیہ بات تو پاکستان میں طے ہے کہ عوام کی رائے سے خواہ کوئی بھی حکومت تشکیل پا جائے، حتیٰ کہ کوئی ایسی خوش قسمت حکومت ہی کیوں نہ ہو، جس کو 100 فی صد نشستیں ہی کیوں نہ حاصل ہو جائیں، وہ اس ملک میں کسی بھی قسم کی کوئی تبدیلی برپا نہیں کر سکتی۔ ویسے بھی ہماری اسمبلیاں ہوں یا نام نہاد سینیٹ، ان کا قانونی دائرہء عمل فقط قانون سازی ہی ہے۔ بے شک انھوں نے غیر علانیہ طور پر کچھ ایسے بھی اختیارات حاصل کر لئے، جس کی بنیاد پر وہ ترقیاتی فنڈز پر بھی قابض ہو گئے ہیں، لیکن اصولی طور پر یہ دونوں ادارے ”مقننہ“ ہی کہلاتے ہیں۔
ترقیاتی فنڈ پر اختیار، مقامی حکومتوں کے ہوا کرتے ہیں لیکن بد قسمتی سے ایوب خان کے بی ڈی سسٹم اور پرویز مشرف کے دور میں دو مرتبہ بنائی جانے والی مقامی حکومتوں کے علاوہ کبھی ایسا ہوا ہی نہیں کہ ترقیاتی فنڈ کبھی گراس روٹ لیول تک منتقل ہوئے ہوں۔ کوئی صوبائی حکومت ہو یا وفاقی، اس نے یہ چاہا ہی نہیں کہ صوبائی اور قومی اسمبلیوں کے ہاتھوں سے یہ فنڈ نکل کر یونین کونسلوں تک کی سطح تک منتقل ہو جائیں۔
Read moreمرتضیٰ سولنگی مجھے بہت عزیز ہے۔ زندگی کے کئی برس موصوف نے ریڈیو کے ذریعے عوام سے رابطے کا ہنر سیکھنے کی نذر کئے ہیں۔ ’’وائس آف امریکہ‘‘ کے لئے واشنگٹن میں رہتے ہوئے اپنی صلاحیتوں کو نکھارا۔ محترمہ بے نظیر بھٹو کی خواہش تھی کہ وہ پاکستان لوٹ ا ٓئیں۔ وہ اس جہاں میں نہ رہیں لیکن آصف علی زرداری کو ان کی خواہش یاد رہی۔ 2008کے انتخابات کے بعد پیپلز پارٹی کی حکومت قائم ہوئی تو انہیں ریڈیو
Read more”یہ 2017 ء میں آج کے دن“ نوائے وقت ”میں شائع ہونے والا کالم ہے، جس میں جنرل شاہد عزیز نے راولپنڈی میں رد انقلاب کی سنسنی خیز کہانی سنائی تھی۔ جنرل شاہد عزیز مدتوں سے لاپتا ہیں۔ کہتے ہیں کہ وہ افغانستان میں امریکی فوج سے لڑتے ہوئے ڈرون حملے میں شہید ہوئے۔“
کامل 18 برس بیت چکے ہیں، 12 اکتوبر 99 ء سے 12 اکتوبر 2017 ء تک طویل سفر تمام ہوا۔ لیکن المیہ ڈراما ختم ہونے کا نام نہیں لے رہا۔ لگائے ہوئے زخم، ہنوز ہرے ہیں۔ بہت سے کردار منظر سے ہمیشہ کے لئے محو ہو چکے ہیں، لیکن اس المیے اور طربیہ، سنسنی خیز ڈرامے کا مرکزی کردار جناب نواز شریف، آج بھی پوری طرح بروئے کار ہے۔ وہ جرنیل مشرف، ٹھمکے لگاتا، دادرے اور ٹھمریاں گاتا، چہار دانگ عالم میں پاک فوج اور پاکستان کا نام روشن کر رہا ہے۔
Read moreآرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے گزشتہ روز کاکول میں کیڈیٹس کی پاسنگ آؤٹ پریڈ سے خطاب کرتے ہوئے متعدد اہم باتیں کہی ہیں تاہم ان میں سے ایک بات پر اتفاق رائے کے باوجود پوچھنا پڑے گا کہ اگر آئین ملک کے تمام معاملات کی رہنمائی کرنے والی ایسی دستاویز ہے جس پر سب متفق ہیں تو قومی مفاد سے کیا مراد لی جائے گی۔ ماضی میں قومی مفاد کی اصطلاح عوامی حقوق پر ڈاکہ ڈالتے ہوئے متعدد
Read moreاسلام آباد۔ پاکستان میں 12 اکتوبر 1999 کی فوجی بغاوت اس وقت ہوئی جب اہم ترین خفیہ ادارے انٹر سروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) کے اس وقت کے ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) لیفٹیننٹ جنرل خواجہ ضیا الدین بٹ کو وزیر اعظم نواز شریف نے چیف آف آرمی اسٹاف مقرر کیا۔
Read moreمجھے اچھی طرح یاد ہے کہ 12 اکتوبر 1999 ء دن پانچ بجے کے قریب پاکستان ٹیلی ویژن کی نشریات رک گئی۔ سکرینوں پر سیاہ دھبے نمودار ہو گئے۔ لینڈ لائن نمبر بند ہو گئے۔ ہر کوئی اپنی ذہنی بساط کے مطابق تبصرے کر رہا تھا۔ کسی عقل مند نے کہا میرا قیاس ہے، پرویز مشرف نے نواز شریف حکومت کو فتح کر لیا ہو گا۔ ایک اور شخص بولا ابھی چند دن قبل کی بات ہے کہ پرنٹ میڈیا میں سپہ سالار نے منتخب جمہوری حکومت کی آئین اور قانون کے اندر رہتے ہوئے مدد کرنے کے حق میں بیان دیا تھا۔ انتظار طویل ہوتا گیا۔ نصف شب کے قریب ٹیلی ویژن کی سکرینوں سے سیاہ دھبے چھٹے اور اعلان ہوا کہ نواز شریف کی حکومت بر طرف کر دی گئی ہے۔ سپہ سالار پرویز مشرف نے اقتدار سنبھال لیا ہے۔ نواز شریف کو حفاظتی تحویل میں لے لیا گیا۔ پرویز مشرف تھوڑی دیر میں قوم کو اعتماد میں لیں گے۔
رات اڑھائی بجے، پرویز مشرف دو عدد کتوں کو ہاتھوں میں تھامے ٹی وی پر آئے اور قوم سے انگریزی میں خطاب کرتے ہوئے کہا، میرے عزیز ہم وطنو، فوج کا سیاست میں آنے کا کوئی ارادہ نہیں تھا۔ نواز شریف کی پالیسیوں کی وجہ سے ملکی سلامتی داؤ پر لگی ہوئی تھی۔ مجھے بادل نخواستہ یہ قدم، پاکستان اور خصوصاً پاکستان کی فوج کو بچانے کے لیے اٹھانا پڑا۔
Read moreکسی سنسنی خیز فلم کی طرح دیکھنے والے کے اعصاب کو مسلسل تناؤ میں رکھنے والے اُن واقعات کا آغاز شام پانچ بجے ٹیلی ویژن کے ایک خصوصی نیوز بلیٹن سے ہوا اور یہ فلم اس وقت نقطہ عروج پر پہنچی جب جنرل پرویز مشرف کیمرے کے سامنے آئے۔
Read moreکچھ مہینے پہلے کورونا وائرس کی آفت نے اقوام عالم میں سراسیمگی پھیلا دی تھی۔ رحمت خداوندی سے پاکستان اس آفت سے قدرے محفوظ رہا اور دنیا کے دیگر ممالک کی نسبت ہم ابتر صورتحال کا شکار ہونے سے بچ گئے۔ حکومت اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے خراب معیشت کو بہتر کرنے پر توجہ دے سکتی تھی مگر حکومتی اکابرین نے شاید تہیہ کیا ہوا ہے کہ عوام کو رلانا ہے۔ کورونا وائرس سے تو قوم بچ گئی مگر حکمرانوں کے ”بونگونا“ وائرس سے بچنا بہت مشکل لگ رہا ہے۔ وزرا کے بیانات ہوں یا وزیراعظم کا خطاب، گمان یوں ہوتا ہے کہ متانت و وقار انھیں چھو کر بھی نہیں گزرا۔
Read moreعطا آباد جھیل جون 2010ء میں دیوقامت پہاڑوں کے لینڈ سلائیڈنگ کے نتیجے میں دریائے ہنزہ کا راستہ رکنے سے وجود میں آئی۔ یہ پہاڑ 2002ء کے زلزلے کے نتیجے میں مخدوش ہو گئے تھے اور ہزاروں ٹن وزنی چٹانوں کی مسلسل ٹوٹ پھوٹ کی خبروں کے باوجود کسی کو ممکنہ سانحے کی روک تھام کا دماغ نہیں تھا۔ پرویز مشرف حکومت قاف لیگ بنا رہی تھی، پیپلز پارٹی کے "محب وطن” ارکان پارلیمنٹ کی غیرت جگا رہی تھی۔ کچھ
Read moreمیں سکول کا طالب علم تھا کہ عمران خان کی قیادت میں سینیئر کھلاڑیوں نے جاوید میانداد کی کپتانی کے خلاف بغاوت کی تھی اور کچھ دنوں بعد عمران خان بذات خود ٹیم کے کپتان بن گئے تھے، مجھے وہ بھی یاد تھا۔ انیس سو بانوے میں جاوید میانداد، انضمام الحق، وسیم اکرم اور عاقب جاوید کی بہترین پرفارمنس کی وجہ سے پاکستان کرکٹ کا ورلڈ کپ جیت گیا تھا اور ٹیم کا کپتان عمران خان ورلڈکپ اٹھانے آیا تو
Read more’خدانخواستہ فوج کمزور ہوئی تو پاکستان بھی شام، لیبیا، عراق، صومالیہ بن سکتا ہے۔ یہ فوج ہی ہے جس نے اس ملک کو متحد رکھا ہوا ہے۔‘ گرامر کے اعتبار سے یہ جملہ بالکل درست ہے مگر کیا حقائق کے اعتبار سے بھی مستند ہے؟ پڑھیے وسعت اللہ خان کا کالم بات سے بات۔
Read moreاپوزیشن نے اکتوبر کے مہینے میں جلسوں اور اس کے بعد ریلی کا اعلان کیا تو اکتوبر کے مہینے میں رونما ہونے والے سیاسی واقعات یاد آنے لگے۔ اس لیے سوچا آپ سے بھی شیئر کر دوں۔ اکتوبر کا مہینہ پاکستان کی سیاسی اور تاریخی اعتبار سے ایک خاص اہمیت کا حامل ہے۔ 27 اکتوبر 1947 ء کو انڈیا کی افواج پہلی مرتبہ کشمیر میں داخل ہوئیں۔ نواب زادہ لیاقت علی خان جو کہ اکتوبر 1895 ء میں پیدا ہوئے اور پاکستان کے پہلے وزیر اعظم بنے، ان کو اکتوبر ہی کی 16 تاریخ کو 1951 میں شہید کیا گیا۔
انہیں قائد ملت اور شہید ملت کے خطابات سے یاد کیا جاتا ہے۔ اگلے دن یعنی 17 اکتوبر 1951 کو ان کی جگہ خواجہ نظام الدین وزیر اعظم اور ملک غلام محمد گورنر جنرل بن گئے۔ اور 24 اکتوبر کو گورنر جنرل غلام محمد نے پاکستان کی قومی اسمبلی برخاست کر دی۔ 6 اکتوبر 1955 ء کو غلام محمد کا استعفی قبول ہوا اور ان کی جگہ سکندر مرزا نے سنبھال لی۔
Read moreشیخ رشید احمد نے اپنی یادداشتوں پر مبنی کتاب ’لال حویلی سے اقوام متحدہ تک فرزند پاکستان شیخ رشید احمد کے پچاس سال‘ میں پیپلز پارٹی کی قیادت سے تعلقات اور اختلافات کے بارے میں تفصیل سے لکھا ہے۔
Read moreجرنیل ایسے بھی ہوتے ہیں۔
جنرل مظفر حسین عثمانی جیسے، درویش صفت صوفی منش اور بے ریا، کہ جب وقت آخر بلاوا آیا تو دوچار سال پرانی نہیں 35 سال پرانی مزدا پر خود ڈرائیو کر رہے تھے بلاوے کا احساس ہوا تو گاڑی بمشکل ٹریفک کے بہاؤ سے نکال کر سڑک کنارے لا سکے اور جان، جان آفرین کے سپرد کردی، جنرل عثمانی، فوج کے ڈپٹی چیف آف دی آرمی سٹاف تھے چار ستارہ، مکمل جرنیل لیکن ایسے دیانت دار کہ 35 برس پرانی مزدا کار خود چلاتے اسے روزانہ مرمت کراتے رہے، اپنے مالک کی رضا پر راضی پہ رضا رہتے چونکہ حال مست صوفی تھے اس لیے ہمارے ذرائع ابلاغ نے بھی زیادہ توجہ دینا ضروری نہیں سمجھا، یہ دوسرا کالم بھی ’ہم سب‘ میں ہی شائع ہو رہا ہے ویسے بھی جنرل ایم ایچ عثمانی ساری زندگی ذرائع ابلاغ سے پرے پرے دور دور رہے۔
Read moreسابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے دریافت کیا ہے کہ انہیں بتایا جائے کہ ’حب الوطنی‘ کے سرٹیفکیٹ کہاں سے ملتے ہیں۔ وہ اگرچہ ملک کے وزیر اعظم رہ چکے ہیں تاہم وہ بھی یہ سرٹیفکیٹ لینا چاہیں گے۔ انہوں نے یہ بات گزشتہ چند روز کے دوران نواز شریف کو ملک دشمن اور بھارتی ایجنڈے پر گامزن قرار دینے کے تناظر میں شاید استہزائیہ انداز میں پوچھی ہے۔ لیکن اگر سنجیدگی سے اس معاملہ پر غور کیا جائے
Read moreمیں ٹی وی بالکل نہیں دیکھتا ٹی وی سے کوسوں دور کتابوں کی دنیا میں مگن رہتا ہوں۔ کتاب ہاتھ میں لے کر پڑھنے کا جو لطف ملتا ہے وہ پی ڈی ایف فائلز میں کہاں؟ میری صبح کا آغاز اخبارات پڑھنے سے ہوتا اخبارات کا فرنٹ اور بیک صفحات کے علاوہ چند کالم نگاروں کو پڑھتا ہوں۔ 6 اکتوبر کی صبح اخبارات کھولے اردو انگریزی اخبارات کے فرنٹ پیج پر سرخیاں چنگھاڑ رہی تھی کہ سابق وزیراعظم میاں نواز شریف سمیت درجنوں افراد پر ملک دشمن ہونے پر ایف آئی آر کاٹ لی گئی۔ ایف آئی آر کسی بدر رشید نامی بندے کی مدعیت میں کاٹی گئی۔
پرلے روز ایف آئی آر کی کاپی مجھ تک پہنچی تو پڑھنے پر معلوم ہوا کہ ایف آئی آر میں آزاد کشمیر کے وزیراعظم راجہ فاروق حیدر، سابق وزیراعظم شاید خاقان عباسی، پرویز رشید اور ممتاز دانشور عرفان صدیقی کے علاوہ تین سابق جرنیل بھی شامل ہیں۔
Read moreیار، ایک حسرت رہ گئی، یہ جینٹل مین بسم اللہ والے کرنل اشفاق تھے۔ انھوں نے اپنی حسرت کو یاد کیا اور مجھے اس دن کی یاد آئی جب ظہر کی نماز کے بعد مسجد سے میرا نکلنا تھوڑا مشکل ہو گیا تھا۔ پیش امام نے السلام علیکم و رحمتہ اللہ کہہ کر نماز مکمل کی تو میں نے پلٹ کر دیکھا، تین ستاروں والی وردی میں ملبوس ایک بزرگ عین میرے پیچھے مصروف نماز تھے۔ کچھ دیر میں نے
Read moreاس سے قطع نظر کہ میاں نواز شریف کا حالیہ بیانیہ کس حد تک خطرناک ہے۔ آیا اس سے ریاست کے اندر ایک نیا مناقشہ اورتصادم شروع ہو گا جس کا نتیجہ ایک اور ڈائریکٹ کنٹرول کی صورت میں نکل سکتا ہے یا وہ اپنے مقصد میں کامیاب ہو جائیں گے۔ اس کا انحصار میاں صاحب کی قوت ارادی اور دیگرسیاسی قوتوں کے رویہ پر ہوگا۔ غالباً یہ پاکستان کی تاریخ میں پہلا موقع ہے کہ پنجاب سے ایک مقبول
Read more28 مئی 2007ء
پھر گئے دور کی ابتدا ہو گئی
کل مرے شہر میں انتہا ہو گئی
آج ’ایس ایم ایس‘ میں آنے والی نظم کا یہ آخری شعر میرے دماغ میں پھنس کر رہ گیا ہے۔ 12 مئی کو جو کچھ ہوا، وہ واقعی انتہا تھی۔ موت کا کھیل کھلے عام سڑکوں پر کھیلا جا رہا تھا اور کرکٹ میچ کی طرح ٹی وی چینلوں پر براہء راست دکھایا جا رہا تھا۔ جانے کون جیت رہا تھا، لیکن لوگ جانیں ہار رہے تھے۔ یہ سب ریاست کے سب سے بڑے شہر میں ہو رہا تھا۔ ریاست جانے کہاں تھی، فریق تھی یا تماشائی۔ اسلحہ بردار لڑکے پورے اطمینان سے گنیں لوڈ کرتے، پھر تاک تاک کر نشانہ لیتے۔
Read moreملک نظریات، فکری سمت اور آئین کی بالادستی سے ترقی کرتے ہیں۔ وطن پاک میں اقتدار میں رہنے والی سیاسی جماعتوں اور غیر منتخب قوتوں نے ہمیشہ ڈنگ ٹپاؤ پالیسی سے کام چلانے کی کوشش کی ہے۔ موجودہ حکومت بھی سابقین کے نقش قدم پر کسی فکر، سیاسی و معاشی نظام اور نظریات کی بجائے این جی اوز کی طرز پر پراجیکٹ بنا کر عوام کو لالی پاپ دینے میں مصروف کار ہے۔ جس کے نتائج جنرل پرویز مشرف کی غیر آئینی اور غیر قانونی حکومت سمیت نواز شریف اور پیپلز پارٹی کی حکومتوں سے مختلف بر آمد نہیں ہوں گے۔
حکمران جماعت اور ان کے اتحادیوں کی اب تک کی دو سالہ کارکردگی اس امر کا بین ثبوت ہے کہ حکومت کیا کر رہی ہے۔ یہ کوئی پہلی حکومت نہیں ہے، جس کو نا اہل، کرپٹ اور عوام دشمن قرار دیا جا رہا ہے۔ اقتدار سے باہر رہ جانے والے اقتدار کے پجاریوں کا ہر حکومت کے بارے میں یہی رویہ ہوتا ہے۔
Read moreمیں آپ کو جبین سیاست پر داغ رسوائی کہوں گا نہ ہی سیاسی شعبدہ بازاور مقتدر حلقوں کا خایہ بردار۔ سیاسی نجومی قرار دوں گا نہ ہی ابن الوقت۔ میں تو اس الزام سے بھی متفق نہیں کہ آپ چڑھتے سورج کے پجاری ہیں اورآپ کا محور سیاست ذاتی مفاد ہے۔ آپ ہمیشہ اسی حاکم وقت کی قصیدہ گوئی میں رطلب اللسان رہے جس کا آفتاب اقتدار سیاسی افق پر جھلملاتا رہا۔ آپ نے اصغر خان جیسے اصول پسند سیاستدان کو اپنا امام سیاست تسلیم کیامگر یہ سیاسی رفاقت قطرہ شبنم سے بھی زیادہ ناپائیدار ثابت ہوئی اور آپ ان کے آبگینہ اعتبار کو چورچور کرکے راہی اقلیم جفا ہوئے۔
وادی سیاست میں پرخار روش کی بجائے آپ نے اس ڈگر کا انتخاب کیا جو اقتدار کی غلام گردشوں سے ہمکنار ہوئی۔ آپ نواز شریف کے حلقہ ارادت میں آئے ان کی سیاسی معیت میں آپ کو اورنگ وزارت نصیب ہوا اور جب تک آپ سائبان حکمرانی کی نرم چھاؤں میں رہے آپ سابق وزیراعظم کے گن گاتے رہے ان کی تعریفوں کے ایسے پل باندھے جس کی گواہ آج بھی آپ کی اپنی سرگزشت ”فرزند پاکستان“ ہے۔ نواز شریف کا قافلہ سیاست کوچہ اقتدار سے نکل کر سوئے دار آیاتو قید وبند اور زندان کی بجائے آپ کی ناقہ بے زمام جنرل (ر) پرویز مشرف کی چراگاہ میں سیر ہونے لگی۔
Read moreپاکستان کے سابق وزیر اعظم نواز شریف کے حالیہ بیانات سے حکومتی اور سیاسی حلقوں میں ایک نئی بحث شروع ہو گئی ہے جس کے بعد عمران خان کے ایک انٹرویو نے اس بحث کو مزید پروان چڑھا دیا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ایسی صورت حال میں حکومت اور حزب اختلاف کی سیاسی جماعتوں کو احتیاط سے کام لینا چاہیے۔ کیوں کہ ٹکراؤ کی صورت میں نقصان پاکستان کا ہی ہو گا۔
غدار بنانے اور جمع کرنے میں اہل پاکستان اپنا ثانی نہیں رکھتے۔ گزشتہ روز ایک ٹی وی انٹرویو میں وزیر اعظم عمران خان نے تین بار ملک کے وزیر اعظم رہنے والے نواز شریف کو بھارتی سرپرستی میں پاکستانی فوج کے خلاف پروپیگنڈا مہم کا ذمہ دار قرار دیا ہے۔ نواز شریف کے پے در پے بیانات اور سیاسی طور سے متحرک ہونے پر عمران خان اور حکومت کی پریشانی قابل فہم ہے لیکن سیاسی دباؤ میں کسی بھی وزیر
Read moreمیری عمر اس وقت پچاس سال سے اوپر ہے، میں نے یہاں ہر شے بدلتے دیکھی، آئین بدلے، قانون بدلے، حکومتیں بدلیں، پارٹیاں بدلیں، نظریات و خیالات بدلے، روایات بدلیں، رجحانات بدلے، کھانے پینے کے انداز بدلے، پہناوے بدلے، قصبے، گاؤں اور شہر بدلے، گلیاں، محلے اور شاہراہیں بدلیں، موسم کے رنگ ڈھنگ بدلے، ندی نالوں اور دریاؤں نے راستے بدلے، علاقائی نقشے بدلے، دوست دشمن بدلے، پہاڑوں نے رنگت بدل لی اور تو اور مجھے لگتا ہے آسمان میں ستاروں نے جگہیں تک بدل ڈالیں لیکن میں نے ایک چیز کو بدلتے نہیں دیکھا اور وہ ہے اس مملکت پاکستان کا نظام۔
آپ کراچی سے طور خم تک اور کوئٹہ کے باب دوستی سے خنجراب تک کسی بھی شخص سے پوچھ لیں جس نے چار پانچ دہائیاں یہاں بسر کی ہیں وہ میرے ایک ایک لفظ کی تصدیق کرے گا۔ چینیوں کی ترقی کی مثال آپ کو گھسی پٹی لگتی ہے تو چلیں اپنے سابقہ ہم وطن بھائیوں کی بات کر لیتے ہیں۔ صرف پانچ دہائیوں پہلے ہمارے بطن سے الگ ہونے والے کالے کلوٹے، کاہل اور ناٹے بنگلہ دیشی آج ہمارا مذاق اڑا رہے ہیں۔ ہم سے معیشت میں آگے، کرنسی ویلیو میں آگے، برآمدات میں آگے اور جمہوری اقدار میں بھی ہم سے بہت آگے نکل چکے۔
Read moreآل پارٹیز کانفرنس کے انعقاد نے قومی سیاست کے ماحول کو گرما دیا ہے۔ اس پر نواز شریف کی تقریر نے دو آتشہ کا کام انجام دیا ہے۔ سیاست کی یہ صورتحال یقیناً ایک غیر معمولی اہمیت کی حامل ہے۔ ستر کی دہائی کے بعد غالباً آج سیاست پھر ایک بنیادی نکتہ پر مرتکز ہے۔ ستر کی دہائی میں ایک جانب اختیارات اور وسائل پر قابض جاگیرداروں اور سرمایہ داروں تھے اور دوسری جانب استحصال زدہ طبقات۔ مگر آج سیاست کا بنیادی نکتہ حقیقی سیاسی اور جمہوری اقدار کے تعین کا ہے۔
حزب اختلاف کا اصرار ہے کہ اقتدار منتخب نمائندوں کے پاس بلا شرکت غیرے ہونا چاہیے، مگر حکومت اور اس کے اتحادیوں کا فرمانا ہے کہ حزب اختلاف اپنی بدعنوانیوں کو بچانے کے لئے تحریک انصاف کی حکومت اور اداروں کے خلاف ہے۔ آل پارٹیز کانفرنس کے خاتمے کے بعد حکومت نے ترجمانوں کے نام پر جو بھان متی کا کنبہ اکٹھا کر رکھا ہے، اس کی چیخ و پکار دیدنی تھی، مگر سب سے بڑھ کر وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید جن پر آتشؔ کا یہ شعر صادق آتا ہے کہ :
Read moreجناب نواز شریف ایک ایک لفظ تول تول کر بول رہے ہیں وہ عالمی سطح پر اپنے آپ کو ”قابل استعمال“ ثابت کرنے کے لئے سرتوڑ کوشش کر رہے ہیں اور میزائل بنانے ’بیک انجینئرنگ‘ کرنے والے انکشافات کیے جا رہے ہیں
Read moreپاکستان میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) نے تمام لائسنس یافتہ ٹی وی چینلز کو ہدایت کی ہے کہ وہ سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف کی تقریر کو نشر نہ کریں۔
Read moreکیا یہ محض اتفاق ہے کہ جوں جوں موجودہ نظام حکومت اور سیاست میں فوج کی مداخلت کے خلاف نواز شریف کا لب و لہجہ سخت ہورہا ہے، اسی کے ساتھ ملک میں ’احتساب‘ کا نظام اور عدالتیں بھی مستعد اور چوکنا ہوگئی ہیں۔ روزانہ کی بنیاد پر شریف خاندان کے خلاف اقدامات کا سلسلہ جاری ہے۔ عمران خان کی صدارت میں وفاقی کابینہ نے نواز شریف کو لندن سے واپس لانے کے لئے ایف آئی اے اور وزارت خارجہ
Read moreپاکستان میں حالیہ چند روز سے اپوزیشن کی سیاسی جماعتوں اور ملک کی طاقت ور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان اہم قومی اور سیاسی معاملات، تجزیہ کاروں کے مطابق، خلیج مزید گہری ہوتی جا رہی ہے۔
اپوزیشن کی آل پارٹیز کانفرنس میں سابق صدر آصف زرداری اور سابق وزیراعظم نواز شریف کے سخت موقف نے جہاں ملکی سیاست میں بڑی ہلچل پیدا کی وہاں سیاست دانوں اور فوجی قیادت کی خفیہ ملاقاتوں کے انکشاف کے بعد ایک نئی صورت حال سامنے آئی ہے۔
Read moreنواز شریف کے لندن میں موجود رہنے پر اسلام آباد ہائی کورٹ کے ججوں کی شرمندگی اور غم و غصہ کے اظہار کے چند گھنٹے بعد ہی مسلم لیگ (ن) کی سنٹرل ایگزیکٹیو کمیٹی کے اجلاس سے ویڈیو لنک پر خطاب کرتے ہوئے نواز شریف نے ایک بار پھر ملک میں موجودہ حکومتی انتظام کو شدید نکتہ چینی کا نشانہ بنایا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ’ ہم نے انگریز کی غلامی سے تو نجات حاصل کرلی لیکن ہمیں
Read moreاسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس عامر فاروق اور جسٹس محسن اختر کیانی پر مشتمل ڈویژن بینچ کی عدالت نے سابق وزیر اعظم نواز شریف کی ایون فیلڈ اور العزیزیہ ریفرنس میں سزا کے خلاف کیس کی سماعت کی۔
کیس کی سماعت کے دوران میں جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیے کہ نواز شریف کو پتا ہے کہ وہ پورے سسٹم کو شکست دے کر باہر گئے ہوئے ہیں۔ وہ باہر بیٹھ کر حکومت اور اس ملک پر ہنستا ہو گا۔ یہ ایک شرمناک طرز عمل ہے حکومت کو بھی آئندہ سوچنا چاہیے۔
ایڈیشنل اٹارنی جنرل طارق کھوکھر نے عدالت کو بتایا کہ نواز شریف نے پھر وارنٹ گرفتاری وصول کرنے سے انکار کر دیا۔ نواز شریف کے وارنٹ گرفتاری کی قونصل اتاشی کے ذریعے پھر تعمیل نہ ہو سکی۔ قونصل اتاشی حسن نواز کے سیکرٹری کی درخواست پر دوبارہ وارنٹ لے کر گئے مگر کسی نے وصول نہیں کیے۔
Read moreکراچی۔ پاکستان کی حزب اختلاف کی جماعتوں کی حال ہی میں ہونے والی آل پارٹیز کانفرنس میں جن نکات پر اتفاق ہوا ہے اور جنہیں قرارداد کا حصہ بنایا گیا ہے ان میں ایک نکتہ اعلیٰ عدلیہ کے ججز کی تقرری کا موجودہ طریقۂ کار تبدیل کیا جانا بھی ہے۔
اس ضمن میں پاکستان بار کونسل کی جانب سے کیے گئے مطالبے کی بھی حمایت کی گئی ہے۔
پاکستان بار کونسل نے 20 ستمبر کو ہونے والی آل پارٹیز کانفرنس سے مطالبہ کیا تھا کہ ججوں کے تقرر کے لیے آئین کے آرٹیکل 175۔ اے میں درج طریقۂ کار پر نظر ثانی کی جائے۔
بار کونسل کا مطالبہ ہے کہ انیسویں آئینی ترمیم ختم کی جائے۔ نیز اس سے متعلق نیا فورم تشکیل دیا جائے جس میں پارلیمان کا کردار مزید موثر ہو اور تمام اسٹیک ہولڈرز بشمول انتظامیہ، بار کونسلز اور عدلیہ عددی برابری کے ساتھ ایک ہی پلیٹ فارم پر مل بیٹھ کر شفاف انداز میں خالصتاً میرٹ پر تقرر سے متعلق فیصلے کریں۔
Read moreمیرے گھر کے باہر جو سٹریٹ لائٹ ہے وہ سال کے تین سو چونسٹھ دن خراب رہتی ہے، آج پچھترواں دن ہے۔ سڑک سے کوڑا کرکٹ اٹھانے کا بھی کوئی تسلی بخش انتظام نہیں، اکثر کوئی نہ کوئی شریف آدمی وہاں کوڑے کا ڈھیر لگا کر چلا جاتا ہے۔ اور اسی سڑک پر چند قدم آگے کچھ دکانیں، ایک دو ریستوران اور اکا دکا کھوکھے بھی ہیں جن کی تجاوزات کی وجہ سے اچھی خاصی چوڑی سڑک تنگ معلوم ہوتی ہے۔ میں خود کو ایک ذمہ دار، چوکس اور سیانا شہری سمجھتا ہوں جو کہ ظاہر کہ میری خوش فہمی ہے، میں ذمہ دار ہوں نہ چوکس اور سیانا تو بالکل بھی نہیں۔
دنیا جہان کو مشورے دیتا پھرتا ہوں مگر اپنا یہ حال ہے کہ آج تک یہ معلوم نہیں کر سکا کہ سٹریٹ لائٹ ٹھیک کرنے کی ذمہ داری کس کی ہے۔ پہلے میں سمجھتا تھا کہ شاید یہ کام بجلی کے محکمے کا ہے مگر پھر مجھ سے بھی زیادہ کسی سیانے نے بتایا کہ مقامی حکومت نام کی کوئی شے ہوتی ہے جو اگر مادی وجود رکھتی ہو تو اس کا منتخب نمائندہ اہل علاقہ میں سے ہی کسی کو یہ کام تفویض کر دیتا ہے، واللہ اعلم بالصواب، خدا کو جان دینی ہے میں آج تک ایسے کسی مرد حر کو تلاش نہیں کر سکا جس کے ذمے یہ کام ہو۔
Read more16 جولائی 2003 سال اور قد بچے کی عمر بتاتے ہیں لیکن بچوں کے شعور کی اٹھان کا پتا ان کے سوال دیتے ہیں۔ وہ سوال جو ہمیں پریشان یا سوچنے پر مجبور کردیں۔ کچھ دنوں پہلے سارنگ نے جب پوچھا، ”ماما! آپ ڈائری کیوں لکھتی ہیں، کوئی پڑھتا نہیں تو فائدہ؟“ تو مجھے خبر ہوئی کہ میرا بیٹا تیزی سے بڑا ہو رہا ہے۔ اس کا پہلا سوال میرے ہاتھ میں پکڑی ڈائری کی طرف اشارہ کرتے ہوئے تھا،
Read moreجمہوریت نواز شریف کا نام نہیں ہے۔ نواز شریف نے کبھی جمہوریت کی جنگ لڑی ہے اور نہ جمہوریت کے کبھی پرچارک رہے ہیں۔ نواز شریف کی جماعت کے اندر جمہوریت ہے اور نہ مسلم لیگ ن جمہوری جماعت ہے۔ کاروباری اور تاجر پیشہ نواز شریف نے ہمیشہ نفع و نقصان کی بنیاد پر سیاسی فیصلے کیے ہیں۔ اقتدار کی سیاست میں کوئی ایک فیصلہ نواز شریف کا ایسانہیں ہے۔ جس سے جمہوریت کو تقویت ملی ہو۔ مسلم لیگ ن
Read moreہمارے ہاں اخلاقیات کا فقدان ہے یہاں تک کہ تعلیمی اداروں میں غیر مسلموں کے لیے نصاب میں جو اختیاری مضمون شامل کیا گیا ہے۔ اس میں اخلاقیات سے متعلق کم اور دیگر مذاہب کی تعلیمات کے بارے میں توڑ مروڑ کر جو تشریح درج ہے اس میں بھی اسلامی رنگ غالب ہے۔ انتہا پسندانہ سوچ ہمارے معاشرے کا المیہ ہے اور ہم نے طے کر رکھا ہے کہ پہلے تو بروقت معاملات کو طے نہیں کرنا اور نہ ہی
Read moreپاکستان میں آل پارٹیز کانفرنس اور پریس کانفرنس کسی بھی وقت ہو سکتی ہیں اور یہ حقیقت ہے کہ دونوں میں سچ خال خال ہی ہوتا ہے۔ آل پارٹیز کانفرنس میں ہر پارٹی کا ایجنڈا اپنا اپنا ہوتا ہے اور پریس کانفرنس میں موقف اپنا اپنا ہوتا ہے۔ حال ہی میں ہونیوالی آل پارٹیز کانفرنس میں سب نے اپنے اپنے ایجنڈے کے تحت کام کیا اور سب ایک دوسرے کو استعمال کرتے ہوئے نظر آئے۔ اصولی طور پر یہ ادھوری
Read moreاپوزیشن کی آل پارٹیز کانفرنس میں نواز شریف کی دوٹوک اور بیباک تقریر سے پاکستانی سیاست میں جھٹکوں کی امید تو کی جارہی تھی۔ وزیروں کے رد عمل اور ملک دشمنی کے طعنوں سے حکومت کی بدحواسی کا اظہار بھی ہورہا تھا لیکن یہ اندازہ کرنا ممکن نہیں تھا کہ اس تقریر سے ایسا بھونچال برپا ہوگا کہ خود پاک فوج کے ترجمان کو ’حقائق ‘ بتانے کے لئے اے آر وائی نیوز کو انٹرویو دینا پڑے گا۔ اور بتانا
Read moreاپوزیشن جماعتوں کی کانفرنس کا ہنگام ابھی تھما نہیں تھا کہ میڈیا پر پارلیمانی رہنماؤں اور آرمی چیف کی ملاقات کی خبریں گردش کرنے لگیں۔ ذرائع کے حوالے سے چلنے والی خبروں میں دعویٰ کیا گیا کہ ملاقات میں عسکری قیادت نے کہا ہے کہ فوج کا سیاسی معاملات سے کوئی تعلق نہیں۔ فوج کو سیاسی معاملات سے دور رکھا جائے۔ آرمی چیف نے واضح کہا کہ سیاست میں مداخلت کا کوئی شوق نہیں۔ جو بھی منتخب حکومت ہوگی اس
Read moreترکی کے صدر رجب طیب اردوغان نے اقوم متحدہ کی 75 ویں سالگرہ پر خطاب کرتے ہوئے ایک بار پھر کشیمر کا مسئلہ اٹھایا تو انڈیا نے ایک بار پھر اسے تنقید کا نشانہ بنایا۔
Read moreحکومت کے خلاف اپوزیشن کے تحریک چلانے کا اعلان سامنے آنے کے ایک روز بعد ہی آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے وزیر اعظم عمران خان سے ملاقات کی ہے اور وفاقی کابینہ کے اہم ارکان کو لائن آف کنٹرول پر بھارتی جارحیت کی صورت حال سے آگاہ کیا ہے۔ وزیر اعظم کی سربراہی میں کابینہ نے اپوزیشن کی آل پارٹیز کانفرنس سے پیدا ہونے والی صورت حال پر غور کیا اور عمران خان نے کابینہ کے ارکان کو
Read moreحکومتی وزرا اور مشیروں کی تمام تر موشگافیوں کے باوجود اے پی سی منعقد ہوگئی اور ایسی منعقد ہوئی کہ جس کی توقع نہیں کی جارہی تھی۔ غیریقینی صورتحال اس لیے بھی تھی کہ مولانا فضل الرحمن کسی واضح یقین دہانی کے بغیر اے پی سی میں شرکت کرنے کے لیے تیار نہیں تھے۔ وہ اس کانفرنس میں جے یو آئی کا وفد بھیجنے کا سوچ رہے تھے کہ بلاول بھٹو زرداری ان سے ملے اور ان کو اے پی
Read moreاسلام آباد میں منعقد ہونے والی آل پارٹیز کانفرنس میں اپوزیشن پارٹیوں نے موجودہ حکومت کے خلاف تحریک چلانے اور پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کے نام سے ایک اتحاد قائم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ یہ فیصلہ اجلاس کے آغاز میں سابق صدر آصف زرداری اور سابق وزیر اعظم نواز شریف کی دو ٹوک تقریروں کے بعد کیا گیا ہے۔ نواز شریف نے ملکی سیاست پر سال بھر کی خاموشی توڑتے ہوئے اپنی طویل تقریر میں واضح کیا ہے کہ ’ہماری
Read moreریپ مختلف نوعیت کے ہوتے ہیں۔ عمومی طور پر عامتہ الناس میں ریپ کے حوالے سے یہ تاثر قائم ہے، کہ صرف زور زبردستی سے کیا جانے والا جنسی فعل ہی ریپ کے زمرے میں شمار ہوتا ہے۔ جب کہ ہر وہ جنسی فعل یا حرکت جو کسی ایک فرد کی رضا مندی کے بغیر، بچے بچی یا کسی کی معصومیت اور مجبوری سے فائدہ اٹھا کر سرزد ہو، ریپ کے ہی زمرے میں آتی ہے۔ حتی کے شریک حیات کی مرضی بھی شامل حال نہ ہو، تو ترقی یافتہ معاشرے میں یہ فعل ایک نوع کے ریپ میں شمار کیا جاتا ہے۔
یہ گھناؤنا فعل زیادہ تر متاثرہ خاتون، مرد، لڑکا، لڑکی، بچے اور بچی کے سگے رشتے دار و قریبی عزیز، آجر، گھریلو نوکر چاکر، استاد اور معاشرے کے با اثر افراد کی طرف سے عمل میں آتا ہے۔ اور عموماً ظلم و زیادتی کا شکار معصوم بچے بچیاں اور مجبور، معذور اور بے سہارا خواتین اور لڑکے لڑکیاں ہوتی ہیں۔ مقام افسوس یہ ہے، کہ اکثر ایسے معاملات منظر عام پر نہیں آتے۔ اور متاثرہ فرد اپنے والدین یا کسی بڑے سے شکایت بھی کرے، خصوصاً خاتون، لڑکی یا بچی اپنی ماں یا دوست کو اس قبیح فعل سے آگاہ کرے، تو عموماً معاملہ دبا دیا جاتا ہے اور چپ رہنے کا مشورہ دیا جاتا ہے۔ ایسا کیوں کیا جاتا ہے؟ بظاہر اس کی وجہ یہی ہے، کہ متاثرہ فرد اور کنبہ بدنام ہو جائے گا۔ مزید یہ کہ پیچیدہ قانونی کارروائیوں وجہ سے ملزم کے بچ نکلنے کا امکان زیادہ ہوتا ہے۔
Read moreسپریم کورٹ کے چیف جسٹس گلزار احمد نے چند روز پہلے موٹر وے ریپ کیس کے حوالے سے پیدا ہونے والی بے چینی وخوف کا حوالہ دیتے ہوئے پولیس کو پروفیشنل بنانے اور اس کے نظام میں سیاسی مداخلت ختم کرنے پر زور دیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ پولیس کو سیاسی اثر و رسوخ سے محفوظ کئے بغیر عام شہریوں کی حفاظت ممکن نہیں ہوگی۔ آج اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ایک
Read moreاس دنیا میں روزانہ ہر عورت کے ساتھ ریپ ہوتا ہے، تین سال کی بچی سی لے کے پچھتر برس کی بڑھیا تک۔ رنگ، نسل، مذہب، قومیت اور لباس کی کوئی قید نہیں۔ ساڑھی، برقع، نیکر، عبایہ، جینز، حجاب، فراک، اسکرٹ، شلوار، کچھ بھی پہنا ہو، کوئی فرق نہیں پڑتا۔ عورت رات کو دو بجے اکیلی سڑک پر ہو یا بس میں اپنے دوست کے ساتھ، کسی بھرے، پرے دفتر میں ہو یا نائٹ کلب میں، پنج وقتہ نمازی ہو یا کسی مرد کی طرح ڈرنک کرتی ہو، میرا جسم میری مرضی کے نعرے لگاتی ہو یا یتیم بچیوں کی پناہ گاہ کی محافظ ہو، ڈومنی ہو یا پردہ دار، چہرہ بغیر میک اپ کے رکھتی ہو یا غازے کی تہیں سجاتی ہو، قائداعظم کے مزار کے احاطے میں ہو یا اپنی قبر میں، ریپ کرنے والا اس کی لاش نکال کر بھی ریپ کرے گا اور مردوں کے اس معاشرے میں کچھ لوگ ہوں گے جو کہیں گے کہ کفن میں چہرہ ڈھانپا نہیں گیا تھا اس لیے ریپ ہوا۔
گزشتہ ہفتے 9 ستمبر کو لاہور کے علاقے گجر پورہ میں موٹروے پر خاتون کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنانے کا واقعہ پیش آیا۔ دو افراد نے موٹروے پر کھڑی گاڑی کا شیشہ توڑ کر خاتون اور اس کے بچوں کو نکالا اور سب کو قریبی جھاڑیوں میں لے گئے اور پھر خاتون کو بچوں کے سامنے زیادتی کا نشانہ بنایا۔ تاہم ایسے موقع پر سی سی پی لاہور عمر شیخ حیرانی کا اظہار کرتے ہوئے بولے کہ ان کو جی ٹی روڈ سے جانا چاہیے تھا، گاڑی کا تیل پانی بھی پورا کر کے چلنا ان کی ذمہ داری تھی۔
Read moreایک تھا مشرقی پاکستان، وہ ہمارا تھا۔ پھر اس نے نام بدل لیا اور ہمارا بھی نہ رہا۔ وہ جدا کیوں ہوا؟ یہ کہانی بہت بار دہرائی جا چکی ہے۔ ہم اپنے جانی دشمن بھارت کو الزام دیتے ہیں لیکن حقیقت یہی ہے کہ وہ جو ہمارے تھے، ہم سے خفا تھے ان کے دل ٹوٹ چکے تھے۔ بھارت سے مدد لے کر انہوں نے خود کو ہم سے الگ کر دیا۔ اپنا نام تک بدل لیا۔ بنگلا دیش۔ اور
Read moreایک وقفے کے بعد گلگت بلتستان اسمبلی سیکریٹریٹ کی جانب سے شائع کردہ رپورٹ ”گلگت بلتستان کا مختصر سیاسی ارتقا“ کا آج پھر سے مطالعہ کرنے کا اتفاق ہوا۔ رپورٹ کا دیباچہ، اسپیکر گلگت بلتستان اسمبلی کا پیغام اور ابتدائیہ تقریباً ایک دوسرے سے مماثل ہیں۔ نچوڑ یہی کہ گلگت بلتستان پر کئی سو سالوں سے راجوں اور سرداروں کی حکمرانی رہی۔ 1381 میں یہاںاسلام کی آمد ہوا۔ وقت کے ساتھ ساتھ علاقے میں اسلامی معاشرے کی بنیاد ڈالی گئی۔ مگر
Read moreجنوبی پنجاب کے ضلع رحیم یار خان کی تحصیل خان پور سے تعلق رکھنے والے عمر شیخ آج کل خبروں کی زینت بنے ہوئے ہیں۔
Read moreمتحدہ عرب امارات اور بحرین کی طرف سے اسرائیل کو تسلیم کرنے کے بعد یہ بحث بھی چل نکلی ہے کہ کیا پاکستان کو بھی اسرائیل سے اپنے تعلقات قائم کر لینے چاہیے۔
Read moreجنرل سیکرٹری انجمن مزارعین پنجاب مہر عبدالستار کو لاہور ہائی کورٹ کے دو رکنی ڈویژنل بینچ نے آٹھ ستمبر کو ان پر لگائے مختلف مقدمات میں سے آخری مقدمے میں بھی بری کر دیا جس کے بعد 12 ستمبر یعنی ہفتے کے روز انھیں بالآخر چار سال کے بعد رہائی مل گئی۔
Read moreچلیں جی سی سی پی او لاہور عمر شیخ کی یہ بات مان لیتے ہیں کہ بدھ کو علی الصبح لاہور سیالکوٹ ایم الیون موٹر وے پر جس خاتون کا اس کے دو بچوں کے سامنے مسلح افراد نے ریپ کیا ، تشدد کیا ، سامان لوٹا اور فرار ہو گئے تو اس میں بنیادی غلطی عورت کی ہے۔ اس عورت کو دو چھوٹے بچوں کے ساتھ آدھی رات کو سنسان موٹر وے پر سفر کرنے کی کیا ضرورت تھی۔
Read moreسی پیک پاکستان کے عوام کی خوش حالی کا وہ منصوبہ ہے، جس کا سن کے بھارتی پردھان منتری مودی کو ایک رات بھی چین کی نیند نہیں آئی۔ ادھر اسرائیل نے بھی امریکا کو دھمکی دی کہ اگر سی پیک منصوبہ مکمل ہو گیا، تو تمام یہودی امریکا سے اپنا سارا سرمایہ نکال لیں گے۔ یہ تو پاکستان کا بچہ بچہ جانتا ہے، امریکا کو یہودی کنٹرول کرتے ہیں، تو امریکا نے سی آئی اے میں اینٹی سی پیک
Read moreکشمیر، پاکستان اور ہندوستان کے درمیان ایک انتہائی سنگین مسئلہ بنا ہوا ہے۔ پون صدی ہونے کے قریب ہے لیکن اس تنازعہ کا کوئی حل نظر نہیں آتا۔ اس حوالے سے پاکستان کو جن مشکلات کا سامنا ہے اس کا ایک تاریخی پس منظر بھی ہے۔
کانگریس نے آزادی سے پہلے ہی شیخ عبداللہ کے ساتھ ایک موثر تعلق قائم کر لیا تھا۔ چونکہ مسلم لیگ 1937 تک ایک فعال سیاسی جماعت نہیں تھی اس لئے مسلم لیگ کا کشمیر میں بھی کچھ زیادہ سیاسی اثر و رسوخ نہیں تھا۔
شیخ عبد اللہ نظریاتی طور پر کانگریس کے قریب تھے اور انہوں نے کبھی پاکستان کے قیام کی حمایت نہیں کی تھی۔ 1947 میں تقسیم کے وقت بھی وہ انڈیا کے ساتھ ہی رہنے کے حامی تھے اور دل چسپ امر یہ ہے کہ خود مسلم لیگ نے بھی اس وقت تک کبھی کشمیر کو پاکستان سے ملانے کی بات نہیں کی تھی۔ کسی بھی سیاسی اثر کے نہ ہونے کے باعث آزادی کے فوراً بعد پاکستان کے پاس کشمیر سے تعلق رکھنے کا کوئی سیاسی راستہ نہیں تھا۔ تا ہم بہت سے پاکستانی کشمیر کو پاکستان میں شامل دیکھنا چاہتے تھے۔
Read moreان دنوں ہندوستانی مقبوضہ کشمیر کے بھارت نواز سیاستدانوں کا ایک مشترکہ بیان موضوع بنا ہوا ہے جس میں انہوں نے بھارتی حکومت سے 5 اگست 2019 کے اقدام کو واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ سرینگرمیں گپکار روڈ پہ واقعہ فاروق عبداللہ کی رہائش گاہ میں گزشتہ سال 4 اگست کو ہونے والے اس اجلاس کا مشترکہ بیان ”گپکار اعلامیہ“ کے نام سے اب جاری کیا گیا ہے۔ فاروق عبداللہ کی زیرصدارت اجلاس میں پی ڈی پی، پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی سربراہ ر محبوبہ مفتی، ، پی ڈی پی کے مظفر حسین بیگ، پیپلز کانفرنس کے سربراہ سجاد غنی لون، پیپلز کانفرنس کے عمران رضا انصاری، عبدالغنی وکیل، تاج محی الدین پیپلز کانفرنس، صدر پردیش کانگرنس جی اے میر، محمد یوسف تاریگامی ہندوستان کی کمیونسٹ پارٹی، عمر عبداللہ نیشنل کانفرنس، مظفر شاہ عوامی نیشنل کانفرنس اور ممبران پارلیمنٹ جسٹس حسنین مسعودی، محمد اکبر لون این سی، ناصر سوگامی، شاہ فیصل پیپلز متحدہ محاذ، علی محمد ساگر این سی، مظفر شاہ، عوامی نیشنل کانفرنس، عزیر رونگا پی یو ایف، سہیل بخاری پی ڈی پی نے شرکت کی۔
” گپکار ڈیکلریشن“ میں کہا گیا ہے کہ تمام فریقین تمام حملوں اور حملوں کے خلاف جموں و کشمیر کی شناخت، خودمختاری اور خصوصی حیثیت کے تحفظ اور دفاع کے عزم میں متحد ہوں گے۔ یہ ترمیم، آرٹیکل 35 اے، 370 کو منسوخ کرنا، غیر آئینی حد بندی یا ریاست کا جداگانہ جموں، کشمیر اور لداخ کے عوام کے خلاف جارحیت ہوگی۔ اعلامیہ میں ہندوستان کے صدر اور وزیر اعظم اور دیگر سیاسی جماعتوں کے رہنماں کے ساتھ انھیں موجودہ صورتحال سے آگاہ کرنے اور ان سے عوام کے جائز مفادات کے تحفظ کے لئے اپیل کرنے کا فیصلہ کیا اور کہا کہ ہمارے ملک (انڈیا) کے آئین کے ذریعہ ریاست کو دی گئی ضمانتوں کے حوالے سے وہ ان ضمانتوں کی غیرآئینی خلاف ورزی کی پیروی کرنے کے پابند غیر مہذب نتائج سے بھی آگاہ کریں گے۔
Read moreجنگ اخبار کا شمار پاکستان کے صف اول کے اخبارات میں ہوتا ہے۔ حقائق پر مبنی خبروں اور تجزیوں کے سبب جنگ گروپ کو الیکٹرانک میڈیا اور پرنٹ میڈیا میں نمایاں مقام حاصل ہے۔ حق گوئی کی وجہ سے مختلف ادوار میں مصائب جھیلے۔ پرویز مشرف کے مارشل لائی دور میں بھی جیو زیر عتاب رہا مگر اپنی روش ترک نہیں کی۔ جنگ گروپ کے چیف ایڈیٹر میر شکیل الرحمٰن پر غداری کے فتویٰ بھی لگے مگر اصولوں پر سمجھوتہ نہ کرنے کی پاداش میں آج بھی پابند سلاسل ہیں۔ گزشتہ دنوں کے جنگ اخبار میں کالم نگار مظہر برلاس کے کالم میں سینئر صحافی احمد نورانی کے بارے میں کچھ ایسے الفاظ پرنٹ ہو گئے جن سے صرف جنگ اخبار کی ایڈیٹوریل پالیسی کی ساکھ متاثر ہوئی۔
Read moreغالباً 1998میں، میں نے نئی دہلی میں پارلیمنٹ کی کارروائی کو بطور رپورٹر کور کرنا شروع کردیا۔ دو سال بعد ہر ہفتے پریس گیلری پاس کی تجدید کی کوفت سے بچنے کیلئے جب میں نے اس کو مستقل یا سالانہ کرنے کی درخواست دی، تو معلوم ہوا کہ نئے ضابطوں کے مطابق اسکے لئے پارلیمنٹری رپورٹنگ کا کورس کرنا پڑیگا۔ پارلیمنٹ ہاوس کے بغل میں ہی لائبریری کی وسیع و عریض بلڈنگ میں بیورو آف پارلیمنٹری اسٹڈیز اینڈ ٹریننگ کے
Read moreوزیر اعظم عمران خان نے ایک حالیہ انٹرویو میں انکشاف کیا ہے کہ ان کے فوج کے ساتھ تعلقات بہت خوشگوار ہیں، غالباً اپوزیشن کی طرف اشارہ کرتے ہوئے انہوں نے یہ بھی کہا کہ کچھ لوگوں کی بڑی خواہش ہے کہ ان کے فوج کے ساتھ تعلقات خراب ہوجائیں۔ خان صاحب نے یہ کوئی بڑی خبر نہیں دی۔ ہر ذی شعور پاکستانی کو علم ہے کہ موجودہ حکومت اور افواج پاکستان ایک ہی صفحے پر ہیں۔ ماضی کی سویلین
Read moreالماری میں پڑی گرد آلود تاریخ کی کتب کو جھاڑ کر مطالعہ کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ وطن عزیز میں جب بھی جرنیلوں پر کرپشن کے الزامات لگے ان کے دفاع میں سیاست دان سینہ تان کر کھڑے ہو گئے جب جب جنرل ایوب خان سے لے کر جنرل عاصم باجوہ تک جرنیلوں کے دامن کرپشن کے الزامات سے آلودہ ہوئے ان کی ڈھال سیاست دان ہی بنے۔
قدرت اللہ شہاب اپنی کتاب ”شہاب نامہ“ میں لکھتے ہیں کہ جنرل ایوب نے جب اپنے پسر گوہر ایوب کے نام پر گندھارا انڈسٹری کا معاملہ میڈیا کی زینت بنا تو صدر کے وزیروں اور رفیقوں میں کوئی ایسا نہ تھا جو انھیں اس سے باز رکھتا۔ سب لوگ انھیں ایڑ لگا لگا کر اسی راستے پر گامزن رکھنا چاہتے تھے جو انھوں نے غلط طور پر اختیار کیا تھا۔ اس وقت کے وزیرخزانہ مسٹر محمد شعیب نے ایک پریس کانفرنس منعقد کی اور اعداد و شمار کی شعبدہ بازی سے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ گندھارا انڈسٹری کی تجارتی کارروائی میں ہر گز پیچیدگی نہیں اور یہ انتہائی کھرا، بے لاگ اور صاف سودا ہے۔ ایک وزیر نے اسمبلی کے ایوان میں کھڑے ہو کر یہاں تک اعلان کر دیا اگر صدر مملکت کا بیٹا گندھارا انڈسٹری کا حقدار نہیں تو اسے کسی یتیم خانے میں داخل کر دیا جائے۔ ہر وزیر اخبار والوں پر حسب توفیق لعن طعن کر رہا تھا کہ گندھارا انڈسٹری کی آڑ میں قومی صحافت سربراہ مملکت کے وقار کو مجروح اور پاکستان کی بنیادوں کو کمزور کرنے میں مصروف عمل ہے۔
Read moreعمران خان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ معمولی نوعیت کے جرائم میں ملوث خواتین قیدیوں کی رہائی کی ہدایات وزارت انسانی حقوق اور اٹارنی جنرل سے مشاورت کے بعد جاری کی گئی ہیں۔
Read moreدرسی تاریخ یہ ہی بتاتی ہے کہ 6 ستمبر 1965 کی صبح لاہور کے لوگ باہر نکلے تو ان کے مشاہدے میں یہ آیا کہ مکار دشمن نے رات کی تاریکی میں لاہو ر پہ حملہ کر دیا ہے۔ اس دوران صدر مملکت ایوب خان کا مختصر خطاب بھی ریڈیو پہ نشر ہو چکا تھا۔ لیکن یہ بات کس حد تک درست ہے کہ یہ حملہ بھارت کی جانب سے جنگی پہل تھی اس کا درسی کتب کی حد تک
Read moreتین حروف کا مجموعہ لفظ ’ماں‘ ذہن میں آتے ہی ایسا فرحت بخش احساس پیدا ہوتا ہے جیسے تمام تکالیف سے چھٹکارا مل گیا ہو۔ جیسے تپتی دھوپ کے بعد اچانک گھنے سیاہ بادل دیکھ کر ہوتا ہے لیکن اگر ماں کے ساتھ لفظ ’سوتیلی‘ لگ جائے تو خوف، دکھ اور اضطراب کی لہر جھرجھری طاری کر دیتی ہے۔ یہ کرب وہی محسوس کر سکتا ہے جس نے سوتیلی ماں کے جسمانی و ذہنی اذیتیں جھیلی ہوں۔ ریاست بھی ماں کے جیسی ہی ہوتی ہے جس کا کام رنگ و نسل کی تفریق کے بغیر سب شہریوں کے ساتھ یکساں سلوک کرنا ہوتا ہے۔ ایسا ماحول میسر کرنا ہوتا ہے جس میں شہریوں کو اظہار رائے کی آزادی، یکساں عدل و انصاف اور مساوات دکھائی دے مگر جب ریاست شہریوں میں تفریق کرنا شروع کر دے تو ایسا طبقاتی فرق پیدا ہوتا ہے جو معاشرے کے انحطاط کا سبب بن جاتا ہے۔ بدقسمتی سے گزشتہ تہتر سالوں میں طبقاتی فرق بہت بڑھ چکا ہے اور ریاستی اکابرین کی جانب سے اسے زائل کرنے کی کوئی سنجیدہ کوشش بھی نظر نہیں آتی۔
Read moreان دنوں ہندوستانی مقبوضہ کشمیر کے بھارت نواز سیاستدانوں کا ایک مشترکہ بیان موضوع بنا ہوا ہے جس میں انہوں نے بھارتی حکومت سے 5 اگست 2019 کے اقدام کو واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ فاروق عبداللہ کی رہائش گاہ میں گزشتہ سال 4 اگست کو ہونے والے اس اجلاس کا مشترکہ بیان ”گپکار اعلامیہ“ کے نام سے اب جاری کیا گیاہے۔ فاروق عبداللہ کی زیرصدارت اجلاس میں پی ڈی پی، پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی سربراہ محبوبہ مفتی، پی
Read more12 اگست 2020 ء کو سوشل میڈیا کے ذریعے وائرل ہونے والے ایک سرکاری نوٹیفیکیشن نے اہل اوچ کو حیران و پریشان کر کے رکھ دیا۔ 10 اگست کو سیکرٹری پنجاب لوکل گورنمنٹ اینڈ کمیونٹی ڈویلپمنٹ ڈیپارٹمنٹ ڈاکٹر احمد جاوید قاضی کی طرف سے جاری کیے گئے اس نوٹیفیکیشن میں میونسپل کمیٹی اوچ شریف کو ٹاؤن کمیٹی کا درجہ دے دیا گیا تھا۔ 1979 ء کے بعد یہ دوسری بار ہوا کہ اوچ نے میونسپلیٹی سے ٹاؤن بننے کی ”ترقی
Read moreچئیرمین سی پیک اتھارٹی اور وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے اطلاعات لیفٹیننٹ جنرل (ر) عاصم سلیم باجوہ صاحب کے متعلق صحافی احمد نورانی نے فیکٹ فوکس نامی ویب سائٹ پر ایک سٹوری ریلیز کی ہے جس میں مبینہ طور پر عاصم سلیم باجوہ صاحب کے خاندان کے نام 99 کمپنیاں اور ایک معروف پیزا برانڈ پاپا جانز کی 133 فرنچائزز، 13 کمرشل سینٹرز اور 2 گھر شامل ہیں۔ مبینہ اسی لئے لکھا ہے کیونکہ ابھی عاصم سلیم باجوہ نے
Read moreفقیر راحموں کا قول ہے کہ کوئی فرد یا ادارہ چاہے جتنا بھی مقدس ہو، جو بھی سیاست کرے گا یا سیاسی عہدہ پر فائز ہو گا یا کسی بھی طرح کی عوامی خدمت کی ذمہ داری کا (نو آبادیاتی گندمی آدمی کا ) بوجھ اٹھائے گا، اسے اپنے آپ کو عوام کے سامنے جوابدہ ہونا پڑے گا۔ یہ ایک ایسا مسلمہ اصول ہے جس سے انحراف کی ذرا سی بھی گنجائش قوموں اور نسلوں کے لیے ظلم اور تباہی کا باعث بن سکتی ہے۔ اور یہ تو ہم سب اچھی طرح جانتے ہیں کہ حکومتیں کفر پر تو قائم رہ سکتی ہیں، لیکن ظلم پر ہرگز نہیں۔
مسلم تاریخ کے سب ادوار میں خلیفۂ وقت نہ صرف حکمران تھے بلکہ سپریم کمانڈر / سپہ سالار بھی ہوا کرتے تھے۔ تاریخ گواہ ہے کہ ان سب حضرات نے کبھی بھی اپنے آپ کو احتساب سے ماورا نہیں سمجھا۔ خود خلفائے راشدین جیسی عظیم شخصیات نے بھی اپنے آپ کو لوگوں کے سامنے احتساب کے لیے پیش کیا۔
Read moreعام تصور یہی ہے کہ تمام آلام و مصائب زندگی کے ساتھ منسوب ہوا کرتے ہیں اور سانس کی ڈور ٹوٹتے ہی انسان بھی مکت ہوجاتا ہے اور اس کے قائم کردہ تصورات و تشکیلات بھی زمانے کی نظر سے محو ہو جاتے ہیں۔ یہ تصور حال ہی میں ایک خوردنی تیل بنانے کی کمپنی نے اپنی اشتہاری مہم کے ذریعے خاک میں ملا دیا اور ایک ہی ہلے میں دو متوفین، یعنی حضرت امیر خسرو اور اردو کا جنازہ دوبارہ نکال دیا۔ آخر الذکر کے سلسلے میں احباب کی دھوم دھام کی خواہش بھی پوری ہو گئی۔
زیربحث کمپنی اس سلسلے میں عادی مجرمان کے زمرے میں تو آتی ہی ہے، ”اشتہاری مجرم“ بھی ہے۔ چند برس قبل اسی کمپنی نے ایک اشتہار چلایا تھا، جس کا بنیادی نعرہ تھا ”کشمیر پر سودا؟ ہو ہی نہیں سکتا!“ یہ چونکہ کشمیر کی نقشہ پر فتح سے قبل کا دور تھا، اس لیے مطعون نہ ٹھہرا اور یوں ان تاجران ملک و ملت کا حوصلہ بڑھ گیا اور اب کی بار انہوں نے اردو زبان کی ترویج کی آڑ میں امیر خسرو جیسے درویش صفت شاعر کا کلام اپنے تیل کی کڑاھ میں جلیبی کی صورت میں تلوایا ہے اور لوگ باگ اسے خسرو ہی کے کلام سے مرصع کاغذوں میں لپیٹے، ہتھیلی پر لیے پھرتے ہیں اور ہر ایک دو ”دندی“ (بائٹ کا اردو ترجمہ ہو نہیں سکتا لہٰذا پنجابی سے گزارہ کیجئیے ) کے بعد اردو کی اس عظیم نشاۃ ثانیہ پر کمپنی ہذا کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔ اردو کی اس جلیبی بائی درگت پر مبنی اشتہار کے مبصرین اور سراہنے والوں میں عدیم المثال شاعر ناصر کاظمی کے صاحبزادے باصر کاظمی بھی دیکھے جا سکتے ہیں۔
Read moreوفاقی وزیر شبلی فراز نے ایک ٹوئٹ میں بتایا ہے کہ وزارت اطلاعات میں ان کے ساتھی، وزیر اعظم کے معاون خصوصی اور سی پیک اتھارٹی کے چئیر مین اپنے خاندانی اثاثوں کے بارے میں جلد ہی وضاحت سامنے لائیں گے۔ اس سے قبل وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی بھی یہ دعویٰ کرچکے تھے کہ احمد نورانی کی فراہم کردہ معلومات کی ’حقیقت‘ جلد ہی سامنے آجائے گی۔ بظاہرحکومت نے اس سلسلہ میں کوئی اقدام نہیں کیا۔ شبلی فراز کا
Read moreسابق وزیر اعظم نواز شریف نے عدلیہ کو بتایا ہے ان کی صحت ابھی بہتر نہیں ہے اور اپنے معالجین کی تجویز پر ابھی واپس نہیں آرہے ہیں۔ نواز شریف نے عدالت کو بتایا کہ ان کی غیر موجودگی میں مقدمات پر سماعت روک دی جائے یا ان کے نمائندہ کے ذریعے سماعت کے بعد فیصلہ سنا دیا جائے۔
Read moreپاکستان میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) نے دس محرم الحرام کی خصوصی ٹرانسمیشن کے دوران مبینہ طور پر نفرت انگیز مواد نشر کرنے پر ایک نجی ٹی وی چینل کا لائسنس معطل کر دیا ہے۔
Read moreنورانی تحقیقاتی رپورٹ کا ہدف ریٹائرڈ جرنیل اور اس کے اہل خانہ نہیں، مسلح افواج کا ادارہ ہے جس کی وجہ سے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی ذاتی ساکھ بھی داؤ پر لگ گئی ہے، جن کا جنرل عاصم سلیم باجوہ سے رشتے داری کا دور نزدیک کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ بھارتی اور امریکی کلاکار اس پر بغلیں بجا رہے ہیں اور ہمارا مذاق اڑا رہے ہیں۔ معاملہ اتنا آسان اور سادہ نہیں کہ دو سطری تردید
Read moreسی پیک اتھارٹی کے چئیر مین اور وزیر اعظم کے مشیر برائے اطلاعات لیفٹیننٹ جنرل (ر) عاصم سلیم باجوہ کے اثاثوں کے بارے میں سیاست دانوں کے علاوہ حکومت کی مکمل خاموشی سے سناٹے کی ایسی کیفیت پیدا ہوئی ہے جو خوف میں مبتلا کرتی ہے۔ یہ خوف ملک کی سیاسی اور عسکری قیادت کو یکساں طور سے محسوس کرنا چاہئے۔ عوام کو اگر سوالوں کا جواب بھی نہیں دیے جائیں گے اور اگر سوشل میڈیا مہم کے ذریعے صحافی
Read moreوزیر خارجہ شاہ محمود قریشی شاید ملکی سیاست دانوں میں واحد شخص ہیں جنہوں نے سی پیک کے سربراہ اور وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے اطلاعات لیفٹیننٹ جنرل (ر) عاصم سلیم باجوہ کے اہل خاندان کے اثاثوں کے بارے میں سامنے آنے والی رپورٹ اور اس پر سوشل میڈیا میں ہونے والے مباحث پر رائے دینے کا حوصلہ کیا ہے۔ اس صورت حال میں سب سے پہلے تو یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر ملک کا کوئی حاضر
Read moreپاکستان کی معیشت کو اگر ایک جملے میں بیان کرنا ہو تو یہ ہی کہا جاسکتا ہے کہ اشرافیہ کے مفادات کا تحفظ اور عوام کا استحصال۔ ریاست اور سماج پر آج تک جن طبقات اور اداروں کا غلبہ رہا ہے، آج معیشت کی زبوں حالی اور غربت و تنگ دستی کا شکار عوام، ان ہی کی پالیسیوں کا نتیجہ ہے اور آج بھی ریاست کا اشرافیہ کی کی خدمت گزاری کا کردار اور معاشرے و سماج پر جاگیرداروں کا تسلط پوری طرح قائم ہے۔ اسٹیٹ بنک کے سابق گورنر عشرت حسین کی کتابPakistan The Eonomy of Elitist State کا بنیادی موضوع بھی یہی ہے۔
Read moreکچھ عجیب سے دن ہیں۔ کورونا وائرس کی آفت ابھی پوری طرح سے ختم نہیں ہوئی کہ ہمیں بارش نے آ لیا۔ کراچی تو ایک گہرے تالاب میں تبدیل ہو گیا۔ لاہور اور دوسرے شہروں میں بھی کچھ بہتر صورت حال نہیں۔ قصہ یہ ہے کہ ہم نے اس ملک میں اداروں، ضابطوں اور اقدار کے ساتھ جو کھلواڑ کی، شہری کو جس طرح بے وقعت کیا، انسانی ترقی کے بنیادی ہدف کو جس طرح نظر انداز کیا، عوام کے
Read moreجنگ گروپ سے منسلک صحافی احمد نورانی نے اپنے ایک تحقیقاتی مضمون میں دعویٰ کیا ہے کہ وزیر اعظم کے معاون برائے اطلاعات اور آئی ایس پی آر کے سابق سربراہ لیفٹیننٹ جنرل (ریٹائرڈ) عاصم سلیم باجوہ کے ‘خاندان کی کاروباری سلطنت کا پھیلاؤ اور ان کی فوج میں اہم عہدوں پر ترقی، دونوں چیزیں ساتھ ساتھ چلیں۔’
Read moreوزیر اعظم کے مشیر برائے احتساب شہزاد اکبر نے ایک بار پھر الزام لگایا ہے کہ اپوزیشن نے سینیٹ میں ایف اے ٹی ایف سے متعلق دو بلوں کی منظوری روک کر دراصل اپنے جرائم سے بچنے کے لئے ’این آر او‘ لینے کی کوشش کی ہے۔ یہ دونوں بل جو قومی اسمبلی میں اتفاق رائے سے منظور ہوچکے ہیں، سینیٹ میں لیڈر آف دی ہاؤس ڈاکٹر شہزاد وسیم کے بعض ریمارکس کی وجہ سے پوزیشن نے منظور نہیں ہونے
Read moreپاکستان کی تاریخ میں اعلیٰ عدلیہ اور فوج نے کئی بار بڑے بڑے معرکے سر کئے ہیں حتیٰ کہ آئین شکنی، مارشل لأ کے نفاذ اور دیگراقدامات کو ہمیشہ جائز قراردیا گیا۔ اس مقصد کے لئے 1950ء کی دہائی میں جسٹس منیر نے نظریہ ضرورت ایجاد کیا جو آج تک رائج ہے۔ جوڈیشل ایکٹوازم کے سرخیل افتخار محمد چوہدری اور جسٹس کھوسہ نے اعلان کیا تھا کہ نظریہ ضرورت کو دفن کردیا گیا ہے لیکن دونوں نے نظریہ ضرورت کا
Read moreپاکستان میں احتساب کا جنازہ کیسے نکلتا ہے، مجرم کیسے بچ نکلتے ہیں؟ انڈونیشیاءاور جاپان میں پاکستانی سفارت خانے کی عمارتوں کی فروخت کی چونکا دینے والی داستان سے بڑھ کر اس کی وضاحت ہو سکتی ہے۔ میجر جنرل (ر) مصطفی انورحسین سید اور کامران نیاز وقت کی دھند میں نہ جانے کہاں گم ہوچکے ہیں لیکن قوم کو نقصان پہنچنے اور اس کے ازالے کی لاٹھی جرم کے سانپ نکل جانے کے برسوں بعد بھی برس رہی ہے اور
Read moreآج کل جیسے ہی سابق وزیر اعظم نواز شریف کی لندن سے کوئی تازہ تصویر جاری ہو جاتی ہے، پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کو ہزیمت اٹھانی پڑتی ہے۔ اور اسی لئے اب کی بار حکومت نواز شریف کو واپس لانے کی کوششوں کا اعلان تو کر رہی ہے مگر حقیقت یہ ہے کہ اس وقت یہ بہت مشکل ہے۔ مگر یہ جو پچھلے سال اکتوبر سے نومبر کے درمیان ہوا اس کے پس منظر کو سمجھنا بہت ضروری ہے
Read moreوزیراعلی پنجاب سردار عثمان بزدار بھی نیب کی زد میں آگئے ہیں، آمر پرویز مشرف نے کیا خوب ادارہ بنایا ہے، اس ادارے نے 20 سال میں احتساب کو مذاق بنا کررکھ دیا ہے، ایاز امیر نے خوبصورت کالم لکھا تھا کہ بزدار کو دھرا بھی ہے تو کس کیس میں؟ نیب کو پنجاب کی اتنی بڑی حکومت میں کوئی چج (کام) کا کیس نہیں ملا تھا، اپوزیشن چیخ چیخ کر کہہ رہی ہے کہ نیب احتساب کرنے والا ادارہ نہیں بلکہ انتقامی ادارہ بن چکا ہے
میری ذاتی رائے میں نیب ایک ایسا جانور پالا گیا ہے جس کو ”مالک“ کے اشارے پر کسی پر بھی چھوڑ دیا جاتا ہے، صحافت کرتے ہوئے دو دہائیوں سے زیادہ کا وقت گزر گیا، عمر گزر گئی ایسے ڈرامے دیکھتے دیکھتے، نتیجہ کچھ بھی نہیں نکلتا، نواز شریف، بینظیر بھٹو کے ادوار دو سے تین بار دیکھے، جمالی صاحب کا طرز حکومت بھی دیکھا، شوکت عزیز جیسے پپٹ کی حکومت بھی دیکھی
Read moreتازہ ترین اطلاعات کے مطابق نیشنل پارٹی کے رہنما اور سینیٹر میر حاصل خان بزنجو اسلام آباد کے ہسپتال میں انتقال کر گئے ہیں۔ 62 سالہ میر حاصل بزنجو کچھ عرصے سے معدے کے سرطان مین مبتلا تھے۔ ان کا شمار صف اول کے قومی رہنماؤں میں ہوتا تھا اور وہ بلوچستان کے سابق گورنر میرغوث بخش بزنجو کے صاحبزادے تھے۔ میر حاصل بزنجو نے 3 فروری 1958 ضلع خضدار کی تحصیل نال میں آنکھ کھولی۔ ابتدائی تعلیم مڈل ہائی
Read moreٹی ٹی پی کے سارے دھڑے اکٹھے ہو گئے۔ وہ شدت پسند بھی جو اس تنظیم سے الگ رہے وہ بھی اب اس میں شامل ہوئے ہیں۔ یہ اتحاد ویسا سا ہی ہے۔ جیسا احمد شاہ مسعود اور گلبدین حکمتیار کے درمیان ہوا تھا۔ پہلے آپس میں لڑ رہے تھے۔ جیسے ہی طالبان نے زور پکڑا تو اتحاد کر کے ان کے خلاف اکٹھے ہو گئے۔ کر پھر بھی کچھ نہ سکے۔
زمینی حقائق بدل چکے۔ لوگوں کی سوچ بدل گئی۔ انہوں نے تکلیف برداشت کر لی بے گھر ہوئے۔ اب بظاہر ٹی ٹی پی کی واپسی ممکن نہیں ہے۔ فوج نے ان کا صفایا کر دیا۔
Read moreآج جنرل محمد ضیا الحق کو جسمانی طور پر رخصت ہوئے تینتیسواں برس لگ گیا اور پرویز مشرف کو سبکدوش ہوئے بارہ برس مکمل ہو گئے۔وہ الگ بات کہ ضیا الحق جیسا کوئی نہیں۔نہ ان سے پہلے نہ بعد میں۔ ان کی روح پاکستان کے قومی جسد میں تینتالیس برس سے حلول ہے۔جدھر دیکھتا ہوں ادھر تو ہی تو ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو کو کم ازکم فانی زندگی سے معزول ہو کر گڑھی خدا بخش جانا پڑا۔مگر ضیا الحق نے
Read moreجنرل ایوب خان کا خیال تھا کہ پاکستان کے لوگ اتنے غریب اور جاہل ہیں کہ انہیں بالغ رائے دہی کی بنیاد پر ووٹ کا حق نہیں دیا جا سکتا۔ آپ نے اسی لیے لوگوں کو ’بنیادی جمہوریت‘ کا سبق پڑھایا تھا۔ اسی طرح آپ یہ بھی فرمایا کرتے تھے کہ پاکستان جیسے گرم علاقوں کے لیے جمہوریت بالکل بھی مناسب نہیں ہے۔ جمہوریت تو صرف برطانیہ جیسے سرد علاقوں کو ہی راس آتی ہے۔ اب جمہوریت کا موسم گرما
Read moreموجودہ پاکستان میں قائد اعظم کے بعد جن چار سیاست دانوں کو عوام نے بے پناہ چاہا اور ان پہ اپنے اعتماد کا اظہار کیا ہے وہ ہیں ذوالفقار علی بھٹو، بے نظیر بھٹو، نواز شریف اور عمران خان۔ کرشماتی شخصیت کے مالک عمران خان اس وقت ملک کے وزیراعظم ہیں۔ ان کے پاکستانی سیاست میں قدم رکھنے کی وجہ سے عوام کی ایک بڑی تعداد نے سیاست میں دلچسپی لینا شروع کی۔ وہ خواتین ووٹرز کو الیکشنز کی طرف
Read moreپاکستان کو بنے 73 سال بیت گئے ہیں۔ ان 73 سالوں میں بحث ہمیشہ یہی رہی کہ پاکستان میں کون سا نظام ہونا چاہیے۔ پارلیمانی یا صدارتی۔ جوں جوں پاکستان کی عمر بڑھتی گئی یہ بحث بھی بڑھتی گئی۔ پچھلی دو دہائیوں سے بحث کا زور اس بات پر رہا کہ پاکستان کو تباہ کس نے کیا۔ جمہوریت نے یا آمریت نے۔ سیاسی جماعتیں آمریت کو جی بھر کر گالیاں دیتی ہیں لیکن اقتدار کی خواہش ان سب سیاسی جماعتوں
Read moreگزشتہ چند روز میں پاکستانی میڈیا کی چند سرخیاں قابل غور ہیں: ’بل گیٹس نے سی این این کے انٹرویو میں کورونا کے خلاف پاکستانی اقدامات کی توصیف کی۔ بعد ازاں وزیر اعظم اور آرمی چیف نے اپنے اپنے طور پر پولیو مہم کے سلسلہ میں بل گیٹس سے ٹیلی فون پر بات کی‘۔ ’جنرل اسمبلی کے منتخب ترک نژاد صدر نے دورہ پاکستان کے دوران کشمیر کا مسئلہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل کرنے پر زور دیا‘۔
Read moreجب دو روز قبل ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹویٹ کیا کہ متحدہ عرب امارات اور اسرائیل مکمل سفارتی تعلقات بحال کرنے پر راضی ہو گئے ہیں تو اس کے فوراً بعد اماراتی وزیرِ خارجہ انور گرگیش نے خوشخبری دی کہ ہمارے اس فیصلے سے فلسطینی مغربی کنارے کو اسرائیل میں ضم کرنے کا عمل رک گیا ہے مگر اسرائیلی وزیرِ اعظم نیتن یاہو نے وضاحت کی کہ غربِ اردن کو ضم کرنے کا فیصلہ کالعدم نہیں ہوا صرف ملتوی ہوا ہے۔
Read moreپیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کے قیادتوں کو اب یہ بات ضرور یاد آتی ہو گی کہ ملک میں دھاندلی زدہ الیکشن کے نتائج کو قبول کرتے ہوئے اسمبلی کا حلف اٹھا کر انہوں نے فاش سیاسی غلطی کی تھی۔ مولانا فضل الرحمان نے دونوں بڑی اپوزیشن جماعتوں کے رہنماؤں کو قائل کرنے کی کوشش کی کہ غیر شفاف الیکشن میں بدترین دھاندلی کو مسترد کرتے ہوئے اسمبلی کا حلف نہ اٹھایا جائے۔ لیکن مسلم لیگ (ن) اور پیپلز
Read moreسوشل میڈیا پر آج کل صدارتی نظام حکومت کی چرچا کی جا رہی ہے۔ پارلیمانی اور صدارتی نظام کا موازنہ کیا جا رہا ہے۔ ان لوگوں کا کہنا ہے کہ مطلق العنانی سے بلیک میلنگ کم ہو جائے گی۔ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ خلافت کا نظام قائم ہو اور کچھ چاہتے ہیں کہ نظام کوئی بھی ہو جمہوری روایات پر مبنی ہو تو میرے خیال میں یہ بات بڑی اہم ہے۔ ہم نے آمریت و صدارتی نظام بھی
Read more