وسعت اللہ خان کی سیلاب ڈائری

”گان گرلز“ کے لکھاری گلئن فلئن نے اپنے ایک انٹرویو میں اگاتھا کرسٹی کے ناول and then there were none کے متعلق کہا تھا کہ یہ ایک ایسی کتاب ہے کہ جب مجھے کچھ پڑھنے کا من نہ کرے، یا میں سراپا بوریت ہوں تو اسے ہی پڑھنا شروع کرتا ہوں۔ جانے کیوں وسعت اللہ خان کی سیلاب ڈائری پڑھتے ہوئے بھی بارہا میں نے خود کو اسی کیفیت میں پایا۔ میں بھی بوریت کے سمے آب گم، بجنگ آمد

Read more

آئی اے رحمان: سائبان نہ رہا

دردمندوں کے خانہ ہائے دل میں گہرے ملال کی ویرانی اتر آئی ہے۔ دکھ کی سسکی کو ضبط کی تلقین کا یارا نہیں رہا۔ آتی جاتی سانس کی دھونکنی میں رہ رہ کر اٹھتے احساس زیاں کی کٹار چلی آئی ہے کہ اب جانب کہسار سے اترتے ابر سیاہ کی گھٹا ٹوپ تاریکیوں میں کس سے رہنمائی چاہیں گے۔ بحران کی حلقہ در حلقہ بچھی بارودی سرنگوں میں کس سے سمت پوچھیں گے۔ اجتماعی ناکامیوں کے تاحد نظر پھیلے تسلسل

Read more

مسئلہ تنگ نظری نہیں بلکہ ریاستی دماغ ہے

ریاست بار بار ڈسے جانے کے باوجود کیوں اس زعم سے نکلنے پر تیار نہیں کہ ان تنظیموں کو مخصوص سیاسی و خارجہ مقاصد کے لیے پالا جا سکتا ہے اور ضرورت ختم ہونے پر آسانی سے مٹایا بھی جا سکتا ہے۔

Read more

تبدیلی کو کسی باپ کی ضرورت نہیں

آج بھی کم وبیش وہی وجوہات موجود ہیں جنہیں بہانہ بنا کر ملک کی سیاسی پٹڑی پر دھرے ڈبے چوہتر برس میں کئی بار ڈی ریل کیے گئے۔ مگر کیا سبب ہے کہ آج نہ کسی کو مارشل لا لگانے کا خیال آتا ہے اور نہ کسی کو خدشہ ہے کہ مستقبلِ قریب میں ایسی نوبت آ سکتی ہے۔

Read more

ڈسکہ میں ضمنی انتخاب: پنجاب کا ایک چھوٹا سا حلقہ اس قدر اہمیت کیسے حاصل کر گیا؟

پی ٹی آئی اور ن لیگ اسے اب محض قومی اسمبلی کی ایک نشست کے بجائے اپنے اپنے انفرادی بیانیوں کی تصدیق کے موقعے کے طور پر دیکھ رہی ہیں۔

Read more

کچھ آئین، نصاب اور تعلیم کے بارے میں

محترم وزیر اعظم فرماتے ہیں کہ وہ ہر صبح اپنے دفتر نہیں جاتے، بلکہ جہاد پر نکلتے ہیں۔ خوش قسمت ہیں کہ ہر روز نیکی کے بوریے سمیٹتے ہیں۔ اس ملک میں لاکھوں نصیب جلے ہر صبح روٹی کی تلاش میں نکلتے ہیں، شام ڈھلے افسردہ چہروں اور پٹپٹاتی آنکھوں کے ساتھ گھروں کو لوٹ جاتے ہیں، خدا معلوم اپنے بچوں کو کیسے تسلی دیتے ہوں گے۔ درویش کی افتاد ان دو انتہاﺅں کے بیچ کہیں واقع ہوئی ہے، جسے

Read more

وتایو فقیر، امر جلیل اور خدا

پہلی بار ممتاز مفتی کا سفرنامہ لبیک پڑھا اور کعبے کے لیے کوٹھے کا استعارہ اور اللہ سے آنکھ مٹکے کی بات دیکھ کر چار سو چالیس وولٹ کا جھٹکا لگا مگر پھر مولوی احمد دین کا سنایا ہوا موسیٰ اور گڈریے کا قصہ یاد آ گیا۔ پڑھیے وسعت اللہ خان کا کالم۔

Read more

پی ٹی آئی کی اپیل مسترد، ڈسکہ میں پورے حلقے میں دوبارہ الیکشن کا حکم برقرار

پاکستان کے سپریم کورٹ نے ڈسکہ میں ضمنی انتخاب کے بارے میں الیکشن کمیشن کے فیصلے کے خلاف حکمران جماعت کی اپیل مسترد کرتے ہوئے پورے حلقے میں دوبارہ انتخاب کروانے کا حکم برقرار رکھا ہے۔

Read more

مریم لائی دیا سلائی، زرداری نے آگ جلائی

کسی نے پھبتی کسی کہ پی ڈی ایم اپنے کندھے پر جو قالین پانچ لاکھ روپے کا بتا کر نکلی تھی بالآخر یوسف رضا گیلانی یہ قالین صادق سنجرانی کو 500 روپے میں بیچ کر آخری بس میں سوار ہو گئے۔

Read more

این اے 75 ڈسکہ کا ضمنی انتخاب: دوبارہ الیکشن کا فیصلہ برقرار، سپریم کورٹ کا 10 اپریل کو ہونے والی پولنگ روکنے کا حکم

جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے کہا ہے کہ این اے 75 میں دوبارہ پولنگ کے بارے میں الیکشن کمیشن کا فیصلہ برقرار رہے گا تاہم ابھی صرف 10 اپریل کو ہونے والی پولنگ ملتوی کی جا رہی ہے۔

Read more

بنگلہ دیش کے ذکر پر مٹی پاؤ

ہم سے اگر کوئی غلطی ہوئی تو بس اتنی کہ سچائی دکھانے کے جوش میں سرچ لائٹ کچھ زیادہ ہی کھل گئی جس کے سبب بنگالیوں کی آنکھیں چندھیا گئیں اور انھیں اپنے پرائے کی تمیز نہ رہی۔

Read more

بروٹس تیرے جانثار بے شمار بے شمار

جس طرح سینیٹ میں دو برس قبل چیئرمین کے خلاف تحریکِ عدم اعتماد میں صادق سنجرانی کو ووٹ دینے والے 14 مخالف سینیٹرز کو کوئی بھی اپوزیشن جماعت اپنی صفوں میں نہ ڈھونڈھ پائی، اسی طرح انشااللہ تازہ ترین آٹھ ’غداروں‘ کا بھی پتہ نہیں چل پائے گا۔ پڑھیے وسعت اللہ خان کا کالم۔

Read more

ڈسکے میں جھرلو کا ڈسکو

آج کے ڈیجیٹل دور میں انتخابی دھاندلی کی سائنس اتنی آگے جا چکی ہے کہ دامن پہ کوئی چھینٹ نہ خنجر پہ کوئی داغ، تم قتل کرو ہو کہ کرامات کرو ہو ہی سکہ رائج الوقت ہے۔ پڑھیے وسعت اللہ خان کا کالم

Read more

سینیٹ انتخابات: بلوچستان میں تحریکِ انصاف اور بی اے پی کے درمیان کیا اختلافات ہیں؟

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں اس وقت بی اے پی اور تحریک انصاف کے اندرونی اختلافات اور مشکلات بھی دیگر جماعتوں کے مقابلے میں زیادہ ہیں جس کے باعث وزیر اعلیٰ بلوچستان نے وزیر اعظم کو تجویز دی ہے کہ وہ مداخلت کریں۔

Read more

پاکستان میں معدوم ہوتی علاقائی زبانیں: ’فیض اور اقبال کاش پنجابی میں بھی کچھ لکھ دیتے‘

پاکستان کی سب سے بڑی علاقائی زبان سمجھی جانے والی بولی پنجابی کے وارثوں کو اپنی ماں بولی کی قدر قیمت معلوم ہوتی تو پھر انہیں بنگالی ،بلوچی ،سندھی، پشتو اور سرائیکی کی بھی تکلیف معلوم ہوتی۔

Read more

سینیٹ آئینی ادارہ ہے یا سیاسی کلب؟

اب جبکہ عمران خان نے اس ترمیم کے لیے ہر دروازہ بجانا شروع کر دیا تو یہی پیپلز پارٹی اور نون لیگ عمران خان کی اس کوشش کو دال میں کالا قرار دے رہے ہیں حالانکہ سب متفق ہیں کہ ہر تین برس بعد سینیٹ الیکشن کے نام پر بکرا پیڑھی لگتی ہے۔

Read more

پھٹا پوسٹر نکلا گستاخ

ابھی پچھلی صدی کے وسط کی بات ہے جب ہمارے بزرگوں کو کہا گیا تھا کہ جہاں آپ رہتے ہیں وہاں اب ایک آزاد ملک پاکستان کے نام سے بن چکا ہے۔ میرے مرحوم بابا سائیں کہتے تھے کہ تب ہمارا لڑکپن تھا اور تعلیم صفر، اس لئے گھر والوں نے کام دھندے پر لگا دیا تھا۔ انہوں نے بڑھئی/ترکھان کا آبائی پیشہ اپنایا اور بقول ان کے اتنی مہارت حاصل کر لی تھی کہ اگر دو بندے صبح شروعات

Read more

یہ عدلیہ کو اور عدلیہ میں کیا ہو رہا ہے؟

جب عدلیہ کا وقار باہر سے بھی حملوں اور مداخلت کی زد میں ہو، جب کئی جج کھل کے یا زیرِ لب روز بروز بڑھتی اندھی سیاسی و عسکری مداخلت کا کھلے عام یا ڈرائنگ روم میں مرثیہ کہیں اور پھر اندر سے بھی عدلیہ کا وقار داؤ پر لگنے لگے تو پھر دل کا بیٹھنا تو بنتا ہے۔

Read more

انڈین کسان آندولن اور پاکستانی سینیٹ

جس طرح مودی سرکار زراعت کو نجی شعبے کے لیے کھول کر کسان کو بالجبر خوشحال بنانا چاہ رہی ہے اسی طرح عمران حکومت حزبِ اختلاف کی ناک انتخابی عمل کے شیشے پر رگڑوا کر اسے چمکانا چاہ رہی ہے۔ پڑھیے وسعت اللہ خان کا کالم۔

Read more

پسینہ پونچھیے اپنی جبیں سے

انگریز سرکار کی عینک سے دیکھیں تو یہ سوچ سمجھ میں آتی ہے کہ میت کو ورثا کے حوالے کرنے اور پھر عوام کی جنازے میں ممکنہ کثیر شرکت دراصل دہشت گردوں کو ہیرو بنانے کے مترادف ہو گی۔

Read more

ایک سو سڑسٹھ روپے انچاس پیسے کی قومی ترقی

جب خان صاحب جولائی دو ہزار اٹھارہ میں برسرِاقتدار آئے تب تک سابق حکومتیں پاکستان کی فلاح و بہبود کے لیے نوے بلین ڈالر کے غیر ملکی قرضے لے چکی تھیں۔ پچھلے ڈھائی برس میں گذشتہ غلط پالیسیوں کو ڈھا کے نیا پاکستان بنانے کے لیے مزید چوبیس ارب ڈالر کا قرضہ لیا جا چکا ہے۔ یعنی قومی بجٹ میں کل ملا کے سود سمیت تقریباً گیارہ ارب ڈالر سالانہ ان قرضوں کی واپسی کے لیے مختص کرنا پڑ رہے ہیں۔

Read more

چڑیا اُڑی، کوّا اُڑا، ہاتھی اُڑا

ہماری قیادت انتہائی باصلاحیت ایکشن تھرلر ڈرامہ پروڈیوسر ہے۔ میمو گیٹ اور براڈ شیٹ جیسے ڈراموں سے آپ بھی ’انجوائز لیں‘ اور اس کے بعد اگلی پروڈکشن کا انتظار کریں۔

Read more

اردو کے نامور شاعر نصیر ترابی کا سفر بھی تمام ہوا: 'وہ ہم سفر تھا مگر اس سے ہمنوائی نہ تھی'

اردو کے نامور شاعر نصیر ترابی 74 سال کی عمر میں اتوار کی شام دل کا دورہ پڑنے سے انتقال کرکئے جس کے بعد آج انھیں کراچی میں سپرد خاک کر دیا گیا۔

Read more

وزیرِاعظم کا یادگار تعزیتی دورہ

وزیرِ اعظم چاہتے تو اسی مثالی سکیورٹی کے جلو میں قبرستان سوگواروں سے خالی کروا کے فاتحہ پڑھنے بھی جا سکتے تھے۔ ان کی اس بے خوفی اور مرنے والوں سے اظہارِ یکجہتی کی تصویر ان کے پرستاروں کے لئے ایک دفاعی ڈھال بھی بن سکتی تھی مگر بادشاہ تو بادشاہ ہے۔

Read more

مرنے والے دس کان کن نہیں دس سائے ہیں

ہمارے لیے یہ کان کن انسان نہیں سائے ہیں۔ کسی سائے کی موت پر آخر کتنی دیر افسردہ رہا جا سکتا ہے۔ ٹی وی پر چلنے والی خبری پٹی ختم تو خود احستابی کا دکھ بھی ختم۔ پڑھیے وسعت اللہ خان کا کالم بات سے بات

Read more

کپتی کمینی دنیا اور کم بخت امید

دنیا جتنی بھی کپتی کمینی ہو جائے۔ اس سے جتنا بھی دل اوبھ جائے پر کون ہے جس کا یہاں سے جانے کو جی چاہے۔ یہ کم بخت امید چیز ہی ایسی ہے۔ اسی امید کے جز دان میں لپٹی نئے سال کی مبارک باد قبول کیجیے۔ پڑھیے وسعت اللہ خان کا کالم۔

Read more

جان جائے پر مردانہ قوت نہ جائے

ابھی ویکسین آزمائشی مراحل میں ہی تھی کہ یہ بحث اٹھ گئی کہ جن اجزا سے یہ ویکسین تیار کی جا رہی ہے وہ اجزا حلال ہیں کہ حرام اور کہیں یہ مردانہ قوت تو نہیں چھین لے گی؟ پڑھیے وسعت اللہ خان کا کالم۔

Read more

اب پیشِ خدمت ہے گوادر کی باڑ

کہا جا رہا ہے کہ گوادر شہر میں داخلے اور اخراج کے دو راستے ہوں گے تاکہ مشکوک افراد اور سرگرمیوں پر نگاہ رکھی جائے اور نہ صرف بندرگاہ اور وہاں پر کام کرنے والے غیرملکی کارکنوں بلکہ عام شہریوں کا بھی تحفظ ہو سکے۔

Read more

قصور خان صاحب کا بھی نہیں

نیت صادق ہو مگر زاویہِ نظر دھندلا یا بھینگا ہو تو آپ خود کو اور دوسروں کو کنفیوژ کر کے فکری و عملی الجھاوا تو بڑھا سکتے ہیں مگر منزل حاصل کر سکتے ہیں کہ نہیں، یہ ایک الگ بحث ہے۔

Read more

اسلام آباد کے پیارے ہاتھی کاون کو خدا حافظ

جس طرح کے رکھوالے کاون نے پچھلے پینتیس برس میں دیکھے وہ ہم عشروں سے بھگتتے آ رہے ہیں۔ فرق ہے تو بس اتنا کہ تمھارا پنجرہ چھوٹا ہے اور ہمارا پنجرہ کچھ بڑا۔ وسعت اللہ خان کا کالم۔

Read more

کورونا ایک منافع بخش سیاسی ہتھیار

سوچئیے اگر کورونا کی وبا کے دوران عمران خان کے بجائے نواز شریف یا یوسف رضا گیلانی وزیرِ اعظم ہوتے اور کورونا سے عوام کو بچانے کے لیے تین سو افراد سے زیادہ کے اجتماع اور جلسوں پر پابندی لگا دیتے تو کیا حزبِ اختلاف پی ٹی آئی کے رہنما عمران خان عوامی مفادِ عامہ میں حکومت کے خلاف اپنی عوامی رابطہ مہم وبا کے ٹلنے تک ترک کر دیتے ؟

Read more

اب تو پیوند لگانے کی بھی گنجائش نہیں رہی

ہم بس یہ کر رہے ہیں کہ نظام کی خستہ چادر میں جہاں جہاں سوراخ نظر آتا ہے وہاں وہاں فوری طور پر ایڈہاک قانون سازی کا پیوند لگا دیتے ہیں۔ اب تو پیوند کی بھی گنجائش نہیں رہی، اب تو پیوند پر پیوند لگ رہے ہیں۔ پڑھیے وسعت اللہ خان کا کالم۔

Read more

میں بھی رونا چاہتا ہوں

وان جونز کی طرح میرے وطن جیسے بیسیوں ممالک کے کروڑوں لوگ بھی اس دن کے انتظار میں ہیں جب ہمارے ہاں بھی سچائی چار برس چھوڑ چار دن کے لیے ہی جھوٹ پر فتح پا لے۔ پڑھیے وسعت اللہ خان کا کالم

Read more

غدار ہونا اچھی بات نہیں ہے

انڈین میڈیا پر غصہ ایسے ہی ہے جیسے چرچل جرمنی سے شکوہ کرے کہ نازی میڈیا اس کی تقاریر کو مسخ کر کے پیش کر رہا ہے یا بلی سے شکایت کی جائے کہ اس نے پرات میں پڑا دودھ بلا اجازت کیسے پی لیا: پڑھیے وسعت اللہ خان کا کالم۔

Read more

نواز شریف صحت ٹھیک ہونے سے پہلے پاکستان نہیں جائیں گے: اسحاق ڈار

پاکستان مسلم لیگ ن کے سینیئر رہنما اور سابق وزیراعظم نواز شریف کے قریبی ساتھی اسحاق ڈار نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ وزیراعظم عمران خان اور پاکستانی حکومت کی تمام تر کوششوں کے باوجود، میاں نواز شریف کو برطانیہ سے پاکستان نہیں لے جایا سکتا۔

Read more

دیکھنا سامنے والا کہیں روبوٹ تو نہیں؟

ففتھ جنریشن وار کے لیے روبوٹکس کا ایک کارخانہ بن گیا۔ روبوٹک حزبِ اقتدار و حزبِ اختلاف پر مشتمل ہر روبوٹ جانتا ہے کہ کتنے قدم چلنا ہے، کیا کرنا یا کیا نہیں کرنا اور کس کی ہدایت پر کتنا عمل کرنا ہے۔ وسعت اللہ خان کا کالم

Read more

دراصل بازار عمران خان کا حقیقی دشمن ہے

حزبِ اختلاف کی موجودہ تحریک عمران حکومت کو کمزور تو کر سکتی ہے ختم نہیں کر سکتی۔ جیسے 2014 کے عمرانی دھرنے نے نواز شریف کو کمزور ضرور کیا مگر ختم نہیں کر سکا۔

Read more

پی ڈی ایم کا گوجرانوالہ میں جلسہ: 'نواز شریف اور ن لیگ کے لیے یہاں سے واپسی ممکن نہیں'

متحدہ اپوزیشن کے گوجرانوالہ جلسے میں نواز شریف نے اپنی تقریر میں پاکستانی فوج کے سربراہ کا نام لے کر ان پر الزامات عائد کیے۔ اس پر سوشل میڈیا پر بحث جاری ہے لیکن سب متفق ہیں کہ یہ کوئی معمولی بیانات نہیں۔

Read more

اقوامِ متحدہ کی انسانی حقوق کونسل میں پاکستان کا منتخب ہونا کتنی بڑی بات ہے؟

اقوامِ متحدہ کی انسانی حقوق کونسل میں پاکستان کے دوبارہ منتخب ہونے کو بعض ماہرین ایک بڑی سفارتی کامیابی قرار دے رہے ہیں تو بعض کے مطابق اس کی کوئی خاص اہمیت نہیں ہے۔ جبکہ پاکستان کی حکومت کا کہنا ہے کہ اس سے پاکستان کو مسئلہِ کشمیر کو اجاگر کرنے کا موقع ملے گا۔

Read more

پاکستان خدانخواستہ پائیدار جمہوریہ بن گیا تو؟

’خدانخواستہ فوج کمزور ہوئی تو پاکستان بھی شام، لیبیا، عراق، صومالیہ بن سکتا ہے۔ یہ فوج ہی ہے جس نے اس ملک کو متحد رکھا ہوا ہے۔‘ گرامر کے اعتبار سے یہ جملہ بالکل درست ہے مگر کیا حقائق کے اعتبار سے بھی مستند ہے؟ پڑھیے وسعت اللہ خان کا کالم بات سے بات۔

Read more

اے غدارو گھبرانا نہیں ہے

وہ جو کہتے ہیں کہ گھوڑا گھاس سے یاری لگائے گا تو کھائے گا کیا؟ اسٹیبلشمنٹ کے نہ تو مستقل حریف اور نہ ہی مستقل حلیف ہوتے ہیں۔ دوستی یا دشمنی کا معیار بس یہ ہے کہ جب آپ کو ایک طے شدہ نظریہ پاکستان دے دیا گیا ہے تو پھر اپنا نظریہِ پاکستان الگ سے گھڑنے کی کیا ضرورت ہے۔ پڑھیے وسعت اللہ خان کا کالم۔

Read more

وسعت اللہ خان کا کالم بات سے بات: اے غداروں گھبرانا نہیں ہے

وہ جو کہتے ہیں کہ گھوڑا گھاس سے یاری لگائے گا تو کھائے گا کیا؟ اسٹیبلشمنٹ کے نہ تو مستقل حریف اور نہ ہی مستقل حلیف ہوتے ہیں۔ دوستی یا دشمنی کا معیار بس یہ ہے کہ جب آپ کو ایک طے شدہ نظریہ پاکستان دے دیا گیا ہے تو پھر اپنا نظریہِ پاکستان الگ سے گھڑنے کی کیا ضرورت ہے۔ پڑھیے وسعت اللہ خان کا کالم۔

Read more

وسعت اللہ خان کا کالم بات سے بات: اے غداروں گھبرانا نہیں ہے

وہ جو کہتے ہیں کہ گھوڑا گھاس سے یاری لگائے گا تو کھائے گا کیا؟ اسٹیبلشمنٹ کے نہ تو مستقل حریف اور نہ ہی مستقل حلیف ہوتے ہیں۔ دوستی یا دشمنی کا معیار بس یہ ہے کہ جب آپ کو ایک طے شدہ نظریہ پاکستان دے دیا گیا ہے تو پھر اپنا نظریہِ پاکستان الگ سے گھڑنے کی کیا ضرورت ہے۔ پڑھیے وسعت اللہ خان کا کالم۔

Read more

میڈیا پر تنقید

ریاست اور صحافت کے درمیان رسہ کشی کوئی نئی بات نہیں اور شاید ہی دنیا کا کوئی ملک ہو جہاں ریاست اور صحافت کے درمیان اختلاف نہ ہو۔ ریاست مختلف قوانین کے نفاذ کے ذریعے صحافت کو پابند کرنے کی کوشش میں رہتی ہے جبکہ صحافت آزادی اظہار کے معاملے میں کوئی سمجھوتا کرنے پر آمادہ نہیں ہوتی۔ وطن عزیز میں بھی ابتداء سے صحافت اور ریاست کے درمیان رسہ کشی جاری ہے۔ وسعت اللہ خان، 12 اکتوبر 2018 کے بی بی سی ڈاٹ کام پر لکھے گئے اپنے کالم میں لکھتے ہیں۔

Read more

جی ایچ کیو پر ایک بورڈ لگا دیں

آسمان نے دیکھا کہ جاری سیاسی تھیٹر کے سٹیج پر اوور ایکٹنگ کرنے والی شلوار سوٹ حکومت اچانک مہمان اداکار میں تبدیل ہو گئی اور کہانی نے انہونا موڑ لے لیا۔

Read more

اسلام آباد پر قبضہ، مولانا طارق جمیل، حامد میر، ندیم افضل چن سمیت رہنماوں کے قتل کی دھمکی: لشکر جھنگوی/ پنجابی طالبان

پنجابی طالبان (ملک اسحٰق لشکر جھنگوی گروپ) سے منسوب ایک پمفلٹ اس وقت سوشل میڈیا پر گردش کر رہا ہے جس میں ایک بار پھر سے اسلام آباد پر قبضے، ملک میں خود کش بم دھماکوں کا نیا سلسلہ شروع کرنے، پولیس اور سیکیورٹی اداروں کے اہلکاروں کو قتل کرنے، صحافیوں اور سیاستدانوں کو قتل کرنے کے ساتھ ساتھ اہل تشیع فرقہ کے خلاف کارروائیوں کی دھمکیاں دی گئیں ہیں۔ اس پمفلٹ میں کہا گیا ہے کہ شیعت کفر عظیم

Read more

کون وسعت اللہ خان!

ابھی کچھ مہینے پہلے کی بات ہے کہ وسعت اللہ خان کے حوالے سے سوشل میڈیا پر وہ خبر خوب نمایاں تھی جس کے وجہ سے سوچنے والے، سمجھنے والے اور سمجھانے والے سبھی، یکساں سطح پر شدید تشویش سے دو چار تھے اور یک زبان، ان کی صحت و تندرستی اور طویل عمری کے لئے ہم آواز تھے کیوں کہ معاملہ دل کا تھا۔ آج پھر وسعت اللہ خان خبروں میں زیر بحث ہیں اور مختلف پلیٹ فارم پر

Read more

اکتاہٹ کیوں ہوتی ہے؟

میرا مقصد، اکتاہٹ جسے آج کل ”بوریت“ یا ”بور ہونا“ کہا جاتا ہے، کے طبی اسباب بیان کرنا نہیں بلکہ اس کیفیت کے پیدا ہونے کے عمومی عوامل سے متعلق بحث شروع کرنا ہے۔ عام طور پر جب کرنے کو کچھ نہ ہو تو بے چینی ہونے لگتی ہے۔ بے چینی اکتاہٹ کا پہلا مظہر ہوتا ہے۔ ضروری نہیں کہ بے چینی کا باقاعدہ اظہار بھی ہوتا ہو، یہ محض بیکل ہونا بھی ہو سکتا ہے۔ مگر سوال یہ ہے

Read more

کیا ہم پنجرے میں بند مرغیاں ہیں؟

آج منظر یہ ہے کہ لاہور سیالکوٹ موٹر وے ریپ کیس پر بڑے شہروں میں صرف خواتین کے جلوس نکل رہے ہیں جیسے یہ صرف انھی کا مسئلہ ہو۔ ہر قومیت، فرقے، مسلک اور زبان بولنے والے کو اپنے اپنوں کے سوا اردگرد کے دیگر مسائل زدہ پاکستانی طبقات نظر آنے بند ہوتے چلے گئے ہیں۔

Read more

وسعت اللہ خان! ہمیں معاف کر دو

وسعت، ہمیں معاف کر دو ہم لڑنے کے لیے ہمیشہ تیار رہتے ہیں دشمنوں سے کم اور دوستوں سے زیادہ وسعت، ہمیں معاف کر دو ہمارے قلم ہمارے قد کی طرح بہت چھوٹے ہیں اور ہمارے نعرے ہمارے منہ سے بڑے ہیں وسعت، ہمیں معاف کر دو ہم عظیم تہذیب کے وارث ضرور ہیں مگر ہم تمیز سے آشنا نہیں وسعت، ہمیں معاف کر دو ہم غیرت کے بے غیرت تصور کے غلام ہیں اور ہم محبت میں ”کارو کاری”

Read more

پینسٹھ کی جنگ، دوسرا رخ

پاکستان میں سکولی نصاب کے مطابق بھارت نے چھ ستمبر کو رات کی تاریکی میں چھپ کر پاکستان پر حملہ کیا۔ مگر کیوں کیا؟ بھارت پر اچانک کوئی دماغی دورہ پڑا یا حملے کی کوئی خاص وجہ تھی ؟ بچوں کو اس بابت کچھ نہیں بتایا جاتا۔ اور نہ ہی یہ بتایا جاتا ہے کہ اسے کامیاب جنگ کیوں کہا جاتا ہے؟ پڑھیے وسعت اللہ خان کا کالم بات سے بات۔

Read more

سرخ خون سیاہ کیوں پڑ جاتا ہے؟

سرخ رنگ ہر دور میں ایک نئے انداز میں تازہ ولولے کے ساتھ ابھرتا ہے اور رفتہ رفتہ جب اس پر مصلحتی سیاہ رنگ غالب آنے لگتا ہے تو کہیں اور سے ایک اور سرخ فوارہ ابل پڑتا ہے۔ پڑھیے وسعت اللہ کا ہفتہ وار کالم بات سے بات۔

Read more

مرنے اور غائب ہونے والے بھی تو ہمارا خیال کریں

ہم صحافی، سیاستداں، شاعر، منصف اور دانشور تو آج بھی اپنا قلم و دہن انسانیت کے لیے دان کرنے کو تیار ہیں مگر مرنے والے یا غائب ہونے والے بھی تو ہمارا کچھ خیال کریں۔ پڑھیے وسعت اللہ خان کا تازہ کالم۔

Read more

ریڈیو پاکستان کا اعلان آزادی … اصل حقائق کیا ہیں؟

چند روز سے یو ٹیوب اور سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو کی دھوم مچی ہے جس میں بیان کیا گیا ہے کہ ریڈیو پاکستان کا قیام 13 اور 14 اگست 1947ء کی درمیانی رات کو وجود میں آیا تھا۔ اس ویڈیو میں ریڈیو پاکستان کے نامور انائونسر مصطفی علی ہمدانی کی ایک ریکارڈنگ سنوائی گئی ہے جس میں وہ اعلان کرتے ہیں کہ’’السلام علیکم۔ پاکستان براڈکاسٹنگ سروس۔ ہم لاہور سے بول رہے ہیں۔ تیرہ اور چودہ اگست سن سنتالیس عیسوی

Read more

پنجاب اسمبلی کا دستی بم

یہ تو وہ قصہ ہے جو کھل گیا۔اب تک نہ جانے پارلیمنٹ اور اسمبلیاں ایسے کتنے قوانین منظور کر چکی ہیں جنھیں صرف مرتب کرنے یا کروانے والوں نے ہی پڑھا ہو گا۔ پڑھیے وسعت اللہ خان کا کالم بات سے بات۔

Read more

نیب کا زنبور اور ٹین کے سیاستدان

آج تک جس طرح نیب حسبِ ضرورت محمود و ایاز کو ایک صف میں یا ایک صفحے پر لانے میں حسبِ ضرورت کامیاب ہوا۔ ماضی کا کوئی ادارہ یا ایجنسی اتنے موثر ثابت نہیں ہو سکے۔ پڑھیے وسعت اللہ خان کا کالم۔

Read more

ان سیاستدانوں کو نیشنل پارک میں چھوڑ دیں

آج سیاسی نسل کشی کو ایک عظیم قومی کارنامہ بتانے والوں سمیت سب ہی حیرت کی اوور ایکٹنگ کرتے ہوئے ایک دوسرے سے پوچھ رہے ہیں کہ آخر کو یہ زمین دماغی اعتبار سے بنجر کیوں ہو گئی؟

Read more

کیا مودی ہمارے بھی ہیرو ہیں؟

حضرت وجاہت مسعود صاحب کا پچھلے ہفتے کا نوحہ ”بارہ مولا کا بشیر احمد خان اور جامشورو کا گل محمد چھچھر“ مجھے دو، تین دن تک عجیب سی کیفیت میں مبتلا کیے رکھا۔ میں وجاہت صاحب کی قلمی طاقت اور معاشرتی درد و فکر کے بارے سوچ رہا تھا۔ وہ مجھے پرندوں کے اس جھنڈ میں دکھ رہے تھے جس کا ذکر فقیہہ حیدر اس شعر میں کرتے ہیں،

ہوا میں نوحہ کناں ہیں تھکے پروں کے ساتھ
پرندے جلتے شجر کا طواف کرتے ہوئے

Read more

اس تاریخ سے کب جان چھوٹے گی ؟

مائیکل ہولڈنگ نے تعصبات کے جالے صاف کرنے کے لیے فاتح و مفتوح کی اصطلاحات سے نجات پانے کا جو نسخہ پیش کیا، وہ میری آپ کی زندگی میں تو موثر دکھائی نہیں دے رہا۔ آگے کیا ہو یہ آگے والے جانیں۔ پڑھیے وسعت اللہ خان کا کالم۔

Read more

اسلام کے وسیع دامن میں ایک مندر کی گنجائش ہے

روز کہتا ہوں بھول جاؤں اسے اور روز یہ بات بھول جاتا ہوں۔ یقین کریں روزانہ کی بنیاد پہ دل ناتواں سے عزم صمیم کرتا ہوں کہ مذہبی بحث و مباحثہ سے پرہیز اختیار کی جائے مگر دماغ منتشر کو دل ناتواں سے خدا واسطے کا ازلی بیر ہے جو دل کے پختہ عزم کو بھی ایسے زمین بوس کرتا ہے جیسے ساون کی تیز بارش کچی دیوار کو گرا دیتی ہے۔ اور میں اسی کشمکش میں ایک بار پھر

Read more

فاطمہ جناح کا یومِ وفات: پاکستانیوں کا ’مادرِ ملت‘ کو سوشل میڈیا پر خراج تحسین

صبح سے ہی #FatimaJinnah پاکستان میں ٹاپ ٹرینڈ بنا ہوا ہے اور اس اگر اس ہیش ٹیگ کے ساتھ کی گئی ٹویٹس کا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ زیادہ تر صارفین اپنی ’مادرِ ملت‘ کو سابق فوجی آمر اور صدر جنرل ایوب خان کے خلاف الیکشن لڑنے اور ان کے خلاف ڈٹ جانے کے لیے یاد کررہے تھے۔

Read more

میرا بیٹا آیان پاکستان میں آرٹسٹ ڈھونڈ رہا ہے

میرا بیٹا آیان کلاس تھری میں پڑھتا ہے۔ آرٹ اور میوزک کا شوق اسے اپنی ماں سے ورثے میں ملا ہے۔ آواز بھی سریلی پائی ہے اور رنگوں میں زندگی بھر دینے کی مہارت بھی رکھتا ہے۔ مجھے اس کے ان دونوں مشاغل کا صحیح علم لاک ڈاؤن کے دوران آن لائن کلاسز میں ہوا۔ جب اس کو میں نے میوزک کلاسز میں گاتے اور آرٹ کلاس میں خوبصورت تصاویر بناتے دیکھا۔ گزشتہ روز کینوس پر رنگ بکھیرتے ہوئے اچانک

Read more

دلہن اور وزیر چننے میں ایک جیسی دشواری

ہمارے کالج کے دنوں کے ایک دوست ہیں۔ دوستوں کے حق میں بہت اچھے۔ ہر غلط کام میں بھرپور تکنیکی و فنی امداد دینے کو ہر دم آمادہ و تیار رہتے تھے کہ دوست کامیاب و کامران ہوں۔ عشق پیشہ تھے اور واقعی اسے پیشہ سمجھتے تھے گو وہ اس پیشے میں مالی منفعت کی بجائے ذیلی سہولیات کے خواہاں رہتے تھے۔ شکل صورت بھی ایسی تھی کہ واقعی لاکھوں میں ایک تھے۔ گمان ہوتا تھا کہ چندے آفتاب چندے ماہتاب کا محاورہ انہیں کے متعلق تخلیق کیا گیا تھا۔ لانبا قد، گورا چٹا رنگ، گھنگریالے بال، کتابی چہرہ اور قطعاً غیر کتابی حرکتیں۔

ان کے برخلاف ان کے برادر بزرگ ایک مثالی مشرقی نوجوان تھے۔ شکل و صورت میں تو وہ بھی اپنے برادر خورد پر گئے تھے لیکن باقی معاملات میں وہ شرم و حیا اور عفت و عصمت کا پتلا تھے۔ بھری جوانی میں بھی ہر پرائی بہو بیٹی کو اپنی بہو بیٹی ہی سمجھتے تھے۔ حتیٰ کہ شادی کا بھی اپنی زبان سے نام تک نا لیا کہ انہیں لاج آتی تھی۔

Read more

مندر نہیں بنے گا!

یقین نہیں آتا کہ یہ وہی ملک ہے جہاں 60 کے عشرے تک جو 22 سرکاری چھٹیاں ہوتی تھیں، ان میں 25 تا 31 دسمبر کرسمس کی ایک ہفتے کی چھٹیوں کے علاوہ ایسٹر، بیساکھی، دسہرے، دیوالی اور ہولی کو بھی قومی تعطیل کا درجہ حاصل تھا۔ پڑھیے وسعت اللہ خان کا کالم۔

Read more

اگر عمران کی جگہ اکبرِ اعظم بھی ہوتے تو؟

’یہ تاثر غلط ہے کہ کورونا وائرس سے نمٹنے کے لیے حکومتی پالیسی میں کوئی کنفیوژن ہے۔ کنفیوژن صرف حزبِ اختلاف کی صفوں میں ہے جس نے اس ملک کو لوٹ کھایا اور آئندہ کے لیے بھی دانت لگائے بیٹھے ہیں۔۔۔۔مگر خوش قسمتی سے اس بار ملک کا صدر ایک ڈینٹل ڈاکٹر ہے ۔۔۔۔۔ جہاں تک مودی کا سوال ہے تو وہ ایک نفسیاتی مریض اور ہٹلر کا پیروکار ہے ۔۔۔ مگر امریکہ نے بھی ہم سے نائن الیون کے بعد خوب خوب کام لیا البتہ دو مئی کو ایبٹ آباد میں جس طرح اسامہ بن لادن کو ہلاک عرف شہید کیا گیا اس دن مجھے زلت کا جتنا احساس ہوا کبھی نہیں ہوا۔۔۔احساس سے یاد آیا کہ ہمارے احساس پروگرام کی دنیا بھر میں تعریف ہو رہی ہے ۔۔۔۔ جبکہ بھارت کشمیریوں پر جو مظالم کر رہاہے دنیا کو اس کا کوئی احساس نہیں۔۔۔مگر مجھے اپنے عوام پر پورا بھروسہ ہے۔۔۔۔یہ دن بھی گزر ہی جائیں گے۔۔۔۔میں کسی کرپٹ کو نہیں چھوڑوں گا۔۔۔۔بس گھبرانا نہیں ہے۔

Read more

شکر ہے چین پاکستان نہیں

اگر انڈیا چین سرحد کی لمبان ساڑھے تین ہزار کلو میٹر ہے تو پاک انڈیا بارڈر کی طوالت بھی تین ہزار تین سو کلومیٹر سے کم نہیں۔ مگر چین کی خوش قسمتی کہ وہ پاکستان نہیں ورنہ اب تک جانے کیا سے کیا ہو چکا ہوتا۔

بیس فوجیوں کا مرنا اور وہ بھی کسی دھشت گرد یا خود کش کے زریعے نہیں بلکہ مدِمقابل اصلی باوردی دشمن کے ہاتھوں ڈنڈوں، سریوں سے مرنا کسی بھی چھوٹے سے چھوٹے ملک کے لیے ناقابلِ برداشت ہے جبکہ بھارت کوئی چھوٹا ملک بھی نہیں۔ چین اگر بیس ہے تو بھارت انیس۔ مگر چین خوش قسمت ہے کہ وہ پاکستان نہیں۔

Read more

آصف صاحب – کچھ یادیں کچھ ملاقاتیں

بعض رخصت ہونے والے، ہمارے وجود کا کچھ حصہ نہیں، بلکہ پورا وجود ہی اپنے ساتھ لے جاتے ہیں۔ یہ تحریر، ایک ایسے ہی شخص کو یاد کرنے کے ساتھ ساتھ، اس کے وجود سے نتھی اپنا وجود کھوجنے کی ایک سعی لاحاصل بھی ہے، جو اس کے جانے بعد گم ہوچکا ہے۔

انیس سو پچانوے چھیانوے میں کراچی وارد ہوا تو، فکشن، شاعری اور دیگر سنجیدہ موضوعات کے مطالعے کی چاٹ پہلے سے لگی ہوئی تھی، اگر چہ شاعری ترک کر کے افسانہ نگاری کی طرف مائل ہوچکا تھا اور چند خام سے افسانے چھپ بھی چکے تھے لیکن یہاں کے ادیبوں سے ابھی ذاتی جان پہچان نہیں تھی، مگر اتنی تھی کہ ان میں سے بہت سوں کی تحریریں اور کتابیں راول پنڈی قیام کے دوران پڑھ چکا تھا، اسی لیے فطری طور پر سب سے ملنے کی خواہش تھی۔

Read more

زیادہ سے زیادہ مر ہی تو جائیں گے

تشکیک کے عنصر سے بنے انسانی ذہن کو ہر نئی صورتِحال سمجھنے اور قبول کرنے میں ایک ضروری مدت درکار ہوتی ہے۔ چنانچہ سمجھنے سمجھانے میں ہی اکثر بہت سا قیمتی وقت نکل جاتا ہے اور کوئی بھی واقعہ وقوع پذیر ہو جانے کے باوجود ایک عرصے تک ذہن پر قسط وار کھلتا چلا جاتا ہے۔ نہیں نہیں یہ ان کی بیماری ہے، ہمارا اس سے کیا لینا دینا۔ نہیں نہیں یہ بیماری نہیں سازش ہے۔ ہاں ٹھیک ہے، یہ بیماری

Read more

شہر معجزات (ایکسٹینشن)۔

یوں تو وطن عزیز کے بارے میں جس کا جو جی چاہتا ہے کہہ اور لکھ دیتا ہے، ہم کسی کی ذمہ داری لے سکتے ہیں نہ زبان روک سکتے ہیں جو یہ کر سکتے ہیں بہرحال سوچ کو پھر بھی نہیں روک سکتے ہاں کسی وقت کے لیے سوچ کو کوئی اور زاویہ دے کر توجہ ادھر ادھر کی جا سکتی ہے۔ جب میں وطن عزیز میں کوئی خلاف عقل واقعہ رونما ہوتا دیکھتا ہوں تو بے دھڑک اسے ”شہر معجزات“ کہہ دیتا ہوں۔ اب چونکہ مملکت پاکستان میں روز روز ایسے واقعات ہوتے ہیں تو ہم اسے معجزے والا نہیں معجزوں والا شہر گردانتے ہیں۔

Read more

عید ہوندی سی ساڈھے ویہلے ۔۔۔

ہم اور ہمارے بڑے تو ہر برس کی طرح اس سال بھی بس باتیں ہی بگھارتے رہ گئے کہ عید سادگی سے منانا چاہیے اور آس پاس کے لوگوں کو نہیں بھولنا چاہیے۔

پر اچھا یہ ہوا کہ اس بار کورونا بھی سادگی کے عملی معنی دیکھ کر سٹپٹا گیا۔ باقی دنیا میں بھلے جو بھی تماشا ہو رہا ہو۔ ہمارے ہاں کورونا آگے آگے اور لوگ پیچھے پیچھے ہیں۔

آصف زرداری نے صدر بننے کے بعد گڑھی خدا بخش میں جب یہ الفاظ کہے تھے تو کورونا پیدا بھی نہیں ہوا تھا۔ ’ارے موت ہمیں کیا ڈرائے گی۔ ہم تو وہ لوگ ہیں جو موت کا تعاقب کرتے ہیں۔‘

Read more

پیدائش سے پہلے مرنے والا خوش نصیب بچہ

میں خیرمقدم کرتا ہوں ان سورما جہادیوں کا جنھوں نے گذشتہ منگل کو کابل کے ایک زچہ بچہ ہسپتال میں کافر نوزائیدہ بچوں، ان کی دس دین دشمن ماؤں، اغیار کی ایجنٹ چند نرسوں اور ایک مشرک سیکورٹی گارڈ سمیت چوبیس ناپاک روحوں کو قتل اور سولہ کو زخمی کر دیا اور وہ بھی ایک ایسے ہسپتال میں جس کا انتظام و انصرام یہود و نصاری کی پروردہ تنظیم ڈاکٹرز ود آؤٹ بارڈرز (ایم ایس این) کے ہاتھ میں ہے۔

Read more

کورونا بمقابلہ شکم

’بھوک سے ایک انسان مرے تو المیہ ہے۔ دس لاکھ مر جائیں تو محض اعداد ہیں‘ ( جوزف اسٹالن)۔ انفرادی موت زخم اور اجتماعی موت مرہم۔ یعنی درد کا حد سے گذر جانا دوا ہو جانا۔ میں نے پارٹیشن دیکھی نہیں بس کہانیاں سنی ہیں کہ بیس لاکھ انسان قتل اور لگ بھگ ایک کروڑ بے گھر ہوئے۔ جن پر گزری وہ واقعات سناتے ہوئے ذرا بھی افسردہ نہیں ہوتے۔ ان کی گفتگو میں بس یہ خلش جھلکتی ہے کہ

Read more