عوام تو عوام ہوتے ہیں

آمروں سے اشتراکیوں تک اور نازیوں سے جمہوریت کا قصیدہ پڑھنے والوں تک، آخر سبھی عوام عوام کرتے ہوئے، عوام کے کندھوں پر سوار ہو کر اقتدار کی سیڑھیاں چڑھ کر جب سنگھاسن پر جا براجمان ہوتے ہیں تو وہی کیوں کرتے ہیں جو وہ چاہتے ہیں یا جو کرنے کو وہ بہتر خیال کرتے ہیں؟ محض اس لیے کہ مسئلوں کا تعلق عوام کے ساتھ ہی ہوا کرتا ہے اور جاہ و مناصب کے کوشی ان مسائل کا جاپ

Read more

پارٹنر ( شریک حیات ) ملنے مشکل ہوئے

میں اتوار کے روز ایک معاصر اخبار میں ”ضرورت رشتہ“ کے اشتہار ضرور دیکھتا ہوں۔ ایسا کرتے ہوئے مجھے چالیس پینتالیس برس ہو چکے ہیں یعنی یہ سلسلہ میرے اپنے بیاہ سے بھی پہلے کا چل رہا ہے۔ دوستوں نے کئی بار اس علت کا سبب جاننا چاہا، میں نے اکثر ہنس کر یہ کہتے ہوئے ٹال دیا کہ شاید کوئی بہتر رشتہ مل جائے۔ ظاہر ہے ایسا کہنا مذاق کے علاوہ اور کچھ نہیں مگر مجبوری میں اس نوع کا مذاق کرتے ہوئے دل واقعی خون کے آنسو روتا ہے۔ درحقیقت ”ضرورت رشتہ“ کے اشتہار پورے معاشرے کے حالات کا عکس ہوتے ہیں جو کسی ملک کی سیاست، معیشت، معاشرت اور نفسیات کو ظاہر کرتے ہیں۔

Read more

آزادی، جمہوریت اور مساوات

نفسیات کی ایک اصطلاح ”فکسڈ آئیڈییشن“ یعنی ”فکر منجمد“ بھی ہے۔ اسی میں مبتلا ایک سابق مزدور رہنما نے مجھ سے سوال کیا کہ ”آزادی، جمہوریت اور مساوات“ بارے آپ کا کیا خیال ہے آیا یہ ہمارے ملک میں موجود ہیں اور اگر نہیں تو انہیں پانے کی خاطر ہمیں کیا کرنا چاہیے؟ میں نے چھوٹتے ہی کہا کہ یہ تینوں صفات ہمارے بلکہ آپ کے ملک میں موجود ہیں۔ آزادی یوں کہ چوک میں بیٹھ کے ہم بات کر

Read more

تلملاہٹ کیا فطری عمل ہے؟

ایک محاورہ جو آج کل بہت عام ہے وہ یہ کہ اگر بلی کو بھی دیوار کے ساتھ لگا دو گے تو وہ بھی (تلملا کر) پنجے مارے گی۔ اس کے علاوہ اب نیٹ پر ایسی فلمیں بہت زیادہ ہیں جن میں دکھایا گیا ہے کہ جب کسی جانور کو قید کر لیا جائے تو وہ بہت تلملاتا ہے (مگر کیوں پکڑا گیا، اس پر سٹپٹاتا نہیں ہے)، پھر تھوڑا عرصہ گزر جانے کے بعد راضی بہ رضا ہو جاتا

Read more

ہنی بال کے ہاتھی ہی اچھے تھے

اطالیہ میں فیشن کے مرکز اور معروف شہر میلان سے روانہ ہو کر جب سوئیٹزر لینڈ کی سرحد عبور کی تو میرے ہمراہی فطری حسن کو دیکھ دیکھ کر مسحور ہوتے ہوئے ایلپس کی برف پوش چوٹیوں، پہاڑوں کے پہلووں کو ڈھانپے ہوئے سرو و شمشاد کے درختوں، چٹانوں کے بطن سے پھوٹتے ہوئے چشموں، سینکڑوں میٹر بلند سنگی چٹانوں سے نیچے بہتی ہوئی آبشاروں، زمردیں جھیلوں اور ڈھلانوں پہ سجے انگور کے باغوں پر تبصرے کر رہے تھے لیکن

Read more

میں بھی کمیونسٹ تھا

جی ہاں تھا، اس لیے کہ میں امام علی نازش اور بعد میں بہت ہی قلیل مدت کے لیے جام ساقی والی کمیونسٹ پارٹی کا رکن تھا، لیکن ایک عرصہ سے نہیں ہوں۔ کوئی شخص تب تک خود کو کمیونسٹ نہیں کہہ سکتا جب تک وہ کسی ایسی پارٹی کا رکن نہ ہو جو کمیونسٹ نظریے کو لاگو کیے جانے کی حامی ہو، کیونکہ اصطلاح کمیونسٹ لفظ کمیون سے ماخوذ ہے جو منظم اکٹھ کو کہتے ہیں۔ البتہ انسان انفرادی

Read more

الوداع سر نواب

طب کی تعلیم کے ابتدائی دو برسوں میں پڑھایا جانے والا علم الابدان مجھے نہیں بھاتا تھا۔ انسانی لاشوں کی چیر پھاڑ، ڈائسیکشن ہال میں فارملڈی ہائیڈ سے محفوظ کردہ سکڑی اور اکڑی ہوئی برہنہ لاشوں کا منظر اور مذکورہ مادے اور مردہ ابدان کی ملی جلی بو جو مجھے بہر صورت بدبو لگتی تھی میری طبع نازک پہ گراں گزرتی تھی۔ پھر اس شعبہ کی سربراہی کے لیے پروفیسر نواب محمد خان صاحب کا تقرر ہوا۔ ان کی وجاہت،

Read more

کام جن کا ہے لڑ کے مر جانا

ہم پاکستانی تو ویسے ہی ”عقیدت“ کے مارے ہوئے ہیں۔ یاد رہے ”عقیدہ“ کی بات نہیں کر رہا۔ ہمارے ہاں تو سیاست میں بھی عقیدت ہوتی ہے۔ جیالے، پروانے اور نجانے کٹ مرنے کو تیار کیا کیا نام اوڑھے پھرتے ہیں۔ اگر فوج سے ”عقیدت“ ہے تو کوئی اچنبھے کی بات نہیں۔ فوج تو دنیا کے ہر ملک میں ہوا کرتی ہے چاہے وہ امریکہ اور روس کی فوج کی طرح ناخن سے ناک تک مسلح ہو یا سوئٹزرلینڈ کی

Read more

اشتمالی نظام کو بھول جاؤ

آج بھی بہت سے لوگ ہیں، بالخصوص پاکستان میں اور ہندوستان میں تو ہیں ہی جو ملک میں اشتمالی نظام (سوشلزم) رائج کرنے بلکہ اگر سچ کہا جائے تو اسے اسلامی نظام کی طرح ”نافذ“ کرنے کے خواب دیکھتے ہیں۔ حقیقت بھی یہی ہے کہ ماسوائے نظام سرمایہ داری کے کسی بھی اور نظام نے چاہے وہ کمیونزم تھا، سوشلزم تھا، نیشنل سوشلزم تھا یا اسلامی نظام، نے کہیں بھی بتدریج رواج نہیں پایا۔ ہٹلر کے جرمنی سے لے کر لینن اور سٹالن کے روس اور سوویت یونین تک، ماؤ کے چین سے لے کر کاسترو کے کیوبا تک، ابن سعود کے سعودی عرب سے لے کر خمینی کے ایران تک، جہاں بھی جو نظام آیا اسے شورش کے بعد پہلی حکومتوں کو زبردستی ختم اور بعض اوقات ملیا میٹ کر دینے کے بعد ”نافذ“ ہی کیا جاتا رہا ہے۔

Read more

جمہوریت پسندی کس لیے؟

”جمہوریت اگرچہ مثالی طرز حکومت نہیں ہے لیکن اس سے بہتر کوئی اور نظام حکومت ابھی تک دریافت نہیں ہوا“ یہ فقرہ شاید بہت سے سیاسی مشاہیر کہہ چکے ہیں۔ مجھ پر یہ بات اس طرح آشکار نہیں ہوئی جس طرح ”سورہ ابراہیم“ کے مطابق ان عظیم پیغمبر پر خدا کی یکتائی منکشف ہوئی تھی، جو نہ سورج تھا، نہ بادل، نہ ہوا نہ ہی چاند ستارے، بس وہ تھا جو دکھائی نہیں دیتا لیکن محسوس کیا جا سکتا ہے۔

Read more

سب کچھ پہلے جیسا رکھنے کے خواہاں لوگ

اس نے مجھ سے کہا، ”میں تو یہ سمجھا تھا کہ آپ ہمارے بندے ہیں“ ۔ ” میں اللہ کا بندہ ہوں کسی اور کا بندہ نہیں ہو سکتا“ میں نے جواب دیا۔ ” اللہ بھی تو ہمارا ہی ہے“ ۔ اس نے اللہ کو نعوذ باللہ اپنی اجارہ داری میں لے لیا۔ اللہ کو صرف ”ہمارا“ کہنا ایسے ہی ہے جیسے اسے ملکیت بنا لیا گیا ہو کیونکہ اللہ تو سبھی کا ہے۔ مفسرین قرآن اس پر متفق علیہ

Read more

جذباتی ہوئے بغیر

عمر کا ایک حصہ ہوتا ہی ایسا ہے جس میں انسان عقل و فہم سے اگرچہ عاری نہیں ہوتا لیکن فیصلوں اور رویوں کے انتخاب میں جذبات غالب رہتے ہیں۔ دلچسپ بات ہے کہ اس خاص عمر کے جذبات دماغ کے کسی خانے میں Save ہو جاتے ہیں، جو عمر کے کسی بھی حصے میں جذباتی پن کو عارضی طور پہ ہی سہی پر انگیخت کر سکتے ہیں۔ جیسے سترہ برس کی عمر میں مجھے نوجوانوں کی اکثریت کی طرح

Read more

ثمینہ کیوں چیختی ہے

مجھے لگتا ہے کہ گزشتہ مضمون میں میں نے قرآن کی اس آیت کا حوالہ دے کر جس میں سرکش ( بدزبان، کج بحث، تنک مزاج ) بیوی کو سمجھانے، بستر علیحدہ کیے جانے کے باوجود چیخنے سے باز نہ آنے پر کو پیٹے جانے تک کا حکم ہے، اپنے تئیں خود کو فیمینسٹ خیال کرنے والی خواتین کو اپنے درپے کر لیا ہے۔

ایک بزعم خود قرآن شناس خاتون نے فرما یا کہ قرآن میں ان بیویوں کو پیٹنے کا حکم ہے جو شوہر کی عدم موجودگی میں بے راہرو ہوتی ہیں حالانکہ ایسی بدکار عورتوں کے لیے یکسر دوسری آیت ہے جس میں انہیں پیٹنے کا بالکل حکم نہیں بلکہ سمجھانے اور تادم مرگ گھر میں بند کیے جانے کا حکم ہے۔

ڈاکٹر طاہرہ کاظمی کی مجھ پر ارسال کی گئی مکمل پھٹکار یوں ہے :
آپ اسلام میں سے اپنی مرضی کی باتیں ہی دیکھنے کے کیوں عادی ہیں؟
آپ نے تین دفعہ عقد کیا اور دوسری کو تیسری بیوی کے بارے میں بتایا ہی نہیں، وجہ چاہے کچھ بھی ہو۔

Read more

میزوگائنسٹ اور احکام الٰہی

فیمینسٹ اور میزوگائنسٹ ہونے کی اصطلاحیں زیادہ پرانی نہیں ہیں۔ مگر مسلمان آبادی کی اکثریت والے ملکوں میں خواتین کا ایک چھوٹا سا حلقہ ان دونوں اصطلاحوں کے معانی و مفہوم کو یکسر اسی طرح لینے لگا ہے جیسا کہ مغرب کے ان ملکوں میں جہاں یہ اصطلاحیں وضع ہوئیں اور ان کے تحت تحریکوں کو ہوا دی گئی، جو ابھریں، پنپیں، کچھ مقاصد حاصل کیے اور معدوم ہو گئیں۔ امریکہ، برطانیہ فرانس کو ہندوستان، پاکستان اور ایران سے مماثل

Read more

پاپولسٹ رہنماؤں کے دورے

روس کی ایک بہت معروف ملکہ گزری ہیں ملکہ ایکاترینا فتاروئے انگریزی میں کوئین کیتھرین سیکنڈ، جنہیں کیتھرین عظمیٰ بھی کہتے ہیں۔ انہوں نے بہت اچھے اچھے کام کیے تھے جن میں سے ایک کارنامہ بین المذہبی برداشت کو فروغ دینا بھی شامل تھا اور ماسکو کی پہلی مسجد کے لیے زمین بھی انہوں نے مسلمانوں کو ودیعت کی تھی، آج اس مسجد کو ”تاریخی مسجد“ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اچھے دل والے کچھ سادہ بھی ہوتے ہیں

Read more

مزدور سے متعلق تصورات کی تصحیح

سوشل میڈیا ہر شخص کا اخبار، ہر شخص کا ڈائجسٹ اور ہر شخص کا اپنا ذریعۂ اظہار یعنی میڈیم بن چکا ہے۔ یکم مئی کے روز لوگوں نے یہ جانے بغیر کہ ”یوم مئی“ کی تاریخ کیا ہے، یوم مئی کو سب سے پہلے کہاں سرکاری طور پر منایا جانے لگا اور مزدور جن کے لیے یہ دن اب دنیا بھر میں ماسوائے روس کے ( کیونکہ یہاں اب یکم مئی کو ”یوم بہار و محنت“ کا نام دیا جا چکا ہے ) ”یوم مزدور“ کے نام سے منایا جانے لگا ہے، وہ مزدور کس نوعیت کا مزدور ہو سکتا ہے، ہر طرح کے طغرے اور تاثرات سوشل میڈیا پر آویزاں کیے۔ دانشوروں نے اخبارات میں مضمون لکھے جیسے ایک بڑے افسر یاسر پیرزادہ نے مزدوروں کے بارے میں مضمون لکھا۔

Read more

تجزیے کا تجزیہ

تجزیہ لفظ جزو سے مشتق ہے۔ جزو ٹکڑے یا حصے کو کہا جاتا ہے۔ تجزیہ بنیادی طور پر سائنس سے منسوب ہے۔ کسی بھی کیمیائی مادے کے اجزاء کو علیحدہ کرنے کو تجزیہ یعنی Analysis کہا جاتا ہے۔ جب اس لفظ کو سماجی یا عمرانیاتی حوالے سے برتا جاتا ہے تو اسے بالعموم آراء شماری کہا جاتا ہے جس کی پھر تحلیل کی جاتی ہے یعنی Synthesis۔ اس سے مراد ٹکڑوں یا اجزاء کو نئی، مناسب یا ممکنہ ترتیب میں

Read more

محبت اور بیاہ

بیاہ، شادی یا عروسی ایک سماجی ادارہ ہے جس کا محبت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ یہ ادارہ کب، کیوں اور کیسے پیدا ہوا؟ اس بارے میں کوئی حتمی رائے موجود نہیں۔ جتنی بھی آراء ہیں وہ مفروضات پر مبنی ہیں۔ قدیم اور نیم متمدن سماج دونوں میں ہی ازلی کنواروں کی تعداد آٹے میں نمک کے مصداق رہی ہے۔ مغربی ممالک کی بہ نسبت مشرقی ممالک میں بن بیاہے افراد کی تعداد کم ہے اور وہاں کسی مرد کے

Read more

پاسبانِ عقل کی دیوانگی

بہتر ہے دل کے ساتھ رہے پاسبان عقل لیکن کبھی کبھار اسے تنہا بھی چھوڑ دے یہ شعر عموماً تب پڑھا جاتا ہے جب مدمقابل کے دلائل کا جواب دیا جانا ممکن نہیں رہتا, پھر اپنے جذبات کو مقدم ٹھہرانے کی خاطر اس شعر کا سہارا لیا جاتا ہے۔ یوں یہ شہر اپنے طور پر ایک ضرب المثل کی حیثیت اختیار کر چکا ہے کہ جذبات بھی بہرحال حقیقت ہوتے ہیں، ہر وقت دلائل و براہین کام نہیں آ سکتے۔

Read more

زاویۂ نگاہ تبدیل کیجیے

پاکستان میں جب سوویت یونین اور اس سے وابستہ اشتراکی نظام کی بات کی جاتی ہے تو اس پر بہت تأسف کا اظہار کیا جاتا ہے کہ سوویت یونین نے مشرقی یورپ کے ملکوں میں اشتراکیت کو رواج دینے، اس کی برقراری اور استحکام کی خاطر جارحیت اور جبرو تشدد اختیار کیا تھا۔

شاید ایسی بات کرنے والے یہ نہ بھولتے ہوں کہ سرمایہ دار ملکوں امریکہ، برطانیہ، فرانس، اٹلی، بلجیئم وغیرہ نے بھی دوسرے ملکوں میں اپنی سربراری کی خاطر کبھی جارحیت اور جبر و تشدد کی راہ اختیار کرنے سے گریز نہیں کیا، جس کی تازہ مثالوں میں افغانستان، عراق اور لیبیا کی حالت زار کو پیش کیا جا سکتا ہے مگر بات کرنے والوں کو سوویت یونین کے حکام کے اعمال غیر انسانی لگتے ہیں، البتہ انہیں چین کے واقعات تقریباً بھول جاتے ہیں۔

Read more

عوام پہلے یا حکام؟

خدا اس قوم پر ویسے ہی حکمران مسلط کر دیتا ہے جیسی وہ خود ہوتی ہے۔ اس کا کیا مطلب ہے کہ پاکستان میں بسنے والے تمام لوگ، حکمران افراد یا اشرافیہ کے دوسرے لوگوں کی مانند امیر اور بے پروا ہیں یا جرنیلوں کی طرح سخت گیر اور طالع آزما۔ ایسا تو خیر ہے ہی نہیں اور نہ ہی غیر متمدن اور غیر ترقی یافتہ ملکوں میں ایسا ہو سکتا ہے۔ تو کیا وہ یعنی قوم ان کی طرح

Read more

تناسلی جرثوموں میں کمی اور بنی نوع انسان کا خاتمہ

دوستوں کی فرمائش پر۔ برطانوی اخبار ”گارجین“ میں شائع ہوا، ایرن بروکووچ کے مضمون کا اردو ترجمہ پیش ہے۔ ایرن بروکووچ ایک ماحولیاتی مجاہدہ ہیں جن کے بارے میں ان کے ہی نام سے ایک فلم بھی بن چکی ہے۔ ***              *** بنی نوع انسان کا خاتمہ، اس سے کہیں پہلے ہو سکتا ہے، جس قدر ہمیں اندازہ ہے۔ متنوع کیمیائی اجزاء کا تجارتی استعمال دنیا بھر میں مردوں کی قوت تناسل Fertility پر

Read more

جہنم سے اللہ بچائے پر جنت؟

جہنم بارے سوچ کر تو ویسے ہی روح بھی کانپ جاتی ہے، اللہ مجھے اس سے تو حفظ و امان میں رکھے مگر جب جنت سے متعلق سوچتا ہوں تو بہت پریشاں ہو جاتا ہوں۔ ٹھیک ہے وہاں دودھ اور الکحل سے پاک شراب یعنی مشروب کی نہریں ہوں گی، حوریں اور غلمان ہوں گے مگر عبادت کرنے کی ضرورت نہیں ہو گی کیونکہ دنیا میں تو ہم عبادت جہنم کی آگ اور عذاب سے بچنے اور جنت کے حصول

Read more

موت کیا ہے، سب معلوم ہوگا یا نہیں؟

19 برس پیشتر 9 مارچ 1999 کو میری ”عارضی موت“ واقع ہو گئی تھی۔ اگر میں مریض ہوتا اور گھر میں کسی ڈاکٹر کے ہوتے ہوئے یا ہسپتال میں ایسا ہوتا تو اسے طبی زبان میں ”کلینیکل ڈیتھ“ کہا جاتا، مگر میری یہ موت تین بلند عمارتوں کے درمیان خالی رستے پر چلتے ہوئے تب ہوئی تھی جب کسی نے پشت سے میرے سر پر کسی کند شے سے زوردار وار کیا تھا، جس کا مجھے زندگی میں واپس آنے

Read more

کھانا خود گرم کرنا مسئلہ نہیں

خود کو بہت روکا کہ اس بارے میں کچھ نہ لکھوں مگر بات برداشت سے باہر ہو گئی ہے۔ ”کھانا خود گرم کر لو“ ایک نعرہ تھا، مگر نعرہ یونہی نہیں ہوتا اس کے پس پشت عوامل بھی ہوتے ہیں، واقعات بھی، ردعمل بھی چاہے منطقی ہو یا غیر منطقی۔ جیسے 8 مارچ کے عورتوں کے جلوس میں ایک دوسرا نعرہ تھا، ”میرا جسم میری مرضی“ جو درحقیقت ”میرا بدن میری مرضی“ تھا۔ اس کے دو مطلب لیے جا سکتے

Read more

جانور بھی جاندار ہیں

پانچ سال پیشتر نیوزی لینڈ میں جانوروں کے حقوق سے متعلق ایک ترمیمی بل منظور کیا گیا تھا اور یوں یہ دنیا کا پہلا ملک بنا جس نے تمام جانوروں کو Sentient تسلیم کر لیا جس کا مطلب ہے کہ تمام جانور ”حس کا ادراک“ رکھتے ہیں یعنی جانور تمام مثبت اور منفی احساسات کے حامل ہیں ، چنانچہ انہیں پالنے والوں پر لازم ہو گا کہ جانوروں کا چاہے ان کے گھریلو پالتو جانور ہوں یا فارم میں پالے

Read more

فیمنیزم اور ناک پہ غصہ دھرا ہوا

8 مارچ کو گزرے 3 روز ہوئے تھے۔ کوئی خواتین مارچ ہوا تھا۔ کوئی پلے کارڈز کا مسئلہ تھا۔ کچھ کے لیے ان پہ لکھے نعرے درست تھے، کچھ کے لیے نہیں، کچھ کی نگاہ میں معیوب تھے کچھ کی نظر میں دلچسپ۔ کچھ نعرے گزشتہ برس کے تھے جیسے ”میں کھانا گرم نہیں کروں گی“ کچھ نئے تھے جیسے ”اپنا بستر آپ گرم کرو“ ۔ اگرچہ یہ نعرہ ناقابل فہم تھا جو سمجھا جا سکا وہ ناقابل عمل۔

Read more

یاد پیا کی آئے

کوئی زندگی نئی زندگی نہیں ہوتی البتہ زندگی کی ایک اور شکل ہو سکتی ہے۔ حتٰی کہ ہماری اپنی زندگی بھی۔ تحقیق ہے کہ ہر پیدا ہونے والی بچی کی تخم دانی لاکھوں بیضے سے بھری ہوتی ہے جو بلوغت تک بہت بڑی مقدار میں جھڑ جاتے ہیں، چند درجن باقی بچ رہتے ہیں جن میں سے ایک، دو یا آٹھ دس بارور ہوتے ہیں جو ہم بن جاتے ہیں۔ مطلب یہ کہ زندگی تو کب سے ہے اور پرانی

Read more

مردانہ شاونزم : خواتین کو قبول؟

اللہ بخشے ہمارے ایک دوست تھے عزیز صاحب، کہتے تھے : ”یہ جو خواتین کی تعظیم اور ان کا خیال رکھے جانے کا سلسلہ ہے یہ اصل میں مردانہ شاونزم کا معکوس اظہار ہے“۔ سچ ہے میں نے کبھی عورتوں کو یہ کہتے نہیں سنا اور نہ ہی کہیں لکھا پڑھا کہ ”ہم مردوں کا بے حد احترام کرتی ہیں“۔ شاید ایسا ہو کہ انہوں نے مرد کے احترام، مرد کی ان کی زندگی، گھر اور کنبے میں ضرورت اور

Read more

میں حقوق نسواں کا مخالف ہوں

میں حقوق کے سلسلے میں جنس کی تخصیص کا مخالف ہوں۔ مردوں اور عورتوں کے حقوق یکساں ہونے چاہئیں لیکن کیا کبھی یہ یکساں تھے بھی؟ کیا کہیں یکساں ہیں بھی؟ کیا کبھی یکساں ہوں گے بھی؟ ایسا ہو نہیں سکتا۔ آپ نے میرے بارے میں شاید فوراً طے کر لیا ہو کہ میں لبرل ازم کا مخالف ہوں یا مذہبی رجعت پسند ہوں یا شاید اذیت پسند انا پرست ہوں۔ سچ تو یہ ہے کہ کوئی بھی مرد چاہے

Read more

روک سکو تو روک لو: 8 مارچ آتا رہے گا

کسی ”زن دشمن“ نے چیلنج دیا ہے کہ خواتین مارچ کا ہر حامی اس مارچ میں اپنی ماں، بیوی، بہن اور بیٹی کو لے کے جائے۔ میری والدہ حیات نہیں، میری بہنیں بہت زیادہ معمر ہیں، میری بیٹی مکہ معظمہ میں مقیم ہے اور میری بیوی ماسکو میں ورنہ میں ان سب سے کہتا کہ عورتوں کے حق بارے جدوجہد میں شریک ہونا نہ صرف ان کا حق ہے بلکہ ان پر فرض بھی ہے۔ میری بات ماننا نہ ماننا

Read more

کورونا موت نہیں،موت زندگی ہے

جی ہاں اگر موت حقیقت نہ ہوتی تو زندگی کو زندگی نہ کہا جاتا، شاید دوام کہا جاتا یا پھر کچھ نہ کہا جاتا یا کچھ نہ کچھ کہا جاتا مگر زندگی یا حیات بہرحال نہ کہا جاتا ، یوں موت کے بنا زندگی زندگی ہرگز نہ ہوتی۔ ایسی صورت میں چاہے انسانی طبع میں وہ ساری کیفیات ہوتیں جو کسی موجود کو لاوجود میں تبدیل کرنے کے قابل جانی جاتی ہیں تب بھی وجود لاوجود نہ ہو پاتا۔ یہ

Read more

باز اور قمریاں

جنگ کی وجوہات بارے میرے لکھے مضمون کو اگر کچھ نے پسند کیا تو کچھ نے اسے پسند کیا یا نہیں، یہ بات اہم نہیں تھی بلکہ ان کا یہ تبصرہ اہم تھا کہ جنگوں کے ختم ہونے کی تمنا کی جا سکتی ہے لیکن ایسا ہوگا کبھی نہیں۔ اس پر ایک انگریزی کا محاورہ ”Never say never“ یعنی ”کبھی نہیں کبھی نہ کہو“ یاد آیا۔ جنگ اور امن سے متعلق مضمون کے آخر میں میں نے لکھا تھا کہ

Read more

جنگیں کس لیے، امن کی خواہش کیوں؟

لیو تالستوئی ( ٹالسٹائی، ہماری مصیبت یہ ہے کہ ہم انگریز پر اعتبار کر لیتے ہیں جو حرف ت نہیں بول سکتا، بہرحال) بہت بڑا ادیب ہی نہیں فلسفی بھی تھا۔ اس کی امن پسندی سے ہی متاثر ہو کر گاندھی نے اہنسا یا عدم تشدد کے طریق کو اپنی مزاحمتی سیاست کی بنیاد بنایا تھا۔ تالستوئی کا ایک ضخیم ناول ہے جس کا روسی میں اصل عنوان ”وائینا ای میر“ ہے۔ روسی زبان میں لفظ ”میر“ کے معانی امن بھی ہیں اور دنیا یا جہان بھی مگر انگریز مترجم نے مناسب سمجھا تھا کہ اس کا ترجمہ ”جنگ اور جہان“ کی بجائے ”وار اینڈ پیس“ کر دے جو پھر مستعمل ہو گیا۔ تالستوئی کے اس ناول میں جنگ اور جنگ سے وابستہ مفادات اور جنگ کی وجوہ کا ادبی و علمی اظہار ہے۔ ناول میں تالستوئی نے امن کی خواہش کا اظہار نہیں کیا بلکہ جنگ کی ہولناکیوں کی جزئیات بیان کر کے جنگ کی قباحتوں کو نمایاں کیا ہے جو بالواسطہ امن کی ہی تمنا ہے۔

Read more

دو جنرل اور ایک عام آدمی

(روسی ادیب سلتی کوف شیدرن کی 1860 کی تحریر جسے 1962 میں ظ۔ انصاری نے اردو میں ڈھالا۔ دونوں ہستیوں کی روحوں سے معذرت کے ساتھ کچھ ترمیم و تحریف کے بعد پیش ہے۔) کہتے ہیں کسی زمانے میں دو جنرل تھے۔ دونوں تھے بڑے من موجی۔ دونوں جنرلوں نے ساری عمر دفتروں میں کام کیا تھا۔ انہیں سوائے حکم دینے کے اور کچھ نہیں آتا تھا۔ فوج سے فراغت کے بعد ان دوہوں نے سینٹ پیٹرزبرگ کی ایک سڑک

Read more

ہجرت کا دکھ

شکر ہے کہ میں اور میرے جیسے بہت سے تارکین وطن مہاجر نہیں ہوئے۔ اپنی جنم بھومی میں جا سکتے ہیں، لوٹ سکتے ہیں۔ یہ شکر ستیہ پال آنند صاحب کا مضمون ”میری جنم بھومی اور میں“ پڑھ کے کر رہا ہوں کیونکہ ایسے بے تحاشا لوگ تھے جو اپنی جنم بھومی کو ایک بار ، بس ایک بار دیکھنے کی آس میں اس دنیا سے کسی دوسری دنیا کے لیے روانہ ہو گئے اور ابھی ایسے بہت سے ہیں

Read more

افسانے ہی رہ گئے ہیں کہنے کو

اس کی بیوی سامنے ہی فرش پر بچھے گدے پر لیٹی لحاف کے اندر کسمسا رہی تھی اور وہ کچھ دور دور پلنگ پر ٹیک لگائے، ٹیبل لیمپ کی روشنی میں ادق سی کتاب پڑھتے، باوجود اس کی قربت پانے کی اپنی خواہش پر، اس کی کل کی تلملاہٹ کو یاد کر کے، جب اس نے اسے اپنے قریب ہونے کا حد درجہ برا مناتے ہوئے چلانا شروع کر دیا تھا، سوچ رہا تھا کہ ممکن ہے اس کے من میں بھی اس کے قریب آنے کی خواہش کلبلا رہی ہو، تبھی کسمسا رہی ہے لیکن وہ چند منٹ بعد ساکت ہو گئی تھی اور اس کی لمبی سانسیں بتا رہی تھیں کہ وہ تو واقعی سو گئی۔

Read more

سیاست کا کھیل اور مالی مفادات سے بندھے لوگ

ایک کھیل تو وہ ہوتا ہے جو جیتنے یا ہارنے کی خاطر کھیلا جاتا ہے۔ یہ دراصل کھیل کا مقابلہ ہوتا ہے کہ کون اچھا کھیلتا ہے اور کون کم اچھا۔ ایک کھیل وہ ہوتا ہے جو سٹیج پر کھیلا جاتا ہے۔ اس کھیل میں مختلف سماجی، معاشرتی اورنفسیاتی مسائل کو اجاگر کیا جاتا ہے اور عموماً کوئی سبق دیے جانے کی کوشش کی جاتی ہے البتہ ایسے کھیل تجریدی نوعیت کے بھی ہوتے ہیں جن کو ہر کوئی چاہے

Read more

اپنی آپ بیتی پر تنقید و تبصرہ

چونکہ مستقبل قریب میں میری آپ بیتی کا دوسرا حصہ منظر عام پر آنے کو ہے، دوسرے پینسٹھ برس سے زائد عمر کے ہونے اور کورونا کے سبب ویکسی نیشن کے بعد بھی ہجوم میں جانے سے گریز کرنے کی ہدایت برقرار ہے، تیسرے اس بار بے تحاشا برف پڑی ہے اور درجہ حرارت معمول سے خاصا کم ہے، پھر گزشتہ کئی برس سے آمدنی ہے ہی نہیں ، چنانچہ نئی کتابیں میسر نہ آ سکیں اس لیے میں نے اپنی آپ بیتی کے پہلے حصے ”پریشاں سا پریشاں“ کو دوسری بار پڑھنے کا ارادہ کیا۔

ایک کمرے کے کوارٹر میں تین بچوں کے ساتھ رہتے ہوئے پڑھنا کوئی اتنا آسان نہیں ہوتا۔ پھر فیس بک، کورونا کی وبا کا فالو اپ اور ساتھ ہی ساتھ، وقت کاٹنے کو پاکستانی ڈرامہ سیریلز دیکھتے ہوئے مجھے اپنی لکھی اس کتاب کو باقاعدہ اور مکمل پڑھنے میں، آپ حیران ہوں گے ، دو تین ماہ لگ گئے، جب کہ میں ضخیم کتاب تین چار روز میں پڑھ لیا کرتا ہوں۔

Read more

محبت اور نفسیات

”محبت“ انسان کو پیدائشی طور پر ودیعت نہیں ہوتی شاید اسی لیے یہ اب تک جینیات میں دریافت نہیں ہو سکی ہے۔ اس کا سبق ہمیں بچپن سے پڑھایا جاتا ہے، خدا سے محبت سے لے کر انسان سے محبت تک، جانوروں سے محبت سے لے کر مٹی سے محبت تک۔ جنسی عمل جاندار کی جبلت ہے اور کشش و لگاؤ ممالیائی صفت۔ جبلت اور صفت مل کر اس سبق پر عمل پیرا ہونے کا وصف بنتا ہے جس کی تبلیغ و تشہیر میں سارے ہی ذرائع، سماج سے ابلاغ تک، شعوری طور پر ہمہ تن مصروف ہیں۔ اگر یہ کہا جائے کہ محبت کا رواج ثقافت کی دین ہے تو غلط نہیں ہوگا۔

Read more

لاکھوں غریب عورتوں کی کتھا

چند برس پہلے میں پاکستان میں جن خاتون کے ہاں مقیم تھا وہ مطلقہ تھیں۔ ان کے گھر کی دونوں خاتون ملازماؤں کو بھی فارغ خطی مل چکی تھی۔ ان کی رفقائے کار خواتین میں سے ایک بیوہ تھی جو جوانی میں ہی بیوہ ہو کر اپنے بچے پالنے کے جتن کرنے لگی تھی اور دوسری نے اپنے شوہر سے اپنا چھینا ہوا بچہ واپس لینے میں جوانی بتا دی اور بچہ لے کر کم از کم ایک جانب سے

Read more

بعض نجی میڈیکل کالجوں بارے

امریکہ اور یورپی ملکوں کے علاوہ بہت سے دیگر ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ملکوں میں تعلیم اور صحت سے متعلق نجی ادارے وجود رکھتے ہیں۔ ادارے چاہے نجی ہوں یا سرکاری وہ عمومی معاشرے کے رجحانات کے عکاس ہوتے ہیں۔ اگر حکومتیں مضبوط ہوں تو ادارے بھی مضبوط ہوتے ہیں۔ اگر قانون کی تعظیم کی جاتی ہو تو اداروں میں بھی قوانین اور اصولوں کی پاسداری کی جاتی ہے۔ اگر معاملہ برعکس ہو تو تعلیم اور صحت سے وابستہ ادارے چاہے وہ سرکاری ہوں یا نجی انحطاط کا شکار ہو جاتے ہیں۔ ایسے اداروں کو نجی ہاتھوں میں دیے جانے کی ضرورت تب محسوس کی جاتی ہے، جب ان کی طلب زیادہ ہو لیکن حکومتیں اپنے وسائل کے ذریعے ایسے اداروں کا انتظام و انصرام کرنے سے قاصر ہوں۔

Read more

دو پاکستان: بالکل مختلف

پانچ سال پہلے کی بات ہے جب وجاہت مسعود کی سٹڈی میں بیٹھے ہوئے میں نے اپنے گورنمنٹ کالج لاہور کے زمانے کے ہم جماعت اور اب پروفیسر ڈاکٹر حاجی شیخ محمد اسلم کو فون کیا کہ کل میں تمہارے پاس فیصل آباد پہنچ رہا ہوں۔ اس کے تھوڑی دیر بعد میرے بیٹے نے جو سٹڈی سے باہر اپنی والدہ سے بات کر رہا تھا، مجھے آ کر بتایا کہ ”پاپا، کل ہمیں گزشتہ برس گھر پہ پڑے ڈاکے کے

Read more

کشمیر او کشمیر

تیسری بات جس نے کشمیر کی آزادی کی تحریک کو نہ صرف کمزور کیا ہے بلکہ اس کے خلاف حکومت ہند کی معاندت کو بڑھا دیا ہے وہ ”کشمیر بنے گا پاکستان“ کا نعرہ ہے جو اب سرینگر سے پہلگام تک پوری وادی میں گونجنے لگا ہے۔ اس نعرے کو کیوں اور کس نے فروغ دیا اس کے بارے میں لب کشائی کسی کو بری لگے گی تو کسی کے لیے موجب مسرت ہو گی تاہم یہ شرارت کشمیر کو کشمیریوں کا رہنے دینے سے روکنے کی ایک کڑی ضرور بن چکی ہے۔

Read more

بے حسی کا مطلب ہے عزت نفس کی موت

ملک عزیز میں کوئی کاریگر آپ سے کام پورا کرنے کا وعدہ کر لے تو اعتبار نہ کیجیے گا۔ وہ بار بار وعدہ توڑے گا، بہانہ بنائے گا اور پھر وعدہ کر لے گا۔ کوئی پبلشر اگر آپ کا مسودہ داب جائے، آپ کو سالہا سال سے ”لارے“ لگا رہا ہو، آپ پھر بھی اس کے دفتر کا سال میں ایک پھیرا ضرور لگا لیتے ہوں کیونکہ آپ کا مسودہ اس کے کمپیوٹر میں کمپوز کیا ہوا محفوظ ہے۔ آپ

Read more

حکومتیں اور لوگ

جب سوویت فوج افغانستان میں آئی تو افغانوں نے غیر ملکی تسلط کے خلاف لڑنا شروع کر دیا۔ لوگ مہاجر ہو کر پاکستان آنے لگے تو امریکہ کو موقع مل گیا۔ بزعم خود کمیونسٹ خود کو ملحد کہنے میں فخر محسوس کرتے تھے۔ اس کے برعکس امریکہ کے ڈالر تک پر لکھا ہوا ہے ”ہمارا خدا پر یقین ہے“۔ امریکیوں نے اپنے پاکستانی اتحادیوں کی مدد سے ”جہاد“ متعارف کروایا کیونکہ سوویت یونین والے ”کافر“ تھے جبکہ امریکی اور دیگر

Read more

ڈاکٹر اظہر علی! تمہارے لیے نوحہ نہ قصیدہ

ژاں پال سارتر کی مذکور کتاب کے تیسرے اور آخری حصے کا نام Iron in the soul یعنی ”روح فولاد ہوئی“ ہے۔ روح میں فولاد ہو جانے کی صلاحیت کہنے کو تو سبھوں کے حصے میں آتی ہے مگر جو تعقیل کے عہد سے معلق پن سے گزرے بنا زندگی کے اس ذہنی انگ کو پھلانگ کر آخری حصے میں داخل ہو جاتے ہیں، ان کی روح متزلزل رہتی ہے۔ کہنے کو تو کہتے ہیں ‌ کہ نفسیات اور اعصاب سے وابستہ امراض کے معالجین کا ایک بڑا حصہ خود نفسیاتی مریض ہو جاتا ہے۔ بیشتر یاسیت یعنی ڈپریشن کا شکار ہو جاتے ہیں۔ کئی خود کشی کرنے کا سوچتے ہیں اور کچھ کر بھی لیتے ہیں مگر ڈپریشن میں قتل شاید ہی کوئی کرتا ہو۔

Read more

آزادی نسواں اور انہضام آزادی

وہ دونوں مرد دوستوں کی محفل میں بیٹھتے تو اسے ہر وہ حرکت اور عمل کرنے کی آزادی تھی جو ساتھی مرد کرتے۔ ان کے گھر میں دانشوروں، سیاست دانوں، سیاسی کارکنوں، نوجوانوں کا آنا جانا رہتا۔ سب ایک ہی میز پر بیٹھ کر کھانا کھاتے۔ ان میں سے جو زیادہ قریب ہوتے وہ ان کے کمرہ خواب تک میں آ جا سکتے تھے۔ کبھی کسی نے کسی پر کوئی اعتراض نہیں کیا تھا اور اعتراض کرنے کی کوئی وجہ بھی نہیں تھی۔

Read more

31 جنوری کا آنا تعجب خیز نہیں

بہتر تھا کہ اس پر آئی ایس پی آر خاموش رہتا لیکن خاموش رہنا تو عسکری قیادت نے سیکھا ہی نہیں۔ بذات خود اصطلاح عسکری قیادت کی اصطلاح بھی قیادت کی خواہش کی نشاندہی ہے۔ ملک کی قیادت سیاستدان کیا کرتے ہیں اور فوج کے اعلیٰ عہدیدار تو درحقیقت فوج کی بھی قیادت نہیں کرتے بلکہ اس کے نظم و ضبط کو برقرار رکھنے کے ذمہ دار ہوتے ہیں چہ جائیکہ لوگوں کی قیادت کرنا،  مگر چند ماہ پہلے تک فوج کے سربراہان کے حق میں شہروں میں کھلے عام بینر آویزاں دیکھے گئے ہیں۔

Read more

انسان کی سوچ جامد نہیں ہوتی

عمر، مطالعے، تجربے، مشاہدے، وسیع تر میل ملاپ اور باہمی تبادلہ خیالات انسان کی سوچ کو جامد نہیں ہونے دیتے۔ ضروری نہیں کہ اگر انسان دس پندرہ بیس سال پہلے کسی معاملے سے متعلق ایک خیال رکھتا تھا اس کا آج اس کے بارے میں دوسرا خیال نہیں ہو سکتا۔ ایسی تبدیلی خیال پر لوگ کیوں سیخ پا ہوتے ہیں، مجھے اس کی سمجھ نہیں آتی۔ کوئی مذہب سے پھر گیا تو مذہبی لوگوں کے ناراحت ہونے کی وجہ ہے

Read more

بارک اوبامہ بڑے بھائی سے ملتے ہیں

” تم جا کہاں رہے ہو؟“ اس نے مجھ سے پوچھا۔ ” اپنے بھائی سے ملنے“ ” مجھے نہیں معلوم تھا کہ تمہارا بھائی بھی ہے“ ” اب تک نہیں تھا“ اگلی صبح میں طیارے کے ذریعے واشنگٹن ڈی سی پہنچا جہاں میرا بھائی رائے رہتا تھا۔ ہماری آپس میں پہلی بار بات چیت آؤما کی شکاگو میں آمد کے دوران ہوئی تھی، جس نے تب مجھے بتایا تھا کہ رائے نے امریکن پیس کور کی ایک اہلکار سے بیاہ

Read more

نیا سال، خوشی یا گمان

1492 میں پادشاہ آیوآن سوم کے حکم سے نیا سال یکم ستمبر سے منایا جانے لگا۔اس تقریب میں بادشاہ ہر شخص کو ایک سیب دیتا تھا اور اسے ”بھائی“ کہہ کر پکارتا تھا۔ 1700 سے بادشاہ پیوتر اعظم یعنی پیٹر دی گریٹ نے یورپ کا چکر لگا کر آنے کے بعد نئے سال کو کرسمس سے منسوب کر دیا یوں نیا سال جولین کیلنڈر کے مطابق 7 جنوری یعنی قدامت پسند عیسائیوں کے مطابق یوم پیدائش حضرت عیسٰی کے موقع پر منایا جانے لگا۔ کمیونسٹ انقلاب کے بعد کرسمس کی تقریبات روک دی گئیں پھر کہیں 1949 میں جا کر یکم جنوری کی چھٹی کی جانے لگی۔

Read more

خوف و خدشات سے عبارت برس

دو طبی نفسیاتی کیفیات Hypochondriac اور Thanatophobic کا ایک حد تو اطلاق بہت زیادہ لوگوں پر ہوتا ہے لیکن میں ان کم لوگوں میں سے ہوں جن پر زیادہ ہوتا ہے۔ پہلی کیفیت میں وہ امراض جن کے بارے میں کوئی جان لے، خود کو ان میں مبتلا پاتا ہے بلکہ بعض اوقات تو مرض کی علامات کو بھی اس انداز میں خود پر طاری کرلیتا ہے کہ بڑے بڑے ڈاکٹروں کو یقین ہونے لگتا ہے۔ حد تو یہ ہے

Read more

2020 کے جاتے جاتے

سیکنڈ، منٹ، گھنٹے، ہفتے، ماہ و سال تو ہم نے سیاروں ستاروں کی گردش کے محتاج ہو کر بنائے ہیں مگر وقت دائمی رہا۔ وقت سے متعلق مابعدالطبعیات کیا کہتی ہے اور سائنس کیا، اس سے ہم فانی انسانوں کو بھلا کیا غرض جو پیدا ہی مرنے کی خاطر ہوتے ہیں مگر ہم دنیا میں موجود وقت کی اکائیوں سے بندھے ہوئے ضرور ہیں۔ وقت سے متعلق عمومی جھوٹ تو ہم عام ہی بولتے ہیں کہ ایک سیکنڈ یار جو

Read more

ہونے کی دلدل

صدیوں پہلے ایک صوفی نے کہا تھا، ”میں تھا، میں ہوں، میں ہوں گا“ تاہم انہوں نے، نے یعنی بنسری کو استعارہ بناتے ہوئے اپنی اصل سے کٹ جانے کا نوحہ بھی کہا تھا۔ اس کا مطلب ہے کہ وہ ایک کل کا ایک اٹوٹ حصہ تھے، مگر ایک علیحدہ وجود کے طور پر بھی موجود تھے اور خود میں کل یعنی مکمل۔ اپنی اصلیت کوکھو کر وہ اپنے منبع کے ساتھ باہم ہونے کی آرزو بھی رکھے ہوئے تھے۔

Read more

عورت کے حقوق: مشرق اور مغرب کا آدھا سچ

راشد منیر کا حلقہ احباب ایسے لوگوں کا تھا جن میں بزعم خود لبرل بھی تھے اوراسلام شناس دنیا سے ہم آہنگ افراد بھی جن میں سے بہت سوں کو حقوق نسواں اورآزادی نسواں سے متعلق منصف ہونے کا دعوٰی تھا۔ ہردو طرح کے لوگ اپنے اپنے اندازمیں اس صفت کی وضاحت کیا کرتے۔ کوئی کہتا کہ ہم نے عورتوں کو غلام بنا کے رکھا ہوا ہے جبکہ عورتوں نے مغرب میں مرد کی بالا دستی سے آزادی پا لی

Read more

صحت اہم ترین ہے

روس میں یہ فقرہ عام بولا جاتا ہے جس کا اردو متبادل غالباً ”جان ہے تو جہان ہے“ ہوگا۔ روس میں پیری ستروئیکا یعنی تعمیر نو کے عمل کے نتیجے میں جو ابتری پھیلی تھی اور بالآخر سوویت یونین کے انہدام پر منتج ہوئی تھی، اس سے لوگوں میں مایوسی اور بددلی پھیلی تھی، بیروزگاری کے شکار لوگ اور ساتھ ہی ان کے دوست عزیز بہتات سے شراب نوشی کی جانب راغب ہو گئے تھے۔ صحت مندی عام طور پر

Read more

لبرل طبقہ اور کمیونسٹ انقلاب کے بارے میں غلط فہمیاں

قبل اس کے کہ کچھ کہنے کی کوشش کروں میں یہ واضح کردوں کہ میں نہ لبرلز میں لبرل ہوں اور نہ کمیونسٹوں میں کمیونسٹ، ویسے بھی میرے خیال میں کمیونسٹ ہونے کے لیے کسی کمیونسٹ پارٹی کا رکن ہونا ضروری ہوتا ہے البتہ لبرل آپ کسی پارٹی میں شامل ہوئے بغیر بھی ہو سکتے ہیں کیونکہ اس ”ازم“ سے وابستہ کوئی بھی پارٹی محض اس اصطلاح پر تکیہ کم کرتی ہے کوئی اور پخ اکثر لگا لیتی ہے جیسے

Read more

جانا میرا ماسکو کلینک میں اور ڈاکٹر کو آنکھیں دکھانا

گزشتہ چند برسوں میں ماسکو میں نہ صرف یہ کہ ستر سے زیادہ سرکاری پولی کلینکس کی مرمت کر کے انہیں ماڈرن بنایا گیا ہے۔ جدید نئے گیجٹس فراہم کیے گئے ہیں بالکل صحت کی دیکھ بھال کا نظام بھی سہل تر کیا گیا ہے۔ کچھ سالوں سے میری آنکھوں میں اور خاص طور پر بائیں آنکھ میں سفید موتیا ( Cataract ) بڑھ رہا ہے۔ گزشتہ برس اکتوبر میں دکھایا تھا تو خاتون ڈاکٹر نے دسمبر میں آپریشن کرانے

Read more

قید حیات و بند غم

خبر یہ ہے کہ اطالیہ میں ایک شوہر بیوی کے جھگڑے سے اکتا کر گھر سے نکل کرجو پیدل چلنا شروع ہوا کہ ساڑھے چار سوکلومیٹر پر جا کر اسے خیال آیا کہ ہیں یہ کیا مگر ایسے بھی ملک ہیں جہاں گھرسے نکلنے سے پہلے کسی کو باہر کی سردی کا مقابلہ کرنے کی خاطر آدھا گھنٹہ تو گرم کپڑے جوتے پہننے میں لگ جاتے ہیں اور گھر بھی اس قدر مختصر ہوتے ہیں کہ آمنا سامنا ہوئے بغیر گزارہ نہیں البتہ نواب لیو تالستائی 20 نومبر 1910 کے سرد روز اسی طرح ہی نکلے تھے کہ ایک سٹیشن کے بنچ پر موت ان کے قریب آنے لگی۔

اس اثناء میں سٹیشن ماسٹر نے انہیں پہچان لیا مگرہر دور کے اس بڑے ادیب نے نصیحت کی کہ ان کی اہلیہ ان کے سامنے نہ لائی جائے۔ چنانچہ وہ اسے دیکھے بنا مر گئے اگرچہ کہتے ہیں کہ موصوفہ نے ان کے ضخیم ناول دو دو بار اپنے ہاتھوں سے لکھے تھے بلکہ کچھ تو کہتے ہیں کہ ناول تو لکھے ہی لیو تالستائی کی اہلیہ نے تھے۔

Read more

کیا روس واقعی گرم پانیوں تک پہنچنا چاہتا تھا؟

چار سال قبل جماعت اسلامی کے مرکز منصورہ جانے کا اتفاق ہوا جہاں اپنے ایک مہربان اور جماعت کے فعال رہنما سے جو چین کی دوستی کے گن گا رہے تھے، استفسار کیا کہ جناب روس تو کافر اور دشمن ملک تھا یہ چین بھی تو مسلمان ملک نہیں ہے، وہاں چین کی کمیونسٹ پارٹی کی حکومت ہے جس کے لیے آپ یعنی جماعت اسلامی نہ صرف سی پیک منصوبے کے بعد رطب اللسان ہے بلکہ جماعت نے کبھی چین

Read more

کیا صنفی تنازع رفع ہو گا؟

روس کے ایک سرکاری چینل پر ”دیوار“ نام کے ایک پروگرام میں شوہر اور اہلیہ میں سے ایک کو بند کمرے میں جانا تھا، جہاں سننے اور دیکھنے کو کچھ نہیں تھا، ماسوائے ان سوالوں کو سننے اور ان کا جواب دینے کے جو اس سے کیے جاتے۔ بیوی نے شوہر کو بھیجنے کا فیصلہ کیا اور کہا، ”فیصلے مرد کو ہی کرنے چاہئیں اور تم میرے حقیقی مرد ہو“ ۔ یہ بات اس ملک کی عورت کہہ رہی تھی

Read more

دوستیوں کی فصل کٹنے کا دکھ

میں 2000 میں نیو یارک سٹیٹ کے شہر Olean میں ملنے تو منیر سلیمی کو گیا تھا جو وہاں کے ایک ہسپتال میں Pulmonologist تھا مگراس نے بتایا کہ ظہیرالدین بابر بھی یہیں ہے اور وہ Gastroenterologist ہے. ظہیر الدین بابر جسے ہم ظہیر پپو کہا کرتے تھے، گورنمنٹ کالج لاہور میں ایف ایس سی کرنے کے دوران بھی میرا نہ صرف ہم جماعت تھا بلکہ ایک سیکشن میں تھا. میں اقبال ہوسٹل میں رہتا تھا اور وہ لاہور میں

Read more

کورونا، روس۔ پاکستان اور اسرائیل

روس میں پہلی سے پانچویں جماعت کے بچے بچیاں گزشتہ ڈیڑھ ماہ سے باقاعدہ سکول جا رہے ہیں جبکہ چھٹی سے گیارہویں تک سکول کے طالبعلم گھروں میں بیٹھے آن لائن کلاسیں لے رہے ہیں۔ یہ سلسلہ 25 دسمبر تک جاری رہے گا۔ تحقیق کے مطابق بچے کورونا وائرس کیریئر نہیں ہوتے بلکہ انہیں بڑے کورونا سے متاثر کرتے ہیں۔ چنانچہ سکول کے اساتذہ ماسک اوڑھتے ہیں مگر بچے نہیں۔

Read more

جب گہرا دوست مر جائے

روس کے وقت کے مطابق چاربج کے پینتیس منٹ، مغرب کی چار بج کے اکیس منٹ پرنماز پڑھ کے موبائل دیکھا توایک دوست کے بیٹے سہیل لاشاری جو میرے لیے بھی بیٹے سے بڑھ کے ہے، کی مسڈ کال تھی اور ساتھ ہی بھتیجے خبیب مرزا کا وٹس ایپ میسیج۔ علی پور سے یک لخت دو افراد کا رابطہ، تشویش ہوئی۔ میسیج کھولا تو دل بیٹھ گیا لکھا تھا، ”انکل خادم فوت ہو گئے“ ۔ خادم حسین جتوئی بلوچ میرا

Read more

دہشت گرد کیوں پیدا کیے گئے؟

کابل یونیورسٹی کے کتاب میلے میں ہوئی دہشت گردی سے متعلق جان کر گیارہ سالہ تمجید نے مجھ سے سوال کیا، ”دہشت گرد بالآخر پیدا ہی کیوں کیے گئے؟“ بچے کے اس سوال سے یہ تو واضح ہو گیا کہ بچوں تک کو علم ہو چکا ہے کہ دہشت گرد بنتے نہیں بلکہ بنائے جاتے ہیں ہاں البتہ روس میں بڑے ہوئے اس بچے کو یقیناً یہ معلوم نہیں کہ پاکستان جیسے ملک میں اب مزید دہشت گرد پیدا کیے

Read more

ہمکار اور جنسی ہراسانی: کچھ سمجھائیں گے کیا؟

ادھیڑ عمر کا ایک مرد اپنی ہمکار جوان لڑکی سے بلاوجہ اظہار محبت کرتا ہے۔ لڑکی کے چہرے پر بل پڑتا ہے، وہ کہتی ہے کہ بکواس بات ہے۔ مرد پوچھتا ہے کون سی بات بکواس ہے؟ لڑکی کہتی یہی محبت والی۔ مرد محبت پر پورا لیکچر دے ڈالتا ہے۔ لڑکی مسکرانے لگتی ہے۔

مرد نہ صرف اس کو کام میں مدد کرتا رہتا ہے بلکہ اس کی لیاقت اور اہلیت کی بھی مسلسل تعریف کرتا رہتا ہے۔ وہ اسے پھر کہتا ہے کہ ”میں تم سے پیار کرتا ہوں“ اور اکثر کہتا ہے۔ کبھی تو وہ دوسرے اہلکاروں کے سامنے اعتراف کرنے سے بھی نہیں چوکتا۔ اسے لڑکی کی آنکھوں میں اپنے لیے پیار کی جھلک دکھائی دینے لگتی ہے پھر سوچتا ہے شاید میرا گمان ہو۔ یہ سلسلہ کئی برس چلتا ہے۔

Read more

مختلف عمروں میں کم و بیش سب ایک سے ہوتے ہیں

آپ کے سامنے جو مجھ ایسے بڑی عمر کے لوگ بہت مدبر اورسنجیدہ بنے پھرتے ہیں وہ جب آپ کی عمر کے تھے تو کم و بیش آپ ایسے ہی تھے۔ جیسے آپ کو آج اپنے اعمال و افعال کوئی اتنے معیوب نہیں لگتے، تب انہیں بھی اسی طرح نہیں لگا کرتے تھے۔ کل میں نے بات کی تھی اپنی جوانی کے دنوں میں داڑھی والے ہم جماعت لوگوں کی۔ داڑھی والے تو تب بھی اگر کچھ ایسا ویسا کرتے

Read more

ٹھنڈا پراٹھا اور شلجم کا اچار

” کچا وسیع صحن ہو۔ چارپائی پر نیلی سفید دری پر سفید چادر بچھی ہو۔ پورا چاند ہو، ٹھنڈی ہوا چل رہی ہو۔ ایسا ہو تو کیا بات“ کی تھی۔ اختصار مدعا تو کسی حد تک بیان کر دیتا ہے مگر معاملے کا لطف بحال نہیں رہتا۔ اس میں میں پدی بھوری کتیا ”لیچی“ کا ذکر نہیں کر سکا۔ کیکر کے دو درختوں سے جھڑتے سنہرے سوندھی خوشبو والے گول اور نرم پھولوں کا ذکر نہ کر سکا۔ موری کے

Read more

کیا پاکستان میں سیاست ہے؟

سیاست کی تعریف کئی طرح سے کی جا سکتی ہے مگر حقیقت یہی ہے کہ کسی فرد، افراد، گروہ یا جماعت یعنی پارٹی کا اقتدار میں آنے کی خاطر لائحہ عمل اور برسر اقتدار آنے کے بعد حکومتی معاملات کو آگے بڑھانے اور انہیں اس انداز سے حل کرنے، جس سے حزب اختلاف کو جو خود بھی اقتدار میں آنے کا لائحہ عمل اختیار کیے ہوتی ہے، انگلی اٹھانے کا کم سے کم موقع میسر آئے، کی کوشش کرنے کو

Read more

مقبول تحریر کیا ہوتی ہے؟

مقبول یا ہر دلعزیز لکھنے والا ہونے کا ہرگز یہ مطلب نہیں ہوتا کہ لکھنے والا ذہین اور وسیع المطالعہ بھی ہو۔ یہ بات ہم میں سے بہت سوں نے کہیں پڑھی ہوگی یا کسی سے سنی ہوگی مگر اس کے ساتھ یہ توجہ نہیں کی ہوگی کہ ضروری نہیں کہ پڑھنے والے بے تحاشا لوگ خود بھی ذہین اور وسیع المطالعہ ہوں۔ آخر لوگ وقت گزاری یا محض دلچسپی کی خاطر بھی تو پڑھتے ہیں۔ مصروف لوگ جو پڑھنا بھی جانتے ہوں انہیں کیا پڑی کہ دقیق کتب یا کلاسیکی ادب کی ادق بھول بھلیوں میں خود کو بے بس کر کے رکھ دیں۔

Read more

مڑ کے دیکھنے کا آسیب

ماضی کو کوئی تبدیل نہیں کر سکتا تاحتٰی خود خدا بھی۔ حال بدلا جا سکتا ہے، ایک موڑ ہی تو مڑنا ہوتا ہے۔ یہ البتہ اور بات کہ موڑ مڑنے بارے کون سوچے پھر فیصلہ کر کے اس پر عمل درآمد کرے، ایسا سب سے نہیں ہوتا۔ مستقبل کے بارے میں بھی منصوبہ بندی کی جا سکتی ہے اگرچہ اس سلسلے میں بھی کہا یہی جاتا ہے ”تدبیر کند بندہ، تقدیر زند خندہ“ ۔ رہی ماضی سے سبق حاصل کرنے

Read more

تسبیح کا دانہ گم

ٹوٹی تسبیح کے دانوں کے مانند بکھر جانا متروک سا محاورہ ہے، مگر جب ڈوری ٹوٹتی ہے تو تسبیح کے دانے بکھرتے تو ہیں ہی۔ یہ محاورہ پانچ، بلکہ ہمارے بیچ کی صورت میں چھے برس باہم رہنے کے بعد فارغ التحصیل ہونے سے ہم پہ کیا سبھی طلبا و طالبات پہ عملی زندگی میں جانے سے منطبق ہوتا ہے۔

کل جب ہماری تب کی کلاس کی ٹوٹی ڈور والی تسبیح کے دانوں کو کونوں کھدروں سے ڈھونڈ ڈھونڈھ کے اکٹھا کرنے والے ہمارے دوست اور ہم جماعت جنرل ریٹائرڈ اسلم نے گروپ میں ممتاز شیخ نام کے کسی ہم جماعت کی فیصل آباد میں رحلت کا لکھا تو میں نے فوری طور پر لکھا کہ یہ کون تھا، میں کلاس میں اس نام کی کسی شخصیت سے آگاہ نہیں ہوں، مگر فیصل آباد اور شیخ کے پیش نظر میں نے اگلے ہی لمحے یہ تاثر مٹا کے پوچھا کہ کہیں ”باجی تاجی“ کی بات تو نہیں کر رہے۔

Read more

نسائی جنسیات اور مذہبی معاشرہ

میں نے کوئی دس سال پہلے ”محبت۔ تصور اور حقیقت“ کے عنوان سے کتاب لکھی تھی۔ یہ محبت سے متعلق تحقیق پر مبنی کتاب تھی۔ میرا ارادہ تھا کہ اس کے بعد ”مباشرت۔ تعیش اور ضرورت“ کے عنوان سے ایک تحقیقی کتاب لکھوں گا اور پھر ”مناکحت۔ تسکین اور صعوبت“ کے عنوان سے۔ میں نے شائع شدہ کتاب نذیر لغاری کو بھی دی تھی۔ پھر ہم جب اس کی گاڑی میں جا رہے تھے تو میں نے اسے اپنے اس

Read more

ہم اور خفیہ ایجنسیاں

حسد اور رشک نفسیاتی حوالے سے ملتے جلتے جذبے ہیں۔ حسد، حد درجہ منفی اور رشک، بہت حد تک مثبت جذبہ تصور ہوتا ہے۔ ویسے تو ملتی جلتی اشیا میں اکثر بال برابر فرق ہوتا ہے، یہی مہین فرق انہیں اک دوجے سے ممتاز کرتا ہے۔ حسد میں انسان سوچتا ہے کہ کسی دوسرے میں کوئی صلاحیت، کوئی امتیاز، کسی طرح کے وسائل یا سہولت کیوں ہیں۔ انہیں نہیں ہونا چاہیے۔ خواہش کرتا ہے کہ اس کا یہ سب پا مال ہو جائے۔ اس کے بر عکس رشک کرنے والی کی نظر بھی دوسرے کی صلاحیتوں، امتیاز اور وسائل و سہولیات پر ہوتی ہے۔ البتہ یہ خواہش نہیں رکھتا کہ دوسرے کا یہ سب کچھ پا مال ہو جائے، بلکہ دل میں خواہش کرتا ہے کہ کاش اس کے پاس بھی یہ سب کچھ ہو۔

حسد اور رشک میں تفریق کرنے کے بعد، اصل بات کی جانب آتے ہیں۔ معاند ملکوں کی ایجنسیاں ایک دوسرے کے خلاف ایسی ہی مذموم کارروائیاں کیا کرتی ہیں بلکہ کچھ ایجنسیاں تو بعض اوقات غیر جانب دار اور معصوم ملکوں میں بھی اپنے مقاصد کی تکمیل کی خاطر بہت کچھ نا قابل قبول، قابل مذمت تا حتٰی غیر انسانی تک کرنے سے نہیں چوکتیں۔ اس بارے میں ایک کتاب ”وارز آف سی آئی اے“ پڑھ لیں، جس میں امریکا کی اس ایجنسی کے آشکار کردہ دستاویزات کے حوالے ہیں۔ یاد رہے سی آئی اے، سول ایجنسی ہے جو چاہے تو اپنے کچھ کرتوت ملک کے صدر اور کانگریس تک سے خفیہ رکھے۔ اس کے برعکس آئی ایس آئی فوج سے متعلق خفیہ ایجنسی ہے، یعنی ”انٹر سروسز انٹیلیجنس“ جس کا بنیادی مقصد فوج کے اندر معاملات کے بگاڑ سے متعلق مطلع رہنا ہے، مگر یہ اندرون ملک اور بیرون ملک تمام اعمال و افعال میں دخیل ہے۔

Read more

چین سکون کی تلاش کیوں؟

یہ بھی کوئی زندگی ہے، کمپیوٹر کے ساتھ چپکے رہنا! انٹر نیٹ میں وہ کیا ہے، جو پڑھا نہ گیا ہو اب تک۔ نئی تحقیق روز تو سامنے آتی نہیں۔ موسیقی، فلم سبھی کچھ ہے اس چھوٹی سکرین پر۔ فن کاروں اور اداکاروں کے جثے ذہن میں مکمل کیے جاتے ہیں۔ کوئی سماجی تحرک بھی تو نہیں ہے۔ سیاست بھی سکڑ کر مانیٹر پر لکھنے، پڑھنے، رائے دینے، رائے موصول ہونے تک محدود ہو چکی ہے۔ گھر سے نکل کر اکیلے کہاں جائیں؟ پارک میں، شہر میں لیکن وہاں کوئی شناسا نہیں۔ میوزیم یا آرٹ گیلری بھی آدمی کتنی بار دیکھ سکتا ہے؟

سچی بات ہے کہ مجھے نہیں معلوم، شاید آپ سب کی زندگیاں اسی طرح سکڑ چکی ہوں، لیکن ہم جو دو دوست آپس میں اس قسم کی باتیں کر رہے تھے، جو سچ کے سوا کچھ نہیں، وہ اس ملک میں نہیں رہتے، جہاں وہ پیدا ہوئے تھے یعنی وطن عزیز پاکستان میں۔ وہ اب جہاں ہیں، یہ ملک دوسرے پاکستانیوں کے لیے غیر ملک ہے۔ اس کے بر عکس اتنا عرصہ یہاں بسیرا کرنے کے بعد، ہمیں اپنا ملک، غیر ملک لگنے لگا ہے۔

Read more

کب کے گئے اب لوٹے ہو

آپ ایسا کوئی کام کر رہے ہوں یا آپ کا کوئی ایسا کام چل رہا ہو جو مایہ میں ڈھلتا ہو تو آپ کو ضرورت پڑنے پر کم مائیگی پریشان تو کر سکتی ہے مگر بصورت دیگر یہ بہت کھلتی ہے۔ ایسے میں آپ ہر ایک سے چاہے وہ کروڑوں کمانے کا دعوی کرنے والا آپ کا سگا بھائی ہی کیوں نہ ہو، آپ کچھ نہیں کہہ سکتے، کم از کم میں تو نہیں کہہ سکا البتہ ایسے دوستوں پر

Read more

ڈائری 3 اکتوبر 2020

چھوٹے بچے کسی نئے شخص کے آنے یا پہلے سے شناسا فرد سے دیر بعد ملاقات کے بعد آپے سے باہر ہو جاتے ہیں۔ عافین کو بھی ایسے ہی کرنا تھا۔ اپنی من مانیوں کے سبب اس نے کل شام ساڑھے چار بجے دراز ہوئی اپنی ماں کو لمحہ بھر سونے نہیں دیا۔ بڑا بھائی باہر لے گیا تو بچوں کے کھیل کے مقام پر اس نے دوسرے کسی بچے کی کھلونا گاڑی پر تصرف جما لیا۔ بھائی نے روکا تو فرش پر لیٹ کر ہاتھ پاؤں پٹخ کے رونے لگا چنانچہ بھائی اسے فوراً واپس گھر لے آیا۔

ماں کے کام پر جانے کے بعد پھر کبھی کرسی کی پشت پر پیٹ کے بل کھڑے ہو کر نشست پہ سر رکھنے کی کوشش کرتا تو کبھی اسی قسم کا کوئی ناممکن یا قابل خطر کرتب۔ پہلے روکا پھر ڈانٹا تو اس نے پھر رونا شروع کر دیا۔ پھر رٹ لگا دی کہ ماما کو فون کرو۔ وہ کام پہ فون سننے کے سبب پہلے ہی جرمانے کے طور پر مشاہرہ سے اچھی بھلی رقم ہار چکی تھی مگر فون کرنا ہی پڑا۔ اس کی حرکتیں جاری رہیں اور ماں کو فون کرنے کی ضد بھی۔

Read more

وطن کے بارے میں کڑھنا کیوں؟

ایسا نہیں کہ موجودہ حکومت کی نا اہلی کے سبب ہی لوگ ملک کے حالات بارے کڑھنے لگے ہوں، کڑھنے والے تب سے کڑھتے رہے ہیں جب سے یہ مملکت معرض وجود میں آئی تھی۔ کڑھتا کون ہے؟ ایسا شخص جو یا تو درد دل رکھتا ہو یا اس کے ذاتی مفادات پورے نہ ہوتے ہوں۔ درد دل رکھنے والا اس لیے کڑھتا ہے کہ اسے لوگوں کے بد سے بدتر ہوتے ہوئے حالات زندگی، لوگوں کی معاملات بارے سرکاری

Read more

پاکستانی معاشرے کے عمومی تضادات

معاشرے میں تضادات کا تذکرہ جدلیاتی مادیت کے تناطر میں کیا جاتا ہے۔ عام آدمی کے لیے لفظ تضادات سمجھنا تو سادہ معاملہ ہے لیکن جدلیات اور مادیت کے معنی سمجھنا کسی حد تک دشوار ہو جاتا ہے۔ جدلیات، ویسے تو بحث کرنے کا ایک طریقہ ہے جس کے ذریعے کسی معاملے پر اختلاف طے کر لیا جاتا ہے لیکن لفظی معانی میں یہ استدلال کی لڑائی ہے، جس کی اس انداز سے دی گئی دلیلیں بھاری ہوں گی وہ

Read more

ضد عالمگیریت کی حمایت کیوں؟

چونکہ سوال ایک مستند دانشور نے کیا ہے جو کبھی بائیں بازو والوں کے ساتھ نظری و عملی طور پر شیر وشکر ہوا کرتے تھے، ویسے ہی جیسے یہ فقیر، کہ عالمگیریت یعنی Globalization کی مخالفت کیوں کی جائے تو مجھے جواب دینا ہی ہوگا۔ ابتدا سے ہی کھول دوں کہ میرا جواب میرے اپنے لیے بھی حتمی اس لیے نہیں ہوگا کیونکہ اب دنیا کے رموز و اوقاف بہت تیزی سے تبدیل ہو رہے ہیں بعض اوقات اس قدر

Read more

علامتی طور پر بے عنوان کالم

حکومت نے ابھی کچھ کیا ہو اور وہ غلط ہو تبھی تنقید کی جا سکتی ہے نا۔ اس بیچاری نے تو اب تک جو کیا، یا تو کر کے مکر جانا کیا یا جو کیا وہ ایسا کیا کہ اس پر طنز کیا جا سکتا ہے یا اس کا مضحکہ اڑایا جا سکتا ہے جیسے بارہ بھینسوں، لگژری کاروں کی جگہ دس سے بیس سال پرانی کاروں اور ناکارہ ہیلی کاپٹروں کی نیلامی کا اعلان کرنا یا پھر جو کہا تھا اس کی نفی کر کے تاویلیں پیش کرنا جیسے روٹ لگانے اور پروٹوکول دیے جانے سے متعلق تو ان پر ہنسا ہی جا سکتا ہے یا زیادہ سے زیادہ اگر جذباتی ہونا ہو تو اظہار تاسف کیا جا سکتا ہے۔

معاشرے میں پھیلی برائیوں، نا انصافی، معاشی ناہمواری، عدم تحفظ، عسرت اور بے بسی کا رونا روئیں تو اس سے کیا ہوگا۔ کب سے چیخ و پکار جاری ہے مگر یہ سب برائیاں ویسے کی ویسے ہی نہیں بلکہ روز بروز بڑھتی ہی چلی گئی ہیں۔ جب دولت چار چار روپے فی کلو شکر کے حساب سے پانچ کروڑ لوگوں کے ہاتھ سے پانچ افراد کے ہاتھوں میں ایک ہی روز میں چار چار کروڑ روپے ہو کر پہنچ جائے گی تو خلیج یونہی گہری ہوگی۔

Read more

بائیں بازو والے

اب اس کی بھلا کیا وضاحت کرنی کہ بائیں بازو والے کن کو کہا جاتا تھا اور غلطی سے اب تک کہا جا رہا ہے۔ لوگ تو بس یہی سمجھتے تھے کہ جو ملک میں انقلاب لانا چاہتا ہے ( جو خونی ہی ہو سکتا تھا) جو خدا کو نہیں مانتا، جو سب عورتوں اور آدمیوں کو ایک ہی لاٹھی سے ہانکنا چاہتا ہے اور جو جماعت اسلامی اور امریکہ کا کٹر مخالف ہے اسے بائیں بازو کے ماننے والا یا پھر بائیں بازو والا سمجھنا چاہیے۔

جماعت اسلامی کے کٹر مخالف تو بہت تھے لیکن آج کی طرح انقلاب لانے کے داعی نہیں تھے۔ خدا کو نہ ماننے والے آج بھی بہت زیادہ ہیں یہ اور بات ہے کہ نجی محفلوں میں وہ ملحد ہوتے ہیں اور جلوت میں مومن لیکن جن کی ہم بات کر رہے ہیں وہ منافقت سے کام نہیں لیا کرتے تھے۔ جب وہ خدا سے ہی نہیں ڈرتے تھے ( کیونکہ ان کے خیال کے مطابق عدم وجود کا خوف چہ معنی دارد والا معاملہ تھا ) تو وہ لوگوں سے بھلا کیوں ہراساں ہوتے۔

Read more

کچھ اور بات کی جائے

آخر بات کرنے کو جی کرتا ہی کیوں ہے؟ شاید اس لیے کہ ضعف نطق کا شکار نہیں ہیں۔ بات جب دل سے دماغ تک جاتی ہے بلکہ سچ تو یہ کہ جب دماغ سے اتر کر دل پر اثر انداز ہونے لگتی ہے تو جی چاہتا ہے کہ کر دی جائے کیونکہ دل دل ہی تو ہے نہ کہ سنگ و خشت، آلام سے گھبرا نہ جائے کیوں؟ یوں ہم بات کرکے اپنی گھبراہٹ میں دوسروں کو شریک کرنے

Read more

جانے انجانے میں پی آئی اے کا سفر اور خاور جمال سے معذرت

ای ٹکٹ کا پرنٹ نکالا، ماسکو سے ابوظہبی تک تو اتحاد ایر لائنز ہی لکھا تھا مگر ابوظہبی سے لاہور تک کی پرواز کے لیے ETIHAD کے اوپر انگریزی میں پاکستان انٹرنیشنل بھی لکھا تھا۔ ماجرا سمجھ نہیں آیا تھا۔ جب ماسکو کے دومودیوو ایر پورٹ کے کاؤنٹر 100 تا 103 پر پہنچا تو عقدہ کھلا کیونکہ ان نمبروں کے باقی کاؤنٹروں پر اگر الاتحاد روشن تھا تو 103 پر پاکستان انٹرنیشنل ایرلائنز اور سری لنکا ایر لائنز باری باری

Read more

اکتاہٹ کیوں ہوتی ہے؟

میرا مقصد، اکتاہٹ جسے آج کل ”بوریت“ یا ”بور ہونا“ کہا جاتا ہے، کے طبی اسباب بیان کرنا نہیں بلکہ اس کیفیت کے پیدا ہونے کے عمومی عوامل سے متعلق بحث شروع کرنا ہے۔ عام طور پر جب کرنے کو کچھ نہ ہو تو بے چینی ہونے لگتی ہے۔ بے چینی اکتاہٹ کا پہلا مظہر ہوتا ہے۔ ضروری نہیں کہ بے چینی کا باقاعدہ اظہار بھی ہوتا ہو، یہ محض بیکل ہونا بھی ہو سکتا ہے۔ مگر سوال یہ ہے

Read more

آج 10 ستمبر ہے

سب فلم کی مانند آنکھوں کے سامنے ہے۔ میں نشتر میڈیکل کالج کے قاسم ہال کے اپنے کمرے میں بیٹھا پتھالوجی کی کتاب کھولے مطالعہ میں مشغول تھا کہ دروازہ کھلا۔ علی شمس القمر ( اب مرحوم ) اور فواد علی شاہ ( آج کل مفقود ) داخل ہوئے اور کہا چل مرزا پی آئی ڈی سی کھاد فیکٹری والوں کے جلوس میں چلتے ہیں۔ میں تب طالبعلموں کی چین نواز تنظیم این ایس او نیشنلسٹ سٹوڈنٹس آرگنائزیشن میں فعال

Read more

کیا سیاست میراث ہے؟

مارچ 1991 کی ایک رات، پاکستان کی خفیہ ایجنسیوں نے مجھے اسلام آباد کے زیرو پوائنٹ سے تب اغوا کر لیا تھا جب میں ضمیر نامی افغان سفارتکار کی کار سے اترا تھا۔ مقصد چونکہ کہانی بیان کرنا نہیں ہے، اس لیے اصل بات کی جانب آنے کے لیے اتنا کہنا کافی ہوگا کہ کہیں بہت رات گئے ایک کرنل صاحب (جن کا عہدہ بعد میں معلوم ہوا تھا، ظاہر ہے وہ اسی ایجنسی سے تھے جس سے اب ہر شخص آگاہ ہے ) نے آ کر بحث کے انداز میں مجھ سے ”تفتیش“ کرنا شروع کی تھی۔

ان کے تین حکم نما بیانات میں سے ایک یہ تھا کہ بڑے لوگوں کا کھیل سیاست، ہم آپ جیسے لوگوں کے بس کی بات نہیں ہے۔ تب میرا جواب یہی تھا کہ میں تو سیاست میں شریک رہوں گا، آپ اگر نہیں چاہتے تو نہ کریں۔ آخر میں کرنل موصوف نے یہ کہہ کر کہ ”آپ جیتے میں ہارا، یہ بتائیں ناشتے میں کیا لیں گے؟“ اپنی گلو خلاصی کرا لی تھی یا میری جان چھوڑ دی تھی۔ بعد کے مراحل قطعی خوشگوار نہیں تھے۔

Read more

ہر ”پل“ ایک ”عہد“ ہوتا ہے

عام انسان پل سے متعلق سوچتا ہی نہیں۔ اس کی وجہ شاید پل پل سے عبارت وہ سالہا سال ہوتے ہیں جو ماضی بن جاتے ہیں یا شاید مستقبل سے وابستہ خیالی عہد۔ پل نہ ماضی ہوتا ہے نہ مستقبل بلکہ دونوں کی آڑ میں استوار حال ہوتا ہے جو کسی ہونی یا انہونی کے ہونے سے ماضی بنتے ہی مستقبل میں جست لگا دیتا ہے یوں اپنے بارے میں سوچنے کی مہلت ہی نہیں ملنے دیتا۔

مگر ہر پل درحقیقت ایک عہد ہوتا ہے جس کا ماضی معدوم اور مستقبل مصلوب ہوتا ہے یعنی معلق۔ ایک پل میں زندگی کی ابتدا ہوتی ہے اور ایک ہی پل میں زندگی انجام پا لیتی ہے۔ ایک پل میں دنیا تہہ و بالا ہو سکتی ہے اور ایک پل میں مسرت کی آبشاریں پھوٹ سکتی ہیں۔ پل کی حقیقت کو جان لینا ایسے ہی ہے جیسے خلیے کے بطن میں موجود برقیائے ہوئے مہین ترین ذرات میں پوشیدہ ان سے بھی مہین اجزاء کے بارے میں جان لینا۔

Read more

کیا لکھاری کی تحریروں کا کوئی اثر بھی ہوتا ہے؟

کچھ دوستوں نے یہ سوال کیا کہ تم کیوں لکھتے ہو؟ اس سوال کا جواب تو ایک مضمون میں دے دیا تھا مگر جو سوال ہمیشہ میری سوچ میں سر اٹھاتا ہے کہ کیا ان تحریروں کا کوئی اثر بھی ہوتا ہے مثبت یا منفی، اوائل سے پہلے میرا انداز تحریر مشکل پسندی سے عبارت ہوتا تھا اور اس انداز کے لئے میری دلیل یہ تھی کہ اول تو میں پڑھے لکھے لوگوں کے لیے لکھتا ہوں دوئم یہ کہ مشکل سے سمجھے جانے والی تحریر کی دو وجوہ ہوتی ہیں پہلی یہ کہ لکھنے والے کو کچھ زیادہ علم نہیں ہے اور وہ لچھے دار تحریر میں اپنی کم علمی کو چھپانا چاہتا ہے دوسری یہ کہ معلومات زیادہ ہیں اور بہت کچھ کو کم لفظوں میں بیان کرنے کے لیے زبان ثقیل ہو جاتی ہے۔

تحریر کو سہل کرنے کے لیے عزیزی وجاہت مسعود کی ایک ہی دلیل کافی بلکہ اونٹ کی کمر پر آخری تنکے کی مانند تھی جس نے میری مشکل پسندی کی کمر توڑ کے رکھ دی تھی اور میں لکھنے کی زمین پہ آ رہا تھا۔ دلیل یہ تھی کہ ہم تحریریں عام لوگوں کے لیے چھاپتے ہیں، اب یہ تو اخبارات کے دفاتر کو ہی علم ہوگا کہ ادارتی صفحات کو کتنے قاری سنجیدگی سے لیتے ہیں لیکن مجھے ایک بات وجاہت کے کہتے ہی جو سمجھ آئی تھی وہ یہ تھی کہ اخبار تو ”ڈسپوزیبل آئٹم“ ہوتا ہے جس کی تحریر پر اگر کوئی دوبارہ نظر ڈالے، وہ شاید کوئی محقق ہو لیکن عام قاری نہیں ہو سکتا۔

Read more

سیکولرازم، کمیونزم اور سوشل ازم کے بارے میں چند سوالات کے جوابات

میں کراچی یونیورسٹی میں ”بین الاقوامی تعلقات“ کا نو وارد طالب علم ہوں۔ مختلف نظریات (Ideologies ) میرے پسندیدہ موضوع ہیں۔
جن میں سیکولرازم، لبرل ازم، کیپیٹل ازم، کمیونزم اور سوشل ازم وغیرہ شامل ہیں۔ لیکن ابھی تک صرف دو کو کسی حد تک سمجھ پایا ہوں۔ سیکولرازم اور لبرل ازم کو، باقی ابھی تک تشنہ تکمیل ہے۔

لہذا اس سلسلے میں چند سوالات کے جوابات درکار تھے۔ کمیونزم اور سوشلزم کے حوالے سے کیونکہ آپ ایک ایسے ملک میں رہائش پذیر ہیں جہاں وہ اس نظام کو پریکٹس کر رہے ہیں۔ اور اس کے نتائج سے بھی بہرہ ور ہوچکے ہیں۔

Read more

چھوٹی سی خصال کی بہت بڑی شاعری

زاہد کاظمی نے جو کتابیں بھیجیں ان میں خوبصورت سرورق والی دو پیپر بیک بھی تھیں۔ یہ دو بچیوں کی لکھی کتابیں تھیں۔ دس برس کی خصال زینب کی Blossoms in the early spring جو اس کی شاعری، نثر نگاری اور مصوری پر مبنی ہے۔ دوسری کتاب پندرہ سالہ فاطمہ زہرا کی مصوری اور شاعری پر مشتمل کتاب Whispers in the spring۔ مجھے معلوم تھا کہ یہ محبی فیض علی، جو کسٹمز کلکٹر ہیں کی بچیاں ہیں۔ کسٹمز اگرچہ نیک

Read more

کچھ فحش اور فحاشی بارے

سوشل میڈیا پر ایک عالم شخص نے استناد سے بتایا کہ موسیقی سننا حرام نہیں البتہ فحش حرام ہے چنانچہ موسیقی کی حرمت اگر ہے تو اس ضمن میں کہ اس کے ساتھ فحش عوامل بھی شامل ہوں۔ میرے ذہن میں آیا کہ عمر بیت گئی فحش اور فحاشی سے متعلق سنتے ہوئے جیسے یہ کہ ملک میں فحاشی عام ہو گئی ہے وغیرہ تو کیوں نہ اس فاضل شخص سے استدعا کی جائے کہ وہ ”فحش“ کی تعریف کر

Read more

نفس کیوں مارا جائے؟

کوئی بھی ایسا عمل جو بار بار کر لیا جائے وہ عادت بن جاتا ہے اور عادت پر قابو نہ پایا جا سکے تو عادت ضرورت بن جاتی ہے۔ ایک زمانہ تھا جب ریڈیو نہیں ہوتا تھا۔ ریڈیو آیا تو لوگوں کو ریڈیو سننے کی عادت ہو گئی۔ ریڈیو میں دلچسپی چاہے وہ خبروں سے وابستہ تھی یا موسیقی سننے سے یا دیگر پروگراموں سے بالآخر ریڈیو سننے والوں کی ضرورت بن گئی۔ ریڈیو سننے والے تعداد میں بہت زیادہ کبھی نہیں رہے مگر جب معاملہ سمعی سے بصری ہوا تو سامعین کی نسبت ناظرین کی تعداد کئی گنا زیادہ رہی یوں ٹیلی وژن بیشتر آبادی کی ضرورت بن گیا۔ کھیلوں کے شائقین سے لے کر موسیقی کے شائقین تک، معلومات عامہ سے لے کر حالات حاضرہ تک میں دلچسپی کے حامل افراد تک اور عام زندگی سے متعلق کہانیوں کی رسیا خانہ دار خواتین سے لے کر کارٹون دیکھ کر نہال ہوتے بچوں تک کے لیے متحرک و متکلم مورتیں دکھانے والا یہ ڈبہ ضرورت بن گیا۔

Read more

کائنات، سائنس اور ماورائیات

مذہب اور سائنس کا بنیادی فرق یہ ہے کہ سائنسی مفروضہ جات کو تجربے سے ثابت کرنا ہوتا ہے لیکن مذہب مفروضے کو بلا تصدیق حقیقت مان لینے کا نام ہے۔ کائنات کی تخلیق بارے سائنسی مفروضہ یہ ہے کہ اس کا بننا اور برباد ہونا ایک مسلسل عمل ہے، لیکن برباد ہونے سے کائنات کے سمٹ کر ایک نقطے میں مرتکز ہونا لیا جاتا ہے، جیسے ایک مہین بیج میں ایک تناور درخت کا وجود ہوتا ہے لیکن کائنات

Read more

انتقام سے برداشت تک پہنچنے کا راستہ

من پسند، مرغوب، پسندیدہ، قابل قبول، ناقابل قبول، ناپسندیدہ، غیردلچسپ، مکروہ اور قابل نفرین، یہ سارے محض مختلف الفاظ ہی نہیں ہیں بلکہ ہر ایک کے ساتھ درجہ بدرجہ احساس، رویہ اور رد عمل وابستہ ہے۔ عین ممکن ہے کہ ایک شے، ایک شخص یا ایک عمل مکروہ تو لگتا ہو لیکن کسی طرح بھی قابل نفرین محسوس نہ ہوتا ہو۔ اسی طرح کوئی شے، کوئی شخص یا کوئی عمل پسندیدہ تو ہو لیکن مرغوب اور من پسند نہ ہو۔

Read more

تبدیلی کیا ہوتی ہے؟

نظام میں تبدیلی کیا ہوتی ہے، اس بارے میں جواب دو طرح سے ہوگا کہ انقلاب کے ذریعے نظام کو یکسر منقلب کر دینا یا پھر اصلاح کے عمل سے نظام کی ہئیت کو بدل ڈالنا۔ پہلے ہم مختصراً انقلاب کو دیکھ لیتے ہیں۔ دو مثالیں لیتے ہیں 1948 کے چین کی اور 1979 کے ایران کی۔ چین میں انقلاب ایک ایسی پارٹی لائی تھی جو ایک عرصے سے تگ و دو کر رہی تھی۔ انقلاب کے رہنما ماؤ زے

Read more

ثمی نہیں اسمی اچھا لگے گا

فرق کیا پڑتا ہے، جو بھی نام ہو، نام کا کیا ہے، شناخت ہی ہے ناں۔ تو عزیز لڑکی بیدار ہوتے ہی دل کیا تجھے ایک خط لکھوں اور پوچھوں کہ ایک شخص جس کی شاید ہی کوئی بیوی اس سے راضی رہی ہو، مگر پیار سب کرتی ہیں، نے تجھے سب کچھ بتا بھی دیا پھر بھی تم اسے کہہ چکی ہو، ”آئی لو یو ٹو“ ۔ ۔ ۔ ارے ہاں تم نے پہل تھوڑا نہ کی، یہ ”بھی“ کی پخ ساتھ لگائی ہے۔

Read more

لکھنا لکھانا کیوں؟

لکھا اس لیے جاتا ہے کہ پڑھا جائے، پڑھا اس لیے جاتا ہے کہ سمجھا جائے، سمجھا اس لیے جاتا ہے کہ سمجھایا جائے، سمجھایا اس لیے جاتا ہے کہ جذباتی ردعمل کی بجائے عقلی استدلال کا راستہ اختیار کیا جائے، یہ راستہ اس لیے اختیار کیا جاتا ہے کہ رویوں میں اعتدال آئے اور اعتدال ہی وہ صفت ہے جو بہت سے مسائل کے حل میں ممد ہو سکتی ہے۔ پاکستان میں پرنٹ اور آن لائن اخبارات کی فہرست

Read more

روس میں گھریلو تشدد: پیار کرتا ہے تو پیٹتا ہے نا

یہ وہ ملک ہے جہاں عورت کو طلاق کا حق، دنیا میں سب سے پہلے تفویض کیا گیا تھا، جہاں 8 مارچ کو یوم خواتین کے طور پر بہت پہلے منایا جانا شروع کیا گیا تھا، عورتوں کو حق رائے دہی دینے والے اولیں ملکوں میں سے ایک ہے، جہاں کام کرنے والی عورتوں کی تعداد دنیا میں سب سے زیادہ ہے جن میں ڈاکٹر، اساتذہ، سائنسدان، مزدور، صناع سبھی پیشوں سے وابستہ خواتین شامل ہیں مگر یہاں سولھویں صدی

Read more