شیر کی دم سے بندھا گیدڑ

بہت پرانے زمانے کا ذکر ہے کہ ایک کسان اپنے کھیت میں بیلوں کی جوڑی سے ہل چلا رہا تھا۔ اچانک ملحقہ جنگل سے ایک بڑا سا شیر نکلا اور اس نے نہایت سلیقے سے کسان کو سلام کر کے کہا ”کیسی گزر رہی ہے میرے دوست؟ “

کسان کی پہلے تو شیر کو دیکھ کر جان نکل گئی مگر شیر کا دوستانہ انداز دیکھ کر اسے تسلی ہوئی۔ اس نے سوچا کہ شیر ڈائیلاگ کرنے آیا ہے تو خیریت اسی میں ہے کہ اس سے بات چیت کی جائے۔ وہ بولا ”بہت اچھی گزر بسر ہو رہی ہے جنگل کے بادشاہ۔ “

Read more

گلالئی اسماعیل پر حماد حسن صاحب کا مضمون

آج ہم سب پر حماد حسن صاحب کا مضمون ’گلالئی اسماعیل: یہ خاندان آپ ہی کو مبارک ہو‘ ایک ادارتی اختلافی نوٹ کے ساتھ شائع کیا گیا۔ اس کے بیشتر مندرجات سے ہم اختلاف کرتے ہیں۔ لیکن ادارہ ’ہم سب‘ لبرل اقدار کا داعی ہے۔ ان اقدار میں سب سے زیادہ اہم فری سپیچ ہے۔ ایولین بیٹریس ہال کا والٹیئر سے منسوب مشہور قول ہے ’جو تم کہتے ہو میں اس سے اختلاف رکھتا ہوں، لیکن میں تمہارے یہ کہنے کے حق کے دفاع کے لئے اپنی جان بھی دے دوں گا‘ ۔ اسی اصول کے تحت ادارہ ’ہم سب‘ کسی بھی تحریر کو شائع کرنے کی کوشش کرتا ہے۔

Read more

آئنہ نما: ایک کالی کتاب پر تبصرہ

جناب ظفر عمران کی نئی کتاب ”آئنہ نما“ کوچہ و بازار میں ارزاں ہوئی ہے۔ ظفر عمران صاحب املا میں وحدانیت کے قائل ہیں اور ان کا یہی رویہ اس کتاب میں جھلکتا ہے۔ مثلاً مروج املا آئینہ ہے، مومن، ذوق، شاہ نصیر، حتی کہ ظفر (شہنشاہ ہند والے اصلی) اسے آئینہ لکھتے آئے ہیں۔ ”ہم کو دکھلائے ہے ہر لحظہ جمال جاناں / دل کا صاف اپنے ظفر آئینہ سا ہو جانا“۔

ہاں صرف ایک شاعر کے ہاں اسے آئنہ لکھا دیکھا ہے۔ ”یوں ہماری عمر گزری انتظار یار میں / اپنے گھر میں جس طرح رہتا ہے بیدار آئنہ“۔ یہ شاعر بھی فاضل مصنف کی طرح مروج روایات کو نہیں مانتے تھے اور ایسے شدت پسند تھے کہ تخلص تک ناسخ باندھ رکھا تھا۔

Read more

بزدار کو قربانی کا بکرا بنایا جا رہا ہے

آج کل ایک سازش کی وجہ سے یہ روش چل پڑی ہے کہ تحریک انصاف کی حکومت کی ہر ناکامی کا سبب یہ بتایا جانے لگا ہے کہ عثمان بزدار پنجاب کے وزیراعلیٰ ہیں اور جیسے ہی ان کی جگہ کسی اہل شخص کو وزیراعلٰی پنجاب بنا دیا گیا تو بی آر بی میں دودھ اور لاہور کے بیچوں بیچ گزرتی میاں میر نہر میں شہد بہنے لگے گا۔ کوئی پوچھے عثمان بزدار کو آپ نے اختیار کیا دیا ہے جو ان سے پرفارمنس مانگی جا رہی ہے؟ شہنشاہ ہند شاہ عالم ثانی کو کسی شاعر نے یہ کہہ کر بدنام کر ڈالا تھا کہ ”حکومت شاہ عالم، از دہلی تا پالم“۔ عثمان بزدار کا معاملہ تو اس سے بھی گیا گزرا ہے۔ ان کا اختیار تو لاہور تا شاہدرہ بھی نہیں ہے۔

Read more

ڈیپ ویب کیا ہے اور اس پر کیا کچھ کیا جا رہا ہے؟

آپ نے پچھلے دنوں زینب قتل کیس کے سلسلے میں ڈارک ویب، ڈارک نیٹ اور ڈیپ ویب کی اصطلاحات سنی ہوں گی کہ کیسے ان پر ایک غیر قانونی مارکیٹ چلتی ہے۔ ڈارک نیٹ پر بچوں کی فحش ویڈیوز سے لے کر منشیات اور کرائے کا قاتل تک دستیاب ہے۔ سوشل میڈیا پر موجود ماہرین کی جانب سے ان جرائم کا بتا کر بے حد درد مندی سے یہ مطالبہ کیا گیا ہے کہ انٹرنیٹ پر موجود ان تاریک چیزوں پر پابندی لگائی جائے اور انٹرنیٹ کا 90 فیصد مواد ڈارک نیٹ کی ٹریفک پر مشتمل ہے۔ آپ شاید یہ سمجھتے ہوں گے کہ ان ٹیکنالوجیز سے آپ محفوظ ہیں۔ ایسا نہیں ہے۔ یہ آپ کے ارد گرد موجود ہیں اور آپ کی زندگی پر اثر انداز ہو رہی ہیں مگر آپ ان سے واقف نہیں ہیں۔ آئیے ان ٹیکنالوجیز کے بارے میں کچھ جاننے کی کوشش کرتے ہیں۔

Read more

قصور کے بچوں کا قاتل کون ہے؟

قصور پر لکھنے کا کیا فائدہ؟ جب لکھیں تو کہا جاتا ہے کہ صورت حال کو بہتر کرنے کے لئے تجاویز دیں۔ جو مشورے ہم نے دینے ہیں اس سے کہیں زیادہ ہمارے پولیس افسران جانتے ہیں جو دنیا کی ٹاپ کی یونیورسٹیوں سے کرمنالوجی پڑھ چکے ہیں۔

مسئلہ پولیس کا نہیں ہے۔ مسئلہ حکمرانوں کا ہے۔ ان کے مفادات ان بچوں کے قاتل ہیں۔ اور ایسا نہیں ہے کہ یہ صرف موجودہ حکمرانوں کے مفادات ہیں۔ خاص طور پر 1980 سے آج تک جو بھی ظاہری اور باطنی حکمران رہا ہے وہ قصور وار ہے۔

Read more

عورت خور شیر اور عقل مند بادشاہ کی کہانی

ملک نیمروز پہاڑوں کی ترائی میں واقعہ ہے۔ پہاڑوں پر گھنے جنگل ہیں جن میں ہاتھی، گینڈے، گھوڑے، بھیڑیے، بھیڑیں اور دیگر جانور بکثرت پائے جاتے ہیں۔ شہر نیمروز پر ایک خدا ترس بادشاہ کی حکومت تھی جس کے انصاف کا ایسا شہرہ تھا کہ لوگ نوشیرواں کی بجائے اس کی مثالیں دیا کرتے تھے۔

پر قسمت کا چکر تو کسی لمحے بھی الٹا چل سکتا ہے۔ یہی نیمروز کے ساتھ ہوا۔ اس کو کسی کی نظر لگ گئی۔ ایک آدم خور شیر وہاں آ گیا۔ صبح، دوپہر شام جس وقت اسے بھوک لگتی وہ جنگل سے شہر میں آ جاتا اور اپنی بھوک مٹاتا۔ اس شیر کے بارے میں ایک چیز عجیب تھی۔ وہ صرف عورتوں کو شکار بنتا تھا، مردوں کو اگر وہ صرف اسی وقت مارتا جب وہ کسی عورت کا شکار کرنے میں اس کے خلاف مزاحمت کرتے۔

Read more

مودی اقلیتوں کے حق میں کتنا موذی ہے

سنہ 2019 کے الیکشن میں دوبارہ منتخب ہونے کے لئے نریندر مودی نے وہی کیا جو وہ لیڈر کرتے ہیں جن کے پاس صرف ہوائی قلعے فراہم کرنے کی صلاحیت ہوتی ہے۔ مودی نے پاکستان پر فضائی حملہ کر کے جنگی جنون پیدا کیا اور دیش بھگتی کے نام پر ووٹ سمیٹے۔ پاپولسٹ سیاست دانوں کی طرح اس نے ان لوگوں کو فوکس کیا جو اکثریت میں تھے۔ ان کے تعصبات کو خوب ابھارا۔

Read more

بدرو جولاہا جو پروپیگنڈے سے بادشاہ بن گیا

پرانے زمانے کا ذکر ہے کہ ایک گاؤں میں ایک منحنی سے جسم والا جولاہا رہا کرتا تھا۔ اس کا قد چھوٹا تھا، ٹانگیں اور بازو کمزور اور جسم عجیب۔ اس کے ہمسائے اسے ٹڈا بدرو جولاہا کہتے۔

لیکن اپنے چھوٹے سے قد اور کمزور سے جسم کے باوجود بدرو خود کو بہت بہادر سمجھتا تھا۔ وہ گھنٹوں اپنی بہادری کی تعریف کرتا رہتا اور وہ کارنامے سناتا جو اس نے موقع ملتے ہی سرانجام دینے تھے۔ بس قسمت کی خرابی تھی کہ اسے موقع نہیں ملتا تھا اور قصے سننے والے اس پر ہنستے تھے۔

Read more

سیانے چوہے کی شادی اور ڈیل کرنے سے توبہ

ایک مرتبہ ایک موٹا تازہ اور خوب سیانا چوہا تیز بارش میں پھنس گیا۔ بوچھاڑ سے بچنے کے لئے اس نے جلدی جلدی ایک بل کھودا اور اس میں دبک گیا۔ وقت گزاری کے لئے وہ بل کو مزید کھودتا گیا۔ کھودتے کھودتے اسے ایک مردہ درخت کی جڑ ملی جو بالکل خشک تھی۔ چوہے بہت کفایت شعار اور سلیقہ مند مخلوق ہوتے ہیں۔ سیانے چوہے نے سوچا کہ میں اس لکڑی کو گھر لے جاؤں گا اور اسے جلا کر کھانا پکاؤں گا۔ مینہ تھما تو سیانا چوہا اس جڑ کو منہ میں دبائے اپنے بل کی طرف روانہ ہوا۔

وہ کچھ آگے گیا تو اس نے دیکھا کہ ایک غریب آدمی بہت مایوسی کے عالم میں آگ جلانے کی ناکام کوششیں کر رہا ہے اور اس کے گرد چھوٹے چھوٹے بیٹھے بچے رو رہے ہیں۔
سیانے چوہے نے دلگرفتہ ہو کر پوچھا ”کیا ہوا؟ یہ بچارے کیوں رو رہے ہیں؟ “

Read more

کپتان کیوں ناکام ہوا؟

ہر ذی شعور شخص کی امیدیں کپتان سے وابستہ تھیں کہ نا اہل سیاست دانوں کی کرپشن سے وہ نجات دلائے گا۔ سب پر واضح تھا کہ اوپر اگر اچھا حکمران ہو تو نیچے ماتحت خود بخود ٹھیک ہو جاتے ہیں۔ اسے ٹاپ ڈاؤن ماڈل کہتے ہیں۔ آکسفورڈ کا پڑھا کپتان جو ساری زندگی برطانوی اشرافیہ میں گزار چکا ہے، بارہا بتا چکا ہے کہ برطانیہ میں ایسا ہی ہوتا ہے۔

لیکن کپتان جیسے صاف ستھرے، اولوالعزم، صاحب بصیرت وژنری لیڈر کی حکومت میں صورت حال بہتر ہونے کی بجائے کرپٹ حکمرانوں کے دور سے بھی بدتر ہو گئی۔ کاروبار تباہ ہوئے گئے، ملازمتیں چلی گئیں، بجلی گیس کے بل دگنے مہنگے ہو گئے، گاڑیوں کی صنعت برباد ہو گئی، رئیل اسٹیٹ اور تعمیرات کا شعبہ مٹی میں مل گیا۔ اس کی کیا وجہ ہے؟ وقت آ گیا ہے کہ یہ راز کھول دیا جائے کہ اس کی وجہ ایک بھیانک سازش ہے۔

Read more

کپتان جہاز کی طرح معیشت چلا رہا ہے

اب لوگ معیشت کے بارے میں الٹی سیدھی باتیں کر رہے ہیں۔ حالانکہ کپتان نے حکومت میں آتے ہی قوم کو کہہ دیا تھا کہ گھبرانا نہیں، کچھ عرصے مشکل ہو گی، پھر سب ٹھیک ہو جائے گا اور ملک کی ترقی کا سفر تیز رفتاری سے شروع ہو جائے گا۔

جہاں تک ترقی کے تیز تر سفر کی بات ہے تو اس طریقۂ سفر کی مثال ہم جہاز سے دیتے ہیں۔ آپ نے جہاز میں سفر کیا ہو تو آپ نے نوٹ کیا ہو گا کہ مسافر بٹھا کر جہاز آہستہ آہستہ رن وے کی طرف جاتا ہے۔ پھر جہاز اپنے متعین کردہ مقام پر جا کر رکتا ہے، انجن مدھم پڑ جاتے ہیں، کپتان فل بریک لگاتا ہے اور پھر جہاز کو خوب ریس دیتا ہے اور جب انجنوں کی چیخیں نکلنے لگتی ہیں تو کپتان بریک سے پاؤں اٹھا لیتا ہے اور یکلخت ایک زوردار جھٹکے سے جہاز آگے بڑھتا ہے اور ٹیک آف کر جاتا ہے۔

Read more

آخر کار تھانوں میں تشدد کا خاتمہ کر دیا گیا

پنجاب حکومت کے خلاف ففتھ جنریشن وار دیکھ دیکھ کر ہم دل مسوس رہے ہیں۔ ایک شریف اور نفیس شخص وزیراعلیٰ ہے تو اسے ایک نا اہل بدمعاش ثابت کرنے کے لئے پولیس تشدد کی ویڈیوز پھیلائی جا رہی ہیں۔

پہلے ملتان میں ایک شخص پولیس حراست میں مر گیا۔ وہ کیمروں کو منہ چڑا چڑا کر سوشل میڈیا پر بہت مقبول ہو گیا تھا اور اب اس کی نئی ویڈیوز آ گئی ہیں جن سے اس پر تشدد ظاہر ہو رہا ہے۔ ایک ویڈیو میں بولا گیا یہ جملہ تو پولیس پر ہمیشہ کے لئے چسپاں ہو گیا ہے کہ ”ایک بات پوچھوں، مارو گے تو نہیں؟ “۔ بتایا جا رہا ہے کہ سپیشل پرسن تھا۔

Read more

بھارتی خلائی پروگرام پاکستانی خلائی پروگرام کا مقابلہ نہیں کر سکتا

بھارتی نمبر ون خلائی ادارہ اسرو مشن چاند پر جہاز نہیں اتار سکا۔ کام بھی تو اس نے عجیب کیا تھا۔ کامن سینس کی بات ہے کہ کسی نئی جگہ پر جانا ہو تو آدمی دن کے وقت جانے کی کوشش کرتا ہے تاکہ روشنی میں خوب دیکھ بھال لے ورنہ راستہ بھول جاتا ہے۔ اندھیرے کی وجہ سے نہ صرف گھنٹوں مارے مارے پھرنا پڑ سکتا ہے بلکہ آدمی ٹھوکر بھی کھا سکتا ہے۔ اور اگر یہ تاریک راستہ پاکستان ہندوستان کا ہو، تو غالب امکان ہوتا ہے کہ بندہ تاریکی کے باعث کسی کھلے گٹر میں گر جائے جس کا ڈھکن کوئی جہاز اڑا لے گیا ہو۔

Read more

استادو، سب نالائق بچوں کو مار ڈالو

لاہور کے علاقے گلشن راوی کے امیرکن لائسٹف سکول میں ایک استاد نے دسویں کلاس کے بچے حنین بلال کو سبق نا یاد کرنے پر اس کا سر دیوار سے ٹکرا کر اسے مار ڈالا۔ بظاہر یہ نہایت ظلم کی بات لگتی ہے۔ عینی شاہدین بچوں کے بیانات کو سنیں تو لگتا ہے کہ استاد نے بہت ظلم کیا۔ لیکن استاد ظلم کہاں کرتے ہیں۔ وہ تو یہ سب کچھ بچوں کی بھلائی کے لئے کرتے ہیں۔ اسی وجہ سے حکومت بھی اس کارِ خیر کو روکنے کی کوئی خاص کوشش نہیں کرتی۔ اس قتل میں بھی مقتول کی بھلائی ہو گی۔ عینی شاہد طالب علم کے بیان کی روشنی میں صورت حال کچھ یوں بنتی ہے۔

Read more

ڈینگی برادران اندر اور ڈینگی مچھر آزاد

کراچی سے پشاور تک ڈینگی نے دوبارہ حملہ کر دیا ہے۔ بیماری کا سب سے زیادہ زور دو شہروں میں ہے، راولپنڈی اور پشاور۔ گزشتہ ایک ماہ میں راولپنڈی میں ڈینگی کے مریضوں کی تعداد ایک ہزار سے زیادہ ہو گئی ہے اور پشاور میں بارہ سو سے سے زیادہ۔ لاہور میں بھی ڈینگی شرارت پر تلا ہوا ہے اور اس نے دیگر افراد کے علاوہ قذافی سٹیڈیم میں شاہین آفریدی پر حملہ کر دیا ہے اور وہ تین ہفتے کرکٹ سے دور رہیں گے۔ کراچی میں ہاکس بے میں قائم اٹامک انرجی پلانٹ پر چینی کام کررہے تھے جن میں سے دو سو ڈینگی کا نشانہ بنے۔

Read more

گھبرانا مت پاکستانیو، کپتان پنکچر لگا رہا ہے

جب کپتان وزیر اعظم بننے کی جد و جہد کر رہا تھا، اسی وقت اس کی راہ میں کانٹے بچھائے گئے تھے اور سب کو پتہ چل گیا تھا کہ گاڑی میں پینتیس پنکچر کر کے کپتان کا راستہ روکا گیا ہے۔ گو بعد میں عدالت میں کپتان نے اس بات کو سنی سنائی کہہ کر ٹال دیا تھا مگر ساری قوم کا دل جانتا ہے کہ بات سنی سنائی نہیں سچ تھی، کپتان کی انتخابی گاڑی کو پنکچر کیا گیا تھا۔

Read more

بزدار کو ہٹا رہے ہیں تو علیم خان کو وزیر اعلیٰ بنائیں

جب نواز شریف کے خلاف ابھی کام نہیں اٹھا تھا تو اس وقت سہیل وڑائچ نے کالم لکھا تھا ”دی پارٹی از اوور“۔ 22 جون 2017 کو لکھے گئے اس کالم میں سہیل وڑائچ نے کہا تھا کہ ”موجودہ وزیراعظم نواز شریف کے لئے ’پارٹی اِز اوور“ کی آواز لگ چکی ہے۔ سکرپٹ میں کوئی تبدیلی نہ آئی تو جولائی اور اگست میں آخری رسومات ہوں گ ”۔ میڈیا، عوام اور نون لیگ میں اس کالم کا مضحکہ اڑایا گیا تھا مگر جب 28 جولائی 2017 کو نواز شریف کی وزارت عظمیٰ کا بستر گول کر دیا گیا تو سہیل وڑائچ کو متفقہ طور پر غیب کی خبریں لانے والا میڈیائی ولی اللہ مان لیا گیا۔

اب وہی سہیل وڑائچ اپنے آج 3 ستمبر 2019 کے کالم ”اڑیل ہے ٹٹو۔ ۔ ۔ “ میں فرماتے ہیں کہ عثمان بزدار کا بستر بھی گول کرنے کی تیاریاں ہیں اور متبادل نام آ رہے ہیں۔

Read more

ریحان ہو یا صلاح الدین ایوبی، چور کی سزا موت ہے

سوشل میڈیا پر بعض قانون پسند افراد نہایت غم و غصے کا شکار ہیں کہ رحیم یار خان میں اے ٹی ایم سے کارڈ چرانے والے شخص صلاح الدین ایوبی کو جو انصاف فراہم کیا گیا ہے، اس کی مخالفت کیوں کی جا رہی ہے۔ انہوں نے بجا طور پر نشاندہی کی ہے کہ یہ آج اے ٹی ایم لوٹ رہا تھا تو کل گن پوائنٹ پر لوگوں کو لوٹتا اور پرسوں شرفا کے گھر ڈاکے ڈالتا۔ اگر پولیس اس کا چالان جمع کر کے عدالت میں بھی پیش کر دیتی تو کیا ہوتا، اول تو سزا ہی نہ ہوتی اور اگر ہو بھی جاتی تو وہ دو چار ماہ بعد باہر آ کر دوبارہ یہی کام شروع کر دیتا۔ اس لئے اچھا ہوا کہ پولیس کی حراست میں ہی اسے انصاف فراہم کر دیا گیا۔ چوروں کو اسی طرح کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا تو اسمبلی میں جانے والے بھی چوری سے ڈریں گے۔

Read more

مہاتما بدھ کے نروان سے ارشمیدس کے پاجامے تک

نئی نویلی دلہن کی کیفیت عجیب اور جذبہ بے پناہ ہوتا ہے جو اپنی شادی ہوتے ہی اپنے میاں کے تمام کنوارے دوستوں اور کزنوں کی اپنی سہیلیوں اور کزنوں سے شادی کروانے کو بے چین ہو جاتی ہے۔ آگہی کا سرور بھی بے پناہ ہوتا ہے۔ علامہ اقبال نے تین چار شادیاں اور اتنے ہی عشق کیے تھے۔ غالباً اسی لئے وہ محرم راز ہوئے اور انہوں نے دلہناپے کی اس کیفیت کو کچھ یوں بیان فرمایا

دو عالم سے کرتی ہے بیگانہ دل کو
عجب چیز ہے لذّتِ آشنائی

Read more

محمد شاہ رنگیلے سے ملکہ وکٹوریہ تک

کہنے کو تو شفیق الرحمان نے پیروڈی لکھی ہے مگر ”مزید حماقتیں“ کے مضمون ”تزک نادری“ کو ہم تاریخ کی بہت سی کتابوں سے زیادہ معتبر جانتے ہیں۔ نادر شاہ افشار کا لشکر دہلی کی طرف بڑھ رہا تھا اور تخت دہلی عیش و عشرت میں مصروف تھا۔ تزک نادری یہ معاملہ کچھ یوں بیان کرتی ہے۔

”محمد شاہ کو ہماری تشریف آوری کا علم ہو چکا تھا۔ ایک مرتبہ تو اس نے ایلچی کو خط اور لفافے سمیت شراب کے مٹکے میں دھکیل دیا اور بولا ’ایں ایلچی بے معنی غرق مے ناب اولٰی‘۔ کسی طبلچی نے حافظ کا یہ مصرعہ صحیح کرنا چاہا تو محمد شاہ نے اسے بھی مٹکے میں دھکیل دیا۔ آدمی با مذاق معلوم ہوتا ہے“۔

Read more

امت کی ٹھیکیداری اور کشمیر پر چپ

کشمیر پر مسلم ممالک کی خاموشی پر بعض لوگ ”حیران ہیں، لب بستہ ہیں، دلگیر ہیں“ اور سوچ رہے ہیں کہ ”یاد آئے ہیں جب بھی غم و آلام ہی آئے“۔ کیا وجہ ہے کہ پاکستانی تو ہمیشہ برما سے لے کر فلسطین اور بوسنیا سے لے کر عراق تک امت کے ہر چھوٹے بڑے معاملے پر اپنے اپنے شہر کے ٹریفک سگنل توڑتے آئے ہیں مگر دیگر مسلم ممالک نے کبھی کشمیر پر پاکستان کا ایسا ساتھ نہیں دیا۔ لے دے کر ایک ترکی ہی بولتا ہے دوجا کون ہے؟ فلسطینی تک پاکستان کے مقابلے میں بھارت کا ساتھ دیتے رہے ہیں۔ مانا کہ جنرل ضیا الحق نے چند ہزار فلسطینی مار ڈالے تھے مگر اس کا یہ مطلب تو نہیں کہ وہ کشمیر پر ہماری ویسے حمایت نہ کریں جیسے ہم اسرائیل کے خلاف ان کی کرتے ہیں۔

Read more

کشمیر کی آزادی تک روڈ بند رہے گی

اسلام آباد میں حکم جاری کیا گیا ہے کہ کل بارہ بجے سے لے کر ساڑھے بارہ بجے تک تمام ٹریفک سگنل سرخ رہیں گے۔ اسلام آباد کے تمام شہری کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کے آدھا گھنٹہ ٹریفک سگنل پر کھڑے ہوں گے۔ ہمیں یقین ہے کہ قوم آدھا گھنٹہ تو صرف وزیراعظم کی اپیل پر کھڑی ہو گی، اور اس دوران اتنا زیادہ جوش اور جذبہ شہر کی سڑکوں پر موجزن ہو جائے گا کہ شام تک ویسے ہی سڑک پر کھڑی رہے گی۔

Read more

اجی یہ رنگین مومی چاک ہے یا ”وہ“ چیز

یہ تحریر ذی شعور متفکر عاقل بالغ والدین کے لئے ہے، ننھے منے معصوم بچوں کو اس سے دور رکھا جائے تو مناسب ہو گا۔
آج صبح ایک پوسٹ نظر سے گزری۔ اس میں قوم، ملت، امت اور نئی نسل کا شدید درد رکھنے والے ایک بھائی صاحب نے سب کو خبردار کیا تھا کہ بہت ہی ننھے منے بچوں کو دکھائے جانے والے کارٹون نہایت تشویشناک ہیں اور ہمیں ذرا بھی احساس ہی نہیں کہ ہم اپنے بچوں کے ہاتھوں میں کیسی برائی دیے ہوئے ہیں۔ انہیں اس کارٹون کے الفاظ میں تو کئی غلط بات دکھائی نہیں دی مگر اس میں دکھائی جانے والی بوتل کی شکل ان کی رائے میں نہایت ہی بالغانہ اور مردانہ تھی۔

Read more

مودی کو اماراتی ایوارڈ اور امت کا مفروضہ

ہمیں ایک طویل عرصے سے یہ بتایا جا رہا ہے کہ ہماری خارجہ پالیسی میں اولین اہمیت مسلم ممالک کو حاصل ہے۔ یہ پالیسی اس وقت تک درست تھی جب تک ہمیں انڈیا کے مقابلے میں عرب ممالک اور ایران کی غیر مشروط حمایت حاصل تھی۔ مگر سردار من موہن سنگھ کے انڈیا کو ایک بڑی معاشی طاقت بنانے کے بعد جب نریندر مودی نے خارجہ محاذ پر اس طاقت کا فائدہ اٹھانا شروع کیا تو یہ سب ممالک ہمیں چھوڑ کر انڈیا کے ساتھ ہو گئے۔ ابھی چند ہفتے پہلے انڈیا نے کشمیر کے زخم کو ہرا کیا ہے اور ادھر مسلسل کرفیو اور کریک ڈاؤن چل رہا ہے، اور ایسے میں امارات کی جانب سے مودی کو اپنا سب سے بڑا اعزاز دیا جانا اس زخم پر نمک چھڑکنے جیسا ہے۔

Read more

کیا وارث میر کا نام مٹانا حامد میر کے خلاف ردعمل ہے؟

آج سوشل میڈیا پر آگ لگی ہوئی ہے۔ لاہور میں پورے شہر کو آپس میں ملانے والی مرکزی سڑک نہر کے کنارے کنارے چلتی ہے اور اس پر بے شمار انڈر پاس بنے ہوئے ہیں۔ ان میں یونیورسٹی کے نیو کیمپس کے انڈر پاس کا نام ”وارث میر انڈر پاس“ رکھا گیا تھا۔ آج اچانک اس کا نام ”نیو کیمپس (کشمیر) انڈرپاس“ رکھ دیا گیا تو یہ کہا جانے لگا ہے کہ وزیراعظم نے حامد میر سے کوئی دشمنی نکالی ہے۔ ہماری رائے میں یہ بات غلط ہے۔

Read more

ایک چیونٹی اور بیوروکریسی

پرانے حکیموں کے بیان کردہ کئی قصے کہانیاں بہت دلچسپ ہوتے ہیں۔ بیوروکریسی اور کارکردگی کے بار ے میں کسی ولایتی حکیم نے ایک کہانی بیان کی ہے جسے حسب معمول ہم تحریف و تخریب کے ساتھ پیش کرتے ہیں۔

روایت ہے کہ ایک جنگل میں شیر چیف ایگزیکٹو تھا۔ ادھر ایک ننھی سی چیونٹی محنت مزدوری کیا کرتی تھی۔ صبح سویرے وہ ہنستی گاتی کام پر آتی اور فوراً کام پر لگ جاتی اور ڈھیر سا کام نمٹا دیتی۔ شیر یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ چیونٹی کسی قسم کی نگرانی اور راہنمائی کے بغیر اتنا زیادہ کام کر رہی ہے اور پیداوار کے ڈھیر لگائے کھڑی ہے حالانکہ اسے بہت واجبی سی تنخواہ ملتی تھی۔ اس نے سوچا کہ اگر چیونٹی کسی قسم کی نگرانی کے بغیر اتنا کام کر رہی ہے تو اس کے سر پر ایک سپروائزر مقرر کر دیا جائے تو پھر وہ کتنا زیادہ کام کرے گی۔

Read more

بھولے نے کیسے بدمعاش سے بدلہ لیا

بھولا ایک نہایت ہی معصوم سا نوجوان تھا۔ بھولپنے کے علاوہ جسمانی طور پر بھی کچھ کمزور واقع ہوا تھا۔ اس لئے اسے تنگ کرنے والے بہت تھے۔ کبھی کلاس کا مشرقی لڑکا اس کا منہ چڑا دیتا تو کبھی مغربی لڑکا اس کو ایک دھپ رسید کر دیتا۔ اور کچھ نہ ہو تو جنوبی لڑکا ہی اس کا لنچ کھا جاتا۔ بھولا کسی نہ کسی طریقے سے ان سے بدلہ لے لیتا۔ کبھی خود سامنے آئے بغیر کسی دوست کے ذریعے ان شریر لڑکوں کو پراکسی مار پڑوا دیتا کبھی ان کی سائیکل سے ہوا نکال دیتا۔

Read more

گیان کی شکتی اور شکتی کا گیان

کہتے ہیں کہ پرانے وقتوں میں چار دوست ہوا کرتے تھے۔ تین دوست نہایت پڑھے لکھے تھے۔ ایک جین مت کا گیانی تھا۔ دوسرا بدھ جوگی تھا۔ تیسرا ہندو اچاریہ تھا۔ تینوں پنڈتوں نے اپنے مذہب کی کتابوں، جاپوں اور منتروں میں کمال پایا تھا۔ اشلوک پڑھ کر کچھ کا کچھ کر دیتے تھے۔ لیکن دنیاوی معاملات میں ذرا بھگوان لوک تھے۔ ان کا چوتھا دوست نرا جاہل تھا۔ لیکن بہت بدھی مان تھا۔ عقل سلیم خوب رکھتا تھا۔ تو ہوا یہ کہ تینوں نے ایک دن یہ فیصلہ کیا کہ یہاں ہماری تو کوئی قدر کرتا نہیں ہے۔ ایسے علم کا کیا فائدہ جس سے مال دولت نہ ملے۔ ایسا کرتے ہیں کہ کسی بڑے شہر چلتے ہیں۔ وہاں راجے مہاراجے ہمیں ملیں گے تو ہمارا علم دیکھ کر دربار میں ہمیں اونچی جگہ دیں گے۔ جو کچھ ملے گا وہ آپس میں برابر تقسیم کر لیں گے۔ وہ سامان باندھ کر چلنے کو تیار ہوئے تو چوتھے نے کہا کہ میں بھی چلتا ہوں۔ یہاں تو میرا کچھ نہیں بنتا، بڑے شہر جا کر شاید میرا بھی کچھ بن جائے۔ دو ٹکڑے روٹی کے مل جائیں گے۔

Read more

اچھا ہوا ایک چور مار ڈالا، سب کا ٹائم آئے گا

کراچی سے خبر آئی ہے کہ ادھر درجن بھر نہایت ہی نیک دل لوگوں نے جو معاشرے میں کوئی برائی برداشت کرنے کے روادار نہیں ہیں، ایک بچے کو چور پا کر مار ڈالا۔ انہوں نے باقی تمام بچوں، بڑوں اور چوروں کو عبرت دلانے کے لئے اس قتل کی ویڈیو بھی سوشل میڈیا پر ڈال دی۔ اچھا ہوا چور مار ڈالا، سب چوروں کا ٹائم آئے گا، اب آپ زیادہ سے زیادہ یہ کہہ سکتے ہیں کہ ان کی نیت نیک تھی بس طریقہ غلط تھا۔ ورنہ ایسا کہنے کی بھی چنداں ضرورت نہیں ہے۔

ہمیں ویڈیو دیکھنے کا اتفاق نہیں ہوا کیونکہ طبعاً بزدل اور رقیق القلب ہونے کی وجہ سے ہم ایسی ویڈیوز نہیں دیکھتے۔ ہاں جنہوں نے دیکھی ہے وہ بتاتے ہیں کہ چور کو گرل سے باندھ کر ڈنڈوں سے مارا گیا۔ ایسا نہیں کہ ادھر سب ظالم اکٹھے ہو گئے تھے۔ ایک صاحب کے بارے میں بتایا جاتا تھا کہ وہ منع کرتے رہے کہ ڈنڈا سر پر مت مارو کہیں بچہ مر نہ جائے۔ بچے کی پینٹ اتارنے کا معاملہ ابھی تحقیق طلب ہے۔ شاید اگست کے احترام میں ایسا کیا گیا ہو۔ منٹو وغیرہ بتاتے ہیں کہ اگست 1947 میں شلوار پاجامہ اتارنے کے بعد ہی فیصلہ کیا جاتا تھا کہ بندہ نیک ہے یا واجب القتل۔ شاید یہ لوگ بھی ویسی ہی تحقیق کر رہے ہوں۔ بچہ واجب القتل نکلا۔

Read more

جنگ زدہ خونی لبرل اور امن کے داعی مجاہدینِ اکبر

پیارے بچو، تم جانتے ہی ہو کہ ہر غلط کام کے ذمہ دار خونی لبرل ہیں، نیز جیسے ہی زمانہ ہمیں غلط ثابت کرے ویسے ہی تاریخ کو نئے سرے سے لکھ کر خونی لبرلوں کو ان کے درست مقام پر پہنچا دینا چاہیے۔ جیسا کہ تحریک پاکستان کے دنوں میں ہم لکھتے تھے کہ پاکستان کے قیام کے خواہشمند احمقوں کی جنت میں رہتے ہیں اور انہیں دیکھو تو سارے لبرل، کمیونسٹ اور روشن خیال لوگ ہیں جو قیام پاکستان کی تحریک چلا رہے ہیں۔ جبکہ پاکستان کے قیام کے بعد تاریخ کو نئے سرے سے رقم کرتے ہوئے لکھا گیا کہ قیام پاکستان میں مرکزی کردار دائیں بازو کے مجاہد مولویوں نے ادا کیا تھا اور اس موقف کی حمایت کے لئے نظریہ پاکستان بھی ایجاد کر لیا گیا۔

بلکہ ایک بڑے مولانا نے تو اپنے خواب کی رو سے یہ ثابت بھی کر دیا کہ محمد علی جناح کو انبیا اور رسولوں نے پاکستان بنانے کے مشن پر مامور کیا تھا۔ اب کیونکہ ہمیں دوبارہ خبردار کیا گیا ہے کہ ہم احمقوں کی جنت میں نہ رہیں تو بہتر ہے کہ تاریخ کو دوبارہ رقم کر دیا جائے اور خونی لبرلوں کو دوبارہ درست مقام پر فائز کیا جائے۔

Read more

ہمیں احمقوں کی جنت سے کیوں نکالا جا رہا ہے؟

شاہ محمود قریشی صاحب نے فرمایا ہے کہ کشمیر کے معاملے میں قوم احمقوں کی جنت میں نہ رہے۔ یعنی سلیس اردو میں یہ فرمایا ہے کہ کشمیر پر ہماری طرف سے نا ہی سمجھو، ہم نہیں لڑیں گے۔ اب سوال یہ ہے کہ اگر نواز شریف نے یہی بات بیس برس پہلے کہہ کر واجپائی کو بلایا تھا کہ کشمیر کا حل صرف مذاکرات سے ممکن ہے تو کیا نواز شریف کی سمجھ میں بات موجودہ حکمرانوں سے بیس برس پہلے آ جاتی ہے؟ پراکسی تنظیموں کے معاملے میں نواز شریف کی سمجھ میں بات موجودہ حکمرانوں سے تین برس پہلے آ گئی تھی جب ڈان لیکس کیا گیا تھا۔

یہی معاملہ بے نظیر بھٹو کا تھا۔ جو بات انہیں کئی دہائیاں پہلے سمجھ آ گئی تھی اس پر انہیں سیکیورٹی رسک قرار دیا جاتا تھا۔ اب ان کی بات کو عقل کا پیمانہ مانا جا رہا ہے اور ان کے مخالف موقف رکھتے ہوئے کشمیر کا فوجی یا جہادی حل کرنے کے داعی احمقوں کی جنت کے باسی قرار پائے ہیں۔ کیا ان سیاسی لیڈروں کی سمجھ زیادہ تیز ہے ببلو؟

Read more

ببلو کا بیف بن گیا

ہمارے دو نونہال ہیں۔ برخوردار خان کو جانور بہت زیادہ پسند ہیں۔ اس کا خیال ہے کہ دنیا کا ہر جانور ہمیں پال لینا چاہیے۔ بکرا عید پر وہ بچپن سے ہی پرجوش ہو جاتا تھا۔ اس وقت تک کاغذ کی بوٹیاں بناتا رہتا تھا جب تک بکرے کی بوٹیاں بننے کا عمل ختم نہیں ہو جاتا تھا۔ مگر اسے جانور پالنے کا شوق تو ہے، رکھنے کا نہیں۔ اور وہ جلدی جلدی ماڈل تبدیل کرنا چاہتا ہے۔ ایسے میں عید پر اسے موقع ملتا ہے کہ جانور کو دو چار دن رکھ کر ایک بہترین انداز میں فارغ کر دے یعنی اس کے تکے کباب بنا ڈالے جس میں ایک دن کا موج میلہ مزید مل جاتا ہے۔

Read more

قربانی کے جانوروں پر ٹیکس کی ایک نئی تجویز

ہماری رائے میں حکومت کو نہ صرف قربانی کے جانوروں پر ٹیکس لینا چاہیے بلکہ اس طبقے کو بھی نظرانداز نہیں کرنا چاہیے جو ٹیکس سے بچنے کے لئے قربانی نہیں کرتا مگر عید پر گوشت کھا کھا کر خوب عیاشی کرتا ہے۔ لوگ اب قربانی کو بھی ہر سال حج کرنے اور رمضان حجاز مقدس میں گزارنے کی طرح سٹیٹس سمبل بنا چکے ہیں۔ پانچ دس لاکھ یا اس سے بھی زیادہ قیمت کا جانور خرید کر کروفر دکھاتے ہیں کہ ہم بہت امیر ہیں۔ ان پر ٹیکس لگانا لازم ہے۔

قومی خزانہ مزید بھرنے کے لئے ایک طریقہ تو ہے یہ کہ ہر جانور خریدنے کے علاوہ ہر بوٹی کھانے پر بھی ٹیکس لگا دیا جائے۔ ہر بوٹی کھانے پر پانچ روپے ٹیکس لگانے کی تجویز دی جاتی ہے۔

Read more

وزیراعظم اپوزیشن کو یکجا کرنے میں مصروف ہیں

مکار مودی نے کشمیر کا سپیشل سٹیٹس ختم کر کے اسے ہڑپ کرنے کی کوشش کی تو اس پر بجا طور پر ہمارے وزیراعظم بھنا اٹھے۔ انہوں نے ترنت قومی اسمبلی کا مشترکہ اجلاس بلایا اور اس میں تقریر بھی کی۔ بدقسمتی سے حالات اتنے برے ہیں کہ وہ اپنی بے پناہ مصروفیات کے سبب دوسروں کی تقریریں نہیں سن سکے بس اپنی ہی سنا کر چلے گئے۔ بہرحال انہوں نے قومی یکجہتی کی ضرورت پر بہت زور دیا اور کہا کہ مودی کے کشمیر پر غیر قانونی حملے کے موقعے پر قوم کو یکجا کرنا چاہیے۔

دیکھیں وزیراعظم نے ٹھیک تو کہا ہے کہ مودی کے کشمیر پر حملے کے موقعے پر قوم کو یکجہتی دکھانی چاہیے۔ ہمارے وزیراعظم صرف گفتار کے غازی نہیں ہیں بلکہ کردار کے غازی بھی ہیں۔ اس وقت وہ اپوزیشن کے بڑے لیڈروں کو ایک جگہ یکجا کرنے میں مصروف ہیں۔ بجائے اس بات کے کہ وزیراعظم کی تعریف کی جائے انہیں الٹی سیدھی باتیں سنائی جا رہی ہیں۔ آخر یہ جیل پاکستان میں ہی ہے، دہلی میں تو نہیں ہے۔ پھر شور کیوں؟

Read more

ہلاکو خان، بغداد کے کوے اور اسمبلی کا اجلاس

روایت ہے کہ ہلاکو خان نے جب بغداد پر فیصلہ کن حملہ کیا تو اہل علم اس اہم ایمانی مسئلے پر باہم دست و گریباں تھے کہ کوا حلال ہے یا نہیں۔ اس سے کلام نہیں کہ روایت سچ ہے یا نہیں لیکن سبق آموز ضرور ہے کہ یقینی تباہی دیکھتے ہوئے بھی غیر اہم سے معاملے پر آپس میں لڑائی بھڑائی جاری تھی۔ ہاں یہ تسلیم کہ ہم دنیا داروں کی نظر میں ہلاکو خان کی بہ نسبت یہ کوا غیر اہم تھا، دوسری دنیا پر گہری نگاہ رکھنے والے علما حضرات کی نگاہ میں یہ کوا ہلاکو خان سے زیادہ اہم ہو سکتا ہے۔ بہرحال ہلاکو آیا۔ سب کو مارا۔ بغداد میں بس کوا ہی زندہ بچا۔

Read more

کہیں کشمیر کا مسئلہ حل تو نہیں کیا جا رہا ہے؟

بی جے پی کی حکومت نے بھارتی آئین میں کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کر دی ہے۔ اب غیر کشمیری بھی ریاست میں سیٹل ہو سکیں گے اور اس کی آبادی کا تناسب ویسے ہی تبدیل کیا جا سکے گا جیسا اسرائیل نے فلسطین میں کیا ہے۔ بھارت سے الحاق کے حامی کشمیری سیاست دان بھی اس فیصلے پر شدید ناراض ہو چکے ہیں۔

محبوبہ مفتی نے ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ”آج کا دن بھارتی جمہوریت کے لئے سیاہ ترین دن ہے۔ جموں اور کشمیر کی لیڈر شپ کا 1947 میں دو قومی نظریے کو مسترد کرنے اور انڈیا کے ساتھ جانے کا فیصلہ الٹا گلے پڑ گیا ہے۔

Read more

عالم فاضل دکھائی دینے کا ایک آزمودہ نسخہ

لوگ کسی وجہ سے آپ کو خوب پڑھا لکھا آدمی سمجھنے لگے ہیں تو اپنا رعب قائم رکھنے کو ایک گر کی بات یاد رکھیں۔ جب کسی کتاب کا ذکر ہو تو بے نیازی سے کہا کریں کہ ”ہاں نظر سے گزری ہے“۔ یہ وضاحت کرنے کی چنداں ضرورت نہیں ہے کہ وہ کسی کتابوں کی دکان میں شیلف میں رکھی تھی جب آپ کی نظر سے گزری تھی۔

اس سے لوگوں پر خوب رعب پڑتا ہے کہ جس کتاب کا بھی پوچھیں وہ آپ نے پڑھ رکھی ہے۔ اس طرح وہ آپ کو الٹی سیدھی باتیں اس کتاب سے منسوب کر کے بھی نہیں سنا سکتے کیونکہ بیشتر صورتوں میں متعلقہ کتاب ان کی نظر سے بھی صرف گزری ہوتی ہے اور انہیں یہ خوف ستاتا ہے کہ انہوں نے کتاب کے متعلق کوئی غلط بات کی تو آپ جھٹ پکڑ لیں گے۔

Read more

ایک معصوم پاکستانی نے گاڑی کا ٹوکن ٹیکس جمع کروایا

گزشتہ دنوں ہم نے گاڑی کا ٹوکن ٹیکس جمع کروا دیا۔ بس یہ بہت سادہ سا ٹیکس جمع کروانے کے لئے بھی ٹاؤٹ کو سروس فیس دینی پڑی ہے۔ ہوا کچھ یوں کہ ہم نے اپنے آفس کے ایک اہلکار کو گاڑی کا ٹوکن ٹیکس جمع کروانے بھیجا۔ گزشتہ ٹوکن پنجاب کے مرکزی ڈاکخانے جی پی او میں جمع کروائے تھے۔ وہ فرمانے لگے کہ آپ چونکہ انکم ٹیکس فائلر ہیں تو ایکسائز والوں کے پاس جمع کروائیں ورنہ فلاں فلاں کاغذات لائیں۔ ہمارے انکم ٹیکس فائلر ہونے کے باوجود وہ پہلے جمع کرتے رہے تھے۔ غالباً پانچ چھے سال پہلے صرف ایک مرتبہ اپنا ٹیکس سرٹیفیکیٹ وغیرہ دینا پڑا تھا جب پہلی مرتبہ یہ فائلر اور نان فائلر کے ریٹ کا فرق پڑا تھا۔

Read more

سینیٹ میں نواز شریف اور زرداری کی بہترین چال اور ایک لطیفہ

آپ میں سے بہت سے لوگ حیران ہو رہے ہوں گے کہ نواز شریف اور آصف زرداری جیسے گھاگ سیاست دانوں نے یہ کیا حماقت کی ہے۔ محض عددی قوت کے زعم میں آ کر انہوں نے چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کے خلاف تحریک عدم اعتماد جمع کروا دی۔ کیا انہیں یہ معلوم نہیں تھا کہ طلسم ہوشربا میں لشکر کی تعداد کا اتنا اثر نہیں ہوتا جتنا جادو کا ہوا کرتا ہے۔ کوئی بھی طاقتور ساحر ایک ناریل پھوڑتا ہے یا مونگ کی کالی دال جسم پر ملتا ہے اور اکیلا ہی لاکھوں کے لشکر کو دیوانہ بنا ڈالتا ہے۔

Read more

کپتان نے پھر ثابت کر دیا کہ اپوزیشن کرپٹ ہے

کپتان پچھلے بائیس برس سے قوم کو بتا رہا ہے کہ اس کے تمام مخالف کرپٹ ہیں۔ بدقسمتی سے بیشتر لوگ اس بات کا یقین ہی نہیں کر رہے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ کپتان کو گزشتہ انتخابات میں صرف 32 فیصد ووٹ ملے۔ کپتان نے پہلے تو قانونی طریقہ استعمال کرتے ہوئے نواز شریف اور آصف زرداری اور اپوزیشن کے بہت سے لوگوں کو سزا دلوائی مگر بدقسمتی سے لوگوں کی اکثریت کو یہ یقین ہی نہیں آیا کہ اپوزیشن کرپٹ ہے۔ وہ یہی سمجھتے رہے کہ کپتان صرف ذاتی بدلے لے رہا ہے۔ ایسے میں کپتان نے ایسا پتا کھیلا کہ اب اپوزیشن بوکھلا گئی ہے۔

Read more

عرفان صدیقی پر مہلک اسلحے کی ملکیت کا پرچہ ہی ڈال دیتے

عرفان صدیقی صاحب کو کرایہ نامہ پولیس کے پاس درج نہ کروانے کے جرم پر گرفتار کر کے جیل بھیج دیا ہے۔ پولیس عموماً کام میں ناک تک ڈوبی ہوتی ہے بلکہ بسا اوقات ناک کیا دماغ بھی ڈوب جاتا ہے۔ اسی وجہ سے اسے خیال ہی نہیں رہا کہ جس مکان اور کرائے نامے پر عرفان صدیقی صاحب کے خلاف مقدمہ بنایا جا رہا ہے وہ دونوں تو ان کے نام پر ہی نہیں ہیں۔ مکان اور کرائے نامے دونوں پر ان کے بیٹے عمران خاور صدیقی کا نام درج ہے۔ ہاں یہ بات ضرور تسلیم کرنی پڑے گی کہ کرائے نامے پر ایک جگہ عرفان صدیقی صاحب کا نام درج ہے۔ واضح طور پر لکھا گیا ہے کہ یہ کرایہ نامی عمران خاور صدیقی ولد عرفان الحق صدیقی کے نام پر ہے۔ غالباً پولیس نے یہ سوچا ہو گا کہ مالک مکان نہ سہی مالک مکان کے باپ کو ہی پکڑ لو۔ ویسے تو محاورے اور روایتی طریقہ تفتیش کے مطابق پولیس مالک مکان کی ماں کو پکڑتی ہے مگر اس مرتبہ اس نے رعایت کر دی۔

Read more

نواز شریف کے پاس سے اے سی نہیں پیسے نکلوائیں

ہمارے محبوب وزیراعظم عمران خان نے امریکہ میں فرمایا کہ وطن واپس آتے ہی وہ نواز شریف اور آصف زرداری وغیرہ جیسے کرپٹ لوگوں کی جیل کی کھولی سے اے سی نکال لیں گے۔ نواز شریف کے حامی سمجھے ہوں گے کہ یہ بھی ویسا ہی سیاسی بیان ہے جیسا ساہیوال کے سانحے پر عمران خان نے دیا تھا کہ وہ قطر سے واپس آتے ہی انصاف فراہم کر دیں گے۔ یہی غلط فہمی انہیں لے ڈوبی۔ سچ مچ نواز شریف کی کھولی سے اے سی اور ٹی وی نکال لیا گیا۔

Read more

عمران خان کا امریکی دورہ ایک بڑی کامیابی

عمران خان کے امریکی دورے سے بہت زیادہ توقعات وابستہ نہیں تھیں۔ جب یہ خبریں آنے لگیں کہ اس دورے کی دعوت شہزادہ محمد بن سلمان کے توسط سے لی گئی ہے تو توقعات مزید کم ہو گئیں۔ مگر جس طرح امریکی صدر ڈانلڈ ٹرمپ نے مسئلہ کشمیر کی ثالثی کی پیش کش کی ہے، بلکہ یہ کہہ کر نریندر مودی کو شدید مشکل میں مبتلا کر دیا ہے کہ ثالثی کی یہ خواہش نریندر مودی کی جانب سے ظاہر کی گئی ہے، اس کے بعد صورت حال مختلف دکھائی دے رہی ہے۔ باقی کسر صدر ٹرمپ نے نئے پاکستان کے واری صدقے جا کر پوری کر دی ہے۔

Read more

کپتان کی امریکہ میں مقبولیت سے ٹرمپ پر لرزہ طاری

کل رات کپتان کا امریکی سرزمین پر بہت کامیاب شو رہا۔ یہ کسی پاکستانی وزیراعظم کا امریکی سرزمین پر پہلا عوامی جلسہ تھا جو واشنگٹن میں کیپٹل ون ایرینا میں ہوا۔ اس ایرینا میں 20 ہزار افراد کی گنجائش ہے اور شو ایسا ہاؤس فل تھا کہ منتظمین کے مطابق بہت سے لوگ داخل نہ ہو سکے اور باہر سکرینوں پر جلسہ دیکھتے رہے۔ امریکہ جیسے مصروف ملک میں بیس ہزار لوگوں کا جمع ہونا مذاق نہیں ہے۔ اس لئے جلسے کو بہت کامیاب گردانا جائے گا۔

Read more

درویش کپتان کا امریکہ میں رعب اور خوفزدہ امریکی

ہمارے محبوب وزیراعظم امریکہ گئے تو امریکی انتظامیہ کے ہاتھ پاؤں پھول گئے۔ تاریخ میں پہلی مرتبہ ایسا ہوا ہے کہ ایک ایسا پاکستانی حکمران امریکہ گیا ہے جسے نہ تو خریدا جا سکتا ہے اور نہ ڈرایا جا سکتا ہے۔ کپتان اپنی ٹرمز پر دوسروں سے بات کرتا ہے۔ بے خوف ایسا کہ سعودی شاہ سے بھی ملے تو سر اٹھا کر اور انگلی تان کر بات کرے اور پروٹوکول ایسے ٹھکرانے والا کہ دنیا کے دو درجن طاقتور ممالک کے سربراہان آ رہے ہوں اور سارا ہال پروٹوکول کے نام پر ان کی خوشامد کرنے کے لئے کھڑا ہو تو کپتان اپنا مقام واضح کرنے کو بے نیازی سے بیٹھا رہے۔

Read more

گبر اور ٹیکس دینے سے انکاری تاجر

حکومت ڈنڈے کے زور پر ہماری غیر تحریری معیشت کو یکلخت ضابطہ تحریر میں لانے کی کوشش کر رہی ہے اور تاجر ملک گیر ہڑتالیں کر کے اسے ناکام بنانے پر تلے ہوئے ہیں۔ اس سے پہلے جنرل پرویز مشرف بھی یہ کوشش کر چکے ہیں مگر جب ملک کی معیشت اچانک جامد ہو گئی اور سرمایہ دار ملک سے بھاگ کر کینیڈا، دبئی اور بنگلہ دیش وغیرہ میں اپنا کاروبار منتقل کرنے لگا تو پھر جنرل مشرف نے اپنی مہم ترک کی۔ گبر سنگھ کے انداز میں حکومت ایک دو مرتبہ تو ٹیکس وصول کر سکتی ہے، مگر نتیجہ یہ ہو گا کہ سرمایہ دار کسی ایسے ملک کا رخ کرے گا جہاں گبر سنگھ نہ ہو خواہ ٹیکس کی شرح زیادہ ہی کیوں نہ ہو۔ اس کا نتیجہ معیشت کی تباہی کی صورت میں نکلے گا۔

Read more

کیا وزیراعظم عمران خان کو امریکہ میں گرفتار کیا جا سکتا ہے؟

گزشتہ چند دنوں سے آپ سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ دیکھ رہے ہوں گے جس میں دعوی کیا گیا ہے کہ وزیراعظم عمران خان اس وجہ سے کسی ہوٹل کی بجائے پاکستانی سفیر کی رہائش گاہ میں رہیں گے کیونکہ انہیں سیتا وائٹ کیس میں گرفتار کیا جا سکتا ہے۔ آئیے دیکھتے ہیں کہ عالمی اور امریکی قانون کے تحت وزیراعظم کی گرفتاری کا کیا امکان ہے۔ پہلے ہم سوشل میڈیا کی متعلقہ پوسٹ پڑھتے ہیں۔

Read more

جج ارشد ملک ہماری درخشاں عدالتی تاریخ میں امر ہو چکے ہیں

جج ارشد ملک کے حوصلے اور جرات کی جتنی تعریف کی جائے وہ کم ہے۔ ان کا حلف نامہ پڑھ کر علم ہوا کہ بری طرح سے بلیک میل ہونے اور شریف خاندان کی انگلیوں کے اشاروں پر ناچنے کے باوجود رشوت کی پیش کش کو نظرانداز کرتے ہوئے جس طرح انہوں نے میرٹ پر بے خوف و خطر انصاف کیا ہے وہ کسی فانی انسان کے بس کی بات نہیں لگتا۔ پاکستانی عدلیہ کی درخشاں تاریخ میں انہوں نے خود کو امر کر لیا ہے۔

Read more

شادی سے پہلے محبت، یاسر اور اقرا کا بوسہ اور ہمارا کلچر

گزشتہ دنوں لکس سٹائل ایوارڈ کی تقریب میں قوم یہ دیکھ کر دم بخود رہ گئی کہ یاسر حسین نے اقرا عزیز کو پروپوز کیا اور کھڑے گھاٹ ہی نچوڑ ڈالا۔ قوم منتظر رہی کہ اس کے بعد لائیو ٹرانسمیشن میں مزید کیا اقدامات اٹھائے جاتے ہیں اور معاملات کس نہج کو پہنچتے ہیں مگر شکر ہے کہ معاملہ زیادہ عیاں نہیں ہوا اور پردہ پڑا رہ گیا۔ اس پر بجا طور پر احتجاج کیا گیا کہ شادی سے پہلے محبت کرنا ہمارا کلچر نہیں ہے۔ اس بات سے تو ہر ذی شعور مرد اتفاق کرے گا کہ شادی سے پہلے لڑکی کا محبت کرنا ہمارا کلچر نہیں ہے۔ ہاں بعض قوی شواہد موجود ہیں کہ شادی کے بعد محبت کرنا ہمارا کلچر ہے۔ مزید تفصیل کے لئے ہمارے کلچر کی عظیم رومانی داستانوں قصہ ہیر رانجھا اور سوہنی مہینوال سے رجوع کریں۔

Read more

ویڈیو کا شر اور ہمارے سابق محبوب چیف جسٹس ثاقب نثار کی فکر

عزت مآب جج ارشد ملک کے بارے میں مریم نواز کی پریس کانفرنس دیکھ کر دل کچھ پریشان ہوا تھا، شکر ہے کہ جج صاحب نے بتا دیا کہ ویڈیو سیاق و سباق کے بغیر ہے اور اس وجہ سے جعلی ہے۔ لیکن یہ دیکھ کر ایک نئی پریشانی نے آن گھیرا۔ یہ سلسلہ چل نکلا ہے تو کسی ایک ہستی پر تو رکے گا نہیں۔ دبے دبے الفاظ میں کسی بڑے آدمی کا ذکر آ رہا ہے۔ باقی بڑے لوگوں کے ساتھ چاہے جو بھی ہو ہمیں فکر صرف سابق محبوب چیف جسٹس ثاقب نثار کی ہے کہ وہ کسی سازش سے بچ جائیں۔ سنا ہے کہ ادھر ولایت میں ہیں۔ ولایت میں الٹے سیدھے مشروبات اور پکی سگریٹیں وغیرہ عام دستیاب ہیں اور اسرائیلی ایجنٹ بھی ہر گلی کوچے میں پھرتے رہتے ہیں۔ چیف صاحب بہک نہ جائیں کہیں اور انہیں بدنام کرنے کی خاطر سیاق و سباق کے بغیر بنائی گئی کوئی نئی جعلی ویڈیو نہ آ جائے۔

Read more

جج صاحب اور میرا جی کی جعلی ویڈیوز کی مذمت میں چند الفاظ

مریم نواز نے کل نون لیگ کی قیادت کے ساتھ مل کر ایک ویڈیو ریلیز کی اور الزام لگایا کہ یہ احتساب عدالت نمبر دو کے جج عالی مقام ارشد ملک صاحب کی ویڈیو ہے۔ اس ویڈیو میں جج صاحب سے یہ باتیں منسوب کی گئی ہیں کہ نواز شریف کے خلاف کوئی پیسہ یا کک بیک لینے کا ثبوت نہیں ملا، نہ کوئی الزام ہے نہ شہادت۔ حسین نواز نان ریزیڈنٹ پاکستانی ہے۔ کوئی ثبوت نہیں کہ ایک پیسہ بھی پاکستان سے لے جایا گیا ہو۔ کسی دو چار منٹ کی ویڈیو کا ذکر ہے اور جینے میں دشواری اور خودکشی وغیرہ کا۔ کچھ وائلن کی ٹیوننگ کر کے اپنی مرضی کی آوازیں نکالنے کی تراکیب بیان کی گئی ہیں۔

قوم پریشان ہوئی پھر رہی تھی کہ شکر ہے اتوار کے دن عالی مقام جج ارشد ملک صاحب نے احتساب عدالت نمبر دو میں جا کر میڈیا کو پریس ریلیز جاری کر دی اور دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی کرتے ہوئے مریم نواز کے دعووں کی قلعی کھول دی۔

Read more

جب ہمیں علیم خان کے نام پر یرغمال بنایا گیا

بات کہنے کو معمولی تھی مگر جب بدمعاشی کا سودا سر میں سمایا ہو تو معمولی باتوں پر ہی بدمعاشی دکھائی جاتی ہے۔ اس لئے یہی بدمعاشی دکھائے ہوئے گزشتہ روز ہمیں دو بچوں اور ڈرائیور سمیت تقریباً ڈیڑھ گھنٹے کے لئے یرغمال بنایا گیا اور رقم کا مطالبہ کیا جاتا رہا۔ ایسا کرنے والے شخص کا دعوی ہے کہ وہ علیم خان کے لئے کام کرتا ہے۔

Read more

رانا ثنا اللہ پر بھینس چوری کا مقدمہ

رانا ثنا اللہ کو کل موٹروے پر سفر کرتے وقت اینٹی نارکوٹکس فورس نے گرفتار کر لیا۔ ظاہر ہے کہ پوری تیاری سے اور بہترین مخبری سے یہ آپریشن کیا گیا، اسی لئے اینٹی نارکوٹکس فورس کو پتہ تھا کہ رانا ثنا اللہ اس وقت کہاں ہیں اور کیا کر رہے ہیں۔ نتیجہ یہ کہ پندرہ کلو ہیروئن ان کی گاڑی سے برآمد کر لی گئی۔ لیکن یہ معاملہ اتنا سادہ نہیں ہے۔

روزنامہ 92 کی خبر سے یہ پتہ چلا ہے کہ یہ ایک بہت بڑا گروہ تھا جس کے لئے رانا ثنا اللہ کام کر رہے تھے۔ اب ظاہر ہے کہ جو منشیات فروش گروپ معمولی اچکوں کی بجائے ایک سابق صوبائی وزیر جو ایک بڑی جماعت کا صوبائی صدر بھی ہے، کو منشیات کی نقل و حمل کے لئے کیرئیر کے طور پر استعمال کرتا ہو وہ واقعی بہت بڑا اور با اثر ہو گا۔ خبر سے ہمارے اس گمان کی تصدیق بھی ہو گئی۔ یہ کوئی چھوٹا موٹا معاملہ نہیں ہے بلکہ ایک عالمی مافیا کا معاملہ ہے۔

Read more

اپوزیشن کا اجڑا میلہ اور حکومت کی فتوحات

لوگ مہنگائی اور بے روزگاری سے تنگ ہیں۔ بجلی، گیس اور پیٹرول کا کیا ذکر بہت سوں کو تو کھانے پینے کے لالے پڑ گئے ہیں۔ لیکن اس کے باوجود حکومت مستحکم ہے۔ اس نے اپنے پہلے وزیر خزانہ کے وعدے کو پورا کرتے ہوئے عوام کی چیخیں نکلوا دی ہیں۔ دور دور تک بہتری کے آثار دکھائی نہیں دے رہے ہیں۔

عام طور پر جب ایسا ہو تو حکومت غیر مقبول ہوتی ہے اور اپوزیشن کی پتنگ چڑھ جاتی ہے۔ لیکن اس مرتبہ ایسا ہوا کہ حکومت تو بے فکر ہو کر شغل لگانے میں مصروف ہے لیکن اپوزیشن حواس باختہ دکھائی دے رہی ہے۔ میاں نواز شریف اندر ہیں، مریم نواز چپ ہیں، آصف زرداری گرفتار ہو چکے ہیں، اور ان کی پارٹیاں دبکی بیٹھی ہیں۔

Read more

آئین تو زندوں کے لیے ہوا کرتا ہے

تھامس جیفرسن فرماتے ہیں کہ ”ہمارے خالق نے یہ دنیا زندہ لوگوں کے رہنے کے لیے بنائی ہے، مردوں کے لیے نہیں۔ یہ بات درست نہیں ہے کہ جو موجود ہیں اس پر کوئی حق نہیں رکھتے ہیں، اس پر کوئی اختیار یا طاقت نہیں رکھتے ہیں، کہ ایک نسل انسانی دوسری کے لیے یہ حق باطل کر دے یا اسے کسی بوجھ کے تلے دبا دے جبکہ نئی نسل خود بھی خدا کے احسان سے یہ حق رکھتی ہو۔ کوئی بھی پہلی نسل کسی بعد میں آنے والی نسل کو اپنے بنائے ہوئے معاہدے میں نہیں جکڑ سکتی ہے۔ لوگ اپنے اصول اپنی موجودہ نسل کی اکثریت سے اخذ کرتے ہیں، اور جب یہ اکثریت گزر جاتی ہے تو ایک نئی نسل اس کی جگہ آ جاتی ہے جو کہ اسی پرانی نسل کے برابر اختیار رکھتی ہے کہ اپنے لیے قانون اور اصول بنائے۔ “

”یہ دنیا اور جو کچھ بھی اس پر ہے، اس کے موجودہ باشندوں کی ملکیت ہے۔ صرف وہی یہ حق رکھتے ہیں کہ فیصلہ کریں کہ انہوں نے اپنے مسائل سے کیسے نمٹنا ہے۔ اور یہ فیصلہ ان کی اکثریت کرتی ہے۔ حکومت کرنے کا یہ طریقہ نقائص سے مکمل طور پر پاک نہیں ہے، لیکن اقلیت کی جانب سے کی گئی فیصلہ سازی، یا پھر ایک ہی شخص کی حکومت اس طریقے سے کہیں زیادہ خراب ہیں اور وہ ایک بڑی برائی کا منبع ہیں۔ انصاف کے تقاضے پورے کرنے کے لیے، اکثریت کے فیصلے کسی ایک طبقے کی بجائے سب افراد کے بہترین مفاد میں ہونے چاہئیں۔ “

Read more

امیر دشمن، صحت دوست بجٹ پیش کر دیا گیا

آج پاکستان کی تاریخ کا سب سے بہترین بجٹ پیش کر دیا گیا ہے جو غریبوں کی مشکلات میں اضافہ نہیں کرے گا بلکہ امیر افراد سے پیسہ نکلوائے گا۔ اس کے علاوہ اس بجٹ کا ایک بڑا مقصد لوگوں کی صحت کو بہتر کرنا ہے۔ لیکن مزید تفصیل میں جانے سے پہلے ہم یہ طے کر لیں کہ امیر کون ہے اور غریب کون۔ خوش قسمتی سے بجٹ میں یہ بتا دیا گیا ہے اور ہمیں اپنا قیمتی دماغ خرچ کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔

بجٹ میں بتایا گیا ہے کہ ”چکن، مٹن، بیف اور مچھلی کے گوشت کی سیمی پراسیسڈ اور پکی ہوئی اشیا کی کھپت میں کافی اضافہ دیکھا گیا ہے۔ یہ اشیا عمومی طور پر خوشحال افراد کے استعمال میں آتی ہیں۔ تجویز ہے کہ ان اشیا پر 17 فیصد سیلز ٹیکس لاگو کیا جائے“۔ یعنی اب یہ تعین کرنا آسان ہو گیا ہے کہ جو شخص بھی پکی ہوئی مرغی، بکرا، گائے بھینس یا مچھلی کھاتا ہے وہ امیر ہے اور جو انہیں کچا ہی کھا جاتا ہے وہ غریب ہے۔ اسی وجہ سے گیس پر درآمدی ٹیکس کو بڑھایا گیا ہے۔ امیر آدمی ہی کھانے کو پکا کر کھاتا ہے۔ غریب تو کچا ہی کھاتے ہیں۔ یوں گیس مہنگی ہونے سے غریب متاثر نہیں ہو گا۔

Read more

معیشت کے بعد اب بینک بھی ڈبو دیں

وزیراعظم نے آج صبح قوم سے خطاب کی ریکارڈنگ نشر کی ہے۔ وزیراعظم نے قوم کے نام اپنے پیغام میں کہا کہ پاکستانیوں کے بینک اکاؤنٹس کی معلومات آرہی ہیں جو پہلے کبھی کسی حکومت کے پاس نہیں تھی۔ وزیراعظم نے کہا کہ عوام سے کہتا ہوں کہ جن کا پیسہ باہر پڑا ہوا ہے وہ 30 جون تک اثاثے ظاہر کرنے کی اسکیم میں شریک ہوں اور اس سے فائدہ اٹھائیں اس کے بعد انہیں موقع نہیں ملے گا۔

ہماری قوم ٹیکس دینے والی قوم نہیں ہے۔ اب 5 لاکھ سے زیادہ بیلنس والے اکاؤنٹ کو ٹیکس وصول کرنے کے لیے مارک کیا جائے گا تو کیا ہو گا؟ صرف ملازمت پیشہ غریب غربا مہینے کے شروع میں کچھ رقم جمع کروائیں گے جو مہینے کے آخر تک ختم ہو جایا کرے گی۔ کاروباری حضرات تو پہلے ہی پرچی اور کیش پر اپنا کاروبار منتقل کر رہے تھے۔ اب بچت بھی لاکر میں اور سونے کی شکل میں رکھی جائے گی۔ باقی معیشت تو 6.2 فیصد کے ہدف سے ترقی کرنے کی بجائے 3.3 فیصد رہی تھی، مگر بینکنگ سیکٹر کچھ سانس لے رہا تھا۔ اب اس کی بھی انا للہ پڑھ لیں۔ عوام اور سرمایہ داروں کو بینکوں سے دور بھگانے کا یہ بہترین نسخہ ہے۔

Read more

مودی کو بار بار خط لکھ کر منتیں کرنا شرمناک ہے

ہمارے وزیراعظم اقتدار میں آنے کے بعد سے مسلسل کوشش کر رہے ہیں کہ کسی طرح نریند مودی ان کے ساتھ مذاکرات کر لے۔ کبھی خط لکھتے ہیں۔ کبھی فون کرتے ہیں۔ کبھی ٹویٹ کرتے ہیں۔ پھر وہ لفٹ نہیں کراتا تو کڑھتے ہیں کہ چھوٹے عہدوں پر فائز ہو گئے ہیں۔ اور اس کے بعد دوبارہ خط لکھ کر امن مذاکرات کی دعوت دے دیتے ہیں۔

مودی کو بار بار خط لکھ کر منتیں کرنا شرمناک ہے اور ایک ایسے ملک کے باحمیت حکمران کو زیب نہیں دیتا جو عالم اسلام کی سب سے بڑی ایٹمی طاقت ہو۔ مودی ایسے اکڑ کر دکھا رہا ہے جیسے ہمیشہ جنگ وہ جیتتا رہا ہو اور ہم ہارتے رہے ہوں۔ حالانکہ تاریخ گواہ ہے کہ پاکستانی فاتحین نے نریندر مودی کے بھارت کو ہمیشہ شکست دی ہے۔

Read more

کبھی کبھی بلاوجہ ہی نیکی کر دینی چاہیے

کئی چھوٹے چھوٹے سے بظاہر غیر اہم واقعات ذہن پر ہمیشہ کے لئے نقش ہو جاتے ہیں۔ اگر میں آپ کو یہ بتاؤں کہ ایک مرتبہ میں نے ایک شخص کو جوس کا ایک ڈبہ اور ایک کیک پیس خرید کر دیا تھا اور یہ بات بیس بائیس سال بعد بھی مجھے یاد ہے تو آپ کو کیسا لگے گا؟ لیکن اس زمانے میں خرچ کیے گئے یہ آٹھ دس روپے یاد رکھنے کی ایک وجہ ہے۔ ایک شخص کے آنسو۔

Read more

عمران خان کے خلاف سازش کون کر رہا ہے؟

زرتاج گل۔ نعیم الحق۔ اور اب ایک اور بھی۔ اور پنجاب سے مزید ایک۔ پہلے تو ہمیں لگ رہا تھا کہ خدانخواستہ تحریک انصاف اقربا پروری کر رہی ہے۔ لیکن شکر ہے کہ محترمہ زرتاج گل نے وضاحت کر دی۔ نیکٹا کا موقف بھی سامنے آیا جس سے ہمیں علم ہوا کہ محترمہ زرتاج گل کی سفارش کو نیکٹا نے جوتے کی نوک پر رکھتے ہوئے مسترد کر دیا اور میرٹ پر شبنم گل کا تقرر کیا۔

Read more

اوئے تھانیدار، یہ تھانہ میں چلاؤں گا

فرض کریں کہ آپ کے علاقے میں جرائم بہت بڑھ گئے ہیں۔ بہت لوٹ مار ہونے لگی ہے۔ ایک طرف بدمعاش بھتہ لینے تو دوسری طرف ہر دو مہینے بعد آپ کا موبائل چھین لیا جاتا ہے۔ آپ مقامی تھانیدار کی نا اہلی پر شدید ناراض ہو جاتے ہیں۔ سیدھا تھانے کا رخ کرتے ہیں اور مولا جٹ کے انداز میں بڑھک لگاتے ہیں ”اوئے تھانیدار، یہ تھانہ میں چلاؤں گا“۔ اگر آپ کی قسمت اچھی ہے تو یہ بڑھک سن کر تھانیدار ہنسنے لگے گا۔ ورنہ آپ رونے لگیں گے۔ یہ حرکت کارِ سرکار میں بے جا مداخلت کہلاتی ہے۔

Read more

عامر خاکوانی کی والدہ محترمہ کا سانحہ ارتحال

محترم اور شفیق دوست، سینئیر صحافی اور ایک بہت اچھے انسان جناب عامر ہاشم خاکوانی کی والدہ کا انتقال ہو گیا ہے۔ ان کی تدفین ان کے آبائی شہر احمد پور شرقیہ میں ہو گی۔ وہ گزشتہ کچھ عرصے سے علیل تھیں اور گزشتہ کچھ عرصے سے شریف سٹی ہسپتال کے آئی سی یو میں داخل تھیں۔

Read more

رموز اوقاف کا استعمال

جملے کے اختتام کو ظاہر کرنے کے لئے رموز اوقاف (وقف کی علامات) میں سے کوئی ایک علامت، اور صرف ایک علامت استعمال کی جاتی ہے۔ ان علامتوں میں وقف (۔ فل سٹاپ)، استعجاب کا نشان (! ) یا سوالیہ نشان (؟) شامل ہیں۔ ان میں سے صرف ایک کو استعمال کیا جانا چاہیے۔ جملے کے اختتام پر ان میں سے اکٹھی دو تین مثلاً (۔ !) یا (۔ ؟) وغیرہ ڈالنا غلط ہے۔وجاہت مسعود صاحب ان علامات کے استعمال کی تفصیل کچھ یوں بیان کرتے ہیں:

Read more

صرف ملالہ ہی ورلڈ کپ جتا سکتی ہے

ملالہ نے ورلڈ کپ کی افتتاحی تقریب میں شرکت کی ہے۔ پاکستانی کٹ پہن کر اس نے ایسا بلا گھمایا ہے کہ دنیا بھر میں چھا گئی ہے۔ آئی سی سی نے نہایت شکر گزار ہو کر اپنی خوش بختی پر ناز کرتے ہوئے اپنے آفیشل اکاؤنٹ سے ٹویٹ کر ڈالی کہ ”ہم بہت پرجوش اور فرو تن ہیں کہ کل رات لندن میں کرکٹ ورلڈ کپ 2019 کی افتتاحی تقریب میں ملالہ ہمارے مہمانوں میں شامل ہوئی ہیں۔ “

ملالہ نے بتایا کہ وہ کرکٹ کی بہت بڑی فین ہیں اور اپنے بچپن میں بھائیوں کے ساتھ کرکٹ کھیلا کرتی تھیں۔ اب بھی وہ آکسفورڈ یونیورسٹی کی کرکٹ ٹیم میں کھیلتی ہیں۔ انہوں نے پاکستان کی نمائندگی کرتے ہوئے بیٹنگ بھی کی۔

Read more

مفتی منیب اور مفتی پوپلزئی چاند کے معاملے میں متفق ہو گئے

قوم کئی برس پریشان رہی، پھر اب گزشتہ کئی برس سے لطیفے بنا بنا کر ہنس رہی ہے، لیکن وطن عزیز میں عید رمضان کی خبر لانے والا پہلی تاریخ کا چاند مسلسل تین چار دن دکھائی دیتا رہا ہے۔ پشاور اور نواح میں وہ باقی ملک سے ایک دن پہلے مفتی شہاب الدین پوپلزئی کی غیر سرکاری رویت ہلال کمیٹی کو دکھائی دے جاتا ہے۔ ایک مرتبہ ادھر قبائلی علاقوں میں ان سے بھی ایک دن پہلے گواہوں نے دیکھ لیا تھا۔ عموماً یہ چاند افغانستان اور سعودی عرب میں بھی انہی تاریخوں میں دکھائی دیا کرتا ہے۔ جبکہ مفتی منیب کی سرکاری رویت ہلال کمیٹی والا چاند بھارت اور بنگلہ دیش کے ساتھ دکھائی دیا کرتا ہے۔ قوم پریشان تھی کہ مفتی منیب اور مفتی شہاب کب چاند پر متفق ہوں گے۔ شکر الحمدللہ اس عید پر وہ چاند کے معاملے میں متفق ہو گئے ہیں۔

Read more

سیاستدان بندہ گڑ سے مارتے ہیں

ہمارے لئے یہ بات ماننی مشکل ہے کہ سیاست دان ہی ملک و قوم کو جوڑ کر رکھ سکتے ہیں۔ ہمارے ذہن میں شروع سے یہ بیٹھا ہوا ہے کہ جب بھی کسی جگہ شورش برپا ہو تو ایک عظیم فاتح دگڑ دگڑ گھوڑے دوڑاتا ہوا آتا ہے اور باغیوں کی ایسی سرکوبی کرتا ہے کہ ان کے سروں کے مینار بنانے پڑ جاتے ہیں۔ روایت کے مطابق نادر شاہ درانی سے اس کے پسر عزیز کے نکاح کے وقت شجرہ طلب کیا گیا۔ یعنی کمال دیکھیں کہ شہنشاہ ہند نے بیٹی پہلے دی اور دولہا میاں کا حسب نسب بعد میں بوقت نکاح دیکھا۔ مقصد اسے خفیف کرنا تھا کہ دیکھو ہم صاحبقراں امیر تیمور گورگاں کی نسل سے ہیں، تم کیا ہو، گڈریے؟ اس پر نادر شاہ نے قلم کا جواب تلوار سے دیتے ہوئے اپنا شجرہ نادر شاہ درانی ابن شمشیر ابن شمشیر بیان کیا تو شہنشاہ ہند اور درباریوں کی تسلی ہو گئی۔

اب ہم یہ یقین کرنے لگے ہیں کہ جب بھی شادی بیاہ، سماجی بے چینی، یا کھانے میں نمک زیادہ پڑ جانے کا مسئلہ درپیش ہو تو اس کا حل تلوار یا اس کا لائسنس نہ ہونے کی صورت میں ڈنڈے سے نکالا جاتا ہے۔ جبکہ سیانے لوگوں کے نزدیک جنگ آخری مرحلہ ہوتی ہے جس سے ہر صورت بچنا چاہیے۔ اسی سے وہ مشہور یورپی ضرب المثل نکلی ہے کہ جنگ اتنا سنجیدہ معاملہ ہے کہ اسے جرنیلوں پر نہیں چھوڑا جا سکتا۔

Read more

کیا لڑکیاں اب ریاست سے بھی اپنی عزت بچائیں گی؟

عام آدمی کے لئے ریاست کا نمائندہ کون ہوتا ہے؟ اس کا انتظامی افسر۔ جب عام آدمی کو ریاست سے وہ تحفظ چاہیے ہوتا ہے جس کے وعدے پر ریاست قائم ہوئی ہے تو سب سے پہلے اسے پولیس دکھائی دیتی ہے۔ کوئی اس سے جان و مال چھیننے کی کوشش کرے تو وہ ریاست سے یہ توقع کرتا ہے کہ اسے پولیس کے ذریعے ریاست تحفظ دے گی۔ لیکن اگر پولیس ہی اس کی جان کی دشمن بن جائے تو پھر کیا ہو گا؟ اس سے بھی بڑھ کر اگر پولیس ایک جوان جوڑے کو جاتا دیکھے اور اسلحے کے زور پر لڑکی کو اغوا کر کے ریاست کی سرکاری گاڑی میں اس کا کئی گھنٹے تک گینگ ریپ کرے تو یہ عزت لڑکی کی لٹی ہے یا ریاست کی اپنی؟ کیا لڑکیاں اب ریاست سے بھی اپنی عزت بچائیں گی؟

کیا ریاست کی نظر میں ہر پاکستانی لڑکی اب ایک ایسی طوائف قرار پائی ہے جس سے زبردستی سیکس کرنے کے بعد اسے پیسے دے کر چپ کروا دیا جائے؟ مہذب ملکوں میں تو طوائف سے بھی زبردستی سیکس کرنے پر ریپ کا مقدمہ قائم ہوتا ہے، اور ادھر یہ حال ہے کہ ایک شریف لڑکی کی عزت لوٹ کر سرکاری اہلکار اسے پیسے دے رہے ہیں۔ بہرحال یہ بھی ان کی مہربانی ہے، ورنہ ایف آئی آر کے مطابق تو انہوں نے لڑکی کا ریپ کرنے کے بعد اس سے رقم اور زیورات بھی لوٹ لئے تھے۔

Read more

لبرل ازم، افسر کی نجی زندگی کا تحفظ اور سیکس

ان دنوں سوشل میڈیا پر یہ بحث چل رہی ہے کہ اگر کوئی مرد افسر اپنے دفتر میں کسی خاتون سے قربت اختیار کرے اور اس کی ویڈیو سامنے آ جائے تو کیا ویڈیو کو سامنے لانے کو غلط کہا جائے گا؟ کیا لبرل ازم کے اصولوں کے مطابق اس افسر کو اس بات کا حق حاصل نہیں ہے کہ اپنی نجی زندگی جیسے جی چاہے بسر کرے؟ دلیل یہ دی جاتی ہے کہ لبرل ازم افراد کی نجی رومانی زندگی کا تحفظ کرتا ہے اور اسے پبلک میں ڈسکس کرنا یا اس پر اعتراض کرنا لبرل نظریات کے مطابق غلط ہے۔

یہ معاملہ اس وقت تک نجی زندگی سے تعلق رکھتا ہے جب تک دونوں افراد راضی خوشی بغیر کسی دباؤ، دھمکی یا خوف کے ایسا کر رہے ہوں۔ ہم پاکستان کے تناظر میں ہی بات کرتے ہیں جہاں خواتین کو دفاتر میں جنسی ہراسانی سے بچانے کے لئے 2010 میں ایک قانون منظور ہوا تھا۔ یہ قانون اس لحاظ سے دلچسپ ہے کہ صرف خاتون ملازمین کو تحفظ دیتا ہے، سرکاری دفتر میں کسی کام سے جانے والی عام خواتین کو نہیں۔ بہرحال اس سے ہم جنسی ہراسانی کی تعریف اخذ کرتے ہیں۔

Read more

پاک لوگوں کی سرزمین پر قصور وار فرشتہ ہے

جب 15 مئی کی شام گل نبی تھانہ شہزاد ٹاؤن پہنچا تو اور رپورٹ درج کروانے کی کوشش کی کہ اس کا دس سالہ ننھا فرشتہ نہیں مل رہا تو تھانہ شہزاد ٹاون والوں نے اپنے بے پناہ وسیع تجربے کی روشنی میں اسے بتا دیا کہ آپ کی بیٹی کسی کے ساتھ بھاگ گئی ہو گی۔ ظاہر ہے کہ پاک لوگوں کی سرزمین پر اسلام آباد جیسے سیف سٹی میں بچوں کے ساتھ جرائم کہاں ہوتے ہیں۔ ویسے بھی فرشتہ دس برس کی تھی۔ پولیس والوں نے سوچا ہو گا کہ اس عمر میں عشق عاشقی کے چکر میں پڑنے کے علاوہ بچے کیا کرتے ہیں۔

خیر گل نبی نے زیادہ غل غپاڑا مچایا کہ اس کی بچی مر گئی تو وہ بھی خودکشی کر لے گا۔ پولیس کو اس طرح ایموشنل بلیک میل کرنا غلط بات ہے۔ غلام نبی کو سمجھنا چاہیے تھا کہ پولیس کو اس کی بچی کے بارے میں اس سے زیادہ علم ہے۔ وہ تو اس کی عزت بچانے کے لئے ہی کہہ رہے تھے کہ خواہ مخواہ محلے برادری میں وہ بدنام نہ ہو۔ بہرحال غلام نبی نے زیادہ ہی ضد کی تو پولیس نے لاچار ہو کر چار دن بعد مقدمہ درج کر لیا۔ ہم کوئی امریکہ کینیڈا کی طرح بے غیرت تھوڑی ہیں کہ بچے کی گمشدگی کی اطلاع ملتے ہی زمین آسمان ایک کر دیں اور یہ بھی نہ سوچیں کہ ملک کتنا بدنام ہو گا۔

Read more

ڈوبنے والا، پیٹ کی بیماری میں مرنے والا اور زچگی میں مرنے والی شہید ہیں

عام خیال یہ ہے کہ شہید صرف وہ ہوتا ہے جو اللہ کی راہ میں جنگ کرتا ہوا مارا جائے۔ صحابہ کرام کی بھی یہی رائے تھی کہ ”جو اللہ کے راستہ میں قتل کیا جائے وہ شہید ہے“۔ یہ سن کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ”ایسی صورت میں تو میری امت کے شہید کم ہوں گے“ اور اس کے بعد بتایا کہ شہید کون کون ہوتا ہے۔ مندرجہ ذیل احادیث مبارکہ صحاح ستہ سے لی گئی ہیں اور ان میں بتایا گیا گیا ہے کہ کون کون شہدا میں شامل ہوتا ہے۔

Read more

سارا تیل بھی نواز شریف اور زرداری چرا کر لے گئے ہیں

صحافی سہیل اقبال بھٹی نے خبر دی کہ کیکڑے میں تیل اور گیس کچھ نہیں ملا۔ وہ لکھتے ہیں کہ ”سات بجے جونہی بریک کی تو دوسری جانب وزیراعظم عمران خان نے براہ راست خطاب کے دوران میری خبر کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ قوم نوافل ادا کرے، ایک ہفتے تک رپورٹ تیار ہو جائے گی، تیل وگیس کا اتنا بڑا ذخیرہ مل سکتا ہے جو 50 سالوں کے لئے کافی ہوگا۔ “ دو تین گھنٹے بعد ہی وزیراعظم کے معاون خصوصی ندیم بابر نے خبر کی تصدیق کر دی۔

کیا واقعی پاکستان کی تاریخ کے باخبر ترین وزیراعظم اس بات سے بے خبر تھے جو ایک عام سے اخباری رپورٹر کے علم میں تھی؟ ایسا نہیں ہے۔ وزیراعظم کے پاس پکی خبر تھی کہ کیکڑا کی لوکیشن پر بے تحاشا تیل اور گیس موجود ہے اور یہ دنیا کی سب سے بڑی آئل فیلڈ ہے۔ پھر ہوا کیا؟ یہ تیل اور گیس کہاں گئے؟

Read more

جوان اولاد کے جنازے سے بڑھ کر بھلا اور کیا بھاری ہو سکتا ہے؟

سیاست میں ایسے لوگ کم ہیں جن کی عزت پارٹی لائن سے بالاتر ہو کر کی جاتی ہے۔ ان میں قمر زمان کائرہ، پرویز رشید، رضا ربانی اور افراسیاب خٹک سرفہرست ہیں۔ بات کرتے وقت ان کی زبان برے الفاظ سے آلودہ نہیں ہوتی۔ وہ بدترین مخالفین کا ذکر مہذب انداز میں کرتے ہیں۔ انہوں نے اپنی اپنی پارٹی کا برے بھلے ہر طرح کے حالات میں ساتھ دیا۔ وہ کبھی اقتدار کے لالچ میں لوٹے نہیں بنے۔ ان کی باتوں سے علم چھلکتا ہے۔ ان کی گفتگو سن کر پتہ چلتا ہے کہ مدبر کیسے بات کرتے ہیں۔ مہذب انداز میں اختلاف کیسے کیا جاتا ہے۔ نظریات پر کس استقامت سے قائم رہا جاتا ہے۔ جمہوریت سے ہٹنے کے لئے اقتدار کا لالچ دیا جاتا ہے تو اس لالچ کو کیسے ٹھکرایا جاتا ہے۔

کل ان کے بیٹے کے حادثے کی خبر ملی تو یہ ہمارے لئے ایک ذاتی صدمے کی سی کیفیت تھی۔ چھوٹے بچوں کے جنازوں کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ان سے بھاری کچھ دوسرا نہیں ہوتا۔ لیکن ہوتا ہے۔ جوان اولاد کے جنازے سے بڑھ کر بھلا اور کیا بھاری ہو سکتا ہے۔ یہ ماں باپ کی کمر توڑ دیتا ہے۔

Read more

عاصمہ نامی لڑکی پر ملتان کے لاریٹس سکول کے احسانات

چودہ مئی کے ملتان کے روزنامہ خبریں میں ایک استانی پر ایک نجی سکول کے بے شمار احسانات کی خبر آئی جس پر ہمیں بہت زیادہ یقین نہیں آیا تو ملتان کے ایک سینئیر صحافی سے بھی تصدیق کرنی پڑی۔ پتہ چلا کہ خبر میں کوئی سقم نہیں ہے۔ سوشل میڈیا پر کچھ مزید تفصیلات بھی ہیں۔

قصہ یہ پتہ چلا کہ ملتان میں ایک لاریٹس نامی سکول ہے جو ایک بہت غریب پرور سیاست دان خالد جاوید وڑائچ کی ملکیت ہے۔ وہ حکومتی پارٹی میں ہونے کی وجہ سے غربت ختم کرنے اور لوگوں کو زیادہ سے زیادہ جابز دینے کی کوشش کرتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ ان کا بجٹ تو محدود ہے اس وجہ سے سٹاف کو حکومت کی مقرر کردہ کم از کم تنخواہ یعنی 16 ہزار روپے ماہانہ تنخواہ نہیں دے پاتے۔ بلکہ خبریں کی رپورٹ کے مطابق میٹرک پاس استانی کو تین ہزار، ایف اے پاس کو پانچ ہزار، بی اے پاس کو آٹھ اور ایم اے پاس کو بارہ ہزار دیتے ہیں۔

Read more

پنجابی جاگیرداروں کی 1857 میں انگریز کی حمایت کی ایک وجہ

شاہ محمود قریشی اور دوسرے پنجابی پیروں اور جاگیرداروں کے اجداد پر نفرت بھرے انداز میں الزام لگایا جاتا ہے کہ انہوں نے 1857 میں انگریز کا ساتھ دیا تھا۔ الزام تو درست ہے مگر اس کا تناظر کیا ہے؟

یہ بات بتاتے وقت ہم ایک حقیقت بھول جاتے ہیں۔ پنجاب پر سکھوں کی حکومت تھی۔ کئی علاقوں مثلاً شاہ محمود قریشی کے ملتان وغیرہ پر انہوں نے کافی ظالمانہ انداز میں فتح حاصل کی تھی۔ کئی مسلمان حکومتوں کو پنجاب سے لے کر کشمیر اور ملتان تک سکھوں نے شکست دے کر ان کا خاتمہ کیا تھا۔ بہت سے مسلمان سکھا شاہی سے نالاں تھے۔ مہاراجہ رنجیت سنگھ کے دربار میں مسلمان عمائدین بھی موجود تھے اور رائے احمد خان کھرل جیسے سردار بھی مہاراجہ کے ساتھی تھے جو بعد میں انگریزوں کے خلاف جنگ میں اساطیری حیثیت حاصل کر گئے، مگر یہ بھی حققیت ہے کہ سکھوں کے دور میں مسلمانوں کے حالات اتنے اچھے نہیں تھے۔ روایت کے مطابق بادشاہی مسجد لاہور کو رنجیت سنگھ کی سپاہ اصطبل کے طور پر استعمال کیا کرتی تھی۔ یہی حال کچھ دوسری مساجد کا بھی بتایا جاتا ہے۔

Read more

دارالعلوم والے علما، جاوید غامدی اور رمضان میں سفر

دو برس پہلے رمضان میں ناران جانا ہوا۔ ساتھ ڈیڑھ برس سے شروع ہونے والے بچے بھی تھے۔ ہوٹل والے ناشتہ دینے سے انکاری تھے۔ بمشکل ایک ہوٹل میں جگہ ملی جو ناشتہ دینے پر تیار تھا۔ ہوٹل کے مالک نے بتایا کہ ادھر مفتی صاحب فرماتے ہیں کہ رمضان میں سیر سپاٹے پر نکلنے والوں پر عیاشی کے احکامات لاگو ہوتے ہیں، مسافرت کے نہیں۔ اگر یہ بات پتہ چلے کہ ہوٹل رمضان کے اوقات میں خواہ ننھے بچوں کو ہی کھانا دے رہا ہے تو مفتی صاحب کے عقیدت مند اس کا جلاؤ گھیراؤ کر دیں گے۔ وقار ملک کے بلاگ پر ان کے ننھے بچوں کو پیش آنے والی مشکل صورت حال پر ایک سواتی صاحب کا بھی یہ موقف پڑھا کہ ”رمضان میں سیر سپاٹے کو سفر نہیں کہتے۔ کوئی انتہائی کام یا روزگار کے لئے سفر ہو تو سفر کہتے ہیں۔ سیر سپاٹے کے لئے رمضان میں نکلنا نہیں چاہیے۔ “

ہمارا دینی علم مفتی صاحبان جتنا نہیں ہے۔ مگر تھوڑا بہت دین کا علم بہرحال رکھتے ہیں۔ اسی کی روشنی میں اپنی وال پر مفتی صاحبان سے خصوصاً اور عام افراد سے عموماً یہ سوال پوچھ لیا:

”کیا اس دعوے کے حق میں قرآن یا حدیث سے دلیل دی جا سکتی ہے جس سے واضح ہو کہ سفر کیا ہوتا ہے کیا نہیں؟ کیا نماز قصر کے معاملے میں سفر کی شرائط بھی یہی سیر سپاٹے والی ہوتی ہیں، یعنی اگر کوئی شخص سیر و تفریح کی نیت سے سفر کر رہا ہے تو وہ پوری نماز پڑھے گا اور اگر کوئی ’انتہائی اہم کام‘ یا روزگار کے سلسلے میں سفر کر رہا ہے تو اسے قصر پڑھنے کی اجازت ہے؟ یا پھر نماز قصر کے احکامات میں جسے سفر کہا گیا ہے روزے کے احکامات میں بھی وہی سفر کہلائے گا؟ “

Read more

آڈیو کالم: ایک بچی، دو تصویریں اور ریاست کی بے حسی

ایک چار سالہ بچی فیڈر ہاتھ میں تھامے کھڑی ہے۔ اس نے نئے کپڑے پہنے ہوئے ہیں۔ بال سلیقے سے بنے ہوئے ہیں اور ان میں کلپ لگا ہوا ہے۔ اس کی ماں نے بہت توجہ اور پیار سے اپنی ننھی پری کو تیار کیا ہے۔ اسے وہ شادی میں لے کر جا رہی تھی۔

ایک دوسری تصویر ہے۔ ایک بچی نے اپنے دونوں ہاتھ جوڑے ہوئے ہیں۔ اس کے بال بکھرے ہوئے ہیں۔ کسی نے انہیں نہیں سنوارا ہے۔ بال پیشانی پر بے ڈھنگے پن سے کٹے ہوئے ہیں۔ اس نے کھلی آستین والی قمیض پہنی ہوئی ہے۔ یہ لگتا ہے کہ اس نے اپنے جوڑے ہوئے ہاتھ نیچے لٹکائے تو آستینیں اس کے ہاتھوں سے بڑی ہوں گی۔ شاید اس نے کسی بڑی بچی کی قمیض پہن رکھی ہے۔ صاف دکھائی دے رہا ہے کہ اس پری کو سجانے سنوارنے والا اب کوئی نہیں ہے۔ اس کی ماں، بڑی بہن اور باپ کو پولیس کئی ماہ پہلے قتل کر چکی ہے۔ اب اس کی وہی حالت ہے جو ایک یتیم و یسیر بچی کی ہوتی ہے۔

یہ بچی ہاتھ جوڑے پنجاب اسمبلی کے باہر بیٹھی ہے۔ وہ اپنے ماں باپ اور ان سے بڑھ کر خود اپنے اور اپنے زندہ بچ جانے والے بہن بھائی سے ساری زندگی ہونے والے ظلم پر ریاست سے انصاف کی بھیک مانگ رہی ہے۔

Read more

ایک بچی، دو تصویریں اور ریاست کی بے حسی

ایک چار سالہ بچی فیڈر ہاتھ میں تھامے کھڑی ہے۔ اس نے نئے کپڑے پہنے ہوئے ہیں۔ بال سلیقے سے بنے ہوئے ہیں اور ان میں کلپ لگا ہوا ہے۔ اس کی ماں نے بہت توجہ اور پیار سے اپنی ننھی پری کو تیار کیا ہے۔ اسے وہ شادی میں لے کر جا رہی تھی۔

ایک دوسری تصویر ہے۔ اسی لڑکی نے اپنے دونوں ہاتھ جوڑے ہوئے ہیں۔ اس کے بال بکھرے ہوئے ہیں۔ کسی نے انہیں نہیں سنوارا ہے۔ بال پیشانی پر بے ڈھنگے پن سے کٹے ہوئے ہیں۔ اس نے کھلی آستین والی قمیض پہنی ہوئی ہے۔ یہ لگتا ہے کہ اس نے اپنے جوڑے ہوئے ہاتھ نیچے لٹکائے تو آستینیں اس کے ہاتھوں سے بڑی ہوں گی۔ شاید اس نے کسی بڑی بچی کی قمیض پہن رکھی ہے۔ صاف دکھائی دے رہا ہے کہ اس پری کو سجانے سنوارنے والا اب کوئی نہیں ہے۔ اس کی ماں، بڑی بہن اور باپ کو پولیس کئی ماہ پہلے قتل کر چکی ہے۔ اب اس کی وہی حالت ہے جو ایک یتیم و یسیر بچی کی ہوتی ہے۔

Read more

سائنس، سپر سائنس اور روحانیت

ہمارے محبوب وزیراعظم جناب عمران خان نے سوہاوہ کے مقام پر پاکستان کی تاریخ کا اہم ترین قدم اٹھاتے ہوئے سائنس کو سپر سائنس بذریعہ روحانیت بنانے کا سنگ بنیاد رکھ دیا ہے۔ اس پر بعض کم فہم مخالفین ان کا مذاق اڑا رہے ہیں۔ دیکھیں ہمیں یہ بات سمجھنی چاہیے کہ عمران خان الفاظ کے نہیں عمل کے آدمی ہیں۔ عملیات میں الفاظ کم پڑ جاتے ہیں کیفیات کے بیان کے لئے۔

میں الفاظ کا آدمی ہونے کی وجہ سے سمجھ سکتا ہوں کہ ہمارے وزیراعظم کیا کہہ رہے ہیں۔ وہ کہہ رہے ہیں کہ وہ روحانیت کو ویسے ہی پیرا سائنس بنا کر سائنس سے بالاتر کر دیں گے جیسے پیرا سائیکالوجی کو سائیکالوجی سے اور پیرا نارمل کو نارمل سے برتر سمجھا جاتا ہے۔ ان سے غلطی یہ ہوئی کہ بالا کا ترجمہ پیرا کی بجائے سپر کر بیٹھے۔ ورنہ وہ ٹھیک سوچ رہے ہیں۔

Read more

عمران خان کی پریشانی اور دماغی صحت

کل ایک پریشان کن خبر پڑھ کر ہم دیار غیر میں بھی ٹینشن میں بیٹھے ہیں۔ پہلے آپ بھی خبر پڑھ لیں تاکہ دیار یار میں آپ ہم سے بھی زیادہ پریشان ہو سکیں۔

صدر پاکستان عارف علوی نے بتایا ہے کہ عمران خان ملک کی حالیہ صورتحال پر کافی پریشان ہیں۔ ان کی پریشانی اس قدر زیادہ بڑھ گئی ہے کہ انہوں نے صبح کی واک کرنا تک چھوڑ دی ہے۔ ”میں نے بارہا کہا ہے کہ ورزش آپ کی دماغی صحت کے لئے بے حد ضروری ہے، آپ خود کو ایکٹو رکھیں۔ جس کا جواب دیتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے مجھے کہا کہ ڈاکٹر صاحب ہم چیزوں کو جیسے دیکھتے تھے، یہ ویسی نہیں ہیں۔ ہمارا تین ماہ کا پلان فیل ہو گیا۔ اب صورتحال یہ ہے کہ ملکی حالات بھی آج تک ٹھیک نہیں ہو پا رہے اور نہ چیزوں پر کہیں کوئی عملدرآمد ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ “

Read more

عمران خان کا ایران میں ماسٹر سٹروک

کیا یہ محض اتفاق ہے کہ جس دن عمران خان نے ایران کا دورہ شروع کرنا تھا عین اسی دن امریکی صدر ڈانلڈ ٹرمپ نے ایران پر پابندیاں سخت کرنے کا اعلان کر دیا اور کہا کہ جو ممالک اس سے تیل خریدنے کے لئے امریکی استثنا رکھتے تھے، اب وہ بھی پابندیوں کا شکار ہوں گے۔ اس اعلان کی ٹائمنگ اہم ہے۔ صاف ظاہر ہے کہ امریکیوں کو خطرہ تھا کہ پاکستان میں پہلی مرتبہ آنے والی مخلص، بے باک، معاملہ فہم، نان کرپٹ اور دانش مند قیادت ایران سے تیل کا کوئی ایسا معاہدہ کر لے گی جس سے پاکستان کی پانچوں انگلیاں گھی میں اور سر کڑاہی میں ہو گا۔

اب آپ دورے کے مشترکہ اعلامیے کو دیکھیں۔ اتنے بڑے دورے کے بارے میں کوئی خاص اعلان نہیں کیا گیا۔ بس یہ کہا گیا کہ بارڈر پر مشترکہ گشت ہو گا اور مارکیٹیں بنا دیں گے۔ باڑ لگ جائے گی۔ نئی سرحدی کراسنگ بن جائے گی۔ کیا اتنے اعلی سطحی دورے پر ایسے معاہدے ہوتے ہیں؟

Read more

کچھ عرصہ قبل جرمنی اور جاپان ہمسائے تھے

عمران خان کی وائرل ہونے والی 32 سیکنڈ کی ویڈیو میں وہ کہہ رہے ہیں کہ ”جرمنی اور جاپان نے اپنے کئی ملین سویلین مارے، حتی کہ دوسری عالمی جنگ کے بعد انہوں نے یہ فیصلہ کیا کہ وہ اپنے بارڈر پر، جرمنی اور جاپان کے بارڈر پر مشترکہ انڈسٹری لگائیں گے۔ اس لئے اب یہ سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کہ دونوں کے تعلقات خراب ہوں کیونکہ ان کے معاشی مفادات آپس میں جڑ چکے ہیں۔ “

اس پر یہ شور مچ گیا ہے کہ عمران خان کو جغرافیے کا ہی نہیں پتہ اور وہ وسطی یورپ میں واقع جرمنی کو نو ہزار کلومیٹر دور بحر الکاہل میں واقع جاپان کا ہمسایہ کہہ رہے ہیں۔ حالانکہ یہ بات سائنسی طور پر ثابت شدہ ہے کہ کچھ ہی عرصہ قبل جرمنی اور جاپان ایک ہی براعظم پر تھے۔

Read more

بیشتر لوگ مجھ جتنے محب وطن کیوں نہیں ہیں؟

مجھے اکثر افسوس ہوتا رہتا ہے کہ بیشتر لوگ مجھ جتنے محب وطن اور ذی شعور کیوں نہیں ہیں۔ کیا انہیں رتی بھر احساس نہیں ہے کہ ملک و قوم کس نازک مرحلے سے گزر رہے ہیں؟ کیا انہیں ذرہ برابر پروا نہیں ہے کہ ملکی مفاد کا تقاضا کیا ہے؟ کیا اس طرح معیشت، سیاست اور خارجہ پالیسی کے متعلق اپنی رائے ظاہر کر کے وہ وطن عزیز کی جڑِیں نہیں کاٹ رہے ہیں؟ آخر وہ سب میری طرح کیوں نہیں سوچتے؟

یاد رہے کہ میں جو کچھ بھی لکھتا ہوں وہ قومی خدمت کے جذبے سے کسی صلے ستائش یا معاوضے کی تمنا کے بغیر لکھتا ہوں کیونکہ میرے دل میں قوم کا بے پناہ درد ہے اور مجھ سے زیادہ کوئی قوم سے مخلص نہیں ہے۔ وہ میری رائے کے خلاف ایک چار چھے لفظی کمنٹ بھی کرتے ہیں تو وہ ایسا ڈالر یا ریال یا تومان لے کر کرتے ہیں اور وہ ملک دشمنوں کے ایجنڈے پر چل رہے ہیں۔

Read more

بوئنگ 737 میکس جہاز اور اسد عمر

بوئنگ 737 میکس میں نقص یہ تھا کہ اس کی دم پر وزن زیادہ ڈال دیا گیا تھا اور باڈی کے پرانے انجن کی جگہ زیادہ پاور فل انجن لگا دیے گئے تھے۔ نتیجہ وہی نکلا جو آپ نے موٹر سائیکل پر اس وقت محسوس کیا ہو گا جب آپ اچانک زیادہ ریس دے دیتے تھے اور پتہ چلتا تھا کہ اگلا ٹائر ہوا میں بلند ہو گیا ہے اور بعض مرتبہ آپ پیچھے زمین پر پڑے ہوتے تھے۔ یا پھر کسان اس صورت حال کو یاد کر سکتے ہیں جب ٹرالی پر خوب لوڈ ہو اور ٹریکٹر کو چلا دیا جائے تو اس کے دونوں اگلے پہیے ہوا میں بلند ہو جاتے ہیں۔ یا پھر گدھا گاڑی کو یاد کر لیں جب اسے آف لوڈ کرنے کے لئے پیچھے وزن زیادہ کر دیا جاتا ہے تو گاڑی کا انجن یعنی گدھا ہوا میں بلند ہو جاتا ہے۔

بوئنگ 737 میکس کے ساتھ یہی ہوا۔ اب موٹر سائیکل تو ایک قلابازی کھا کر فوراً زمین پر آ جاتی ہے۔ ٹریکٹر بھی دو چار گز چل کر چاروں پہیوں پر چلنے لگتا ہے۔ گدھا بھی بخیر و عافیت زمین پر واپس اتر آتا ہے۔ لیکن جہاز نازک مشین ہے۔ زمین پر غیر فطری طریقے سے اترے تو بے وفا محبوبہ کے عاشق کے دل کی طرح ٹکڑے ٹکڑے ہو جاتا ہے۔

Read more

اسد عمر سے وزارت خزانہ کیوں چھینی گئی؟

اسد عمر وزیر خزانہ نہ رہے۔ اب سب یہ بیٹھ کر سوچیں کہ اسد عمر سے عین بجٹ بناتے ہوئے وزارت خزانہ کیوں چھینی گئی ہے؟ آئی ایم ایف سے مذاکرات بھی آخری مرحلے میں تھے۔ انہیں بھی دھچکا لگے گا۔ میرا خیال ہے کہ اسد عمر ہسپتالوں اور سکولوں کے لئے بجٹ میں مطلوبہ حصہ نہیں رکھ رہے ہوں گے۔ اس لئے کپتان نے نکال دیا۔

اسد عمر کے بارے میں سب جانتے ہیں کہ وہ ایک راست باز، مستقل مزاج اور قوم کا درد رکھنے والے انسان ہیں۔ جب وہ ماہانہ لاکھوں کروڑوں روپے کما رہے تھے تو کپتان کے یہ کہنے پر کہ ’اسد قوم کو تمہاری ضرورت ہے‘ اس نوکری پر لات مار کر کپتان کے ساتھ شامل ہو گئے۔

Read more

اسد عمر: کی مرے قتل کے بعد اس نے جفا سے توبہ

اسد عمر نے استعفی دے دیا۔ کپتان کا سب سے بلند قامت کھلاڑی آؤٹ ہو گیا۔ اسد عمر کا الوداعی پریس کانفرنس میں کہنا ہے کہ کل رات تک خود انہیں اس فیصلے کی خبر نہیں تھی، ”نئے وزیر خزانہ کو بھی مشکلات کا سامنا ہوگا اور وہ ایک مشکل معیشت سنبھالے گا، لوگ نئے وزیر خزانہ سے تین ماہ میں معجزوں اور دودھ شہد کی نہریں بہنے کی توقع نہ کریں۔ “ دلچسپ چیز یہ ہے کہ اس پریس کانفرنس کے دوران اسد عمر تحریک انصاف کی حکومت بننے کے بعد پہلی مرتبہ نہایت خوش دکھائی دیے۔ انہوں نے بہت چہکتے ہوئے ایسے یہ پریس کانفرنس کی جیسے ایک جنجال سے ان کا پیچھا چھوٹا ہو۔

بہرحال تحریک انصاف کے سیاسی مخالفین کو اسد عمر کی رخصتی پر بہت زیادہ خوش ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔

Read more

اب بھگتیں سب معیشت کو

حکومت گرنے کی خبریں تواتر سے آ رہی ہیں۔ کوئی بتا رہا ہے کہ بجٹ سے پہلے کام تمام ہو جائے گا۔ کوئی بتاتا ہے کہ نہیں، بلکہ بجٹ میں جب عوام کی روح کھینچی جائے گی تو جولائی اگست میں عوامی غصہ اور بے بسی حکومت کو بہا لے جائیں گے۔ کچھ کہتے ہیں کہ نہیں حکومت کی رسی اس برس کے آخر تک دراز کر دی گئی ہے۔ حکومت کے حق میں کوئی معجزہ نہ ہوا تو اس کے بعد اسی پارلیمان سے تبدیلی لائی جائے گی۔ یہ آخری بات کہنے سہیل وڑائچ ہیں جو جون 2017 میں نواز شریف حکومت کے خاتمے کی پیش گوئی کرنے والا ”دی پارٹی از اوور“ والا کالم لکھنے کے بعد سیاسی ولی کا رتبہ پا چکے ہیں۔

حکومت کیوں تبدیل کی جائے؟ وہ اپنے پانچ برس پورے کیوں نہ کرے؟ اس کی بنیادی وجہ معیشت کی زبوں حالی بتائی جاتی ہے۔ تحریک انصاف نے نون لیگ اور پیپلز پارٹی کا قلع قمع کرنے کے چکر میں معیشت کو بٹھا دیا ہے۔ رہی سہی کسر ملک ریاض جیسوں کے ”احتساب“ نے پوری کر دی ہے اور ملکی معیشت کا ایک نمایاں حصہ چلانے والا رئیل سٹیٹ کا شعبہ اب سرمایہ کاروں کی راہ تک رہا ہے۔ لوگ پیسہ لگاتے ہوئے ڈر رہے ہیں کہ اگلے دن ٹیکس والے یا نیب والے پہنچ کر ان کا احتساب شروع کر دیں گے۔

بعض افراد کا خیال ہے کہ تحریک انصاف کی موجودہ حکومت چلی گئی تو سب اچھا ہو جائے گا۔ یہ ساری معاشی مشکلات دور ہو جائیں گی۔ معیشت کا جمود ٹوٹ جائے گا۔ سب ویسا ہی ہو جائے گا جیسے 2017 میں تھا یعنی اگلے برس معاشی ترقی کی شرح گھٹ کر 2.8 فیصد نہیں ہو گی بلکہ دوبارہ 5.7 فیصد پر پہنچ جائے گی۔

Read more

سوہنی کا مچھلی کا آرڈر اور مہینوال کی دولہا بننے کی چاہ

روایت ہے کہ بخارے کے بزنس ٹائیکون کا بیٹا مرزاعزت بیگ نامی تھا۔ ساری زندگی اس نے کوئی کام کاج نہیں کیا بلکہ باپ کی دولت پر ہی عیش کرتا رہا۔ یہ حال دیکھ کر باپ نے اسے ہندوستان کے بزنس ٹرپ پر بھیج دیا۔ اس نے سامان تجارت اور اپنے درجن بھر احباب کو گھوڑوں پر لادا اور چل پڑا۔ ہندوستان میں اس نے بہت مال کمایا۔ وہیں اسے گجرات کے بارے میں علم ہوا تھا کہ اس کی مٹی میں جادو ہے۔ جو اسے چھوئے وہ اس کا ہو کر رہ جاتا ہے۔ اب سمجھ بوجھ اس کی ہمارے جیسی ہی تھِی یعنی کوئی خاص بزرجمہر نہیں تھا۔ نتیجہ یہ کہ جب بخارا واپسی کے سفر میں اس کا گجرات سے گزر ہوا تو گجراتی مٹی کے بنے ہوئے جادو کے برتن خریدنے کا خواہاں ہوا۔ ادھر اسے تلے کمہار نامی صاحب فن کا علم ہوا جس کی دکان پر ہر وقت گاہکوں کا ہجوم رہتا تھا۔

مرزا عزت بیگ نے اپنے ایک مصاحب کو تلے کمہار کی دکان پر بھیجا تاکہ وہ برتنوں کی سیلیکشن کر لے۔ وہ خبر لایا کہ مانا تلا کمہار بہترین صراحیاں بناتا ہے مگر جس مٹی سے بنانے والے نے سوہنی نامی صراحی دار گردن والی حسینہ بنائی ہے، اس کا جواب دنیا میں نہیں۔ مرزا عزت بیگ فوراً ذاتی طور پر تحقیق حال کے لئے پہنچا اور مصاحب کے بیان کو درست پایا۔

اس کے بعد مرزا عزت بیگ نے ہر وقت یہ کہنا شروع کر دیا کہ جب میں سوہنی کا دولہا بنوں گا تو۔ ۔ ۔ اور اس کے بعد آسمان کے تارے توڑ کر لانے کے وعدے شروع کر دیتا۔ اس کی زندگی کا مقصد ہی بس یہ رہ گیا کہ وہ سہرا باندھے اور سوہنی کا دولہا بنے۔ اس مقصد کے حصول کی خاطر وہ ہر قیمت ادا کرنے کو تیار ہو گیا۔

Read more

بلیک ہول حکومت کے خلاف سازش ہے

بلیک ہول کے متعلق بتایا جاتا ہے کہ یہ ایک نہایت ہی مہیب شے ہوتی ہے جو اپنے ارد گرد گزرنے والی ہر شے کو کھا جاتی ہے۔ خواہ کوئی بڑا سا ستارہ ہو یا روشنی کا ننھا سا ذرہ، بلیک ہول اسے چٹ کر جاتا ہے۔ تصویر خواہ کیمرے کے پردے پر اترے یا آنکھ کے، اس کا اصول ہوتا ہے کہ جس شے سے روشنی منعکس یا خارج ہو، وہی دکھائی دیتی ہے۔ بلیک ہول روشنی کھا جاتا ہے اس لئے اس کا دکھائی دینا ناممکن ہے۔

اب ایک فسادی عورت کیٹی بومین نامی آئی ہے۔ اس نے دعوی کیا ہے کہ اس نے سینکڑوں افراد پر مشتمل ٹیم اور دنیا کے چاروں کونوں میں موجود دوربینوں کے ذریعے ہماری زمین سے کوئی 05 کروڑ کھرب (دیسی گنتی میں 50 مہا سنکھ) کلومیٹر کے فاصلے پر میسیر 87 نامی کہکشاں میں موجود ایک بلیک ہول کی تصویر اتار لی ہے۔

اگر عام حالات ہوتے تو ہم اس بلیک ہول کی تصویر کو ایک عام سی بات سمجھ کر نظرانداز کر دیتے۔ ہم ساتھ والے محلے کے واقعات میں دلچسپی نہیں رکھتے تو کائنات کے اس 50 مہاسنکھ دور موجود بلیک ہول میں بھلا ہمیں کیا خاک دلچسپی ہو گی۔ مگر خوش قسمتی سے ہماری نظر ایک دوسری خبر پر پڑ گئی۔

Read more

صدارتی نظام نہیں بادشاہت لائی جائے

بعض افراد تواتر سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ صدارتی نظام لایا جائے کیونکہ پارلیمانی نظام میں ٹکے ٹکے کے ممبر وزیراعظم کو بلیک میل کرتے ہیں اور وہ لاچار ہوتا ہے۔ اسی وجہ سے عمران خان جیسا دیانت دار، میرٹ پر چلنے والا اور دل میں قوم کا درد رکھنے والا لیڈر نہایت باشعور لیڈر بھی ناکام ہو رہا ہے۔ غالباً ان افراد کے ذہن میں امریکہ کا صدارتی نظام ہے جہاں صدر براہ راست عوام کے ووٹوں سے منتخب ہوتا ہے اور امور مملکت چلانے میں وہ کانگریس اور سینیٹ کا بہت زیادہ محتاج نہیں ہوتا۔ بہرحال امریکی صدر اتنا زیادہ با اختیار بھی نہیں ہوتا جتنا ہم سمجھے بیٹھے ہیں۔ دس جگہ اس کے منصوبوں کو کانگریس روک دیتی ہے۔

اسی وجہ سے ہماری رائے میں یہ غلط مطالبہ ہے۔ صدر اراکین پارلیمنٹ کے علاوہ ٹکے ٹکے کے ووٹر کا محتاج ہوتا ہے۔ اس لئے اگر عمران خان کو صدر بنا بھی دیا گیا تو وہ خود کو اسی طرح لاچار پائیں گے اور قوم کو وہ سنہرا زمانہ نہیں مہیا کر سکیں گے جس کی سب توقع لگائے بیٹھے ہیں۔ صدارتی نظام میں ایک بڑی خرابی یہ بھی ہے کہ صدر کو پانچ سال بعد گھر واپس بھیجا جا سکتا ہے اور دو ٹرمز کے بعد تو اس کے الیکشن لڑنے پر پابندی بھی لگ سکتی ہے۔

Read more

فیصل واؤڈا کا نوکریوں کا دعویٰ درست ہے

مورخہ 8 اپریل کو حامد میر کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر برائے آبی وسائل فیصل واؤڈا نے بیان دیا کہ پاکستان میں نوکریوں کی ایسی بہتات ہو گی کہ امیدوار ملنا مشکل ہو جائے گا، اور یہ معجزہ محض ہفتے، دس دن، دو چار ہفتے میں برپا ہو جائے گا، اور پان چھابڑی والے بھی کہیں گے کہ آؤ ہم سے ٹیکس لے لو۔ بعض عقل و فہم سے تہی داماں لوگوں نے ان کے اس نہایت سنجیدہ بیان کا مذاق اڑانا شروع کر دیا۔ ایک تو ہماری قوم والوں کی یہ عادت بہت بری ہے کہ کسی نے آوازہ بلند کیا کہ ”پہلوان، کتا تمہارا کان لے کر دوڑا جا رہا ہے“ تو پہلے ہاتھ لگا کر اپنا کان چیک کیے بغیر ہی جی جان سے کتے کا تعاقب شروع کر دیتے ہیں۔

آگے بات بڑھانے سے پہلے یہ بات ذہن نشین کر لینی چاہیے کہ فیصل واؤڈا ایک نہایت باخبر اور متحرک وزیر ہیں۔ کراچی میں چینی قونصل خانے پر حملہ ہوا تو اپنی پچھلی جیب میں پستول رکھ کر یہ فوراً وہاں جا پہنچے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کمان سنبھال لی۔ اس وقت تک تینوں حملہ آور مر چکے تھے مگر فیصل واؤڈا کو دیکھ کر مزید حملہ آور قریب نہ پھٹکے۔

اسی طرح جب بھارتی ہواباز ونگ کمانڈر ابھینندن نے تباہ کن جنگی ساز و سامان سے لیس مگ اکیس سے پاکستان پر حملہ کیا تو وفاقی وزرا میں صرف فیصل واؤڈا ہی تھے جو اپنی پچھلی جیب میں پستول اڑس کر اس کے جہاز کا مقابلہ کرنے پہنچے اور ابھینندن کے مگ 21 کو فوٹو شوٹ کر کے اپنے قدموں تلے روند ڈالا۔ یہ صرف ان کی اساطیری بہادری کا مظہر نہیں تھا بلکہ ان کی مثالی باخبری کا شاہد بھی تھا کہ انہیں سب سے پہلے یہ خبر ملی۔

Read more

شیخ چلی، منگو خان اور دنیا کا بہترین گدھا

یہ اس زمانے کا ذکر ہے کہ جب ملک نیمروز پر چنگیز خان کے پوتے خاقان منگو خان کی حکومت تھی۔ منگو خان آدھی دنیا کا بادشاہ تھا مگر اس دنیا پر حکومت کرنے کے لئے اسے بے شمار گھوڑوں اور گدھوں کی ضرورت پڑتی تھی جو اس کی فوجیں اور ساز و سامان ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کر سکیں۔ ظاہر ہے کہ ان گدھوں گھوڑوں کو پالنے پر خرچہ بہت آتا تھا۔ منگول اپنے گھوڑوں سے بہت محبت کیا کرتے تھے۔ ہر برس ان کے راشن میں خوب اضافہ کر دیا کرتے تھے۔ مگر گدھوں کا معاملہ مختلف تھا۔ منگولوں کی رائے میں گدھے اس قابل نہیں تھے کہ ان کو زیادہ سر چڑھایا جائے۔ اس لئے گدھوں پر کیے جانے والے مصارف انہیں بہت چبھتے تھے۔

انہی دنوں شیخ چلی ولایت سے واپس ملک نیمروز آیا۔ اس نے منگولوں کی بے چینی کو محسوس کرتے ہوئے سوچا کہ اس مسئلے کا حل اس نے نکال کر دے دیا تو خاقان منگو خان اسے کسی بڑے صوبے کا حکمران بنا دے گا۔ شیخ چلی بہت عرصے تک سوچتا رہا اور مختلف تجربات کرتا رہا۔ اسی اثنا میں ایک روز بے آب و گیاہ صحرائے گوبی کو پار کر کے اونٹوں کا ایک قافلہ ملک نیمروز پہنچا۔

Read more

معیشت اس سے زیادہ بہتر نہیں ہو سکتی

تحریک انصاف کے بہت ”ڈائی ہارٹ“ حامی بھی نہایت پریشان دکھائی دے رہے ہیں۔ تحریک انصاف کی حکومت آنے کے محض چھے آٹھ ماہ بعد ہی ڈائی ہارڈ سے ڈائی ہارٹ کی تبدیلی کو بعض قنوطی پریشان کن قرار دے رہے ہیں۔ اس مردہ دلی کو پھیلانے میں مقامی اور عالمی میڈیا بھی اپنا کردار ادا کر رہا ہے۔ آج ہی روئٹر نے سٹوری شائع کی ہے کہ پنڈی کا ایک ٹیکسی ڈرائیور جس نے کپتان کی غریب پروری سے متاثر ہو کر اسے ووٹ دیا تھا اب سوچ رہا ہے کہ اپنی ٹیکسی کو آگ لگا کر نچنت ہو جائے۔

حالات نہایت مایوس کن دکھائی دے رہے ہیں لیکن گھبرانا نہیں چاہیے۔ لوگ نون لیگ کے پروپیگنڈے کا شکار ہو کر ہر اچھی چیز کو بھی بری نظر سے دیکھ رہے ہیں ورنہ ہر ذی شعور شخص یہ سمجھ سکتا ہے کہ معیشت بہتر ہو رہی ہے۔ کپتان کے بعض اقدامات عزیز ہم وطنوں کی دنیا سنوار رہے اور بعض ان کی عاقبت اور طبق روشن کر رہے ہیں۔ جناب اسد عمر بھی بتا چکے ہیں کہ مشکل وقت گزر چکا ہے اور معیشت دونوں ہاتھ پھیلا کر اٹھان لے چکی ہے۔

Read more

نیوزی لینڈ نے یہ رواداری ہم سے سیکھی ہے

ہماری طرح کا ہر ذی شعور شخص جو مغرب کی ٹیکنالوجی اور دولت سے مرعوب نہیں ہے اور منطقی انداز میں تجزیہ کر سکتا ہے، یہ بات بخوبی جانتا ہے کہ مغرب کی ترقی کا راز صرف اسلام کے سکھائے ہوئے اصول پر عمل درآمد ہے۔ یورپی نہایت دیانت داری سے بتاتے ہیں کہ پانچویں سے دسویں صدی عیسوی کا زمانہ یورپ کا تاریک عہد تھا۔ لیکن یہ وہ نہیں بتاتے کہ جب انہوں نے 1095 عیسوی میں پہلی صلیبی جنگ لڑنے کے لئے مشرق وسطی پر حملہ کیا تو یہاں موجود علوم کے وسیع ذخیرے کے علاوہ اسلامی تعلیمات کو بھی سیکھ گئے۔ یہی وہ تبدیلی تھی جو اس پہلی صلیبی جنگ کے محض 105 برس بعد یورپ میں نشاۃ ثانیہ کے آغاز کا سبب بنی۔

مثلاً یہی دیکھ لیں کہ آج کے علم حیاتیات اور جدید طب کی بنیاد سمجھے جانے والے ارتقا کو چارلس ڈارون سے پورے ایک ہزار برس پہلے الجاحظ البصری نے نظریہ ارتقا پیش کر دیا تھا اور رائٹ برادران سے کامل ایک ہزار برس پیشتر عباس ابن فرناس نے جہاز اڑا کر دکھا دیا تھا۔ بعد میں سارا کریڈٹ ڈارون اور رائٹ برادران لے گئے۔

Read more

کیا مقبول ترین عمران خان کو ہٹا کر متبادل حکمران لانا ممکن ہے؟

آج کل مارکیٹ میں خبر گرم ہے کہ عمران خان کا بوریا گول کیا جا رہا ہے۔ مختلف امکانات ظاہر کیے جا رہے ہیں۔ مثلاً پارلیمنٹ میں سے ہی کوئی ان کا متبادل بن کر ابھرے گا۔ ہو سکتا ہے کہ ان کی اپنی پارٹی کا ہو، ہو سکتا ہے کہ ان کا کوئی اتحادی ہو یا پھر ان کا مخالف۔ کبھِی شاہ محمود قریشی کا نام لیا جاتا ہے، کبھی گجرات کے چوہدریوں کا نام آتا ہے تو کبھی شہباز شریف سے ڈیل کی خبر گرم ہوتی ہے۔ لیکن کسی مقبول حکمران کو ہٹانا آسان تو نہیں ہوتا۔

حکومت آنے کے پانچ ماہ بعد جنوری میں آنے والے گیلپ کے دیسی پول تو عمران خان کی عوامی مقبولیت محض 51 فیصد بتا رہے تھے لیکن 14 مارچ کو آنے والے امریکی ادارے انٹرنیشنل ریپبلکن انسٹی ٹیوٹ کے پول تو عمران خان کی مقبولیت اس سے بھی بڑھا کر 57 فیصد بتاتے ہیں۔ جبکہ الیکشن میں انہیں کل ڈالے جانے ووٹوں کا محض 32 فیصد ملا تھا۔ طبعاً سیدھا سادہ ہونے کی وجہ سے اگر ہم ان پولز پر اعتبار کریں تو عمران خان کی مقبولیت انتخابات کے بعد دگنی ہو چکی ہے۔ پھر کیا نادیدہ قوتیں عمران خان کو ہٹا پائیں گی؟

Read more

فرعون کا پاسپورٹ اور پھر ہوائی جہاز پر سفر

رعمسیس دوم مصر کے فرعونوں کے انیسویں خانوادے کا تیسرا فرعون تھا۔ اس کے دور میں مصر کو حاصل ہونے والے عروج کے سبب اسے رعمسیس دی گریٹ کہا جاتا ہے۔ وہ تقریباً تین ہزار دو سو برس قبل پیدا ہوا اور اس نے تقریباً 66 برس مصر پر حکومت کی۔ اس کے دور میں مصر، شام، فلسطین وغیرہ میں فتوحات ہوئیں۔ سلطنت میں خوشحالی آئی اور اس نے ان دونوں کے کمبینیشن سے خوب مال کمایا۔

اس کے والد سیتی اول نے اسے دس برس کی عمر میں ہی جرنیلی سونپ دی اور چودہ برس کی عمر میں شاہی اختیارات بھی سونپ دیے۔ تاریخ دانوں کا اندازہ ہے کہ تقریباً بائیس برس کی عمر میں رعمسیس دوم نے بطور بادشاہ تخت سنبھالا۔ نوے بانوے برس کی عمر میں وہ فوت ہو گیا۔ رعمسیس سے بارہ پندرہ سو برس پہلے ہی اہرام بنائے جا چکے تھے۔ فرعون عموماً اپنی زندگی میں ہی اپنا مقبرہ بنانا شروع کر دیتے تھے تاکہ بعد از وفات انہیں رہائش کا مسئلہ نہ پیش آئے۔

Read more

مقامی سرمایہ کار بھاگ رہا ہو گا تو بیرونی سرمایہ کار کیوں آئے گا؟

تاریخ یہ بتاتی ہے کہ جب آپ اپنے ملک کے سرمایہ داروں اور ہنرمندوں کو ملک سے بھاگنے پر مجبور کر دیں تو آپ دوسرے ملکوں کے سرمایہ داروں اور ہنرمندوں کے آگے بھیک مانگنے پر مجبور ہو جاتے ہیں کہ وہ آپ کے وطن میں آ کر معیشت چلائیں۔

سرمایہ دار اپنے ملک کے ہوں تو ملک کا سرمایہ ملک میں رہتا ہے۔ دوسری صورت میں بیرونی سرمایہ کار سب سمیٹ کر باہر لے جاتے ہیں۔ پہلی حماقت ہم نے 1970 کی دہائی میں 22 سرمایہ دار خاندانوں کو ختم کر کے اور ہنرمندوں کو مشرق وسطی جانے پر مجبور کر کے کی تھی۔ دوسری اب کرتے دکھائی دے رہے ہیں۔

فارن انویسٹ منٹ لانے سے پہلے مقامی سرمایہ کار کو تو روکنے کی سبیل کریں جسے 1973 سے ملک سے بھاگنے ہر مجبور کیا جا رہا ہے۔ پہلے نیشنلائزیشن کے نام پر مضبوط صنعتی بنیاد کو ڈھا دیا گیا۔ اب سیاسی وابستگیوں کے نام پر کرپشن، ٹیکس، انرجی اور صنعت کی عجیب و غریب پالیسیوں، وغیرہ کے ذریعے انہیں بھگایا جا رہا ہے۔

Read more

مریم نواز کا بلنڈر اور چغتائی لیب کی شامت

مریم نواز شریف نے کل اپنے والد کی لیب رپورٹ ٹویٹر پر جاری کرتے ہوئے لکھا ”ابھی میاں نواز شریف سے ملاقات کے بعد واپسی ہوئی ہے۔ ان کے ڈاکٹر کی تشویش بلاوجہ نہیں تھی۔ کل کیا جانے والا بلڈ ٹیسٹ بتا رہا ہے کہ ان کے کریٹینائن لیول میں مزید اضافہ ہوا ہے جس کا مطلب ہے کہ ان کے گردوں کا فنکشن مزید خراب ہوا ہے۔ ان کے گردوں کی بیماری پہلے ہی تیسری سٹیج پر ہے۔ ان کے پہلوؤں میں مستقل درد کی شکایت ہے“۔ اس ٹویٹ کے ساتھ انہوں نے چغتائی لیب کی رپورٹ کا پورا کاغذ ٹویٹ کر دیا۔

کچھ دیر بعد سوشل میڈیا پر چغتائی لیب کی سائٹ پر موجود میاں نواز شریف کی یہ لیب رپورٹ گردش کرنے لگی۔ اس میں ایڈریس کے خانے میں نواز شریف کے پتے کی جگہ لکھا ہوا تھا کہ ”پلیز پاکستان کی لوٹی ہوئی دولت واپس کرو آزادی سے جہاں مرضی رہو۔ آداب۔ @endlessquest92۔“

Read more

نریندر مودی کی انتخابی مہم کے بعد اب شیخ رشید بھی چوکیدار بن گئے

بھارت میں بی جے پی نے اس مرتبہ الیکشن مہم چلانے کے لئے چوکیدار کا نعرہ بلند کیا ہے۔ پردھان منتری نریندر مودی اور دیگر منتریوں نے ٹویٹر اور سوشل میڈیا پر اپنے نام کے آگے لفظ چوکیدار کا اضافہ کر لیا ہے اور اس لفظ کو مرکزی خیال بنا کر انتخابی نغمہ اور ویڈیوز بھی ریلیز کی گئی ہیں۔

مودی جی نے 16 مارچ کو ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ ”آپ کا چوکیدار استقامت سے کھڑا ہے اور قوم کی سیوا کر رہا ہے۔ لیکن میں تنہا نہیں ہوں۔ جو شخص بھی کرپشن، گندگی، سماجی برائیوں کے خلاف لڑ رہا ہے وہ چوکیدار ہے۔ جو بھی انڈیا کی ترقی کے لئے کام کر رہا ہے وہ چوکیدار ہے۔ آج ہر انڈین ’میں بھی چوکیدار‘ کہہ رہا ہے“۔

Read more

نیوزی لینڈ کی پولیس اطلاع ملنے کے کتنی دیر بعد مسجد پہنچی؟

ہمارا تصور تو یہ ہے کہ ترقی یافتہ ممالک میں پولیس ایمرجنسی کال کے دو تین منٹ بعد جائے واردات پر پہنچ جاتی ہے۔ اس بنیاد پر ہم نیوزی لینڈ کی پولیس پر تنقید کر رہے ہیں کہ وہ بہت زیادہ دیر میں النور مسجد پہنچی۔ کئی لوگ تو یہ کہہ رہے ہیں کہ پولیس کال موصول ہونے کے سترہ منٹ بعد النور مسجد پہنچی۔ حقیقت کیا ہے افسانہ کیا؟ اس سلسلے میں نیوزی لینڈ کے اخبارات اور ویب سائٹس، نیویارک ٹائمز اور دیگر ذرائع سے جو معلومات ملی ہیں وہ بیان کرتے ہیں۔

Read more