عملی دہشت گردی مدرسے والے کرتے ہیں یا سکول کالج والے؟

بہاولپور کی طرح اچانک اٹھ کر مار دینے والوں میں کتنے مدرسے والے ہوتے ہیں اور کتنے کالج والے؟ داعش وغیرہ میں جدید تعلیم پانے والے کتنے ہوتے ہیں اور مدرسے والے کتنے؟

بہاولپور کا قاتل طالب علم انگلش میں بیچلرز کر رہا تھا۔ صفورا گوٹھ کے دہشت گردوں میں آئی بی اے کے فارغ التحصیل شامل تھے۔ داعش کی خودکش بمبار بننے کی آرزو مند نورین لغاری میڈیکل کالج کی طالبہ تھی۔ تبلیغی جماعت کے بزرگوں کو مسجد میں قتل کرنے والا ایک عام سا نوجوان تھا جو دیوبندیوں کو گستاخی کا مرتکب سمجھتا تھا۔ ممتاز قادری کسی مدرسے کا فارغ التحصیل نہیں تھا۔ پھر یہ سب اتنی آسانی سے دین کے نام پر انسانوں کو قتل کرنے پر کیوں راضی ہوئے؟

Read more

استاد کا یہ قتل لہو کی بارش کا پہلا قطرہ ہے

قاتل کہتا ہے کہ اس کا استاد ”اسلام کے خلاف بہت بھونکتا تھا۔ روز بھونکتا تھا۔ قانون کون سا ہے۔ قانون تو گستاخوں کو رہا کرتا ہے۔ “ کیا یہ بات ماننے والی ہے کہ بہاولپور جیسے شہر میں ایک استاد سینکڑوں طالب علموں کے سامنے اسلام کے خلاف بات کرتا ہو اور کسی نے رپورٹ نہ کی ہے؟ ہاں رپورٹ ہوئی ہے مگر اس بات کی کہ کالج انتظامیہ نئے طلبہ کے لئے ویلکم پارٹی کے انتظامات کر رہی تھی اور اس کے خلاف شہر میں بینر لگے ہوئے تھے۔

احمد نورانی کے مطابق رپورٹ یہ ہوا ہے کہ ”گزشتہ رات ایک میٹنگ میں شہید پروفیسر نے پرنسپل کو قتل کی دھمکیوں کے بارے میں آگاہ کیا تھا۔ طلبہ کا ایک گروہ ایک نفرت پھیلانے والے ملا سے متاثر ہو کر نہ صرف اس ویلکم پارٹی کے منتظمین کے خلاف ایک مہم چلا رہا تھا بلکہ انہیں دھمکیاں بھی دے رہا تھا۔ اس پارٹی کے خلاف بینر لگائے گئے تھے ضلعی انتظامیہ اس صورتحال سے باخبر تھی مگر کوئی حفاظتی انتظامات نہیں کیے گئے۔ کوئی براہ راست کنفرمیشن نہیں ہے لیکن پولیس کا دعوی ہے کہ بہاولپور کا یہ قاتل خادم رضوی گروپ سے تعلق رکھتا ہے“۔

Read more

کریم کا رسوائے زمانہ اشتہار کس گمراہی کی ترغیب دے رہا ہے؟

گزشتہ دو تین دن سے ٹیکسی سروس کریم کے ایک اشتہار نے سوشل میڈیا پر طوفان برپا کیا ہوا ہے۔ اس اشتہار میں ایک لڑکی سولہ سنگھار کیے دلہن بنی سرخ عروسی جوڑا پہنے، غالباً بیوٹی پارلر سے بھاگنے کی کوشش کر رہی ہے۔ اس گمان کی وجہ یہ ہے کہ اس نے کالا چشمہ پہنا ہوا ہے اور یہ چشمہ صرف اسی صورت میں ایک دلہن پہن سکتی ہے اگر اس نے ابھی آنکھوں کا میک اپ نہ کروایا ہو۔ ساتھ لکھا ہوا ہے کہ ”اپنی شادی سے بھاگنا ہو تو کریم بائیک کرو۔ “

اس پر شور مچ گیا ہے کہ کریم ٹیکسی سروس لڑکیوں کو شادی سے بھاگنے کی ترغیب دے رہی ہے۔ اور وہ بھی ایک نامحرم اور انجان لڑکے سے جڑ کر موٹرسائیکل پر بھاگنے کی۔ بجا طور پر اعتراض کیا جا رہا ہے کہ یہ ہماری روایت نہیں ہے۔

Read more

نیوزی لینڈ میں دہشت گردی اور ایک پاکستانی ہیرو

”بچپن سے ہی وہ کہا کرتا تھا کہ انسان کو چاہیے کہ اپنی زندگی دوسروں کی مدد کرتے ہوئے بسر کرے، اور جب وہ مرے تو لوگ اس پر فخر محسوس کریں۔ “ نعیم راشد کے بھائی خورشید عالم نے نیوزی لینڈ کی النور مسجد میں نہتا ہونے کے باوجود خودکار دہشت گرد سے بھڑ کر نمازیوں کی زندگی بچانے کی کوشش کرنے والے ہیرو کے بارے میں بتایا۔

عام طور پر دنیا میں کہیں دہشت گردی کی خبر آتی ہے تو سب سے پہلے یہی دعا دل سے نکلتی ہے کہ اس میں پاکستان کا نام نہ لیا جائے۔ افغان جنگ نے پاکستان کو بدنام کر دیا ہے۔ دنیا بھر سے انتہاپسند یہاں اکٹھے ہوئے اور دنیا بھر میں پھیلے۔ ایسے میں جب نیوزی لینڈ میں مسجد پر دہشت گرد حملے کے ساتھ یہ خبر آئے کہ دنیا بھر سے تعلق رکھنے والے تین سو مسلمانوں میں سے جس واحد شخص نے نہتے ہوتے ہوئے بھی خودکار گن سے مسلح شخص کو روکنے کی کوشش کی، وہ ایک پاکستانی نعیم راشد تھا تو اس المیے سے بجھا ہوا دل کچھ تسلی پاتا ہے۔

ایبٹ آباد سے تعلق رکھنے والے نعیم راشد تقریباً دس گیارہ برس پہلے نیوزی لینڈ گئے۔ حملہ آور کی بنائی ہوئی ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ اس کی نیم خودکار گن گولیاں برسا رہی ہے ایسے میں اچانک ایک شخص اس پر جھپٹتا ہے اور اسے قابو کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ وہ ناکام ہو جاتا ہے لیکن ایک ہیرو کے طور پر امر ہو جاتا ہے۔ نعیم راشد کو گولیاں لگیں اور وہ بعد میں ہسپتال میں شہید ہو گئے۔ ان کا اکیس بائیس برس کا بیٹا بھی شہدا میں شامل تھا۔

Read more

پریشان کن عورت مارچ کی چند غیر شائع شدہ تصاویر

مشہور پوسٹر ”میرا جسم میری مرضی“ کے بعد اس برس کے عورت مارچ میں چند نئے نعرے ان خواتین کے پوسٹروں پر دکھائی دیے۔ ان میں سے چند پریشان کن نعرے کچھ یوں تھے ”لو، بیٹھ گئی صحیح سے۔ مطلقہ اور خوش باش۔ گھٹیا مرد سے آزادی، سر درد سے آزادی۔ کھانا گرم کر دوں گی، بستر خود گرم کرو۔ مارو گے تو مار کھاؤ گے۔ مجھے کیا معلوم تمہارا موزہ کہاں ہے۔ میری شرٹ نہیں تمہاری سوچ چھوٹی ہے۔ میرے کپڑے میری مرضی۔ اکیلی، آوارہ، آزاد۔ میں آوارہ، بدچلن۔ تو کرے تو مرد، میں کروں تو بدکردار۔ خبردار، گنہگار عورت آ رہی ہے۔ اپنے عضوئے تناسل کی تصویریں اپنے پاس رکھو۔ نظر تیری گندی اور پردہ میں کروں؟ “

ان پر نیک طینت مرد و زن نے خوب لے دے کی اور کہا کہ یہ تو عام عورت کے مسائل ہی نہیں ہیں۔ یہ تو امیر طبقے اور این جی او آنٹیوں کے مسائل ہیں، عام پاکستانی عورت کا ان سے کیا تعلق؟ عام عورت کا مسئلہ تو تعلیم، صحت، گھر کا کام کاج اور بجٹ، ملازمت وغیرہ ہے جنہیں مکمل طور پر نظرانداز کیا گیا ہے، نیز ان مظاہروں میں سب مغرب زدہ بگڑی ہوئی عورتیں ہی تھیں اور کسی معقول عورت کو معقول نعرے کے ساتھ ان مظاہروں میں نہیں دیکھا گیا۔ اسی جائز پریشانی کو دیکھتے ہوئے راقم نے عورت مارچ کے مزید نعرے اکٹھے کیے ہیں

Read more

گمراہ فیمینسٹ عورتوں کا فتنہ و فساد

پچھلے برس 8 مارچ کو یوم خواتین پر ایک دو شہروں میں چھوٹا موٹا سا جلسہ ہوا تھا۔ لیکن سچ کہا ہے درد دل رکھنے والے مفکرین نے کہ فتنے سے فوراً نہ نمٹا جائے تو وہ بڑھتا جاتا ہے۔ ”میرا جسم میری مرضی“ کا نعرہ پچھلے برس لگا تھا۔ اب یہ نعرہ نری گمراہی ہے۔ یعنی کیا واقعی کسی عورت کا جسم اس کی مرضی کے تابع ہو گا؟ کیا ان خواتین کو یہ علم نہیں ہے کہ شادی سے پہلے ان کو اپنے باپ بھائی چاچے مامے کے احکامات پر اپنی زندگی گزارنی ہوتی ہے، اور شادی کے بعد اپنے شوہر کے؟ ان کی اپنی شخصیت کی کوئی اہمیت ہوتی تو گھر ان کی مرضی پر چلا کرتا۔ ان کی زندگی کا مقصد ہمارا معاشرہ صدیوں سے مقرر کر چکا ہے، اور وہ گول روٹی بنانا اور اپنے مالک، اپنے مجازی خدا کے احکامات ماننا ہے۔ ان کی مرضی کہاں سے آ گئی؟ کیا وہ مغرب کے بہکاوے میں آ کر خود کو بھی انسان سمجھنے لگی ہیں جس کے مردوں جتنے حقوق ہوں گے؟ بدقسمتی سے اس برس یوم خواتین پر ان گمراہ فیمینسٹ عورتوں نے زیادہ پریشان کن پوسٹر بنا کر زیادہ بڑے پیمانے پر مظاہرے کر ڈالے ہیں۔

پہلے ”میرا جسم میری مرضی“ کو ہی لے لیں۔ ایک بی بی کہہ رہی ہیں ”کانسینٹ کی تسبیح روز پڑھو“۔ دوسری کہتی ہیں ”دیکھ مگر کانسینٹ سے“۔ تیسری کا حکم ہے ”میرے انکار میں اقرار مت ڈھونڈ“۔ چوتھی کی فرمائش ہے ”یہ کانسینٹ نہیں اگر مجھے نہ کہنے سے خوف آئے“۔

کانسینٹ کا مطلب کیا ہے؟ یہ کہ خاوند اپنی منکوحہ سے اجازت لے کر وظیفہ زوجیت وصول کرے۔ یعنی اب وظیفوں کے لئے بھی مرد اپنی عورتوں سے اجازت لیا کریں گے؟ کیا ان گمراہ عورتوں کو یہ نہیں معلوم کہ نکاح ہونے کے بعد ان کی اپنی مرضی ختم ہو جاتی ہیں۔ وہ اپنے مجازی خدا کی ملکیت بن جاتی ہیں۔ انہیں ہر قیمت پر اسے خوش رکھنا ہوتا ہے۔ اور ویسے بھی سیکس کا مطلب یہ نہیں ہوتا کہ انسان اس سے کسی قسم کا نشاط کشید کرے۔ اس کا مقصد تو صرف بچوں کی پیدائش ہوتا ہے۔ یہ فطرت نے خواتین کو ایک فریضہ تفویض کیا ہے۔ کیا وہ فطرت کی انکاری ہیں؟

Read more

نواز شریف شطرنج کی خطرناک ترین چال چل رہے ہیں

شطرنج میں دلچسپی رکھنے والوں کے جسم میں ایک کھلاڑی کا نام جیسی سنسنی دوڑاتا ہے ویسا کوئی دوسرا کھلاڑی نہیں کر پاتا۔ یہ نام ہے شطرنج کے آٹھویں ورلڈ چیمپئن میخائل تال کا۔ میخائل تال کو تاریخ کے بہترین اٹیکنگ پلیئرز میں گنا جاتا ہے۔ انہیں شطرنج کی دنیا میں ”ریگا کا جادوگر“ کے نام سے پکارا جاتا ہے۔ مشہور کتابوں ”دی میمتھ بک ہو ورلڈز گریٹسٹ چیس گیمز“ اور ”ماڈرن چیس بریلینسز“ میں تال کی گیمز کی تعداد کسی بھی دوسرے کھلاڑی سے زیادہ ہے۔

گرینڈ ماسٹر لیول پر شطرنج کی گیم تقریباً ویسی ہی ہوتی ہے جیسے ایک اژدھا شکار کرتا ہے۔ آہستہ آہستہ شکار کے گرد گھیرا تنگ کیا جاتا ہے۔ ایک پیادے کا ایڈوانٹیج بھی گرینڈ ماسٹرز کی گیم کا فیصلہ کر ڈالتا ہے۔ ایسے میں اگر ایک ایسا کھلاڑی سامنے آئے جو دنیا کے بہترین چیس پلیئرز کے ساتھ کھیلتے ہوئے اس دھیمی گیم میں اچانک اپنا فیل، رخ حتی کہ وزیر بھی بظاہر بلاوجہ ہی قربان کر دے تو بڑے بڑے مبصر بھی چند لمحوں کے لئے حیران رہ جاتے ہیں۔ لیکن چار پانچ چالوں کے بعد جب اپنے آدھے سردار حریف کے پیادوں کے بدلے مروانے کے بعد جب اچانک میخائل تال شہ مات دیتے تو ان کا حریف اور شطرنج کے مبصر دونوں ششدر رہ جاتے۔

Read more

قومی اسمبلی میں پہلی مرتبہ نماز کی ادائیگی

پاکستان کی موجودہ قومی اسمبلی سنہ 1973 کے دستور کے نتیجے میں اپنی موجودہ شکل میں آئی۔ دستور میں واضح کیا گیا کہ ملک اسلامی جمہوریہ ہو گا اور اس کا سرکاری مذہب اسلام ہو گا۔ لیکن یہ نہایت افسوس کی بات ہے کہ 1973 سے چھے مارچ 2019 تک قومی اسمبلی میں نماز ادا نہیں کی گئی۔ ایک سے بڑھ کر ایک دیندار شخص اسمبلی کا ممبر بنا۔ بے شمار علما نے اس ایوان کو تقدیس بخشی۔ لیکن یہ اعزاز جناب اسعد محمود کے حصے میں آیا کہ انہوں نے درجن بھر نمازی ممبران تلاش کر کے ان کی جماعت کھڑی کر دی۔ یہ تاریخ میں پہلی مرتبہ ہوا کہ قومی اسمبلی میں نماز پڑھی گئی۔

اللہ جانے اس سے پہلے نمازی بچارے کہاں نماز پڑھتے ہوں گے۔ قومی اسمبلی کے سپیکر اسد قیصر کے متعلق سنا ہے کہ پکے نمازی ہیں۔ عمران خان بھی اکثر نماز پڑھتے دکھائی دیتے ہیں۔ ان کو تو خاص طور پر بہت دقت ہوتی ہو گی۔ کبھی کسی برآمدے میں نماز پڑھتے ہوں گے کبھی کسی کونے میں۔

Read more

فیاض چوہان: وہ بکا نہیں لیکن کالے جادو کی ہڈی اسے مار گئی

فیاض الحسن چوہان ایک عظیم بطل حریت ہیں جو حق بات کہنے سے کبھی نہ ڈرے۔ بلکہ حق کیا اکثر وہ ناحق بات بھی بلا کسی خوف کے کہہ ڈالتے تھے۔ ان کی یہی حق گوئی تھی جو ان کے مخالفین کو خوفزدہ رکھتی تھی۔ ان مخالفین نے انہیں خریدنے کی کوشش کی۔ وہ نہ بکے۔ یہ تو دلوں کے سودے ہوتے ہیں۔ ریٹ مناسب نہ ہو تو سودا کہاں ہوتا ہے۔اپنی وزارت کے پہلے دن سے ہی وہ اپوزیشن کے سینوں پر مونگ دل رہے تھے۔ وہ ایک متحرک سیاسی کارکن تھے۔ جماعت اسلامی کے صالحین نے ان کی کردار سازی کی جو جماعت چھوڑنے کے بعد بھی ان کے قول و فعل سے ٹپکتی تھی۔ بلکہ ٹپکتی کہاں تھی، فیاض کے اس فیض کے تو تند و تیز چشمے ان کے انگ انگ سے جاری ہوتے تھے۔ایسا شخص جس کے دل میں وزارت نے رتی بھر غرور پیدا نہ کیا۔ کبھی کوئی غلطی نہ بھی کی تو پھر بھی وسعت قلبی دکھاتے ہوئے کھلے دل سے اس کی معافی مانگ لی۔ مثلاً وہی نرگس اور میگھا والا بیان دیکھ لیں۔

Read more

پاکستان نے ابھینندن کے ذریعے بھارت سے کیا گیم کھیلی ہے؟

انڈیا ابھینندن کا میڈیکل کروا کر خوش ہو رہا ہے کہ اس پر تشدد نہیں کیا گیا۔ بھارتی میڈیا اسے ایک بہت بڑے ہیرو کے طور پر پیش کر رہا ہے۔ کہیں سے بھارتی میڈیا کو ایک ایسے میزائل کا ٹکڑا مل گیا ہے جو اس کے خیال میں صرف ایف سولہ استعمال کر سکتا ہے اور اسے دکھا دکھا کر یہ ثابت کرنے کی کوشش کر رہا ہے کہ میزائل گرا ہے تو ایف سولہ بھی گرا ہو گا۔ اللہ جانے انڈیا میں بڑا سا پاکستانی بم گرنے پر یہ لوگ کیا ثابت کرتے ہوں گے؟ غالباً یہ کہ اتنا بڑا بم گرا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ پورا پاکستانی فضائی بیڑہ ہی گر گیا ہو گا۔ وہ سردار جی یاد آ گئے جنہیں ایک جگہ گاڑی کی چابی پڑی مل گئی تھی تو خوش ہو گئے کہ واہے گرو کی کرپا سے مفت میں گاڑی ملی ہے، پہلی قسط میں اس کی چابی ہاتھ لگ گئی ہے، اگلی میں باقی بھی ایسے ہی کہیں پڑی مل جائے گی۔ لیکن بھارتی میڈیا ابھی تک یہ سمجھنے سے قاصر ہے کہ پاکستان نے ابھینندن کے ذریعے کیا کھیل کھیلا ہے۔

بھارتی میڈیا تو بے خبر ہے، لیکن بھارتی حکومت کو اندازہ ہے کہ پاکستانی ایجنسیاں کتنی چالاک ہیں اور کیسی بہترین منصوبہ بندی کرتی ہیں۔ ایسے ہی تو وہ نمبر ون نہیں کہلاتی ہیں۔ اسی وجہ سے جیسے ہی ابھینندن نے واہگہ بارڈر کراس کیا تو اسے بھارتی حکومت نے اسے کسی سے نہیں ملنے دیا بلکہ سیدھا بھارتی ائیر فورس کے ہوائی جہاز میں بٹھا کر دہلی کے فوجی ہسپتال پہنچا دیا گیا۔ ادھر پہلے اس کا ایم آر آئی سکین کیا گیا۔ عام طور پر یہ دماغی حالت جانچنے کے لئے کیا جاتا ہے۔ اس سکین کے دو نتیجے بتائے گئے۔ پہلا یہ کہ ابھینندن کی پسلی ٹوٹی ہوئی ہے جو پیراشوٹ سے جمپ میں عام بات ہے۔ دوسرا انکشاف یہ کیا گیا کہ پاکستان نے ابھینندن کے جسم میں کوئی خفیہ کمپیوٹر چپ نہیں لگایا ہے۔

پاکستانی منصوبہ ساز یہ دیکھ دیکھ کر ہنس رہے ہوں گے۔ ایسا کوئی ٹیسٹ نہیں ہے جو یہ دیکھ سکے کہ پاکستان نے ابھینندن کے ساتھ کیا کھیل کھیلا ہے اور اسے آنے والے دنوں میں بھارت کے خلاف کیسے استعمال کیا جائے گا۔ حالانکہ یہ کھیل پوری دنیا کی کھلی آنکھوں کے سامنے کھیلا گیا ہے۔

Read more

کلینک سے کتاب تک

ہفتے بھر اسلام آباد اور وزیر آباد کی سیر کرنے کے بعد آج صبح لاہور واپسی ہوئی تو دفتر پہنچتے ہی میز پر ایک کتابی پارسل دکھائی دیا۔ ڈاکٹر مبشر سلیم کی کتاب ”کلینک سے کتاب تک“ نکلی۔

ڈاکٹر مبشر اچھا لکھتے ہیں۔ میری خواہش رہی کہ وہ ”ہم سب“ پر ریگولر اپنے مضامین بھیجا کریں۔ دو چار بھیج کر وہ تھک گئے۔ ان کا انداز بیان دلچسپ ہے۔ چھوٹے چھوٹے دلچسپ واقعات کو مضامین کی شکل دیتے ہیں۔

عام طور پر وہ اپنے کلینک میں پیشے آنے والے واقعات کے بارے میں لکھتے ہیں جن سے پتہ چلتا ہے کہ عام لوگ طبی معاملات کے بارے میں کتنا کم علم رکھتے ہیں اور ایک ڈاکٹر کو اس سے کہیں زیادہ پریشانی کا شکار ہونا پڑتا ہے جتنا آپ ”شکوہ ایڈیٹری“ میں ایک ایڈیٹر کو پریشان دیکھتے ہیں۔ ایڈیٹر نے صرف مضمون کی زندگی موت کا فیصلہ کرنا ہوتا ہے، ڈاکٹر نے انسان کی۔

Read more

بھارت او آئی سی میں کیسے شامل ہوا؟

آپ حیران ہو رہے ہوں گے کہ 25 ستمبر 1969 سے لے کر 28 فروری 2019 تک نصف صدی بھارت کو او آئی سی یعنی آرگنائزیشن آف اسلامک کوآپریشن کا ممبر کیوں نہیں بنایا گیا۔ یاد رہے کہ او آئی سی سینتالیس مسلم اکثریتی آباد والے ملکوں کی تنظیم ہے۔ بھارت سرتوڑ کوشش کرتا رہا کہ اسے او آئی سی کا ممبر بنایا جائے کیونکہ ادھر کروڑوں مسلمان رہتے ہیں۔ پاکستان نے اس بنیاد پر مخالفت کی کہ بھارت کی کل آبادی کا محض چودہ فیصد مسلمان ہے، ہندوستان ایک ہندو آبادی والا سیکولر ملک ہے، وہ اسلامی کہاں سے ہو گیا۔ اسلامی ملک تو پاکستان ہے، جہاں نہ صرف 96 فیصد آبادی مسلمان ہے بلکہ اس کا دستور اور نام تک مسلمان ہے۔ بھارت کی یہ دلیل کام نہیں آئی کہ 1969 کے بعد کی توسیع میں مسلم اقلیتی افریقی ممالک کو بھی او آئی سی کا ممبر بنایا گیا ہے، اسے بھی بنایا جائے۔

اب یہ پہلی بار ہوا ہے کہ امارات کے وزیر خارجہ عبداللہ بن زید النہیان کی دعوت پر بھارتی وزیر خارجہ سشما سوراج کو بطور مہمان خصوصی او آئی سی میں بلایا گیا ہے حالانکہ بھارت نہ تو او آئی سی کا ممبر ہے اور نہ ہی مبصر۔ سنہ 1969 میں پہلی سربراہی میٹنگ میں بھارتی صدر فخر الدین علی احمد کو سعودی عرب کی تجویز پر شرکت کی دعوت دی گئی تھِی مگر پاکستان کے واویلا مچانے پر دعوت واپس لے لی گئی اور بھارتی وفد کو آدھے راستے سے ہی واپس پلٹنا پڑ گیا۔

Read more

پانچ بندوں کے کھانے کا بل کس نے دیا؟

ایک کام کے سلسلے میں اسلام آباد آنا ہوا۔ ادھر وسی بابا سے ملاقات ہو گئی۔ یہ ادھر مارگلہ کی ترائی میں رہنے والی ایک مشہور شخصیت ہیں جو اپنی پیش گوئیوں اور مستقبل بینی کے سبب خاص طور پر تحریک انصاف کے حامیوں میں شہرت دوام پا چکے ہیں۔ گو وہ اب اپنی پیش گوئیوں کو بھلانے کی کوشش کرتے ہیں مگر کم بخت لوگ نہیں بھولنے دیتے۔ خیر ہمیں دیکھتے ہی بضد ہوئے کہ ہم ان کی راہنمائی کریں۔ ہم نے اپنی گاڑی گھر میں پارک کی اور وسی بابا کی گاڑی کو اپنے بابرکت وجود سے منور کرنے کا قصد کیا۔

وسی بابا نے کچھ مزاحمت تو کی اور کہنے لگے کہ مرشد آپ کی گاڑی میں چلتے ہیں تاکہ ہماری بھی دنیا سنور جائے اور ہم آپ کے بتائے ہوئے راستے پر چل سکیں۔ بابا جی کی یہ بات سن کر ہم بہت خوش ہوئے۔ مرشد کا کام ہی یہی ہوتا ہے کہ بھٹکے ہوؤں کو راہ راست پر لائے اور انہیں سیدھا راستہ دکھائے۔ ہم نے یہ اصول وسی بابا پر واضح کرنے کے بعد بتایا کہ گاڑی وہ چلائیں گے اور راستہ ہم بتائیں گے کہ تن و توش میں وہ بڑے سہی، مگر بابا کہلانے کے باوجود ان کی روحانیت میں ابھی ایک آنچ کی کسر باقی ہے۔

Read more

عمران خان کو ”ابھی نندن“ کا فائدہ اٹھانا چاہیے

پلوامہ میں حملے کے بعد پاکستان عالمی طور پر شدید سفارتی دباؤ کا شکار ہو گیا تھا۔ انڈیا میں عمران خان کو بہت زیادہ پسند کیا جاتا ہے لیکن اس واقعے نے ان کی مقبولیت پر بھی شدید اثر ڈالا۔ بھارت اگر سفارتی سطح پر ہی پاکستان پر دباؤ ڈالتا رہتا تو ایف اے ٹی ایف کی بلیک لسٹ سے بچنا بہت مشکل ہو جاتا، مگر الیکشن ڈیڑھ دو مہینے دور ہے اور بھارتی میڈیا نے جنگ کا جتنا جنون طاری کر دیا ہے، تو نریندر مودی حماقت کرنے پر مجبور ہو گئے اور پاکستانی علاقے پر فضائی حملہ کر دیا۔ اس حملے سے ایک دن کے لئے نریندر مودی کی بلے بلے ہو گئی مگر اگلے دن ہی جب انڈیا کے دو جہاز پاکستان نے گرا دیے اور ایک افسر کو قیدی بنا لیا تو بھارت میں فضا تبدیل ہونے لگی۔ کل کے انڈین ٹاپ ٹرینڈ میں ”جنگ نہیں کرو“ اور ”ابھِی نندن کو واپس لاؤ“ کے ٹرینڈ سب سے اوپر رہے۔

Read more

عمران خان سب سے زیادہ مقبول لیڈر کیوں ہیں؟

اس وقت دیکھا جائے تو اس بات میں کوئی شبہ نہیں ہے کہ عمران خان سب سے زیادہ مقبول لیڈر ہیں۔ جنوری کے گیلپ پول پر یقین کریں تو انتخابات میں 32 فیصد ووٹ لینے والی تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کے متعلق اس وقت 51 فیصد پاکستانی یہ سمجھتے ہیں کہ وہ اچھا پرفارم کر رہے ہیں۔ معاشی میدان میں تحریک انصاف کی حکومت نے عام آدمی کو ریلیف نہیں دی ہے۔ اس کے باوجود عمران خان کی مقبولیت بہت حد تک برقرار ہے۔

سوال یہ ہے کہ کیا وجہ ہے کہ عمران خان اس طرح مقبول ہوئے ہیں۔ پاپولر پالیٹکس ایک وجہ ہے، مگر کیا وہ سب سے بڑی وجہ ہے؟ کسی وقت میں سب سے زیادہ مقبول جماعت پیپلز پارٹی اب کیوں کشش کھو بیٹھی ہے؟ کس وجہ سے وہ صرف سندھ میں ووٹ لے سکتی ہے؟ کیوں پنجاب سے اس کے نمایاں لیڈر جوق در جوق عمران خان کے جھنڈے تلے جمع ہوئے ہیں؟

Read more

اسد عمر: سامان سو برس کا ہے

بالآخر ہماری محبوب حکومت کے چنیدہ وزیر خزانہ کی پالیسیاں رنگ لے آئیں۔ جناب اسد عمر نے خوش خبری سنا دی ہے کہ جلد ہی پاکستان کا شمار دنیا کی پانچ بڑی معیشتوں میں ہونے لگے گا۔ اسد عمر ایک دانشمند شخص ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ اگر کسی معاملے میں یکلخت تبدیلی لائی جائے تو وہ اچھا نہیں ہوتا۔ مثلاً اگر شیشے کے گلاس میں پہلے کھولتا ہوا پانی ڈال جائے اور پھر اس میں یکلخت برفیلا پانی انڈیل دیا جائے تو وہ گرم سرد ہو کر چٹخ جاتا ہے۔ لیکن یہی کام سہج سہج کیا جائے تو گلاس اس تبدیلی کو برداشت کر لیتا ہے۔ معیشت کا بھی یہی معاملہ ہے۔ اس میں بھی سہج سہج تبدیلی لائی جائے تو پھر ہی وہ اسے برداشت کر سکتی ہے۔ اسد عمر اس پہلو کو نظر میں رکھتے ہوئے پالیسی سازی کر رہے ہیں۔

آپ حیران ہوں گے کہ اس وقت دنیا کی پیداوار کے حساب سے اکتالیسویں اور فی نفر پیداوار کے حساب سے 151 نمبر کی معیشت کیسے پہلی پانچ معاشی طاقتوں میں شامل ہو سکتی ہے؟ ہم بھی اس دعوے پر یقین نہ کرتے لیکن اسد عمر نے اس کی نہایت معقول وجہ بتائی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ”لیڈرکے پاس وژن ہوتا ہے، وہ آنے والے کل کے بارے میں سوچتا ہے“۔ اور عمران خان کا یہی وژن ہے جو پاکستان کو دنیا کی معاشی سپر پاور بنا دے گا۔

Read more

عزیز ہم وطنو: زندہ رہنا ہے تو پولیس سے بچ کر رہیں

ساہیوال واقعہ ہوا تو کسی نے پولیس پر طنز کرتے ہوئے لکھا کہ اگر سڑک پر چند افراد سڑک روکے کھڑے ہوں تو دل سے بے اختیار دعا نکلتی ہے کہ اللہ کرے ڈاکو ہوں۔ ساہیوال واقعے کے اگلے دن ہی کراچی میں پولیس نے موٹر سائیکل پر جاتے میاں بیوی کو فائرنگ کا نشانہ بنا ڈالا۔ میاں کے سر میں گولی لگی اور پانچ ماہ کی حاملہ بیوی کی پسلیوں میں اور اسے تشویشناک حالت میں ہسپتال داخل کیا گیا۔ اور اب پتہ چلا ہے کہ ڈاؤ یونیورسٹی کی میڈیکل کی اکیس برس کی ہنستی مسکراتی طالبہ نمرہ بیگ بھی ایک پولیس مقابلے کی بھینٹ چڑھ گئی ہے۔

ساہیوال واقعے کے بعد جس طرح بار بار بیانات اور پھر شواہد تبدیل کیے گئے، ویسا ہی معاملہ یہاں بھی درپیش ہے۔ جس اخباری ادارے کو دیکھیں، پولیس کا الگ موقف بیان کیا گیا ہے۔ جو سب سے زیادہ قابل یقین ہے، وہ کچھ یوں ہے۔

Read more

نواز شریف: پہلے کرکٹر وزیراعظم کا حیرت انگیز میچ ریکارڈ

آپ میں سے بہت سے کم عمر افراد یہ گمان رکھتے ہوں گے کہ عمران خان وہ پہلے کرکٹر ہیں جو وزیراعظم بنے۔ برطانیہ میں سنہ 1963 میں لارڈ ایلک ڈگلس ہوم وزیراعظم بن چکے ہیں۔ وہ فرسٹ کلاس لیول پر کاؤنٹی کرکٹ کھیلتے رہے ہیں۔ مگر پاکستان میں بھی میاں نواز شریف وہ پہلے کرکٹر ہیں جو وزیراعظم بنے۔ میاں صاحب سنہ ستر کی دہائی میں فرسٹ کلاس کرکٹ میں ایکٹو رہے۔ آپ کو یہ جان کر حیرت ہو گی کہ ان کے ریکارڈ میں موجود تمام میچوں میں ان کی ٹیم نے مخالف ٹیم کو نہ صرف فالو آن پر مجبور کیا بلکہ شکست فاش بھی دی۔ میاں صاحب کی ان میچوں میں ذاتی پرفارمنس بھی بے داغ رہی۔

Read more

چیف صاحب، گاڑی کا ڈرائیور بہت اہم شخص ہے

”چیف، میں نے آپ سے ایک اہم بات کرنی ہے۔ میں ہائی وے پر ڈیوٹی پر ہوں اور ایک پرابلم میں پھنس گیا ہوں“۔
چیف: کیسی پرابلم؟

پولیس والا: میں نے ایک گاڑی روکی ہے جو ایک سو بیس کی لمٹ والے ایریے میں ڈھائی سو سے بھی زیادہ رفتار سے دوڑ رہی تھی۔
چیف: اس کا جتنا زیادہ بھاری چالان ممکن ہے کر دو۔
پولیس والا: میرا خیال ہے کہ یہ کوئی عقلمندانہ اقدام نہیں ہو گا۔ ڈرائیور ایک بڑا آدمی ہے۔

Read more

سعودی عرب اتنا امیر کیوں ہے؟

کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ سعودی عرب اتنا زیادہ امیر کیوں ہے؟ آپ کے ذہن میں پہلا جواب تو یہی آئے گا کہ ادھر تیل نکل آیا ہے اس لئے وہ اتنا امیر ہو گیا ہے۔ تیل تو ہم پاکستانیوں کا بھی بہت نکلا ہوا ہے، ہم تو اتنے امیر نہیں ہیں۔ بہرحال اس دلیل پر بات کریں کہ دنیا میں تیل کے سب سے زیادہ ذخائر سعودی عرب کے پاس نہیں بلکہ ایک ایسے ملک کے پاس ہیں جس کی کل آبادی کل تین کروڑ ہے لیکن اس کے عوام کھانے کو اس قدر ترس رہے ہیں کہ ایک شہری بھوک کے باعث ایک سال میں اوسطاً 11 کلو وزن کم کر رہا ہے۔

تیل تو وینیزوئلا، نائجیریا اور عراق کے پاس بھی بہت ہے۔ لیکن وہاں لوگ روٹی کو ترستے ہیں۔ اوپیک کے فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق دنیا میں سب سے زیادہ ثابت شدہ تیل وینیزوئلا کے پاس ہے۔ یہ تقریباً 3 کھرب بیرل ہے۔ جبکہ سعودی عرب دوسرے نمبر پر ہے وہاں ڈھائی کھرب بیرل تیل موجود ہے۔ عراق کے پاس ڈیڑھ کھرب بیرل ہیں۔ نائیجیریا آٹھویں نمبر پر ہے اور اس کے پاس 37 ارب بیرل ہیں۔

Read more

ویلنٹائن ڈے پر ڈبل سواری اور موبائل سروس بند کی جائے

آپ اگر اب ہماری مانند نوجوان نہیں رہے اور شادی بھی کر بیٹھے ہیں تو آپ نے نوٹ کیا ہو گا کہ نوجوان لڑکے لڑکیوں میں بے حیائی پھیلتی جا رہی ہے۔ انہیں کوئی شرم و حیا ہی نہیں رہی۔ کبھی طرح طرح کے سوانگ بھر کر ہیلووین منانے لگتے ہیں کبھی کرسمس میں سانتا کلاز بنے پھر رہے ہوتے ہیں۔ یہ سب ہماری تہذیب نہیں لیکن پھر بھی طوعاً و کرہاً گوارا تھا۔ لیکن جس طرح یہ ویلنٹائن ڈے منایا جانے لگا ہے اس نے تو ہمارے زمانے کے بے حیائی کے تمام سابقہ ریکارڈ توڑ دیے ہیں۔

ہماری روایت تو صرف جنازوں اور مزاروں پر پھول ڈالنے کی ہے۔ کسی عزیز رشتے دار سے ملنا ہو تو ہم اسے پھل از قسم امرود اور تربوز پیش کرتے ہیں۔ یہ پھول دینے کا کیا مطلب ہوا؟ چلو اگر دینے بھی تھے تو پرائے لڑکے لڑکیوں کو پھول دینے کی کیا تک؟ زیادہ بڑا ستم یہ ہے کہ ہمارے دیکھتے ہی دیکھتے بعض لڑکیاں یہ پھول قبول بھی کر لیتی ہیں اور ہم جل کڑھ کر رہ جاتے ہیں۔

Read more

وہ مفلوک الحال دھوبی جس نے ناول لکھ کر اربوں کما لیے

ایک گزشتہ مضمون میں ہم بات کر چکے ہیں کہ اردو میں کتاب لکھ کر بندہ محض عزت ہی کما سکتا ہے لیکن انگریزی کا معاملہ مختلف ہے۔ ایک ایسے نہایت غریب مصنف کی داستانِ حیات پڑھتے ہیں جس کے پہلے ناول نے ہی اسے کروڑ پتی بنا دیا۔ آج کل کے حساب سے دیکھیں تو اس پہلے ناول نے اسے دو ملین ڈالر سے زیادہ یعنی ستائیس کروڑ کما کر دیے۔ آج اس کی دولت کا اندازہ 400 ملین ڈالر، یعنی 55 ارب روپے سے زیادہ لگایا جاتا ہے۔ یہ ساری دولت اس نے اپنے قلم کی طاقت سے کمائی ورنہ ایک وقت ایسا تھا کہ اس کے پاس کھانا اور اپنے بچے کی دوائی خریدنے کے پیسے نہیں تھے۔

وہ شخص جو ایک زمانے میں بارہ بارہ گھنٹے کپڑے دھوتا تھا، جو دوپہر دو بجے تک سکول میں پڑھنے کے بعد سہ پہر تین بجے سے رات گیارہ بجے تک فیکٹری میں مزدوری کیا کرتا تھا، جو پیٹرول پمپ پر جاب کرتا تھا اور پچیس سینٹ فی بوری کے حساب سے آلو کے کھیت میں محنت کرتا تھا، آج اس کی ایک کتاب پر اسے ایک ملین ڈالر یعنی چودہ کروڑ روپے سے زیادہ ایڈوانس رقم ملتی ہے۔

وہ بہت چھوٹا تھا کہ اس کا باپ اس کی ماں کو چھوڑ کر چلا گیا۔ اس اکیلی نے اپنے دونوں بیٹوں کو پالا۔ اس کی ماں بیکری پر رات کی شفٹ میں کام کرنے لگی۔ وہ خود تعلیم حاصل نہیں کر سکی تھی لیکن جانتی تھی کہ تعلیم کے بغیر اس کے بیٹوں کو کامیابی نہیں ملے گی۔ اس کے دونوں بیٹوں کا کالج میں وظیفے پر داخلہ ہو گیا۔ وہ انہیں ہر ہفتے پانچ ڈالر جیب خرچ کے طور پر بھیجا کرتی تھی۔ اس کی موت کے بعد اس کے بیٹوں کو علم ہوا کہ یہ قلیل سی رقم جمع کرنے کی خاطر وہ اکثر فاقے کیا کرتی تھی۔

Read more

مائی ایم ایف بھی کپتان کے سحر میں مبتلا ہو گئی

تمام پاکستانی جان گئے ہیں کہ میڈیا پر تجزیے جن خبروں پر کیے جاتے ہیں وہ پلانٹڈ ہوتی ہیں۔ کبھی باہر سے پلانٹ کی جاتی ہیں کبھِی اندر سے۔ میڈیا ہے ہی بد طینت تو کیا کریں۔ اسی وجہ سے گزشتہ برس سے خبروں کی بجائے تصاویر پر تجزیے کیے جانے لگے ہیں اور شرکا کی باڈی لینگویج دیکھ کر صاف صاف بتا دیا جاتا ہے کہ کیا بات چیت ہوئی اور کیا نتیجہ نکلا۔ تصویر سامنے موجود ہوتی ہے اس لئے پڑھنے والا دیکھ سکتا ہے کہ تجزیے میں ڈنڈی نہیں ماری گئی اور سو فیصد سچ بولا گیا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ جب آئی ایم ایف کی سربراہ کرسٹین لیگارڈ نے ہمارے محبوب اور اولو العزم کپتان سے ملاقات کی تو ان کی تصویر ہی سارا ماجرا بیان کر گئی۔ نوٹ کریں کہ کیا وجہ ہے کہ کپتان کے بارہا کہنے کے باوجود کہ وہ آئی ایم ایف سے قرضہ نہیں لے گا، یہ مائی ایم ایف مستقل اس کا تعاقب کر رہی ہے کہ وہ قرضہ لے لے۔ کیا پہلے کبھی آپ نے دیکھا ہے کہ قرضہ لینے والا جان چھڑاتا پھر رہا ہو اور دینے والا پیچھے بھاگ رہا ہے کہ خدا کا واسطہ ہے کہ مجھ پر احسان کرو اور مجھ سے پیسے لو؟

Read more

چودہ فروری: یوم حیا یا یوم نکاح؟

صالحین نے ویلنٹائن ڈے کے پھولوں سے گھبرا کر 14 فروری کو یوم حیا منانے کی کوشش کی مگر وہ آئیڈیا فلاپ ہو گیا۔ زمانہ ہی ایسا خراب آ گیا ہے کہ کسی کو حیا آتی ہی نہیں۔ حیا آنے کی اطلاع آئے تو عثمان قاضی کے توسط سے عشق کے لئے مشہور دمشق سے آتی ہے اور پتہ چلتا ہے کہ شیرٹن ہوٹل جیسی جگہ پر 14 فروری کو ”عید الحب“ کے دن سٹار وڈی الچیخ، حیا کا عملی مظاہرہ کر کے دکھائیں گے۔ مس حیا الخیام کا ساتھ دینے کو مائی فرح بھی موجود ہیں۔ اندیشہ ہے کہ شام بھیگنے پر شیرٹن دمشق کے نائٹ کلب میں موجود شرمیلے مرد یہی رجز پڑھتے پائے جائیں گے
صرف مانع تھی حیا بند قبا کھلنے تلک
پھر تو وہ جان حیا ایسا کھلا ایسا کھلا

خیر یوم حیا کی ناکامی اور شرم و حیا کے ایسے داغ مفارقت دینے پر زرعی یونیورسٹی فیصل آباد والوں نے نیا گل کھلایا۔ انہوں نے فیصلہ کیا کہ تمام لڑکے تمام لڑکیوں سے اس دن بہناپا کریں گے اور

Read more

نواز شریف کے ڈیل کے تحت باہر جانے پر چند تاثرات

نواز شریف کے ڈیل کرنے کی خبریں نہایت بے تابانہ انداز میں پھیلائی جا رہی ہیں۔ ہم نے تین مختلف سوچ رکھنے والے دوستوں کی اس معاملے پر رائے لی۔ تینوں کی بات نہایت ہی معقول ہے۔ ایک نون لیگ کی طرف جھکاؤ رکھتے ہیں۔ دوسری تحریک انصاف کی ایک سرگرم اوور سیز کارکن ہیں۔ تیسرے تحریک انصاف کا سوشل میڈیا پر دفاع کرنے میں نامور ہوئے ہیں۔

نون لیگی متوالا
حق کی فتح ہو گئی ہے۔ میاں صاحب بے قصور ہیں۔ عمران خان ہار گیا۔ وہ تو چھوڑ ہی نہیں رہا تھا مگر عالمی سیاست میں میاں صاحب کی اہمیت کے سمجھنے والے بہت ہیں۔ انہوں نے عمران خان کو سیدھا کر دیا۔ معاملات طے کروانے میں ترکی اور چین نے پس پردہ اہم کردار ادا کیا ہے اور اب جس طرح پاکستان عالمی برادری میں تنہا رہ گیا ہے تو اس کے لئے ممکن نہیں ہے کہ اپنے چند گنے چنے دوستوں کی بات ٹھکرا کر انہیں ناراض کر دے۔ پہلے بھی میاں صاحب کے ساتھ ہونے والے سلوک پر ناراض بیٹھے چین، ترکی اور سعودی عرب کے ووٹ نہ دینے کی وجہ سے پاکستان ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ میں شامل ہوا تھا، اب بلیک لسٹ منہ کھولے کھڑی ہے۔ ایسے میں ان دوستوں کی ناراضگی مول لینا ممکن نہیں تھا۔

نظریاتی ٹائیگر
ویسے تو نواز شریف مکر کر رہا ہے۔ وہ کوئی بیمار شیمار نہیں ہے۔ جیل سے ڈر گیا ہے۔ بفرض محال بیماری ہو بھی تو پاکستان میں علاج کروایا جا سکتا ہے۔ ہماری حکومت کے پاس خیبر پختونخوا میں  دل کے بہت اچھے ہسپتال ہیں۔ نواز شریف کو علاج کی وی آئی پی سہولیات تحریک انصاف کے منشور اور وعدوں کے مطابق نہیں ہیں۔ اس کرپٹ مجرم کو وہی علاج ملے گا جو ایک عام قیدی کو ملتا ہے۔

Read more

وہ جنہوں نے دشمن سے داد شجاعت پائی

مکمل تباہی کا شکار ہونے والی اور بہادری کی عظیم مثال قائم کرنے والی 57 وین رجمنٹ کا جھنڈا کینبرا کے عجائب گھر میں رکھا گیا ہے۔ اس کے نیچے یہ الفاظ کندہ ہیں:

’رجمنٹ کا یہ جھنڈا گیلی پولی سے لایا گیا ہے لیکن اسے جھکایا نہیں جا سکا تھا۔ ترک فوج کی روایات کے مطابق، رجمنٹ کا جھنڈا اس وقت تک نہیں جھکتا جب تک کہ اس کا آخری فوجی بھی موت کا شکار نہیں ہو جاتا ہے۔ یہ جھنڈا ایک درخت پر ملا تھا جس کے نیچے رجمنٹ کا آخری سپاہی ابدی نیند سو چکا تھا۔ اس جھنڈے کے پاس سے، جو کہ بہادری کی علامت ہے، سیلوٹ کیے بغیر مت گزریں‘۔

Read more

ایک سچے انقلابی کی کتھا

جانثار خان مظلوم نے ہوش سنبھالا تو انہیں زندگی میں کچھ کمی کمی سی محسوس ہوئی۔ ان کو یہ جان کر شدید احساس کمتری ہوا کہ ہر چھوٹے بڑے کا کم از کم ایک ظالم طاغوتی دشمن ضرور موجود ہے جس کے خلاف وہ جد و جہد کر رہا ہے، لیکن ان کے پاس ایسا کوئی دشمن نہیں تھا۔ حالات پر کافی غور کرنے کے بعد انہوں نے فیصلہ کیا کہ انسانیت کا سب سے بڑا دشمن ان کے ساتھ پلے گروپ میں پڑھنے والا ہر وہ بچہ ہے جو انہیں اپنا لنچ دینے سے انکار کرتا ہے۔

سکول کے راستے میں وین میں وہ اس معاملے پر خوب سر کھپاتے کہ کیسے ان دشمنوں کو سیدھے راستے پر لایا جائے۔ بظاہر نہایت معصوم اور پیارے دکھنے والے ان شقی القلب بچوں کا یہ مطالبہ نہایت ہی ناقابل قبول تھا کہ جانثار خان مظلوم انہیں بھی اپنا لنچ کھلائیں۔ اپنا لنچ تو وہ غور و فکر کے دوران سکول کے راستے میں اپنی وین میں ہی کھا جاتے تھے، تو ان پیٹو بچوں کا اپنا لنچ کھلانے کا مطالبہ کیسے پورا کرتے۔ بھوکوں کو کھانا کھلانے سے انکار کرنے کے اس رویے نے جانثار خان مظلوم کی آنے والی زندگی پر گہرے نقوش چھوڑے۔

وہ درجہ دوئم تک پہنچے تو ان کو اپنی گزشتہ سوچ پر ندامت ہوئی کہ وہ کیوں ان معصوم بچوں کے لنچ نہ دینے پر ان کو دشمن سمجھتے تھے، حالانکہ وہ ان کی غیرموجودگی میں ان کو بتائے بغیر ان کا لنچ ان کے بیگ سے نکال کر کھا سکتے تھے۔ اب وہ اصل دشمن کو پہچان چکے تھے۔ ان کو علم ہو چکا تھا ملت کی سب سے بڑی دشمن ان کی استانی صاحبہ ہیں جو معصوم بچوں پر محض اس لیے ظلم و ستم کے پہاڑ توڑ دیتی ہیں کہ انہوں نے ہوم ورک نہیں کیا ہے۔

Read more

میڈیا، خواتین اور فحش زاویے

وہ ساعت قوم کی خوش قسمتی کی گھڑی تھی جب ہم یونیورسٹی کی استادی چھوڑ کر پاکستان کی سول سروس میں آ گئے۔ حق تو یہی ہے کہ سول سروس کا امتحان پاس کرنے والے کو کسی نوبل انعام حاصل کرنے والے سے بڑا عالم سمجھا جانا چاہیے۔ ہمارا یہ طرہ امتیاز رہا ہے کہ حق بات کہنے میں ہم کبھی نہیں شرماتے ہیں خواہ اس کا نتیجہ کچھ بھی کیوں نہ نکلے۔ ظاہر ہے کہ جیسے ہم جری ہیں، ویسے ہی بڑے عالم بھی ہیں۔

ایک دن ہم مہمان خصوصی بن کر ایک کرکٹ میچ دیکھنے چلے گئے۔ سوئے اتفاق کہ وہ زنانہ کالج میں ہونے والا کرکٹ میچ تھا۔ یہ بس قسمت کا ہی پھیر ہے کہ قوم کو سدھارنے کی غرض سے ہم جس کالج میں بھی پرنسپل سے کہہ کہلوا کر مہمان خصوصی بنتے ہیں، وہ بیشتر اوقات زنانہ کالج ہی نکلتا ہے۔ آج کل یہ کم بخت نام بھی تو ایسے رکھے جاتے ہیں کہ نیک نگاہ رکھنے والے کو بغور تفصیلی جسمانی جائزہ لیے بغیر سمجھ ہی نہیں آتی ہے کہ کون مرد ہے اور کون عورت۔ ہم نے پورا ٹی ٹوینٹی میچ دیکھا اور جب واپس آئے تو برحق طور پر آگ بگولہ ہو چکے تھے۔ واشگاف الفاظ میں آپ کو حق بات بتاتے ہیں کہ قوم کی اخلاقیات کا کس طرح میٹھے زہر کے ذریعے جنازہ نکالا جا رہا ہے۔

Read more

اردو میں کتاب چھپوا کر صرف عزت ملتی ہے

انگریزی کتاب کا تو سمجھ میں آتا ہے کہ اس کی ای بک پائریٹ کرنے سے مصنف کو نقصان ہوتا ہے اور وہ کتابیں لکھنا چھوڑ کر کوئی دوسرا کام دھندا دیکھنے پر مائل ہوتا ہے جس میں چار پیسے بنیں۔ اردو کتابوں کے ضمن میں کچھ کنفیوژن ہے۔

بہت اچھے اور پاپولر مصنف ہوتے ہیں جن کی کتابیں اچھے پبلشر اپنے خرچے پر شائع کرتے ہیں۔ ان اچھے پبلشروں سے بھی بدلے میں بہت اچھے مصنف کو عموماً صرف بہت اچھی داد ملتی ہے۔ آپ کے ذہن میں کتنے مصنف ہیں جو اپنی کتابوں کی فروخت کے ذریعے اپنا گھر چلاتے ہیں؟ ہمارے ذہن میں ایک تو ابن صفی ہیں، لیکن وہ اپنی کتابیں خود پبلش کیا کرتے تھے۔ دوسرے ہمیں یہ خوش فہمی مستنصر حسین تارڑ صاحب کے بارے میں تھی کہ وہ جتنی کتابیں لکھ چکے ہیں اور جتنی وہ کتابیں مقبول ہیں، اب تارڑ صاحب کچھ اور نہیں کرتے ہوں گے۔ تارڑ صاحب نے ہماری یہ خوش فہمی دور کر دی۔

Read more

ہالینڈ کا ہینڈسم وزیراعظم اور دیانت دار گائے

ہالینڈ کے پچھلے وزیراعظم مارک رٹ سائیکل پر دفتر جایا کرتے تھے۔ ان کی تصاویر مشہور ہوئیں کہ دیکھو کتنا سادہ وزیراعظم ہے، پروٹوکول نہیں لیتا۔ بلکہ کسی دوسرے ملک کا حکمران بھی ان سے ملنے جاتا تو وہ اسے سائیکل چڑھا دیتے۔ نریندر مودی کے ساتھ بھی یہی کیا گیا تھا۔ لیکن یہ پرانے وقتوں کی بات ہے۔ ہالینڈ کے نئے وزیراعظم نہ صرف مارک رٹ سے زیادہ کفایت شعار ہیں بلکہ ان سے کہیں زیادہ معاشی سینس رکھتے ہیں۔

ہالینڈ کے نئے وزیراعظم بو ویلنڈر کا نام آپ نے سن رکھا ہو گا۔ وہ فٹنس کانشئس ہیں اور جوانی میں ہاکی کھیلتے تھے۔ لیکن وہ سائیکل پر دفتر نہیں جاتے۔ انہوں نے قدیم و جدید کا ایک حسین امتزاج پیدا کیا ہے۔ صبح سویرے وہ اٹھتے ہیں، منہ ہاتھ دھو کر اپنے گھر کے گیراج میں جاتے ہیں۔ وہاں انہوں نے ہالینڈ کی مایہ ناز فریزین گائے رکھی ہوئی ہے۔ فریزین نسل نے ہالینڈ والوں کو دودھ دہی کی فکر سے بے نیاز کر دیا ہے۔ بو ویلنڈر گائے کو اپنے ہاتھوں سے چارہ ڈالتے ہیں، پانی پلاتے ہیں، اس کی نرم نرم کھال پر برش مارتے ہیں اور پھر پالش مار کر اسے چمکا دیتے ہیں۔ وہ اپنے ملک پر فخر کرتے ہیں اور اس کی مقامی پیداوار کی قدر کرتے ہیں۔

اس کے بعد وہ منہ ہاتھ دھو کر وزیراعظم کا فارمل لباس پہنتے ہیں۔ کالے بوٹ، لمبی جرابیں، سفید شرٹ اور نیکر کے اوپر گیلس۔ پھر ناشتہ کر کے گیراج سے اپنی فریزین گائے نکالتے ہیں اور اس پر سوار ہو کر پندرہ منٹ میں پرائم منسٹر کے دفتر پہنچ جاتے ہیں۔ جیسے ہی ان کی گائے وزیراعظم ہاؤس پہنچتی ہے تو چاق و چوبند گارڈ ان کو سلامی پیش کرتے ہیں۔

Read more

شاہی پورٹیبل اینٹرٹینمنٹ سسٹم اور ہاتھی پر ڈبل سواری کا راز

کیا یہ سائنسی ترقی نہیں کہ چار پانچ سو سال پرانے زمانے میں بھی ہمارے امرا پورٹیبل اینٹرٹینمنٹ سسٹم ایجاد کر چکے تھے۔ انگریزوں نے تو پچھلے بیس سال میں اپنے جہازوں میں مسافروں کے لئے یہ سسٹم لگایا ہے۔ نیچے دی گئی مغل دور کی تصویر ملاحظہ کریں۔ سجا سجایا شاہی ہاتھی ہے۔ اس پر آگے مہاوت بیٹھا اسے ڈرائیو کر رہا ہے۔ پیچھے بادشاہ سلامت اور ایک تیسرا آدمی بیٹھا ہے۔ ہاتھی کے دانتوں پر ایک مچان فٹ کی گئی ہے جس پر ایک رقاصہ کھڑی ”زندہ ناچ“ کا مظاہرہ کر رہی ہے اور اسے ہاتھی، مہاوت، شہنشاہ اور تیسرا سوار دیکھ رہے ہیں۔ اس تصویر سے ظاہر ہوتا ہے کہ سفر کے دوران دل بہلانے کا یہ اینٹرٹینمنٹ سسٹم ہم چار پانچ صدیاں پہلے بھی استعمال کر رہے تھے اور انگریزوں نے باقی تمام ایجادات کی طرح یہ آئیڈیا بھی ہم سے چرایا ہے۔

Read more

ویزے میں نرمی کے پیچھے کیا چھپا ہے؟

وزیر اعظم عمران خان کی زیر صدارت اعلیٰ سطح اجلاس میں غیر ملکیوں کے لئے ویزے کی شرائط نرم کرنے کے لئے اقدامات کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ، وزیر خارجہ، وزیر اطلاعات اور وزیر مملکت داخلہ شریک ہوئے۔ سیکرٹری خارجہ، سیکرٹری داخلہ، ڈی جی ایف آئی اے اور چیئرمین نادرا نے بھی اجلاس میں شرکت کی۔

پنچوں نے یہ فیصلہ کیا کہ 97 ممالک کے شہریوں کے لئے ویزا شرائط میں نرمی کی جائے گی۔ 60 ملکوں کے شہریوں کو ائرپورٹ آمد پر ویزا دے دیا جائے گا، اور ان میں ایسے بھارتی نژاد افراد بھی شامل ہوں گے جن کے پاس برطانوی یا امریکی پاسپورٹ ہے۔ 175 ممالک کے شہری آن لائن ویزا حاصل کر سکیں گے۔ عمران خان کی حکومت کا یہ منصوبہ بہترین ہے اور یہ ملک کی معیشت اور سماجی مزاج میں ایک بڑی تبدیلی لا سکتا ہے۔

مسئلہ یہ ہے کہ ایک مذہبی اور سیکیورٹی سٹیٹ کبھی بھی ٹورسٹ سٹیٹ نہیں بن سکتی۔ ہاں مذہبی ٹورسٹ آتا ہو تو دوسری بات ہے۔ لیکن پھر بس وہی آتا ہے۔ اسی وجہ سے سعودی عرب کی معیشت کا تیل نکل گیا ہے تو وہ ایسے علاقے ڈیویلپ کر رہا ہے جہاں نہ تو مذہبی قانون ہو گا اور نہ ہی سیکیورٹی سٹیٹ کا دائرہ اختیار۔ وہاں سیکولر یورپی قانون چلے گا۔

Read more

دیسی کھلاڑیوں کی زبان پر ولایتی پریشانی

جنوبی افریقہ کے ٹیل اینڈر اینڈیلی پسواؤ سے پاکستانی کپتان سرفراز احمد عاجز آ گئے تو بے اختیار کہہ اٹھے ”ابے کالے! تیری امی آج کہاں بیٹھی ہوئی ہیں، کیا پڑھوا کے آیا ہے ان سے“۔ ان کی بدقسمتی کہ وہ وکٹ کیپر ہیں، اور وکٹ میں مائیک لگا ہوتا ہے جس نے ان کے اس اظہار حیرت کو دنیا بھر میں نشر کر دیا۔ اب کراچی کا کوئی بھی اہل زبان تو یہ جان سکتا ہے کہ سرفراز احمد اس شخص پر نسل پرستانہ حملہ نہیں کر رہے ہیں بلکہ ایک عام سا دیسی اظہار حیرت کر رہے ہیں کہ ”جوان تو ہے تو باؤلر، پھر ایسی بیٹنگ کسی وظیفے کے بل پر ہی کر رہا ہو گا۔ تیری اماں مصلے پر بیٹھی دعا کر رہی ہو گی“ آپ نے پاکستانی کھلاڑیوں کو اپنی اچھی پرفارمنس کا سبب قوم اور والدین کی دعائیں ہی بتاتے سنا ہو گا، تو سرفراز اس کھلاڑی کی پرفارمنس کو بھی کسی وظیفے کا نتیجہ سمجھ رہے ہوں گے۔

ویسے یہ جنوبی افریقی اتنے مشکل نام پتہ نہیں کیوں رکھتے ہیں۔ اس شخص کا نام ہم دیسی انگریزی میں اینڈل فیہلوکوائیو پڑھ رہے ہیں، وہ تو قسمت اچھی کہ اس کو خود اپنا نام بتاتے سنا تو پتہ چلا کہ وہ خود کو اینڈیلی پسواؤ کہتا ہے۔

Read more

ساہیوال اور آرمی پبلک سکول پر اتنا شدید عوامی رد عمل کیوں ہوا؟

ہم تیسری دنیا کے ایک ملک میں رہتے ہیں اور ہر دم اس کی قیمت چکاتے ہیں۔ انسانی جان کی ہمارے ملک میں کوئی خاص اہمیت نہیں ہے۔ پھر کیا وجہ ہے کہ آرمی پبلک سکول پشاور میں سوا سو بچے اور ساہیوال میں محض چار افراد کے مار دیے جانے پر اتنا شدید عوامی ردعمل آیا ہے؟ اگر یہ توجیہہ دی جائے کہ بچے اور خواتین بھِی اس گاڑی میں تھے اس لئے زیادہ ردعمل آیا، تو پھر پیر کو پنجگور سے کراچی جانے والی بس پر ویسا ردعمل کیوں نہیں آیا جس میں 27 افراد جل کر کوئلہ ہو گئے۔ میڈیا سے بمشکل یہ پتہ چل رہا ہے کہ مرنے والوں میں خواتین اور بچے بھی شامل تھے، مگر ابھی تک کوئی ایسی رپورٹ نظر سے نہیں گزری جو بتاتی ہو کہ کتنے بچے اور خواتین جل مرے ہیں۔ اسی سے میڈیا اور عوام کی اس واقعے میں عدم دلچسپی کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔

ایک توجیہہ تو یہ ہے کہ میڈیا کو ریٹنگ بڑے شہروں سے ملتی ہے، اس لئے بڑے شہروں کی چھوٹی خبر بھی، دور دراز علاقوں کی بہت بڑی خبر سے زیادہ اہم قرار پاتی ہے۔ کراچی یا لاہور میں گاڑی میں آگ لگنے سے اگر ایک شخص بھِی زندہ جل جاتا تو کہرام مچ جاتا۔ اس بدقسمت گاڑی میں کوئی ایک بچہ بھی ہوتا تو ایک ہفتے سے پہلے وہ خبر میڈیا سے نہیں ہٹنی تھی۔ دوسری طرف لسبیلہ میں 27 افراد کے جل مرنے پر بھی فوکس نہیں کیا گیا۔ اس کی بنیادی وجہ انسانی فطرت ہے۔

Read more

ساہیوال: کیا پنجاب حکومت جھوٹ بول رہی ہے؟

لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے پنجاب کے وزیر قانون راجہ بشارت نے جے آئی ٹی رپورٹ آنے سے پہلے ہی گاڑی میں سوار مارے گئے ایک شخص کو دہشت گرد قرار دیا ہے اور جو کہا ہے اس کا خلاصہ یہ کہ ”ذیشان کے گھر میں دہشتگرد موجود ہونے کے مصدقہ شواہد سامنے آئے ہیں، ذیشان کی کار دہشتگردوں کے استعمال میں رہی ہے، سی ٹی ڈی کی ٹیم کو کہا گیا کہ کار کو روکا جائے۔ ‏اگر دہشتگردوں کا پیچھا نہ کیا جاتا تو بڑی تباہی پھیلا سکتے تھے۔ ان دہشتگردوں کو روکنا نہایت ضروری تھا۔ خودکش جیکٹ پہنی نہیں تھی گاڑی میں رکھی ہوئی تھی۔ ذیشان کی گاڑی سے 2 خودکش جیکٹ، دستی بم اوراسلحہ بر آمد ہوا ہے۔ 18 جنوری کو تصدیق ہوئی کہ ذیشان دہشتگردوں کے لیے کام کررہا تھا۔ “

Read more

والدین کو مار کر بچے بازیاب کروانے والی سی ٹی ڈی

ویک اینڈ ہے۔ گاؤں میں چچا کی شادی ہے۔ آپ کے سب گھر والے خوش ہیں۔ آپ کی اہلیہ نے آپ کی تین اور پانچ سال کی بچیوں کو ایسی محبت سے تیار کیا ہے کہ ان کے معصوم چہروں پر نظر نہیں ٹکتی۔ پانچویں جماعت میں پڑھنے والا آپ کا بیٹا ہیرو لگ رہا ہے۔ تیرہ برس کی بیٹی خود ہی سج سنور گئی ہے۔ وہ اب بڑی ہو رہی ہے خود تیار ہونے کی شوقین ہے۔ اس شادی کی تیاری وہ تین مہینے سے کر رہی تھی۔ آپ نے گاڑی نکالی اور لاہور سے نکل کھڑے ہوئے۔ راستے میں اچانک پولیس کی ایک پک اپ قریب پہنچی اور آپ کی گاڑی پر سیدھی فائرنگ شروع کر دی۔ یہ بھی نہ دیکھا کہ گاڑی میں ننھے بچوں کے خوفزدہ چہرے ان کو دیکھ رہے ہیں۔ آپ نے گھبرا کر گاڑی روکی اور منتیں کرتے رہے کہ ہماری تلاشی لے لو، ہم سے پیسے لے لو، ہمیں مت مارو۔

فائرنگ ہوتی ہے۔ سامنے ونڈ شیلڈ سے سیدھی گولیاں آتی ہیں۔ مرنے سے پہلے آپ یہ دیکھتے ہیں کہ آپ کی برسوں کی رفیق آپ کی اہلیہ مر چکی ہے۔ آپ کے چھوٹے سے بیٹے کے گولی لگ چکی ہے اور بیٹی کا ہاتھ بھی زخمی ہے۔ آپ دم توڑ دیتے ہیں اور آپ کے یہ ننھے بچے ساری عمر کے لئے احساس محرومی لئے دوسروں کے ٹکڑوں پر پلنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ وہ کبھی سکون کی نیند نہیں سو پائیں گے۔ ان کی کھلی اور بند آنکھوں کے سامنے یہ قیامت کی گھڑی زندہ رہے گی۔ ساہیوال میں یہی ہوا ہے۔ یہ آپ کے یا میرے ساتھ بھی ہو سکتا تھا۔ ہماری قسمت اچھِی اور خلیل کی قسمت بری تھی کہ یہ تباہی اس کے خاندان پر ٹوٹی۔ لیکن کیا ہم ہمیشہ خوش قسمت رہیں گے یا اگلی باری ہماری اور ہمارے بچوں کی ہے؟

Read more

سلیقہ مند لڑکی نے غریب لکڑہارے کو کیسے ارب پتی بنایا

پرانے زمانے میں ایران میں ایک شہنشاہ قباد نامی حکومت کیا کرتا تھا۔ اپنے وزیر بزرجمہر کی حکمت کے سبب اسے اپنی ایک ملکہ کی بے وفائی کا علم ہوا تو عورت ذات سے اس کا اعتبار اٹھ گیا۔ اس نے ملکہ کو تو دیوار میں چنوا کر قرار واقعی سزا دے دی مگر حرم کی باقی ہزاروں ملکاؤں اور کنیزوں سے اس کا جی اوب گیا۔ بس ایک کنیز نیلما نامی تھی جس کے گانے بجانے اور جی بہلانے کی باتوں کے سبب بادشاہ نے اسے اپنے قریب رکھا۔

اب حرم سے فارغ ہونے کے بعد بادشاہ کے پاس بہت زیادہ فالتو وقت بچنے لگا۔ اس زمانے میں ریڈیو ٹی وی تو ہوتا نہیں تھا، نیلما سے کتنے وقت محفل کی جا سکتی تھی، تنگ آ کر بادشاہ نے شکار پر جانے کا قصد کیا۔ شاہی قافلہ جنگ میں پہنچا۔ دن بھر شکار کھیلنے کے بعد جب شام کو بادشاہ قباد سستانے بیٹھا تو اس کی نظر ایک مفلوک الحال لکڑہارے پر پڑی۔ بڈھا لکڑہارا کمر پر لکڑیوں کا گٹھا اٹھائے ہوئے تھا۔ بوجھ اور بڑھاپے کے مارے چلا اس سے جاتا نہیں تھا۔ گھسٹ رہا تھا۔

Read more

کیا چیف جسٹس کو ایکسٹینشن مل سکتی ہے؟

ہم ستر برس سے ایک ایسے مسیحا کے منتظر تھے جو وطن عزیز میں انقلاب لے آئے اور اسے صراط المستقیم پر گامزن کرے۔ اور یہ بات تو ہر ذی شعور پاکستان کو تسلیم کرنی پڑے گی کہ ہمارے ہردلعزیز چیف جسٹس جناب سر ثاقب نثار ہماری عدالتی اور سیاسی تاریخ میں ایک انقلاب لے آئے ہیں۔ ہر وہ شے جسے دیگر سیاست دان نظرانداز کر رہے تھے اور جو ملکی سالمیت اور قومی یکجہتی کے لئے اہم تھی، اسے ہمارے محبوب چیف جسٹس نے اپنے ہاتھوں میں لیا تو پھر ہی قوم کو احساس ہوا کہ وطن عزیز کے لئے کتنا بڑا خطرہ موجودہ ہے۔

ڈیم کا مسئلہ لے لیں، بڑھتی ہوئی آبادی کا، قومی اسمبلی اور سینیٹ کے قانون سازی کے معاملات کا، حکومتی اداروں کا، کرپشن کا یا میڈیا کے ٹکرز کا، ہر ایک اہم معاملے میں چیف جسٹس نے عدالتی سربلندی کی تاریخ رقم کر دی۔ کہاں یہ حال کہ کوئی شخص اپنے حصے کا کام نہیں کرتا، اور کہاں فرض شناسی کی ایسی درخشاں مثال کہ چیف جسٹس نے وہ کام بھی اپنے ناتواں کاندھوں پر اٹھا لیا جو آئینی اور قانونی طور پر دوسروں کی ذمہ داری تھی۔

Read more

زرعی یونیورسٹی کے لڑکے ساتھی طالبات کو ویلنٹائن ڈے پر بہن بنائیں گے

یونیورسٹی آف ایگریکلچر فیصل آباد کے وائس چانسلر ڈاکٹر ظفر اقبال رندھاوا نے اعلان کیا ہے کہ اگلے ماہ 14 فروری کو ویلنٹائنز ڈے کو بہنوں کے دن کے طور پر منائیں گے۔ اس دن طالبات کو یونیورسٹی کے نام والے اسکارف، شال اور گاؤن تحفے میں دیے جائیں گے۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے یونیورسٹی کے گھنٹہ گھر کے نزدیک ’آئی لو۔ یو اے ایف‘ کے ماڈل کا افتتاح بھی کیا۔ یونیورسٹی کے گھنٹہ گھر کے نزدیک اس ”آئی لو یو“ والے ٹاور کا ماڈل نصب کرنا بھی نہایت معنی خیز ہے۔

سوال یہ ہے کہ اگر کوئی لڑکا کسی لڑکی کو ویلنٹائن ڈے پر یونیورسٹی کے نام والا گاؤن دے دے تو نہ جانے وہ اس کی بہن کیسے بن جائے گی؟ یونیورسٹی اس کی بجائے راکھیاں فراہم کر کے ویلنٹائن ڈے کو رکھشا بندھن قرار دے دیتی تو پھر بھی کچھ سمجھ آتی کہ انڈین فلموں کا اوور ایکسپوژر ہو گیا ہے۔

یہ سرکاری پرمٹ ملنے کے بعد پہلے جو لڑکے ڈرتے بھی تھے کہ انتظامیہ لڑکیوں کو چھِیڑنے کے جرم میں پکڑ لے گی، وہ ایک ہاتھ میں گاؤن اور دوسرے میں وی سی کا اعلان لہراتے کسی بھی لڑکی کو تحفہ دینے پر تل جائیں گے۔

Read more

پانی مر رہا ہے

ممتاز مصنفہ آمنہ مفتی صاحبہ کی کتاب ”پانی مر رہا ہے“ ملی تو سینئیر نقادوں کی طرح اس کا سرورق دیکھا، بیک فلیپ دیکھا، آمنہ مفتی کے کالم یاد کیے، ان کا لہجہ ذہن میں گونجا اور ہمیں یقین ہو گیا کہ اس کتاب میں ضرور قوم کے دیدوں کا پانی مرنے کا نوحہ پڑھا گیا ہو گا۔ واقعی قوم کی حالت بگڑی ہوئی ہے اور ایسی کتاب وقت کی ضرورت تھی۔ فروری میں ویلنٹائن ڈے بھی آنے والا ہے اس کا ذکر بھی کیا ہو گا اور قوم کو یوم حیا منانے کی تلقین کی ہو گی۔ بس یہی خیالات ذہن میں آئے۔

عموماً تو ہم یوسفی کے صبغے کی طرح کسی کتاب کے بارے میں فیصلہ کرتے ہیں۔ یعنی کہیں سے دو تین صفحے الٹ کر دیکھ لئے، بعض اوقات لکھائی چھپائی دیکھ کر ہی ساری کتاب کا مضمون بھانپ لیا، کتاب کا کاغذ اور روشنائی سونگھ کر کتاب پڑھنے یا چھوڑ دینے کا فیصلہ کر لیا۔ یا پھر کتاب کا سرورق پڑھتے پڑھتے اونگھ آ گئی اور اس عالم کشف میں جو دماغ میں آیا اسے مصنف سے منسوب کر کے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے اس سے بیزار ہو گئے۔
خلاف معمول اس کتاب کو ہم نے زبان کے ریفریشر کورس کے لئے پڑھنے کا فیصلہ کر لیا۔

Read more

کاغذی تصویر حرام ہے، ڈیجیٹل تصویر حلال اور مولوی کنفیوز

بے شمار ٹی وی چینل آنے سے پہلے ٹی وی اور تصویر بالاتفاق حرام قرار دیے جاتے تھے۔ جب ویڈیو کے فوائد دکھائی دیے تو بعض گوشوں سے یہ رائے آنے لگی کہ تصویر تو حرام ہے لیکن ویڈیو جائز ہے۔ پھر جب موبائل کیمرے والے فون ہر ایک کے ہاتھ میں پہنچ گئے تو اب بہت بڑی تعداد میں یہ رائے دی جانے لگی کہ کاغذ پر چھپی ہوئی تصویر حرام ہے لیکن ڈیجیٹل تصویر جائز۔ گو کاغذ پر چھپی تصویر کی حرمت کے بارے میں بھی بعضے اختلاف کرتے ہیں کہ فوٹوگراف تو عکس ہے اس لئے جائز ہے، صرف پینسل یا برش وغیرہ سے کھینچا ہوا سکیچ حرام ہے۔

دارالعلوم دیوبند کا دار الافتا تو واشگاف الفاظ میں کہتا ہے کہ ”جاندار کی تصویر کشی اور اس کی ویڈیوگرافی چاہے کسی بھی طریقے سے اور کتنے ہی ترقی یافتہ آلے سے ہو حرام ہے، اس کا پرنٹ بھی اسی حکم میں ہے“۔

Read more

اماراتی شہزادہ بھی کپتان کی خوبیوں پر فدا ہے

سوشل میڈیا پر کپتان کے مخالفین نے شور مچا دیا کہ ابو ظہبی کے ولی عہد جناب ایم بی زیڈ یعنی محمد بین زید النہیان کو پاکستان میں کپتان سے مل کر اتنی مایوسی ہوئی ہے کہ وہ دو گھنٹے بعد ہی واپس چلے گئے۔

فواد چودھری نے یہ گمراہی دیکھ کر ٹویٹ کر دی ”ایسا ایسا بزرجمہر بیٹھا ہے جس نے زندگی میں فارن آفس نہیں دیکھا وہ بھی خارجہ پالیسی کا ماہررپورٹر ہے، کہ ابوظہبی سے دو گھنٹے کے لئے ولی عہد آئے اور چلے بھی گئے او بھائی ولی عہد تین دن سے پاکستان ہیں آج واپسی اسلام آباد سے ہوئی، تمام تفاصیل پہلے سے طے ہوتی ہیں آج کا دورہ تسلسل میں ہے“۔

اس پر کم فہم لوگ چڑھ دوڑے کہ کپتان کے خصوصی مشیر افتخار درانی تو کہہ رہے ہیں کہ ”ابو ظہبی کے ولی عہد محمد بن زید النیہان کا سرکاری دورہ ایک روزہ تھا جو کہ طے شدہ شیڈول کے تحت مکمل ہوا ہے۔ “

Read more

کپتان نے ترکوں کو مسحور کر دیا

عمران خان وہ پہلے وزیراعظم ہیں جنہوں نے یہ احساس کیا کہ سرزمین ترکی پر سب سے بڑی صوفی روحانی شخصیت مولانا روم کو سلام کرنا لازم ہے۔ اس لئے کپتان کے طیارے نے استنبول یا انقرہ کی بجائے قونیہ شریف کی مقدس سرزمین کو پہلے چھوا۔ کپتان نے سب سے پہلے مزار مولانا روم پر جا کر سلام پیش کیا۔ پروٹوکول والوں نے ضد نہ کی ہوتی تو کپتان بابا فرید کے مزار مبارک کی طرح مولانا روم کے دربار کی چوکھٹ بھی چوم لیتا اور روحانی شخصیات سے عقیدت کا یہ مظاہرہ دیکھ کر ہمارے دل باغ باغ ہو جاتے اور ترکوں کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ جاتیں۔ بہرحال وزیراعظم کہاں آزاد ہوتا ہے، وہ ہزار رسوم و قیود میں بندھا ہوتا ہے۔

اب ترکی کے دورے کا سب سے بڑا مقصد پورا ہو گیا تھا لیکن دوسرا مقصد ابھی باقی تھا اور وہ تھا ترکوں سے مالی معاملات پر مذاکرات کرنا۔ اب نواز شریف جیسا بے شرم لیڈر ہوتا تو ترکوں سے قرض مانگنے کی کوشش کرتا اور اپنی اور ملک کی عزت خاک میں ملا دیتا۔ کپتان نے نہایت سلیقے سے بات کی۔

Read more

نیو ائیر نائٹ: غیر قانونی آتش بازی پر کروڑوں روپے پھونک دیے گئے

رات بارہ بجنے میں ایک منٹ باقی تھا کہ پہلا دھماکہ ہوا اور پھر ایسا سماں بندھ گیا جیسے جنگ چھڑ گئی ہو۔ ہم گھبرا کر باہر نکلے تو علم ہوا کہ آسمان رنگا رنگ روشنیوں سے بھرا ہوا ہے۔ لوگ آتشبازیاں چلا رہے ہیں۔ ہوائیاں چھوڑ رہے ہیں۔ لالٹینیں ہوا میں اڑا رہے ہیں۔ ڈھول تاشے پیٹ رہے ہیں۔ ناچ گا رہے ہیں۔ خوشیاں منا رہے ہیں۔ پچھلے برسوں میں بھی یہ سب کچھ ہوتا تھا مگر اس سال تو کامل پندرہ منٹ تک یہ سب کچھ ہوتا رہا۔ لوگوں کو اس طرح خوشیاں مناتے دیکھ کر ہمارا دل بجھ گیا۔

جشن منانے کے نام پر کروڑوں روپے کو اس طرح آگ لگا دینا ظلم ہے۔ جبکہ آتش بازی کی خرید و فروخت جرم بھی ہے اور اب نئے سال کی آمد پر ایک آدمی ہوائی اسی طرح چھپ چھپا کر بلیک میں خریدتا ہے جیسے دوسرا آدمی شراب خریدتا ہے۔ ٹی وی پر یہ روح فرسا منظر بھی دیکھنے کو ملا کہ ہزاروں نوجوان اپنی اپنی موٹرسائیکلوں کے سائلینسر نکال کر ان ساتھ رت جگا کر رہے ہیں۔ ان کم بختوں کو بے زبان موٹرسائیکلیں ہی ملی تھیں نیو ائیر نائٹ کا جشن منانے کے لئے؟

Read more

سال کے آخری دن معافی مانگنے کی درخشاں روایت

روایت چلی آ رہی ہے کہ سال کے آخری دن سب لوگ گڑگڑا گڑگڑا کر ویسے ہی دوسروں سے معافی مانگتے ہیں جیسے نیک لوگ حج پر جانے سے پہلے۔ چند مستثنیات بھی ہیں۔ مثلاً کچھ شریر لوگ بھی ہوتے ہیں جو کہتے ہیں کہ جو پچھلے سال کیا تھا اس سال بھی وہی کریں گے، کسی نئی چیز کی توقع مت رکھو۔ کچھ ایسے بھی ہوتے ہیں جو کہتے ہیں کہ نیا سال منانا ویسے ہی غلط ہے اور معافی مانگنا تو بالکل ہی غلط ہے، اس لئے وہ بھی ”سب“ میں شامل نہیں۔

Read more

پاکستانی ریاست مدینہ میں مسجد کے باہر نمازیوں کی قطار لگ گئی

ہمیں سوشل میڈیا کے توسط سے پتہ چلا تھا کہ اسرائیلی یہودیوں کی نیندیں اس بات سے اڑی ہوئی ہیں کہ جس دن پاکستان میں فجر کے وقت نمازیوں کی تعداد جمعے کے نمازیوں جتنی ہو گئی، اس دن اسرائیل صفحہ ہستی سے مٹ جائے گا۔ یہ دیکھ دیکھ کر ہم اپنا دل جلاتے رہتے تھے کہ بجائے اس کے کہ فجر کے وقت نمازی بڑھیں، جمعے کے وقت نمازی گھٹ رہے ہیں۔ اب شکر ہے کہ ہماری آنکھوں کو یہ دیکھ کر ٹھنڈک نصیب ہوئی ہے کہ جمعے کی نماز ادا کرنے کے لئے بھی نمازیوں کی لمبی قطاریں بننے لگی ہیں۔ اس کی وجہ ایک تو یہ ہے کہ عمران خان نے پاکستان میں ریاست مدینہ بنانے کا وعدہ کیا تھا اور اس پر سچے دل سے عمل کر رہے ہیں، اور دوسری وجہ یہ ہے کہ اس مسجد کے پاس صدر عارف علوی کا دولت خانہ ہے۔

اب عمران خان چاہے بہت بڑے وزیراعظم ہوں (ہوشیار باش: لفظ بڑے وزیراعظم میں حرف ”ڑ“ استعمال ہوا ہے، ”ر“ نہیں) لیکن آئین کے مطابق ریاست پاکستان میں سب سے بڑا عہدہ ڈاکٹر عارف علوی کا ہے۔ اسی وجہ سے سب سے پہلے نمازیوں کی تعداد بڑھنے کا آغاز ان کے دولت خانے سے پھوٹنے والے فیض کے دریا کے سبب ان کے محلے کی مسجد سے ہوا ہے

Read more

میری کرسمس کے علاوہ ہیپی نیو ائیر کہنے سے بھی بچیں

”میری کرسمس“ کا مطلب تو دیگر علما کے علاوہ ڈاکٹر ذاکر نائیک نے بتا دیا ہے کہ کیونکہ مسیحی حضرت عیسی کو خدا کا بیٹا مانتے ہیں، اس لئے ان کو ”میری کرسمس“ کہنے کا مطلب ہے کہ نعوذ باللہ ”خدا نے بیٹا جنا“ اور یہ بہت بڑی بلاسفیمی ہے۔ اس کے بعد ہم نہایت پشیمان ہو رہے ہیں۔ ڈاکٹر صاحب بہت بڑے عالم ہیں۔ اسلام کے علاوہ وہ مسیحیت اور ہندو مت پر بھی اتھارٹی ہیں اور کسی کمپیوٹر کی طرح ان سب مذاہب کی مقدس کتابوں کے حوالے دیتے ہیں۔ اب اگر انگریزی کے ایک لفظ کا مطلب جاننا ہو گا تو ہم ڈاکٹر ذاکر نائیک سے پوچھیں گے یا آکسفورڈ ڈکشنری دیکھیں گے؟ ظاہر ہے کہ ڈاکٹر صاحب ہی ہمارے لئے اتھارٹی ہیں۔ 

Read more

قرض کے عربی ڈالر اور خالص دیسی گھی کا ڈبہ

سعودی عرب نے ہمارے وزیراعظم کی کامیاب سفارت کاری سے متاثر ہو کر انہیں تین ارب ڈالر نقد دینے کا وعدہ کر لیا اور کمال تو یہ ہے کہ اس میں سے دو ارب سچ مچ دے بھی دیے۔ متحدہ عرب امارات نے بھی ہی دیکھ کر حاتم طائی کی قبر پر لات مارتے ہوئے اتنے ہی ڈالر دینے کا اعلان کر دیا۔ یہ ہماری ہردلعزیز حکومت کی بہترین کارکردگی ہے لیکن چند مایوسی پھیلانے والے عناصر کہہ رہے ہیں کہ ایک تو ان ڈالروں کو صرف بینک میں رکھ سکتے ہیں، خرچ نہیں کر سکتے، اور دوسرے ان پر سود بھی لاگو ہو گا۔ حالانکہ کوئی بھی ذی شعور شخص اس معاملے پر غور کرے تو صاف دکھائی دیتا ہے کہ یہ کتنی بہترین ڈیل ہے۔

Read more

نواز شریف سے پیسے کیسے نکلوائیں؟

نواز شریف کو جج ارشد ملک نے العزیزیہ ریفرینس میں سات برس قید کی سزا سنا دی ہے۔ ویسے جج صاحب نے نہایت رحم دلی سے کام لیا ہے ورنہ وہ اگر فلیگ شپ پر بھی سختی کی نگاہ ڈالتے تو چودہ برس کی مجموعی سزا دی جا سکتی تھی۔ حکمرانوں کا چودہ برس کا بن باس روایت ہے۔ رامائن میں بتایا گیا ہے کہ رام چندر جی اور ان کے برادر خورد لکشمن کو بھی چودہ برس کا بن باس دیا گیا تھا اور ان کی غیر موجودگی میں ان کے بھرتی کے سیاسی حریف نے، کہ اس کا نام ہی راجہ بھرت پڑ گیا تھا، لکڑی کے بوٹ تخت پر رکھ کر ان کے نام پر حکومت چلائی تھی۔

Read more

ٹاور پر چڑھا شخص جو پاکستان کا وزیراعظم بننا چاہتا تھا

ابھی کل 22 دسمبر کو ایک شخص قومی پرچم اٹھائے اسلام آباد کے بلیو ایریا کے ایک موبائل ٹاور پر چڑھ گیا۔ اس نے قومی پرچم کو اسلام آباد کی بلندیوں پر لہرا دیا اور چھلانگ لگا کر خودکشی کرنے پر آمادہ ہوا۔ مجمع اکٹھا ہو گیا۔ پولیس آئی۔ اس شخص کو موبائل پہنچایا گیا کہ میاں بات تو کرو تم چاہتے کیا ہو؟ اس وقت تک سب یہ سمجھ رہے تھے کہ یہ کوئی دیوانہ تھا جس کے دماغ میں خناس سمایا ہوا تھا۔ فون پر بات ہوئی تو یہ کھلا کہ وہ دیوانہ ضرور تھا مگر اس کی دیوانگی کا سبب ملک و قوم سے بے پناہ محبت تھی۔ وہ ملک کو تباہی کے گڑھے میں گرتے دیکھنے سے پہلے خود چھلانگ لگا کر جان دینے پر آمادہ تھا۔

پتہ چلا کہ اس محب وطن شخص کا نام فیاض ہے اور وہ بھلوال سے آیا ہے۔ اس کا مطالبہ تھا کہ اسے وزیراعظم بنایا جائے تاکہ وہ پاکستان کے معاشی حالات ٹھیک کرے اور اپنی لاثانی صلاحیتوں کے ذریعے چھے ماہ میں ملک کا قرضہ اتار دے۔

Read more

میاں جاوید کی موت، ذمہ دار نیب یا کوئی دوسرا؟

یونیورسٹی آف سرگودھا لاہور کیمپس کے چیف ایگزیکٹو میاں جاوید کی لاش کی تصویر پر احتجاج جاری ہے۔ شور مچا ہوا ہے کہ ایک استاد سے ایسا کیا ڈر تھا کہ اس کی لاش کی ہتھکڑی بھی نہ کھولی گئی۔ نیب پر لعن طعن کا سلسلہ جاری ہے۔

نیب نے معصوم بن کر کہہ دیا ہے کہ ہمارا تو اس سے کوئی لینا دینا ہی نہیں۔ یہ صاحب تو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں تھے۔ جیل والے انہیں بیمار ہونے پر ہسپتال لے گئے۔ ہم تو اس معاملے میں کہیں ہیں ہی نہیں۔ ہم بے قصور ہیں۔

بات تو بالکل منطقی ہے۔ معاملہ بس یہ ہے کہ اکتوبر کے اوائل میں 45 سال کے میاں جاوید کو نیب نے حراست میں لیا تھا۔ 19 اکتوبر کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا۔ جس جگہ قید کیا گیا، اس کا نام انصار عباسی کی خبر کے مطابق ”نیب بیرک“ ہے۔ سپریم کورٹ کو نیب نے 19 نومبر کو یقین دلایا تھا کہ بس تین سے چار ہفتے میں ہم ان کے خلاف ریفرینس فائل کر دیں گے۔ تین چار ہفتے سے زیادہ گزرنے کے باوجود ریفرینس فائل نہیں ہوا۔ دوران حراست ڈیتھ سرٹیفیکیٹ فائل ہو گیا۔

Read more

امت کے لیے مولوی سے زیادہ اہم کون ہے؟

سوشل میڈیا پر بارہا دیکھا ہے کہ مولوی حضرات کے پاس جب دلیل ختم ہو جاتی ہے تو اپنی برتری ثابت کرنے کے لیے بتاتے ہیں کہ وہ نکاح اور جنازے پڑھاتے ہیں۔ یعنی خدانخواستہ اگر وہ نہ رہے تو لوگ شادی کرنے اور فوت ہونے سے محروم رہ جائیں گے۔ ہم ہمیشہ اس دلیل سے مرعوب ہو جاتے تھے اور سوچ میں پڑ جاتے تھے کہ مولوی نہ رہے تو امت بغیر نکاح کے زنا میں ملوث ہو جائے اور اس حالت میں اس کا جنازہ پڑھانے والا بھی کوئی نہ ہو گا۔

لیکن آج ایک صاحب نے مولوی حضرات پر اپنی پیشہ وارانہ برتری ثابت کر دی ہے۔ انہوں نے ایک مولوی صاحب کا ایسا ہی دعوی سن کر کہا کہ امت پیشہ ور مولوی کے بغیر تو گزارا کر لے گی لیکن ہمارے بغیر اس کا گزارا نہیں ہے۔ وہ صاحب نائی ہیں۔

Read more

یہودی ملا جرمن چانسلر انگیلا میرکل کے توبہ شکن حسن سے پریشان

بات کچھ یوں ہے کہ مغرب سے متاثر جو افراد دن رات فیل مچاتے ہیں کہ پاکستانیوں کے ذہن میں ہر وقت جنس بھری رہتی ہے اور وہ عورت کے علاوہ کچھ سوچ ہی نہیں سکتے، وہ خود دیکھ لیں کہ امریکہ اور اسرائیل میں رہنے والے یہودیوں کو تو انگیلا میرکل اور ہلیری کلنٹن کا ساٹھ سالہ حسنِ بلاخیز بھی بہکا سکتا ہے۔

Read more

وسی بابا کے تجزیات غلط کیوں ہوتے ہیں؟

آپ میں سے بہت سے اکثر حیران ہوتے ہوں گے کہ وسی بابے کے تجزیات غلط اور میرے درست کیوں ہوتے ہیں حالانکہ محنت اور بھاگ دوڑ وسی بابا زیادہ کرتا ہے۔ اس سوال کا جواب دینے کے لیے ہم دونوں کے تجزیہ کرنے کے انداز کو دیکھنا ہو گا۔

وسی بابا کے تجزیات غلط ہونے کی وجہ ان کا طریقہ کار ہے۔ انہوں نے کسی معاملے کا تجزیہ کرنا ہو تو معلومات اکٹھی کرنے میں جت جاتے ہیں۔ وہ ان دوستوں سے مشورہ کرتے ہیں جو اس معاملے سے آگاہی رکھتے ہیں اور بالکل صحیح معلومات فراہم کرتے ہیں۔ لیکن اس کے بعد وہ اکیڈیمک ہو کر نتیجہ نکالتے ہیں۔ صحیح معلومات سے اکیڈیمک ہو کر نتیجہ کیسے نکالا جاتا ہے؟ اس کے لئے ہم مسبر ہائی سکول میں کیے جانے والے ایک اہم سائنسی تجربے کا ذکر کرتے چلیں۔

Read more

حکیم مسیح الملک لاہوری

دنیا بھر کا علاج کرنے والے حضرت مسیح الملک لاہور کا تن و توش ایسا ہے کہ انہیں دیکھتے ہی بندہ احتیاطاً سانس بھی آہستہ لینے لگتا ہے کہ لگتا یہی ہے کہ ذرا سی تیز ہوا سے بھی توازن کھو کر زمین پر گر سکتے ہیں۔ اس خدشے کو تقویت اس بات سے بھی ملتی ہے کہ وہ پنکھے کی بجائے ایئر کنڈیشنر استعمال کرنا پسند کرتے ہیں لیکن خود فراموشی اور انکسار کا یہ عالم ہے کہ اپنی ذات کو مکمل نظرانداز کرتے ہوئے اس ترجیح کی وجہ یہ بتاتے ہیں کہ پنکھے کی ہوا سے میز پر رکھے بے شمار کاغذات اڑ سکتے ہیں۔

ویسے اس بیان کردہ وجہ کو کچھ وزن تو دینا پڑتا ہے کہ صرف ان کی میز پر ہی اتنی کتابیں اور کاغذات موجود ہوتے ہیں جن سے ایک شریف آدمی پوری ذاتی لائبریری بنا سکتا ہے۔ شاید وہ خود بھی اس حقیقت سے آشنا ہیں اور ان کاغذات کو بقائمی ہوش و حواس پڑھنے کی بجائے انہیں دیکھتے ہوئے فی صفحہ دو سگریٹ استعمال کرتے ہیں۔ کاغذ اور سگریٹ کے اس توازن کا اثر ان کی میز پر بھی پڑا ہے اور ایک دوسرا شریف آدمی وہاں موجود سگریٹ کی ڈبیوں سے تمباکو فروشی کی اپنی ذاتی دکان کھول سکتا ہے۔

Read more

مولانا طارق جمیل، بپا جانی اور عمران خان کا مدنی ماڈل

ہمارے امام مولانا طارق جمیل صاحب نے پاکستان کے بیس کروڑ عوام سے گزارش کی ہے کہ سب عمران خان کی پوری پوری مدد کریں کیونکہ جو بھی مدینے کی ریاست کا تصور پیش کرے گا ہم اس کے غلام ہوں گے۔ اکثر لوگ موجودہ دور میں مدینے کی ریاست کے تصور کے بارے میں ابہام کا شکار ہیں۔ مولانا نے یہ ابہام بھی دور کر دیا۔ انہوں نے بتایا کہ ایک فلاحی ریاست جہاں لوگ جھوٹ نہیں بولتے، دھوکہ نہیں دیتے، فراڈ نہیں کرتے، ایثار اور قربانی کے پتلے ہیں، ظلم نہیں کرتے، زیادتی نہیں کرتے، مدینے کی ریاست ہوتی ہے۔

اب بعض گمراہ لبرل یہ سنتے ہی سویڈن، ناروے اور کینیڈا وغیرہ کی مثال دینی شروع کر دیں گے کہ بس وہی مدینے کی ریاستیں ہیں کیونکہ وہاں یہ سب صفات پائی جاتی ہیں اور مولانا کے حکم کی آڑ میں ان ریاستوں کی غلامی کا اعلان کرنے پر تل جائیں گے۔ لیکن یاد رکھنا چاہیے کہ وہ سب کفار ہیں، خاص طور پر سکینڈے نیویا والے، کیونکہ وہ الحاد کے داعی ہیں۔ بہتر ہوتا کہ مولانا اس بارے میں ایمان کی شرط بھی لگا دیتے۔

Read more

گالی سے شدید نفرت کرنے والا مسلح شخص اور مجسم گالی جوان عورت

سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیو میں ایک جوان عورت دکھائی دے رہی ہے۔ وہ ہاتھ جوڑے کھڑی معافی مانگ رہی ہے۔ حلیے اور زبان سے کسی اچھے مگر معاشی طور پر لوئر مڈل کلاس طبقے کی لگتی ہے۔ سامنے ایک داڑھی والا جوان موجود ہے جس نے ہاتھ میں پستول تھامی ہوئی ہے۔ اس کے ساتھ کم از کم ایک دوسرا شخص ہے جو اس پورے واقعے کی ویڈیو بنا رہا ہے۔ آوازوں سے لگ رہا ہے کہ ایک سے زیادہ ہیں۔

پستول والا شخص کہہ رہا ہے ”تو کیوں ماں بن رہی تھی۔ “ دوسرا شخص کہہ رہا ہے کہ ”گالیاں نہیں دینی چاہیے تھیں۔ غلط ہے نا، آپ لوگوں نے گالیاں نہیں دینی چاہیے تھیں“۔ عورت کہتی ہے ”میں نے آپ کو کوئی گالی نہیں دی“۔

پستول والا کہتا ہے کہ ”پیروں میں بیٹھ کر معافی مانگ۔ معافی مانگ تو کل میں نے۔ ۔ ۔ “
عورت گھٹنوں کے بل ہاتھ جوڑے نیچے اس کے قدموں بٹھتی ہے اور بھرائی ہوئی آواز میں کہتی ہے ”میں نے تمہیں گالی نہیں دی تھی“۔

یہ سن کر پستول والا غصے میں آ جاتا ہے۔ اسے گالیوں سے شدید نفرت ہے۔ برداشت ہی نہیں کر سکتا کہ کوئی دوسرا گالی دے، خاص طور پر اگر ملزم کوئی ایسی اکیلی نوجوان عورت ہو جو اس کی پستول کی نال کے آگے بے بس ہو۔

Read more

بھیا ڈھکن فسادی کی موٹر کار

”آپ کی نئی گاڑی کیسی چل رہی ہے بھیا؟“ ہم نے بھیا ڈھکن فسادی سے سوال کیا۔

”میاں ابھی کل ہی ہم حاجی عبدالقہار کے قہاریہ بک سٹور پر کھڑے کتابوں کی ورق گردانی کر رہے تھے کہ وہاں موجود گاڑیوں کے شیشے پر لگانے والے ایک اسٹکر پر نظر پڑی جس پر لکھا تھا کہ“ مجاہدین مالی سے پیار کرتے ہو تو بھونپو بجاوَ ”۔ یہ سٹکر دیکھتے ہی ہم نے اسے خرید ڈالا اور آج صبح اپنی نئی گاڑی کے پچھلے شیشے پر چسپاں کر دیا۔ میاں کیا بتاوں کہ آج کیسا نرالا ایمان افروز تجربہ ہوا ہے۔ آج پہلی دفعہ پتہ چلا ہے کہ سات سمندر پار غاصب استعمار سے برسرپیکار مجاہدین مالی سے اس شہر کے لوگوں کو کتنی محبت ہے، حالانکہ اگر یہاں کسی سے مالی کے بارے میں پوچھو تو وہ اپنے باغبان کے بارے میں بتانے لگ جائے گا۔ اسے یہ بھی نہیں پتہ ہوگا کہ یہ مسلم امہ کا حصہ ہے جہاں مجاہدین جہاد میں مشغول ہیں“ ۔

Read more

اوور سیز پاکستانی اور فون: تیری یاد آئی تیرے جانے کے بعد

اب تو پتہ نہیں کیا حالات ہیں مگر ہمارے بچپن اور جوانی میں ہائی وے ان ٹرکوں سے بھری ہوتی تھی جن کے پیچھے فیلڈ مارشل ایوب خان کی دیو قامت تصویر ہوتی تھی اور نیچے نہایت دلگیر انداز میں لکھا ہوتا تھا ”تیری یاد آئی تیرے جانے کے بعد“۔

ایوب خان کا ٹرک کچھ یوں یاد آیا کہ اب دوسرے فون پر ائرپورٹ پر بھاری ٹیکس لگنے کے بعد اب اوورسیز پاکستانی کہیں اپنی ڈی پی پر گرین چینل بنانے والے نواز شریف کی تصویر لگا کر نیچے یہ کیپشن نہ دینے لگیں ”تیری یاد آئی تیرے جانے کے بعد“۔

Read more

اسد عمر اب جنید جمشید کی بجائے نصیبو لال کو مشعل راہ بنائیں

جناب اسد عمر نے حکومت سازی سے چند دن پہلے 7 اگست 2018 کو اپنی معاشی پالیسی کا اعلان کر دیا تھا۔ یہ بات طے تھی کہ وہ 18 اگست کو بننے والی حکومت میں وزیر خزانہ ہوں گے۔ لوگ بے چین تھے کہ ان کی ویژن سے روشناس ہوں۔ اسد عمر نے بتایا کہ ”‏جنید جمشید کے گانے کے یہ الفاظ تحریک انصاف کی حکومت کے لئے مشعل راہ کا کام دے سکتے ہیں۔ ۔ ۔ ہم کیوں چلیں اس راہ پر جس راہ پر سب ہی چلے۔ ۔ ۔ کیوں نا چلیں اس راہ پر جس پر نہیں کوئی گیا“۔

بخدا وہ اس راہ پر چلے۔ خوب چلے۔ گزشتہ حکومتیں تو بس سیدھی سی راہ پر چلتی تھیں تحریک انصاف کی معاشی پالیسیاں تو رولر کوسٹر رائیڈ ثابت ہوئیں۔ پل بھر میں سٹاک مارکیٹ ہزار بارہ سو پوائنٹ گر جاتی ہے اور ابھی سرمایہ کار اس پستی سے سنبھل نہیں پایا ہوتا کہ ڈالر دس روپے اوپر چڑھ جاتا ہے۔ واقعی اس راہ پر پہلے نہیں کوئی گیا۔

Read more

گناہ پر ٹیکس کا سلگتا ہوا منصوبہ

وزیر صحت نے ایک کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ وہ سگریٹ پر گناہ کا ٹیکس لگائیں گے۔ لبرل پہلے ہنسیں گے مگر پھر روئیں گے کیونکہ وزیر صحت نے بتایا ہے کہ یہ ٹیکس سول سوسائٹی کے مطالبے پر لگایا جا رہا ہے۔ وزیر صحت نے بتایا کہ 45 ملکوں میں یہ ٹیکس لگایا جا رہا ہے۔ ہمیں ہالینڈ کا تو پتہ تھا کہ ادھر ایک کوچے میں باقاعدہ خواتین لائسنس لے کر گناہ کرواتی ہیں اور حکومت کو سروسز فیس میں سے حصہ دیتی ہیں لیکن باقی 44 کا علم نہیں تھا۔

بعض افراد پوچھیں گے کہ کیا سگریٹ نوشی واقعی گناہ ہے؟ فرائیڈ نے اس معاملے میں لمبی تحقیق کرتے ہوئے بتایا ہے کہ سگریٹ کو ہونٹوں میں دبانے کا جنسی خواہش سے گہرا تعلق ہے۔ اب جو شخص دن کی دو ڈبیاں پی جاتا ہو، اس کے اندر کتنی فحاشی بھری ہو گی؟ اسے بری بری باتیں سوچنے سے روکنے کا یہ ایک اچھا طریقہ ہے کہ اس کے جذبات کو اتنا مہنگا کر دیا جائے کہ وہ گناہ سے تائب ہونے کا سوچے۔

Read more

نیا پاکستان: کامیابی کے شاندار سفر کی عالی شان شروعات

پہلے سو دن میں تحریک انصاف نے آئی ایم ایف سے قرضہ نہیں لیا۔ یہ ایک بہت بڑی کامیابی ہے۔ ورنہ ہر نئی حکومت آتے ہی آئی ایم ایف کے در پر سوالی بن کر پہنچ جاتی ہے۔ اب سو دن سے زیادہ ہو گئے ہیں لیکن حکومت نے آئی ایم ایف سے قرضہ لیے بغیر ہی کام چلایا ہے۔ بلکہ آئی ایم ایف کے اصرار کے باوجود اسے ٹالا ہے کہ پہلے ہم اپنے برادر ممالک سے قرضہ یا پیکیج لیں گے اور اگر آپ سے لیا بھی تو بس آپ کا دل رکھنے کو بات کریں گے۔ حکومت کے علاوہ ہم آئی ایم ایف کا بھی شکریہ ادا کرتے ہیں جس نے قرضہ دینے میں بہانے کر کر کے اس کامیابی کو ممکن بنایا۔

Read more

سعودی بلاگر کی ٹویٹ اور پاکستانی افسروں کی شکایت

پاکستانی حکومتی سیانے اس وقت سعودی بلاگر رائف بداوی کی کینیڈا میں مقیم بیوی انصاف حیدر سے پاکستان کی عالمی عزت افزائی کروا رہے ہیں۔ اس بی بی نے نقاب کے خلاف ایک ٹویٹ کر دی جس میں ایک نقاب پوش عورت کی تصویر کے ساتھ لکھا ہوا ہے کہ اگر آپ نقاب کے خلاف ہیں تو اسے ری ٹویٹ کریں۔ ہمارے سرکاری سیانوں نے اس سعودی کینیڈوی معاملے کو پاکستانی قانون پر تولتے ہوئے ٹویٹر کو شکایت لگا دی کہ یہ بی بی پاکستانی قانون کی خلاف ورزی کر رہی ہے۔

ٹویٹر کے لیگل ڈیپارٹمنٹ نے اس بی بی کو میل کر دی کہ ہمیں آفیشل شکایت ملی ہے کہ تم نے پاکستانی قانون توڑا ہے۔ اس شیطان کی چیلی نے وہ نوٹس ٹویٹ کر دیا۔ انگریزی کے علاوہ اس عربن نے بظاہر بھارتیوں کی سپورٹ حاصل کرنے کے لیے  ہندی زبان میں ٹویٹ کی ہے جس کا ترجمہ یہ ہے :

Read more

ڈھائی ہزار روپے کی سرمایہ کاری سے ایک لاکھ ماہانہ کمائیے

ہمارے وزیراعظم نے سکیم پیش کی ہے کہ وہ دیہات کی تمام خواتین کو پانچ پانچ مرغیاں دیں گے اور اس کے نتیجے میں غربت میں خاطر خواہ کمی ہو جائے گی۔ اس پر ناسمجھ لوگ ان کا مذاق اڑانے لگے تو تنگ آ کر انہوں نے انہیں آئینہ دکھاتے ہوئے کہا کہ ”نوآبادیات سے متاثر (غلامانہ) ذہنوں کو مرغبانی کے ذریعے غربت کے خاتمے کا خیال مضحکہ خیز دکھائی دیتا ہے مگر جب ’گورے‘ دیسی مرغیوں (مرغبانی) کے ذریعے غربت مٹانے کی بات کرتے ہیں تو اسے“ خیالِ نادر ”قرار دے کر یہ عش عش کراٹھتے ہیں۔ “

اس کے ساتھ ہی انہوں نے مائیکروسافٹ کے بانی بل گیٹس کا ایک مضمون بھی پیش کیا جس میں ایسے چشم کشا اعداد و شمار موجود ہیں جنہیں دیکھنے کے بعد عمران خان کے تمام حامیوں اور مخالفین کو ان کی حمایت اور مخالفت چھوڑ کر مرغیوں کی افزائش شروع کر دینی چاہیے۔

Read more

دیسی مرغی اور فاسٹ باؤلر کی ناقابلِ فہم گگلی

وزیراعظم عمران خان نے اپنے سو دن پورے ہونے پر تقریر میں معاشی انقلاب لانے کا منصوبہ پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ دیہاتی عورتوں کو دیسی مرغی اور انڈے دیے جائیں گے جس سے ان کی معاشی حالت بہتر ہو جائے گی۔ بعض کم فہم افراد یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ کیا ایک مرغی ایک عورت کی زندگی بدل سکتی ہے؟ کیا پاکستان میں اتنی دیسی مرغیاں اور انڈے ہیں کہ ہر دیہاتی عورت کو دیے جا سکیں؟ ان ناقدین کے پاس ویژن ہوتی تو یہ سوال نہ پوچھتے۔

مرغی ملنے کے بعد ایک عورت کو صرف اس کے رہائشی ڈربے کا انتظام کرنا ہو گا۔ یا وہ بھی نہ ہو تو خیر ہے۔ مرغی خود ہی کسی درخت پر رات بسر کر لے گی۔ باقی اس کو پالنے کا خرچہ بھی کوئی نہیں ہے۔ پاکستان کے ممتاز بینکر اور مزاح نگار یوسفی فرما گئے ہیں کہ ”مرغ اور ملا کے رزق کی فکر تو اللہ میاں کو بھی نہیں ہوتی۔ اس کی خوبی یہی ہے کہ اپنا رزق آپ تلاش کرتا ہے۔ آپ پال کر تو دیکھیے، دانہ دنکا، کیڑے مکوڑے، کنکر پتھر چن کر اپنا پیٹ بھر لیں گے“۔ اس لئے یہ مرغیاں سیلف سسٹینڈ پراجیکٹ ہوتی ہیں۔

Read more

آبادی پر کنٹرول کے چند غیر روایتی طریقے

ملک میں آبادی کا سونامی آیا ہوا ہے۔ 1947 میں ساڑھے تین کروڑ سے کم آبادی والا موجودہ پاکستان اس وقت بائیس کروڑ آبادی رکھتا ہے۔ نتیجہ کہ یہ بے شمار بچے نہ صرف پانی کے دشمن بنے ہوئے ہیں بلکہ ان کی وجہ سے زرعی زمینیں اب ہاؤسنگ سوسائٹیوں میں تبدیل ہو چکی ہیں۔ چیف جسٹس نے اس سونامی کے خلاف ایکشن لینے کا اعلان کر دیا ہے۔ مگر مسئلہ یہ ہے کہ یہ ایکشن تو جنرل ایوب خان کے دور سے لیا جا رہا ہے لیکن آبادی میں دن دگنا رات چوگنا اضافہ کیا جا رہا ہے۔

دن والے معاملے کو تو حکومت جوڑوں سے نکاح نامے مانگ کر کسی حد تک کنٹرول کر سکتی ہے مگر رات والے معاملے میں لبرل اور ملا ہر دو طبقات شور مچا کر حکومتی پلاننگ کو ناکام کر دیتے ہیں۔ اس صورت میں ضروری ہے کہ آبادی پر کنٹرول کے روایتی طریقوں سے ہٹ کر کچھ سوچا جائے۔ ہمارے ذہن میں چند تجاویز آئی ہیں جن پر حکومت، ہیئت مقتدرہ اور چیف جسٹس کو سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے۔

پہلی تجویز یہ ہے کہ کم عمری کی شادی پر سختی سے پابندی عائد کر دی جائے۔ جو لڑکا بھی ساٹھ سال کی عمر سے پہلے شادی کرے اسے توہینِ عدالت کے جرم میں ساٹھ سال کی عمر تک کے لئے قید کر دیا جائے۔ اسے خود سوچنا چاہیے کہ عدالت عظمی کتنی سنجیدگی اور درد مندی سے آبادی کو روکنے کی کوشش کر رہی ہے اور یہ کم بخت اسے ناکام بنانے پر تلے ہوئے ہیں۔ اس کا یہ فائدہ بھی ہو گا کہ ساٹھ سال کی عمر تک یہ نوجوان دل لگا کر اپنا کام دھندا کریں گے اور ساٹھ برس کی عمر میں ریٹائرمنٹ کے بعد ہی عشق معشوقی کریں گے جو غالب کی گواہی کے مطابق بندے کو نکما کر دیتی ہے۔ اب حال یہ ہے کہ بیس تیس سال کی عمر میں ہی یہ نوجوان نکمے ہو کر ملک کی ترقی میں رکاوٹ بن رہے ہیں۔

Read more

چیف جسٹس نے کنواروں کو بتا دیا کہ بچے بس دو ہی اچھے

چیف جسٹس نے برطانوی شہر مانچسٹر میں خطاب کرتے ہوئے آبادری کے مسئلے پر توجہ دی۔ انہوں نے فرمایا کہ ”میں اس کی شروعات اپنے گھر سے کروں گا اور اپنے بچوں کو بھی اس کی تلقین کروں گا“۔ چیف جسٹس نے مزید کہا کہ ”جن لوگوں کی شادی نہیں ہوئی، وہ سن لیں کہ بچے 2 ہی اچھے“۔

یہ ایک اہم پیغام ہے۔ چیف صاحب کو تو خیر گھر سے شروعات کرنے میں غالباً کچھ دیر ہو گئی ہے، لیکن بہرحال وہ اپنے بچوں کو ضرور اس کی تلقین کر دیں۔ لیکن ہمیں زیادہ فکر ان لوگوں کی ہے جن کی ابھی شادی نہیں ہوئی۔ واقعی ان کو چیف صاحب کی بات پر نہایت غور کرنا چاہیے۔

ہم ایک پاک صاف معاشرے میں رہتے ہیں۔ یہ کوئی یورپ امریکہ تو نہیں ہے کہ غیر شادی شدہ لوگ کسی خوف فکر کے بغیر عشق لڑا کر فسق و فجور کا بازار گرم کرتے رہیں اور ملک میں غیر شادی شدہ باپ اور کنواری مائیں تین چار بچے پیدا کرتے ہوئے شرم بھی نہ کریں

Read more

لارا بابا

کمال کے قصہ گو ہیں۔ نہایت باخبر ہیں، عالم بالا تک کی پکی خبریں نکال لاتے ہیں۔ میڈیا کی ہر اہم اور غیر اہم شخصیت سے قریبی تعلق کا دعوی رکھتے ہیں، اور بتاتے رہتے ہیں کہ کہاں کہاں ان کی راہنمائی کے باعث ان شخصیات نے اپنی تحریروں یا پروگراموں میں اہم انکشافات کیے ہیں لیکن ان کو کریڈٹ نہیں دیا۔

پھر وہ اپنے تجزیات پیش کرتے ہیں اور غلط ہونے پر وہ وضاحت سے بیان کرتے ہیں کہ بین الاقوامی حالات میں ہونے والی کس اچانک تبدیلی کی وجہ سے کسی مقامی سیاسی حلقے کے حالات بدل گئے ہیں اور وہاں کی انتخابی نتائج ان کی پیش گوئی سے مختلف نکلے ہیں اور پھر کمال خود اعتمادی سے نیا تجزیہ پیش کر دیتے ہیں۔

غضب کے قصہ گو ہیں۔ درجن بھر قصے ایک ہی نشست میں سنا ڈالتے ہیں۔ بندہ حیرت میں پڑ جاتا ہے کہ لارا بابا کی معلومات کتنی زیادہ ہیں، ان کا انداز بیان کتنا دلچسپ ہے اور ان کے دوستوں کے حالات کیسے عجیب ہیں۔ ان کے میڈیا کے دوستوں کا ذکر تو ہو ہی چکا ہے۔ زیادہ حیرت ان کے پہلی جماعت سے بڑھاپے تک کے دوستوں کے حالات زندگی پر ہوتی ہے جو پہلی جماعت سے بڑھاپے تک عشق کے ہاتھوں برباد ہوئے یا درے اور افغانستان میں جنگ کرنے گئے۔

Read more

تاریخ کی آخری کتاب

پیارے بچو۔ ہم سب جانتے ہیں کہ برصغیر میں محمد بن قاسم کے حملے سے پہلے انسانوں نے قدم نہیں رکھے تھے اور اسی وجہ سے ہماری درسی تاریخ محمد بن قاسم سے شروع ہوتی ہے۔ آپ سب کی سہولت کے لیے ”تاریخ کی آخری کتاب“ پیش کی جا رہی ہے جو برصغیر میں نسل انسانی کی پہلی آباد کاری کے بارے میں آپ کو جانکاری دے گی۔ امید ہے کہ ملک بھر کے ٹیکسٹ بک بورڈ اسے نصاب میں شامل کرنے پر سنجیدگی سے غور کریں گے اور انہوں نے جو کوتاہی ”اردو کی آخری کتاب“ نصاب میں شامل نہ کرتے ہوئے کی ہے، اس کا ازالہ کر دیں گے۔

یہ بات تاریخ سے ثابت ہے کہ محمد بن قاسم سے پہلے برصغیر میں انسان نہیں رہتے تھے۔ اس کتاب کو پڑھ کر بلاوجہ کی بچکانہ تنقید کرنے والے کچھ گمراہ لوگ ہڑپہ اور موہنجوداڑو کے کھنڈرات کی طرف اشارہ کر کے آپ کو کہیں گے کہ یہ اس علاقے میں زمانہ قدیم سے انسانوں کی موجودگی کا ثبوت ہے۔ لیکن خدارا گمراہ مت ہوں۔ ان آثار کی حقیقت صرف اتنی سی ہے کہ تحریک پاکستان کے مخالف چالاک ہندو بنیوں نے ان آثار کو بنا کر مٹی کے نیچے دبا دیا تھا تاکہ بعد میں ٹی وی کیمروں کے سامنے انہیں کھود نکال کر بھولے بھالے بچوں کو یہ دھوکہ دیا جا سکے کہ محمد بن قاسم سے پہلے بھی اس خطے کی کوئی تاریخ ہوا کرتی تھی۔

دوسری طرف یہ بحث بھی کی جانے لگی ہے کہ کیا بچوں کو نظریاتی تعلیم دے کر اچھا روبوٹ بنایا جائے یا پھر ان کو حقیقت بتا کر خود اچھے برے کی تمیز کرنی سکھائی جائے۔ جس شخص نے بھی آرنلڈ شوارزنیگز کی ٹرمینیٹر نامی فلمیں دیکھی ہیں، وہ بخوبی جانتا ہے کہ دنیا پر جلد ہی روبوٹوں کی حکومت قائم ہونے والی ہے، اس لیے نظریاتی تعلیم دینا ہماری قوم کو وہ عروج دے گا کہ دنیا ہماری مثال دیا کرے گی اور کرہ ارض پر کوئی بھی دھماکہ خیز بات ہو تو ہمارا نام ہی لیا جائے گا۔ دور جدید کی ضروریات جانتے ہوئے اس جدید تاریخی ریڈر میں اس بات کا پورا خیال رکھا گیا ہے کہ بچوں کی نظریاتی بنیاد خوب مستحکم ہو جائے اور وہ صرف خود کو ہی انسان سمجھیں۔ بلاوجہ بچوں کو سچ بولنا سننا سکھا دیا، تو وہ فسادی بن جائیں گے اور اپنا دماغ استعمال کرنے کے عادی ہو جائیں گے۔

Read more

میں حسین نقی کو نہیں جانتا

پھر ایسا ہوا کہ پاکستان کے علاوہ اسلام بھی ایک نازک دور سے گزرنے لگا۔ ایسے میں جنرل یحیی خان نے ملک اور اسلام کو بچانے کی خاطر بلا جبر و اکراہ اقتدار سنبھال لیا۔ اس موقعے پر بھی حسین نقی نے اس ڈکٹیٹر کی مخالفت شروع کر دی۔ بلکہ مشرقی پاکستان میں یحیی خانی ملٹری ایکشن پر جب بھٹو نے کہا کہ اب پاکستان بچ گیا، تو حسین نقی کہنے لگے کہ اب پاکستان نہیں بچا۔ اب ہم نے تو اس وقت مشرقی پاکستانیوں اور جمہوریت کا ساتھ نہیں دیا بلکہ ڈکٹیٹر کی حمایت کی۔ ہم تو اس کے اقتدار کے آخری دن تک اس کی حمایت میں اپنا قلم توڑتے رہے تھے۔ ہمیں کیا پتہ کہ اس کی مخالفت کرنے والا حسین نقی کون ہے؟

Read more

شہریار شہزادہ اور آبِ حیات

کھلتا ہوا گندمی رنگ جو پوٹھوہاری ہونے کی گواہی دیتا ہے۔ شانوں تک لہراتے ہوئے لمبے سنہرے بال ان کی سکھوں کی سی سوچ کے نمائندہ ہیں۔ رومی شہنشاہ جولیس سیزر کی سی رومی ناک، اور اس کے دوستوں جیسے ہی دوست۔ شروع میں پتہ نہ چلا تھا کہ کسی قسم کے مصنف ہیں۔ بعد میں پتہ چل گیا کہ کس قسم کے ہیں۔ علم ہوا کہ تحریر ان کے گھر کی لونڈی ہے۔ کئی ڈرامے کر چکے ہیں اور اب لوگ دور سے ہی ان کو آتا دیکھ کر راستہ بدل جاتے ہیں۔

اپنے آپ کو ادیب بے مثل شکیل عادل زادہ کا شاگرد بتاتے ہیں۔ یہ تو تحقیق نہیں ہو پایا کہ اس بے مثل بازیگر سے انہوں نے کیا کچھ سیکھا، بہرحال کچھ جھلکیاں ہم جیسے کم علموں کو بھی نظر آجاتی ہیں۔ پاؤں کو پانو، گاؤں کو گانو، طوطے کو توتا، گھڑی کو گہڑی لکھنے لگے ہیں۔ کہتے ہیں کہ اردو کی اصل یہی ہے۔ ثبوت کے طور پرفورٹ ولیم کالج کی چھپی ہوئی ضخیم کتب اپنے بستے میں ہر وقت رکھتے ہیں۔

Read more

خادم اعلی شہباز شریف کے تاریخی یو ٹرن

خبر اڑی ہے کہ وزیراعلی پنجاب شہباز شریف صاحب نے ہسپتالوں کو درست کرنے کا بیڑا اٹھا لیا ہے۔ خادم اعلی کا کہنا ہے کہ وہ قوم کا پیسہ ضائع نہیں ہونے دیں گے۔ انہوں نے ڈینگی کی ادویات کی بروقت خریداری نہ کرنے پر بھی اتوار کے روز ویڈیو لنک کے ذریعے مسلسل تین گھنٹے تک برہمی ظاہر کی اور بتایا کہ یہ انسانی زندگی کا معاملہ ہے۔ ابھی یہ تحقیق نہیں ہو پایا کہ ویڈیو لنک کے دوسرے سرے پر بھی کوئی موجود تھا یا نہیں۔

ڈینگی بھِی عجب شے ہے۔ خادم اعلی کے شہر لاہور میں واقع ہمارے گھر اس قدر تواتر سے ڈینگی مچھر تشریف لا رہے تھے کہ دو دن پہلے ہی اپنے گھر میں زر کثیر خرچ کر کے سپرے کروایا ہے۔ اب اگر ہم گھر سے باہر گلی میں نہ نکلے تو ہم ڈینگی سے سو فیصد محفوظ ہیں۔ ہم تحریک انصاف کے ٹائیگر نہیں ہیں جو ان ڈینگی مچھروں کی موجودگی پر ہم خادم اعلی کو الزام دیں۔ ہم جانتے ہیں کہ بندہ چاہے وزیراعلی ہی کیوں نہ ہو جائے، رہتا پھر بھی وہ لاچار ہی ہے۔ ایسا نہ ہوتا تو خادم اعلی لارنس گارڈن میں اپنے دفتر کے عقب میں واقع اس پہاڑی پر ہی ڈینگی سپرے کروا دیتے جہاں دن بھر پنجاب کے عوام کی طرح چمگادڑیں الٹی لٹکی ہوتی ہیں اور عوام کی بلامعاوضہ خدمت کی خاطر بے تحاشا ڈینگی مچھر چوبیس گھنٹے دستیاب ہیں۔ آپ چاہے دن کے بارہ بجے وہاں جائیں، ڈینگی مچھر آپ کے استقبال کے لئے موجود ہوں گے۔

Read more

نیب نے نواز شریف کو ٹھیک سزا تو سنائی ہے

نیب کا قانون یہی ہے نا کہ وزیراعظم کے رشتے داروں کی دوسرے ملک میں ایسی جائیداد نکلے جس کی منی ٹریل نہ ہو تو ذمہ دار وزیراعظم ہوتا ہے اور اس کی کرپشن میں کوئی شبہ نہیں رہتا۔ نیب کا قانون بالکل واضح ہے کہ اگر عوامی عہدے پر فائز کسی شخص بشمول وزیر اعظم کے اگر کسی رشتے دار کے نام پر کوئی نامی یا بے نامی جائیداد ہو، خواہ ایسی جائیداد پاکستان میں ہو یا باہر، جس کی قانونی کے مطابق ادائیگی کی وہ کوئی قابل قبول وضاحت پیش نہ کر سکے، تو اسے کرپشن شمار کیا جائے گا اور اس پر چودہ برس تک قید کی سزا سنائی جا سکتی ہے۔ ایسی جائیداد کے لیے ضروری ہے کہ وہ اس شخص کے ذرائع آمدنی سے مطابقت رکھتی ہو ورنہ وہ کرپشن کا نتیجہ قرار دے کر ضبط کی جا سکتی ہے۔

قانون یہی ہے تو نواز شریف کو بالکل ٹھیک نا اہل کیا گیا ہے۔ اس پر کیوں شور مچایا جا رہا ہے؟ اب وہ لاکھ کہیں کہ میرے بچوں کو کیا خود مجھے بھی ابا جی کے کاروبار سے وظیفہ ملا کرتا تھا اور وہ اربوں کے کاروبار کے مالک تھے جس سے میرا تعلق نہیں رہا، لیکن حقیقت تو یہی ہے کہ جائیداد وزیراعظم کے بچوں کے نام پر ہے۔ اب کسی غیر ملک میں پاکستانی وزیراعظم کے رشتے داروں کے نام پر جائیداد ہو، اور وہ رشتے دار کوئی قانونی طور پر ثابت شدہ کام دھندا نہ کرتے ہوں، تو ظاہر ہے کہ یہ جائیداد کرپشن کا نتیجہ ہی ہو گی۔

Read more

لڑکیوں کی آن لائن بلیک میلنگ کا معاملہ

تحریر: سائمن پارکن، نیویارکر۔ تلخیص و ترجمہ: عدنان خان کاکڑ عموماً سب کو لیکن خاص طور پر خواتین کو سوشل میڈیا اور موبائل پر ایک اچھا پاسورڈ لگانا  چاہیے تاکہ وہ محفوظ رہیں۔ ایسا نہ کرنے کی صورت میں بسا اوقات خطرناک نتائج نکل سکتے ہیں۔  ’ہم سب‘ کے قارئین کے لیے نیویارکر میں شائع ہونے والا یہ مضمون دلچسپی کا باعث اور  معلوماتی ہو گا اور ان کو ڈیجیٹل رائٹس فاؤنڈیشن سے بھی متعارف کروائے گا جو کہ کسی مشکل

Read more

شاہد آفریدی فوراً معافی مانگ لیں ورنہ۔ ۔ ۔

شاید آفریدی کا سوچے سمجھے بغیر بلا گھمانا ہی تو انہیں ہیرو بنا گیا ہے۔ ٹیم خواہ پہلے ہی سے مشکل میں ہو یا وہ مشکل کو اوپن کرنے نکلے ہوں دونوں صورتوں میں ان کا بلا ایک ہی انداز سے برستا تھا۔ ان کے میدان میں نکلتے ہی دوست دشمن سب پکار اٹھتے تھے کہ شاید آفریدی۔ ۔ ۔ گو اکثر اوقات یہ شاید تاسف میں بدلتی تھی مگر دس ناکام اننگز کے بعد جب بھی وہ ایک کامیاب اننگز کھیلتے تھے تو بخدا لطف آ جاتا تھا۔ ان کی یہی خوبی انہیں قومی ہیرو بنوا گئی جبکہ ہر مشکل وقت میں اننگز کو سنبھالنے والے اور ان سے کہیں بہتر ایوریج رکھنے اور تیز ترین ٹیسٹ ففٹی اور سنچری بنانے والے مصباح کو تحقیر سے ٹک ٹک کا قومی خطاب دیا گیا۔

ابھی پچھلے دنوں ہی شاہد آفریدی ایک محفل میں چپکے چپکے کچھ کھا رہے تھے تو لوگوں نے بدنام کر دیا کہ شاید آفریدی نسوار کھا رہے ہیں۔ لوگ سوچنے لگے کہ وہ بیٹنگ بھی اسی فارمولے پر کرتے ہیں جس پر لوگ لمبے روٹ پر ٹرک چلاتے ہیں۔ حالانکہ ان لوگوں کو خود سوچنا چاہیے تھا کہ آفریدی کہاں لمبی اننگز کھیلتے ہیں۔ بس آر یا پار کر کے چند منٹ میں باہر آ جاتے ہیں۔ اتنی زیادہ تنقید ہوئی کہ مجبوراً شاہد آفریدی کو بتانا پڑا کہ وہ سونف اور لونگ کی چٹکی تھی نسوار نہیں۔

Read more

شہریار شہزادہ اور یونیورسٹی کی وہ الہڑ حسینہ

ان سے پہلے پہل نیٹ پر ملاقات ہوئی تو وہ سکھوں سے محو گفتگو تھے۔ بلکہ کچھ یاد پڑتا ہے کہ پہلے پہل وہ بھی سکھ نظر آئے تھے۔ پھر ذرا غور کیا تو اپنے پہلے خیال کو کچھ غلط سا پایا۔ سکھ سر کے علاوہ داڑھی کے بالوں کو بھی نہیں کاٹتے۔ ان کی داڑھی کٹی ہوئی تھی۔ شبہ ہوا کہ شاید نرنکاری ہوں۔ صرف سر کو کھلا چھوڑ کر داڑھی منڈانے پر یقین رکھتے ہوں۔ لیکن جب ملے تو پھر یہ خیال بھی غلط لگا۔ یہ سوچ بھی درست نہ تھی کہ فقط وزن پورا کرنے کے لیے انہوں نے بال بڑھا لیے ہیں۔ سوچا کہ شاید مصنف ہونے کی وجہ سے لانبے بال اس لیے رکھتے ہیں کہ فکر سخن کرتے ہوئے ان میں ہاتھ پھیرتے جائیں اور سوچتے جائیں۔ مزید ملاقات ہوئی، کچھ کھلے تو پھر یہ گمان ہوا کہ شاید غم جاناں ہی ان لمبے سنہرے بالوں کا کارن ہے۔

Read more

ڈارون کی ارتقا کی تھیوری غلط ہے

آج ہمیں ڈاکٹر طارق صاحب نے ایک تصویر بھیجی جس میں بن مانس اور انسان کے کروموسوم کا تقابل کیا گیا تھا۔ غالباً وہ بھی ہماری طرح ان گمراہ سائنسدانوں سے تنگ ہیں جو کہ یہ ثابت کرنے پر تلے ہوئے ہیں کہ سمندر میں خود بخود بے جان زندگی سے ایک خلیے والے جرثومے وغیرہ پیدا ہوئے اور ان سے بڑے ہوتے ہوتے انسان اور ہاتھی وغیرہ تک خود بخود بن گئے۔ ڈاکٹر طارق صاحب کی تصویر پر غور

Read more

کراچی پریس کلب اور کپتان اجندر سنگھ بتالیہ کے کمپاس کی غلطی

کراچی پریس کلب کی پریس ریلیز کے مطابق 8 نومبر کو رات ساڑھے دس بجے اچانک سادہ لباس میں درجنوں مسلح افراد نے گھس کر صحافیوں کو ہراساں کیا اور مختلف کمروں، کچن، عمارت کی بالائی منزل اور اسپورٹس ہال کا جائزہ لیا اور زبردستی موبائل کیمرے سے کلب کے کے مختلف حصوں کی تصاویر اور ویڈیوز بنائیں۔ پریس کلب کے اراکین نے ان سے سوال جواب کیے تو وہ تسلی بخش جواب نہ دے سکے اور تیزی سے فرار ہو گئے۔ یہ افراد نصف درجن کے قریب گاڑیوں میں آئے تھے اور ان کے ہمراہ پولیس موبائل بھی تھی۔

وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کے مشیر مرتضیٰ وہاب نے کہا ہے کہ سادہ کپڑوں میں ملبوس قانون نافذ کرنے والے ادارے کے مسلح عہدیدار جی ایس ایم لوکیٹر کی غلطی کی وجہ سے کراچی پریس کلب میں داخل ہوئے تھے۔

اب اس پر صحافی بلاوجہ ہی احتجاج کر رہے ہیں کہ ساٹھ برس کی تاریخ میں پہلی مرتبہ سرکاری ایجنسی کے مسلح اہلکار اس طرح پریس کلب میں گھسے ہیں حالانکہ کوئی بھی ذی شعور شخص دیکھ سکتا ہے کہ یہ سب کچھ نہایت نیک نیتی سے کیا گیا تھا۔ گئے تو وہ سچ مچ کسی خطرناک دہشت گرد کو پکڑنے ہی ہوں گے، مگر جب سمت نما کی غلطی سے پریس کلب پہنچ گئے تو انہوں نے سوچا ہو گا کہ لگے ہاتھوں صحافیوں کو تحفظ ہی فراہم کر دیا جائے۔ تحفظ دینے میں جو جو صحافی رکاوٹ بنا، اس رکاوٹ کو عظیم تر صحافتی مفاد میں مار پیٹ کر ہٹا دیا گیا۔

Read more

نیب کا رنجیت سنگھی انصاف اور شاہزیب خانزادہ

کل شاہزیب خانزادہ کے پروگرام میں ڈی جی نیب شہزاد سلیم صاحب تشریف لائے۔ وہ قوم کو آگاہ کرنے آئے تھے کہ نیب تمام کرپٹ افراد کو نہایت حکمت سے اپنے شکنجے میں جکڑ رہا ہے۔ مثلاً شہباز شریف کے بارے میں بتایا کہ انہیں اس لیے صاف پانی کے مقدمے میں تفتیش کے لیے بلا کر آشیانہ ہاؤسنگ سکیم میں پکڑا ہے کیونکہ وہ نہایت طاقتور ہیں اور گواہوں یا شواہد کو خراب کر سکتے ہیں۔ اب یہ نہایت معقول طریقہ ہے۔ اس پر شاہزیب خانزادہ کو یہ تو نہیں کہنا چاہیے تھا کہ اقتدار میں تو چوہدری پرویز الہی اور بابر اعوان ہیں، چوہدریوں کے مقدمے سنہ 2000 سے چل رہے ہیں، تو ان کو پکڑا جانا چاہیے کیونکہ شہباز شریف کی نسبت وہ گواہوں اور شواہد کو متاثر کر سکتے ہیں۔

سلیم شہزاد صاحب نے بتایا بھی کہ ان کی جائیدادیں کیونکہ باہر ہیں اس لیے ان کے مقدمے میں پیش رفت نہیں ہو رہی ہے لیکن شاہزیب خانزادہ مصر رہے کہ شریف خاندان کی باہر کی جائیدادوں کے لے جو طریقہ اختیار کیا گیا ہے، وہی چوہدریوں کے لیے بھی اختیار کیا جائے۔ بہرحال یہ اینکر ایسے ہی شر کے پتلے ہوتے ہیں، جب ایک شریف آدمی حق اور انصاف کا پرچم سربلند کر رہا ہے تو اسے کیوں کنفیوز کرتے ہیں۔

Read more

دیوار چین سامنے ہو تو یو ٹرن لینا ہی پڑتا ہے

چین جانے سے پہلے حکومتی امیر وزیر بیان دے رہے تھے کہ سی پیک سے تمام کرپشن نکال کر اس کی مالیت کو کم کریں گے۔ ایک شیخ صاحب تو ریلوے سی پیک منصوبے کو بھی آدھا کرنے پر تلے ہوئے تھے۔ کہتے تھے کہ ریلوے کے منصوبے کو 8 ارب ڈالر سے کم کر کے چھے ارب ڈالر کیا گیا ہے کیونکہ 2 ارب ڈالر اصل میں کرپشن اور کک بیکس کی رقم کے تھے۔ نیز اسے چار ارب ڈالر کیا جائے گا یعنی کرپشن کی مکمل بیخ کرنی ہو گی۔

بلکہ شیخ و پیر کیا وزیر اعظم نے خود بھی اگست میں اقتدار سنبھالنے کے بعد کرپشن کے خلاف مہم کا اعلان کرتے ہوئے سی پیک سے منسلک پراجیکٹس پر سوال اٹھائے تھے اور کہا تھا کہ وہ ان کی لاگت کم کرنے کے لیے چین سے دوبارہ بات چیت کریں گے۔

پھر ایسا ہوا کہ ہمارے وزیراعظم چین پہنچے ہی تھے کہ سامنے دیوار چین آ گئی۔
اب بھلا کیا وزیراعظم اسے ٹکر مار دیتے؟ دانش مند افراد عام دیوار سامنے آنے پر ہی یو ٹرن لے لیا کرتے ہیں۔ یہ تو پھر دیوار چین تھی۔

Read more

کپتان نے لبیک کے احتجاج کو پہلے برا پھر اچھا ہینڈل کیا ہے

آسیہ بی بی کے معاملے پر تحریک لبیک کا احتجاج شروع ہوا۔ سڑکوں پر جلاؤ گھیراؤ شروع ہوا۔ لاہور سے ملک کے شمال کا تعلق منقطع ہو گیا۔ جی ٹی روڈ بھی بند تھی اور موٹر وے بھی۔ سوال یہ ہے کہ جب حکومت کو پتہ تھا کہ معاملہ بگڑنے کا امکان ہے تو پہلے سے تیاری کیوں نہیں کی گئی؟ پرانے وقتوں کی حکومتوں کی طرح ان افراد کو کیوں نہیں پکڑا گیا جن کی مظاہروں میں سرگرم اور اشتعال انگیز شرکت کا امکان تھا؟

اس کے بعد مرحلہ آتا ہے سڑکوں کی بندش کا۔ جو تصاویر ہم دیکھ رہے ہیں اس میں واضح دکھائی دے رہا ہے کہ درجن بھر افراد موٹر وے یا دیگر اہم سڑکوں کو سکون سے بند کر لیتے ہیں۔ ادھر یہ بھی دیکھا ہے کہ ایک شخص کو جی ٹی روڈ پر اسی طرح روکنے کی کوشش کی گئی تو اس نے گاڑی سے اسلحہ نکالا اور دو چار ہوائی فائروں کے بعد سڑک صاف ہو گئی۔ تمام فسادی دوڑ لگاتے دکھائی دیے۔ سوال یہ ہے کہ کیا پولیس یہ نہیں کر سکتی تھی؟

Read more

حضرت خادم رضوی کی سیکولروں لبرلوں کی دھلائی، عمران اور جمائما

حضرت خادم رضوی نے 3 نومبر 2018 کو تین ٹویٹس کیں۔ ایک میں فراڈی سیکولروں کا پردہ چاک کیا گیا۔ دوسری میں لبرلوں کے فسادات پر بغلیں بجائے کا ذکر کیا گیا۔ اور تیسری بزبان فرنگی کرتے ہوئے بتایا گیا کہ ”تحریک لبیک تو مغرب زدہ لبرلز سے کہیں بڑھ کر اقلیتوں کے حقوق کی محافظ ہے، حتی کہ لبیک نے تو اقلیتوں کو انتخابات میں ٹکٹ بھی دیے تھے۔ لیکن بہرحال اقلیتں بلاسفیمی کریں گی تو وہ قانون کو جواب دہ ہیں“۔ حضرت کے الفاظ میں جو تاثیر ہے، وہ ہمارے الفاظ میں کہاں، آپ خود پڑھیں۔

”کئی درآمدی لبرلز پچھلے دوچار دن بہت بغلیں بجاتے رہے اور ان کی باچھیں کھلے جارہی تھیں، کہ بس ابھی تصادم ہوا، یاد رہے یہ ہماری زمین، ہماری مٹی و مدفن ہے، یہ ملک، یہ لوگ، یہ ادارے ہمارے اور ہم ان کے ہیں، اس اسلام کے قلعہ پاکستان کے ایک ذرے کی حفاظت کو ہم اپنی ایک ہزار زندگیاں بھی قربان کر دیں۔ “

Read more

معاہدے میں حکومت نے تحریک لبیک کو چکر دے دیا ہے

تحریک لبیک اور حکومت کے درمیان معاہدے سے تو یہی ظاہر ہو رہا ہے کہ حکومت کی فتح ہوئی ہے اور تحریک لبیک نے ہتھیار ڈالے ہیں۔ شاید اس میں مولانا سمیع الحق کے قتل کے بعد کے پریشان کن ملکی حالات کا عنصر بھی شامل ہو۔ بہرحال پانچوں نکات دلچسپ ہیں۔ تحریک لبیک نے ان سے کچھ خاص حاصل نہیں کیا گیا ہے۔ عبارت میں اتنے نقائص ہیں کہ حکومت اس سے با آسانی جان چھڑا سکتی ہے۔ سب سے بڑا قانونی نقص تو یہی ہے کہ ”آسیہ بی بی“ کا نام ”عاصیہ مسیح“ لکھا گیا ہے، یعنی یہ عبارت قانونی طور پر ”آسیہ بی بی“ سے تعلق نہیں رکھتی۔ باقی نکات کو بھی دیکھتے ہیں۔

Read more

شہر ظلمات اور خوف

چند دن پہلے ہی کی بات لگتی ہے کہ ایک بہت ترقی یافتہ شہر ہوا کرتا تھا۔ ساری دنیا کی ہوائی کمپنیاں اس خطے میں کہیں جانے سے پہلے اس کے ہوائی اڈے کو چھونا فرض سمجھتی تھیں۔ دیس دیس کا بحری جہاز وہاں رکتا تھا اور اپنا سامان وہاں چھوڑتا تھا اور وہاں کا سامان اٹھاتا تھا۔

Read more

اعظم سواتی نے صرف اپنا فرض ادا کیا ہے

ایک گائے کی وجہ سے وفاقی وزیر اعظم سواتی کی میڈیا ٹرائل پر افسوس ہی کیا جا سکتا ہے۔ کیا یہ قوم کبھی ہیروں کو نہیں پہچانے گی اور وفاقی وزرا کو محض اپنا فرض ادا کرنے پر برا بھلا کہتی رہے گی؟ اب یہی دیکھ لیں کہ ایک نجی گائے ایک سرکاری زمین پر منہ مار رہی تھی کہ اعظم سواتی کو پتہ چل گیا۔ اب ادھر ان کے سامنے دو مشکلات تھیں۔ پہلی یہ کہ سرکاری املاک کا تحفظ کرنا تھا۔ دوسری یہ کہ غریب گائے کو کھانا تو بہرحال دینا تھا۔ اس بے زبان کو بھوکا تو نہیں مار سکتے تھے۔ اس لیے انہوں نے گائے کو پکڑ کر اپنے گھر میں باندھ دیا تاکہ اسے اپنی ذاتی جیب سے اچھا کھانا کھلا سکیں۔

معترضین کو سوچنا چاہیے یہ انڈیا تو نہیں ہے کہ گائے اپنی من مانی کرتی پھرے اور کوئی اسے ہاتھ بھی نہ لگا پائے۔ دی نیوز کی خبر کے مطابق گائے اعظم سواتی کے فارم ہاؤس کے عقب میں واقع سرکاری زمین پر سرکاری گھاس اور بوٹے کھا رہی تھی۔ کیا یہ سرکاری نقصان دیکھ کر عوامی مفادات کے نگہبان اعظم سواتی کا خون نہیں کھولنا چاہیے تھا؟

Read more

مقدس گائے کے منہ مارنے پر اسلام آباد کے آئی جی ڈھیر ہو گئے

اسلام آباد سے اطلاع آئی ہے کہ ایک گائے نے ایک باڑ کو منہ مارا جس کے نتیجے میں اسلام آباد کے کوتوال اپنی سیٹ سے گر گئے۔ ہندو دیو مالا میں تو سنتے آئے تھے کہ دنیا ایک مقدس گائے کے سینگوں پر ٹنگی ہوئی ہے اور وہ سینگ بدلتی ہے تو دنیا میں زلزلے آتے ہیں۔ لیکن یہ ہمیں آج معلوم ہوا ہے کہ اسلام آباد کی انتظامیہ بھی مقدس گائے کے لائے گئے زلزلوں سے ہل جاتی

Read more

ایک محب وطن جرنیل کی داستان

“جو یہاں داخل ہوتا ہے، یا تو دوست بن کر نکلتا ہے یا اپاہج بن کر“ سات سمندر پار ایک یونان نامی ملک ہوا کرتا ہے۔ پہلے سکندر نامی ایک بادشاہ کی وجہ سے مشہور ہوا اور اب کنگلا ہونا اس کی وجہ شہرت ہے۔ ان دونوں کے بیچ میں دیمیتری آیانیدس نامی ایک بریگیڈئیر جنرل صاحب بھی آتے ہیں جو جذبہ حب الوطنی کے ہاتھوں اس قدر مجبور ہوئے کہ اپنے ملک کے سیاستدانوں کی حب الوطنی پر شبہ

Read more

جمعیت نے یونیورسٹی میں ایک مبینہ شوہر کو ماحول خراب کرنے سے روک دیا

ایک ویڈیو ہر جگہ چل رہی ہے کہ پنجاب یونیورسٹی کے شعبہ تاریخ کے سامنے مجمع جمع ہے، ایک شخص کو ایسی مار پڑ رہی ہے کہ کوئی تیس فٹ دور کھڑے ویڈیو بنانے والے کے کیمرے میں تھپڑوں کی آواز ایسے آ رہی ہے جیسے تین فٹ دور پڑ رہے ہوں۔ ایک نوجوان لڑکی چیخ رہی ہے ”کیا کیا ہے انہوں نے؟ انہوں نے کیا کیا ہے؟ مجھے بتاؤ؟ ہی از مائی ہزبینڈ! ہی از مائی ہزبینڈ! “

پہلی بات تو یہ ہے کہ جمعیت ایسی غنڈہ گردی کرتی ہی نہیں ہے۔ وہ ایک نہایت ہی پرامن تنظیم ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ اگر یونیورسٹی میں بے حیائی پھیلائی جا رہی ہو تو اسے جمعیت ہی روکتی ہے خواہ کچھ بھی کرنا پڑے۔

اب اگر اصل معاملات سے بے خبر ایک عام آدمی اس ویڈیو کو دیکھے گا تو لبرل پروپیگنڈے میں آ جائے گا کہ اسلامی جمعیت طلبہ والے غنڈہ گردی کر رہے ہیں۔ شکر ہے کہ ایک جماعتی بھائی نے وضاحت کر دی کہ ان تھپڑوں میں جمعیت کا کوئی ہاتھ نہیں ہے۔

Read more

سرکار کو میرے مسئلے پر یکسوئی سے غور کرنے دو

روایت ہے کہ ایک سیٹھ صاحب ایک درگاہ پر پہنچے اور بہت سچے دل سے دعا کرنے لگے کہ ”یا پیر و مرشد، مجھے دس کروڑ روپے دے دیں تاکہ میں کل کپاس کا سودا کر کے ان کے پندرہ کروڑ بنا لوں۔ بس اب آپ کا ہی آسرا ہے، ورنہ میرے پاس تو جو کچھ تھا وہ پہلے ہی ادھر ادھر بزنس میں لگا ہوا ہے۔ “

سیٹھ صاحب دعا کر ہی رہے تھے اور منتظر تھے کہ اچانک ان کو غیب سے دس کروڑ مل جائیں گے کہ اچانک ایک مفلوک الحال شخص ان کے پاس آ کر کھڑا ہوا اور درگاہ پر دعا مانگنے لگا ”سرکار بس سو روپے کا سوال ہے۔ آپ کی سرکار سے سو روپے مل جائیں تو ایک سویٹر خریدوں گا تاکہ رات کو ٹھنڈ میں مرنے سے بچ جاؤں۔ بس آپ کا ہی آسرا ہے، باقی تو کسی جگہ سے امید نہیں“۔

سیٹھ صاحب کچھ دیر اس مفلوک الحال شخص کو غصے سے گھورتے رہے۔ پھر انہوں نے اپنی جیب سے سو روپے نکال کر اسے پکڑائے اور کہا ”یہ لو اپنے سو روپے اور سرکار کو میرے مسئلے پر یکسوئی سے غور کرنے دو“۔

Read more

شریکوں اور مخالفین کو سلگانے کا صحیح طریقہ

ہمارے معاشرے میں خاندانی نظام اور برادری نہایت اہم ہے۔ اہل مغرب کی تہذیب تو اپنے خنجر سے خودکشی کر کے رشتے داروں وغیرہ سے جان چھڑا چکی ہے لیکن ہمارے اعلی اقدار کے حامل روایتی معاشرے میں یہ نہایت اہم ہے کہ رشتے داروں اور مخالفین کو خوشی غمی میں سلگایا جاتا رہے۔ پنجاب میں شریکوں اور اٹک پار میں تربوروں کی محبت کی درخشاں روایات دمدار ستارے کی مانند روشن ہیں۔

Read more

سعودی معصوم ہیں، خاشقجی اپنی موت کا خود ذمہ دار ہے

دنیا بھر میں ہنگامہ مچا ہوا ہے کہ سعودی صحافی جمال خاشقجی کو سعودی حکومت نے مروا دیا ہے۔ طرح طرح کے الزامات لگ رہے تھے لیکن آج سعودی حکومت نے اصل بات بتا دی ہے جس پر صدر ٹرمپ کے علاوہ سعودی عرب کے دیگر تمام دوستوں کو بھی یقین آ رہا ہے۔

یہ معاملہ دو اکتوبر کو شروع ہوا تھا جب خاشقجی طلاق کے کاغذات لینے استنبول میں سعودی قونصل خانے میں گئے تھے۔ باہر اپنی منگیتر کو کھڑا کر گئے کہ تم میرا فون سنبھالو میں بس گیا اور آیا۔ ہاں اگر کوئی دیر سویر ہو گئی تو پولیس کو بلا لینا۔ دیر سویر ہو گئی اور پولیس آ گئی۔ قونصل خانے والوں سے پوچھا گیا کہ یور ایکسیلینسی، خاشقجی کہاں ہے؟ قونصل خانے والوں نے بتا دیا کہ وہ منگیتر باہر کھڑی دیکھ کر پچھلے دروازے سے چلے گئے تھے، ہمارے پاس کوئی ویڈیو تو نہیں ہیں لیکن ہم معزز لوگ ہیں، ہمارے الفاظ پر یقین کر لو۔ یاد رہے کہ سعودیوں نے ہرگز بھی یہ نہیں کہا تھا کہ خاشقجی اپنے پیروں پر چل کر پچھلے دروازے سے گیا ہے یا کسی ڈبے میں بند ہو کر اس لیے ان پر غلط بیانی کا الزام نہیں لگایا جا سکتا ہے۔

Read more

مخالف اپنے پاؤں پر کلہاڑی مار رہا ہو تو اسے ڈسٹرب مت کریں

انتخابات کی گہما گہمی میں سننے میں آیا تھا کہ آصف زرداری حکومت بنانے میں زیادہ دلچسپی نہیں رکھتے اور انہوں نے نواز شریف کو بھی قائل کرنے کی کوشش کی تھی کہ وہ عمران خان کو حکومت میں آنے دیں۔ آصف زرداری کو صرف سندھ میں حکومت چاہیے تھی۔ وجہ یہ بتاتے تھے کہ ایک مرتبہ قوم کا شوق پورا ہونے دیں۔ ویسے تو سال دو سال کی بات ہے مگر پانچ پورے ہو جائیں تو پھر بھی خیر ہے۔ کام پکا ہو جائے گا۔

اب سننے میں آ رہا ہے کہ نواز شریف کو یہ بات سمجھ آ گئی ہے اور ان کی خاموشی کی وجہ یہ فلسفہ بیان کی جا رہی ہے کہ جب کوئی مخالف اپنے پاؤں پر کلہاڑی مار رہا ہو تو اسے ڈسٹرب کر کے اس کی توجہ کو بھٹکانا نہیں چاہیے۔ اسے پوری یکسوئی سے اپنا کام بہترین طریقے سے کرنے کا موقعہ دینا چاہیے۔

Read more

جمال خشوگی کا مبینہ قتل، سعودی عرب کی مشکل اور ترکی کا مفاد

دو اکتوبر کے دن سعودی صحافی جمال خشوگی استنبول میں سعودی عرب کے قونصل خانے میں اپنی طلاق کے کاغذات حاصل کرنے گیا اور واپس نہیں آیا۔ باہر اس کی منگیتر باہر کھڑی انتظار کرتی رہی اور کئی گھنٹے بعد اس نے ترک حکام کو مطلع کیا۔ سعودی کہتے ہیں کہ خشوگی قونصل خانے سے چلا گیا تھا لیکن اس کے اندر جانے کی ویڈیو تو ہے، باہر آنے کی نہیں۔

ترک حکام مختلف خبر رساں اداروں کو بتا رہے ہیں کہ خشوگی کو قتل کر کے اس کی لاش کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا گیا ہے اور ان کے پاس خشوگی پر تشدد اور قتل کی گیارہ منٹ کی ریکارڈنگ موجود ہے۔ وہ یہ ریکارڈنگ کئی ممالک بشمول سعودی عرب اور امریکہ کے ساتھ شیئر کر رہے ہیں۔ ترک حکام کے مطابق اس دن قونصل خانے کے سٹاف کو صبح ساڑھے گیارہ بجے ہی چھٹی پر بھیج دیا گیا تھا اور انہیں کہا گیا تھا کہ اس دن قونصل خانے پر ایک میٹنگ ہونی ہے۔ اس ریکارڈنگ کے بارے میں وہ بتا رہے ہیں کہ اس کا جمال خشوگی کی ایپل واچ سے کوئی تعلق نہیں ہے، یعنی ترک انٹیلی جنس کامیابی سے سفارت خانے کو بگ کیے بیٹھی ہے۔

Read more

لاہور میں اخلاقی فتح سے اخلاقی شکست تک

سنہ 2013 میں الیکشن ہوا تھا تو تحریک انصاف نے الیکشن میں شکست کی وجہ 35 پنکچر قرار دیتے ہوئے دھاندلی کا الزام لگایا تھا اور خواجہ سعد رفیق کے حلقے میں اپنی اخلاقی فتح کا اعلان کیا تھا۔ اس اخلاقی فتح کے بعد 2018 کے الیکشن میں عمران خان نے سعد رفیق کے حلقے 131 میں غیر اخلاقی یعنی الیکشن کمیشن والی فتح پانے کے بعد الیکشن کمیشن سے سیٹ نکلوا بھی لی تھی۔ خواجہ سعد رفیق جیت کا

Read more

دہشت گرد اساتذہ سے نیب کو ڈر لگتا ہے

کل نیب عدالت میں اساتذہ کو ہتھکڑی لگانے پر آپ نہایت ہی عزت مآب چیف جسٹس آف پاکستان جناب ثاقب نثار نے ڈی جی نیب سلیم شہزاد سے پوچھا کہ ”آپ نے کس قانون کے تحت اساتذہ کی تضحیک کی؟ “ ڈی جی نیب نے آبدیدہ ہو کر کہا کہ مجاہد کامران کوسکیورٹی خدشات کے پیش نظر ہتھکڑیاں لگائیں۔ ڈاکٹر مجاہد کامران کی عمر تقریباً 67 برس ہے۔ آپ حیران ہوں گے کہ سیکیورٹی کے کن خدشات کی وجہ سے انہیں اور دیگر اساتذہ کو ہتھکڑی لگائی گئی ہے۔ اس واقعے کی ویڈیو سے دیکھا جا سکتا ہے کہ یہ بابے تو خود سے چل پھر بھی نہیں سکتے۔ ان کو لاٹھی بھی چاہیے اور دائیں بائیں دو جوانوں کا سہارا بھی۔ پھر نیب کو سیکیورٹی کے کیا خدشات تھے؟

کیا نیب کو یہ ڈر تھا کہ وہ ضعیف بابے درجنوں پولیس والوں کو جیکی چن سٹائل میں مار پیٹ کر دو چھلانگیں لگائیں گے اور کچہری کی دیوار پھاند جائیں گے؟ یا پھر نیب کو یہ اندیشہ تھا کہ یہ اساتذہ جیب سے قلم نکالیں گے اور سب افسران کو کاٹ ڈالیں گے؟ نیب والوں کو قلم کے تلوار سے زیادہ طاقتور ہونے والا مقولہ ڈرا رہا ہو گا۔ یا پھر یہ خوف ستا رہا تھا کہ کہیں جمعیت والے ان بابوں پر حملہ آور ہو کر ان کے ہاتھوں پٹ نہ جائیں؟ جمعیت والے اپنے آفیشل ٹویٹر ہینڈل پر ان اساتذہ کے ہاتھوں میں ہتھکڑیاں پڑنے پر خوشیاں منائے دیکھے جا سکتے ہیں۔

Read more

ڈالر کو چڑھانا حکومت کا ایک سوچا سمجھا منصوبہ ہے

بعض لوگ یہ تاثر دے رہے ہیں کہ روپے کی قیمت میں یکلخت اتنی زیادہ کمی اس وجہ سے ہوئی ہے کہ تحریک انصاف کی حکومت معاشی فرنٹ پر فیل ہو گئی ہے۔ ایسا ہرگز نہیں ہے۔ یہ ایک سوچا سمجھا منصوبہ ہے جس کے ذریعے پاکستان محض تین برس میں اپنے 90 ارب ڈالر کے قرضے سے نجات پا لے گا اور اس سے اگلے دو برس یہ کثیر رقم عوامی فلاح کے منصوبوں پر خرچ کی جائے گی۔

Read more

حکومت کا نظام سقہ معاشی ماڈل

اوورسیز پاکستانیوں نے نئے پاکستان کے نہایت ہی صادق اور امین وزیراعظم کی اپیل کے باوجود ہزار ہزار ڈالر نہیں بھیجے۔ انہوں نے ووٹ بھی نہیں بنوائے جس کی وجہ سے اگلے انتخابات میں مزید نیا پاکستان بنانے میں پریشانی ہو سکتی ہے۔ بہرحال پریشانی کی کوئی بات نہیں ہے۔ ہمارے ذہن میں ایک بہترین منصوبہ ہے جس کے ذریعے ان سے نئے پاکستان کی خاطر معقول رقم نکلوا سکتے ہیں۔ بلکہ ہزار ڈالر کی جگہ ان سے ملین ڈالر چندہ لے لیں گے۔

ہمیں اعلی حضرت خلد آشیانی شہنشاہ نصیر الدین ہمایوں کی زندگی سے سبق لینا چاہیے۔ جب شہنشاہ ہمایوں کی سلطنت ان کے گھوڑے سمیت ڈوب رہی تھی تو انہیں ایک شخص نظام سقہ نامی نے اس مشکل سے باہر نکالا۔ شہنشاہ ہمایوں نے اس سے سروس فیس پوچھی تو اس نے ڈھائی دن کی بادشاہت مانگ لی۔

شہنشاہ نے یہ سوچ کر نظام سقے کو حکومت سونپ دی کہ وہ نہ صرف یہ کہ نہایت غریب ہے اور غریبوں کے مسائل سمجھتا ہے بلکہ اس کے گھر میں روشنی کا انتظام بھی نہیں ہے۔ شام سے ہی اس کا چراغ بجھا بجھا سا رہتا ہے۔

Read more

سیاسی عدم استحکام سے سرمایہ اڑنچھو ہوتا ہے

آج صبح انٹر بینک مارکیٹ میں ڈالر یکلخت 11 روپے 70 پیسے کے قریب چڑھ گیا۔ دن کے اختتام پر انٹر بینک مارکیٹ میں ڈالر 9 روپے 39 پیسے کے اضافے کے ساتھ 133 روپے 64 پیسے کی ریکارڈ سطح پر بند ہوا۔ اوپن مارکیٹ کا ریٹ انٹر بینک سے چار پانچ روپے زیادہ ہوتا ہے۔ کرنسی ڈیلرز کے مطابق روپے کی قدر میں حالیہ کمی آئی ایم ایف کے دباؤ کا نتیجہ لگتی ہے کیونکہ آئی ایم ایف پہلے

Read more

شہباز شریف نیلسن منڈیلا کیسے بنے؟

شہباز شریف اندر ہو گئے۔ اندر ہونے سے پہلے انہوں نے ایسی کارکردگی دکھائی کہ وزیراعظم عمران خان بھی متاثر ہو گئے اور لاہور آ کر ایک اہم پریس کانفرنس کر ڈالی جس میں انہوں نے وضاحت بھی کر دی کہ وہ اس لیے پریس کانفرنس کررہے ہیں کیوں کہ انہوں نے گزشتہ روز شہباز شریف کو منڈیلا بنتے دیکھا۔ نیلسن منڈیلا کون تھے؟ وہ ایک ہیوی ویٹ باکسر تھے جو ہوا میں مکے لہرا لہرا کر مخالف کو منہ

Read more

موٹرسائیکل کو دو ہزار جرمانہ، پراپیگنڈا مشینری کا جھوٹ

گزشتہ دنوں آپ نے خبریں دیکھی ہوں گی کہ لاہور ٹریفک پولیس نے چالان کی شرح دو چار سو روپے سے بڑھا کر دو ہزار سے تیس ہزار روپے تک کر دی ہے۔ گاڑی والا سگنل توڑے تو پانچ ہزار، موٹر سائیکل والا دو ہزار جرمانہ بھرے گا۔ ساتھ ہی ہیلمٹ کے بغیر موٹرسائیکل پر سفر کرنے پر دو ہزار جرمانے کی خبریں تھیں۔ پچیس تیس ہزار کی سیکنڈ ہینڈ موٹر سائیکل خریدنے والے کے لیے دو ہزار کی ڈنڈ بھرنا مشکل ہے۔ کئی خلاف ورزیوں پر تیس ہزار تک کے جرمانے کی خبریں تھیں۔ سوال اٹھایا جا رہا تھا کہ کیا ایک غریب شخص کیسے اتنا جرمانہ بھر سکتا ہے۔

اس کے بعد کچھ ویڈیوز سامنے آئیں جو اس صورت حال کو واضح کر رہی تھیں۔ ایک چنگ چی والے جوان نے چالان ہونے پر اپنی چنگ چی کو آگ لگا دی۔ ایک موٹر سائیکل والے مظلوم نے اپنی موٹر سائیکل جلا ڈالی۔ ایک مولانا نے اپنا گریبان چاک کیا اور نہر میں چھلانگ لگا کر خودکشی کرنے پر آمادہ ہوئے۔ ان واقعات سے دکھائی دے رہا ہے کہ واقعی پریشان کن صورتحال ہے اور مہنگائی سے ستائے ہوئے غریب جرمانہ دینے سے زیادہ یہ آسان سمجھتے ہیں کہ جان دے دیں۔ مگر اصل صورتحال کیا ہے؟ کیا واقعی اتنے بھاری جرمانے کیے جا رہے ہیں یا یہ تحریک انصاف کی حکومت کو اسی کے جھوٹے میڈیا پروپیگنڈے کی کڑوی گولی کھلائی جا رہی ہے؟

Read more