پانی مر رہا ہے

ممتاز مصنفہ آمنہ مفتی صاحبہ کی کتاب ”پانی مر رہا ہے“ ملی تو سینئیر نقادوں کی طرح اس کا سرورق دیکھا، بیک فلیپ دیکھا، آمنہ مفتی کے کالم یاد کیے، ان کا لہجہ ذہن میں گونجا اور ہمیں یقین ہو گیا کہ اس کتاب میں ضرور قوم کے دیدوں کا پانی مرنے کا نوحہ پڑھا گیا ہو گا۔ واقعی قوم کی حالت بگڑی ہوئی ہے اور ایسی کتاب وقت کی ضرورت تھی۔ فروری میں ویلنٹائن ڈے بھی آنے والا ہے اس کا ذکر بھی کیا ہو گا اور قوم کو یوم حیا منانے کی تلقین کی ہو گی۔ بس یہی خیالات ذہن میں آئے۔

عموماً تو ہم یوسفی کے صبغے کی طرح کسی کتاب کے بارے میں فیصلہ کرتے ہیں۔ یعنی کہیں سے دو تین صفحے الٹ کر دیکھ لئے، بعض اوقات لکھائی چھپائی دیکھ کر ہی ساری کتاب کا مضمون بھانپ لیا، کتاب کا کاغذ اور روشنائی سونگھ کر کتاب پڑھنے یا چھوڑ دینے کا فیصلہ کر لیا۔ یا پھر کتاب کا سرورق پڑھتے پڑھتے اونگھ آ گئی اور اس عالم کشف میں جو دماغ میں آیا اسے مصنف سے منسوب کر کے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے اس سے بیزار ہو گئے۔
خلاف معمول اس کتاب کو ہم نے زبان کے ریفریشر کورس کے لئے پڑھنے کا فیصلہ کر لیا۔

Read more

زبیر رضوی کی آپ بیتی: گردش پا

آپ بیتی چاہے جس ڈھب سے لکھی جائے. اس میں ہر پڑھنے والے کے لیے کچھ نہ کچھ ضرور ہوتا ہے۔ بعض کے لیے کم بعض کے لیے زیادہ۔ وجہ یہ ہے کہ دوسروں کے بارے میں جاننے کا تجسس ہماری سرشت کاحصہ ہوتا ہے۔ ہم آپ بیتیاں پڑھ کر اپنے اندر کی ضرورتوں کو پورا کر رہے ہوتے ہیں۔ ہر لکھاری کی زندگی میں ایسے واقعات موجود ہوتے ہیں جو کسی نہ کسی قاری کی زندگی سے مشابہت رکھتے

Read more

الطافِ صحافت

”الطافِ صحافت“ کے لیے پہلا شکریہ تو مجھے ڈاکٹر طاہر مسعودصاحب کا ادا کرنا ہے۔ مگر ٹھہریے کتاب پر بات کرنے سے پہلے کچھ کہنا ہے کہ ڈاکٹر صاحب سے ابھی تک میری براہ راست ایک بھی ملاقات نہیں ہوئی۔ ٹیلی فونک رابطہ بھی بس دو تین کالوں تک ہی محدود رہاہے۔ مگر اِن کالوں یا ملاقاتوں سے کیا فرق پڑتا ہے۔ دراصل میں اپنے طور پر سمجھتی ہوں کہ میرے اور ان کے درمیان ایک گہرا ناتہ اور واسطہ اُس درد کے حوالے سے ہے جو کبھی مشرقی پاکستان کہلاتا تھا اور جہاں کی وہ جم پل تھے اور جس کے فراق کا اظہار مجھے کہیں کہیں اردو ڈائجسٹ میں اُن کی تحریریں پڑھنے سے ملتا تھا۔ مشرقی پاکستان جو میری بھی محبت تھی اور جس کو جاننے اور سمجھنے کے لئے میں بھی وہاں گئی تھی۔

Read more

درمیانی جنس، عورت اور چترا مدگل کا ناول ‘پوسٹ باکس نمبر 203 نالا سوپارہ’

اردو کی ایک خرابی یہ ہے کہ جب تک اعراب نہ لگائیں جائیں، دوسری زبانوں کا صحیح تلفظ ادا نہیں کیا جاسکتا۔ اعراب ہندی کی ماترائوں کی طرح حرفوں سے گھلی ملی ہوئی بھی نہیں ہیں۔ خیر، اس پرانی بری عادت کا رونا کیا رویا جائے، پہلے چترا مدگل کے نام کا تلفظ سمجھ لیجیے، چ کے نیچے زیر ہے، م کے اوپر پیش اور گ کے اوپر زبر۔ چترا مدگل کے اس ناول کو دوہزار اٹھارہ میں ساہیتہ اکادمی

Read more

شیخ عبداللہ کے کشمیر کے بارے میں خیالات- نائلہ علی خان کی کتاب

پاکستان کے بیشتر پڑھنے والوں کے نزدیک شیخ عبداللہ کی ہستی کا بہترین تصور، خواہ انہوں نے شیخ عبداللہ کے بارے میں کچھ بھی نہ پڑھ رکھا ہو، ایک مشکلات پیدا کرنے والے شخص اور بدترین تصور ایک غدار کا ہے۔ کس کاز کا غدار؟ کوئی نہیں جانتا اور نہ ہی پروا کرتا ہے۔ یہ حقیقت کہ کشمیریوں کے ایک غالب حصے نے، کم از کم لائن آف کنٹرول کے بھارتی جانب، انہیں لیڈر کے طور پر منتخب کیا تھا، یقیناً پاکستانی تصورات میں اتنا اہم مقام نہیں رکھتی۔

اسی لئے وہ کشمیری جو پاکستانی پالیسی پر چلتے ہیں اور انڈیا کے خلاف جہاد کرنے والوں کو ہیرو مانتے ہیں، ان کے لئے شیخ عبداللہ ایک تخیلاتی دھند میں لپٹی ہوئی تاریک شخصیت ہیں، ایک شریک کار، اعتماد کو دھوکہ دینے والا اور بالکل بھی ویسا نہیں جس نام سے دوسرے کشمیری انہیں یاد کرتے ہیں، یعنی کشمیر کا شیر۔

Read more

حنیف کے سرخ پرندے

محمد حنیف بھی کیا عجیب شخص ہے۔ جہاں پاکستانی انگریزی مصنفین اشرافیہ کے لیے لکھتے ہیں، ان کے ماحول میں اپنے کردار رکھتے ہیں، تا کہ ان کی کتاب زیادہ پڑھی جاے۔ حنیف نے اپنی پہلی کتاب A case of exploding mangoes ہی مرحوم جنرل ضیا کے طیارہ حادثے کے پس منظر میں لکھی تھی۔ اس کتاب کا مقبولیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اس کا دنیا کی ستائیس زبانوں میں ترجمہ ہوا۔ حنیف کی

Read more

ریل کہانی: رضا علی عابدی کی زبانی

ریل کہانی محترم رضا علی عابدی کی تصنیف ہے۔ رضا علی عابدی براڈ کاسٹر، صحافی اور ادیب ہیں۔ اہل علم و فن کی دنیا میں بڑا نام و مقام۔ پہلی مرتبہ جن کے نام سے میں اس وقت متعارف ہوا جب دوران لیکچر میرے محترم استاد نے مطالعہ کی اہمیت بتاتے ہوئے ان کا ذکر کیا اور بتایا کیسے انہوں نے کراچی سے پشاور تک دریائے سندھ کنارے سفر کیا اور کتب کی کتب پی گئے۔ مختصر ترین سامان کے ساتھ زاد راہ میں کتابیں تھیں جب وہ ختم ہو جاتیں تو اور منگوا لیتے۔

دریا میں پانی بہتا رہا جب کہ علم کا دریا، سندھ کنارے مشعل تھامے آگے چلے جا رہا تھا۔ فرمایا کرتے ہیں کہ مجھے نئی نسل اپنے باپ دادا کے حوالے سے جانتی ہے اور کہتی ہے کہ ہمارے آباء ریڈیو پر آپ کا پروگرام سنا کرتے تھے۔ بدبختی کا گمان ہوتا ہے کہ میرے باپ دادا نے مجھے ان کے بارے میں کیوں نہیں بتایا، نہ سنا ہو گا۔

دوسرے لمحے خوشی کی انتہا ہوتی ہے کہ میں ان سے بات کر سکتا ہوں۔ ان کی کتابوں کے طفیل ہی سہی ان سے مل سکتا ہوں۔ خوش بختی ہی تو ہے کہ ہم ان کو دیکھ، سن، اور سب سے بڑھ کر پڑھ رہے ہیں۔ خدا ان کا سایہ ہمارے سروں پر قائم دائم رکھے۔ ان کا یہ سفرنامہ جسے کہنے کو ہم ریل کی کہانی تو کہہ سکتے ہیں لیکن وہ حقیقت میں انسان کی داستان ہے، جذبات کے قصے اور احساسات کی حکایتیں ہیں۔ 1996 کے اوائل میں کیا گیا سفر، بی بی سی پر نشر ہونے والا دستاویزی پروگرام؛ غالباً سفر کی تیسری داستان جو کتابی شکل میں شائع ہوئی۔ یہ دستاویز ریلوے کے ہنستے بستے خوشگوار دنوں کی یاد ہے۔ بقول شخصے برصغیر کی ہتھیلی پر زندگی کی لکیر کی طرح دوڑنے والی ریلوے لائن کی کہانی کلکتہ سے کوئٹہ تک انگریز کے فہم کا بچھایا ہوا جال جو آج اپنوں کی بے حسی اور ناقدری کی یاد دلاتا ہے۔

Read more

 سعید نقوی: وطن میں غیر ۔ ہندوستانی مسلمان

ہر دور کی اپنی ایک پہچان اور شناخت ہوتی ہے، جس سے لوگ اس زمانے کے بارے میں جانتے اور اس کی روشنی میں کسی نتیجہ تک پہنچنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس میں خود نوشت، سر گزشت اور سوانح عمر بڑا اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ جس کے ذریعے سیاسی و سماجی حالات ہی نہیں بلکہ اس عہد میں جینے والے لوگوں کے بود و باش، رہن سہن اور تعمیر و ترقی کے علاوہ اس کے پس منظر اور

Read more

سوچ کے پیوند

مشہور انگریز مضمون نگار فرانسس بیکن کہتا ہے کہ ”مطالعہ اور ادب انسان کو تہذیب سکھاتا ہے جب کہ ادب لکھنا تہذیب کو کامل کرتا ہے“۔ ذاتی طور پر مجھے ادبی ذوق رکھنے والے اور خاص کر لکھنے لکھانے والے لوگ بہت پسند ہیں اور ہمیشہ کوشش ہوتی ہے کہ ایسے لوگوں کی صحبت میسر آتی رہے کیونکہ ان سے بہت کچھ سیکھنے کو ملتا ہے۔ علم اور حکمت قدرت کے دو آفاقی تحفے ہیں اور تاریخ گواہ ہے کہ خواہ کوئی فرد ہو یا قوم جنھوں نے قدرت کے ان آفاقی تحفوں کی قدر شناسی کی قدرت نے بھی ہمیشہ ان کا ساتھ دیا۔

علم یہ ہے کہ آپ کو معلوم ہو کہ ”کیا“ کہنا ہے جب کہ حکمت یہ ہے کہ آپ کو معلوم ہو کہ ”کب“ کہنا ہے۔ یوں توہم دوستوں اور تعلق داروں سے وقتاً فوقتاً تحفے تحائف کا تبادلہ کرتے رہتے ہیں لیکن ذاتی طور پر مجھے کتاب کا تحفہ دینے والے دوست کبھی نہیں بھولتے اور اگر کوئی صاحب کتاب اپنا تحریری نسخہ اپنے ہاتھوں سے عنائیت کرے تو میرے نزدیک یہ واقعی ایک انمول تحفہ ہوتا ہے۔ کچھ عرصہ قبل بلوچستان سے تعلق رکھنے والے میرے ایک انتہائی شفیق، مہربان، ملنسار اور علم دوست ساتھی امین ترین صاحب سے کسی معاملے پر بات ہوئی تو انھوں نے مجھے بہتر راہنمائی کے لئے ایک اور دوست محمد مدثر احمد سے ملنے کا مشورہ دیا۔

Read more

ناصر کاظمی: ہجر کی رات کا ستارہ

  ناصر کاظمی کے بارے میں کم لکھا گیا ہے۔ یہ کمی کمیت کے اعتبار سے بھلے نہ ہو مگر کیفیت کے حوالے سے ضرور ہے۔ اس کی وجہ ہے۔ یہ شاعر ان شاعروں میں سے ہرگز نہیں جن کو پڑھنے کے بعد ان کا خلاصہ لکھا جا سکتا ہو۔ شاعری کے ادوار گنوائے جا سکتے ہوں۔ کلاسیکیت یا جدیدیت کا کوئی تمغہ دیا جا سکتا ہو۔ ناصر ان سب سے مختلف ہے۔ ناصر کی قبیل کے اور شاعروں پر

Read more

میں ہوں ملالہ کا باپ!

ملالہ کی کہانی تو ساری دنیا جانتی ہے لیکن ان کے والد کی کہانی کو کم لوگ جانتے ہیں کہ ضیا الدین یوسفزئی ایک پٹھان فرماں بردار بچہ، گھر میں پانچ بہنیں، جن کا نام لینا بھی غیرت کے خلاف تھا۔

پڑھا لکھا باپ لیکن دبدبہ ایسا کہ بیٹے کا نام پکارے تو گلی میں کرکٹ کھیلتا بچہ بیٹ بال چھوڑ کر فوراً حاضر۔ اپنی یادداشتوں کی کتاب ’Let Her Fly‘ کے آغاز ہی میں ضیا لکھتے ہیں کہ والد نے سکھایا تھا کہ اچھی چائے کی کیا نشانیاں ہوتی ہیں، لیکن نہ باپ نے کبھی خود چائے بنائی نہ بیٹے کو بنانا سکھائی۔ آخر گھر میں پانچ لڑکیاں کس لیے تھیں۔

Read more

”دانائی کی تلاش میں“ پر ایک غیر دانا تبصرہ

دانائی کیا ہے؟ مفکّر کسے کہتے ہیں؟ دانشور کی کیا خصو صیات ہونی چاہئیں اور کوئی دانشور کیسے بن سکتا ہے؟ کیا کچھ لوگ پیدائشی دانشور ہوتے ہیں؟ اگر چہ یہ بہت سادہ سوالات ہیں لیکن ان کے جوابات اتنے ہی کٹھن اور پیچیدہ ہونگے۔ اور شاید مختلف لوگوں کے یہ جوابات بھی ایک دوسرے کے لیے ناتسلی بخش اور بہت مختلف ہوں۔ خالد سہیل کی کتاب ” دانائی کی تلاش میں” نے براہِ راست ان سوالوں کے جوابات نہیں دئے

Read more

ایگزٹ ویسٹ پر تبصرہ

”جب ہم ہجرت کرتے ہیں تو ہم اپنی زندگیوں میں سے ان لوگوں کا قتل کردیتے ہیں جو ہم سے بہت پیچھے رہ چکے ہوتے ہیں۔ “

ہجرت کے ایک معانی زندگی سے سیکھے دوسرے محسن حامد کی کتاب سے۔ ایگزٹ ویسٹ ہجرت کا المیہ ہے مگر صرف ہمارے جیسے ہزاروں محفوظ مستقبل کی خاطر اپنی بنیادوں سے اکھڑ کر نئی جگہ پر جنم لینے والے تارکین وطن کا ہی نہیں، بلکہ اس سے کہیں آگے بڑھ کر ان لوگوں کا جن کی زمین کا دامن آگ پکڑ لے، آسمان پر ستاروں کی بجائے گولہ بارود چمکنے لگے، گلیوں میں موت رقص کرنے لگے، پاؤں زمین میں دھنسنے لگیں اور انسان کو صرف اور صرف زندگی کی خاطر اپنی زمین سے اکھڑنا پڑے۔ وہ اک بے نام محرومی اور کسک جو اک مہاجر کے قدموں میں ہر وقت بیٹری بنکر پڑی رہتی ہے تب کئی گنا بھاری اور خون آلود ہو جاتی ہے جب اس ہجرت کا مطلب ایک زمین سے اکھڑ کر دوسری زمیں پر اگنا نہیں بلکہ ہواؤں میں ٹوٹنا بکھرنا، گمشدہ ہو جانا، اور محض سانس کی تلاش میں ہر آنے والے دن کے لئے پہلے سے زیادہ بے حال ہو جانا ہو۔ یہی محسن حامد کی ایگزٹ ویسٹ کا موضوع ہے۔

Read more

نفسیات کی خورد بین اور شاعری

عنبرین منیر نے ایک خاصے مشکل اور بہت مبسوط موضوع سے نمٹنے کی کوشش کی ہے۔ اس موضوع سے انصاف کرنے کے لیے ایک کتاب ناکافی ہے۔ بہرحال، ان حدود کا خیال رکھنا ہو گا، جو مصنفہ کے مدِ نظر رہیں۔ یہ تحقیقی مقالہ ڈاکٹریٹ کی سند حاصل کرنے کے لیے قلم بند کیا گیا تھا۔ اس اعتبار سے اسے تشفی بخش جائزہ قرار دیا جا سکتا ہے۔ جن شاعروں کا یہاں ذکر ہے، ان کی تعداد بہت زیادہ ہے۔ اگر دس بارہ سربرآوردہ شاعروں کے کلام کو سامنے رکھا جاتا، تو کام بہتر ہو سکتا تھا، آسان شاید پھر بھی نہ ہوتا۔ جو بھی سہی، مصنفہ کی محنت کی داد دینی چاہیے۔

Read more

پاؤلو کویلہو کی ناول ہپی پر ایک نظر

پاؤلو کویلہو کے لئے کہا جاتا ہے کہ وہ دنیا کے ان چند لکھاریوں میں سے ایک ہیں جن کی کتابوں سے دنیا بھر کے لاکھوں لوگ متاثر ہوئے ہیں۔ ان کی کتابیں دنیا کی 52 سے زیادہ زبانوں ترجمہ ہوچکی ہیں۔ کویلہلو کی ناول الکیمسٹ نے تو پوری دنیا میں شہرت حاصل کی اور لکھاری کی پہچاں بھی بن گئی، اس ناول کی لاکھوں کاپیاں بک چکی ہیں، جو اپنے آپ میں ایک ریکارڈ ہے۔ کویلہو کہ ناولوں میں

Read more

”عصمت چغتائی، احتجاج اور بغاوت کے آرٹ کی بانی“، ایک جائزہ

باب اول میں عصمت کے حالات زندگی و شخصیت کا ذکر ہے۔

عصمت خانم، منی بیگم، بغیر اطلاع کے پیدا ہوجانے اور بہن بھائیوں کے مہترانی کے نال کاٹنے ہر بھنگن کی لونڈیا کی داستان خود عصمت کی زبانی بیان ہوئی ہے۔ ہلاکو کے بھائی چغتائی خان سے نسبی تعلق رکھنے والا یہ خاندان ادب سے ہمیشہ آشنا رہا اس باب میں عصمت کے خاندانی حالات اور بچپن کے واقعات کا زیاد تر مواد عصمت کی خود نوشت، ”کاغذی ہے پیراہن“ سے لیا گیا ہے۔ عصمت کی علمی تربیت اس کے بھائی عظیم بیگ چغتائی نے کی جس کا حوالہ اس باب میں موجود ہے۔ بچپن سے ہی عصمت میں سوال اُٹھانے کی جراءت اور اپنی نسائی حثیت کا احساس دلانے بل کہ احتجاج کرنے کا رجحان تھا۔

Read more

مزاح صغیرہ و کبیرہ

محمد اسلام کا شمار بڑے صحافیوں اور مزاح نگاروں میں ہوتا ہے۔ ان کا سب سے بڑا حوالہ یہ ہے کہ انہیں ادبی ذوق ورثے میں ملا ہے۔ ان کے نانا فدا خان دہلوی کا شمار برصغیر کے ممتاز شعراء میں ہوتا ہے۔ محمد اسلام 1985 سے جنگ گروپ سے وابستہ ہے۔ یہ ادب و صحافت دونوں سے وابستہ رہے۔ مزاح نگار محمد اسلام کی چوتھی کتاب۔ ”مزاح صغیرہ و کبیرہ فروری 2018 میں فرید پبلشر نے شائع کی۔ انہوں نے اس کتاب کو جدید دور کے تقاضوں کے مطابق اردو ادب کے دو مزے دار حصوں میں تقسیم کیا یے۔

یعنی مزاح کبیرہ و مزاح کبیرہ۔ کتاب بہتر انداز میں دیدہ زیب سرورق کے ساتھ شائع ہوئی ہے۔ یہ کتاب اس لحاظ سے بھی منفرد ہے کہ یہ اردو ادب کی صنف طنز و مزاح پر مبنی سو لفظی کہانیوں کی پہلی کتاب ہے۔ یہ کتاب مجموعی طور پر دو حصوں پر مشتمل ہے، پہلے حصے میں سو لفظی کہانیاں ہیں جنہیں ”مزاح صغیرہ“ کے نام سے لکھا گیا ہے۔ اس حصے میں کل 99 مضامین ہیں۔ طنزو مزاح پر مشتمل دیگرکہانیوں کو ”مزاح کبیرہ“ کے خانے میں رکھا گیا ہے۔

Read more

سفر زاد

آج کل کے پُرشور ماحول میں پڑھنے کے لئے پُرمغز تحاریر میسر ہو جانا بڑی نعمت ہے، اسامہ خالد کی نظموں سے میرا پہلا تعارف سوشل میڈیا پر ہوا۔ کچھ عرصہ پہلے ان کی پہلی کتاب ”سفر زاد“ موصول ہوئی، جس کا زیادہ تر حصہ شاندار غزلوں اور آخری حصہ نظموں پر مشتمل ہے۔ پہلی فرصت میں حصہ نظم پڑھ کر جی میں آیا، اسے پڑھنے والوں سے شئیر نہ کیا جانا ان نظموں کے ساتھ زیادتی ہوگی!

اگست 2018 میں شائع شدہ ”سفر زاد“، اسامہ خالد کے شعری سفر کے امکانات کی تمام حدود واضح کرتی نظر آتی ہے۔ پہلی نظم ”خدا کو میری نظمیں اچھی لگتی ہیں! “

Read more

فورٹی رولز آف لو پر تبصرہ

”محبت زندگی کا پانی ہے اورمحبوب کی روح آگ ہے، اور جب اسی آگ کو پانی سے محبت ہو جائے تو کائنات کا رخ بدل کر رہ جاتا ہے“۔

ایک جادوئی، مسحورکن، دل کی تہوں میں طوفان برپا کر دینے والی تحریر جو ایک ترکش مصنفہ ایلف شفق کے قلم سے نکلتی ہے اور قاری پر اپنی ایسی تاثیر چھوڑ تی ہے کہ آپ پہلے لفظ سے خود کو بھول کر مصنفہ کے وجود میں سرایت کر جاتے ہیں اور اس کی تحریر کی دھڑکن کے ساتھ ساتھ رہڑکنے لگتے ہیں۔ قاری ایک ہی وقت میں اکسویں صدی کی یہودی عورت کی گھریلو، خوبصورت اور مکلمل زندگی کے ستم سہتا اور اس کی شناخت کے سفر میں اس کے حوصلے دیکھتا ہے تو ساتھ ہی ساتھ تیرہویں صدی عیسوی کے درویش کے ساتھ صحراوں کی خاک چھانتا، عشق کے عین سے قاف تک کے سبق سکھاتا، فلسفی کو اس کے مرتبے سے اتار کر شاعر، رقاص اور ملنگ بناتا، تڑپاتا، سِسکتا اور فنا ہو جاتا ہے۔ قاری دو مختلف صدی کے دو مختلف کرداروں میں ایک روح ایک وجود کی شبیہ دیکھتا ہے۔ ایمان اور یقین جو دنیاییں بدل دیتا ہے لہروں کے رخ موڑ دیتا ہے اور۔ عشق حقیقی جو توڑ کر جوڑ دیتا ہے، بگاڑ کے بعد تعمیر دیتا ہے اور فناییت کے بعد امر ہو جاتا ہے۔

Read more

”پانی مر رہا ہے“ ایک تجرباتی ناول

ایک مدت تک ( اورایک اب بھی کبھی کبھار ) میں اپنی غزلیں، کہیں چھپوانے سے پہلے محمد سلیم الرحمٰن کو دکھاتا رہا ہوں کہ ان کے ذوقِ شعری کا میں قائل تھا اور ہوں۔ برسوں پہلے ایک دن میری تازہ غزلوں پر ایک نظر ڈالنے کے بعد کہنے لگے : ”ساجد! اب مثنوی لکھو کہ غزل کہنا تم پر آسان ہو گیا ہے۔ “ میں مثنوی تو نہیں لکھ پایا، تاہم تب میں نے سلسلہ وار غزلوں کاکام آغاز

Read more

فوکویاما کی نئی کتاب اور تاریخ کے نئے دور کے آغازکی پیشن گوئی

آج سے تقریبآ 25 برس پیشتر فوکو یاما نے اپنی معرکتہ الآرا تصنیف” تاریخ کا خاتمہ” تحریر کی تھی جس نے راتوں رات نوجوان فوکو یاما کو شہرت کی بلندیوں پر پہنچا دیا تھا۔اس کے بعد فوکو یاما اور بھی کتابیں تحریر کرتا رہا لیکن جو کامیابی اس کتاب کے حصے میں آئی وہ اپنی مثا ل آپ تھی۔ اس کتاب کا خلاصہ یہ تھا کہ اب دنیا سرمایہ دارانہ جمہوریت کی طرف مسلسل بڑھے چلے جارہی ہے اور 90

Read more

ناول ”ہے“ کیا ہے؟

آپ کسی بھی اتھیسٹ کے سامنے اس ناول کے علم سے فاتح ہو سکتے ہیں۔ مثلاً ”کائنات کی اتنی بڑی تخلیق، اور وہ بھی اتنی مکمل۔ کیا ایک بگ بینگ سے وجود میں آگئی۔ وہ بھی اس مفروضہ پر کہ گیسیں اوّل سے موجود تھیں۔ نہیں نہیں۔ انسان سے کہیں بھول چوک ہوئی ہے۔ انسان آج جو کہتا چلا آ رہا ہے۔ کہ سب کچھ خود بخود وجود میں آگیا۔ اس کا ازسر نو جائزہ لینے کی ضرورت ہے“۔ ہماری رائے میں یہ ناول ہر ایک کے لیے ہے۔ علمائے دین اور طالب علموں خاص طور پر اُن طلباء کے لیے جو تقابل ادیان کے مباحث سے دل چسپی رکھتے ہیں۔

Read more

"سورج پر کمند” کتاب یا دستاویز

اکثر ایسے ملکوں کی طرح جہاں آبادی کی اکثریت بدبخت ہوا کرتی ہے پاکستان میں بھی ایسے لوگ رہے ہیں اور شاید اب بھی ہوں جو فی الواقعی بدبخت لوگوں کو خوش بخت بنانے کی نہ سہی مگر کسی حد تک زندگی سے مطمئن کرنے کی خلش اپنے دل میں محسوس کرنے کے ساتھ ساتھ اس خبش کو دور کرنے کی خاطر باقاعدہ پرخلوص جدوجہد بھی کرتے رہے۔ مگر ہوا یوں کہ ایسے لوگوں کو سوشلسٹ بلکہ کمیونسٹ جان کر

Read more

دربارِ دُربار: ریاست حیدرآباد دکن کے آخری دربار کا قصہ

نپی تلی ، جچی رچی نثر کی پڑھت کا لطف صرف محسوس کیا جا سکتا ہے کہ بلند خیالی اور ارفع زبان و بیان سے کشید کردہ جمالیاتی حظ کو الفاظ و تراکیب میں کھپانا اتنا ہی دشوار ہے جتنا خود اس کو معرضِ تحریر میں لانا۔ کیا شبہ اس میں کہ ہر عہد میں سنجیدہ لیکھک تعداد میں کم رہے ہیں۔ادب کیا ، علم کے ہر شعبہ میں عمدگی اور معیارہی اہلِ ادب و دانش کے قلوب و اذہان

Read more

خالد حسینی کی چوتھی کتاب، بے بس باپ کی صدا

‘سی پرئیر‘ (Sea Prayer) خالد حسینی کی چوتھی کتاب ہے۔ یہ ایک مختصر سی کہانی ہے۔ اگرچہ کتاب کے کل چھیالیس صفحے ہیں لیکن اگر کہانی کے الفاظ کو اکٹھا کیا جائے تو دو تین صفحوں میں سمٹ آئے۔ جنگ سے اجڑے علاقوں سے ہجرت کر کے دوسرے ملکوں میں محفوظ ٹھکانوں کے متلاشی پناہ گزینوں کا درد اس کہانی میں بھرا ہوا ہے۔ اپنا گھر بار، اپنا ملک، سب کچھ پیچھے چھوڑ کر جان بچا کر نکلنے والوں کے دلوں پہ کیا بیتتی ہے وہ اس چھوٹی سی کہانی میں نظر آتا ہے۔

Read more

بے وقعت ورثہ

جرمن ادیب فرانز کافکا کا ناول پڑھ رہا ہوں۔ سوچتا ہوں اسے پڑھنے اور ختم کرنے کے بعد اس کتاب کا کیا کروں؟ یہ جسے میں نے اپنے بچوں کی رزق میں سے پیسے کاٹ کر خریدا ہے۔ پڑھنے اور الماری میں سجا دینے کے بعد میں اسے اپنی بقیہ زندگی میں (اگر ہے بھی تو) کتنی مرتبہ اور اٹھا کے پڑھوں گا؟ شاید کبھی دوبارہ، سہ بارہ پڑھنے کی فرصت ملے۔ یا شاید کبھی اس کے کسی کردار، ماحول،

Read more

معذوری اور باوقار سماج

نیویارک سٹی میراتھن دنیا میں منعقد ہونے والی دوڑوں میں اہم مقام رکھتی ہے۔ مجھے اکتوبر 1987؁ء میں موقع ملا کہ میں بھی اس دوڑ میں شریک ہوسکوں۔ اس دوڑ میں بہت ساری بے شمار متاثر کن باتیں تھیں مگرجس بات نے مجھے سب سے زیادہ حیران کیا وہ یہ تھا کہ میں نے پہلی دفعہ اتنی بڑی تعداد میں معذور بچوں، عورتوں اور مردوں کو اس میراتھن میں شریک دیکھا۔ بیساکھیوں، خاص قسم کی چھڑیوں اور مختلف قسم کی پہیوں والی گاڑیوں پر بے شمار لوگ چھبیس میل دو سو پینسٹھ گز کی اس دوڑ میں شامل تھے۔

بیساکھیوں اور پہیہ گاڑیوں کے ساتھ معذور لوگوں کے علاوہ بینائی سے محروم افراد، ذہنی پسماندگی کے شکار بچے اور بڑے بھی اس دوڑ میں شرکت کررہے تھے۔ میں جہاں نیویارک میراتھن کے انتظامات سے متاثر ہوا تھا اس کے ساتھ ساتھ کثیر تعداد میں مختلف اقسام کے معذور افراد کو دی جانے والی عزت سے حیران رہ گیا تھا۔

Read more

درویشوں کا ڈیرا پر تبصرہ

خط لکھنے کی روایت اگرچہ بہت قدیم ہے لیکن ا س کو اردو ادب میں شامل کرنے کی اہمیت مرزا غالب کے خطوط سے شروع ہوئی ہے۔ میں نے ثانوی اسکول میں غالب کے ادبی خطوط پڑھے تھے۔ اس کے بعد کچھ اور ادیبوں کے بھی اکا دکا خطوط پڑھنے میں آئے۔ چند سال پہلے رتن بائی کے انگریزی میں لکھے ہوئے خطوط پڑھے جو انہوں نے محمد علی جناح کو پیرس سے لکھے تھے جہاں وہ اپنی عمر کے

Read more

آپس کی بات

ادب لکھنا فی زمانہ کارِ زیاں ہے۔ اور وہ اسی پر خوش۔ بقول کبیر خان ”اپنا رانجھا راضی کرنے کے لئے لکھتا ہوں“۔ اُسکا رانجھا بھی عجیب ہے، لکھنے سے راضی ہو جاتا ہے۔ اب ہم اِس عمر میں اِس ناقابلِ مرمت شخص کی اصلاح کرنے سے تو رہے۔ موصوف نے ایک جگہ فرمایا تھا ”عزیز قارئین! بڑی خواہش تھی کہ دنیا میں آ ہی گئے ہیں تو کوئی بڑا کام کر جائیں، مثلاً بڑے ہو کر اسکول ٹیچر بنیں

Read more

خالد سہیل اور رابعہ الربا کی کتاب ‘درویشوں کا ڈیرہ’ پر تبصرہ

کہتے ہیں گولی اس وقت چلتی ہے جب مکالمہ رک جاتا ہے – شاید پاکستان میں بھی اس لئے اتنی گولی چلتی ہے کہ وہاں مکالمے پر جمود طاری ہے – ہر سطح پر سینسر شپ خیالات کو آگے بڑھنے سے روک رہی ہے – خوف کا یہ عالم ہے کہ انسان اپنے سے گفتگو نہیں کر پا رہا دوسروں سے کیا کرے گا – اس ماحول میں اگر ایک خاتون اپنے کسی مرد دوست سے مکالمہ کرسکے تو اس

Read more

سید کاشف رضا کاناول چار درویش اور ایک کچھوا

سید کاشف رضا کا پہلا ناول ”چار درویش اور ایک کچھوا“ ہمارے اردگرد کی حقیقتوں کے اوپر تہہ بر تہہ پڑے ہویے پرتوں کو اتارنے کی ایک گستاخ اور بے باک کوشش ہے۔ پڑھنے والا اس ناول کے ہرباب کو ایک ایک مستقل تھیم سمجھ کر آگے بڑھتا ہے لیکن اختتام تک پہنچتے پہنچتے یہ انکشاف ہوتاجاتا ہے کہ ناول کے بظاہر اپنی ذات میں مکمل دکھنے والے تمام کردار کس طرح اس بڑے منظرنامے کی تشکیل اور تخلیق میں

Read more

فاخرہ نورین کی / کا "خندہ ہائے زن”

یہ کوئی فخر کی بات نہیں اس لئے شرمندگی سے بتا رہے ہیں کہ ادب سے تعلق ہونے کے باوجود خصوصاً فکاہیہ مضامین کو باقاعدہ کتابی شکل میں پڑهنے کا یہ ہمارا پہلا موقع ہے- طنز اور مزاح سے الگ الگ تو ہمیشہ واسطہ پڑا- کبهی طنز کے تیروں سے زخم زحم ہوئے اور کبهی مزاح سے حظ اٹهایا- لیکن انہیں بیاہتا جوڑے کی صورت ایک دوسرے کے پہلو بہ پہلو بلکہ ایک دوسرے سے بغل ہوتے ہوئے دیکهنے کا

Read more

اِک جاں پروری اور‘ڈئیوس، علی اور دیا ’

آج کل ہمارا فراغت کا زمانہ ہے سو زیادہ وقت مہمان نما دوستوں کے ساتھ ہی گزرتا ہے۔ اُس پنجابی کہاوت کے مصداق کہ‘‘ویھلی رَن پرونیاں جوگی’’۔ دفتری اوقات میں بھی کچھ ایسے دوست ملنے آ جاتے ہیں جن کے صدورِ شعبہ نے اُن کے ورک لوڈ کی تین کلاسوں میں سے ایک صبح آٹھ بجے اور بقیہ دو ساڑھے بارہ بجے کے بعد رکھی ہوئی ہیں۔ کبھی کبھی اُن کا تشریف لانا غیرعلانیہ اظہارِ یکجہتی بھی محسوس ہوتا ہے۔

Read more

رابعہ الربا اور ڈاکٹر خالد سہیل خدا سے ڈریں

آئیے آج میں آپ کو دو ظالم لوگوں سے ملواتی ہوں، جو ظلم تو کرتے ہیں مگر ایسی سفاکی سے کہ کیا کہیے۔ جس جام میں یہ زہر گھول کر پِلاتے ہیں، وہ ہوش اڑاتی، بے خوابی کی آخری دہلیز تلک لے جاتی ہے۔ ارے ظالمو! ہم دنیا دار لوگ ہیں؛ ہم صبح کاذب کا نشہ کیا جانیں! ہمیں کیا معلوم جب رات کی چاندنی انگڑائی لیتی، صبح کی پہلی کرن کا ہاتھ تھامتی ہے، تو کیسے ان کی خلوت

Read more

انیسویں صدی میں اُردو ناول

1857ء میں جو کچھ پیش آیا، اسے خواہ کسی عنوان سے یاد کیا جائے، غدر یا بغاوت یا جنگِ آزادی، اس نے مسلمانوں کو بالخصوص مایوس اور شرمندہ کیا۔ بعض اسے رضائے الٰہی سمجھ کر صابرانہ انداز میں چپ ہو گئے۔ بعض نے اپنی شکست کے اسباب پر غور و خوض کیا اور اس نتیجے پر پہنچے کہ ضرور ہماری ثقافت میں، جس کا ادب ایک اہم حصہ تھا، کوئی بنیادی نقص ہے اوراس کی اصلاح ناگزیر ہو چکی ہے۔

Read more

خالد سہیل اور رابعہ الربا کے نام ایک مکتوب

آداب! آپ کی اور رابعہ کی گفتگو کا سلسلہ ” درویشوں کا ڈیرا“ کی صورت میں ہاتھ لگا ۔ اور اسے پڑھتے پڑھتے میں دو درویشوں کی دنیا میں ایسی کھوئی کہ اٹھتے بیٹھتے سوتے جاگتے کسی وظیفے کی طرح دن رات اسے جاپتی رہی ۔اور دو سے تین دن کے اندر اسے ختم کر کے دم لیا۔لیکن آخری خط پڑھتے وقت میں شدید بے چینی میں مبتلا ہو گئی ۔کہ باتیں تو ابھی بہت سی تھیں جو پوچھنا بتانا

Read more

درسی قاعدہ جدید: غیر سیاسی

روزنامہ دھرتی کے ایڈیڑ عابد صدیق صاحب نے محمد کبیر خان کی کتاب ”درسی قاعدہ جدید‘‘ کی تقریب اجرائی میں اس محبت کے ساتھ مدعو کیا کہ اقرار کے سوا چارا نہ تھا۔ کیونکہ روایت کے برعکس یہ ایک زندہ و جاوید کردار کے ساتھ منائی جانے والی شام ہے۔ یہ تسلیم کرنے میں کوئی عار نہیں کہ ہمیں نامورشخصیات کے اعزار میں تقریبات منعقد کرنا اور ان کی تحسین کا فن نہیں آتا۔ مرد کوہستانی ادیبوں، شاعروں، سائسندانوں اور

Read more

’’گردباد‘‘گم گشتہ لمحوں کی داستان نہیں

گردشِ دوراں کی کوئی بھی ساعت بقائے کائنات کی خاطر ذرا سی بھی ناگزیر ہوتی تو قدرت اِسے کبھی بھی رفتگاں کی رو میں بہا کر رائیگاں نہ کرتی اور اُن لمحوں کو بھی ابدیت نصیب ہو جاتی جو خالقِ وقت کو عزیز تر ہوتے اوروہ لمحے بھی کائنات کے بہت سے مستقل مظاہر کی مانند فنا کی زد سے عاری ہوتے یہ الگ بات آگ اُگلتے سورج، چاند، ستارے، صحراء جنگل، پہاڑ، زمینیں، بحر و بر اگرچہ بقا کے

Read more

جینے کا قرینہ

  مختار صدیقی عمدہ شاعر تھے۔ مختلف علوم میں درک رکھتے تھے۔ موسیقی سے بھی گہرا شغف تھا۔ ان کی پہلودار علمی شخصیت کا ایک حوالہ ترجمہ نگاری ہے۔ چینی مصنف ڈاکٹر لین یو تانگ کی کتاب The Importance Of Living کا ترجمہ انھوں نے ’’ جینے کی اہمیت ‘‘ کے نام سے کیا۔ اس کتاب نے بہت سے لوگوں کو متاثر کیا ، ایک اہم نام ممتاز نقاد ڈاکٹر ناصر عباس نیر کا ہے جن کا کہنا ہے کہ

Read more

عبدالرحیم خانخاں اور مآثر رَحیمی

سیاسی وابستگیوں نے جہاں معاشرے کے دیگر شعبوں کا پراگندہ کیا ہے وہاں تخلیق و تحقیق کا عمل بھی اس کے منفی اثرات سے محفوظ نہیں رہاہے۔ جو علمی و تحقیقی کام سرکاری سطح پر ہونے چاہیے تھے وہ انفرادی طور پر کیے جارہے ہیں۔ یہ تاریخ فراموشی اور تاریخی واقعات سے دانستہ چشم پوشی کانتیجہ ہے کہ تا ریخ سے سبق سیکھنے کی بجائے ہم ماضی کی غلطیاں دہراتے چلے جارہے ہیں۔ مآثر رحیمی مغل دربار کے ایک امیر

Read more

محمد حنیف کا نیا ناول ”ریڈ برڈز“

انیس بھائی، ہماری زندگیوں میں فقط پھوپھو کے بیٹے نہیں تھے بلکہ ان زمانوں میں وہ سب کچھ تھے جس کے لئے آج کل تقریبا ڈیڑھ درجن سپر ہیروز درکار ہیں۔ کربلا کے بعد بیبیوں پہ کیا بنی، لیاقت علی خان کو گولی کیوں ماری گئی، قدیر خان کیسے امریکہ کی تمامتر ٹیکنالوجی کے باوجود زندہ بھی ہیں اور کام بھی کر رہے ہیں، یہ سب باتیں ہمیں انیس بھائی بتاتے تھے۔ بس یوں سمجھیں کہ ہمارے لئے ان کی کہانیاں، تاریخ تھیں اور ان کے خیالات، تعلیم۔

پھر ایک پربھات کے بعد یہ سب بدلنا شروع ہو گیا۔ ہلکی ہلکی سردی کے سبب، چھت پہ سونا موقوف ہو چکا تھا سو انیس بھائی کے ٹاک شوز بھی اگلی گرمیوں تک ملتوی قرار پائے تھے، لیکن اب وہ اکثر اپنی بیٹھک کے سامنے، ہمارے سوئی گیس والے پائپ پہ قدم جما کر بتاتے کہ روس، افغانستان میں بہت ظلم کر رہا ہے، اگر اسے افغانستان میں نہ روکا گیا تو یہ جنگ ہماری گلیوں تک آ جائے گی۔ میں سوچنے لگتا کہ سرفراز کالونی کی گلی نمبر چھ میں روسی سپاہی، ٹینکوں سمیت کیسے پہنچیں گے جب کہ یہاں تو کرولا بہت مشکل سے آتی ہے۔ کچھ دن بعد سکول سے گھر آیا تو دادی، چار موم کے دوپٹے سے آنکھیں پونچھ رہی تھی۔ پتہ چلا انیس بھائی فوج میں جا رہے ہیں۔

Read more

200 برس پرانی فحش کتاب پابندیوں کے بعد ایک بار پھر سامنے آ گئی

  دنیا کا وہ شرمناک ترین ناول، جس پر 200سال قبل پابندی عائد کر دی گئی تھی اور اس کی کاپیاں تباہ کر دی گئی تھیں، ایک بار پھر منظرعام پر آ گئی ہے۔ میل آن لائن کے مطابق یہ کتاب گرافک سیکس ناول ہے جو فرانسیسی فلسفی اور مصنف مرکوئس ڈی سیڈنے 1797ءمیں خفیہ طور پر شائع کیا تھا۔ اس ناول میں تصاویر کے ذریعے مردوخواتین کو گروپوں کی شکل میں جنسی عمل کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔اس میں

Read more

پاؤلو کوہلو کا ’ الکیمسٹ‘ …. امید اور خواب کی کتاب

الکیمسٹ برازیلی ادیب پاولو کوہلو کا وہ شاہکار ناول ہے ، جسے انہوں نے1988ء میں صرف دو ہی ہفتوں میں مکمل کیا لیکن جب یہ فن پارہ چھپا اور اس کا دنیا بھر کی تمام بڑی زبانوں میں ترجمہ ہوا تو اس نے فروخت کےنئے ریکارڈ قائم کیئے ، اس کی 43 ملین کاپیاں 155 ممالک میں فروخت ہوئیں اور اسے گینیز ورلڈ بک میں پرتگیزی زبان کا سب سے زیادہ فروخت ہونے والا ناول تسلیم کیا گیا۔ میں نے

Read more

تبصرہء کتاب ۔ حبس

مصنف۔ حسن منظر تبصرہ۔ غلام قادر ”حبس“ نام ہے اس خونچکاں تحریر کا جو برسوں پر پھیلی ہوئی نا انصافی کا المیہ ہے۔ جو مغرب کے دوہرے معیار کی آئینہ دار ہے۔ جب مغربی استعمار کو یہود پر ہونے والے ہولو کاسٹ کا کفارہ ادا کرنے کا خیال آیا تو قربانی کے لئے قرعہ ء فال فلسطینیوں کے نام نکلا۔ جن کا واحد قصور ان کا مسلمان ہونا تھا۔ یورپ کے سفید یہودیوں کو وہاں لا بسانے کا تمغہ برطانیہ

Read more

کتاب سے دوری کیوں؟

کتاب کا رواج اس وقت سے ہے جب سے انسان نے اپنی بات، اپنے احساسات اور جذبات کو لفظوں میں مقید کر کے ضبط تحریر میں لانے کا آغاز کیا۔ قدیم دور میں جب کاغذ آج کی طرح ارزاں اور سہل الحصول نہیں تھا اور لکھے گئے مخطوطوں کی بہت اہمیت ہوا کرتی تھی، ان دنوں کتاب اس شکل میں نہیں تھی جیسے آج کے دور میں ہم دیکھتے ہیں ایک تو کاغذ بنانے کا فن ہر قوم نہیں جانتی

Read more

مشاہیر علم و ادب کے سرقوں کا محاسبہ: ‘اثبات ‘کی ایک اور جرأت مندانہ پیشکش

جرم بہر حال جرم ہوتا ہے اور غلطی غلطی ،یہ وہ محرکات ہیں جو کسی بھی معاشرے کیلئے انتہائی خطرناک اور ضرررساں ہوتے ہیں اس کے تدارک کیلئے جو تادیبی سزائیں مقرر کی گئی ہیں ان پر پوری طرح عمل درآمد ہی اس کے استیصال کا واحد علاج ہوسکتا ہے اس میں ذرا بھی تساہلی ،تسامح یا مصلحت کوشی جرم کو نہ صرف مزید طاقتوربناسکتی ہے بلکہ اس کی آبیاری کیلئے آب حیات کا کام کرتی ہے ۔اس فلسفے کو

Read more

تسطیر ہے کیا؟

 میں تسطیر کے دوسرے جنم سے واقف ہوں، اس کا پہلا دور میری غیر حاضری میں تھا۔ صرف یہ معلوم تھا کہ اردو کے معروف شاعر نصیر احمد ناصر تسطیر کے مدیر ہیں۔ وہ پہلا دور کیسا تھا؟ نصیر احمد ناصر کیسے اِسے سنبھال رہے تھے؟ کیا کچھ اس میں قلم بند ہو رہا تھا؟ اردو ادب کی تاریخ کے حوالوں سے تو بہت اہم سوال ہیں، لیکن سچ پوچھئے، میری اس طرف توجہ ہی نہ گئی۔ اس کی ایک

Read more

’’سورج پہ کمند‘‘ ڈالنے والے آشفتہ سروں کی داستان

اس وقت میرے ہاتھ میں 592 صفحات پر مبنی ضخیم کتاب ’’سورج پہ کمند‘‘ ہے جس کو برطانیہ میں رہنے والے ڈاکٹر حسن جاوید اور ماہر تعلیم محسن ذوالفقار نقوی نے تالیف کیا۔ کتاب کو پڑھتے ہوئے لاشعوری طور پر میں اپنے بچپن میں پہنچ گئی ہوں۔ میری آنکھوں کے سامنے اپنے مختصر سے مکان کے احاطے میں وہ چھپر نما کمرہ آرہا ہے کہ جسے میرے انقلابی نوجوان بھائی نے چٹائی، ٹہنیوں اور گھانس پھونس سے بنایا تھا۔ اس

Read more

اسے پرواز کرنے دو

ایک والد کی رودادِ زندگی اور صنفی امتیاز کے خلاف اس کی جدوجہد ضیاء الدین یوسف زئ لوئس کارپینٹر کے ساتھ دیباچہ: ملالہ یوسف زئی ’’جب بھی مجھ سے کوئی پوچھتا ہے کہ ملالہ موجودہ قابل رشک مقام تک کیسے پہنچی، اس کے لئے آپ نے کیا کیا ہے؟ تو میں جواب میں عموماً یہ بات دہراتا ہوں کہ یہ مت پوچھیں کہ میں نے کیا کیا، بلکہ یہ پوچھئے کہ میں نے کیا نہیں کیا، میں نے اس کے

Read more

مائیکروفکشن میں عقیل عباس کی ’دلہن‘۔

ڈی ایچ لارنس لکھتے ہیں ’کسی نئی آواز کو سننا مشکل ہے اتنا ہی مشکل جتناکہ کسی انجانی بولی کو سننا۔ کیونکہ دنیا ڈر کے مارے نئی آواز کو نہیں سنتی، کیونکہ دنیا اگر کسی بات سے ڈرتی ہے تو وہ ہے نیا تجربہ، اور اس کیوجہ یہ ہے کہ ایک نیا تجربہ بہت سے پرانے تجربات کو درہم برہم کر دیتا ہے‘۔ ادب ہمیشہ خالصتاً انسانی رویوں اور سماجی ناہمواریوں کی بنیاد پر تخلیق پاتا ہے۔ تہذیب اورابلاغیات کی

Read more

انسانی تماشا: ولیم سرویان کے ناول کا اردو ترجمہ

شفیق الرحمٰن مزاح نگار کی حیثیت سے مجھے بہت پسند ہیں، لیکن انھیں دل سے چاہنے کی ایک وجہ امریکا سے تعلق رکھنے والے نامور فکشن نگار ولیم سرویاں(81 19۔ 1908)کے ناول، ” ہیومن کامیڈی ‘‘کا ان کے قلم سے ہونے والا ترجمہ ہے۔ میرے لیے یہ کتاب ایسی کتابوں میں شامل ہے جن کی طرف بقول ولیم فاکنر بندہ اس طرح رجوع کرتا ہے جیسے کوئی پرانے دوستوں کی طرف رجوع کرے۔ ” انسانی تماشا ‘‘پہلی دفعہ 1956میں مکتبہ

Read more

سمند طور کے سفرنامے

میں نے سوچا نہیں تھا کہ کینگرو کا تعلق فیس بک سے بھی جڑ سکتا ہے۔ بات یہ ہے کہ مجھے لڑکپن سے، جی ہاں لڑکپن سے ہی کینگرو پر سواری کرنے کا بہت شوق رہا۔ یہ لمبی لمبی جست لیتا کینگرو اور اس پر سوار میں، پھر ایسی سواری جو کسی کے بھی پاس نہ ہو۔ سدھائے ہوئے کینگرو کو ایڑ ماری جو سڑک پر گاڑیوں بیچ جست لگاتا ہوا مجھے کالج یا دفتر پہنچا دے۔ کینگرو آسٹریلیا میں

Read more

کیا آپ نے نیلم احمد بشیر کا ناول ۔۔۔ طائوس فقط رنگ ۔۔۔ پڑھا ہے؟

اگر آپ کسی بے دھڑک، بے خوف، اپنے سچ کا بغیر کسی مصلحت اور سیاست کے اظہار کرنے والی اردو ادیبہ سے ملنا چاہتے ہیں تو آپ کو نیلم احمد بشیر سے ضرور ملنا چاہیے۔ ٹورانٹو میں قیام کے دوران ۲ ستمبر ۲۰۱۸ کو ایک سیمینار میں شکوہ عاطف، اسما باجوہ، بلند اقبال اور مرزا یاسین بیگ نے نیلم احمد بشیر کے ناول ’طائوس فقط رنگ‘ کے بارے میں اپنے خیالات، جذبات اور احساسات کا اظہار کیا۔ مقالوں کے بعد

Read more

ناول؛ بہاؤ از مستنصر حسین تارڑ صاحب

بہاؤ تو ایک بہاؤ ہے ان تمام تہذیبی عناصر جو کہ ہزاروں سال پہلے موجود تھے میں لیا پھرتا ہے۔ وہاں لوگ، رہن سہن، معاشرت، زندگی کا دارومدار (پانی اور کھیت)بستی کا اجڑنا اور اس اجڑنے میں زندگی کی امید، ان سب کو عمدہ بیانیے کے ساتھ بیان کرتا ہے۔ اس ناول کی تخلیق میں بقول تارڑ صاحب کے 12 سال لگے۔ کسی بھی تخلیق کے لیے تجربہ یا مشاہدہ ایک بنیادی عنصر کی حیثیت رکھتے ہیں لیکن اس ناول

Read more

روٹھی دنیا سے راضی کہانیاں

کہانی ملا نہیں کرتی، اسے بھگا کر لانا پڑتا ہے۔ اس کے گھر کے صحن میں، جو دنیا سے بھی زیادہ وسیع ہے، قدم رکھو تو وہ بالوں میں کنگھی کرتی نظر آئے گی۔ بالوں میں پھولوں کی جگہ ستارے دمکتے دکھائی دیں گے۔ تم کہو گے: ”میرے ساتھ چلو۔ ‘‘ وہ کہے گی: ”چلو۔ ‘‘ کہانی کو بھگا لینے کے شوقین کی خوشی کا کوئی ٹھکانا نہ رہے گا۔ وہ اسے گھر لے آئے گا۔ اس رات اسے اتنی

Read more

جبر اور جمہوریت …

ایک عجیب سی بے کلی، انجانے اضطراب اور سمجھ میں نہ آنے والی بے سکونی کے باعث پریشان کن اندیشوں اور خدشات نے دل و دماغ کو گھیر رکھا تھا اور شاید آنے والے عجیب لمحات نے اپنے سیاہ پردوں کو پھیلانا شروع کردیا تھا۔ 11 اکتوبر کی صبح 8 بجے میاں نواز شریف اسلام آباد جانے کے لئے گھر سے نکلے تو جانے کیوں میں انہیں خالی خالی نظروں سے دیکھ رہی تھی۔ یوں گھر سے جانا تو ان

Read more

پانی مر رہا ہے

آکسفورڈ کے ڈاکٹر فیصل بتا رہے تھے کہ نیورالوجی کی اپنی ایک دنیا ہے۔ کچھ مریض ایسے ہوتے ہیں کہ بینائی کھونے کے باوجود ضد کرتے ہیں کہ انہیں صاف دکھائی دے رہا ہے۔ ایسے میں کبھی کبھار ڈاکٹر، ان کے تیقن کی بنیاد پہ انہیں واپس جانے کی اجازت بھی دے دیتا ہے مگر جونہی وہ کسی دیوار سے ٹکرا کر گرتے ہیں تو انہیں اندازہ ہوتا ہے کہ ہسپتال کی دیوار، ذہن میں اٹھی دیوار سے زیادہ مضبوط

Read more

آئیے، ناصر عباس نیر سے نظم پڑھنا سیکھیں

‘ادب کیسے پڑھیں؟ ‘، ’نظم کیسے پڑھیں؟ ‘، ‘ناول کیسے پڑھیں‘ اور اس سے ملتے جلتے دیگرعنوانات پر مغرب میں کئی ایک کتابیں لکھی گئی ہیں۔ ان میں پہلے دوعنوانات پر برطانوی نقاد اورتھیورسٹ جناب ٹیری ایگلٹن کی دو مختلف کتابیں بالترتیب دو ہزار چودہ اور دو ہزار چار میں شایع ہوئیں۔ ٹیری ایگلٹن سے بھی پہلے سِن انیس صد ننانوے میں ’نظم کیسے پڑھیں، اور شاعری کی محبت میں کیسے گرفتار ہوں؟ ‘ کے عنوان سے معروف امریکی شاعر

Read more

یاد رکھنے کے بہانے

خواجہ محمد ذکریا نے جن صاحبان کی آنکھیں دیکھی ہیں، جن سے پڑھا اور سیکھا ہے، فیض حاصل کیا ہے۔ اب ان کی مثال ملنی مشکل ہے۔ یہ نری قنوطیت کا اظہار نہیں، حقیقت کا اعتراف ہے۔ تعلیمی میدان میں ہم مسلسل زوال آمادہ ہیں اور کہا نہیں جا سکتا کہ پستی کی یہ رو کہاں جا کر تھمے گی۔ زکریا صاحب کے کئی پہلو قابلِ ذکر ہیں۔ وہ اچھے استاد ہوں گے۔ اس بارے میں کچھ کہنے سے قاصر

Read more

 ‘بھاگ بھری‘ کا ساون آئے، ساون جائے

ہمارے اردو والے بڑی ریاضت کے بعد جن تین الفاظ کی معنویت ختم کرنے میں تقریباً کامیاب ہوچکے ہیں وہ ‘نامور‘، ‘معروف‘ اور ‘عظیم‘ ہیں۔ میں کسی بھی ایسے شخص یا اس کے کارہائے نمایاں کو ہاتھ ڈالنے میں احتیاط لازم سمجھتا ہوں جس کے معاصرین اس کے نام کے ساتھ ان تینوں میں سے کوئی ایک بھی لفظ استعمال کریں۔ ان الفاظ کو بے توقیرکرنے میں نمایاں حصہ ان شعرا کا ہے جن کے خیال میں اردو شاعری کو

Read more

میری کتاب سو برس بعد پڑھی جائے گی

ان کے بارے میں کہا جا سکتا ہے کہ پل کی خبر بھی ہے اور سو برس کا سامان بھی۔ یہ قصّہ کسی اور کا نہیں، مارگریٹ ایٹ وڈ سے شروع ہوتاہے، کینیڈا سے تعلق رکھنے والی ادیب اور ناول نگار جنہوں نے اپنے ناولوں میں بنی نوعِ انسان کی بگڑتی ہوئی صورت حال کا تخیّلاتی احوال اس کمال سے رقم کیا ہے کہ ان کو موجودہ زمانے کے سربرآوردہ لکھنے والوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ ان کی کتابیں

Read more

حفیظ تبسم کے دشمنانِ منظومہ کا مختصر جائزہ

میرے پسندیدہ ادیب گیبریئل گارسیا مارکیز نے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ نوبیل انعام کے حصول کے بعد جب ان کی شہرت کو پر لگ گئے تو ان کے لئے نئے دوستوں کی تعداد گننا ناممکن ہوگیا، مارکیز کے مطابق جہاں کچھ افراد منافقانہ خوشامد کے ساتھ ان کی شہرت سے اپنا حصہ لینے کے خواہشمند تھے وہیں کچھ ایسے بھی لوگ تھے جو اتنے ہی مخلص تھے جتنا غربت اور مشکلات کے دور میں ساتھ دینے والا کوئی

Read more

بدلنا قسمت گاؤں کی

ہمارے دیہی علاقوں کی ترقی کی وکالت کرتی ہوئی جاوید احمد ملک کی یہ کتاب (Transforming Villages – how grassroots democracy can end rural poverty at a rapid pace) نہایت بروقت ہے۔ پی ٹی آئی نے حکومت کا آغاز کیا ہی ہے اور وہ ملک میں ایک مثبت تبدیلی لانے کا نہایت مشکل کام کرنے کا وعدہ کر کے آئے ہیں۔ یہ کتاب انہیں ایک نسخہ بتاتی ہے کہ وہ پاکستان کے دیہی علاقہ جات کی قسمت کیسے سنوار سکتے

Read more

یثرب کی سیر

آج سے آٹھ سال قبل اردو زبان میں لکھی جانے والی مکہ مکرمہ کی مکمل تاریخ’’تاریخ ام القریٰ‘‘کے نام سے مارکیٹ میں آئی جسے ادبی اور مذہبی حلقوں میں خاصی مقبولیت ملی‘اس کتاب کے مصنف معروف شاعر اور مؤرخ محمد عمر ندیم تھے ۔مجھے اس وقت یہ کتاب پڑھنے کا حسین اتفاق ہوا تھا‘آج اتنے برس گزر جانے کے بعد بھی میں اس حسیں شہر کا خوبصورت لمس محسوس کر سکتا ہوں جو اس کتاب کے پڑھنے کے بعد ملا۔میں

Read more

عمران خان کے خلاف جادو ٹونے کا استعمال

کیا کتابیں زندگی بدل دیتی ہیں۔ ہماری روزمرہ زندگی میں بہت سارے کام ہم کتابوں کے مطابق کرتے ہیں۔ پاکستان کا دستور ہرپاکستانی کے لیے اہم اور اس کو قانونی اور اصولی تحفظ مہیا کرتا ہے۔ یہ علیحدہ بات ہے اس دستور کو سب سے زیادہ ہمارے حکمران نظر انداز کرتے ہیں۔ حالیہ دنوں میں انتخابات کے بعد حکمرانوں کی تبدیلی ہوئی ہے۔ تحریک انصاف کے کپتان عمران خان نے اپنی 22 سالہ ریاضت کے نتیجہ میں پونے دو کروڑ

Read more

پرانا کوٹ، نئی کتاب

کتاب انسان کی بہترین رفیق ہے جس کی اہمیت اور صداقت سے انکار ممکن نہیں۔ ہوش اور شعور کی دنیا میں قدم رکھتے ہی انسان کو کتابوں سے واسطہ پڑتا ہے اور یہ کتاب ہی ہے جو انسان کو زندگی کے نشیب و فراز، بودو باش، رہن سہن اورحکمت و دانائی کی باتیں بتاتی ہے۔ یہ ایسی حقیقت ہے جس سے مفر ممکن نہیں، کتب بینی کی عادت انسان کی شخصیت پر دیرپا اثرات مرتب کرتی ہے۔ مطالعہ بھی دو

Read more

زندگی کو زندہ رکھنے والا جرات مند شاعر اور صحافی: احفاظ الرحمن

مجھے بالکل اچھی طرح تو یاد نہیں کہ پہلی بار میں نے کب احفاظ الرحمن کو روبرو دیکھا، لیکن رسالہ ”آدھی دنیا“ (محنت کش عورتوں کے لیے شائع ہونے والا رسالہ) کے توسط سے ان کی اہلیہ مہناز رحمن، جو خود اہم صحافی ادیبہ اور سوشل ایکٹوسٹ ہیں، سے درستی اور قربت نے میرا احفاظ الرحمن سے غائبانہ تعارف ضرور کروا دیا تھا۔ کچھ برسوں بعد ایک آدھ بار ہلکی پھلکی ملاقات بھی ہوئی اور بس اس کے بعد ہم

Read more

حکومت کی بْو ہوتی ہے

’’حکومت کی بْو ہوتی ہے۔ جو پھیلتی رہتی ہے۔ مشامِ جاں میں سوئیوں کی طرح چبھتی ہے۔ شریانیں اڈھیر دیتی ہے۔ نسلیں پھاڑتی ہے۔ سوچ مفلوج کرتی ہے۔ ضمیر کا گلا گھونٹتی ہے۔ قوی مضحمل کرتی ہے۔ حکومت مردار جسم کی طرح ملک کے تمام شہروں، گاؤں قصبو ں، کھلیانو ں، صحراؤں، پہاڑوں، ندیو ں، دریاؤں اور سمندرو ں میں پڑتی ہوتی ہے۔ کٹی کھوپڑیو ں اورپھٹے پیٹ کے ساتھ، جس کی انتڑیو ں میں گدھ چونچوں اور پنجوں کے

Read more

دوام – ماحولیاتی تبدیلیوں پراردو ادب کا پہلا ناول

میں ہمیشہ سے اس بات کا قائل ہوں کہ بحیثیت زبان اردو کے دامن میں بے پناہ گنجائش ہے اوراس میں وہ تمام لوازمات موجود ہیں جو کسی بھی زبان کو بین الاقوامی زبان بننے کے لیے درکار ہوتے ہیں۔ اردو ادب پر ناقدین کی جانب سے الزام عائد کیا جاتا ہے کہ یہاں موضوعات کی قلت ہے اور عموماً ناول لگے بندھے موضوعات کے گرد گھومتے ہیں۔ ناقدین کی رائے قابلِ احترام صحیح لیکن کوئٹہ سے تعلق رکھنے والی

Read more

اقبال دیوان :اَن چھُوے خیال و اسلوب والا فکشن نگار

اکیسویں صد ی کے دوسرے دَہے کا یہ آٹھواں برس ہے۔ سہانی ، شگفتہ اور عمدہ نثر لکھنے والے ،تھوڑوں سے بھی تھوڑے رہ گئے ہیں ۔فکشنی نثر میں شگفتگی اور انفرادیت کی خوشبوئیں بھرنے والے کم یاب ہیں۔زبانِ اردو ، جس نے آزاد ، مرزا بیگ،مولوی نذیر، غالب، سرشار،حسن نظامی، راشد الخیری، ملا واحدی، شاہد احمد دہلوی، صدق جائسی،اسلم فرخی اور مختار مسعود جیسوں کے قلموں کے بہشتی ذائقے اپنے اندر اتارے تھے، اب روکھی سوکھی، کڑوی کسیلی کھانے

Read more

انتظار حسین کی دانست میں

ممتاز ادیب شمس الرحمٰن فاروقی نے انتظارحسین کی کتاب”علامتوں کا زوال“ پر مضمون میں لکھا ”انتظارحسین کی تنقید اسی لیے قیمتی ہے کہ وہ جگہ جگہ ایسی insights سے بھری ہوئی ہے جن پر پورے پورے مضامین نثار ہو سکتے ہیں۔“ نامور شاعر ظفر اقبال کی ” آب رواں“ پر اپنی تحریر میں رائے دی: ”انتظار حسین کا ذکر میں نے اس لیے کیا کہ ان سے اچھا قاری کم ہی آج کے زمانے میں کسی کو میسر آئے گا۔

Read more

’بیمارستان‘ سے ’ گرین زون تھیرپی ‘ تک۔

ڈاکٹر خالد سہیل سے میرا پہلی بار ٹیلی فون سے رابطہ 2009ء میں اس وقت ہوا جب ان کی ویب سائٹ کی چھان پھٹک نے مجھے قائل ہی نہیں بلکہ مجبور کر دیا کہ شمالی امریکہ میں بسنے والے جنوبی ایشیائی مہاجرین کی ذہنی صحت کے حوالے سے ان سے گفتگو کی جائے۔ واضح رہے کہ ان کا نام نفسیاتی امراض کے ماہر معالج کے طور پر معتبر گردانا جاتا ہے۔ گو ڈاکٹر خالد سہیل سے براہِ راست فون پر

Read more

تسطیر کے نام ایک خط

غالب اگر زندہ ہے تو مکتوب نویسی کیسے مر سکتی ہے؟ ذرا دھیان دیجیے گا کیا واقعی ایسے کسی امکان کی گنجائش ہو سکتی ہے کہ غالب تو موجود ہو اور اس کی ذات سے جڑی ایک توانا روایت خاموشی سے دم توڑ جائے۔ دل مانتا ہے نہ عقل تسلیم کرتی ہے تو پھر یاالہی یہ ماجرا کیا ہے ؟آخر خط نویسی کو قصہ پارینہ کیوں سمجھ لیا گیا ہے۔ بلکہ عمداً ایسی کاوش کی جا رہی ہے۔ جب رابطے

Read more

مستنصر حسین تارڑ کے ناول "راکھ” بارے میں چند الفاظ

راکھ۔ وہ کتاب جس کا آخری صفحہ میں نے کچھ ہی دیر پہلے مکمل کیا اور جو افراد اِس بہترین داستان کا پہلے سے مطالعہ کر چکے ہیں وہی اِس کیفیت سے آشناء ہوں گے جو راکھ کے اختتام پہ ہو سکتی ہے۔ دیارِ غیر میں اپنے پاکستانی لکھاریوں کی کتابیں ذرا مشکل سے میسر ہوتی ہیں۔ اپنی سالگرہ کے موقع پر ایک بہت ہی پیارے دوست کی وساطت سے تارڑ صاحب کی کچھ کتابیں بطورِ تحفہ موصول ہوئیں۔ میں

Read more

سیاست میں انسانیت ڈھونڈنے کا ہنر

اکتا جاتے ہیں۔سیاست کے موضوع پر کالم پڑھ پڑھ کر؛ پڑھنے والوں کی ناک میں دم آ جاتا ہے۔ مان لیا، سیاسی موضوعات پر سب اپنے اپنے اسلوب سے لکھتے ہیں۔ کچھ کے اسالیب بہت مقبول ہیں مگر موضوع تو وہی رہتے ہیں۔ وہی عمران خان، وہی زرداری، وہ انگلی لہراتی ہوئی، وہی ہیٹ، وہی شہزادی، وہی اس کا بے وقعت میاں جس نے شناخت سسرال میں گم کردی۔ فنا فی السسرال ہو گیا۔ تاریخ میں نام اور مقام بنا

Read more

تارڑ صاحب کی کتاب یاک سرائے پر ایک مختصر تبصرہ

ﻣﯿﺮﮮ ﺭﯾﮏ ﻣﯿﮟ ﺗﺎﺭﮌ ﺻﺎﺣﺐ ﮐﯽ ﭘﮩﻠﯽ ﮐﺘﺎﺏ ‘یاک سرائے’ تھی ۔ میں نے یہ کتاب پچھلے سال ہی پڑھی ہے ۔ عرصےبعد پڑھے جانے والا یہ پہلا سفرنامہ ہے ۔ اس سے قبل سفرنامہ کب پڑھا اور کس کا پڑھا ، ٹھیک سے یاد نہیں ۔۔۔ شاید ابنِ انشاء کا ‘چلتے ہو تو چین کو چلیے’ یا شاید ایک مصنفہ کا سفرنامہ جس کا نام فی الوقت یاداشت میں نہیں ۔۔۔ بہرحال، اس سفرنامے میں ‘ہونو لولو’ کے ایرپورٹ

Read more

محبت کی زبان میں لکھا گیا ناول

(مقبول ترین سندھی ناول رھجی ویل منظر کے اردو ترجمے منظر جو رہ گیا پر تبصرہ) حیدرآباد لٹریچر فیسٹول دوہزار سترہ کا ایک سیشن۔ جس میں سندھی کے معروف ادیب طارق عالم ابڑو پر بات کرنے اور سننے کے لیے میلے میں موجود شائقین ادب کی بڑی تعداد سندھی لینگوج اتھارٹی کے ہال میں جمع تھی۔ اسٹیج پر گفتگو کے لیے بلائے جانے والے تمام مقررین بیٹھ چکے تھے، طارق عالم ابڑو کے دوست، لیکن مجھے حیرت ہوئی۔ ایک نشست

Read more

’’ دشمنوں کے لئے نظمیں ‘‘—-ایک تاثراتی مطالعہ

دشمنوں کی ڈی کنسٹرکشن ابھی کچھ دیر پہلے حفیظ تبسم کی کتاب کا مسودہ بذریعہ ای میل موصول ہوا تو حسرت آلود یادوں کی ایک پٹاری سی کھلتی چلی گئی (چونکہ وائی فائی کی سپیڈ معمول سے کچھ کم تھی لہذا نظموں کی فائل کافی دیر بعد جاکر کھلی )۔ فائل تو جیسے تیسے کھل گئی مگر جب ایک مرتبہ دشمنوں کے لئے ساری نظمیں پڑھ چکنے کے بعد بھی یہ سمجھنے سے قاصررہا کہ آخر ان دشمنوں کے درمیان

Read more

ایک طویل سفر کی کتھا

خزاں کی زلفوں میں اُلجھی ایک شام، آخری دَموں پہ تھی۔ تالاب کنارے، پیپل کا ایک بوڑھا شجر، اپنے شاخچوں میں بسنے والے پرندوں کے انتظار میں کھڑا اونگھ رہا تھا۔ دِ ن بھر کی مسافت سے تھکا ہارا سورج، تالاب کے پانی میں اُتر کر اشنان کرنے لگا تو لکن میٹی کھیل کر گھروں کو لوٹتے بچے یہ اچھوتا نظارہ دیکھ کر مسحور سے ہو گئے۔ ایک شریر بچے نے پانی میں کنکری پھینکی تو لہروں کا جال سا

Read more

گلوریا جینز میں شام اور ہزار داستان

نصیر احمد ناصر صاحب کی نظم پہ تبصرہ کرنا سورج کو چراغ دکھانے جیسا ہے مگر میں چراغ دکھانے کے بجائے چاندنی کی طرح ان کی نظم کا عکس بننا چاہوں گی تاکہ سورج کی مستعار روشنی کو اپنے نظریے میں ڈھال کر پھر سے اجالا کر سکوں ـ نصیر احمد ناصر عصرِ حاضر کے وہ نظم گر ہیں جن کی نظموں کے طلسم نے وقت کو روک رکھا ہےـ اس پختہ عمری میں بھی نصیر صاحب کی سوچ میں

Read more

نصیر احمد ناصر کی ایک معکوس غزل

میرے ہاتھ میں اس وقت سہ ماہی کتابی سلسلے "تسطیر” کا حالیہ شمارہ 4 ہے جس میں جناب نصیر احمد ناصر صاحب کی اپنی مثال آپ شاعری موجود ہے. ہر فن پارے میں جو سب سے اہم بات نمایاں ہے وہ بیان کی سادگی ہے. کہیں موسیقیت سے بھرپور غزل "آسماں وجد میں ہے اور زمیں رقص میں ہے” نظر آرہی ہے اور کہیں "فاصلوں کے حصار میں رہنا” جیسی چھوٹی اور مختصر بحر میں امید و ناامیدی کی کشتی

Read more

ابن خلدون، الف لیلہ کی شہرزاد اور پیتل کا شہر

جب چار سو باسٹھویں رات آئی تو میں نے دل ہی دل میں پوچھا، آج رات کون سی کہانی بیان کروں؟ کہانیاں تو بہت سی تھیں مگر جو کتاب ہاتھ آئی وہ ابن خلدون کی یہ ’’ذہنی سوانح عمری‘‘ تھی جو حال میں چھپی ہے اور اس کے لکھنے والے رابرٹ ارون ازمنۂ وسطیٰ کے عربی مطالعات میں بڑا معروف نام ہیں۔ خاص طور پر الف لیلہٰ اور پرانی داستانوں پر ان کا کام بڑا دل چسپ ہے۔ اس کی

Read more

ایران میں کچھ دن

سفر نامے اور آپ بیتیاں ادب کی ایسی اصناف ہیں کہ اگر لکھنے والا فنی چابک دستی کو ملحوظ رکھتے ہوئے لکھے تو کہانیوں اور داستانوں سے زیادہ مقبولیت و دوام پاتی ہیں۔ گو کہ سفر نامے لکھنا اب ہر مسافر کے بائیں ہاتھ کا کمال بن چکا ہے اور دنیا کی ہر نمایاں جگہ کے لیے بلا شبہ سیکڑوں سفر نامے لکھے جا چکے ہیں۔ پھر بھی ایک ہی جگہ کا ذکر ہر بیان کرنے والا اپنے مشاہدے کے

Read more

ظہور حسین ظہور کی کتاب ”کوڑے گھٹ“

پاکپتن کے نامور عوامی شاعر ظہور حسین ظہور کی پنجابی شاعری کی کتاب ’کوڑے گُھٹ‘ معاشرے کی سچی تصویر پیش کرتی ہے۔ ظہور حسین ظہور نے لفظوں کے دھاگے سے زندگی کی ایسی تصویر بنی ہے جو بیک وقت آنکھوں کے لیے خوبصورت بھی ہے اور تلخ بھی۔ ’کوڑے گُھٹ‘ میں انسانی زندگی کو اپنے تمام تر روشن اور تاریک پہلوؤں کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔ ظہور حسین ظہور حساس دل رکھتے ہیں۔ وہ خوابوں کی بستی بساتے ہیں

Read more

کانچ کا پُتلا: صادق علی شہزاد

اُسے مکمل علم نہ تھا کہ یہ یونانیوں کا نظریہ ہے یا رومیوں کا، مگر وہ اِس کامل یقین کے ساتھ اُسے سمجھا رہا تھا کہ گمان ہوتا تھا یہ اُس کا اپنا ہی بنایا اور پالا ہوا نظریہ ہے کہ ساری دنیا کا یہ نظام عورت اور مرد کے وجود کے فرق سے کام کر رہا ہے اور اِس پورے نظام کی تخلیق کا بنیادی مقصد اُس فرق کے ساتھ، عورت اور مرد کا ایک دوسرے سے محبت کرنا

Read more

سلمٰی اعوان ، محض پاکستانی نہیں عالمی معاشر ے کی عکاس کہانی کار

سلمٰی اعوان کو کون نہیں جانتا۔ کم و بیش پانچ دہائیوں سے ادب و صحافت سے منسلک ہیں۔ زندگی میں انھوں نے تین کام ایمان دارانہ تسلسل سے کیے ہیں: سانس لینے کے لیے کھایا پیاہے؛کتابیں پڑھی ہیں، کتابیں لکھی ہیں، اور ابنِ بطوطہ کا تعاقب کیا ہے۔ یہ تین کام، مردادیبوں میں صرف جنابِ تارڑ نے کیے ہیں، شاید۔ اِن دونوں قلم کاروں میں کئی قدریں مشترک ہیں: دونوں شہر شہر، قصبہ قصبہ، صوبہ صوبہ، ملک ملک لُور لُور

Read more

اختر عثمان کی طویل نظم ”تراش“

دیگر زبانوں میں طویل نظم کی ایک الگ اور طویل تاریخ ہے، اردو جن علاقوں میں لکھی پڑھی جاتی ہے وہاں کی مقامی زبانوں کی نسبت اردو کی طویل نظموں کی تاریخ ماضی قریب سے شروع ہوتی ہے اور طویل نظم کہنے والے کی تعداد انگلیوں پر گنی جا سکتی ہے۔ اس کی وجہ شاید یہ ہے کہ اس میں دیگر اصناف کا غلبہ بہت ہے جو سہل پسندی اور فوری ردِ عمل پیدا کرنے میں نظم کی نسبت زیادہ

Read more

بے رنگ پیوند

ایسے بہت کم لوگ ہوتے ہیں جو محفل میں دیر سے آئیں لیکن بہت قلیل وقت میں نہ صرف اپنی جگہ بنانے میں کام یاب ہوں، بلکہ پوری محفل پر چھا جائیں۔ سلمیٰ جیلانی بھی انھیں میں سے ایک ہیں، جنھوں نے بہت دیر سے لکھنا شروع کیا لیکن بہت جلد ادبی دنیا میں ایک مقام اور شناخت بنانے میں کام یاب ہو گئیں۔ بنیادی طور پر وہ تعلیم و تعلم کے پیشے سے وابستہ ہیں لیکن شاعری کرنا اور

Read more

۔۔۔شاید نہ بہار آئے

جب ذہن خالی ہو تو ایسی باتوں پر نظریں ٹہرجاتی ہیں۔ گھر سے باہر نکلنے کے خیال سے گھبراہٹ ہوتی ہے کہ گلی کے ہر کونے پر لوگ بڑھ کر ہاتھ ملائیں گے اور پوچھیں گے، آپ اس مرتبہ کس کو ووٹ دے رہے ہیں۔ اس سے زیادہ گھبراہٹ اس خیال سے ہوتی ہے کہ گلی کے کونے پر کوئی بھی نہیں ہوگا جو یہ سوال پوچھے گا، اس مرتبہ کی بے رونقی پر مجھے اور زیادہ کوفت ہوگی۔ گھر

Read more

 تسطیر ۔۔۔۔۔۔ ادب سے عشق کا استعارہ

بات تو پرانے زمانے کی لگتی ہے لیکن عصرِ حاضر کے نمائندہ اور سب سے زیادہ پڑھے جانے والے ادبی جریدے ” تسطیر” کی اشاعت کی خبر سن کر، میں دن میں بار بار، بے چینی پالے، کھڑکی سے گلی میں جھانکتی رہی، بلا شُبہ یہ احساس اپنوں کے خط کا انتظار کرتے میٹھی کسک جیسا تھا۔ وہ دور، جس میں الیکٹرونک میڈیا اپنے عروج پر ہو، اس میں کاغذوں کی مہک سے رشتے کا مزہ انوکھا ہونے کے ساتھ

Read more

تحصیل…  ایک غیر سرکاری تحقیقی مجلّہ

پاکستان کی علمی فضا، اگر ایسی کوئی فضا ہے، سائنسی یا انسانی علوم کے لیے ساز گار نہیں۔ مولوی عبدالحق نے پاکستان آکر دوسہ ماہی رسالوں کی اشاعت کا آغاز کیا تھا۔ ایک سائنس سے اور دوسرا معاشیات سے متعلق تھا۔ وہ چند شمارے ہی شائع کر سکے۔ یا تو قارئین نے دلچسپی ظاہر نہیں کی یا ان موضوعات پر باقاعدگی سے لکھنے والے دستیاب نہ ہو پائے۔ سائنس داں یا ماہر معاشیات ہونا الگ بات ہے اور سائنسی یا

Read more

کیا نواز شریف نے کارگل مہم جوئی کی اجازت دی؟

  جب یہ اجلاس قریب الاختتام تھا تو سی جی ایس نے تجویز کیا کہ آپریشن کوہ پیما کی کامیابی کے لئے ایک مشترکہ دعا مانگی جائے۔ وزیراعظم نے ان سے کہا وہ خود ہی اس دعا کی ’امامت‘ کریں۔  اس کے بعد یہ اجلاس ختم ہو گیا۔ اس اجلاس میں جتنے لوگ بھی موجود تھے بشمول ان کے کہ جو بعد میں اس آپریشن کے سخت ترین ناقدین شمار کئے گئے ان سب کو یقین تھا کہ یہ آپریشن

Read more

نواز شریف کو کارگل لڑائی کے بارے میں پہلی بار کب بتایا گیا؟

 17 مئی 1999ء کو وزیراعظم کو آپریشن ’’کوہ پیما‘‘ پر تفصیلی بریفنگ دی گئی جو آئی ایس آئی کے ایک ذیلی دفتر میں دی گئی۔ یہ دفتر اوجڑی کیمپ میں واقع تھا جو اسلام آباد سے چند میل کی مسافت پر ہے۔ انڈین میڈیا میں خبریں آ رہی تھیں کہ پاکستان آرمی کے ریگولر سولجرز کے فائر کی آڑ میں مجاہدین لائن آف کنٹرول عبور کرکے بھارتی علاقے میں گھس آئے ہیں۔ یہ تفصیلی بریفنگ اس وقت کے ڈائریکٹر جنرل

Read more

کیا کارگل کی لڑائی حکومت پر قبضہ کرنے کی سازش تھی؟

پاکستان میں چار دفعہ مار شل لا لگا۔ کسی بھی ملک میں فوجی حکومت قوم کی نفسیات پر بہت منفی اثر ڈالتا ہے اور سب سے زیادہ نقصان فوج کے اپنے ادارے کو ہوتا ہے۔ آج کل میں نسیم زہرہ کی کتاب پڑھ رہا ہوں، جو جنرل مشرف یعنی اب تک کے آخری مارشل لا کے بارے میں ہے۔ محترمہ نسیم زہرہ ایک سینیر صحافی اور ٹی وی اینکر ہیں مگر اس سے بڑھ کر وہ ایک دانشور ہیں۔ زیر

Read more

متنجن ، زردہ اور نثری نظم کی کھچڑی

انسان سے بڑا وائرس کوئی نہیں جس نے اپنی توسیع پسندانہ دیوانگی کے شکنجے میں پھنس کر اتنے پنجرے بنا لیے کہ خود بھی انہی میں قید ہو کر رہ گیا! یوں تو اِس قید کے مختلف نام اور مختلف چہرے ہیں مگر سماج، نظام اور ڈسپلن اِس کی سب سے زیادہ ترقی یافتہ اور ظالمانہ شکلیں ہیں ؛ شاعری اِس زنداں سے نجات کا ایک وسیلہ بن کر سامنے آئی تھی، المیہ مگر یہ ہوا کہ اِسے بھی ڈسپلن

Read more

ایرک فرام، صحت مند معاشرے اور محبت کے بارے میں۔۔۔

ایرک فرام کی کتاب The Sane Society کا ’’صحت مند معاشرہ‘‘ کے نام سے اردو میں ممتاز دانش ور قاضی جاوید نے ترجمہ کیا تھا جو 27 سال پہلے شائع ہوا۔ برسوں پہلے یہ کتاب پڑھی تو مجھے پسند آئی۔ چند دن پہلے کتابوں کو ازسرنو ترتیب دیتے ہوئے یہ کتاب نظر آئی تو اسے دوبارہ پڑھنے کا ارادہ کیا۔ اب جو اس کا مطالعہ کیا تو اس کی معنویت نئے طور پر ظاہر ہوئی جس کا زیادہ تر اطلاق

Read more

پاکستان تحریک انصاف کا رہنما جس نے اپنی بیوی کو ننگا کر کے بندوق سے پیٹا

پنجاب کے سابق گورنر اور وزیر اعلٰی مصطفے کھر پاکستان پیپلز پارٹی کی مقبول ترین شخصیت رہ چکے ہیں جبکہ اپنے جاگیردارانہ مزاج کے باوجود ان کا سیاسی حلقہ قائم ہے۔ وہ اعلیٰ منتظم بھی مشہور رہے اور منتقم بھی، انکی تقریروں سے اخلاقیات اور عورتوں کی حرمت کی پاسداری کرنے کے لئے پھول بھی جھڑتے تھے مگر عورتوں کو اغوا کرکے انہیں گورنر ہاوس میں لاکر بے حرمت کرنے کے الزامات بھی ان پر لگتے رہے ہیں۔ شیر پنجاب

Read more

اداکارہ شبنم کو کس نے انصاف دلوایا؟

1959 میں ایوب خان پاک جمہوریت ٹرین پر مشرقی پاکستان کے دورے پر گئے تو شاعروں ادیبوں کو بھی اپنے ساتھ لے لیا۔ اس سفر کے مسحور کن مناظر ممتاز مفتی نے ’’لیل ونہار‘‘ کے ایک پرچے میں بیان کرکے خوب خوشامد کی تھی۔ اور بھی ادیبوں نے اس سفر کے مشاہدات اپنے اپنے رنگ میں لکھے، لیکن سب سے چوکھا رنگ ممتازمفتی کی تحریر کا ہی تھا۔ اس دورے میں بنگالی شاعر کوی جسیم الدین مغربی پاکستان سے آئے

Read more

منافع کی معیشت میں خسارے کا آدمی

یوسف حسن صاحب سے میرے بہت قریبی تعلقات نہیں تھے، بس گاہے گاہے کسی ادبی پروگرام میں یا کسی کے ہاں یا کسی دوست کے ساتھ ان سے ملاقات ہو جاتی تھی۔ راولپنڈی میں میرے گھر شاید وہ ایک دو بار ہی آئے ہوں گے۔ لیکن ایک احترام اور محبت کا رشتہ ہمیشہ رہا۔ مجھے نہیں یاد ان سے پہلی ملاقات کب ہوئی۔ جس زمانے میں راولپنڈی میں حلقہ ء اربابِ غالب، جس کے روحِ رواں یوسف حسن تھے، کے

Read more