وہ راتوں رات سٹار بننا چاہتی تھی

کشف جب سلمان ظہور کے دفتر میں داخل ہوئی تو وہ اپنے دل کو سینے میں دھڑکتے ہوئے واضح طور پر محسوس کر رہی تھی۔ کتنی مشکلوں کے بعد یہ گھڑی آئی تھی کہ ملک کے نامور فلم ڈائریکٹر کے پاس آڈیشن کے لیے آنے کا موقع ملا تھا۔ سلمان ظہور اسے دیکھتے ہی مسکرا اٹھا۔ اس کی عمر پچاس برس کے لگ بھگ تھی۔ جسم قدرے بھاری تھا۔ سر کے بال اڑ چکے تھے۔ چہرے پر نمایاں ترین چیز اس کی بڑی بڑی مونچھیں تھیں جو آدھی سفید ہو چکی تھیں۔

Read more

کوئی موڈ ہو تو بتائیں صاحب!

گھر سے نکلتے ہی اندازہ ہو گیا تھا کہ کوئی گڑ بڑ ہے۔ کار کا اے سی کولنگ چھوڑ رہا تھا۔ پھر جب پیشانی پر پسینے کے قطرے نمودار ہونے لگے تو میں نے گاڑی کے شیشے کھول دیے۔ باہر سے گرم ہوا اندر آئی تو چودہ طبق روشن ہو گئے۔ دوپہر ایک بجے کا وقت تھا۔ سورج آگ برسا رہا تھا۔ میں نے گاڑی کا رخ کھڈا مارکیٹ کی طرف موڑ دیا، سوچا کہ باقی کام بعد میں ہوتے

Read more

باپ، بیٹا اور مایا کی محبت

”میں شادی کرنا چاہتا ہوں“
طویل تمہید کے بعد جب بنٹی تقریباً تنگ آ چکا تھا تب بالآخر احمد جمال کے منہ سے یہ جملہ نکلا۔ بنٹی حیران تھا کہ اس کے باپ کو کیا ہوا ہے، اس کا باپ احمد جمال خوش شکل تھا اور متناسب جسم کا مالک تھا۔ اس کی عمر تقریباً پینتالیس برس تھی مگر دیکھنے میں پینتیس کا لگتا تھا۔ چہرے پر گھنی کالی مونچھیں تھیں اور بال کنپٹیوں پر سفید ہو چکے تھے تاہم یہ برے نہیں لگتے تھے بلکہ وہ گریس فل دکھائی دیتا تھا۔

Read more

چاندی کا جادو اور پرہیز گار محلے دار

”زاہد! مجھے مارکیٹ تک چھوڑدو گے؟ “

ایک لمحے کے لیے تو زاہد کی سمجھ میں نہ آیا کہ کیا کہے۔ سوچ رہا تھا یہ کس مصیبت میں پھنس گیا۔ کاش میں اس وقت گھر سے نکلا ہی نہ ہوتا یا پھر جب چاندی نے رکنے کا اشارہ کیا تھا تو موٹر سائیکل کو بریک نہ لگاتا بعد میں کہہ دیتا کہ میں نے دیکھا نہیں تھا لیکن میں ایسی باتیں کیوں سوچ رہا ہوں صاف صاف انکار کر دینا چاہیے۔ ”سوری! مجھے دیر ہو رہی ہے۔ “ اس نے لڑکھڑاتے ہوئے لہجے میں کہا۔ جسے جھوٹ بولنے کی عادت نہ ہو اس کے لیے چھوٹا سا جھوٹ بولنا بھی کتنا مشکل ہوتا ہے۔

”دیر کیسے ہو گی؟ تم نے ابھی بتایا ناں کہ تم گھنٹہ گھر چوک جا رہے ہو حسین آگاہی بازار تو راستے میں آئے گا۔ چلو تھوڑا آگے ہو جاؤ کہیں تمہیں دیر نہ ہو جائے۔ “ چاندی بڑی بے تکلفی سے اس کے پیچھے بیٹھ گئی۔ زاہد نے جلدی سے موٹر سائکل آگے بڑھا دی کہ کہیں محلے والے اسے دیکھ نہ لیں۔ راستے میں سوچ رہا تھا کہ مروت بھی بڑی بری شے ہے۔ ابھی اس نے تھوڑا سا فاصلہ ہی طے کیا تھا کہ چاندی نے اس کے اور اپنے درمیان فاصلہ ختم کر دیا۔ اس کی کمر سے چپکا نرم گرم وجود اس کے حواس پر بری طرح اثر انداز ہو رہا تھا، پیشانی پر پسینے کے قطرے نمودار ہونے لگے تھے اور وہ یہ کہنے کی جرات نہ کر پا رہا تھا کہ ذرا ہوا کو تو گزرنے دو۔

Read more

یاسر حسین اور اقرا عزیز، تم نے بہت غلط کیا

ایوارڈ تقریب جاری تھی ایسے میں اداکار، رائٹر اور اینکر یاسر حسین نے اداکارہ اقرا عزیز کو پروپوز کر ڈالا، باقاعدہ گھٹنوں پر جھکتے ہوئے پوچھا کہ کیا تم مجھ سے شادی کرو گی؟ اقرا عزیز نے انگوٹھی قبول کر کے رضا مندی ظاہر کر دی۔ یاسر حسین نے ہاں کرنے پر فرطِ جذبات میں اقرا کو چوم لیا۔ وہاں موجود لوگوں نے خوش ہو کر تالیاں بجا دیں۔ وہیں بیٹھے ہوئے پاکستانی سینما کے لیجنڈ ندیم بیگ نے بھی مسکراتے ہوئے یاسر حسین کو گلے لگا کر مبارک باد دی۔

Read more

آپ کو عوام نے سلیکٹ کیا ہے

محترم وزیرِاعظم صاحب! میں آپ کا ان دنوں سے فین ہوں جب پی ٹی آئی کو تانگہ پارٹی کہا جاتا تھا۔ اب پارٹی ’عوام ایکسپریس‘ بن چکی ہے جس پر اسٹیشن پر پہنچنے سے ذرا پہلے دوسری ریل گاڑیوں کی سواریاں بھی بھاگ بھاگ کر سوار ہو گئیں۔ اپوزیشن کو مگر یہ کامیابی ذرا نہ بھائی اور آپ کو سلیکٹڈ کہہ کر چھیڑنا شروع کر دیا۔ دکھ تو اس بات کا ہے کہ آپ نے چڑ کر پارلیمنٹ میں مذکورہ

Read more

عورت کو مشین سمجھنے والو! وہ بھی انسان ہے

آج سے سترہ برس پیشتر میں نے اسے پہلی بار دیکھا تھا۔ وہ نظریں جھکائے کسی شرمیلی دلہن کی طرح بیٹھا تھا۔ رات کے نو بج رہے تھے اور عموماً اس وقت تک مریض بہت کم رہ جاتے تھے لیکن اس روز ڈاکٹر شیخ کے کلینک پر رش کچھ زیادہ تھا۔ ڈاکٹر کے کمرے میں بیک وقت چار پانچ مریض بیٹھے ہوتے تھے۔ وہ باری باری چیک اپ کرواتے اور پرچی بنوا کر باہر نکلتے جاتے۔ باہر کمپاؤنڈر دوا دے

Read more

اس نے ایک اجنبی سے محبت کی تھی

وہی کالے لمبے بال، وہی فربہی مائل جسم، وہی بوٹا سا قد، وہ افرا ہی تھی لیکن اس کی بڑی بڑی آنکھوں پر ایک عینک کا اضافہ ہو گیا تھا۔ اینا نے اسے پہلی نظر میں ہی پہچان لیا تھا۔ سات برسوں میں یہی ایک تبدیلی تھی جو اس میں نظر آ رہی تھی۔ اینا تو اپنی سہیلیوں اور رشتہ داروں سب سے ناتے توڑ کر اسلام آباد میں آ بسی تھی۔ اس نے فیصلہ کر لیا تھا کہ زندگی میں دوبارہ کبھی کراچی نہیں جائے گی۔ کراچی نے اسے بہت کچھ دیا تھا مگر بہت کچھ چھینا بھی تھا۔ کراچی سے جڑی یادوں میں سب سے تلخ یاد شہزاد کی تھی۔ وہ اسے یکسر فراموش کر دینا چاہتی تھی۔

”اوہ مائی گاڈ! اینا تم سے یہاں اچانک ملاقات ہو گی یہ تو میں نے سپنے بھی نہیں سوچا تھا۔ “ افرا نے اس کے گلے سے لپٹتے ہوئے کہا۔
”میں نے بھی نہیں سوچا تھا کہ ایک دن سپر مارکیٹ میں مجھے تم ملو گی۔ “ اینا نے مسکراتے ہوئے کہا۔

Read more

لڑکیوں کو کیوں چھیڑا جاتا ہے؟

کوئی سڑک ہو یا پارک، بس سٹاپ ہو یا دفتر لڑکیوں کو چھیڑے جانے کے واقعات ہر جگہ رونما ہوتے ہیں۔ میں نے ایک بار مال روڈ پرایک لڑکے کو ایک ایسی لڑکی پر آوازہ کستے ہوئے دیکھا جو مغربی طرز کا لباس زیبِ تن کیے ہوئے تھی۔ لڑکی نے پلٹ کر دیکھا نہ کوئی بات کی۔ اس کی رفتار میں فرق آیا اور وہ تیز تیز چلتے ہوئے آگے بڑھ گئی۔ میں نے جب اس لڑکے سے پوچھا کہ اس کے اس عمل کی وجہ کیا ہے تو اس نے منہ بنا کر جواب دیا۔
”آپ نے اس کے کپڑے دیکھے تھے؟ وہ خود چھِڑنے آئی تھی۔ “

Read more

اس لڑکی کو اپنے جسم سے نفرت تھی

وہ میرے سامنے تھی۔ دبلی پتلی سی، لمبے قد کی لڑکی، اس کے چہرے کے نقوش بہت دلکش تھے لیکن اس کی آنکھوں میں ایک بے نام سی اداسی تھی۔ وہ کاٹن کے سادہ سے شلوار قمیص میں ملبوس تھی، دُپٹا سینے پر پھیلا ہوا تھا اور لمبے براؤن بال اس کے کندھوں پر لہرا رہے تھے۔

” بہت خوب، آپ نے عورت کے جسم کو انتہائی منفرد زاویوں سے جس انداز میں پینٹ کیا ہے وہ آپ کے تخلیقی ذہن کا آئینہ دار ہے۔ “ میں نے ستائش کے لہجے میں کہا۔ اس نے چونک کر مجھے گہری نظروں سے دیکھا۔

Read more

اس لڑکی کو اپنے جسم سے نفرت تھی

وہ میرے سامنے تھی۔ دبلی پتلی سی، لمبے قد کی لڑکی، اس کے چہرے کے نقوش بہت دلکش تھے لیکن اس کی آنکھوں میں ایک بے نام سی اداسی تھی۔ وہ کاٹن کے سادہ سے شلوار قمیص میں ملبوس تھی، دُپٹا سینے پر پھیلا ہوا تھا اور لمبے براؤن بال اس کے کندھوں پر لہرا رہے تھے۔ ” بہت خوب، آپ نے عورت کے جسم کو انتہائی منفرد زاویوں سے جس انداز میں پینٹ کیا ہے وہ آپ کے تخلیقی

Read more

خلیل جبران کا خط: نئے پاکستانیوں کے نام

اے رفیقانِ من! نئے پاکستان کی صبحِ نو تمہارے لیے باعثِ انبساط ہے اور پرانا پاکستان وجہ حزن و ملال۔ تم ایک ایسے نشاط پرور سنہرے دور سے گزر رہے ہو جس میں تم غمِ امروز اور فکر فردا سے بے نیاز ہو۔ مجھے معلوم ہے کہ ظہورِ کپتان سے پہلے تمہارے حواسِ خمسہ بلکہ پوری ہستی پر حزن و ملال کا ایک اٹوٹ سناٹا طاری تھا۔ شعور و دانش کے دروازے تم پر بند تھے پھر تم نے کپتان

Read more

وہ مرد ہی نہیں تھا

بلیو سکائی بلڈنگ کی پارکنگ میں داخلے کے وقت مجھے کسی غیر معمولی بات کا احساس ہوا۔ یہ ایک پانچ منزلہ رہائشی بلڈنگ تھی اور پینتیس چالیس فلیٹس پر مشتمل تھی۔ میں نے بلڈنگ کے ایک حصے کی طرف دو تین پولیس والوں کو جاتے دیکھا تھا۔ اس حصے میں ملازمین کو جگہ دی گئی تھی۔ خدا خیر کرے کوئی بڑا مسئلہ نہ ہو۔ میں دل ہی دل میں دعائیں کرتا ہوا لفٹ کی طرف بڑھ گیا۔ میری بیوی نے

Read more

عمران خان کی حکومت کا سنہری دور

پاکستان کی بہتر سالہ تاریخ میں بہت اتار چڑھاؤ آئے۔ کئی حکومتیں آئیں اور چلی گئیں لیکن اب جو دور آیا ہے ایسا سنہری دور چشمِ فلک نے اس خطئہ ارض پر پہلے کبھی نہ دیکھا تھا۔ کپتان نے پاکستانیوں کو اس قدر دلیر اور مضبوط بنا دیا ہے کہ اب وہ کسی بات پر گھبراتے نہیں ہیں۔ خواہ ڈالر 157 روپے کا ہو جائے، روزمرہ استعمال کی ہر چیز مہنگی ہو جائے، عوام پر نت نئے ٹیکس لگ جائیں پھر بھی وہ ایک ہی نعرہ لگاتے دکھائی دیتے ہیں : ’ڈٹ کے کھڑا ہے کپتان‘

Read more

ایک کال گرل کی محبت

میرے طنزیہ جملے سن کر بھی ہما نے مجھے کوئی تند و تیز جواب نہ دیا تھا۔ یہ ردِ عمل مجھے کچھ اور بھڑکا رہا تھا۔ شاید اس کی جگہ کوئی اور لڑکی ہوتی تو میں اس سے کسی اور طرح سے پیش آتا۔ میری نظر میں وہ ایک کال گرل کے سوا اور کچھ نہیں تھی۔ میں اپنے دوست آزاد کی وجہ سے اسے برداشت کرتا تھا۔ دراصل جن دنوں آزاد اپنے بریک اپ کے بعد اس کی رفاقت میں اپنا غم غلط کرنے کی کوششوں میں مصروف تھا انہی دنوں میرا بھی آزاد کے فلیٹ میں آنا جانا تھا۔ مجھے اکثر ہما بھی وہیں ملتی تھی۔

Read more

تین میں سے ایک خاتون جنسی یا جسمانی تشدد کا نشانہ بنتی ہے

بین الاقوامی خبر رساں ادارے تھامسن رائٹرز فاونڈیشن (ٹی آر ایف) کے سروے کے مطابق دنیا بھر میں ہر تین میں سے ایک خاتون کو زندگی میں کبھی نہ کبھی جنسی یا جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ ٹی آر ایف نے 2018 میں خواتین کے لیے خطرناک ترین ثابت ہونے والے ممالک کی جو فہرست جاری کی ان میں بھارت، افغانستان، شام اور صومالیہ سمیت پاکستان بھی چھٹے نمبر ہے۔ یاد رہے کہ مغربی ممالک کے بر عکس ہمارے ہاں ایسے واقعات کو رپورٹ نہیں کیا جاتا بلکہ حتی الا مکان چھپانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ لہٰذا اصل تعداد کہیں زیادہ بھی ہو سکتی ہے۔

Read more

جیالوں پر تشدد کیا رنگ لائے گا؟

بلاول بھٹو کی نیب میں پیشی کے موقع پر پیپلز پارٹی کے جیالوں اور کارکنوں پر تشدد اور پکڑ دھکڑ سے ایک بات تو ثابت ہو گئی کہ تبدیلی سرکار ذرا بھی پریشر برداشت نہیں کر سکتی۔ عمران خان اپنے سیاسی مخالفین سے جس طرح نبٹ رہے ہیں اس پر یہ سوال ذہن میں ضرور آتا ہے کہ کیا یہ وہی عمران خان ہیں جنہوں نے کم و بیش چار مہینے تک اسلام آباد میں دھرنا دیے رکھا تھا۔ شہر

Read more

جب اس لڑکی نے نقاب ہٹایا

شاید کسی نے آوازہ کسا تھا۔ نقاب پوش لڑکی نے رک کر ایک لمحہ سوچا پھر غصے سے سڑک کے کنارے بنچ پر بیٹھے ہوئے لڑکوں سے کوئی بات کی۔ لڑکے بجائے شرمندہ ہونے کے طنزیہ انداز میں مسکرانے لگے۔ میں کچھ فاصلے پر تھا اس لئے ٹھیک سے سمجھ نہ سکا کہ کیا بات ہوئی ہے۔ شام کے بعد مال روڈ پر خاصی چہل پہل ہو جاتی ہے۔ یہ وہی وقت تھا۔ میری رفتار کچھ تیز تھی میں چند لمحوں میں ان کے قریب پہنچ چکا تھا۔لڑکی رک گئی تھی۔ ”جائیے جائیے ہم تو آپس میں باتیں کر رہے تھے۔ “ ایک لڑکے نے کہا۔ ”میں سب سمجھتی ہوں۔ اکیلی لڑکی دیکھ کر تم لوگوں کے دماغ میں کیا چلتا ہے۔ میں تمہاری شکایت کروں گی۔ پولیس کا آفس یہ ساتھ میں ہی ہے۔ “ لڑکی نے غصے سے کہا۔ ”دیر نہ کریں ذرا جلدی شکایت کریں۔ “ لڑکے کے انداز میں شرمندگی کا کوئی پہلو نظر نہ آتا تھا۔ ”کر جا کے شکیت لاواں گی۔ “ (گھر جا کر شکایت کروں گی۔ ) ایک لڑکا زیر لب گنگنانے لگا۔

Read more

سرسے پاؤں تک چوم کر منانا

چئیرمین نیب کے خلاف مبینہ سکینڈل کے منظرِعام پر آنے کے بعد سوشل میڈیا پر ان کے بارے میں طرح طرح کی باتیں کی جا رہی ہیں۔ ان باتوں میں ملامت کا پہلو نمایاں ہے حالاں کہ صاف ظاہر ہے کہ ان کے خلاف سازش کی گئی ہے۔ سازشی عناصر نے بڑی مہارت سے اپنے الفاظ ان کی زبان سے ادا کروا دیے۔ ویڈیو دیکھ کر ایسا لگتا ہے جیسے چئیرمین نیب طیبہ فاروق پر ریشہ خطمی ہوئے جاتے ہیں۔

Read more

ریپ سے بچنے کا صحیح طریقہ

لڑکی خواہ تین برس کی ہو یا دس برس کی؛ اٹھارہ برس کی ہو یا پکی عمر کی؛ وہ ہر لمحہ، ہر وقت اور ہر جگہ ریپ کے خطرے سے دو چار رہتی ہے۔ خواہ اس نے مختصر کپڑے پہنے ہوں یا سر سے پاؤں تک برقعے میں لپٹی ہو اس سے بھی کوئی فرق نہیں پڑتا؛ تاڑنے والے بھی قیامت کی نگاہ رکھتے ہیں۔ یہ بھی ضروری نہیں کہ لڑکی کی نبض چل رہی ہو؛ ایسے ریپسٹ موجود ہیں

Read more

عاشی مر جائے گی

نہر کے کنارے کچی سڑک پر ایک موٹر سائیکل رواں دواں تھی۔ یہ موٹر سائیکل ایک نوجوان چلا رہا تھا جس نے کاٹن کا سفید رنگ کا شلوار قمیص پہنا ہوا تھا۔ اس کے پیچھے ایک لڑکی بیٹھی تھی۔ سیاہ رنگ کی چادر اس نے اپنے جسم کے گرد لپیٹی ہوئی تھی حالاں کہ یہ مئی کا مہینہ تھا۔ گرمی اپنے جوبن پر تھی۔ نہر کے کنارے اس کچی سڑک پر کوئی اور سواری آتے جاتے دکھائی نہ دیتی تھی۔ یوں بھی وہ گاؤں سے بہت دور نکل آئے تھے۔ دوپہر کا وقت تھا اور اس وقت کون باہر نکلتا۔دور سے درختوں کا ایک جھنڈ دیکھ کر نوجوان کی آنکھوں میں چمک آ گئی۔ موٹر سائیکل کی رفتار کم ہو گئی شاید اسے اسی جگہ آنا تھا۔ نوجوان نے موٹر سائیکل روک دی۔ لڑکی اتری اور نوجوان موٹر سائیکل کو چھوٹی سی پگڈنڈی سے کسی نہ کسی طرح درختوں اور جھاڑیوں تک لے جانے میں کامیاب ہو گیا۔ اس نے موٹر سائیکل کو جھاڑیوں اس طرح کھڑا کیا کہ دور سے کوئی دیکھ نہ سکے۔

Read more

نو بیاہتا جوڑا اور ٹیکسی ڈرائیور

”کیسی لگ رہی ہوں میں؟ “ شمائلہ نے مسکراتے ہوئے پوچھا۔ ”یہ بھی کوئی پوچھنے کی بات ہے، خوبصورت لوگ تو اچھے ہی لگتے ہیں؟ “ شان نے محبت بھرے لہجے میں کہا۔ ”بتاؤ ناں! گول مول جواب کیوں دے رہے ہو۔ “ شمائلہ نے اترا کر کہا۔ ”اچھا تو یہ بات ہے تم چاہتی ہو کہ میں تمہاری تعریف کروں، خیر ایسی بات ہے تو سنو بہت پیاری لگ رہی ہو۔ “ شان مسکرا اٹھا۔ ”یہ ہوئی نا بات،

Read more

پڑوسن کی پوتی کا روزہ تھا

کھانے کی اشتہا انگیز خوشبو قدرت اللہ کے نتھنوں سے ٹکرائی تو وہ بے اختیار کچن کی طرف بڑھ گیا۔ اس کی بیوی مٹن پلاؤ دم پر رکھ رہی تھی اور بیٹی پکوڑے بنا رہی تھی۔ ”آپ یہاں کیا کر رہے ہیں؟ “ اس کی بیوی نے آنکھیں دکھائیں۔”بس یہ دیکھنے آیا تھا کہ آج کون کون سی نعمتیں ہمیں میسر آئیں گی؟ “”جانے دیجیئے! آُپ نے خود تو مینیو بنایا تھا اپنے دوست کے لئے۔ “ بیوی نے ناک سکیڑی۔ ”ابو فروٹ چاٹ اور دہی بھلے بھی تیار ہیں۔ میکرونی اور چکن منچورین دو منٹ میں ریڈی ہوں گے۔ “ اس کی بیٹی نے رپورٹ دی۔

Read more

گم شدہ چہرہ اور فیس بک فرینڈ

ناظم نے فیس بک کھولی تو ایک نئی فرینڈ ریکویسٹ دیکھ کر چونک اٹھا۔ نام بے بی ڈول لکھا تھا اور پروفائل پکچر مہندی لگے ہاتھ تھے۔ عام طور پر لڑکیاں اس طرح کی تصویریں لگا لیا کرتی ہیں۔ اس نے وال چیک کی چند رومینٹک پوسٹس نظر آئیں۔ ناظم کے دل میں گدگدی سی ہونے لگی۔ کون ہے یہ لڑکی؟ کیا یہ مجھے جانتی ہے؟ اس کے دل میں طرح طرح کے سوال ابھرنے لگے۔ کہیں کوئی لڑکا تو نہیں جس نے فیک آئی ڈی بنائی ہو۔ اس کا دل کہہ رہا تھا کہ یہ کسی لڑکی ہی کی آئی ڈی ہے۔ اس نے بے بی ڈول کی فرینڈ ریکویسٹ قبول کر لی۔چند گھنٹوں کے انتظار کے بعد بے بی ڈول کی طرف سے تھینک یو کا میسج ملا۔ ناظم کو عجیب سی خوشی محسوس ہوئی۔ اس نے میسینجر پر دو تین میسج کیے۔ وہ بے بی ڈول کے بارے میں مزید جاننا چاہتا تھا۔

Read more

کیا عمران خان وزارتِ عظمیٰ کے اہل ہیں؟

عمران خان کا بلاول بھٹو کو صاحبہ کہنا مہنگا پڑ گیا۔ وہ ایک بار پھر تنقید کی زد میں آ گئے۔ ایک طرف خواتین سراپا احتجاج ہیں تو دوسری طرف سیاست دانوں نے بھی اسے بد زبانی قرار دیا ہے سوائے پی ٹی آئی کے ترجمانوں کے جو اسے سلپ آف ٹنگ سے تعبیر کرتے ہیں۔ عمران خان کے بیانات پر ایک تواتر سے شور و غلغلہ اٹھ رہا ہے جس کی وجہ سے ایک تاثر ابھر رہا ہے کہ

Read more

نوشی باجی کے آنسو کون پونچھے گا؟

نوشی باجی نے اتنے زور سے گلے لگایا کہ میرا دم گھٹنے لگا۔ میں نے کسمسا کر ان کی گرفت سے آزاد ہونے کی سعی کی لیکن کامیاب نہ ہوسکا۔ ”اتنے بیزار ہو مجھ سے کہ جان چھڑا کر بھاگنا چاہتے ہو؟ “ انہوں نے شکایتی انداز میں کہا۔ مجھے ایسا لگا جیسے ان کے بازوؤں سے نکلنے کی کوشش بد تمیزی ہو۔ ”نہیں مجھے امی نے بلایا تھا میں ادھر جانا چاہتا تھا۔ “ میں نے جلدی سے بہانہ کیا۔ ”چلو جاؤ“ انہوں نے ایک دم گرفت ڈھیلی کر دی۔ ”سب مجھ سے تنگ ہیں، اسی لئے مجھے گھر سے نکالنا چاہتے ہیں۔ “

پتا نہیں ان کے لہجے میں کیا بات تھی کہ میرے دل میں پھانس سی چبھ گئی۔ وہ تو اتنی پیاری تھیں۔ ان کے سیاہ گھنے اور لمبے بالوں میں کتنی چمک تھی اور رنگ اتنا گورا تھا کہ گاؤں کی ہر لڑکی ان کے سامنے سانولی لگتی تھی۔ مجھے تو ان کے سفید موتیوں جیسے دانت بہت اچھے لگتے تھے۔ میں کبھی جب امی اور ابو کے ساتھ ڈینٹسٹ کے پاس جاتا تھا تو ان کے کمرے میں بالکل اسی طرح کے مصنوعی دانت پڑے ہوئے دیکھتا تھا۔ مجھے ہمیشہ یہی لگتا تھا کہ نوشی باجی نے اپنے دانت نکال کر وہاں رکھ دیے ہوں۔ وہ جب ہنستی تھیں تو ان کے دانت بہت پیارے لگتے تھے۔

Read more

ڈونٹ انڈر ایسٹیمیٹ دی پاور آف عمران خان

کپتان نے فیلڈنگ کیا بدلی بعض لوگوں کو تنقید کا بہانہ مل گیا۔ شاید وہ نادان لوگ کپتان کو جانتے نہیں ہیں انہیں معلوم نہیں کہ یہ بھی ایک حکمت عملی ہوتی ہے مخالف کو آؤٹ کرنے کی۔سنہ 1992 کے ورلڈ کپ میں بھی جب پاکستان کی ٹیم اپنے ابتدائی میچ ہار گئی تو لوگ باگ مایوس ہو گئے تھے اور علانیہ کہنے لگے تھے کہ یہ ٹیم تو سیمی فائنل تک بھی نہیں پہنچے گی لیکن کپتان اسی ٹیم کے ساتھ نہ صرف فائنل تک پہنچے بلکہ ورلڈ کپ بھی جیت کر دکھا دیا۔ ہارنے کے بعد جب جیت ملتی ہے تو اس کی خوشی ہی کچھ اور ہوتی ہے۔ اسی لئے تو ہم اب تک اس خوشی کو سنبھالنے کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں۔ اس طرح ہار کر جیتنے والے کو بازیگر کہتے ہیں اور کپتان ایسے بازیگر ہیں جو کسی وقت بھی قوم کو حیران کر سکتے ہیں۔

Read more

بس ہوسٹس کو کیا کرنا چاہیے؟

بس ہوسٹس مہوش کے بس گارڈ کے ہاتھوں قتل نے کئی سوالات چھوڑے تھے۔ غالباً گارڈ کا موقف یہ ہوگا کہ اس کا من پسند کھلونا اگر اسے نہیں مل سکتا تو اسے توڑنے کا حق رکھتا ہے۔ مہوش اپنے خاندان کی واحد کفیل تھی۔ اب ایک اور واقعہ لاہور سے اسلام آباد چلنے والی بس سروس کی بس ہوسٹس کو ہراساں کرنے کا سامنے آیا ہے۔ ایک شخص نے خود کو خفیہ ادارے کا اہلکار ظاہر کرتے ہوئے نہ

Read more

سنہ 2024 کا پاکستان کیسا ہو گا؟

بس اتنا یاد ہے کہ میں ہوشربا مہنگائی اور اپنی قلیل تنخواہ کے بارے میں سوچتے ہوئے موٹر سائیکل چلا رہا تھا۔ اچانک موٹر سائیکل ایک گائے سے ٹکرا گئی جو سڑک پر چہل قدمی کر رہی تھی۔ میں سڑک پر گرا اور دماغ پر اندھیرا چھا گیا۔ آنکھ کھلی تو میں ایک ہاسپٹل میں تھا۔ میری بیوی میرے بیڈ کے قریب ایک کرسی پر بیٹھی تھی۔ مجھے ہوش میں آتا دیکھ کر اس کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ یہ خوشی کے آنسو تھے۔”شکر ہے آپ کو ہوش آ گیا۔ “ اس کی آواز میرے کانوں سے ٹکرائی۔

میں نے اٹھنے کی کوشش کی تو اس نے منع کر دیا ”ابھی آپ کو آرام کی ضرورت ہے۔ “ فوراً ڈاکٹرز اور نرسز نے مجھے گھیرے میں لے لیا۔ وہ سب ایسے خوش ہو رہے تھے جیسے کوئی بہت بڑا واقعہ رونما ہوا ہو۔ شام تک مجھے گھر جانے کی اجازت مل گئی۔ میں ہاسپٹل کی صفائی اور عملے کی مستعدی پر حد درجہ حیران تھا۔ ایسا لگ رہا تھا جیسے میں کسی یورپی ملک کے ہسپتال میں ہوں۔ بہر حال بیوی کے ساتھ چلتے ہوئے باہر آیا تو پارکنگ میں ایک بی ایم ڈبلیو گاڑی کھڑی تھی۔

Read more

میں اس عورت کو کیا نام دوں؟

”ایکسکیوزمی! کیا میں آپ سے ایک سوال کر سکتی ہوں بیٹا؟ “ میں جو کسی سوچ میں گم تھا چونک اٹھا۔ سامنے ایک خوش شکل عورت کھڑی تھی۔ اس کی عمر پچاس کے لگ بھگ ہوگی لیکن وہ خاصی دبلی پتلی تھی اس لئے اپنی عمر سے کم دکھائی دیتی تھی۔ اس کے سیاہ بال کندھوں پر لہرا رہے تھے اور وہ نفیس کپڑے پہنے ہوئے تھی۔ فوری طور پر میں کوئی جواب نہ دے پایا میں سوچ رہا تھا

Read more

گھر سے بھاگی ہوئی بیٹی

گاؤں کے دس بارہ معززین احمد علی کے گھر کے صحن میں بیٹھے تنے ہوئے چہروں کے ساتھ حالاتِ حاضرہ پر تبصرے کر رہے تھے۔ صحن میں چار پانچ ٹوٹی پھوٹی کرسیاں اور دو چارپائیاں پڑی تھیں جو اس گھر کی خستہ حالی کو ظاہر کرتی تھیں۔ ان میں صرف ایک شخص خاموش تھا اور وہ تھا بوڑھا احمد علی۔ وہ سر جھکائے چارپائی پر بیٹھا تھا اورمسلسل زمین کو گھور رہا تھا۔ ایسا لگتا تھا جیسے وہ کسی کا سامنا نہیں کرنا چاہتا۔ اس کے دل میں طوفان مچا تھا۔ پیشے کے لحاظ سے وہ درزی تھا اور گاؤں بھر کے کپڑے سیتا تھا۔ ان کے تن ڈھکنے کا وسیلہ تھا اور آج اسے یوں لگ رہا تھا جیسے وہ گاؤں کے ہر شخص کے سامنے ننگا ہو گیا ہے۔

اندر کمرے کا دروازہ کھلا اس میں ایک جھری سی پیدا ہوئی۔ ایک عورت نے اس درز سے جھانک کر بیٹھے ہوئے لوگوں کو دیکھا۔ بیٹھے ہوئے لوگوں میں سے ایک نوجوان اٹھ کر اندر چلا گیا۔ تھوڑی دیر بعد وہ چائے کے کپ لے کر آ گیا۔ وہ احمد علی کا بیٹا تھا۔ کسی سے کچھ کہے بغیر وہ مشینی انداز میں سب کو ایک ایک کپ پکڑاتا گیا۔

”اوہو شاریب بیٹے! خواہ مخواہ تکلف کیا۔ پہلے بھی دو تین بار تو چائے پی چکے ہیں۔ “ گلفراز چاچا نے رسمی سے انداز میں کہا۔ شاریب کا چہرہ اسی طرح بے تاثر رہا اس نے کپ آگے بڑھائے رکھا۔ گلفراز نے کپ لے لیا۔ آخری کپ اس نے اپنے باپ کے سامنے پڑی ہوئی تپائی پر رکھ دیا۔ پھر خود بھی بیٹھ گیا۔ کئی منٹ گزر گئے احمد علی اسی طرح ساکت بیٹھا رہا۔ اس نے ایک بار بھی نگاہ اوپر نہ اٹھائی تھی۔ اب شام کے سائے گہرے ہو رہے تھے۔ سورج پہاڑوں کے پیچھے چھپ رہا تھا۔ شاریب نے اٹھ کر صحن میں لگے بلب کو روشن کیا۔ میلے سے بلب کی ناکافی روشنی سے ماحول پر کوئی خاص فرق نہ پڑا تھا۔ اچانک چند نوجوانوں کے بولنے کی آواز آئی اوران کے قدموں کی چاپ سنائی دی۔ احمد علی نے چونک کو آوازوں کی سمت دیکھا۔ گاؤں کے نوجوان واپس آ گئے تھے۔

Read more

شراب، رقاصہ اور پرہیز گار نوجوان

سر پینا چاہتے ہوں تو آپ کے لئے کچھ لاؤں۔ جٹ نے میری طرف جھکتے ہوئے کہا۔ میں ارد گرد کے ماحول کا جائزہ لے رہا تھا۔ رات کے دس بجے تھے۔ حویلی روشنیوں سے جگمگا رہی تھی۔ ہم لان میں تھے جہاں ایک بڑی سی کینوپی لگا کر چھت فراہم کی گئی تھی لیکن سائیڈیں خالی چھوڑ دی گئی تھیں کیونکہ موسم کچھ گرم تھا۔ سامنے سٹیج تھا اور اس کے آگے کچھ حصہ خالی چھوڑنے کے بعد ریسٹورانٹ سٹائل میں میزیں لگائی گئی تھیں۔ ہر میز کے گرد آٹھ آٹھ کرسیاں لگی تھیں۔ اسٹیج کی ایک سائیڈ میوزک سے وابستہ لوگوں کے لئے مخصوص تھی۔ سازندے موجود تھے ایک گلوکار مدھرآواز میں نئے فلمی گانے گا رہا تھا۔ اس وقت تک تقریباً سب مہمان آ چکے تھے لیکن ابھی چند کرسیاں خالی پڑی تھیں۔

Read more

چھ فٹ کا بیڈ اور میلوں کی دوری

ہلکی سی آہٹ پر ثانیہ کی آنکھ کھل گئی۔ ثاقب کمرے میں آیا تھا۔ ثانیہ نے دل ہی دل میں خود کو ملامت کی۔ اس کی آنکھ لگ گئی تھی۔ حالاں کہ وہ شام سات بجے سے کھانا بنا کر اپنے میاں کا انتظار کر رہی تھی۔ ایک دو بار سوچا کہ فون کر لے پھر یاد آیا کہ دو دن پہلے فون کرنے پر ثاقب بہت ناراض ہوا تھا۔ اس نے کہا تھا کہ اسے کام کے وقت ڈسٹرب کیا جانا بالکل بھی پسند نہیں۔ شاید اس کا کہنا ٹھیک بھی تھا۔ نیا نیا بزنس تھا اور وہ پوری تندہی سے بزنس میں قدم جمانے کی کوششیں کر رہا تھا۔

ثانیہ ایسا کوئی خطرہ مول نہیں لینا چاہتی تھی جس کی وجہ سے ثاقب کا موڈ خراب ہو اور پھر اگلا دن بھی پھیکا اور بور گزرے۔ گھر میں ملازم موجود تھا لیکن ثانیہ کی خواہش تھی کہ وہ اپنے ہاتھوں سے ثاقب کے لئے کھانا بنائے۔ شاید اس نے کہیں سے سنا تھا کہ مرد کے دل کا راستا معدے سے ہو کر گزرتا ہے۔ ابھی اس کی شادی کو دن ہی کتنے ہوئے تھے۔ ایک مہینہ ہی تو ہوا تھا۔ ابھی تو وہ ایک دوسرے کو ٹھیک سے جان بھی نہیں سکے تھے۔

Read more

وہ ایک شام تھی مگر ہمیشہ کے لئے رک گئی ۔۔۔۔

بخار کی شدت میں اچانک اضافہ ہو گیا تھا۔ اب ایسا لگ رہا تھا کہ تپتے بدن کے ساتھ بستر سے اٹھ کر دروازے تک جانا مشکل ہے۔ کزن کی بارات میں نہ جانے کا فیصلہ درست تھا لیکن میں تو سمجھا تھا کہ معمولی بخار ہے اسی لئے میں نے والدین سے کہا تھا کہ وہ چلے جائیں میں گھر میں آرام کروں گا تو ٹھیک ہو جاؤں گا۔ چناں چہ ناشتے کے بعد دوا کھا کر میں بیڈ

Read more

کیسا ہو گا اسلامی جمہوریہ نیوزی لینڈ

اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے نیوزی لینڈ میں اسلام کے غلبے کا آغاز ہو چکا ہے۔ ایک افسوسناک واقعہ ہوا تھا لیکن یہی تبدیلی کا نقطہ آغاز تھا۔ آپ نے ملاحظہ کیا ہو گا کہ جمعے کو تاریخ میں پہلی مرتبہ نیوزی لینڈ میں اذان ریڈیو اور ٹی وی پر نشر کی گئی۔ غیر مسلم شہری بڑی تعداد میں مختلف مساجد میں گئے۔ غیر مسلم خواتین بھی عبایا اور دوپٹے اوڑھ کر مختلف اجتماعات کا حصہ بن گئیں۔

Read more

تم لڑکی ہو تو خواب مت دیکھو

تم کس قدر نادان ہو؛ اپنی آنکھوں میں خواب رکھتی ہو۔ مانا کہ خواب دیکھنا آگے بڑھنے اور ترقی کرنے کے لئے بہت ضروری ہے لیکن تمہیں شاید علم نہیں کہ خوابوں کو تعبیر دینے کے لئے جس راہ سے گزرنا پڑتا ہے وہاں تمہارے لئے نو انٹری کا بورڈ لگا ہے۔ تمہیں یاد رکھنا چاہیے کہ تم ایک صالح معاشرے کی فرد ہو۔ فرض کرو تم ڈاکٹر بننا چاہتی ہو تو اس خواب کو پورا کرنے لئے تمہیں سب

Read more

اب سُن لبرل لڑکی

توبہ توبہ تمہاری باتیں سن کر ہمارا دل چاہتا ہے کہ کانوں میں انگلیاں ٹھونس لیں۔ تم بہت بے شرم ہو چکی ہو۔ تم جو نعرے لگاتی ہو انہیں سن کر ہمارا خون کھول اٹھتا ہے۔ تمہاری اتنی جرات کہ تم ہمارے معاشرے میں ہمی کو لتاڑنا شروع کر دو اور بے چاری نیک بیبیوں کو آگاہی کی صورت گمراہ کرو۔ یاد رکھو یہ مردوں کا معاشرہ ہے اور تم ٹھہری ناقص العقل، تمہاری گواہی بھی معتبر نہیں اور تم

Read more

پلیز مجھے خودکشی کا آسان طریقہ بتا دو

مطلوبہ کتاب خریدنے کے بعد اردو بازار کے رش سے گزرتے ہوئے اچانک میرا کندھا کسی کے کندھے سے ٹکرا گیا۔ میں جو کسی خیال میں مگن اس تنگ بازار سے گزر رہا تھا چونکا تو پہلا احساس یہ تھا کہ وہ کوئی لڑکی ہے۔ ”سوری“ میں نے نظریں جھکائے ہوئے شرمندگی سے کہا اور آگے بڑھنے لگا تو وہ میرا راستہ روک کر کھڑی ہو گئی۔ ”رکو۔ رکو۔ کہاں جا رہے ہو؟ “ لڑکی نے کہا۔ تب میں نے نگاہیں اٹھا کر اسے دیکھا تو ایک بار پھر چونک اٹھا۔

”رمشا! کیا واقعی تم ہو؟ “ میں نے حیرت اور خوشی کے ملے جلے تاثرات کے ساتھ کہا۔ ”مجھے بھی یقین نہیں آ رہا ہم پندرہ برس بعد کس ماحول میں ملے ہیں۔ “ اس نے ارد گرد نگاہ ڈالتے ہوئے کہا پھر میری طرف ہاتھ بڑھا دیا۔ میں نے اس سے ہاتھ ملایا تو میری نظر اس کے ساتھ کھڑی تیرہ چودہ سال کی ایک لڑکی پر پڑی جو حیرت سے ہم دونوں کو دیکھ رہی تھی۔ ”یہ میری بیٹی ہے۔ “ رمشا نے کہا۔ اس کی بیٹی نے سوالیہ انداز میں ماں کی طرف دیکھا۔

Read more

وہ کہتی تھی کہ میں آوارہ اور بد چلن ہوں

وائٹ کلر کی ٹویوٹا کرولا یونیورسٹی کی پارکنگ میں رکی تو کئی پیاسی نگاہیں اس پر مرکوز ہو گئیں پھر معمول کی طرح کار کا دروازہ کھلا اور مایا باہر نکلی۔ ہمیشہ کی طرح دوپٹے سے بے نیاز اور ارد گرد کے ماحول سے بے پرواہ، وہ ڈیپارٹمنٹ آف اردو کی طرف بڑھتی چلی گئی۔ میرے نزدیک کھڑے حبیب اللہ نے زیرِ لب چند ایسے الفاظ کہے جنہیں نہ سننا ہی بہتر تھا۔ اس کے بعد وہ لپک کر اس کے پیچھے چل پڑا کیونکہ لیکچر کا وقت ہوا چاہتا تھا۔یہ نوے کی دہائی تھی اور ان دنوں یونیورسٹی میں جو صالحین کا گروپ تھا حبیب اللہ ان کا لیڈر تھا۔ ظاہر ہے ہر طالب علم مختلف بیک گراؤنڈ رکھتا تھا۔ کلاس میں ایسے لڑکے بھی تھے جو لڑکیوں سے دوستی کرنے میں پیش پیش تھے اور وہ بھی جو لڑکیوں کو دیکھ کر توبہ توبہ کا ورد کرتے ہوئے دوسروں کو بھی اس مخلوق سے دور رہنے کے مشورے دیا کرتے تھے۔ اسی طرح لڑکیوں میں حجاب کرنے والی لڑکیاں بھی تھیں اوراس کے برعکس لباس زیب تن کرنے والی بھی تھیں۔

Read more

کیا خواجہ سرا کے سینے میں دل نہیں ہوتا؟

جی پی او چوک میں اسے دیکھ کر میں چونک اٹھا۔ بہت لاغر اور کمزور نظر آ رہا تھا۔ وہ امید بھری نظروں کے ساتھ ایک نوجوان جوڑے کی طرف بڑھ رہا تھا۔ لڑکی کی نگاہ اس پر پڑی تو وہ ہاتھ منہ پر رکھ کر اپنی ہنسی کو روکنے کی ناکام کوشش کرتے ہوئے اپنے میاں کی اوٹ میں ہوگئی۔ نوجوان نے اس کے پھیلے ہوئے ہاتھ کو نظر انداز کرتے ہوئے اپنی بیوی کا ہاتھ تھاما اور تیزی

Read more

رتی گلی کی لڑکی

دو تین گہری سانسیں لے کر میں نے پھیپھڑوں کو تازہ ہوا سے بھرا۔ پیڑوں اور پودوں سے آتی ہوئی مہک سانسوں کو معطر کر رہی تھی۔ مارننگ واک کرتے کرتے میں کافی دور نکل آیا تھا۔ اس جگہ سے دور تک درخت اور پہاڑ دکھائی دیتے تھے۔ سورج کی روشنی میں نکھرے ہوئے مناظر بڑے دلکش تھے لیکن بھوک کے احساس نے واپسی پر مجبور کر دیا۔ ابھی میں بنگلے سے کچھ دور ہی تھا جب پہلی بار اس

Read more

جا نندن جا! جی لے اپنی زندگی

بھارت کا جنگی جنون کسی سے ڈھکا چھپا نہیں۔ خطے میں کشیدگی کی یہ سب سے بڑی وجہ ہے۔ موجودہ کشیدگی جو پلوامہ واقعہ سے شروع ہوئی تھی روز بروز بڑھتی چلی گئی۔ بھارت نے پاکستان کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کر کے اسے عروج پر پہنچا دیا۔ مودی سرکار نے پاکستان پر بے بنیاد الزامات لگاتے ہوئے سرجیکل سٹرائیک کا دعویٰ کیا۔ بھارتی طیارے رات کے اندھیرے میں پاکستانی سرحد پار کر کے اندر تک آئے لیکن شاہینوں

Read more

عمران خان: خدارا ایک یو ٹرن اور لے لیں

پاکستان کے وزیرِاعظم عمران خان نے امن کی علامت کے طور پر بھارتی پائلٹ کو رہا کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اس اعلان کے ساتھ ہی بھارت میں فتح کے شادیانے بجائے جا رہے ہیں۔ بھارتی میڈیا پر ایک طوفان مچا ہے کہ پاکستان بھارت کے دباؤ کو برداشت نہیں کر سکا، عمران خان کے پاس بھارتی پائلٹ کو رہا کرنے کے سوا کوئی راستا نہیں ہے وغیرہ وغیرہ۔ بھارتی چینلز اسے جس انداز میں پیش کر رہے ہیں اس

Read more

بس بھئی بس زیادہ بات نہیں چیف صاحب

شامی صاحب دیوداس کی طرح گلاس تھامے آبِ سادہ کو یوں گھونٹ گھونٹ پی رہے تھے جیسے غم غلط کر رہے ہوں۔ ”حضرت کیا ہوا؟ آپ کے بکھرے بال اور مضطرب انداز بے سبب نہیں ہو سکتا۔ “ میں نے پر خیال لہجے میں پوچھا۔

آج مہدی حسن بہت یاد آ رہے ہیں، کیا خوبصورت نغمہ گایا تھا انہوں نے ’ہمارے دل سے مت کیھلو، کھلونا ٹوٹ جائے گا‘ ہم نے کیا کیا خواب دیکھے تھے اور کیا کیا سوچا تھا۔ آنکھوں نے کتنے سپنے سجائے تھے اور دل نے کتنے ارماں جگائے تھے۔ مگر سب کچھ ختم ہو گیا۔ اب تو خاک پر ہمارے خوابوں کی کرچیاں پڑی ہیں اور ہم پلکوں سے ریزہ ریزہ چنتے ہیں۔

Read more

آنٹی کہنے پر اتنا غصہ؟

محترمہ نوشی بٹ کا ایک کالم پڑھنے کا اتفاق ہوا جس میں وہ اس بات پر نالاں نظر آئیں کہ تھرٹی پلس لڑکیوں کو آنٹی کیوں کہا جاتا ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ مرد اگر تیس سال کراس کر لیتا ہے تو اسے انکل کیوں نہیں کہا جاتا اور یہ کہ مردوں کو چھنے کاکے بننے کا شوق ہوتا ہے اس لئے وہ باجی، ماسی، پھپھی یا آنٹی بول کر اپنے آپ کو تسکین دیتے ہیں۔ خاکسار کی رائے میں

Read more

براہِ کرم مجھے کنوارہ ہی رہنے دیں

وہ شادی ہال میں داخل ہوا تو کئی نگاہیں اس کی طرف اٹھیں، خوش لباس تھا اور اچھا خاصا پر کشش آدمی تھا۔ میں اور ڈاکٹر شیخ فیملیز کے ساتھ اس تقریب میں آئے تھے اور ایک ہی ٹیبل پر تھے۔ ابھی میں اس شخص کی شخصیت پر غور کر ہی رہا تھا کہ اس نے میری طرف دیکھتے ہوئے ہاتھ ہلایا اور میری طرف بڑھنے لگا۔ قریب آیا تو ڈاکٹر شیخ اٹھے اور اسے گلے لگا لیا۔ تب اندازہ ہوا کہ اس نے شیخ صاحب کو دیکھ کر ہاتھ ہلایا تھا۔ ڈاکٹر صاحب نے اپنی مسز کا تعارف کرایا۔ پھر میری طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا۔

”یہ میرے انتہائی قریبی دوست ہیں اور یہ ان کی اہلیہ ہیں۔ “ سلام و دعا کا مرحلہ طے ہوا تو ہم نے انہیں اپنے ساتھ بیٹھنے کی دعوت دی کیونکہ دو کرسیاں خالی تھیں۔ وہ شکریہ ادا کر کے بیٹھ گئے۔ ”ان کا نام احمد کمال ہے اور واقعی کمال کے آدمی ہیں۔ میں جب لاہور میں ہوتا تھا تب ان سے واقفیت ہوئی لیکن پھر ملاقاتوں میں تعطل آ گیا۔ اب اس شادی میں تین چار برس کے بعد ملاقات ہو رہی ہے۔ “ ڈاکٹر شیخ نے اس شخص کا تعارف کراتے ہوئے کہا۔

Read more

پروفیسر سپرا کا سر چڑھا ملازم

اس نے مجھے سر سے پاؤں تک مشکوک نظروں سے دیکھتے ہوئے کہا، ”جی آپ کو کس سے ملنا ہے؟ “

میں گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ کالج خانیوال میں پروفیسر ناصر سپرا سے ملنے آیا تھا۔ وہ نہ صرف مذکورہ کیپمس کے انچارج ہیں بلکہ نہایت عمدہ شاعر بھی ہیں۔ میں جب بھی خانیوال جاؤں اسی تعلق سے ملاقاتیں ہوتی ہیں۔ اس سے پہلے کہ میں اس شخص کو جواب دیتا جو مجھے نائب قاصد معلوم ہو رہا تھا کہ اچانک پروفیسر صاحب کی آواز سنائی دی۔ ”آ جائیں جبران صاحب۔ “

چناچہ چند لمحوں بعد ہم کالج کے خوبصورت لان میں بیٹھے تھے۔ انگلش، اردو اور میتھ ڈپارٹمنٹ کے تین پروفیسر جو شاعری کا شغف بھی رکھتے تھے ہمارے ہمراہ تھے۔ پروفیسر سپرا نے فوراً خانیوال کا خاص سوہن حلوہ اور چائے منگائی اور شاعری کی محفل جم گئی۔ اتنے میں وہی ملازم آیا اور بے تکلفی سے سوہن حلوے کا ایک ٹکڑا منہ میں رکھتے ہوئے ایک کرسی پر بیٹھ گیا۔ اسی دوران میں نے ایک جملہ کسا تو فضا میں قہقہے گونج اٹھے مگر سب سے زوردار آواز ملازم کی تھی۔

Read more

ایک دن محبت کا

رات دیر تک جاگتا رہا۔ سونے سے پہلے یہ خیال ذہن میں تھا کہ بریڈ اور جام ختم ہے صبح بازار سے ناشتہ لانا ہو گا۔ پھر یوں ہوا کہ نیند گہری ہو گئی۔ آنکھ دیر سے کھلی شاید دس بجے کا وقت ہو گا۔ ممکن تھا کہ نیند کا خمار ابھی طاری رہتا لیکن پراٹھوں کی اشتہا انگیز خوشبو نے یک لخت سارا خمار اتار دیا۔ یہ کیسے ہو سکتا ہے۔ بیوی تو ناراض ہو کر اپنے والدین کے گھر گئی ہے یہ کچن میں کون ہے؟ ہاں پڑوسیوں کے حقوق کا بہت سنا ہے شاید کوئی نیک دل پڑوسن ناشتہ بنانے آ گئی ہو۔ آنکھوں میں نمی سی آ گئی دنیا ابھی نیک لوگوں سے خالی نہیں ہوئی۔

اسی اثنا میں کسی کے قدموں کی چاپ سنائی دی۔ ”اٹھ گئے آپ؟ اچھا جلدی سے فریش ہو جائیں، ناشتہ تیار ہے۔ “ بیوی نے مسکراتے ہوئے کہا۔ ”ہائیں ہنی! تم کب آئیں؟ “ میرے منہ سے یک دم نکلا۔ ”تو کیا آپ کو میرے آنے سے خوشی نہیں ہوئی؟ “ بیوی نے آنکھیں نکالیں۔ ”کیا کہہ رہی ہو، میں تو اتنا خوش ہوں کہ میری آنکھیں بھیگ رہی ہیں۔ “ میں نے فوراً کہا۔ ”آپ نے کل چاکلیٹ اور پھول بھیجے تھے کیسے نہیں آتی۔ ویسے بھی آج محبت کرنے والوں کا دن ہے اور مجھے پتہ ہے آپ مجھ سے بہت محبت کرتے ہیں۔ “

Read more

شکنتلا اچانک غائب کیوں ہو گئی؟

بھوربن میں ایک مہینے کے قیام کے لئے رہائش کا بندوبست ایک مہربان نے کیا تھا۔ راجا انور کامیاب بزنس مین تھے۔ برسوں پہلے کاروبار کی خاطر لاہور منتقل ہوگئے تھے۔ اب تو ان کا بزنس انگلینڈ تک پھیل چکا تھا لہٰذا ان کا ایک قدم لندن میں ہوتا تھا اور ایک لاہور میں۔ اس کے باوجود گرمی کا سیزن وہ اپنے بھوربن والے بنگلے میں ہی گزارتے تھے۔ ان سے بات ہوئی تو انہوں نے فوراً آفر کر دی

Read more

برف باری کی رات میں اکیلی لڑکی

مجھے بالکل بھی اندازہ نہیں تھا کہ میں برف باری میں گِھر جاؤں گا۔ اگرچہ بارش کی پیش گوئی تھی لیکن یہ جنوری کا اواخر تھا اور میں اس حقیقت کو فراموش کر بیٹھا تھا کہ مری میں سردی کے مہینوں میں اکثر بارش برف میں تبدیل ہو جایا کرتی ہے۔ رات کے نو بجے تھے ابھی میں تریٹ تک پہنچا تھا کہ گاڑی کی ونڈ سکرین کو برف کے اولین گالوں نے چوم لیا۔ آثار اچھے نہیں تھے لیکن

Read more

ویلنٹائن ڈے منانے سے پہلے ذرا سوچئے!

"قبلہ اب آپ ہی مشورہ دیجئیے میں آپ کی ہونے والی بھابی کے لئے کیا تحفہ خریدوں؟” میرے نوجوان دوست عرفی نے اپنی خوشی اور جوش کو دبانے کی ناکام کوشش کرتے ہوئے کہا۔ "ایں۔۔۔ کیا کہا؟” میں چونکا۔ ” دیکھئے آپ شادی کے حوالے سے میرے سینئر ہیں لہٰذا آپ کو میری رہنمائی کرنی چاہئے۔ چودہ فروری کو ویلنٹائن ڈے ہے اور میں چاہتا ہوں کہ اس دن اپنی محبوب ہستی کو ایسا تحفہ دوں جو خوبصورت سی یاد

Read more

عورت پاؤں کی جوتی ہے کیا؟

شعرا توعورت کو کائنات کا حسن قرار دیتے ہیں لیکن شاعری کی دنیا سے باہر اپنے معاشرے پر نگاہ ڈالیں تو عورت کی تذلیل کے سوا کچھ نظر نہیں آتا۔ کبھی لباس کی وجہ سے عورت کی ملامت کی جاتی ہے کبھی گھر سے نکلنے اور کام کرنے پر برا بھلا کہا جاتا ہے۔ ملازمت پیشہ خواتین پر تہمتیں لگائی جاتی ہیں۔ کوئی عورت کو ناقص العقل کہتا ہے تو کوئی فتنہ قرار دیتا ہے۔ حد تو یہ ہے کہ

Read more

بے پردہ لڑکیاں اور ذہنی بیمار مرد

سپر مارکیٹ میں چند بے پردہ لڑکیاں نظر آئیں تو مجھے بے اختیار اکبر الہ آبادی یاد آ گئے جو ایسے ہی ایک موقعے پر ‘غیرتِ قومی’ سے زمین میں گڑ گئے تھے۔ خیر ہماری کیفیت ایسی ہرگز نہیں تھی ہم تو ان ہنستی، مسکراتی اور خوش گپیاں کرتی لڑکیوں کو دیکھ کر یہ سوچنے لگے کہ سرد موسم میں آئس کریم سے لطف اندوز ہوتی یہ لڑکیاں زندگی سے بھرپور ہیں۔ سپنوں سے بھری چشم ہائے نیم باز، چمکتے

Read more

طلاق یافتہ لڑکی کو برا سمجھنا چھوڑ دیں

”لڑکا پڑھا لکھا ہے، اچھا خاصا کما لیتا ہے، پانچ سال بیرونِ ملک بھی کام کرتا رہا ہے اب یہاں بزنس سیٹ کر لیا ہے، اسی کی شادی کرنی ہے، آپ کی نظر میں کوئی اچھی سی لڑکی ہو تو ضرور بتائیے گا۔ “ بیگم توفیق نے خوشگوار لہجے میں کہا۔ میری بیوی نے میری طرف دیکھا تو میں دل ہی دل میں مسکرا اٹھا کیوں کہ جس لڑکے کی بات ہو رہی تھی وہ ہمارے سامنے بیٹھا تھا اس

Read more

شوہر کی محبت میں بیوی کی بے وفائی

میں پہلی بار رینا سے ائیر پورٹ پر ملا تھا۔ بزنس کے سلسلے میں مجھے دبئی جانا تھا وہاں ایک اہم میٹنگ تھی جس میں مختلف کمپنیوں کے نمائندوں نے شرکت کرنی تھی۔ باس نے مجھے بتایا تھا کہ ہماری پارٹنر کمپنی سے جواد نامی شخص میرے ہمراہ ہو گا۔ چناں چہ کراچی ائیر پورٹ پر میں اس کا انتظار کر رہا تھا۔ پھر وہ ایک قیمتی کار میں آیا۔ ڈرائیور نے گاڑی روکی تو پچھلی نشستوں سے دو افراد

Read more

ٹک ٹاک بھی ایک سازش ہے؟

بچپن سے سنتا آ رہا ہوں کہ مغرب ہمارے خلاف سازشیں کرتا رہتا ہے۔ اب تازہ ترین سازش ” ٹک ٹاک” نامی ایپ متعارف کرانا ہے۔ اس ایپ میں آپ مکالموں یا گانوں پر ہونٹ ہلاتے ہوئے اداکاری یا رقص کر سکتے ہیں۔ یا آپ کے پاس دیگر فنونِ لطیفہ سے متعلق کوئی ہنر ہے تو وہ بھی آپ پندرہ سیکنڈ سے ایک منٹ کی ویڈیو بنا کر دنیا کے سامنے پیش کر سکتے ہیں۔ اب آپ خود سوچئے یہ

Read more

فحاشی اور عریانی سے پاک ٹی وی ڈراما

پیمرا نے ٹی وی چینلز کو متنازع اور غیر اخلاقی موضوعات پر مبنی ڈراموں کی نشریات روکنے کے احکامات جاری کیے ہیں۔ ڈراموں میں نامناسب لباس کی نشاندہی کرتے ہوئے پریس ریلیز میں کہا کہ اس طرح کے ڈرامے ناظرین کے لئے ذہنی اذیت اور کوفت کا سبب بن رہے ہیں۔ عورت کو پیش کیے جانے کے انداز پر بھی شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایسے موضوعات کو ڈراموں میں پیش کریں جو حقیقی پاکستانی معاشرے کی عکاسی کریں۔

جب سے پیمرا کی ہدایات جاری ہوئی ہیں خاکسار یہ سوچ رہا ہے کہ ہمارے رائٹرز غیر اخلاقی موضوعات و معاملات پر ڈرامے کیوں لکھتے ہیں۔ اس طرح تو بے راہ روی اور برائیوں کو فروغ ملتا ہے جبکہ وطن عزیز تو پاک لوگوں کے رہنے کی سر زمین ہے۔ چناں چہ فحاشی اور عریانی سے پاک ٹی وی ڈرامے بنانے کے حوالے سے نمونے کا ایک ڈراما بالکل مفت پیشِ خدمت ہیں حالاں کہ یہ گرانی کا دور ہے۔

پہلے سین میں کیمرہ مرکزی کردار عبدالقدوس کو سوئے ہوئے دکھاتا ہے۔ ان کے پہلو میں ان کی بیوی کو دکھانے کی بجائے ایک تکیہ دکھایا جائے جس پررکھے ورق پر لکھا ہو یہاں عبدالقدوس کی بیوی سو رہی ہے۔ عبدالقدوس اٹھ کر تہجد کی نماز ادا کرنے لگتا ہے۔ کیمرہ دیوار پر لگی آیات کو زوم ان کرے۔ پھر دوسرا سین شروع ہوتا ہے۔ عبدالقدوس نماز فجر کی ادائیگی کے لئے مسجد کی طرف رواں دواں ہے۔ مسجد میں نمازیوں کی کثیر تعداد کو دکھایا جائے۔

Read more

وہ کال گرل تھی مگر انسان بھی تو تھی

میں اس کوٹھی سی نکلا تو دل بری طرح سے سلگ رہا تھا۔ سینے میں جیسے کسی نے انگارے رکھ دئیے ہوں۔ بات ہی کچھ ایسی تھی میں جو انیلا کو اپنی زندگی کا حاصل سمجھتا تھا وہی میری آرزوؤں کی قاتل تھی۔ اُس نے مجھے ایک مہرے کی طرح استعمال کیا تھا۔ مجھ سے محبت کے ناٹک کا اصل مقصد شہروز کو جلانا تھا تا کہ وہ اس کی طرف لوٹ آئے اور جیسے ہی اس کا مقصد پورا

Read more

ریلوے اسٹیشن اور بھکارن کا سویا ہُوا بچہ

سعید ثانی نے جیب سے ایک سو روپے کا نوٹ نکال کر بھکارن کی طرف بڑھا دیا۔ بھکارن کی آنکھوں میں چمک پیدا ہوئی؛ اس نے اپنی گود میں سوئے ہوئے بچے کو سنبھالتے ہوئے نوٹ پکڑا اور آگے بڑھ گئی۔ ”یار تم سعید ثانی سے حاتم ثانی کب بنے؟ “ میں نے حیرت کا اظہار کیا۔ ”بے چاری مشکل میں ہے اپنے بیمار بچے کے علاج کے ساتھ ساتھ پیٹ بھرنے کی فکر میں بھی مبتلا ہے کاش میں

Read more

اُس کی بیوی نے میاں کے لئے لڑکی کیوں ڈھونڈی تھی

دروازہ کھولتے ہی ایک اجنبی چہرہ نظر آیا۔ درمیانی عمراور متوسط قد کا آدمی، چہرے پر ہلکی داڑھی، گھنی مونچھیں، سر کے بال البتہ آدھے رہ گئے تھے۔ مسکراتے ہوئے سلام و دعا ہوئی۔ پھر اس شخص نے ایک مٹھائی کا ڈبا آگے بڑھایا۔ ”میرا نام سرور ہے، آپ کا نیا پڑوسی ہوں۔ “

” آپ اندر آ جائیں۔ “ یہ سرور صاحب سے میرا پہلا تعارف تھا۔ اس کے بعد ان سے اکثر ملاقاتیں ہوتیں رہیں۔ چند ماہ بعد ایک شام ڈور بیل بجی؛ میں نے دروازہ کھولا تو سرور صاحب پھر مٹھائی کا ڈبا لئے کھڑے تھے۔ ”کیا آپ پھر میرے پڑوسی بن گئے ہیں؟ “ میں نے حیرت سے کہا۔ ”جی نہیں ساتویں بار باپ بن گیا ہوں۔ “ سرور صاحب نے دانت نکالتے ہوئے کہا۔

Read more

چار لڑکیاں اور ایک سبق

نظر پڑتے ہی میں چونک اٹھا، ہیٹ بتانے والی سوئی خطرناک حد کو چھو رہی تھی۔ ایسا کیوں ہوا؟ میں نے پریشانی میں سوچا۔ سڑک ویران اور علاقہ انجان تھا ایسے میں گاڑی کے انجن کا گرم ہونا مصیبت کا پیش خیمہ ہو سکتا تھا۔ اصل میں غلطی تو میری ہی تھی۔ نئے سال کا پہلا دن تھا اور میں ایک دوست کی دعوت پر ملتان سے لیہ روانہ ہو گیا۔ تقریباً اڑھائی گھنٹے کا سفر تھا۔ میں سہ پہر کو روانہ ہوا تھا اب شام ہورہی تھی۔ کوٹ ادو پیچھے رہ گیا تھا میں جمن شاہ کے کہیں آس پاس تھا۔

کار کو تو فوراً روکنا ہی تھا۔ بونٹ کھول کر دیکھا؛ پتہ چل رہا تھا کہ معاملہ سیریس ہے۔ شاید ریڈی ایٹر کا پانی لیک کر گیا تھا۔ عام طور پر کار میں دو تین پانی کی بوتلیں رکھتا ہوں لیکن آج کچھ ایسی عجلت میں روانہ ہوا تھا کہ تیل پانی چیک ہی نہیں کر سکا تھا پھر پانی کی بوتلیں خالی پڑی تھیں۔ دائیں بائیں دیکھا تو صورتِ حال کی سنگینی کا صحیح اندازہ ہوا۔

Read more

گالیاں، عورت کی تذلیل اور ہمارے رویے

یوں تو گالیاں دنیا کے ہر خطے میں بکی جاتی ہیں لیکن ہمارے ہاں یعنی برصغیر کی گالیوں کی نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ تقریباً ہر گالی کسی نہ کسی حوالے سے عورت سے منسوب ہوتی ہے۔ مردوں کی زندگی میں عورت کئی رشتوں سے وابستہ ہوتی ہے جن میں ماں۔ بہن، بیوی اور بیٹی بنیادی رشتے ہیں۔ ماں، بہن اور بیٹی کا رشتہ گالی میں ترجیحاً قابلِ توجہ ہوتا ہے۔ گالیوں کے ذریعے خاص طور پر جنسی تعلقات کے

Read more

ریچل نیو ائیر نائٹ منانا چاہتی ہے

گھر کے دروازے پر سیاہ کار دیکھ کر میں چونک اٹھا۔ سہ پہر چار بجے کا وقت تھا۔ یہ کار ریچل کی تھی۔ میں گھر میں داخل ہوا تو اسے منتظر پایا۔ غالباً وقت گزاری کے لئے وہ ریڈ گریپس جوس وقفے وقفے سے ایک ایک گھونٹ لے کر پی رہی تھی۔ مجھے دیکھا تو ایسا منہ بنا لیا جیسے جوس میں کڑواہٹ گھل گئی ہو۔

” یہ تمہارا ملازم بڑا گاؤدی ہے اسے تھوڑی سی انگلش سکھا دو؛ میں نے ڈرنک مانگی تو بولا کہ ہمارے صاحب ڈرنک نہیں کرتے وہ چیز آپ کو یہاں نہیں ملے گی۔ “ پھر کانوں کو ہاتھ لگا رہا تھا۔ ریچل نے ہونٹ چباتے ہوئے انگریزی زبان میں شکوہ کیا۔ میں نے فوراً ملازم کو ڈانٹ پلا کر وہاں سے بھگا دیا۔

” خیریت تو ہے، کیسے آنا ہوا؟ “ میں نے پوچھا۔ ریچل مسکرانے لگی۔ ”تمہیں کڈ نیپ کرنے آئی ہوں۔ چلو گاڑی میں بیٹھو، ہمیں کہیں جانا ہے۔ “

Read more

سوہا نے اپنی پاکبازی کیسے ثابت کی؟

سوہا کمرے میں داخل ہوئی تو کئی نگاہیں اس کی طرف اٹھیں۔ ”لیجئیے آ گئی سوہا بیٹی۔ “ اس کی ماں نے خوشگوار لہجے میں اطلاع دی۔ کمرے میں بیٹھے سب افراد اسی کی آمد کے منتظر تھے۔ بار بار دروازے کی طرف دیکھتے بھی رہے تھے۔ پھر بھی جیسے چونک اٹھے۔ سوہا نے سلام کیا اور اپنی امی کے پاس بیٹھ گئی۔ ”اچھا اچھا! بیٹی کیسی ہو؟ “

شائستہ بیگم نے پوچھا۔ وہ اپنے بیٹے وقار کا رشتہ لے کر آئی تھیں۔ ”جی میں ٹھیک ہوں۔ “ سوہا نے جیسے رٹا رٹایا جواب دیا۔ اس دوران وقار چوری چوری اسے دیکھ رہا تھا۔ ”آپ چائے لیجیے ناں“ سوہا کی ماں نے جیسے یاد دلایا۔ چند لمحوں کے لئے کمرے میں فقط چائے کی پیالیوں کی کھنک اور چمچہ ہلانے کی آوازسنائی دیتی رہی۔

Read more

پارک کے ٹریک پر ہانپتی لڑکی

دو تین گہری سانسیں بھر کر میں نے گویا خود کو ذہنی طور پر تیار کیا اور پھر ٹریک پر سست رفتار سے دوڑنا شروع کیا۔ دوڑنے کی عادت رہی نہیں تھی لہٰذا تھوڑی دیر بعد ہی تھکن کا احساس ہونے لگا۔ چناں چہ رفتار اور کم ہونے لگی۔ اب رفتار اتنی کم تھی کہ اگر کوئی کچھوا مجھ سے مقابلہ کر رہا ہوتا تو یقیناً جیت جاتا۔ ایسے میں جاگنگ کرتی ہوئی ایک لڑکی میرے برابر آ گئی۔

میری حالت پر وہ مسکرائے بغیر نہ رہ سکی۔ چند قدم ساتھ دوڑنے کے بعد وہ آگے نکل گئی۔ میں بھی ہار ماننے والوں میں سے نہیں تھا۔ جیسے تیسے دوڑتا رہا۔ کیوں کہ میرے دوست ڈاکٹر شیخ نے مجھے مشورہ دیا تھا کہ اگر صحت مند رہنا چاہتے ہو تو روزانہ جاگنگ کی عادت ڈال لو؛ بلڈ پریشر بھی نارمل رہے گا۔ میں ماڈل ٹاؤن میں مقیم تھا۔ ماڈل ٹاؤن پارک گھر سے انتہائی قریب تھا اس کے باوجود میں پارک میں نہ آتا تو حماقت ہوتی۔

جب میں بے ہنگم طریقے سے بھاگتے بھاگتے تھک گیا تو ایک درخت کے تنے سے ٹیک لگا کر کھڑا ہو گیا۔ اسی وقت وہ لڑکی دوبارہ نظر آئی غالباً وہ چکر مکمل کر کے آرہی تھی اس نے مجھے دور سے ہی دیکھ لیا تھا۔ قریب آ کر میری حالت دیکھی تو باقاعدہ ہنستے ہوئے بولی۔ ”لگتا ہے آپ پہلی بار جاگنگ کے لئے نکلے ہیں۔ “

” آپ کا کہنا بجا ہے محترمہ؛ اس میدان میں نووارد ہوں لیکن سانس تو آپ کی بھی پھولی ہوئی ہے“ وہ رک گئی۔ وہ عام دبلی پتلی لڑکیوں کی طرح نہیں تھی کچھ فربہ تھی لہٰذا ریڈ ٹی شرٹ میں نشیب و فراز کچھ زیادہ نمایاں تھے۔ اس کا فراخ گریبان توجہ طلب تھا۔ سرخ و سپید پیشانی پر پسینے کے چھوٹے چھوٹے قطرے چمک رہے تھے۔ اس پہ مستزاد یہ کہ وہ ہانپ رہی تھی۔

Read more

اگر آپ ایک مرد ہیں

سڑک پر آمدورفت جاری تھی۔ یہ شہر کی ایک ضمنی سڑک تھی لہٰذا ٹریفک کم تھی پیدل چلنے والے زیادہ تھے۔ ان میں مرد و زن، بچے اور بوڑھے سب تھے۔ یونہی میری نگاہ سامنے سے آنے والے ایک شخص پر پڑی۔ یقیناً وہ مردانہ وجاہت کا اعلیٰ نمونہ تھا۔ تقریباً چھ فٹ قد، مضبوط ہاتھ پیر، چہرے پر ہلکی داڑھی اور بڑی بڑی مونچھیں۔ ابھی میں اس کی رعب دار شخصیت سے مرعوب ہونے کو تھا کہ اچانک اس کی شخصیت کا بت ریت کے محل کی طرح مسمار ہو گیا۔

ہُوا یہ کہ اس نے اپنا ہاتھ شلوار کی طرف بڑھایا، ازار بند کھولا اور دیوار کی طرف بیٹھ کر پیشاب کرنے لگا۔ وہاں سے گزرنے والی چند عورتیں دیکھتے ہوئے بھی نہ دیکھنے کی طرح چلتی گئیں کچھ نے منہ دوسری طرف کر لیا۔ پہلے تو دماغ کا درجہ حرارت بوائلنگ پوائنٹ کی طرف بڑھا لیکن پھر فوراً نارمل ہو گیا۔ کیوں کہ مجھے خیال آیا کہ اس کا عمل بالکل درست تھا۔ وہ عورت نہیں ایک مرد تھا۔

Read more

ظالم نے اتنا مارا کہ پیٹھ سے کھال ادھیڑ کر رکھ دی

وہ چار پائی پر الٹا گھٹنوں کے بل اوندھا پڑا تھا۔ پیٹھ سے کپڑا ہٹا ہُوا تھا اور اس کی پیٹھ پر زخموں کے گہرے نشان تھے۔ بے چارہ اپنے زخموں کی وجہ سے نہ بیٹھ سکتا تھا نہ سیدھا لیٹ سکتا تھا۔ دس بارہ سال اس کی عمر ہو گی اور گھر کی حالت سے لگتا تھا کہ انتہائی غریب گھرانا ہے۔ یہ منظر سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو میں دیکھا گیا۔ اس لرزہ خیز منظر نے دل چیر

Read more

کنوارے بھتیجے کی اپنے چچا سے گفتگو

میں خود کشی کرنا چاہتا ہوں اور اس کی ذمہ داری آپ پر ہوگی۔ بھتیجے نے بالاخر جی کڑا کر کے کہ دیا۔ ”ہائیں میرے پیارے بھتیجے یہ تم کیا کہہ رہے ہو۔ خود کشی کریں تمہارے دشمن۔ ابھی تومیں نے تمہارے سر پر سہرا سجانا ہے۔ یہ آخر تمہیں ہو کیا گیا ہے ؛ پہلے تو تم نے کبھی ایسے بات نہیں کی۔“ چچا نے شدید پریشانی میں سر کھجاتے ہوئے کہا۔

”ہاں ہاں! میں نے اس سے پہلے کبھی ایسے بات نہیں کی، کیوں کہ اس سے پہلے میں نے کسی غیر شادی شدہ بھتیجی کا خط اپنی آنٹی کے نام نہیں پڑھا تھا۔ جب اس میں اتنی جرات ہو سکتی ہے تو میں نے بھی چوڑیاں تو نہیں پہن رکھیں۔“ بھتیجا کھول رہا تھا۔

”میاں بھتیجے مانا کہ تم جوش میں ہو مگر ہوش سے کام لو یہ محاورہ اس موقعے پر نہیں بولا جاتا۔ تمہیں اس موقعے پر غالب کا شعر پڑھنا چاہیے تھا،“ میں بھی منہ میں زبان رکھتا ہوں، کاش پوچھو کہ مدعا کیا ہے۔ ”چچا جھنجلا کر بولے۔

Read more

جب داغ کسی کو لگتا ہے

حاجی صاحب کم کم ہی آتے تھے۔ کاروبار ان کے عملے نے سنبھالا ہوا تھا۔ البتہ یہ بات مشہور تھی کہ انتہائی کنجوس آدمی ہیں۔ حاجی صاحب کا ایک بیٹا بھی تھا جو اصلی باس تھا۔ بڑا دل پھینک اور آوارہ مزاج تھا۔ دکان کے اکثر ملازمین دبے لفظوں میں اس کی آوارگی کے قصے ایک دوسرے کو سناتے تھے اور حظ اٹھاتے تھے۔ اس کا نام شاہد تھا۔ وہ دکان میں آنے والی ہر خو بصورت لڑکی سے راہ و رسم بڑھانے کی کوشش ضرور کرتا تھا خواہ اسے نا کامی ہو۔

ایک دن دو لڑکیاں دکان میں آئیں، ایک کا نام شہلا اور دوسری کا زینب تھا۔ زینب، شہلا کو کسی کا نام لے کر چھیڑ رہی تھی۔ پھر وہ اس پورشن میں آ گئیں جہاں میں موجود تھی میرے ارد گرد میرے جیسی کئی جیکٹس تھیں، بلیک، گرے، براؤن، ڈارک براؤن وغیرہ۔ میں ان کے درمیان بڑے غرور سے ٹنگی ہوئی تھی کیوں کہ مجھے اپنی رنگت اور بناوٹ سب سے پیاری لگتی تھی لیکن وہ کہتے ہیں ناں کہ حسن تو دیکھنے والے کی نظر میں ہوتا ہے۔ شہلا نے مجھے چھوڑ کر ایک بلیک جیکٹ کو پسند کر لیا۔

Read more

نئے پاکستان کا مثبت خبرنامہ

آج کی پہلی خبر ڈالر کے حوالے سے ہے۔ ڈالر کی قیمت میں دو روپے کی کمی کی گئی ہے اب ڈالر دس روپے بیس پیسے تک آ گیا ہے۔ روپے کی قیمت مزید مستحکم ہوگئی ہے۔ دنیا بھر کے سرمایہ دار پاکستان میں سرمایہ کاری کے لئے مرے جا رہے ہیں لیکن وزیراعظم نے انہیں مشورہ دیا ہے کہ فی الحال وہ مری جا کر برفباری دیکھیں کیوں کہ سرمایہ داروں کی فہرست مرتب کی جا رہی ہے دیکھیں کس کا نمبر پہلے آتا ہے۔

اسی حوالے سے دوسری خبر یہ ہے کہ نئے پاکستان کے وزیر خزانہ کو تمام ترقی یافتہ ممالک نے ان کی بے مثال کارکردگی کی بنا پر اپنے اپنے ملک کی سٹیزن شپ آفر کر دی ہے۔ یہ تمام ممالک بطور وزیرِ خزانہ ان کی خدمات لینا چاہتے ہیں لیکن اسد عمر نے یہ کہتے ہوئے صاف انکار کر دیا کہ ”سب سے پہلے پاکستان۔ “

Read more

غیر ضروری شرم نقصان دہ ہے

ریسٹورانٹ میں بیٹھے ہوئے میری آنکھوں کے سامنے ایک تیرہ چودہ برس کی لڑکی نے چاول ڈالے اور پلیٹ بے دھیانی میں میز کے بالکل کنارے پررکھ دی۔ اس سے پہلے کہ میں یا کوئی اور اسے خبردار کرتا۔ پلیٹ فرش پر جا گری۔ شرم سے اس کا چہرہ سرخ ہو گیا۔ اس کے ساتھ اس کے ماں باپ اور بہن بھائی بھی بیٹھے تھے۔ کئی افراد نے مڑ کر دیکھا چند ایک ہنسے بھی۔ اگرچہ اس کے والدین نے

Read more

گورنر ہاؤس کی دیوار گرانے کا مشورہ کس نے دیا تھا؟

ڈاکٹر کاشف جاوید شیخ خوشی سے سرشار گویا ہوئے۔ "دیکھا کتنا بڑا کام ہونے جا رہا ہے۔ عوام اور حکومت کے درمیان فاصلے مٹ رہے ہیں۔ گورنر ہاؤس کی دیوار گرائی جا رہی ہے۔” محترم اطلاعاً عرض ہے کہ سپریم کورٹ نے فی الحال دیوار گرانے سے روک دیا ہے۔ ابھی فیصلہ ہونا باقی ہے۔” میں نے جواب دینا ضروری سمجھا۔ ” ایں ! ایسا کیوں کیا؟ ” ڈاکٹر صاحب چونک اٹھے۔ پہلے یہ بتائیے کہ آپ کو دیوار گرانے

Read more

رات، سفر اور لڑکی

سپر مارکیٹ میں پیٹرول کی ٹینکی فل کرائی اور کار دھیرے سے آگے بڑھا دی۔ رات کے گیارہ بج رہے تھے۔ ایک سٹور کے سامنے کار روک کر باہر نکلا تو ٹھنڈی ہوا نے استقبال کیا۔ دسمبر کے مہینے میں اور کیا توقع کی جاسکتی ہے۔ بہر حال کھانے پینے کی چند اشیا خرید کر کار میں بیٹھا ہی تھا کہ لیفٹ ہینڈ سائیڈ پر کسی کی موجودگی کا احساس ہوا۔ نگاہ ڈالی تو ایک حسین چہرہ نظر آیا۔ شاید وہ کچھ کہنا چاہتی تھی۔ شیشہ نیچے کیا تو تھوڑا جھک کر بولی۔ ”اکیلے ہو؟ “

” اب کہاں رہا، کہاں جاؤ گی؟ “ میں نے مسکرا کر کہا۔ ”یہ تو تم پر منحصر ہے۔ “ اس نے دلفریب مسکراہٹ کا جال پھینکا۔

” بیٹھو“ میں نے اشارہ کیا۔ وہ فوراً ساتھ والی سیٹ پر بیٹھ گئی۔ ”تمہیں کہاں ڈراپ کروں؟ “ میں نے کار آگے بڑھاتے ہوئے کہا۔ ”کمال ہے، ایسے انجان بن رہے ہو جیسے جانتے نہیں۔ “ لڑکی نے معنی خیز لہجے میں کہا۔ اس کا انداز اور گفتگو مجھے متاثر کر رہے تھے۔

Read more

مرغی والا گاؤں کا چودھری کب بنے گا؟

ایک گاؤں میں غربت کا دور دورہ تھا۔ اس گاؤں کا ہر شخص مقروض تھا۔ اکثریت کا پیشہ کھیتی باڑی تھا لیکن گاؤں کے پاس سے گزرے والی نہر کا پانی کھیتوں تک آتے آتے سوکھ جاتا تھا کیونکہ شدید گر می پڑتی تھی۔ اس کا ایک حل گاؤں کے دانشور بابے نے یہ بتایا تھا کہ نہر کو پکا کیا جائے اور اس کو کور کر دیا جائے لیکن اس بڑے پراجیکٹ کے لئے کسی کے پاس پیسے نہیں

Read more

یوٹرن اور دماغ کی دہی

تیزی سے بدلتی ہوئی دنیا میں الفاظ کے معانی بھی تیزی سے بدلتے جا رہے ہیں۔ کیا اچھا ہے اور کیا بُرا یہ جاننے کے لئے ضروری ہے کہ آپ کا مقدور اتنا ہو کہ ” لسان العصر ” کو ساتھ رکھ سکیں جو آپ کی اصلاح کرتا رہے تاکہ آپ درست کو غلط اور غلط کو درست نہ سمجھ لیں۔ مثلاً اگلے وقتوں میں داغ کو بُرا سمجھا جاتا تھا خواہ چنری میں لگا ہو یا پگڑی میں۔ پھر

Read more

مبارک ہو گوری پھنس گئی ہے

سوہنی تو دریا پار کر کے مہینوال سے ملنے جاتی تھی مگر یو ایس اے کی ماریہ ہیلینا سمندر پار کر کے کاشف کے پاس سیالکوٹ پہنچ گئی۔ سوہنی کو کچا گھڑا لے ڈوبا تھا لیکن ماریہ کو آہنی جہاز نے منزلِ مقصود تک پہنچا دیا۔ اسی خوشی میں ایک نجی ٹی وی کے اینکر پرسن نے اس جوڑے کا مختصر انٹرویو کیا جو سوشل میڈیا پر گردش کر رہا ہے۔ ماریہ ہیلینا 41 برس کی ہیں اور کاشف کی

Read more

عورت لباس کیوں پہنتی ہے؟

  مال روڈ پر چلتے چلتے اچانک میری نگاہ ایک پختہ عمر کی لڑکی پر پڑی۔ وہ ماڈرن لباس میں ملبوس تھی۔ اُس کا چہرہ دیکھتے ہی مجھے اپنائیت کا احساس ہوا۔ شاید اس نے بھی میری نظروں کو محسوس کر لیا تھا کیونکہ اس نے بھی مجھے غور سے دیکھا۔ اس کے لبوں پر مسکراہٹ آگئی وہ تیزی سے میری طرف بڑھی اور ہاتھ آگے بڑھا دیا۔ تب اچانک مجھے سب یاد آگیا میں نے ہاتھ ملایا تو میرے

Read more

ثبوت تو دینا پڑے گا

دروازہ کھولا تو جیلا یوں تیزی سے اندر آیا جیسے اس کے پیچھے کتے لگے ہوں۔ ”کیا ہوا جیلے! اتنے بد حواس کیوں ہو؟ “

”آپ اپنی فکر کریں صاحب! آپ کے مکان پر قبضہ ہو گیا ہے۔ “ جیلے نے فوراً اطلاع دی۔ ”ہیں؟ کیا کہ رہے ہو، کس نے کیا ہے قبضہ؟ “ میں نے اسے بیٹھنے کا اشارہ کرتے ہوئے کہا۔ ”وہی جس کے حوالے آپ مکان کی چابیاں کر کے آئے تھے۔ “ جیلا بولا۔

”لیکن پپو ایسا کیوں کرے گا؟ “ میں نے حیرت سے کہا۔ ”یہ تو آپ پپو سے ہی پوچھیں، مجھے صرف اتنا پتہ ہے کہ اس وقت آپ کے مکان میں اس کی چار بھینسیں بندھی ہیں اور وہ گاؤں والوں سے کہتا ہے کہ آپ نے مکان اسے بیچ دیا ہے۔ “

بات کتنی سنگین ہے مجھے اُس وقت اندازہ نہیں تھا۔ گاؤں کا مکان اکثر بند پڑا رہتا تھا۔ جب کبھی میں نے گاؤں جانا ہوتا تھا، میں اپنے پڑوسی پپو کو اطلاع کر دیتا کہ میں آرہا ہوں، وہ مکان کی صفائی وغیرہ کروا دیتا تھا۔ اس واقعے سے چند دن پہلے میں گاؤں گیا تھا تو میں نے پپو سے کہا تھا کہ مجھے کچھ پیسوں کی ضرورت ہے اور اس مکان کا مجھے کوئی خاص فائدہ نہیں ہے لہٰذا میں اسے بیچنا چاہتا ہوں ؛ تم کوئی گاہک تلاش کرو۔ گاہک ملا نہیں اور یہ خبر مل گئی۔ جیلا یعنی جمیل بھی میرا گاؤں کا قابلِ اعتماد دوست تھا۔ لیکن وہ میرے مکان سے ذرا فاصلے پر رہتا تھا۔

Read more

جب ایک لڑکی ہماری مہمان بنی

میں نے فلیٹ کے دروازے کا تالا کھولنے کے لیے چابی جیب سے نکالی لیکن دروازے پر نگاہ پڑتے ہی چونک اٹھا۔ دروازے پر تالا نہیں تھا، کہیں گھر میں کوئی چور تو نہیں گھس گیا یہ پہلا خیال تھا جو ذہن میں آیا۔ دروازے کو دبا کر دیکھا دروازہ اندر سے بند تھا لیکن پھر اپنے خدشات پر مجھے خود ہی ہنسی آگئی۔ شاید نومی واپس گیا ہو یہ سوچتے ہوئے میں نے ڈور بیل بجائی۔ دروازہ کھلا تو

Read more

گھوڑا گھاس کھاتا ہے

کھڑکی سے سورج کی روپہلی کرنیں میرے چہرے پر پڑ رہی تھیں، میں نے گھڑی کی طرف دیکھا صبح کے آٹھ بج رہے تھے، کیلنڈر کی طرف دیکھا یکم نومبر 2029 کا دن تھا۔ اچھل کر بستر سے نکلا۔ اوہ آج تو مجھے ایبٹ آباد جانا تھا۔ یہ بات یاد آئی تو بجلی کی سی تیزی سے منہ ہاتھ دھو کر گیراج میں پہنچا۔ گیراج میں اپنے مشکی گھوڑے کوتوانا دیکھ کر دل کو اطمینان ہُوا۔ گھوڑا مجھے دیکھ کر

Read more

تبدیلی آ تو رہی ہے

کچھ دوستوں کا خیال ہے کہ ہم نے کپتان سے جس تبدیلی کی توقعات وابستہ کی تھیں وہ پوری نہیں ہو پا رہی ہیں۔ ہر گزرتا دن امیدوں کو دھندلا رہا ہے۔ ہم ان دوستوں کی خدمت میں عرض کرنا چاہتے ہیں کہ ذرا صبر سے کام لیں۔ اتنی جلدی کیا ہے جس تبدیلی کا کپتان نے وعدہ کیا تھا اس کا آغاز ہو چکا ہے۔ مثلاً اعظم سواتی کا فون نہ اٹھانے پر آئی جی اسلام آباد تبدیل۔ محمود

Read more

بھارتی چینلز پر پابندی کی ضرورت کیا ہے

سپریم کورٹ نے بھارتی مواد دکھانے پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔ غیر ملکی مواد دکھانے سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس پاکستان ثاقب نثار برہم ہو گئے۔ انھوں نے ریمارکس دیے کہ کوئی ہمارا ڈیم بند کرا رہا ہے، ہم ان کے چینلز بھی بند نہ کریں۔ چیف جسٹس نے حکم دیا کہ بھارتی مواد کو بند کیا جائے۔ پاک بھارت تعلقات جب بھی کشیدہ ہوئے ہیں بھارتی مواد پر پابندی ضرور لگتی ہے۔ کبھی

Read more

کپتان کے انمول رتن

مغل شہنشاہ جلال الدین محمد اکبر نے اپنے والد بادشاہ ہمایوں کے انتقال کے بعد حکومت سنبھالی اور تقریباً پچاس سال ہندوستان پر حکومت کی۔ اکبرِ اعظم بذاتِ خود تعلیم یافتہ نہیں تھے لیکن اعلیٰ دماغ کے مالک تھے اور انسان شناس بھی لہٰذا ہر مذہب کے فرد کو دربار تک رسائی حاصل تھی۔ ان میں سے سپاہیانہ، ذہانت، فطانت، ظرافت، علم و حکمت اور فنکارانہ صلاحیتوں کے مالک افراد ان کے اہم درباری تھے۔ انہی میں وہ ”نو رتن“ بھی تھے جن میں ہر ایک اپنی جگہ با کمال تھا۔ رتن کا لغوی معنی موتی، ہیرا وغیرہ ہے لیکن اکبر اعظم کے نو رتن ان نو قابل آدمیوں کی ٹیم تھی جنہوں نے اپنے آقا کی سلطنت کی توسیع و ترقی کے لئے آئینی، علمی، ادبی اور عملی خدمات سر انجام دیں۔

ہمارے کپتان کے پاس بھی ایسی ٹیم ہے جس میں کوئی ہیرا ہے تو کوئی یاقوت، کوئی زمرد، کوئی نیلم، کوئی پکھراج، کوئی لعل ہے تاہم ایک فرق ضرور ہو سکتا ہے کہ عددی اعتبار سے یہ انمول رتن نو سے زیادہ ہو سکتے ہیں مگر کم نہیں ہیں۔ ان میں سے پہلے نمبر پر ہم فیاض الحسن چوہان کا ذکر کریں گے جو اپنی مثال آپ ہیں۔ فراز نے غالباً انہی کے بارے میں کہا تھا کہ ”سنا ہے وہ بولے تو باتوں سے پھول جھڑتے ہیں“ ان کی خوش بیانی کے چرچے چار دانگِ عالم میں پھیل چکے ہیں۔ پنجاب کے وزیرِ اطلاعات و نشریات بنتے ہی اداکارہ نرگس کے بارے میں ایسے کلمات ادا کیے کہ نرگس کو فوری طور پر ستائشِ باہمی کے اصول کے مطابق اسی طرح کے کلمات سے ان کو بھی نوازنا پڑا لیکن نہ جانے کیوں وہ شرمندہ سے ہو گئے اور پریس کانفرنس کر کے اپنے الفاظ واپس لے لئے۔

Read more

فرسٹریشن کے مارے ہوئے لوگ

جمعیت، جو کہ نہایت پر امن تنظیم ہے، کے صالح طالبِ علموں نے ایک بے راہرو لڑکی کو خوب سبق سکھایا۔ اس بیس بائیس سالہ لڑکی کو کئی بار اس کے ہم عمر نوجوان کے ساتھ دیکھا گیا تھا۔ یہ نوجوان صبح لڑکی کو یونیورسٹی چھوڑنے کے بہانے اس کی پر شباب رفاقت سے فیض یاب ہوتا تھا اور پڑھائی کا وقت ختم ہونے کے بعد اسے واپس لے جانے کے بہانے پھر آ دھمکتا تھا تا کہ پرہیز گار

Read more

وہ ان کہی جو آج بھی لفظوں سے محروم ہے

میں اپنی نئی غزل ایڈیٹر صاحب کے حوالے کر کے وہیں صوفے پر بیٹھ گیا۔ میں ان دنوں ہفت روزہ ”لیل و نہار“ کے ادبی صفحے کا انچارج تھا۔ ابھی اسی حوالے سے کوئی بات کرنی تھی۔ اچانک خوشبو کا ایک جھونکا آیا اور میں نے بے اختیار دروازے کی طرف دیکھا۔ اٹھارہ انیس برس کی ایک خوش شکل لڑکی دروازے سے اندر آ چکی تھی۔ عام طور پر ایڈیڑ صاحب ایسی مداخلت پسند نہیں کرتے تھے مگر اس وقت

Read more

کیوں کہ عمران خان عوام کے پسندیدہ لیڈر ہیں

جنرل الیکشن کے بر عکس ضمنی الیکشن میں پی ٹی آئی کی کام یابی کا تناسب بہت کم رہا۔ حیرت انگیز طور پر پر یہ اپنی بعض جیتی ہوئی نشستیں بھی ہار گئی۔ لیکن اس کا یہ مطب ہرگز نہیں لینا چاہیے کہ نصیبِ دشمناں اس کی مقبولیت میں کوئی کمی واقع ہوئی ہے۔ در حقیقت "ہوئی ہے جو ہار تو کوئی باعثِ ہار بھی تھا۔” در اصل پی ٹی آئی ملک کی مقبول ترین جماعت ہے لیکن چند نادیدہ

Read more

وہ کہتی تھی کہ مجھے سانس لینے دو

فون کال رسیو کرتے ہی ڈاکٹر کاشف جاوید شیخ اٹھ کھڑے ہوئے، “ ہمیں ابھی واپس ہسپتال جانا ہو گا“۔ ڈاکٹر کے لہجے میں قطعیت نمایاں تھی۔ ”یار ڈاکٹر ابھی تو میں تمہیں مریضوں کے چنگل سے آزاد کرا کے لایا تھا، رات کے دس بجے ہیں، سامنے بھُنا ہُوا مرغ پڑا ہے اور تم ہسپتال جانے کی بات کر رہے ہو۔ “ میں نے جلدی سے کہا۔ ”کھانا بعد میں کھا لیں گے، ایمر جنسی کیس ہے اینڈ یو

Read more

عمران خان کا وہ خطاب جو نشر نہ ہو سکا

میرے پاکستانیو! آج سب سے پہلے میں مرزا غالب کا ذکر کروں گا۔ نہیں نہیں میں ان کو کابینہ میں شامل نہیں کر رہا، کابینہ میں شمولیت کے لئے تو میرے بہت سے قابل دوست قطار میں کھڑے ہیں لیکن میں نے ان سے کہ دیا ہے کہ تمام فیصلے میرٹ پر ہوں گے ابھی ان کو انتظار کرنا ہو گا۔ پچاس دن میں چالیس سے زیادہ وزیر بنانا ہماری میرٹ پالیسی کے خلاف ہے۔ آج کا موضوع مہنگائی ہے۔

Read more

شکریہ میرے کپتان! بن گیا نیا پاکستان

جی چاہ رہا ہے کہ زار و قطار قہقہے لگائیں اور خوشی کے آنسوؤں کے دریا بہا دیں کیونکہ وہ تبدیلی جس کے لئے ہم نے ووٹ دیے تھے وہ آ چکی ہے۔ نیا پاکستان بن گیا۔ ایک ایسا پاکستان جس میں وزیرِ اعظم سے لے کر ریڑھی والے تک ہر شخص بچت پلان پر عمل کر رہا ہے۔ وزیرِ اعظم کی سفری بچتوں کا راز توفواد چودھری نے افشا کر دیا تھا۔ غریبوں کی بچت کا احوال ہم سنا

Read more

خود کو تباہ کر لیا اور ملال بھی نہیں

ہم لوگ بہت عجیب ہیں، ہماری پسند اور ناپسند کے اپنے معیارات ہیں جو اکثر عالمی معیار کے برعکس ہوتے ہیں مگر ہم صدق دل سے ان پر نا صرف عمل پیرا ہوتے ہیں بلکہ انہیں درست ثابت کرنے کے لئے ایسے ایسے دلائل ڈھونڈ کے لاتے ہیں کہ افلاطون بھی سن کر اش اش کر اٹھے۔ مثلاً سیاست کے میدان میں کسی کے لئے کوئی لیڈر محض اس لئے پسندیدہ ٹھہرتا ہے کہ اسے اس کی شکل پسند ہے۔

Read more

قندیل تمہیں مرنا ہی تھا

قندیل بلوچ تمہارے قتل کیس میں ایک اہم موڑ آیا ہے، تمہارے باپ نے اپنے بیٹے اور قتل کے مرکزی ملزم وسیم کومعاف کرنے کے لئے بیانِ حلفی عدالت میں جمع کرا دیا ہے۔ شاید تمہیں اس پرحیرت ہوئی ہو کہ ایک قاتل کو سزا دینے کی بجائے آزاد کرانے کی کوشش کیوں ہو رہی ہے۔ سچ پوچھو تو اس میں حیرانی کی کوئی بات نہیں ہے۔ در اصل تم اندازہ ہی نہیں لگا سکیں کہ تمہارا جرم کیا ہے،

Read more

عمران خان پر الزامات لگانے سے پہلے سوچ لیں

پاکستان میں 50 لاکھ گھر بنانے کے لئے قائم کردہ عمران خان کی ٹاسک فورس میں ایڈوائزر کا کردار نبھانے کے لئے انیل مسرت کا نام لیا جا رہا ہے۔ انیل مسرت برطانیہ میں ایک بہت بڑے پراپرٹی ٹائیکون ہیں، انہوں نے چار سے چھ بلین پاؤنڈذ کی تعمیرات کی ہیں۔ یہ برطانیہ میں مقیم امیر ترین پاکستانیوں میں سے ایک ہیں۔ یہ 2004 سے عمران خان کو جانتے ہیں اور ان کے لئے فنڈ ریزنگ کرتے رہے ہیں۔ انہوں

Read more

شیرو خوفزدہ ہے

”شیرو“ کی مقبولیت تو پہلے بھی کچھ کم نہ تھی مگر اب تو اس کی شہرت کو چار چاند لگ چکے ہیں۔ ظاہر ہے اگر نسبت وزیرِاعظم سے ہو تو ایک کتا بھی شیر ہوتا ہے، یعنی ”شیرو“ ہوتا ہے۔ سلیم صافی نے تازہ ترین انکشاف یہ کیا ہے کہ فقط عمران خان ہی ہیلی کاپٹر میں نہیں آتے جاتے ان کے ہمراہ ان کا جگری کتا بھی ہوتا ہے۔ خدا جانے سلیم صافی کو کیا سوجھی جو یہ راز

Read more

نئے پاکستان کے وزیرِ اعظم کا بچت پلان اور دورہ کراچی

نیا پاکستان بننے کے بعد جب وزیرِ اعظم نے اپنی رہائش گاہ میں منتقل ہونے کا فیصلہ کیا تو انہیں بتایا گیا کہ اسی وزیرِ اعظم ہاؤس میں پُرانے پاکستان کے وزیرِاعظم بھی رہتے رہے ہیں اور اس گھر کا خرچہ بہت زیادہ ہے۔ اس گھر میں بہت زیادہ کمرے ہونے کی وجہ سے بجلی کا بل بھی بہت زیادہ آتا ہے۔ یہ سن کر وزیر اعظم نے پی ایم کے ملٹری سیکریٹری کا گھر اپنے لئے پسند کر لیا

Read more

گل باز اپنے دوست کے بغیر نہیں رہ سکتا

’’اُس دن میں بہت خوش تھی۔ برسوں کی ان تھک محنت اور منتوں مرادوں کے بعد اکلوتے بیٹے کی شادی کا دن آن پہنچا تھا۔ صبح سویرے بارات کی تیاری تھی۔ گھر مہمانوں سے بھرا ہوا تھا۔ میں نے اپنا سب سے شان دار جوڑا پہنا تھا۔گل باز ابھی تک اپنے کمرے سے نہیں نکلا تھا۔ پہلے تو میں نے سوچا کہ تیار ہو رہا ہو گا، مگر اتنی لمبی تیاری میرے دل میں طرح طرح کے وسوسے ڈال رہی

Read more

اعتزاز احسن: وہ جنگ تم بھی نہ جیتے جو ہم نے ہاری ہے

نئے پاکستان میں عارف علوی صدرِ پاکستان کے عہدے پر فائز ہو چکے ہیں۔ اعتزاز احسن نے شکست کھائی۔ چناں چہ روایت قائم رہی اور کوئی اپ سیٹ نہ ہو سکا۔ اگر چہ یہ اندازہ پہلے ہی لگایا جا چکا تھا کہ عارف علوی اس انتخاب میں کام یاب رہیں گے لیکن یہ فتح کچھ جچ نہیں رہی۔ ایک عجیب سا احساس ہو رہا ہے، جیسے کوئی چلتے چلتے دور نکل آیا ہو، جیسے کوئی ڈاکیا خط نہ لایا ہو،

Read more

یہاں رونے کی اجازت نہیں ہے

’’چلو کہیں دور یہ سماج چھوڑ دیں، دنیا کے رسم و رواج توڑ دیں ‘‘ مہدی حسن کی آواز میں یہ نغمہ تو آپ نے سنا ہوگا۔ یہ سماج بڑی ظالم چیز ہے۔ عام طور پر تو محبت کرنے والے یہ شکوہ کرتے نظر آتے ہیں۔ مگر ایک شکوہ اور بھی ہے جو توقعات کے بر عکس عورتوں کو نہیں ہے۔ ۔ کہنے کو یہ مردوں کا معاشرہ ہے جس میں مرد کی حاکمیت قائم ہے اور خواتین ہر فورم

Read more