دو مقدمات اور یوکرین پر روسی جارحیت!

اوون بینٹ جانز پاکستان اور پاکستان کی سیاست پر گہری نظر رکھنے والے معروف برطانوی صحافی ہیں۔ متعدد کتابوں کے مصنف ہیں۔ ان کے مضامین کئی اخباروں میں شائع ہوتے ہیں۔ پاکستان کی سیاست میں فوجی اسٹیبلشمنٹ کے کردار کے ناقد ہیں تو وہیں اپنی کتاب Pakistan: Eye of the Storm میں انہوں نے متعین انداز میں لکھا ہے کہ جب تک پاکستان پر سیاست چند روایتی خاندانوں، بڑے سرمایہ داروں اور جاگیرداری نظام کے ہاتھوں یرغمال رہے گی، ملک

Read more

یوکرین پر روسی حملہ اور اپوزیشن کی پر اعتمادی!

دوسری جنگ عظیم کے بعد عالمی سیاست میں تاج برطانیہ کا کردار سمٹنا شروع ہوا تو ریاست ہائے امریکہ کو مغربی دنیا کی قیادت حاصل ہو گئی۔ سرد جنگ کے اعصاب شکن دور کا آغاز ہوا۔ کئی سال بعد افغانستان سے روسی فوجوں کے انخلاء اور سوویت یونین کی تحلیل کے بعد آنجہانی کمیونسٹ یونین کی جانشینی روس کے ہاتھ میں آئی۔ سوویت تسلط سے نجات پانے والی وسط ایشیائی ریاستوں میں مسلمان اکثریت میں تھے۔ چنانچہ ان افلاس کی

Read more

اشوکا کے بدھ بھکشوؤں سے مغل جانشینوں تک

مذہب کے نام پر انتہا پسندی جیسے ہندوستان کی قدیم مٹی میں گندھ سی گئی ہے۔ چندر گپت نے موریہ سلطنت کی بنیاد رکھی تو اس کے پوتے اشوکا نے راجدھانی کو بنگال کے ساحلوں سے لے کر دور حاضر کے افغانستان تک پھیلا دیا۔ اس عظیم ہندوستانی سلطنت کے قیام کے لئے اشوکا نے بے شمار جنگیں لڑیں۔ اپنی 16 ماؤں کے بطن سے جنم لینے والے ایک سو کے لگ بھگ بھائیوں کو قتل کیا۔ کلنگا کی جنگ

Read more

پیشہ ور تنظیموں اور اداروں سے وابستہ توقعات!

وطنِ عزیز کے معروضی حالات، بالخصوص معاشرے میں پائے جانے والے چڑچڑے پن کی شدت عشروں پہلے پڑھے اَرل تھامپسن کے ناول ‘A Garden of Sand’ کے ایک کردار مسٹر میک ڈرمڈ کی یاد دلا تی ہے۔ میک ڈرمڈ ایک امریکی کسان ہے جو بیسویں صدی کے Great Depression کے دوران مالی عسرت کے ہاتھوں مجبور ہو کر اپنی زرعی اراضی بیچ کر شہری علاقوں کی طرف نقل مکانی پر خود کو مجبور پاتا ہے۔ ایک عام کسان کی حیثیت

Read more

پریڈ لین کے شہیدوں کی یاد میں

پریڈ لین راولپنڈی کی مسجد میں 4 دسمبر 2009 ء کی نماز جمعہ سے پہلے امام صاحب کی تقریر کے بعد نمازی سنتیں ادا کر رہے تھے۔ پریڈ لین کے رہائشی کرنل غلام رسول قیصر اس روز کچھ تاخیر سے گھر پہنچے تھے۔ دو بہنوں کا اکلوتا بھائی، میٹرک کا طالبعلم محمد علی مسجد جانے کے لئے ان کا منتظر بیٹھا تھا۔ باپ بیٹا مسجد پہنچے تو خود کش حملہ آور مسجد کے دروازے پر پہلے سے موجود تھا۔ بیٹے

Read more

پریڈ لین کے شہیدوں کی یاد میں!

پریڈ لین راولپنڈی کی مسجد میں 4 دسمبر 2009 ء کی نماز جمعہ سے پہلے امام صاحب کی تقریر کے بعد نمازی سنتیں ادا کر رہے تھے۔ پریڈ لین کے رہائشی کرنل غلام رسول قیصر اس روز کچھ تاخیر سے گھر پہنچے تھے۔ دو بہنوں کا اکلوتا بھائی، میٹرک کا طالبعلم محمد علی مسجد جانے کے لئے ان کا منتظر بیٹھا تھا۔ باپ بیٹا مسجد پہنچے تو خود کش حملہ آور مسجد کے دروازے پر پہلے سے موجود تھا۔ بیٹے

Read more

وعدوں کے ایفا کا نہیں، اب بقا کا سوال ہے

پاکستان کی پہلی قانون ساز اسمبلی سے قائدِ اعظم کے 11اگست1947ء والے خطاب میں ابتدائی کلمات کے بعد جس  پہلے موضوع کی طرف قائد نے حاضرین کی توجہ مبذول کروائی وہ عام تاثر کے برعکس مذہبی رواداری نہیں بلکہ معاشرے کو لاحق مالی بدعنوانی اور اقرباء پروری کے امراض تھے۔تہتر سال گزر گئے۔آج پاکستانی معاشرے میں مالی بد عنوانی کوبرائی نہیں سمجھا جاتا۔ ملک پر طاقتور طبقات(Elitists) کی حکمرانی ہے۔اقربا پروری، خاندانی سیاست اور ادارہ جاتی عصبیت قبول عام پا چکے

Read more

امریکہ چین تناؤ اور پاکستان کا امتحان!

کمیونزم کی پسپائی اور سوویت خطرہ تحلیل ہو جانے کے باوجود نیٹو اتحاد قائم اور 150,000 امریکی فوجیوں کی یورپ میں تعیناتی برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا۔ تیسری عالمی جنگ کے بادل چھٹنے اور سرد جنگ کے خاتمے کے بعد امریکہ کی جانب سے روس سمیت سوویت یونین سے آزادی پانے والی ریاستوں کے لئے مختص امریکی امداد کو ان ممالک میں مغربی جمہوری اقدار اور انسانی حقوق کے فروغ سے منسلک کر دیا گیا۔ نوے کے عشرے کے

Read more

انتشار نہیں، آئین و قانون میں بقا ہے!

یہ نہیں کہ ہم جیسوں کو جمہوریت، سویلین بالادستی، آئین و قانون کی حکمرانی، آزادی اظہار رائے اور انسانی حقوق سے متعلق ’مغرب زدہ لبرلز‘ کے افکار و مطالبات سے اختلاف ہے۔ تاہم فکر میں خیانت اور رویوں میں تضاد پانیوں کو گدلا دیتے ہیں۔ مغرب زدہ لبرلز میں اب وہ بھی شامل ہیں جو کسی زمانے میں رومان پسند اشتراکی تھے۔ چڑیا والے صاحب بھی کسی زمانے میں اسی فکر کے مالک تھے۔ لگ بھگ پچاس برس قبل بلوچستان

Read more

ریاست کو ایک ’سسٹم‘ کا سامنا ہے!

ہم میں سے کتنے ہیں جنہوں نے بیان حلفی سامنے آنے سے پہلے ساہیوال سے اٹھنے والے ایک عام وکیل کی گلگت بلتستان کے چیف جج کے عہدے پر تعیناتی کا سن رکھا تھا۔ بتایا جا رہا ہے کہ وکیل صاحب سیاسی جماعت کے عہدیدار بھی رہے ہیں۔ ماریو پوزو کے شہرہ آفاق ناول کا حوالہ جسٹس کھوسہ نے پاناما کیس کے فیصلے میں دیا تھا۔ ڈان کارلیان جب کسی پر احسان کرتا تو بدلے میں فوراً کچھ طلب نہیں

Read more

انتہا پسندی: یہ نصف صدی کا قصہ ہے

وفاقی وزیر اطلاعات نے گزشتہ روز کسی ایک تقریب سے اپنے خطاب کے دوران انتہا پسند رویوں اور ریاست کے ناکافی رد عمل پر کچھ بات کی ہے۔ ان کی تقریر کی ان جزئیات کو ٹی وی چینلز نے ہیڈ لائنز کے طور پیش کیا ہے۔ انتہا پسند رویے مگر ایک آدھ تقریر اور دو چار برس کا معاملہ نہیں۔ ہماری نسل نے نوجوانی کی دہلیز پر ، روسی افواج نے افغانستان او ر ’اسلامائزیشن‘ نے وطن عزیز میں ایک

Read more

نفرت ہمیں کہاں لے جائے گی!

آرمی پبلک سکول پشاور سانحہ میں 132 بچوں سمیت 149 بے گناہ مرد و زن کی جانوں کا مداوا ہر گز ممکن نہیں۔ دنیا کے اس پار جو اتر گئے، ان کو واپس لانا بھی کسی کے بس کی بات نہیں۔ تاہم جہاں مجرموں کو کیفر کردار تک پہنچا نا ریاست کی اولین ذمہ داریوں میں شامل ہے، وہیں دنیا بھر میں لواحقین کی دل جوئی کے لئے کچھ مراعات کا اعلان کیا جاتا ہے، جن میں مالی امداد کے

Read more

محسن داوڑ، مریم نواز اور ویلڈن ٹیم پاکستان!

ابھی چند ہفتے قبل نیوزی لینڈ کی ٹیم عین میچ سے پہلے گھبرا کر اپنے ہوٹل سے باہر آنے کو انکاری ہو گئی تھی۔ دونوں ملکوں کے پرچم اٹھائے پاکستانی تماشائی سٹیڈیم میں بیٹھے ٹیموں کی راہ تکتے رہے۔ دو چار روز بعد انگلینڈ نے بھی اپنے کھلاڑیوں کی تھکاوٹ کو جواز بنا کر پاکستان آنے سے انکار کر دیا تو عمران حکومت کی فارن پالیسی کو ہدف تنقید بناتے ہوئے ہمیں بتایا گیا کہ ہم دنیا میں تنہا ہوچکے

Read more

معاشرے کی افتاد طبع بھی غورطلب ہے

مقام اطمینان ہے کہ حکومت اور کالعدم مذہبی جماعت میں معاہدہ طے پا گیا ہے۔ تادم تحریر دھرنا پوری طرح سمٹا نہیں۔ تاہم چونکہ معاہدے کی جزیات خفیہ رکھی گئی ہیں، لہٰذا ہمیں نہیں معلوم کہ کیا طے پایا ہے۔ ایک بات مگر طے ہے کہ آپ ججوں اور جرنیلوں پر تنقید کر کے خود کو نڈر صحافی بتا سکتے ہیں۔ نواز شریف اور مریم نواز کی میمز بنا سکتے ہیں۔ عمران خان ہی نہیں ان کی گھر بیٹھی بی

Read more

زوال کا سفر جاری رہے گا!

قرآن نے ہمیں بتایا ہے کہ خالق کائنات قوموں کے مابین دنوں کو پھیرتا رہتا ہے۔ عروج و زوال تاہم بے سبب ہر گز نہیں۔ اس باب میں اللہ تعالیٰ نے کچھ قوانین مقرر کر رکھے ہیں کہ جنہیں سنن الہٰیہ کہا جاتا ہے۔ غامدی صاحب اپنی کتاب ’میزان‘ میں قرآن مجید کا احاطہ دو بڑے حصوں میں کرتے ہیں۔ ’الکتاب‘ کے باب میں عبادات کے قوانین بیان کیے گئے ہیں جبکہ ’الحکمہ‘ کے عنوان کے تحت ’ایمانیات‘ کے ساتھ

Read more

انتہا پسندی اور انتشار کی دیمک

انتہا پسند گروہ ہمارے ہاں کسی نا کسی شکل میں ہمیشہ موجود رہے ہیں۔ سرد جنگ عروج پر تھی تو بائیں بازو کے cult کے مقابلے میں مذہبی عناصر سر گرم رہتے۔ مذہبی انتہا پسند پاکستانی سوشلسٹوں کو ’لادین‘ اور روسی ایجنٹ کہتے۔ جبکہ سوشلسٹ گروہ سے وابستہ انتہا پسند، مذہب پسندوں کو ’امریکی استعمار کا پٹھو‘ کہہ کر پکارتے۔ دونوں متحارب گروہ مگر انتخابی میدان میں اپنی مقبولیت ثابت کرنے میں ناکام رہتے۔ بھٹو صاحب آندھی اور طوفان کی

Read more

ایک از کار رفتہ سپاہی کا اعترافی بیان!

میں ایک از کار رفتہ سپاہی، متوسط طبقے کا عام پاکستانی ہوں۔ میں عمران خان کی حمایت کرتا ہوں۔ کیا میں شخصیت پرست ہوں؟ کیا میں جمہوریت اور اس کے لوازمات سے بے بہرہ ہوں؟ یا کہ میں عمران خان کا محض ایک کرکٹ فین ہوں؟ حقیقت مگر یہ ہے کہ عمران خان اپنی دلکش شخصیت کے باوجود کبھی بھی میرے پسندیدہ ترین کھلاڑیوں میں شامل نہیں رہے۔ میں تو وسیم راجہ بننا چاہتا تھا کہ انہی کی تقلید میں ’لیفٹی‘ نہ ہونے کے باوجود میں آج بھی بائیں ہاتھ سے ہی بلے بازی کرتا ہوں۔

Read more

جنوب ایشیائی کرکٹ اور مودی کا ہندوستان!

بھارت میں مرار جی ڈیسائی جبکہ ہماری طرف جنرل ضیاء الحق حکمران تھے۔ سترہ سال کے وقفے کے بعد بشن سنگھ بیدی کی قیادت میں بھارتی ٹیم سال 1978۔ 79 ء میں پاکستان کے دورے پر آئی تو پورا خطہ کرکٹ کے دائمی بخار میں مبتلا ہو کر رہ گیا۔ لگ بھگ چار عشروں بعد ، آج نہ صرف سری لنکا اور بنگلہ دیش بلکہ جنگ سے تباہ حال افغانستان میں بھی کرکٹ گلی گلی کھیلی جاتی ہے۔ خود پاکستان

Read more

ایک اور ٹریٹی آف ویسٹ فیلیا کی ضرورت ہے۔

سال 1975 ء میں ویتنام سے پسپائی کے بعد کہا گیا کہ امریکہ اپنی تمام تر طاقت اور بے پناہ وسائل کے باوجود عالمی سطح پر کوئی خاطر خواہ ہدف حاصل نہیں کر سکتا۔ تاہم سال 1989 ء میں جب کمیونسٹ نظام کے انہدام کا آغاز ہوا تو بتایا گیا کہ امریکہ کے پاس اب کرنے کو کچھ بچا نہیں۔ ایک سال بعد جب عراق کو تہہ و تیغ کیا گیا تو اعلان کیا گیا کہ امریکہ دنیا میں جو

Read more

کیا پاکستان کے پاس کوئی دوسرا راستہ موجود ہے؟

کئی مخصوص سیاستدان اور حکومت مخالف تجزیہ کار اس بات پر معترض ہیں کہ دنیا سے طالبان کو تنہا نہ چھوڑے جانے کا کیوں کہا جا رہا ہے کہ یوں طالبان کی پاکستانی حمایت کا تاثر مزید گہرا اور پختہ ہو تا ہے۔ ہمارے ایک سابق سینیٹر صاحب نے بھارتی میڈیا سے انٹرویو میں پاکستان پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ طالبان کے ذریعے افغانستان کی قومی شناخت بدلنا چاہتا ہے۔ محترمہ مریم نواز جب عدالت میں اپنے خلاف

Read more

طالبان کوتنہا نہ ہونے دیا جائے!

ہم جانتے ہیں کہ افغانستان میں مغربی ممالک کی کٹھ پتلی حکومت کے راتوں رات ہوا میں تحلیل ہو جانے پر امریکہ شرمسار ہے، مغربی ممالک ششدر ہیں، بھارت میں صف ماتم بچھی ہے اور پاکستان میں مغرب زدہ لبرل اور کچھ متروک بائیں بازو کے اکا دکا انتہا پسند پہلے سے زیادہ چڑچڑے پن کا شکار ہیں۔ جبکہ حال ہی میں پاکستانی پختونوں کے تحفظ کے نام پر جنم لینے والا گروہ، اشرف غنی ٹولے اور امریکی امداد پر پلنے والی افغان نیشنل آرمی کے دھوپ میں رکھی برف کی طرح پگھل جانے کے بعد بے سرو سامانی کے عالم میں شکست و ریخت کا شکار ہے۔

Read more

سیاسی خانوادوں سے کاروباری خاندان تک!

تحریک پاکستان نے زور پکڑا تو اشتراکیت پر مائل نہرو کے متعدد بیانات پر مسلمان جاگیر دار متفکر ہوئے اور تحریک کے آخری سالوں میں کچھ عوامی دباؤ کے تحت تو کچھ ذاتی مفادات کی خاطر جوق در جوق مسلم لیگ کا حصہ بننے لگے۔ نئی ریاست وجود پذیر ہوئی تو سیاسی اشرافیہ چند بڑے جاگیر دار خاندانوں پر مشتمل تھی۔ بطور گورنر جنرل قائد اعظم کی مایوسی کی جہاں ایک وجہ پنجاب کے وزیر اعلیٰ کی نا اہلی اور اقرباء پروری تھی تو دوسری طرف روایتی جاگیر دار سیاستدانوں کا گروہی مفادات کے تحفظ کی خاطر باہم گٹھ جوڑ بھی آخری ایام میں آپ کے آزردہ خاطر رہنے کے وجہ بنا۔ کہا جاتا ہے کہ مشرقی پاکستان کے سیاست دانوں کے مطالبات کے باوجود، یو پی کے مہاجر وزیر اعظم ابتدائی سالوں میں انتخابات کے انعقاد سے گریزاں رہے تو انہی جاگیر دار خاندانوں کا گٹھ جوڑ پیش نظر تھا۔

Read more

پورے خطے کو ماتم کناں ہونا چاہیے!

بھارت مودی جی اور ان کی ارغوانی سوچ کے ہاتھوں یرغمال ہے۔

اسے اتفاق کہئے یا کہ قدرت کی ستم ظریفی، آج کا ہندوستان اسی تاریک گلی میں جا چکا ہے کہ جس سے گزرتے ہوئے چالیس سال قبل ہم نے تباہی کے گڑھے کو چنا تھا۔ اپنی غلطیوں کی مگر ہم نے بھاری قیمت چکائی ہے۔ انتہا پسندی سے پھوٹنے والی دہشت گردی کی گہری اندھی کھائی سے باہر نکلنے کے لئے ہماری ایک نسل نے خون کا خراج ادا کیا تو کہیں جا کر دور کناروں پر اجالا نظر آیا ہے۔ مودی کا ہندوستان مگر نفرت کی مکمل تاریکی میں ڈوب چکا ہے۔

Read more

پاکستان کے لئے آنے والے دن آسان نہیں!

پاکستان شدید دباؤ میں ہے۔ صرف سوشل میڈیا کو ہی دیکھا جائے تو یوں محسوس ہوتا ہے کہ وطن عزیز کے گلی کوچے میں چھوٹے بڑے John Locke اور Rousseauرزمیہ گیت گاتے پھرتے ہیں۔ یوں دکھائی دیتا ہے کہ ہمارے ہاں انسانی حقوق کی پاسداری، جمہوری نظام اور قانون کی بالا دستی کے لئے اگر دنیا میں کوئی سب سے زیادہ فکر مند ہے تووہ ہمارا دوست بھارت اور کابل میں کٹھ پتلی حکمران ہیں۔ ٹویٹر کو دیکھ کر بے

Read more

تین بار کے وزیرِ اعظم سے ہماری  کچھ توقعات ہیں!

کیا نواز شریف ایک بار پھر اپنی بقا کے لئے تمام تر امیدیں مغرب سے وابستہ کر چکے ہیں؟ کارگل کے کئی سال بعد ایک اہم امریکی عہدیدار نے 4 جولائی 1999 کو واشنگٹن پہنچنے والے پاکستانی وزیر اعظم کو یاد کرتے ہوئے کہا، ’۔ he was not a man of great courage۔‘ (صفحہ 291، فرام کارگل ٹو کو۔ نسیم زہرا) ۔ اپنے حالیہ انٹرویو میں شہباز شریف نے تصدیق کی ہے کہ کئی دن امریکی صدر سے تنہائی میں ملاقات کے لئے منت سماجت میں مصروف بڑے بھائی سے انہوں نے آرمی چیف کو امریکہ ساتھ لے جانے کا کہا تھا۔ مشورہ مان لیا جاتا تو اندازہ یہی ہے کہ پاکستان کی تاریخ آج کہیں مختلف ہوتی۔

Read more

مسلم لیگ نون کی بقا قومی مفاد میں ہے!

اپنے دوسرے دور حکومت میں نواز شریف ایک بدلے ہوئے شخص کے طور پر لوٹے۔ یہی دور تھا جب انہوں نے مغربی اور بھارتی رہنماؤں کے ساتھ اپنے ذاتی تعلقات اور خفیہ مراسم استوار کرنے کی داغ بیل ڈالی۔ 1998 ء میں جب عسکری اداروں اور فارن آفس کی پیٹھ کے پیچھے ان کے خاص نمائندے کشمیر سمیت دوسرے معاملات پر بھارتیوں کے ساتھ خفیہ بات چیت میں مصروف تھے تووہ خود صدر کلنٹن کے ساتھ مل کر ریٹائرڈ کمانڈوز پر مشتمل ایک سپیشل ٹاسک فورس کے ذریعے اسامہ بن لادن کو اغواء کرنے جیسی احمقانہ منصوبہ سازی میں مگن تھے۔

Read more

کوئٹہ سے جڑی چند چھوٹی چھوٹی یادیں!

ستمبر 1985 ء میں پاکستان ملٹری اکیڈمی کاکول سے تربیت مکمل کرنے کے بعد کوئٹہ میں میری پہلی تعیناتی ہوئی۔ میری یونٹ ان دنوں کوئٹہ سے باہر بلیلی گاؤں کے نواح میں سالانہ سرمائی مشقوں میں مصروف تھی۔ سارا دن ہم کھلے سنگلاخ پہاڑوں کے دور تک پھیلے کٹے پھٹے دامن میں تیز گرد آلود ہواؤں کے جھکڑوں میں گھرے تربیتی سرگرمیوں میں مصروف رہتے۔ ہمارا رہائشی کیمپ سیب کے باغوں میں گھرا ہوا تھا۔ میرا خیمہ سنہرے لال سیبوں

Read more

قومی ادارے کی تضحیک کا کھیل اب  بند ہونا چاہیئے

آزاد کشمیر میں جاری حالیہ انتخابی مہم کے دوران ایک دوسرے کے خلاف افسوس ناک زبان درازی کا سلسلہ جاری ہے۔ مریم نواز ایک بار پھر نون لیگ کا مزاحمتی چہرہ بن کر میدان میں ہیں۔ خاموشی کے ایک اور وقفے کے بعد کہ جس میں شہباز شریف کو اپنا کردار ادا کرنے کا موقع دیا گیا تھا، اب وہ دوبارہ عمران خان کی آڑ میں اداروں پر حملہ آور ہیں۔ کہتی ہیں کہ عمران خان نے امریکہ میں کشمیر کی سودے بازی کی۔ اسی سودے بازی کے نتیجے میں مودی نے کشمیر سے متعلق اقدامات کیے ۔ کشمیر کو صوبہ بنانے کی سازش کا الزام بھی مسلسل لگا رہی ہیں۔ مودی کے خلاف اب تک ایک لفظ نہیں بولیں!

Read more

افغانستان پر رحم کیا جائے

امریکی انخلا میں حالیہ غیر معمولی تیزی کے نتیجے میں طالبان بھی ہر دن بدلتی صورت حال کے پیش نظر اپنی حکمت عملی تبدیل کرتے ہوئے نظر آرہے ہیں۔ ضلع در ضلع فتوحات کے ساتھ ساتھ زیر زمین مذاکرات بھی جاری ہیں۔ ماضی کے برعکس اس بار طالبان نے اپنی کارروائیاں بڑے شہروں پر سامنے سے حملہ آور ہونے کی بجائے آبادیوں سے پہلو بچاتے ہوئے مختلف شاہراہوں اور ان آبادیوں کو ملانے والی چھوٹی بڑی سڑکوں کو کاٹنے اور دور پار چوکیوں پر قبضہ تک محدود رکھی ہیں۔

Read more

کاش پچھتاوے کا احساس پیدا ہو جائے

کرنل صاحب ہمارے ان بڑوں میں سے ہیں، جن کا ہمارے دورِ لفٹینی میں ڈنکا بجتا تھا۔ انہی کے ایک معروف کورس میٹ میری پہلی یونٹ میں میرے سی او تھے۔ پینتیس چالیس سالوں کے بعد آج بھی جن کے طرزِ کمانداری کو میں آئیڈلائز کرتا ہوں۔ قیام پاکستان کے وقت کرنل صاحب کے والد مشرقی پاکستان میں تعینات تھے۔ ریٹائر ہوئے تو خوشحال پنجابی خاندان مستقلاً وہیں آباد ہو گیا۔ سال 71 ء کے پر آشوب مہینوں میں جب فضاء خون کی باس سے بوجھل تھی تو ایک تاریک رات کے اندر، کچھ مقامی بلوائی کھانے کی میز کے گرد بیٹھے اس بے گناہ کنبے پر قیامت بن کر ٹوٹ پڑے۔

Read more

جناب وزیر اعظم، اب آپ نے گھبرانا نہیں ہے!

جناب وزیر اعظم اب آپ پر حملے ہوں گے اور پہلے سے بڑھ کر ہوں گے۔ کچھ لوگ آپ کو پاکستان کے پہلے وزیراعظم کا انجام یاد دلائیں گے۔ امریکیوں کو جنہوں نے ہوائی اڈے دینے سے انکار کیا تھا۔ تاج برطانیہ، چرچل اور ان کی جماعت تو اگلے تیس سال تک ہندوستان کو آزادی عطا کرنے کے حق میں نہیں تھے۔ امریکیوں کا دباؤ کام آیا۔ اسی نوزائیدہ ملک کا وزیر اعظم انہیں فوجی اڈے دینے سے انکاری کیسے ہو سکتا تھا۔

پرویز مشرف کا مخمصہ بھی وہی تھا جو ایوب، یحییٰ اور ضیا ء الحق کو در پیش رہا۔ فوجی آمر اپنے اقتدار کے دوام کے لئے قانونی جواز ڈھونڈنے لگ جائے تو اس کے زوال کے دن شروع ہو جاتے ہیں۔

Read more

اس سے پہلے کہ ساری دنیا اندھی ہو جائے!

قومی، مذہبی اور نسلی تعصبات اور پر تشدد رویوں سے انسانی تاریخ لبریز ہے۔ یورپ کی تاریک صدیاں محض مذہب کے نام پر لڑی گئی سالوں پر محیط جنگوں میں باہم کشت و خون سے لتھڑی پڑی ہیں۔ تاہم یورپ جب خود اندھیرے میں غرق تھا تو اس وقت بھی وہاں اسلام کو ایک ایسا مذہب سمجھا جاتا تھا جس کے پیرو کار ہمہ وقت تشدد پر آمادہ رہتے ہوں۔ یہودی مذہب ترک کر کے اسلام قبول کرنے والے معروف یورپی نژاد اسلامی سکالر علامہ محمد اسد کے مطابق ’یورپ کا اسلام مخالف رویہ اس نوجوان کی نفسیات کی مانند ہے کہ جس پر بچپن کی متشدد یادوں نے گہرا اثر چھوڑا ہو‘ ۔

Read more

ففتھ جنریشن جنگ کی نئی تشریح اور خطرات

سال 2011 ء میں ہمارے سلامتی کے اداروں پر مغربی دباؤ اپنے عروج اور پاک افغان سرحد کے دو اطراف بر سر پیکار افواج کے مابین بد گمانی اپنے عروج پر تھی۔ جنرل کیانی پاکستانی علاقوں میں دہشت گردوں کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کے لئے قومی حمایت کے طلب گار تھے۔ پاکستان میں مگر مذہب کے نام پر غارت گری کرنے والے جتھوں کو پاکستان کی اکثر سیاسی جماعتوں اور بالخصوص نو آموز الیکٹرانک میڈیا کے ذریعے راتوں رات شہرت پانے والے میڈیا اینکر پرسنز کی حمایت حاصل تھی۔ آج کی طرح تمام مسائل کا سبب ان سے لڑنے والی پاکستانی افواج کو ہی ٹھہراتے تھے۔

Read more

مافیا ہتھکنڈوں کی نہیں، سیاست سیکھنے کے ضرورت ہے

ایک ریفرنس میں سزا پانے کے بعد شریف فیملی کے وکلاء نے نئے جج پر اصرار کیا۔ جج ارشد ملک نے مقدمہ سنا اور میاں صاحب کو ایک معاملے میں بری کرتے ہوئے دوسرے میں سزا سنا دی۔ جیل میں سزا کاٹتے ہوئے میاں صاحب ذہنی دباؤ کا شکار ہوئے تو فیملی کے وکلاء سپریم کورٹ پہنچ کر میاں صاحب کی ضمانت پر رہائی کے ملتجی ہوئے۔ سپریم کورٹ نے قیدی کی ذہنی کیفیت کو مدنظر رکھتے ہوئے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر کچھ ہفتوں کے لئے جیل سے نکال کر اسے جاتی عمرہ اس کی رہائش گاہ بھجوا دیا۔

Read more

مڈل کلاس کو اداروں پر غصہ کیوں آتا ہے

کیا عمران خان جنگ ہار چکے ہیں؟ کیا عمران خان سے امیدیں وابستہ کرنے والی مڈل کلاس کی اداروں سے ناراضی کے دن آن پہنچے ہیں؟ سپریم کورٹ کے ایک حالیہ فیصلے کہ جس کے بعد سپریم جوڈیشل کونسل جیسے اعلیٰ ترین آئینی ادارے کے بظاہر عضو معطل ہو جانے کے صحیح یا غلط تاثر نے جہاں ہماری معزز عدلیہ کی ساکھ کو شدید ضعف پہنچایا ہے، تو وہیں عین ممکن ہے کہ ایک خاص سیاسی خاندان کے مقدمات میں

Read more

تعلیم، تدبر اور توازن ( 2 ) ۔

سپریم کورٹ سے فیصلہ آنے کے دو چار روز بعد تک سکوت کا سا عالم رہا۔ انگریزی اخبار نے بھی فیصلے کو ’سرپرائز‘ قرار دیتے ہوئے محض ایک اداریہ لکھنے پر اکتفا کیا۔ وکلاء اور صحافیوں کی دو ایک تنظیموں کے چند عہدیداروں نے آئین اور قانون کی سربلندی کے عزم کا اظہار کیا۔ تاہم وہ ولولہ، وہ جشن کا سا سماں جو عزت مآب افتخار چوہدری کی بحالی پر دیکھنے میں آیا تھا، اس بار اس کا عشر عشیر بھی ہمیں دیکھنے کو نہیں ملا۔ ایسے مواقع پر اچانک سے سوشل میڈیا پر جو گھڑی گھڑائی پوسٹیں راتوں رات گردش میں آجاتی ہیں، پراسرار طور پر وہ بھی دیکھنے کو نہ ملیں۔ بس گھٹی گھٹی کچھ سرگوشیاں تھیں۔ اس بحر سکوت میں تلاطم بالآخر عزت مآب چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ کے ان ریمارکس نے پیدا کیا جن کی گونج سرحد پار تک سنی گئی۔

اپنے ایک گزشتہ کالم میں، جو کہ قومی اسمبلی میں جناب شاہد خاقان عباسی کے نامناسب رویے کے تناظر میں لکھا گیا تھا، صراحت کے ساتھ عرض کیا تھا کہ مذکورہ مضمون میں قائد اعظم کا موازنہ عصر حاضر کے کسی سیاست دان سے کرنا ہر گز مقصود نہیں۔ اگرچہ میرے پڑھنے والوں میں سے اکثر نے اس کے باوجود بیزاری کا اظہار فرمایا، تاہم گزشتہ دنوں رونما ہونے والے چند واقعات کو مدنظر رکھتے ہوئے ضروری ہے کہ گزشتہ مضمون سے وہی اقتباس یہاں ایک بار پھر دہرایا جائے۔ ایک بار پھر عرض ہے کہ میرے پیش نظر اس بار بھی کوئی موازنہ مقصود نہیں۔

Read more

انتشار میں جو اپنی بقاء دیکھتے ہیں

کوئی پینتیس سال پہلے کوئٹہ کے جاڑوں میں 25 کیولری (Men of Steel) میں پوسٹ کمیشن اٹیچمنٹ کے دوران یونٹ لائبریری سے ”فار پویلین“ نامی ایک ناول ہاتھ لگا تھا۔ چند صفحے پڑھے تو انیسویں صدی کی برٹش انڈین آرمی کے ایک کیولری کپتان کی سحر انگیز کہانی دل میں اترتی چلی گئی۔ کتاب کا محض دھندلا سا خاکہ اب ذہن میں باقی بچا ہے۔ اگلے روز ناول میں مذکور ایک واقعہ مگر بوجہ یاد آ گیا۔

شمال مغربی سرحد پر تعینات ایک سنتری نے رات کے اندھیرے میں ایک مشکوک ہیولا اپنی طرف بڑھتے ہوئے دیکھا تو اسے مخصوص عسکری انداز میں للکارا۔ خبردار کیے جانے کے باوجود ہیولا بڑھتا چلا آیا تو سنتری تو اس پر فائر داغ دیا۔ صبح پتہ چلا کہ سنتری نے اپنی ہی کمپنی کے صوبیدار کو دشمن سمجھ کر اس پر گولی چلائی تھی، جو خوش قسمتی سے محفوظ رہا۔ سنتری کو 28 دن قید بامشقت سزا سنائی گئی۔ سات دن اپنے ہی ساتھی پر گولی چلانے اور بقیہ 21 دن بری نشانہ بازی (Bad Marksmanship) پر۔

Read more

مطالعہ، تدبر اور توازن

شاہد خاقان عباسی نے قومی اسمبلی کے چھ سپیکرز کے ساتھ کام کیا ہے۔ کہتے ہیں اسد قیصر پہلے سپیکر ہیں جو انہیں پسند نہیں ہیں۔ غالباً اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ عباسی صاحب کے سیاسی کیریئر میں اسد قیصر پہلے سپیکر ہیں جن کا تعلق دو بڑی روایتی سیاسی پارٹیوں سے نہیں۔ تادم تحریر، عباسی صاحب اپنے رویے پر شرمسار نہیں۔ ایک رائے ہے کہ ایک سابق وزیر اعظم سے ایسے رویے کی توقع نہیں کی جا سکتی۔ تاہم ایک اور رائے ہے کہ عباسی صاحب اپنے بل بوتے پر وزیراعظم بنتے تو پہلی رائے میں ضرور کچھ وزن ہوتا۔

کچھ لوگوں کی رائے تو یہ بھی ہے کہ اپنے بل بوتے پر عباسی صاحب وزیراعظم صرف اس صورت ہی بن سکتے تھے اگر وہ رکن اسمبلی اپنے زور بازو پر بنے ہوتے۔ عباسی صاحب کی رائے مگر یہ ہے کہ سپیکر کو جوتا مارنے جیسی حرکتیں پوری دنیا کی پارلیمنٹس میں ہوتی رہتی ہے۔ یقیناً یہ کہنا بھول گئے کہ سبھی پارلیمنٹیرینز ایسے نہیں ہوتے!

Read more

انتہاپسندی: سوات سے لبیک تک

آئے روز چوک چوراہوں پر قبضہ جمائے سرکاری و شخصی املاک کے جلاؤ، گھیراؤ کے ذریعے کاروبار زندگی کو مفلوج کر کے رکھ دینے والے جنونی جتھوں کو اس امر سے کوئی غرض نہیں کہ راستے روکنے والوں پر دین کیا حکم لگاتا ہے۔ کیا طالبان نے سروں کو قلم کرنے کے جواز نہیں ڈھونڈ رکھے تھے؟ طالبان کو جو بھی کہیں، اپنی نص شریعت سے ڈھونڈتے تھے۔ شریعت کی تعبیر میں اختلاف ضرور ہو سکتا ہے، لیکن حوالہ قرآن و سنت کا ہی دیتے تھے۔

چنانچہ اچھے خاصے معتبر نام اگر قاتلوں کی سر عام حمایت نہیں توواضح الفاظ میں مذمت بھی نہیں کرتے تھے۔ پاکستان کی شاہراہوں، سڑکوں، چوراہوں پر جن جتھوں سے ہمیں اب واسطہ پڑا ہے، وہ ان دلائل کا تکلف بھی روا نہیں رکھتے۔ بے گناہ شہریوں کو بیوی بچوں سمیت شاہراہوں پر یرغمال بنا کر ان کی گاڑیوں پر ڈنڈے برساتے فلک شگاف نعرے لگاتے ہیں۔

Read more

وبا کا موسم ایک نعمت بھی ہے!

ہمارے ہاں شادی بیاہ کی بے جا رسومات کے لئے اکثر ہندو مت کو مورد الزام ٹھہرایا جاتا ہے۔ ہم میں سے اکثر ان قباحتوں کو برا جانتے ہیں تاہم اپنی باری آنے پر کوئی ان سے جان چھڑانے کے لئے تیار نہیں ہوتا۔ ایک اندازے کے مطابق مڈل کلاس پاکستانی گھرانوں میں عام درجے کی ایک شادی پر لڑکی والے قیمتی عروسی جوڑوں، زیورات اور جہیز میں دیے جانے والے سامان پر اوسطاً پچاس لاکھ روپے تک خرچ کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ دونوں طرف بارات اور ولیمے کی مد میں اوسطاً دس سے بیس لاکھ روپے درکار ہوتے ہیں۔

ہمارے دین میں جہیز اور بارات جیسی تقریبات کا کوئی تصور موجود نہیں۔ ہر خاص و عام کے علم میں ہے کہ انہی خرافات کی بناء پر ہمارے معاشرے میں بیٹیوں کو بوجھ سمجھا جاتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ بیٹی کی پیدائش سے ماں باپ کے کندھے جھک جاتے ہیں۔ بہت سی دیگر معاشرتی وجوہات اپنی جگہ تاہم اس بوجھ کی بنیادی نوعیت معاشی ہی ہے۔

Read more

ہمارے ’بھگت سنگھ‘ چاہتے کیا ہیں!

سوشل میڈیا پر کئی انتہا پسند گروہ (cult) سرگرم عمل دیکھے جا سکتے ہیں۔ ستر کی دہائی میں ہپیوں کا ایک گروہ (cult) بہت مشہور ہوا تھا۔ ’فری میسنز‘ کے نام سے ایک محدود ممبر شپ والی تنظیم کے بارے میں عجیب و غریب باتیں کہی جاتی ہیں۔ مغرب میں تمام تر آزادیوں کے باوجود ایک انتہا پسند گروہ کے خواتین و حضرات شہر کی سڑکوں پر وقتاً فوقتاً سرعام برہنہ پریڈ کر کے آج بھی اپنے نظریات کا اظہار

Read more

لیفٹیننٹ طیب شہید۔ ایک اور گمنام سپاہی

اپنے بیشتر ہم عصر ساتھیوں کی طرح مجھے بھی پاکستان کے سابقہ قبائلی علاقہ جات میں دہشت گردوں کے خلاف تقریباً دو عشروں پر محیط جنگ کا حصہ بننے اور عزم و یقین سے آراستہ لازوال قربانیوں کے ان گنت ناقابل فراموش واقعات کو قریب سے دیکھنے کا موقع ملا ہے۔

22 مارچ نوجوان لیفٹیننٹ طیب کی شہادت کا دن ہے۔ آج سے سترہ سال پہلے جنوبی وزیرستان کے مقام سروکئی پر پاک فوج کے اس بائیس سالہ افسر نے اپنے کئی ساتھیوں سمیت جانبازی کی ایسی ہی ایک داستان اپنے خون سے لکھی تھی۔

Read more

کیا انتشار ہی ہمارا مقدر ہے؟

وطن عزیز میں سیاسی تناؤ عروج پر ہے۔ اندازہ یہی ہے کہ سیاسی خاندان انتشار اور بے یقینی کی فضا میں ہی اپنی بقا دیکھ رہے ہیں۔

یہ درست ہے کہ پی ڈی ایم میں شامل تمام جماعتیں نظام لپیٹے جانے کی آرزو مند نہیں۔ تاہم دونوں جماعتوں کی اقتدار میں واپسی کے راستے میں اداروں کو رکاوٹ سمجھا جا رہا ہے۔ ماضی میں بڑی سیاسی جماعتیں اداروں کے ساتھ تعلقات میں اونچ نیچ کے باوجود کش مکش کو اپنی باری کی امید پر عشروں سے متعین حدود میں رکھتے ہوئے آئی ہیں۔ اس بار صورتحال مختلف یوں ہے کہ اتحاد میں شامل دونوں بڑی جماعتوں کی قیادت کو بیک وقت مالی کرپشن کے بظاہر ناقابل تردید الزامات کی صورت میں زندگی یا موت کا سا معاملہ در پیش ہے۔

Read more

کیا ہم ناکام ہو چکے ہیں؟

ادھر جب کہ سینٹ آف پاکستان کے انتخابات میں ووٹنگ جاری تھی تو ادھر ٹی وی پر کئی سینئر تجزیہ کار گھنٹوں بیٹھے ہمیں آپ کو جمہوریت کے فوائد بتاتے رہے۔ مچھروں کو بیٹھے چھانتے رہے، مگر ایک شب پہلے منظر عام پر آنے والی صاحبزادے کی ویڈیوز کو اونٹوں کی صورت نگلتے رہے۔ بتایا جاتا ہے کہ رات گئے صاحبزادہ زرداری صاحب کے عشائیے میں شریک تھا۔ کسی نے مگر ہمیں یہ نہیں بتایا کہ پکڑے جانے پر شرمسار تھا۔ نتیجے کا اعلان ہوتے ہی کئی ایک اینکر پرسنز کے بس میں اگر ہوتا تو ٹی وی سکرینیں پھاڑ کر باہر ہی نکل آتے۔ کئی ایک تو فرط جذبات سے چیخ اٹھے، ’یہ جمہوریت کی فتح ہے، یہ سیاست کی فتح ہے‘ ۔ بولے، برطانیہ میں یوں حکومتی امیدوار ہار جاتا تو وزیر اعظم کھڑے کھڑے مستعفی ہو جاتا۔ یہ نہیں بتایا کہ اگر برطانوی وزیر اعظم کی بیوی کے گلے میں آفت زدوں کی امداد کے لئے عطیہ کیا ہوا ہار دیکھا گیا ہوتا تو وزیر اعظم کا رد عمل کیا ہوتا! معاشرے کا رد عمل کیا ہوتا!

Read more

صورت حال تشویش ناک ہے!

خود کو مظلوم سمجھنے میں پاکستانی کسی سے کم نہیں۔ کسی ایک فرد، کسی خاندان، کسی ایک ادارے یا پھرکسی خاص قومیت کو ہی اپنے ہر دکھ اور اپنی ہر محرومی کے لئے ذمہ دار ٹھہراتے ہیں۔ خود احتسابی سے مگر کام نہیں لیتے۔ مزاجاً جذباتی، خود پسند اور ہر چھوٹی بڑی بات پر مشتعل ہو جاتے ہیں۔ یہی عمومی رویہ سیاسی مزاج میں بھی جھلکتا ہے۔ سوشل میڈیا کے آنے سے پاکستانیوں کی خوب بن آئی ہے۔ گالم گلوچ

Read more

سکھوں کی ’ٹرین ٹو پاکستان‘ ، جو چھوٹ گئی

23 مارچ 1940 کو مسلم اکثریتی علاقوں پر مشتمل خود مختار ریاستوں کے قیام کی قرارداد پیش کی گئی تو منصوبے میں انسانی ہجرت کا تصور موجود نہیں تھا۔ ’قرارداد لاہور‘ سے تقریباً دو ہفتے بعد سکھوں نے بھی کانگرس کی ہم نوائی میں متحدہ ہندوستان اور بصورت دیگر مذہب کی بنیاد پر پنجاب میں الگ سکھ ریاست کے قیام کا مطالبہ کر دیا۔

مارچ 1947 تک پنجاب کے دیگر علاقوں کی طرح راولپنڈی شہر میں بھی مذہبی قومیتوں کے باہمی تعلقات میں شدید تناؤ آ چکا تھا۔ 6 سے 13 مارچ کے درمیان کہوٹہ کے نواح میں سکھ آبادی والے دیہات فسادات کی لپیٹ میں آ گئے۔ اسی دوران ہزارہ سے نکالے گئے سکھوں کے قافلے بھی مشرقی پنجاب پہنچے تو پنجاب کی تقسیم آسمان پر صاف لکھی نظر آنے لگی۔

Read more

ہمیں سیاست میں نہ گھسیٹا جائے!

ایک اہم پریس کانفرنس کے ذریعے سیاست دانوں سے درخواست کی گئی ہے کہ فوج کو سیاست میں نہ گھسیٹا جائے۔ کچھ سیاسی نابالغ الٹا جلسے جلوسوں میں غیر سنجیدہ تبصرے کر رہے ہیں۔ وطن عزیز میں سول ملٹری تعلقات میں عدم توازن اور اس کے نتیجے میں آنکھ مچولی روز اول سے جاری ہے۔ اس الزام میں وزن ہونے کے باوجود کہ کئی مواقع پر فوجی سربراہوں نے اس عدم توازن کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنی حدود سے تجاوز

Read more

تدبر بھی کیا تو نے؟

مولانا فضل الرحمن نے اعلان کیا ہے کہ ان کی لڑائی اداروں کے ساتھ نہیں۔ انہوں نے تو یہ تک کہہ دیا ہے کہ ادارے ہمارے اپنے ہیں، بھارتی تو نہیں۔ اور یہ کہ گلہ گزاری اپنوں سے ہوتی ہے غیروں سے نہیں۔ بس ا سی بات پر سب ہنگامہ ہے۔ نیم وا کھڑکیوں کے ساتھ کان لگائے، دروازوں کے پیچھے دم سادھے، مولانا کے خاکی پوش جتھوں سے امیدیں وابستہ کیے، ہمارے لبرل انتہا پسند اب مولانا کو آڑے

Read more

جنرل باجوہ کا ’برنچ‘ اور مریم نواز کی ویڈیو کال!

چند روز قبل سوشل میڈیا پر ایک میسج زیرگردش تھا کہ جس کے مطابق گزشتہ اتوار اسلام آباد کلب کے لان میں جب ’الیٹ‘ ممبران دھوپ سینکتے اپنی فیملیز کے ہمراہ ’برنچ‘ میں مگن تھے تو کسی ایک اہم شخصیت کی متوقع آمد کے پیش نظر کلب سٹاف یکایک متحرک ہو گیا اور دیکھتے ہی دیکھتے لان میں کچھ افراد کے لئے سکیورٹی سکرینوں کے اندر خصوصی نشت بچھانے کا اہتمام شروع ہو گیا۔ بارہ بجے کے لگ بھگ چیف

Read more

72 لانگ کورس کے بشیرالدین کے آخری تین دن!

10 جنوری کی صبح 72 پی ایم اے لانگ کورس والوں کے گروپ میں لیفٹینٹ کرنل بشیر الدین اورکزئی نے سی ایم ایچ پشاور میں آکسیجن ماسک چڑھائے اپنی تصویر پوسٹ کی۔ تصویر کے نیچے پشتو میں لکھا تھا ’آخر ہم بھی تختے پر لیٹ گیا‘ ۔ منہ پر چڑھے ماسک کے کونوں سے ’بشیرا‘ کی مخصوص مسکراہٹ چھن چھن چھلک رہی تھی۔ 19 جنوری کو جنرل طیب اعظم، (جنہیں آئی جی ایف سی، کے پی کے تعینات ہونے پر

Read more

یہی ہے زندگی، کچھ خواب چند امیدیں!

مشرف صاحب کا سورج غروب ہوا تو وہ پاکستانی معاشرہ جو کچھ عشروں قبل، ’دائیں‘ اور ’بائیں‘ کی نظریاتی تقسیم پر استوار تھا، اس کے اندر اب ایک نئی صف بندی کے خدوخال ابھرنا شروع ہو چکے تھے۔ نظریاتی نہیں، بلکہ عالمی، علاقائی اور شخصی مفادات کی بنیادوں پر پاکستانی معاشرہ ایک نئے طور پرتقسیم ہو چکا تھا۔ لکیر کے ایک طرف طاقتور اسٹیبلشمنٹ، تو دوسری طرف روایتی سیاسی جماعتوں کے ساتھ ساتھ انتہاپسند مذہبی تنظیموں اور کسی زمانے میں بائیں بازو وابستہ رہنے والے مگر دور حاضر کے ’جمہوریت پسند لبرلز‘ کا اتحاد تھا۔ زندگی کے ہر شعبے، بالخصوص انصاف کے سیکٹر اور میڈیا میں ان کے ہم خیالوں کی اندھی حمایت انہیں دستیاب تھی۔

Read more

کریمہ بلوچ کی موت اور ٹویٹر ٹرینڈ

سوشل میڈیا پر بدزبانی، کردار کشی اور مہم جوئی اب کوئی اچنبھے کی بات نہیں۔ اس باب میں ٹویٹر من حیث القوم ہمارے عدم برداشت پر مبنی رویوں کا بھرپور عکاس ہے۔ بے شمار گمنام اکاؤنٹس صبح و شام حالت جنگ میں رہتے ہیں۔ سیاسی پارٹیوں کے جتھے ہیں جو ایک دوسرے پر ہمہ وقت حملہ آور دیکھے جا سکتے ہیں۔ اکثر سطحی جملے بازی اور ذاتیات پر مبنی دشنام طرازی ہی دیکھنے کو ملتی ہے۔ افسوس مگر اس وقت ہوتا ہے جب اچھے خاصے قد کاٹھ کی شخصیات نفرت اور بے جا تعصب میں ڈوب کر اچانک کہیں سے نمودار ہو جانے والے ”ٹرینڈ“ کی رو میں خشک تنکوں کی طرح بہہ نکلتی ہیں۔

Read more

نواز شریف پر لکھا گیا ایک مضمون

یہاں کسی کی ذات کو زیر بحث لانا ہر گز مقصود نہیں تھا، لیکن میاں نواز شریف پاکستان کی سیاسی تاریخ کا ایک ایسا کردار ہیں جنہیں یوں نظر انداز کرنا ممکن نہیں۔ میاں صاحب گزشتہ چالیس سالوں میں وطن عزیز کو در پیش ہر بحرانی صورت حال کا مرکزی اور مستقل کردار رہے ہیں۔ آج قوم ایک بار پھر گرداب میں ہے اور میاں صاحب اپنے سامنے موجود ہر شے کو تہہ و بالا کرنے پر تلے ہیں۔

سنہ اسی کی دہائی کے کسی پہلے سال اپنے زیر تعمیر مکان پر کھڑے جنرل جیلانی لاہوری صنعت کار کے نوجوان بیٹے سے یوں متاثر ہوئے کہ اسے سیاست کے لئے مانگ لیا۔ شہباز شریف مگر خاندان کے کاروباری معاملات کے نگران تھے۔ باپ نے عرض کی کہ بڑا بیٹا حاضر ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ نواز شریف اپنی معمولی صلاحیتوں کی بنا پر خاندانی کاروبار کا محض شعبہ تعلقات عامہ دیکھتے تھے۔

اداکاری کا شوق چرایا تو فلمسٹار رنگیلا کے حوالے کر دیا گیا۔ کچھ ہی روز میں معذرت کے ساتھ لوٹا دیا گیا۔ کرکٹ کوچ کا بندوبست کیا گیا تو جسمانی سستی آڑے آئی۔ پولیس کی وردی پہننے کو جی مچلا تو والد نے جنرل جیلانی سے ہی درخواست کر کے کچھ دن کے لئے آپ کو محکمہ سول ڈیفنس میں سیکٹر کمانڈر لگوا دیا۔ کسے خبر تھی کہ پنجاب کے وزیر خزانہ کی حیثیت سے اقتدار کی راہداریوں میں قدم رکھنے والا ’بھولا بھالا‘ نوجوان آنے والے عشروں میں پاکستانی سیاست کے خدو خال بدل کر رکھ دے گا۔

Read more

اردو سروس کے لئے پیمانہ مختلف کیوں ہے

مجھے یقین ہے کہ یہ محض ایک اتفاق ہے کہ پشاور جلسے کے اگلے روز پاکستانی لبرلز کے ترجمان انگریزی اخبار نے جو سرخی جمائی، وہی الفاظ برطانوی نشریاتی ادارے کی اردو سروس میں اس سے اگلے روز اسی جلسے سے متعلق شائع ہونے والی خصوصی سٹوری کا بھی عنوان تھے۔ ہر دو نے کٹھ پتلی حکومت (Puppet Rule) کو ہٹائے جانے کے پی ڈی ایم کے مطالبے کو جلی حروف میں نمایاں کیا۔ دونوں معتبر صحافتی اداروں سے متعلق مجھے تو کوئی خاص بدگمانی نہیں، تاہم سوشل میڈیا صارفین بالخصوص ٹویٹر استعمال کرنے والے پاکستانیوں نے برطانوی نشریاتی ادارے کو خوب آڑے ہاتھوں لیا۔

Read more

جسے چاہیں اسے نواز دیں

اعتزاز احسن کا خیال ہے کہ بر صغیر کا وہ علاقہ جسے آج پاکستان کہا جاتا ہے، تہذیبی طور پر کبھی بھی ہندوستان کا حصہ نہیں رہا۔ ’انڈس ساگا‘ نامی اپنی کتاب میں، شمال میں واقع گورداسپور اور جنوب میں کاٹھیا وار کو ملا کر کھینچی گئی لکیر کے جنوب مشرق میں واقع خطے کو وہ ’انڈیا‘ جبکہ شمال مغرب میں موجودہ پاکستان کو وہ ’انڈس‘ کے نام سے یاد کرتے ہیں۔ اعتزاز صاحب کے خیال میں، بعد از مسیح ابتدائی صدیوں کے دوران مشرقی حصے میں جہاں بادشاہت کا نظام رائج تھا تو اس کے برعکس انڈس چھوٹی چھوٹی نسبتاً جمہوری مزاج رکھنے والے ریاستوں پر مبنی تھا۔

انڈیا میں ذات پات پر مبنی سخت گیر مذہبی نظام استوار تھا تو انڈس وسط ایشیائی معتدل مزاج تہذیب کے ساتھ جڑا ہوا تھا۔ انڈیا برہمن راج کی گرفت میں تھا تو انڈس محبت اور امن کا پیغام بکھیرنے والے صوفیوں کی سر زمین تھا۔ دریائے سندھ کے کنارے پر ہی صدیوں پہلے شمالی دروں سے امنڈنے والے رشیوں نے وید لکھے تھے۔ سکھوں کے گرو نانک نے بھی پانچ دریاؤں کی زمین پر جنم لیا اور اسی خطے میں امن و آشتی کا پیغام پھیلایا۔ اعتزاز احسن کا خیال ہے کہ انڈس میں ’انڈیا‘ کی نسبت برداشت اور رواداری کا نظام استوار رہا ہے۔ چنانچہ آج کے پاکستان کو صدیوں قدیم انڈس کی تہذیبی وراثت کا ہی امین ہونا چاہیے۔

Read more

’میتھڈ اداکاروں‘ کی نہیں، سیاستدانوں کی ضرورت ہے!

نواز شریف صاحب کے خلاف فیصلہ لکھتے ہوئے سپریم کورٹ نے سسیلین مافیا کا ذکر کیا تو ’گاڈ فادر‘ نامی ناول پاکستان میں زبان زد عام ہو گیا۔ اسی ناول پر بننے والی فلم میں مافیا ڈان کا کردار مارلن برانڈو نے ادا کیا۔ درجنوں شہرہ آفاق فلموں میں کئی لازوال کردار ادا کرنے کے باوجود مارلن برانڈو کو بنیادی طور پر ڈان کورلیان کے کردارکے حوالے سے ہی جانا جاتا ہے۔ بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ فرانسس فورڈ

Read more

پاک فوج کے ’جذباتی‘ افسر

بریگیڈئیر صاحب اور میں ایک دوسرے کو اس وقت سے جانتے ہیں جب ہماری مسیں بھی نہیں بھیگی تھیں۔ بذلہ سنج اور زندہ دل۔ حیران کن حد تک نڈر اور راست گو۔ ہیرے کی طرح بے داغ۔ کئی سالوں بعد باجوڑ ایجنسی جب ہمارے ہاتھوں سے تقریباً نکل چکی تھی تو سفاک دہشت گردوں کے گھیرے میں آئے ہوئے دستوں کی قیادت کرتے ہوئے آپ اور اس کے ساتھیوں نے جانیں ہتھیلیوں پر رکھیں اور کچھ ہی ہفتوں میں کایا پلٹ دی۔ کچھ عرصہ گزرا تو آپ کی تعیناتی باجوڑ سے کسی اور مقام پر ہو گئی۔

قبائلیوں کے دلوں میں مگر وہ ہمیشہ کے لئے بس کر رہ گئے۔ دہشت گرد بھی انہیں لیکن نہیں بھولے تھے۔ کئی سالوں کے بعد جب ہم دونوں ایک بار پھر منگلا کور میں اکٹھے ہوئے تو بریگیڈئیر صاحب تب بھی دہشت گردوں کی ہٹ لسٹ پر تھے۔ ذکر ہوتا تو سگریٹ کا گہرا کش لیتے او ر اپنے مخصوص انداز میں ہنس دیتے۔ ریٹائر منٹ کے بعد جب ایک اہم ادارے میں ذمہ داری انجام دے رہے تھے تو سپریم کورٹ کے حکم پر فوج کے دو نمائندے پاناما جے آئی ٹی میں شامل کیے گئے۔ بریگیڈئیر صاحب ان دو ارکان میں سے ایک تھے۔

Read more

یہ جو خاکی وردی ہے!

چند روز قبل لاہور میں ایک نام نہاد ’فورس‘ کی بنیاد رکھے جانے کی تقریب کے دوران کارندوں کے ایک ٹولے کی طرف سے لگائے گئے زہر آلود نعروں اور ان پر خاتون کی معنی خیز خاموشی مجھے وزیرستان میں گزرے ماہ و سال میں لے گئی۔ ساڑھے تین سال اوروں کی طرح میرے بھی دل و جان پر گزرے تھے۔ خون میں لت پت درجنوں وردیوں کو میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے، اپنے ہاتھوں سے چھوا ہے۔

Read more

شاید کہ اتر جائے تیرے دل میں میری بات!

وہ شخص کہ پہچان جس کی قومی اسمبلی میں منافرت پر مبنی احمقانہ تقریریں اور آئے روز کی بے ہودہ نعرے بازی ہو، قائد کے مزار پر اس سے ہلڑ بازی کے سوا اور کیا امید کی جا سکتی تھی۔ نظر انداز کر دینا ہی بہترتھا، تاہم درخواست جب دائر ہو گئی تو سندھ پولیس مقدمے کے اندراج سے انکاری کیوں رہی؟ شاید حکومت سندھ کے لئے قانون کی عملداری نہیں، شاہی خاندان کے ہاں شاہی مہمانوں کی مہمان نوازی

Read more

نواز شریف سے جیتنا آسان نہیں!

اپنی نوجوانی میں میاں صاحب زندگی کے ہر شعبے میں ناکام ہوتے ہوئے نظر آئے تو والد صاحب نے انہیں جنرل جیلانی کے حوالے کر دیا۔ وہ دن اور آج کا دن وطن عزیز میں آئے روز پیدا ہونے والی ہر ہیجانی صورت حال کے اندر میاں صاحب کو ایک دائمی فریق کی حیثیت حاصل رہی ہے۔ میاں صاحب کہ جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ پرچی کے بغیر ایک جملہ ٹھیک سے نہیں بول سکتے، آدھے صفحے سے زیادہ جو تحریر پر توجہ مرکوز رکھنے کی صلاحیت سے عاری ہیں، انہی میاں صاحب نے بڑے بڑے طاقتورافراد کو ان کے مقتدر اداروں سمیت کم و بیش تین عشروں سے آگے لگا رکھا ہے۔

جنرل مشرف کو میاں صاحب کس طرح جل دینے میں کامیاب ہوئے، یہ قصہ ابھی کل کی بات ہے۔ پچھلے برس کے کسی مہینے، جسٹس کھوسہ نے جیل میں بندشدید ذہنی دباؤ کے شکار قیدی کو اسی قدر شدید انسانی ہمدردی کے جذبات سے مغلوب ہو کر کچھ ہفتے گھر گزارنے کی انوکھی رعایت عطا کی تھی۔ رہائی ملی تو عام خیال یہی تھا کہ قیدی عافیت پا کر گھر میں سستاتا ہوگا۔ کسے معلوم تھا کہ ضمانت پر رہائی کے انہی دنوں، قیدی کو سزا سنانے والے جج سے جاتی عمرہ میں معاملات طے پا رہے تھے۔

Read more

سانحہ بلدیہ فیکٹری اور فوجی عدالت کی کچھ پرانی یادیں

سال 1998 کے اختتام کے آس پاس جب نواز شریف حکومت میر شکیل الرحمن صاحب سے الجھی ہوئی تھی، تو لاہور میں واقع ان کی ایک رہائش گاہ کو پی ٹی وی پر بار بار دکھایا جاتا تھا۔ اگر میرا اندازہ درست ہے تو شاید یہ وہی رہائش گاہ ہے جس کے لیے مبینہ طور پر کچھ سرکاری زمین قواعد کی خلاف ورزی کرتے ہوئے میر صاحب کو الاٹ کی گئی تھی اور جس کی بنا پر اب ایک فریق حوالات میں اور دوسرا نیب کو مطلوب ہے۔ جمہوریت پسند اپنے تئیں بجا طور پر سراپا احتجاج ہیں۔

سال 1998 کے انہی دنوں، سندھ کے اندر خصوصی فوجی عدالتوں کے قیام کا حکم آیا تھا۔ ایک سیاسی جماعت سے وابستہ افراد سنگین جرائم اور دہشت گردی کے الزامات میں پکڑے جاتے اور عدم شواہد کی بنا پر بری یا رہا ہو جاتے۔ جرائم دن دیہاڑے اور کھلم کھلا سر زد ہوتے مگر گواہی کے لیے سامنے آنے کو کوئی تیار نہ ہوتا۔ دوسری صورت میں عدالتیں شواہد موجود ہونے کے باوجود خطرناک مجرموں کے خلاف کوئی فیصلہ کرنے سے خود کو قاصر پاتیں۔ ملزمان دوبارہ سرگرم ہو جاتے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ارکان عبرتناک انجام کو پہنچتے۔ خصوصی فوجی عدالتوں کے قیام کا فیصلہ اسی پس منظر میں کیا گیا تھا۔

Read more

ایک گمنام سپاہی کی یاد میں

سال 2001 ء کے وسط میں ’ثلاثین بٹالین‘ کی کمان سنبھالنے کے بعد ’پکٹ ڈویژن‘ کی نسبت سے میں نے یونٹ کو ’پکٹ ویلز‘ کا نام دینے کی کوشش کی۔ کچھ نام، کچھ چہرے اور چند قصے مگر انسانوں کی شریانوں میں خون بن کر دوڑتے رہتے ہیں۔ نہ تو بدلے جا سکتے ہیں، نہ بھلائے جا سکتے ہیں۔

ثلاثین بٹالین کھاریاں چھاؤنی میں تعینات تھی۔ کیپٹن سلطان اکبر خان سال 1969 ء میں یونٹ کا حصہ بنے۔ چھ فٹ قد، چوڑے شانے، کھلتا گورا رنگ۔ خوش مزاج کشمیری النسل نوجوان افسر جلد ہی یونٹ کے افسروں اور جوانوں میں گھل مل گیا۔ کیپٹن آفتاب بٹ اور سلطان اکبر خان کی دوستی کا آغاز بھی یہیں سے ہوا تھا۔ دونوں نے انفنٹری سکول کوئٹہ میں پہلا کورس بھی اکٹھے کیا۔ آفتاب بٹ نے 235 نوجوان افسروں کے کورس میں شوٹنگ ٹرافی جیتی، تو قوی الجثہ سلطان اکبر نے اسالٹ کورس کی سات فٹ اونچی دیوار پھلانگتے ہوئے گرا دی۔

جون 1970 ء میں ثلاثین بٹالین کی ایک کمپنی کے لئے مشرقی پاکستان تعیناتی کا حکم جاری ہوا تو مشرقی پاکستان کی فضاء بے اطمینانی، شکوک و شبہات اور بے یقینی سے لبریز تھی۔ ملک میں عام انتخابات کے بعد حالات مزید بگڑے تو سال 1971 ء کے اوائل میں پورے ڈویژن کو مشرقی پاکستان منتقلی کا حکم مل گیا۔ دونوں نوجوان افسر تیزی سے بدلتے حالات اور ان کے پس پردہ سیاسی حرکیات سے لاتعلق تھے۔ دونوں افسران نے اپنے پیاروں سے عجلت میں رخصت لی، سامان باندھا اور یونٹ کے ہمراہ بذریعہ ٹرین کراچی پہنچے۔ ہزاروں میل کے فاصلے پر ملک کے مشرقی بازو کا صدر مقام ثلاثین بٹالین کی اگلی منزل تھی۔

Read more

جنگ ابھی جاری ہے!

جنرل عاصم سلیم باجوہ گزشتہ ہفتہ دس دنوں سے ایک بے نامی ویب سائٹ پر نشر ہونے والی سٹوری کے نشانہ پر رہے ہیں۔ نشر ہونے والی سٹوری تو احمد نورانی کی تھی مگر بھارت میں بیٹھے میجر گورو آریا اپنی جگہ پرخاصے پر جوش رہے۔ اپنے ویڈیو بیان میں انہوں نے جنرل باجوہ کی بیرون ملک جائیدادوں کی مزید تفصیلات جلد لانے کا وعدہ کیا ہے۔ میجر صاحب ہی کی طرح کئی ایسے اور نام بھی سوشل میڈیا پر

Read more

چار ہزار سال سے بھٹکتی آتماؤں کی نحوست!

ہزاروں سال قبل مسیح، وادیٔ سندھ میں آباد جس قوم کے نشان ملتے ہیں، اس کے مذہبی عقائد سے متعلق معلومات ناکافی ہیں۔ شمال مغرب دروں سے اترنے والوں نے ہی غالباً ان مقامیوں کا کام تمام کیا اور پھر ہمالیہ کے دامن اور سندھو دریا کے کنارے بیٹھ کر وید لکھے۔

ہندو دھرم کو پہلا صدمہ تب پہنچا جب عظیم اشوکا نے بدھ مت کا چولا پہنا، تلوار پھینکی اور انسانوں سے روا داری کا معاملہ کرنے لگا۔ برہمنوں کو اقتدار واپس ملا تو بدھ مت کے ماننے والوں کی شامت بن آئی۔ قدیم وید لکھنے والے رشیوں نے اہنسا کا چولا اتار پھینکا اور ہندوستان کی دھرتی بے گناہ انسانوں کے خون سے رنگ دی۔

Read more

مختار مسعود، کمپنی بہادر اور برصغیر کے مسلمانوں کا تعلیمی سفر

نو آبادیاتی دور میں محکوم قوموں کے لوٹے ہوئے مادی و مالی وسائل کا موجودہ عالمی طاقتوں کی بے پناہ ترقی میں کلیدی کردار ہے۔ ہندوستان میں ٹیکسٹائل انڈسٹری کی حوصلہ شکنی اور یہاں سے منتقل کیا جانے والا خام مال تاج برطانیہ کے صنعتی انقلاب اور کسی حد تک ہماری پستی کی بنیادوں میں شامل ہے۔ ’آواز دوست‘ والے مختار مسعود، تین خصوصیات کی بناء پر برصغیر میں برطانوی سامراج کو تاریخ اقوام عالم کا منفردسیاسی تجربہ قرار دیتے

Read more

برٹش انڈین آرمی سے اکیسویں صدی کی پاکستان آرمی تک!

میں کسی ادارے کا ترجمان نہیں ہوں، اس لئے میں نہیں جانتا کہ ادارہ کیا سوچ رہا ہے۔ میں تو ایک از کار رفتہ سپاہی ہوں، اپنے جیسوں کے ساتھ رہتا ہوں۔ اسی لئے جانتا ہوں کہ کراچی کی صورت حال پر شدید بے چینی کے باوجود شہر کی صفائی ستھرائی فوج کے حوالے کیے جانے پر مجھ جیسے خوش نہیں ہیں۔ پوچھا جا رہا ہے یہ فوج کے کرنے کے کام ہیں تو سندھ حکومت کس کام کے لئے ہے۔

بیسویں صدی عیسوی کے آغاز کے ساتھ ہی برٹش انڈین آرمی کی تنظیم نو کی گئی تو ملک کے طول و عرض میں پھیلی یونٹوں کو سمیٹ کر گیریژنز میں تعینات کرنے کا فیصلہ ہوا۔ آرمی کا دفاعی رخ شمال مغربی سرحد اور اس سے ملحقہ قبائلی علاقوں کی طرف تھا۔ اسی ضرورت کے مدنظر کنٹونمنٹ تعمیر کئے گئے۔ شہری آبادیوں سے قدرے فاصلے پر قائم کی گئی چھاؤنیاں ارد گرد دھول اڑاتے ویرانوں میں شاداب جزیروں کی طرح ہوتیں، جن کے مکینوں کا سیاست اور سول معاملات سمیت، سویلین آبادیوں سے رابطہ نہ ہونے کے برابر رہتا۔

برٹش انڈین آرمی کے لئے برطانیہ سے آنے والے افسران متوسط طبقے سے تعلق رکھتے اور خالصتاً میرٹ پر منتخب کیے جاتے، جو خاندانی حسب و نسب پر کنگز کمیشن پانے والے برطانوی رؤساء کے بچوں کے بر عکس کہیں بہتر پیشہ وارانہ کار کردگی کا مظاہرہ کرتے۔ متوسط گھرانوں کے ان بچوں کے لئے کمیشن لینے کے بعد

Read more

قائد اعظم سے پوچھا گیا ہردیت سنگھ ملک کا سوال

24 مارچ 1940 ء کو مسلم اکثریتی علاقوں پر مشتمل مسلمانوں کے لئے الگ ریاستوں کے قیام کی قراداد منظور کی گئی تو اس کے تقریباً دو ہفتے بعدسکھوں نے بھی اسی اصول کے تحت پنجاب میں سکھ ریاست کے قیام کا مطالبہ کر دیا۔ کانگرس تو متحدہ ہندوستان کی حامی تھی، البتہ مسلم لیگ نے سکھوں کو یقین دلایا کہ پنجاب میں بسنے والے تمام لوگ بلا تفریق مذہب و نسل پنجابی ہیں، لہٰذہ متحدہ پنجاب کی پاکستان میں

Read more

ایک بے ہودہ موضوع اور دو سینئر تجزیہ کاروں کا تذکرہ!

عباس ناصر صاحب ڈان اخبار کے سابق ایڈیٹر اور آج کل اسی اخبار میں ہفتہ وار مضمون لکھتے ہیں۔ اعزاز سید بھی روز نامہ جنگ میں لکھتے ہیں۔ میں ان دونوں نامورتجزیہ کاروں کو اکثر دلچسپی سے پڑھتا ہوں۔ چار ہزار سال قبل وادی سندھ میں آباد قدیم باشندوں کے مذہب کے بارے میں کوئی خاص معلومات نہیں ہیں، تاہم ہڑپہ کے مقام سے ایک ایسی مہر برآمد ہوئی ہے جس پر ایک برہنہ دیوی کی تصویر ہے جس کے

Read more

پینتیس سال قبل لکھا گیا تجزیہ، خدا کرے آج درست نہ ہو!

جسٹس قاضی فائز عیسٰی کیس کے فیصلے کے بعد ہمارے قومی مزاج میں پائی جانے والی قبائلی عصبیت، اس عصبیت سے جذباتی لگاؤ، اور اس بے لچک لگاؤکے نتیجے میں پھوٹنے والے انتہا پسندانہ رویے ایک بار پھر طشت از بام ہیں۔ گزشتہ کئی سالوں سے بظاہر دائیں اور بائیں بازو کی نظریاتی تقسیم کسی نا کسی طرح آپس میں گڈ مڈ ہوکر معدوم ہو چکی ہے۔ کش مکش اب دو معاشرتی طبقات میں برپا ہے۔ ایک طبقہ متوسط اور

Read more

وبا کا اداس موسم، کچھ یادیں، کچھ پچھتاوے

کچھ جی کے بہلانے کو، اور کچھ پیش بندی کے طور پر گھر کے کونے کھدروں، میز کی درازوں، بریف کیس اور لیپ ٹاپ کو کھنگالنا شروع کیا ہے۔ وبا کی اس اداس کر دینے والی شب کے اندر تاریک کونے کھدروں میں بہت کچھ ہے کہ جس کو ٹھکانے لگانا ضروری ہے۔ ریحام خان کی خود نوشت کو کئی ماہ پہلے ڈاؤن لوڈ کیا تھا، ابتدائی چالیس پچاس صفحات کے بعد مشقت کی مزید ہمت نہ ہوئی۔ اگرچہ وہ مواد کہ جس نے خود نوشت کو شہرت بخشی، اس کے بارے میں تجسس برقرار رہا اس بیچ مگر کچھ خفت، کچھ بے زاری اور کچھ احساس زیاں نے آن لیا۔ منٹو نے جج صاحب سے درخواست کی تھی کہ فحش نگاری کا الزام اس پر دھرنے کی بجائے ان سے سوال کیا جائے جو مذہبی کتابوں سے بھی لذت کشید کرتے ہیں۔

جنرل ضیا کے مارشل لا کا غالباً پہلا سال تھا کہ ایک مذہبی جماعت نے جوش صاحب کی ’یادوں کی بارات‘ کو فحش کتاب قرار دے کر اس پر پابندی عائد کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ میری عمر یہی کوئی تیرہ چودہ برس تھی۔ اخبار میں کتاب سے لے کر کچھ اقتباسات چھاپے گئے تھے۔ وہ فقرے یا الفاظ جو ناقابل بیان سمجھے گئے، ان کو نقطوں کے ذریعے دکھایا گیا تھا۔ انگریزی محاورے کے مطابق، نقطوں کو ملانے کے لئے ضخیم کتاب میں نے چند ہی روز میں اول سے آخر تک پڑھ ڈالی۔ جوش صاحب کے پے در پے، یکسانیت کے شکار اور بظاہر بے ضرر معاشقوں سے حاصل ہونے والی شدید مایوسی کے علاوہ، مجھے تو اس کتاب سے کچھ ہاتھ نہ آیا۔

Read more

کرونا سے نہیں، کرونا میں مرنے سے ڈر لگتا ہے

افتاد سر پر آن پڑے، تو اللہ کی کائنات میں چھپے اسرار و رموز سے بیگانہ رہ کر زندگی بسر کرنے والوں کے لئے ’سازشی تھیوریوں‘ کی خود ساختہ دنیا ہی دائمی پنا ہ گا ہ ہوتی ہے۔ آج بھی ایسے لوگوں کی کمی نہیں، جو نائن الیون حملوں کو عربی نژاد حملہ آوروں اور ان کے پیچھے القاعدہ کی کارفرمائی کو تسلیم نہیں کرتے۔ سینکڑوں تاویلیں ہیں کہ جن میں ان حملوں کے پس پشت یہودی سازش اب بھی سر فہرست ہے۔ کرونا وبا کے پیچھے بھی بہت سوں کو یہودی ہاتھ ہی نظر آ رہا ہے۔

Read more

’ناتھو رام گوڈسے‘ کی راکھ اب کہاں ہے؟

تہتر سال پہلے، 15 اگست 1947 ء کی شام، نیو دہلی کے ایک میدان میں لاکھوں ہندوستانی امڈ آئے تھے۔ ہندوستان کے نئے گورنر جنرل لارڈ ماؤنٹ بیٹن نے ایک شاندار تقریب میں نہرو کے ساتھ مل کر ترنگا لہرانا تھا۔ تقریب کی تفصیلات کو گورنر جنرل نے خو د بہت باریک بینی اور بے حد اشتیاق سے ترتیب دیا تھا۔ وائسرائے کی گارڈز کی نئے جھنڈے اور آزاد ملک کے وزیر اعظم کو سلامی کے علاوہ فوجی بینڈ کا شاندار مظاہرہ دیکھنے کے لئے پچاس ہزار کے لگ بھگ لوگوں کی آمد متوقع تھی۔

Read more

کیا زمانے میں پنپنے کی یہی باتیں ہیں!

انیسویں صدی عیسوی کے دوران کہ تینوں ابراہیمی مذاہب کے ماننے والے ابھی اپنے اپنے مسیحا کی راہ تک ہی رہے تھے کہ برصغیر سے ایک ہندوستانی نے مہدی اورمسیح موعود ہونے کا دعویٰ داغ دیا۔ مرزا غلام احمد کا اصرار تھا کہ مسیحؑ وفات پاچکے اور وادی کشمیر میں کہیں مدفون ہیں۔ لہذا عیسائیوں اورمسلمانوں کے لئے کسی مسیحا کا مزید انتظار بے سود ہے۔ مسلمانوں اور عیسائیوں نے بیک وقت اس دعویٰ کورد کردیا۔ لندن میں چرچ نے

Read more

ہنری چہارم کا ننگے پاؤں سفر، اور وزیراعظم پاکستان کا سوال!

ہمارے جلیل القدر علما کی اکثریت ہر تاریخی موڑپر انگریزی محاورے کے مطابق تاریخ کی غلط سمت میں ہی کھڑی نظر آئی ہے۔ قائد اعظم کی قیادت میں ہندوستان کے مسلمانوں کی ایک آزاد مملکت کے لئے برپا کی گئی عہد ساز تحریک ہو، جنرل ضیا الحق کے دور میں دوررس فیصلے کرنے کا وقت ہو، یا پھرجنرل مشرف کے دور میں ریاست کا دہشت گردی کے خلاف لڑنے کا فیصلہ، علما کی اکثریت بالعموم حالات کا صحیح ادراک کر

Read more

خدا کی دلچسپی کا سامان کچھ اور ہے!

سبھی جانتے ہیں کہ پاکستانیوں کا شمار دنیا میں سب سے کم ٹیکس دینے والی قوموں میں ہوتا ہے۔ خیرات مگر بڑھ چڑھ کر دیتے ہیں۔ ٹیکس کا بنیادی تصور اسلام میں زکوٰۃ و عشر کی شکل میں روزِ اوّل سے موجود رہا ہے کہ جس کے تحت معاشرے کے خوشحال افراد اپنی آمدنی کے تناسب سے حکومت کے خزانے میں ایک متعین حصہ جمع کرواتے ہیں۔ اس آمدن سے ہی حکومتِ وقت دیگر امور سلطنت چلانے کے ساتھ ساتھ

Read more

حامد میر کا ’جارجیا‘ اور انیق ناجی کا مضمون!

22 مارچ کو ایک ٹی وی پروگرام میں سینئر صحافی حامد میر بتا رہے تھے کہ گزشتہ شب اسلام آباد میں ایک اہم مغربی سفارت خانے سے 75 افراد کو ایک سپیشل فلائٹ کے ذریعے پاکستان سے نکال کر ’قریب ترین سٹیشن جارجیا‘ میں منتقل کر دیاگیا ہے۔ حامد صاحب کے مطابق اس غیر معمولی واقعہ کی وجہ سفارت خانے کو ملنے والی وہ اطلاع تھی کہ جس کے مطابق چند ہی دنوں کے اندر اسلام آباد میں کرونا وائرس کی تیز رفتار ’سپائک‘ آنے والی ہے۔

ایمانداری کی بات ہے کہ ایک انتہائی باخبر صحافی کے منہ سے دل دہلا دینے والی خبر سن کر ایک دفعہ تومیں خود بھی سہم گیا تھا۔ خدا کا شکر کہ اگلی صبح ڈان اخبار کے صفحہ اوّل پرتفصیل چھپی کہ کرونا کی پھیلتی وبا کے پیشِ نظر دنیا بھر سے ان امریکی سفارتکاروں اور ان کے خاندانوں کو واپس بلایا جا رہا ہے جو ازخود واپس گھروں کو لوٹنے کے خواہش مند ہوں۔ چنانچہ پاکستان سے بھی 75 امریکیوں کو خصوصی طیارے کے ذریعے واپس امریکہ لے جایا گیا تھا۔

Read more

یہ عذاب نہیں، سنتِ الہٰی کا معاملہ ہے!

1918 ء میں انفلوئنزا خاندان کے ہی ایک وائرس نے دنیا کو اپنی لپیٹ میں لیا تو پچاس کروڑ متاثرین میں سے پانچ کروڑ کے لگ بھگ جان کی بازی ہار گئے۔ انسانی تاریخ کی اس مہلک ترین وباء کو ’سپینش فلو‘ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ کرونا وائرس کو اس کے پھیلاؤ کی رفتار اور ممکنہ اثرات کی بناء پر ’سپینش فلو‘ سے ملایا جا رہا ہے۔ عام طور پر انفلوئنزا کا شکارکم سن بچے اور ادھیڑعمر

Read more

’عورت مارچ‘ کے بعد!

کئی روز سے دھول اڑاتی ٹولیاں اور قافلے گھروں کو لوٹ چکے۔ عورت مارچ والوں کا مقصداگر تو شور شرابہ ہی تھا تو یہ کہنے میں کوئی حرج نہیں کہ وہ خوب زور سے بولے۔ 8 مارچ کے دن مگرخاموش دوسرے بھی نہیں رہے۔ ایک طرف ڈھول کی تھاپ پرمزاحمتی ترانے تو دوسری طرف ’حیامارچ‘ سے اٹھنے والے ایمان افروزنعرے۔ بے چاری پاکستانی بیبیاں سارا دن گھروں میں دبکی رہیں۔ کم از کم اسلام آباد میں لال مسجد والے بھی

Read more

یہ نہیں کہ مجھے روم سے محبت ہے، میں سیزر سے بیزار ہوں!

خلیل الرحمن قمر صاحب ہمارے معاشرے کا ایک عام کردار ہیں۔ وہی کردار کہ جس کی نمو صدیوں پر محیط ہے۔ موقع بہ موقع دین اور مشرقی اقدار کی ڈھال کے پیچھے چھپنے والا۔ بات بات پر حوالہ جو سرکارِ دو عالمؐ کی عورتوں کے احترام میں بچھائی گئی چادر کا دیتا ہے، روّیے جس کے مگر فاتح سلطانوں والے ہوں۔ طاقتور کے سامنے سر جھکانے اور خود سے کمزور کے سامنے پھن پھیلائے پھنکارنے والا۔ کسی بھی معاشرے کی

Read more

27 فروری: میری اداس نسل کے مسکرانے کو اِک بہانہ ہے!

27 فروری کو ملک میں ’یومِ عزم‘ منایا گیا ہے۔ پچھلے سال اسی دن ہم نے بھارتی طیارے مار گرائے اور ان میں سے ایک کے پائلٹ کو گرفتار کیا۔ سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ اس دن جشن منانے کا کوئی جواز ہے بھی کہ نہیں! میں کہ اس باب میں سنجیدہ روّیوں کے حق میں ہوں، ’یومِ عزم‘ کی صورت مگر چار عشروں کی قومی اداسی سے نکلنے کے لئے تنکے کا سہارا ڈھونڈتا ہوں۔ چار عشرے قبل

Read more

بارے کچھ بیان پاکستانی پختونوں کا!

جنگل میں شیر کا بیٹا قتل کی اندھی واردات میں مارا گیا تو شک کی بنیاد پر کئی ایک طاقتوروں کو دھر لیا گیا۔ اسی ایف آئی آر میں کہیں سے ایک چوہیا کا نام بھی شامل ہو گیا۔ اب جب کہ سب نامزد ملزمان اپنی اپنی صفائیاں دیتے چھپتے پھرتے، چوہیا مگر سینہ پھلائے ہر ایک کو بتاتی پائی گئی کہ اس کا نام بھی مشکوک قاتلوں کی فہرست میں شامل ہے۔ یہ اس لطیفے کا خلاصہ ہے جسے

Read more

جب پاکستان کے دارالحکومت میں ایک بھی سینما گھر نہیں تھا!

نوے کی دہائی کے کسی سال، ایک معروف خاتون صحافی نے ’انڈیا ٹوڈے‘ میں پاکستان یاترا کے بعد لکھا تھاکہ پاکستان ملک نہیں، انتہا پسندوں کا معاشرہ ہے۔ اقلیتوں پرظلم ڈھانے والے ہمہ وقت تشدد پر آمادہ لوگ۔ جہاں جہادی تنظیمیں سرِ عام چندہ جمع کرتی ہیں۔ محلوں میں، بازاروں میں جہادی لشکروں کے ناموں سے بھرے جانے والے ڈبے، نا معلوم لوگ آتے اور خالی کر کے لے جاتے ہیں۔ اسی مضمون میں بھارتی خاتون نے جھرجھری بھرتے ہوئے پوچھا تھا، ’یہ کیسا ملک ہے کہ جس کے دارالحکومت میں ایک بھی سینما گھر نہیں! ‘ کم وبیش بیس پچیس سال گزر گئے، مضمون نگار کا نام تو مجھے یاد نہیں رہا مگر آخری فقرہ میرے دماغ کے اندر آج بھی چپکا ہے۔

Read more

تم پرچم لہرانا ساتھی، میں بربط پر گاؤں گا

سال گزشتہ کے وسط میں جب جنرل باجوہ کی مدت ملازمت میں توسیع کاتحریری اعلان کیا گیا تو کسی قابل تذکرہ سیاسی رہنماء، پارٹی یا مفاد عامہ سے متعلق گروہ کی جانب سے اعتراض یا احتجاج کا حرف سننے میں نہیں آیا تھا۔ حتیٰ کہ مولانا فضل الرحمن جو کہ اُن دنوں ہمہ وقت عالم طیش میں پائے جاتے تھے، ایک ’سرکاری ملازم‘ کی مدت ملازمت کے سوال کو معمول کی کارروائی قرار دے کر اہمیت نہ دینے کی نصیحت

Read more

لانگ لیو، سیونٹی سیکنڈ پی ایم اے لانگ کورس!

فوجی میسوں کے اندر تقریبات، بالخصوص عشائیے، متانت ووقاراور نظم وترتیب کا دلکش مگر تکلف بھرا امتزاج ہوتی ہیں۔ ڈنر نائٹس (Dinner Nights) قدیم آداب و روایات کے تحت برپا کی جاتی ہیں۔ پاکستان ملٹری اکیڈمی میں آمد کے پہلے ہی روز ’زیرو کٹ‘ حجامت کے علاوہ نووارد کیڈٹس کو جن آفات سے فوری واسطہ پڑتا ہے ان میں میس اور بالخصوص ٹیبل مینرز (Manners) سرفہرست ہیں۔ اکیڈمی میں پہلی ہی رات شہری، دیہاتی اور مختلف معاشی ومعاشرتی پس منظر

Read more

جنسی تشدد اور آزادیٔ صحافت، دو الگ الگ معاملات ہیں!

پاکستان کے باصلاحیت فلم ساز جامی آزاد نے ملک کے سب سے طاقت ور میڈیا ہاؤس کے مالک پر سنگین الزام عائد کرتے ہوئے بظاہر اپنا کیریئر داؤ پر لگادیا ہے۔ جامی 1998 ء میں امریکہ سے فلم سازی میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے بعد وطن واپس لوٹے۔ مستقبل پر نظریں جمائے نوخیزتخلیق کارکوایک ’میڈیا ٹائیکون‘ کی عقابی نظروں نے بھانپا تو نوجوان جامی کو بہت جلد اس با اثر شخص کی قربت دستیاب ہو گئی۔ ایک معروف عالمی

Read more

قرونِ وسطٰی میں جینے والا قبائلی معاشرہ!

ڈی جی آئی ایس پی آر نے تفصیلی فیصلہ جاری ہونے کے بعد ایک پریس کانفرنس میں ادارے کے خلاف جاری منظم مہم، اس کے پیچھے کارفرما بیرونی و اندرونی قوتوں، اور ان قوتوں کے مقامی آلہ کاروں سے مکمل آگاہی رکھنے کا دعوٰی کیا ہے۔ اسی شام حکومتی زعماء نے اداروں کے مابین تصادم کی شکل میں حکومت کو غیر مستحکم کرنے کی سازش کرنے والوں کو خبردار کیا۔ اگلے ہی روز اپنے اعزاز میں فل کورٹ ریفرنس کے

Read more

 ماہرِ معیشت عاطف میاں کو ایک ’غیر معاشی‘ مشورہ!

عاطف میاں نامی ایک ماہرِ معاشیات کا مضمون نیویارک ٹائمز میں چھپا ہے۔ فاضل مضمون نگار موجودہ حکومت کی طرف سے منتخب کردہ ان ماہرین میں شامل تھے کہ جنہوں نے ہمیں در پیش معاشی مشکلات سے نکلنے کے لئے اپنی ماہرانہ آراء سے فیض یاب کرنا تھا۔ تاہم ہم نے موصوف کے انتخاب کو بوجوہ رد کردیا تھا۔ اب نوبت کیا یہاں تک آن پہنچی کہ غیر مسلم ہمیں مشوروں سے نوازیں گے؟ ابتدائی برسوں میں قائداعظم کے وزیرخارجہ

Read more

’ انصاف کے سیکٹر‘ کوبھی غیر سیاسی ہونا چاہیے!

انگریزی اخبار نے سرخی جمائی۔ ”سپریم کورٹ کی تاریخی جنگ کے لیے تیاری“۔ ملک میں ہیجانی کیفیت طاری تھی تودوروز تک معرکے کی ولولہ انگیزرپورٹیں اور آتشیں مضامین اخبارات کی زینت بنتے رہے۔ مخصوص ٹی وی چینلز کی تو جیسے چاندی ہو گئی ہو۔ ایک طرف سپریم کورٹ تو دوسری طرف اسلام آباد ہائی کورٹ میں جاری سماعتوں سے بیک وقت اٹھائے گئے ریمارکس اپنے مخصوص عدالتی رپورٹرز کی چیختی آوازوں میں سنا سنا کر ان چینلز نے ہمیں آن

Read more

ایک ہی سوراخ سے ڈسے جانے کا لطف

مولانا فضل الرحمن کا دھرنا جاری ہے، مجھے اس سے کوئی غرض نہیں کہ وہ دھرنے کے مقاصد حاصل کرپائیں گے یا کہ نہیں۔ میں اس بحث میں بھی الجھنے کوتیار نہیں کہ دھرنے کے احداف کی قانونی، اخلاقی اور سیاسی حیثیت کیا ہے۔ مجھے یہ جاننے میں کوئی دلچسپی نہیں کہ موجودہ دھرنا 2014 ء کے دھرنے سے کیونکر مختلف ہے۔ میں تو میلوں کوسوں دور سے ہانک کر لائے گئے لشکر کو دیکھتا ہوں۔ دانشوورں کو جب کہتے

Read more

ایک اور ’لشکر‘ کا سامنا تھا منیر مجھ کو!

7 مارچ 1977 ء کی شام پھیلتے اندھیرے میں ہمارے گھر کے پاس والے پولنگ سٹیشن پر انتخابی نتیجے کا اعلان ہوا تو خرم دستگیر کے والد خان غلام دستگیر خان، پی این اے کی ٹکٹ پر فاتح قرار پائے۔ نتیجہ سنتے ہی ایک منڈھی مونچھوں اور لمبی داڑھی والا شخص بازو فضا میں لہرا کر دھاڑا، ’ہن ساریاں شراباں تے سینمے بند، ملک وچ اسلامی نظام آئے گا۔ ‘ (اب یہاں شراب نوشی ممنوع اور سارے سینما گھر بند

Read more

دھرنے کا منظر: دھرنے کے بعد کیا ہو گا

اس امر میں کوئی شک نہیں کہ جہاں عمران خان کے رومانس میں مبتلا، اب بھی ان سے امیدیں وابستہ کئے پاکستانی بے شمار ہیں، تو وہیں ان سے بے پناہ نفرت کرنے والوں کی بھی کمی نہیں۔ ہر دوگروہوں کے رویے بظاہر عمران خان کی شخصیت، مگر درحقیقت کچھ دیگر عوامل کی بنا پر نمو پاتے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ عمران خان کے ارد گرد نسبتاً پڑھی لکھی مڈل کلاس پر مشتمل ان کی جماعت کی حیثیت ایک

Read more

اکتوبر 2005ء… نورخان ایئر بیس سے

چودہ سال قبل ماہ رمضان کے ابتدائی دنوں میں آٹھ بجکر پچاس منٹ پر زمین تھرتھرائی تو سحری کے بعد کی گہری نیند میں ڈوبے لاکھوں پاکستانیوں کی طرح ہم بھی ہڑ بڑا کر اٹھ بیٹھے۔ میں نے پہلو میں پڑی دو سالہ بیٹی کو بازوؤں میں لپیٹا اور سوتے جاگتے میں مکان سے باہر کو لپکا۔ ننگے پاؤں لان میں کھڑے ہوکر دیکھا تو عمارت اب بھی لرز رہی تھی۔ فضا میں عجب ہیبت طاری تھی۔ اوسان بحال ہوئے

Read more

سچن ملہوترہ کی پیشن گوئیاں اور عمران خان کا مستقبل!

سچن ملہوترا ایک معروف بھارتی آسٹرولوجسٹ ہیں۔ 18 اگست 2018 ء میں منعقدہ تقریبِ حلف برداری کو انہوں نے اپنے علم کی کسوٹی پر پرکھا اور نتائج کی روشنی میں اپنی آراء حسب معمول ایک اورمضمون میں مرتب کی ہیں۔ سچن کا کہنا ہے کہ ملکی وسائل کی کمیابی کی بناء پر اپنائی گئی سادگی اور بدعنوانی کے مرتکب سابقہ حکمرانوں کے خلاف عمران خان کے اقدامات ان کی پیشن گوئیوں کے عین مطابق ہیں۔ سچن کا خیال ہے کہ آنے والے سالوں میں وزیراعظم عمران خان تاریخ کے سب سے کامیاب، قابلِ احترام اور دوراندیش پاکستانی رہنما ثابت ہوں گے۔

اس دوران وہ اپنے انتظامی، معاشی اور احتسابی اقدامات کو پورے پانچ سال پر پھیلانے میں بھی کامیاب رہیں گے۔ اپنے عرصہ اقتدار میں ان کو ملک کی طاقتور اسٹیبلشمنٹ کی غیر مشروط حمایت حاصل رہے گی۔ سچن کے تجزیے کے عین مطابق وہ تمام سیاسی پارٹیاں کہ جن کے خلاف عمران خان انتخابات میں دھاندلی کے نام پر احتجاج کرتے رہے، اگرچہ وہ سب کی سب اب ان کے خلاف صف آراء ہیں، تاہم سال 2021 ء کے بعد بلاول بھٹو ہی عمران خان کے سامنے موثر مزاحمت کرنے والے واحد رہنما کے طور پر رہ جائیں گے۔

Read more

جنرل لِدھر سے جنرل بپن رَوت تک۔ بھارتیوں سے متعلق چند یادیں

میں ان چندپاکستانی فوجی افسروں میں سے ہوں جنہیں بھارتی فوج کے ساتھ بہت قریب سے کام کرنے کا موقع ملا۔ چنانچہ میں بھارتیوں کے عمومی رویوں، عادات اور مزاج سے قدرے واقف ہوں۔

صدیوں کی غلامی، غربت اور ذلت کے بعد حال ہی میں دستیاب مالی آسودگی میں پلنے بڑھنے والی متوسط طبقے سے وابستہ بھارتی نسل اسی خمار و تکبر میں مبتلا ہے جو ہمارے مشرقی معاشروں میں نو دولتیوں سے وابستہ ہے۔

Read more

گیس ٹیکس کی واپسی: شاہد خاقان عباسی اور عمران خان کے فیصلے

فرمایا۔ بنو انصاف کی گواہی دینے والے کہ لوگوں کی عداوت تمھیں بے انصافی پر آمادہ نہ کردے۔ فرمایا سچ میں نجات اور جھوٹ میں ہلاکت ہے۔ وطنِ عزیز میں کہ روّیے بغض، عناد اور بے انصافی پر مبنی ہو چکے۔ جھوٹ سے کراہت مٹ چکی۔ معاشرہ گروہوں میں بری طرح تقسیم ہے۔ افراتفری کاعالم ہے کہ کھلی آنکھوں سے حقیقت کو دیکھتے ہیں مگر اپنے اپنے گروہی حصاروں میں ڈٹے کھڑے ہیں کہ یہی اب وفاداری اور بہادری کا پیمانہ ٹھہرا۔

Read more

کرۂ ارض اور سورج کے ٹکرانے سے پہلے!

ڈاکٹر فاسٹس کی قدیم المیہ جرمن لوک داستانوں میں کرہ ارض کی پیدائشکی بنیادی وجہ آسمانوں پر فرشتوں کے غول در غول کی ناختم ہونے والی بے لوث عبادت سے خدا کی اکتاہٹ بیان کی گئی ہے۔ آخر خدا نے بھی تو ان فرشتوں کو ہر نعمت سے نواز رکھا تھا۔ چنانچہ ابدی یکسانیت سے نجات کے لئے خدا نے فیصلہ کیا کہ کیوں نا ایک کھیل کھیلا جائے۔ چنانچہ اس نے حکم دیا کہ کائنات کی اتھاہ گہرائیوں میں بے مقصد گھومنے والے آگ کے گولے کو ٹھنڈا کر کے اس کے اوپر ایک ایسی مخلوق آباد کی جائے کہ جسے عقل ودیعت کر کے آزمایا جائے کہ وہ زمین پر تمام تر افتاد اورآزمائشوں کے باوجود بھی اس کا شکر بجا لاتی ہے یا کہ نہیں!

Read more

’جمہوری لبرلز‘ کی خدمت میں ایک عامی کی گزارشات

سوال یہ نہیں کہ وطن ِ عزیز میں لوگوں کو انصاف مل رہا ہے یا نہیں، معاملہ یہ ہے کہ لوگوں کے دلوں سے انصاف اٹھ چکا ہے۔ جس طرح کفر کی حکومت تو قائم رہ سکتی ہے مگر وہ کہ جو ظلم پر استوار ہو، اسے قرار ممکن نہیں۔ بالکل اسی طرح وہ معاشرہ کہ جہاں انفرادی اور معاشرتی معاملات پر انصاف برتنے کی صلاحیت اور جھوٹ سے نفرت مٹ جائے تو اس کے لوگوں کے نصیب میں بھی دن رات چھینا جھپٹی، رونا دھونا اور چیخ پکار ہی رہ جاتے ہیں۔

Read more

طویل تعطیلات، بے ترتیب ورق گردانی اور بکھرے خیالات

عید کی طویل چھٹیاں گزارنا میرے جیسے تنہائی پسند شخص کے لیے بھی د و بھر ہو کر رہ گیا۔ ارادہ تھا کہ ان دنوں میں کچھ یادداشتیں قلم بند کرنے کی کوشش کروں گا۔ مودی نے مگر سب کچھ تلپٹ کر کے رکھ چھوڑا ہے۔ مقبوضہ کشمیر کے انسانوں پر بیتنے والے گزشتہ دس انسانیت سوز دنوں پر لکھنا چاہتا ہوں مگر لکھ نہیں پا رہا۔ ساری عمر لفٹینی میں پہلے پروموشن ایگزیمنیشن سے لے کر عشروں پر محیط چائے کے وقفوں، فارمیشن لیول پر منعقدہ سیمیناروں، مباحشوں اور تربیتی کورسز میں کشمیر کو لگاتار پڑھا۔

Read more

چالیس سفید ریشوں کی خلیفہ کے دربار میں شہادت!

مسلمانوں کی اکثریت بالعموم چار خلفائے راشدین کے نام سے واقف ہے۔ تاہم مسلم اکابرین کی ایک بڑی تعداد بنو امیّہ خاندان کے آٹھویں خلیفہ حضرت عمر بن عبدالعزیز کو بھی راشد خلیفہ کے طور پر دیکھتی ہے۔ آپ کی والدہ حضرت عمر بن خطابؓ کی پوتی تھیں۔ فاروقِ اعظمؓ اکثر فرماتے کہ میری اولاد میں سے ایک شخص ابھرے گا جو زمین کو عدل و انصاف سے بھر دے گا۔ بنی امیّہ کے بانوے سالہ دورِملوکیت میں حضرت عمر بن عبدالعزیز کا دور، آمریت کی طویل صدی میں ڈھائی سالہ فقرو درویشی پر مبنی خلافت کا ایسا زمانہ سمجھا جاتا ہے کہ جس نے خلفائے راشدین کی یاد تازہ کر دی ہو۔

Read more

استاد کو یہ مقام تو اٹلی میں بھی حاصل نہیں!

جیسا کہ کسی گزشتہ مضمون میں میں نے عرض کیا تھا کہ بچپن میں مجھے بھی کسی اخبار یارسالے کا مدیر بننے کا شوق لاحق تھا۔ میری والدہ مرحومہ مگر چاہتی تھیں کہ میں ڈاکٹر یا انجینئر بنوں۔ آٹھویں جماعت میں جب پیچیدہ سائنسی مضامین سے واسطہ پڑا تو میرا ہاتھ تعلیمی کاکردگی میں تنگ پڑنے لگا! ستر کے عشرے میں عطا محمد اسلامیہ ہائی سکول گوجرانوالہ میں داخلہ حاصل کرنا بڑے اعزاز کی بات سمجھا جاتا تھا۔ قبل از قیامِ پاکستان رئیسانِ شہر کی غیر سرکاری انجمن کے تحت قائم شدہ ہمارا سکول پر شکوہ تاریخی عمارت اور شاندار تعلیمی رکارڈ کے حامل ادارے کے طور پر جانا جاتا تھا۔

Read more