پاکستانی معاشرے کو قندیل بلوچ کی نظر سے دکھاتی کتاب

جب میں نے یہ سنا کہ قندیل بلوچ پہ کوئی کتاب لکھ رہا ہے تو مجھے اس کتاب کو پڑھنے کی رتی برابر بھی تشنگی نہ ہوئی۔ وہ اس لیے کیونکہ جولائی 2016 کے بعد سے، یعنی وہ مہینہ و سال جسکے بعد قندیل ہم میں نہ رہی، اسکی کہانی پر ہر چینل، ہر اخبار، ہر سوشل میڈیا پلیٹ فارم پہ موجود ہر جاننے والے نے اتنا تبصرہ فرمایا کہ اب قندیل کی کہانی عبرت کی نشانی بن کے رہ

Read more

”تسطیر“ کے تیسرے دور کا آغاز، ایک نئی توانائی سے

سہ ماہی ”تسطیر“ کا تازہ شمارہ میرے سامنے ہے۔ یہ ”تسطیر“ کے تیسرے دور کا چوتھا شمارہ ہے۔ جو گزشتہ ایک برس سے نہ صرف باقاعدگی سے شایع ہو رہا ہے بلکہ اس لحاظ سے ایک نئے رِکارڈ کا بھی حامل ہے کہ اس نے ادبی رسائل کے بارے میں اس تصور کو باطل کر دیا ہے کہ انھیں خرید کر نہیں پڑھا جا سکتا، یہ مفت میں دستیاب ہوتے ہیں۔ یہ وہ خیال تھا جو ادبی جرائد اور رسائل

Read more

کالے جسموں کی ریاضت

فیس بک پہ کتاب کا سر ورق شاید پبلشرز نے شئیر کیا تھا۔ کتاب کا نام اتنا دلکش تھا کہ نظریں ایک دم سے اٹک گئیں۔ ’کالے جسموں کی ریاضت‘۔ کیا خوبصورت عنوان ہے۔ کالے جسموں کی صدیوں پہ محیط ریاضت کا درد سرورق سے چھلک رہا تھا۔ ترجمہ کرنے والوں کے نام درج تھے۔ ڈاکٹر خالد سہیل اور جاوید دانش۔ ڈاکٹر خالد سہیل کے کئی کالم ’ہم سب‘ پہ میں پڑھ چکا تھا۔ ان کی انسان دوستی، محبت، رواداری،

Read more

گوہر تاج کی کتاب اجالوں کے سفیر

کچھ مہینے پہلے ہم سب پر میں نے اپنی ذہنی طور پر معذور بہن کے متعلق دو بلاگ لکھے تھے۔ میری یہ بہن تین ماہ کی عمر میں گردن توڑ بخار کا شکار ہوئی تھی جس کا اثر اس کے دماغ پر پڑا اور وہ زندگی بھر کے لیے ذہنی طور پر معذور ہو گئی۔ اس کی معذوری نے ہم سب کی زندگیوں پر بہت گہرا اثر ڈالا۔ اس دوران میرے والدین نے لوگوں کا نہایت بدصورت رویہ برداشت کیا۔

Read more

میں یہ کتاب نہ پڑھنے کے لیے مرا جا رہا ہوں

  اپنے ملک سے مجھے بہت سی شکایتیں لاحق رہی ہیں لیکن سب سے بڑھ کر یہ کہ یار لوگ کتابیں نہیں پڑھتے۔ یا پھر اتنی نہیں پڑھتے جس قدر پڑھنا چاہئیں۔ اتنے کروڑوں کی آبادی والے ملک میں نئی کتاب کی آمد روز روز کا واقعہ نہیں ہوتی۔ نئی کتاب چھپتی بھی ہے تو چند ہزار نہیں چند سو۔ پھر زیادہ تر کتابوں کے نسخے کتاب فروش کی الماری میں رکھے رکھے گرد آلود ہو جاتے ہیں۔ ان کی

Read more

کاملہ شمسی: برطانیہ میں ویمن پرائز فار فکشن جیتنے والی پہلی پاکستانی خاتون

برطانیہ میں 2018ء کا ویمن پرائز فار فکشن پاکستانی مصنفہ کاملہ شمسی نے جیت لیا ہے۔ تیس ہزار پاؤنڈ کی انعامی رقم کا یہ ایوارڈ جیتنے والی وہ پہلی پاکستانی نژاد خاتون ہیں۔ کاملہ کو یہ ایوارڈ ان کے 2017ء میں شائع ہونے والے ناول ہوم فائر پر دیا گیا ہے۔ ہوم فائر کاملہ کا ساتواں ناول ہے۔ اس سے پہلے انہیں مختلف ایوارڈز کے لیے نامزد کیا گیا تھا جن میں بیلز پرائز اور اورنج پرائز شامل ہیں۔ 2017ء

Read more

پوسٹ کلونیل ادب کی کیا اہمیت ہے؟

پاکستان سے کینیڈا لوٹتے وقت جب میرے مارکسٹ دوست سید عظیم مجھ سے ملنے آئے تو میرے لیے جو کتاب تحفے کے طور پر لائے وہ JUSTIN EDWARDS کی کتاب POSTCOLONIAL LITERATURE تھی جسے PALGRAVE MACMILLAN PUBLISHERS نے 2008 میں چھاپا تھا۔ اس کتاب نے پچھلی چند دہائیوں کے تخلیق کردہ ادب کو ایک نئے انداز سے دیکھنے کے لیے میرے ذہن میں ایک نئی کھڑکی کھولی۔ اس کتاب کو پڑھ کر ادب اور نفسیات کے طالب علم ہونے کے

Read more

نیلی بار: میرا دیس نیلوں نیل

کہانی نے آبِ حیات چکھی ہوئی ہے۔ وہ ازل سے زندگیوں کے ساتھ ہونے والی وارداتوں کی امانت دار ہے…. کہانی کرنے والے، کہانی لکھنے والے …. اور کہانی ہونے والے سارے کردار مرتے رہتے ہیں مگر کہانی جیتی رہتی ہے۔ قریہ قریہ، کوچہ کوچہ، یُگ یُگ پھرنے والی کہانی نے بے شمار روپ بدلے۔ ان میں موجود نت نئے کردار وقت، زمانے اور حالات کے ساتھ مطابقت و مسابقت کی کاوشوں میں جتُے، اپنی جون اور چولے ادلتے بدلتے،

Read more

حامد ڈار شیرینی بانٹنے والا رخصت ہوا

بوڑھ کے پرانے درختوں جیسا جھریوں زدہ مفکرسا ایک چہرہ جس کو اکثر میں نے گورنمنٹ کالج کے اندر یا تو بخاری آڈیٹوریم کی طرف جانے والی راہداری یا انٹر کیفے سے مین گیٹ کی جانب جانے والے راستے پر سفاری سوٹ پہنے، ہاتھ پیچھے باندھے خراماں خراماں چلتے یا کبھی سکالرز گارڈن کے برابر رستے پر کھڑے مخلتف اسٹوڈینٹس کے ساتھ ہنستے دیکھا تھا۔  زندگی سے بھر پور چہرے والے اس پروفیسر کا نام حامد ڈارتھا۔ اور حماد ڈار

Read more

تصورِ صدمہ ، صدماتی و تاریخی متون

اگر ہم گزشتہ سو برس کی انسانی تاریخ کی تجسیم کریں تو اس کا چہرہ جنگ زدہ ہوگا۔ جنگ ، تشدد اور نفرت یہ وہ تین عناصر ہیں جن سے جدید تر انسان کا خمیر اٹھتا ہے۔جنگ سے براہِ راست متاثر ہونے والے شاہدین یا تو نامعلوم زمینوں کا رزق بن جاتے ہیں یا دورانِ جنگ ایک صدمے کاشکار ہوجاتے ہیں ، یہ صدمہ بنیادی طور پر اس وقت کے انسانی سماج میں مروج سماجی، علمیاتی ، اور تخلیقی اظہاریوں

Read more

کیا اب محبت کی شاعری ہو سکتی ہے؟

ایک نظم پڑھتے پڑھتے یہ خیال ایک سوال بن کر اٹھا۔ اور نظم پڑھتے ہوئے اس شدت سے اٹھا کہ میرے دل و دماغ کو جیسے لرزا گیا۔ جیسے کوندا سالپک گیا۔ پھر شدید احساسِ زیاں۔ جیسے کوئی بے حد قیمتی چیز، جس سے شدید جذباتی لگائو رہا ہو، دیکھتے دیکھتے کوئی ہاتھوں سے لے جارہا ہے۔ یہ خیال جس نظم سے ابھرا ہے، اس کا نام ہے جہاں زاد۔ اور یہ نظم عشرت آفرین نے لکھی ہے۔ یہ نظم

Read more

ارون دھتی رائے کا ناول اور کشمیریوں کا المیہ

کسی عالم کی صحبت میں بیٹھ کر بندۂ خاکی کو علم کی مد میں جو کچھ ملتا ہے، بہت سی کتابیں اس کا بدل نہیں ہوسکتیں۔ محمد سلیم الرحمٰن ایک ایسے ہی عالم ہیں۔یہ خوبئ قسمت پرنازکی جا ہے کہ ان سے ہماری گاہے کی ملاقات نہیں بلکہ آئے روز کا ملنا ہے۔ ان کے پاس جو بھی جاتا ہے ، خالی ہاتھ نہیں لوٹتا ،دولتِ علم سمیٹ کر اٹھتا ہے۔ کتاب ان کی زندگی کا محور ہے، ان کے

Read more

زرافہ اور لمبی لڑکی

اجمل اعجاز کے افسانوی مجموعے ”زرافہ اور لمبی لڑکی“ کا فلیپ میرے پسندیدہ نثر نویس حسن منظر نے لکھا ہے۔ ایک ٹکڑا ملاحظہ ہو۔ ”اجمل اعجاز کے افسانے کسی خیالی دُنیا کے افسانے نہیں ہیں۔ ان کے شہر اور آس پاس کی دُنیا کے لوگ انھیں کردار بھی فراہم کرتے ہیں، اور ان کرداروں کی زندگی کے واقعات بھی۔ نتیجہ حقیقت پر مبنی اجمل اعجاز کا افسانہ ہوتا ہے۔“ اس کتاب میں بیس افسانے شامل کیے گئے ہیں۔ پہلا افسانہ

Read more

کیا ادب سماج پر اثر ڈالتا ہے؟

شاعری، یا فکشن، یا کسی بھی صنف ادب کا اثر سماج پر پڑتا ہے، یہ معاملہ بہت مشکوک ہے۔ اور اگر مشکوک نہیں تو متنازعہ فیہ ضرور ہے۔ ارباب اقتدار، اور خاص کر مستبد اور آمر ارباب اختیار (جیسا کہ سوویٹ روس کا معاملہ تھا) ہر اس شے سے خوف کھاتے ہیں جو کسی نہ کسی طرح ان کی قوت یا با اختیار حیثیت کو شک کی نظر سے دیکھتی ہو، یا دیکھ سکتی ہو۔ ادب میں چونکہ یہ صلاحیت

Read more

سمندر پار کے صحرائی جزیرے

”مکے، گھونسے، تھپڑ، ٹھوکر، لاتیں کھانے اور طعنے گالیاں ہی سننی تھیں، تم ڈاکٹر کیوں بنیں۔ پڑھی لکھی ہوکر بھی شوہر کی فرماں برداری نہیں غلامی کرنی تھی تو پھر کالج جانے کی کیا ضرورت تھی۔ پڑھا لکھا ہونے کے باوجود اگر اس ظالم سے ٹکر نہیں لے سکتی ہو تو تمھاری قسمت میں کچھ اور نہیں ہوگا۔ ‘‘ وہ ہماری کلاس کی سب سے خوبصورت لڑکی تھی نہ صرف یہ کہ خوبصورت بلکہ خوبصورتی کے ساتھ اس کی شخصیت

Read more

کل پھر آنا

 ممتاز افسانہ نگار تیجیندر شرما پنجاب کے شہر جگراؤں میں 21 اکتوبر 1952 کو پیدا ہوئے۔ دلّی یونیورسٹی سے انگریزی ادب میں ایم۔ اے کی ڈگری لی اور کمپیوٹر سائنس میں ڈپلوما حاصل کیا۔ ان کے افسانوں کے مجموعے "کالا ساگر” (1990)، "ڈھبری ٹائٹ” (1994)، "یہ کیا ہو گیا” (2003)، "بے گھر آنکھیں ” (2007) شائع ہو چکے ہیں۔ پنجابی، نیپالی، اڑیا، مراٹھی، گجراتی اور انگریزی میں افسانوں کے ترجمے ہو چکے ہیں۔ انگریزی میں بھی کئی کتابیں شائع ہو

Read more

جرمنی کے ماہرِ لسانیات ہنزورنرویسلرسے ایک مصاحبہ

سوال: آپ کو اردو سے دلچسپی کیسے پیدا ہوئی؟ جواب: جب میں پندرہ سال کا تھا اس وقت میرے والد کا انتقال ہو گیا۔ اس کے کچھ عرصے کے بعد میں نے ایک جرنل میں، ایک ناول پڑھا جو ہامن ہسی کا ناول ہے سدھارتھ کے بارے میں، جس سے میرے اندر یہ جاننے کاشوق پیدا ہوا کہ یورپ کے باہر کچھ لوگ ایسے ہوں گے جن کا اپنا ادب ہوگا۔ اپنی زبان ہوگی اور اپنی ثقافت ہوگی۔ جس میں

Read more

احمد بشیر کی غیر مطبوعہ کہانیاں – جموں والی سردار بیگم کی کہانی

احمد بشیر ایک حساس انسان، باشعور فرد، زیرک دانشمند اور کمال لکھاری ہی نہیں بلکہ ایک سچے، آزاد، نڈر، بیباک اور دلیر صحافی بھی تھے۔ ایسے لوگ اب نایاب ہی نہیں بلکہ ناپید ہو چلے ہیں۔ ۔ ۔ ۔ احمد بشیر اسطوروں میں چھپا ایسا مردِ آہن، جو پچھلے زمانوں سے جڑا تھا اور اگلے زمانوں کے لئے بنا تھا۔ ایسا دور جب کئی بڑے لکھاری اور صحافی چڑھتے سورج کو سلام کیا کرتے تھے اور آمرِ وقت کی کاسہ

Read more

کہانی انسانی تاریخ کو کیسے بدلتی ہے؟

یونانی بادشاہ الیگزینڈر یا سکندر کو دنیا ‘سکندر اعظم’ کہتی ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ اس نے بہت ہی کم عمر میں یورپ سے ایشیا تک اپنی سلطنت قائم کر لی تھی۔ محض 32 سال کی عمر میں مرنے سے پہلے سکندر نے یونان کے صدیوں پرانے دشمن فارس کو گھٹنے ٹیکنے کے لیے مجبور کر دیا تھا اور تہذیبوں کا مرکز کہلائے جانے والے مشرق وسطیٰ پر حکومت قائم کر لی تھی۔ سکندر کے عظیم بننے اور

Read more

الحمرا کی کہانیاں اور اندلس میں اجنبی

بے شک یہ میری پہلی کتاب پہلا سفر نامہ ’’نکلے تیری تلاش میں‘‘ تھا جس نے غیر متوقع طور پر‘ مجھے حیران اور بے یقین کرتے ہوئے میرے لیے ادب میں کامیابی کے سب دروازے کھول دیے۔ بیسٹ سیلر ہونے کے علاوہ جب آج سے تقریباً نصف صدی پیشتر یہ سفر نامہ ماسکو یونیورسٹی کی پروفیسر گالینا ڈشنکو نے یونیورسٹی کے اردو نصاب میں شامل کیا تو ادب کے وہ دروازے بھی کھل گئے جو کم کم ہی کھلتے تھے

Read more

بے ادب آمر

وہ اٹھے اور ہماری زندگی میں شامل ہوگئے۔ ہم ان کو روک سکتے تھے اور نہ ان کے نشان مٹا سکتے ہیں۔ ہم ان کے سائے میں پل کر جوان ہوئے ہیں۔ خنجر کی طرح یہ آمر بھی ہمارا قومی نشان رہے ہیں۔ ہماری کیا مجال کہ ان کے لکھے ہوئے یا بولے ہوئے لفظ پر نکتہ چینی کرسکیں۔ ان کی داستان کس قدر طولانی ہے اور کتنی روح فرسا، یہ بات اب سمجھ میں آسکتی ہے کہ ایک نئی

Read more

الحمرا کے افسانے

 ممتازادیب غلام عباس نے 1930ءمیں امریکی لکھاری واشنگٹن ارونگ کی کتاب “Tales of the Alhambra”کا آزاد ترجمہ ”الحمرا کے افسانے “کے عنوان سے کیا، تو اسے بے حد پذیرائی ملی، اور یہ کتاب اس عہد کی مقبول کتاب بن گئی۔ اسے پڑھنے والوں نے جس طرح یاد رکھا، اس کی مثال ملنا مشکل ہے۔ کتاب کے قارئین میں ایسے بھی تھے، جنھوں نے آگے چل کر ادب میں اونچا رتبہ پایا اور یہ ان کے ناسٹلجیا کا حصہ ٹھہری۔ ان

Read more

کیا آپ معذور انسانوں کی عزت کرتے ہیں؟

کیا ہم سب کسی نہ کسی حوالے سے معذور ہیں؟ کیا معذور لوگ ایک دوسرے کی مدد کر سکتے ہیں؟ کیا معذور لوگ باعزت زندگی گزار سکتے ہیں؟ بعض انسان کیسے اپنی معذوری کے باوجود مشہور ہو جاتے ہیں؟ جب میں ان سوالوں کے بارے میں سوچتا ہوں تو میرے ذہن کی سطح پر کئی واقعات ابھر آتے ہیں۔ جن میں سے ایک واقعہ کا تعلق میرے بچپن سے ہے۔ جب میں ایک بچہ تھا تو میرے والد کہا کرتے

Read more

بارش اور کتابیں

گزشتہ روز اسلام آباد میں ہونے والی بارش نے ہمیشہ کی طرح موسم کو نہایت خوش گوار بنا دیا۔ میں صبح آفس کے لیے گھر سے نکلا تو جی چاہا کہ فرو غ کتب کے قومی ادارے ”نیشنل بُک فاﺅنڈیشن” چکر لگا لیا جائے اور کچھ من پسند اور ذوق کو بھاتی کتابیں خرید لی جائیں۔ یہ جانتے ہوئے بھی کہ ہفتہ کے روز عام سرکاری دفاتر بند ہوتے ہیں اور جو کھُلتے ہیں اُن کی سویر بھی دیر سے

Read more

غدار بنانے کا آزمودہ طریقہ

میرے ایک دوست جوزف سکووریکی نے اپنی ایک کتاب میں ذیل کی سچی کہانی بیان کی ہے: پراگ کے ایک انجینئر کو لندن میں ایک پیشہ وارانہ کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی جاتی ہے۔ وہ وہاں جاتا ہے، کارروائی میں شریک ہوتا ہے اور پراگ لوٹ آتا ہے۔ اپنی واپسی کے چند گھنٹے بعد وہ اپنے دفتر میں سرکاری روزنامہ رودی پراوو اٹھاتا ہے اور ان سطروں پران کی نگاہیں جم جاتی ہیں: ’’لندن میں ایک کانفرنس میں شرکت

Read more

دو محبت کرنے والے اور چیک پوسٹ قالندیا

میں وہاں صبح سویرے پہنچا۔ ایرپورٹ سے بس پکڑ کر اس کے اپارٹمنٹ تک پہنچنا کوئی زیادہ مشکل نہ تھا۔ ڈبلن سے ڈنمارک پہنچنا کوئی ایسا مشکل نہ تھا۔ مشکل تو اس کا سامنا کرنے میں تھی۔ نہ جانے وہ کیسی ہوگی، کس طرح سے اس نے حالات کا مقابلہ کیا ہوگا۔ وہ ہنسنے گانے، گھومنے گھامنے والی سادہ سی یورپین لڑکی، اتنے بڑے حادثے کو کیسے بھگتایا ہوگا اس نے۔ میں سوچتا رہا اور پریشان ہوتا رہا۔ ڈبلن میں

Read more

محبت اور خوبصورتی

لوگ ہمیشہ کہتے ہیں :”اندرونی خوبصورتی اہم ہے، بیرونی نہیں۔ ” اچھا یہ درست نہیں۔ اگر ایسا ہوتا، پھولوں کو شہد کی مکھیوں کو متوجہ کرنے کے لئے کیوںکر اتنی توانائی صرف کرنی پڑتی اور بارش کے قطرے کیوں کر، سورج کے مقابل آ جانے پر قوس قزح کی صورت اختیار کر لیتے ؟ کیوں کہ قدرت خوبصورتی چاہتی ہے اور تب ہی مطمئن ہوتی ہے جب خوبصورتی سر بلند ہو جائے۔ ہماری اندرونی خوبصورتی بھی دکھائی دیتی ہے اور

Read more

"راجہ گدھ” کے خلاف ایک پڑھنے والی کا مقدمہ

ادب اور آرٹ اس دنیا کے چوٹوں بھرے وجود کے لئے ایک مرہم ہیں۔ اور اگر کسی بھی مرہم کی طرح انہیں درست استعمال نہ کیا جائے تو مرض بگڑ جانا یقینی ہے یہاں تک کہ موت واقع ہو جاتی ہے۔ پھر اس صنف کے ہنر منداں جب جب موت بانٹتے رہے ہیں تواس پر آواز بند کیوں رہی ہے کیا صرف گولی اور زہر سے مارنا ہی مارڈالنا ہے؟ کسی کی فکر کو غلط راستے پر ڈال کر فکری

Read more

جون ایلیا سے ڈاکٹر عبدالکلام تک

دستخط شدہ بہت سی کتابیں جمع کرلی تھیں لیکن چند نام ایسے تھے جن کے آٹوگراف میرے پاس نہیں تھے۔ شاید صبر آجاتا لیکن دوستوں کے پاس ان کی کتابیں دیکھ کر طلب بڑھ گئی۔ میرے ایک دوست ہیں احمد حسین۔ مخلص اور بہت خوش اخلاق۔ ایک دن انھیں معلوم ہوا کہ میرا تعلق امروہے سے ہے تو انھوں نے بتایا کہ وہ جون ایلیا کے بیٹے کو ٹیوشن پڑھا چکے ہیں۔ جون ایلیا کی زندگی میں ان کا صرف

Read more

زلزلہ اور موت

اسے مسلسل اُلٹیاں ہورہی تھیں، وہ نہ کچھ کھا پا رہا تھا اور نا ہی کچھ پینے کے قابل تھا۔ دونوں ہاتھوں میں دو موٹی موٹی سوئیاں لگی ہوئی تھیں، جس سے کہ اسے غذائیت پہنچائی جارہی تھی۔ یہ دونوں سوئیاں اور ان سے لگی ہوئی پلاسٹک کی ٹیوبیں، اس کی زندگی کی ٹیوبیں تھیں، جب تک ان ٹیوبوں سے پانی اور نمکیات اس کے خون میں جارہے تھے، وہ زندہ تھا۔ اسے ایئرپورٹ سے اسی صورت میں لایا گیا

Read more

شہر اندر جلاوطن، ڈاکٹر انور سجاد

لاہور کا عشق ایک ایسا عشق ہے جو وقت کے ساتھ بڑھتا چلا جاتا ہے اور اگر اس شہر کی تاریخ سے آگاہی ہو تو عشقِ لاہور لامتناہی ہوجاتا ہے۔ میرا دوسرا جنم لاہور میں ہوا، اسی لیے میں اپنے لاہوری ہونے پر فخر کرتا ہوں۔ اندرون شہر کی گلیوں میں جنم لینے اور پلنے والے لوگ میری چڑھتی جوانی میں میرے خوابوں کے ہمسفر بنے۔ لاہور جمنی (لاہور میں پیدا ہونے والے) دوستوں ہی نے میری شخصیت کے اندر لاہوری طرزِزندگی کے گہرے آثار چھوڑے۔

Read more

جنسی اسکینڈل کے بعد ادب کے نوبیل انعام 2018ء کا اعلان مؤخر

نوبیل انعام کمیٹی کے اپنے ہی حلقوں میں جنسی اسکینڈل منظر عام پر آنے کے بعد، سویڈن نے لٹریچر میں سال 2018 کے نوبیل انعام کا اعلان مؤخر کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ انعام کی نامزدگی کا فیصلہ کرنے والی اکیڈمی نے جمعے کے روز ایک بیان میں کہا ہے کہ 2018ء کا انعام 2019ء میں دیا جائے گا۔ انتہائی مؤقر ادارے نے یہ فیصلہ جمعرات کو اسٹاک ہوم میں ہونے والے ہفتہ وار اجلاس کے دوران کیا۔ ایک بیان

Read more

یہ کتابیں چوری کیوں نہیں ہوتیں ؟

میرے ذہن میں آنے والا پہلا خیال یہ تھا کہ یہ کتابیں چوری ہو جانی ہیں۔ یہ سن دو ہزار پانچ کی بات ہے، میرے لینگوئج اسکول کے راستے پر ایک دن ایک لکڑی کی الماری رکھی ہوئی تھی اور اس میں پانچ سات کتب پڑی ہوئی تھیں۔ الماری پر چسپاں ایک کاغذ پر لکھا تھا کہ “آپ اپنی مرضی کی کتاب لے جا سکتے ہیں اور پڑھ کر دوبارہ ادھر ہی رکھ دیں۔ اگر آپ کے پاس کوئی کتاب

Read more

محبت، بغاوت اور نظمیں پرانی نہیں ہوتیں

اگر آپ سامراجی ہتھکنڈوں اور مظلوم و محکوم عوام کے غضب شدہ حقوق کا مطالعہ کرتے رہے ہیں تو آپ نسیم سیّد کی کتاب ’’یوروپئین نوآبادیات کے ایبوریجنل ادب پر اثرات‘‘ کو نئے دور کا وہ صحیفہ کہیں گے جس کا لفظ لفظ خود کو ، آپ سے بار بار پڑھوائے گا۔ آپ اِس کتاب کو ازبر کرنا چاہیں گے کہ الیکٹرونک میڈیا نے آپ سے تفکر اور تدبر کی جو صلاحیت چھینی ہے، اس کتاب کا مطالعہ آپ کو

Read more

انتظار صاحب‘ آنسو اور معذرت

انتظار صاحب کی آنکھوں میں آنسو ؟ ان کے ہونٹوں پر معافی کے الفاظ؟ یا الٰہی یہ ماجرا کیا ہے؟ آنکھوں دیکھی کہتا ہوں نہ کانوں سُنی۔ بلکہ اس کے لیے نیا محاورہ گھڑ لینا چاہیے، آنکھوں پڑھی۔ میں نے یوں پڑھا۔ اور پھر شش و پنج میں پڑ گیا کہ کیا واقعی؟ بے یقینی کے سے عالم میں اس صفحے کو دیکھتا گیا اور یقین نہ کرنے کی کوئی وجہ نہ تھی۔ اس صفحے پر آننتھ مورتی کا نام

Read more

دیوارِ گریہ کے آس پاس

برطانیہ کے ایک دانشور لارڈ مینکرفٹ (lord Mancroft) کا قول ہے۔ کہ تقریر تو معاشقے کی مانند ہوتی ہے اُسے شروع تو کوئی بھی کر سکتا ہے مگر ختم کرنے کے لئے بڑا سلیقہ اور بڑی استادی چاھئیے، اس قول کو پڑھنے کے بعد میں نے اپنے آپ کو بہت کوسا کہ یہ قول میری نظروں سے عین اس تقریب سے پہلے کیوں گزرا اور چلو اس پے نظر پڑ ہی گئی تو ٹکی کیوں اور ٹک گئی تو یہ

Read more

ثمینہ تبسم کا ’نیا چاند‘

بدن پر خواہش کی ننھی شاخوں پر جب پھول کھلنے لگیں اور نگاہو ں کی برف پگھلنے لگے ، راتوں کے پچھلے پہروں میں جب نیند ٹوٹے تو شریر میں جس نئے جنم کی انگڑائی کا احساس جاگتا ہے وہ ایک عورت کے لیئے انسان ہونے کا ادراک ہے۔ اور جب وہ اپنی عمر کے کچے پن میں معصومیت کے کسی نازک لمحے انجانے میں اس انکشاف کا دعویٰ کر بیٹھتی ہے تو ایک ایسے سماج میں جو منکر اور نکیروں

Read more

کتاب کی آپ بیتی

23 اپریل کو اقوام متحدہ نے کتاب کا دن مقرر کیا ہے۔ اس کے حوالے آج میں کتاب کی آپ بیتی آپ کے گوش گزار کرنا چاہتا ہوں۔ میں ایک کتاب ہوں۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق پہلی دفعہ مجھے تقریباً تین ہزار سال قبل بنایا گیا تھا۔ پہلے میں کئی ہزار سال تک جیتی تھی لیکن اب میری عمر سمٹتے سمٹتے چند ماہ سے لے کر (درسی کتابوں کی صورت میں) چند سالوں تک محدود ہو چکی ہے بلکہ

Read more

تحقیق و تنقید اور تنویر احمد علوی کی دو کتابیں

یہ بات اپنی اولین صورت میں جان لینے کی ضرورت ہے کہ ’تحقیق‘کا اشتقاق ’حق ‘ سے ہے۔اس ضمن میں ان تصورات کو زیادہ اہمیت حاصل ہوتی ہے جو حق سے باطل کی طرف چلے جاتے ہیں اور محقق تلاش و جستجو اور فکر و فہم سے انھیں ثبوت فراہم کر کے دوبارہ حق کے زمرے میں لاتا ہے اور ایسے تصورات جدید ترین نہیں ہو سکتے چونکہ ان کے شاہد کثیر تعداد میں موجود ہوتے ہیں۔ جو حقیقت حال

Read more

’’فرہنگ آصفیہ‘‘ نئے لباس میں

ابتدا میں اُردو کی جو لغات سامنے آئیں، وہ غیر ملکیوں، بالخصوص انگریزوں کی مرتب کی ہوئی تھیں۔ جو قابلِ ذکر لغات ہیں وہ گلکرسٹ ، شیکسپیئر، فوربس، فیلن اور پلیٹس نے تیار کیں۔ انہوں نے مقامی زبان دانوں سے بھی مدد لی۔ انگریزوں کو لغت نویسی کی ضرورت کیوں پیش آئی، اس کا کچھ اندازہ ہمیں ہے۔ لیکن اُردو بولنے والوں نے اس طرف توجہ کیوں نہ دی، اس کے بارے میں کچھ کہنا مشکل ہے۔ یہ بھی نہیں

Read more

نیلم احمد بشیر ، “طاﺅس فقط رنگ” اور امریکی خواب

نیلم احمد بشیر کا ناول ”طاﺅس فقط رنگ“ امریکہ کے پس منظر میں جدید انسان کی شناخت کا بحران بیان کرتا ہے۔ کوئی کہانی کیوں لکھتا ہے ۔؟۔۔ اگر اُسکے ذہن میں سوال ہیں یا جواب ۔۔ وہ اُنہیں من و عن قلم بند کیوں نہیں کر لیتا۔۔ کہانی کا کشت کاٹنا ضروری ہے کیا۔؟۔۔ اور وہ بھی ایک عہد ، کئی زندگیاں جی کر اُس میں سے واقعات ، کردار کشید کرنے کا عمل سہل تو نہیں ۔۔۔ کوئی

Read more

داستان شجاعت

چوہدری شجاعت حسین کا شمار منجھے ہوئے سیاستدانوں میں ہوتا ہے۔ یہ دوبار وزیرداخلہ بھی رہ چکے ہیں، 2004ء میں وزیراعظم میر ظفراللہ جمالی کے استعفی کے بعددو ماہ کے لیے وزیراعظم بھی رہے۔ یہ ان دنوں بچی کھچی مسلم لیگ ق کے صدر بھی ہیں۔ چوہدری شجاعت حسین پاکستانی سیاست میں کا ایسا کردار ہیں جس کی فعالیت پانچ دہائیوں تک پھیلی نظر آتی ہے۔ سیاسی میدان میں ان کا رول کسی صورت بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا

Read more

جو صورت نظر آئی

کئی ہفتوں سے جناب فاروق عادل کی کتاب ”جو صورت نظرآئی“ساتھ لیے پھرتارہا۔ کل ورق پلٹنا شر وع کیے کہ نظر قائداعظم کے خاکے پر اٹک گئی۔ ایک خیال بجلی کے کودے کی طرح لپکا : ستر سال بعد قائداعظم کا خاکہ کیا خاک لکھاجائے گا۔ پڑھنا شروع کیا تو چھوڑ نہ پایا۔ فاروق عادل نے قائداعظم کی ایک بالکل مختلف تصویر پیش کی۔ واللہ! وہ شرات سوجھ ہی نہیں، کر بھی سکتے تھے۔ عام انسانوں کی طرح چھوٹی چھوٹی

Read more

نوجوان سعید شارق کا ”سایہ“

پاکستان اکادمی ادبیات کے کیفے ٹیریا میں بیٹھے، اتفاقا ہی اس نوجوان سے ملاقات ہوگئی۔ اس کے ہاتھ میں اس کا مجموعہ کلام ”سایہ“ تھا۔ ”شاعری سے مجھے کچھ خاص دل چسپی نہیں ہے“، اس نمونے کا جملہ کَہ کر میں عموما جان چھڑا لیتا ہوں۔ کسی حد تک یہ بات دُرست بھی ہے، وہ ایسے کہ میں شاعری کے محاسن اس کی خوبی خامیوں سے نابلد ہوں؛ سو کسی کے شعر کو اچھا برا کہنے سے بچ رہتا ہوں۔

Read more

چودھری شجاعت، مشرف کی بغاوت اور ماورائے عدالت قتل

سابق وزیر اعظم اور پاکستان مسلم لیگ کے سربراہ چوہدری شجاعت حسین کی خود نوشت”سچ تو ہے ” منظر عام پر آگئی ہے ۔ کتاب کی تقریب رونمائی 10اپریل کو ہوگی ۔چوہدری شجاعت حسین نے 2002سے 2008تک ایک طاقتور سیاستدن کی حیثیت سے قومی تاریخ کےکئی ایسے فیصلے کیے جس نے منظرنامے کا دھارا بدل دیا ، اس خود نوشت میں چوہدری شجاعت حسین نے ملکی تاریخ کے سرد و گرم چشیدہ واقعات نئے اسلوب سے بیان کیے ہیں اور

Read more