پانی مر رہا ہے
ممتاز مصنفہ آمنہ مفتی صاحبہ کی کتاب ”پانی مر رہا ہے“ ملی تو سینئیر نقادوں کی طرح اس کا سرورق دیکھا، بیک فلیپ دیکھا، آمنہ مفتی کے کالم یاد کیے، ان کا لہجہ ذہن میں گونجا اور ہمیں یقین ہو گیا کہ اس کتاب میں ضرور قوم کے دیدوں کا پانی مرنے کا نوحہ پڑھا گیا ہو گا۔ واقعی قوم کی حالت بگڑی ہوئی ہے اور ایسی کتاب وقت کی ضرورت تھی۔ فروری میں ویلنٹائن ڈے بھی آنے والا ہے اس کا ذکر بھی کیا ہو گا اور قوم کو یوم حیا منانے کی تلقین کی ہو گی۔ بس یہی خیالات ذہن میں آئے۔
عموماً تو ہم یوسفی کے صبغے کی طرح کسی کتاب کے بارے میں فیصلہ کرتے ہیں۔ یعنی کہیں سے دو تین صفحے الٹ کر دیکھ لئے، بعض اوقات لکھائی چھپائی دیکھ کر ہی ساری کتاب کا مضمون بھانپ لیا، کتاب کا کاغذ اور روشنائی سونگھ کر کتاب پڑھنے یا چھوڑ دینے کا فیصلہ کر لیا۔ یا پھر کتاب کا سرورق پڑھتے پڑھتے اونگھ آ گئی اور اس عالم کشف میں جو دماغ میں آیا اسے مصنف سے منسوب کر کے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے اس سے بیزار ہو گئے۔
خلاف معمول اس کتاب کو ہم نے زبان کے ریفریشر کورس کے لئے پڑھنے کا فیصلہ کر لیا۔


















































































