چالیس سفید ریشوں کی خلیفہ کے دربار میں شہادت!

مسلمانوں کی اکثریت بالعموم چار خلفائے راشدین کے نام سے واقف ہے۔ تاہم مسلم اکابرین کی ایک بڑی تعداد بنو امیّہ خاندان کے آٹھویں خلیفہ حضرت عمر بن عبدالعزیز کو بھی راشد خلیفہ کے طور پر دیکھتی ہے۔ آپ کی والدہ حضرت عمر بن خطابؓ کی پوتی تھیں۔ فاروقِ اعظمؓ اکثر فرماتے کہ میری اولاد میں سے ایک شخص ابھرے گا جو زمین کو عدل و انصاف سے بھر دے گا۔ بنی امیّہ کے بانوے سالہ دورِملوکیت میں حضرت عمر بن عبدالعزیز کا دور، آمریت کی طویل صدی میں ڈھائی سالہ فقرو درویشی پر مبنی خلافت کا ایسا زمانہ سمجھا جاتا ہے کہ جس نے خلفائے راشدین کی یاد تازہ کر دی ہو۔

Read more

استاد کو یہ مقام تو اٹلی میں بھی حاصل نہیں!

جیسا کہ کسی گزشتہ مضمون میں میں نے عرض کیا تھا کہ بچپن میں مجھے بھی کسی اخبار یارسالے کا مدیر بننے کا شوق لاحق تھا۔ میری والدہ مرحومہ مگر چاہتی تھیں کہ میں ڈاکٹر یا انجینئر بنوں۔ آٹھویں جماعت میں جب پیچیدہ سائنسی مضامین سے واسطہ پڑا تو میرا ہاتھ تعلیمی کاکردگی میں تنگ پڑنے لگا! ستر کے عشرے میں عطا محمد اسلامیہ ہائی سکول گوجرانوالہ میں داخلہ حاصل کرنا بڑے اعزاز کی بات سمجھا جاتا تھا۔ قبل از قیامِ پاکستان رئیسانِ شہر کی غیر سرکاری انجمن کے تحت قائم شدہ ہمارا سکول پر شکوہ تاریخی عمارت اور شاندار تعلیمی رکارڈ کے حامل ادارے کے طور پر جانا جاتا تھا۔

Read more

پپلانتری کے طلسمی گاؤں میں اڑتی تتلیاں!

بنی نوع انسان کی معلوم تاریخ کے قدیم ادوار میں عورت کو بالعموم مرد کے لیے عیش و عشرت کے سامان اور بچوں کی پیدائش کے محض ایک ذریعہ کے طور پر ہی دیکھا جاتا تھا۔ ایک ایسی جنس جسے مال مویشیوں کی منڈیوں میں خریدا اور پھر حسب ضرورت برتا جاسکتا ہو۔ قدیم واہیانہ مذاہب عورت کو گناہ کا سر چشمہ، معصیت اور اس سے تعلق رکھنا روحانی ترقی کی راہ میں رکاوٹ سمجھتے تھے۔ قدیم تہذیبوں میں اگرچہ بعض خواتین نے اپنی خداداد صلاحیتوں کے بل بوتے پر عنان اقتدار تک رسائی بھی حاصل کی، تاہم ایسی چند استثنائی مثالوں کو چھوڑ کر یہ امر ایک تاریخی حقیقت ہے کہ زیادہ ترمہذب معاشروں میں بھی عورت کی سماجی حیثیت بچپن میں باپ، پھرشوہر اور اس کے بعد اولاد نرینہ کی تابع و محکوم ہی کی سی رہی ہے۔

Read more

بچھڑے ہوؤں کی یاد میں!

میری بیوی کوشش کرتی ہے کہ صحن میں پڑے چڑیوں کے برتن دانے اور پانی سے بھرے رہیں۔

پرندوں سے انسان بہت کچھ سیکھ سکتا ہے۔ پرندے دانا دنکا ذخیرہ نہیں کرتے۔ بال بچوں کی پرورش کرتے ہیں مگر ان کی فکر میں غرق خود کو خُدا نہیں سمجھ بیٹھتے۔ پرندوں کی اکثریت کو سدھانا ناممکن ہے۔ آزاد فضاؤں کی اس مخلوق کا جسم تو قید کیا جاسکتا ہے، تاہم ان کی روحیں کھلے آسمان میں محو پرواز رہتی ہیں۔ کہتے ہیں کہ پرندوں کو آزاد کردیا جائے تو و ہ پنجرے کے فرش پہ گرا بچا کھچا دانا سمیٹنے کے لئے واپس نہیں پلٹتے!

Read more

بے خوف صحافی کو غصہ کیوں آتا ہے؟

میرے خاندان کے بڑے بزرگ جانتے ہیں کہ اپنے بچپن میں میں صحافی بننے کے خواب دیکھاکرتا تھا۔ اس دور میں جب کہ صحافت کے شعبہ میں نہ تو پیسہ تھا اورنہ فلمی ستاروں کا سا گلیمر، میری اخبار نویس بننے کی خواہش لوگوں کے لئے ایک عجب خیال تھا۔ پھر کچھ یوں ہوا کہ میں فوج میں چلا آیا۔ کم و بیش چار اطمینان بخش عشروں کے بعدبالآخراپنے ’بوٹ لٹکائے‘ ہیں تو پتا چلا کہ میری پہلی محبت یعنی صحافت سے وابستہ افراد کی اکثریت، جہاں اب بھی سفید پو شی میں زندگی بسر کرتی ہے تو وہیں اس بحر میں اب چند جزیرے ایسے بھی ابھر آئے ہیں کہ جہاں کے بسنے والے غیر معمولی طور پرطاقتور اور خوشحال ہیں۔

Read more

شیطان کی حمایت میں ایک بیان!

کیا کسی کو یاد ہے کہ اپنے رانا ثنا ء اللہ کس حال میں ہیں؟ یو ں لگتا ہے کہ ہم سب رانا ثناء اللہ صا حب کو بھول چکے۔ رانا ثناء اللہ کو ہم اس لیے بھول گئے کہ اب ہمارے ہاتھ جج ارشد ملک آ چکے ہیں۔ خفیہ ہاتھوں والی قوتیں کہ جن کے لِتّے ہم رانا ثنا اللہ کی گاڑی میں منشیات رکھے جانے کی پاداش میں لے رہے تھے، اب ہمیں بتایا جاتا ہے کہ وہی جج ارشد ملک کے ڈراؤنے خوابوں کے لیے بھی ذمہ دار ہیں۔

Read more

ٹیکس نیٹ بڑھانے کے لئے ایک ’غیر ماہرانہ‘ مشورہ!

راولپنڈی کی مال روڈ پرموٹر سائیکل سواروں کے غول در غول ٹریفک سگنلز پر رکے بِھڑوں کی طرح بھنبھناتے نظر آتے ہیں۔ کچھ عرصہ قبل جب ٹریفک وارڈنز نے سختی کی تو سب موٹر سائیکل سواروں نے ہیلمٹ پہننا شروع کر دیے تھے۔ اب جبکہ مہم ماند پڑی ہے تو سواروں نے ہیلمٹ سر سے اتار کرموٹر سائیکلوں کے ہینڈلوں پر لٹکا لئے ہیں۔ سب جانتے ہیں کہ قانون کی عملداری سے بڑھ کر ہیلمٹ کا پہننا کسی حادثے کی صورت میں خود سوار کی سلامتی کے لئے کس قدراہم ہے۔

جان کی جس کو مگر پرواہ نہیں توایسی کیا ترغیب ہو کہ قانون پر عملداری کا اس کے دل میں احساس اجاگر کیا جا سکے! عجب خیال میرے دماغ میں آتاہے۔ سوچتا ہوں کسی طرح ان موٹر سائیکل سواروں کو محض یہ باور کرایا جاسکے کہ ہیلمٹ پہن کر گھر سے نکلو تو کاروبار یا ملازمت میں بالترتیب برکت اور ترقی ملتی ہے، رزق اور قوت باہ میں اضافہ ہوتا ہے، نیز یہ کہ اگلے پندرہ یوم میں غیب سے کوئی بڑی خوشخبری ملنے کا امکان ابھی باقی رہتا ہے

Read more

خاتون رہنما کے لئے ایک مشورہ

۔1986 ء میں منعقدہ کورس کی ایک صبح درجن بھر لفٹین معمول کی کلاسز کی بجائے کمپنی کمانڈر کے دفتر کے سامنے کھڑے تھے۔ گزشتہ نصف شب کے آس پاس یو بلاک میں رہائش پذیر کورس کے سینئیر سٹوڈنٹ کے کمرے پر ایک دو پتھر پھینکے گئے تھے۔ کورس سینئیر انجینیئرنگ یونیورسٹی لاہور سے ڈگری کے بعد کپتانی میں ڈائریکٹ کمیشن لینے کے بعد سیدھے لفٹینوں کے ساتھ کورس کرنے چلے آئے تھے۔ خشک مزاج تھے، چنانچہ چند ہی روز میں غیرمقبول ہوچکے تھے۔

ڈیوٹی پر موجود سنتری نے چہرے تو نا دیکھے تھے تاہم کمروں کی عمومی نشاندہی کر دی جن کی طرف پتھراؤ کرنے والے بھاگتے ہوئے غائب ہوئے تھے۔ صبح سویرے کمپنی کمانڈر نے دس بارہ مشتبہ لفٹینوں کو قطار میں کھڑا کر کے گزشتہ شب کے واقعہ کے ذمہ داروں کہ جن کے نام سے اب تک پورا کورس واقف تھا، کے بارے میں پوچھا۔ لفٹینوں نے لاعلمی کا اظہار کیا۔ کمپنی کمانڈر نے انہیں بتایا کہ ’مجرمان‘ کے نام پتا نہ چلنے کی صورت میں دوپہر سے پہلے پہلے سب کا کورٹ مارشل کیا جائے گا جس کے نتیجے میں دو چار سال جیل تو معمولی بات ہے۔

Read more

ہمیں ایک بادشاہ چاہیے!

سیموئیل نبی سے قوم نے مطالبہ کیا کہ خدا سے کہو ہمارے لیے ایک بادشاہ اتارے۔ سب قوموں کے ہاں عظیم الشان درباروں میں شان و شوکت والے بادشاہ فروکش ہیں۔ ہمیں بھی ایسے ہی رعب و دبدبے والا بادشاہ چاہیے۔ نبی نے اپنی قوم کو بہت سمجھایا مگر سب مُصر رہے کہ انہیں تو بس ایک بادشاہ چاہیے جو بڑی شان اور کروفر والا ہو۔ نسل در نسل کی غلامی سے بنی اسرائیل کو نجات دلا کر حضرت موسیٰ ؑ چالیس سال کی مسافت کے بعد اپنی قوم کو اس آزاد سر زمین پر لائے تھے جس کا مقدس کتابوں میں ان سے وعدہ تھا۔ غلامی مگر ہڈیوں کے گودے میں اتر چکی ہو تو قوم کو ایک نجات دہندہ کی نہیں بلکہ ایک بادشاہ کی ہی خواہش ر ہتی ہے!

Read more

ایک ازکار رفتہ سپاہی کی ڈائری سے۔۔۔

1977 ء میں، میں بارہ سال کا تھا۔ وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو قبل از وقت اسمبلیاں تحلیل کر کے انتخابات کا اعلان کر چکے تو ایک رات ہمارے گھر کے پاس سے ایک جلوس کسی شخص کا نام لے کر فحش گالیاں بکتے ہوئے گزرا۔ بھٹو صاحب کے نام سے یہ میری پہلی شناسائی تھی۔ فطری طور پر میرے دل میں اس شخص کے لئے کہ جسے میں جانتا بھی نہیں تھا، ہمدردی کے جذبات اُمنڈ آئے۔ کچھ ہی دن میں مجھے یہ جان کر خوشی ہوئی کہ میرے والد اور ہمارا سارا خاندان بھٹو صاحب اور ان کی پیپلز پارٹی کے حامی تھے۔

میرے والد اپنے اکلوتے اور عمر میں محض ایک سال بڑے بھائی کے ساتھ قیام پاکستان کے سال، گورو نانک خالصہ کالج گوجرانوالہ (حالیہ گورنمنٹ اسلامیہ کالج) میں گریجوایشن کے آخری سال میں تھے۔ تحریک پاکستان میں دیگر نوجوان مسلمانوں کی طرح جلسے جلوسوں میں حصہ لیتے۔ پولیس کبھی کبھار طالب علموں کے سالم جلسے کو ٹرکوں میں بھر کر شہر سے دور چھوڑ آتی۔ واپسی کا سفر ان نوجوانوں کے لئے الٹا تفریح طبع کا باعث بنتا۔ آزاد وطن کا قیام عمل میں آگیا تو طالب علمی کا دور بھی اختتام کو پہنچا۔

Read more