مجھے لگتا ہے کہ گزشتہ مضمون میں میں نے قرآن کی اس آیت کا حوالہ دے کر جس میں سرکش ( بدزبان، کج بحث، تنک مزاج ) بیوی کو سمجھانے، بستر علیحدہ کیے جانے کے باوجود چیخنے سے باز نہ آنے پر کو پیٹے جانے تک کا حکم ہے، اپنے تئیں خود کو فیمینسٹ خیال کرنے والی خواتین کو اپنے درپے کر لیا ہے۔
ایک بزعم خود قرآن شناس خاتون نے فرما یا کہ قرآن میں ان بیویوں کو پیٹنے کا حکم ہے جو شوہر کی عدم موجودگی میں بے راہرو ہوتی ہیں حالانکہ ایسی بدکار عورتوں کے لیے یکسر دوسری آیت ہے جس میں انہیں پیٹنے کا بالکل حکم نہیں بلکہ سمجھانے اور تادم مرگ گھر میں بند کیے جانے کا حکم ہے۔
ڈاکٹر طاہرہ کاظمی کی مجھ پر ارسال کی گئی مکمل پھٹکار یوں ہے :
آپ اسلام میں سے اپنی مرضی کی باتیں ہی دیکھنے کے کیوں عادی ہیں؟
آپ نے تین دفعہ عقد کیا اور دوسری کو تیسری بیوی کے بارے میں بتایا ہی نہیں، وجہ چاہے کچھ بھی ہو۔
Read more