وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی فواد چودھری خود کو میڈیا میں زندہ رکھنے کا فن خوب جانتے ہیں۔ وزارت اطلاعات بالخصوص موجودہ حکومت جو میڈیا پر اپنا میسج بطریق احسن پہنچانے کے لئے ضرورت سے زیادہ ہی کوشاں رہتی ہے، کے وزیر اطلاعات جوحکومت کے چیف ترجمان ہوتے ہیں، کی میڈیا پر ٹاک شوز میں حاضر باشی ہمہ وقت رہتی ہے۔ خیال تھا کہ فواد چودھری سے وزارت اطلاعات کا قلمدان لے کر انہیں سائنس و ٹیکنالوجی کا سونپ دیا گیا ہے لہٰذا وہ کھڈے لائن لگ کر منظر عام سے ہٹ جائیں گے لیکن انہوں نے اس وزارت کے ذریعے رویت ہلال کے معاملے پر علما سے پھڈا ڈال لیا نیز خود کو اپنی وزارت تک محدود نہیں رکھا بلکہ ہر روز شام کو ملکی سیاست کے مختلف پہلوؤں پر تبصرہ کرتے نظر آتے ہیں اور اکثر کوئی نہ کوئی ایسی بات کر جاتے ہیں جو اخبارات کی شہ سرخی بن جاتی ہے۔
فواد چودھری کا تعلق جہلم کے ایک مسلم لیگی خاندان سے ہے اور اس لحاظ سے ایک گھاک وکیل ہونے کے علاوہ سیاست کے مدوجزر کو بھی اچھی طرح سمجھتے ہیں۔ جیسا کہ ان کے ناقدین ان پر الزام عائد کرتے ہیں کہ وہ مسلم لیگ ق اور پیپلزپارٹی میں رہے اور ن لیگ سے بھی ”فلرٹ“ کرتے رہے ہیں لیکن اس مرتبہ فواد چودھری نے وائس آف امریکہ کو جو انٹرویو دیا ہے وہ گھر کا بھیدی لنکا ڈھائے کے مترادف ہے۔ انہوں نے وہ باتیں برملا کہہ دیں جو اکثر سیاسی مبصرین بالخصوص تحریک انصاف کی لیڈر شپ کے لیے تو نئی نہیں تھیں۔
Read more