علی زیدی کی کاوشوں سے ’’ لینے کے دینے ‘‘ والا بنتا ماحول

جون 2020 کے آخری روز جب تحریک انصاف کے کراچی سے منتخب ہوکر انتہائی تگڑے،متحرک اور بلند آہنگ وزیر ہوئے جناب علی زیدی صاحب نے قومی اسمبلی میں کھڑے ہوکر عزیر بلوچ کی بابت تیار ہوئی ایک JIT رپورٹ کی داستان سنائی تو میں بہت حیران ہوا۔’’شرطیہ نئے پرنٹ‘‘ کے ساتھ بنائے ان کے ورژن نے اگرچہ ٹی وی سکرینوں پر بہت رونق لگائی۔ اس رونق کے دوران جان کی امان پاتے ہوئے اس کالم میں استدعا کی تھی کہ

Read more

آیا صوفیہ جامعی

جیسے ہی آیا صوفیہ پر نگاہ پڑی،کیمسٹری کے ایک بزرگ استاد یاد آگئے۔ نام تو ذہن میں نہیں لیکن وہ بڑے باکمال بزرگ تھے۔ ان کی خدمت میں جب بھی حاضر ہوئے، کوئی نہ کوئی بات سیکھ کرہی نکلے۔ ایک روز انھوں نے بتایا کہ یہ جو بارہ مہنیوں کا کیلنڈر ہے، اس میں بڑی خرابی ہے۔کسی مہینے کے دن برابر نہیں۔ پوچھیں کہ ایساکیوں ہے تو عقل کا کوئی جواب نہیں ملتا: ’’پھر اس کا حل کیا ہے؟‘‘فرمایا کہ

Read more

جے آئی ٹیز کا ابال

لیاری گینگ کے سرغنہ عزیر بلوچ کے جرائم اور اس کے پشت پناہوں کے بارے میں مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی ) کی رپورٹ منظر عام پر آنے کے بعد سیاست کی باسی کڑھی میں خاصا ابال آ گیا ہے کیونکہ پیپلز امن کمیٹی کے سربراہ عزیر بلوچ کی مجرمانہ کارروائیوں، بلدیہ ٹاؤن کی فیکٹری میں ستمبر 2012 ء میں ہونے والے آتشزدگی کے واقعہ میں ہلاکتوں یا پھر فشرمین کوآپریٹو سوسائٹی (فشریز) کے سابق چیئرمین نثار مورائی کے حوالے سے الزامات میں کوئی نئے انکشافات نہیں ہیں۔

سیاستدانوں، جرائم پیشہ عناصر اور قانون نافذ کرنے والوں کی بالخصوص کراچی میں ملی بھگت بھی کوئی نئی خبر نہیں ہے۔ کسے معلوم نہیں کہ ایم کیو ایم کے ٹھگوں نے بھتہ وصول نہ ہونے پر جس کی رقم اب 25 کروڑ روپے بتائی جاتی ہے بلدیہ ٹاؤن میں گارمنٹس فیکٹری کو نذر آتش کر دیا جس میں 279 سے زائد افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے لیکن اتنے سنگین معاملے کو اس وقت کی حکومت میں شامل ایم کیو ایم، مقامی پولیس اور انتظامیہ کی مبینہ ملی بھگت سے دبا دیا گیا۔

Read more

سیاست سڑکوں پر، خطرہ حکومت کو

پاکستان ایک طرف کورونا کی عالمی وبا کے خلاف جنگ میں مصروف ہے، الحمدللہ کہ ہماری تمام تر بے اعتدالیوں اور بے ضابطگیوں کے باوجود اس کا پھیلاؤ محدود ہو رہا ہے۔ تاجروں اور دکان داروں سے لے کر مفتیان کرام تک نے اس کی ”حوصلہ افزائی“ میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی تھی۔ جب دنیا بھر کی مسجدوں میں معمول کے مطابق نماز ادا نہیں کی جا رہی تھی، یہاں تک کہ بیت اللہ اور مسجد نبوی میں بھی نمازیوں کی تعداد انتہائی محدود کر دی گئی تھی، تراویح کا اہتمام ممکن نہ رہا تھا اور عید کی نماز بھی گھروں پر ادا کرنے کی تلقین کی جا رہی تھی، پاکستان کے مفتیان عظام ایک دوسری روش اپنائے ہوئے تھے۔

ایک انتہائی جید مفتی صاحب کورونا وائرس کے خطرے کو موہوم قرار دے رہے تھے، اور تراویح اور عید کے اجتماعات کو محدود کرنے کی اہمیت سمجھنے پر تیار نہیں تھے۔ تاجر اور دکان دار عید کے موقع پر بازار اور مال مسلسل کھلے رکھنے پر اصرار کر رہے تھے، اور حکومتوں کو احتجاجی تحریک چلانے کی دھمکیاں دے رہے تھے۔ عدالتی ایوان سے بھی عید کی شاپنگ کے حق میں ریمارکس دیے گئے۔ عوام کی بڑی تعداد بھی بگٹٹ تھی۔ عورتیں، بچے، بزرگ سب گھروں سے بے لگام باہر نکل کر خریداری پر تلے ہوئے تھے۔

Read more

عزیر بلوچ اور جے آئی ٹیز کا ابال

لیاری گینگ کے سرغنہ عزیر بلوچ کے جرائم اور اس کے پشت پناہوں کے بارے میں مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی ) کی رپورٹ منظر عام پر آنے کے بعد سیاست کی باسی کڑی میں خاصا ابال آ گیا ہے کیونکہ پیپلز امن کمیٹی کے سربراہ عزیر بلوچ کی مجرمانہ کارروائیوں، بلدیہ ٹاؤن کی فیکٹری میں ستمبر 2012 میں ہونے والے آتشزدگی کے واقعہ میں ہلاکتوں یا پھر فشرمین کوآپریٹو سوسائٹی (فشریز) کے سابق چیئرمین نثار مورائی کے حوالے سے الزامات میں کوئی نئے انکشافات نہیں ہیں۔

سیاستدانوں، جرائم پیشہ عناصر اور قانون نافذ کرنے والوں کی بالخصوص کراچی میں ملی بھگت بھی کوئی نئی خبر نہیں ہے۔ کسے معلوم نہیں کہ ایم کیو ایم کے ٹھگوں نے بھتہ وصول نہ ہونے پر جس کی رقم اب 25 کروڑ روپے بتائی جاتی ہے بلدیہ ٹاؤن میں گارمنٹس فیکٹری کو نذر آتش کر دیا جس میں 279 سے زائد افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے لیکن اتنے سنگین معاملے کو اس وقت کی حکومت میں شامل ایم کیو ایم، مقامی پولیس اور انتظامیہ کی مبینہ ملی بھگت سے دبا دیا گیا۔

Read more

بدلتے حالات میں پیپلزپارٹی کا کردار۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ( 2 )

بے نظیر بھٹو کے بعد پنجاب سے پیپلز پارٹی کی بیدخلی کی سب سے بڑی وجہ مفاہمت کی پالیسی تھی۔ اگرچہ یہ نعرہ خود محترمہ نے لگایا لیکن وہ اس کا مطلب سیاسی پسپائی نہیں لیتی تھیں۔ آصف علی زرداری کو صدر منتخب ہونے کے لئے بہت سی قوتوں سے مصالحت کرنا پڑی۔ ایسے وقت میں جب بے نظیر بھٹو دنیا سے رخصت ہو چکی تھیں آصف علی زرداری کو وہ شرائط یاد کروائی گئیں جو جنرل پرویز مشرف کی ٹیم نے رہا کرتے وقت ان سے منوائی تھیں۔

آصف علی زرداری نے ایک مشکل وقت میں پارٹی کو اقتدار دلایا لیکن ان کے اتحادیوں کی فرمائشوں نے ان کے مخالفین کو ایک بار پھر موقع دیا کہ وہ آصف علی زرداری پر کرپشن اور اختیارات کے ناجائز استعمال کا الزام لگا سکیں۔ آصف علی زرداری نے کسی کو ناراض نہیں ہونے دیا۔ نواز شریف کی خواہش تھی کہ پنجاب میں پیپلز پارٹی ان کی حریف نہ رہے۔ نواز شریف کی یہ خواہش پوری ہو گئی۔ پیپلز پارٹی کے جن کارکنوں اور رہنماؤں نے برسہا برس تک ضیاء الحق اور پھر نواز شریف سے لڑائی کی تھی ان کے لئے مفاہمت کی نئی تشریح ناقابل قبول تھی۔

Read more

کراچی ’’ہجوم سیاست‘‘ کے نرغے میں

بدھ کے روز قومی اسمبلی کا اجلاس شروع ہوا تو چند ہی لمحے گزرجانے کے بعد کم از کم مجھے تو سمجھ آگئی کہ کراچی سے منتخب ہوئے اراکین کو ان دنوں کیا فکر ستائے جارہی ہے۔اپوزیشن سے کہیں بڑھ کر تحریک انصاف اور ایم کیو ایم کی نشستوں سے اراکین نے کھڑے ہوکر دہائی مچانا شروع کردی کہ کراچی اور حیدرآباد کے بیشتر علاقوں میں بجلی میسر نہیں۔مون سون کا سیزن شروع ہوچکا ہے۔اس موسم میں حبس جان لیوا

Read more

بدلتے حالات میں پیپلزپارٹی کا کردار

حکومت کی کمزور ہوتی گرفت اور اسٹیبلشمنٹ کی طرف سے سرپرستی کم ہونے کی خبروں نے مولانا فضل الرحمان‘ شہباز شریف‘ مریم نواز اور بلاول بھٹو زرداری کو الگ الگ سطح پر متحرک کر دیا ہے۔ مولانا نے اختر مینگل والا محاذ سنبھالا‘بلاول نے پی ٹی ایم کے منتخب افراد سے رابطے کئے۔ شہباز شریف کورونا کی آڑ میں آرمی چیف سے صحت یابی کی دعا بذریعہ فون لے چکے ہیں۔ انہیں ایسے امکانات دکھائی دے رہے ہیں کہ سول

Read more

پیپلز پارٹی کو ’’کالعدم‘‘ ٹھہرانے کے ممکنات

ان دنوں کراچی کا اصل مسئلہ اگر Here and Nowکی بنیاد پر سوچیں تو کے-الیکٹرک کی جانب سے فراہم کرد ہ بجلی کے فی یونٹ کی قیمت میں گرانقدر اضافہ ہے۔مون سون کی پہلی بارش ہوئی تو کراچی کے بے شمار علاقوں میں کئی گھنٹوں تک مہنگی ہوئی بجلی بھی دستیاب نہیں تھی۔ خلقِ خدا حبس کی شدت سے بلبلااُٹھی۔ لوگوں پرنازل ہوئے عذاب کا اس شہر سے قومی اسمبلی کے لئے تحریک انصاف کی ٹکٹ پر منتخب ہوئے ڈاکٹر

Read more

پی ٹی آئی برسرِ اقتدار کب آئے گی؟

یہ جولائی کا مہینہ ہے ،کہیں شدید گرمی،کہیں طوفا نی بارشیں۔یہ دوسال اُدھر کی بات ہے۔یہی دِن تھے،سن تھا دوہزاراَٹھارہ۔ملک بھر میں نئے انتخابات ہونے جارہے تھے۔جولائی عام انتخابات کا مہینہ تھا۔ملک کی انتخابی تاریخ میں یہ گیارھویں عام انتخابات تھے اور دوہزارآٹھ کے بعد دوسری بار اقتدار ایک سیاسی جماعت سے دوسری سیاسی جماعت کو منتقل ہو ناتھا۔ انتخابی عمل کا یہ تسلسل ،حقیقی تبدیلی کا نشان سمجھا جارہا تھا۔ پنجاب میں مسلم لیگ ن اور پی ٹی آئی

Read more

مائنس ون: بجھی چنگاری سے شعلوں کی اُمید

اتوار کی صبح اُٹھ کر جو کالم روانی میں لکھا تھا پیر کی صبح چھپ گیا تو اس کے ردعمل میں جو پیغامات ملے انہوں نے بہت کچھ سوچنے کو مجبور کردیا۔غوروفکر کی مشق سے گزرتے ہوئے احساس یہ بھی ہوا کہ میڈیا کے ذریعے ایسے ’’اصول‘‘ بھی فروغ پاتے ہیں جو سیاست میں کامیابی کے لئے ’’کلیدی‘‘ تصور ہونا شروع ہوجاتے ہیں۔عملی زندگی میں اگرچہ وہ قطعاََ لایعنی اور غیر متعلق نظر آتے ہیں۔ قومی اسمبلی کے حال ہی

Read more

’’مرشد مروا نہ دینا‘‘

5 جولائی آیا اور گزر گیا صرف پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے اس روز 43 سال قبل اس وقت کے آرمی چیف جنرل ضیاء الحق کے ہاتھوں اپنے نانا ذوالفقار علی بھٹو کا تختہ الٹنے کے دن کو پاکستان کی تاریخ کا سیاہ ترین دن قرار دیا۔ بلاول بھٹو کی بات اصولی طور پر درست ہے۔ شاید سانحہ مشرقی پاکستان جسے ایک آمر فیلڈ مارشل ایوب خان کی پالیسیوں کا شاخسانہ قرار دیا جاتا ہے کے علاوہ 5 جولائی1977ء

Read more

عظمیٰ کاردار: پی ٹی آئی میں داخلی سازشیں

عظمیٰ کاردار ایک ہی دن میں آڈیو ٹیپ سکینڈل کے باعث تحریک انصاف کے لیے اجنبی بن گئیں وہ جماعت جو انہیں از حد عزیز تھی۔ عظمیٰ کاردار ان کارکنوں میں شامل تھیں جو آسودہ حال زندگی گزارنے کے باوجود ملک میں ایسی تبدیلی کے خواہش مند ہیں جس میں سب کو انصاف ملتا ہو‘ بدعنوانی نہ ہو‘ نظام شفاف ہو اور ملک ترقی کر رہا ہو۔ انہوں نے تحریک انصاف میں شمولیت کے بعد خود کو ہر اس موقع

Read more

ضیاء کا مارشل لاء ، مائنس ون اور پھلجڑیاں

حقیقت فقط اتنی ہے کہ گزرے اتوار کی صبح اُٹھا تو احساس ہوا کہ آج 5جولائی ہے۔اس حوالے سے جولائی 1977کی یاد آگئی۔ذہن میں کسی فلم کے سین کی طرح وہ لمحات گھومنا شروع ہوگئے جب تین ’’دانشور‘‘ بزرگوں کے ہمراہ بیٹھ کر جنرل ضیاء کی ’’میرے عزیز ہم وطنو…‘‘ والی تقریر سنی تھی۔اس خطاب کے ختم ہوتے ہی میرے سینئرز نے متفقہ اعلان کردیا کہ ہوشیار اور چالاک ذوالفقار علی بھٹو نے جنرل ضیاء کو سازشی انداز میں مارشل

Read more

5 جولائی 77:خوش گمانیوں کا سفرِ ناتمام

موضوع اس کالم کا کچھ اور سوچ رکھا تھا۔اتوارکی صبح اُٹھا تو جانے کیوں یاد آگیا کہ آج پانچ جولائی ہے۔ یہ دن 1977میں بھی آیا تھا۔زندگی کے کئی برس اس کے اثرات سے نبردآزما ہونے میں خرچ ہوگئے۔اپنے تئیں جو ’’مزاحمت‘‘ برپا کی تھی اس کے حوالے سے خود کو ’’ہیرو‘‘ تصور کرنے کی علت بھی پال رکھی تھی۔عمر کے آخری حصے میں داخل ہوا تو دیانت داری سے اس نتیجے پر پہنچا کہ جھک ماری تھی۔خواہ مخواہ زندگی

Read more

جناب وزیر اعظم ، وقت معاف نہیں کرتا۔۔۔

جس طرح برطانیہ کے موسم میں آسماں کا رنگ بدلنے میں زیادہ دیر نہیں لگتی اسی طرح پاکستانی قلزم سیاست میں بھی آنکھ جھپکتے ہی بھنور بن جاتے میں۔ تیز دھوپ کی جگہ یکدم مطلع ابر آلود ہو جانا ، بارشیں شروع ہو جانا برطانیہ کے موسم کی خصوصیت ہے اسی لیے محاورۃً کہا جاتا ہے کہ آپ تو انگریزی موسم کی طرح بدلتے رہتے ہیں۔ کچھ یہی حال پاکستانی سیاست کا ہے جہاں حکمرانوں کا سنگھاسن ڈولنے میں زیادہ

Read more

کشمیر کا دکھ بتائے ، ایسا کوئی شاعر ادیب اب زندہ نہیں

سوپور کے 65سالہ بشیر احمد کو بھارتی پیرا ملٹری فورس نے گولی ماری۔ بشیر احمد کے ہمراہ تین سالہ نواسے کی تصویر دیکھ کر کوئی پتھر دل ہی ہوگا جو تڑپا نہ ہو ۔بشیر کا نواسہ رات کو نانا کے سینے کے ساتھ چمٹ کر سوتا اور اکثر ان کا کان پکڑ لیتاتھا۔ ماں نے بتایا کہ اب وہ رات کورو روکر بستر سے اٹھ جاتاہے۔نانا کی یاد اسے کسی کل چین نہیں لینے دیتی۔ نانا کی نعش پر بیٹھے

Read more

سید منور حسن روشنی کا مینار

اگچہ سید منور حسن بیمار تھے، مگر یہ اندازہ نہیں تھا کہ وہ رب کے حضور پیش ہونے والے ہیں۔ موت برحق ہے اور سب نے ہی اس عارضی دنیا سے حقیقی دنیا کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔ سید منور حسن بھی وہیں چلے گئے جہاں سے کوئی لوٹ کر نہیں آتا۔ لیکن کچھ شخصیات ایسی ہوتی ہیں جن کی موجودگی اور غیر موجودگی دونوں کا احساس غالب رہتا ہے۔ جو لوگ بھی سید منور حسن کو جانتے ہیں

Read more

رشید مصباح کے لئے

”کبوتر بازی اور غزل بازی میں کیا فرق ہے“ جب تین چار شاعر اکٹھے ہو جاتے اور کوئی اپنے نئے شعر سنا رہا ہوتا تو وہ درمیان میں یہ سوال اچھالتا۔ غزل دھری کی دھری رہ جاتی اور بحث شروع ہو جاتی۔ ایک شرارتی مسکراہٹ کے ساتھ اپنے مخصوص انداز چچلی انگلی میں سگریٹ پھنسا کر مٹھی سے زور دار کش لگاتا۔ ایسا بارہا ہوا اور شاعر ہر بار اس کے جال میں پھنس گئے۔ بات ویسے پھینکنے والی نہیں کہ کبوتر بازی اور غزل کہنے کے عمل میں کیا مماثلت ہے؟

کبوتر اڑانے کے فن میں بھی مخصوص گردانوں میں مہارت پیدا کرنا پڑتی ہے۔ کہ کس آواز کی گردان سے کبوتر اڑانے، لڑانے یا بلانے ہیں اسی لئے ایک زمانے میں عروض کے ماہر اساتذہ اور شعرا کبوتر بازی کے بھی رسیا ہوتے تھے۔ اس نے اپنی زندگی بھی ایک بازی کی طرح گزاری۔ اس کی زندگی اتار چڑھاؤ کا ایک ردھم تھی لیکن کورونا کی وبا کے سامنے بے بس ہو گیا۔ زندگی تھم سی گئی۔ لوگ گھروں میں مقید ہو گئے پڑھنے پڑھانے سے جو زندگی کی ڈور جڑی تھی وہ بھی ٹوٹنے لگی تھی۔

Read more

تاریخی معاہدوں کی روشنی میں تبت ہندوستان کا حصہ ہے یا چین کا؟

چین اور بھارت کی حالیہ بد مزگی کو صرف کسی وقتی حکمت عملی یا طیش کی حالت قرار نہیں دیا جاسکتا ہے اور نہ ہی دونوں ممالک کے درمیان اختلافات کسی چھوٹے سے علاقے پر ہے کہ جو اچانک سر اٹھا لیتے ہیں اور پھر دوبارہ فراموش کر دیے جاتے ہیں۔ بلکہ درحقیقت دونوں ممالک میں اختلافات کی جڑیں برصغیر میں برطانوی نوآبادیاتی دور سے جڑی ہوئی ہے اور چینی ایک مضبوط پس منظر کے ساتھ بھارت کے زیر قبضہ اروناچل پردیش جو درحقیقت جنوبی تبت ہے پر دعویٰ رکھتا ہے۔ اس دعوے میں سب سے دلچسپ بات یہ ہے کہ چین نے کبھی بھی اس حوالے سے کمزوری کا مظاہرہ نہیں کیا اور وہ ہمیشہ اپنے اس موقف پر قائم رہا ہے کہ تبت چین کا حصہ ہے اور چین برطانوی نوآبادیاتی دور سے لے کر آج تک اپنے اس دعوے پر مضبوطی سے جما ہوا ہے۔ اس دعوے کے تاریخی پس منظر کا ذکر کرنا چاہوں گا یہ بات واضح رہنی چاہیے کہ تبت چین کا حصہ ایک طویل عرصے سے ہے اور جب میں تبت کا ذکر کر رہا ہوں تو دوہراتا چلوں کہ اس سے میری مراد موجودہ تبت اور جنوبی تبت دونوں ہے۔

Read more

وزیر کی واہ واہ کرانے کی عجلت؟

22 مئی کو ناگہانی آفت کا شکار ہونے والی پی آئی اے کی فلائٹ نمبر 8303 جس میں عملے سمیت 97 افراد جاں بحق ہوئے تھے کی انکوائری رپورٹ چند روز قبل وزیر ہوا بازی غلام سرور خان نے بڑے طمطراق سے جاری کی۔ اصولی طور پر تو حکومت کو کریڈٹ جاتا ہے کہ اس نے شفافیت کے اصولوں کو مدنظر رکھتے ہوئے قومی اسمبلی میں سب کچھ افشا کر دیا۔ رپورٹ کے مطابق پائلٹ سجاد گل اور معاون پائلٹ عثمان اعظم کی کوتاہی اور ائرکنٹرولر کے تساہل کی بنا پر پی آئی اے کا طیارہ A۔

320 کریش ہو گیا۔ بظاہر تو یہ سب کچھ خوب لگتا ہے، تاہم کریڈٹ لینے کے لیے اتنی جلد بازی میں رپورٹ کا اجرا کرنے سے غیر ضروری پیچیدگیاں ہوئیں۔ اصولی طور پر جب تک طیارہ ساز کمپنی ڈیٹا اور وائس ریکارڈنگ کا جائزہ لے کر اپنی رپورٹ جاری نہ کرتی ہمیں وقتی واہ واہ کرانے کے لیے یہ رپورٹ جاری نہیں کرنی چاہیے تھی۔ نہ جانے وزرا سیاسی کریڈٹ لینے کے لیے سب کچھ داؤ پر کیوں لگا دیتے ہیں اور ایسا کرتے وقت بعض اوقات حقائق کو بھی مدنظر نہیں رکھتے گویا کہ اس رپورٹ کے اجرا سے ہم نے ساری ذمہ داری اپنے سر ڈال کر طیارہ ساز ادارے کو کلین چٹ دے دی ہے۔

Read more

وزیراعظم کی ایک تقریر سے چند اقتباسات

کئی بار آپ بہت مشکل سے ددھل اور کانٹوں سے بھرے طویل رستے پر چل کر کسی مقام پر پہنچتے ہیں اور یکایک آپ اس احساس سے ڈھے جاتے ہیں کہ آپ یہ کٹھن سفر دائرے میں کرتے کرتے اسی مقام پر آ گئے ہیں جہاں سے سفر شروع کیا تھا۔ افراد کی شکل میں قوم بھی دائروں کی قیدی ہو سکتی ہے۔ میرا نکتہ سمجھنے کے لیے ایک تقریر کے چند اقتباسات پڑھ لیجیے۔ وزیر اعظم کہہ رہے تھے : ”لوگ جھوٹی باتیں کرتے ہیں، پروپیگنڈا کرتے ہیں اس کے باوجود عوام نے ہماری حمایت کی ہے۔

پروپیگنڈا کے علاوہ دنیا مہنگائی کے طوفان سے گزر رہی ہے۔ جس نے پاکستان کو بھی متاثر کیا ہے۔ ہر چیز مہنگی ہو گئی ہے۔ دنیا کا کوئی علاقہ نہیں جہاں مہنگائی سے لوگ پریشان نہ ہوں۔ سب اس کی گرفت میں ہیں۔ صرف پاکستان میں ایسا ہوتا تو آپ کہہ سکتے تھے یہ حکومت کی کوتاہی ہے۔ ہمیں جس چیز پر کنٹرول ہے آپ اس کے متعلق سوال اٹھا سکتے ہیں۔ گریبان سے پکڑ کر پوچھ سکتے ہیں کہ یہ غلط فیصلہ کیسے ہوا۔ سب کہہ رہے ہیں مہنگائی بڑھ گئی ہے، کیا یہ مہنگائی حکومت نے بڑھائی ہے؟

Read more

بستی والوں اور سیاست والوں کے درمیان پڑا پردہ

ہماری سیاست اور سیاست دانوں کے اندرونی حالات کا موازنہ برصغیر کے لٹریچر کی تقریباً سو برس پرانی ایک کہانی ”پردہ“ سے کرتے ہیں۔ کہانی کے مطابق بخشو کے دادا محصول کے محکمے میں داروغہ تھے۔ آمدنی مناسب تھی۔ ان کے دو بیٹے تھے جو ریلوے اور ڈاکخانے میں ملازم تھے۔ دونوں کی شادیاں ہوئیں، بچے ہوئے اور خاندان بڑھتا گیا۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ خاندان کے افراد آبائی گھر سے نکل کر دور دراز علاقوں میں چلے گئے۔

Read more

کیا لوگ سیاست دانوں اور میڈیا کے ذہنی غلام ہیں؟

پورے پاکستان کو اس وقت ایک ہی مدار میں گھمایا جا رہا ہے۔ یعنی سیاست دانوں کے نت نئے ایشوز، اقتدار کے لیے باہمی دشمنیوں کی انتہائیں اور فوج یا سیکورٹی اداروں کو اپنے مفادات میں گھسیٹنا وغیرہ جیسے اذیت ناک معاملات دن رات چل رہے ہیں۔ میڈیا بھی زیادہ سے زیادہ کمرشل ریٹنگ حاصل کرنے کے لیے اس سیاسی ماردھاڑ اور چیخ و پکار کے علاوہ نہ کچھ اور دیکھ رہا ہے اور نہ ہی کچھ اور سن رہا

Read more

فوادچودھری کے بیانات کی سماجی و سیاسی معنویت

فواد چودھری کے وائس آف امریکا کو دیئے گئے انٹرویو کو پرنٹ ،الیکٹرانک اور سوشل میڈیا پر دو حوالوں سے زیربحث لایاگیا۔ایک حوالہ یہ تراشا گیا کہ فوادچودھری کو میڈیا میں اِن رہنے کا ہنر آتا ہے۔اس پہلو کی دلیل کے لیے اِن کے کیریئر پر نظر ڈالی گئی۔2018ء کے انتخابات کے بعد یہ وفاقی وزیر برائے اطلاعات رہے ،مگر یہ وزارت مختصر مُدت کیلئے رہی،اس وزارت کے دوران یہ مسلسل میڈیا میں اِن رہے۔ جب وزارت اطلاعات لے کر

Read more

وزیر ہوا بازی کے بیان کے نمودار ہوتے مضمرات

مجھ جیسے ’’دوٹکے کے صحافیوں‘‘ کو اس ملک کے ’’چور اور لٹیرے‘‘ سیاست دانوں سے لفافے لے کر جھوٹی خبریں پھیلانے کا عادی مجرم گردانا جاتا ہے۔اس ضمن میں مزید شکوہ یہ بھی ہوا کہ ’’سنسنی‘‘ پھیلانے کی ہوس میں ریاستی امور سے جڑی نزاکتوں کا خیال نہیں رکھا جاتا۔دانستہ نہ سہی غیر دانستہ طورپر دشمنوں کی جانب سے پاکستان کو بدنام کرنے والوں کی سہولت کاری سرزد ہوجاتی ہے۔ ربّ کا صد شکر کہ جولائی 2018کے انتخابات کے ذریعے

Read more

بجٹ منظوری، پراکسی وار اور چین بھارت قضیہ

کئی نسلوں سے ”خاندانی اشرافیہ“ شمار ہوتے شاہ محمود قریشی صاحب جب قومی اسمبلی میں کھڑے ہو کر سوات سے ابھرے تحریک انصاف کے جواں سال وزیر جناب مراد سعید کی دادوتحسین فرماتی تقریر کو مجبور ہوجائیں تو مجھ جیسے صحافیوں کو بہت کچھ سمجھ میں آ جاتا ہے۔

اس تقریر کے ذریعے بنیادی پیغام یہ ملا ہے کہ عمران حکومت نے اپوزیشن جماعتوں کے بہت ”نخرے اٹھا“ لئے۔ اپنے رہ نماؤں کی ”منی لانڈرنگ“ جیسے ”کارناموں“ پر شرمندہ ہونے کے بجائے ان جماعتوں سے وابستہ اراکین قومی اسمبلی عمران خان صاحب سے استعفیٰ طلب کرنا شروع ہو گئے ہیں۔ اس مطالبے کے جواب میں مراد سعید صاحب پیر کے دن ایوان میں کھڑے ہو کر ”پرچی سے پیپلز پارٹی کے چیئرمین بنے“ بلاول بھٹو زرداری کو ”تم اور تو“ پکارتے ہوئے جارحانہ تنقید کی زد میں لانے کو ”مجبور“ ہوئے۔

Read more

خان صاحب، وقت بدلتے دیر نہیں لگتی

شاید پی ٹی آئی حکومت کے بائیس ماہ کے دور میں پہلا موقع تھا کہ وزیراعظم نے حکمران جماعت اور اتحادیوں کے اعزاز میں عشائیہ دیا ہو۔ ویسے تو بطور وزیراعظم بشمول اپوزیشن انھیں تمام پارلیمنٹیرینز کو عشائیہ میں مدعو کرنا چاہیے تھا تاہم چونکہ اپوزیشن کے بارے میں ان کا مخصوص نکتہ نگاہ ہے کہ یہ کرپٹ ہیں ان سے ہاتھ نہیں ملاؤں گا لہٰذا انہوں نے ایسا نہیں کیا۔ عشائیہ میں بھی خطاب کے دوران انھوں نے کہا کہ حکومت یقینی طور پر مدت پوری کرے گی، اپوزیشن کو مطعون کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کچھ لوگ ہر روز حکومت کے جانے کی نئی تاریخیں دیتے رہتے ہیں۔

یقیناً اس کی وجہ یہ ہے کہ اپوزیشن جماعتوں کو معلوم ہے کہ اگر پی ٹی آئی کی حکومت نہ گئی تو ان کو جیل کی ہوا کھانا پڑے گی۔ یہ تو وقت ہی بتائے گا کہ خان صاحب اپنی آئینی مدت پوری کرتے ہیں کہ نہیں۔ پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ (ن) نے اپنی پانچ سالہ مدتیں تو پوری کیں لیکن ان کے نامزد وزرائے اعظم یوسف رضا گیلانی اور میاں نواز شریف کو دوران مدت ہی گھر جانا پڑا لیکن خان صاحب کو زعم ہے کہ ہمارے سوا کوئی چوائس ہی نہیں ہے یقیناً جس ماڈل کے تحت کام کیا جا رہا ہے اس میں دونوں بڑی اپوزیشن جماعتوں کو فارغ کرنا شامل ہے، گویا کہ گلیاں ہو جان سنجیاں وچ مرزایار پھرے۔

Read more

کورونا : مجھ پر کیا بیتی ( 2 )۔

ایک اوردوست جو نامور ڈرامہ ڈائریکٹر ہیں ان کے گھر کے پانچوں افراد اس موذی وبا کی زد میں آ گئے۔ پہلے سوچا ٹیسٹ کرا لیں پھر حساب لگایا کہ چالیس ہزار روپے صرف ایک بار کے ٹیسٹوں پر اٹھ جائیں گے، اگلی بار پھر کم از کم اتنے ہی روپے خرچ ہوں گے۔ علامات واضح تھیں لہٰذا فیصلہ کیا کہ ٹیسٹوں پر رقم خرچ کرنے کی بجائے اچھی خوراک اور ضروری نگہداشت پر صرف کی جائے۔ ماشاء اللہ اب تمام افراد صحت مند ہیں۔ لوگ لیبارٹریز کے معیار اور مہنگے ٹیسٹوں کے باعث اب ان سے رجوع نہیں کر رہے جس سے حکومت سمجھ رہی ہے کہ کورونا کم ہورہا ہے۔

سنامکی کے قہوے اور صرف گرم پانی نے میرا پیٹ ہی خراب نہیں کیا جسم کو توانائی کی مہیا کرنے والے پورے نظام کو نقصان پہنچایا۔ یقیناً یہ جڑی بوٹیاں مفید ہوتی ہیں لیکن ان کے استعمال کی مقدار اور طریقہ کسی حکیم سے ہی دریافت کیا جائے۔ عائشہ غذا سے علاج کرتی ہیں۔ برطانیہ اور امریکہ میں ان دنوں ان کے مریضوں نے جلد صحت یابی پائی ہے۔ انہوں نے کچا ادرک تھوڑا تھوڑا کھانے کا مشورہ دیا، اس سے بہتری آئی۔ انہوں نے نیم، سہانجنا اور زیتون کے پتوں کے قہوے پینے کو بھی وٹامن کے حصول کا بہترین ذریعہ بتایا۔

Read more

ریاست اور شہریوں کے درمیان تعلق

پاکستان کی ریاست اور حکمرانی کے نظام کا بنیادی مسئلہ شہریوں کے ساتھ بداعتمادی کی فضا ہے۔ عمومی طور پر ریاست، حکومت اور شہریوں کے درمیان باہمی تعلق ہی ریاست اور معاشرہ کو مضبوط بنانے کی کنجی سمجھا جاتا ہے۔ ریاست اور شہریوں کے باہمی تعلق کو ہم ان کے درمیان عمرانی ماہدہ کے طور پر دیکھتے ہیں۔ ایک طرف ریاست و حکومت ذمہ دار ہوتی ہے کہ وہ شہریوں کے بنیادی حقوق اور مفادات کے تحفظ کے عمل کو

Read more

پٹرول مافیا۔ بلاول کی بھد اڑانے والا ٹرینڈ

گزشتہ ہفتے تحریک انصاف کے نہایت جذباتی اور جواں سال وزیر جناب مراد سعید صاحب ”ذاتی وضاحت“ کے بہانے قومی اسمبلی میں 23 منٹ لمبی تقریر کرنے کو مجبور ہو گئے تھے۔ انتہائی دکھی دل کے ساتھ انہوں نے اصرار کیا کہ اپوزیشن کی جانب سے کم از کم اکیس ( 21 ) ایسی تقاریر ہوئی ہیں جن میں عمران حکومت کے پیش کردہ بجٹ پر توجہ دینے کے بجائے ان کی ذات کو نشانہ بنایا گیا۔ ان کی بھد اڑانے کو رکیک اور اخلاق سے گری گفتگو ہوئی۔ بدکلامی کا تذکرہ کرتے ہوئے مراد سعید صاحب نے طیش میں آکر یہ حقیقت بھی بارہا دہرائی کہ کسی سیاست دان یا شخص کے خلاف سوشل میڈیا پر ”ٹرینڈ“ چلانا کوئی مشکل بات نہیں۔ چٹکی بجا کر یا دلاتے رہے کہ ایسا کرنے کو فقط ”اتنی دیر“ لگتی ہے۔

سوشل میڈیا کے ذریعے لوگوں کی تذلیل والے رحجان کا ذکر کرتے ہوئے وزیر موصوف نے متنبہ کیا کہ وہ کئی برس تک انصاف سٹوڈنٹس فیڈریشن کے متحرک ترین رہ نما رہے ہیں۔ ان کی قیادت میں کام کرنے والے ”کئی“ افراد اب قومی اسمبلی کے رکن بھی منتخب ہوچکے ہیں۔ ملفوف انداز میں اپنے مخالفین کو وہ درحقیقت یہ سمجھانا چاہ رہے تھے کہ اگر کسی کو فیس بک یا ٹویٹر کے ذریعے رسوا کرنے کا معاملہ آ جائے تو اس ضمن میں ان کی جماعت کا کوئی ثانی نہیں۔

Read more

حکومت کے پیروں تلے سے زمین کھسک رہی!

جمعرات کو وزیراعظم عمران خان اپنے معمول کے یکسر برخلاف قومی اسمبلی میں وارد ہو گئے۔ وہ شاذ ہی پارلیمنٹ میں جو ان کی طاقت کا منبع ہے قدم رنجہ فرماتے ہیں، اس ضمن میں انھوں نے اپنے پیشرو میاں نواز شریف جو بطور وزیر اعظم پارلیمنٹ سے دور ہی رہتے تھے، کے ریکارڈ کو بھی مات کر دیا ہے۔ پاکستانی برانڈ پارلیمانی جمہوریت کا خاصا رہا ہے کہ وزرائے اعظم الیکشن جیت کر پارلیمنٹ کے ووٹوں سے اقتدار میں آتے ہیں لیکن اس کے بعد پارلیمنٹ کا رخ کرنے سے بھی ہچکچاتے ہیں۔

اس طرز کی جمہوریت کو میرے دوست معروف قانون دان اور سیاستدان اعتزاز احسن ”پرچی جمہوریت“ کا نام دیتے ہیں۔ گویا کہ اب ہم پانچ سال کے لیے ملک کی تقدیر کے مالک اور مختارکل ہیں اب پارلیمنٹ میں جانے کی کیا ضرورت ہے۔ سابق صدر مملکت آصف علی زرداری جب لندن میں خودساختہ جلاوطنی میں تھے تو انھوں نے مجھے کھانے پر بلایا اور وزرائے اعظم کے اس رویے کے پس منظر میں جاتے ہوئے مجھے کہنے لگے میاں نواز شریف کو پیغام دینا کہ وہ وزیراعظم بنیں مغل اعظم نہیں۔

Read more

کورونا : مجھ پر کیا بیتی

درجہ حرارت میں یکایک اضافے نے حسب روایت اثر دکھایا۔ عید کا دن خیریت سے گزرا۔ اگلے دن بدن میں ٹوٹ پھوٹ شروع ہو گئی، گھروالے اوکاڑہ جا رہے تھے، میں نے روکنا مناسب نہ سمجھا۔ چند گھنٹوں کے بعد غنودگی ہونے لگی۔ فریج میں بوتل بند مشروبات، دہی اور کچھ جوسز پڑے تھے۔ گرم ہوتے مساموں نے ٹھنڈے کا تقاضا کیا تو ایک ایک کر کے پینا شروع کر دیے۔ اگلے دن دفتر آ گیا۔ دفتر کا کام نمٹایا ہی تھا کہ بخار کی شدت محسوس ہونے لگی۔

دو روز اس بخار اور مسلسل غنودگی کے نام ہو گئے۔ معلوم نہیں کس نے عید کی مبارکباد دی، کس نے فون کیا، کس نے ایس ایم ایس کیا۔ ہر روز دو تین سو خبروں میں سے اہم ترین معاملے کو الگ کر کے اس پر لکھنا فرائض میں شامل ہے۔ وہ کام بھی میرے رفقاء کے کندھوں پر آ پڑا۔ دو روز بعد کچھ افاقہ ہوا تو دفتر آ گیا۔ سہ پہر کو دفتر میں بیٹھے بیٹھے لگا کہ سانس بند ہورہا ہے۔ فوراً اٹھا، ساتھیوں نے پانی پلایا، گھر فون کیا، بھائی گاڑی لے کر آ گیا۔

Read more

پاکستان کے لیے امکانات کا نیا جہان

ہمارا خطہ حالیہ چند ماہ کے دوران غیر معمولی تبدیلیوں سے گزراہے جن سے استفادہ کی صورت میں نہ صرف جیواسٹرٹیجک منظرنامہ میں پاکستان کی مرکزی حیثیت بحال ہو سکتی ہے بلکہ وہ ایک بڑی معاشی قوت کے طور پر بھی دنیا کے نقشہ پر ابھرسکتا ہے۔ چند ماہ بعد ہونے والے امریکی صدارتی الیکشن نے ڈونلڈ ٹرمپ کو بے چین کیا کہ وہ افغانستان میں جلدازجلد اپنی کامیابی کا جھنڈا گاڑیں۔ فوجی انخلاء کر کے شہریوں کو باور کرائیں کہ جو کارنامہ سابق صدر بش اور بارک اوباما نہ سرانجام نہ دے سکے انہوں نے کر دکھایا۔

الیکشن میں ان کی کامیابی کا دار و مدار افغانستان میں امریکہ کی کامیابی قرارپایا تو پاکستان کے لیے امکانات کے نئے درچوپٹ کھل گئے۔ امریکہ او رطالبان کے درمیان پاکستان نہ صرف سمجھوتہ کرانے میں کامیاب ہوا بلکہ معاہدے کے موقع پر وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی بھی قطر میں موجود تھے۔ پاکستان کے حریف مذاکراتی میز تو درکنار، مذاکراتی عمل کے قرب وجوار میں بھی نہ پھٹک پائے۔ اس معاہدے نے عالمی فضا ہی بدل ڈالی۔ صدر ٹرمپ جو کل تلک دن رات پاکستان کو بے نقط سناتے نہ تھکتے، تعریف کے ڈونگر برسانے لگے۔

Read more

افغان طالبان، ٹی ٹی پی، القاعدہ اور پاکستانی قیادت (مکمل کالم)

افغان طالبان کے اس اصرار نے کہ افغانستان میں القاعدہ کا وجود نہیں، دنیا کو حیرت میں ڈال دیا ہے۔ طالبان کے اس بیان سے اس برس امریکہ سے کیے گئے معاہدے پر کوئی خوش کن اثر نہیں پڑنے والا۔ اگرچہ طالبان کے انکار کو جنگی حربے کے طور پر استعمال کرنے کی بھی تاریخ رہی ہے لیکن طالبان کے افغانستان میں القاعدہ کے وجود نہ ہونے کا بیان ان کی سیاسی مجبوریوں کی طرف اشارہ ہے۔ دونوں عسکریت پسند گروہوں کے درمیان روابط کی طویل تاریخ ہے جس کو اب برقرار رکھنے میں طالبان کو دقت محسوس ہو رہی ہے۔

طالبان کی اپنے دوستوں اور دشمنوں سے انکار کی طویل جنگی حکمت عملی چلی آ رہی ہے یہاں تک کہ 90 ء کی دہائی میں جب طالبان نے اقتدار سنبھالا تو دنیا بھر سے دہشت گرد افغانستان میں جمع ہونا شروع ہو گئے تھے پاکستان سے بھی فرقہ وارانہ قتل و غارت میں ملوث افراد نے بھی افغانستان میں پناہ لی۔ اب یہ بات کوئی راز نہیں رہی کہ لشکر جھنگوی کے دہشت گرد افغانستان میں تربیتی مراکز چلاتے رہے ہیں۔ پاکستان نے جب بھی دہشت گردوں کو افغانستان سے نکالنے کا مطالبہ کیا طالبان کی طرف سے ان کے افغان سرزمین پر موجودگی سے مسلسل انکار کیا جاتا رہا۔

Read more

منور حسن: باغ بہشت کا تازہ پھول

جمعہ کا دن تھا، ایک بجنے والا ہو گا کہ فون کی گھنٹی بجی۔ سکرین پر برادر عزیز سجاد میر کا نام طلوع ہو رہا تھا۔ لپک کر اسے اٹھایا اور فوراً کان سے لگایا لیکن کچھ سنائی نہیں دے رہا تھا۔ سسکیوں نے دستک دی، اور چند لمحوں بعد میر صاحب کی رندھی ہوئی آواز ٹوٹ ٹوٹ کر آئی، منور صاحب اس دنیا میں نہیں رہے۔ اس کے بعد پھر آنسوؤں کا سیلاب امڈ پڑا۔ وہ دھاڑیں مار کر رو رہے تھے اور مجھے بھی اپنے آپ پر قابو نہ رہا تھا۔

دھاڑوں کا معاملہ دھاڑوں سے تھا۔ ہم دونوں ایک ہی کیفیت میں مبتلا تھے۔ کچھ دور بیٹھے، عزیزان عمر، عثمان اور ان کی والدہ بھاگ کر میرے پاس پہنچے، اور دلاسا دینے لگے۔ سب کے چہرے سوالیہ نشان تھے۔ میری آنکھوں میں آنسو انہوں نے کم ہی دیکھے تھے، سو پریشانی سوچند تھی، بصد مشکل خبر ان تک پہنچائی تو وہ بھی افسردہ ہو گئے۔ میری اہلیہ، طاہرہ تو میاں محمد شوکت مرحوم کی صاحبزادی ہیں، گویا جماعت اسلامی سے ان کا نسبی تعلق ہے، بچے بھی الحمدللہ لاتعلق نہیں ہیں۔ سید منور حسن کا نام کسی کے لیے بھی اجنبی نہیں تھا۔ وہ لاہور میں تھے، تو ان سے ملاقات جاری رہتی تھی۔ کئی بار انہوں نے غریب خانے کو رونق بخشی، بچوں کے ساتھ گھل مل کر بیٹھے، اور اپنی خوشگوار یادیں چھوڑ گئے۔

Read more

وزیروں اور منتخب نمائندوں کی بھڑاس

وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی فواد چودھری خود کو میڈیا میں زندہ رکھنے کا فن خوب جانتے ہیں۔ وزارت اطلاعات بالخصوص موجودہ حکومت جو میڈیا پر اپنا میسج بطریق احسن پہنچانے کے لئے ضرورت سے زیادہ ہی کوشاں رہتی ہے، کے وزیر اطلاعات جوحکومت کے چیف ترجمان ہوتے ہیں، کی میڈیا پر ٹاک شوز میں حاضر باشی ہمہ وقت رہتی ہے۔ خیال تھا کہ فواد چودھری سے وزارت اطلاعات کا قلمدان لے کر انہیں سائنس و ٹیکنالوجی کا سونپ دیا گیا ہے لہٰذا وہ کھڈے لائن لگ کر منظر عام سے ہٹ جائیں گے لیکن انہوں نے اس وزارت کے ذریعے رویت ہلال کے معاملے پر علما سے پھڈا ڈال لیا نیز خود کو اپنی وزارت تک محدود نہیں رکھا بلکہ ہر روز شام کو ملکی سیاست کے مختلف پہلوؤں پر تبصرہ کرتے نظر آتے ہیں اور اکثر کوئی نہ کوئی ایسی بات کر جاتے ہیں جو اخبارات کی شہ سرخی بن جاتی ہے۔

فواد چودھری کا تعلق جہلم کے ایک مسلم لیگی خاندان سے ہے اور اس لحاظ سے ایک گھاک وکیل ہونے کے علاوہ سیاست کے مدوجزر کو بھی اچھی طرح سمجھتے ہیں۔ جیسا کہ ان کے ناقدین ان پر الزام عائد کرتے ہیں کہ وہ مسلم لیگ ق اور پیپلزپارٹی میں رہے اور ن لیگ سے بھی ”فلرٹ“ کرتے رہے ہیں لیکن اس مرتبہ فواد چودھری نے وائس آف امریکہ کو جو انٹرویو دیا ہے وہ گھر کا بھیدی لنکا ڈھائے کے مترادف ہے۔ انہوں نے وہ باتیں برملا کہہ دیں جو اکثر سیاسی مبصرین بالخصوص تحریک انصاف کی لیڈر شپ کے لیے تو نئی نہیں تھیں۔

Read more

لداخ :امارت سے مفلسی کی ایک داستان

خطے کے روابط منقطع ہونے کا سب سے زیادہ نقصان مسلم اکثریتی کرگل ضلع کو اٹھانا پڑا۔ اس کے علاوہ بھارت، پاکستان جنگوں میں اس ضلع کے کئی دیہات کبھی ادھر تو کبھی ادھر چلے آتے تھے۔ 1999 ء کی کرگل جنگ کے بعد جب لداخ کے پہلے کور کمانڈر جنرل ارجن رائے کی ایما پر دیہاتوں کی سرکاری طور پر پیمائش وغیرہ کی گئی، تو معلوم ہوا کہ ترتک علاقے کے کئی دیہات تو سرکاری ریکارڈ میں ہی نہیں ہیں۔ اس لئے 2001 ء کی مردم شماری میں پہلی بار معلوم ہوا کہ لداخ خطے میں مسلم آبادی کا تناسب 47 فیصد ہے اور بدھ آبادی سے زیاد ہ ہے۔

ورنہ اس سے قبل اس خطے کو بدھ اکثریتی علاقہ مانا جاتا تھا اور اکثر لکھاری ابھی بھی پرانے اعداد شمار کو ہی استعمال کرتے ہیں۔ کرگل اسکردو تحصیل کا حصہ ہوتا تھا۔ اس لیے یہاں کی زمینوں و جائیداد کے ریکارڈ ابھی بھی اسکردو کے محافظ خانے میں موجود ہیں۔ کسی عدالتی مقدمہ یا تنازع کی صورت میں ابھی بھی ریکارڈ اسکردو سے ہی منگوایا جاتا ہے۔ لداخ کو باقی دنیا سے ملانے والے دو راستہ سرینگر کی طرف زوجیلا درہ اور ہماچل پردیش کی طرف روہتانگ درہ چھ ماہ کے لئے بند ہو جاتے ہیں۔

Read more

سپریم کورٹ کا ایک اور تاریخی فیصلہ؟

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے بارے میں دائر کردہ صدارتی ریفرنس کے خلاف دائر درخواستوں پر سپریم کورٹ کے دس رکنی بنچ نے فیصلہ سنایا تو احاطۂ عدالت میں جشن کا سماں دیکھنے میں آیا۔ قاضی فائز عیسیٰ کی طرف سے (یا ان کے حق میں ) پیش ہونے والے وکلا کی مسرت دیدنی تھی۔ ان کے چہرے وفور مسرت سے سرخ ہو رہے تھے، اور ایک دوسرے کا منہ میٹھا کرانے کے لیے سبقت لے جانے کی کوشش ہو رہی تھی۔ با وقار اور با اعتبار قانون دان حامد خان اس فیصلے کو تاریخی قرار دے رہے تھے، تو سپریم کورٹ بار کے سابق صدر امان اللہ کنزائی بھی پر جوش اظہار خیال کر رہے تھے۔

سپریم کورٹ بار کے موجودہ صدر صدر قلب حسن بھی ان کی مسرتوں میں شریک تھے۔ بار کونسل کے وائس چیئرمین عابد ساقی کا چہرہ بھی تمتما رہا تھا۔ منیر اے ملک کہ عدلیہ آزادی تحریک کے ساتھ ان کا نام جڑا ہوا ہے، جسٹس افتخار چودھری سے لے کر جسٹس فائز عیسیٰ تک انہوں نے مسلسل کردار ادا کیا ہے، ان کی خوشی بھی ان کے چہرے سے عیاں تھی۔ وکیلانہ احتیاط کے ساتھ وہ اپنے جذبات کو زبان دے رہے تھے۔ کہا جا رہا تھا کہ قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف صدارتی ریفرنس کو کالعدم قرار دے کر، اور سپریم جوڈیشل کونسل کی طرف سے ان کا جاری کیا جانے والا اظہار وجوہ کا نوٹس خارج کر کے سپریم کورٹ نے تاریخی فیصلہ صادر فرما دیا ہے۔

Read more

چین بھارت کشیدگی: پاکستان کیا کرے؟

چین بھارت کشیدگی: پاکستان کیا کرے؟

بھارت کو چین کے ساتھ محاذ آرائی کے بعد ایک بار پھر ہزیمت کا سامنا ہے۔ وزیراعظم نریندر مودی اور ان کی حکومت سخت دباؤ میں ہے۔ اس کی حکومت کا لبہ و لہجہ وہ نہیں جو پاکستان کے ساتھ کشیدگی کے دنوں میں ہوتا ہے بلکہ مودی کا یہ بیان کہ چین نے بھارت کی کسی چوکی پر قبضہ نہیں کیا اور نہ ہی چینی فوجی بھارتی سرحدوں کے اندر آئے۔ ہر کافی لے دے ہو رہی ہے۔ بیس انڈین فوجیوں کی ہلاکت اور دس فوجیوں جن میں اعلیٰ افسر بھی شامل ہیں ان کی گرفتاری۔

Read more

جنرل قمر باجوہ کی کال کی مثال

ایک طرف کورونا کی یلغار جاری ہے، اس کے متاثرین کی تعداد میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ دوسری جانب وزیر اعظم حسب معمول تقریریں کرنے میں مصروف ہیں، سمارٹ لاک ڈاؤن کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں اور ایس او پیز پر عمل درآمد کرانے کے لئے خود ذمہ داری اٹھانے کے اعلانات بھی کیے جا رہے ہیں۔ بتایا جا رہا ہے کہ اب جناب وزیر اعظم بنفس نفیس پورے ملک پر نظر رکھیں گے اور جہاں قواعد و ضوابط کی دھجیاں بکھرتے دیکھیں گے، وہاں کاری ضرب لگائیں گے۔

ایسی خبریں بھی آ رہی ہیں کہ اسلام آباد اور لاہور جیسے بڑے شہروں میں کورونا کا مرکز بن جانے والے علاقوں کو سیل کر دیا جائے گا۔ خدا کرے کہ ایسا ہی ہو، اور اس وائرس کے سامنے ”سپیڈ بریکر“ لگائے جا سکیں، اس کی رفتار کو محدود کیا جا سکے۔ وزیر اعظم بار بار اعلان کرتے ہیں کہ ہمیں اس وائرس سے نجات نہیں ملنے والی، جب تک اس کی ویکسین دریافت نہیں ہو گی، یہ ہمارے درپے رہے گا۔ اس سے کوئی مفر نہیں ہے۔ ان کی ایسی گفتگو سن کر یوں لگتا ہے کہ کورونا حوصلہ پکڑ لیتا ہے ؎

Read more

یہ سفید پوش کہاں جائیں؟

پچھلے کالم میں لکھ دیا تھا کہ پاکستان میں کوئی بھوک سے نہیں مرتا۔ اس حوالے سے داتا دربار کے لنگر کا ذکر کیا تھا اور یہ بھی لکھا تھا کہ اس کے علاوہ مخیر اصحاب نے شہر کے مختلف علاقوں کی دکانوں میں دستر خوان کھول رکھے ہیں، جہاں صبح شام غریبوں کو کھانا مل جاتا ہے اور چند ہوٹل اور بیکریاں بھی مفت کھانا تقسیم کرتی ہیں۔ یہ لکھنا تھا کہ ہمارے اوپر چاروں طرف سے جو لعن طعن شروع ہوئی، وہ اب تک جاری ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ تمہیں وہ غریب تو یاد رہ گئے جو ان دسترخوانوں پر جا کر اپنا پیٹ بھر لیتے ہیں، لیکن ان سفید پوش غریبوں کو بھو ل گئے جو کسی کے آگے ہاتھ نہیں پھیلا سکتے۔

وہ تو اپنے پڑوسی تک کو یہ بتاتے شرماتے ہیں کہ آج انہوں نے اپنا اور اپنے بچوں کا پیٹ کس طرح بھرا۔ ان کی بات بھی صحیح ہے۔ بھلا سو چئے، ان سفید پوشوں کی طرف کون نظر ڈالتا ہے۔ یہ کون سوچتا ہے کہ ان دنوں یہ سفید پوش کس طرح گزارہ کر رہے ہیں؟ حکومت نے احساس جیسے پروگرام شروع کر رکھے ہیں، لیکن معلوم نہیں یہ پروگرام ان سفید پوشوں تک بھی پہنچتا ہے یا نہیں۔ ظاہر ہے یہ اصحاب کسی سے مانگنے والوں کی فہرست میں اپنا نام تو نہیں لکھوا سکتے، خواہ وہ حکومت کے ادارے ہی کیوں نہ ہوں۔

Read more

افغانستان: تزویراتی تبدیلی؟

ہمارے خطے کا جیوپولیٹیکل ( جغرافیائی سیاسی) منظرنامہ تیزی سے بدلتاچلا جا رہا ہے، رجائیت پسند طبقے کا خیال ہے کہ اس تیزی سے بدلتے منظر نامے کی بدولت وہ پاکستان کے جیو سٹریٹیجک (تزویراتی) نقطہ نظر میں تبدیلی کو محسوس کر رہے ہیں۔ بعض یہ یقین رکھتے ہیں کہ مذکورہ تبدیلی بڑے پیمانے پرجیو اکنامک ( جغرافیائی معیشت) کے گردگھوم رہی ہے، اگر ایسا ہی ہے تو یہ بہت واضح نظریاتی تبدیلی ہوگی۔ لیکن ہمارے ریاستی اداروں کے بیانات میں اس تیزی سے بدلتے منظرنامے کی طرف کوئی اشارہ نہیں ملتا، یا شاید وہ اس کو مختلف طریقے سے دیکھ رہے ہیں۔

پاکستان کے خراب معاشی اشارے ایسے خیالات کو وزن نہیں دیتے ہیں کہ ریاست اپنے جیوسٹریٹجک یا جیو اکنامک نقطہ نظر کو مستحکم کرنے کے لیے ایک مخصوص حد تک جتن کررہی ہے۔ یہاں تک کہ پاک چائنا اقتصادی راہداری (سی پیک) ، جو ملک کی کمزور معیشت کے لئے گیم چینجر کی حیثیت سے مثال بنا کرپیش کی گئی تھی، ریاستی اداروں کی عدم توجہی کا شکار ہو گئی ہے۔ تاہم، جو طبقہ پاکستان کے جیوسٹریٹجک طرز عمل میں تبدیلی دیکھ رہا ہے وہ محض معاشی سے متعلق دلائل پر قابض نہیں، بلکہ یہ خاص طور پر افغانستان کی طرف ریاست کے بدلتے ہوئے جغرافیائی سیاسی طرز عمل پر بھی روشنی ڈالتے ہیں۔

Read more

اعظم گڑھ کا ہندو کیسے مدینہ یونیورسٹی اور مسجد نبوی کا معلم بن گیا

یہ 2005 کا زمانہ تھا۔ روزنامہ نوائے وقت میں معروف کالم نگار عرفان صدیقی صاحب کا ایک کالم بعنوان ”گنگا سے زم زم تک۔“ شائع ہوا۔ کالم میں انہوں نے بھارت کے ایک کٹر ہندو نوجوان کا تذکرہ کیا تھا۔ اسلامی تعلیمات سے متاثر ہو کر جس نے اسلام قبول کیا۔ نوجوان پر اس قدر احسان الٰہی ہوا کہ وہ دل و جان سے اسلامی تعلیمات کی جانب راغب ہوگیا۔ مدینہ منورہ اور مصر کی جامعات سے تعلیم حاصل کرنے کے بعد شعبہ تدریس سے منسلک ہوا۔

سعودی عرب کی مدینہ یونیورسٹی میں پروفیسر اور ڈین کے عہدے تک جا پہنچا۔ ریٹائرمنٹ کے بعد تحقیقات اسلامی میں جت گیا۔ عربی اور ہندی میں درجنوں کتابیں لکھ ڈالیں۔ ان کتب کا ترجمہ دنیا کے مختلف ممالک کے دینی مدارس کے نصاب کا حصہ ہے۔ اس قدر با سعادت ٹھہرا کہ مسجد نبوی ﷺ میں حدیث کا درس دینے لگا۔ کفر کے اندھیروں سے نکل کر اسلام کے روشن راستوں پر گامزن ہونے والے پروفیسر ڈاکٹر ضیا الرحمن اعظمی کے سفر سعادت کے بارے میں لکھا گیا یہ کالم میری یاداشت سے کبھی محو نہیں ہو سکا۔

Read more

شہباز شریف پر احسان!

منگل کے روز قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر میاں شہباز شریف کی گرفتاری کے لیے ان کی ماڈل ٹاؤن میں اقامت گاہ پر نیب کے ناکام چھاپے سے جو ڈرامہ شروع ہوا تھا وہ اگلے ہی روز لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس طارق عباسی اور جسٹس فاروق حیدر پر مشتمل 2 رکنی بینچ کے کورٹ روم میں اس وقت ختم ہو گیا جب فاضل ججوں نے 17 جون تک ان کی عبوری ضمانت قبل ازگرفتاری منظور کر لی۔ تمام تر وسائل بروئے کار لانے کے باوجود شہباز شریف نیب کے ہتھے نہ چڑھے اور وہ انہیں جل دینے میں کامیاب رہے لیکن اس سے احتساب کے اس ادارے کی حیثیت جو پہلے ہی متنازعہ چلی آ رہی تھی، مزید خراب ہوئی ہے۔

Read more

کرونا کو بھول جانے کے جتن

پیر کی صبح اٹھ کر حسب معمول یہ کالم لکھا۔ اسے دفتر بھجوادیا تو چند ہی گھنٹوں کے بعد میرا دل وسوسوں سے گھبراگیا۔ اخبارات کے پلندے کو تفصیل سے پڑھا تو احساس ہوا کہ سرکاری ذرائع کی بدولت کرونا کی بابت جو مستند اعداد و شمار عوام کے سامنے لائے گئے ہیں واضح انداز میں یہ بیان کر رہے ہیں کہ مئی 2020 کے دوران اس وبا ء کی زد میں آئے لوگوں کی تعداد میں ریکارڈ اضافہ ہوا ہے۔ مجھے خدشہ لاحق ہوگیا کہ مذکورہ اعداد و شمار پر غور کرتے ہوئے پیر کے روز NCOC لاک ڈاؤن کو بحال کرنے کی سفارش کر سکتا ہے۔ یہ ہوگیا تو میرا یہ دعویٰ غلط ثابت ہوگا کہ عمران حکومت ہرڈ امیونٹی کی راہ پر ڈٹے رہنے کا تہیہ کرچکی ہے۔ بہت تجسس سے لہذا کرونا کے بارے میں حتمی فیصلہ ساز ادارے کی جانب سے کیے فیصلے کا انتظار کرنا شروع ہوگیا۔

Read more

حادثے کی زد میں آئے خاندانوں کا دکھ

منگل کی رات سونے سے قبل مگر حسب عادت سوشل میڈیا پر نگاہ ڈالی تو جی پریشان ہوگیا۔ میرے ٹویٹر اکاؤنٹ پر ایک وڈیوکلپ گردش کررہی تھی۔ اس کلپ میں کراچی کے فضائی حادثے کی زد میں آئے ایک اعلیٰ سرکاری افسر خالد شیر دل صاحب کی ”اہلیہ“ فریاد کناں نظر آئیں۔ بہت ہی نپے تلے الفاظ میں ان مہذب اور اعلیٰ تعلیم یافتہ خاتون نے یہ دعویٰ کرتے ہوئے مجھے حیران وپریشان کر دیا کہ ان کے ”شوہر“ جو اس بدنصیب طیارے کے مسافروں میں شامل تھے ٹھوس حقائق کے تناظر میں ابھی تک ”لاپتہ“ ہیں۔

حادثے کے چار دن گزرجانے کے باوجود کوئی شخص یہ طے کرنے کے قابل نہیں کہ ملبے سے نکالے ہوئے افراد میں وہ بھی شامل ہیں یا نہیں۔ ان کی گفتگو سے یہ بھی گماں ہوا کہ ابھی تک بدنصیب طیارے میں سوار تمام افراد کو شناخت نہیں کروایا جاسکا ہے۔ بازیاب ہوئے افراد کی ڈی این اے کی بدولت شناخت کا مرحلہ بھی مکمل نہیں ہوپایا ہے۔

Read more

”پائیلٹ کی غلطی“ والی کہانی

ٹی وی سکرینوں کے ذریعے جو ”صحافت“ ہوتی ہے اس کے بارے میں ”چسکہ فروشی“ اور ”سرخی پاؤڈر“ والی اصطلاحات کو مجھ بدنصیب ہی نے پرنٹ سے ٹی وی صحافت کی جانب منتقل ہونے کے بعد متعارف کروایا تھا۔ ریٹنگ کے ریکارڈ بناتے ہوئے میرے کئی ساتھیوں نے فراخ دلی کے ساتھ میرے پھکڑپن کو برداشت کیا۔ میری عمر کی لاج رکھی۔ جب بھی ملے انتہائی خلوص سے مجھ سے ”سیکھنے“ کی تمنا کا اظہار کرتے رہے۔ ہمارے معاشرے میں اس رویے کو ”آنکھ کا لحاظ“ اور ”بزرگوں کا احترام“ کہا جاتا ہے۔ ذاتی حقیقت یہ بھی ہے کہ جب میرے اندر کا ”آتش“ جوان تھا تو اپنے پیشے کے چند افراد کے علاوہ باقی ”بزرگوں“ کا میں نے شاذہی لحاظ کیا۔ اپنے ”ہنر“ پر اتراتارہا۔ یہ ”مان“ مگر میرے کسی کام نہیں آیا۔ عمر کے آخری حصے میں پہنچا ہوں تو ”میرخوار“ ہوئے پھررہا ہے۔ ”کوئی پوچھتا نہیں۔“

Read more

فتوے، ارطغرل اور ٹیپو سلطان

جس طرح کے فتوے آج کل بعض علماء ارطغرل ڈرامہ سیریل کے حوالے سے صادر کر رہے ہیں، مجھے یاد آتا ہے کہ نوے کی دہائی کے اوائل میں شہید ٹیپو سلطان پر مبنی سیریل کو بھی کچھ اسی طرح نشانہ بنایا گیا تھا۔ ارطغرل پر نشانہ کچھ زیادہ ہی ہے کیونکہ نوجوان نسل اس میں اپناروشن اورتابناک ماضی، حمیت اور تہذیب وثقافت تلاشنے لگی ہے۔ بھگوان گڈوانی کی ناول دی سورڈ آف ٹیپوسلطان پر سیریل بنانے کا بیڑا معروف بالی ووڈ اداکار اور ہدایت کار سنجے خان نے اٹھایا تھا۔

Read more

فسادی مستشرقین کے مقابل ایک عالم کا چہرہ چاہیے

وہ مغربی سکالر جو مشرقی علوم، زبانوں، ثقافت اور شخصیات پر تحقیق کے بعد اپنا نقطۂ نظر پیش کرتے ہیں انہیں مستشرقین کہا جاتا ہے۔ مستشرقین نے ہمیں ہمارے ماضی سے ملایا ہے۔ ایسے مستشرقین جنہوں نے مسلم تاریخ پر کام کیا ان کے کام کو بڑی پذیرائی ملی۔ کچھ ایسے بھی ہیں جنہوں نے برطانیہ اور فرانس جیسی نو آبادیاتی ریاستوں کی مشنری تنظیموں کے لیے کام کیا۔ انہوں نے یہ فتنہ اٹھایا کہ موجودہ مکہ شہر عہد رسالت مآب کا شہر مکہ نہیں۔

Read more

پی آئی اے حادثہ: محفوظ سفر کا ”خواب“

پی آئی اے کا مسافر طیارہ جس نے رمضان کی اٹھائیسویں تاریخ کو جمعۃ المبارک کے دن ایک بج کر دس منٹ پر لاہور کے علامہ اقبال ہوائی اڈے سے اڑان بھری تھی، منزل مقصود کراچی پہنچ کر زمین کو نہ چھو سکا، اور ہوائی اڈے سے ایک، دو منٹ کی مسافت پر گنجان آبادی پر گر کر تباہ ہو گیا۔ اس میں عملے سمیت 99 افراد سوار تھے، دو مسافر معجزانہ طور پر بچ گئے۔ پنجاب بینک کے سربراہ ظفر مسعود اور ایک نوجوان انجینئر محمد زبیر اب ہسپتال میں زیر علاج ہیں، انہیں کوئی بڑی چوٹ نہیں آئی، دونوں ہوش میں ہیں اور اپنے بچنے کی کہانی بھی بیان کر چکے ہیں۔

ظفر مسعود کا کہنا ہے کہ یوں لگا، کسی نے انہیں نشست سمیت اٹھا کر باہر پھینک دیا ہو۔ محمد زبیر کو بھی یاد نہیں کہ یہ معجزہ کیسے ممکن ہوا۔ انہوں نے حادثے سے پہلے کی تفصیل البتہ یہ بتائی ہے کہ پرواز بالکل ہموار تھی۔ راستے میں کوئی الجھن یا دشواری محسوس نہیں ہوئی۔ کراچی پہنچ کر پتہ چلا کہ طیارے کے لینڈنگ گیئر نہیں کھل رہے۔ ہوا باز نے ایک چکر لگایا اور مسافروں نے کلمے کا ورد شروع کر دیا۔ چند ہی لمحوں بعد آگ کے شعلے تھے، اور شوروغوغا تھا، جہاز حادثے کا شکار ہو چکا تھا۔ یہ ایک گنجان آبادی پر گرا، کئی مکان زمین بوس ہو گئے، اور درجنوں افراد جو اپنے اپنے گھروں میں بصد اطمینان بیٹھے ہوئے تھے، آناً فاناً ملبے کے ڈھیر پر تھے۔

Read more

وبا کے دنوں کی عید

عید ایک خوف کے عالم میں گزرے گی۔ یہ تو معلوم تھا لاک ڈاؤن کے عملاً خاتمے کے بعد کورونا کی وبا نے جو کروٹ لی ہے، تہوار کے دن کے جو چند معمولات کے بارے میں منصوبہ بندی کی تھی وہ کھٹائی میں پڑتے دکھ رہے تھے۔ لیکن پی آئی اے کے طیارے کے حادثے نے سوگ کا اضافہ بھی کر دیا ہے بلکہ اس سوگ نے تو کورونا کی وبا کا خوف بھی بھلا دیا ہے۔ وقت کی بات ہے ایک سانحے کے دکھ کو کم کر نے کے لئے ایک نئے حادثے کا سہارا ہوا ہے۔

شاعر اس پر بہتر مضمون باندھ سکتا ہے۔ لیکن طیارے کے سانحے پر قابل اجمیری کا رسوائے زمانہ شعر اگر برمحل نہیں بھی ہے تو کچھ مناسبت ضرور رکھتا ہے ؎ وقت کرتا ہے پرورش برسوں حادثہ ایک دم نہیں ہوتا یہ پاکستان کا مقدر ہی کیوں ہے کہ ہر چند سال بعد ایک خوفناک سانحہ گزرتا ہے، کبھی قومی اور کبھی نجی فضائی کمپنی کا طیارہ حادثے کا شکار ہو جاتا ہے۔ ہر حادثے کے بعد تحقیقات کے بلند و بانگ دعوے کیے جاتے ہیں۔ غفلت کے مرتکبین کو سخت سے سخت سزا اور لواحقین کے لئے مالی مداوے کے اعلانات ہوتے ہیں۔

Read more

اب تک دل خوش فہم کو تجھ سے ہیں امیدیں؟

فارسی کے استاد معین نظامی صاحب نے اپنے بلاگ میں حافظ شیرازی کا ایک شعر نقل کیا ہے۔ وہ شعر ہماری آج کی صورتحال پر کچھ اتنا صحیح بیٹھتا ہے کہ اس وقت ہم اسے آپ کے سامنے پیش کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔ یہاں ”آپ“ سے ہماری کیا مراد ہے؟ یہ شعر پڑھ کر خود ہی آپ کی سمجھ میں آ جائے گا۔ حافظ کا شعر ہے :

گفتگو آئین درویشی نبود
ورنہ با تو ماجراہا داشتیم

Read more

رویوں میں تبدیلی ہی وقت کی آواز

عالمی وبا کووڈ 19 سے جس نے، ساری دنیا کو ہلا کر رکھ دیا ہے اب تک قریباً 52 لاکھ افراد متاثر اور 3 لاکھ 35 ہزار سے زائد لقمہ اجل بن چکے ہیں۔ پاکستان میں یہ موذی وبا ان دعوؤں کے باوجود کہ اموات ابھی تک 1100 کے قریب ہیں گزشتہ تین ہفتوں میں جوں جوں لاک ڈاؤن نرم کیا گیا ہے کیسز بڑھتے جا رہے ہیں۔ یکم مئی کو کورونا کے کل کیسز 18092 تھے جو تین گنا بڑھ کر 51 ہزار تک پہنچ گئے ہیں۔ اسی عرصے میں اموات 417 سے بڑھ کر 1075 ہو گئی ہیں۔

Read more

محتاجوں کو عزت نفس سے آشنا کیجئے!

شاہد کاردار عالمی بنک کے نائب صدر اور پنجاب کے وزیر خزانہ رہنے کے بعد پنجاب ایجوکیشن فاؤنڈیشن کے چیئرمین تعینات ہوئے۔ ایک روز مجھے بتایا گیا کہ تھوڑی دیر میں پیف کے سربراہ پہنچنے والے ہیں۔ ادارے کے پی آر او سے کچھ معلومات لے کر سوالات ترتیب دیے۔ شاہد کاردار پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان حفیظ کاردار کے فرزند ہیں، یہ ان سے پہلی ملاقات تھی، بھلے آدمی ہیں۔ اپنی بات جلدی مکمل کرتے ہیں۔ 52 منٹ کے ٹی وی پروگرام کے لئے میں نے معمول سے دو گنا سوال تیار کیے۔

پروگرام 47 منٹ چلا کہ میرے سوالات شاہد کاردار کی سبک گفتاری کے باعث ختم ہو گئے۔ شاہد کاردار نے اپنی بات یوں ختم کی کہ ان کا ادارہ غریب بچوں کو کتابیں اور یونیفارم دیتا ہے۔ دور دراز کے کئی علاقے ایسے ہیں جہاں والدین بچوں کو کپڑے تک نہیں دے سکتے۔ ان علاقوں میں کئی بار ایک بچہ دو سکولوں میں داخل کرایا جاتا ہے تاکہ اسے دو یونیفارم مل جائیں یوں وہ پورا سال ان دو وردیوں میں گزار دیتا۔ میرے ہاتھ پروگرام کا وقت پورا کرنے کا سرا آ گیا۔

Read more

سندھ میں کچھ ”نیا“ کرنے کی کھچڑی

قارئین کی اکثریت گلہ کررہی ہے کہ دو ہفتے قبل قومی اسمبلی کا اجلاس ختم ہونے کے بعد میں نے وعدہ کیا تھا کہ وہاں ڈاکٹر فہمیدہ مرزا صاحبہ نے جو تقریر کی وہ تفصیلی کالم کا تقاضا کرتی ہے۔ یہ بات لکھنے کے بعد میں نے اس تقریر کو تقریباً بھلادیا۔ دیگر موضوعات کی جانب بھٹک گیا۔ حتیٰ کہ ”ارطغرل“ کی ایک قسط دیکھے بغیر ہی اس کی بابت یاوہ گوئی سے ڈنگ ٹپانے کی کوشش کی۔

قارئین کا گلہ سرآنکھوں پر۔ قومی اسمبلی کا اجلاس میں نے گھر بیٹھ کر یوٹیوب کی لائیو سٹریم کی بدولت دیکھا تھا۔ اس کے آخری دن اسد عمر کی اختتامی تقریر سے قبل ڈاکٹر صاحبہ نے خطاب فرمایا تھا۔ ان کی تقریر ہر صورت بھرپور توجہ کی مستحق تھی۔

Read more

شہباز صاحب کی بھینسیں اداس ہو جائیں گی

عمران خان صاحب کے مشیر برائے احتساب جناب شہزاد اکبر صاحب نے بلکہ سراغ یہ لگایا ہے کہ برسوں سے خود کو لاہور کے ایک کامیاب ترین کاروباری خاندان کا فرزند ٹھہراتے شہباز صاحب جب احتساب بیورو میں حاضر ہوتے ہیں تو دودھ کی فروخت کو اپنی آمدنی کا اصل ذریعہ بیان کرتے ہیں۔ ان کی ملکیت میں موجود بھینسوں کی تعداد اگرچہ دس سے زیادہ نہیں ہے۔

Read more

قصہ دہلی کی افطار پارٹیوں کا

گو کہ مودی نے آتے ہی وزیر اعظم ہاؤس میں افطار کا سلسلہ تو بند کروادیا، مگر صدر پرناب مکھرجی نے صدارتی محل میں اس کو موقوف نہیں کیا تھا۔ 2017 ء تک اپنی مدت صدارت ختم ہونے تک انہوں نے اس سلسلہ کو جاری رکھا۔ تمام ممالک کے سفرا، اپوزیشن لیڈران و دیگر افراد اس میں شرکت تو کرتے تھے، مگر پروٹوکول کو بالائے طاق رکھتے ہوئے مودی نے کبھی بھی اس میں شرکت نہیں کی۔ مگر ایک یاد و وزیر حکومت کی نمائندگی کرنے پہنچ جاتے تھے، جو صدر کی ہال میں آمد پر ان کا استقبال کر کے فوراً ہی رخصت ہو جاتے تھے کہ کہیں دیگر مہمانوں سے ملنے جلنے کے دوران کی فوٹو نہ کھنچے۔

Read more

بزرگوں کو کورونا کے سامنے قربان کرنے کی پالیسی

کورونا وائرس جیسی عالمی وبا کے مقابلے اور اس ضمن میں حکمت عملی بنانے کے لئے دنیا میں ڈاکٹروں، عالمی ادارہ صحت، اور سائنسدانوں کی رائے اور ان کے تجربات کی روشنی میں کلیدی فیصلے کیے جا رہے ہیں لیکن ہمارے ہاں جب سے یہ وبا پھیلی ہے حکمران کوئی دوٹوک پالیسی اختیارکر نے اور فیصلہ کن اقدامات کرنے میں یکسر ناکام رہے ہیں، مزید برآں اگر کوئی حکمت عملی تھی بھی تو اس کو سٹیک ہولڈرز سے پوری طرح شیئر نہیں کیا گیا۔

اسی بنا پر عدالت عظمیٰ نے بھی کورونا وائرس کے معاملے کا ازخود نوٹس لیا۔ سپریم کورٹ نے ملک بھر میں چھوٹی مارکیٹیں ہفتے اور اتوار کو بھی کھلی رکھنے اور شاپنگ مالز بھی کھولنے کا حکم دے دیا۔ چیف جسٹس پاکستان کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 5 رکنی بینچ نے کورونا وائرس ازخود نوٹس کیس کی سماعت کی۔ سپریم کورٹ نے تحریری حکم نامے میں مارکیٹیں اور کاروباری سرگرمیاں ہفتہ اور اتوار کو بندکرنیکا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا اور کہا مارکیٹیں اورکاروباری سرگرمیاں دو دن بندکرنا آئین کے آرٹیکل 4، 18 اور 25 کی خلاف ورزی ہے۔

Read more

کرونا کو بھلاتے ہوئے ہماری عید کی تیاریاں

اس ملک کے شریفوں اور زرداریوں کی جانب سے مبینہ طور پر فراہم کردہ ”لفافوں“ کی بنیاد پر چلائی ”بکاؤ صحافت“ کو تحریک انصاف کے حق گو نوجوانوں نے برسوں کی لگن سے بالآخر بے نقاب کر دیا۔ یہ حقیقت مگر اپنی جگہ برقرار رہی کہ خلق خدا کی خاطر خواہ تعداد کو ”خبر“ نامی شے کی طلب ہوتی ہے۔ اس طلب کی تسکین بھی ضروری ہے۔

2002 سے ہماری ٹی وی سکرینوں پر چھائے اینکر خواتین وحضرات مگر اپنی کشش کھوبیٹھے ہیں۔ ٹاک شوز کی ریٹنگ تیزی سے گرنے لگی ہے۔ ان میں سے چند بدنصیب اپنے اداروں کے لئے کماؤپوت ثابت ہونے کے بجائے معاشی بوجھ میں تبدیل ہونا شروع ہو گئے تھے۔ اپنی بقاء کے لئے مختلف چینلوں کو انہیں فارغ کرنا پڑا۔ مجھ جیسے ڈھیٹ پرنٹ صحافت میں واپس آگئے۔ کیمرے کے ذریعے لوگوں سے گفتگو کرنے کے ہنر سے مالا مال ساتھیوں نے مگر یوٹیوب کی بدولت اپنے مداحین سے رابطہ برقرار رکھا۔ تحریک انصاف کی انقلابی سوچ کو فروغ دینے والوں کو ان کی ڈھٹائی نے نئی فکر میں مبتلا کر دیا ہے۔

Read more

تین ماہ کی کارکردگی رپورٹیں کیا ہوئیں؟

پنجابی محاورہ کا ترجمہ ہے :بات کہتی ہے مجھے زبان سے نکال میں تجھے گھر سے نکالوں گی۔ ہم محتاط ہیں کہ مدتوں بعد تیسری پارٹی کی حکومت آئی اب بھٹکنے کی ہمت نہیں لیکن یہ جو وقفے وقفے سے پنجاب کابینہ میں رد و بدل کی بات آتی ہے وہ آخر کچھ دن بعد کہاں چلی جاتی ہے۔ پنجاب کابینہ کی کارکردگی سنا ہے وزیر اعظم عمران خان خود دیکھتے ہیں۔ ہفتے کے روز جب وہ اسلام آباد سے لاہور آتے ہیں تو گھریلو مصروفیات کے ساتھ ساتھ ایک لازمی کام پنجاب حکومت کی کارکردگی کا جائزہ لینا ہوتا ہے۔

Read more

خوش قسمت لاوارث اور بدقسمت لاوارث بچے

سرکاری آنکڑوں کے مطابق اس وقت پاکستان میں نابالغ یتیم بچوں کی تعداد بیالیس لاکھ کے لگ بھگ ہے۔ مگر ان میں سے کتنے اپنے دیگر رشتے داروں کے زیرکفالت ہیں، کتنوں کی دیکھ بھال کی ذمے داری ریاستی و غیر ریاستی فلاحی اداروں اٹھا رہے ہیں اورکتنے اپنی زندگی کو خود لڑھکانے پر مجبور ہیں۔ اس بابت جتنے منہ اتنی باتیں۔

جو بچے اپنا بوجھ خود اٹھا رہے ہیں ان میں بارہ سے پندرہ لاکھ کے درمیان پاکستانی بچے اسٹریٹ چلڈرن یعنی بڑے اور درمیانے پاکستانی شہروں کی سڑکوں اور گلیوں میں رہنے سہنے پر مجبور ہیں۔

Read more

ہرڈ امیونٹی: قابلِ قدر اور کچرا قرار پائے انسان

برسوں سے صبح اٹھتے ہی یہ کالم لکھنے کی عادت لاحق ہوچکی ہے۔ ہفتے کے آخری دنوں میں جب اس کی ضرورت نہیں ہوتی تو فراغت سے لطف اندوز ہونے کے بجائے جمائیاں لینا شروع کردیتا ہوں۔ گزشتہ چند دنوں سے اگرچہ یہ عادت اب رائیگاں کی مشقت محسوس ہونا شروع ہوگئی ہے۔

ناصرؔ کاظمی نے ایک شعر کے ذریعے اس شبے کا اظہار کیا تھا کہ وہ جس راستے سے روزگزرتے ہیں وہاں شاذہی کوئی شخص ان پر توجہ دیتا ہوگا۔ غالباً موت کے بعد وہ اس راستے سے گزرنا چھوڑدیں گے تو کسی کو بھی احساس نہیں ہوگا۔ غالبؔ ان کے مقابلے میں ایک ڈھیٹ آدمی تھے۔ بوڑھے ہوگئے تو گھر بیٹھے موت کے منتظر رہے۔ وبا کے موسم میں بھی لیکن وہ انہیں غچہ دے گئی۔ ”موت کا ایک دن معین ہے“ والی حقیقت کا اثبات مل گیا۔

Read more

قصہ دہلی کی افطار پارٹیوں کا

بھارت کی موجودہ حکمران ہندو قوم پرست بھارتیہ جنتا پارٹی نے 1998 ء میں پارلیمانی انتخابات کے دوران اشوکا روڑ اپنے ہیڈ کوارٹر میں پہلی اور آخری افطار پارٹی دی تھی۔ اٹل بہاری واجپائی ابھی اپوزیشن لیڈر ہی تھے۔ مجھے یاد ہے کہ جب میں اس تقریب میں پہنچا تو دیکھا کہ پارٹی آفس کے وسیع و عریض لان میں شامیانہ لگا ہوا تھا، جس کے دروازے پر خود واجپائی اور چند دیگر لیڈران ٹوپی پہنے مہمانوں کا استقبال کر رہے تھے۔

Read more

این ایف سی ایوارڈ پر اعتراضات

صدر مملکت عارف علوی نے آئین کے مطابق دسواں قومی مالیاتی کمیشن تشکیل دے دیا ہے لیکن جہاں وطن عزیز میں حکومت اور اپوزیشن کے درمیان اعتماد کے فقدان کی بنا پر فیصلے متنازعہ بن جاتے ہیں، اسی طرح قومی مالیاتی کمیشن کی ہیئت ترکیبی اور اس کے ٹرمزآف ریفرنس پر بھی اعتراضات شروع ہو گئے ہیں۔ ان میں سے بعض تو خاصے وزنی ہیں اور دیگر اعتراضات کامل بیٹھ کر حل نکالا جا سکتا ہے۔ مثال کے طور پر قومی مالیاتی کمیشن کی سربراہی تکنیکی طور پر بطور وزیر خزانہ، وزیراعظم عمران خان کوکرنی چاہیے لیکن ان کی جگہ مشیر برائے خزانہ حفیظ شیخ اس کے چیئرمین ہوں گے جو سراسر غیرآئینی ہو گا۔

Read more

بیورو کریٹس پارٹی بدل لیں

بیوروکریٹ کا ترجمہ افسر اعلیٰ نہیں خادم اعلیٰ ہے۔ عمران خان کی اصل اپوزیشن یہی خدام اعلیٰ ہیں۔ یہ خدام اعلیٰ قبل ازیں پیپلز پارٹی کی اپوزیشن رہے ہیں۔ بے نظیر بھٹو اور یوسف رضا گیلانی کی مخبری کر کے نواز شریف سے فوائد لیتے رہے۔ مفاہمت کے یہ غلام اس رخ نماز باندھ لیتے ہیں جہاں ان کو شریک اختیار کر لیا جائے۔ کتنے سعید مہدی اور احد چیمہ آئے۔ عوام کی خدمت کی توفیق نہ ہوئی۔ میڈیا اور طاقتور حلقوں میں دوستانے بنائے، جی بھر کر اپنی مرضی کی، ساری دنیا کے لئے اصول پسند لیکن ن لیگ کے لئے موم، جیسے چاہا موڑ لیا۔

Read more

قبرستان کی خاموشی چھٹ رہی

احتیاطی تدابیرکے ساتھ زندگی کی رونقیں بحال ہونا شروع ہوچکی ہیں۔ بازاروں کی چہل پہل اور سڑکوں پر گاڑیوں کی قطاریں دیکھ کر رگ ویشے میں اتراخوف چھٹنا شروع ہوچکا ہے۔ سائنسدان بتاتے ہیں کہ کورونا وائرس کے ساتھ نبھا کیے بغیراب چارہ نہیں۔ ویکسین بن ضرور جائے گی لیکن اس کے استعمال اور بعدازاں انسانی جسم پر پڑنے والے اثرات کو جانچنے کے لیے وقت درکا رہوگا۔ کورونا کی مہلک وبا نے ایک بار پھر انسانوں کو باور کرایاکہ قدرتی آفت یا وبا رنگ، نسل، مذہب یا سرحد کا امتیاز نہیں کرتی۔

Read more

کورونا کے ساتھ زندگی گزارنی ہے

پوری دنیا کو کورونا وائرس نے چکرا کر رکھ دیا ہے۔ انسانی تاریخ کی یہ انوکھی وبا انسانوں سے انسانوں کو منتقل ہوتی ہے، گویا اس سے بچنے کے لیے انسان کا انسان سے فاصلہ برقرار رکھنا ضروری ہو گیا ہے۔ بعض اوقات اس کی کوئی علامت بھی ظاہر نہیں ہو پاتی، اور یہ انتہائی خاموشی کے ساتھ ایک جسد خاکی سے دوسرے جسد خاکی میں منتقل ہو جاتی ہے۔ تین لاکھ سے زائد افراد اس کی وجہ سے لقمۂ اجل بن چکے ہیں، جبکہ لاکھوں بستر علالت پر پڑے ہیں، وہ معمول کی سرگرمیاں جاری رکھنے کے قابل نہیں رہے۔

Read more

ملک لیڈر کا متلاشی ہے

جوں جوں کورونا وائرس پاکستان میں جنگل کی آگ کی طرح پھیل رہا ہے، اموات کی تعداد میں بھی مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ رواں ماہ کے آغاز میں ملک بھر میں کورونا کے 16473 کیسز تھے جو 15 مئی تک بڑھ کر قریباً 37000 تک پہنچ گئے۔ یہ کوئی حسن اتفاق نہیں ہے کہ پاکستان چند روز میں ہی کورونا وائرس سے متاثرہ ملکوں میں 24 ویں سے 19 ویں نمبر پر آ گیا ہے۔

جب سے کورونا وائرس نے پاکستان کا رخ کیا ہے، لاک ڈاؤن پر متذبذب پالیسی کے باوجود حکومتی زعما بالخصوص وفاقی وزرا رطب اللسان ہیں کہ ہم تو مقدور بھر کوشش کر رہے ہیں اور یہ وائرس پاکستان میں اس تیزی سے نہیں پھیل رہا جیسے بعض دوسر ے ممالک میں پھیلا ہے لیکن یہ دلیل وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ مزید بودی لگنے لگی ہے کیونکہ وزیراعظم عمران خان تو برملا کہتے ہیں کہ میں روز اول سے یہ کہہ رہا ہوں کہ میں نظریاتی طور پر مکمل لاک ڈاؤن کا مخالف ہوں۔

Read more

نیویارک میں کووڈ پارٹیاں اور پاکستانی ہرڈ امیونٹی

کرونا وائرس کی وجہ سے پھیلی وبا کے لئے اب Covid۔ 19 کی اصطلاح استعمال ہونا شروع ہوگئی ہے۔ لفظوں سے کھیلنے والے اسے بنیاد بناکر مزید لسانی تراکیب بھی ایجاد کر رہے ہیں۔ مثال کے طور پر ایک لفظ آیا ہے ”کوویڈیٹ“ ۔ ”کووڈ“ اور ”ایڈیٹ“ کے اشتراک سے بنایا یہ لفظ اس ”احمق“ کو بیان کرتا ہے جو ان دنوں بھی قبل از کرونا ایام والی روزمرہ زندگی احتیاطی تدابیر اختیار کیے بغیر گزارے چلا جا رہا ہے۔ گھر سے نکلتے ہوئے ماسک نہیں پہنتا۔

اپنے ہاتھوں کو بارہا صابن سے دھونے کی ضرورت محسوس نہیں کرتا۔ منگل کی رات امریکہ میں مقیم چند دوستوں سے گفتگو کے بعد ”تازہ خبر“ یہ ملی ہے کہ نیویارک اور واشنگٹن جیسے شہروں میں ”کووڈ پارٹیوں“ کا اہتمام شروع ہوگیا ہے۔ کرونا کے حوالے سے ابھی تک جو ڈیٹا جمع ہوا ہے وہ واضح انداز میں بتا رہا ہے کہ پچاس سال سے کم عمر والے لوگ کرونا وائرس کی زد میں آ جائیں تو اپنے جسم میں فطری طور پر موجود مدافعتی نظام کی بدولت ازخود صحت یاب ہو جاتے ہیں۔

Read more

”اجتماعی بصیرت“ کی تلاش کا ٹائیں ٹائیں فش ہوا سفر

دو ماہ کے طویل وقفے کے بعد بالآخر پیر کے روز سے قومی اسمبلی کا ا جلاس شروع ہوگیا ہے۔ عمران حکومت بحران کے دنوں میں پارلیمان سے رجوع کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کرتی۔ عوام کی نمائندگی کے بیشتر دعوے دار اس کی دانست میں سیاست دانوں کا روپ دھارے ”چور اور لٹیرے“ ہیں۔ ”اجتماعی بصیرت“ کے نام پر خود کو ”باوقار“ دکھانے کے ڈھونگ رچاتے ہیں۔

ہمارے ہاں مگر ”آئین، نام کی ایک کتاب بھی موجود ہے۔ اس میں درج قواعد حکومت کو مجبور کردیتے ہیں کہ اگر اپوزیشن ارکان متحد ہوکر باقاعدہ تحریک کے ذریعے قومی اسمبلی یا سینٹ کا اجلاس بلانے کا مطالبہ کریں تو وہ مطلوبہ اجلاس کے انعقاد کا اہتمام کرے۔

Read more

بھارت، طالبان اور امریکی ثالثی

افغانستان کے حوالے سے نئی دہلی کی بے چینی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاتا ہے کہ دوحہ امن معاہدے پر رد عمل دیتے ہوئے وزیر خارجہ جے شنکر نے اس کو بالی ووڈ کی ایک مشہور فلم پاکیزہ کے ساتھ تشبیہ دی۔ لکھنؤ کے مسلم کلچر اور ایک طوائف کی محبت کی کہانی پر مبنی اس فلم کی پروڈکشن پر ڈائریکٹر کمال امروہی کو 16 سال صرف کرنے پڑے۔ گو کہ فلم باکس آفس پر ہٹ ہوگئی، مگر اس کی ریلیز سے چند روز قبل ہی اس کی مرکزی اداکارہ مینا کماری چل بسی۔

Read more

متحدہ عرب امارات میں بھارتی انتہاپسندوں کے خلاف ایکشن

خلیجی ممالک میں انتہا پسند نظریات رکھنے والے ہندو ملازمین کی سوشل میڈیا پر سرگرمیوں کی نگرانی کڑی کر دی گئی ہے۔ دوبئی میں الضادیہ گروپ اٹالین ریسٹورنٹس کی چین کا مالک ہے۔ اس کے ایک شیف راوت نے مسلمانوں کے خلاف نفرت آمیز الفاظ کا استعمال کیا۔ کمپنی نے اسے کام سے ہٹا کر تحقیقات شروع کر دی ہیں۔

شارجہ میں ایف زیڈ ای نام کی آٹو میشن کمپنی ہے۔ کمپنی میں ایک بھارتی ہندو نے مسلمانوں کے لیے غلیظ زبان استعمال کی۔ اس کی تنخواہ روک لی گئی اور کہا گیا ہے کہ کام پر نہ آئے۔ کنی گولی نامی ملازم کے متعلق کمپنی مالکان نے وضاحت جاری کی ہے کہ وہ کسی شخص کے عقاید کی توہین کے مرتکب فرد کے لیے زیروٹالرنس کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں۔ دوبئی ٹرانس گارڈ گروپ نے چند روز قبل اپنے ایک بھارتی ملازم کے خلاف کارروائی کی ہے۔ وشال ٹھاکر نامی ملازم نے فیس بک پر اسلام کے خلاف کئی پوسٹیں تحریر کیں۔ متحدہ عرب امارات میں 35 لاکھ سے زاید بھارتی مقیم ہیں۔

Read more

بھارت، طالبان اور امریکی ثالثی

29 فروری کو قطر کے دارالحکومت دوحہ میں طالبان اور امریکہ کے درمیان ہوئے معاہدے سے تقریباً دوہفتے قبل بھارتی فضائیہ کے ایک طیارہ نے کابل ایر پورٹ پر لینڈ کیا۔ اس طیارہ میں وزیر اعظم نریندر مودی کے ایک دست راست صدر اشرف غنی کے لئے ایک خصوصی پیغام لے کر آئے تھے۔ اسی رات واپس دہلی پہنچ کر افسر اعلیٰ نے وزیر اعظم کو مشن کی کامیابی کی اطلا ع دید ی۔ امریکہ و یورپ سمیت پڑوسی ممالک نیز افغانستان کی سیاستی جماعتیں توقع کر رہی تھیں کہ طالبان اور امریکہ کے درمیان امن معاہدے کے طے ہونے تک افغانستان کا الیکشن کمیشن انتخابات کے نتائج کا اعلان نہیں کرے گا۔

Read more

اسمبلی اجلاس اور عمر کی پابندی

”شاہ کا مصاحب“ ہونا میرے نصیب میں نہیں۔ بطور صحافی البتہ اس بات پر بہت اتراتا رہا کہ نسبتاً جواں سالی سے انگریزی میں ایک نئی طرز کا کالم لکھنا شروع کردیا تھا۔ قومی اسمبلی کی کارروائی اس کا موضوع ہوا کرتی تھی۔ اسے اخبار کے صفحۂ اول پر ویو فرام دی پریس گیلری کے عنوان سے چھاپا جاتا۔

Read more

کورونا :ٹیکنالوجی کی جنگ شروع

پورا قصبہ ٹکڑوں میں تقسیم ہے۔ آغاز یوں ہوا کہ امریکہ کی لیبارٹریوں میں ایک وائرس پر تحقیق ہوئی۔ اس وائرس کے ساتھ ایسی بائیو لوجیکل انجینئرنگ کی گئی کہ یہ کسی طریقہ کار کے ذریعے کنٹرول کیا جا سکتا تھا۔ سمجھیں یہ ایک خوردبینی سپاہی تھا جسے دشمن ریاست میں خوف اور بیماری پیدا کرنے کے لئے تیار کیا گیا۔ اس سے خوف پیدا کر کے کسی بھی علاقے کا نظام زندگی برباد کیا جا سکتا تھا۔ چین کے پاس چار ہزار ارب ڈالر سے زیادہ کے زرمبادلہ ذخائر ہیں۔

Read more

امریکی الیکشن میں چین موضوع کیوں؟

الیکشن کی گہماگہمی کے ہنگام امریکہ کی انتخابی مہم میں برسرپیکار دونوں جماعتیں داخلی مسائل پر گفتگو کے بجائے چین کے خلاف شمشیر لے کر میدان میں اتری ہیں۔ ووٹروں کو لبھانے کے لیے جس طرح دہلی اورممبئی کے گلی گوچے میں زہرا گلا گیا اب وہی منظر ورجینیا اور کیلی فورنیا کی سڑکوں پر دہرایا جا رہا ہے۔ جیسے اس ڈرامے کا سکرپٹ رائٹر اور ہدایت کار کوئی ایک ہی ہو۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کہتے ہیں کہ چین اپنے وسائل انہیں شکست دلانے کے لیے استعمال کر رہا ہے۔

Read more

حکومت کا ڈھیلا پن اور مشکلات

کورونا وائرس کا سامنا جس طرح کرنا چاہیے تھا، اور جس طرح کیا گیا، یہ سوال اب تاریخ کا حصہ بن چکا ہے۔ جو کچھ ہو گیا سو ہو چکا، پہیہ الٹا نہیں گھمایا جا سکتا، لیکن جو اب ہونا چاہیے یا اب ہو سکتا ہے، اس پر بحث کی جا سکتی ہے، اور کی بھی جانی چاہیے۔ یہ وبا اپنی تمام تر تباہ کاریوں کے ساتھ ہمارے سروں ہی پر نہیں منڈلا رہی، ہمارے درمیان دندنا رہی ہے، اور ہر روز اس کے متاثرین کی تعداد میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔

Read more

عمران خان گئے تو کوئی اور ہی آئے گا

جب سے میاں شہباز شریف چار ماہ لندن میں قیام کے بعد وطن واپس آئے ہیں، ڈیل اور ڈھیل کی خبریں گردش کر رہی ہیں۔ اس ضمن میں شیخ رشید تو بہت واضح ہیں، ان کا دعویٰ ہے کہ وہ اس امید پر آئے تھے کہ کورونا وباکے نتیجے میں خان صاحب کی حکومت کا چل چلاؤ ہے اور اقتدار کا ہما دوبارہ ان کے سر پر بیٹھنے کو ہے بلکہ اس مرتبہ وہ وزیراعظم ہوں گے۔ شہباز شریف نے شیخ صاحب کے اس دعوے کی پرزور تردید کی، ان کے مطابق تو وہ لندن سے پی آئی اے کی آخری پرواز سے ٹکٹ کروا کر بھاگے بھاگے قوم کی خدمت کرنے کے لیے وطن واپس آئے ہیں۔

Read more

راجہ داہر کی بحث کیوں؟

کوئی پوچھے ہم سب سے زیادہ کس بیماری کو پھیلاتے ہیں تو جواب ہو گا، سنی سنائی تاریخ۔ سندھ میں چند درجن لوگوں نے راجہ داہر کا دن منایا۔ راجہ داہر مسلمانوں کا ولن ہے۔ ضروری نہیں غیر مسلم سندھی اس سے لاتعلق ہو جائیں۔ ہندوستان کی حکومت کو ہم مسلمان حکمرانوں کی یادگاریں محفوظ رکھنے کا کہتے ہیں لیکن خود الٹ کرتے ہیں۔ کچھ اسی طرح کی صورت حال رنجیت سنگھ کی نسبت پنجاب میں ہے۔ رنجیت سنگھ سے پہلے لاہور پر تین سکھ سرداروں کی حکومت تھی۔

Read more

نیب، 18 ویں ترمیم اور لاک ڈاؤن

تحریک انصاف کے محب وطن اور ایمان دار نوجوانوں کی سوشل میڈیا پر چلائی مہم کی عنایت سے یہ بات طے ہوچکی کہ ہمارا ”بکاؤ میڈیا“ خبر نہیں دیتا۔ ”خبر“ کے نام پر فیک نیوز پھیلاتا ہے۔ جن ”چوروں اور لٹیروں“ سے ان کے دس سالہ دور اقتدار کے دوران ”لفافے“ لیتا رہا ان کی اقتدار میں واپسی کے لئے بے بنیاد کہانیاں گھڑتا رہتا ہے۔ عمران حکومت کے لئے اگرچہ ”ستے خیراں“ ہیں۔ ”ایک پیج“ پر ہونے کی حقیقت

Read more

کرونا پر قومی اسمبلی کا غیر روایتی اور بے سود اجلاس

صحافیوں کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ جیک آف آل ٹریڈز لیکن ماسٹر آف نن ہوا کرتے ہیں۔ سادہ لفظوں میں یوں کہہ لیں کہ وہ زندگی کے ہر شعبے کی بابت تھوڑی شد بد رکھتے ہیں مگر کسی ایک شعبے کے بھی ”ماہر“ نہیں ہوتے۔ وطن عزیز میں اگرچہ کئی برسوں سے یہ فیصلہ ہوچکا ہے کہ ہمارے میڈیا نے اپنے فرائض بھلادینے کے بعد فقط ”لفافہ وصولی“ میں مہارت حاصل کی ہے۔ اپنی اجتماعی ساکھ لٹانے

Read more

بے وسیلہ افراد کامستندڈیٹا

ساری زندگی مشقت کی نذر ہوگئی۔ پریشانیوں سے مگر دل کو گھبرانے کی عادت نہیں رہی۔ کھیل کود کا بچپن ہی سے عادی نہیں تھا۔ پرانے لاہور کے تمام دروازوں کے باہرباغ ہوا کرتے تھے۔ وہاں کے ایک کونے میں محلوں کے چند مخیرحضرات جسمانی ورزش کے آلات رکھ دیتے۔ نوجوانوں سے امید لگاتے کہ وہ صبح اٹھ کر تھوڑی ورزش کے ذریعے ”جان بنایا“ کریں۔ میں نے کبھی شغلا بھی ورزشی سامان کو ہاتھ نہیں لگایا۔ کم عمری میں

Read more

دہلی کی تہاڑ جیل میں گزرا رمضان

کرونا وائرس نے لاک ڈاؤن کے ذریعے پوری دنیا کو ایک قید خانہ میں تبدیل کردیا ہے۔ جنہوں نے کبھی جیل نہیں دیکھی یا آزاد ممالک کی آزاد فضاؤں میں ہی سانسیں لی ہوں، ان کو قید و بند کی زندگی کا احساس کروانا اور ایک قیدی کی نفسیات کا ادراک کروانا خاصا مشکل ہوتا ہے۔ اس کا مجھے بارہا تجربہ ہوچکا ہے۔ جن معمولات کی طرف کبھی ہمارا دھیان ہی نہیں جاتا ہے، قیدی کے لئے وہ ایک بڑی

Read more

میڈیا کا فوکس کرونا پر کیوں نہیں؟

سکول بھیجنے سے قبل ہر صبح میرے والد مجھ سے گھر میں آیا اخبار سنا کرتے تھے۔ سکول سے گھر لوٹتے ہوئے اپنے محلے میں داخل ہوتا تو وہاں چند تھڑوں پر رکھے اخباروں کو بآواز بلند پڑھتے ہوئے خبریں ”نشر“ کرنا پڑتیں۔ قصہ مختصر اخبار کی پڑھنے کی عادت بچپن ہی میں لاحق ہوگئی تھی۔ اس کی بدولت میرا جنرل نالج اپنے ہم عصروں سے کافی بہتر ہوگیا۔ ریڈیو پاکستان لاہور سے سکول براڈ کاسٹ کے لئے تیار ہوئے

Read more

عوام کی جان بچائیں، سیاست کے لئے بڑا وقت ہے

کورونا وائرس کی تیزی سے پھیلتی وبا اور رمضان المبارک کا مقدس مہینہ بھی ہمارے سیاستدانوں بالخصوص حکمران جما عت کی ترجیحات کو بدل نہیں سکا۔ ملک ایک بڑے بحران میں گھرا ہوا ہے لیکن یہاں بحث ہو رہی ہے کو احلال ہے یا حرام؟ جمعے کو کورونا سے متاثر ہونے والوں کی تعداد میں 1226 کا اضافہ سامنے آیا اور اس کے نتیجے میں ہونے والی اموات میں بھی ریکارڈ اضافہ ہوا۔ اسی روز متاثرین کی تعداد پہلی مرتبہ

Read more

صحت اور دیگر بجٹ ضائع کر دیے گئے

نئے حالات کو سمجھنے میں پرانی کہانیاں بھی مدد دیاکرتی ہیں۔ سو پرانی کہانی ہے، دشمنوں میں گھرے ایک دانشمند کو پریشانی لاحق ہو گئی۔ چار بیٹے تھے، چاروں ایک دوسرے کی ضد، جوان ہونے کو آئے لیکن نا اتفاقی بہت زیادہ بڑھ گئی۔ دانشمند کو فکر رہنے لگی کہ دشمن ان کی نا اتفاقی کا فائدہ اٹھالیں گے۔ ایک دن چاروں کو بلایا اور ان کو ایک ایک چھڑی دے کر اسے توڑنے کو کہا، بازو کی مچھلیاں تازہ

Read more

ایک روپیہ اسکول

اس بچے کو دیکھا تو عید کا دن یاد آگیا۔ ہمارے بچپن میں اس روز مائیں اپنے بچوں کو بوروکیڈ کی چمچماتی ہوئی سنہری شیروانی پہناتیں اور اسی کپڑے کی رام پوری ٹوپی جسے تہہ کردیں تو سمٹ کر جیب میں آجائے۔ اس بچے نے بھی کچھ ایسے کپڑے ہی پہن رکھے تھے، چمچماتے اور بھڑکیلے، تیل سے اس کے بال جمے ہوئے تھے اور اس کے جسم میں بجلیاں بھری تھیں۔ ماں پکڑ کر سیدھا بٹھاتی تو وہ تڑپ

Read more

لیبرپارٹی بھی دغا کرگئی

لیبر پارٹی کے نو منتخب سربراہ کیئر سٹارمر کے ایک بیان نے برطانوی سیاست ہی نہیں پاکستان میں بھی بھونچال پیدا کردیا ہے۔ انہوں نے کہا : کشمیر بھارت اور پاکستان کا مسئلہ ہے۔ برطانیہ میں شہریوں کو تقسیم کرنے کے لیے اسے استعمال نہیں ہونا چاہیے۔ حیرت انگیز طور پر پانچ اگست کے بھارتی اقدام کا بھی انہوں نے دفاع کیا۔ یہ جاننے کے باوجود کہ مقبوضہ جموں وکشمیر کی وحدت پر نقب لگایاگیا۔ اس کی داخلی خودمختاری کو

Read more

اور وزیر اعظم ہاؤس کا اجلاس ختم ہو گیا

وزیر اعظم ہاؤس میں آج صبح ہی سے بڑی چہل پہل ہے۔ فروری کی 20 یا 21 تاریخ ہے۔ صوفوں اور کرسیوں کو ترتیب سے رکھا جا رہا ہے۔ رگڑ رگڑ کر ان کی میل صاف کی جا رہی ہے۔ وزیر اعظم کا ذاتی عملہ بھی آتا جا رہا ہے۔ ملٹری سیکرٹری، اے ڈی سی چاق و چوبند کھڑے ہیں۔ نواز شریف وزیر اعظم تھے تو یہاں ان کا دفتر تھا اور رہائش بھی۔ ان کے ملاقاتی یہیں آتے اور

Read more

وزارتوں کی میوزیکل چیئر

تحریک انصاف کے دو سالہ حکومت میں وفاقی کابینہ میں رد وبدل میوزیکل چیئر بن کر رہ گیا ہے۔ وزارتوں اور محکموں میں اکھاڑ پچھاڑ اب تو معمول کی کارروائی لگتی ہے۔ وزارت عظمیٰ کے بعد سب سے کلیدی وزارت، خزانہ کی ہوتی ہے اور اقتصادیات کا پہیہ چلانے میں وزیر خزانہ کا رول اہم ترین ہوتا ہے۔ اس منصب کے لئے وزیراعظم کے قابل اعتماد ساتھی اسد عمر کا عام انتخابات کے انعقاد سے بھی پہلے قرعہ فال نکل

Read more

جیسنڈرا آرڈن، کورونا اور پھول

کورونا کے دوران صنعتی معیشت تباہی کے دہانے پر پہنچ چکی ہے، امریکی جی ڈی پی رواں سہ ماہی میں 5 فیصد نیچے آ گیا ہے۔ ایسے میں نیوزی لینڈ اور آسٹریلیا کے سپلائزر نے بیجوں کی خرید کے نئے آرڈر لینے سے معذرت کر لی ہے۔ دونوں ملکوں میں بیج تیار کرنے والی کمپنیوں کو اس بار معمول سے 10 گنا زیادہ آرڈر موصول ہوئے ہیں۔ یاد رہے نیوزی لینڈ میں ہر دلعزیز جیسنڈرا آرڈن وزیر اعظم ہیں، جیسنڈرا

Read more

کرونا کی ویکسین کی تیاری میں اہم پیشرفت

کرونا کے خوف نے جو تنہائی مسلط کررکھی ہے اس سے نبردآزما ہونے کے لئے مختلف ہتھکنڈے استعمال کرتا رہتا ہوں۔ معاملہ اگرچہ ”کوئی صورت نظر نہیں آتی“ والا ہوچکا ہے۔ ابھی تک ایک حربہ مگر وقت گزارنے میں کافی مددگار ثابت ہورہا ہے۔ اپنے ذہن میں اچانک امڈے کسی سوال کے بارے میں تھوڑی تحقیق کا ارادہ بناتا ہوں۔ تحقیق کے ہنر کو تعلیم کے دوران سیکھا نہیں۔ رٹے لگائے تھے۔ عطائیوں کی طرح اپنائی جستجو کماحقہ جوابات فراہم

Read more

کرونا: ٹرمپ کی چین مخالف مہم

ذرائع ابلاغ کے سارے گرو بہت تحقیق کے بعد ہم جیسے جاہلوں کو یہ سمجھاتے رہے کہ ٹی وی ایڈیٹ باکس ہے۔ اس کی بدولت ملی شہرت سے بچ کر رہو۔ ٹی وی سکرینوں پر ضرورت سے زیادہ رونمائی بالآخر بیک فائرکرجاتی ہے۔ بسا اوقات ایسی کاری ضرب لگادیتی ہے کہ آپ منہ دکھانے کے جوگے نہیں رہتے۔ امریکی صدر ٹرمپ کے ساتھ ان دنوں کچھ ایسا ہی ہوتا نظر آرہا ہے۔ کرونا کی وبا بے قابو ہوکر نیویارک جیسے

Read more

پھر 18 ویں ترمیم کا شوشہ؟

اپریل 2010 ء میں پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں آئین میں 18 ویں ترمیم متفقہ طور پر منظور ہوئی تھی، جس پر تمام سیاسی جماعتوں نے صاد کیا تھا۔ اس ترمیم کے تحت این ایف سی ایوارڈ کے ذریعے زیادہ تر اختیارات اور مالی وسائل صوبوں کو منتقل کردیئے گئے۔ اس کا مقصد 1973 ء کے آئین کووفاقی اور پارلیمانی بنانے کے علاوہ مالی اختیارات صوبوں کو منتقل کرنا تھا۔ دیکھا جائے تومتذکرہ ترمیم کا زیادہ فائدہ سب سے

Read more

شبلی فراز کے لئے خیر کی دعا

چند روز قبل وزیر اعظم صاحب نے مخلص نوجوانوں کے ایک گروپ سے طویل ملاقات کی۔ اقبالؔ کی تمنا کے اتباع میں ستاروں پر کمند ڈالنے کو بے چین نوجوانوں کا یہ گروپ ان دنوں یوٹیوب کے ذریعے قوم کی رہ نمائی فرمانے کے مشن میں جتا ہوا ہے۔ ریگولر میڈیا پر چھائے ”لفافہ اینکروں“ کے پھیلائے جھوٹ کو مسلسل بے نقاب کرتا ہے۔ عمران خان صاحب ان کی رضا کارانہ لگن سے بہت متاثر ہیں۔ انہیں صدق دل سے

Read more

تبدیلیاں : بادشاہ درویش سے نیا آم لے لے

بادشاہ اپنے عظیم الشان لشکر، بھرے ہوئے خزانے اور ریاست میں مثالی امن کے باوجود بسا اوقات کسی ذاتی دکھ کا شکار ہو کر سر راہ کسی درخت کی چھاؤں میں ٹوٹی کھاٹ پر لیٹ جایا کرتے۔ کوئی اللہ والا وہاں سے گزرا۔ ایسے ہی ایک پریشان بادشاہ سے اس کا دکھ پوچھا۔ تیسرے قول پہ بادشاہ نے بتایا کہ رب نے سب کچھ دے رکھا ہے اولاد نرینہ نہیں۔ فقیر اسے اپنے تھیلے سے ایک آم نکال کر دیتا

Read more

زرعی ملک میں کئی بحرانوں کے خدشات

اتوار کی رات سونے سے قبل ارادہ باندھا تھا کہ پیر کی صبح اٹھ کر جو کالم لکھوں اس کے ذریعے پاکستان مسلم لیگ (نون) اور پاکستان پیپلز پارٹی کی صفوں میں موجود ”انقلابی“ جمہوریت پسندوں اور صوبائی خودمختاری کے محافظوں کو چند عاجزانہ مشورے دوں۔ خبر گرم ہے کہ آئین کی 18 ویں ترمیم کو ”درست“ کرنے کا اہتمام ہورہا ہے۔ ممکنہ نظرثانی کا عمل پارلیمان ہی کے ذریعے ہوگا۔ اس کے مبینہ نقائص درست کرنے کے لئے آئین

Read more

آفات، سفارت کاری اور امن مساعی

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انٹونیو گیوتریس کی اپیل پر دنیا کے مختلف شورش زدہ علاقوں میں متحارب گروپوں اور حکومتوں نے کورونا وائرس کی وبا سے نمٹنے کے لئے فی الحال جنگ بندی کا اعلان کیا ہے۔ فلپائن میں تقریباً پچھلے 50 سالوں سے برسرپیکار نیوپیپلز آرمی نے سیز فائر کا اعلان کیا ہے تاکہ طبی عملہ کو متاثرہ علاقوں تک جانے میں کوئی پریشانی نہ ہو۔ اسی طرح کولمبیا میں بھی حکومت اور نیشنل لیبریشن آرمی نے عارضی

Read more

کرونا: واشنگٹن پوسٹ کی پریشان کن رپورٹ

عالمی سطح پر معتبر گردانے امریکی اخبار ”واشنگٹن پوسٹ“ میں ایک تحقیقاتی رپورٹ چھپی ہے۔ گزشتہ دودنوں سے بے تحاشا لوگوں کو اس نے پریشان کررکھا ہے۔ اس رپورٹ کے مطابق کرونا کی زد میں آئے مریضوں کی واشنگٹن کے جدید ترین ہسپتال ”ماؤنٹ سینائی“ میں ہنگامی بنیادوں پر دیکھ بھال کرتے ڈاکٹر اس خدشے کا اظہار کرنا شروع ہوگئے ہیں کہ یہ وبا فقط 60 سال سے زائد عمر والے افراد ہی کے لئے جان لیوا ثابت نہیں ہورہی۔

Read more