کسک فورٹ، چکوال

پچھلے جمعے کی بات ہے، خواجہ عبداللہ نے چکوال کی ایک نواحی بستی بن امیر خاتون کے ایک قبرستان کی تصویر بھیجی کہ جس میں وہاں کے مقامی لوگوں کے مطابق پرانے وقتوں میں شادی کے لیے آنے والی ایک برات کو تہہ و تیغ کر کے وہیں دفنا دیا گیا تھا۔ نظر آنے والی تمام قبریں پتھروں کی تھیں اور آثار قدیمہ معلوم ہوتی تھیں۔ میں نے فوراً لقمہ دیا کہ میاں پہلی فرصت میں وہاں لیے چلو۔ خواجہ

Read more

کوہ سیموائی، ماریا اور فل مون پارٹی

تھائی ایر لائین کی پرواز بنکاک ایر پورٹ پر اتری تو اگلی فلائیٹ میں وقت کم رہ گیا تھا۔ بھاگم بھاگ اس گیٹ کی طرف جا رہے تھے، جہاں بنکاک ایر ویز کا ایک چھوٹا طیارہ مسافروں کو تھائی لینڈ کے جزیرے کوہ سیموائی لے کر جانے کے لئے تیار کھڑا تھا۔ یہ صبح کا وقت تھا اور ہم جگہ جگہ امیگریشن حکام کی سخت کارروائیوں کا سامنا کر رہے تھے۔ آخری سٹیپ میں جوتا پہننے کا بھی وقت نہیں

Read more

رتی گلی کا رومانس

رتی گلی دیوِی ہے۔ روپ کے دیوتا کی سب سے چہیتی بیٹی۔ نیلم کے بازار حُسن کی مَلکہ۔ دَواریاں سے بائیں ہاتھ کی جانب اوپر کو مُڑیں تو مسلسل پتھریلی ڈھلوان آتی ہے۔ سترہ اٹھارہ کلو میٹر کا سفر قریباً چار گھنٹے میں طے ہوتا ہے۔ یہ ساری مسافت جِیپوں پر بیٹھ کر یا شاید اچھل اچھل کر گزاری جاتی ہے۔ ایسا ہی ہے رَتی گلی کے محل سرا کا راستہ، خوب رو رقاصہ کا مسکن۔ وادی نیلم روپ نگر

Read more

ناران سے بابوسرٹاپ، جھیلیں اور جھرنے

ہمارا آج ناران میں آخری دن تھا اور وادی کاغان کے بلند ترین درے اور آخری مقام بابو سر ٹاپ جانے کا پروگرام تھا۔ ہم صبح آٹھ بجے ناران سے نکل گئے تھے۔ اگرچہ بابو سر جانے کے لئے آپ اپنی گاڑی بھی استعمال کر سکتے ہیں اور اکثر لوگ اپنی ہی گاڑیوں پرجاتے ہیں لیکن میں نے یہ سفر جیپ پر کیا۔ سڑک کافی بہتر ہے۔ کہیں کہیں گلیشیرز سڑک روکے ہوئے ہیں۔ سڑک والے حصے کوصاف کرکے گلیشیر

Read more

ایک گم نام وادی (وادی الائی)۔

وادی الائی ہماری منزل تھی جس کا شاید آپ نے پہلے نام بھی نہیں سنا کوگا۔ ہم اسلام آباد سے حویلیاں تک موٹروے جبکہ آگے قومی شاہراہ سے ایبٹ آباد اور مانسہرہ سے ہوتے ہوئے بٹگرام پہنچے۔ لاری نے ہمیں بٹگرام کے لاری اڈے پہ اتارا جہاں قطار در قطار ویگنیں کھڑی تھیں۔ ہم نے الائی جانا تھا جہاں ہم سابقہ ایم پی اے (جمیعت علمائے اسلام ) شاہ حسین خان کے مہمان تھے۔ مغرب کا وقت تھا اور ہم

Read more

ملکہ پربت اور دس ہزار فٹ بلند کچّی سڑک

ناران کے گنجان آباد بازار سے نکل کر پل کراس کرتے ہوئے سیف الملوک ندی کے بائیں ہاتھ پہاڑ کے دامن کے ساتھ ساتھ ایک سنگل روڈ جھیل کو جاتی ہے۔ سڑک کے کنارے دور تک نئے ہوٹل بن گئے ہیں اور بہت سارے زیر تعمیر ہیں۔ سڑک جگہ جگہ سے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے۔ غور سے دیکھنے پر کہیں کہیں اصلی سڑک کے آثار ملتے ہیں۔ مزید دو تین سالوں میں سڑک تعمیر سے پہلے کی اصل شکل

Read more

وادی کمراٹ کیسے پاکستان کا سویٹزر لینڈ بن سکتا ہے

اللہ تعالیٰ نے پاکستان کو بے انتہاء قدرتی نعمتوں سے نوازا ہے۔ پاکستان کے شمالی علاقہ جات ساری دنیا سے مختلف ہیں۔ اس کی ایک وجہ دنیا کے تین بلند و بالا پہاڑی سلسلوں کا پاکستان میں ہونا ہے۔ پاکستان کی بد قسمتی رہی ہے کہ اس ملک خداداد کی حسین وادیوں سے ہم وہ فائدہ نہ اُٹھا سکے جو اُٹھانا چاہئے تھا۔ یورپ کے کئی ممالک مل کر بھی سیر و سیاحت کے وہ مقامات پیدا نہیں کر سکتے

Read more

کشمیر اور گلگت کو ملانے والا درہ شونٹھر ویرانے میں کیسے بدلا؟

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے ”درہ“ شونٹھر میں کبھی خاصی چہل پہل ہوا کرتی تھی۔ مگر اب یہ علاقہ ویرانی کا منظر پیش کرتا ہے۔ تقسیم برصغیر سے قبل یہ ”درہ“ گلگت بلتستان کو وادی کشمیر سے ملاتا تھا اور مسافر شونٹھر پاس عبور کرنے کے لئے یہاں پڑاؤ ڈالتے تھے۔

مظفر آباد سے تقریباً 190 کلو میٹر فاصلے پر جنوب مشرق میں واقع یہ ”درہ“ سطح سمندر سے 10,200 فٹ بلند ہے، جب کہ شونٹھر پاس پر اس کی بلندی ساڑھے چودہ ہزار فٹ تک پہنچ جاتی ہے۔

Read more

ناران کی بری حالت

بیس پچیس سال پہلے تک وادی کاغان میں سیاحوں کا آخری پڑاؤ کاغان کا شہر ہوا کرتا تھا۔ تاہم سڑک کی ناگفتہ بہ حالت کی وجہ سے بہت ہی کم سیاح اس علاقے تک پہنچ پاتے تھے، ورنہ تو صرف مری تک آ کر مال روڈ کے چکر لگا کر واپس چلے جاتے تھے۔ وقت کے ساتھ ساتھ سڑکوں کی صورتحال بھی بہتر ہوتی گئی، اور قدرے خوشحالی بھی آتی گئی، کاغان جیسی تنگ جگہہ سیاحوں کی روز افزوں بڑھتی

Read more

پاکستان کی تین لیلائیں اپنے مجنوں کی منتظر ہیں

عربی زبان میں لفظ لیلیٰ کے معنی ’رات‘ کے ہیں۔ تاہم مشہور عالم لیلیٰ مجنوں کی عشقیہ داستان کے سبب یہ لفظ محبوبہ کے مترادف کے طور پر بھی استعمال ہوتا ہے۔ تاہم یہاں رات یا عشق و محبت والی لیلیٰ کا ذکر کرنا مقصود نہیں بلکہ لیلیٰ کے نام سے دنیا میں موجود کم از کم ان چار پہاڑی چوٹیوں کا احوال بیان کرنا ہے جن میں سے تین پاکستان میں پائی جاتی ہیں۔ ان چار لیلاؤں میں سب

Read more

سری لنکا چائے کی سر زمین۔ قسط نمبر 5۔ کینڈی شہر اور بدھا کی یادگاریں

میں صبح جلدی اٹھ گیا اور تیار ہو کر ناشتہ کرنے ڈائننگ روم میں پہنچ گیا۔ فارمیسی والی رات کھائی ہوئی گولیوں نے تیر بہف کام کیا تھا جس سے میرا گاؤٹ کا درد بالکل ٹھیک ہو گیا تھا۔ ہال میں ہمارے گروپ کے ابھی صرف چند لوگ ہی ناشتہ کرنے پہنچے تھے۔ ہال میں مغربی ٹورسٹ کی زیادہ تعداد تھی جن کا گروپ بھی شاید جلدی سیر کے لئے نکلنے والا تھا۔ میں جوس کا گلاس اور کچھ فروٹ

Read more

وادئ کُمراٹ میں سیاحت: ’یہاں تو پانی کا شور بھی سکون دیتا ہے‘

لاہور کو پیرس یا ملک کو سوئٹزرلینڈ بنانے کے دعوے تو آپ نے سیاستدانوں کے منہ سے سنے ہوں گے لیکن جب سوئس سیاح خود پاکستان کے کسی مقام کا تقابل اپنے ملک کے حسین نظاروں سے کرتے دکھائی دیں تو وہاں کا دورہ تو بنتا ہی ہے۔

پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد سے تقریباً 384 کلومیٹر کے فاصلے پر صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع دیر بالا کی وادی کُمراٹ کو یہاں کے مقامی افراد ’پاکستان کا سوئٹزرلینڈ‘ کہتے ہیں اور شاید سچ کہتے ہیں کیونکہ اس کی گواہی دیتے ہمیں کیستوف دھو بھی ملے جو اپنی ساتھی فرینی کوپلو کے ہمراہ وہاں موجود تھے۔

Read more

سری لنکا قسط نمبر 3۔ جیفری باوا کی جاگیر اور مدھو گنگا کے قدیم دریائی جنگلات

چار اکتوبر کی 2105 ء کی صبح 8 بجے الارم کی آواز سے آنکھ کھلی تو فورا تیار ہو کر ناشتے کے لئے بریک فاسٹ ہال میں پہنچے۔ ہمارے سارے ہی ساتھی ناشتہ کے لئے ہال میں موجود تھے اور ناشتہ کرنے کے ساتھ ساتھ خوش گپیوں میں مصروف تھے۔ میں بھی عابد سلطان کے ساتھ میز پر بیٹھ گیا اور ناشتے کی چیزیں لا کر ناشتہ کرنے لگا۔ ہمارے سارے ہی ٹورز میں ہم سب کے لئے بینک کی

Read more

پیرا گلائیڈنگ کا عالمی مقابلہ، آزاد کشمیر میں سیاحت کا فروغ! 

رواں سال کو اگر آزاد کشمیر میں ٹورازم کے فروغ کا سال کہا جائے تو بے جا نہ ہو گا۔ آزاد کشمیر حکومت نے اس سال سیاحت کے فروغ کے لئے چند خصوصی اقدامات کیے ہیں۔  وزیر اعظم آزاد کشمیر راجہ فاروق حیدر خان نے آزاد کشمیر میں سیاحت کے فروغ کو خصوصی توجہ دیتے ہوئے سرکاری سطح پر ’ٹورازم پالیسی‘ کا اعلان کیا ہے۔  ٹور ازم پالیسی کے تحت آزاد کشمیر کے سیاحتی دلچسپی کے مقامات کی نشاندہی، سیاحتی

Read more

سری لنکا کے ساحل پر پنجابی ماہیے

سہ پہر کوآنکھ کھلی تو کمرے کا بغور جائزہ لیا، بہت ہی اچھے طریقہ سے سجا سجایا کشادہ کمرہ تھا اور سب سے بڑی بات کہ کھڑکی سے سمندر کا نظارہ۔ پردہ ہٹا کر دیکھا تو سمندر کی لہریں ایک عجیب بہار پیش کر رہی تھیں۔ تیار ہو کر میں لابی میں آیا تو کراچی والا گروپ ابھی ابھی پہنچا تھا اور خوب ہلا گلا مچا رکھا تھا۔ کراچی کے دو تین پرانے ساتھیوں سے ملنے کے بعد میں ہوٹل کا جائزہ لینے لگ گیا۔ ہوٹل کے ساتھ ہی ایک بہت بڑا شاپنگ سینٹر تھا۔

Read more

سری لنکا چائے کی سرزمین کی سیر قسط نمبر ۱

پچھلے تین سال سے بینک کے آزاد کشمیر ریجن کی نمائندگی ہر فارن ٹرپ میں ہو رہی تھی۔ میں اور میری ٹیم کے ممبران ہر فارن ٹرپ میں موجود ہوتے تھے۔ دوسرے ریجن کے بزنس ہیڈز مجھے پوچھتے تھے کہ آپ کیا کرتے ہو جس سے آپ کا نام ہر ٹرپ میں آجاتا ہے۔ میں انھیں ہمیشہ کہتا تھا کہ یار اس میں میرا کوئی کمال نہیں ہے، بلکہ یہ میری ٹیم کا کمال ہے جو سارے ٹارگٹ پورے کرتی

Read more

ایک لمحے کے تعاقب میں

کچھ لمحے لافانی ہوتے ہیں۔ فردوسی لمحے۔ وہ لمحے جن میں انسان قید ہو جاتا ہے۔ وہ لمحے جو تنِ تنہائی میں بھی مسرت کا سامان مہیا کرتے ہیں۔ وہ لمحے جو پروں کے بغیر اڑان بھرنے پر مجبور کر دیتے ہیں۔ ایک انوکھی روحانیت، ایک انوکھی راحت۔ وہ لمحہ بھی کچھ ایسا ہی تھا، جس نے مجھے اپنی آغوش میں سمیٹ لیا۔ جس سے رہائی کا سوچ کر روح کانپ جاتی ہے۔

فطرت کے نظام میں کبھی ترتیب نہیں ہوتی لیکں اس بے ترتیبی میں ایک انوکھا حسن ہوتا ہے، اور اس حسن کی تلاش میں ابو زر کے ہم راہ ایک بار پھر محو سفر تھا۔ کلر کہار انٹر چینج سے اُتر کر چکوال روڈ پر سفر شروع کیا تو چند کلومیٹر کے فاصلے پر جلیبی چوک سے بیسٹ وے سیمنٹ فیکٹری کو جانے والے راستے پر سفر شروع کیا۔

Read more

پاکستان عالمی سیاحوں کے لئے جنت کیوں نہیں بن سکتا؟

لوگ دن رات محنت کر کے پیسے کماتے ہیں پھر سیاح بن کر وہ ہی دولت دوسرے ملک لٹانے کیوں چلے جاتے ہیں۔ آخر سالوں کی کمائی چند ہفتوں میں لٹانے میں کیا مزہ ہے۔ کہتے ہیں خواہشات اصل میں ضروریات پر حاوی ہوتی ہیں، اور لوگ اس دنیا میں جنت کی خواہش رکھتے ہیں اور نکل پڑتے ہیں کسی حور و قصور والی جنت کی تلاش میں۔ کیا پاکستان سیاحوں کے لئے جنت ہے؟ اس سوال کا جواب خود پاکستانی کیا دیں گے؟

اگر ہم جذباتی نہ بنیں تو درحقیقت پاکستان خود اپنے لوگوں کے لئے بھی سیاحتی جنت نہیں ہے۔ دنیا بھر میں جس ٹرمنالاجی کو ”سیاحت“ کہتے ہیں وہ ضیاء دور کے بعد پاکستان میں ناپید ہو چکی ہے۔ اب ہم اور ہمارے بچے صرف سسرال، میکے، ننہال، ددہال اور دور کے رشتیداروں کے پاس گھومنے تو جاسکتے ہیں مگر کسی ایسے شہر میں جانے سے کتراتے ہیں جہاں ان کو جاننے والا کوئی نہ ہو۔ اس وقت اگر کوئی ملک کے فاٹا اور شمالی علاقاجات گھومنے جاتا ہے تو اس کو بھی پاکستان آرمی کی محنتوں کا شکرگزار ہونا چاہیے۔

Read more

شنگریلا کی تلاش: پسو کونز

سورج کسی دیوانے کی طرح برف پوش پربتوں کے ویرانوں میں بھٹکتے بھٹکتے تھک کر کہیں سو گیا تھا۔ تاہم آسمانِ لازوال پر اُس کے ہونے کے نشان ابھی بھی باقی تھے۔

ٹھنڈ تھی کہ سانسوں کے دریچوں سے گزر کر رگ رگ میں سماتی تھی۔
کالی گھٹاؤں نے پہاڑوں کو اپنے دامن میں چھپا لیا تھا اور اُن کے سروں پر بیٹھی راج کرتی تھیں۔
”وہ وہاں برف باری ہورہی ہے۔ “ ہم میں سے کسی نے کہا تھا۔

Read more

جاپان کا کوہ فیوجی اور چھتیس تصویریں

جاپان کی بلند ترین چوٹی کوہ فیوجی ( 3776 میٹر) ہمارے یہاں ضلع مانسہرہ میں واقع مکڑا پیک ( 3586 میٹر ) سے کچھ زیادہ اور کاغان کی چوٹی موسیٰ کا مصلہ ( 4080 میٹر) سے کچھ کم بلند ہے۔ جاپان میں تقریباً بیس پہاڑ، تین ہزار میٹر سے بلند ہیں تاہم یہاں کے تین پہاڑ وں کو باقاعدہ مقدس ہونے کا درجہ حاصل ہے اور کوہ فیوجی ان میں سب سے زیادہ اہم سمجھا جاتا ہے۔

Read more

گلگت بلتستان کے بہترین سیاحتی مقامات

گلگت بلتستان پاکستان کے شمال میں واقع زمین کا ایک ایسا ٹکڑا ہے، جو قدرتی حسن سے مالا مال ہے۔ اس علاقے کو سیاحوں کی جنت کہا جاتا ہے۔ یہاں کے دلکش و دلفریب منظر عمر بھر کے لئے سیاحوں کے ذہنوں میں انمٹ نقوش کے مانند نقش ہو جاتے ہیں۔گلگت بلتستان کو ماضی میں شمالی علاقہ جات کہا جاتا تھا۔ 2009 مین پاکستان پیلیز پارٹی کی حکومت نے امپاور منٹ اینڈ سلف گورننس آرڈر کے ذریعے یہاں کی قانون ساز اسمبلی کے آختیارات میں اضافہ کرنے کے ساتھ نیا نام گلگت بلتستان رکھ دیا۔ گلگت بلتستان کی آبادی بیس لاکھ کے لگ بھگ ہے اور یہ علاقہ اٹھائیس ہزار مربع میل پر پھیلا ہوا ہے۔ دنیا کی تین عظیم پہاڑی سلسلے کوہ قراقرم، کوہ ہمالیہ اور کوہ ہندوکش بھی یہاں آن ملتے ہیں۔

Read more

پتن منار۔ رحیم یار خان

رحیم یار خان ریلوے اسٹیشن سے 8 کلو میٹر دور دریائے سندھ کے مشرقی دھانے پر ایک خاک اڑاتی عمارت پتن منارہ کے نام سے اپنی مبہم سی شناخت کرواتی ہے۔ یہ تقریباً 2500 سال پرانی بدھ مت کی خانقاہ ہے۔ اس عمارت کے تاریخی حوالے بہت کم دستیاب ہیں مگر اس بات پر ماہرین کا اتفاق ہے کہ یہ تین منزلہ عمارت تھی جو موریان عہد اور وادی ہاکڑہ کی تہذیب میں تعمیر کی گئی۔ متن منارہ کی پہلی منزل کب گری اس حوالے سے کوئی معتبر تاریخی حوالہ موجود نہیں ہے البتہ دوسری منزل 1740 میں مسمار کی گئی۔ اس کے اینٹ پتھر کو دین گڑھ اور ساحل گڑھ کے نئے قلعوں کی تعمیر میں استعمال کیا گیا۔ اس کی کھدائی کے دوران ایک اینٹ دریافت ہوئی جس پر درج شدہ سنسکرت تحریر کے مطابق یہ عبادت گاہ سکندرِ اعظم کے دور میں تعمیر ہوئی۔

Read more

ایک افسانوی و رومانوی شہر روغان

قارئین کرام آج آپ کی خدمت میں ماضی کے ایک افسانوی و رومانوی شہر، شہر روغان کی داستان بیان کریں گے۔ ہو سکتا ہے آپ میں سے کچھ لوگ اس طلسماتی شہر سے واقفیت نا رکھتے ہوں۔ آئیے قدرتی حسن کے اس شاہکار شہر کی سیر کرتے ہیں۔ اس شہر میں ہم آدم خور جنوں کے خوفناک وحشی پن کے ساتھ ساتھ حسین و جمیل شہزادیوں کی قید اور ان کے عشق و محبت کی طلسم ہوش ربا داستانیں دیکھیں گے تو دوسری طرف ماضی کی دھول میں کئی صدیاں قبل غرق کسی قوم کے رہن سہن کو محسوس کریں گے۔

Read more

سفرنامہ ”شنگریلا کی تلاش“ سے ایک اقتباس راما جھیل

ڈاک بنگلے سے باہر نکلے توراما وادی اس طرح سامنے آئی کہ جیسے کوئی حسینہ اچانک گلی کی نکڑ پر بے حجاب سامنے آجائے۔سبز مرغزار تھا جس کی حدیں درختوں کی سبز جھالر کو چھوتی تھیں جس کے پار دلربا پہاڑوں کا ایک وسیع و عریض سلسلہ پھیلاچلا جاتا تھا۔ اس مرغزار کے بیچوں بیچ ایک کومل اور معصوم سی بل کھاتی ندی کانچ کی ردا اوڑھے انتہائی سکون سے بہتی تھی۔ مجھے وہ کوئی ایسی معصوم سی بچی لگی جو چاندی کے گوٹوں سے سجی سرمئی چنری لے کر گھر سے نکلی ہو اور اب اُ س کی چنری اس سے سنبھالے نہ سنبھلتی ہو، کبھی دائیں طرف سے سرکتی ہو تو کبھی بائیں طرف سے مچلتی ہو۔

Read more

موسم سرما میں وادی نیلم کی سیر

”آپ کی وادی بہت خوبصورت اور قدرت کے دل کش رنگوں سے بھر پور ہے۔“ نصر بھٹی صاحب نے ارد گرد نظر دوڑاتے ہوئے کہا۔اس وقت ہم پھلاوائی میں محترم خرم جمال صاحب کے مہمان تھے۔ یہ جولائی کا مہینا تھا اور موسم گرما میں وادی نیلم کا حسن اپنے جوبن پر ہوتا ہے۔ کوہسار سبز چادر اوڑھ لیتے ہیں۔ دریائے نیلم کے پانی آپے سے باہر ہو جاتا ہے اور سیاحوں کی بڑی تعداد کی وجہ سے یہ ویرانے آباد ہو جاتے ہیں۔”جی ہاں بھٹی صاحب! آپ کی بات صد فی صد درست ہے لیکن آپ کو ان مشکلات کا اندازہ نہیں جن کا سامنا ہم چند ماہ بعد کرنے والے ہیں۔ موسم سرما کی برف باری شروع ہوتے ہی یہ آباد مقامات ویران ہو جائیں گے جہاں ما سوائے مقامی حضرات کے کوئی ذی روح نظر نہیں آئے گا۔ وادی کی واحد سڑک بھاری برف باری کے باعث بند ہو جائے گی۔ لوگ اپنے گھروں میں محصور ہو جائیں گے۔ اشیائے ضرورت کا حصول دشوار ترین ہو جائے گا۔ آپ تو چند دن بعد واپس چلے جائیں گے اور اگلے موسم گرما کا انتظار کریں گے۔ اگر آپ ہماری مشکلات کا اندازہ کرنا چاہتے ہیں تو کبھی موسم سرما میں بھی نیلم آئیں۔“

Read more

آٹھ ہزار فٹ بلند چراگاہ سری کوٹ

اَڑنگ کیل (نیلم) سے سری کوٹ اِس طرح سے مختلف ہے کہ ایک تو اڑنگ کیل کا ایریا بہت زیادہ ہے دوسرا چوٹی کی بہار میں وہاں کی ہریالی کا رنگ سیاہی مائل سبز، جب کہ سری کوٹ کا ہلکا ہَرا ہوتا ہے۔ باقی دونوں مقامات پر پہنچنے کے بعد فرحت کا احساس کم و بیش ایک سا ہے۔

Read more

سفرنامے ’’ شنگریلا کی تلاش ۔۔بلتستان میں ‘‘ سے ایک اقتباس

میری داہنی طرف برف پوش پہاڑوں کا سلسلہ مجھ سے آنکھ مچولی کھیل رہا تھا۔ اسی سلسلہ میں کہیں دنیا کا نواں اور پاکستان کا دوسرا سب سے اونچا پہاڑ نانگا پربت بھی چھپاہو اتھا۔ چھبیس ہزار چھ سو اٹھاون فٹ بلند نانگا پربت کو کلر ماؤنٹین بھی کہا جاتا ہے۔ مقامی لوگوں کا خیال ہے کہ یہاں برف سے بنا ایک قلعہ ہے جس میں پریاں رہتی ہیں۔

دیومالائی حُسن لئے یہ پہاڑ ایسا شا ہکار ہے کہ انسان اسے دیکھتا ہی چلا جاتا ہے۔ انسان کا جی چاہتا ہے کہ وہ اس کے اوپر جائے، اس کے اندر جائے، اس کے گنگناتے جھرنوں کے گیت سنے، ہوا سے سرگوشیاں کرتے پھولوں کی سرگوشیوں پر کان دھرے، اس کے دامنوں میں پھیلی جھیلوں کے کنارے پتھر پر بیٹھ کر گھنٹوں ان کے بدلتے ہوئے رنگوں کا نظارہ کرے۔ اس میں اٹھتے برف کے طوفانوں کے سامنے بانہیں پھیلا دے۔ ایسی ہی خواہشیں لے کر سینکڑوں لوگ نانگا پربت کی طرف بڑھتے رہے، کچھ کامیاب لوٹے، کچھ ناکام اور کچھ اس کے طوفانوں میں کھو گئے۔ اس کی طرف بڑھنے والوں میں زیادہ تر لوگ جرمن تھے اس لئے اس پہاڑ کوجرمن پہاڑ بھی کہا جاتا ہے۔

Read more

مسجد وزیر خان اور شاہی حمام کی آوارگی

دہلی دروازے کے اندر داخل ہوتے ہوئے چند قدم آگے چلیں تو چوک وزیر خان آجاتا ہے جہاں مسجد وزیر خان عہد مغلیہ کا شاندار تعمیراتی شاہکار آنے والوں کی توجہ اپنی جانب کھینچتا ہے مسجد وزیر خان کی تعمیر مغل شہنشاہ شہابُ الدین محمد شاہ جہاں کے عہدِ حکومت کے ساتویں سال 1635 ء میں شروع ہوئی جبکہ یہ 7 سال کے عرصہ میں مکمل ہوئی۔ 1642 ء میں اِس مسجد کا اِفتتاح شہنشاہ شاہ جہاں نے خود لاہور میں کیا۔ اِس مسجد کے معمارِ اعظم چِنیوٹ کے ایک باشندے شیخ عِلم الدین الانصاری تھے جِنہیں عہدِ شاہجہاں ی میں لاہور کا گورنر مقرر کیا گیا اور وزیر خان کا خطاب عطا کیا گیا تھا۔

Read more

شری کٹاس راج کی یاترا

میں بنیادی طور پرآوارہ گرد ہوں اور اوارہ گردی کرنا میرا محبوب مشغلہ ہے۔ کیا کروں پاؤں میں دل ہے کہ ایک جگہ ٹھہرتا ہی نہیں، کٹاس راج کے مندروں کے بارے میں سن سن کے عمر گزاری تھی۔ مجھے مندروں سے زیادہ اس طلسماتی تالاب کو دیکھنے کا شوق تھا جس کے بارے میں کئی کہانیاں پڑھ اور سن رکھی تھیں۔ اب کی بار ہماری منزل کٹاس راج کا مقدس تالاب ٹھرا، خیر سے ارادہ تو اس میں اشنان کرنے کا بھی تھا مگر کچھ وجوہات کی وجہ سے نہ ہو سکا۔ آئیے اب آپ کو کٹاس راج کی سیر کرواتے ہیں۔

Read more

شاہی قلعہ لاہور کی سیر

آپ میں سے اکثر لوگوں نے شاہی قلعہ لاہور دیکھا ہوگا۔ لیکن آپ میں سے اکثر دوستوں کو اس کے بیشتر تاریخی پہلوں کے بارے میں علم نہیں ہوگا۔ آئیے میں اب آپ کو اس کے متعلق کچھ دلچسپ معلومات دیتا ہوں۔

قلعہ کے لغوی معانی استحکام اور حفاظت کے ہوتے ہیں۔ قلعے فوجی مقاصد یا شاہی رہائش گاہ کے لیے دنیا بھر میں بنائے جاتے ہیں۔ پاکستان میں مختلف ادوار میں کئی قلعے تعمیر ہوئے۔ مثلاً روہتاس، رانی کوٹ، قلعہ اٹک، قلعہ دراوڑ اور شاہی قلعہ لاہور وغیرہ۔ دریائے راوی کے جنوبی کنارے پر ایک محفوظ مقام کواس قلعہ کے لیے منتخب کیا گیا، یہ دراصل ایک اونچا مصنوعی ٹیلہ تھا جولاہور شہر کی سطح سے کافی بلند تھا۔

اگر میں آپ سے یہ پوچھوں کہ شاہی قلعہ لاہور کس نے تعمیر کروایا تھا۔ تو آپ میں سے اکثر کا جواب ہوگا۔ شہنشاہ اکبر نے۔ ویسے تو یہ بات کسی حد تک درست بھی ہے۔ لیکن ممکن ہے کہ آپ کے لئے یہ بات حیران کن ہو کہ یہ قلعہ اکبر سے سینکڑوں سال پہلے بھی موجود تھا۔ ہاں اکبر نے اس کو از سرنو تعمیر کروایا تھا۔ اور جو موجودہ حالت اس کی نظر آرہی ہے اس کو اکبر کے دور میں ہی تزئین و آرائش کروائی گئی تھی۔

اس قلعہ کے اندر مختلف ادوار میں مختلف عمارات تعمیر ہوئیں جن کو چھ حصوں میں تقسیم کرسکتے ہیں :

Read more

مراکش شہر اور جامع الفناء اسکوائر

سنیچر 22 ؍دسمبر کو ہم نے ایک گاڑی کرایہ پر لی اور شہر کے مختلف علاقوں کا دورہ کیا۔ سب سے پہلے ہم مدینہ پہنچے جو مراکش شہر کے پرانے علاقے میں ہے۔ یہاں پہنچ کر سب سے پہلے ہم نے ’جامع الکتبیۃ مسجد‘ دیکھی۔ یہ مراکش کی سب سے بڑی اور قدیم مسجد ہے جس کی تعمیر ( 1184۔ 1199 ) میں خلیفہ یعقوب المنصور نے کروائی تھی۔ اس مسجد کو لال پتھروں سے تعمیر کیا گیا ہے اور یہ 260 فٹ لمبا اور 200 فٹ چوڑی ہے جبکہ اس کے مینار کی اونچائی 253 فٹ ہے۔ اس کے قریب ہی جامع الفناء کے پاس عالیشان ’قصبہ مسجد‘ بھی واقع ہے جسے خلیفہ یعقوب المنصور نے بارہوی صدی میں تعمیر کروایاتھا۔

شام دھیرے دھیرے اپنی سیاہی پھیلا رہی تھی اور مدینہ علاقے کا معروف جامع الفناء میں لوگوں کی بھیڑ بڑھتی جارہی تھی۔ تھوڑی دیر انتظار کے بعد پورا اسکوائر تفریح کے ماحول میں تبدیل ہو گیا۔ چھوٹے چھوٹے گروپ کی شکل میں لوگ بھیڑ لگائے اپنے اپنے شوق سے لطف اندوز ہو رہے تھیں۔ پورا جامع الفناء اسکوائرسیاحوں سے بھرا پڑا تھا۔ کہیں موسیقی بجائی جارہی تھی تو کہیں کھیل کود دِکھایا جارہا تھا۔ ایک جگہ تو کئی دکانوں میں صرف کھانے پینے کی چیزیں بک رہی تھیں اور لوگ دیوانہ وار کھانے کے لئے امڈ پڑے تھے۔ کچھ جگہوں پر سانپ کا کھیل دِکھایا جا رہا تھا۔ بہت ساری عورتیں حنا لگارہی تھیں۔ جوتشی قسمت کا حال بتا رہے تھے تو کہیں بندر کا کھیل بھی دِکھایا جا رہا تھا۔ گویا جامع الفناء کا پورا علاقہ ہندوستان کے میلے کی یاد دلا رہا تھا۔ جامع الفناء کو 1985 میں یونیسکو نے عالمی ثقافتی ورثہ کا درجہ دیا ہے۔

Read more

قلعہ دراوڑ: کس خرابے میں مجھے چھوڑ گئی درباری

جب بجے راؤ کے بیٹے دیو راج نے ایک پروہت بابا رت کے کہنے پر خود کو جوگی بنایا اور علم کا سنیاس لیا، تب جانے اُس کے من میں کیا بات سمائی ہوگی، جو اُس نے چولستان کے اِس لق و دق صحرا میں اپنی چھوٹی سی کٹیا بنائی؟ اور جب اُس کا سنیاس پورا ہوا اور وہ دیوراج سے دیوراول (جوگی) کہلایا، تب اِس گرد اُڑاتے بیابان صحرا میں، جہاں دریائے ہاکڑا ہولے ہولے بہا کرتا تھا، ایسے

Read more

منظر ہے اس طرح کا کہ دیکھا نہیں ہوا

منیر نیازی نے مجھے اپنی ’’کلیات منیر‘‘ عنایت کرتے ہوئے میری حیات کی ترجمانی کرتے ہوئے لکھا۔ مستنصر کے لئے۔ ’ ایسا سفر ہے جس میں کوئی ہم سفرنہیں، منظر ہے اس طرح کا کہ دیکھا نہیں ہوا‘۔ 19 فروری 98ء کی شام۔ میں نے اکثر تنہا سفر کیا جس میں کوئی ہم سفر نہ تھا اور ایسے منظر دیکھے جس طرح کے منظر کبھی دیکھے نہ تھے۔ اس جنوں خیز آوارگی کی شام ہو رہی ہے اور مجھے درجنوں

Read more

کھڑومی آبشار۔ وادی سون

وادی سون میں دنیا کی نظروں سے اوجھل ایک ایسی جھیل ہے جو گرین لاگون کی مانند ہے جس کے پانی اتنے کرسٹل کلیئر ہیں کہ پانی میں تیرتی مچھلیاں تک دیکھی جا سکتی ہیں۔ جس کے پانی کئی بلند آبشاریں بناتے ہیں چند ہی لوگ اس تک پہنچ پاتے ہیں اور وہ کسی کو بھی اس کا صحیح پتا نہیں بتاتے۔ اور یہ بلند پہاڑوں میں گھری ہوئی ہے۔ آبادی سے بہت دور، اس کی خوب صورتی تصویر میں

Read more

زیارت یاترا

بلوچستان پاکستان کا وہ صوبہ ہے، جہاں طویل ساحل بھی ہے، تو بے آب و گیا صحرا بھی؛ جہاں خشک اور سنگ لاخ پہاڑ بھی ہیں، تو صنوبر کے جنگلات سے ملبوس سر سبز پہاڑ بھی۔ اسی طرح یہاں سبی جیسا گرم ترین علاقہ بھی ہے، تو زیارت جیسا صحت افزا مقام بھی۔ زیارت ایک پر فضا مقام تو ہے ہی، لیکن اسے یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ یہاں بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح نے اپنے آخری

Read more

وادی گوسر سے جاہلر لیک ویو پوائنٹ

جب ہم نے اپنے گروپ ہائیکنگ ٹریکنگ اینڈ آرکیالوجی کے بینر تلے وادی سون کی ٹریکنگ کا سلسلہ شروع کیا تھا تو اس کا مقصد وادی سون کے ان حصوں کو ایکسپلور کرنا تھا جہاں لوگ بہت کم جاتے ہیں ساتھ ہی ساتھ یہ مقصد بھی تھا کہ مہینے میں کم از کم ایک دن ایسا ہو جب ہم اپنی مشینی زندگی سے ہٹ کر نیچر کے بہت قریب ہو کر کچھ وقت گزاریں ۔ نئے لوگوں سے ملیں ۔

Read more

کاغان اور ناران کی تباہی

جنت نظیر وادِی کاغان جو سرسبز پہاڑوں، گھنے جنگلات، برفیلی چوٹیوں، متعدد گلیشیئر اور شفاف جھیلوں کی وجہ سے مشہور ہے تقریباً 155 کلومیٹر طویل ہے۔ یہ خیبرپختونخواہ کے ضلع مانسہرہ کے شمال میں واقع ہے۔ اس وادی کے دائیں طرف آزاد کشمیر کی خوبصورت وادی نیلم جبکہ بائیں جانب وادِی کوہستان واقع ہے۔ پاکستان کے جنوبی علاقوں سے وادی میں داخل ہونے کے دو راستے ہیں۔ ایک براستہ ایبٹ آباد، مانسہرہ سے بالاکوٹ۔ اور دوسرا راستہ براستہ مری، مظفر

Read more

کافر کیلاشی حسیناؤں کے دیس میں

باجوڑ سے نکلتے ہوئے تقریباً 11بج چکے تھے جب ہم نے کیلاش کی طرف سفر کا آغازکیا۔ پہاڑوں کے حسیں اور دشوارگزار راستے ہمارے منتظر تھے۔ خان صاحب کے دعوؤں کے عین مطابق پولیس کا نظام دیگر صوبوں کے پولیس کے نظام سے بہت بہتر تھا، نہ کسی کو تنگ کیا جاتا ہے اور نہ ہر موڑ پے رشوت خور پولیس کھڑی نظر آتی۔ اپردیر سے آگے راستہ انتہائی پُر خطر ہے۔ کچھ دیر بعد لواری ٹنل کا دیدار نصیب

Read more

آؤ وادئ یاسین کی سیر کو چلیں

مشہور شاعر ساحر لدھیانوی کو کالج کے دنوں میں عشق ہوا اور اُنہیں شاعری کرنے کی پاداش میں کالج سے نکالا گیا۔ بہت عرصے بعد اُنہوں نے اپنے کالج کی شان میں ایک نظم لکھی جس کا عنوان ہے ”نذرِ کالج“۔ ہم نے بھی بچپن میں اپنے علاقے وادئی یاسین سے محبت کی اور سکول میں پڑھائی میں دل لگایا اور نسبتاً بہتر کارگردگی دکھائی تو ہمیں بھی گاؤں سے شہر کی طرف بھیجا گیا اور پھر کالج اور یونیورسٹی

Read more

وادی نیلم کی سیر – پلاننگ، مشورے اور اخراجات

وادی نیلم کی سیر اختتام کو پہنچی، حسب اصول شوقین حضرات کی راہنمائی کے لئے کچھ تفصیلات بیان کی جاتی ہیں: ٹور پلان: یہ تفصیل اسلام آباد کو ابتدائی مقام فرض کرکے بیان کی جائیں گی۔ پہلا دن ۔ صبح اسلام آباد سے روانگی اختیار کیجیے اور براستہ مری و مظفرآباد وادی نیلم میں ”اٹھ مقام“ تک جا پہنچیے۔ براستہ ”مری“ اس لئے کہا کیونکہ مری ایکسپریس وے سے آگے جو راستہ مظفرآباد کو جاتا ہے، وہ راستہ سڑک پر

Read more

مئی اور ایٹمی کہانی

شمالی کوریا نے مزید ایٹمی دھماکہ کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ یہ خبر کم از کم دشمن ملک امریکہ کو بہت خوش آئند لگی ہو گی۔ مجھے بیس برس پہلے کا مئی کامہینہ یاد آگیا۔ پہلے انڈیا نے پھر پاکستان نے ایٹمی دھماکے کئے اور پاکستان مسلم امہ کا پہلا مسلمان ملک بن گیا، جس نے ایٹمی دھماکہ کیا تھا۔ بات آئی گئی نہیں ہوئی۔ جیسے کم جونگ دھمکی دیتا تھا کہ میرے پاس ایٹمی بٹن ہے، وہ کسی

Read more

ہندوستان کے سفر کی کچھ یادیں

جب ہمارے والد صاحب کا انتقال ہوا تو میری عمر چھ سال تھی۔ آہستہ آہستہ ان کی آواز بھی بھول گئی اور چہرہ بھی۔ ایک فریم کی ہوئی تصویر ڈرائنگ روم میں‌ رکھی ہوتی تھی جس میں‌ وہ سوٹ بوٹ پہن کر تاج محل کے سامنے بیٹھے ہیں۔ اس زمانے میں‌ کلر فوٹوگرافی اتنی عام نہیں‌ تھی اور یہ ایک بلیک اینڈ وائٹ فوٹو تھا جس کو ہاتھ سے پینٹ کیا ہوا تھا۔ وہ اس دنیا سے باہر کی کوئی

Read more